معاویہ

معاویہ  0%

معاویہ  مؤلف:
: عرفان حیدر
زمرہ جات: متن تاریخ
صفحے: 346

معاویہ

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: آیت اللہ سید مرتضی مجتہدی سیستانی
: عرفان حیدر
زمرہ جات: صفحے: 346
مشاہدے: 82589
ڈاؤنلوڈ: 3272

تبصرے:

معاویہ
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 346 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 82589 / ڈاؤنلوڈ: 3272
سائز سائز سائز
معاویہ

معاویہ

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

معاویہ

جلد-1

تألیف

آیت اللہ سید مرتضی مجتہدی سیستانی

ترجمہ

عرفان حیدر

۱

کتاب :.........................معاویہ جلد-1

مؤلف : آیت اللہ سید مرتضیٰ مجتہدی سیستانی

 ترجمہ : عرفان حیدر

نظر ثانی:........................سید ساجد رضوی ، زین العابدین علوی

کمپوزنگ : ..................  شاذان حیدر

ڈیزاین : ..........................  شایان حیدر

طبع: .  اوّل

تاریخ طبع :........................23 نومبر 2013 ئ

تعداد:. ............................2000    

قیمت: .............................250

ناشر.................................. الماس قم

مؤلف کی ویب سائیٹ :www.almonji.com

ہم سے رابطہ:info@almonji.com

ایمیل:irfanhaider014@gmail.com

۲

انتساب

میں اپنی یہ ناچیز کاوش وارث علم کردگار، حامل علم رسول مختار، ناظر گردش لیل و نہار،

شیعیت کی محور و مدار، نور چشم صاحب ذوالفقار ، قائم آل محمد،

یوسف زہرا علیہا السلام، حضرت حجت عجل اللہ فرجہ الشریف کی پاک بارگاہ

میں پیش کر کے قبولیت کا متمنی ہوں۔

۳

بسم الله الرحمن الرحیم

حرف مترجم

تاریخ میں کچھ ایسی شخصیات ہوتی ہیںکہ جن کی زندگی کا ہدف  و مقصد انسان کو سعادت تک پہنچانا ہے اور کچھ ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو شیطان کی نیابت میں  لوگوں کو ہلاک و گمراہ کرنے کا کام بطور احسن انجام دیتے ہیں۔

خدا وندعالم کی طرف سے معین کئے ہوئے الٰہی نمائندے، پیغمبر اوراہلبیت اطہار علیہم السلام  وہی شخصیات ہیں جنہوں نے اپنی بے مثال سیرت اور بے نظیر کردار کے ذریعہ انسانی معاشرہ کی دنیاوی و اخروی سعادت کی طرف ہدایت و راہنمائی کی۔

بیشک پیغمبراکرم(ص)  ایک نور تھے جو انسانوں کے تاریک قلب ودماغ میں چمکیاور معاشرے کو تہذیب وتمدن کا ایسا تحفہ پیش کیا جو آج تک تمام انسانی قوانین میں سب سے بہترین ہے اور ہر شخص اس بات کی تصدیق کرتاہے کہ اگر صرف مسلمان ہی رسول خاتم(ص) کی تعلیمات پر عمل کرتے اور اختلاف ، تفرقہ ، تعصب اور خود غرضی سے پرہیز کرتے تو یقینا  چودہ سو سال گذرجانے کے بعد آج بھی اس تہذیب وتمدن کے مبارک درخت سے بہترین ثمر تناول کرتے،لیکن افسوس صد افسوس کہ پیغمبر (ص) کی جانسوز اور دردناک رحلت کے بعد ظاہراً اسلام قبول کرنے والے کچھ مسلمانوں پر خود غرضی اور مقام طلبیحاکم ہو گئی اور وہ رسول (ص) کے بتائے ہوئے خدا ساختہ راستہ کو چھوڑ کر خود سا ختہ راستہ پر نکل پڑے    اور آجتک انسان اور بالخصوص مسلمان ان کے اس گناہ عظیم کی سزا بھگت رہے ہیں۔

لیکن خدائے عظیم نے ان کریم  ہستیوں کے ذریعہ ہر دور کے انسان کے لئے ہدایت کا سامان فراہم کیا ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ انسان تعصب و تنگ نظری اور اپنے آباء و اجداد کی اندھی تقلید کو چھوڑ کرحقیقی معنوں میں منطقی طریقے سے تحقیق و جستجو کرے۔

۴

 ان معصوم ہستیوں کیسیرت و کردارصرف اسی دور کے مسلمانوں کے لئے ہی اسوہ نہیںتھی بلکہ ان کی احادیث اور پیشنگوئیاں ہر دور کے مسلمان کے لئے ہدایت کا وسیلہ ہیں ۔ رسول اکرم(ص) اور امیر کائنات علی علیہ السلام نے اپنی پیشنگوئیوں کے ذریعہ مسلمانوں کو آئندہ کے واقعات و حادثات اور  اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کو نیست و نابود کرنے والے  شیطان کے نائبین خاص سے  آگاہ فرماتا کہ لوگ ان ظاہری مسلمانوں کے شرّ سے محفوظ رہیں۔

یہ کتاب بھی راہ حق  سے بھٹکے ہوئے سادہ لوح  افرادکے لئے نایاب تحفہ ہے جن کے لئے یہ چراغ راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔اس کتاب میں اسلام  کے سب سے بڑے دشمن بنی امیہ اور بالخصوص معاویہ کے خبیث چہرے سے پیغمبر(ص) کی احادیث اور پیشنگوئیوں کے ذریعہ  نقاب کشائی کی گئی ہیں تاکہ  ہمارے اہلسنت بھائی یہ جان لیں کہ وہ جسے اپنا خلیفہ مانتے ہیں وہ اسلام کے نام پر اسلام کو ہی مٹانے کے لئے کس حد تک کوشاں رہا۔

