المیہ جمعرات

المیہ جمعرات0%

المیہ جمعرات مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 333

المیہ جمعرات

مؤلف: محمد تیجانی سماوی (تیونس)
زمرہ جات:

صفحے: 333
مشاہدے: 18915
ڈاؤنلوڈ: 464

تبصرے:

المیہ جمعرات
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 333 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 18915 / ڈاؤنلوڈ: 464
سائز سائز سائز
المیہ جمعرات

المیہ جمعرات

مؤلف:
اردو

تمنا کی تھی اور ساری رات نوافل میں گزاری کہ شاید صبح علم اسلامی مجھے مل جائے ۔

جب صبح ہوئی تو رسول خدا(ص) نے علی (ع) کو بلایا اور انہیں علم عطا فرمایا(۱) ۔

ان سب حقائق کے علاوہ منصب خلافت بلافصل کے لئے علی (ع)کی اہلیت کے لیے درج ذیل امور بھی مد نظر رکھنے چاہییں:-

الف :- حضرت علی (ع) دین اسلام کے جوہر کو خوب سمجھنے والے تھے ۔وہ ایمان کے جملہ اطراف وآفاق کا احاطہ رکھتے تھے ۔علی اکثر رسول خدا (ص) کے ساتھ خلوت میں بیٹھ کر گفتگو کیا کرتے تھے اور لوگوں کو اس گفتگو کوئی علم نہیں ہوتا تھا ۔

آپ قرآن مجید کے معانی ومفاہیم کے لئے رسول خدا(ص) سے زیادہ سے زیادہ استفسار کرتے تھے ۔

اور اگر علی سوال میں ابتدا نہ کرتے تو رسول خدا خود ہی ابتدا کردیتے ،جب کہ علی کے علاوہ باقی لوگ چند قسموں میں تقسیم تھے ۔

۱:- کچھ ایسے تھے کہ حضور اکرم سے سوال کرتے ہوئے گھبراتے تھے اور ان کی تمنا ہوتی تھی کہ کوئی اعرابی یا مسافر آکر حضور سے کچھ پوچھے اور وہ سن لیں ۔

۲:- کچھ ایسے تھے کہ حضور اکرم سے سوال کرتے ہوئے گھبراتے تھے اور ان کی تمنا ہوتی تھی کہ کوئی اعرابی یا مسافر آکر حضور سے کچھ پوچھے اور وہ سن لیں ۔

۳:- کچھ لوگ عبادت یا دنیاوی کاروبار کی وجہ سے فہم وادراک کی نعمت سنے خالی تھے ۔

۴:- کچھ اسلام سے عداوت وبغض کو چھپائے تھے اور وہ دینی مسائل کے یاد رکھنے کو وقت کا ضیاع تصور کرتے تھے ۔(۲) ۔

ب:- رسول خدا (ص) آپ کو جانشین بنانے کے لئے اور خود اعتمادی پیدا کرنے کی غرض سے آپ کو اہم مقامات پر روانہ کیا کرتے تھے ۔ جہاں سے آپ ہمیشہ مظفر

____________________

(۱):- صحیح مسلم جلد دوم ص ۳۲۴

(۲):- ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ جلد سوم ص ۱۷

۶۱

منصور ہوکر لوٹا کرتے تھے ۔

رسول خدا (ص) نے جب بھی کوئی مہم روانہ فرمائی تو اگر اس مہم میں علی (ع) شامل ہوتے تھے تو علی اس مہم کے امیر اور انچارج ہوا کرتے تھے ۔

رسول خدا (ص) کی پوری زندگی میں علی (ع) کسی کی ماتحتی میں کبھی روانہ نہیں ہوئے اور اس کے برعکس حضرت ابو بکر وحضرت عمر کو متعدد مرتبہ لوگوں کی ماتحتی میں روانہ کیا گیا ۔

تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ حضرت ابو بکر نے اپنے دور خلافت میں حضرت عمر کی ذہنی وعملی تربیت کی تھی ۔چنانچہ جس شخص کی انہوں نے خود تربیت کی تھی ۔اس کی خلافت کے لئے نامزدگی کا انہوں نے اعلان کردیا اور لوگوں نے بھی ان کی خلافت کو تسلیم کرلیا ۔ لیکن جس شخصیت کی تربیت معلم اعظم جناب رسول خدا نے کی انہیں لوگوں نے خلافت سے محروم کردیا ۔

ج:- جیش اسامہ :-

جناب رسول خدا(ص) اپنی وفات سے پہلے علی (ع۹ کی خلافت کے لئے میدان صاف کرنا چاہتے تھے اور جن لوگوں کے متعلق آپ کو مخالفت کا گمان تھا انہیں مدینہ سے باہر روانہ کرنا چاہتے تھے ۔ اس کے لئے جیش اسامہ کا حال ابن سعد کی زبانی سنیئے ۔:-

ماہ صفر کے اختتام میں چار راتیں باقی تھیں سوموار کادن ۱۱ھ کو جناب رسول خدا(ص) نے رومیوں پر حملہ کرنے کا حکم صادر فرمایا ۔

جب صبح ہوئی تو آپ نے اسامہ بن زید کو بلا کرفرمایا ۔تم لشکر لے کر وہاں چلے جاؤ جہاں تمہارے والد کو شہید کیا گیا تھا ۔اس علاقہ کو اپنے گھوڑوں س پامال کر دو ۔اہل ابنی پر صبح کے وقت یلغار کرنا اور اس بات کا خصوصی خیال رکھنا کہ وہ تمھارے آنے سے بے خبر رہنے چاہئیں اور اگر خدا تمہیں کا میابی عطا

۶۲

فرمائے تو وہاں زیادہ دیر نہ رکنا ۔اپنے ساتھ راہ دکھانے والے افراد اور جاسوسوں کو لے کر روانہ ہوجاؤ ۔

جب بدھ کا دن ہوا تو حضور اکرم (ص) سخت بیمار ہوگئے اور پھر جمعرات کے دن آپ نے اپنے ہاتھوں سے پر چم تیار کیا اور فرمایا :

اسامہ! اللہ کا نام لے کر چلے جاؤ اور خدا کے لئے جہاد کرو اور منکرین توحید سے جنگ کرو ۔

