پشاور میں ایک یاد گار مناظرہ خورشید خاور --ترجمہ-- شبہائے پشاور جلد ۱

پشاور میں ایک یاد گار مناظرہ خورشید خاور --ترجمہ-- شبہائے پشاور15%

پشاور میں ایک یاد گار مناظرہ خورشید خاور --ترجمہ-- شبہائے پشاور مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 369

جلد ۱ جلد ۲
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 369 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 310243 / ڈاؤنلوڈ: 9438
سائز سائز سائز
پشاور میں ایک یاد گار مناظرہ خورشید خاور --ترجمہ-- شبہائے پشاور

پشاور میں ایک یاد گار مناظرہ خورشید خاور --ترجمہ-- شبہائے پشاور جلد ۱

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


نوٹ: اس کتاب کو الیکٹرانک اور برقی شکل میں ،اسلامی ثقافتی ادارے " امامین الحسنین(ع) نیٹ ورک " نے قارئین کرام کیلئےشائع کیا ہے۔

اورادارہ کی گِروہ علمی کی زیر نگرانی حُرُوفِ چِینی، فنی تنظیم وتصحیح اور ممکنہ غلطیوں کو درست کرنے کی حدالامکان کوشش کی گئی ہے۔

اس کتاب کی (PDFڈاؤنلوڈ کرنے کےلئےدرج ذیل لنک پر کلک کیجئے

http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=۳۷۹&preview

اس کتاب کی دوسری جلد (PDF) ڈاؤنلوڈ کرنے کےلئےاس پر کلک کیجئے

http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=۳۷۹&view=download&format=pdf

نیز اپنے مفید مشورے، پیشنہادات، اعتراضات اور ہر قسم کےسوالات کو ادارہ کےایمیل(ihcf.preach@gmail.com)پر سینڈ کرسکتے ہیں


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

سول ی پر چڑھ ا یا گیا اس کے بعد ان ہیں دونوں ک ی تحریک سے (۱) اس نام پر ا یک رافضی مشرک سولی کے اوپر ہے عوام ن ے آپ ک ے بدن کوسنگ سار ک یا ۔ پ ھ ر ن یچے اتار کر آگ سے جلا یا اور خاکستر ہ وا م یں اڑ اد ی۔

-------------

(۱):-ان قابل ذکر واقعات میں سے جنہوں نے مجھ پر ان تاریخی وقائع کو ثابت کردیا ایک دفعہ یہ بھی ہے جسکو میں اختصار کے ساتھ ذیل میں درج کرتا ہوں ۔

۱۹جمادی الثا نیۃ سنہ ۱۳۷۱ھ میں جب میں زیارت بیت المقدس سے واپس ہو کر دمشق جارہا تھا ۔ ابتدائے شب میں شرق اردن کی مسجد جامع عمان میں (جو بہت خوبصورت مسجد ہے) نماز پڑھنے پہنچا ،اہل سنت مسلمانوں کی جماعت نماز ختم کرچکی تھی ۔کچھ لوگ جارہے تھے اور بعض لوگ ابھی نوافل پڑھنے میں مشغول تھے ، میں بھی مسجد کے ایک گوشہ میں جاکر فریضہ مغرب وعشاء اداکرنے میں مصروف ہوا ۔فریضہ اور نوافل سے فارغ ہونے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ ان میں سے بعض لوگ مجھ پر غضبناک ہیں خصوصا وہ عالم جوچند اشخاص کے ساتھقراءت قرآن میں مشغول تھے اور میری طرف شدید غصہ کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے میں تعقیبات ختم کرکے مسجد سے باہر نکل آیا اور گیراج میں جاکر موٹرچھو ٹنے کا انتظار کرنے لگا کھانا کھانے کے بعد جب مسجد میں نماز عشاءکی آذان شروع ہوئی تو مجھ کو خیال ہوا کہ روانہ ہونے کے بعد ممکن ہے موٹر راستہ میں نہ ٹھہرے اور نوافل شب پڑھنے کاموقع نہ ملے لہذا بہتر ہے کہ ابھی فراغت ہے مسجد میں جا کر نافلے ادا کرلوں پھر اطمینان سے سفر کی تیاری کروں ،چنانچہ تجدید وضو کرکے مسجد گیا اور عام بڑے پھاٹک سے داخل نہیں ہوا بلکہ عمارت کے آخری مغربی گوشے کے دروازے سے جاکر ایک بڑے ستون کے پہلو میں جو ایک اندھیری جگہ تھی وہاں جاکر مصروف نماز ہوا میں نے دیکھا کہ وہ عالم جو ایک گھنٹہ پہلے قراءت میں مشغول تھے اور غصے سے مجھ کو گور رہے تھے۔نماز سے فارغ ہو کر لوگوں کو جمع کئے ہوئے اور ان کے بیچ میں کھڑے ہوئے شرک اور مشرک کے بارے میں تقریر کر رہے ہیں ۔مقدمات کے بعد سلسلہ کلام اس مقام تک پہنچا کہ انتہائی جو ش اور سخن کے ساتھ کہا کہ تم سب مسلمانوں کو قیامت کے روز بازپرس کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ اور جواب دینا پڑے گا ۔اس لئے کہ خدا نے فرمایا ہے مشرکین نجس ہیں ان کو مسجد میں نہ آنے دو لیکن ابھی ایک گھنٹہ پہلے ایک مشرک بت پرست نجس مسجد میں گھس آیا ہمارے سامنے بت کا سجدہ کیا اور تم لوگوں نے اس کو سزا نہیں دی میں قراءت میں مشغول تھا مگر تو لوگ کیامرگئے تھے ؟ کیا تمہارا فرض نہیں تھا کہ شرک کی نجاست کو مسجد سے دور کرتے اور بت پرست مشرک رافضی کو دفع کرتے یا اس کو قتل کردیتے کیونکہ اگر مشرک مسلمانوں کی مسجد میں بت پرستی کرے تو اس کو قتل کردینا واجب ہے ،بہر حال اپنی پر جوش تقریر سے ناواقف لوگوں کے جذبات اس طرح سے ابھارے کہ اگر میں اس جگہ موجود ہوتا تو یقینا قتل کردیا جاتا ۔تقری ختم ہونے کے بعد آدھے لوگ باہر جانے کے لئے عمارت کے آخری دروازے کے پاس آئے ، میں نماز وتر پڑھ رہا تھا چنانچہ بیٹھ گیا تاکہ ان لوگوں توجہ نہ ہو ،لیکن دفعتا میرے اوپر ان کی نظر پڑگئی ،فورا حملہ کرکے چاروں طرف سے گھیر لیا، بے شمار لاتیں اور گھونسے مجھ پر پڑرہے تھے اور برابر کہتے جاتے تھے کہ اٹھ اے مشرک !نکل اے مشرک! میں اپنی زندگی سے باکل مایوس ہو چکا تھا یہاں تک تشہد کا موقع آیا اور میں نے کہا" اشھد ان لا الہ الاّ اللہ وحدہ لا شریک لہ واشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ " اب ان کے درمیان اختلاف پید ا ہوگیا آپس میں کہنے لگے کہ یہ کیسا مشرک ہے جو وحدانیت خدا اور رسالت خاتم الانبیاء کی شہادت دے رہا ہے ؟ایک گروہ کہتا تھا کہ ہم نہیں جانتے قاضی کہتا تھا کہ یہ رافضی ہے اور مشرک ہے اور قاضی کی بات غلط ہوسکتی ہے وہ لوگ بحث اور اختلاف میں مصروف تھے اتنے میں میں نس سلام پڑھ کر کے نماز ختم کی کچھ جان میں جان آئی ،ہمت کرکے دفاع کے لئے آمادہ ہوا اور عربی زبان میں ایک مفصل تقریر کرکے جس کے بیان کی یہاں گنجائش نہیں ان کو قائل اور لاجواب کیا اور اپنا ہمدرد بنایا اور اس ناخداشناس قاضی کو ایک جاسوس ثابت کیا جو مسلمانوں میں پھوٹ ڈال کر ظالم بیگانوں کو اہل اسلام پر غالب ،حاکم بنانے کے اسباب مہیا کرنا چاہتا ہے ۔خلاصہ یہ کہ ان لوگوں نے مجھ سے معذرت کی یہاں تک مجھ کو مہمان کرنے کیلئے سخت اصرار کیا لیکن میں نے یہ عذر کر کے سفر کے لئے بلکل تیار ہوں ان سے رخصت لی اور روانہ ہوا ۔یہ تھا ایک نمونہ علمائے اہل سنت کے ان سینکڑوں اقدامات میں سے جس میں انہوں نس ہمارے عوام کو دھوکہ دینے کے لئے معاملہ کو الٹ کے پیش کیا ہے اور مظلوم مسلمانوں کے قتل و اہانت کا بھی باعث ہوتا ہے ۔)))

۱۰۱

"قاضی صیدا" کی بد گوئی سے ش ہید ثانی کی شہ ادت

دسویں صدی ہ ج ری میں بلاد شام کے اندر ش یعہ علماء اور مفاخر فقہ اء م یں سے ش یخ اجل فقیہ بے نظ یر" زین الدین ابن نور الدین علی ابن احمد بن عاملی قد سّ سرّہ " ت ھے جو علم و فضل وز ہ د و روع اور تقو ی میں دوست دشمن سبھی کے مرکز توج ہ اور کاف ی شہ رت ک ے مالک ت ھے ۔ ب اوجودیکہ شب و روز تالیف وتصنیف میں مصروف رہ ت ے ت ھے ۔ اور ہ م یشہ گوشہ نش ینی کی زندگی بسر کر تے ت ھے آپ ن ے مختلف علوم م یں اپنے قلم س ے دو سو س ے ز یادہ کتابیں چھ و ڑ د یں لیکن لوگوں س ے اس کنار ہ کش ی کے بعد ب ھی علمائے ا ہ ل سنت کو عداوت پ یدا ہ وئ ی اور آپ کی مقبولیت سے ان ک ے دلو ں م یں حسد کی آگ بھڑ ک ا ٹھی خصوصا بڑے قاض ی" صیدا "نے بادشا ہ آل عثمان "سلطان سل یم" کے پاس ا یک شکایت نامہ اس عنوان ک ے سات ھ لک ھ ا ک ہ "ان ہ قد وجد ببلاد الشام رجل مبدء خارج من المذا ھ ب الاربع ۃ "(یعنی یقینی طور پر ثابت ہ وا ہے ک ہ بلاد شام ک ے اندر ایک بدعتی شخص موجود ہے جوچارو ں مذ ہ بو ں س ے خارج ہے ) ۔

"سلطان سلیم" کی طرف سے ان عالم ،فق یہ کے لئ ے حکم صادر ہ وا ک ہ پ یشی کے لئ ے اسلامبول م یں حاضر کئے جائ یں ۔ چنانچ ہ مسجد الحرام ک ے اندر ان جناب کو گرفتار کرک ے چال یس روزتک مکہ معظم ہ م یں قید رکھ ا اس ک ے ب عد دریائی راستہ س ے دار السلطنت "اسلامبول "ک ی طرف روانہ کیا لیکن دربار تک پہ نچن ے س ے پ ہ ل ے ہی ساحل دریا پر آپ کا سر مبارک کاٹ ک ے جسم کو در یا میں پھینک دیا اور سر بادشاہ ک ے پاس ب ھیج دیا۔

۱۰۲

محترم حضرات !

آپ کو خدا کی قسم انصاف کیجئے او رعادلانہ ف یصلہ کیجئے ! بھ لا کس ی تاریخ میں آپ نے پ ڑھ ا ہے یا سنا ہے ک ہ علمائ ے ش یعہ کی جانب سے ک ھ ب ی کسی سنی عالم بلکہ عام انسان ک ے لئ ے ب ھی ایسی بدنیتی اور بد کرداری کا مظاہ ر ہ ہ وا ہ و اور اس جرم م یں کہ و ہ ش یعہ مذہ ب س ے الگ ہے تو اس کو قتل کرد یا ہ و؟ خدا ک ے لئ ے بتائ یے یہ بھی جرم وگناہ ہ وگ یا کہ و ہ چارو ں مذا ہ ب س ے خارج ہے آپ ک ے پاس ک یا دلیل ہے ک ہ اگر کوئ ی شخص چاروں مذ ہ بو ں (حنف ی،مالکی، شافعی،حنبلی)سے انحراف کر ے تو کافر ہے اور اس کاقتل واجب ہے ؟آ یا جو مذاہ ب صد یوں کے بع د رائج ہ وئ ے ان ک ی اطاعت واجب ہے ل یکن جو مذہ ب رسول خدا (ص)کے زمان ے س ے مرکز توج ہ ت ھ ا و ہ باعث کفر اور اس ک ے پ یروؤں کاخون بہ انا جائز ہے ؟

انصاف پسند لوگوں کی توجہ کیلئے عمدہ بحث

خدا کے لئ ے سچ بتائ یے کہ ابو حن یفہ یا مالک ابن انس یا شافعی یا امام احمد بن حنبل کیا رسول اللہ (ص)ک ے زمان ے م یں تھے ؟اور اپن ے مذ ہ ب ک ے اصول وفروع بلاواسط ہ آنحضرت (ص) س ے اخذ کئ ے ت ھے ؟ ۔

حافظ:- ایسا دعوی تو کسی نے ن ہیں کیا کہ ائم ہ اربع ہ ن ے آ ں حضرت(ص) ک ی مصاحبت کا شرف حاصل کیا ہ و ۔

خیرطلب:- آیا امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیھ ما السلام صحبت میں بیٹھے اور آں حضرت کے علم کا درواز ہ ت ھے یا نہیں ؟

حافظ:- یہ تو بدیہی بات ہے ک ہ کبار صحاب ہ م یں سے بلک ہ بعض ح یثیتوں میں ان سے افضل ت ھے ۔