اور یقینا اس کار خیر کو انجام دینا مجھ  اکیلے کے بس کی بات نہیں تھی لہذا میں اپنے والدین، اساتید، بھائیوں اور دوستوں کا شکر گذار ہوں جنہوں نے اس کام میں میرے راہنمائی کی اور اپنے مفید مشوروں سے نوازا۔خداان کی توفیقات میں اضافہ فرمائے اور وقت کے ہادی، راہنما، یوسف زہرا،امام زمانہ(عجل الله تعالى فرجه ) کے ظہور میں تعجیل فرمائے۔

عرفان حیدر

قم المقدس ( ایران )

۵

بسم الله الرحمن الرحیم

پیش گفتار

    ایک اہم نکتہ

    یہود و نصاریٰ پر فریفتہ ہونے کے بارے میں رسول اکرم(ص) کا سخت رو یّہ

    بے ایمانی، یہودیوں کے وحشی کردار کا راز

    یہودیوں کے بارے میں ''ہٹلر'' کی رپورٹ

    اس کتاب کے بارے میں

    معاویہ بروز غدیر

۶

ایک اہم نکتہ

محققین جس بارے میں بھی تحقیق کریں اور جس موضوع کے بارے میں تحقیق کا آغاز کریں انہیں اس نکتہ کی طرف توجہ کرنی چاہئے کہ اس موضوع سے مربوط بہت سے تاریخی ،تفسیری اور فقہی حقائق مطالب پر دقّت اور غور وفکرکرنے سے ہی حاصل ہوتے ہیں ۔

مثال کے طور پر تاریخ اور تاریخ نگاری میں ہو سکتا ہے کہ بعض مؤرخین نے تاریخی حقائق کو واضح و آشکار طور پر بیان نہ کیا ہواور ممکن ہے کہ یہ ان حقائق سے لاعلمی کی دلیل ہو یا اس میںمؤرخین کے اغراض و مقاصدشامل ہوں ۔لیکن جو محققین اور اہل تحقیق تاریخ کے اوراق میں پوشیدہ حقائق سب کے آشکار کرنا چاہتے ہیں ،انہیں  چاہئے کہ ان مطالب کو عام سطحی نظر سے نہ دیکھیں بلکہ جو کچھ پڑھیں اس پر دقّت اور مکمل فہم و فراست سے غور وفکر اور تأمل کریں  تاکہ اس غور و فکر ور تدبّر کی وجہ سے تاریخ کے تاریک اور بیان نہ کئے گئے نکات کوواضح و روشن کرکے معاشرے کے لئے بیان کریں۔

اب ہم تاریخ کا ایک چھوٹا سا نکتہ بیان کرتے ہیں اور پھر ہم اس کی علت کے بارے میں جستجو کریں گے:

تاریخ میں  ذکر ہواہے :اسلام کی طرف مائل ہونے والے یہودی اور عیسائی عثمان کے زمانے تک اسے خلیفہ مانتے تھے حتی کہ جب عثمان کے گھر کا محاصرہ کیا گیا تو ان میں سے کچھ نے تو جانفشانی کی حد تک عثمان کا دفاع کیا لیکن عثمان کے قتل کے بعد ان میں سے بہت سے معروف افراد نے نہ صرف امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی اطاعت نہ کی بلکہ مدینہ کو چھوڑ کر شام میں معاویہ کے گرد جمع ہو گئے!

یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے تاریخ نے بیان کیا ہے اور ایسے ہی کچھ نمونے ہم نے اس کتاب میں ذکر کئے ہیں۔اب اس بارے میں غور و فکر کریں کہ ظاہری طور پر مسلمان ہونے والے یہ یہودی و عیسائی کیوں عثمان کی حمایت کرنے کے لئے تیار تھے؟اورانہوں نے کیوں  امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی حمایت نہ کی ؟اور کیوں انہوں نے شام جا کر معاویہ کی حمایت کی؟

۷

کیا ان کے اس عمل کو اس چیز کی دلیل نہیں سمجھا جا سکتا کہ کہ وہ اپنے اہداف و مقاصد کے پیش نظر ظاہری طور پر مسلمان ہوئے اور عثمان کے گرد جمع ہو گئے؟عثمان نے ان کے لئے ایسا کیا کیا کہ مسلمانوں نے اسے یہودیوں کے قبرستان میں دفن کیا؟کیوں انہوں نے خاندان وحی علیہم السلام کا دامن نہ تھاما اور معاویہ کے پیچھے چل پڑے؟

ان امورپر غور کرنا اس حقیقت کو واضح کر دیتاہے کہ ظاہری طورپر مسلمان ہونے والے یہودیوں اور عیسائیوں کے ایک گروہ نے اسلام کو نقصان پہنچانے کے لئے معاویہ کو طاقت دی؟حتی انہوں نے عثمان کے قتل ہونے سے پہلے ہی معاویہ کو  خلیفہ کے عنوان سے واضح کر دیا تھا۔ان کے شام جانے کے بعد معاویہ نے انہیں قبول کر لیا اور ان میں سے بعض کو تو مسلمانوں کی سرپرستی کے لئے بھی منتخب کر لیا!!

