اہل بیت(ع) حلاّل مشکلات

اہل بیت(ع) حلاّل مشکلات21%

اہل بیت(ع) حلاّل مشکلات مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 279

اہل بیت(ع) حلاّل مشکلات
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 279 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 56215 / ڈاؤنلوڈ: 4976
سائز سائز سائز

اہل بیت حلاّل مشکلات

اردو ترجمہ

کل الحلول عند آل الرسول

ڈاکٹر محمد تیجانی سماوی

ترجمہ

سید امتیاز حیدر

ترتیب و تدوین

اے ایچ رضوی

۱

عرض مترجم

ڈاکٹر محمد تیجانی سماوی دور حاضر میں دنیاے تشیع کی ایک جانی پہچانی شحصیت کا نام ہے۔ دینی اور دنیاوی دونوں علوم سے آراستہ اس شخصیت نے خود سے راہ حق و حقیقت کی جستجو کی خاردار وادی میں قدم رکھا اور منزل حق تک پہنچ کر دم لیا۔ آج یہ عظیم شیعہ مبلغ اور بے مثل صاحب قلم اپنی بے دریغ کاوش اور بے مثال جہاد لسان و قلم کے ذریعہ پوری دنیا کو مکتب اہل بیت(ع) کی حقانیت سے روشناس کرانے میں ہمہ تن سرگرم عمل ہے۔

تیونس نام کے ایک اسلامی افریقی ملک کے باشندہ ڈاکٹر تیجانی نے اب تک دنیا کے بہت سے ملکوں کا دورہ کیا اور ہزاروں بھٹکےہوئے افراد کو صراط مستقیم کی ہدایت کی ہے۔ ان کی کئی کتابیں ” پھر میں ہدایت پاگیا “، ” میں بھی سچوں کے ساتھ ہوجاؤں “، ” شیعہ ہی اہل سنت ہیں“، دنیا کی بہت سی اہم زبانوں میں عربی سے ترجمہ ہوکر شائع ہوچکی ہیں بلکہ ایک ایک کتاب کے دس دس اور بیس بیس  ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔

قارئین کرام، اس وقت جو کتاب آپ کے ہاتھوں میں ہے اس کا اصل نام” کل الحلول عند آل الرسول“ ہے، اس کافارسی ترجمہ بنیاد معارف اسلامی قم کی جانب سے ” اہل بیت(ع) کلید مشکلات“ کے نام سے شائع ہوا۔ جس میں فارسی مترجم نے بعض حاشیہ بھی لکھے ہیں ۔ اسی کا اردو ترجمہ ” اہل بیت(ع) حلال مشکلات“ کے عنوان سے پیش خدمت ہے۔ یہ کتاب اپنے اسلوب کے اعتبار سے بقیہ کتابوں سے جدا ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں اغیار کے معائب پر

۲

 روشنی ڈالتے ہوئے اپنے مسلک میں پیش آنے والی بعض چیزوں پر بھی اس طرح قلم چلایا ہے جیسے جراح کسی پھوڑے کا آپریشن  کرتا ہے اور اس کا علاج کرتا ہےسطحی نقطہ نظر سے ان کی بعض تحریریں سخت ہیں اور مترجم ان میں اپنی رائے محفوظ رکھتا ہے۔ لیکن اس میں وہ مفید مطالب بھی ہیں جن کا گہری نظر سے مطالعہ پوری ملت اسلامیہ کو راہ ثواب سے ہمکنار کرسکتا ہے ۔ حقائق کتنے ہی تلخ ہوں ہمیں ان کا اعتراف کرنا ہی چاہئے ۔ بہر حال مجموعی طور سے یہ کتاب مصنف کی جرات و ہمت کی  پوری عکاسی کرتی ہے۔

خداوند عالم ہم کو راہ حق کی معرفت اور اس پر مضبوطی سے گامزن رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

                                                                                سید امتیاز حیدر

۳

مقدمہ

حمد و ثناء خدا  کے لیے سزاوار ہے اور وہی سارے عالم کا پروردگار ہے۔ اور اعلی ترین درود و سلام پروردگار عالم کی جانب سے منتخب حضرت ابوالقاسم محمد بن عبداللہ(ص) پر ہو جو عالمین کےلیے رحمت، ہمارے سید و سردار، آخری پیغمبر اور اللہ کے رسول(ص) ہیں اور آںحضرت کی عترت طاہرہ(ع) جو ہدایت کی نشانی، گمراہی سے نجات کی مشعل، امت کا سہارا اور ملت کے نجات دہندہ ہیں۔

خدا وند عالم نے محمد(ص) و آل محمد(ص) کی برکت سے ہم پر احسان کیا اور حق کی  شناخت کے لیے ہدایت فرمائی۔ ایسا حق کہ جس کے بعد کوئی گمراہی نہیں ہے اور مجھے ان میووں کا مزہ چکھایا جو میری چھ کتابوں کا ثمرہ تھے۔

حق کو بیان کرنے کی وجہ سے میری کتابوں پر پردہ ڈال دیا گیا تھا لیکن خدا کے فضل و کرم سے شائع ہوئیں اور ان کی وجہ سے بہت سے سچے اور حق کے جو پاکیزہ طینت مومنین عترت طاہرہ(ع) کے گردیدہ ہوگئے اور ایمان کا جز بن گئے جن کی تعداد سوائے خدا کے اور کوئی نہیں جانتا۔

                     ” وَ ما يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلاَّ هُو“( مدثر،۳ ۱ )

                     خداوند کی فوج کو سواے اس کے کوئی نہیں جانتا۔

جو خطوط دنیا کے کونے کونے سے یہاں پیرس اور تیونس  مین ہمیں مل رہے ہیں وہ ہمارے حوصلہ افزائی  کرتے  ہیں۔ اور ہمیں اطمینان حاصل ہوتا ہے کہ فرج الہی نزدیک ہے اور اس کا وعدہ سچا ہے یہی وہ مقام ہے جہاں میں اس کی اس آیت کو ورد کرنے لگتا ہوں کہ ۔

۴

” أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْساءُ وَ الضَّرَّاءُ وَ زُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَ الَّذينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتى‏ نَصْرُ اللَّهِ أَلا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَريبٌ ‏“(بقرہ۔ ۲ ۱ ۴)

کیا تم خیال کرتے ہو کہ جن آزمائشوں سے بزرگوں کو گزرنا پڑا ان کے بغیر جنت مین داخل ہوجاؤ گے۔ وہ رنج و مصیبت میں گرفتار ہوئے، سختیاں برداشت کیں اور اس طرح ان میں لرزہ پیدا ہوا کہ انبیاء(ع) اور ان کی پیروی کرنے والے مومنین بارگاہ پروردگار میں گڑگڑاتے ہوئے کہنے لگے کہ خدا کی جانب سے ںصرت کب پہنچے گی؟ بے شک ( مومنین کو بشارت دے دو) کہ خدا کی نصرت قریب ہے۔“

ان ڈھیر سارے خطوط کے پڑھنے کے بعد احساس کرتا ہوں کہ بھلائی کبھی بھی بند نہ ہوگی۔ اور حق ہمیشہ کامیاب ہے۔

”بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْباطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذا هُوَ زاهِقٌ وَ لَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُون‏“(الانبی اء ۔ ۱ ۸ )

” ہمیشہ باطل پر حق کو غالب رکھیں گے تا کہ باطل کو سرنگوں کرکے نابود کرے۔“

اور جب خود خداوند عالم نے باطل کو مٹانے کا عہد کر لیا ہے تو میں جس چیز کو حق ہونے کا معتقد ہوں اس کے اظہار میں لیت و لعل نہ کروں گا یہاں تک کہ خداوند عالم میرے اور کج فکروں  کے درمیان فیصلہ کردے۔ یہ حق سے دور بھاگتے ہیں۔ اور جس چیز کے عادی بن گئے ہیں۔ چاہے وہ سو فیصد ہی غلط ہو۔ اس کے سوا کسی اور چیز کو قبول نہیں کرتے، باطل  سے پرہیز نہیں کرتے۔

میں پھر خداوند عالم سے ان کے لئے ہدایت کی آرزو رکھتا ہوں اس لیے کہ صرف وہی ہے کہ جس کو چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت کرتا ہے۔

۵

اور چون کہ بہت سے قارئین اور حق کے جو یا افراد کے ساتھ خطوط کے ذریعہ یا ان سے ملاقات کے وقت، یا اپنی تقریروں میں مخلتف موقعوں پر تند و ترش ہو جاتا ہوں۔ لیکن مجھے اس بات کا احساس ہے کہ بعض افراد ہماری باتوں کو حق سمجھتے ہیں پھر بھی یہ کہتے ہیں کہ اس وقت جب  کہ اسلام کی نابودی کی خاطر مشرقی و مغرب متحد ہوچکے ہیں ہم ایسی مشکلات کھڑی نہیں کرنا چاہتے ۔ جو مسلمانوں کے اتحاد کو نقصان پہنچائیں۔

ہم نے ان کی اس بات کو ایک حد تک معقول سمجھا اور ان کے نظریہ کو پسند کیا۔ کیوں کہ ان کی کوشش یہ ے کہ اختلاف کم کیے جائیں۔ اور مسلمانوں کی صفوں کو منظم کیا جائے لہذا ان کے نظریوں کو ماننا چاہئے۔ اور ان کی نصیحتوں کو قبول کرنا چاہئے اور ان کا ممنون ہونا چاہئے۔ اس جگہ پر امیر المومنین(ع) کا ارشاد یاد آتا ہے، آپ(ع) فرماتے ہیں

        ” اور تم کو چاہئے کہ اپنے امور مین اس عمل کو زیادہ دوست رکھو کہ نہ حق سے غفلت ہو اور نہ اسے کنار چھوڑا جائے، عدالت کی ہمہ گیری رکھتا ہو اور رعیت کو پسند آئے۔ چونکہ  زیادہ افراد کی ناراضگی بعض کی خوشنودی کو بے اثر بنادیتی ہے اور اپنوں کی ناخوشی لوگوںکی خوشنودی کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتی۔“

لہذا میں اپنی کتاب ” اہل بیت (ع) حلال مشکلات“ قارئین کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ اس کتاب میں کوشش کی ہے کہ وہ مسائل جو لوگوں کو مشتعل اور برانگیختہ کرتے ہیں ان سے پرہیز کروں تاکہ وہ حق سے دور نہ ہوں اور ان میں ہدایت کی تلاش کا جذبہ ختم نہ ہو۔ اگر چہ میں اس بات کا معتقد ہوں کہ جذبات کو برانگیختہ کرنے کی روش آزاد افراد کی نفسیات میں جوش و ولولہ پیدا کرتی ہے اسی اپنی گزشتہ کتابوں میں، میں نے اس روش کا استعمال کیا ہے جس کا قیمتی و تعجب انگیز نتیجہ حاصل ہوا ہے۔