آپ نے وہ پر چم بریدہ بن حصیب اسلمی کے حوالہ فرمایا ۔اسامہ کا لشکر "جرف" کے مقام پر فروکش ہوا ۔اس لشکر میں مہاجرین وانصار کے سرکردہ افراد بھی شریک تھے ۔ جن میں ابو بکر ،عمر اور ابو عبیدہ بن جراح سرفہرست تھے لوگوں نے اسامہ کی سربراہی پر اعتراض کیا اور کہنے لگے کہ مہاجرین وسابقین پر بچہ کو سربراہ بنادیا گیا ۔

جب رسول خدا(ص) کو لوگوں کے اعتراضات کا پتہ چلا تو آپ سخت ناراض ہوئے ۔آپ سرپر پٹی باندھ کر گھر سے باہر آئے اور منبر بیٹھے اور فرمایا :

لوگو! میں یہ کیسی گفتگو سن رہا ہوں کہ تم لوگوں نے اسامہ کے امیر لشکر ہونے پر اعتراض کئے ہیں اور سن لو اعتراض کی یہ عادت تمہیں آج سے نہیں ہے ۔اس سے پہلے بھی تم نے اسامہ کے والد زید کی امارت پر اعتراض کیاتھا ۔

خدا کی قسم ! وہ امارت کے لائق تھا اور اس کے بعد اس کا بیٹا بھی امارت کے قابل ہے ۔اسامہ اوراس کے والد کا تعلق میرے محبوب ترین افراد سے ہے دونوں باپ بیٹے اچھے ہیں ۔تم لوگوں کو بھی ان سے اچھائی کرنے کی تلقین کرتا ہوں یہ تمہارے بہترین لوگوں میں سے ہے ۔

خدا کی قسم! وہ امارت کے لائق تھا اور اس کےبعد اس کا بیٹا بھی امارت کے قابل ہے ۔اسامہ اور اس کے والد کا تعلق میرے محبوب ترین افراد سے ہے دونوں باپ بیٹے اچھے ہیں ۔تم لوگوں کو بھی ان سے اچھائی کرنے کی تلقین کرتا ہوں یہ تمہارے بہترین لوگوں میں سے ہے ۔

اس کے بعد آپ نے خطبہ دیا اور اپنے بیت الشرف تشریف لے گئے آپ نے یہ خطبہ دس ربیع الاول بروز ہفتہ دیا تھا ۔

۶۳

اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت زیادہ ناساز ہوگئی آپ بار بار فرماتے رہے ۔اسامہ کے لشکر کو روانہ کرو ۔

جب اتوار کا دن ہواتو رسول خدا(ص) کی تکلیف بڑھ گئی ۔اسامہ آپ سے الوداع کرنے کے لئے آئے تو اس وقت آپ کی طبیعت انتہائی ناساز ہوچکی تھی ۔ اسامہ سے زیادہ گفتگو نہ کرسکے ،اپنے ہاتھوں کو آسمان کی جانب بلند فرمایا اور اسامہ کے سرپر ہاتھ رکھا ۔

اسامہ کہتے ہیں کہ میں سمجھ گیا کہ آپ میرے لئے دعا فرمارہے ہیں ۔بعد ازاں اسامہ اپنے لشکر کے پاس آئے اور حکم دیا کہ خدا کا نام لے کرچل پڑوابھی یہ لشکر روانہ نہیں ہوا تھا کہ حضور اکرم کی وفات ہوگئی(۱) ۔

ابن سعد کے بیان کردہ واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ :

۱:-حضور اکرم(ص) نے اپنی وفات سے چند ایام قبل شام وروم کی طرف ایک لشکر تیار فرمایا ۔

۲:- اسامہ بن زید جو کہ صغیر السن تھے ،انہیں اس لشکر کا امیر مقرر کیا گیا ۔

۳:-اسامہ کے لشکر میں سابقین اولین اور بالخصوص حضرات شیخین اور ابو عبیدہ بن جراح بھی شامل تھے ۔

۴:- جب لشکر نے تاخیری حربے شروع کئے تو رسول خدا ناسازی طبع کے باوجود سرپر پٹی باندھ کر مسجد میں تشریف لائے۔

۵:- امارت اسامہ پر اعتراض کرنے والوں پر کڑی تنقید فرمائی اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ ان کی پرانی عادت ہے ۔یہی معترضین اسامہ کے والد زید کی امارت پر بھی اعتراض کیا کرتے تھے ۔ مگر زید امارت کے حق دار تھے ۔ اسی طرح اعتراض کے باوجود بھی اسامہ امارت کے حقدار ہیں ۔

____________________

(۱):-طبقات ابن سعد جلد چہارم ص ۳-۴

۶۴

۶:-رسول خدا(ص) کی جانب سے باربار لشکر اسامہ کو روانہ کرنے کے حکم کے باوجود اہل لشکر نے تعمیل حکم نہ کی اور "جرف" میں ٹھہرے رہے ۔

۷:- اپنی زندگی کے آخری ایام میں رسول خدا بار بار اسامہ کے لشکر کو بھیجنے کے خواہش مند کیوں تھے ؟

۸:- حضرات شیخین اور بزرگ مہاجرین کو کمسن اسامہ کی ماتحتی میں بھیجنے کا آخر کیا مقصد تھا ؟

۹:- تاکیدی احکام سننے کے باوجود بھی لوگوں نے جانے میں تاخیر کی ؟

کہیں حقیقت یہ تو نہیں ہے کہ رسول خدا (ص) اپنی وفات سے پہلے ہر ممکنہ مزاحمت کو ختم کرنا چاہتے تھے اور مدینہ کی سرزمین کو علی (ع) کی خلافت کے لئے سازگار بنانا چاہتے تھے ؟

اور کیا جیش اسامہ کو روانہ کرنے اور کاغذ اور قلم دوات طلب کرنے میں کوئی باہمی ارتباط تو نہیں تھا ؟

اے کاش ! اگر شیخین تاخیری حربوں سے اسامہ متاثر نہ ہوتے اور لشکر کو لے کر روانہ ہوجاتے تو آج اسلامی تاریخ کسی اور طرح سے لکھی جاتی اور آج مسلمان قوم یوں زبوں حالی کا شکار نہ ہوتی ۔

