المیہ جمعرات

المیہ جمعرات0%

المیہ جمعرات مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 333

المیہ جمعرات

مؤلف: محمد تیجانی سماوی (تیونس)
زمرہ جات:

صفحے: 333
مشاہدے: 15639
ڈاؤنلوڈ: 343

تبصرے:

المیہ جمعرات
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 333 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 15639 / ڈاؤنلوڈ: 343
سائز سائز سائز
المیہ جمعرات

المیہ جمعرات

مؤلف:
اردو

نہ کرتے ہوئے تبلیغ فرمائی تو اسی طرح سے اگر کچھ لوگ کاغذ اور قلم دوات لانے کے مخالف تھے تو آپ ان کی مخالفت سے بے نیاز ہو کر نوشتہ لکھ سکتے تھے ۔ مگر آپ نے ایسا کیوں نہ کیا ؟

تو اس کے جواب میں معترضین کی خدمت میں یہ عرض کروں گا کہ اگر آپ کا یہ اعتراض صحیح بھی ہو تو اس کا نتیجہ زیادہ سے زیادہ یہی نکلتا ہے کہ نوشتہ کا لکھنا رسول پر واجب نہ تھا ممکن ہے کہ نوشتہ کا لکھنا رسول پر واجب نہ ہو مگر حاضرین پر کاغذ اور قلم دوات لانا واجب تھا کیونکہ اطاعت رسول کا تقاضا کتھا کہ کہ کاغذ اور قلم دوات لائی جائے اور رسول خدا نے اس کا فائدہ بھی بتا دیا تھا کہ اس ذریعہ سے گمراہی سے محفوظ ہوجاؤ گے اور ہمیشہ راہ ہدایت پر باقی رہوگے اور فقہ کا مسلمہ اصول یہی ہے کہ امر کا وجوب فی الواقع مامور سے متعلق ہوتا ہے امر سے متعلق نہیں ہوتا اور خصوصا جب کہ امر کا فائدہ مامور کو پہنچتا ہے ۔

لہذا اس قاعدہ کے تحت بحث یہ ہے کہ حاضرین پر امر کا بجا لانا واجب تھا یا نہیں ؟ محل بحث یہ نہیں ہے کہ رسول پر لکھنا واجب تھا یا نہیں ؟

علاوہ بریں یہ بھی ممکن ہے کہ رسول پر لکھنا تو واجب تھا لیکن لوگوں کی مخالفت اور یہ کہنے سے کہ " رسول ہذیان کہہ رہے ہیں " رسول سے وجوب ساقط ہوگیا ہو ۔

اگر ان حالات میں رسول لکھ بھی دیتے تو فتنہ وفساد میں ہی اضافہ ہوتا اور جو چیز فتنہ کا سبب ہو وہ رسول پر کیسے واجب ہوسکتی ہے ؟

بعض حضرات نے یہ عذر بیان کیا ہے کہ حضرت عمر حدیث کا مطلب نہیں سکے تھے ۔ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آتی کہ وہ نوشتہ است کے ہر فرد کے لئے گمراہی سے بچنے کا ایسا ذریعہ کیونکر ہوگا کہ قطعی طور پر کوئی گمراہ ہی نہ ہوسکے ۔

حضرت عمر نے "لن تضلوا بعدی " (تم میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے)

۲۱

کے جملہ کا یہ مطلب اخذ کیا کہ تم سب کے سب اور کل کے کل گمراہی پر مجتمع نہ ہوسکو گے ۔حضرت عمریہ پہلے ہی جانتے تھے کہ امت کا گمراہی پر اجتماع نہیں ہوگا اسی وجہ سے انہوں نے نوشتہ رسول کو " تحصیل حاصل " قرار دیا اور یہ تصور کرلیا کہ حضور اپنی شفقت کی وجہ سے ایک نوشتہ لکھنا چاہتے ہیں ۔ یہی سوچ کر حضرت عمر نے آپ کو مذکورہ جواب دیا ۔

حضرت عمر کی تندی طبع اورجلد بازی کی معذرت میں یہی باتیں بیان کی گئی ہیں ۔

مگر واقعہ یہ ہے کہ اگر نظر عائر سے دیکھا جائے تو یہ تمام جوابات انتہائی رکیک ومہمل ہیں ۔ کیونکہ رسول خدا کا "لن تضلوا بعدی" فرمانا اس امر کی قطعی اور محکم دلیل ہے کہ یہ امر وجوب کے علاوہ کسی اور مقصدکے تحت نہیں تھا۔

رسول خدا (ص) کا ان لوگوں پر غضب ناک ہونا بھی دلیل ہے کہ صحابہ نے ایک امر واجب کو تر ک کیا تھا ۔لہذا سب سے بہتر جواب یہ ہے کہ یہ واقعہ صحابہ کی سیرت کے منافی تھا اور ان کی شان بعید تھا ۔ اس واقعہ میں صحابہ سے واقعی غلطی سرزد ہوئی تھی ۔

شیخ الازہر کا خط آپ نے پڑھا ۔ علامہ موصوف نے واضح الفاظ میں حضرت کے موقف کی نفی کی۔

مذکورہ خط کے جواب میں علامہ عبد الحسین شرف الدین عاملی نے مزید اتمام حجت اور اثبات حق وابطال باطل کی خاطر درج ذیل مکتوب تحریر فرمایا ۔جسے ہم اپنے قارئین کی نذر کرتے ہیں :-

آپ کے جیسے اہل علم کے لئے یہی زیبا ہے کہ حق بات کہیں اور درست بات زبان سے نکالیں ۔

واقعہ قرطاس کے متعلق آپ نے اپنے ہم مسلک علماء کی تاویلات کی تردید

۲۲

فرمائی ہے ۔ان تاویلات کی تردید میں اور بہت سےگوشے رہ گئے ہیں ۔جی چاہتا ہے کہ انہیں بھی عرض کردوں تاکہ اس مسئلہ میں آپ خود ہی فیصلہ فرمائیں ۔پہلا جواب یہ دیا گیا ہے رسول خدا نے صرف آزمائش کی خاطر کاغذ اور قلم دوات طلب فرمایا تھا آپ در اصل کچھ لکھنا نہیں چاہتے تھے ۔