ان کے مسلمان ہونے کے آثار میں سے ایک اسرائیلیات،خرافات اور جھوٹی حدیثیں گھڑنا تھا۔وہ ظاہری طور پر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر ان امور کی ترویج کرتے تھے اور اسلام کے لئے درد دل نہ رکھنے والے خلفاء نے انہیں کھلی چھوٹ دے دی۔یہ ایسے افراد کے مسلمان ہونے کے عامل میں سے  ایک ہے۔

جی ہاں!انہوں نے اصحاب پیغمبر (ص) کے نام پر دین پیغمبرکو نقصان پہنچایا اوریہ نکتہ بہت ہی قابل غور ہے کہ عمر کے بہت سے رشتہ دار ایسے ہی افراد کے دوست اور ہم نشین تھے۔

کتاب''اسرائیلیات اور اس کے اثرات''میں لکھتے ہیں:

جو چیز اسرائیلیات اور اہل کتاب کے خرافاتی و جعلی قصوں کو پھیلانے میں مدد کرتی تھی وہ بعض یہودو نصارا علماء کا ظاہری اسلام لانا تھا کہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اور حتی کہ اصحاب پیغمبر(ص) کا لبادہ اوڑھ کر  وہ بڑی آسانی سے  اپنے بہت سے خرافاتی عقائد اور فکری رسومات کو روایات اور احادیث کے قالب میں مسلمان کے سپرد کرسکتے تھے اور اسلام کی شفاف فرہنگ کو اپنے مجعولات و توہمات سے آلودہ کر سکتے تھے۔

۸

اہل کتاب میں سے اس مسلمان نما گروہ کی اسرائیلیات کو قبول کرنے کے عوامل میں سے ایک یہ بھی تھا کہ اکثر مسلمان انہیں رسول خدا(ص)کے اصحاب کے برابر شان و مرتبہ د یتے تھے اور ان کے لئے عزت اور تقرب کے قائل تھے حلانکہ کے وہ ان کی پست نیتوں سے بے خبر تھے۔امیر المؤمنین علی علیہ السلام اس مسلمان نما گروہ سے جعل حدیث کے موضوع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:''پیغمبر خدا(ص)سے حد یث نقل کرنے والا ایک گروہ ایسے منافقوں کا ہے کہ جو ظاہری طور پر تو اسلام لائے لیکن انہوں نے جان بوجھ کر پیغمبر اکرم (ص)ک ی طرف ججھوٹی نسبت دی ۔اگر لوگ جان لیتے کہ یہ جھوٹ بول رہے ہیں تو ان کی حدیث کو قبول نہ کرتے، لیکن لوگ کہتے ہیں :یہ رسول خدا(ص)کے اصحاب ہ یں ؛انہوں نے آنحضرت کو دیکھا ہے اور ان سے حدیث سنی ہے ،اس وجہ سے ان کی حدیث کو قبول کرتے ہیں ؛ حلانکہ خدا نے قرآن میں منافق صحابیوں کی صفات بیان کرکے ان کے جھوٹ کو بیان کیا ہے.....۔یہ جھوٹے منافقین پیغمبر اکرم(ص)کے بعد بھ ی زندہ رہے اور اپنے جھوٹ اور بہتان کے ذریعہ گمراہ رہبروں کے مقرب بن گئے اور ان رہبروں نے انہیں حکومتی منصب عطا کئے اور انہیں لوگوں پر مسلّط کر دیا اور ان کے ذریعہ اپنی دنیا کو آباد کیا ۔ لوگ اپنے حاکموں کے فرمانروا اور دنیا کے ساتھ ہیں،مگر ان حضرات کے علاوہ کہ جنہیں خدا محفوظ رکھے''(1) حضرت علی علیہ السلام کے اس فرمان کے لئے تاریخ اسلام میں متعدد اور واضح مثالیں موجود ہیں کہ جو مسلمان کے اصحاب کی صف میں بیٹھنے والے ایسے ہی اہل کتاب سے خوش بینی پر مبنی ہیں ؛حتی کہ بعض تاریخی منابع میں یہاں تک ذکر ہوا ہے:معاذ بن جبل نے حالت احتضار میں اپنے اطرافیوں کو تاکید کی کہ چار افراد سے علم حاصل کریں: سلمان،ابن مسعود ،ابو درداء اور عبداللہ بن سلاّم (جویہودی تھا اورپھر اس نے اسلام قبول کیاتھا)؛ کیونکہ میں نے پیغمبر(ص) سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا:وہ (یعنی عبداللہ بن سلاّم) ان دس افراد میں سے ہے جو بہشت الٰہی میں جائیں گے!(2) اس سے واضح اور صریح روایت  ہے: ایک شخص نے کسی مسئلہ کے بارے میں عبداللہ عمر سے پوچھا۔ جب کہ عبداللہ کے پاس یوسف نام کا ایک یہودی بیٹھا ہوا تھا،عبداللہ نے اس سے کہا:

--------------

(1):- نہج البلاغہ، خطبہ:201،اصول کافی:ج 1ص۱۰6-(2):- التفسیر المفسرون:ج1ص۱۸6،الصحیح من سیرة النبی الأعظم: ج۱ص۱۰6

۹

یوسف سے سوال پوچھوکہ خدا نے ان کے بارے میں فرمایاہے:(فَاسْئَلُوا أَهْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاٰ تَعْلَمُوْنَ) (1)(2) اس واقعہ میں کچھ ایسے نکات ہیں جو قابل غور ہیں:

1۔ معاذ بن جبل(عمر کا دوست) نے کیوں عبداللہ بن سلاّم (جو یہودی سے مسلمان ہوا تھا) کا نام لیا لیکن امیر المؤمنین علی علیہ السلام کا نام نہ لیا جب کہ آپ ہمیشہ پیغمبر اکرم(ص) کے ساتھ ہوتے تھے؟! کیا یہودی سے مسلمان ہونے والا عبد اللہ بن سلاّم دینی عقائد و مسائل  امیر المؤمنین علی علیہ السلام (نعوذ بالله) زیادہ جانتا تھا؟!یا اس کی وجہ یہ تھی کہ عبداللہ بن سلاّم دین کے نام پر دوسرے مطالب بھی نادان اور لا علم مسلمانوں کے حوالہ کرتا تھا؟!

