دین حق مذہبِ اہلِ بیت(ع)

دین حق مذہبِ اہلِ بیت(ع)0%

دین حق مذہبِ اہلِ بیت(ع) مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 639

دین حق مذہبِ اہلِ بیت(ع)

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: علامہ سید شرف الدین عاملی(رح)
زمرہ جات: صفحے: 639
مشاہدے: 209125
ڈاؤنلوڈ: 4253

تبصرے:

دین حق مذہبِ اہلِ بیت(ع)
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 639 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 209125 / ڈاؤنلوڈ: 4253
سائز سائز سائز
دین حق مذہبِ اہلِ بیت(ع)

دین حق مذہبِ اہلِ بیت(ع)

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

دین حق

مذہبِ اہلِ بیت(ع)

تالیف

آیت اﷲ عبدالحسین شرف الدین موسوی قدس سرہ

ناشر

تبلیغات ایمانی  ہند

۱

کتاب دین حق، مذہب اہل بیت(ع)

تالیف آیت اﷲ عبدالحسین شرف الدین(رح)

کتابت سید جعفر صادق

ناشر   تبلیغات ایمانی ھند 159ـنجفی ہاؤس۔ نشان پاڑہ روڈ بمبئی 9

تعداد 5000

صفحات 640

اشاعت کاسال       اگست 1987ء

۲

پیش لفظ

شہرہ آفاق کتاب ” المراجعات “ کا ترجمہ پیشِ خدمت ہے۔ یہ کتاب عربی زبان میں لبنان اور ایران سے کئی مرتبہ چھپ چکی ہے۔ اردو کا ترجمہ بھی اب تک تقریبا تین دفعہ چھپ چکا ہے۔

شیعہ سنی اختلاف پر اب تک بے انتہاء کتابیں چھپ چکی ہیں لیکن اس موضوع پر تحریر کی جانے والی کتب میں سے یہ کتاب اپنےمنفرد انداز و خصوصیات کی وجہ سے ایک خاص مقام رکھتی ہے۔

پہلی خصوصیت تو یہ ہے کہ اس کتاب کے دونوں فریقین جن کے درمیان یہ خط وکتابت انجام پائی ہے ، ہر قسم کے بغض و کینہ اور قوی تعصبات سے پاک ہیں، دونوں میں اسلامی مقاصد و مصالح کے حصول کا جذبہ بطور کامل موجود ہے۔ امت مسلمہ پر گزرنے والی روئیداد سے آشنا ہوتے ہوئے عالم

۳

اسلام کے زبردست حامی ہیں۔ ان دونوں کا مقصد ہرگز شیعہ سنی بحث کو چھیڑنا اور اس کے نتیجہ میں امت کی صفوف میں اخلافات اور تفرقہ کے مواقع فراہم کرنا نہیں بلکہ نہایت ہی شائستہ ماحول میں ” مذہبِ اہلبیت(ع)“ کو سمجھنا اور اس سلسلہ میں موجود مغرض اور متعصب و جاہل افراد کی پیدا کردہ غلط فہمیوں کا ازالہ ہے، ” مذہبِ اہل بیت(ع)“ پر سے پڑے ہوئے ان پردوں کو ہٹانا ہے جنھیں تنگ نظر اور منفعت پرست افراد نے ڈال کر امتِ مسلمہ کو اس مکتب عظیم سے دور کیا ہے۔

سنی و شیعہ دونوں ہی عالم دین، اسلامی روح سے سرشار نظر آتے ہیں۔ حق پرستی کا جوہر کتاب کے مختلف حصوں میں بکثرت قابلِ مشاہدہ ہے۔ پھر دونوں ہی اپنے اپنے مکتبہ فکر میں صف اول کے علماء میں سے ہیں، اور اپنے زمانہ میں حرفِ آخر شمار کیے جاتے تھے۔ اہل سنت کے محترم عالم جناب شیخ سلیم البشری ہیں جو اہلسنت والجماعت کی بین الاقوامی مرکزی علمی درسگاہ جامعة الازہر کے شیخ اور سربراہ ہیں۔ دوسری طرف حضرت آیت اﷲ سید شرف الدین الموسوی ہیں جو اس زمانے میں شیعوں کے سب سے بڑے علمی مرکز نجف اشرف میں صف اول کے اساتید میں شمار ہوتے تھے۔

