پھر میں ہدایت پاگیا

پھر میں ہدایت پاگیا 15%

پھر میں ہدایت پاگیا مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 253

پھر میں ہدایت پاگیا
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 253 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 77955 / ڈاؤنلوڈ: 7483
سائز سائز سائز
پھر میں ہدایت پاگیا

پھر میں ہدایت پاگیا

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

پھر میں ہدایت پاگیا

مصنف

ڈاکٹر سید محمد تیجانی سماوی

مترجم

حجۃ الاسلام مولانا روشن  علی صاحب نجفی

۱

مقدمہ

بسم الله الرحمن الرحیم

الحمدالله الذی هدانا الی سوآء الطریق والصلواة والسلام علی محمد وآله الذین المبشرین للجنّة والمنذرین من النّار الحریق واللعن الدائم علی اعدائهم الذین للجحیم حقیق امابعد

رحمت حق بہانہ می جوید کے بمصداق توفیق  الہی کسی کے باپ کی میراث نہیں ہے خدا کس پر اور کب اپنی توفیق  شامل کردے کچھ کہا نہیں جاسکتا اور یہ بالکل صحیح ہے کہ" الذین جاهدوا فینا لنهدینهم سبلنا " خلوص وتحقیق کی شرط ہونے کے ساتھ غیر متعصب ہونا بھی ضروری ہے ورنہ آدمی منزل مقصود تک نہیں پہونچ سکتا ۔

بہت پرانی بات نہیں ہے ۔ اللہ کی دنیا میں ہر جگہ کچھ نہ کچھ حق پسند ہوتے ہیں آپ نے سنا ہوگا کچھ مدت پہلے علامہ شیخ محمد مرعی الحلبی شیعہ ہوچکے تھے  ار پھر انھوں نے اپنے بھائی شیخ احمد اطاکی کو بھی شیعہ  کیا وادی کشمیر میں جناب مولانا خادم حسین صاحب نے تشیع اختیار کیا اور بڑی لگن سے خدمت کی اور کررہے ہیں ۔ ماضی قریب میں جناب سعید الرحمان صاحب مستبصر ہو کراسی راہ میں شہید ہوچکے ہیں اسی طرح برصغیر ہند وپاک کے مشہور عالم

۲

جناب سید شاہد زعیم فاطمی طاب ثراہ تھے اور ان کے علاوہ دیگر بہت سے افراد ہیں جنکا تذکرہ باعث طول ہوگا ۔

علامہ سید احمد التیجانی بھی انھیں خوش قسمت لوگوں میں ہیں جنھوں نے ذاتی تحقیق سے مذہب حق اختیار کیا ہے ، یوں تو مستبصر ہونے کے بعد سبھوں نے کتابیں لکھی ہیں اور ان کا اردو میں ترجمہ بھی ہوچکا ہے ۔مثلا "میں کیوں شیعہ ہوا ؟" تلاش منزل ""تذکره اهلبیت " وغیرہ مگر علامہ تیجانی کی کتاب حسن بیان ،لطافت استدلال عم تعصب ،تحقیق وتفتیش کا بہترین  مجموعہ ہے اس کا فارسی میں " آنگاہ کہ ہدایت شدم" کے نام سے ترجمہ ہوچکا ہے ۔

محترم جناب انصاریان صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ"ثم اهتدیت " کا اردو ترجمہ ہوجاتا تو بہتر تھا ۔میرے مشاغل اجازت تو نہیں دیے رہے تھے ۔لیکن اپنی بخشش کا ذریعہ سمجھ کر نہ جانے کس طرح میں نے وقت نکال کر اس کو مکمل کیا ۔

آپ کتاب پڑھیں گے تو میری بات کی صداقت کا احساس کریں گے ۔آخر میں اپنے محترم قارئین  سے خواہش ہے کہ غلطیوں کی نشاندھی ضرور کردیں تاکہ دوسرے ایڈیشن کو اس سے بہتر طریقہ سے پیش کیاجاسکے ۔

روشن علی ۔ قم المقدسہ

۳

انتساب

اس ناچیز خدمت کو

ثامن الائمہ حضرت امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام

کے

نام معنون کرتا ہوں

مترجم

۴

میری زندگی کے مختصر لمحات

میری یادوں کی کڑیوں میں یہ بات ابھی تک بہت اچھی طرح سے محفوظ ہے کہ میری عمر یہی کوئی دس ۱۰ سال کی رہی ہوگی ۔جب ماہ مبارک رمضان میں میرے والد ماجد مجھے نماز تراویح کے لئے محلہ کی مسجد میں اپنے ساتھ لے گئے اور مجھے نمازیوں کی صف میں کھڑا کردیا فطری بات ہے لوگوں کو یہ دیکھ کربہت تعجب ہو ۔ چند دنوں سے یہ بات بھی سمجھ گیا تھا کہ میرے معلم نے کچھ اس طرح کے انتظامات کررکھے ہیں جس سے دو یا تین راتیں جماعت کے ساتھ نماز تراویح بھی پڑھ لوں ۔ویسے میری عادت یہ بن گئی تھی کہ محلہ کے ہم سن بچوں کو نماز جماعت پڑھا تا تھا ۔ اور اس انتظار میں رہا کرتا تھا کہ امام جماعت قرآن کے نصف آخر (یعنی سورہ مریم )تک پہونچے ۔

چونکہ میرے اباجا نی جنت مکانی کی دلی آرزو تھی کہ مدرسہ کے علاوہ گھر میں بھی راتوں کو بعض اوقات میں قرآن کی تعلیم حاصل کیا کروں جن میں مسجد جامع کے امام اقامت پذیر ہوئے تھے ۔ یہ امام جماعت نابینا تھے اور میرے رشتہ دار بھی تھے ۔ اور حافظ قرآن  تھے ۔ اور میں نے اس سن وسال میں نصف قرآن حفظ کرلیا تھا جب عموما بچے غم دوراں اور غم جاناں سے بے فکر ہو کر زندگی کا سرمایہ کھیل کود کو سمجھتے ہیں ۔اس لئے میرے معلم نے اپنے فضل واجتہاد کا سکہ بٹھانے کیلئے مجھے منتخب کیا اور مجھے تلاوت کے رکوع وغیرہ نہ صرف بتائے بلکہ باربار پوچھ کر ذہن نشین بھی کرادیئے ۔۔۔۔۔اور پھر جب میں نماز جماعت وتلاوت کے امتحان میں اپنے والد ومعلم کی توقع سے کہیں زیادہ ممتاز نمبروں سے کامیاب ہوگیا تو لوگ مجھے پیار کرنے کے لئے ٹوٹ پڑے اور میری تعریف کے ساتھ معلم کو شکریہ اور ابا جانی  کوتبریک وتہنیت پیش کرنے لگے ۔اور سب یک زبان ہو کر کہہ رہے تھے ۔ یہ سب (شیخ صاحب کی برکتیں ہیں )

پھر کچھ دنوں میں میں نے بڑی ہنسی خوشی کے دن گزارے اور وہ مسرت آفریں لمحات میرے ذہن پر چھائے رہے ۔ کیونکہ میری زندگی کا یہ ایسا مسرت آگیں زمانہ تھا جس سے میں دوچار ہوا تھا جس کو بھلانے پر میں قادر نہیں تھا ۔

۵

میری شہرت وکامیابی کا ڈنکا  میرے محلہ سے نکل کر پورے شہر میں بج رہا تھا ۔ اور رمضان المبارک کی ان متبرک راتوں نے میری زندگی پر ایسا مذہبی چھاپ لگایا جس کے نشانات آج تک باقی ہیں کیونکہ جب بھی شاہراہ سے کوچے گلیاں سڑکیں نکل کر مجھے راستوں کے چکر میں الجھانا چاہتی ہیں ایک غیر مرئی طاقت مجھے کھینچ کر پھر شاہراہ پر پہونچا دیتی ہے اور جب کبھی مجھے اپنی شخصیت کے ضعف وناتوانی اور زندگی  کے بے مائیگی کا احساس ہونے لگتاہے ۔میری یہی ((ماضی کی یادیں )) اعلی روحانی درجات تک مجھے بلند کردیتی ہیں اور میرے ضمیر میں ایسا شعلہ ایمان روشن کردیتی ہیں جس سے زندگی کی ذمہ داریوں کے سنبھالنے کا جذبہ پھر ابھرآتا ہے ۔

یہ وہی مسئولیت وذمہ داری کا بوجھ ہے جس کو میرے والد نے میرے کاندھے پر ڈالا تھا یا یوں کہوں کہ اس کھلنڈرے پن کے زمانہ میں امام جماعت کابار جو میرے معلم نے میرے اوپر ڈالا تھا مجھے برابر ان کا احساس رہتا ہے ۔کہ جس مقام تک میں پہونچنا چاہتا تھا وہاں تک نہ پہونچنے میں میری کمی ہے ۔یا کم از کم جس منزل کا خواب ان بزرگوں نے دیکھا تھا اس تک نہ پہونچے میں میری انپی کوتاہی ہے ۔

اور یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنا بچپنا اور جوانی نسبتا بہت اچھی گزاری  اس میں لہو اور عبث کا عنصر بھی تھا لیکن زیادہ تر تقلید  اور اطلاع کا جذبہ غالب تھا ۔پرور دگار کی عنایت مجھے اپنے حفظ وامان میں لئے ہوئے تھی ۔ اپنے بھائیوں میں سب سے زیادہ متین اور خاموش گناہوں میں نہ ڈوبنے والا تھا ۔

یہ بھی ذکر تا چلوں  کہ میری زندگی  بنانے میں میری والدہ مرحومہ کا بہت بڑا ہاتھ ہے ۔آنکھ کھولتے ہی نماز وطہارت کی طرح مجھے قرآن کریم کے چھوٹے چھوٹے سورے یاد کرائے ۔ بڑا بیٹا ہونے کے ناطے  ضرورت سے زیادہ میرا خیال رکھتی تھیں حالانکہ اسی گھر میں ان کی ایک سوٹ مدتوں پہلے سےرہتی تھیں ان کی اولادیں میری والدہ مرحومہ کے ہم سن تھیں لیکن مرحومہ میری تعلیم وتربیت کرکے خود تسلی دے لیتی تھیں گویا کہ اپنی سوت اور شوہر کے لڑکوں سے مقابلہ کررہی ہوں ۔

۶

کچھ اپنے نام کے بارے میں

میرا نام تیجانی رکھنے کی علت یہ ہوئی کہ سماوی خاندان میں اس لفظ کی بڑی اہمیت تھی ۔ قصہ دراصل یہ ہے کہ جب الجزائر کی واپسی میں الشیخ سید احمد التیجانی کے لڑکے شہر قفصہ میں "دار السماوی " کے مہمان ہوئے اسی وقت سے شہر کی اکثریت نے اس طریقہ کو قبول کرلیا خصوصا علمی اور مالدار گھرانوں کے تمام افراد اسی طریقہ تیجانیہ کے حلقہ بگوش ہوگئے ۔ اور سماوی فیملی تو پوری کی پوری اسی طریقہ تیجانیہ پر کاربند ہوگئی اسی لئے میری والدہ مرحومہ نے میرانام تیجانی رکھ دیا ۔ اور اپنے اسی نام کی وجہ سے میں "دارالسماوی " میں محبوب ہوگیا ۔ جس میں بیس ۲۰ سے زیادہ خاندان آباد تھے اور یہاں سے باہر بھی میری شہرت ان تمام لوگوں میں ہوگئی ۔جنکو طریقہ تیجانیہ سے محبت وعقیدت تھی اور یہی وجہ ہے کہ جس ماہ مبارک کی راتوں کامیں نے تذکرہ کیا ہے تمام نمازی میرے سرکابوسہ لیتے تھے ۔ اور تاتھوں کو چومتے ہوئے کہتے جاتے تھے ۔"یہ سب الشیخ احمد التیجانی " کی برکتوں کا فیض ہے " اورسب لوگ میرے والد ماجد کو مبارک باد بھی پیش کررہے تھے ۔

ایک بات کا یہاں ذکر کرنا ضروری ہے کہ" طریقہ تیجانیہ " مغرب الجزائر ٹیونس ،لیبیا ،سوڈان ،مصر میں بہت ہی مشہور ہے اور اس کے ماننے والے ایک حد تک متعصب بھی ہیں ۔ یہ لوگ دوسرے اولیائے کرام کی زیارت نہیں کرتے ۔اور ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ جتنے بھی اولیاء اللہ ہیں سب نے ایک دوسرے سے سلسلہ وار اخذ علوم ہے صرف الشیخ احمد التیجانی ایسے ولی ہیں جنھوں نے براہ راست رسول خدا سے اخذ کیا ہے ۔

حالانکہ شیخ کا زمانہ نبوت سے تیرہ سو ۱۳۰۰ سال کے بعد کا ہے  ۔نیز یہ لوگ روایت کرتے ہیں کہ الشیخ احمد التیجانی بیان کرتے تھے کہ رسول خدا عالم بیداری میں میرے پاس تشریف لائے تھے نہ کہ عالم خواب میں یہ اوریہ بھی کہتے ہیں وہ مکمل نماز جس کو ان کے شیخ نے تالیف کیا ہے وہ چالیس۴۰