۶

البتہ نرم اور مصلحت آمیز روش اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے چونکہ اس سے بہت سے لوگ مطمئن اور راضی ہوں گے۔ اور بلاشبہ اس کا نتیجہ شیریں و لذت بخش ہوگا۔ چنانچہ ہم نے دونوں روشوں کا استعمال کیا اور قرآن کریم کی پیروی کی ہے اور یہ دونوں روشوں آرزو اور خوف، بہشت کی آرزو رکھنے والوں کو روانہ بہشت کرتی ہے اور خوف کھانے والوں کو جہنم سے نجات دیتی ہے۔ اور مجھے قطعی طمع نہیں ہے کہ پرہیز گاروں کے پیشوا، امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب(ع) کے اس عظیم مقام کو حاصل کرلوں  جو نہ جنت کی لالچ میں عبادت کرتے تھے اور نہ ہی جہنم کے خوف سے عبادت کرتے تھے اور اگر پردے اٹھ جاتے تو ان کے یقین میں اضافہ نہ ہوتا، لہذا میں پروردگار سے صمیم قلب کے ساتھ دعا کرتا ہوں کہ وہ اپنی رحمت کو ہمارے شامل حال کرے اور مجھے سچوں کے ساتھ ملحق کردے۔

                                                                        محمد تیجانی سماوی

۷

پیش لفظ

میں نے اپنی گزشتہ کتابوں میں کوشش کی کہ مسلمانوں کو ثقلین( قرآن و عترت(ع)) کی طرف واپس لاؤں اور ان سے چاہا کہ گمراہی سے نجات اور ہدایت کی ضمانت کے لیے ان دونوں ( قرآن و اہل بیت(ع)) کو مضبوطی سے پکڑ لیں۔ جیسا کہ رسول خدا(ص) کی زبانی بیان ہوا ہے اور معتبر و مورد اعتماد راویوں نے اپنی صحاح و مسانید میں سنی و شیعہ دونوں ہی سے نقل کیا ہے۔

میں نے اس مطلب پر کافی بحث کی، حتیٰ کے بعض افراد یہ خیال کرنے لگے کہ ہماری اساس اصحاب کی تحقیر اور ان کی بے عدالتی کو ثابت کرنے میں منحصر ہے۔ لیکن خداوند عالم گواہ ہے کہ میری غرض صرف یہ تھی کہ پیغمبر اکرم(ص) کی حرمت کا دفاع کروں اس لیے کہ آنحضرت(ص) کے وجود ہی سے پورا اسلام سامنے آتا ہے۔ اسی طرح منزلت اہل بیت(ع) کا بھی دفاع کرنا چاہتا تھا اس لیے کہ وہ بھی قرآن کےہم پلہ و ہم رتبہ ہیں جس نے بھی ان کی پہچانا قرآن کو پہچانا اور جس نے بھی ان کو نظر انداز کیا اس نے قرآن کو نظر انداز کیا ہے۔ پیغمبر(ص) نے برابر اس کی  گواہی دی اور اسی پر زور دیا ہے۔

ان شاءاللہ اس کتاب میں، میں ان مسلمانوں پر ثابت کروں گا۔ جو بیسویں صدی جی رہے ہیں، مختلف ناموں میں بٹے ہوئے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ واقعی اسلام تک رسائی پیدا کریں اور اس پر عمل کریں ، ان کے لیے اہل بیت(ع)  کی پیروی واجب ہے۔ وہ حقیقت جس سے یہ گریزاں ہیں، یہ ہے کہ قرآن و سنت دونوں ہی میں تاویل و تحریف کی گئی ہے۔ قرآن کو مختلف معنی میں

۸

تاویل کیا گیا تاکہ اس کو شریعت کے حقیقی مقاصد سے دور کردیں اور سنت میں جعلی احادیث داخل کر کے تحریف کردی گئی۔ لہذا آج قرآن کی جو تفسیریں ہمارے پاس ہیں وہ اسرائیلیت یا بعض مفسروں کی ذاتی اجتہاد سے خالی نہیں ہیں جو اس بات کے معتقد ہیں کہ قرآن کی بعض آیتیں منسوخ ہوگئی ہیں۔ اسی طرح کتب احادیث اس درجہ جھوٹ اور تحریف کا شکار ہوئی ہیں کہ کسی پر بھی سو فیصد اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔

یہی وہ مقام ہے. جہاں معصوم ائمہ(ع) اور رہبروں کی طرف رجوع کرنا واجب ہوجاتا ہے. اس لیے کہ صرف وہ ہیں جو کتاب خدا کی تفسیر اور احکام خدا کو بیان کرنے کی قدرت رکھتے ہیں اور صرف وہی احادیث پیغمبر اکرم(ص) کو تمام  تبدیلیوں، تحریفوں اور شبہات سے محفوظ رکھ سکتے ہیں.

اگر آج مسلمانوں کی آخری خواہش سلف صالح کی جانب واپسی ہے تاکہ ان دونوں تشریعی ماخذ کو ان سے حاصل کریں اور چونکہ بعض لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ (اہل بیت(ع))  سب سے افضل ہیں، لہذا ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم ان سے پوچھیں کہ آپ کے پاس کیا دلیل ہے. ہمیں حق حاصل ہے کہ ہم ان سے بین و واضح دلیل و برہان طلب کریں جو انسان کے لیے بہانہ کی راہ کو بند کر دیتی ہے، اسے قانع کردیتی ہے اور قلب مطمئن ہوجاتا ہے. اس لیے کہ صرف حسن ظن کافی نہیں ہے حتی کہ استقامت اور نیک رویہ بھی فہم کے صحیح ہونے اور غلطی سے محفوظ رہنے کا ذریعہ نہیں بن سکتا.

نبی(ص) کے شہر علم کا در، جناب امیرالمومنین(ع) اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں.

                ” لوگوں  کے ہاتھ میں حق و باطل ہے. سچ و جھوٹ، ناسخ و منسوخ، عام  اور خاص، محکم

اور متشابہ ہے. جو چیز لوگوں کے ذہن میں محفوظ ہے،جس پر حدیث بیان کرنے والے نے گمان

 کیا ہے. اور رسول خدا(ص)

۹

کے زمانے میں ہی جھوٹ باندھا، یہاں تک کہ آںحضرت(ص) خطبہ دینےکے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا ” جس نے بھی عمدا میری طرف جھوٹی باتین        منسوب کیں اس نے اپنے لیے جہنم میں جگہ تیار کر لی .

اور تمہارے لیے جو حدیث بیان کرتے ہیں وہ صرف اور صرف چار ہیں.

( ۱ ) دو چہرے رکھنے والا جو کہ اظہار ایمان کرے لیکن بظاہر مسلمان ہو، گناہ سے نہ ڈرے اور دل میں خوف نہ رکھتا ہو، عمدا رسول خدا(ص) پر جھوٹ باندھے اور خوف نہ کرے اور اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ وہ منافق اور جھوٹا ہے تو اس کی ( بیان کی ہوئی) حدیث کو قبول نہ کریں. اور اس باتوں کو سچ نہ سمجھیں. لیکن اگر رسول خدا(ص) کے دوستوں میں سے ہو تو اس کو دیکھنا اور سننا چاہئے. اور اس کی باتوں کو محفوظ کرنا چاہئے. اس کے کہے ہوئے کو قبول کرنا چاہیے. خدا نے تم کو منافقوں کے متعلق بتایا ہے اور جس طرح ان کی قلعی کھلنی چاہیے خدا نے بیان فرما دیا ہے.

یہ رسول خدا(ص) اور اہل بیت(ع)  جب پر خدا کی رحمت ہو اپنی جگہ رہ گئے اور لوگ جھوٹ و تہمت کے ذریعہ گمراہوں کے سرغنہ اور جہنم کی طرف دعوت دینے سے نزدیک ہوگئے۔ انہوں نے ان منافقوں کو عہدوں پر مامور کیا اور لوگوں کے امور کو ان کے حوالہ کردیا۔ اور انہیں کے ہاتھوں دنیا کو ہتھیایا۔ اور لوگ تو وہاں جاتے ہیں جہاں بادشاہ اور دنیا رخ کرتی ہے۔ مگر یہ کہ خدا محفوظ رکھے۔ ان چار میں سے یہ ایک ہے۔

( ۲ ) کچھ حدیث نقل کرنے والے ایسے ہیں جو حدیث کو رسول خدا(ص) سے سنتے ہیں لیکن جس توجہ سے سننا چاہیئے نہیں سنتے اور غلط بیان کرتے ہیں لیکن ان کا یہ عمل عمدا نہیں ہوتا۔ جو حدیث اس کے پاس ہے اس کو بیان کرتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے اور کہتا ہے ہم نے اسے

۱۰

رسول خدا(ص) سے سنا ہے۔ اگر مسلمانوں کو پتہ ہوتا کہ اس نے حدیث سننے میں غلطی کی ہے تو ہرگز اس کو قبول نہ کرتے اور اگر خود اسے معلوم ہوتا کہ یہ حدیث غلط ہے تو اس کو بیان کرنے سے گریز کرتا۔

( ۳ ) اور تیسرا وہ ہے جس نے سنا کہ رسول خدا(ص) نے کسی چیز کو حکم فرمایا اور پھر اس کی نفی کردی لیکن اس نفی کرنے کا علم اسے نہ ہوسکایا حضرت(ص) نے کسی چیز کی نفی کی اور بعد میں اسکا حکم فرمایا۔ لیکن وہ اس حکم سے بے خبر ہے۔ لہذا جو حکم ہوا اس کی تو اسے خبر ہے۔ لیکن اس کے منسوخ ہونے کی اسے خبر نہیں ہے چوںکہ اگر اسے پتہ ہوتا کہ وہ روایت منسوخہوچکی ہے۔ تو وہ اسے ترک کردیتا اور جس وقت مسلمانوں نے اس سے حدیث سنی اگر جانتے کہ منسوخ ہوچکی ہے اسے ترک کردیتے۔

( ۴ ) اور چاتھا شخص وہ ہے جو خدا اور رسول(ص) کی طرف جھوٹی نسبت نہیں دیتا، خدا سے ڈرتا ہے اور رسول خدا(ص) کی حرمت کا خیال رکھتا ہے غلطی کا بھی مرتکب نہیں ہوتا۔ جو کچھ اسے یاد ہے وہی ہے جسے اس نے سنا ہے۔ اور جو کچھ سنا ہے بغیر کسی کمی اور اضافہ کے وہی روایت کرت ہے پس ناسخ کو ذہن میں محفوظ کیا اور اس پر عمل کیا اور منسوخ بھی جو ذہن میں تھا اس سے پرہیز کیا۔ خاص و عام کو سمجھا، محکم و متشابہ کو پہچانا اور ہر ایک کو اسی جگہ پر قرار دیا۔ اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ حدیث رسول(ص) کے دو طرح کے معنی ہوتے ہیں۔ ایک خاص گفتگو ہوتی ہے اور ایک عام گفتگو ہوتی ہے۔ ممکن ہے کوئی سننے کے بعد نہ سمجھ پائے کہ خدا اور رسول(ص) اس سے کیا چاہتے ہیں؟ پس سننے والا تاویل کرتا ہے بغیر اس کے کہ کلام کو سمجھے یا اس کے مقصود کو جانے یا یہ نہ جانے کہ یہ کیوں بیان ہوئی ہے؟ رسول خدا(ص)  کے تمام اصحاب تو اس طرح کے نہ تھے کہ آن حضرت(ص) سے پوچھیں اور اس کے معنی کو معلوم کریں۔ بلکہ وہ تو منتظر رہتے تھے کہ کوئی صحرائی عرب پہنچے اور رسول(ص) سے سوال کرے، اس