مناظرہ کی اکثر کتب میں جدال و خطابہ کا رنگ غالب ںظر آتا ہے جب کہ اس کتاب کے امتیازات میں سے ایک یہ ہے کہ یہاں پر اکثر علمی و برھانی روشِ استدلال کو اختیار کیا گیا ہے۔ آیت اﷲ مرحوم کا استدلال مضبوط اور مستحکم ادلہ پر استوار نظر آتا ہے۔ مسئلہ کے اختلافی و حساس ہونے کے باوجود، ادب و متقابل احترام کے دائرہ میں رہتے ہوئے نہایت شستہ زبان استعمال کی گئی ہے۔

۴

پھر کچھ ایسے مسائل اور موضوعات بھی مختلف مناسبتوں سے زیر بحث آئے ہیں جو کلام یا دوسری کتابوں میں کمتر پائے جاتے ہیں۔ مثلا تاریخ اسلام میں شیعوں کا حصہ۔ شیعہ اصحاب روایت کی علمی خدمات اور ان کا سنی کتب و مصادر میں تذکرہ، ایسے موضوعات ہیں جن میں کم از کم اردو زبان میں بہت کم لکھا اور بولا گیا ہے۔

ان تمام خصوصیات اور بہت سی دوسری خوبیوں نے اس کتاب کی افادیت و اہمیت میں خاطر خواہ اضافہ کردیا ہے  جس کی وجہ سے یہ کتاب کلام کی علمی کتب میں شمار کی جاتی ہے۔

ہم نے اسے طباعت کے زیور سے از سر نو آراستہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ امید ہے کہ حق کے متلاشیوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوسکے گی۔

                                             ناشر

۵

عالیجناب شیخ سلیم البشری

( عالم اہل سنت کے مختصر حالات زندگی)

جناب شیخ سلیم البشری جو مالکی مسلک رکھتے تھے سنہ1248ھ مطابق سنہ1832ء میں ضلع سجیزہ کے محلہ بشر میں پیدا ہوئے اور جامعہ الازہر ( قاہرہ، مصر) میں تعلیم حاصل کی۔

بعد میں دو مرتبہ اس عظیم الشان درسگاہ کے انچارج بھی قرار پائے۔ ایک دفعہ سنہ1317ھ مطابق سنہ1900ء سے سنہ1320ھ مطابق سنہ1904ھ تک اور دوسری دفعہ سنہ1327ھ مطابق سنہ1905ء سے سنہ 1335ھ مطابق سنہ1916ء تک۔

آپ ہی کے زمانہ میں جامعہ الازہر میں تدریس کے فرائض انجام دینے کے خواہشمند حضرات کے لیے امتحان کی بنیاد رکھی گئی جس میں بکثرت اہل علم نے شرکت کی۔

آپ نے جامعہ الازہر کو پورے نظم و ضبط کے ساتھ چلایا اور انچارج

۶

 ہونے کی حیثیت سے  جو ذمہ داریاں آپ پر عائد تھیں انھیں درس و تدریس میں حائل نہ  ہونے دیا ( بلکہ شیخ الجامعہ ہونے کے ساتھ ساتھ طلبہ کو درس بھی دیتے رہے)

آپ کی قلمی نگارشات بہت ہیں جن کا زیادہ حصہ قدیم علماء کی کتابوں پر حاشیہ اور گفتار مقدم کے عنوان سے ہے۔ مثلا :

 ادب کے موضوع پر  : حاشة تحفة الطلاب لشرح رسالة الآداب

 توحید کے موضوع پر :حاشية علی رسالة الشيخ علی

  علم نحو کے موضوع پر : الاستئناس فی بيان الاعلام و اسماء الاحباس جس میں نحوی مطالب پر بحث کی گئی ہے اور یہ ( اتنی اعلی درجہ کی کتاب ہے کہ) جامعة الازہر میں درس و تدریس کے سلسلہ میں اس کتاب پر بہت زیادہ اعتماد کیا گیا ہے۔

جناب شیخ سلیم البشری نے سنہ1335ھ مطابق سنہ 1916ء میں وفات پائی (1)

--------------

1:- حوالہ کے لیے ملاحظہ ہو کتاب “ الازہر فی 12 عاما” صفحہ 53

۷

عالی جناب آقائے سید عبدالحسین شرف الدین موسوی ( علیہ الرحمہ)