۷

ختم قرآن سے افضل ہے ۔

ہم دائرہ اختصار سے خارج نہ ہوجائیں اس لئے تیجانیہ طریقہ ےک ذکر کو یہیں پرختم کرتے ہیں ۔ اور انشااللہ اسی کتاب میں کسی دوسری جگہ اس کا پھر ذکر کروں گا ۔

میں بھی دوسرے جوانوں کی طرح انھیں عقائد کو سینہ سےلگائے بچپنے کی دہلیز سے نکل کر جوانی کی منزل میں داخل ہوا ۔اورالحمداللہ ہم سب مسلمان ہیں اور اہلسنت  والجماعت سے تعلق رکھتے ہیں ۔

 اور مدینہ منورہ ےک امام حضرت مالک بن انس کے مذہب کی پیروی کرتے ہیں البتہ اس میں التیجانیہ ،القادریہ ،الرحمانیہ ، السلامیہ، العیاویہ ، سلسلے موجود ہیں اور ہر ایک کے ماننے والے بھی ہیں اور ختم قرآن رسم ختنہ ،کا میابی ایفائے نذر وغیرہ کے سلسلے میں جو محفلیں یارت جگے ہوتے ہوتے ہیں ان میں ہر سلسلے کے قصائد ،اذکار ،اوراد پڑھے جاتے ہیں ان صوفی سلسلوں نے دینی شعائر اور اولیائے کرام وصالحین کے احترام کی بقاء میں بہت ہی اہم رول ادا کئے ہیں ۔

۸

حج بیت اللہ

مکہ مکرّمہ میں" عربک اینڈ اسلامک تحقیقاتی کمیٹی " کی پہلی منعقد ہونے والی کانفرس می بطور مندوب شرکت کرنے کے لئے تیونس کی قومی تحقیقاتی کمیٹی " نے جمہوریہ تیونس " کے ان چھ شخصوں کے ساتھ میرے نام کی بھی منظوری دے دی جو مکہ کانفرس میں بحیث نمائندہ شرکت کے لئے جارہے تھے ۔ اس وقت میری عمر صرف سولہ ۱۶ سال کی تھی اس لئے میں پورے وفد میں اپنے کو سب سے چھوٹا اور معمولی ثقافت والا سمجھ رہا تھا ۔ کیونکہ اس وفد کے ممبروں میں دو تومدارس کے مدیر تھے تیسرا دارالسلطنت میں استاد تھا ۔چوتھا صحافی تھا البتہ پانچویں کا نام تو میں نہیں جانتا ۔لیکن اتنا جانتا ہوں کہ اس وقت کے وزیر تربیت کا کوئی قریبی رشتہ دارتھا ۔

ہمارا سفر غیر مستقیم تھا ۔قفصہ سے روانہ ہوکر پہلے تو ہم یونان کے دار السلطنت (اثینا)(۱) پہونچے تین دن تک ہمارا وہاں قیام رہا وہاں سے عمان (حکومت اردن کا دار السلطنت )پہونچے یہاں ہم نے چاردن تک قیام کیا ۔وہاں سے ہم سعودیہ پہونچے جہاں ہم کانفرس میں شرکت کے ساتھ مناسک حج وعمرہ بھی بجا لائے گویا ہم خرما ہم ثواب ہوئے ۔

بیت اللہ الحرام میں پہلی مرتبہ داخل ہوتے ہوئے میرا شعور ناقابل تصور تھا دل کی دھڑکنوں کا عالم یہ تھا کہ جیسے ہڈیوں کو توڑ کر دل اس " بیت عتیق" کو اپنے آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہے جس کا مدتوں سے خواب دیکھتا رہا تھا۔ آنسوؤں کا وہ سیلاب امڈ ا تھا جس کے رکنے کا تو سوال ہی نہیں ،میں اپنے وجود کو اس میں ڈوبتا ہوا محسوس کررہا تھا ۔ اپنی قوت متخیلہ کا اسیر تھا اور یہ سوچ رہا تھا کہ جیسے ملائکہ مجھے اٹھا ئے حاجیوں کے اوپر سے کعبہ کی چھت پر لےگئے اور وہاں پہونچ کر میں تلبیہ پڑھ رہاں ہوں ۔

"لبیک اللّهم لبیک " یہ تیرا بندہ تیری بارگاہ میں آیا ہے ۔

--------------

(۱)اینتھیس (ATHENS)

۹

حجاج کرام کا تلبیہ سن کرمیں اس نتیجے پر پہونچا کہ ان بیچاروں نے اپنی عمریں گزاردیں ۔ حج کی تیاری کرتے رہے ۔اسباب اکٹھا کرتےرہے مال جمع کرتے رہے ۔تب کہیں یہاں پہونچے لیکن میں تو بغیر کسی تیاری کے دفعتا یہاں آگیا مجھے اپنے باپ  یاد آرہے تھے اور کہتے جاتے تھے ۔" اے بیٹا تم کو مبارک ہو مشیت الہی یہی تھی کہ تم اس کمسنی میں حج سے شرفیاب ہو ۔ تم سیدی احمد التیجانی کے بیٹے ہو بیت اللہ میرے لئے دعا کرنا کہ خدا میری توبہ قبول کرلے اورمجھے (بھی حج کی تو فیق دے ۔

اسی لئے مجھے یہ گمان ہوا کہ رب کعبہ نے مجھے آوازدی ہے اس کی مخصوص عنایت نے مجھے اپنے دامن میں پناہدی ہے اور اس مقام تک مجھے پہونچا دیا جہاں تک پہونچا دیا جہاں تک پہونچنے کی حسرت وتمنا میں ان گنت لوگ موت کی آغوش میں سر رکھ کرابدی نیند سوگئے ہیں ۔لہذا بھلا مجھ سے زیادہ تلبیہ کہنے کا حق کس کو ہے ؟ میری شیفتگی اور والہانہ پن کا عالم یہ تھا کہ نمازوطواف وسعی میں دل وجان سے مشغول ہونے کے ساتھ بے تحاشا آب زمزم بھی پی رہا تھا جبل نور جبل رحمت کی طرف پہونچنے میں لوگ ایک دوسرے پرسبقت لے جانے کی کوشش کررہے تھے اسی طرح جبل نور پر جو غار حرا ہے اس کے لئے بھی یہی کوشش تھی ۔چنانچہ عشق الہی میں سرشار میں بھی پہونچا اور صرف ایک سو ڈانی جوان کے علاوہ مجھ سے پہلے کوئی نہیں پہونچ سکا ۔پہونچتے ہی میں لوٹنے لگا اور اس طرح جیسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں لوٹ رہا ہوں اور ان کے انفاس قدسیہ کا استشمام کررہا ہوں ۔ہائے وہ تصورات اور وہ یادیں جنھوں نے میرے دل ودماغ پر اتنا گہرا اثر چھوڑا ہے جس کا محو ہونا نقوش حجری کے مٹ جانے سے زیادہ مشکل ہے ۔

خدا کا ایک خاص کرم یہ بھی تھا کہ وفود کے تمام لوگ جو مجھ سے ملتے تھے محبت کرنے لگتے تھے اور خط وکتابت کے لئے میرا پتہ مجھ سے لکھ لیتے تھے ۔ بلکہ خود میرے بعثہ(۱) کے لوگ جب ترتیب سفر کے لئے تیونس کے دارالسلطنت میں پہلی مرتبہ ملے تھے تو مجھے ذلیل نظروں سے دیکھ رہے تھے اور میں نے اس بات کو تاڑ

--------------

(۱):- بعثہ عربی میں اس کو کہتے ہیں جو لوگ حکومت کی طرف سے وفد کی شکل میں کہیں بھیجے جائیں ۔

۱۰

لیا تھا ۔لیکن جب سادھ لی تھی کیونکہ مجھے پہلے ہی سے معلوم تھا کہ شمال والے جنوب والوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔اور ان کو پسماندہ خیال کرتے ہیں ۔ مگر اثنائے سفر کا نفرنس ،اور حج میں ان کے نظریات کافی بدل گئے تھے اور اب وہ لوگ بھی مجھ سے محبت کرنے لگے تھے کیونکہ اسلامی دنیائے سے آئے ہوئے مختلف وفود کے سامنے میں نے ان کے چہرے روشن کردیئے تھے ۔ اپنے حافظہ کے بھروسے پر یاد کئے اشعار قصائد اور مختلف مقابلوں میں جیتے ہوئے میرے انعامات نے ٹیونسی وفد کی عزت بچالی تھی ۔

سعودیہ میں ہمارے قیام کی مدت ۲۵دن تھی ان دنوں میں ہم علماء سے ملتے رہے ان کی تقریریں سنتے رہے اور میں بذات خود بعض وہابی عقیدوں سے بہت زیادہ متاثر ہو چکا تھا ۔ اور یہ میری دلی آرزو ھتی کہ کاش سارے مسلمان وہابی ہوتے اس مختصر سی مدت میں میں نے یہ باور کرلیا تھا کہ خداوند عالم نے "بیت الحرام " کی حفاظت کے لئے اس فرقہ کو منتخب کیا ہے اس لئے یہ لوگ سب سے زیادہ اعلم سب سے زیادہ پاک وپاکیزہ ہیں روئے ارض پر ان کا کوئی مثیل ونظیر نہیں ہے ۔ خدانے ان کو سیال سونا دے کر مالدار بنادیا ہے ۔تاکہ یہ لوگ ضیوف الرحمان (یعنی حجاج کرام )کی خدمت کرسکیں ۔

*

فریضہ حج کی ادایئگی  کے بعد جب میں سعودی لباس پہنے ہوئے سر پر عقال باندھے ہوئے اپنے وطن مالوف پہنچا تو میرا بہت ہی شاندار استقبال کیاگیا ۔ اس استقبال کا اہتمام خود اباجانی نے کیا تھا ۔ پورا سٹیشن لوگوں س چھلک رہا تھار کھوے سے کھوا چھل رہاتھا۔ مجمع کے آگے آگے ڈھول ودف لئے ہوئ الطریقہ العیساویہ کے شیخ اور شیخ التیجانیہ شیخ القادریہ تھے ۔۔۔۔۔۔پھر یہ مجمع مجھے اپنے ساتھ لے کر شہر کی سڑکوں پر نعرہ تکبیر اور لا الہ الااللہ کے نعرے لگاتا ہوا چلا جب کسی مسجد سے یہ مجمع گزرتا تھا تو تھوڑی دیر کے لئے اس کے دروازے پر مجھے کھڑا کر دیا جاتا تھا اور چاروں طرف سے لوگ مجھے بوسہ دینے کے لئے ٹوٹ پڑتے تھے ۔خصوصا بڈھے تو مجھے چومتے تھے اور بیت اللہ کی زیارت اور قبر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وقوف کے شوق میں ڈاڑھیں مار مار کر روتے تھے ۔ ان حضرات نے

۱۱

اپنی زندگی میں اتنا کم سن نہ قفصہ نہ غیر قفصہ کہیں بھی نہیں دیکھا تھا ۔

اس وقت میں اپنی زندگی کے سعید ترین ایام گزار رہاتھا ۔شہر کے شریف اور بڑے لوگ ہمارے گھرمبارک باد ی ،سلام ودعا کے لئے آئے تھے ۔ بہت سے خوش عقیدہ حضرات میرے والد کی موجودگی میں مجھ سے دعا کرنے اور فاتحہ پڑھنے کی خواہش بھی کر دیتے تھے جس سے کبھی تو مجھے شرمندگی ہوتی تھی اورکبھی میری ہمت بڑھتی تھی اور میری والدہ مرحومہ کا عالم یہ تھا کہ جب بھی زائر ین گھر سے جاتے تھے وہ فورا حاسدوں کے شر سے بچانے والے اور شیاطین کے کید کو دور کرنے والے تعویذات میرے گلے میں ڈالدیتی تھیں اور بخورات جلادیتی تھیں تاکہ میں ہر قسم کے شر سے محفوظ رہوں ۔اللہ رے ماں کی محبت ۔

اباجانی جنت مکانی مسلسل تین راتوں تک مرزارات تیجانیہ پر چڑھاوے چڑھاتے رہے اور روزانہ ایک دنبہ ذبح کرکے لوگوں کو کھلاتے تھے ۔اور لوگوں کا عالم یہ تھا کہ چھوٹی سی چھوٹی باتوں کے بارے میں بڑی دلچسپی سے سوال کرتے تھے اور میں زیادہ تر سعودیوں کی تعریف میں رطب اللسان رہتا تھا اور بتاتا تھا کہ ان لوگوں نے نشر اسلام اور مسلمانوں کی نصرت وحمایت کےلئے کیا کیا کارنامے انجام دیئے ہیں ۔