۱۱

۱۲

یہ ہے سچا دین

دو سال قبل سان فرانسکو میں برادران اہلسنت کی مسجد میں، میری تقریر کا یہی عنوان تھا۔ اس روز جلسہ میں افریقہ کے متعدد ممالک نیز ترکی، افغانستان اور مصر کے باشندے شریک تھے۔ اس تقریر اور پھر آزاد بحث کے نتیجہ میں بہت سے حاضرین نے اپنی رضائیت کا اظہار کیا۔

ایک مصری طالب علم جس حال ہی میں اپنی ڈاکڑیٹ حاصل کی تھی مجھ پر یہ اعتراض کیا کہ آپ کس بنا پر شیعوں کے دین کو حقیقی اسلام سمجتھے جبکہ شہرت اس کے برعکس ہے اور جیسا کہ کہا جاتا ہے اہل سنت والجماعت ہی فرقہ ناجیہ ہے۔ کیوں یہ لوگ قرآن و سنت سے متمسک ہیں اور دیگر فرقے گمراہ ہیں؟

میں نے بہت ضبط و حوصلہ اور نرمی سے حاضرین کو مخاطب کر کے اس کا جواب دیا:

میرے بھائیو! میں حق کو حاضر و ناظر جان کر قسم کھا کر کہتا ہوں اگر مجھے کوئی ایسا اہل سنت فرقہ مل جائے جو حضرت ابوبکر کی طرف منسوب مذہب کا پیرو ہوتو میں انہیں مبارک باد دوں گا۔ کیوں کہ حضرت ابوبکر کا شمار پیغمبر خدا(ص) کے اصحاب میں ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی فرقہ ملے جو حضرت عمر اور حضرت عثمان کی طرف منسوب مذہب کی پیروی کرتا ہے تو میں انہیں مبارک باد پیش کروں گا۔ کیوں کہ یہ دونوں اصحاب رسول(ص) میں شمار ہوتے ہیں لیکن مجھے آج تک اہل سنت یا دیگر فرقوں میں کوئی ایسا گروہ نہیں ملا جو ان خلفاء یا کسی اور صحابی سے منسوب مذہب کی

۱۳

 پیروی کرتا ہو۔ صرف ایک شیعہ فرقہ ہے جو علی بن ابی طالب(ع) سے منسوب مذہب کی پیروی کرتا ہے۔ یہ لوگ شیعہ امامیہ ہیں ان کے مقابل کوئی ابوحنفیہ کی تقلید کرتا ہے تو کوئی شافعی اور احمد بن حنبل کی یہ حضرات عظیم دانشور ہونے کے باجود صحابی نہیں ہیں۔ انہوں نے رسول اکرم(ص) کو ایک دن کے لیے بھی درک نہیں کیا اور نہ ان کے ہمنشین رہے ہیں۔ یہ حضرات تاریخ کے ایک عظیم فتنہ کے بعد معرض وجود میں آئے ہیں اور بلاشک و شبہ اس فتنہ سے متاثر ہوئے ہیں۔(۱)

ہم اگر علی بن ابی طالب(ع) کو تمام فضیلتوں سے الگ کر دیں تو ان کے لئے صرف اتنا ہی کافی ہے کہ آپ سب سے پہلے مسلمان اور مومن تھے اور آپ نے اپنی ساری زندگی رسول خدا(ص) کی رقابت اور ان کے دین کی  خدمت میں گزار دی۔ میں آپ سے خدا کاواسطہ دے کر کہتا ہوں تعصب اور جذبات سے کنارہ کرتے ہوئے صرف اور صرف اپنی عقل کو حاکم بتائیں اور فقط خدا کی مرضی کو مدنظر رکھیں اس کے بعد اپنے ضمیر سے پوچھیں اور مجھے بتائیں کہ پیروی اور اتباع کا کون مستحق ہے؟ حاضرین میں سے سنکڑوں آواز بلند ہوئیں کہ علی(ع) پیروی اور اخباع کے زیادہ مستحق ہیں۔

اس کے بعد میں نے حاضرین کو رسول اکرم(ص) کی وہ حدیثیں سنائیں جو اہل سنت والجماعت کی معتبر ترین کتب ( صحاح و مسانید حدیث) میں منقول ہیں۔ یہ حدیثیں مندرجہ ذیل ہیں۔

۱۔ میں علم کا شہر ہوں اور علی(ع) اس کا دروازہ ہیں۔(۲)

۲۔ علی(ع) حق کے ساتھ ہیں اور حق علی(ع) کے ساتھ ہے۔ جہاں علی(ع) ہوں گے، حق بھی ان کے ساتھ ہوگا۔(۳)

۳۔ جس کا میں مولا ہوں علی(ع) بھی اس کے مولا ہیں۔(۴)

۱۴

۴۔ میری نسبت علی(ع) سے ایسی ہے جیسے ہارون کو موسی(ع) سے تھی۔(۵)

۵۔ میرے بعد علی(ع) میری امت کے اختلافات کو حل کرنے والے ہوں گے۔

۶۔ علی(ع) قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن علی(ع) کے ساتھ ہے اور یہ دونوں  ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کے میرے پاس حوض کوثر پر آجائیں۔(۶)

اگر مسلمان ان حقائق کو سجھ لیں اور ان کی عقلیں صرف اور صرف حضرت علی(ع) کے صحابی پیغمبر(ص) ہونے کی وجہ سے ان کی پیروی کی دعوت دیں تو اس میں کوئی شک وشبہ نہیں رہ جاتا کہ حقیقی اسلام وہی ہے جو شیعہ امامیہ کا دین ہے۔ انہی رافضیوں کا اسلام جنہوں نے علی(ع) کے علاوہ کسی اور کی پیروی کو رفض ( ناپسند) کیا ہے۔

آخر کار جلسہ میں بہت گفتگو اور بحث کے بعد جو کہ بڑے صبر و حوصلہ و آرام سے انجام پائی، حاضرین میں سے بہت سے لوگ میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے مبارکباد دی اور خدا کا شکر ادا کیا۔ مجھ سے درخواست کی کہ اپنی کتابیں انہیں پیش کروں اور شیعوں کی کتابوں کے بارے میں انہیں معلومات فراہم کروں۔

اس گروہ میں ایک فرد اسی مسجد کے امام جماعت بھی تھے جب میں مصائب اہل بیت(ع) پڑھ رہا تھا تو وہ گریہ کررہے تھے۔ انہوں نے مصر سے ph .D کی ہے۔ وہ  محب اہل بیت(ع) ہیں انہوں نے مجھ سے کہا: مبارک ہو اے بھائی! مجھے یقین نہیں تھا کہ تم اتنی آسانی سے ہمیں مطمئن اور قانع کر لوگے مجھے بعض متعصبین سے جو تم سے جلتے ہیں خوف محسوس ہورہا تھا، لیکن خدا کی قسم تم نے اپنی سچی باتوں سے ان کے دل جیت لیے۔

۱۵

راہ پیغمبر(ص) کو جاری رکھنے والے

اہل بیت(ع) سے ہماری مراد پیغمبر(ص) کی عترت میں بارہ امام علیہم السلام ہیں۔ ہم نے گزشتہ کتابوں میں اس سلسلے  میں جو گفتگو کی ہے۔ شیعوں اور اہل سنت کا اتفاق ہے کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا:

     میرے بعد ائمہ بارہ افراد ہوں گے اور یہ سب کےسب قریش سے ہوں گے۔(۷)

     آپ(ص) نے مزید فرمایا۔ یہ امر ( امامت) قریش ہی میں رہے گا خواہ قریش میں صرف دو ہی آدمی کیوں نہ بچے ہوں۔

اور چونکہ سبھی جانتے ہیںکہ خدا  نے آدم(ع) و نوح(ع) و ابراہیم(ع) و خاندان عمران کو دنیا کے تمام لوگوں میان منتخب کیا ہے۔ پس پیغمبر اکرم(ص) نے ہمیں بتایا ہے کہ خدا نے ان تماملوگوںپر بنی ہاشم کو منتخب کیا ہے اور یہ لوگ تمام برگزیدہ افراد پر فضیلت رکھتے ہیں۔(۸)

صحیح مسلم کے باب فضائل میں (دیگر لوگوں پر فضیلت پیغمبر اکرم(ص)) کے باب میں آن حضرت(ص)  سے منقول ہے کہ

             خدا نے کنانہ کو فرزندان اسماعیل(ع) سے منتخب کیا اور قریش کو کنانہ سے۔ اور بنی ہاشم کو قریش سے اور مجھے بنی ہاشم سے۔(۹)

اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ خدا نے بنی ہاشم کو تمام مخلوق پر فوقیت اور فضیلت دی ہے اور بنی ہاشم پر رسول اکرم(ص) کو فوقیت و فضیلت دی ہے۔ لہذا بنی ہاشم کا رتبہ آپ کے بعد ہے۔ اور رسول اکرم(ص) نے تمام بنی ہاشم میں علی(ع) اور ان کی

۱۶

اولاد کو منتخب کیا اور خدا کے حکم سے انہیں اپنا جانشین بنایا ہے۔ جس طرح سے خود آپ(ص) پر درود و سلام بھیجنا واجب تھا، اسی طرح آپ نے علی(ع) اور اولاد علی(ع) پر درود و سلام بھیجنا واجب قرار دیا ہے۔ اس وجہ سے اکثر مفسرین نے علی(ع) و آل علی(ع) کو آیہ تطہیر کا مصداق بتایا ہے۔ صرف آیہ تطہیر ہی نہیں بلکہ آیت مودت، آیت ولایت اور آیت اصطفاء کا مصداق بھی اہل بیت(ع) ہی ہیں۔کتاب کے وارث، اہل ذکر، راسخون فی العلم اور سورہ ہل اتی سے مراد اہل بیت علیہم السلام ہی ہیں۔

رسول اکرم(ص) کی وہ حدیثیں جن کی صحت پر تمام علماء فریقین کو اتفاق ہے، بہت زیادہ ہیں ان حدیثوں میں رسول اکرم(ص) نے اہل بیت علیہم السلام کی فضیلتوں کو بیان کیا ہے اور انہیں ہدایت دینے والے رہبر بتایا ہے۔ چونکہ یہ حدیثیں بہت زیادہ ہیں لہذا ہم صرف دو حدیثوں کا ذکر کرتے ہیں۔

۱۔ مسلم نے اپنی صحیح میں باب فضائل علی ابن ابی طالب(ع) میں نقل کیا ہے کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا :

        اے لوگو! میں بھی ایک بشر ہوں، ممکن ہے جلد ہی خدا کا بھیجا ہوا فرشتہ آجائے اور میں اس کی