خیرطلب:-تو اس قاعدے ک ی رو سے اگر ہ م ک ہیں کہ عل ی ابن ابی طالب علیہ السلام کی پیروی اس لحاظ سے واجب ہے ک ہ پ یعمبر (ص)نے فرما یا علی(ع) کی اطاعت میری اطاعت ہے اور آپ آ ں حضرت (ص)باب علم ت ھے ،آن حضرت (ص)ن ے امت کو حکم د یا ہے ک ہ جو شخص م یرے علم سے ب ہ ر ہ اندوز ہ ون ا چاہ تا ہے اس کو چا ہیئے کہ عل ی (ع) کے درواز ے پر چل ے جائ ے۔ تو ہ مار ہ یہ دعوی سچا ہ وگا ۔ اور اگر ہ م ک ہیں کہ مذ ہ ب ش یعہ جو عین محمدی مذہ ب ہے ،اس لئ ے ک ہ خاتم الانب یاء نے اس ک ے پ یشواؤں کو عدیل قرآن فرمایا ہے اور ان س ے روگردان ی کو موجب ہ لاکت قرار د یا جیسا کہ حدیث ثقلین اور حدیث سفینہ سے جو متفق عل یہ فرقین(شیعہ وسنی) ہیں ، سے ثابت ہے ۔ چنانچ ہ اس س ے قبل ان ک ی طرف اشارہ ک یا جاچکا ہے اس س ے انحراف بدبخت ی کا باعث ہے تو ہ م حق پر ہ و ں گ ے اور ہ م دل یل کے سات ھ یہ کہہ سکت ے ہیں۔ ک ہ عزت طا ہ ر ہ ک ی نافرمانی گویا حکم رسول(ص) سے سرکش ی ،صراط مستقیم سے عل یحدگی اور حبل المتین سے جدائ ی ہے ۔

اس کے باوجود علماء ش یعہ کی طرف سے کس ی جاہ ل ا ہ ل س نت کی نسبت بھی ایسے حرکات سرزد نہیں

۱۰۳

ہ وئ ے ن ہ ک ہ ان ک ے عالمو ں ک ے لئ ے ہ م ن ے جماعت ش یعہ کو ہ م یشہ یہی تعلیم دی ہے ک ہ ا ہ ل سنت ہ مار ے مسلمان ب ھ ائ ی ہیں ۔ ل ہ ذا ہ م سب کو آپس م یں متحد او ر متفق رہ نا چا ہ ئ یے ، لیکن اس کے خلاف آپ ک ے علماء برابر مومن و موحد پاک دامن اور اہ ل ب یت رسالت کے پ یروشیعوں کو اہ ل بدعت،رافض،غال ی،یہ ودبلک ہ کافر ومشرک کہ ت ے ر ہ ت ے ہیں اور اس جرم میں فقہ ا ئ ے اربع ہ ابو حن یفہ ،مالک ابن انس ،محمد ابن ادریس شافعی ،احمد ابن حنبل میں سے کس ی ایک کی تقلید کیوں نہیں کرتے ان کو کافر او ر رافض ی بناتے ہیں ۔ اور ان ک ے پاس کوئ ی دلیل بھی موجود نہیں ہے ک ہ مسلمان لازم ی طور پر ان چار وں م یں سے کس ی ایک کی پیرو ی کرنے پر مجبور ہیں ،حالانکہ اس ک ے برعکس جو لوگ حکم رسول س ے ا ہ ل ب یت رسالت اور عترت طاہ ر ہ ک ی پیروں کرتے ہیں اور حقیقت میں وہی نجات پانے وال ے ہیں۔

انہی بے جا فتاو ی اور بیہ ود ہ قسم کی گفتگو سے ان ہ و ں ن ے اپن ے عوام ک ے ہ ات ھ و ں م یں ایک بہ ان ہ د ے د یا کہ جب ب ھی موقع ہ ات ھ آئ ے و ہ سار ی حرکتیں جو کفار کے سات ھ ہ ونا چا ہیے بلکہ ان س ے ب ھی بد تر مومن و موحد شیعوں کے سات ھ عمل م یں لائی جائیں جیسے قتل وغارت اور ناموس اور ناموس کی ہ تک حرمت وغ یرہ ۔

ایرانیوں کے ساتھ ترکیوں ، خوارزمیوں ، ازبکوں اور افغانوں کا شرمناک رویہ

حافظ : آپ سے مجھ کو یہ امید نہیں تھی کہ ایسے جھوٹے اور غلط مطالب کے ذریعے جن کا کبھی دنیا میں وجود ہی نہیں رہا ہے جذبات کو ابھارئیے گا۔

خیرطلب :- آپ کو غلط فہمی ہوئی آپ یہ سجھتے ہیں کہ میں بغیر دلیل کے اور وہ بھی ایسے محترم جلسے میں اپنے مسلمان بھائیوں کو غلط الزام دے رہاں ہوں حالانکہ نمونے کے طور پر بزرگ شیعہ فقیہوں کے ساتھ سنی قاضیوں اور عالموں کا جو برتاؤ میں نے پیش کیا ہے اس سے قطع نظر اگر تاریخ میں ترکوں ، خوارزمیوں ، ازبکوں اور افغانوں کے حالات اور ایران پر ان کے مکرر حملوں کے واقعات کا مطالعہ کیجئے تو سمجھ میں آجائے گا کہ میں صحیح عرض کررہا ہوں بلکہ شیعہ جماعت کے ساتھ ان کا طرزعمل دیکھ کے آپ کو خجالت ہوگی کیونکہ جب بھی ان سے ممکن ہوا اور خارجی لڑائیوں یا اندرونی معاملات کے اثر سے ایرانیون کے حالاتدگرگوں دیکھے تو شمالی شرقی ایرانپر شدید حملے کئیےاور کبھی کبھی خراساں ، نیشاپور اور سبزدار حتی کہ شاہ سلطان حسین صفوی کے زمانے میں تو ایک مرتبہ اصفہان تک آگئے ، اس کے گردونواح میں کافی تاخت وتاراج کی اور کسی طرح کے عفت وانسانیت اور اسلام

۱۰۴

منافی طرز عمل سےدریع نہیں کیاقتل وغارت ، مجبور شیعوں کے اموال کو نذر آتش کردینے اور ان کے ناموس کی ہتک حرمت کرنے کے بعد ایک کثیر تعداد کو اسیر کرکے لئے گئے اور کافر قیدیوں کی طرح دنیا کے بازاروں مین فروخت کردیا

چنانچہ ارباب تاریخ لکھتے ہیں کہ ترکستان کے شہروں میں ایک لاکھ سے زیادہ شیعہ فروخت کئے گئے اور کافر غلاموں بلکہ ان سے بھی بدتر اشخاص کی مانند ان کے ساتھ سخت رویہ برتا جاتا تھا ، اس طرح کے اقداماتوہ صرف اپنے علماء کے حکم اور فتوے سے عمل میں لاتے تھے

ایران مین خان خیوہ کے مظالم اور شیعوں کے قتل وغارت کے لئے علمائے اہل سنت کے فتوے

حافظ :-اس طرح کی جنگیں اور حملے سیاسی تھے اورمذہبی پیشواؤں کے فتاوے سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا ،

خیرطلب:- نہیں ایسا نہیکن ہےبلکہ اس قسم کے حملے قتل وغارت اور ہتک حرمت علمائے اہل تسسنن کے فتاوی اور فیصلوں ہی کا نتیجہ تھے چنانچہ مرحوم ناصرالدین شاہ قاجار کے اوائل سلطنت اور میرزا تقی خاں امیرنظام کی وزارت مین جب ایران کی فوج خراسان کے ہنگامے اور سالار کے فتنےمیں پھنسی ہوئی تھی امیر خوارزم محمد امین خاں ازبک معروف بہ خان خیوہ (خوارزم ) کو موقع ہاتھ آیا اس نے مرو اور خراسان پر ایک کثیر لشکر کے ساتھ حملہ کردیا ۔اور قتل وغارت اور کافی تباہ کاری کے بعد بہت بڑے جمع کو قید کرکے لے گیا ۔ سالار کا معاملہ ختم ہونے کے بعد حکومت خان خیوہ اور اس کی سرکوبی کی متوجہ ہوئیایرانکے مقتدر اور مدبر وزیر اعظم مرحوم امیرنظام کی تدبیر سے پہلے نرمی اور مدارات سے کام لیا گیا ، مرحوم رضاقلی خاں بزارجیریی متخلص بہ ہدایت کو جو ایرانی دربار کے بڑے عقلمندوں مین سے تھے سفیر بناکر خان خیونہ کے پاس بھیجا جس کی تفصیل بہت طولانی ہے اور یہاں اس کے ذکر کی گنجائش نہیںالبتہ جو میریگزارش ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ جس وقت مرحوم ہدایت خاں خیوہ کے پاس پہنچے توگفتگو کے سلسلے میں کہا تعجب ہے کہ ایران باشندے جب روم ، روس ہند اور فرنگ وغیرہ بیرونی ممالک میں جاتے ہیں تو وہاں عزت کے ساتھ رہتے ہیں اور امن وعافیت کے ساتھ واپس آتے ہیں لیکن آپ کے حدود سلطنت میں معاملہ برعکس ہے کیونکہ آپ کے آدمی کو لوٹنے پھونکنے ، قتل وغارت اور

۱۰۵

ان کو قید کرکے فروخت کرنے میں کافر غلاموں کا ایسا سلوک کرتے ہیں اور طرح طرح کی ذلتیں پہنچاتے ہیں حالانکہ سب کے سب مسلماں ایک قبلہ ، ایک کتاب (قرآن مجید) ایک پیغمبر اور ایک خدا کے ماننے والے ہیںپھر بھی معلوم نہیں ایسے برتاؤ کا کیا سبب ہے ؟

اس نے جواب دیا کہ اس میں ہماریکوئی سیاسی غلطی نہیں ہے بلکہ مذہبی حیثیت سے بخارا اور خوارزم کے علماء مفتی اور قاضی صاحبان فتوی دیتے ہیں اور کہتے ہیں شیعہ چونکہ رافضی ، کافر اور اہلبدعتہین لھذا ان کی سزا یہی ہے چنانچہ کفار کی حیثیت سے ان کو قتل کرناان کے اموال غصب کرلینا ان کو لوٹنا اور قیدی بنانا واجب ولازم ہےجیسا کہ ان واقعات کی مفصل شرح تاریخ روضتہ الصفائے ناصری اور سفارت نامہ خوارزم مطبوعہ طہران مولفہ مرحوم رضا قلی خاں ہدایت میں درج ہے

شیعوں کے قتل وغارت پر علمائے اہل سنت کے فتوے اور خراسان پر عبداللہ خاں ازبککے حملے

نیز جس زمانے میں عبداللہ خاں ازبک نے شہر خراسان کا محاصرہ کیا تھا علمائے خراساں نے عبداللہ خان کو ایک مفصل تحریر لکھی اور اس کے حرکات پر اعتراض کئے کہ تم آخر کس لئے لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہنے والوں اور قرآن وعترت رسول کےپیروں کے قتل وغارت اورہتک حرمت پر آمادہ ہوئے ہو در آنحالیکہاسلام نے تم کو کفار کے ساتھ بھی ایسا سلوک کرنے کی اجازت نہیں دی ہے

عبداللہ خاں نے مشہد کے علماء اور باشندوں کا یہ خط جواب کے لئے سنی عالموں اور قاضیوں کے سپرد کیا جو اس کے ہمراہ تھے ان لوگوں نے تفصیلی جواب لکھاپھر علمائے مشہد نے اس کا جواب الجواب دیا اور ان کو لاجواب کیاان خطوط کی تشریح ناسخ التواریخ میں درج ہے جو بہت طولانی ہےمیرے مطلب کا ثبوت یہ ہے کہ سنی علمائے ازبک نے اپنی تحریر میں لکھا تھا کہ شیعہ چونکہ رافضی اور کافر ہیں لہذا ان کا خون اور مال وحرمت مسلمانوں کے لئے مباح ہے ۔

افغانستان کے شیعوں سے افعانی امیروں کا سلوک

زمانہ ماضی میں اور بالخصوص میر دوست محمد خاں کہندل خاں ، شاہ شجاع الملک ، عبدالمومن خاں امیر عبدالرحمان خاں اور امیر حبیب اللہ خاں کی ریاست وحکومت کے زمانے میں کابل قندھار، ہرات اور ان

۱۰۶

کے اطراف میں شیعہ جماعت کے ساتھ سنی افغانیوں نے جو سلوک کئے اور خاص وعام بلکہ بے گناہ بچوں کا بھی جو قتل عام کیا اگر ہم صرف اسی کا تذکرہ کرنا چاہیں تو انتہائی شرمناک اور اہل جلسہ کے لئے ناقابل برداشت ہوگا میرا خیال ہے کہ خود آپ حضرات نے بھی تاریخ کے سلسلے میں ان لوگوں کے لرزہ انگیز مظالم کا بخوبی مطالعہ کیا ہوگا اور محترمبا ہمت قزلباش حضرات ہندوستان میں بالخصوص پنجاب کے اندر افغانوں کے اثار ظلم کا ایک کھلا ہوا نمونہ ہیں جو مجبور راجلاوطنی اختیار کرکے یہاں پناہ گیر اور سکونت پذیر ہوئے

ارباب تواریخ نے ان سارے واقعات کو درج کیا ہےاور آنے والی نسلوں کو موقع دیا ہے کہ صحیح فیصلہ تک پہنچ سکیں