2۔ جب کسی مسئلہ کے بارے میں عبداللہ بن عمر سے سوال کیا تو اس نے کیوں یوسف نام کے ایک یہودی کی طرف رجوع کرنے کو کہا؟

3۔ کیوں عبداللہ بن عمر نے آیۂ شریفہ(فَاسْئَلُوا أَهْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاٰ تَعْلَمُوْنَ) کو یوسف اور اس جیسے دوسرے لوگوں پر تطبیق دی؟! حلانکہ شیعہ اور سنّی تفاسیر میں ہے کہ یہ آیت اہلبیت اطہار علیہم السلام کی شان میں ہے۔

4۔ کیوں عبداللہ بن عمر ایک یہودی شخص کا ہم نشین تھا اور اس نے کیوں اسے اتنا سراہا؟!

5۔عبد اللہ بن عمر نے یہودی سے ہم نشینی اور اسے سراہنا کس سے سیکھا؟کیا خود ہی اس کی ایسی عادت تھی؟کیا عمرکو اس کے اس عمل اور رویہ کا علم  تھا؟اگر وہ اس سے آگاہ تھا تو کیوں اسے اس کام سے منع نہ کیا؟ اگر عمر اس کے اس کام سے آگاہ  نہیں تھا تو جو مدینہ میں اپنے بیٹے کے کاموں سے آگاہ نہ ہو تو وہ کس طرح پورے ملک میں مسلمانوں کے امور سے باخبر ہو سکتاہے؟!! یہ واضح ہے کہ ان امور میںغور و فکر اور دقّت کرنے سے جستجو کرنے والوں کے لئے اہم مطالب آشکار ہوں گے۔

قابل توجہ ہے کہ رسول خدا(ص) نے تمام مسلمانوں کو اہل کتاب کی ہم نشینی سے منع فرمایا تھا۔

--------------

(1):- سورۂ انبیاء، آیت:7'' اگر تم نہیں جانتے تو اہل ذکر سے پوچھو''،الصحیح من سیرة النبی الأعظم   سے منقول: ج۱ص۱۰6

(2):- اسرائیلیات وتأثیر آن بر داستان ہای انبیاء در تفاسیر قرآن:47

۱۰

 یہود و نصاریٰ پر فریفتہ ہونے کے بارے میں رسول اکرم(ص) کا سخت رویّہ

پیغمبر اکرم(ص) نے مسلمانوں کو اہل کتاب کی طرف رجوع کرنے ،ان سے سوال پوچھنے اور ان کی مسخ شدہ فرہنگ و ثقافت کے سامنےجھکنے سے منع فرمایاہے ۔اور جو لوگ اہل کتاب اور ان کی تحریف شدہ کتابوں کو احترام وتقدّس کی نظر سے دیکھتے تھے   آپ انہیں خبردار کرتے تھےکہ ظہور اسلام کے زمانے میں اسلام کی حیات بخش اور شفّاف تعلیمات کے ہوتے ہوئے ایسے عقائد کی کوئی جگہ باقی نہیں رہتی۔درج ذیل چند مثالیں آنحضرت(ص) کے موقف کو بیان کرتی ہیں:

تفسیر ''در المنثور'' میں بیان ہوا ہے کہ رسول اکرم (ص) کے کچھ صحابی تورات  میں  سے کچھ چیزیں لکھتے تھے ،یہ خبر رسول اکرم(ص) تک پہنچی تو آپ نے فرمایا:

بیوقوفوں  میں سب سے بڑے  بیوقوف اور گمراہوں میں سب سے بڑیگمراہ وہ لوگ ہیں جو پیغمبروں پر نازل کی گئی خدا کی کتاب سے روگردانی کریں اور ایسی کتابوں کی طرف مائل ہوں کہ جو خدا نے ان کے پیغمبر کے علاوہ کسی  دوسرے پیغمبر پر نازل کی ہواور اس امت کے علاوہ کسی اور امت کے لئے بھیجی گئی ہو۔

اسی واقعہ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی:

(أَوَلَمْ یَکْفِهِمْ أَنَّا أَنْزَلْنَا عَلَیْْکَ الْکِتَابَ یُتْلَی عَلَیْْهِمْ ِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَرَحْمَةً وَذِکْرَی لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ) (1)(2)

 کیا ان کے لئے یہ کافی نہیں ہے کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جس کی ان کے سامنے تلاوت کی جاتی ہے اور یقینا اس میںرحمت اور ایماندار قوم کے لئے یاددہانی کا سامان موجود ہے ۔

--------------

(1):- سورۂ عنکبوت، آیت:51

(2):- تفسیر الدر المنثور:ج 5ص148اور149۔ نیز ملاحظہ فرمائیں: تفسیر المیزان:ج16ص225

۱۱

اکثر مفسرین کا یہ عقیدہ ہے کہ مذکورہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جنہوں نے گذشتہ کتابوں سے خرافات کے ساتھ ملے جلے مطالب لکھے اور ان پر اعتماد کیا لہذا خدا نے انہیں بتا دیاکہ ان کے لئے قرآن کافی ہے۔(1)