کے مختصر حالات زندگی

( ممتاز شیعہ عالم) جناب علامہ سید عبدالحسین شرف الدین موسوی علیہ الرحمہ کاظمین( عراق) میں سنہ1290ھ مطابق سنہ1872ء میں پیدا ہوئے۔ کاظمین اور نجف اشرف میں تعلیم حاصل کی اور اس زمانے کے انتہائی بلند مرتبہ عالم دین جناب آقائے شیخ کاظم الخراسانی ( صاحب  کفایہ)  سے شرفِ تلمذ حاصل کیا۔

عراق کی سرزمین پر فرانس کی سامراجی حکومت کے خلاف انقلابی اقدامات آپ ہی کے زمانہ میں شروع ہوئے جن میں آپ مثبت حصہ لیا۔ جس کی پاداش میں آپ کے اس نہایت قیمتی کتب خانہ کو جلا دیا گیا جو اسلامی علوم و معارف کا خزینہ تھا۔ اس میں آپ کے نہایت بیش قیمت مخطوطات بھی نذر آتش کردیے گئے اور آپ کو گرفتار کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔

۸

اس موقع پر آپ نے مناسب سمجھا کہ اپنی آواز کو تمام اسلامی ممالک تک پہنچانے کے لیے سفر کریں، چنانچہ آپ دمشق تشریف لے گئے اور وہاں سے فلسطین اور مصر کا سفر کیا۔

اور مصر ہی میں اس زمانہ کے شیخ الازھر جناب شیخ سلیم البشری سے آپ کے مسلسل مذاکرات ہوئے اور ان ہی مذاکرات کے نتیجے میں یہ کتاب ترتیب پائی۔

مولانائے موصوف نے متعدد موضوعات پر نہایت قیمتی کتابیں تحریر فرمائی ہیں جن میں سے چند یہ ہیں :

1ـ المرجعات 2ـ الفصول المهمه 3_ اجوبه مسائل جار الله 4_ الکلمه الغراء فی تفضيل الزهراء. 5_ المجالس الفاخره 6_ النص والاجتهاد. 7_  فلسبه الميساق والولايه 8_ ابوهريره بغيه الراغبين 9_ المسائل الفقهيه 10_ ثبت الاثبات فی سلسله الرواه 11_ الی المجمع العلمی العربی بدمشق.12_ رسائل و مسائل 13_ رساله کلاميه.....

اور ان کے علاوہ وہ بکثرت تالیفات جنھیں دشمنان دین و ادب نے نذر آتش کردیا۔

آپ نے اس کے ساتھ بہت سے دینی و اجتماعی منصوبے بھی شروع کیے تھے جن کے ذکر کا موقع نہیں۔

آقائے شرف الدین موسوی نے سنہ1377ھ مطابق سنہ1957ء میں رحلت فرمائی۔

۹

کتاب ہذا سے متعلق علمائے اعلام کے مکتوبات

شام کے ایک معزز عالم دین

علامہ شیخ محمد ناجی غفری کا مکتوب گرامی

آقائے محترم و استاد مکرم آقائے شرف الدین عبدالحسین صاحب قبلہ دام مجدہ

قبلہ محترم !

میں نے آپ کی کتاب “ المراجعات” کا مطالعہ کیا اور اسے ایک ایسی کتاب پایا جو روشن و محکم دلائل و براہین سے مالال مال ہے۔ پروردگار عالم آپ کو پوری قوم کی طرف سے جزائے خیر دے کہ آپ نے حکمت و دانائی اور فیصلہ کن انداز اختیار فرمایا ہے۔

اگر کوچھ دشواریاں اور مشکلات سدِ راہ نہ ہوتیں تو اب تک میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر دست بوسی کا شرف حاصل کرچکا ہوتا لیکن امید ہے کہ بہت جلد میں آپ کے چہرہ انور کی زیارت کی سعادت حاصل کرسکوں گا۔

میں نے ( آپ کی کتاب پرھنے کے بعد) اپنا سابق مذہب حنفی ترک

۱۰

کردیا اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے مذہب کو اختیار کر لیا ہے۔

آپ سے التماس ہے کہ کوئی ایسی کتاب میرے لیے بھیجیں جس سے میں اس مذہب کے احکام  ومعارف سے پوری طرح واقف ہوسکوں۔

                                                             والسلام

                                             محمد ناجی غفری(18 صفر سنہ 1370ھ)

ان ہی عالم دین کا دوسرا مکتوب گرامی

بخدمت عالیجناب آقائے سید عبدالحسین شرف الدین صاحب دام مجدہ

سلام علیکم : مزاج شریف !