۶۵

فصل دوم

سقیفہ کی کاروائی

۱:حضرت ابو بکر صدیق

سابقہ گفتگو کا حاصل مطالعہ یہ ہے کہ : حضرت علی (ع) پوری طرح سے خلافت بلافصل کی اہلیت وقابلیت رکھتے تھے ۔ کیونکہ علی (ع) کا رسول اسلام اور خود اسلام سے گہرا ارتباط تھا اور اسلام اور رسول اسلام بھی انہیں خلافت وامامت کے لائق سمجھتے تھے ۔

اگر بالفرض سقیفہ بنی ساعدہ میں مسلمان علی علیہ السلام کے حق کے لئے یوں دلیل دیتے کہ

(۱):-علی رسالت مآب کے سب سے قریبی ترین فرد ہیں ۔

(۲):-علی رسول خدا کی آغوش کے پروردہ ہیں ۔

(۳):- ہجرت کی شب امانتوں کے امین وہی تھے ۔

(۴):- رسول خدا نے انہیں اپنا بھائی مقرر کیا تھا ۔

(۵):- رسول خدا کے داماد ہیں ۔

(۶):-رسول خدا کی نسل ان کے صلب سے جاری ہوئی ۔

(۷):-رسول خدا کی تمام غزوات میں امیر لشکر اور علمدار تھے ۔

(۸):- وہ ہارون محمدی ہیں ۔

(۹) :- وہ شہر علی کا دروازہ ہیں ۔

(۱۰):-وہ بیت حکمت کا دروازہ ہے ۔

(۱۱):- وہ صفات انبیاء کے آینہ دار ہیں ۔

(۱۲):- نور نبوی کے وہ شریک ہیں ۔(۱۳):-وہ نبوت کے مربّی کے فرزند ہیں ۔

(۱۴):-انکی ولادت کعبہ میں ہوئی ۔(۱۵) :-ان کی پیشانی کبھی بتوں کے سامنے نہیں جھکی ۔

(۱۶) :- ان کی مودت اجر رسالت ہے ۔(۱۷) :- وہ مباہلہ میں صداقت اسلام کے گواہ ہیں ۔

(۱۸) :- وہ چادر تطہیر کے طاہر فرد ہیں ۔(۱۹) :- وہ صاحب علم الکتاب ہیں ۔

(۲۰) :- وہ اپنی جان کے بد لے مرضات خداوندی کے خریدار ہیں ۔

۶۶

الغرض اگر ایسا ہوتا اور مسلمان علی علیہ السلام کو ہی اپنی حکومت وزعامت کے لئے منتخب کرلیتے تو وہ انحراف ک شکار نہ ہوتے اور آج کے دور میں اسلامی تاریخ کو سنہری حروف سے لکھا جاتا ڈاکٹر طہ حسین نے اپنے موضوع سے انصاف کرتے ہوئے بالکل صحیح لکھا ہے :-

"علی اپنی قربت ،سبقت الی الاسلام ،اپنی فداکاریوں ،اپنی غیر منحرف سیرت ،دین سے تمسک ،کتاب وسنت کے علم اور استقامت رائے کے سبب بلاشبہ خلافت بلافصل کی صلاحیت رکھتے تھے(۱)

ابن حجر عقلانی امام علی علیہ السلام کے اہم خصائص بیان کرتے رقم طراز ہیں :-

"علی ابن ابی طالب اکثر اہل علم کے قول کے مطابق مسلم اول ہیں نبی اکرم کی آغوش میں تربیت پائی ۔کسی مرحلہ میں نبی سے جدا نہیں ہوئے ۔غزوہ تبوک کے علاوہ تمام غزوات میں شریک رہے ۔اور غزوہ تبوک میں بھی وہ رسول خدا کے حکم کے تحت مدینہ میں ٹھہرے اور رسول خدا نے فرمایا تھا "اما ترضی یا علی ان تکون منی بمنزلۃ ھارون من موسی الا انہ لانبی بعدی " علی کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہو جو ہارون کی موسی سے تھی ۔مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ۔

اکثر غزوات میں حضرت علی ہی اسلامی لشکر کے علم بردار تھے ۔جب رسول خدا نے صحابہ میں مواخات قائم کی تو علی کو اپنا بھائی قرار دیا ۔آپ کے بے شمار مناقب ہیں ۔امام احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ :کسی صحابی کے لئے اتنی فضائل کی احادیث منقول نہیں ہیں ۔جتنی کہ علی کے لئے منقول ہیں(۲) ۔"

____________________

(۱):- الفتنتہ الکبری بن عفان ص ۱۰۲ -۱۰۳

(۲):- ابن حجر عسقلانی ۔الاصابہ فی تمیز الصحابہ ص ۵۰۱-۵۰۲

۶۷

بعض اہل علم کہتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام کی فضائل کی احادیث کی نشر واشاعت کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ بنی امیہ کے سلاطین نے حضرت علی علیہ السلام کے فضائل ومناقب کو چھپانے کے لیے تمام حربے استعمال کئے ۔اسی لئے حفاظ حدیث نے اپنی دینی ذمہ داری سمجھتے ہوئے فضائل علی (ع) کی احادیث کی نشر واشاعت کی ۔چشم فلک نے آج تک علی علیہ السلام جیسا عالم اور مفتی نہیں دیکھا ۔غزوہ خیبر میں رسول خدا(ص) نے اعلان کیاتھا ۔ :- "کل میں اسے علم دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول (ص) سے محبت کرتا ہوگا اور اللہ اور رسول (ص) کا محبوب ہوگا ۔ اللہ اس کے ہاتھ پر خیبر فتح کرے گا ۔ " دوسرے روز آپ نے علم علی علیہ السلام کے حوالہ فرمایا ۔حضرت عمر کہا کرتے تھے کہ : مجھے صرف اسی دن ہی امارت کا شوق ہوا تھا ۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورہ براءت کی آیات دے کر علی علیہ السلام کو بھیجا اور فرمایا کہ قرآنی آیات کی تبلیغ یا تو میں خود کرسکتا ہوں یا وہ کرسکتا ہے جو مجھ سے ہو ۔

علاوہ ازیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "علی ولی فی الدنیا والآخرة " دنیا اور آخرت میں علی میرا جانشین ہے ۔