شہر والوں نے میرا لقب "الحاج" رکھ دیا دیا تھا ۔ جب بھی اس لفظ کا استعمال کیا جاتا تھا ۔فورا لوگوں کے ذہنوں میں میرا تصور بھرتا تھا ۔اس کے بعد تو میری شہرت دن دونی رات چوگنی بڑھتی گئی ۔مخصوصا دینی کمیٹوں وغیرہ میں جیسے اخوان المسلمین اور اسی قسم کی دیگر جماعتیں ہیں ۔

اور پھر میرایہ وطیرہ ہوگیا کہ کوچہ کوچہ گلیوں گلیوں خصوصا مسجدوں میں جاکر ضریح کا بوسہ دینے لکڑیوں کو چومنے سے لوگوں کو روکنے لگا ۔ اور اپنی ساری کوشش اس بات پر صرف کرتا تھا کہ لوگوں کو قانع کردوں کہ یہ باتیں شرک ہیں رفتہ رفتہ جب اس میں کامیابی ہونے لگی تو جمعہ کے دن امام کے خطبہ سے پہلے مسجدوں میں دینی دروس بھی کہنے لگا ۔ اور پھر میں "جامع ابی یعقوب "اور جامع کبیر" دونوں میں وقتا فوقتا جانے لگا ۔کیونکہ نمازجمعہ دونوں میں ہوتی تھی ۔ اوریکشنبہ کو جو دروس کہتا تھا اس

۱۲

میں اس کالج کے لڑکے بھی بکثرت شریک ہوتے تھے جس میں ٹیکنا لوجی اور اقتصادیات کے درس کہا کرتا تھا چونکہ میں نے ان کے ذہنوں سے ان پر دوں کو ہٹادیا کرتا تھا جو ملحد قسم کے فلسفی اور مادی وکمیونسٹ اساتذہ ڈال دیا کرتے تھے اس لئے  وہ متعجب ہونے کے ساتھ ساتھ میرے احترام کے قائل ہوگئے تھے اور مجھ سے محبت کرنے لگے تھے ۔ چنانچہ یہ طلاب بڑی بے چینی س ان دروس کا انتظار کرتے تھے اور کچھ تومیرے گھر پر بھی آتے تھے کیونکہ میں نے خود بھی بعض دینی کتابوں کو خرید کر باقاعدہ مطالعہ شروع کردیا تھا تاکہ مختلف پوچھے جانے والے سوالات کے جوابات دے سکوں  جس سال میں حج سے مشرف ہوا تھا نصف دین (شادی )تو حاصل ہی کرلیا تھا کیونکہ والد ہ مرحومہ کو اپنے مرنے سے پہلے میری شادی کردینے کی خواہش بہت زیادہ تھی ۔ میری والدہ ہی نے اپنے شوہر کی تمام اولاد کی تعلیم وتربیت کی تھی اور سب کی دھوم دھام سے شادی رچائی تھی اس لئے ان کی دلی آرزو میرے بھی دولھا بننے کی تھی ۔چنانچہ خداوند عالم نے انکی مراد پوری کردی کہ میں نے ان کے حکم کے مطابق ایسی الھڑ دوشیزہ سے شادی کی رضامندی دیدی جس کو پہلے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا ۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر کہ میرے دونوں بڑے بیٹوں کی ولادت بھی ان کی زندگی میں ہوگئی  اور انھوں نے دنیا کو اس عالم میں چھوڑا ہے کہ مجھ سے راضی تھیں ۔ جیسا کہ دوسال قبل اباجانی بھی دا غ مفارقت دے چکے تھے ۔ لیکن للہ الحمد کہ مرنے سے دوسال قبل حج بیت اللہ سے بھی مشرف ہوچکے تھے ۔" اور توبہ نصوح "بھی کرچکے تھے ۔

اسرائیل سے شکست کھانے کے بعد جب مسلمانوں اور خصوصا عربوں کے حصہ میں جو ذلت ورسوائی آئی اور عرب پوری دنیا میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہ گئے تھے کہ طوفان کی طرح ایک جوان قائد انقلاب بنکر اٹھا جو صرف اسلام کی بات کرتا تھا لوگوں کو مسجدوں میں نماز پڑھاتا تھا اور جس نے لیبیا کے گلے سے غلامی کی زنجروں کو کاٹ دینے کے بعد قدس کی آزادی کا نعرہ دیا تھا ۔ عربی اور اسلامی ممالک کے اکثر نواجوانوں کی طرح میرے دل میں بھی اس جوان سے ملاقات کا شدید جذبہ تھا ۔مزید اطلاع کی حرض نے ہم کو ایک ثقافتی دورہ پر مجبو کیا کہ لیبیا کو قریب سے

۱۳

جاکر دیکھیں ۔چنانچہ ہم نے چالیس تعلیم یافتہ اور مثقف حضرات پر مشتمل ایک وفد انقلاب کے اوائل ہی میں منظم کر لیا اور لیبیا کی زیارت کے لئے روانہ ہوگئے ۔اورجب وہاں سے پلٹے ہیں تو سب ہی کے دلوں میں امت عربیہ اور مسلمہ کے تابناک مستقبل کے چراغ روشن تھے ۔ ان گزشتہ سالوں میں بعض دوستوں کے محبت بھرےخطوط آتے رہے جنھوں نے دوستوں کی ملاقات کے شوق کو تیز تر کردیا ۔اور پھر آخر کار چند دوستوں کے شدید اصرار پر جو اس سفر میں میرے ہمرکاب رہنا چاہتے تھے میں نے رخت سفر باندھ ہی لیا ۔اور ایک لمبے سفر کا پروگرام بنا ڈالا جو تین مہینوں کے شب وروز پر مشتمل تھا ۔اور طے ہوگیا کہ گرمیوں کی چھٹیاں بھی نذر سفر کردی جائیں اسی لئے تین ماہ کا سفر ہوگیا ۔ہمارا پروگرام یہ تھا کہ خشکی کے راستہ سے لیبیا پہونچا جائے وہاں سے مصر وہاں سے سمندری راستہ سے لبنان چلاجائے پھر سوریہ و اردن ہوتے ہوئے سعودیہ میں پڑاو ڈالا جائے سعودیہ کو پروگرام میں دومقصد کی وجہ سے شامل کیا تھا ایک تو عمرہ کرنا مقصود تھا اور دوسرے وہابیت کے نئے عہدوپیمان باندھنے تھے ۔ جس کی میں نے نوجوان طلباء اور مساجد میں آنے والے مسلمانوں اور "اخوان المسلمین " میں بھر پور ترویج کی تھی ۔

*

میرے شہر سے میری شہرت آس پاس کے دوسرے شہروں تک پہونچنے لگی کیونکہ جب کوئی مسافر نماز جمعہ میں شریک ہوتا تومیرے دروس میں بھی شرکت کرتا تھا ۔ اور واپس جا کر لوگوں کو بتاتا تھا ۔ ہوتے ہوتے یہ خبر "عاصمۃ الجرید" کے شہر توزر کے مشہور صوفی مسلک کے سربراہ شیخ اسماعیل ہادفی تک بھی پہونچ گئی ۔ یہ توزر کے مشہور شاعر ابو القاسم شابانی کا مولد بھی ہے ۔شیخ اسماعیل ہادفی کے مرید تمام ٹیونس کے شہروں میں پھیلے ہوئے ہیں ۔بلکہ ٹیونس کے باہر فرانس وجرمنی تک منتشر ہیں ۔الشیخ اسماعیل ہادفی  کے وہ وکلاء جو شہر قفصہ میں رہتے تھے انھوں نے مجھے بڑے لمبے چوڑے خطوط لکھے جن مین میرے ان مساعی جمیلہ کاشکریہ ادا کیا گیا تھا جو میں نے اسلام اور مسلمانوں کی خدمات کے لئے انجام دئیے تھے ۔اور مجھے یہ بھی بتا یا گیا تھا جو ان چیزوں سے ذرہ برابر تقرب

۱۴

الہی حاصل نہیں ہوسکتا جب تک یہ امور کسی شیخ عارف کے تحت نظر نہ ہوں ۔نیز ان کے یہاں ایک مشہور حدیث ہے اس کی طرف مجھے متوجہ بھی کیا گیا تھا حدیث کا مفہوم یہ ہے "جس کا کوئی شیخ الطریقت نہ ہو اس کا شیخ شیطان ہوتا ہے"انھیں خطوط میں مجھے الشیخ اسماعیل ہادفی کی زیارت کی دعوت بھی دی گئی تھی اور یہ تاکید کی گئی تھی کہ تمہارے لئے ایک شیخ کا ہونا ضروری ہے ورنہ تمہارے پاس نصف علم ناقص ہے مجھے یہ بھی بشارت دی گئی تھی کہ صاحب الزمان (ان لوگوں کی مراد شیخ اسماعیل ہادفی ہے ) نے مجھے تمام لوگوں کے درمیان خاص الخاص قراردیا ہے ۔

اس خوشخبری سے میں جھوم اٹھا ۔خداوند عالم  کی اس مخصوص عنایت پر میرا دل بھر آیا ،اور خوشی کے مارے میری آنکھوں نے ساون کا سماں پیش کردیا ۔اور میرے دامن نے ان موتیوں کو اپنے سینے میں چھپا لیا کیونکہ خداوند عالم مسلسل بلند سے بلند تر مقام تک مجھے پہونچا رہا تھا کیونکہ میں نے اپنے ماضی کو سیدی الھادی الحفیان کے نقش قدم کا پیرو بنا تھا اس لئے کہ وہ شیخ وصوفی تھے ۔ ان کی بہت سی کرامتیں اور خوارق عادات چیزیں زبان زد خاص وعام تھیں ۔ اسی لئے (یعنی ان کی پیروی کی وجہ سے ) میں ان کا عزیز ترین دوست تھا اسی طرح میں سیدی صالح سائح او رسیدی جیلانی وغیرہ کا پابند رہا جو معاصرین میں خود صاحب طریقت تھے ۔چنانچہ میں سیدی اسماعیل کی ملاقات کا بڑی بے چینی سے انتظار کرنے لگا  (آخر خدا خدا کرکے میری قسمت کا ستارہ چمکا اور ملاقات کی گھڑی آپہونچی  ) چنانچہ جب میں الشیخ  کے گھر میں داخل ہوا تو بڑی حرص وحسرت سے لوگوں کے چہروں کو پہچاننے کی کوشش کرتارہا ۔ پوری مجلس مریدوں سے کھچا کھچ بھری تھی جس میں ایسے ایسے مشائخ بھی تھے جو بہت ہی سفید قسم کے لباس پہنے تھے ۔مراسم سلام وتحیت کے بعد شیخ اسماعیل نے قدوم میمنت لزوم فرمایا ان کے آتے ہوی پورا مجمع ادب واحترام سے کھڑا ہوگیا اور لوگ ان کے دست مبارک کو بوسہ دینے  لگے وکیل نے مجھے ٹہوکا  دیا وہ شیخ صاحب ہیں ۔ لیکن میں نے خاص اشتیاق کا اظہار نہیں کیا کیونکہ میں جو چیزیں دیکھیں تھیں میں ان کے علاوہ کا منتظر تھا ۔میں نے تو شیخ کے مریدوں اور وکلاء سے ان کے معجزات وکرامات سنکر ایک عجیب وغریب خیالی تصویر بنالی تھی اور شیخ صاحب کی یہ تصویر اس سے کہیں

۱۵

مختلف تھی اسی لئے کسی اشتیاق کا اظہار نہ کرنا مطابق فطرت تھا ، میں نے ایک عادی قسم کے بوڑھے کودیکھا جس میں نہ وقار ہے ،نہ رعب ودبدبہ ،گفتگوکے دوران وکیل نے مجھے ان کے سامنے پیش کیا انھوں نے مرحبا کہہ کر داہنی طرف بٹھالیا پھر میرے لئے  کھانا لایا گیا ۔ کھانے پینے  کے بعد دوبارہ وکیل نے شیخ سے میرا تعارف کرایا تاکہ عہد وپیمان لیا جاسکے ۔اس کے بعد لوگ مجھ سے گلے مل کر مبارکباد دینے لگے اور ان کی گفتگو سے مجھے اندازہ ہوا کہ یہ لوگ میرے بارے میں خاصی معلومات رکھتے ہیں اور اسی خوش فہمی نے مجھ میں یہ جراءت پیدا کردی کہ سوال کرنیوالوں کے جو جوابات شیخ دے رہے تھے ان جوابات پر اعتراض کروں اور اپنی رائے کو قران وسنت سے ثابت کروں ۔لیکن میرے اس دخل درمعقولات کو بعض حضرات نے شدت سے ناپسند کیا اور حضرت شیخ کی موجودگی میں اس کو بے ادبی سمجھا گیا ۔کیونکہ وہ لوگ اس بات کے عادی تھے کہ شیخ کی موجودگی میں کوئی بھی شیخ  کی اجازت کے بغیر زبان نہیں کھول سکتا ۔شیخ نے حاضریں کی اس بدمزگی کو محسوس کر لیا لہذا بڑی ذہانت سے افسردگی کے بادل کو یہ اعلان کرکے دور کردیا کہ جس کی ابتدا محرقہ (جلانے والی )ہوگی اس کی انتہا مشرقہ (روشن وتابناک) ہوگی ۔ حاضرین نے سمجھا کہ یہ شیخ کی طرف سے لقب ہے ۔اور میرےمستقبل  کے تابناک ہونے کی ضمانت ہے بس پھر کیا تھا سب ہی بطیب خاطر تبریک وتہنیت پیش کرنے لگے ۔مگر شیخ الطریقت بہت ہی ذہین وتجر بہ کار تھے ۔اس لئے بعض عرفاء کا قصہ سنانے لگے ۔ تاکہ میں پھر کہیں بیجا مداخلت نہ کربیٹھوں  کہ ان بزرگوار کی مجلس میں بعض علماء بھی آکر بیٹھ گئے تو عارف نے کہا: پہلے جاکر غسل کرو چنانچہ وہ مولانا غسل کرکے آئے اور مجلس میں بیٹھنا ہی چاہتے  تھے کہ کہ عارف نے کہا جاؤ پھر سے غسل کرکے آؤ ! وہ مولانا دوبارہ غسل کرنے گئے تو اپنے حساب سے بہت اچھا غسل کیا یہ سوچ کر کہ شاید پہلے میں کوئی کمی رہ گئی ہو اس کے بعد اگر مجلس میں بیٹھنے لگے تو شیخ عارف باللہ نے جھڑکا اور فرمایا پھر ے غسل کرکے آو ! وہ مولانا صاحب رونے لگے اورکہنے لگے : سیدی میں نے اپنے علم واپنے عمل کے مطابق غسل کیا اب اس سے آگے مجھے کچھ نہیں معلوم بجز اس کے کہ

۱۶

خدا آپ کے ذریعہ کچھ کشف کردے اس وقت عارف نے کہا : اچھا اب بیٹھو !