چنانچہ ان میں سے ایک دل سوز واقعہ سنہ ۱۲۶۷ ھ کا ہے عاشورہ محرمکو جمعہ کے روز قندھار کے شیعہ امام باڑوں میں جمع ہو کر عزاداری سید شہداء وعترت رسول میں سرگرم تھے ، دفعتا بہت سے متعصب اہل سنت طرح طرح کے اسلحے لئے ہوئے امام باڑے میں گھس پڑے اور نہتے شیعوں کے ایک کثیر مجمع کو یہاں تک کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی انتہائی دردناک طریقے سے قتل کیا اور ان کے اموال لوٹ لئے برسوں گزرگئے کہ شیعہ ذلت وحقارت کی زندگی بسر کررہے تھے اور آزادی عمل سے محروم تھے یہاں تککہ ایام عاشورہ میں دو دو تین تین افراد تہ خانوں کے اندر جاکر فرزند رسول اور شہدائے کربلا کی عزاداری کرتے تھے (یہاں پر مصنف دام مجدھم نے میرامان اللہ خاں کی رواداری اور انصاف پروردی کی تعریف فرمائی ہے جس کو بنظر اختصار حذف کرتا ہوں (مترجم) آپ حضراتتاریخ پر نظر ڈالیں تو دیکھیں گے کہ اسی ہندوستان کے اندر مخالفین کی تحریک سے سنی وشیعہ آویزش کے نتیجہ میں کس قدر خون بہائے گئے اور کتنے صاحبان فضل وتقوی اورپاکدامن مومنین جاہلوں کی ہوسناکیوں کی بھینٹ چڑھ گئے

شہید ثالث کی شہ ادت

ان منحوس واقعات کے غم انگ یز خطوں م یں سے آگر ے کا قبرستان ب ھی ہے اس ی سفر کے سلسل ہ م یں جس وقت میں وہ ا ں پ ہ نچا تو خدا ہی جانتا ہے ک ہ متعصب لوگو ں ک ی حماقتوں اور ج ہ التو ں س ے کس قدر متاثر ہ و ا خصوصا جس وقت صاحب علم وتقو ی بے نظ یر فقیہ وعالم اور رسول اللہ (ص )کے پار ہ تن "قاض ی سید نوراللہ شوستر ی قدس سرّہ " ک ی زیارت سے مشرف ہ و ا ک یونکہ آپ بھی ملت اسلامی کے تعصب وعناد ک ی قربانیوں میں سے ا یک ہیں جنہ و ں ن ے سن ہ ۱۰۱۹ ھ م یں اس زمانے ک ے ب ڑے ب ڑے عالمو ں ک ی مخالفانہ کوششو ں ک ے نت یجے میں ہ ندوستان ک ے جا ہ ل ومتعصب مغل با شاہ "جہ انگ یر"کے حکم س ے رفض اور تش یع کے الزام پر خود سن ی علماء کے ہ ات ھ و ں ۷۰ سال ک ے سن م یں شربت شہ ادت نوش فرما یا ۔

۱۰۷

آپ کو خود معلوم ہے ک ہ آگر ے م یں ان بزرگوار سید جلیل القدر عالم کی قبر پر آج تک شیعہ مسلمانوں ک ی زیارت گاہ ہے ۔

ان کے سنگ قبر پر "جومرمر س ے بنا ہ وا ہے " م یں نے د یکھ ا کہ سنگ س یاہ سے نقش ک یا ہ وا ہے ۔

ظالمی جفائے نورالل ہ کرد-------قر ۃ العین نبی را سر برید

سال قتلش حضرت ضامن علی-------گفت نوراللہ شد ش ہید

حافظ:- آپ بلاوجہ ہ م کو مورد الزام قرارد یتے ہیں کیوں کہ ج ہ ال اور عوام ک ی زیادتیوں اور جفاکاریوں اور ان لوگوں ک ے افعال س ے جن کا آپ ن ے ذکر ک یا درحقیقت میں خود بہ ت متاثر ہ و ں ل یکن شیعوں کے اعمال ب ھی تو اس کے لئ ے معاون ہ وت ے ہیں ۔ اور ان کو ا یسی حرکتوں پر ابھ ارت ے ہیں۔

خیرطلب :- شیعوں کے کون س ے ا یسے اعمال سرزد ہ وت ے ہیں جو ان کے قتل وغارت اور ہ تک عزت ک ے باعث ہ و سک یں ؟

حافظ:- ایک ایک دن میں ہ زارو ں افراد مردو ں ک ی قبروں ک ے سامن ے ک ھڑے ہ وکر ان س ے حاجت یں طلب کرتے ہیں ، کیا شیعوں کا طریقہ مردہ پرست ی نہیں ہے ؟ علما ، آخر کس لئ ے ان کو منع ن ہیں کرتے ک ہ مردو ں ک ی زیارت لے نام پر کرو ڑ و ں اشخاص ان ک ی قبروں ک ے سامن ے چ ہ ر ہ خاک پ ر رکھ ک ے اور سجد ہ کرک ے مرد ہ پرست ی کرتے ہیں ۔ اور پاک نفس لوگو ں ک ے ہ ات ھ و ں م یں ایک بہ ان ہ د ے د یتے ہیں تاکہ وہ ز یادتیاں کریں اور تعجب تو یہ ہے ک ہ آپ ان اعمال کا نام توح ید کہ ت ے ہیں اور اس قسم کے اشخاص کو موحد ک ہ ت ے ہیں ۔

جب ہ م لوگ مشغول اور سرگرم گفتگو ت ھے تو حنف ی فقیہ مولوی شیخ عبدا لسلام کتاب ہ د یۃ الزائرین کے جو ان ک ے سامن ے رک ھی ہ وئ ی تھی اس طرح ورق الٹ ر ہے ت ھے اور مطالع ہ کر ر ہے ت ھے جس س ے ظا ہ ر ہ وتا ت ھ ا ک ہ و ہ کوئ ی اعتراض کا پہ لو پ یدا کرنے ک ی کوشش میں ہیں ،جب حافظ صاحب کا کلام یہ ا ں تک پہ نچا تو ان ہ و ں ن ے سر ا ٹھ ا یا اور ایک بھ ر پور وار کرت ے ہ وئ ے ج یسے کوئی بڑ ا س ہ ارا ڈھ ون ڈ ل یا ہ و مج ھ س ے فرما یا :-

شیخ کا اقدام، شبہہ ک ی ایجاد حملے ک ے لئ ے وس یلے کی تیاری-----اور---- اس کا دفاع

شیخ :- بسم اللہ د یکھ ئ ے اسی جگہ (کتاب ک ی طرف اشارہ )آپ ک ے علماء اور پ یشوا ہ دا یت دے ر ہے ہیں

۱۰۸

کہ امامو ں ک ے حرم م یں زیارت ختم ہ ون ے ک ے بعد زائر ین دو رکعت نماز زیارت پڑھیں تو کیا نماز میں قصد قربت شرط نہیں ہے ؟ ورن ہ نماز ز یارت چہ معن ی دارد؟ آیا امام کے لئے نماز پڑھ نا شرک ن ہیں ہے ؟ زائر ین کے یہی اعمال کہ امام ک ی قبر کی طرف رخ کرکے ک ھڑے ہ وت ے ہیں ۔ اور نماز پ ڑھ ت ے ہیں ان کے شرک پر سب س ے ب ڑی دلیل ہیں اب اس موقع پر آپ کے پاس ک یاجواب ہے ؟ یہ سند صحیح ثابت اور خود آپ ہی کی معتبر کتاب ہے ۔

خیرطلب :- چونکہ وقت کاف ی گزر چکا ہے حضرات کسل مند اور پر یشان ہ ور ہے ہیں ۔ ل ہ ذا مناسب سمج ھ ئ ے تو آپ ک ے اور جناب حافظ صاحب ک ے ب یانات کاجواب کل پر رکھ ا جائ ے۔۔ (تمام ش یعہ ،سنی حاضرین جلسہ ن ے آواز یں دینا شروع کیں کہ جب تک جناب ش یخ صاحب کاجواب نہ د ے د یا جائے ا ور مردہ پرست ی کے معن ی نہ واضح ہ وجائ یں ہ م لوگ یہ ا ں سے ن ہ جائ یں گے ہ م کو بالکل تکان اور پر یشانی نہیں ہے ) ۔۔

(میں ہ نست ے ہ وئ ے حافظ صاحب ک ی طرف رخ کیا اور کہ ا ک ہ جناب ش یخ کا جوش چونکہ ب ہ ت زور پر ہے اور ان ہ و ں ن ے ا یک بہ ت ب ڑ ا حرب ہ ت یار کیا ہے ۔ ل ہ ذا اجازت د یجئیے کہ پ ہ ل ے ان کاجواب د ے دو ں پ ھ ر آپ کا جواب عرض کرو ں ) ۔

حافظ :- فرمائیے ہ م سنن ے ک ے لئ ے حاضر ہیں ۔

خیر طلب :- جناب شیخ صاحب ! واقعی آپ بچوں ک ی طرح بہ ان ے ڈھ ون ڈ ر ہے ہیں ۔ ک یا آپ زیارت کے لئ ے گئ ے ہیں اور زائرین کے عمل یات کو قریب سے د یکھ ا ہے ؟

شیخ :- نہیں ،نہ م یں گیا ہ و ں اور ن ہ م یں نے د یکھ ا ہے ۔

خیرطلب :- پھ ر آپ ک ہ ا ں س ے فرمار ہے ہیں کہ زائر ین قبر امام کی طرف رخ کرکے نماز پ ڑھ ت ے ہیں جس سے اس نماز وز یارت کو آپ نے مومن وموحد ش یعوں کے لئ ے شرک ک ی علامت قرار دیا ہے ۔

شیخ:- آپ کی اسی کتاب کی رو سے ،جس م یں لکھ ت ے ہیں کہ امام ک ے لئ ے نماز ز یارت پڑھ و ۔

خیرطلب :- مرحمت فرمائیے دیکھ و ں کس طرح سے لک ھ ا ہ وا ہے ۔ (جب کتاب ل یکے دیکھی تو اتفاق سے حضرت ام یر المومنین علیہ السلام کی زیارت کا طریقہ تھ ا )-

خیرطلب :- عجب حسن اتفاق ہے ک ہ آپ ن ے خود ہی اپنے خلاف ا یک تیز دھ ار کا حرب ہ م ہیا فرمالیا چونکہ خدا ہ م یشہ ہ مارا مدد گار ہے ۔ ل ہ ذا ہ ر مقام پر ہ مار ی کمک اور حمایت کے اسباب ووسائل اک ٹھ ا کرد یتا ہے ۔

اولا بہ تر ہے ک ہ اس کتاب م یں جو طریقہ زیارت درج ہے اس ک ے شروع ہے اس ک ے شروع س ے بلا امت یاز ہ ر حص ے ک ے چند جمل ے وقت ک ے لحاظ س ے پ ڑھ جاؤ ں یہ ا ں تک کہ نماز ک ی منزل تک پہ نچ جاؤ ں جو آپ کا موضوع بحث ہے تاک ہ حضرات حاضر ین جلسہ خود ہی فیصلہ فرمالیں اور جس مقام پر شرک کی علامت ملاحظہ فرمائ یں فورا ٹ وک د یں اور اگر اول

۱۰۹

سے آخر تک ز یارت نامے م یں صرف توحید ہی کی علامت نظر آئے تو آپ شرمند ہ ن ہ ہ و ں بلک ہ یہ سمجھ ل یں کہ غلط ف ہ م ی ہ وگئ ی ۔ کتاب د یکھ آپ کے سامن ے ہے پ ھ ر آپ بغ یر دیکھ بال کے اور جانچ پ ڑ تال ک یے ہ وئ ے حمل ے کر ر ہے ہیں چنانچہ اس ی جگہ س ے حضرات ا ہ ل جلس ہ سمج ھ ل یں کہ آپ حضرات ک ے باق ی اعتراضات بھی اسی پھ س پ ھ س ے اعتراض ک ے مانند صرف د ھ وکا ہی دھ وکا ہے ۔

زیارت کے آداب

ملاحظہ فرمائیے ،قاعدہ یہ ہے ک ہ مولا ام یر المومنین علیہ السلام کا زائر جب کوفہ ک ی خندق پر پہ نچ ے تو ک ھڑ ا ہ وکر ک ہے "الله اکبر الله اکبر اهل الکبریاء والحمد والعظمة الله اکبر اهل التکبیر والتقدیس والتسبیح ووالا لا اله الا الله اکبر مما اخاف و احذر الله اکبر عمادی علیه اتوکل الله اکبر رجائی و الیه انیب الی آخر" جب درواز ہ نجف پر پ ہ نچ ے تو ک ہے " الحمد لله الذی هدانا لهذا و ما کنا لنهتدی لولا ان هدانا الله الی آخر " ۔ جب صحن ک ے دواز ے پر پ ہ نچ ے تو حمد بار ی تعالی کے بعد ک ہے "اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شریک له و اشهد ان محمد ا عبده ورسوله جاء بالحق من عند الله و اشهد ان علیا عبدالله واخو رسول الله ،الله اکبر الله اکبر الله اکبر لا الهه الا الله والله اکبر والحمد لله علی هدایته و تو فیقه لما دعاا لیه من سبیله الی آخر" جب در حرم و بقع ہ مبارک ہ پر پہ نچ ے تو ک ہے "اشهد ال لا اله الا الله وحده لا شریک له الی آخر" پ ھ ر خدا اور رسول اور ائم ہ طا ہ ر ین سے اذن و اجازت حاصل کرن ے ک ے بعد جب زائر حرم مط ہ ر ک ے اندر داخل ہ و تو مختلف ز یارتیں جو پیعمبر اور امیر المومنین علیھ ما الصلواۃ و السلام کے لئ ے س لام پر مشتمل ہیں پڑھے ۔ اور ز یارت سے فارغ ہ ون ے ک ے بعد حکم ہے ک ہ چ ھ رکعت نماز پ ڑھے دو رکعت ہ د یہ امیر المومنین علیہ السلام کے لئ ے اور چار رکعت ہ د یہ آدم ابو البشر اور نوح شیخ الانبیاء علیھ ما السلام کے لئ ے جو آن حضرت ک ے پاس مد فون ہیں ۔