آپ نے علی وفاطمہ اور حسن وحسین علیھم السلام کو اپنی چادر میں داخل کرکے فرمایا :انما یرید الله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت ویطهرکم تطهیرا " اے اہل بیت ! اللہ کا بس یہی ارادہ ہے کہ تم سے رجس کو دور رکھے اور تم کو اس طرح پاک رکھے جیسا کہ پاکیزگی کا حق ہے ۔

علی علیہ السلام شب ہجرت رسول خدا کی چادر پہن کر ان کے بستر پر سوئے تھے اور رسول خدا کی جان بچائی تھی ۔

رسول خدا نے علی علیہ السلام سے فرمایا تھا :انت ولی کل مومن من بعدی " تم میرے بعد ہر مومن کے سردار ہو ۔

۶۸

رسول خدا (ص) نے مسجد میں کھلنے والے تمام دروازے بند کرادئیے لیکن علی علیہ السلام کا دروازہ کھلا رہنے دیا ۔علی (ع) حالت جنابت میں بھی مسجد سے گزرا کرتے تھے ، مسجد کے علاوہ علی (ع) کے گزرنے کا کوئی راستہ ہی نہیں تھا رسول کریم نے پالانوں ک منبر بنا کر لاکھوں افراد کے سامنے علی (ع) کا بازو بلند کرکے اعلان فرمایا :- "من کنت مولاہ فعلی مولاہ" جس کا میں مولا ہوں اس کا علی مولا ہے ۔

اور جب "فقل تعالوا ندع ابناءنا و ابناءکم ونساءنا ونسآءکم وانفسنا وانفسکم ثم نبتهل فنجعل لعنة الله علی الکاذبین "۔ علم آجانے کے بعد جو تم سے جھگڑا کرے تو کہہ دو کہ آؤ ہم اپنے بیٹے بلائیں اور تم اپنے بیٹے اور ہم اپنی عورتوں کو بلائیں اور تم اپنی عورتوں کو اور ہم اپنی جانوں کو لے آئیں اور تم اپنی جانوں کو لے آؤ پھر ایک دوسرے کو بد دعا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت کریں " کی آیت مجیدہ نازل ہوئی تو رسول اکرم (ص) نے علی وفاطمہ وحسن وحسین علیھم السلام کو بلایا اور فرمایا :-خداوندا ! یہ ہیں میرے اہلبیت ۔ امام ترمذی عمران بن حصین سے روایت کرتے ہیں رسول خدا (ص) نے فرمایا :-"ماتریدون من علی ؟ ان علیا منی وانا من علی وهو ولی کل مومن بعدی " آخر تم علی (ع) سے کیا چاہتے ہو ۔بلاشبہ علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں ۔میرے بعد ہر وہ مومن کا سردار ہے ۔

اب پھر وہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنے مناقب وفضائل کے باوجود علی خلافت سے محروم کیوں رہے ؟۔

اس سوال کے جواب کے لئے ہمیں وفات رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حالات کومد نظر رکھنا چاہیئے اور اس کے ساتھ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ حضرت علی (ع) رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تجہز وتکفین ونماز جنازہ میں مصروف رہے ۔جب ان کے سیاسی حریف رسول خدا (ص) کے جنازہ کو چھوڑ کر سقیفہ

۶۹

بنی ساعدہ میں چلے گئے اور وہاں اپنی خلافت قائم کی(۱) ۔

حضرت علی کو خلافت سے محروم رکھنے کی ایک وجہ حضرت عمر نے یہ بیان کی تھی کہ عرب ایک ہی خاندان میں نبوت اور خلافت کا اجتماع برداشت نہیں کرسکتے ۔ اس واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ ۱۱ھ میں رسولخدا (ص) نے وفات پائی اور حضرت علی رسول خدا(ص) کی تجہیز وتکفین اور نماز جنازہ میں مشغول ہوگئے ۔

رسول خدا (ص) کے گھر سے باہر سیاسی فضا بڑی دھماکہ خیز تھی ۔جس میں سر فہرست خلیفۃ الرسول کا مسئلہ تھا ۔

سعد بن ابو عبادہ اوس وخزرج کے سرکردہ افراد کو لے کر سقیفہ بن ساعدہ میں آگئے ۔اور حضرت عمر اور ابو عبیدہ مسجد میں مسئلہ خلافت پر بحث کر رہے تھے ۔ اور اس کے علاوہ کئی اور گروہ دوسرے مقامات پر مصروف مشورہ تھے ۔

حضرت ابو بکر نے جب وفات رسول(ص) کی خبر سنی تو محلہ سخ سے رسول خدا (ص) کے گھر آئے اور حضرت عمر کو دیکھا کہ وہ دروازے پر تلوار ننگی کرکے کھڑے ہوئے تھے اور لوگوں کو دھمکیاں دے رہے تھے کہ جس نے رسول خدا (ص) کی وفات کی بات کی میں اسے قتل کردونگا ۔حضور کی وفات نہیں ہوئی ،وہ بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی طرح آسمان پر چلے گئے ۔کچھ دنوں بعد واپس آئیں گے اورمنافقوں کے ناک اور کان کاٹیں گے ۔

اس سانحہ دلخراش کی وجہ سے حضرت عمر بظاہر اپنے ہوش وحواس کھو

____________________

(۱):- اس واقعہ کو مد نظر رکھتے ہوئے عارف رومی نے فرمایا تھا :-

"چوں صحابہ دنیا داشتند

مصطفی رابے کفن بگزاشتند "

حضرت بو علی قلندر پانی پتی نے حضرت علی(ع) کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا تھا ۔"امامی کہ روز وفات پیمبر خلافت گزارد بہ ماتم نشیند "

۷۰

بیٹھے تھے ۔عین سی وقت کسی آدمی نے انہیں سقیفہ کی کاروائی کی اطلاع دی ۔غم رسول میں "حواس باختہ " شخصیت فورا ہوش وحواس میں آگئی اور حضرت ابو بکر کے پاس ایک شخص کو بھیجا اور اس شخص نے حضرت ابو بکر سے کہا کہ عمر آپ سے ایک عظیم کام کے متعلق مشورہ کرنا چاہتے ہیں ۔