میں سمجھ گیا کہ اس قصہ سے میں ہی مقصود ہوں اور میں ہی کیا حاضرین بھی سمجھ گئے چنانچہ جب شیخ استراحت فرمانے کے لئے چلے گئے تو ان لوگوں نے مجھے گھیر لیا اور مجھے ملامت کرنے لگے جناب شیخ کی موجودگی میں ان کا احترام اور خاموشی ضروری ہے ورنہ تمہارے سارے اعمال اکارت ہوجائیں گے ۔ کیا تم نے قرآن کا یہ قول نہیں پڑھا :

"یاایها الذین آمنوا لاترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ولا تجهروا له بالقول کجهر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم وانتم لا تشعرون "( پ ۲۶ س ۴۹ حجرات آیت ۲)

اے ایمان والو! (بولنے میں )تم اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کیا کرو اور جس طرح تم آپس میں زور (زور ) سے بولا کرتے ہو ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو (ایسا نہ ہو ) کہ تمہارا کیا کرایا سب اکارت ہوجائے  اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔

میں نے اپنی حیثیت پہچان لی اور پھر تمام اوامر ونصائح کو پابندی سے بجا لانے لگا اور اس وجہ سے شیخ نے مجھے اپنے سے اور زیادہ قریب کرلیا ۔ میں ان کے پاس تین دن رہا اس دوران میں نے متعدد سوالات بھی کئے کچھ تو امتحانا اور کچھ استعلاما ۔ شیخ اس بات کو سمجھتے تھے اور کہہ دیتے تھے قرآن بھی کا ظاہر اور ہے باطن اور ! قرآن کے سات سات باطن ہیں ۔خدا نے اس کے خزانے میرے اوپر کھول دیئے ہیں اور مخصوص چیزوں پر مجھے مطلع کردیا ہے اور صالحین وعارفین کا سلسلہ سند ہے اور مجھ سے ابو الحسن شاذلی  تک مفصل ہے ان سے چند اولیاء کے واسطہ سے یہ سلسلہ حضرت علی کرم اللہ وجہ تک پہنچتا ہے ۔

ایک بات بھول نہ جاوں جو حلقات ذکر قائم کئے جاتے ہیں وہ سب روحانی ہوتے تھے کیونکہ جلسہ کا آغاز شیخ تلاوت قرآن مجید سے تجوید کےساتھ کرتے تھے تلاوت کے بعد کسی قصیدہ کا مطلع پڑھ دیتے اور پھروہ مرید حضرات جن کو قصائد واذکار کا یاد ہوتے تھے شیخ کے بعد پڑھتے تھے

۱۷

ان قصیدوں میں زیادہ تر دنیا کی مذمت اور آخرت کی طرف رغبت دلائی جاتی تھی ۔ اس میں زہد ،ورع کا تذکرہ ہوتا تھا ، اس کے بعد شیخ کی داہنی طرف جو مرید بیٹھا ہوتا تھا ،وہ قرآن کی تلاوت کا اعادہ کرتا تھا اورجب وہ"صدق الله العظیم" کہتا تھا تو شیخ کسی نئے قصیدہ کا مطلع شروع کردئیے تھے اور پھر سب مل کر اس کو پڑھتے تھے ۔ اسی طرح نوبت بہ نوبت تمام حاضرین پڑھتے تھے ، وہ ایک ہی آیت پڑھیں اورپھر سب کو حال آنے لگتا تھا اور جھومنے لگتے تھے ، ایک ایک شعر پر جھومتے تھے اور پھر شیخ کھڑے ہوجاتے تھے ان کے ساتھ ہی پورا مجمع کھڑا ہوجاتا تھا ۔

اور سب ایک دائرہ قطب میں ہوجاتے تھے ۔ اور اس دائرہ کا قطب شیخ ہوتے تھے ۔اور پھر صدر کے نام سے ابتداء کرکے آہ ۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔۔آہ۔۔۔آہ کہنا شروع کردیتے تھے اور شیخ بیج میں گھومتے رہتے تھے ۔

ہر مرتبہ ایک کی طرف متوجہ ہو جاتے تھے اور ہوتے ہوتے جب محفل رنگ پرآجاتی تھی تو عاشقانہ اشعار ڈھول پیٹ پیٹ کر پڑھے جاتے تھے اوربعضوں کی وہ اچھل کود شروع ہوجاتی تھی جیسے یہ پاگل ہے اور ایک منظم نغمہ کےساتھ آوازیں بلند ہونے لگتی تھیں ۔ اورجب سب تھک جاتے تھے تو پھر پہلا جیسا سکوت وھدؤ طاری ہوجاتا تھا ۔لیکن یہ سکوت شیخ کے اختتامی قصیدہ پر ہوتا اور پھر تمام لوگ شیخ کے سر وکندھوں کو باری باری بوسہ دے کربیٹھ جاتے تھے ۔میں بعض حلقات میں شریک ہواہوں ان کی نقل تو میں نے کی لیکن میں اس پر مطمئن نہیں تھا کیونکہ یہ چیزمیرے اس عقیدہ کے خلاف تھی جو بچپن سے میرے ذہن میں راسخ تھا ۔ یعنی شرک "عدم شرک" اور عدم توسل" بغیراللہ ۔چنانچہ میں روتے روتے زمین پر گر پڑا ۔متحیر تھا  اور ان دونوں متناقض عقیدوں میں میرا ذہن کام نہیں کررہا تھا  (یعنی ) ایک طرف تو صوفیت کا بحر ذخار  تھا جس کی پوری فضا روحانی تھی جس میں انسان کی گہرا ئیوں میں خوف ،زہد تقرب الی اللہ کا شعور پیدا ہوتا ہے البتہ یہ خدا کے صالح اور عارف بندوں کے وساطت سے ہوتا ہے ۔اور دوسری طرف وہابیت کا وہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے جس کی پوری فضا میں ہر جگہ کفر ہی کفر ہے ۔

۱۸

جس نے یہ بتایا ہے کہ یہ ساری چیزیں شرک ہیں اور خدا شرک کو کبھی نہیں معاف کرتا ۔اورجب محمد رسول اللہ کسی کو نفع نہیں پہونچا سکتے اور نہ بارگاہ ایزدی میں ان کو وسیلہ بنایا جاسکتا ہے ۔تو پھر ان اولیاء ،صالحین کی کیا قدر وقیمت ہے ؟

شیخ کی طرف سے جدید منصب پر فائز ہوجانے کے باوجود ۔۔۔۔کیونکہ شیخ نے مجھے قفصہ میں اپنا وکیل بنادیا تھا۔۔۔۔۔۔میں اندر ونی طور پر کلیہ مطمئن نہیں تھا اگر چہ یمن کبھی تو صوفیت کی طرف مائل ہوجاتا تھا اور ہمیشہ اس کا احساس رہتا تھا کہ میں صوفیت کا احترام کرتاہوں اولیاء اللہ اور صالحین کی ہیت میرے رگ وریشہ میں سمائی ہے لیکن پھر خود ہی تردید کردیتا تھا کہ خدا فرماتا ہے"ولا تدع مع الله الها آخر لا اله الّا هو " (۱)

اور خدا  کے سوا کسی اور معبود کی پرستش نہ کرنا ۔اس کے سوا کوئی قابل پرستش نہیں "

اور جب کوئی مجھ سے کہتا تھا خدا کا ارشاد ہے :

یا ایها الذین آمنوا اتقوالله وابتغوا الیه الوسیله (۲)

اے ایماندارو ! خدا سے ڈرتے رہو اور اس کے تقرب کے ذریعہ (وسیلہ ) کی جستجو میں رہو ۔ تو میں فورا رد کردیتا تھا کہ وسیلہ سے مراد عمل صالح ہے جیسا کہ سعودی علماء نے مجھے سکھایا تھا ۔ خلاصہ یہ کہ اس زمانہ میں مضطرب اورپریشان فکر رہتا تھا۔ کبھی کبھی میرے گھر بعض مرید حضرات آجاتے تھے تو ہم شب بیداری کرتے تھے اور عمارۃ قائم کرتے تھے ((یعنی ایسے حلقہ قائم کرتے تھے جس میں عاشقانہ اشعار کے ساتھ اسم الصدر کاذکر کیا جاتا تھا))

شب بیداریوں میں ہمارے حلقوم سے جو بے ہنگم آوازیں نکلتی تھیں ان سے ہمسایوں کو اذیت ہوتی مگروہ علی الاعلان ہم سے اس کا اظہار نہیں کرتے تھے البتہ ہماری بیوی سے اپنی عورتوں

--------------

(۱):- پارہ نمبر۲۰ سورہ۲۸(قصقص)آیت ۸۸

(۲):- پارہ نمبر ۶ سورہ ۵ (مائدہ)آیت ۳۵

۱۹

کے ذریعے شکایت کرتے تھے ۔ جب مجھے ان حالات کا علم ہوا تو شریک ہونے والے لوگوں سے میں نے کہا یہ حلقات ذکر آپ میں سے کسی کے گھر ہوا کریں تو بہتر ہے کیونکہ میں تقریبا تین ماہ کے لئے ملک سے باہر جانے والا ہوں یہ کہہ کر میں نے مریدوں سے معذرت کرلی ۔۔۔۔اس کے بعد اہل وعیال ،اقارب رشتہ داروں کو خدا حافظ کہہ کر اپنے خدا پر بھروسہ کر کے نکل کھڑا ہوا ۔۔۔۔لا اشرک به شیئا

 

۲۰

کامیاب سفر

۲۱

مصر میں

لیبیا کے دار لسلطنت "طرابلس"میں صرف اتنی دیر قیام کیا کہ مصری سفارت خانہ جاکر کنانہ کے داخلہ کے لئے ویزا حاصل کرسکوں ۔اتفاق کی بات ہے وہاں پر کچھ دوستوں سے ملاقات ہوگئی جنھوں نے میرا کافی ہاتھ بٹایا خدا ان کا بھلا کرے ۔

قاہرہ کاراستہ کافی تھکادینے والا ہے ۔تین دن رات کا مسلسل سفرہے ۔ہم نے ایک ٹیکسی کرایہ پر لی جس میں ایک میں تھا اور چار مصری تھے ۔ جو لیبیا میں کام کرتے تھے ۔ لیکن اس وقت وہ لوگ اپنے وطن واپس جارہے تھے راستہ کاٹنے کے لئے میں نے ان لوگوں سے بات چیت کا سلسلہ شروع کردیا ۔اور کبھی کبھی تلاوت قرآن بھی کرتا تھا ۔اس لئے وہ چاروں مجھ سے کافی مانوس ہوگئے بلکہ صحیح لفظ یہ ہے کہ مجھ سے محبت کرنے لگے اور سب ہی نے مجھے اپنے یہاں اترنے کی دعوت دی لیکن میں نے ان میں سے احمد کو پسند کیا اور اس کی دعوت قبول کرلی کیونکہ ایک تو فطری طور سے میرا دل اسکی طرف مائل تھا ۔ دوسرے اس کے تقوی وپرہیز گاری سے بھی متاثر ہوگیا تھا ۔