آپ نے درج بالا مفروضہ کی خوبصورت تردید فرمائی ۔اس کے لئے میں یہ کہتا ہوں کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب آپ کا دم آخر تھا اور وقت اختیار وامتحان کا نہ تھا ۔ بلکہ یہ وقت اعذار وانذار کا تھا اور ہر ضروری امر کے لئے وصیت کر جانے کا تھا اور امت کے ساتھ پوری بھلائی کرنے کا موقع تھا ۔

ذرا سوچیں جو شخص دم توڑ رہا ہو بھلا دل لگی اور مذاق سے اس کا کیا واسطہ ہوسکتا ہے ؟ اسے تو اپنی فکر پڑی ہوتی ہے ۔اہم امور پر اس کی توجہ ہوتی ہے ۔اپنے متعلقین کی مہمات میں اس کا دھیان ہوتا ہے اور خصوصا جب دم توڑنے والا نبی ہو اور اس نے اپنے پورے عرصہ حیات میں کبھی اختیار و امتحان بھی نہ لیا ہو تو وقت احتضار کیسا اختبار اور کیسا امتحان؟

علاوہ ازایں شور غل کرنے والوں کو رسول خدا نے "قوموا عنی" (میرے پاس سے اٹھ کر چلے جاؤ ) کہہ کر نکال دیا تھا ۔

حضور کریم کا ان لوگوں کو "راندہ بارگاہ کرنا"اس حقیقت کی بین دلیل ہے کہ رسول کریم کو ان لوگوں سے صدمہ پہنچا اور آپ رنجیدہ ہوئے اور اگر معترضین کا موقف صحیح ہوتا تو رسول خدا (ص) ان کے اس فعل کو پسند کرتے اور مسرت کا اظہار کرتے ۔

اگر آپ حدیث کے گرد وپیش پر نظر ڈالیں اور خصوصا ان لوگوں کے اس فقرے پر غور فرمائیں :-" هجر رسول الله (ص) "

(رسول ہذیان کہہ رہے ہیں ) تو آپ کو معلوم ہوگا کہ حضرت عمر اور ان کے ہوا خواہ جانتے تھے کہ رسول مقبول ایسی بات لکھنا چاہتے تھے جو انہیں پسند نہیں تھی ۔

۲۳

اسی وجہ سے مذکورہ فقرہ کہہ کر رسول مقبول کو اذیت پہنچائی گئی ۔ خوب اختلاف اچھالے گئے ۔

حضرت ابن عباس کا اس واقعہ کو یاد کرنا ،شدت سے گریہ کرنا اور اس واقعہ کو مصیبت شمار کرنا بھی اس جواب کے باطل ہونے کی بڑی قوی دلیل ہے ۔

معذرت کرنے والے کہتے ہیں کہ حضرت عمر مصلحتوں کے پہچاننے میں "موفق للصواب " تھے اور خدا کی جانب سے آپ پر الہام ہوا کرتا تھا ۔

یہ ایسی معذرت ہے جسے کسی طور بھی قبول نہیں کیا جا سکتا ۔ اس معذرت سے تو معلوم ہو تا ہے کہ اس واقعہ میں حضرت عمر کا موقف صحیح اور حق پر مبنی تھا اور نعوذ باللہ رسول خدا (ص) کا موقف درست نہ تھا ۔ نیز حضرت عمر کا اس دن کا الہام اس وحی سے بھی زیادہ سچا تھا جسے روح الامین لے کر آئے تھے ۔ بعض حضرات نے حضرت عمر کی صفائی میں یہ معذرت پیش کی ہے کہ حضرت عمر جناب رسول خدا(ص) کی تکلیف کم کرنا چاہتے تھے ۔ بیماری کی حالت میں اگر رسول (ص) لکھتے تو انہیں زحمت ہوتی ،اور حضرت عمر رسول خدا(ص) کی زحمت برداشت نہ کرسکتے تھے ۔

مگر آپ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ نوشتہ لکھنے میں قلب رسول (ص) کو راحت ہوتی ۔ آپ کی آنکھیں زیادہ ٹھنڈی ہوتیں اور امت کی گمراہی سے آپ زیادہ بے خوف ہوجاتے ۔رسول خدا(ص) کی فرمائش کا غذ اور قلم دوات کے متعلق تھی ۔کسی کاآپ کی تجویز کے خلاف قدم اٹھانا صحیح نہیں تھا ۔

ارشاد رب العزت ہے :"وما کان لمومن ولا مومنة اذا قضی الله و رسوله امرا ان یکون لهم الخیرة من امرهم ومن یعص الله ورسوله فقد ضل ضلالا مبینا " جب خدا اور رسول کسی بات کا فیصلہ کریں تو پھر کسی مومن مرد اور مومنہ عورت کو اس بات کی پسند اور ناپسند کا اختیار حاصل نہیں ہے اور جو کوئی اللہ اور رسول کی نافرمانی کرے گا وہ واضح گمراہی میں پڑجائے گا ۔

۲۴

حضرت عمر اور ان کے حامیوں کی طرف سے نوشتہ رسول کی مخالفت کرنا ، اس اہم ترین مقصد میں رکاوٹ ڈالنا اور رسول خدا کے سامنے شو روغل مچانا ،جھگڑا فساد کرنا یہ سب امور نوشتہ کی بہ نسبت حضور اکرم کی زحمت کا موجب تھے ۔

سوچنے کی بات ہے کہ حضرت عمر سے رسول خدا(ص) کی اتنی سی زحمت تو دیکھی نہ گئی آپ بیماری کی حالت میں نوشتہ تحریر فرمائیں ،مگر ایسا کرنے میں انہیں کوئی تامل نہ ہوا کہ رسول کاغذ اور قلم دوات مانگیں اور وہ تکرار کرنے لگیں اور قول رسول کو ہذیان ثابت کرنے پر تل جائیں ۔

اگر نوشتہ لکھنے سے حضور کو زحمت ہوتی تھی تو اپنے متعلق ہذیان کا جملہ سن کرکیا انہیں راحت پہنچی تھی ؟