جناب محترم شرف الدین صاحب ! آپ تو میرے مہربان و پاسبان، میرے رشد اور راہ حق و صراطِ مستقیم تک پہنچنے کا سب سے بڑا وسیلہ ثابت ہوئے۔ میں حضرت محمد و آل محمد علیہم السلام کے وسیلہ سے پروردگار عالم کی بارگاہ میں دست بہ دعا ہوں کہ آپ کا سایہ مومنین کے سروں پر تا دیر سلامت رکھے کیوںکہ ان کی سعادت و خیر خواہی آپ کی ذاتِ والا صفات سے وابستہ ہے۔

میں خداوند عالم کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے آج تک نہ آپ جیسا کوئی عالم ملا، نہ میں نے آپ جیسی صفات رکھنے والے کسی عالم کے بارے میں سنا۔ آپ اپنے جد اعلیٰ حضرت رسولِ خدا صلی اﷲ علیہ و آلہ و سلم کی شریعتِ مقدسہ کی طرف سے دفاع کررہے ہیں اور وہ منحرف و گمراہ لوگ جو حق پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں ان کی سازشوں کو طشت ازبام کر رہے ہیں اور ان کے سامنے ایسی محکم دلیلیں اور روشن برہان قائم کر رہے ہیں جن کا نہ تو کوئی جواب سے سکتے ہیں۔ نہ ان دالائل

۱۱

سے انکار کی ہمت کرسکتے ہیں( اور گو ایسی روشن دلیلوں کے بعد بھی) جو لوگ مذہبِ حق کو قبول نہ کریں اور حق وباطل میں امتیاز نہ کریں ان کے لیے بدبختی اور عذاب یقینی ہے۔ پروردگار عالم آپ کو جزائے خیر دے ( کہ آپ نے حق کو آشکار کیا)

                                                             والسلام

                                             محمد ناجی غفری۔ 15 ربیع الثانی سنہ1370ھ

مولانائے موصوف کا تیسرا مکتوب گرامی

بخدمت جناب آقائے سید عبدالحسین شرف الدین موسوی دام مجدہ

سلام علیکم!

جناب محترم !

میں آپ کی ذاتِ والا صفات پر فخر کرتا ہوں۔ میرا دل بلکہ میرے تمام اعضاء و جوارح آپ کی عظمت کے تصور سے مالا مال ہیں اور دنیا بھر کے اہل علم کے درمیان آپ کے فضل و شرف کا بھر پورا اعتراف کرتے ہیں۔

کیوںکہ آپ نے اپنے قلم مبارک سے بہت سی اقوام و ملل کو حیات نو بخشی اور ضلالت و گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر انھیں ہدایت کی روشنی سے منور کیا اور یہ وہ حقیقت ہے جس کا انکار کرنے والا یا تو اپنی جہالت کے سبب انکار کرے گا یا طبیعت کی سرکشی اور عناد کی بناء پر۔

اور دارالسلطنت میں میں نے جناب۔۔۔۔۔ سے ملاقات کی اور ان سے مذاکرات بھی کیے۔

۱۲

وہ حضرت ۔۔۔۔(1) ۔۔۔۔ بہت بڑے قاضی کے منصب پر فائز ہیں ( اور بہت زیادہ اثر و رسوخ کے مالک بھی ہیں) میں نے ان سے بحث و مباحثہ کیا تو بحمدہ تعالی وہ پوری طرح سے مذہب حق کی طرف مائل ہوگئے ہیں۔

چنانچہ آپ کی کتاب “ المراجعات” میں نے ان کی خدمت میں پیش کر دی ہے جسے انھوں نے پڑھا اور آپ کے حیرت انگیز دلائل نے انھیں تعجب و مسرت کے دوراہے پر پہنچا دیا۔

کیونکہ آپ نے اپنے علم کے بحر ذخائر اور قلم کے شاہکار سے ان کے لیے اس امر کو ممتاز و نمایاں کردیا کہ دونوں راستوں میں سے حق و صداقت کا راستہ کون سا ہے۔

                                                             والسلام ۔ آپ کا مخلص

                                                             محمد ناجی غفری۔ 17 محرم سنہ1373ھ

حجہ الاسلام علامہ شیخ محمد حسین المظفر

کا مکتوب گرامی

مجاہد ملت حجہ الاسلام علامہ سید عبدالحسین شرف الدین دامت برکاتہ کے نام۔۔۔۔

سلام علیکم و رحمتہ اﷲ و برکاتہ!