چنانچہ احمد نے اپنی حسب حیثیت میر بڑی خاطر مدارات کی اور میزبانی کا حق ادا کیا خدا اس کو جزائے خیر دے ۔میں نے بیس 20 دن قاہرہ میں گزارے ۔اس دوران میں نے شہنشاہ موسیقی فریدا الاطرش سے ان کے اس گھر میں ملاقات کی جو نیل کے کنارے پر بنایا گیا تھا ۔ میں جب ٹیونس میں تھا تو مصری اخباروں میں "جو ہمارے یہاں باقاعدہ بکتے تھے " فریدالاطرش کے اخلاق وتواضع کےبارے میں کچھ پڑھ چکا تھا۔ اور اسی زمانہ میں اسکو

۲۲

پسند کرتا تھا لہذا فطری بات ہے کہ قاہرہ پہنچ کر میں اس سے ضرور ملاقات کرتا ۔ لیکن یہ میری بد قسمتی تھی کہ صرف بیس منٹ کی ملاقات ہوسکی کیونکہ جب  میں پہونچا تو وہ گھر سے ہوائی اڈہ کے لئے نکل رہے تھے ان کو لبنا ن جانا تھا ۔

دوسری عظیم شخصیت جس سے قاہر ہ کے دوران ملاقات کی وہ دنیا کے مشہور ترین قاری قرآن جناب شیخ عبدالباسط محمد عبدالصمد تھے ۔ان کو میں دل وجان سے پسندکرتا تھا ۔خوش قسمتی سے تین دن ان کے ساتھ رہنے کا اتفاق ہوا ۔ اور اس دوران ان کے رشتہ داروں اور دوستوں سے بھی کافی ملاقاتیں رہیں ۔ اور متعہ وموضوعات زیر بحث آئے ان لوگوں کو میری جراءت وصراحت لہجہ اور کثرت اطلاع پر بہت تعجب تھا ۔ کیونکہ جب کبھی غنا کا موضوع چھڑگیا تو میں نے ان کو بتایا کہ میں طریقہ تیجانیہ اور مدنیہ دونوں سے متعلق ہوں ۔اور اگر انہوں نے اپنے کو ترقی پسند ثابت کرنے کے لئے "مغرب کا تذکرہ نکالا تومیں نے گرمیوں کی تعطیلات میں مغربی ممالک میں گزارے ہوئے دنوں  کو دہرانا شروع کردیا اور پیرس ،لندن ، بلجیک ،ہالینڈ، اٹلی ، اسپین کے قصّے سنانے شروع کردئیے وار اگر کبھی حج کا ذکر نکل آیا تو میں نے بتا یا کہ میں بھی حج کرچکا ہوں ۔اور اس وقت عمرہ کے لئے جارہا ہوں اور اسی کے ساتھ ان کو ایسے ایسے مقامات بتائے مثلا ، غار حرا، غار ثور ع ،مذبح اسماعیل وغیرہ جس کو یہ لوگ تو کیاوہ لوگ بھی نہیں جانتے جو سات سات مرتبہ حج کرچکے ہیں اور اگر بھولے سے ان لوگوں نے علوم واکتشافات واختراعات کاذکر کردیا توپھر کیاتھا نئی نئی اصطلاحیں ،ارقام ،اعداد وشمار ان کو بتانا شروع کردیئے تو وہ مبہوت ہوکے رہ گئے ۔اور اگر سیاست کا موضوع زیر بحث آگیا تومیں نے اپنے نظریات پیش کرکے ان کو دم بخود بنادیا اور جب میں نے ان سے کہا :خدا ناصر پر ((جو اپنے دور کا صلاح الدین ایوبی تھا)) اپنی رحمت نازل کرے جس نے ہنسنا تو درکنار اپنے اوپر مسکرہٹ کو بھی حرام قراردے لیا تھا اورجب ان قریبی لوگوں نے ملامت کی کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں جب کہ رسول اکرم (ص) کی

۲۳

سیرت یہ رہی ہے کہ ہر ایک سے مسکرکر ملتے تھے ؟ توجواب دیا :تم لوگ مجھ سے مسکراہٹ کا مطالبہ کیوں کرتے ہو؟حالانکہ میں دیکھ رہا ہوں  کہ مسجد الاقصی دشمنوں کے قبضہ میں ہے ۔نہیں نہیں خدا کی قسم میں اس وقت تک مسکراؤں گا بھی نہیں جب تک مسجد اقصی کو آزاد نہ کرالوں یا اس کے لئے جان نہ دیدوں ۔

قیام قاہرہ کے دوران جلسے بھی منعقد ہوتے تھے ۔ اور میں بھی تقریریں کرتا تھا ، میری تقریروں میں جامعہ ازہر کے شیوخ بھی شرکت کرتے تھے ۔ اور اپنی تقریروں میں  میں آیات اور احادیث کی تلاوت کرتا تھا اور میرے پاس جو براہین قاطعہ اور دلائل ساطعہ تھے جب ان کو پیش کرتا تھا ۔تو عوام توخیر عوام ہوتے ہیں ازہر کے شیوخ بہت متاثر ہوتے تھے اور مجھ سے پوچھتے تھے آپ کس یونیورسٹی کے سند یافتہ ہیں؟ تو میں بہت فخر سے کہا کرتا تھا "جامعۃ الزیتونیۃ " کا فارغ تحصیل ہوں ۔ یہ جامعہ (یونیورسٹی ) ازھر یونیورسٹی سے پہلے کا ہے اور اسی کے ساتھ یہ بھی اضافہ کردیتا تھا کہ جن فاطمیین نے جامعہ ازہر بنایا تھا وہ شہر مھدیہ سے ٹیونس چلے گئے تھے ۔

اس طرح جامعہ ازہر کے بہت سے علماء وافاضل سے میں متعارف ہوگیا اور ان حضرات نے بعض کتابیں بھی مجھے بطورتحفہ مرحمت فرمائی تھیں ۔ایک دن امور ازھر کے ذمہ داروں میں سے ایک ذمہ دار کے کتب خانہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں حکومت مصر کے انقلابی کمیٹی کا ایک ممبر وہاں آیا اور اس نے کہا : (کتب خانہ کے مالک کو مخاطب کرتے ہوئے) قاہرہ کی ریلوے لائن کے سلسلے میں مصری کمپنیوں میں سے سب سے بڑی کمپنی میں مسلمانوں اور عیسائیوں کا اجتماع ہورہا ہے اس میں آپ کی شرکت ضروری ہے ۔(درحقیقت جنگ حزیزاں (جون) کے موقع جو توڑ پھوڑ اور تخریبی کاروائی ہوئی تھی اس مسئلہ پر غور کرنے کے لئے یہ اجتماع تھا ) مالک کتب خانہ نے مجھ سے کہا : تمہارے بغیر میں ہرگز نہ جاؤں گا ۔ لہذا تم بھی میرے ساتھ چلو ۔چنانچہ میں بھی گیا اور وہاں ڈائس پر ازہری عالم اور الاب شنودہ کے درمیان مجھے بٹھایا گیا ۔ پھر مجھ سے خواہش کی گئی کہ میں بھی اس جلسہ میں ایک تقریر کروں ! چونکہ میں مسجدوں اور ثقافتی کمیٹیوں میں تقریر وں کا عادی تھا

۲۴

اس لئے میرے لئے کوئی مشکل بات نہیں تھی میں نے لوگوں کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے ایک تقریر کی ۔

اس پوری فصل میں جو کچھ میں نے بیان کیا ہے اس میں اہم ترین بات یہ ہے کہ مجھے احساس ہونے لگا تھا اور اس قسم کا غرور ہوگیا تھا اور مجھے یقین ہوگیا تھا کہ میں بھی ایک بڑا عالم ہوں اور یہ احساس کیوں نہ ہوتا جب کہ ازہر شریف کے علماء نے اس کی گواہی بھی دی تھی اور بعض نے تویہاں تک کہہ دیا تھا :تمہاری اصلی جگہ ازہر ہے اور ان سب سے زیادہ اہم بات یہ تھی کہ حضرت رسول خدا (ص) نے مجھے اپنے تبرکات کے زیارت کی اجازت مرحمت فرمادی تھی ۔قصہ اس طرح ہے کہ قاہرہ میں حضرت سیدنا الحسین (ع) کی مسجد ہے اس کے مدیر نےمجھ سے کہا : رسول اللہ نے مجھے خواب میں بتایا ہے کہ تمام تبرکات کی تم زیارت کرادوں !چنانچہ  وہ مجھے اکیلا لے کر گیا اور جس حجرہ کو اس کے علاوہ کوئی بھی نہیں کھول سکتا تھا اس نے اس کو کھولا اور مجھے اندر داخل کرنے کے بعد پھر اندر سے دروازہ کو مقفل کردیا پھر تبرکات کا صندوق کھول کر رسول خدا (ص) کی قمیص دکھائی ۔ میں نے اس کو چوما اس کے بعد دیگر تبرکات دکھائے ۔میں وہاں سے آنحضرت کی عنایت کو سوچتا ہوا رو تا باہر آیا کہ حضور نے میری ذات پر کتنا کرم فرمایا ہے ۔ اور اس بات پر مجھے زیادہ تعجب تھا کہ اس مدیر نے نقدی صورت میں مجھ سے کوئی نذرانہ نہیں طلب کیا ۔بلکہ نہ لینے پر مصر رہا ۔ جب میں نے بہت کچھ اصرار کیا اور تضرع وزاری کی توبہت ہی معمولی سی رقم لی اور اس نے مجھےتہنیت پیش کی کہ تم حضرت رسول اکرم (ص) کے نزدیک مقبول لوگوں میں ہو ۔

اس واقعہ سے میں بہت زیادہ متاثر ہوگیا تھا اور کئی راتیں میں نےیہ سوچتے سوچتے آنکھوں میں کاٹ دیں کہ وہابیوں کا یہ عقیدہ :رسول خدا بھی دوسرے مردوں کی طرح مرگئے ! غلط معلوم ہونے لگا اور مجھے یقین ہوگیا کہ یہ عقیدہ محض بکواس ہے ۔جب خدا کی راہ میں قتل ہونے والا شہید زندہ ہے اور خدا اس کو رزق دیتا ہے تو جو سیدالاولین والآخرین ہو وہ کیسے زندہ نہ ہوگا ۔؟

۲۵

میرے اس شعور و عقیدہ کو بچپنے کی تعلیم نے مزید تقویت پہونچائی مجھے زمانہ ماضی میں صوفیوں کی تعلیم جو دی گئی تھی اس میں بتایا گیا تھا کہ صوفیوں  کے اولیاء وشیوخ کو خداوند نے یہ صلاحیت اس لئے دی ہے کہ انھوں نے خدا کی بے انتہا عبادت کی تھی ۔نیز کیا حدیث قدسی میں یہ نہیں ہے ؟" میرے بندے تو میری عبادت کر میں تجھے اپنا جیسا بنادوں گا کہ تو جو کہو گے وہ چیز فورا ہوجائے گی "۔

یہ میری اندرونی کشمکش مجھے اپنی طرف کھینچ رہی تھی ۔مختصر یہ کہ قیام قاہرہ کے آخری دنوں میں حقیر نے تمام مساجد کی زیارت کی اورسب میں نماز یں پڑھیں ۔امام مالک کی مسجد سے لیکر امام ابو حنیفہ کی مسجد تک امام شافعی مسجد سے لے کر احمد بن حنبل کی مسجد تک پھر سیدہ زینب (س) اور سیدنا حسین (ع) کی مسجدوں میں بھی نمازیں پڑھیں اور" زاویة التیجانیة" کی زیارت سے مشرف ہوا ۔ اس سلسلہ میں بھی بڑی لمبی چوڑی حکایتیں ہیں جن کا بیان کرنا سبب طول ہوگا ۔اور میں مختصر کا ارادہ کرچکا ہوں ۔

۲۶

شپ کی ملاقات

ایک مصری شپ (پانی کا جہاز) کے اندر جو بیروت جارہاتھا ۔اور جس میں پہلے ہی سے میں نے اپنی جگہ کا ریزرویشن کرالیا تھا ۔ اسی حساب سے اسی دن میں اسکندر یہ سے روانہ ہوگیا میں نے اپنے بستر پر لیٹے لیٹے محسوس کیا کہ جسمانی اور فکری دونوں اعتبار سے بہت ہی خستہ ہوں لہذا تھوڑی دیر سوگیا ۔کشتی کو سمندر میں چلتے ہوئے دو تین گھنٹے ہوئے تھے ۔سوتے میں اپنے بغل والے شخص کو کسی سے گفتگو کرتے ہوئے سنا کہ وہ کہہ رہا تھا : معلوم ہوتا ہے یہ بھائی صاحب بہت تھکے ہیں ! میں نے ذرا آنکھ کھول کر کہا :جی قاہرہ سے اسکندریہ تک کا سفر نے انچر پنچر ڈھیلے کردیئے ہیں ۔چونکہ مجھے حسب وعدہ بہت ہی سویرے پہونچنا تھا اس لئے رات کو سوبھی نہیں سکا ۔اس شخص کےلب ولہجہ سے میں انے اندازہ لگا لیا کہ یہ شخص مصری نہیں ہے۔ میری بکواس کرنے کی عادت نے مجھے اس بات پر آمادہ کردیا کہ اس کو اپنا تعارف کرادوں اور اس کے بارے میں بھی معلومات حاصل کروں اس نے بتایا کہ وہ عراقی ہے اس کا نام منعم ہے ۔ بغداد یونیورسٹی میں پڑھاتا ہے ۔قاہرہ گیا تھا تکہ ۔پی ایچ ڈی کے تھیسس "جامعۃ ازہر میں پیش کرے ۔