یہ اطلاع ملتے ہی حضرت ابو بکر گھر سے باہر نکل آئے اور پھر یہ دونوں بزرگوار سقیفہ بنی ساعدہ چلے گئے ۔جہاں اوس وخزرج کے سرکردہ افراد سعد بن عبادہ کو خلیفہ بنانے پر تلے ہوئے تھے ۔

مگر ان حالات میں حضرت علی (ع) نے وہی کیا جو انہیں کرنا چاہئیے تھا ۔ حضرت علی رسول خدا(ص) کی تجہیز وتکفین کے معاملات میں مصروف رہے ۔رسول خدا (ص) کے چچا حضرت عباس وفات رسو(ص) کی وجہ سے بہت غمگین تھے مگر ان دردناک لمحات میں انہوں نے حضرت علی (ع) کی بیعت کرنے کاقصد کیا تھا جسے حضرت علی (ع) نے یہ کہ کہر ٹھکرادیا کہ :"ابھی تورسول کریم کا جسد مبارک بھی دفن نہیں ہوا میں خلافت کو کیسے قبول کرسکتا ہوں ؟"

ابو سفیان بن حرب تین دفعہ حضرت علی (ع) کے پاس آئے اور ان کو خلافت سنبھالنے کی ترغیب دی اور کہا کہ اگر آپ چاہیں تو اس ناپسندیدہ حکومت کو ختم کرنے کے لئے میں مدینہ کی گلیوں کو اونٹوں اور پیادہ لوگوں سے بھر دوں ۔مگر حضرت علی علیہ السلام نے اسے سختی سے ڈانٹ دیا اور کہا : تم اسلام کے خیر خواہ کب تھے ؟

اب تم خلیفہ گر کا کردار ادا کرنا چاہتے ہو؟۔

سقیفہ کا اجتماع اگر چہ انصار نے ہی منعقد کیا تھا لیکن اس اجتماع سے فائدہ حاصل کرنے میں ناکام رہے ۔اس کاروائی کی مختصرا روئیداد یہ ہے ۔:-

قبیلہ اوس وخزرج کے افراد سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے ۔ ان میں سعد بن عبادہ بھی موجود تھے ۔

۷۱

سعد بیمار تھے اور بلند آواز سے گفتگو کرنے سے قاصر تھے ۔انہوں نے اپنے ایک فرزند سے کہا کہ تم میری گفتگو سن کر سامعین کو اس سے آگاہ کرتے رہو چنانچہ بیٹا ان کی مدہم گفتگو کو سن کر بلند آواز سے لوگوں کوسناتا ۔سعد نے کہا :-

"اے گروہ انصار ! تمہارا دین میں بڑا مقام ہے اور تمہیں اسلام میں فضیلت حاصل ہے اور ایسی فضیلت پورے عرب میں کسی قبیلہ کو حاصل نہیں ہے ۔جناب رسولخدا(ص) کئی سال تک مکہ میں اپنی قوم کو اللہ کی عبادت کرنے اور بت پرستی چھوڑنے کی دعوت دیتے رہے ۔چند افراد کے سوا باقی قوم نے ان کی شدید مخالفت کی ۔اللہ تعالی نے تمہیں اس عزت سے سرفراز کیا ۔اللہ نے اپنے نبی کو تمہارے پاس بھیج دیا اور اللہ نے تمہیں دین کی مدد کیلئے منتخب فرمایا ۔

تم دین کے دشمنوں پر سخت ثابت ہوئے اور دوسرے مسلمان کی بہ نسبت اسلام میں تمہاری قربانیوں زیادہ ہیں اللہ نے اپنے حبیب کو اس حال میں وفات دی کہ وہ تم سے راضی تھے ۔اپنے آپ کو مضبوط بناؤ ۔تمام لوگوں کی بہ نسبت تم حکومت کے زیادہ حقدار ہو"۔

یہی اطلاع غم رسول میں "حواس باختہ "شخصیت حضرت عمر کو ملی ۔اطلاع ملتے ہی وہ رسول خدا کے دروازے پر آئے اور حضرت ابو بکر کو بلایا اور یہ دونوں دوست سقیفہ کی طرف چلے گئے ۔وہاں حضرت ابو بکر نے خطاب کرتے ہوئے کہا :-

"ہم مہاجرین سب سے پہلے اسلام لائے اور ہم رسول خدا(ص) کا خاندان ہیں ۔اور تم لوگ اللہ کے مدد گار ہو اور کتاب خدا میں ہمارے بھائی ہو اور دین میں ہمارے شریک ہو۔تم ہمیں تمام لوگوں سے محبوب ہو اور تم ہمیں بڑے عزیز ہو اور تم لوگوں نے ہمیشہ ایثار سے کام لیا ہے اور میں اب بھی تم سے اسی ایثار کی توقع رکھتا ہوئن اس وقت تمہارے درمیان ابو عبیدہ اور عمربن خطاب موجود ہیں ۔ان دونوں میں سے تم جس کی بھی چاہو بیعت کر سکتے ہو میں ان دونوں کو اس کا م کے اہل سمجھتا ہوں "۔

۷۲

حضرت عمر اور ابو عبادہ نے کہا کہ آپ کے ہوتے ہوئے کوئی اور شخص مسند خلافت کو نہیں سنبھال سکتا ۔آپ ہی مستحق خلافت ہیں ۔اس وقت انصار میں سے حباب بن منذر نے کھڑے ہوکر کہا ۔

گروہ انصار ! اپنے اتفاق واتحاد کو قائم رکھو ۔تمہاری ہی سرزمین پہ کھل کر اللہ کی عبادت ہوئی ہے ۔تم نے ہی رسول کو پناہ دی تھی تم نے ہی ان کی نصرت کی تھی اور رسول خدا ہجرت کرکے تمہارے ہی پاس آئے تھے ۔۔۔۔۔اگر اس کے باوجود یہ لوگ تمہاری حکومت پر راضی نہیں تو پھر ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک ان میں سے ہو ۔