حضرت عمر کے وکلاء دور کی ایک کوڑی یہ بھی لاتے ہیں کہ حضرت عمر نے سمجھا کہ کاغذ اور قلم دوات نہ لانا ہی بہتر ہے ۔

کیا کہنا اس معذرت کا غور فرمائیے کہ رسول خود حکم دیں کہ کاغذ اور قلم دوات لاؤ تو کاغذ اور قلم دوات نہ لانا کیسے بہتر قراردیا جاسکتا ہے ؟

تو کیا حضرت عمر یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ رسول ایسی چیز کا حکم دیا کرتے ہیں جس چیز کا ترک کرنا زیادہ بہتر ہوتا ہے ۔

حضرت عمر کی صفائی میں بعض حضرات نے یہ عذر تراشا ہے کہ حضرت عمر کو خوف ہوا کہ رسول مقبول (ص) کہیں ایسی بات نہ لکھ دیں جس پر لوگ عمل نہ کرسکیں اور نہ کرنے پر سزا کے حق دار ٹھہرے ۔

غور فرمائیے!رسول (ص)کہہ رہے ہیں کہ "تم گمراہ نہ ہوگے "تو اس قول کی موجودگی میں حضرت عمر کا ڈرنا کہاں تک درست تھا ؟

تو کیا حضرت عمر جناب رسول مقبول کی نسبت انجام سے زیادہ باخبر تھے اور حبیب خدا(ص) سے زیادہ محتاط تھے ؟

۲۵

بعض حضرات نے یہ عذر پیش کیا ہے کہ حضرت عمر کو منافقین کی طرف سے اندیشہ تھا کہ وہ حالت مرض میں لکھے ہوئے نوشتہ کی صحت میں قدح کریں گے ۔مگر آپ سمجھ سکتے ہیں کہ رسول مقبول نے نوشتہ کے متعلق وضاحت کرتے ہوئے فرمایا تھا "لن تضلوا بعدی" (میرے بعد تم ہرگز گمراہ نہ ہوگے ) تو اس فرمان کے بعد اس اندیشہ کی ضرورت ہی باقی نہ رہی تھی ۔

اور اگر بالفرض حضرت عمر کو منافقین کی طرف سے اندیشہ تھا کہ وہ نوشتہ کی صحت میں قدح کریں گے تو حضرت عمر نے خود ہی ان کے لئے زمین کیوں ہموار کی ؟

رسول مقبول(ص) کی بات کا جواب دے کر ،لکھنے سے روک کر ،ہذیان کی تہمت لگا کر انہوں نے اسلام اور رسول اسلام کی کون سی خدمت کی؟ حضرت عمر کے ہواخواہ ان کے فقرہ "حسبنا کتاب الله "(ہمیں اللہ کی کتاب کافی ہے )کی تائید کے لئے عموما کہا کرتے ہیں کہ اس فقرہ کی تائید قرآن مجید کی اس آیت سے ہوتی ہے "ما فرطنا فی الکتاب من شیء۔۔۔۔" (ہم نے کتاب میں کوئی چیز اٹھا نیں رکھی ) نیز اللہ تعالی کا فرمان ہے ۔"الیوم اکملت لکم دینکم "(آج میں نے تمھارے دین کو مکمل کردیا )۔

اب اگر ان آیات کو مد نظر رکھ کر حضرت عمر نے مذکورہ فقرہ کہا تو اس میں کونسی قباحت تھی ؟

حضرت عمر کے حامیوں کی درج بالا دلیل درست نہیں ہے اور نہ ہی درج بالا آیات سے حضرت عمر کے مذکورہ فقرہ کی تائید ہوتی ہے ۔

درج بالا آیات کا ہرگز مفہوم یہ نہیں ہے کہ امت ہمیشہ کے لیے گمراہی سے محفوظ ہوگئی ہے ۔یہ آیات ہدایت خلق کی ضمانت فراہم نہیں کرتیں ۔ پھر ان آیات کا سہارا لے کر نوشتہ رسول(ص) سے اعراض کرنے کی کون سی تک تھی ؟

اگر قرآن کی موجودگی امت کی گمراہی دور کرنے کا موجب ہے تو آج بحمداللہ

۲۶

قرآن مجید امت کے پاس موجود ہے مگر اس کے باجود افراد امت میں گمراہی کیوں پائی جاتی ہے ؟

اورقرآن کی موجودگی میں امت کے اتنے فرقے کیوں ہیں اور باہمی انتشار وتفریق کیوں ہے ؟

حضرت عمر کی صفائی میں آخری جواب یہی دیا جاسکتا ہے وہ ارشاد رسول کا مطلب نہیں سمجھے ۔ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ نوشتہ امت کے ہر فرد کے لئے گمراہی سے بچنے کا سبب ہوگا ۔

حضرت عمر جناب رسول خدا (ص) کے اس فقرہ "لن تضلوا بعدی " کایہ مفہوم سمجھے کہ رسول کا نوشتہ گمراہی پر مجتمع نہ ہونے کا سبب بنے گا ۔اس نوشتہ کا فائدہ یہ ہوگا کہ امت والے گمراہی پر مجتمع اور متحد نہ ہوں گے ۔

حضرت عمر کو یہ بات پہلے سے ہی معلوم تھی کہ امت کبھی گمراہی پر مجتمع نہ ہوگی لہذا لکھنا "تحصیل حاصل" کے مترادف ہوگا ۔

اسی وجہ سے انہوں نے یہ جواب دیا اور نوشتہ لکھنے سے مانع ہوئے ۔

میں عرض کرتا ہوں کہ حضرت عمر اس قدر نادان ہرگز نہ تھے کہ ایسی روز روشن حدیث ،جس کا مفہوم ہر چھوٹے بڑے ،شہری دیہاتی کے ذہن میں آسکتا ہے وہ اس حدیث کے مفہوم کو سمجھنے سے قاصر رہے ہوں ۔