پھر ہم میں گفتگو چھڑگئی ہم نے مصر کے بارے میں "عالم اسلام "کے موضوع پر "عالم عرب " کے سلسلے میں "عربوں کی شکست یہودیوں کی فتح کےبارے میں گفتگو کی اور یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ "بات میں بات نکلتی چلی آتی ہے" میں انے اپنی گفتگو کے دوران یہ بھی کہا کہ شکست کا اصلی سبب مسلمانوں اور عربوں کا چھوٹی چھوٹی حکومتوں اور مختلف مذہبوں میں بٹ جانا ہے

۲۷

مسلمانوں کی دنیا  میں اتنی بڑی اکثریت ہونے کےباوجود ان کے دشمنوں کی نظریں میں ان کی کوئی قدر قمیت نہیں ہے ۔

زیادہ تر گفتگو مصر اور اہل مصر کے بارے میں ہوئی ۔شکست کے اسباب پرہم دونوں متفق تھے ۔میں نے اتنی بات کا اور اضافہ کیا کہ استعمار نے ہم کو ٹکڑوں ٹکڑوں میں بانٹ رکھا ہےتاکہ ہم پر حکومت کرسکے ۔اور ہماری نکیل اس کے ہاتھ میں رہے ۔ میں اس  کا بہت شدید مخالف ہوں ۔ ہم آج بھی مالکی اور حنفی میں بٹے ہوۓ ہیں ۔ چنانچہ میں نے اس کو اپنا ایک واقعہ بتایا کہ قیام قاہرہ کے دوران میں نے ایک مرتبہ مسجد ابی حنیفہ میں جاکر عصر کی نماز جماعت  سے ادا کی لیکن نماز ختم ہوتے ہی جو شخص میرے پہلو میں کھڑا تھا مجھ پر برس پڑا ۔ اور تہدید آمیز لہجہ میں کہنے لگا" تم نے نماز میں ہاتھ کیوں نہیں باندھے ؟ میں نے بہت ادب واحترام سے عرض کیا " مالکی حضرات ہاتھ کھول کر نماز پڑھتے ہیں اور میں مالکی ہوں ۔اس نے اسی غصہ کی حالت میں کہا تو مالک کی مسجد میں جاؤ اور وہاں نماز پڑھو ۔چنانچہ میں وہاں سے بہت رنجیدہ وارغصہ میں چلا آیا او رمجھے شدید حیرت ہوئی ۔

اتنے میں عراقی استاد زیرلب مسکراتے ہوئے بولے : (دوسری مثال میری ہے کہ )میں شیعہ ہوں ۔ اتنا سنتے ہی میں آگ بگولا ہوگیا ۔اور بغیر کسی پاس ولحاظ کے میں نے کہا " اگر مجھے معلوم ہوتا کہ آپ شیعہ ہیں تو آپ سے میں بات ہی نہ کرتا ۔انھوں نے کہا آخر کیوں ؟ میں نے کہا آپ لوگ مسلمان نہیں ہیں ۔آپ لوگ علی ابن ابی طالب کی عبادت کرتےہیں ۔البتہ جو اعتدال پسند ہیں وہ عبادت تو خدا کی کرتے ہیں مگر محمد مصطفی کی رسالت پر ایمان نہیں رکھتے اور جبریئل کوسب وشتم کرتے ہیں رسالت علی کے حوالہ کرنے کے بجائے محمد کے حوالہ کردیا ۔اور اسی قسم کی بہت سی باتیں میں نے ذکر کیں ۔ اور اس پوری گفتگو کے دوران میرا ہمسفر تو تبسم زیر لب کرتا تھا اور کبھی"لاحول ولا قوة الا بالله " کہتا تھا اور جب میں انے اپنی گفتگو ختم کرلی ۔ تو اس نے مجھ سے کہا: کیا تم مدرس ہو؟ تم بچوں کو پڑھاتے

۲۸

ہو؟ میں نے کہا ہاں ! اس نے کہا "جب استادوں کا یہ حال ہے تو عوام کو ملامت کرنا فضول ہے ۔

کیونکہ عوام تو کالانعام ہوتے ہیں ان کو کچھ بھی نہیں معلوم ہوتا!

میں نے کہا " آپ کیا کہنا چاہتے ہیں ؟ کیا مقصد ہے آپ کا؟

انھوں نے فورا کہا" معاف کیجئے گا ذرایہ تو بتائیے یہ جھوٹے ادعات آپ کہاں سے حاصل کئے ؟

میں نے کہا" تاریخ سے اور جو تمام لوگوں کے نزدیک مشہور ہے ان باتوں سے !

انھوں نے کہا" لوگوں کو خیر جانے دیجئے جناب عالی نے تاریخ کی کون سی کتاب پڑھی ہے ؟

میں نے کہا" میں نے بعض کتابوں کے نام گنوانے شروع کردیئے مثلا"فجر الاسلام""ضحی الاسلام" ظهر الاسلام" احد امین وغیرہ کی کتابون کے نام لئے ۔

وہ    " بھلا احمد امین کی باتین شیعوں پر کیسے حجت ہوجائیں گی ؟ یہ کہہ کر انھوں نے اضافہ کیا دیکھئے عد ل وانصاف کا تقاضا یہ ہے کہ شیعوں کے اصلی مشہور مصادر سے اثبات کیجئیے !

میں" جو بات خاص وعام ہی کے نزدیک مشہور ومعروف ہو اس کی تحقیق کی کیا ضرورت ہے؟

وہ " سنئے جب احمد امین نے پہلی مرتبہ عراق کی زیارت کی تھی تو نجف اشرف میں جن اساتذہ نے ان سے ملاقات کی تھی ان میں  ایک میں بھی تھا اور جب ہم لوگوں نے ان کو سرزنش کی کہ آپ نے شیعوں کے بارے میں کیسے کیسے خرافات تحریر کردیئے ہیں؟ تو انھوں نے یہ کہہ کر معذرت کیل کہ : میں آپ حضرات کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا اور اس سے پہلے کبھی کسی شیعہ سے ملاقات بھی نہیں ہوئی تھی اس لئے معذرت چاہتا ہوں

۲۹

اس پر ہم لوگوں نے کہا " عذرگناہ بدترازگناہ  والی مثال آپ پر صادق آتی ہے ۔جب آپ کو ہمارے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا تو ایسی باتیں آپ نے کیوں تحریر کیں ؟ اس کے بعد ہمارے ہم سفر نے مزید اضافہ کرتے ہوئے کہا" برادر ! جب ہم قرآن کریم سے یہود ونصاری کی غلطی ثابت کرتے ہیں تو قرآن اگر چہ ہمارے لئے حجت  بالغہ ہے لیکن جب وہ لوگ اس کو نہیں مانتے تو اس سے ان کے خلاف دلیل نہیں لائی جاسکتی ۔لیکن اگر ان کی کتابوں جس پر وہ عقیدہ رکھتے ہیں  ان کے مذہب کا بطلان کیا جائے تو یہ دلیل محکم ومضبوط ہوگی ۔ اور قرآن نے یہی کیاہے اسی لئے قرآن سے استدلال کرتےہیں ۔یعنی انھیں کتابوں سے ان کی غلطی ثابت کرو "بقول شخصی میاں کی جوتی میاں کا سرتب توبات صحیح ہے ورنہ نہیں !

ایک پیاسے کو شیریں پانی پی کر جیسے سکون ملتا ہے اسی طرح اپنے ہم سفر کی تقریر کا اثر میرے اوپر ہوا اور اب میں نے اپنے اندر یہ محسوس کیا کہ میں"ناقد حاقد"( کینہ پرور نقاد )نہیں رہا بلکہ"باحث فاقد" (گمشدہ شی کا متلاشی) کی حیثیت اختیار کرلی ہے ۔کیونکہ اس شخص کی منطق سلیم اور حجت قوی کو میری عقل نے تسلیم کرلیا تھا ۔اور اگر میں تھوڑی انکساری برتوں اورکان دھر کے اس کی بات سنوں تویہ کوئی بری بات نہیں ہے ۔

چنانچہ میں نے رفیق سفر سے کہا " اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ محمد (ص) کی رسالت پر ایمان رکھتے ہیں "! اس نے کہا " نہ صرف میں بلکہ پوری دنیائے شیعیت کا یہی عقیدہے ، میرے بھائی ! شیعہ بھائیوں کےبارے میں ایسی بدگمانی نہ کرو"ان بعض الظن اثم " بعض بدگمانی گناہوتی ہے  "اتنا کہہ کر مزید یہ بھی کہا " اگر آپ سردست حقیقت کے متلاشی اور حق کے جویاں ہیں اور اپنی آنکھوں سے دیکھ کر دل سے یقین کرناچاہتے ہیں تو میں آپ کو عراق کی زیارت اور وہاں کے علمائے شیعہ اور عوام سے ملاقات کی دعوت دیتا ہوں ۔ اس کے بعد مخالفین اور مطلب پرستوں کے جھوٹ کا پلندہ

۳۰

کھل جائے گا ۔"

میں نے کہا" میری تویہ دلی تمنا تھی کہ کبھی عراق کی زیارت کروں اور وہاں کے مشہور آثار قدیمہ کو دیکھوں جن کو عباسی خلفاء چھوڑگئے ہیں مخصوصا ہارون رشید کے اسلامی آثار ۔۔۔لیکن اس سلسلے میں چند مجبوریاں میرے پیروں کی بیڑیاں بنی ہین پہلی بات تویہ ہے کہ میرے اقتصادی حالات ٹھیک نہیں ہیں ۔بڑی زحمتوں سے میں نے جوڑ جمع کرے اپنے عمرہ کا انتظام کیا ہے ۔دوسری مجبوری یہ ہ کہ میرا پاسپورٹ اس قسم کا ہے جس پر عراق کی حکومت ویزا نہیں دے گی ۔ورنہ ضرور آتا ۔"

رفیق سفر" جب میں نے آپ کو عراق کی دعوت دی ہے تو بیروت سے بغداد آنے جانے کا پورا خرچہ میں برداشت کروں گا ۔ اور بغداد میں آپ ہمارے مہمان ہونگے ۔اب رہا پاسپورٹ  والا مسئلہ تو اس کو خدا پر چھوڑتے ہیں جب خدا چاہے گا تو آپ بغیر پاسپورٹ کے بھی عراق کی زیارت کرسکتے ہیں ۔ویسے ہم بیروت پہونچتے ہی عرق کے ویزا کی کوشش کریں گے ۔"

میں " اپنے رفیق سفر کی اس پیش کش کو سن کر بہت خوش ہوگیا اور اس سے وعدہ کرلیا کہ انشااللہ کل میں آپ کو اس کا جواب دوں گا ۔۔۔۔۔۔

سونے کے کمرے  سے نکل کر جہاز کے عرشہ پر جاکر میں تازہ ہوا کھانے لگا اور اس وقت تک میں ایک نئی فکر سے دوچار ہوچکا تھا ۔سمندر میں جہاں حد نظر تک پانی ہی پانی دکھائی دے رہا تھا ۔ میری عقل چکر لگارہی تھی ۔ میں اپنے اس خدا کی حمد وتسبیح میں مشغول تھا جس نے اس وسیع کائنات کو خلق فرمایا ہے اور اس جگہ تک پہنچنے پر اس کا شکر کررہا تھا اوریہ دعا بھی کررہا تھا ! خدایا ! مجھے شر اور اہل شر سے محفوظ رکھ ۔ خطا ولغزش سے میری حفاظت فرما۔ میری قوت فکر کے سامنے جیسے فلم دکھائی جارہی ہو اور ایک ایک کرکے تمام واقعات پردہ فلم کی طرح میرے حافظہ کے پردہ فلم پر آنے لگے ۔بچپنے میں جس نازونعم س پلا تھا ،زندگی میں جو واقعات پیش آئے تھے سب ایک ایک کرکے گزرنےلگے اور میں ایک شاندار مستقبل کاخواب دیکھنے لگا ۔اور مجھے یہ احساس ہونے لگا جیسے خدا اور رسول (ص) کی مخصوص عنایتیں مجھے اپنے گھیرے میں لئے ہیں پھر میں