آپ کی مساعی جمیلہ کو شرق غربِ عالم میں جو پذیرائی اور مقبولت و محبوبیت

--------------

1:- بعض خصوصی مصالح کی بناء پر اس جگہ قاضی مذکور کا نام اور ان سے متعلق متعدد باتیں جو خط کے اندر موجود تھیں اس کتاب کی طباعت کے موقع پر حذف کردی گئی ہیں۔

۱۳

حاصل ہوئی ہے وہ لائق تعجب ہرگز نہیں ہے کیونکہ آپ راہِ خدا کے ایک ایسے مجاہد اور حق کا ایسا دفاع کرنے والے ہیں جو عنفوانِ حیات سے مسلسل خدمتِ دین اور نصرتِ شریعت سید المرسلین صلی اﷲ علیہ و آلہ و سلم کے خوگر ہیں۔

آپ کو دین کی خدمت کرتے ہوئے نہ کسی قسم کی تکان محسوس ہوتی ہے نہ پریشانی۔ نہ اضطراب نہ تردد( بلکہ جہاد مسلسل کو آپ نے اپنی زندگی کا شعار بنا رکھا ہے اور پروردگار عالم کا وعدہ ہے کہ ) :

ووالذين جاهدوا فينا لنهدينهم سبلنا

( اور جو لوگ ہماری راہوں میں جہاد کرتے ہیں ان کے لیے ہم راہوں کو نمایاں کر دیتے ہیں) اور یقینا ان مجاہدین کو صراط مستقیم پر گامزن رکھتا ہے۔

اور مجھے اس دن انتہائی مسرت ہوئی جب حلب ( شام ) کے شیخ محمد۔۔۔۔ کا مجھے خط موصول ہوا۔

۱۴

مکتوب نمبر 1

میرا سلام ہو شریف النفس عالم بزرگ جناب عبدالحسین شرف الدین موسوی اور ان پر خدا کی رحمت و برکت ہو۔

جناب عالی ، میں زمانہ گزشتہ میں شیعوں کے اندرونی مسائل سے با خبر نہیں تھا اور نہ مجھے ان کے سلوک و رفتار کی خبر تھی ۔ کیوںکہ میری نہ کسی کے ساتھ نشست و برخاست تھی اور نہ ان کے عوام الناس کے اندرونی حالات کا میں نے جائزہ لیا تھا۔ مجھے یہ شوق تو تھا کہ میں ان کے بزرگان کی تقریر سنوں لیکن عالم پبلک سےمیں ہمیشہ دور رہا نہ ان کے افکار اور آراء سے بحث کی اور نہ ان کے نظرایات  میں مداخلت کی۔

۱۵

البتہ جب خداوند عالم نے مجھے یہ توفیق عطا کی کہ میں آپ کے علوم و معارف کے سمندر کے کنارے پہنچوں اور ساغرِ لبریز سے اپنی پیاس بجھاؤں تو بحمد اﷲ آپ نے نہایت شیرین پانی سے مجھے سیراب کیا۔ میری علمی تشنگی کو دور کیا اور علوم الہی کے شہر حضرت محمد صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم اور باب مدینہ علم حضرت علی مرتضی علیہ السلام جو آپ کے اجداد کرام تھے ان کے معارف سے مجھے اس طرح سیراب کیا کہ اس سے زیادہ شیرین جام کسی پیاسے کو نہ ملا ہوگا اور نہ کسی بیمار کو ایسی شفا ملی ہوگی جیسی شفا مجھے آپ کے بحرِ ذخار سے ملی۔