حضرت عمر یقینی طور پر جانتے تھے کہ رسول مقبول کو امت سے اجتماعی گمراہی کا اندیشہ نہیں ہے ۔کیونکہ حضرت عمر رسول خدا(ص) کا یہ فرمان بار ہا سن چکے تھے کہ "میری امت گمراہی پر مجتمع نہ ہوگی ،خطا پر مجتمع نہ ہوگی ۔"

"میری امت میں سے ہمیشہ ایک جماعت حق کی حمایتی ہوگی " نیز انہوں نے اللہ تعالی کا یہ ارشاد بھی سنا تھا ۔

وعد الله الذین امنوا منکم وعملوا الصالحات یستخلفنهم فی

۲۷

الارض ۔۔۔۔"تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک کا م کئے ان سے خداوند عالم نے وعدہ کررکھا ہے کہ وہ انہیں روئے زمین پر خلیفہ بنائے گا ۔جیسا کہ ان کے قبل کے لوگوں بنایا تھا ۔۔۔۔۔"اس طرح کی دوسری آیات بھی قرآن مجید میں موجود ہیں ۔ اور اس کے ساتھ پیغمبر اکرم کی صریح احادیث بھی سن چکے تھے کہ " امت کبھی گمراہی پر مجتمع نہ ہوگی " اسی لئے حضرت عمر نے بھی حدیث رسول سے وہی کچھ سمجھا جو کہ تمام دنیا نے سمجھا تھا مگر اس کے باوجود بھی وہ نوشتہ رسول میں مانع ہوئے ۔

رسول خدا کا اظہار ناگواری کرنا اور اپنے دربار سے نکال دینا یہ سب اس حقیقت کی بین دلیل ہے کہ جس بات کو ان لوگوں نے ترک کردیا تھا واجب تھی ۔ کاغذ اور قلم ودوات جو رسول (ص) نے مانگا تھا وہ لانا ضروری تھا ۔

اسے نہ لاکر انہوں نے حکم رسول(ص) کی مخالفت کی اور واجب کو ترک کیا ۔

اور اگر بالفرض میں یہ جان بھی لوں کہ یہ سب کچھ سمجھی اور غلط فہمی کی وجہ سے رونما ہوا ۔توایسی حالت میں جناب رسول کا یہ حق بنتا تھا کہ آپ ان کے شکوک وشبہات زائل کرتے یا جس بات کا حکم دیا تھا اس پر مجبور کرتے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ رسول (ص) نے یہ سب کچھ نہیں کیا بلکہ اپنے پاس سے "قوموا عنی " کہہ کر اٹھا دیا ۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول خدا (ص)جانتے تھے کہ حضرت عمر کی مخالفت غلط فہمی کی وجہ سے نہیں بلکہ کسی اور جذبہ کے تحت وہ ایسا کہہ رہے تھے ۔ اسی لیے آپ نے انہیں اپنے گھر سے نکال دیا ۔

جناب ابن عباس کا گریہ فرمانا ،نالہ وفریاد کرنا یہ بھی ہمارے بیان کا موئد ہے انصاف تو یہ ہے کہ یہ حضرت عمر کی لائی ہوئی وہ زبردست مصیبت ہے جس میں کسی عذر کی گنجائش ہی نہیں ۔

حق بات تو یہ ہے کہ ان بزرگواروں نے نص کو اہمیت نہ دی اور اس کےمقابلہ میں اپنے اجتہاد سے کام لیا ۔

۲۸

اگر نص کے مقابلہ میں کیا جانے والا عمل اجتہاد کہلا سکتا ہے تو واقعی وہ لوگ مجتہد تھے ۔

مگر اس مقام پر اللہ اور رسول کی نص جدا ہے اور بزرگوں کی اجتہادی رائے جداہے ۔"

درج بالا تفصیلی مکتوب کے بعد شيخ الازہر نے درج ذیل مکتوب تحریر فرمایا :-

"آپ نے معذرت کرنے والوں کی تمام راہیں کاٹ دیں اور ان پر تمام راستے بند کردئیے آپ نے جو کچھ فرمایا اس میں شک وشبہ کی گنجائش باقی نہیں رہی ۔۔۔۔۔"

ہم اس اجتہاد کے قائل ہیں جو کہ نصوص کے دائرہ میں رہ کر کیا جائے اور ہم ایسی کسی فکر ورائے کو اجتہاد تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں جو کہ نصوص صریحہ کی مخالفت پر مبنی ہو ۔

اس کتاب کی تالیف کامقصد تاریخ کے درست مطالعہ کو پیش کرنا ہے تاکہ تاریخ کے غیر جانبدارانہ سے انسان حقیقت کے سر چشموں تک پہنچ سکے اور مقام ہدایت تک رسائی حاصل کرسکے ۔ہم مشرق ومغرب میں رہنے والے تمام مسلمانوں کو دعوت دیتے ہیں کہ آئیے دین کی صحیح تعلیمات کو تلاش کریں اور اس حقیقت عظمی کی جستجو کریں جس کی پیغمبر اکرم منادی کیا کرتے تھے ۔

اور اگر ہم نے رسول اعظم (ص) کی سیرت وتعلیمات کو اپنے لیے مشعل راہ بنا لیا تو ہم کبھی گمراہ نہ ہوسکیں گے ۔

ہمیں اتباع مصطفی کی ضرورت ہے ۔اس کے علاوہ ہمیں کسی زید وبکر کے

۲۹

اجتہاد کی قطعاد احتیاج نہیں ہے ۔ اس لئے کہ مجتہدین سے خطا ممکن ہے اور رسول اعظم کی ذات والا صفات سے خطا کا صدور ممکن نہیں ہے ۔

اور اس مقام پر یہ کہنا بھی صحیح نہ ہوگا کہ ہم کیا کریں ہم تو تاریخی طور پر بہت بعد میں پیدا ہوئے اور اس کی وجہ سے ہم روح اسلامی سے بہت دور ہوگئے تو اس میں ہمارا کیا دوش ہے ۔

اس کے لئے ہم اپنے قارئین کی خدمت میں دوبارہ یہ عرض کریں گے کہ ان حالات کے باوجود ہمیں اپنی مساعی کو ترک نہیں کرنا چاہئیے ۔کیونکہ آج مغرب ہمیں ہر سطح پر تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے اور ہم روز بروز اس کے لئے تر لقمہ بنتے جارہے ہیں ۔ توکیا آپ نے کبھی اس پر توجہ فرمائی ہے کہ ہماری کمزوری کی بنیادی وجہ کیا ہے ؟

میں سمجھتا ہوں کہ ہماری کمزوری کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے آج تک اسلام کو صحیح طور پر سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی ۔ ہم نے ان نظریات کو اسلام سمجھ کر اپنایا ہوا ہے جو ہماری مصلحتوں اور اغراض وافکار کے مطابق ہیں ۔اگر اس کی بجائے ہم نے صحیح اسلامی روح کا ادراک کیا ہوتا تو آج استعماری بھیڑئیے ہم پر یوں مسلط نہ ہوتے ۔

قارئین محترم!