۳۱

مصر کی طرف متوجہ ہو ا جس کے ساحل کا کبھی کبھی کوئی حصہ یہاں سے نظرآجاتا تھا اور دل ہی دل مین مصر کو وداع کہنے لگا ۔اس مصر کو جس کی یادوں میں سے ابھی تک عزیزترین یاد " رسول کی قمیص تھی جس کا بوسہ لیا تھا " مجھے اب بھی ستارہی ہے ۔ اس کے بعد میرے ذہن میں اس نئے شیعہ دوست کا کلام  آنے لگا ۔جس نے میرے بچپنے کے خواب  کی تعبیر کو پورا کرنے کا وعدہ کرکے میرے دامن کو خوشیوں سے بھر دیا تھا ۔۔۔عراق کی زیارت ۔۔اور ان شہروں کی زیارت کرنا چاہتا تھا ۔جن کو میرے ذہن نے تخلیق کیا تھا ۔کہ ہارون کی حکومت نے اس طرح بنایا ہوگا ۔ اور مامون کی حکومت نے اس طرح بنایا ہوگا وہی مامون جو "دارالحکمۃ " کا موسس تھا جس میں مغرب سے مختلف علوم حاصل کرنے والے طلاب آیا کرتے تھے اور اس وقت اسلامی تہذیب اپنے پورے شباب پر تھی ۔اس کے ساتھ عراق ،قطب ربانی شیخ صمدانی سیدی عبدالقادر جیلانی " کا شہر ہے جن کا شہرہ دنیا کے گوشہ گوشہ میں ہے ۔ ان جن کا طریقہ گاؤں گاؤں  میں پہونچا ہواہے  جس کی ہمت تمام ہمتوں سے بلند وبرتر ہے ۔میرے خواب کی تعبیر کے لئے یہ پروردگار کی طرف سے جدید عنایت تھی میں ابھی ابھی خیالات میں ڈوباہوا تھا اور امیدوں وتصورات کے سمندر میں پیر رہا تھا کہ کھانے کی گھنٹی نے مجھے ہوشیار کردیا ۔اور میں بھی ہوٹل کی طرف روانہ ہوگیا ۔ اور جیسا کہ ہر مجمع ہویں ہوتا ہے لوگ ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑ رہے تھے ۔اور ہر شخص دوسرے پر پہلے داخل ہوناچاہتاتھا ۔شوروغل کا یہ عالم تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی اتنے میں میں نے دیکھا کہ میرا شیعہ رفیق سفر میرے کپڑے پکڑ کر اپنی طرف نرمی کے ساتھ پیچھے کی طرف کھینچ رہاتھا ۔ اور کہہ رہا ہے : برادر !بلاوجہ اپنے کو مت تھکاؤ ۔ہم لوگ بعد میں بڑے آرام سے کھالیں گے ۔یہ شور شرابہ بھی ختم  ہوچکا ہوگا ۔میں تو ہر جگہ تم کو تلاش کرتا پھرا اچھا یہ بتاؤ تم نے نماز پڑھ لی ؟ میں نے کہا نہیں ! اس نے کہا" تو آؤ پہلے نماز پڑھ لیں پھر آکر کھانا کھائیں گے ۔ اس وقت تک یہ بھیڑ اور شورغل سب ہی ختم ہوچکا ہوگا ۔ہو لوگ آرام سے کھاسکیں گے !

میں سے اس کی رائے پسند کی اور ہم دونوں ایک خالی جگہ پہونچے وضو کے بعد میں نے اسی

۳۲

کو آگے بڑھا دیا کہ یہی امامت جماعت کرے اور میں دیکھتا ہوں کیسی نماز پڑھتا ہے ۔اپنی نماز میں دوبارہ پڑھ لوں گا اور جوں ہی اس نے اقامت کے بعد قراءت ودعا پڑھی مجھے اپنی رائے بدلنی پڑی ۔کیونکہ کہ مجھے ایسا محسوس ہورہا تھاجیسے میں صحابہ کرام میں سے کسی کے پیچھے پڑھ رہاہوں جن کے بارے میں کتابوں میں پڑھتا رہا ہوں اور ان کے ورع ،تقوی کےف بارے میں پڑھتا رہا ہوں نماز ختم کرکے اس نے ایسی ایسی لمبی دعائیں پڑھیں جن کو اس سے پہلے نہ میں نے اپنے ملک میں سناتھا اور نہ دیگران ممالک میں جہاں کا میں سفر کرچکا تھا ۔ اور جب میں سنتا تھا کہ یہ شخص محمد وآل محمد پر درود پڑھ رہا ہے اور جس کے وہ حضرات اہل ہیں اس سے ثنا کررہا ہے تومیرے دل کو بڑا سکون ملتا تھا اور مطمئن ہوجاتا تھا ۔

نماز کے بعد میں نے اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھے اور یہ دعا کرتے سنا کہ خدا میری بصیرت کھول دے اور مجھے عطا کرے ۔

نماز کے بعد جب ہم ہوٹل پہونچے تو وہ خالی ہوچکا تھا جب تک میں نہیں بیٹھ گیا میرا رفیق نہیں بیٹھا ۔ہمارے لئے کھانے کی دو پلیٹیں لائی گئیں ۔ہم نے دیکھا کہ اس نے اپنی پلیٹ میرے سامنے رکھدی اور میری اٹھا کر اپنے سامنے رکھ لی کیونکہ میری پلیٹ میں گوشت کم تھا ۔ اور مجھ سے اس طرح کھانے کے لئے اصرار کرنے لگا جیسے میں اس کا مہمان ہوں اور کھانے پینے دستر خوان کے ایسے ایسے لطیف قصے سنائے کہ جن کو میرے کانوں نے کبھی سناہی نہیں تھا ۔

مجھے اس کا اخلاق بہت پسند آیا ۔پھر ہم نے نماز عشا پڑھی اور اس نے ایسی دعائیں پڑھیں کہ میں اپنے گریہ کو ضبط نہ کرسکا ۔میں نے خدا سے دعا کی کہ میرا گمان اس کے بارے میں بدل جائے کیونکہ بعض ظنون گناہ ہیں لیکن کون جانتا ہے ؟

اس کے بعد میں سوگیا لیکن خواب میں بھی عراق اور الف لیلۃ کو دیکھتا رہا صبح میری آنکھ اس وقت کھلی جب وہ مجھے صبح کے لئے اٹھا رہا تھا ۔ نماز صبح پڑھ کر ہم دونوں خدا کی ان رحمتوں کا ذکر کرنے لگے جو اس نے مسلمانوں کو دی ہیں ۔۔۔۔دوبارہ میں پھر سوگیا اور جب میری آنکھ کھلی تو

۳۳

میں نے دیکھا وہ اپنے بستر پر بیٹھا ہوا تسبیح پڑھ رہا ہے ۔یہ دیکھ کر میرا نفس بہت مرتاح ہوا میرا دل مطمئن ہوگیا اورم یں نے خدا کی بارگاہ میں استغفار کیا ۔

ہم ہوٹل میں کھانا کھاہی رہے تھے کہ سائرن کی آواز کے بعد یہ اطلاع دی گئی کہ لبنانی ساحل کے قریب ہمار ا شپ ( پانی کا جہاز) پہنچ چکا ہے ۔ اور کچھ دیر کے بعد ہم بیروت کی بندرگاہ پر ہونگے دوگھنٹہ کے بعد اس نے مجھ سے سوال کیا ۔کیا تم نے غور کرلیا اور کسی فیصلہ پر پہونچے ؟ میں نے کہا" اگر ویزا مل جائے تو پھرکوئی مانع نہیں ہے "۔ اور میں نے اسکی دعوت کا شکریہ ادا کیا ۔

بیروت اتر کر ہم نے وہ رات وہیں گزاردی ۔اس کے بعد بیروت سے دمشق کے لئے روانہ ہوگئے ۔وہاں پہونچتے ہی ہم نے سفارت خانہ عراق کارخ کیا اور ناقابل تصور حد تک جلدی میں مجھے ویزا مل گیا ۔جب ہم وہاں سے نکلے تو وہ ہم کو مبارک باد دے رہا تھا اور خدا کی اس اعانت پر اس کی حمد کررہا تھا ۔

۳۴

عراق کی پہلی زیارت

پھر ہم دمشق سے بغداد کے لئے نجف (اشرف ) کے بسوں کی ایک عالمی کمپنی کیایرکنڈیشن لمبی بس میں سوار ہو کر روانہ ہوئے ۔جب بغداد پہونچے  ہیں تو درجہ حرارت 40ڈگری تھا ۔بس سے اتر تے ہی فورا ہم منطقہ "جمال: کے ایک خوبصورت محلہ میں واقع اپنے دوست کے گھر کی طرف روانہ ہوگئے  پورا مکان ہی ایرکنڈیشن تھا اسی لئے وہاں پہونچتے ہی سکون کا احساس ہوا ۔ میرا دوست ایک جھا بڑجھلا قسم کی وسیع قمیص لے کر میرے پاس آیا ۔جس کو وہاں کی زبان میں (دشداشہ) کہتے ہیں ۔

پھر دستر خوان پر قسم قسم کے میوہ جات اورکھانے لگادئیے گئے ۔میرے دوست کے گھر والے مجھے آکر بڑے ادب واحترام سے سلام کرنے لگے ۔ان کے والد کا یہ عالم تھا کہ مجھ سے اس طرح معانقہ کررہے تھے جیسے مجھے پہلے سے جانتے ہوں ۔ البتہ ان کی والدہ سیاہ عبا اوڑھے دروازے پر آکر کھڑی ہوگئیں اور سلام کیا ۔مرحبا کہا میرے دوست نے اپنی والدہ کی طرف سے معذرت کرلی چونکہ ہمارے یہاں مردوں سے مصافحہ ہے اس لئے میری والدہ ہاتھ نہیں ملاسکتیں  مجھے اس پر بہت تعجب ہوا اور میں نے اپنے دل میں کہا جن لوگوں کو ہم متہم کرتے ہیں  کہ یہ دین سے خارج ہیں ۔یہ لوگ ہم سے زیادہ دین کے پابند ہیں ۔اور پہلے بھی سفر میں جو دن اپنے دوست کے ساتھ گزارے تھے میں نے بلندی اخلاق ،عزت نفس ، کرامت ،شہامت کو محسوس کرلیا تھا ایسی تواضع وپرہیز گاری جس کا میں نے کبھی مشاہدہ ہی نہیں کیا تھا اور مجھے یہ احساس ہوگیا کہ ان لوگوں میں میری حیثیت مہمان کی نہیں بلکہ گھر کے ایک فرد جیسی ہے اور گویا اپنے ہی گھر میں ہوں

۳۵

رات کو ہم سب چھت پرسونے کے لئے گئے جہاں سب کے سونے کے بستر الگ الگ بچھائے تھے ۔میں کافی دیر تک جاگتا رہا اور ہیجانی عالم میں یہ جملے ادا کررہا تھا : میں جاگ رہا ہوں یا خواب دیکھ رہا ہوں ؟ کیا واقعی میں بغداد میں سیدی عبدالقادر جیلانی کے پڑوس میں ہوں ؟

میری بڑابڑاہٹ کو سنکر میرے دوست نے ہنستے ہوئے مجھ سے پوچھا ٹیونس والے عبدالقادر جیلانی کےبارے میں کیا کہتے ہیں ؟ پس پھر کیا تھا میں نے تمام وہ کرامات جوہمارے یہاں مشہور ہیں ایک ایک کرکے بیان کرنا شروع کردیا ۔ اور بتایا کہ قطب الدائرۃ ہیں جس طرح محمد مصطفی سیدالانبیاء ہیں اسی طرح وہ سید الاولیاء ہیں جنکے قدم تمام اولیاء کی گردنوں پر ہیں ۔آپ فرمایا کرتے تھے ۔ لوگ خانہ کعبہ کا سات مرتبہ طواف کرتے ہیں اور خانہ کعبہ میرے خیمہ کا طواف کرتا ہے ۔

میں نے اپنے دوست کو یہ کہہ کر قانع کرناچا ہا کہ شیخ عبدالقادر اپنے بعض مریدوں اور چاہنے والوں کے پاس جسم ظاہری میں آتے ہیں ان کی بیماریوں کا علاج کرتے ہیں ۔ ان کی مصیبتوں اور پریشانیوں کو دور کرتے ہیں ۔ اور اس وقت میں "وہابی عقیدہ (جس سے بہت متاثر تھا)کو بھول گیا تھا یا بھلا دیا تھا کہ یہ ساری باتیں شرک باللہ ہیں اورجب میں نے محسوس کیا کہ میرے دوست کو ان باتوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے تو میں نے اپنے نفس کو مطمئن کرنے کے لئے اس سے پو چھا "آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا یہ باتیں صحیح نہیں ہیں ؟

میرے دوست نے ہنستے ہوئے کہا " سفر کرکے تھک گئے ہو سوجاؤ ذرا آرام کرلو! کل انشا اللہ شیخ عبدالقادر کی زیارت کو چلیں گے ۔۔۔اس خبر کو سن کر میرا دل خوشی سے بلیوں اچھلنے لگا ۔ اور میرا دل چاہ رہا تھا کاش اسی وقت صبح ہوجائے ۔ لیکن نیند کاغلبہ ہوچکا تھا اور پھر میں سویا تو سورج نکلنے کے بعد ہی اٹھا ۔میری نماز صبح بھی قضا ہوگئی تھی ۔ میرے دوست نے بتایا کہ اس نے کئی بار مجھے بیدار کرنے کی کوشش کی مگر بیکار۔ اس لئے اس نے چھوڑ دیا تاکہ میں آرام کرلوں