صاحب تفسیر ''کشف الأسرار''اس آیت کا شان نزول عمر بن خطاب کو قرار دیتے ہیں کہ جو پیغمبر اکرم(ص) کے سامنے تورات کے ایک حصہ کو پڑھنے میں مصروف تھا جس کی وجہ سے رسول خدا(ص) ناراض ہوئے اور اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی۔(3)(2)

--------------

(1):- دیکھئے: تفسیر التبیان:2188 اور تفسیر طبری:721

(2):- تفسیر کشف الأسرار: ج۷ص407 اور 408

(3):- اسرائیلیات وتأثیر آن بر داستان ہای انبیاء در تفاسیر قرآن:47

۱۲

 بے ایمانی، یہودیوں کے وحشی کردار کا راز

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام نے کیوں مسلمانوں کو یہودیوں سے تعلق و واسطہ رکھنے سے منع کیا ہے اور حکم دیا ہے کہ ان سے دوری  اختیارکی جائے؟

اس سوال کے جواب میں ہم کہتے ہیں:انسان کابرے اور ناپسندیدہ کاموں سے بچنے کے اہم عوامل میں سے ایک خداوند کریم پر ایمان اور قیامت پر اعتقاد رکھنا ہے۔

اگر انسان خدا اور روز قیامت پر اعتقاد رکھتا ہو اور یہ جانتا ہو کہ انسان کے تمام اعمال ،کردار بلکہ کے تمام سوچ و افکار کے اثرات ہیں جو آئندہ اس کی طرف لوٹا دیئے جائیں گے لہذا وہ کوشش کرے گا کہ اس کے اعمال،افکار اور کردار ایسے ہوں کہ جواس کی ذاتی زندگی اور دوسروں کے لئے نقصان دہ اور منفی اثرات نہ رکھتے ہوں۔

گذشتہ لوگوں کی تاریخ کو ملاحظہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ تاریخ میں سب سے بڑے مجرم وہ لوگ ہیں کہ جو خدا اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتے ۔اسی لئے انہوں نے تاریخ میں ایسے ایسیبرے اور وحشیانہ کام انجام دیئے ہیں اور انہوں نے نہ صرف اپنی زندگی کو تباہ کیا ہے بلکہ دنیا کے بے شمار لوگوں بھی تباہ و برباد کر دیا۔

 یہودی اپنی مخفی چالوں کے ذریعہ تاریخ کے واقعات پر اثرانداز ہوتے آئے ہیں اور اپنی مکاریوں سے لوگوں کی خواہشات کو پامال کرتے آئے ہیں ،یہ بھی ان لوگوں میں سے ہیں کہ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور اس سے مأیوس ہیں ۔

یہودی چونکہ صرف مادی دنیا پر ایمان رکھتے ہیں اور وہ اپنی تمام تر توانائیاں مادی دنیا کے حصول پر ہی خرچ کرتے ہیں اور اپنی اصلی ذمہ داری سے غافل رہتے ہیں۔اسی لئے تاریخ میں ملتا ہے کہ انہوں نے اپنی دنیاوی خواہشات کے حصول کے لئے وحشیانہ ترین اعمال انجام دیئے ہیں اور یہ بات مسلّم ہے کہ اگر وہ موت کے بعد کی دنیا پر ایمان رکھتے تو کبھی بھی ایسے ناپسندیدہ اور برے اعمال انجام نہ دیتے۔

قرآن کریم بھی ان کے آخرت پر ایمان نہ رکھنے کی تائید کرتا ہوئے فرماتا ہے:

۱۳

(یَا أَیُّهَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْماً غَضِبَ اللَّهُ عَلَیْْهِمْ قَدْ یَئِسُوا مِنَ الْآخِرَةِ کَمَا یَئِسَ الْکُفَّارُ مِنْ أَصْحَابِ الْقُبُورِ) (1)

اے ایمان والو! خبردار! اس قوم سے ہرگز دوستی نہ کرنا جس پر خدا نے غضب نازل کیا ہے کہ وہ آخرت سے اسی طرح مایوس ہوں گے جس طرح کفار قبر والوں سے مایوس ہوجاتے ہیں۔

یعنی قوم یہود (جو عذاب کی مستحق ہے)کو دوست نہ رکھیں اور اس کی مدد نہ کریں کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو آخرت میں کسی ثواب کی خواہش نہیں رکھتے ،اوروہ کافروں اور بت پرستوں کی طرح عالم   آخرت کے منکر ہیںاور یہ مطلب اعجاز قرآن کو بیان کر رہا ہے۔کیونکہ ان کی مذہبی تعلیمات میں بھی یہ بات مشہور ہے اور یہودیوں کے ہاتھوں میں موجود آج کی تورات میں بھی موت کے بعد کی زندگی کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔(2)

یہودیوں کا آخرت پر ایمان نہ رکھنا اس قدر مشہور ہے کہ اس بارے میںتحریر کرنے والے اکثر مصنّفین نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ان میں سے ''ویل دورانت''لکھتے ہیں:

یہودی موت کے بعد کی دنیا پر ایمان نہیں رکھتے اور سزا و جزاء کو صرف اسی دنیا میں منحصر سمجھتے ہیں۔(3)

یہ واضح ہے کہ ایسے عقیدہ کا نتیجہ فساد ،بے راہ روی ، ظلم و ستم ، تباہی، گستاخی او ر دوسروں کے حقوق کو پامال کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا۔اس بناء پر یہ کہا جا سکتا ہے :