میں نے یہ کتاب کسی قسم کی شہرت یا کثرت لقب کی غرض سے تالیف نہیں کی ۔اس کی تالیف کا اول وآخر مقصد انسانوں کے اذہان تک صحیح تاریخی حقائق کا پہنچانا ہے ۔ کیونکہ انسانوں کی اکثریت صحیح تاریخی حقائق سے واقف نہیں ہے ۔ اور اس عدم واقفیت کا اہم سبب یہ ہے کہ ہر دور میں حقائق کو چھپایا گیا اور حقیقت کے رخ زیبا پر دبیز پردے ڈالے گئے اور ہر زمانے میں سراب کو آب بنانے کی سعی نا مشکور کی گئی اور حقائق کا منہ چڑایا جاتا رہا اور ملمع کاری سے نا خوب کو خوب بنانے

۳۰

کی جد وجہد کی گئی ۔

اسی لئے اکثریت کو آج تک حق وباطل کی تمیز نہ ہوسکی اور یوں رہنما اور رہزن کی تفریق نہ ہوسکی ۔

اندریں حالات میں نے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے تاریخی حقائق پیش کرنے کی جسارت کی ہے اور امید وار ہوں کہ اللہ تعالی اس کتاب کو متلاشیان حق کے لئے منارہ نور بنائے گا اور شب تار میں اسے شمع فروزاں قرار دے گا ۔

اللہ تعالی سے درخواست ہے کہ وہ ہمیں معرفت کی نعمت عطا فرمائے اور ہمیں اہل معرفت میں شامل فرمائے اور جہل وتقلید کے مرض سے محفوظ رکھے اور ہماری لغزشوں سے در گزر فرمائے کیونکہ وہ سننے والا اور قبول کرنے والا ہے ۔

ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم و تب علینا انک انت التواب الرحیم

بجاه النبی و اهل بیته الطاهرین

اللهم صلّ علی محمدوآل محمد

٭٭٭٭٭

۳۱

فصل اول

مسئلہ وصیت

خلافت کے متعلق امت اسلامیہ میں دونظریئے پائے جاتے ہیں ۔مسلمانوں کا ایک گروہ خلافت کو بیک وقت دینی اور دنیاوی مسئلہ قراردیتا ہے ۔

خلافت کا تعلق دین سے تو یہ ہے کہ خلیفہ کو تمام امور میں احکام دین کی پیروی کرنی پڑتی ہے ۔اور خلیفہ کو بھی اپنے منیب کی طرح معصوم عن الخطا ہونا چاہئیے اور اسے تمام امور دین کا عالم ہونا چاہئے اور خلافت کا تعلق دنیا سے یہ ہے کہ خلیفہ بھی انسان ہی ہوتا ہے اور اس پر وحی تشریعی کا نزول نہیں ہوتا اور وہ بھی احکام دین کا اسی طرح سے مکلف ہوتا ہے جیسا کہ امت کے باقی افراد ہوتے ہیں ۔اور خلیفہ کا انتخاب خدا کی طرف سے ہوتا ہے اور اس کا اظہار نبی کے ذریعہ سے ہوتا ہے اور نبی کے بعد خلیفہ ہی دین اسلام کی تعلیمات کا محافظ ہوتا ہے اور زندگی کے تمام شعبوں میں اسلامی تعلیمات کا نفاذ بھی اسی کی ذمہ داری ہے اس نظریہ کے تحت نبوت کے بعد خلافت کا درجہ ہے اور خلافت کو بھی اتنا ہی پاک وپاکیزہ ہونا چاہئیے جتنی کہ نبوت پاک وپاکیزہ ہے ۔

اس نظریہ کے حامل گروہ کی رائے یہ ہے کہ اللہ نے اپنے نبی (ص) کو جانشین مقرر کرنے کا حکم دیا ہے اور نبی اکرم نے حکم خداوندی کے تحت حضرت علی (ع) کی امامت وخلافت کا اعلان کیا ہے ۔ لیکن حضور اکرم کی وفات کے بعد چند لوگوں نے انہیں ان کے اس حق سے محروم رکھا اور انہوں نے اپنی خود ساختہ خلافت قائم کی ۔

مگر اس کے باوجود رسول خدا کے حقیقی اور پہلے جانشین حضرت علی (ص)ہی تھے اگر چہ وہ ایک طویل عرصہ تک اپنے فرائض کی کما حقہ ادائیگی سے قاصر رہے لیکن اس میں ان کی ذات کا کوئی دوش نہیں تھا ۔ ساری غلطی ان کے حریفوں کی تھی ۔

۳۲

یہ گروہ مسئلہ امامت و خلافت کو دینی منصب ثابت کرنے کے لئے یہ استدلال کرتا ہے :