نماز زیارت اور دعائے بعد از نماز

آیا نماز ہ د یہ شرک ہے ؟ آ یا ہ مار ے یہ ا ں والدین اور ارواح مومنین کے لئ ے نماز ہ د یہ کا دستو ر نہیں ہے ؟

۱۱۰

تو ک یا یہ تمام قاعدے شرک ہیں ؟ اوراگر زائر امیر المو منین علیہ السلام کے لئ ے د ہ رکعت نماز ہ د یہ قربتا الی اللہ بجالائ ے تو ک یا یہ شرک ہے ؟

یہ ہ ر انسان ک ی انسانیت کا جز ہے ک ہ جب کوئ ی دوست کی ملاقات کو جاتا ہے ہے تو اس کے لئ ے کوئ ی تحفہ ل ے جاتا ہے ہے ج یسا کہ فر یقین کی ساری کتب احادیث میں مومن کو ہ د یہ کے ثواب م یں رسول اللہ (ص) س ے پورا ا یک باب موجود ہے جب زائر ین اپنے محبوب آقا ک ی قبر کے سامنے ک ھڑ ا ہ وجاتا ہے تو یہ سمجھ تا ہے ک ہ و ہ ب ہ تر ین چیز جو حضرت اپنی ساری زندگی میں زیادہ پسند فرماتے ت ھے ۔ نماز ت ھی ، لہ ذا ہ دا یت کی گئی ہے ک ہ زائر قرب ۃ الی اللہ دو رکعت نماز پ ڑھے اس ک ے بعد اس کا ثواب آن حضرت ک ی روح پر فتوح کو ہ د یہ کرے تو ک یا یہ عمل آپ کی نظر میں شرک ہے ؟ آپ ن ے نماز کا طر یقہ پڑھ ا ہے ؟ تو دعائ ے بع د از نماز کو بھی دیکھ لینا چاہیئے تا کہ آپ کو آپ ک ے شب ہے کا جواب مل جائ ے ۔ اگر آپ ن ے پ ڑھ ل یا ہ وتا تو قطعا ا یراد نہ کرت ے ؟ ۔ اب م یں آپ کی اجازت سے حاضر ین جلسہ ک ی توجہ ک ے لئ ے وہ دعا پڑھ تا ہ و ں تا ک ہ ش یعوں کے اعمال کو انصاف ک ی نگاہ س ے د یکھ ئ ے اور جان لیجئے ۔ ک ہ ہ م موحد ہیں مشرک نہیں ہیں اور کسی حالت میں خدا کو فراموش نہیں کرتے عل ی علیہ السلام کو بھی ہ م اس ی سبب سے دوست رک ھ ت ے ہیں کہ آپ خدا ک ے بند ہ صالح اور رسول الل ہ (ص) ک ے وص ی وخلیفہ ہیں ۔

دعا کادستور یہ ہے ک ہ نماز س ے فارغ ہ ون ے ک ے بعد ان حضرات ک ے سر ہ ان ے (برخلاف اس ک ے ک ہ جو ش یخ صاحب نے فرما یا کہ قبر ک ی طرف رخ کرکے پ ڑھ ت ے ہیں) رو بہ قبل ہ اس صورت م یں کہ قبر مبارک بائ یں بازو کی طرف ہ و یہ دعا پڑھے " اللهم انی صلیت ها تین الرکعتین هدیة منی الی سیدی ومولای ولیک واخی رسولک امیر المومنین وسید الوصیین علی ابن ابی طالب صلوات الله علیه وعلی اله اللهم فصلی علی محمد و آل محمد وتقبلها منی و اجزنی علی ذالک جزاء المحسنین اللهم لک صلیت ولک ورکعت ولک سجدت وحدک لا شریک لک الا انت تجوز الصلواة الرکوع و السجود الا لک لانک انت الله لا اله الا انت "

ما حصل مطلب یہ ہے ک ہ پروردگار ! اس دو رکعت نماز کو م یں نے ہ د یہ کیا اپنے س ید و مولا تیرے ولی اور تیرے رسول کے ب ھ ائ ی امیر المومنین و سید الوصیین علی ابن ابی طالب علیھ ما السلام کی طرف ،خدا وند محمد و آل محمد پر اپنی رحمت بھیج ۔ اس دو رکعت نماز کو میری طرف سے قبول فرما اور اس عمل پر مج ھ کو ن یکو کاروں ک ی جزا مرحمت فرما ۔ پروردگارا! م یں نے ت یرے لئے نماز پ ڑھی ،تیرے لئے رکوع و سجود ک یا ،تو ہی خدائے واحد ہے جس کا کوئ ی شریک نہیں کیونکہ نماز اور رکوع وسجود ،سواتیرے کسی اور کے لئ ے جائز ن ہیں ہے اور تو ہی وہ خدا ا یسے بزرگ ہے جس ک ے سوا

۱۱۱

کوئ ی اور خدا نہیں ۔

حضرات محترم ! خدا کے لئ ے انصاف س ے کام ل یجئیے ۔ ا یسا زائر جو خاک نجف پہ لا قدم رک ھ ت ے ک ے بعد نماز ز یارت سے فارغ ہ ون ے ک ی آخری ساعت تک برابر یاد حق میں مشغول رہے ۔ نام خدا زبان پر جار ی رکھے عظمت و وحدان یت کے سات ھ اس کا ذکر کر ے عل ی کو بندہ صالح اور رسو ل اللہ کا ب ھ ائ ی اور وصی کہے اور زبان حال وقال س ے ان مطالب کا اعتراف کر ے ک یاوہ مشرک ہے ؟ پس اگر نماز پ ڑھ نا اور واحدان یت خدا کی گواہی دینا شرک ہے تو برا ہ کرم توح ید کا طریقہ بتا دیجئیے تاکہ ک ہ ہ م لوگ خدااور رسول خدا(ص) کا مذ ہ ب چ ھ و ڑ کر آپ ک ے راست ہ پ ر آجائیں ۔

شیخ :- تعجب ہے آپ د یکھ ت ے نہیں کہ اس جگ ہ لک ھ ا ہ وا ہے آستان ہ کو بو س ہ د ے کر حرم ک ے اندر داخل ہ و اس ی وجہ س ے ہ م ن ے سنا ہے ک ہ زائر ین جب اپنے امامو ں ک ے حرم ک ے دروازو ں پر پ ہ نچت ے ہیں تو سجدہ کرت ے ہیں ۔ آ یا یہ سجدہ عل ی کے لئ ے ن ہیں ہے ؟آ یا خدا کے کے بار ے م یں شرک نہیں ہے ؟ ک ہ اس ک ے غ یر کا سجدہ کر یں ؟۔

خیرطلب :- میں اگر جناب عالی کہ جگ ہ پر ہ وتا ت و صحیح او ر معقول جواب سن لینے کے بعد سار ی رات بلکہ اس مناظر ے کا سلسل ہ ختم ہ ون ے تک دوبار ہ بحث ن ہ کرتا اور خاموش ر ہ تا ل یکن تعجب تو آپ سے ہے ک ہ پ ھ ر ب ھی گفتگو کر رہے ہیں لیکن ایسی گفتگو کہ ہ ر سنن ے وال ے کو ہ ن سی آجائے (حاضر ین کا زوردار قہ ق ہہ)

ائمہ علیھ م السلام کے روضو ں پر آستان ہ بوس ی شرک نہیں ہے

میں مجبور ہ و ں ک ہ پ ھ ر ا یک مختصر جواب پیش کروں تاک ہ معلوم ہ وجائ ے ک ہ ائم ہ معصوم ین کے مقدس آستانو ں کا چومنا شرک ن ہیں وا کرتا اور آپ ن ے ب ھی مغالطہ د ینے کی کوشش کی ہے ک ہ چومن ے کو سجد ہ قرارد ے د یا ۔ جب آپ خود ہ مار ے سامن ے اس طرح س ے کتاب ک ی عبارت پڑھ ن ے کے بعد تحر یف کرسکتے ہیں تو معلو م نہیں جس وقت بے پ ڑھے لک ھے عوام ک ے پاس تشر یف لے جات ے ہ و ں گ ے تو ہ م پر ک یا کیا تمہ مت یں لگاتے ہ و ں گ ے ۔

اس کتاب اور دوسری کتب ادعیہ و زیارات میں ہ م کو جو ہ دا یت دی گئی ہے وہ یہ ہے ک ہ ج یسا آپ ملاحظہ فرمار ہے ہیں ۔ زائر اظ ہ ار ادب ک ے لئ ے آستان ہ پر بو س ہ د ے ن ہ یہ کہ سجد ہ کر ے ۔

پہ ل ی چیز تو یہ ہے ک ہ آپ ن ے کس قاعد ے ک ی رو سے چومن ے کو سجد ہ کرنا سمج ھ ل یا؟ دوسرے آپ ن ے قرآن مج ید اور اخبار واحادیث میں کہ ا ں د یکھ ا کہ پ یغمبر یا کسی امام علیہ م السلام کی درگاہ ک ی چوکھٹ کو چومن ے س ے منع ک یا گیا ہ و یا بو سہ د ینے

۱۱۲

کو شرک کی علامت قرار دیا گیا ہ و؟ تو حاضر ین کا وقت ضائع نہ فرمائ یے ۔

لیکن جو آپ نے فرما یا کہ م یں نے سنا ہے ک ہ زائر ین سجدہ کرت ے ہیں تو یہ بلکل جھ و ٹ ہے

بسے فرق است ودیدن تاشنیدن ۔۔۔۔۔۔۔ شن یدن کے بود مانند د یدن

کیا خدا ئے تعال ی سورہ نمبر ۹۴ (حجرات)آ یہ ۶ میں ارشاد نہیں فرماتا؟ "ان جاءکم فاسق بنباء فتبینوا ان تصیبوا قوما بجهالة فتصبحوا علی ما فعلتم نادمین" (یعنی جس وقت کوئی فاسق تمہ ار ے پاس کوئ ی خبر لائے تو (تصد یق کرنے س ے پ ہ ل ے )اس ک ی تحقیق کر لو ایسا نہ ہ و کہ نادان ی میں تم کسی قوم کم اس فاسق کی بات پر کوئی تکلیف پہ نچادو پ ھ ر اپن ے کئ ے پر پش یمان ہ ونا پ ڑے ) ۔ قرآن مج ید کے اس فرمان ک ے مطابق کلام فاسق پر عمل کرنا مناسب ن ہیں ہے تاک ہ ندامت ،خجالت کا باعث ن ہ ہ و ۔ بلک ہ تحق یق اور کشف حقیقت کی کوشش کرنا چاہیئے ۔ زحمت سفر برداشت کرک ے جائ یے اور دیکھ ئ ے اس کے بعد ا یراد و اشکال فرمایئے چنانچہ م یں جس وقت بغداد میں" ابو حنیفہ اور شیخ عبد القادر جیلانی " کی قبروں پر گ یا اور ان قبروں ک ے لئ ے عوام کر طرز عمل د یکھ ا (جو بدرجہ ا اس س ے ز یادہ سخت ہے جس ک ی آپ نے شیعوں پر تہ مت لگائ ی ہے ) تو ک ھ ب ی اس کو کسی مجلس یامحفل میں دہ را یا بھی نہیں ۔ خدائ ے بزرگ شا ہ د ہے چوک ھٹ ک ے بار بار زم ین کوچوم چوم رہے ت ھے اور خاک پر لو ٹ ت ے ت ھے ل یکن چونکہ م یں کینے اور عداوت کی نظر نہیں رکھ ن ا تھ ا ۔ اور اس عمل ک ی حرمت پر کوئی دلیل بھی نہیں دیکھی ہے ل ہ ذا اب تک اس کو ب یان کرنے ک ی بھی ضرورت نہیں سمجھی کیونکہ میں سمجھ تا ہ و ں ک ہ و ہ ازروئ ے محبت ا یسا عمل کررہے ت ھے ن ہ ک ہ ازروئ ے بندگ ی ۔

جناب محترم ! آپ یقین کیجیئے کہ کس ی (عارف یا جاہ ل )ش یعہ زائر نے ہ رگز سجد ہ ن ہیں کیا ہے اور ن ہ کرتا ہے ل یکن صرف خدا کے لئ ے اور آپ کا یہ فرمانا بالکل تہ مت و افترا اور ک ھ لا ج ھ و ٹ ہے ۔

ایسی صورت میں اگر سجدے ک ے ہی طرز پر ہ و جس کامطلب خاک پر گرنا اور چ ہ ر ہ و پ یشانی کو زمین پر ملنا ہے (بغ یر قصد بندگی کے ) تو کوئ ی حرج نہیں ہے اس لئ ے ک ہ کس ی بزرگ ذات کے سامن ے تعظ یم و تکریم کے خ یال سے (ن ہ ک ہ اس ک ی خدائی کی نیت سے خدا ک ے لئ ے شر یک قراردینے کے لئے ج ھ کنا ،)زم ین پر گرنا اور خاک پر منہ رک ھ نا ک ھ ب ی شرک نہیں ہ وتا بلک ہ محبوب س ے شد ید رابطہ تعظ یم خاک پر چہ ر ہ رک ھے اور بو س ہ د ینے کا سبب ہے ۔

شیخ:- یہ کیونکر ممکن ہے ک ہ خاک پر گر یں اور پیشانی زمین پر رکھیں پھ ر ب ھی سجدہ ن ہ ہ و؟ ۔

خیرطلب :-آپ سمجھ ت ے ہیں کہ سجد ے کا تعلق ن یت سے ہے ۔ اور ن یت ایک قلبی چیز ہے اور دلو ں اور