حضرت عمر نے کہا : ایسا ناممکن ہے ۔

بشیر بن سعد خزرجی نے دیکھا کہ انصار سعد بن سعادہ کو خلیفہ بنانا چاہتے ہیں تو اس کے ذہن میں اوس وخزرج کی سابقہ خانہ جنگیاں عود کر آئیں اور وہ سعد کو اس لئے ناپسند کرتا تھا کہ سعد کا تعلق اوس قبیلہ سے تھا اور بشیر نے سوچا کہ اگر حکومت اوس قبیلہ میں چلی گئی تو یہ ان کی نسلوں کے لئے اعزاز ثابت ہوگی ۔جب کہ خزرج کی کمزوری کا پیش خیمہ بنے گی ۔اسی لئے اس کے ذہن نے فیصلہ کیا کہ خلافت میرے قبیلہ میں تو ویسے ہی نہیں آسکتی تو اوس میں بھی نہیں جانی چاہئے ۔کیوں نہ کسی مہاجر کی حکومت کو تسلیم کرلیا جائے ۔

یہ سوچ کر وہ کھڑا ہوا اور حاضرین سے کہا :

گروہ انصار! یہ سچ ہے کہ ہم نے اسلام کی خدمت کی ۔لیکن یہ حقیقت بھی ہمیں پیش نظر رکھنی چاہیے کہ ہمارے جہاد اور اسلام کا مقصود صرف اپنے اللہ کی رضا اور نبی کی اطاعت تھی ۔

محمد کا تعلق قریش سے تھا اور ان کی قوم ہی ان کی میراث کی حقدار ہے اللہ سے ڈرو اور ان سے مت جھگڑو۔

۷۳

حضرت ابو بکر نے کھڑے ہوکر کہا ! یہ عمر اور ابو عبادہ ہیں ۔ان میں سے تم جس کی بیعت کرنا چاہتے ہوکرلو ۔

ان دونوں نے کہا ! خدا کی قسم ہم آپ پر حکومت نہیں کریں گے ۔ آپ ہاتھ بڑھائیں ۔ہم بیعت کرتے ہیں ۔

حضرت ابو بکر نے ہاتھ بڑھایا ،حضرت عمر اور ابوعبادہ سے پہلے بشیر بن سعد نے ان کی بیعت کی ۔

حباب بن منذر نے اسے آوازدی "اے نافرمان اور قوم کے دشمن بشیر ! تو نے یہ سب کچھ اپنے چچا زاد کے حسد کی وجہ سے کیا ہے ۔خزرج کے سردار بشیر بن سعد کی بیعت کے بعد اوس قبیلہ نے سوچا کہ اگر ہم بیعت میں پیچھے رہ گئے تو خزرج قبیلہ حکومت کا مقرّب بن جائے گا ۔اسی لئے اوس میں اسے اسید بن حضیر نے خزرج ک ضد اور سعد بن عبادہ کی مخالفت کی وجہ س بیعت کی ،اس کے بعد اس کے قبیلہ نے بھی بیعت کرلی ۔

بیمار سعد بن عبادہ کو چار پائی پر لٹا کر گھر لے گئے اور انہوں نے مرتے دم تک بیعت نہیں کی تھی ۔

پھر حضرت سعد شام چلے گئے اور حضرت ابوبکر کی خلافت کے آخری ایام میں انہیں قتل کردیا گیا اور مشہور کیاگیا کہ رات کی تاریکی میں جنات نے انہیں تیر مار کر ہلاک کردیا ۔ جب کہ باخبر حلقے اس کو خالد بن ولید کی کارستانی قراردیتے ہیں ۔

اس بیعت کے کچھ دیر بعد براء بن عازب نبی اکرم کے گھر آئے ۔ابھی تک رسول خدا کا جسم بھی دفن نہیں ہوا تھا ۔ انہوں نے آتے ہی اطلاع دی کہ میں نے اپنی آنکھوں سے عمر اور ابو عبادہ کو دیکھا ہے کہ وہ ہر گزرنے والے کا ہاتھ پکڑ کر ابو بکر کے ہاتھ پر رکھ کر بیعت لے رہے ہیں(۱) ۔

____________________

(۱):-عبد الفتاح عبد المقصود ۔الامام علی بن ابیطالب جلد اول ص ۱۴۹

۷۴

واقعات سقیفہ کا تجزیہ

ہم سقیفہ کی کاروائی بلا کم وکاست اپنے قارئین کے حضور پیش کرچکے ہیں ۔

ان واقعات میں حضرت عمر کا جو کردار رہا ہے اس سے کوئی بھی صاحب نظر چشم پوشی نہیں کرسکتا ۔

۱:- خدارا ہمیں بتایا جائے کہ حضرت رسول خدا(ص) کے گھر میں تعزیت تسلی کے لئے کیوں نہیں گئے ۔اگر بالفرض انہیں علی (ع) اور اولاد علی (علیھم السلام) سے کوئی دلچسپی نہیں تھی تو اس دلخراش صدمہ کے وقت کم از کم اپنی بیوہ بیٹی کے سرپر ہی ہاتھ رکھنے کیلئے چلے جاتے اور یوں رسو لخدا(ص) کی تجہیز وتکفین میں شرکت کا اعزاز حاصل کرلیتے ۔

۲:-موصوف اگر غم زدہ خاندان کو تسلی دینا نہیں چاہتے تھے ۔تو جس وقت انہیں اوس وخزرج کے اجتماع کا علم ہوا تو اس وقت حضرت ابو بکر کو بلانے کے لئے خود اندر تشریف کیوں نہ لےگئے ؟

۳:- خود جانے کے بجائے انہوں نے کسی اور فرد کو حضرت ابو بکر کو بلانے کے لئے کیوں بھیجا اور خود دروازے پر کھڑے رہنے کو کیوں پسند فرمایا ؟

۴:- غم زدہ خاندان کے پاس اس وقت اور بھی اصحاب موجود ہوں گے اس کے باوجود حضرت عمر نے صرف حضرت ابوبکر کو ہی مشہورہ کیلئے طلب کیوں فرمایا ؟

۵:- ہمیں بتایا جائے کہ حضرت ابو بکر کا گھر کے اندرہونا اور حضرت عمر کا باہر دروازے پر کھڑا ہونا یہ محض ایک اتفاق تھا یا پہلے سے طے شدہ منصوبے کا حصہ تھا ؟

۶:- حضرت ابوبکر کے آنے سے پہلے حضرت عمر اور ابو عبیدہ کی جو باہمی گفتگو ہوئی تھی ۔اس میں کن نکات پر اتفاق ہواتھا ؟