دعوت پر لبیک کہہ دوں۔ آگاہ ہو جاؤ! میں تمہارے درمیان دور گراں بہا چیزیں چھوڑے جارہا ہوں

ایک کتاب خدا ہے  جس میں ہدایت اور نور ہے۔ کتاب خدا کو مضبوطی سے تھام لو۔ دوسرے میرے

اہل بیت(ع) ہیں تمہیں خدا کا واسطہ میرے اہل بیت(ع) کو بھلا نہ دینا۔ تمہیں خدا کا واسطہ میرے

اہل بیت(ع) کو بھلا نہ دینا۔ تمہیں خدا کا واسطہ میرے اہل بیت(ع) کو یاد رکھنا۔(۱۰)( صحیح مسلم ج۴،

ص۱۸۷۳، ح۲۴۰۸)

۲۔ مسلم نے اپنی صحیح میں سعد بن ابی وقاص سے اور اس نے اپنے باپ سے روایت کی کہ رسول خدا(ص) نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا :

۱۷

                ” اے علی(ع) تمہاری نسبت مجھ سے وہی ہےجو ہارون(ع) کو موسی(ع) سے تھی۔

                مگر یہ کہ میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں آئے گا۔“(۱۱)

ہم اختصار کی بنا پر ان ہی دو حدیثوں پر اکتفا کرتے ہیں۔ ان حدیثوں سے واضح اور ثابت ہوجاتا ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب(ع) عترت پیغمبر(ص) کے بزرگ تھے اور آپ ہی نے رسول خدا کی حفاظت کی اور ان کے راستہ کو جاری رکھا۔ رسول اکرم(ص) نے اسی بات پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا ہے:

                میں علم کا شہر ہوں اور علی(ع) اس کا دروازہ ہیں۔

کیا یہی حدیث کافی نہیں ہے اس بات پر کہ امت علی(ع) کے بغیر ” شہر پیغمبر“ میں داخل ںہیں ہوسکتی۔ ان دو بزرگوں پر خدا کا درود و سلام ہو خدا نے گھر میں صرف دروازہ سے داخل ہونے کا حکم دیا ہے۔

اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ حضرت علی(ع) نے صرف رسول خدا(ص) سے علم حاصل کیا ہے آپ بچپن ہی سے رسول خدا(ص) کی تربیت میں رہے اور ہمیشہ رسول اکرم(ص) کے ساتھ رہتے تھے۔ پیغمبر اکرم(ص) نے گزشتہ اور آیندہ کا علم آپ(ع) کو عطا کیا یہاں تک کہ آپ نے فرمایا:

        ” جبرئیل نے مجھے کوئی ایسی چیز نہیں دی جو میں نے علی ابن ابی طالب(ع) کو نہ سکھائی ہو“۔

        اس بارے میں خود حضرت علی(ع) ارشاد فرماتے ہیں:

        ” اگر مسند قضاوت بچھا دی جائے تو میں اہل توریت کے لیے توریت سے اور اہل انجیل کے لیے

        ان کی انجیل سے اور اہل قرآن کے لیے قرآن سے فیصلہ کروں گا۔“(۱۲)

آپ(ع) مزید فرماتے ہیں :” سلونی قبل ان تفقدونی“

” مجھ سے پوچھو قبل اس کے کہ میں تمہارے درمیان سے اٹھ جاؤں۔“(۱۳)

۱۸

تاریخ اسلام میں تمام مسلمان اور اصحاب اس بات پر متفق ہیں کہ دین و دنیا کے سب سے بڑے عالم علی(ع) ہیں۔ آپ(ع) دنیا کے پارساترین اور زاہد ترین فرد تھے آپ(ع)  نے ہر طرح کی مصیبت اور سختیوں میں صبر کے اعلی ترین مدارج کا مظاہرہ کیا اور جنگوں میںآپ(ع) کی شجاعت کی برابری کون کرسکتا ہے؟

اسی طرح خطا کاروں کو معاف کرنے اور عفو و بخشش کا مظاہر کرنے میں بھی آپ(ع) کا ثانی نہیں ہے۔

ان مطالب کو کامل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ رسول اکرم(ص) اور اہل بیت(ع) کے درمیان رشتہ اور ربط کے بارے میں آپ کے ارشادات پر توجہ کی جائے۔

اسرار پیغمبران (اہل بیت(ع)) کے حوالہ کیا گیا ہے جو بھی ان کی پناہ میں آئے اس نے راہ حق اختیار کی ہے، ( وہ علم رسول(ص) کے مخزن ہیں اور ان کی شریعت کے احکام کو بیان کرتے ہیں۔ قرآن و سنت ان کے یہاں محفوظ ہیں، وہ پھیلے ہوئے پہاڑ کی طرحدین کے پاسبان ہیں۔ انہیں کے ذریعہ اس کی پشت مضبوط ہے اور اس کے پہلو کی کپکپی دور ہوئی ہے۔ ( نہیج البلاغہ/خطبہ۲)

خدا کی قسم ہمیں پیغاموں کے پہنچانے، وعدوں کو پورا کرنے، امر و نہی کو بیانکرنے کا پورا علم ہے اور ہم اہل بیت(ع) پر ہی علم و حکمت الہی کے دروازےکھلے ہیں۔ ( نہیج البلاغہ/خبطہ۱۲۰)

کہاں ہیں وہ لوگ جو جھوٹ بولتے ہوئے اور ہم پر ستم روا رکھتے ہوئے یہ دعوی کرتےہیں کہ ہو”راسخون فی العلم“ ہیں نہ کہ ہم۔خدانےاسکےعوض ہمیں بلندی دی اور انہیں پستی میں ڈال دیا۔ ہمیں عطا کیا اور انہیں محروم کیا۔ ہمیں اپنی عنایت کے دائرہمیں رکھا اور انہیں باہر کردیا۔ ہم ہی سے طلب ہدایت اور گمراہی کی تاریکیوں کو

۱۹

 چھانٹنے کی خواہش کی جاسکتی ہے۔ بلا شبہ ائمہ قریش میں سے ہوں گے جو اسی قبیلہ کی ایک شاخبنی ہاشم کے کشت زار سے ابھرے ہیں۔ نہ امامت کسی اور کو زیب دیتی ہے اور نہ بنی ہاشمکے علاوہ کوئی اس کا اہل ہوسکتا۔ ( نہج البلاغہ/خطبہ۱۴۴)

بلا شبہ، آل محمد(ص) کی مثال آسمان کے ستاروں کے مانند ہے۔ اس لیے اگر ایک ستارہ غروب ہوتا ہے تو دوسرا ظاہر ہوجاتا ہے گویا تمہارے حق میں خدا نے خیرو وبرکت کو کمال کی حد تک پہنچایا ہے اور جو کچھ تم آزرو کرتے ہو( خدا نے ) تمہیں بخشا ہے۔ ( نہج البلاغہ/خبطہ۱۰۰)

اس امت میں کسی کو بھی آل محمد(ص) پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ جن لوگوں پر ان کے احسانات ہمیشہ جاری رہے ہوں وہ ان کے برابر نہیں ہوسکتے۔ وہ دین کی بنیاد اور یقین کے ستون ہیں۔آگے بڑھ جانے والے کو ان کی طرف پلٹ کر آنا ہے اور پیچھے رہ جانے والے کو ان سے آکر ملنا ہے۔ حق ولایت کی خصوصیات انہی کے لیے ہیں انہی کے بارے میں پیغمبر(ص) کی وصیت اور انہی کے لیے نبی(ص) کی وراثت ہے۔ اب حق اپنے اہل کی طرف پلٹ آیا اور اپنی صحیح جگہ پر منتقل ہوگیا۔ ( نہج البلاغہ/خطبہ۲)

اور ( میں اپنے نبی(ص) کے طریقے اور) شاہراہ حق پر گامزن ہوں اور اسے باطل کے راستوں سے جدا کرتا رہتا ہوں۔ اپنے نبی(ص) کے اہل بیت(ع) کو دیکھو! ان کی سیرت پر چلوں ان کے نقش قدم کی پیروی کرو۔ وہ تمہیں ہدایت فلاح سے باہر نہیں و فلاح سے باہر نہیں ہونے دیں گے اور نہ گمراہی و ہلاکت کی طرف پلٹائیں گے۔ اگر وہ کہیں ٹھہریں تو تم بھی ٹھہر جاؤ اور اگر وہ اٹھیں تو تم بھی اٹھ کھڑے ہو۔ ان سے آگے نہ بڑھ جاؤ ورنہ گمراہ ہوجاؤ گے اور نہ( انہیں چھوڑ کر) پیچھے رہ جاؤ ورنہ تباہ ہوجاؤ

۲۰

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

اوراس کو آفتوں اور زہریلے گناہوں سے نہ بچایاجائے اور ان کو دل سے دور نہ کیا جائے ؛تو ایسا بگڑ جاتا ہے کہ خدا وند عالم اس بیزار ہو جاتا ہے قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے :( واذا ذکر الله وحده اشمازت قلوب الّذین لا یومنون با لآخرة'' ) ( ۱ ) اور جب ان کے سامنے خدائے یکتا کا ذکر آتا ہے تو جن کا ایمان آخرت پر نہیں ہے ان کے دل متنفر ہو جاتے ہیں ؛ اگر چہ خدا کو پہچاننا اور اس کی معرفت حاصل کرنا ہر انسان کی فطرت میں داخل ہے ؛اور انسان کی طبیعت اولیٰ اس طرح بنائی گئی ہے کہ وہ خدا کو دوست رکھتی ہے اور اس کو پہچانتی ہے لیکن برائیاں اور غلط کام اس کو اس طرح خراب کر دیتے ہیں کہ جب خدا کا نام آتا ہے تو وہ ناخوش ہو جاتے ہیں ۔ جس طرح انسان کی پہلی طبیعت اس طرح بنی ہے کہ جب دھواں اس کے حلق اور پھپھڑے میں جاتا ہے تو وہ تکلیف محسوس کرتا ہے اور فطری طور پر اس کی وجہ سے کھانسنے لگتا ہے لیکن جب سگریٹ پینے کا عادی ہو جاتا ہے اور اپنے جسم کو ایسا عادی بنا لیتا ہے کہ جب تک سگریٹ کا دھواں اپنے حلق میں نہیں ڈال لیتا اس کو آرام اور سکون نہیں ملتا ہے حتیٰ اگر سگریٹ پئے بھی رہتا ہے اور اس کا اس سے دل بھی بھرا رہتا ہے لیکن صرف اس وجہ سے کہ سگریٹ گھرمیں نہیں ہے تو اس کو نیند نہیں آتی ہے ؛وہی تلخ اور کڑوادھواںجو کہ پہلی فطرت کے خلاف تھا اوراس کوتکلیف دیتا تھا اب اس کی عادت کی وجہ سے اس کا مزاج ایسا بدل گیا ہے کہ وہی

____________________

(۱) سورہ زمر : آیہ ۴۵۔

۱۶۱

دھواں اس کی زندگی کا حصّہ بن گیا ہے اور اس سے ایسی وابستگی ہو گئی ہے کہ اس کے بغیر اس کو نیند نہیں آتی ہے۔