بہت سی برائیاں اور خرابیاں قیامت پر ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے ہی وجود میں آتی ہیں۔

--------------

[1]۔ سورۂ ممتحنہ، آیت:13

[2]۔ عفیف عبد الفتاح، الیہود فی القرآن:7-36

[3]۔ ول وایریل دیورانت (منبع عربی):ج۲ص ۳۴۵

۱۴

قیامت پر ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے یہودیوں کااصلی ہدف ومقصد دنیا اور مال و دولت کو جمع کرنا  ہے اور یہ اپنے مقصد تک رسائی  کے لئے کوئی بھی کام انجام دے سکتے ہیںحتی کہ یہ مختلف  چالوں کے ذریعہ ہزاروں بے گناہ لوگوں کوخطرے میں ڈال کر انہیں اخلاقی و معاشرتی برائیوں کی طرف دھکیلتے ہیں  اور اس طرح وہ نفسیات پر حاوی ہو کر انسان کی پاکیزہ فطرت،غیرت،مردانگی اور جوانمردی کو کمزور کرتے ہیں  اور ان کے اپنے سامنے قیام کرنے کے احتمال کو بھی ختم کر دیتے ہیں۔

مذکورہ بیان کی رو سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یہودی سربراہ اپنی تمام تر حیوانی اور بری صفات کی وجہ سے روئے زمین پر سب سے زیادہ خطرناک مخلوق بن چکے ہیں!(1)

یہودیوں کا خطرہ اس قدر سنگین ہے کہجس سے اکثر صاحب نظر اور فن کے ماہرین کو خدشہہ لاحق ہے یہاں تک کہ انگلینڈ کے ایک اخبار میں لکھا تھا:

دنیا کی تمام سیاسی اور مالی مشکلات اور جنگوں کے اخراجات یہودیوں نے فراہم کئے ہیں۔(2)(3)

--------------

[1]۔ پرتکل ھای دانشروان صھیون ،دنیا بازیچۂ یہود، السیرة النبویہ و....۔

[2]۔ ژرژ لامبلن، اسرار سازمان یھود:7، روزنامہ''Morning Post'' سے اقتباس

[3]۔ تحلیلی بر عملکرد یہود در عصر نبوی: 126

۱۵

 یہودیوں کے بارے میں ''ہٹلر'' کی رپورٹ

''آدولف ہٹلر''لکھتا ہے:

 اپنی تحقیق کے دوران مجھے یہودیوں کے ایسے بہت سے ناموں کا پتہ چلا جو گندے اور آلودہ مواد بنانے کے کارخانوں میں عمل دخل رکھتے ہیں ۔اکثر نشہ آور گولیاں ،نقلی ادویات حتی کہ زہریلے کھانے بھی انہی کے ہاتھوں وجودمیں آتے ہیں۔

اس تحقیق  کا نتیجہ توقع سے بڑھ کر پریشان کن تھا ۔ اس کے بعد جب میں مزید متوجہ ہوا تو پتہ چلا کہ یہودیوں سے کارخانوں سے بننے والی اکثر اجناس گندی،غلیظ یا کم سے کم نقلی اور نقصان دہ ہیں ۔ یقینی طور پر %95 ادبی گندگی (جو نوجوانوں میں اخلاقی برائیوں ، ہنری پستی اور غیر اخلاقی نمائش کا باعث ہے)کا نظام ایسے لوگوں کے ہاتھوں سے چلایا  جا رہا ہے کہ جو ملک کی 1فیصد آبادی پر مشتمل ہیں اور کوئی بھی اس حقیقت کا انکار نہیں کر سکتا۔

ہر دن میرے لئے ایک نیا مسئلہ کشف ہوتا تھا جسے لکھنے کا نہ تو میں عادی تھا اور نہ ہی میں انہیں برداشت کر سکتا تھا اس لئے میں اپنے سامنے کے ان  ظاہری طور پر سادہ مسائل کو سمجھنے  کیلئے انہیں کئی بار پڑھنے پر مجبور تھاتا کہ اصلی مقصد کو کشف کر سکوں حلانکہ بیان ہونے والے یہ اکثر مسائل جھوٹے تھے.....۔

''دکھاوے کی تنقید اور وسیع پیمانے پر تعریف غالباً یہودیوں اور اس  مشینری کو چلانے والوں کے   اد میں ہوتی تھی''(1)

یہودیوں کے کام واضح طور پر یہ بیان کر رہے تھے کہ تخریب کاری کے سوا ان کے پاس کوئی کام نہیں ہے ۔یہ ایسے ہی تھا کہ جیسے وہ ایک مخصوص گروہ اورلوگوں کی طرف سے  مخفی طور پر مأمور ہوئے ہوں کہ تمام سیاسی اور معاشرتی پہلوؤں میں تخریب کاری کریں۔(2)(3)

--------------

[1]۔ آدولف ہٹلر، نبرد من: 41 -42

[2]۔ آدولف ہٹلر،نبرد من:43

[3]۔ تحلیلی بر عملکرد یہود در عصر نبوی: 113

۱۶

ہٹلر( جو کہ خود بھی دنیا کے خونخوار افراد میں سے تھا)یہودیوں کے ظلم و ستم اور فسا د سے اتنا تنگ آچکا تھا کہ اس نے کہا:تخریب کاری کے سوا یہودیوں کا کوئی دوسرا مقصد نہیں ہے!