۷:- حضرت ابوبکر نے مہاجرین کی جو فضیلت بیان فرمائی تھی ۔اس فضیلت

۷۵

میں تمام مہاجر برابر کے شریک تھے یا صرف حضرت عمر اور ابو عبیدہ ہی تمام فضیلت کے مالک تھے ؟

۸:-حضرت ابو بکر نےمہاجرین کے استحقاق خلافت کے لئے دو وجوہات بیان فرمائیں ۔

(الف):- انہیں اسلام میں سبقت کا شرف حاصل ہے ۔

(ب):- وہ حضور کریم کا خاندان ہیں

اگر مذکورہ بالا دو وجوہات ہی خلافت کا معیار ہیں تو اس معیار پر حضرت علی علیہ السلام زیادہ اترتے ہیں کیونکہ

(۱):- ان کی اسلام میں سبقت مسلم ہے ۔

(۲):- وہ حضرت ابو بکر کی بہ نسبت رسول خدا(ص) کے زیادہ قریب ہیں ۔

پھر کیا وجہ ہے کہ حضرت ابو بکر کے بیان کردہ معیار کے مطابق علی علیہ السلام کو خلافت کا حق دار نہیں سمجھا گیا ؟

۹:- خلافت اگر مہاجرین کاہی حق ہے تو پھر حضرت ابو بکر نے مہاجرین میں صرف دو افراد یعنی حضرت عمر اور ابو عبیدہ کے نام ہی کیوں پیش کیے ؟

مذکورہ ناموں کی تخصیص کی کوئی وجہ بیان کی جاسکتی ہے ؟ اور کیا یہ "ترجیح بلا مرجح " تو نہیں تھی ؟

۱۰:-خلافت کو مہاجرین میں ہی محدود کرنا ضروری تھا تو کیا حضرت ابو بکر انصار کو یہ مشہورہ نہیں دے سکتے تھے کہ وہ جس مہاجر کو امیر بنانا چاہیں بنا لیں آخر ایسا کیوں نہیں کیا گیا ؟

۱۱:- بزم مہاجرین میں سے صرف دو افراد کے نام پیش کرنے میں کونسی حکمت تھی ؟طالبان تحقیق کے لئے اس حکمت کو آشکار کیا جائے ۔

۱۲:-حضرت عمر اور ابوعبیدہ نے اس پیش کش کو کیوں مسترد کردیا اور انہوں نے حضرت ابو بکر کی امارت کو کیوں ترجیح دی ؟ اس کی کوئی معقول وجہ بیان فرمائی جائے ۔

۷۶

۱۳:- سقیفہ کی کاروائی کی تمام کڑیاں اتفاقیہ انداز میں ملتی گئیں یا پہلے سے کسی طے شدہ منصوبہ کے تحت انہیں جوڑا گیا تھا ؟ علم تاریخ کے طلباء کے لئے اس سوال کا جاننا انتہائی ضروری ہے ۔

علمائے اہل سنت سے گزارش ہے کہ وہ اس سلسلہ میں تسلی بخش جواب دیں ۔

۱۴:- کیا سقیفہ کی کاروائی اور لشکر اسامہ کا بھی آپس میں کوئی تعلق ہے ؟ اور حضرت عمر اور ابو عبیدہ نے مسجد میں بیٹھ کر جو مشورہ کیا تھا ۔سقیفہ کا اس مشورہ سے بھی کوئی واسطہ تھا ؟۔

حضرت ابو بکر کی رفاقت میں دونوں شخصیات جب سقیفہ کی طرف روانہ ہوئیں ،تو کیا تینوں بزرگوں کی رفاقت تو سقیفہ میں کامیابی کا ذریعہ نہیں بنی ؟

۱۵:- جب چند افراد خلافت کے لئے سقیفہ میں جمع ہوئے تھے تو اس وقت دوسرے مہاجرین کہاں تھے ؟

۱۶:- اوس وخزرج کی پرانی دشمنیاں سقیفہ میں عود کرآئی تھیں ۔کیا ایسا اتفاقی طور پر ہوا تھا یا کوئی خفیہ ہاتھ اس دشمنی کو بھڑکانے پر تلے ہوئے تھے ؟

۱۷:- اور اگر اس آتش عداوت کو بھڑکانے میں خفیہ ہاتھ کارفرما تھے تو ان خفیہ ہاتھوں کی نشاندہی کرنا آپ پسند فرمائیں گے ؟

۱۸:- کیا خلیفہ کا انتخاف تدفین رسول سے بھی زیادہ ضروری تھا ؟۔

۱۹:- کیا حضرت ابو بکر رسول خدا (ص) کی تدفین تک مسلمانوں کو انتظار کرنے کا مشورہ نہيں دے سکتے تھے ؟

آخر ایسی جلدی بازی کی بھی کیا ضرورت تھی کہ اللہ تعالی کے آخری پیغمبر جو کہ رشتہ میں ان کے داماد بھی تھے ،دفن نہیں ہوئے تھے کم از کم ان کے دفن ہونے کا تو انتظار ہی کرلیتے اور کیا اتنی جلدی بازی کرکے انہوں نے اپنے داماد

۷۷

سے حق محبت ادا کرنے میں کوئی کوتاہی تو نہیں کی ؟

۲۰:- کیا سقیفہ کی اس پیچیدہ کاروائی اور کاغذ اور قلم دوات مانگنے کی حدیث اور جیش اسامہ کے واقعات کا کوئی باہمی ارتباط تو نہیں ہے ؟ تاریخ کے طلاب کے لئے درج بالا سوالات کے جواب انتہائی لازمی ہیں ۔میرا اپنا ذاتی خیال یہ ہے کہ اس پوری کاروائی میں حضرت عمر نے مرکزی کردار ادا کیا ۔انہوں نے ہی ابو عبیدہ سے اس معاملہ میں پہلے مشہورہ کرلیا تھا ۔اور ایک منصوبہ تیار کرلیا تھا ۔جس کی تکمیل کے لئے حضرت ابوبکرکو بلایا گیا بعد ازاں اسلام کے ان "چاند تاروں" نے اثنائے راہ اپنے منصوبے کی باقی جزئیات طے کرلیں ۔