منجملہ ان چیزوں کے جو انسان کی معنوی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں خدا وند عالم کی محبت ، اس کے دوستوں کی محبت ،اس کے دوستوں کے دوستوں کی محبت ہے کہ جن کو اپنے اندر پیدا کرنے کے لئے انسان کو کوشش کرنا چاہئے؛ اس کے بر خلاف گناہ ،شیطان اور دشمنان خدا اور دشمنان دین کی محبت کو اپنے دل سے نکالنے کی سعی کرنی چاہئے۔ انسان کی معنوی زندگی کے لئے صرف گناہ ہی نہیں بلکہ گناہ کا تصّور بھی نقصان پہونچانے کا سبب بنتا ہے؛ اگر مومن یہ چاہتا ہے کہ اس کا ایمان مکمل ہو اور اس کی روح بلند سے بلند تر ہو تو اس کو اپنے ذہن میں گناہ کا خیال بھی نہیں لانا چاہئے؛ شاید یہ بات ہمارے زمانے اور دور میں ]کیونکہ ہمارا ماحول ایسا ہے[ افسانہ لگتی ہو اور اس کا تصور بھی کرنا ہمارے لئے مشکل ہو تصدیق تو بعد کی بات ہے ؛لیکن یہ بات واقعیت اور حقیقت رکھتی ہے ؛اگر چہ میں ان بعض داستانوں پر جو لوگ بیان کرتے ہیں ذاتی طور سے یقین نہیں رکھتا اور عام طور پرمیری عادت بھی نہیں ہے کہ میں بحث کو قصّہ اور کہانی سے ثابت کروں لیکن پھر بھی کبھی کبھی ذہن کو مطالب سے قریب کرنے کے لئے بعض داستانوں کا نقل کرنا مفید ہوتا ہے لہٰذامیں انھیں داستانوں میں سے ایک کو یہاں پر نقل کر رہا ہوں جو کہ اس سے (بحث ) مربوط ہے ۔

۱۶۲

روحی جذب و دفع کا ایک عالی نمونہ

یہ داستان سید رضی اور سید مرتضیٰ سے متعلق مشہور ہے یہ دونوں بھائی تھے سید رضی وہی ہیں جنھوں نے نھج البلاغہ کو جمع کیا ہے؛ سید مرتضیٰ بھی صف اول کے علماء سے ہیں اور بہت بڑی شخصیت کے مالک ہیں ،جب ان دونوں بھائیوں نے پہلی مرتبہ اپنے استاد شیخ مفید کے پاس جانا چاہا مرحوم مفید نے اس سے پہلے رات کو خواب میں دیکھا کہ جناب فاطمہ زہرا صلوات اللہ علیھا اپنے دونوں فرزند امام حسن اور امام حسین کا ہاتھ پکڑے ہوئے آئی ہیں اور فرماتی ہیں کہیا شیخ علّمهما الفقه یعنی اے شیخ ان کو فقہ کی تعلیم دو شیخ خواب دیکھ کر اٹھے تعجب کیا یہ کیا ماجرا ہے؟میری کیا حیثیت ہے کہ میں امام حسن اورامام حسین کو تعلیم دوں، صبح ہوئی اور درس کے لئے مسجد گئے ابھی درس دے ہی رہے تھے کہ ایک معظمہ خاتون کو دیکھا دو بچوں کا ہاتھ پکڑے ہوئے تشریف لائیں اور فرماتی ہیں یا شیخ علّمھما الفقہ اے شیخ! ان دونوں کو فقہ کی تعلیم دو یہ دونوں بچّے کوئی اور نہیں بلکہ وہی سید رضی اور سید مرتضیٰ تھے ۔بہر حالم میرا مقصد یہ واقعہ ہے جیسا کہ لوگوں کا بیان ہے: ایک دن ان دونوں بھائیوں نے سوچا جماعت سے نماز پڑھی جائے؛ مستحب ہے کہ امام جماعت ماموم سے افضل ہو اور یہ دونوں بھائی علم کے اس بلند درجے پر فائز تھے کہ نہ صرف واجبات بلکہ مستحبات پر بھی عمل کرتے اور محرمات کے ساتھ مکروہات سے بھی پرہیز کرتے تھے؛ سید مرتضیٰ چاہتے تھے کہ اس مستحب (جماعت سے نماز پڑھنے )پر بھی عمل کریں دوسری جانب واضح اور صریحی طور پر اپنے بھائی سے یہ کہہ نہیں سکتے تھے کہ اے بھائی !میں تم سے افضل ہوں لہذٰا مجھ کو امام جماعت ہونا چاہئے تا کہ جماعت کااور زیادہ ثواب ہم دونوں کو مل جائے،لہذا انھوں نے چاہا کہ اشارے میں اپنے بھائی کو اس مطلب کی جانب متوجہ کریں اور کہا کہ ہم میں سے وہ امامت کرے جس سے آج تک کوئی گناہ سرزدنہ ہوا ہو گویا سید مرتضیٰ اشارةًیہ بتاناچاہتے تھے کہ جس وقت سے میں حد بلوغ کو پہونچا ہوں، تب سے آج تک مجھ سے کوئی گناہ نہیں ہوا ہے؛ لہذا بہتر یہ ہے کہ میں امامت کے فرائض انجام دوں۔سید رضی نے فرمایا کہ بہتر ہے کہ ہم دونوں سے وہ امام ہو جس نے آج تک گناہ کا خیال بھی نہ کیا ہو، گویایہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب سے میں سن بلوغ کو پہونچا ہوں تب سے میں نے گناہ کا خیال بھی نہیں کیا بہر حال یہ واقعہ کتنی حقیقت رکھتا ہے یہ بات اہم نہیں ہے اہم یہ ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ایمان کا سب سے بہترین اور بلند درجہ یہ ہے کہ انسان کے ذہن میں گناہ کا تصور بھی نہ آئے۔ قرآن کریم میں خدا وندعالم ارشادفرماتا ہے:( یا ایهاالذین آمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم ) ( ۱ ) اے وہ لوگو !جو کہ ایمان

____________________

(۱)سورہ حجرات : آیہ ۱۲ ۔

۱۶۳

لائے ہو بہت سے گمانوں سے پرہیز کرو بیشک بعض گمان اور شک گناہ ہیں ، لہذٰا مومن کو چاہئے کہ برے گمان سے بھی دافعہ رکھتا ہو اور اس گمان کو اپنے سے دور رکھے؛ گنا ہ کا خیال رکھنا اور اس کے مناظر کو سوچنا اور اس کی فکر کرنا ممکن ہے انسان کے اندر دھیرے دھیرے وسوسہ کو جنم دے اور اس کو گناہ کی طرف کھینچ لے جائے مومن کو چاہئے کہ ہر حال میں خدا کو یاد رکھے قرآن مجید میں خدا وند عالم ارشاد فرماتا ہے:( الذین یذکرون الله قیاماً و قعوداً وعلیٰ جنوبهم ) ( ۱ ) وہ لوگ ہر حال میں چاہے کھڑے ہوں یا بیٹھے یا کروٹ کے بل ہوں خدا کو یاد رکھتے ہیں ؛اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلو کے بل لیٹے ہوں یا سونے کے لئے آنکھوں کو بند کرلئے ہوں ؛اس حال میں بھی خدا کو یاد رکھو؛ اوراس بات کی کو شش کرو کہ خدا کی یاد میں تم کو نیند آ ئے تاکہ تمہاری روح بھی سونے کے عالم میں خدا کے عرش اور ملکوت کی سیرکرے ؛بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جوسونے کے وقت دوسری فکروںکو اپنے ذہن میں لاتے ہیں اور اس سے اپنی فکر کو گندہ کرتے ہیں اورجس وقت سوتے ہیں توشیاطین کی دنیا کی سیر کرتے ہیں اور خواب بھی گناہ کا دیکھتے ہیں ۔

یہ وہ اثرات ہیں جو انسان کی معنوی زندگی میں پیش آتے ہیں ۔ جس طرح مادی اور دنیاوی زندگی میں انسان اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ اسکا جسم نشو ونما کرے

____________________

(۱)سورہ آل عمران: آیہ، ۱۲۵

۱۶۴

اور صحیح اورسالم رہے تو اسکوچاہئے کی اچھی غذا کھائے اور خراب وزہریلے کھانے سے جوکہ نقصان دہ ہے پرہیز کرے ،اسی طرح روحی زندگی کے شعبہ میں بھی جو چیز اسکی روح کے لئے فائدہ مندہے اسکو جذب یعنی حاصل کرے اور جو چیزنقصان دہ اور مضر ہے اسکو دفع یعنی دور کرے ۔

آیہ( فلینظرالانسان الیٰ طعامه ) ( ۱ ) کی تفسیر

یعنی انسان اپنی خوراک اور غذا کی طرف دیکھے ،البتہ اس سے پہلے اور بعد کی آیات کے قرینے سے یہ بات کی ظاہر ہوتی ہے کہ یہاں طعام، مادی اورجسمانی غذاسے مربوط ہے،کیوںکہ گفتگو اس اندازسے ہے کہ اے انسان دیکھ یہ غذا کہاں سے آرہی ہے؟ ہم نے پانی کو آسمان سے کیسے نازل کیا،اور کس طر ح پودوں اورسبزوں کو اگایا؛پھر یہ سبزے کس طرح جانوروں کی غذا بنے اور پھر تم کس طرح ان جانوروں کے گوشت سے فائدہ حاصل کرتے ہو؛ یہ سب نعمتیں ہیں جن کو خدا نے تمھارے لئے مہّیا کی ہے ؛خلاصہ یہ کہ آیہ اس بات کی نشان دہی کر رہی ہے کہ ظاہراًیہاں طعام سے مراد جسمانی غذا ہے؛ لیکن اس آیہ شریفہ کے ذیل میں ایک روایت بیان ہوئی ہے جو در حقیقت تاویل کی منزل میں ہے اس آیت کی باطنی تفسیر ہے کہ( 'فلینظر الانسان الیٰ علمه من یتّخذ'' ) انسان اپنے علم کو دیکھے کہ وہ کہاں سے حاصل کررہا ہے ؟کیونکہ علم روح کی غذا ہے اور اس کے مصرف میں انسان کو خاص توجہ دینی چاہئے ؛یعنی جس طرح انسان باہر سے غذا اور کھانا