۱۱۳

دل ک ی نیتوں کا جاننے والا صرف خد ا ہے ۔ بظا ہ ر ہ م د یکھ ت ے ہیں کہ کوئ ی شخص یا اشخاص سجدے ک ی نوعیت سے زم ین پر پڑے ہ وئ ے ہیں ۔ (اور یہ ٹھیک ہے ک ہ ا یسے انداز میں جو خدا ئے تعالی سے مخصوص ہے اس ک ے غ یر کے سامن ے حاضر ہ ونا مناسب ن ہیں ہے چا ہے بغ یر نیت ہی کے ہ و ں ،ل یکن چونکہ ہ م اس ک ی دلی نیت سے آگا ہ ن ہیں ہیں لہ ذا اس کو سجد ے پر محمول ن ہیں کرسکتے سوا مخصوص سجد ے ک ے اوقات ک ے جب ک ہ ظا ہ ر ی صورت کوبھی ہ م سجد ہ ک ہ ت ے ہیں ۔

بھائیوں کا یوسف(ع) کے لیے خاک پر گرنا اور سجدہ کرنا

پس تعظیم و تکریم کے عنوان سے سجدے کے طرز بغیر نیت سجدہ کے) خاک پر گرنا کفر و شرک نہیں ہے چنانچہ برادرانِ یوسف(ع) نے حضرت یوسف(ع) کے سامنے اسی طرح کا سجدہ کیا اور دو پیغمبر ( یعقوب و یوسف(ع)) موجود تھے لیکن ان کو منع نہیں کیا جیسا کہ سورہ نمبر۱۲ یوسف آیت نمبر۱۰۱ سے ظاہر ہے ارشاد ہے

" وَ رَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوا لَهُ سُجَّداً وَ قالَ: يا أَبَتِ هذا تَأْوِيلُ رُءْيايَ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَها رَبِّي حَقًّا "

(یعنی انہوں نے اپنے ماں باپ کے تخت پر بٹھایا اور وہ لوگ یوسف(ع) کے سامنے سجدے میں گر پڑے تب انہوں نے کہا اے بابا یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں پہلے دیکھ چکا ہوں ، واقعی خدا نے اس کوسچ کر دکھایا ۔ (۱) نیز کئی مقامات پر کیا قرآن کریم آدم ابوالبشر کو فرشتوں کے سجدہ کرنے کی خبر نہیں دے رہا ہے؟ چنانچہ اگر آپ کا بیان صحیح ماں لیا جائے کہ سجدے کے طرز پر ( بغیر نیت عبودیت کے) خاک پر گرنا شرک ہے تو چاہئیے کہ ( معاذ اﷲ) برادران یوسف(ع) اور ملائکہ مقربین سب کے سب مشرک رہے ہوں اور صرف ابلیس ملعون موحد ہو جس نے سجدے سے انکار کیا۔ حالانکہ ( ایسا نہیں ہے بلکہ یہ سب موحد اور خدا پرست تھے۔

میری گذاش ہے کہ آپ حضرات جاہلانہ اعتراضات اور بے بنیاد سنی سنائی باتوں کہ جنہیں امویوں ، باقی ماندہ خارجیوں، ناصبیوں اور متعصب اشخاص نے نقل کیا ہے ایسی محترم بزم میں جو مخصوص طور پر حق کی گفتگو اور انکشاف حقیقت کے لیے منعقد ہوئی ہے موضوع بحث نہ بنائیں تاکہ باعث ندامت و تضییع وقت نہ ہو اور اپنے بھید کو ظاہر نہ کریں کہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ شیعوں کے اوپر آپ کے ایرادات و اعتراضات ہمیشہ اسی قسم کے ہوا کرتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۔ یہ خواب وہ ہے جس کی اسی سورے کے شروع میں خبر دیتا ہے کہ یوسف(ع) نے اپنے باپ سے عرض کیا کہ میں نے آفتاب و ماہتاب اور گیارہ ستاروں کو خواب میں دیکھا کہ مجھ کوسجدہ کر رہے ہیں اور حضرت یعقوب(ع) نے تعبیر دی کہ تم جلد ایک بلند منزل پر پہنچو گے اور تمہارے باپ ماں اور گیارہ بھائی تمہاری تعظیم کریں گے۔

۱۱۴

اب ضروری ہے کہ جناب حافظ صاحب کا بھی ایک مختصر جواب دیدوں چونکہ وقت کافی گذر چکا ہے لہذا طولانی بحث کا موقع نہیں ہے۔

جسم کی فنا کے بعد روح کی بقا

آپ حضرات چونکہ صاحبان علم ہیں لہذا بہتر ہے کہ غور و فکر کیساتھ بات کہا کریں نہ کہ عادات ، خیالات، جذبات اور اسلاف کی گفتگو کے ماتحت جیسا کہ آپ فرمارہے ہیں کہ شیعہ قبور اموات کے سامنے کس لیے حاجت طلب کرتے ہیں تو کہیں آپ مادہ پرست اور نیچری لوگں سے ہم عقیدہ تو نہیں ہوگئےہیں جو مرنے کے بعد زندگی کے قائل نہیں ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ اذا مات فات ، کیونکہ خداوند عالم سورہ نمبر۲۳ ( مومنون) آیت نمبر۳۹ میں ان کے اقوال نقل فرماتا ہے کہ وہ کہتے ہیں :

" إِنْ هِيَ إِلاَّ حَياتُنَا الدُّنْيا نَمُوتُ وَ نَحْيا وَ ما نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ "

یعنی سوا ہماری دنیاوی زندگی کے اور کوئی حیات نہیں ہے جس میں ہم مرتے ہیں اور زندہ رہتے ہیں اور ہم دو بارہ خاک سے نہیں اٹھائے جائیں گے۔

حضرات آپ بخوبی جانتے واقف ہیں کہ خدا پرستوں کے مضبوط عقائد میں سے ایک عقیدہ حیات بعد الموت بھی ہے کہ آدمی کی موت حیوانات کیخلاف ہوتی ہے جسم عنصری بے کار ہوجاتا ہے لیکن اس کی روح اور نفس ناطقہ باقی و پائدار ہے اور انہیں اجسام سے ملتے جلتے انتہائی لطیف جسموں کیساتھ عالم برزخ میں زندہ اور منتعم یا معذب رہیگا۔

خصوصا شہداء اور مقتولین راہ خدا، کیونکہ وہ حضرات اس سے کہیں زیادہ اضافوں کیساتھ زندہ، خدا کی نعمتوں سے متنعم اور اپنی جزا پر شاد و مسرور رہتے ہیں چنانچہ سورہ نمبر۳ ( آل عمران) آیت نمبر۱۶۹۔۱۷۰ میں ارشاد ہے۔

"وَ لَا تحَْسَبنَ َّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فىِ سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتَا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ فَرِحِينَ بِمَا ءَاتَئهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ وَ يَسْتَبْشرُِونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُواْ بهِِم مِّنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيهِْمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُون "

( یعنی یہ ہرگز نہ سمجھنا کہ شہیدان راہِ خدا مردہ ہیں بلکہ وہ ہمیشہ زندہ ہیں، اپنے پروردگار کے پاس نعمات اور روزی پاتے ہیں خدا نے ان پر اپنا جو فضل و کرم نازل کیا ہے اس سے خوش و خرم ہیں اور جو مومنین ابھی ان سے ملحق نہیں ہوئے ہیں اور بعد کو ان کے پیچھے پیچھے پہنچیں گے ان کے لیے خوش خبری دیتے ہیں کہ نہ ان کے لیے کسی قسم کا خوف ہے نہ وہ رنجیدہ ہوں گے ۔)

آیا روزی حاصل کرنا ، سرور و شادمانی اور پروردگار کے فضل و کرم سے مستفید ہونا مردوں کے لوازم میں سے ہیں۔ یا زندوں کے ؟ علاوہ اس کے صریحی طور پر فرماتا ہے ۔“ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ فَرِحِينَ ” یعنی وہ لوگ زندہ ہیں اور قرب الہی میں روزی پارہے ہیں۔ آخر یہ اشخاص کیونکر زندہ ہیں اور روزی کس طرح سے کھاتے ہیں؟ ظاہر ہے کہ جب رزق کھانے کے لیے منہ رکھتے ہیں۔ تو باتیں سننے کے لیے کان بھی رکھتے ہیں۔ اور جواب بھی دیتے ہیں ۔ لیکن ہمارے کانوں پر مادی پردے پڑٕے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔ اسی وجہ سے ہم ان کی آواز نہیں سننتے ۔

۱۱۵

بقائے روح میں اشکال اور اس کا جواب

اہل سنت میں سے ایک جدت پسند جوان معروف بہ داؤو پوری نے جو جلسہ کے ایک گوشے میں بیٹھے ہوئے گفتگو سن رہے تھے اجازت لے کے سوال کے نام سے اس عبارت کے ساتھ ایک شبہ وارد کیا۔

داؤد پوری : مولانا صاحب آپ کا یہ بیان آج کے محیرا لعقول علمی انکشافات سے میل نہیں کھاتا البتہ گذشتہ زمانوں میں جب علوم طبیعی نے ترقی نہیں کی تھی۔ کچھ لوگ جہالت کی وجہ سے ایک پوشیدہ قوت کے معتقد تھے جس کا نام روح رکھتے تھے لیکن آج جب کہ علم و دانش کا زریں دور ہے۔ اور علوم طبیعی اپنی پوری ترقی پر ہیں اس قسم کے عقائد کا لبادہ بوسیدہ ہوچکا ہے خصوصا یورپ کے ممالک میں جو علمی ترقیوں کا گہوارہ ہیں۔ ارباب دانش جیسے انگلینڈ کے “ ڈارون” اور جرمنی کے “ تبخر” وغیرہ نے ایسے سڑے ہوئے عقائد اور مخصوص طور پر روح کے وجود اور اس کے بقا کے عقیدے کا باطل ہونا ثابت کردیا ہے۔

خیر طلب : عزیز من ! اس قسم کے اقوال نئے نہیں ہیں اور بقول آپ کے زریں دور سے مخصوص نہیں بلکہ تقریبا دو ہزار چار سو سال ہوگئے ارباب مادہ و طبیعت کے حلقہ عمل سے ان کا ظہور ہورہا ہے۔

اہل مادہ طبیعت کا ظہور اور حکیم سقراط سے ویمقراطیس کا مقابلہ

یعنی جس زمانے میں ویمقراطیس اور اس کے پیرووں نے یونان میں سقراط ، افلاطون، ارسطو اور اسی طرح کے دوسرے حکمائے الہی سے مقابلہ کیا مادے اور طبیعت کے قائل ہوئے صاحب علم و ارادہ و قدرت و شعور خدا کا انکار کیا اور کہا کہ بغیر میڑ یعنی مادہ و مادیات کے جو حواس خمسہ میں سے کسی ایک سے محسوس ہوسکے کوئی دوسری چیز عالم میں موجود نہیں ہے۔ اور سارے ضروری تاثیرات مادوں کی طبیعت سے پیدا ہیں تو اسی وجہ سے یہ لوگ طبیعی اور مادی کے نام سے مشہور ہوئے جن کا خلاصہ اورجوہر اصلی آج کمیونسٹ کے نام سے دنیا میں نمایاں ہے اسی طرح کے فاسد عقیدے جو با علم و ارادہ قدرت و شعور خالق کے وجود سے انکار کے لوازم

۱۱۶

میں سے ہیں اسی کو تاہ نظر فرقے کے اندر ظاہر ہوئے اور علماء و فلاسفہ الہی نے زمانے کے ہر دور میں ان کے علمی منطقی جوابات دیئے ہیں۔ لیکن چونکہ آپ نے یورپ اور ڈروں ونجر کے نام لیے ہیں۔ لہذا میں مجبور ہوں کہ آپ جیسے تجدد پسند حضرات کو برادرانہ نصیحت کرتے ہوئے متوجہ کروں کہ علم و عقل اور منطق کا لازمہ یہ ہے کہ ہر کلام پر آنکھ بند کر کے ایمان نہ لے آئیے۔

اگر آپ نے ڈارون کے فلسفہ کا ( جو فرضیات ہیں نہ کہ فلسفہ) مطالعہ کیا ہے۔ تو ضروری ہے کہ اس کتاب اور اقوال و عقائد پر جو انتقادات اور تبصرے لکھے گئے ہیں ان کو بھی پڑھئیے اس کے بعد دانشمندانہ فیصلہ کر کے بہتر کا انتخاب کیجئے۔

چونکہ یورپ والوں کا علمی و عملی غلبہ اور سلطنت آپ لوگوں پر زیادہ رہی ہے لہذا جس وقت ڈارون اور نجز وغیرہ کی کوئی کتاب آپ لوگوں کے ہاتھ میں آتی ہے تو بہت بزرگ و شاندار نظر آتی ہے ۔ اور یہ سمجھ میں آتا ہے کہ در حقیقت سارا یورپ انہیں کے نقش قدم پر چل رہا ہے۔ اور یہ کتاب تمام فلاسفہ یورپ کے عقائد کا نمونہ ہے ۔ در آںحالیکہ ایسا نہیں ہے ( اب اگر ایسا ہو بھی جائے تو اس کی کوئی عملی قدر و قیمت نہ ہوگی۔)

یورپ میں علمائے الہی کے اقوال

جس طرح سے آپ طبیعی ڈارون کا فلسفہ پڑھتے ہیں اسی طرح الہی فلاسفہ کی کتابیں بھی پڑھئیے جو عام طور پر دستیاب ہوتی ہیں جیسے فرانسیسی “ کامیل فلاماریون” کی کتابیں جو یورپ کے مشہور ریاضی علماء میں سے ہے اور اسی نے برسوں معرفت نفس میں غور کرنے کے بعد حق تعالی کی وحدانیت کے اثبات ، عظمت روح اور موت کے بعد اس کی بقا پر بہت سی کتابیں لکھی ہیں جیسے “ دیوان لاناتور” یعنی “ خدا اور طبیعت” اور مرگ و اسرار آں” کی جلدیں جن کا ایرانی اور مصری علماء نے فارسی اور عربی میں ترجمہ کیا ہے۔