رسول خدا (ص) نے دین و دنیا کی تعلیم دی ہے اور حضور کے لئے یہ بھی ضروری تھا کہ وہ مسلمانوں کے لئے کوئی رہبر و رہنما مقرر کرکے جائیں ۔تاکہ آپ کے بعد امت افتراق و انتشار کا شکار نہ ہو اور امت کی رہبری کے لئے کسی ایسے شخص کی ضرورت ہے جو ہر لحاظ سے موزوں ہو اور دین ودنیا کے معاملات سے بخوبی آگاہ ہو اور وہ مکارم اخلاق کا بلند ترین نمونہ ہو ۔ دین اسلام صرف قبیلہ قریش یا صرف سرزمین حجاز کے لوگوں کے لئے نہیں آیا تھا بلکہ یہ دین پوری انسانیت کے لئے آیاتھا ۔تو اسی لئے ضروری ہے کہ کسی ایسے شخص کو نامزد کیا جائے جو ہر لحاظ سے لائق و فائق ہو ۔

۱:- اور مسئلہ خلافت کو امت کے سپرد کرکے چلے جانا کوئی معقول بات نہیں ہے اور اتنے اہم ترین مسئلہ کو لوگوں کی صوابدید پر چھوڑنا مناسب نہیں ہے کیونکہ اگر اس حساس مسئلہ کو بھی عوام الناس کی پسند وناپسند پر چھوڑدیا جائے تو اس سے بہت زیادہ پیچیدگیاں جنم لیں گی ۔اور اگر بالفرض عوام کو ہی حق انتخاب حاصل ہے تو پھر یہ حق تمام مسلمانوں کو حاصل ہے یا ایک مخصوص گروہ کو حاصل ہے ؟

۲:- اور اگر یہ مخصوص گروہ کا حق ہے تو اس گروہ کی وجہ استحقاق کیا ہے ؟

اور اس گروہ کی آخر وہ کون سی خصوصیت ہے جس کی وجہ سے انہیں یہ امتیاز حاصل ہوا ہے ؟

۳:-اور کیا انتخاب خلیفہ کا حق صرف حضرت ابو بکر وحضرت عمر اور حضرت ابو عبیدہ اور ان دو چار انصار کو ہی حاصل ہے جو کہ سقیفہ میں موجود تھے ؟

۴:- اور کیا حضرت علی (ع)اور جملہ بنی ہاشم اور سعد بن عبادہ اور ان کے فرزند ،حضرت سلمان فارسی ،حضرت ابو ذر غفاری ،حضرت مقداد بن اسود ،حضر ت عمار

۳۳

بن یاسر، حضرت زبیر بن عوام ،حضرت خالد بن سعید اور حضرت حذیفہ بن یمان اور حضرت بریرہ جیسے بلند صحابہ کی مخالفت کے باوجود بھی سقیفائی خلافت کو درست سمجھا جاسکتا ہے ؟۔

۵:-اور کیا جب اتنے عظیم المرتبت افراد بھی مخالف ہوں تو اس کے باوجود بھی خلافت کو کامل الشروط سمجھنا درست ہوسکتا ہے ؟

۶:- اور اگر مسلمانوں کو ایک افضل فرد کے انتخاب کا حق بھی دے دیا جائے تو کیا وہ فی الحقیقت ایک افضل ترین فرد کا ہی انتخاب کریں گے جب کہ ان میں قبائلی عصبیت بھی موجود ہو؟۔

۷:-اور کیا جناب رسول خدا(ص) ان قبائلی عصبیتوں کو جانتے ہوئے بھی خلیفہ کا انتخاب اس لئے ان کے حوالے کرکے گئے تھے کہ آپ ان عصبیتوں کو مزید برانگیختہ کرنا چاہتے تھے ؟

۸:-اور اگر لکھنا ضروری ہے تو یہ بتایا جائے کہ اس دور میں کتنے افراد خواندہ تھے جب کہ ان لوگوں کو ان پڑھ ہونے کی وجہ سے "امیّین" کہا جاتا تھا؟ اور یہ بیان کیا جائے کہ یہ انتخاب کہاں عمل میں لایا جائے گا ۔

۱۰:- اور کیا تمام شہروں اور قصبوں میں اس کے لئے "پولنگ بوتھ" قائم کئے جائیں یا کوئی اور طریقہ اختیار کیا جائے گا ؟

۱۱:- اور امید وار کو اپنی پبلسٹی کا حق بھی دیا جائے گا یا نہیں ؟

۱۲:- اور یہ انتخاب کس طرح سے رو بہ عمل لایا جائے گا ؟

۱۳:- اور اس انتخاب کے لئے کتنے وقت کی ضرورت ہوگی ؟

۳۴

۱۴:- اور وفات رسول (ص) اور خلیفہ کے انتخاب کے درمیانی عرصہ میں مسلمانوں کے امور کس کے سپرد ہوں گے ؟

درج بالا سوالات کے جواب انتہائی ضروری ہیں ۔

خلافت علی (ع) کے دلائل

مسلمانوں کا وہ گروہ جو خلافت و امامت کو مخصوص من اللہ قرار دیتا ہے ۔ اس سلسلہ میں انکا موقف بڑا ٹھوس اور واضح ہے ۔وہ گروہ یہ کہتا ہے کہ رسول خدا(ص) نے ہجرت کے دسویں سال حج بیت اللہ کا ارادہ کیا اور تمام عرب میں اس کی منادی کرائی گئی ۔مسلمان پورے جزیرہ عرب سے سمٹ کر حج کے لئے آئے اور اس حج کو حجۃ الوداع کہا جاتا ہے ۔

جناب رسول خدا(ص) مناسک حج سے فراغت حاصل کرنے کے بعد مدینہ واپس آرہے تھے اور جب غدیر خم پر پہنچے اور یہ مقام جحقہ کے قریب ہے اور یہاں سے ہی مصر اور عراق کی راہیں جداہوتی ہیں ۔

اس مقام پر اللہ تعالی نے اپنے حبیب پر یہ آیت نازل فرمائی :- "یا ایها الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک وان لم تفعل فما بلغت رسالته والله یعصمک من الناس ان الله لایهدی القوم الکافرین "(المائدہ نمبر ۶۷)"

اے رسول ! اس حکم کو پہنچائیں جو آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اس کا کوئی پیغام ہی نہیں پہنچایا اور اللہ آپ کو لوگوں سے بچائے گا ۔ بے شک اللہ منکر قوم کو ہدایت نہیں کرتا ۔