____________________

(۱) سورہ عبس: آیہ ۲۴۔

۱۶۵

لاناچاہتا ہے تو وہ اس بات کی سعی کرتا ہے اور پوچھتا ہے کہ کون سا ہوٹل صفائی کا زیادہ خیال رکھتا ہے اور کس کا کھانا اچھا اور بہتر رہتا ہے،اس کے بعد وہاں سے غذا حاصل کرتا ہے اسی طرح علم بھی آپ کے روح کی غذا ہے یہ نہیں ہونا چاہئے کہ جب اور جس سے چاہا علم حاصل کر لیا ؛بلکہ آپ جس استاد سے علم حاصل کر رہے ہیں اس کو دیکھنا چاہئے کیا وہ معنوی اور روحی پاکیزگی رکھتے ہیں یا نہیں ؟ ہر وہ علم جو کسی بھی صورت میں پیش ہو چاہے کلا س میں ہو یا کتاب میں ، تقریر ہو یا تحریر یاکسی اور طریقہ سے اس پر بھروسہ نہ کریں ؛بلکہ دیکھیںکہ یہ علم کس طرح اور کہاں سے آرہا ہے؛ اس لئے کہ علم کا اثرروح پر،اس غذا کے اثرات سے جو کہ جسم و بدن پر ہوتا ہے کم نہیں ہے ؛جس طرح آپ اس بات کا خیال کرتے ہیں کہ آپ کی جسمانی غذا صاف اور پاک و پاکیزہ ہو؛ پھل، سبزی وغیرہ کو خود آپ دھو کر استعمال کرتے ہیں اور ان چیزوں کو اس کے بعد کھاتے ہیں ، علم بھی آپ کی روح کی غذا ہے اس سے بھی باخبر ر ہیں کہ جو علم حاصل کر رہے ہوں وہ خراب اور آلودہ تو نہیں ہے، اس مقام پر بھی جاذبہ اور دافعہ ضروری ہے۔

وہ چیزیں جو ایمان کو کمزور کرتی ہیں اور ہمارے عقیدہ ا ور یقین کو متزلزل کرتی ہیں یا ان کے خراب کرنے کا سبب ہیں ان سے ہم کو بچنا چاہئے اور ایسے علم کو حاصل کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے اور اس کو حاصل نہیں کرنا چاہئے، مگر صرف اس صورت میں کہ ہمارا علم اتنا مستحکم ہو کہ وہ غلط باتیں ہمارے اوپر اثر نہ ڈال سکیںاور ان کے اثرات سے محفوظ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔

۱۶۶

جس طرح ٹیکوں اور انجکشن کے ذریعہ ہم اپنے بدن کو بعض بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں اور انجکشن کا کام یہ ہوتا ہے کہ بیماریوں اوروبائوں کے جراثیم کو ہمارے جسم پر موثر ہونے نہیں دیتا؛ اسی طرح محکم اور متقن دلائل خاص کر اسلامی علوم کو حاصل کرکے ہم اپنی روحانی فکر کو بھی بعض غلط فکروں اور گمراہ کن شبہات سے محفوظ کر لیں تاکہ وہ غلط شبہے اور فاسد فکریں ہمارے اوپر اثر انداز نہ ہو سکیں ؛اگر کوئی شخص مصئونیت اور علمی کمال کے اس درجہ پر پہونچا ہو تو اس کے لئے غلط مطالب کا پڑھنا اور اس طرح کے شبہات کا مطالعہ کرناحرج نہیں رکھتاہے؛ لیکن جو شخص اس مرتبہ کمال پر نہیں پہونچا ہے اس کو چاہئے کہ ان مطالب سے اپنے کو دور رکھے ۔ خدا وند عالم قرآن کریم میں ارشاد فر ما رہا ہے :( اذا سمعتم آیات الله یکفر بها و یستهزابه فلا تقعدوامعهم حتیّ یخوضوا فی حدیث غیر ه انکم اذا مثلهم ) ( ۱ ) جس وقت تم دیکھو یا سنو کہ خدا کی آیتوں کا انکار کیا جا رہا ہے اوراس کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو انکے ساتھ نہ بیٹھو،یہاں تک کہ وہ لوگ اس کے علاوہ دوسری باتوں میں مصروف نہ ہو جائیں ورنہ تم بھی انھیں میں سے ہو جائوگے یہ نہ کہو کہ ہم مومن ہیں اور خدا و رسول کو

____________________

(۱) سورہ نساء : آیہ ۱۴۰۔

۱۶۷

مانتے ہیں لہذاان کافروںکی باتیں ہمارے اندر اثر نہیں کریں گی۔ جب تک تم ہر طرح سے محکم اورمحفوظ نہ ہو جائو اس وقت تک اس بات کا خوف ہے کہ اگر تم ان کے جلسوں میں جائو گے، تقریروں کو سنو گے تو یہ فکری جراثیم دھیرے دھیرے تمھارے اندر بھی سرایت کر جائیں گے اور تمھارے اعتقاد و ایمان کو خراب کر دیں گے اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:( اذا رایت الذین یخوضوا فی آیا تنا فا عرض عنهم حتیّٰ یخوضوا فی حد یث غیره ) ( ۱ ) اور جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری نشانیوں کے بارے میں بے ربط بحث کر رہے ہیں تو ان سے کنارہ کش ہو جائو یہاں تک کی وہ دوسری باتوں میں مصروف ہو جائیں ۔خدا کا دستور جو کہ ہماری اور آپ کی روح کا معالج ہے اور جو دوا تجویز کرتا ہے وہ یہ ہے کہ پہلے لازمی علم ومعرفت کے ٹیکے کے ذریعہ محفوظ ہونے سے پہلے ایسی محافل وجلسات میں کہ جہاں فکری شبہات اور باطل خیالات پیدا کئے جاتے ہیں شرکت نہ کرو، وہ اخبار، مقالہ اور ڈائجسٹ نیز ایسی کتابیں جو کہ مذہبی مقدسات کا مسخرہ کرتے ہیں اور ان کی توہین کرتے ہیں اور دین کے اصول اور احکام میں شک و شبہ کا سبب واقع ہوتے ہیں تو ان کو نہیں پڑھنا چاہئے۔ اگر ایسی جگہوں پر جائیں گے یا ایسی چیزوں کو پڑھیں گے تو کیا ہوگا ؟ قرآن میں اس کے جواب کے متعلق ارشاد ہوتا ہے:( انکم اذاًمثلهم انّ اللّه جامع الکافرین و المنافقین فی جهنم جمیعاً ) ( ۲ )

____________________

(۱) سورہ انعام : آیہ ۶۸۔

(۲)سورہ نساء :آیہ ۱۴۰۔

۱۶۸

اور اس صورت میں تم بھی انھیں کے مثل ہو جائو گے ،بیشک خدا کافروں اور منافقوں سب کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے۔'' اگر تم نے ہماری نصیحت کو قبول نہیں کیا اور اپنے کانوں سے سن کر اس پر عمل نہیں کیا اور ایسے لوگوں کے ساتھ اٹھے بیٹھے تو تم بھی دھیرے دھیرے مقدسات کی اہانت کرنے اور دینی عقائدو احکام کو کمزور کرنے والوں میں شمار کئے جائوگے اور آخر کار تم بھی جہنم میں جائوگے ۔

جس طرح کوئی پھیلنے والی بیماری میں مبتلا ہو تو آپ اس سے بچتے اور دور رہتے ہیں تا کہ اس کی بیماری کی زد میں آپ بھی نہ آجائیںاسی طرح آپ کو ان لوگوں کے جلسات اور خود ان لوگوں کے درمیان نہیں جانا چاہئے جو فکری بیماریوں کو اٹھائے پھرتے ہیں یا نقل کرتے ہیں ، لہذٰا ان سے پرہیز کرنا چاہئے مگر یہ کہ آپ محفوظ رہنے والے اسباب و وسائل سے مجہّز ہوں ،جو کہ پھیلنے والے جراثیم کو آپ کے اندر آنے سے روک سکیں، اس حالت میں صرف ان سے بچنا ہی نہیں چاہئے بلکہ ان کے علاج کی کوشش کرنی چاہئے، اور ان کو اس بیماری سے نجات دلانا چاہئے جس طرح ڈاکٹر اور نرس ،محافظ وسائل او ر سسٹموںکے ذریعہ جراثیم اور اس کے اثرات کے داخل ہونے سے ر وکتے ہیں نیز جسمانی بیماریوں سے مریضوں کا علاج کرتے ہیں ۔

اگرچہ ڈاکٹر کا فریضہ ہے کہ وہ بیمار کے قریب آئے اور اس سے ربط رکھے پھر بھی وہ یہ کام بہت احتیاط سے کرتا ہے اور تمام حفاظتی چیزوں کی رعایت کرتے ہوئے انجام دیتا ہے اور دوسرے لوگ علم و وسائل کے نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ وہ بیماری سے متعلق کچھ نہیں کر سکتے بلکہ بیمار کے قریب ہونے کی وجہ سے وہ خود بھی بیمار ہو جاتے ہیں ،انھیںکسی بھی صوورت سے ایسی حالت میں مریض سے قریب نہیں ہونا چاہئے۔ ممکن ہے کہ لوگوں کی روح اورفکر بھی پھیلنے والی خطرناک بیماریاں رکھتی ہوں اور لازمی احتیاط نہ کرنے کی وجہ سے ان کی بیماریاں ہمارے اندر سرایت کر جائیں۔

۱۶۹

روح کی بیماری اور سلامتی

روح کی مکمل سلامتی کی علامت اور نشانی یہ ہے کہ وہ خدا کو دوست رکھے، اس کے اندر خدا کی یاد، اس کے ذکر سے لذت اور خوشی کا احساس ہونیز ہر وہ چیز اور ہر وہ شخص جو اس کی سچی اطاعت اور اس کے حکم کی پیروی کرتا ہواس سے عشق اور والہانہ محبت کرتا ہو۔ روح کے بیمار ہونے کی نشانی یہ ہے کہ جب نماز ،دعااور دینی محافل و مجالس سے متعلق گفتگو ہو تو اس کے اندر کوئی جذبہ پیدا نہ ہو اور بہت ہی نا گواری اور بے توجہی کے ساتھ اس کے لئے آمادہ ہوتا ہو؛ اگر کوئی انسان کئی گھنٹوں سے کھانا نہ کھائے ہو اور اس کے بعد بھی اس کو بھوک نہ لگے اور بہترین اچھی غذا ئوںکو کھانے کے لئے تیار نہ ہو تو یہ بیماری اور مزاج کے خراب ہونے کی نشانی ہے ۔

ہم کو یہ جاننا چاہئے اور اس بات پر متوجہ ہونا چاہئے کہ دل بھی بیماریاں رکھتا ہے، خدا وند عالم فرماتا ہے :( فی قلوبهم مرض ) ( ۱ ) یعنی ان کے دلوں میں مرض ہے، اگر دل میں بیماری ہو اور اس کا علاج نہ ہو تو بیماری بڑھتی جاتی ہے ،( فزادهم الله مرضاً ) ( ۲ ) اور اللہ ان کی بیماری کو زیادہ کر دیتا ہے؛ اگرہم اس بیماری کو بڑھنے سے نہ

____________________

(۱۔۲) سورہ بقرہ :آیہ ۱۰۔

۱۷۰

روکیں اور وہ دل کے اندر جڑ پکڑ لے تو پھر کنٹرول سے باہر ہوجاتی ہے اور پھر اس کے اچھا ہونے کی امید باقی نہیں رہتی؛ اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ جیسے کوئی آدمی نہایت ڈھالو اور گہری کھائی میں جا پڑا ہو اور اپنے کو اس کی تہ تک گرنے سے نہ روک سکتا ہو۔قرآن مجیدمیں ارشاد ہوتا ہے( طبع الله علیٰ قلوبهم و سمعهم وابصارهم اولٰئک هم الغافلون ) ( ۱ ) خدا نے ان کے دلوں اور کانوں نیز ان کی آنکھوں پر مہر لگا دی ہے وہی لوگ غافل اور لا پروا ہ ہیں ۔