یہودیوں نے کرۂ زمین پر جو تمام فساد،تباہی و بربادی،ظلم و ستم اور انحرافات انجام دیئے ہیں ،وہ صرف یہودیوں کی خود غرضی اور خودبینی اور آخرت پر ایمان و یقین نہ رکھنے کی وجہ سے ہے!

یہ واضح ہے کہ جب یہودیوں کا سب سے بڑے جرائم اور برے سے برے اعمال کو انجام دینے کا معیار ان کی خود بینی اور خود غرضی کی حس ہو تو اس سے ان کا اخروی دنیا پرسے ایمان ختم ہو جائے گا۔صرف ہمارے زمانے میں ہی نہیں بلکہ گزشتہ صدیوں میں  بھی وہ جو جرم بھی کر سکتے تھے انہوں نے وہ جرم کیا۔

 انہوں نے ابتدائے اسلام سے ہی نہیں بلکہ رسول خدا(ص) کے مبعوث ہونے سے پہلے ہی اسلام اور پیغمبر اکرم(ص) کے خلاف سازشوں کے جال بننا شروع کر دیئے تھے اور انہوں نے اس پر عمل بھی کیا جس کے لئے بنی امیہ نے ان کی مدد اور خدمت کی۔نیز یہ بھی واضح ہے کہ ظہور اسلام کے ساتھ ہی ان کی سازشوں میں وسعت آگئی  اور اب جب کہ وہ یہ جان چکے ہیں کہ اسلام کی عالمی حکومت سے ان کی بے شرم حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا ،اس لئے وہ کسی بھی نئے خائن اور سازشی حربہ کو انجام دینے سے دریغ نہیں کریں گے۔

اس کتاب کے بارے میں

معاویہ اور بنی امیہ (جو ہزار مہینہ اقتدار کی کرسی پر قابض رہے) کے کارناموں کے تجزیہ و تحلیل اور ان کی تاریخ سے مکمل آشنائی کے لئے دسیوں جلد کتاب لکھنے کی ضرورت ہے۔ان کی حکومت میں ملک کی وسعت اور ان کے طولانی اقتدار نے ان کے رفتار و کردار کی فائل کو بہت وزنی بنا دیا ہے ۔ اس لئے حقیقت کے متلاشی اور واقعیت تک پہنچنے کی جستجو کرنے والا ہر شخص بنی امیہ کے کارناموںسے بہت ہی اہم نکات اخذ کر سکتا ہے جس سے ان کے رفتار و کردار کی ماہیت و کیفیت بخوبی واضح ہو جائے گی۔

۱۷

اب جب کہ معاویہ کی حکومت اور اموی خاندان کو کئی صدیاں بیت چکی ہیں اور کروڑوں اہلسنت مسلمان اموی حاکموں کو رسول اکرم(ص) کے جانشین اور اسلام کے ولی کے طور پر پہچانتے ہیں !لیکن کیا حقیقت میں یہ لوگ امویوں کی سیاہ  کاروایوں سے آگاہ ہیں؟!

کیاوہ  جانتے ہیں کہ معاویہ اور اس کے جانشینوں کا تاریخ اسلام کو بدلنے میں کتنا اہم کردار ہے اور انہوں نے اپنے اہداف کے حصول کے لئے کس قسم کی سازشیں کیں؟!

کیا وہ جانتے ہیں کہ امویوں کی ہزار مہینہ پر مشتمل حکومت میں اسلامی معارف و عقائد کے ساتھ کیس سلوک کیا گیا؟!

کیا وہ جانتے ہیں کہ ابوسفیان،معاویہ اور ان کی حکومت کے بارے میں قرآن کی آیات نازل ہوئی ہیں؟

کیا وہ جانتے ہیں کہ اہلسنت کے مشہور علماء و دانشوروں نے اپنی کتابوں میں ان کے بارے میں  بہت سی اہم اور حقیقت کو واضح کرنے والی احادیث نقل کی ہیں؟!

کیا وہ جانتے ہیں کہ تاریخ میں بنی امیہ  کے کیسے کیسے شرمناک کام درج کئے گئے ہیں؟!

کیا وہ جانتے ہیں کہ انہوں نے اسلام کے نام پر مسلمانوں بلکہ انسانیت کی تاریخ کے راستے کو  کیسے بدل دیا اور اسے انحراف کی طرف لے گئے؟!

یہ واضح  ہے کہ جواپنے لئے گذشتہ لوگوں کی تاریخ کے دریچہ کھول کر کسی تعصب کے بغیر ہشیار اور خبردار کرنے والے نکات سے آگاہ ہیں،وہ جانتے ہیں کہ امویوں نے اسلام کے نام پر خدا اور خاندان وحی علیہم السلام کے آئین کے خلاف کیسے جدوجہد کی۔

ہم نے یہ کتاب ایسے افراد کی مزید آگاہی اور جوحضرات ان واقعات سے مطلع نہیں ہیں ، انہیں ان سے آشنا کرنے کے لئے تألیف کی ہے اور اسے عام لوگوں کے لئے پیش کیا ہے تا کہ سب لوگ بنی امیہ کے شرمناک اہداف و مقاصد سے آشنا ہوں اور وہ یہ جان لیں کہ بنی امیہ کس طرح خلافت کی کرسی پر قابض ہوئے اور انہوں نے کس طرح امت کی رہبری حاصل کی !اور اسلام کی جڑوں پر کیسی کیسی کاری ضربیں لگائیں!