اس آیت مجیدہ کے نزول کے بعد آپ نے اونٹوں کے پالانوں کا منبر بنوایا اور تمام لوگ جمع ہوگئے تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا اور حضرت علی کے بازو کو بلند کرکے

۳۵

اعلان کیا :-"ان الله مولای و انا مولی المومنین " اللہ میرا مولا ہے اور میں اہل ایمان کا مولا ہوں پھر فرمایا :- "من کنت مولاه فعلی مولاه "(۱) جس کا میں مولا ہوں اس کا علی مولا ہے ۔

اس کے بعد اللہ تعالی نے تکمیل دین کا اعلان کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی :- "الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا " (المائدہ)

آج میں نے تمھارے لئے تمھارے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمھارے لئے اسلام کو بطور دین پسند کیا ۔

جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول خدا(ص) نے شکر کرتے ہوئے کہا

"الحمد الله علی اکمال الدین واتمام النعمة و الولایة لعلی " تکمیل دین اور تمام نعمت اور ولایت علی پر اللہ کی حمد ہے ۔

اس مقام پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس وقعہ کی یاد گار کے طور پر شیعہ عید غدیر کا جشن منانے لگے ۔مقریزی نے اس جشن کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ

"جاننا چا ہئیے کہ اسلام کے ابتدائی ایام میں عید غدیر کے نام سے کوئی عید نہیں منائی جاتی تھی اور سلف صالحین سے بھی اس کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا ۔یہ عید سب سے پہلے سن ۳۵۲ ھ میں معز الدولہ علی بن بابویہ کے دور میں عراق میں منائی گئی اور اس کی بنیاد اس حدیث پر تھی ۔جس کی روایت امام احمد نے اپنی مسند کبیر میں براء بن عازب کی زبانی کی ہے وہ کہتے ہیں :-

ہم رسول اللہ کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور مقام غدیر خم پر پہنچے تو "الصلواة جامعة " کی منادی ہوئی اور دو درختوں کے درمیان جھاڑو دی گئی اور

____________________

(۱):- تفصیلی حوالے کے لئے عبقات الانوار جلد حدیث ولایت کے مطالعہ فرمائیں

۳۶

حضور اکرم نے نماز ظہر آدا کی اور خطبہ دیا ۔ خطبہ کے دوران لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا :-الستم تعلمون انی اولی بالمو منین من انفسهم " کیا تمہیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ میں مومنوں کی جان سے بھی زیادہ ان پر حق حکومت رکھتا ہوں ؟

سامعین نے کہا جی ہاں ! پھر آپ نے علی (ع) کا بازو پکڑ کر بلند فرمایا اور اعلان کیا :-من کنت مولاه فعلی مولاه ،اللهم وال من والاه وعادمن عاداه " جس کا میں ہوں اس کا علی مولا ہے ۔اے اللہ! جو اس سے دوستی رکھے تو اس سے دوستی رکھ اور جو اس سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی رکھ ۔اس کے بعد حضرت عمر ،حضرت علی (ع) کو ملے اور کہا :-هنیا لک یا بن ابی طالب اصبحت مولی کل مومن ومومنة " ابو طالب کے فرزند ! تمہیں مبارک ہو تم ہر مومن مرد وعورت کے مولا بن گئے ہو ۔

غدیر خم کا مقام جحفہ سے بائیں طرف تین میل کے فاصلے پر ہے وہاں پر ایک چشمہ پھوٹتا ہے اور اس کے ارد گرد بہت سے درخت ہیں ۔

اس واقعہ کی یاد کے طور پر شیعہ اٹھارہ ذی الحجہ کو عید مناتے تھے ۔ ساری رات نمازیں پڑھتے تھے اور دن کو زوال سے قبل دورکعت نماز شکر انہ ادا کرتے تھے ۔ساری رات نمازیں پڑھتے تھے اور دن کو زوال سے قبل دو رکعت نماز شکرانہ ادا کرتے تھے اور اس دن نیا لباس پہنتے تھے اور غلام آزاد کرتے تھے اور زیادہ سے زیادہ خیرات بانٹتے اور جانور ذبح کرکے اپنی خوشی کا اظہار کیا کرتے تھے جب ۔شیعوں نے یہ عید منانی شروع کی تو اہل سنت نے ان کے مقابلہ میں پورے آٹھ دن بعد ایک عید منافی شروع کردی اور وہ بھی اپنی عید پر خوب جشن مناتے تھے اور کہتے تھے کہ اس دن رسول خدا (ص) اور حضرت ابو بکر غار میں داخل ہوئے تے(۱) ۔"

____________________

(۱):-کتاب المواعظ والاعتبار۔

۳۷

سواد اعظم کا نظریہ خلافت

مسلمانوں کے دوسرے فریق کے نظریہ کے مطابق خلافت کے لئے اگر چہ دینی تعلیمات کی پابندی ضروری ہے لیکن بایں ہمہ وہ اول وآخر دنیاوی معاملہ ہے ۔ اسی لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خلافت کے لئے نص نہیں فرمائی ۔کیونکہ یہ مسئلہ ضروریات دین میں سے نہیں تھا ۔

اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ رسول خدا کے فورا بعد کچھ مسلمان سقیفہ بنی ساعدہ(۱) میں خلیفہ کے لئےجمع ہوئے ۔انہوں نے یہ عظیم منصب حضرت ابو بکر کے حوالہ کیا ۔ انہوں نے حضرت عمر کو نامزد کیا ۔انہوں نے شوری قائم کی ،شوری نے حضرت عثمان کا انتخاب کیا اور ان کی وفات کے بعد لوگوں نے حضرت علی کا انتخاب کیا ۔ یہ چاروں بزرگواروں خلفائے راشدین کہلاتے ہیں اور دینی اعتبار سے بھی ان کی فضیلت کی ترتیب یہی ہے ۔ اس نظریہ کے حامل افراد یہ کہتے ہیں کہ وفات رسول تک یہ دینی احکام کی تکمیل ہوچکی تھی اور زندگی کے تمام شعبوں کے متعلق ضروری ہدایت بھی مل چکی تھیں اسی لئے کسی آسمانی خلافت کی امت کو ضرورت نہیں رہی تھیں اسی نظریہ کی ترجمانی کرتے ہوئے استاد عبد الفتاح عبد المقصود اپنی کتاب "الامام علی بن ابی طالب " میں لکھتے ہیں :-