کبھی اس حال میں کہ ہماری بیماری کینسراور لاعلاج بیماری میں تبدیل ہو جاتی ہے، ہم اس سے غافل رہتے ہیں اورکبھی کبھی تو بہت خوش رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ دن بہ دن ترقی حاصل کر رہے ہیں اور منزل کمال سے نزدیک ہو رہے ہیں خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے :( قل هل ننبئکم بالاخسرین اعمالا الذین ضلّ سعیهم فی الحیوٰةالدّنیاوهم یحسبون انهم یحسنون صنعا ) ( ۲ ) اے پیغمبر! آپ کہ دیجئے کہ کیا ہم تم لوگوں کو ان لوگوںکے بارے میں اطلاع دیںجو اپنے اعمال میں بدترین خسارہ میں ہیں ؛یہ وہ لوگ ہیں جن کی کوشش زندگانی دنیا میں بہک گئی ہے اور یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ اچھے اعمال انجام دے رہے ہیں ۔

____________________

(۱) سورہ نحل : آیہ ۱۰۸۔

(۲) سورہ کہف : آیہ ۱۰۳ اور ۱۰۴۔

۱۷۱

ہماری روح جذب وودفع کی محتاج ہے اوراس با ت کا انتخاب کہ کون چیزدفع کریں؟ اورکون چیز جذب کریں ؟یہ ہمارے اوپر چھوڑدیا گیا ہے ۔ہمارے لئے یہ ممکن ہے کہ ہم سگریٹ نوشوں اور گانجا،بھنگاور چرس پینے والوں کے مانند دھوئیںاور زہریلی چیز کو اپنی روح میں داخل کریںاور یہ بھی ممکن ہے کھلاڑیوں ، کوہ نوردوں(پہاڑ پر سفر کرنے والوں )کی طرح پاک اور صاف وشفاف ہوا کو دل اور روح کے لئے انتخاب کریں ؛( من کان یر ید العاجلةعجّلنا له فیها ما نشاء لمن یرید ) ( ۱ ) جو شخص بھی دنیا کا طلبگار ہے ہم اسکے لئے جلد ہی جو چاہتے ہیں دیدیتے ہیں پھر اسکے بعد اسکے لئے جہنم ہے جسمیں وہ ذلت ورسوائی کے ساتھ داخل ہوگا اور جو شخص آخرت کا چاہنے والا ہے اور وہ اسکے لئے ویسی ہی کوشش بھی کرتا ہے اور صاحب ایمان بھی ہے تو اسکی سعی یقینا مقبول ہے ہم آپ کے پروردگار کی عطا وبخشش سے ان سب کی مدد کرتے ہیں اور پروردگار کی عطا کسی پر بند نہیں ہے۔ وہ لوگ جو کہ جلد ختم ہونے زندگی اوروالی لذتوں کے طلبگارہیں اور اسکے علاوہ کوئی غوروفکر نہیں کرتے اور طبعی طور سے اس تک پہنچنے کے لئے کوشش کرتے ہیں لیکن پھر بھی تمام توقعات ا و رخواہشات تک نہیں پہنچ پاتے کیونکہ انسان کی خواہشیں بے انتہاہیں جوکچھ اسکو عطا کیا جاتا ہے اسکے بعدبھی وہ اس سے زیادہ کی تلاش میں رہتا ہے، بہر حال خدا انکی اس طرح مددکرتا ہے کہ انکی بعض خواہشوں کو پورا کرتا ہے لیکن انجام اور نتیجہ میں

____________________

(۱) سورہ اسراء آیہ ۱۸ الیٰ ۲۰.

۱۷۲

انکے لئے ذلت اور عذاب جہنم ہے بعض دوسرے گروہ ہیں جو کہ آخرت کے طلبگار اور اسکی نعمتوں کی لذ ت چاہتے ہیں ؛ قرآن کی عبارت میں یہ گروہ توجہ کے لائق ہے ارشاد ہو رہا ہے :سب سے پہلے ارادالآخرة آخرت کے چاہنے والے ہیں ؛ لیکن ایسی چاہت نہیں کہ اسکو حاصل کرنے کیلئے کچھ خرچ نہیں کرتے ؛بلکہوسعیٰ لهاسعیها وہ اسکے لئے کوشش کرتے ہیں اور مناسب چیزوں کو اپنی اس خواہش پر صرف کرتے ہیں ؛ لیکن صرف اسی پر اکتفا ء نہیں کرتے بلکہ تیسری خصوصیت یہ ہے کہ و ھو مومن یعنی ایمان کے مزہ کو بھی اپنی کوشش اور عمل کے ساتھ شامل کرتے ہیں ،ایسے لوگ صرف اپنی خواہشوں کو ہی نہیں پہنچتے؛ بلکہ اسکے ساتھ ساتھ ہم (خدا) ایسے لوگوں کی محنت اور کوشش پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیںکان سیعهم مشکوراً ان کی کوششیں لائق شکرہیں البتہ خدا وند عالم کا شکر کیاہے؟ وہ خدا ہی بہتر جانتا ہے ۔

جو بات اس آیت میں اہم اور توجہ کے قابل ہے وہ یہ ہے :( کلاًنمد هٰولاء من عطا ء ربک ) ہم دونوں گروہ کو ان کی خواہشوں تک پہونچتے میں مدد کرتے ہیں اور دونوں کے لئے وسائل و اسباب کو مہےّا کرتے ہیں یعنی ان چیزوں کا انتخاب جو جذب و دفع سے متعلق ہے خود انسان کے اوپر ہے انسان کا انتخاب اچھا ہو یا برا ؛اس سے فرق نہیں پڑتا ہے ،ہماری طرف سے اس کو اپنی خواہش تک پہونچنے میں مدد ملتی ہے؛اس ضمن میں ایک دوسری الھٰی سنت بھی پائی جاتی ہے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :( من جاء با لحسنة فله عشر امثالها ومن جاء بالسّئية فلا یجزٰی الاّ مثلها ) ( ۱ ) جو کوئی اچھا کام کرتا ہے اس کو اس کا دس گنا ثواب ملتا ہے اور جو کوئی برا کام کرتا ہے اس کا بدلہ اس کو اتنا ہی ملتا ہے جوشخص غلط اور زہریلی چیزوں کا انتخاب کرتا ہے تو جتنی وہ چیز اور مادہ خراب کرنے کی قوت اورطاقت رکھتا ہے اتنا ہی ہم اس کو موثر بناتے ہیں ؛لیکن جب وہ اچھی چیز اور اچھے مادہ کا انتخاب کرتا ہے تو ہم اس کی تاثیر کو دس گنا بڑھا دیتے ہیں ۔

____________________

(۱)سورہ انعام آیہ ۱۶۰.

۱۷۳

بحث کا خلاصہ

اس جلسہ میں ہماری بحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ انسان جسمانی زندگی میں جس طرح جاذبہ اور دافعہ کی ضروت رکھتا ہے اسی طرح روحانی اور معنوی زندگی میں بھی جاذبہ اور دافعہ کی ضرورت رکھتا ہے یعنی اس کو ضرورت ایسی قوت و طاقت کی ہے جو اس کے ایمان ، خدا کی محبت اور مفید علم کی راہ میں اس کی مدد کرسکے جو کہ اس کے دل اور قلب کے لئے فائدہ مند ہو، اس کی انسایت کو بڑھائے اور اس کو مضبوط کرے اور اس کو ایسی قوت و طاقت کی بھی ضرورت ہے جس کے ذریعہ وہ شیطان ،گناہ اور دشمنان خدا کی محبت 'جو اس کے دین اور معنوی زندگی کے لئے نقصان دہ ہے 'کو اپنی روح سے دور کردے ۔

البتہ یہ بات فراموش نہیں ہونی چاہئے کہ ہماری اصل بحث جیسا کہ میں نے اس کو شروع میں بھی عرض کیا اسلام میں جاذبہ اور دافعہ سے متعلق تھی اور میں نے عرض بھی کیا کہ اس کو تین طرح سے پیش کیا جا سکتا ہے :

(۱) یہ کہ اسلام کے مجموعی عقائد واخلاق، احکام ا ور دستورات ایسے ہیں کہ انسان کو صرف کچھ چیزوں کے جذب کرنے پر مجبور کرتے ہیں یا فقط دفع کرنے پریا یہ دونوں قسمیں پائی جاتی ہیں ۔

(۲) اسلام کے احکام اور دستورات ایسے ہیں کہ انسان کے لئے صرف جاذبہ رکھتے ہیں یا صرف دافعہ یاپھر جاذبہ اور دافعہ دونوں رکھتے ہیں ۔

(۳) اسلام لوگوں کوجب اپنی طرف اور ان کی تربیت کی دعوت دیتا ہے تو صرف جذبی راستوں کا انتخاب کرتا ہے یا فقط دفعی راستوں اور طریقوں کو، یا دونوں راستوں کو اختیار کرتا ہے۔ ہم نے اس جلسے میں جو کچھ کہا اصل میں وہ اس بحث کا مقدمہ تھا اور تینوں سوالات ابھی بھی باقی ہیں جن کے بارے میں آئندہ جلسوں میں بحث اور گفتگو ہو گی۔

۱۷۴

سوال اور جواب

سوال :

جسم کے بارے میں یہ مسئلہ ہے کہ اس کے اندر معین مقدار میں غذا کو جذب کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے اگر اس سے زیادہ وہ کھانا کھائے گا تو اس کے لئے نقصان کا سبب بنے گا اور وہ دافعہ کی حالت کوپیدا کرے گا۔ کیا روح اور اس کی غذا کے بارے میں بھی یہی محدودیت اور حد بندی ہے ؟

جواب :

سوال بہت اہم ہے اور یہ سوال فلسفہ اخلاق کے مشہورمکتب فکرسے جس کا نام'' مکتب اعتدالہے تعلق رکھتا ہے اس مکتب فکر کے طرف دار لوگ اس بات کے معتقد ہیں کہ اخلاقی فضائل کے باب میں فضیلت کا معیار اعتدال ہے؛ زیادہ بڑھ جانا یا کم ہونا نقصان دہ ہے۔ فطری اور طبعی طور سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بعض چیزیں کوئی خاص حد نہیں رکھتی ہیں ؛ جتنی زیادہ ہو ںبہترہے جیسے خدا کی محبت ،عبادت ،علم اور بہت سی ایسی چیزیںہیں ان جیسی چیزوں میں اعتدال کے کیا معنی ہیں ؟؛جو سوال یہاں پر پیش ہوا ہے وہ بھی اسی جیسا ہے جس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات صحیح ہے کہ فضائل کا حاصل کرنا کوئی حد اور انتہا نہیں رکھتا لیکن مسئلہ یہاں پر یہ ہے کہ انسان دنیا میں محدود طاقت کا مالک ہے ۔اگر وہ صرف کسی ایک چیز کے لئے اپنی پوری طاقت کو صرف کر دے گا تو دوسری چیزوں سے محروم ہو جائے گا ؛اگر ہم صرف عبادت کرنے لگیں اور کھانے ، آرام اور اپنے بدن کی سلامتی کی فکرنہ کریں تو ہمارا جسم بیکار ہو جائے گا اور عبادت کی طاقت و ہمت بھی ہم سے چھن جائے گی ؛یعنی ہماری عبادت میں بھی خلل پڑے گا اور ہمارا جسم بھی بیمار پڑ جائے گا ۔