یہی وجہ ہے کہ حضرت ابو بکر فقط ان دو حضرات (عمر اور ابو عبیدہ)کو ہی پیش کرتے تھے اور یہ دونوں بزرگ حضرت ابو بکر کو پیش کرتے تھے ۔

تو کیا پوری ملت اسلامیہ نے انہیں اپنا نمائندہ بنا کر سقیفہ میں بھیجا تھا ؟۔جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ سقیفہ کے اجلاس میں امت کے افراد کا ایک عشر عشیر تک نہ تھا ۔

تو اتنی اقل القلیل تعداد کو امت اسلامیہ کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی اجازت کس نے دی تھی ؟

یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ حضرت ابو بکر کو جب بلا یا گیا تو نہ تو اس سے پہلے اور نہ ہی بعد میں کسی مسلمان سے مشورہ کیا گیا تھا کہ اسلام کی قیادت کے لئے کون سی شخصیت سب سے زیادہ موزوں ہے ۔سقیفہ کی پوری کاروائی کو اتفاقی حادثہ سمجھ کر نظر انداز کرنا ممکن ہے یہ ایک طویل منصوبہ بندی اور حکمت عملی کا نتیجہ ہے ۔جس میں حضرت عمر کا کردار سب سے نمایاں ہے ۔

اے باد صبا ایں ہمہ آوردہ تست

۷۸

حضرت علی خلافت سے محرومی کی ایک اور وجہ

وفات رسول اور حضرت ابو بکر کی خلافت کا حال تو آپ پڑھ چکے ہیں حضرت علی کو خلافت کیوں محروم کیا گیا‏‏؟

اس کا ایک اہم سبب حافظ نے بیان کیا ہے ۔ہم اسے اپنے منصف مزاج قارئین کی نذر کرتے ہیں :-

علی علیہ السلام کے قریش سے تعلقات انتہائی پیچیدہ تھے ۔قریش علی (ع) سے سخت کینہ رکھتے تھے ۔کیونکہ علی علیہ السلام نے ان کے بزرگوں کو غزوات میں قتل کیا تھا اور ان کی قوت کو ضعف میں تبدیل کردیا تھا ۔ان کی تمام ترشان وشوکت کو خاک میں ملادیا تھا اسلام قبول کرنے سے دلوں کے کینے اور نفرتیں ختم نہیں ہوا کرتیں ۔

اس کے لئے آپ یہ فرض کریں کہ آپ خدا نخواستہ سال دو سال پہلے مشرک ہوتے اور ایک مسلمان نے اسلامی جنگ میں آپ کے بیٹے یا بھائی کو قتل کردیا ہوتا اور پھر چند دنوں کے بعد آپ کے دل کی تمام رنجشیں اور کینہ ختم ہوجائے گا؟ اور کیا آپ اپنے بیٹے یا بھائی کے قاتل کو گلے لگالیں گے ؟ایسا کرنا انتہائی دشوار ہے ۔ایسا کرنا صرف اس صورت میں ممکن ہے جب آپ دل کی گہرائیوں سے مسلمان ہوجائیں ۔

لیکن اس کے برعکس اکثر عربوں نے یا تقلیدی طور پر اسلام قبول کیا یا کسی منفعت ومفاد کی خاطر انہوں نے ایسا کیا ۔

بہت سے لوگوں نے تو اپنے خون کے تحفظ کے لئے کلمہ پڑھا تھا اور بعض لوگوں نے اپنے مخالف قبیلہ کو مزید زچ کرنے کے لئے اسلام قبول کیا تھا ۔آپ کو یہ حقیقت ہمیشہ ذہن نشین کرنی چاہئیے کہ رسالت مآب کے زمانہ میں جتنے

۷۹

غزوات ہوئے اور وہ تمام کفار جو علی کی تلوار سے قتل ہوئے یا کسی اور مسلمان کی تلوار سے قتل ہوئے ان کے ورثاء نے اپنے تمام تر قتل کی ذمہ داری علی (ع)پر ڈال دی تھی اور وہ علی کو اپنا دشمن اور قاتل سمجھتے تھے ۔ اور اتفاق یہ ہوا کہ مقتول کفار کے ورثا نے بوجوہ اسلام قبول کرلیا ۔اسلام قبول کرنے کے بعد بھی ان کے سینے صاف نہیں ہوئے تھے ۔علی کی دشمنی اور بغض کی آگ ان کے سینوں میں بھڑک رہی تھی اور وہ ہمیشہ علی (ع) سے اپنے انتقام کی پہلی قسط وصول کی تھی اور یہی جذبہ انتقام کربلا میں مکمل پروان چڑھ چکا تھا ۔ حضرت علی (ع) کے خاندان کو جس بے دردی سے کربلا میں بھوکا پیاسا رکھ کر مارا گیا تھا وہ سب اسی انتقام کا شاخسانہ تھا(۱) ۔

اگر امت اسلامیہ کے سرکردہ افراد میں انصاف کی رمق ہوتی تو خلافت اور بیعت کے مسئلہ کو رسول خدا(ص) کی تجہیز وتکفین تک موخر کردیتے ۔آج درد دل رکھنے والا ہر انسان یہ سوچ کر غم زدہ ہوجاتا ہے کہ جس عظیم شخصیت کی جانشینی کی خاطر ساری تگ و دو کی گئی ۔اس سے حق محبت کو یوں ادا کیا گیا کہ اس کے جنازہ میں شرکت نہیں کی گئی اور اس کے غم زدہ پسماندگان کے سر پر کسی نے شفقت سے ہاتھ تک نہ پھیرا ۔حضور اکرم (ص) کی آنکھ بند ہوتے ہی وہ محبت ودوستی کیوں عنقا ہوگئی ؟۔

علی علیہ السلام کو جو حضور اکرم سے الفت ومحبت تھی ،انہوں نے اس محبت کا حق ادا کیا انہوں نے اس لمحہ میں حکومت کے حصول کی بجائے جنازہ رسول (ص) کو ترجیح دی ۔اس سے علی علیہ السلام کے سیاسی حریفوں نے فائدہ اٹھایا ۔علی صلح وآشتی کو پسند کرنے والے تھے ۔علی کی عظمت کا اس سے اندازہ لگائیں کہ انہوں

____________________

(۱):- ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ ۔جلد سوم ۔ص ۲۸۳ مطبوعہ مصر ۔

۸۰