۳۶

(جناب )عبدالقادر جیلانی (حضرت امام) موسی الکاظم (علیہ السلام)

ناشتہ کے بعد ہی ہم لوگ :باب الشیخ" کے لئے روانہ ہوگئے ۔ اور میری آنکھوں نے اس متبرک مقام کی زیارات کی جس کی تمنا نہ جانے کب سے میرے دل میں کروٹیں لے رہی تھی ۔میں دوڑ نے لگا ۔جیسے کسی کے دید کا مشتاق ہو اور اس بیتابی سے داخل ہوا ۔ جیسے کسی کی گود میں اپنے کو گرادوں گا ۔ جدھر میں جاتا تھا میرا دوست سایہ کی طرح ساتھ ساتھ رہتا تھا ۔ آخر زائرین کے اس ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر میں کود پڑا ۔جو قبر شیخ کی زیارت کے لئے اس طرح ٹوٹے پڑرہے تھے  جیسے حاجی لوگ بیت اللہ الحرام پر گرتے ہیں ،کچھ لوگ ہاتھوں میں حلوا لے کر پھینک رہے تھے اور زائرین اس کو اٹھانے کے لئے ایک دوسرے پر سبقت کی کوشش کرتے تھے میں بھی دوڑکر دوٹکڑے اٹھالئے ۔ایک تو برکت کے لئے وہیں فورا کھا گیا ۔اور دوسرا یادگار کے عنوان پر اپنی جیب میں محفوظ کرلیا ۔ وہاں نماز پڑھی جسب مقدور دعاپڑھی ،پانی اسطرح پیا جیسے آب زم زم پی رہا ہوں ۔ میں نے اپنے دوست سے کہا کہ آپ اتنی دیر میرا انتظار کیجئے کہ میں اپنے ٹیونی دوستوں کو اسی جگہ سے خرید ے ہوئے ان لفالفوں  پر خط لکھ دوں جن پر مقام شیخ عبدالقادر کے سبز گنبد کی تصویر ہے تاکہ اپنے دوستوں پر یہ بات ثابت کرسکوں اور رشتہ داروں پر بھی کہ میری بلند ہمتی دیکھئے جس نے مجھے وہاں پہونچا دیا ۔جہاں یہ لوگ نہیں پہونچ پائے ۔

یہاں فرصت پاکر ہم لوگوں نے ایک قومی ہوٹل میں دوپہر کا کھانا کھایا ۔یہ ہوٹل بغداد کے عین وسط میں واقع تھا ۔اس کے بعد میرے دوست نے کرایہ کی ٹیکسی لی اور ہم لوگ کاظمین پہونچے اس لفظ کی معرفت اسی وقت ہوگئی تھی جب میرا دوست  ٹیکسی ڈرائیور سے گفتگو کرتے ہوئے اس لفظ کو تکرار کرتاتھا ۔ابھی ہم ٹیکسی سے اتر کر تھوڑی دور چلے ہونگے کہ لوگوں کی بہت بڑی جمعیت جس میں مرد عورتیں بچے سب شامل تھے اسی طرف جارہے تھے جدھر ہم لوگ رواں دواں تھے یہ لوگ کچھ

۳۷

سامان بھی اٹھا ئے ہوئے تھے اس منظر کو دیکھتے ہی مجھے حج کا منظر یاد آگیا ۔ ابھی تک مجھے منزل مقصود کا پتہ نہیں تھا ۔ اتنے میں کچھ سونے کے قبے اور منارے دکھائی دیئے جو آنکھوں کو چکا چوند کررہے تھے ۔مجھے یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ یہ شیعوں کی مسجد ہے کیونکہ میں پہلے سے جانتا تھا ۔کہ یہ لوگ اپنی مسجدوں کو سونے چاندی س ملمع کرتے ہیں جو اسلام میں حرام ہے اس خیال کر آتے ہی میرا جی چاہا کہ میں جانے سے انکار کردوں ۔لیکن اپنے دوست کی دل شکنی کا خیال کرتے ہوئے غیر اختیار ی طور پر ساتھ ساتھ چلاہی گیا ۔

پہلے دروازے سے داخل ہوتے ہی میں نے دیکھا بوڑھے بوڑھے سن سفید ڈاڑھی والے دروازوں کو مس کررہے ہیں اور بوسہ دے رہے ہیں لیکن ایک کافی بڑے سائن بورڈ کو دیکھ کر مجھے ذرا تسلی ہوئی جس پر لکھا تھا( بے حجاب عورتوں کا داخلہ ممنوع ہے ) ار اسی کےساتھ امام علی کی ایک حدیث  بھی لکھی تھی  ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا جب عورتیں نیم عریاں لباس پہنیں گی ۔۔۔۔۔ ہم ایک جگہ پہونچے میرا دوست تو اذن دخول پڑھنے لگا اور میں دروازے کو دیکھ دیکھ کر متعجب ہوتا رہا جس پر سونے کے بہترین نقوش تھے اور پورے دروازے پر قرآنی آیات لکھی ہوئی تھیں۔۔۔۔۔ اذن دخول پڑھ کر جب میرا دوست اندر داخل ہونے لگا تومیں اس کے پیچھے لگ لیا اور میرے ذہن میں بار بار بعض کتابوں کی چند سطریں آرہی تھیں جن میں شیعوں کے کفر کا فتوی دیا گیا ہے ۔میں نے داخل مقام  میں ایسے نقش ونگار دیکھے جن کا کبھی تصور بھی نہیں کرسکا تھا اور جب میں نے اپنے کو ایک غیرمانوس وغیر معروف ماحول میں پایا تو دہشت زدہ رہ گیا ۔ اور وقتا فوقتا میں بڑی نفرت سے ان لوگوں کو دیکھ لیتا تھا جو ضریح کا طواف کررہے ہیں ۔ رودھو رہے ہیں ضریح کو چوم رہے ہیں اس کی لکڑیوں کو بوسے دے رہے ہیں ۔ اور بعض تو ضریح کے پاس نماز پڑھ رہے ہیں ۔ فورا ہی میرے ذہن میں رسولخدا کی حدیث آگئی ۔خدا یہودیوں اور عیسائیوں پر لعنت کرے انھوں نے اولیاء خدا کی فبروں کو مسجد بنا لیا ۔اور میں اپنے اس دوست سے بھی دور ہوگیا جو داخل ہوتے ہی بے تحاشا رونے لگا ۔ پھر میں اس کو نماز پرھتا چھوڑ کر اس لکھے ہوئے زیارت نامہ کے قریب پہونچا جو ضریح پر لٹکا ہوا

۳۸

تھا ۔ میں نے اس کو پڑھنا شروع کیا ۔ لیکن اس میں ایسے عجیب وغریب اسماء تھے جن کو میں جانتا ہیں نہیں تھا اس لئے زیادہ حصہ میری سمجھ میں نہیں آیا ۔میں نے گوشہ میں کھڑے ہوکر فاتحہ پڑھی اور کہا خدا وندا ! اگر یہ مسلمان میں سے ہے تو اس پر رحم فرما اور تو سب کی حقیقت حال کو جاننے والا ہے ۔اتنے میں میرا دوست میرے قریب آکر میرے کان میں بولا اگر تمہاری کوئی حاجت ہے تو یہاں پرخدا سے سوال کرو پوری ہوجائے گی کیونکہ ہم لوگ ان کو باب الحوائج کہتے ہیں ۔ میں نے اپنے دوست کے قول کوسنی ان سنی کردی ۔ خدا مجھے معاف کردے ۔ میں تو ان بوڑھوں کو دیکھ رہا تھا جن کے نہ منہ میں دانت نہ پیٹ میں آنت ،سن سفید سی لمبی لمبی داڑھیاں سروں پرسیاہ وسفید عمامے پیشانیوں پرسجدوں کے نشانات ،ان کے جسموں سے خوشبو کی لپٹیں آرہی تھیں ۔تیز تیز نظر رکھنے والے کہ ان میں سے جب بھی کوئی داخل ہوتا تو داڑھیں مار مار کر رونے لگتا تھا ۔اس چیز نے مجھے اپنے دل ودماغ  سے یہ سوال کرنے پر آمادہ کردیا ۔ کیایہ سارے آنسو جھوٹے ہیں ؟ کیا یہ عمر رسیدہ لوگ سب ہی غلطی پر ہیں ۔؟ان چیزوں کا مشاہدہ کرکے میں حیران وپریشان وہاں سے نکالا ۔جبکہ میرا دوست پشت کی طرف سے چلتا ہوا نکلا کہ کہیں اس کی پشت صاحب قبر کی طرف نہ ہو جائے یہ ادب واحترام کا بنا پر تھا ۔میں نے پوچھا : یہ کس کا مقبرہ ہے ؟"

دوست:-" الامام موسی کاظم (ع)۔

میں :-" یہ امام موسی کاظم کون ہے؟"

دوست:-" سبحان اللہ تم برادران اہل سنت نے مغز کو چھوڑ کر چھلکے سے وابستگی اختیار کرلی ہے ۔ "

میں:-" (غصہ اور ناراضگی کے ساتھ) یہ کیسے آپ نے کہہ دیا کہ ہم نے چھلکے سے تمسک کیا ہے اور مغز کو چھوڑ دیا ہے ؟"

دوست:-" (مجھے دلاسہ دلاتے ہوئ) برادر آپ جب عراق آئے ہیں برابر عبدالقادر جیلانی کا ذکر کررہے ہیں آخر یہ عبدالقادر جیلانی کون ہے؟ جس کا آپ اتنا احترام کرتے ہیں ؟"

میں :-"( فورا فخر سے ) یہ ذریت رسول سے ہیں اگر رسول خدا کے بعد کوئی نبی ہوتا تو یہی ہوتے !"

۳۹

دوست:-" برادر ! کیا اسلامی تاریخ سے آپ کو واقفیت ہے؟

میں :-" بغیر کسی تامل وتردد کے ۔جی ہاں ہے !  حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ اسلامی تاریخ کے بارے میں میری معلومات صفر کے برابر ہیں کیونکہ میرے استاتذہ  اور مدرسین اس کو پڑھنے سے روکتے تھے اور کہتے تھے " اسلامی تاریخ ایک سیاہ وتاریک تاریخ ہے ۔ اس کے پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ بطور مثال عرض کروں ۔میرے بلاغت کے استاد امام علی (ع) کی کتاب نہج البلاغہ کا خطبہ شقشقیہ پڑھا رہے تھے ۔اس خطبہ کوپڑھنے  میری طرح اور لڑکے بھی متحیر ہوگئے آخر میں نے ہمت کرکے پوچھ ہی لیا ۔کیا یہ واقعی الامام علی کا کلام ہے ؟

استاد نے کہا:-" قطعا بھلا علی کے علاوہ ایسی بلاغت کسی کو نصیب ہوسکتی ہے؟ اگر یہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا کلام نہ ہوتا تو علمائے مسلمین جیسے الشیخ محمد عبدہ مفتی الدیار المصریہ قسم کے لوگ اس کی شرح میں اتنا اہتمام نہ کرتے" ۔

میں :-" اس وقت میں نے کہا الامام علی (علیہ السلام) ابو بکر وعمر کو غاصب خلافت کہہ کر متھم کررہے ہیں" ۔ یہ سن کر استاد کو غصہ آگیا اور مجھے زور سے ڈانٹا اور دھمکی دی کہ اگر دوبارہ تم نے ایسے سوالات کئے تونکال دوں گا ۔پھر استاد نے اتنا اور اضافہ فرمایا :- میں بلاغت پڑھانے آیا ہوں تاریخ کا درس نہیں دے رہا ہوں ۔ ہم کو آج اس تاریخ سے کیا سروکار جس کے صفحات مسلمانوں کی خونی جنگوں اور فتنوں سے بھرے پڑے ہیں ۔ خدا نے جس طرح ہماری تلواروں کو مسلمانوں کے خون سے پاک وپاکیزہ رکھا ہے اسی طرح ہمارا فریضہ ہے کہ اپنی زبان کو سب وشتم سےپاک رکھیں ۔استاد کی اس دلیل سے میں قانع نہیں ہوا بلکہ اس پر غصہ آیا کہ ہم کو بے معنی بلاغت کی تعلیم دیتے ہیں ۔ میں نے اسلامی تاریخ پڑھنے کا کئی مرتبہ ارادہ کیا ۔لیکن مصادر وامکانات کی کمی راستہ کا روڑ ابنی رہی ۔ اور ہم نے اپنے علماء واستاتذہ میں بھی کسی کو نہ دیکھا جو تاریخ کا اہتمام کرتا ہو یا اس سے دلچسپی رکھتا ہو یا گویا سبھوں نے اس کو طاق نسیان پر رکھنے اور مطالعہ نہ کرنے پر اجتماع کر رکھا ہے ۔ اسی لئے آپ کو کوئی بھی ایسا نہیں ملے گا جس کے پاس تاریخ کی کوئی کامل کتاب ہو۔

۴۰

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253