۱۷۵

یا یہ کہ خدا کا ارادہ انسان کی نسل کو باقی رکھناہے اور یہ مسئلہ بھی اس بات پر منحصر اورمتوقف ہے کہ ہم شادی بیاہ کریں ،ازدواجی رابطہ کو برقرار رکھیں ؛بچوں کی تربییت کریں خلاصہ یہ کہ ایک خاندان کو چلانے اور اس کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے یقینی طور پر بہت سی قوتوں اور اپنے وقت کو خرچ کرنا پڑے گا؛ اگر انسان صرف معنوی اور اخلاقی مرتبے کی بلندی کی فکر میں رہے گا اور کوئی بھی اہتمام خاندان اور بیوی بچے سے متعلق نہ کرے تو انسانی نسل ختم ہو جائے گی یا برباد ہو جائے گی ۔یا مثلاً اگر کوئی یہ چاہتا ہے کہ میدان جنگ میں حاضر رہے تو وہ زیادہ عبادات اور مستحبات کو انجام نہیں دے سکتا ۔لہذٰاچونکہ انسان دنیا میں کئی قسم کے وظائف اور ذمہ دااریوں کو رکھتا ہے اس کی قوت و طاقت بھی محدود ہے ؛لہذٰا اپنی طاقت و قوت کو ان کے درمیان تقسیم کرے اور ہر حصّہ میں ضرورت بھراس طرح صرف کرے کہ بعض دوسری چیزوں سے مزاحمت کا سبب نہ بنیں ان کے لئے خرچ کرے؛ البتہ یہ انسان کے لئے ممکن ہے کہ وہ ایسا کام کرے کہ اس کی پوری زندگی نماز و قرآن سے لیکر کھانے پینے اور روز انہ کے معمولی کاموںتک بھی لمحہ بہ لمحہ خدا وند عالم سے قریب ہونے کا باعث بنے اور وہ بلندی کے درجات کو حاصل کرتا جائے ۔

۱۷۶

اسلام میں جاذبہ اور دافعہ کے حدود-۳

پچھلی بحثوں پر سرسری نظر

پچھلے دو جلسوں میں اسلام میں جاذبہ اور دافعہ سے متعلق اور اس کے حدود کے بارے میں مطالب کو پیش کیا گیا اگر چہ وہ مطالب اصل بحث کے لئے مقدمہ کا جنبہ رکھتے تھے وہ اہم نکتہ جس کے متعلق پچھلے جلسے میں خاص تاکید ہوئی وہ یہ تھی کہ انسان تکامل حاصل کرنے والی ایک مخلوق کے عنوان سے تکامل کے راستے کی تکمیل میں دو طرح کے عوامل کا سامنا کرتا ہے:

(۱) ایک وہ عوامل و اسباب جو کہ فائدہ مند ہیں

(۲) دوسرے وہ عوامل جو کہ نقصان دہ ہیں ؛ انسان کو چاہئے کہ دوسرے زندہ موجودات کی طرح مفید عوامل کو جذب کرے اور مضر عوامل کو دفع کرے ؛اس کام کے لئے سب سے پہلا قدم اور مرحلہ یہ ہے کہ انسان ان دونوں طرح کے عوامل کو پہچانے اور ایک دوسرے کو علیحدہ اور جداکرے؛ لہذٰا پہلا قدم ان عوامل کی پہچان ہے چونکہ یہ جذب و دفع جبری اوور زبر دستی نہیں ہے بلکہ خود انسان کے ارادہ و اختیار سے متعلق ہے اور جس کو وہ انتخاب کرتا ہے وہی انجام پاتا ہے لہذادوسری منزل یہ ہے کہ انسان اپنے ارادہ کومضبوط کرے تاکہ اچھے کاموں کو انجام دے سکے اور برے کاموں کو ترک کر سکے کیونکہ ایسا نہیں ہے کہ ہر وہ چیز جو اچھی اور مفید ہے انسان اس سے لگائو رکھتا ہو اور اس سے لذت حاصل کرتا ہو یا ہر وہ چیز جو کہ اس کے لئے بری اور نقصان دہ ہے اسے نا پسندکرتا ہو اور اس میں رغبت نہ رکھتا ہو؛ بلکہ بہت سی جگہوں میں مسئلہ اس کے بر خلاف ہے مثلاً وہ سبب جو کہ بہت نقصان دہ ہے اسی چیز کو انسان خاص طور سے بہت ہی لگائو کے ساتھ اختیار کرتا ہے مثلاً بعض لوگ سگر یٹ اور شراب وغیرہ کو بہت دوست رکھتے ہیں ،پیش کی جا سکتی ہے لہذا جذب و دفع کے مسئلہ میں شناخت اور پہچان کے علاوہ انسان کے ارادہ کی طاقت بھی بنیادی کردارادا کرتی ہے ۔

۱۷۷

انسان کی روح کے کمال کے لئے مفید اور مضر ا سباب کی تشخیص کا مرجع

لیکن مفید اور مضر اسباب کے پہچاننے کے متعلق سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون سا مرجع اس بات کومشخص ومعےّن کرے اور کہے کہ فلاں سبب ہمارے معنوی کمال اور روح کے لئے فائدہ مند ہے اور اس کو جذب کرنا چاہئے اور کون سا عامل نقصان دہ ہے کہ اس کو دفع کرنا چاہئے ؟ اسی طرح ارادہ کی تقویت کے متعلق، کون سے عوامل ہیں جو اس ارادہ کو قوی بناتے ہیں ؟

ہم مسلمان اور دیندار لوگ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ مرجع خدا ہے اور اسی کو اس مشکل کو حل کرنا چاہئے کیوںکہ اسی نے انسان کو پیدا کیا اور وہی مکمل طور سے انسان کی روح وجسم کے خواص وقوانین نیز ان کے ایک دوسرے پر اثرات سے واقف ہے' اور وہی خدا یہ جانتا ہے کہ کون سی چیز انسان کے لئے مفید ہے اور کون سی چیز مضر ہے اور کون سے کام روحی و معنوی جذب اور دفع کا باعث ہے ؛خدا وند عالم نے اس کام کو پیغمبروں کے ذریعہ سے انجام دیا ہے انبیاء کے بھیجنے کا بنیادی فلسفہ یہی تھادین اور اس کے تمام دستورات اس کے علاوہ اورکچھ نہیں ہیں یعنی اگر انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ روحی و معنوی کمال اوربلندی پر پہونچے اور مفید و مضر اسباب جو کہ اس راستے میں ہیں ، ان کو پہچانے تو اس کودین و انبیاء کو تلاش کرنا چاہئے یعنی انبیاء اور دین سے متمسک ہونا چاہئے ۔

۱۷۸

دین کی تبلیغ کے سلسلہ میں اسلام کی کلی سیاست

اب یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ ہم کو کیا کرنا چاہئے تا کہ لوگ دین کی طرف متوجہ ہوں ؟صرف یہ کہ انبیاء نے روحی اور معنوی تکامل کا نسخہ انسان کے ہاتھوں میں تھما دیا ہے اور ان لوگوں کو صحیح راستے کی نشان دہی کر دی ہے ،یہی کافی ہے؟ بلکہ اس کے علاوہ ایسی تدبیر کرنی ہوگی کہ لوگ اس نسخہ کو قبول کرلیں اور اس پر عمل کریں ؛اب اس جگہ پر پھر جاذبہ اور دافعہ کی بحث آتی ہے ؛لیکن جاذبہ اور دافعہ اس معنی میں کہ انبیاء نے لوگوں کو دین کی طرف بلانے اور ان لوگوں کو اس کے قبول کرنے اور اس پر مطمئن کرنے کے لئے کس راستے اور طریقے کو اختیار کیا ہے؟یعنی اس کے لئے آیاقوت جاذبہ کے طریقے کو اپنایا اور نرمی و مہربانی کے ساتھ اس بات کی کوشش کی کہ لوگ دین کی طرف جذب ہو ں یا یہ کہ ان حضرات نے سختی اور جبری طور سے لوگوں سے چاہا کہ لوگ اس نسخہ پر عمل کریں ؟یا یہ کہ ان دونوں طریقوں کو استعمال کیا؟ خلاصہ یہ کہ کوئی خاص قانون او رقاعدہ اس کے متعلق پایا جاتا ہے یا نہیں ؟ ان تین سوالوں میں ایک سوال ہے جس کے لئے ہم نے پچھلے جلسے میں وعدہ کیا تھا کہ اس کے بارے میں بحث کریں گے البتہ اگر اس مسئلہ میں تفصیل اور جامع و مکمل طریقے سے بحث کی جائے تو کئی جلسوں کی ضرورت ہو گی جس کی گنجائش فی الحال ہمارے جلسے اور پروگرام میں نہیں ہے ، لہذٰا کوشش اس بات کی ہوگی کہ جو کچھ اس سے مربوط ہے اس کو مختصر طور سے یہاں بیان کردیا جائے۔

۱۷۹

(الف )موعظہ اور دلیل سے استفادہ

انبیاء کا سب سے پہلا کام لوگوں کو حق کی طرف دعوت دینا ہے؛ ان کو سب پہلا کام یہ کرنا تھا کہ لوگ ان کی باتوں کو سنیں اور اس بات کو محسوس کریں کہ انبیاء کیا کہتے ہیں اس کے بعد کا مرحلہ یہ تھا کہ لوگ اس پر عمل کرتے ہیں یا نہیں ؟

اس پہلے مرحلے یعنی دعوت تبلیغ اور پیغام پہونچانے میں کچھ بھی شک و شبہ نہیں ہے کیونکہ انبیاء لوگوں کے لئے منطق اور برہان و استدلال لیکر آئے تھے اور قرآن مجید کی آیہ اس پر دلالت کرتی ہے( ادع الیٰ سبیل ربّک با لحکمة والموعظة الحسنة ) ( ۱ ) یعنی لوگوں کو پرور دگار کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دو ؛دعوت تبلیغ ، حکمت اور منطق و دلیل کے ساتھ ہونی چاہئے تاکہ اس میں جاذبہ پیدا ہو؛ اس مرحلہ میں دافعہ کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے ۔

لیکن واقعیت اور حقیقت یہ ہے کہ تمام انسان ایک جیسے نہیں ہیں کہ حکمت ودلیل اچھی طرح سمجھ لیں؛ اگر ہم خود اپنے کو دیکھیں جس دن سے ہم نے اپنے کو پہچانا

____________________

(۱) سورہ نحل :آیہ۱۲۵۔

۱۸۰

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279