۱۸

اب شیعہ عقائد کے حقائق کی نورانیت سے دنیا کے بے شمار لوگوں نے اسلام کا رخ کیا ہے اور اب وہ یہ جاننا چاہتے ہیں اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے فرقوں میں کون سا فرقہ حقیقت پر مبنی ہے اور کون سا راستہ انحراف و گمراہی کی طرف لے کر جاتا ہے۔

یہ کتاب''معاویہ''مذہب حقہ کے انتخاب کے سلسلہ میں بخوبی ان کی راہنمائی کر سکتی ہے اور نہ صرف معاویہ بلکہ اہلسنت کا بھی تعارف کروائے گی کہ جو معاویہ کی پیروی کرتے ہیں اور اسے اپنا رہبر و پیشوا سمجھتے ہیں۔

اسی طرح یہ کتاب بہت سے اہلسنت حضرات کی رہنمائی کے لئے بھی اہم ہے جو شیعہ عقائد سے آشنا ہوئے ہیں لیکن ابھی تک شکو ک و شبہات کا شکار ہیں۔یہ کتاب باطل راستے کا تعارف کراتی ہے جس کے نتیجہ میں راہ حق کو آشکار کرتی ہے۔

دین کے انحراف میں معاویہ کے کردار اور رسول خدا(ص) کے ساتھ اس کی مخالفت کی کوششوں کو جاننے کے لئے ہم یہ اہم رپورٹ پیش کرتے ہیں لیکن اسے پوری توجہ سے مطالعہ کریں:

  معاویہ بروز غدیر

غدیر کے دن ایک لاکھ بیس ہزار مسلمانوں نے حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی بیعت کی اور خداوند متعال کے حکم کی اطاعت کی حتی کہ امام علی علیہ السلام کے دشمنوں میں سے سب سے بڑے دشمن ابوبکر اور عمر نے بھی آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور اگرچہ انہوں نے ظاہری طورپر آنحضرت کی ولایت کو قبول کر لیا اور جیسا کہ اہلسنت علماء لکھتے ہیں:عمر نے کہا:''بخّ بخّ لک یا علی''۔عورتوں نے بھی بیعت کی اس تقریب میں شرکت کی اور پانی کے ایک  ایسے برتن میں اپنا ہاتھ رکھکر آنحضرت  کی بیعت کی جس میں حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کا دست مبارک تھا اور یوں انہوں نے آپ کی ولایت کو قبول کیا۔

اپنے وطن لوٹنے کے بعد مسلمانوں نے اپنی اقوام اور دوستوں سے غدیر کے دن کی بیعت کا واقعہ بیان کیا اور سب نے آنحضرت کی ولایت کو قبول کیا۔ حتی کہ جو لوگ باطنی طور پرمخالفت تھے انہوں نے ظاہری طور پر رضا مندی کا اظہار کیا اور پوری امت نے حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی ولایت کو قبول کرنے (اگرچہ ظاہری طور پر ہی سہی) کے لئے شرکت کی۔

۱۹

اس بناء پر غدیر کی جاودانہ عید کے دن تمام مسلمانوں اور حتی کے تمام منافقوں نے بھی رسول خدا(ص) کے بعد حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام کو امت کی سرپرستی کے لئے ضروری سمجھا اور اسے تسلیم کیا۔

اس دوران صرف ایک شخص  مخالفت کے لئے اٹھا اور اس نے اسی دن اپنی مخالفت کا اظہار کرتے ہوئے پیغمبر اسلام(ص)  کو جھٹلانا شروع کر دیا اور پوری امت کے سامنے اپنے کفر و نفاق کو واضح و ثابت کر دیا اور وہ شخص معاویہ کے علاوہ کوئی اور نہیں تھا۔

اہلسنت علماء نے لکھا ہے کہ غدیر خم میں معاویہ تنہا ہی خدا ،رسول خدا(ص) ، ولی خدا   ،حکم خدا  اور پوری امت کے مقابلہ میں کھڑا ہوا اور اس نے  رسول خدا(ص)کے فرمان کو -نعوذ باللہ-جھٹلایا اور اسے رد ّکیا۔

اس حقیقت کو اہلسنت کے چند علماء نے لکھا ہے اور یوں اس کے کفر کو ثابت کیا ہے۔

اگرسقیفہ  میں بیٹھنے والوں نے رسول خدا(ص) کی شہادت کے ستر دن بعد واضح طور پر حکمخدااور رسول (ص) کی وصیت کی مخالفت کی لیکن  معاویہ نے پہلے دن ہی سے غدیر خم میں خدا،رسول خدا(ص)،ولی خدا اور حکم خدا کا انکار کیا۔

معاویہ نے اس پر اتنا زور دیا کہ اہلسنت مفسّرین کے مطابق اس کے برے عمل اور ناقابل  معافی گناہ کے بارے میں کئی آیات نازل ہوئیں۔

اے کاش! دنیا کے مسلمان ابتدائے اسلام سے اب تک ان حقائق سے آشنا ہوتے جن کے نتیجہ میں انہیں معاویہ کی صحیح اور مکمل شناخت ہوتی۔لیکن افسوس کہ علم کی کمی اور اسلامی حقائق سے آشنا نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے مسلمان گمراہی میں مبتلا رہے ، جیسے انہیں ضروری اور واضح حقائق کی بھی خبر نہ ہوجس کی وجہ سے وہ آب اور سراب میں تشخیص نہ دے سکے۔

شیعہ اور اہلسنت  مفسرین نے کہا ہے کہ سورۂالقیامة کی کچھ آیات معاویہ کے برے اعمال کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو اس کے کفر کی واضح دلیل ہے۔خداوند کریم نے سورۂالقیامة میں ارشاد فرمایا ہے:

۲۰