"اسلامی خلافت کا تعلق دنیاوی نظام زندگی سے ہے اور دنیا کے دیگر رائج نظریات حکومت کی طرح خلافت بھی ایک نظریہ ہے ۔خلافت رائے اور فکر کی پیداوار ہے اس کا نص سے کوئی واسطہ نہیں ہے ۔ کیونکہ رسول خدا(ص) نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں کسی کو اپنی خلافت کیلئۓ صریح الفاظ میں نامزد نہیں فرمایا تھا ۔

____________________

(۱):-سقیفہ ایک جگہ تھی جہاں دور جاہلیت میں لوگ امور باطل کو سرانجام دینے کے لئے جمع ہوتے تھے اور مجازا بے ہودہ گفتگو کو بھی سقیفہ کہا جاتا ہے ۔غیاث اللغات طبع ہند مادہ "سقف"

۳۸

ہاں یہ درست ہے کہ آپ (ص) نے وقتا فوقتا ایسے اشارات ضرورکئے تھے لیکن صحابہ اس کی تاویل سے قاصر رہے اس کے ساتھ چند احادیث ایسی بھی ہین جن میں خلافت کے لئے صریح الفاظ کے ساتھ وضاحت کی گئی ہے ۔مثلا حدیث غدیر اور حدیث خاصف النعل ،تو ان جیسی احادیث کو صراحت استخلاف کے لئے پیش کیا جاسکتا ہے(۱)

معتزلہ کا نظریہ خلافت

اسی مسئلہ کے متعلق ایک تیسرا نظریہ بھی ہے جو کہ ان دونوں فریقوں کے نظریات کے "بین بین " ہے ۔

اس نظریہ کے حامل افراد اہل سنت کے اس نظریہ سے اتفاق کرتے ہیں کہ خلافت ہر لحاظ سے ایک دنیاوی معاملہ ہے اور رسول خدا (ص) نے اس کے لئے کوئی نص صریح نہیں فرمائی ۔لیکن اس کے باوجود علی علیہ السلام ،حضرت ابو بکر کی بہ نسبت خلافت کے زیادہ حقدار ہیں ۔کیونکہ علی علیہ السلام ہر لحاظ سے پوری امت مسلمہ کے افضل فرد ہیں ۔

اسی نظریہ کے حامل افراد میں سے ابن ابی الحدید کی رائے کو ہم ان کی کتاب شرح نہج البلاغہ سے نقل کرتے ہیں :-

"ہمارے تمام شیوخ کا اتفاق ہے کہ حضرت ابو بکر کی بیعت صحیح اور شرعی تھی اور ان کی خلافت نص پر قائم نہیں ہوئی تھی ۔

ان کی خلافت اجماع اور اجماع کے علاوہ دوسرے طریقوں کے تحت قائم ہوئی تھی ۔ ہمارے شیوخ کا تفصیل میں اختلاف ہے ۔

____________________

(۱):-خلافت کی نصوص صریحہ کے لئے علامہ امینی کی مشہور کتاب "الغدیر کا مطالعہ فرمائیں یہ کتب گیارہ جلدوں پر مشتمل ہے ۔

۳۹

ابو عثمان اور عمرو بن عبید جیسے متقدمین کہتے ہیں کہ ابو بکر ،علی سے افضل ہیں ۔اور خلفا ئے راشدین کی فضلیت کی ترتیب وہی ہے جو کہ ان کی خلافت کی ترتیب ہے ۔ہمارے بغداد ی شیوخ خواہ متقدمین ہوں یا متاخرین ان سب کی متفقہ رائے یہ ہے کہ :-

علی علیہ السلام حضرت ابو بکر سے افضل ہیں ۔ اور بصرہ کے مندرجہ ذیل علما بھی اس مسئلہ میں ان کے موید ہیں ۔ابو علی محمد بن عبد الوہاب الجبائی ،شیخ ابو عبداللہ الحسین بن علی البصیری اور قاضی القضاۃ عبد الجبار بن احمد اور ابو محمد حس بن متویہ وغیرہ ۔

علاوہ ازیں ابو حذیفہ واصل بن عطاء اور ابی الھذیل محمد بن الہذیل العلاف کا نظریہ یہ ہے کہ حضرت علی (ع) اور حضرت ابوبکر کی تفصیل کے متعلق ہمیں خاموش رہنا چاہیئے البتہ علی علیہ السلام حضرت عثمان سے ہر لحاظ سے افضل تھے ۔

اور جہاں تک ہقا اپنا تعلق ہے تو ہم اپنے بغدادی شیوخ کے نظریہ کو تسلیم کرتے ہوئے حضرت علی کو باقی تمام لوگوں سے افضل وبہتر سمجھتے ہیں "۔

فرقہ معتزلہ کے یہ فاضل شخص شرح نہج البلاغہ میں ایک دوسرے مقام پر لکھتے ہیں کہ کافی بحث وتمحیص کے بعد فرقہ معتزلہ نے تفضیل کے متعلق یہ رائے قائم کی ہے :

"حضرت علی (ع) پوری امت اسلامیہ میں سے افضل ترین فرد تھے ۔ لوگوں نے چند مصلحتوں کی وجہ سے انہیں خلافت سے محروم رکھا ۔حضرت علی (ع) کی خلافت کے متعلق نصوص قطعیہ موجود نہ تھیں ہاں اگر نصوص موجود بھی تھیں تو بھی ان کے مفہوم میں اشتباہ موجود تھا ۔ حضرت علی علیہ السلام نے پہلے پہل حضرت ابوبکر کی حکومت سے اختلاف کیا لیکن پھر مصالحت کرلی ۔اگر علی (ع) سابقہ مخالفت پر ڈٹے رہتے تو ہم حضرت ابوبکر کی خلافت کو غلط قرار دیتے الغرض ہمارا نظریہ یہی

۴۰