میں لوگوں سے سنتا رہتا تھا کہ آپ شیعہ حضرات اپنے سنی بھائیوں سے ملنا پسند نہیں کرتے ان سے اجتناب کرتے ہیں، تنہائی کو پسند کرتے ہیں اور ہمیشہ گوشہ نیشینی اختیار کیے رہتے ہیں۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔اور اسی قسم کی باتیں میں سنا کرتا تھا۔

لیکن جب میں آپ کو دیکھا تو پتہ چلا کہ آپ انتہائی لطیف اور پاکیزہ مزاج کے انسان ہیں۔ بحث و مباحثہ کی گہرائی تک اترتے ہیں، تبادلہ خیالات کے آزرو مند رہتے ہیں، مناظرہ میں انتہائی قوی اور بہادر ہیں، آپ کی گفتگو بہت پاکیزہ، آپ کا سلوک بہت شریفانہ ، آپ سے تعلق لائق تشکر اور آپ سے گفتگو بہایت لائق تحسین ہے۔ اس لیے اب میری رائے یہ ہے کہ شیعہ حضرات محفل کی خوشبو اور ادب و تہذیب کی آرزوں کا مرکز ہیں۔

مناظرہ کی اجازت

جناب عالی ! اب جبکہ میں آپ کے اوقیانوسِ علم کے ساحل پر کھڑا ہوں آپ سے اجازت طلب کرتا ہوں کہ مجھے اس کی گہرائیوں تک اترنے کا اور

۱۶

جواہر تلاش کرنے کا موقع عطا فرمائیے۔ تو اگر آپ نے مجھے اجازت دی تو میں ان باریکیوں اور الجھنوں کو آپ کی خدمت میں پیش کروں گا جو مدت دراز سے میرے سینہ میں موجزن ہیں اور اگر آپ نے اجازت نہ عطا فرمائی تو بھی آپ مختار کل ہیں کیونکہ میں جن باتوں کو پوچھنا چاہتا ہوں ان میں نہ تو کسی لغزش کا طلب گار ہوں نہ کسی بات کا پردہ فاش کرنا چاہتا ہوں ۔ نہ فتنہ انگیزی میرا مقصود ہے اور نہ اس سلسلہ میں کوئی برا ارادہ رکھتا ہوں بلکہ ایک تلاش گمشدہ کی طرح میں اس مسئلہ کو حل کرنا چاہتا ہوں اور حقیقت کو پہچاننا چاہتا ہوں۔ کیونکہ حق اگر واضح ہوجائے تو انسان کو اسی کی پیروی کرنا چاہئیے اور اگر حق واضح نہ بھی ہوسکا تو میں شاعر کے اس شعر پر عمل پیرا رہوں گا کہ :

                                     نحن بما عندنا و انت بما عندک

                                     راض      والرای      مختلف

“ اگر چہ ہماری رائیں مختلف ہیں لیکن آپ اپنے نظریہ پر خوش رہیں ہم اپنے مسلک پر راضی رہیں ۔ ”

اگر آپ نے بحث کی اجازت دے دی تو میں صرف دو مسائل پر آپ سے رائے طلب کروں گا۔

نمبر 1 ۔ آپ کے مذہب میں امامت کی اصول اور فروعی حیثیت ۔

اور نمبر 2 ۔ وہ عمومی امامت جو حضرت رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی جانشینی کے طور پر کسی کو حاصل ہوتی ہے۔

میں اپنے ہر خط کے اختتام پر دستخط کی جگہ “ س” لکھا کروں گا اور آپ اپنے دستخط کی جگہ “ ش” لکھ دیا کیجیے گا۔ آخر میں اپنی ممکنہ لغزشوں سے معذرت چاہتا ہوں۔

۱۷

جوابِ مکتوب

مناظرہ کی اجازت

عالیجناب شیخ الاسلام دام مجدہ

اسلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ

آپ کا مکتوب گرامی موصول ہوا۔ آپ نے خط کی شکل میں وہ نعمتِ فراواں بھیجی اور میرے لیے ایسے نفیس خیالات کا اظہار کیا جن کا حق ادا کرنے سے زبان قاصر ہے اور جس کے شکریے سے میں زندگی بھر عاجز ہوں۔