ان کتابوں میں موت کے بارے میں تفصیلی کے ساتھ قلم فرسائی کی ہے اور صریحی طور پر کہتے ہیں کہ موت حقیقی کا فنا و نیستی کے معنی مین کوئی وجود نہیں ہے موت مراد ہے ایک عالم سے دوسرے عالم کی طرف منتقل ہونے کا ۔ آدمی صرف اپنا قالب بدلتا ہے یعنی اس عنصر جسم سے نکل کر ایک اس سے زیادہ لطیف پیکر اور صورت میں چلا جاتا ہے کیونکہ روح ( سرمایہ حیات) کے لیے کبھی نہیں بلکہ یہ باقی اور پائیدار ہے یہ نظر یہ سالہا سال کے قطعی تجربات کے بعد قائم ہوا ہے کہ روح اس بدن کے علاوہ ایک چیز ہے جو خود معنوی طور پر استقلال رکھتی ہے جسم کے فنا ہونے کے بعد باقی رہتی ہے اور دیکھ بھال کرتی ہے۔

۱۱۷

اس طرح کے علماء اور فلاسفہ الہی مثلا ہمعصر فیلسوف ، بروکسوں فرانسیسی “ فرانس کے مشہور دانش مند شاعر “ دیکتور ہوگو” جرمنی محقق “ نرمال” اور مشہور فرانسیسی فیلسوف “ دکارت” وغیرہ جن کے سارے اقوال نقل کرنا بلکہ ان سب کے ناموں کا تذکرہ کرنا بھی اس موقع پر ممکن نہیں بہت ہیں دانشمندان یوروپ ان کے وجود پر فخر کرتے ہیں نہ کہ طبیعی و مادی ڈارون اور نجز کے وجود پر۔

اولا چونکہ آپ جیسے روشن خیال جوان حضرات اہل مغرب کے اثرات کے ماتحت ان کی باتیں سننے پر مجبور ہیں لہذا کم از کم یہی کیجئے کہ صرف انگلینڈ کے ڈارون اور جرمنی کے نجز ہی کی کتابیں نہ دیکھئے بلکہ دوسرے فلاسفہ اور دانشمندان یورپ کی کتابیں پر بھی توجہ کیجئے۔

دوسرے دوںوں فرقے (الہی و طبیعی) کے عقائد پر غور و فکر کیجئے اور ان کی کتبون پر جو تبصرے اور انتقادات لکھے گئے ہیں۔ ان کو پڑھیئے تاکہ بہتر کا انتخاب کرسکے ۔ اگر آپ از روئے انصاف اور علم و عقل اور منطق کی نظر سے کتب فریقین ( الہی و طبیعی) کا مطالعہ کیجئے تو قطعی اور یقینی طور پر تصدیق کیجئے گا کہ انسان کا جسم چونکہ عالم خلق کے عناصر سے پیدا ہوا ہے) لہذا فنا ہوجاتا ہے اور روح عالم امر کی مخلوق ہے اس لیے زندہ ہے اور پائیدار ہے۔ یہ نہ مری ہے اور نہ مرے گی خصوصا شہدا اور حق و حقیقت توحید کی راہ میں نقل ہونے والے جو کتب آسمانی اور تعلیمات ربانی کے حکم کے علاوہ روحانی جنبے کے جسمانی حیثیت سے بھی زندہ اور گوش شنوا اور چشم بینا کے مالک ہوتے ہیں۔

چنانچہ زیارت حضرت سید شہدا علیہ الصلوة و السلام میں وارد ہے۔ اشہدانک تسمع کلامی و ترد جوابی یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ میرا کلام سنتے ہیں اور مجھ کو جواب دیتے ہیں۔ آیا آپ نے نہج البلاغہ کا خطبہ ۸۳ نہیں پڑھا ہے جس میں رسول اکرم(ص) کی عترت طاہرہ(ع) کا تعارف کرایا گیا ہے ! فرماتے ہیں :

" أَيُّهَا النَّاسُ! خُذُوهَا مِنْ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ إِنَّهُ يَمُوتُ مَنْ يَمُوتُ مِنَّا وَ لَيْسَ بِمَيِّتٍ وَ يَبْلَى مَنْ بَلِيَ مِنَّا وَ لَيْسَ بِبَالٍ "

(یعنی اے لوگو ، اس مطلب کا خاتم النبیین (ص) سے حاصل کرو ( یعنی آںحضرت(ص) کا ارشاد ہے) کہ ہم میں سے جس کو موت آتی ہے ( در حقیقت وہ مردہ نہیں ہے اور وہ ہم میں سے سے جو بظاہر بوسیدہ ہوتا ہے وہ در حقیقت ) بوسیدہ نہیں ہے۔ یعنی ہم عالم انوار و ارواح میں ہمیشہ زندہ اور قائم رہتے ہیں ۔ جیسا کہ ابن ابی الحدید اور میثمی اور دیار مصر کے مشہور و معروف مفتی شیخ محمد عبدہ ان کلمات کی شرح میں کہتے ہیں کہ اہل بیت پیغمبر(ص) دوسروں کی طرح در حقیقت مردہ نہیں ہیں۔

چنانچہ اگر ہم بظاہر قبور ائمہ معصومین علیہم السلام کی سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو مردوں کی قبروں کے سامنے نہیں کھڑے ہوتے اور مردوں سے باتیں نہیں کرتے بلکہ ہم زندہ اور صاحبان حیات کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں اور زندوں ہی سے گفتگو کرتے ہیں پس ہم مردہ پرست نہیں ہیں بلکہ خدا پرست ہیں۔ کیونکہ خدا ہی ان حضرات کی روحوں اور جسموں کو زندہ اور محفوظ رکھتا ہے۔

۱۱۸

آیا آپ حضرات امیرالمومنین علی ابن ابی طالبا(ع) یا سید الشہدا حضرت امام حسین علیہما السلام یا بدر و احد اور کربلا کے شہیدوں کو دین حق کے فدائی اور راہ خدا کے جانباز نہیں سمجھتے ؟ جنہوں نے قریش و بنی امیہ ، یزید اور یزیدیوں کے ( جن کا سب سے برا مقصد حقائق دین کا انکار اور اس کے آثار کا مٹانا تھا) خانماں سوز ظلم کا مقابلہ کیا اور مقدس دین اسلام اور کلمہ طیبہ لا الہ الا اﷲ کی راہ میں اپنی جاںیں قربان کردیں۔ جس طرح سے صحابہ رسول(ص) کی مقاومت اور شہدائے بدر واحد و حنین کی جانبازیاں کفر و شرک کی شکست اور کلمہ طیبہ لا الہ الا اﷲ کی بلندی کا سبب بنیں اسی طرح حضرت امام حسین علیہ السلام کے عزم و فداکاری نے دین حق کی تقویت میں پورا اثر دکھایا اگر حضرت (ع) مقابلہ نہ کرتے تو یزید پلید لع دین کی جڑکاٹ کے اپنے کفریات باطن اورعقائد فاسدہ کو جماعت مسلمین کے اندر جامہ عمل پہنا دیتا۔

معاویہ و یزید کی خلافت اور ان کے کفر کی طرف سے مخالفین کا دفاع اور اس کا جواب

شیخ : آپ سے سخت تعجب ہے کہ خلیفتہ المسلمین یزید ابن معاویہ کو کافر اور فاسد العقیدہ کہتے ہیں حالانکہ اتنا نہیں جانتے کہ یزید کو خلیفہ امیرالمومنین اور خال المومنین معاویہ بن ابی سفیان نے منصب خلافت پر قائم کیا اور معاویہ کو خلیفہ ثانی عمر ابن خطاب اور خلیفہ ثالث عثمان مظلوم رضی اﷲ عنہما نے بلاد شام میں امارت مسلمین کے عہدے پر ںصب کیا اور ان کی لیاقت و قابلیت کی وجہ سے لوگوں نے ان کو رضا اور رغبت کیساتھ مقام خلافت کے لیے قبول کیا پس آپ جو خلیفتہ المسلمین کی طرف کفر اور ارتداد کی نسبت دے رہے ہیں تو علاوہ اس کے کہ آپ نے تمام مسلمانوں کی اہانت کی جنہوں نے ان کی خلافت کو تسلیم کیا ! بہت بڑی توہین ان پچھلے خلفاء کی بھی ہے جنہوں نے عہدہ امارت اور حقیقتہ ان کی خلافت کی منظوری دی ان سے فقط ایک لغزش و خطا اور ایک ترک اولی صادر ہوا کہ ان کے زمانہ خلافت میں ریحانہ رسول اﷲ کو لوگوں نے قتل کردیا اوریہ عمل چونکہ عفو اور چشم پوشی کے قابل تھا لہذا انہوں نے توبہ کر لی اور خداوند غفور نے بھی اس کو معاف کردیا چنانچہ امام غزالی اور دمیری نے اس مطلب کو تفصیل کے ساتھ اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے ۔ اور یزید کی طہارت و پاکدامنی کو ثابت کردیا ہے۔

خیر طلب : مجھ کو بالکل اس کی توقع نہیں تھی کہ جناب کا درجہ تعصب اس حد تک ہوگا کہ یزید عنید پلید کے وکیل صفائی بن جائیں گے آپ نےجو یہ فرمایا ہے کہ ان کے اسلاف نے ان لوگوں کی امارت کو درست سمجھا لہذا لا محالہ

۱۱۹

مسلمانون کا فرض ہے کہ کورانہ اس کو تسلیم کریں اور ان کی اطاعت کریں تو آپ کا یہ بیان بہت کمزور ہے اور صاحبان عقل کے لیے مخصوص طور پر جمہوریت کے اس ( نام و نہاد) علم و حکمت کے دور ہیں قابل قبول نہیں اور ہمارے دلائل میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم کہتے ہیں خلیفہ کو معصوم اور من جانب اﷲ ہونا چاہیئے تاکہ ہم ان دشواریوں سے دوچار نہ ہوں دوسرے آپ کا یہ فرماں کہ امام غزالی یا دمیری وغیرہ نے یزید کے اعمال کی صفائی پیش کی ہے ۔ تو وہ بھی آپ ہی کے ایسے تھے جیسا کہ آپ کا تعصب آپ کے علم وعقل پر غالب آگیا ہے ورنہ کوئی عقلمند انسان اس پر تیار نہیں ہوسکتا کہ یزید پلید کا وکیل صفائی بنے کیونکہ بچاؤ کا کوئی راستہ ہی نہیں ہے۔

تیسرے آپ کا یہ قول کہ فقط ایک لغزش اور خطا اس سے صادر ہوئی اور وہ شہادت حضرت سید الشہدا سلام اﷲ علیہ تھی تو پہلی بات یہ ہے کہ رسول اﷲ(ص) کے پارہ جگر کو ستر چھوٹے بڑے افراد کے ساتھ بغیر کسی قصور کے شہید کرنا اور اسلام کے نوامیس بزرگ رسول اﷲ(ص) کی بیٹیوں کو روم و فرنگ کے قیدیوں کے مانند کھلم کھلا اسیر کرنا لغزش اور غلطی نہیں تھی بلکہ گناہاں کبیرہ میں سے ہے دوسرے اس کی بد اعمالیاں اور کفریات تنہا ان حضرات کی شہادت ہے سے مخصوص نہیں ہیں بلکہ اس کے کفر و ارتداد کے ثبوت میں مختلف نظیریں موجود ہیں۔

نواب : قبلہ صاحب ! میری گذارش ہے کہ اگر یزید کے کفر و ارتداد پر کچھ واضح دلیلیں موجود ہیں تو ہم کو بھی آگاہ فرمائیے ممنون ہوں گے۔

یزید کے کفر ارتداد پر دلائل

خیر طلب : یزید کے کفر و ارتداد پر دلیلیں بہت روشن اور واضح ہیں۔ چنانچہ اپنے کلمات نظم و نثر میں وہ خود برابر اپنے باطنی کفریات کا اظہار کرتا رہتا تھا خصوصا اس کے اشعار خمریہ میں کھلے ہوئے دلائلی پائے جاتے ہیں ۔

وہ کہتا ہے۔

شمسية عدم بوجها فغر دنها فمشرقها الساقی و مغربها فمی

فان حرمت ي وما علی د ي ن احمدفخذها علی د ي ن المس ي ح ابن مر ي م

خلاصہ مطلب یہ کہ کہتا ہے ، انگوری شربت دست ساقی کے مشرق سے طالع ہوتی ہے اور میرے دہن کے مغرب میں غروب ہوتی ہے پس اگر شراب دین محمدی(ص) میں حرام ہے تو اس کو دین مسیح ابن مریم پر لے لو ( یعنی مسیح ابن مریم کے دین کی پیروی کرو ۔ نیز کہتا ہے:

اقول لصحب ضمّت الكاس شملهم و داعى صبابات الهوى يترنّم

خذوه بنص ي ب من ؟؟؟ ولذة فکل وان طال الهدی ي تصرم

۱۲۰

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

سوالات :

۱ _ اصحاب نے جب کفار کے بارے میں لعن اور نفرین کی بات کہی تو اس وقت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کیا جواب دیا؟

۲ _ عفو کیونکر انسان کے کمالات کی زمین ہموار کرتاہے؟

۳ _ سب سے بلند اور سب سے بہترین معافی کون سی معافی تھی ؟

۴ _ فتح مکہ کے دن رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سعد بن عبادہ سے کیا فرمایا تھا؟

۵ _ فتح مکہ کے دن پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جو عفو اور درگذر کے نمونے پیش کئے ان میں سے ایک نمونہ بیان فرمایئے؟

۱۴۱

دسواں سبق:

(بدزبانی کرنے والوں سے درگزر)

عفو،درگذر، معافی اور چشم پوشی کے حوالے سے رسول اکرم، اور ائمہ اطہار علیہم السلام کا سبق آموز برتاؤ وہاں بھی نظر آتاہے جہاں ان ہستیوں نے ان لوگوں کو معاف فرمادیا کہ جو ان عظیم و کریم ہستیوں کے حضور توہین، جسارت اور بدزبانی کے مرتکب ہوئے تھے، یہ وہ افراد تھے جو ان گستاخوں کو معاف کرکے ان کو شرمندہ کردیتے تھے اور اس طرح ہدایت کا راستہ فراہم ہوجایا کرتا تھا_

اعرابی کا واقعہ

ایک دن ایک اعرابی رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہونچا اس نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کوئی چیز مانگی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کو وہ چیز دینے کے بعد فرمایا کہ : کیا میں نے تم پر کوئی احسان کیا ہے ؟ اس شخص نے کہا نہیں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہرگز مجھ پر کوئی احسان نہیں کیا ہے _ اصحاب کو غصہ

۱۴۲

آگیا وہ آگے بڑھے تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کو منع کیا ، پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم گھر کے اندر تشریف لے گئے اور واپس آکر کچھ اور بھی عطا فرمایا اور اس سے پوچھا کہ کیا اب میں نے تم پر کوئی احسان کیا ہے ؟ اس شخص نے کہا ہاں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے احسان کیا ہے خدا آپ کو جزائے خیر دے_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : تم نے جو بات میرے اصحاب کہ سامنے کہی تھی ہوسکتاہے کہ اس سے ان کے دل میں تمہاری طرف سے بدگمانی پیدا ہوگئی ہو لہذا اگر تم پسند کرو تو ان کے سامنے چل کر اپنی رضامندی کا اظہار کردو تا کہ ان کے دل میں کوئی بات باقی نہ رہ جائے، وہ اصحاب کے پاس آیا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: یہ شخص مجھ سے راضی ہوگیا ہے،کیا ایسا ہی ہے ؟ اس شخص نے کہا جی ہاں خدا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خاندان کو جزائے خیردے، پھر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا میری اور اس شخص کی مثال اس آدمی جیسی ہے جسکی اونٹنی کھل کر بھاگ گئی ہو لوگ اس کا پیچھا کررہے ہوں اور وہ بھاگی جارہی ہو،اونٹنی کا مالک کہے کہ تم لوگ ہٹ جاو مجھے معلوم ہے کہ اس کو کیسے رام کیا جاتا ہے پھر مالک آگے بڑھے اور اس کے سر اور چہرہ پر ہاتھ پھیرے اس کے جسم اور چہرہ سے گرد و غبار صاف کرے اور اسکی رسی پکڑلے، اگر کل میں تم کو چھوڑ دیتا تو تم بد زبانی کی بناپر اس کو قتل کردیتے اور یہ جہنم میں چلاجاتا_

___________________

۱)(سفینةا لبحار ج۱ ص۴۱۶)_

۱۴۳

امام حسن مجتبی اورشامی شخص

ایک دن حسن مجتبیعليه‌السلام مدینہ میں چلے جارہے تھے ایک مرد شامی سے ملاقات ہوئی اس نے آپعليه‌السلام کو برا بھلا کہنا شروع کردیا کیونکہ حاکم شام کے زہریلے پروپیگنڈہ کی بناپر شام کے رہنے والے علیعليه‌السلام اور فرزندان علیعليه‌السلام کے دشمن تھے، اس شخص نے یہ چاہا کہ اپنے دل کے بھڑ اس نکال لے، امامعليه‌السلام خاموش رہے ، وہ اپنی بات کہہ کر خاموش ہوگیا تو آپعليه‌السلام نے مسکراتے ہوئے کہا '' اے شخص میرا خیال ہے کہ تو مسافر ہے اور تم میرے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہوئے ہو ( یعنی تو دشمنوں کے پروپیگنڈوں سے متاثر ہے ) لہذا اگر تو مجھ سے میری رضامندے حاصل کرنا چاہے تو میں تجھ سے راضی ہوجاونگا ، اگر کچھ سوال کروگے تو ہم عطا کریں گے ، اگر رہنمائی اور ہدایت کا طالب ہے تو ہم تیری رہنمایی کریں گے _ اگر کسی خدمتگار کی تجھ کو ضرورت ہے تو ہم تیرے لئے اس کا بھی انتظام کریں گے _ اگر تو بھوکا ہوگا تو ہم تجھے سیر کریں گے محتاج لباس ہوگا تو ہم تجھے لباس دیں گے_ محتاج ہوگا تو ہم تجھے بے نیاز کریں گے _ پناہ چاہتے ہو تو ہم پناہ دیں گے _ اگر تیری کوئی بھی حاجت ہو تو ہم تیری حاجت روائی کریں گے _ اگر تو میرے گھر مہمان بننا چاہتاہے تو میں راضی ہوں یہ تیرے لئے بہت ہی اچھا ہوگا اس لئے کہ میرا گھر بہت وسیع ہے اور میرے پاس عزت و دولت سبھی کچھ موجود ہے _

جب اس شامی نے یہ باتیں سنیں تو رونے لگا اور اس نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ

۱۴۴

آپعليه‌السلام زمیں پر خلیفة اللہ ہیں ، خدا ہی بہتر جانتا ہے اپنی رسالت اور خلافت کو کہاں قرار دے گا _ اس ملاقات سے پہلے آپعليه‌السلام اور آپعليه‌السلام کے پدر بزرگوار میرے نزدیک بہت بڑے دشمن تھے اب سب سے زیادہ محبوب آپ ہی حضرات ہیں _

پھروہ امام کے گھر گیا اور جب تک مدینہ میں رہا آپ ہی کا مہمان رہا پھر آپ کے دوستوں اور اہلبیت (علیہم السلام )کے ماننے والوں میں شامل ہو گیا _(۱)

امام سجادعليه‌السلام اور آپ کا ایک دشمن

منقول ہے کہ ایک شخص نے امام زین العابدینعليه‌السلام کو برا بھلا کہا آپ کو اس نے دشنام دی آپعليه‌السلام نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا ، پھر آپعليه‌السلام نے اپنے اصحاب سے پلٹ کر کہا: آپ لوگوں نے اس شخص کی باتیں سنں ؟ اب آپ ہمارے ساتھ آئیں تا کہ ہمارا بھی جواب سن لیں وہ لوگ آپ کے ساتھ چل دیئے اور جواب کے منتظر رہے _ لیکن انہوں نے دیکھا کہ امامعليه‌السلام راستے میں مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت کر رہے ہیں _

( و الکاظمین الغیظ و العافین عن الناس و الله یحب المحسنین ) (۲)

وہ لوگ جو اپنے غصہ کوپی جاتے ہیں; لوگوں کو معاف کردیتے ہیں ، خدا نیکی کرنیوالوں کو دوست رکھتا ہے _

___________________

۱) ( منتہی الامال ج ۱ ص ۱۶۲)_

۲) (آل عمران۱۳۴)_

۱۴۵

ان لوگوں نے سمجھا کہ امامعليه‌السلام اس شخص کو معاف کردینا چاہتے ہیں جب اس شخص کے دروازہ پر پہونچے او حضرتعليه‌السلام نے فرمایا : تم اس کو جاکر بتادو علی بن الحسینعليه‌السلام آئے ہیں ، وہ شخص ڈراگیا اور اس نے سمجھا کہ آپعليه‌السلام ان باتوں کا بدلہ لینے آئے ہیں جو باتیں وہ پہلے کہہ کے آیا تھا ، لیکن امامعليه‌السلام نے فرمایا: میرے بھائی تیرے منہ میں جو کچھ ۱آیا تو کہہ کے چلا آیا تو نے جو کچھ کہا تھا اگر وہ باتیں میرے اندر موجود ہیں تو میں خدا سے مغفرت کا طالب ہوں اور اگر نہیں ہیں تو خدا تجھے معاف کرے ، اس شخص نے حضرت کی پیشانی کا بوسہ دیا اور کہا میں نے جو کچھ کہا تھا وہ باتیں آپ میں نہیں ہیں وہ باتیں خود میرے اندر پائی جاتی ہیں _(۱)

ائمہ معصومین (علیہم السلام ) صرف پسندیدہ صفات اور اخلاق کریمہ کی بلندیوں کے مالک نہ تھے بلکہ ان کے مکتب کے پروردہ افراد بھی شرح صدر اور وسعت قلب اور مہربانیوں کا مجسمہ تھے نیز نا واقف اور خود غرض افراد کو معاف کردیا کرتے تھے _

مالک اشتر کی مہربانی اور عفو

جناب مالک اشتر مکتب اسلام کے شاگرد اور حضرت امیرالمومنین علیعليه‌السلام کے تربیت کردہ تھے اور حضرت علیعليه‌السلام کے لشکر کے سپہ سالار بھی تھے آپ کی شجاعت کا یہ عالم تھا کہ ابن ابی الحدید نے تحریر کیا ہے کہ اگر کوئی یہ قسم کھائے کہ عرب اور عجم میں علیعليه‌السلام کے علاوہ مالک اشتر

___________________

۱) (بحارالانوار ج ۴۶ ص ۵۵) _

۱۴۶

سے بڑھ کر کوئی شجاع نہیں ہے تو اس کی قسم صحیح ہوگی حضرت علیعليه‌السلام نے آپ کے بارے میں فرمایا : مالک اشتر میرے لئے اس طرح تھا جیسے میں رسول خدا کے لئے تھا _ نیز آپعليه‌السلام نے اپنے اصحاب سے فرمایا : کاش تمہارے در میان مالک اشتر جیسے دو افراد ہوتے بلکہ ان کے جیسا کوئی ایک ہوتا _ایسی بلند شخصیت اور شجاعت کے مالک ہونے کے با وجود آپ کا دل رحم و مروت سے لبریز تھا ایک دن آپ بازار کوفہ سے گذر رہے تھے ، ایک معمولی لباس آپ نے زیب تن کر رکھا تھا اور اسی لباس کی جنس کا ایک ٹکڑا سر پر بندھا ہوا تہا ، بازار کی کسی دو کان پر ایک شخص بیٹھا ہوا تھا، جب اس نے مالک کو دیکھا کہ وہ اس حالت میں چلے جارہے ہیں تو اس نے مالک کو بہت ذلیل سمجھا اور بے عزتی کرنے کی غرض سے آپ کی طرف سبزی کا ایک ٹکڑا اچھال دیا، لیکن آپ نے کوئی توجہ نہیں کی اور وہاں سے گزر گئے ایک اور شخص یہ منظر دیکھ رہاتھا وہ مالک کو پہچانتا تھا، اس نے آدمی سے پوچھا کہ کیا تم کو معلوم ہے کہ تم نے کس کی توہین کی ہے؟ اس نے کہا نہیں ، اس شخص نے کہا کہ وہ علیعليه‌السلام کے صحابی مالک اشتر ہیں وہ شخص کانپ اٹھا اور تیزی سے مالک کی طرف دوڑا تا کہ آپ تک پہنچ کر معذرت کرے، مالک مسجد میں داخل ہو چکے تھے اور نماز میں مشغول ہوگئے تھے، اس شخص نے مالک کے نماز سے فارغ ہونے کا انتظار کیا جب آپ نماز سے فارغ ہوگئے تو اس نے پہلے سلام کیا پھر قدموں کے بوسے لینے لگا، مالک نے اس کا شانہ پکڑ کر اٹھایا اور کہا یہ کیا کررہے ہوا؟ اس شخص نے کہا کہ جو گناہ مجھ سے سرزد ہوچکاہے میں اس کے

۱۴۷

لئے معذرت کررہاہوں، اس لئے کہ میں اب آپ کو پہچان گیا ہوں، مالک نے کہا کوئی بات نہیں تو گناہ گار نہیں ہے اس لئے کہ میں مسجد میں تیری بخشش کی دعا کرنے آیا تھا_(۱)

ظالم سے درگذر

خدا نے ابتدائے خلقت سے انسان میں غیظ و غضب کا مادہ قرار دیا ہے ، جب کوئی دشمن اس پر حملہ کرتاہے یا اس کا کوئی حق ضاءع ہوتاہے یا اس پر ظلم ہوتاہے یا اس کی توہین کی جاتی ہے تو یہ اندرونی طاقت اس کو شخصیت مفاد اور حقوق سے دفاع پر آمادہ کرتی ہے اور یہی قوت خطروں کو برطرف کرتی ہے _

قرآن کا ارشاد ہے :

( فمن اعتدی علیکم فاعتدوا بمثل ما عتدی علیکم ) (۲)

جو تم پر ظلم کرے تو تم بھی اس پر اتنی زیادتی کرسکتے ہو جتنی اس نے کی ہے _

قرآن مجید میں قانون قصاص کو بھی انسان اور معاشرہ کی حیات کا ذریعہ قرار دیا گیاہے اور یہ واقعیت پر مبنی ہے _

( و لکم فی القصاص حیوة یا اولی الالباب ) (۳)

اے عقل والو قصاص تمہاری زندگی کی حفاظت کیلئے ہے_

___________________

۱) (منتہی الامال ص ۱۵۵)_

۲) (بقرہ ۱۹۴)_

۳) (بقرہ ۱۷۹) _

۱۴۸

لیکن بلند نگاہیوں اور ہمتوں کے مالکوںکی نظر میں مقابلہ بالمثل اور قصاص سے بڑھ کر جو چیز اہمیت کی حامل ہے وہ آتش غضب کو آپ رحمت سے بجھا دیناہے _

( و ان تعفوااقرب للتقوی ) (۱)

اگر تم معاف کردو تو یہ تقوی سے قریب ہے_

عفو اور درگذر ہر حال میں تقوی سے نزدیک ہے اسلئے کہ جو شخص اپنے مسلم حق سے ہاتھ اٹھالے تو اس کا مرتبہ محرمات سے پرہیز کرنے والوں سے زیادہ بلند ہے(۲)