آپ نے اپنی آرزؤوں کو مجھ سے وابستہ کیا اور بلند توقعات قائم کیں جبکہ آپ کی ذات لوگوں کی امیدوں کا مرکز اور ان کے افکار و نظریات کی پناہ گاہ ہے جہاں لوگوں کی امیدیں آپ سے وابستہ رہتی ہیں اور وہ آپ کے وسیع و عریض دہلیز پر اتر کر آپ کے علم سے فیضیاب ہوتے ہیں، آپ کے فضل و شرف  کی بارش سے سیراب ہوتے ہیں، اس لیے مجھے امید ہے کہ میں بھی اپنی امیدوں میں کامیاب ہوں گا اور جو تمنائیں میں نے وابستہ کر رکھی ہیں وہ قوی ثابت ہوں گی۔

آپ نے گفتگو کی اجازت چاہی ہے جبکہ آپ صاحب اختیار ہیں جیسا حکم فرمائیں جس بات کے بارے میں چاہیں دریافت کریں۔ جس طرح چاہیں ارشاد فرمائیں آپ صاحب فضل بھی ہیں آپ کی گفتگو فیصلہ کن بھی ہوگی اور انشاء اﷲ آپ جو حکم فرمائیں گے وہ عدل کے مطابق ہوگا۔

                                             والسلام

۱۸

مکتوب نمبر2

شیعہ بھی حضرات اہلسنت کا مسلک کیوں نہیں اختیار کر لیتے؟

مولانائے محترم ! تسلیمات زاکیات!!

اس کی وجہ آپ بتاسکتے ہیں کہ آخر آپ لوگ بھی وہی مذہب کیوں نہیں اختیار کر لیتے جو جمہور مسلمین کا مذہب ہے؟

جمہور مسلمین کا مذہب یہ ہے کہ وہ اصول دین اور عقائد میں اشاعرہ کے ہم خیال ہیں اور فروع دین میں ائمہ اربعہ امام ابوحنیفہ، امام شافعی، امام مالک اور امام احمد بن حنبل میں سے کسی ایک کے مقلد ہیں۔ آپ بھی اصولِ دین میں اشاعرہ کا مسلک اختیار فرمائیں اور فروعِ دین فرائض و عبادات میں مذاہب اربعہ میں سے کسی ایک  کے پابند ہوجائیے، چاہے امام ابو حنیفہ کی تقلید کیجیے یا امام شافعی کی یا امام مالک کی ایا احمد بن حنبل کی ۔ کیونکہ یہی مذہب ایک ایسا مذہب ہے کہ

۱۹

 سلف صالحین بھی اسی کے پابند رہے اور اسی کو بہتر و افضل سمجھتے رہے۔ نیز ہر زمانہ اور ہر خطہء ارض کے جملہ مسلمانوں کا مذہب بھی یہی رہا اور سب کے سب ان ائمہ اربعہ کی عدالت ، اجتہاد، زہد و ورع ، تقدس و پرہیز گاری، پاکیزہ نفسی، حسنِ سیرت اور علمی و عملی جلالتِ قدر پر ابتدا سے لے کر آج تک بیک دل و زبان  متفق رہے ہیں۔

اتحاد و اتفاق کی ضرورت

یہ بھی غور فرمائیے کہ اس زمانے میں ہم لوگوں کے لیے اتحاد و اتفاق کس قدر ضروری ہے۔ دشمنانِ اسلام ، ہم مسلمانوں کے خلاف محاذ قائم کیے ہوئے ہیں، ایذا رسانی پر کمر باندھ لی ہے دل و دماغ اور زبان کی ساری طاقتیں ہمارے خلاف استعمال کررہے ہیں۔

اتحاد جہور اہلسنت کا مذہب اختیار کرنے ہی سے ہوسکتا ہے۔

ہم لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور فرقہ بندی سے اپنے خلاف دشمنوں کی مدد کررہے ہیں۔ لہذا ایسی حالت میں ہم لوگوں کے لیے بہتر یہی ہے کہ ایک مرکز پر جمع ہوجائیں۔ ایک نقطہ پر سمٹ آئیں اور یہ اتفاق و اتحاد جب ہی ہوسکتا ہے کہ ہمارا مسلک و مذہب بھی ایک ہو، آپ لوگ بھی اس مذہب کو اختیار کر لیں جسے عامة المسلمین اختیار کیے ہوئے ہیںِ۔

کیا میرا رائے سے آپ کو اختلاف ہے ؟ خدا کرے اس پراگندگی

۲۰