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ معصومین (علیہم السلام) پر جن لوگوں نے ظلم ڈھائے ان کے ساتھ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ اطہار کا ہم کو کچھ اور ہی سلوک نظر آتاہے جن لوگوں نے اپنی طاقت کے زمانہ میں حقوق کو پامال کیا اور ظلم و ستم کا بازار گرم رکھا جب وہی افراد ذلیل و رسوا ہوکر نظر لطف و عنایت کے محتاج بن گئے تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ اطہار نے ان کو معاف کردیا_

امام زین العابدینعليه‌السلام اور ہشام

بیس سال تک ظلم و استبداد کے ساتھ حکومت کرنے کے بعد سنہ ۸۶ ھ میں عبدالملک بن مروان دنیا سے رخصت ہوگیا اس کے بعد اس کا بیٹا ولید تخت خلافت پر بیٹھا اس نے

___________________

۱) (بقرہ ۲۳۷)_

۲) (المیزان ج۲ ص ۲۵۸)_

۱۴۹

لوگوں کی توجہ حاصل کرنے اور عمومی مخالفت کا زور کم کرنے کے لئے حکومت کے اندر کچھ تبدیلی کی ان تبدیلیوں میں سے ایک تبدیلی یہ تھی کہ اس نے مدینہ کے گورنر ہشام بن اسماعیل کو معزول کردیا کہ جس نے اہلبیت (علیہم السلام) پر بڑا ظلم کیا تھا جب عمر بن عبدالعزیز مدینہ کا حاکم بنا تو اس نے حکم دیا کہ ہشام کو مروان حکم کے گھر کے سامنے لاکر کھڑا کیاجائے تا کہ جو اس کے مظالم کا شکا رہوئے ہیں وہ آئیں اور ان کے مظالم کی تلافی ہوجائے_لوگ گروہ در گروہ آتے اورہشام پر نفرین کرتے تھے اور اسے گالیاں دیتے تھے، ہشام علی بن الحسینعليه‌السلام سے بہت خوفزدہ تھا اور یہ سوچ رہا تھا کہ میں نے چونکہ ان کے باپ پر لعن کیا ہے لہذا اسکی سزا قتل سے کم نہیں ہوگی ، لیکن امامعليه‌السلام نے اپنے چاہنے والوں سے کہا کہ : یہ شخص اب ضعیف اور کمزور ہوچکاہے اخلاق کا تقاضا یہ ہے کہ ضعیفوں کی مدد کرنی چاہئے، امامعليه‌السلام ہشام کے قریب آئے اور آپعليه‌السلام نے اس کو سلام کیا ، مصافحہ فرمایا اور کہا کہ اگر ہماری مدد کی ضرورت ہو تو ہم تیار ہیں ، آپعليه‌السلام نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ : تم اس کے پاس زیادہ نہ جاو اس لئے کہ تمہیں دیکھ کر اس کو شرم آئے گی ایک روایت کے مطابق امامعليه‌السلام نے خلیفہ کو خط لکھا کہ اس کو آزاد کردو اور ہشام کو چند دنوں کے بعد آزاد کردیا گیا_(۱)

___________________

۱)(بحارالانوار ج۴۶ ص ۹۴)_

۱۵۰

امام رضاعليه‌السلام اور جلودی

جلودی وہ شخص تھا جس کو محمد بن جعفر بن محمد کے قیام کے زمانہ میں مدینہ میں ہارون الرشد کی طرف سے اس بات پر مامور کیا گیا تھا کہ وہ علویوں کی سرکوبی کرے ان کو جہاں دیکھے قتل کردے ، اولاد علیعليه‌السلام کے تمام گھروں کو تاراج کردے اور بنی ہاشم کی عورتوں کے زیورات چھین لے ، اس نے یہ کام انجام بھی دیا جب وہ امام رضاعليه‌السلام کے گھر پہونچا تو اس نے آپعليه‌السلام کے گھر پر حملہ کردیاامامعليه‌السلام نے عورتوں اور بچوں کو گھر میں چھپادیا اور خود دروازہ پر کھڑے ہوگئے، اس نے کہاکہ مجھ کو خلیفہ کی طرف سے یہ حکم دیا گیا ہے کہ عورتوںکے تمام زیورات لے لوں، امام نے فرمایا: میں قسم کھاکر کہتاہوں کہ میں خود ہی تم کو سب لاکردے دونگا کوئی بھی چیز باقی نہیں رہے گی لیکن جلودی نے امامعليه‌السلام کی بات ماننے سے انکار کردیا، یہاں تک کہ امامعليه‌السلام نے کئی مرتبہ قسم کھاکر اس سے کہا تو وہ راضی ہوگیا اور وہیں ٹھہرگیا، امامعليه‌السلام گھر کے اندر تشریف لے گئے، آپعليه‌السلام نے سب کچھ یہانتک کہ عورتوں اور بچوں کے لباس نیز جو اثاثہ بھی گھر میں تھا اٹھالائے اور اس کے حوالہ کردیا _

جب مامون نے اپنی خلافت کے زمانہ میں امام رضاعليه‌السلام کو اپنا ولی عہد بنایا تو جلودی مخالفت کرنے والوں میں تھا اور مامون کے حکم سے قید میں ڈال دیا گیا ، ایک دن قیدخانہ سے نکال کر اسکو ایسی بزم میں لایا گیا جہاں امام رضاعليه‌السلام بھی موجود تھے، مامون جلودی کو قتل کرنا چاہتا تھا لیکن امامعليه‌السلام نے کہا : اس کو معاف کردیا جائے، مامون نے کہا : اس نے آپعليه‌السلام پر

۱۵۱

بڑا ظلم کیا ہے _ آپعليه‌السلام نے فرمایا اس کی باوجود اس کو معاف کردیا جائے_

جلودی نے دیکھا کہ امام مامون سے کچھ باتیں کررہے ہیں اس نے سمجھا کہ میرے خلاف کچھ باتیں ہورہی ہیں اور شاید مجھے سزا دینے کی بات ہورہی ہے اس نے مامون کو قسم دیکر کہا کہ امامعليه‌السلام کی بات نہ قبول کی جائے ، مامون نے حکم دیا کہ جلودی کی قسم اور اس کی درخواست کے مطابق اسکو قتل کردیا جائے_(۱)

سازش کرنے والے کی معافی

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ(علیہم السلام) نے ان افراد کو بھی معاف کردیا جنہوں نے آپعليه‌السلام حضرات کے خلاف سازشیں کیں اور آپعليه‌السلام کے قتل کی سازش کی شقی اور سنگدل انسان اپنی غلط فکر کی بدولت اتنا مرجاتاہے کہ وہ حجت خدا کو قتل کرنے کی سازش کرتاہے لیکن جو افراد حقیقی ایمان کے مالک اور لطف و عنایت کے مظہر اعلی ہیں وہ ایسے لوگوں کی منحوس سازشوں کے خبر رکھنے کے باوجود ان کے ساتھ عفو و بخشش سے پیش آتے ہیں اور قتل سے پہلے قصاص نہیں لیتے البتہ ذہنوں میں اس نکتہ کا رہنا بہت ضروری ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہنے ایک طرف تو اپنے ذاتی حقوق کے پیش نظر ان کو معاف کردیا دوسری طرف انہوں نے اپنے علم غیب پر عمل نہیں کیا، ا س لئے کہ علم غیب پر عمل کرنا ان کا فریضہ نہ تھا وہ ظاہر کے

___________________

۱) ( بحارالانوار ج۹ ص ۱۶۷ ، ۱۶۶)_

۱۵۲

مطابق عمل کرنے پر مامور تھے_ لہذا جو لوگ نظام اسلام کے خلاف سازشیں کرتے ہیں انکا جرم ثابت ہوجانے کے بعد ممکن ہے کہ ان کو معاف نہ کیا جائے یہ چیز اسلامی معاشرہ کی عمومی مصلحت و مفسدہ کی تشخیص پر مبنی ہے اس سلسلہ میں رہبر کا فیصلہ آخری فیصلہ ہوتاہے_

ایک اعرابی کا واقعہ

جنگ خندق سے واپسی کے بعد سنہ ۵ ھ میں ابوسفیان نے ایک دن قریش کے مجمع میں کہا کہ مدینہ جاکر محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کون قتل کرسکتاہے؟ کیونکہ وہ مدینہ کے بازاروں میں اکیلے ہی گھومتے رہتے ہیں ، ایک اعرابی نے کہا کہ اگر تم مجھے تیار کردو تو میں اس کام کیلئے حاضر ہوں، ابوسفیان نے اس کو سواری اور اسلحہ دیکر آدھی رات خاموشی کے ساتھ مدینہ روانہ کردیا،اعرابی مدینہ میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ڈھنڈھتاہوا مسجد میں پہنچاآنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جب اسکو دیکھا تو کہا کہ یہ مکار شخص اپنے دل میں برا ارادہ رکھتاہے، وہ شخص جب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قریب آیا تو اس نے پوچھاکہ تم میں سے فرزند عبدالمطلب کون ہے ؟ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: میں ہوں، اعرابی آگے بڑھ گیا اسید بن خضیر کھڑے ہوئے اسے پکڑلیا اور اس سے کہا : تم جیسا گستاخ آگے نہیں جاسکتا، جب اسکی تلاشی لی تو اس کے پاس خنجر نکلاوہ اعرابی فریاد کرنے لگا پھر اس نے اسید کے پیروں کا بوسہ دیا _

۱۵۳

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : سچ سچ بتادو کہ تم کہاں سے اور کیوں آئے تھے؟ اعرابی نے پہلے امان چاہی پھر سارا ماجرا بیان کردیا،پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حکم کے مطابق اسید نے اسکو قید کردیا ، کچھ دنوں بعد پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسکو بلاکر کہا تم جہاں بھی جانا چاہتے ہو چلے جاو لیکن اسلام قبول کرلو تو (تمہارے لئے) بہتر ہے اعرابی ایمان لایا اور اس نے کہا میں تلوار سے نہیں ڈرا لیکن جب میں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دیکھا تو مجھ پر ضعف اور خوف طاری ہوگیا، آپ تو میرے ضمیر و ارادہ سے آگاہ ہوگئے حالانکہ ابوسفیان اور میرے علاوہ کسی کو اس بات کی خبر نہیں تھی، کچھ دنوں وہاں رہنے کے بعد اس نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اجازت حاصل کی اور مکہ واپس چلا گیا _(۱)

اس طرح پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے عفو اور درگذر کی بناپر ایک جانی دشمن کیلئے ہدایت کا راستہ پیدا ہوگیا اور وہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب میں شامل ہوگیا_

یہودیہ عورت کی مسموم غذا

امام محمد باقرعليه‌السلام سے منقول ہے کہ ایک یہودی عورت نے ایک گوسفند کی ران کو زہرآلود کرکے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے پیش کیا ، لیکن پیغمبر نے جب کھانا چاہا تو گوسفند نے کلام کی اور کہا اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں مسموم ہوں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نہ کھائیں _پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس عورت کو بلایا اور اس سے پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا ؟ اس عورت نے کہا کہ میں نے اپنے دل میں یہ سوچا تھا کہ

___________________

۱) (ناسخ التواریخ ج۲ ص۱۵۱)_

۱۵۴

اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پیغمبر ہیں ، تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو زہر نقصان نہیں کریگا اور اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پیغمبر نہیں ہیں تو لوگوں کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے چھٹکارا مل جائیگا، رسول خد اصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس عورت کو معاف کردیا _(۱)

علیعليه‌السلام اور ابن ملجم

حضرت علیعليه‌السلام اگرچہ ابن ملجم کے برے ارادہ سے واقف تھے لیکن آپعليه‌السلام نے اس کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا اصحاب امیر المؤمنینعليه‌السلام کو اس کی سازش سے کھٹکا تھا انہوں نے عرض کی کہ آپعليه‌السلام ابن ملجم کو پہچانتے ہیں اور آپعليه‌السلام نے ہم کو یہ بتایا بھی ہے کہ وہ آپ کا قاتل ہے پھر اس کو قتل کیوں نہیں کرتے؟ آپعليه‌السلام نے فرمایا: ابھی اس نے کچھ نہیں کیا ہے میں اسکو کیسے قتل کردوں ؟ ماہ رمضان میں ایک دن علیعليه‌السلام نے منبر سے اسی مہینہ میں اپنے شہید ہوجانے کی خبر دی ابن ملجم بھی اس میں موجود تھا، آپعليه‌السلام کی تقریر ختم ہونے کے بعد آپعليه‌السلام کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ میرے دائیں بائیں ہاتھ میرے پاس ہیں آپعليه‌السلام حکم دےدیجئے کہ میرے ہاتھ کاٹ ڈالے جائیں یا میری گردن اڑادی جائے _

حضرت علیعليه‌السلام نے فرمایا: تجھ کو کیسے قتل کردوں حالانکہ ابھی تک تجھ سے کوئی جرم نہیں سرزد ہوا ہے_(۲)

___________________

۱) (حیات القلوب ج۲ ص ۱۲۱)_

۲) (ناسخ التواریخ ج۱ ص ۲۷۱ ، ۲۶۸)_

۱۵۵

جب ابن ملجم نے آپعليه‌السلام کے سرپر ضربت لگائی تو اسکو گرفتار کرکے آپعليه‌السلام کے پاس لایا گیا آپعليه‌السلام نے فرمایا: میں نے یہ جانتے ہوئے تیرے ساتھ نیکی کہ تو میرا قاتل ہے ، میں چاہتا تھا کہ خدا کی حجت تیرے اوپر تمام ہوجائے پھر اس کے بعد بھی آپعليه‌السلام نے اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا_(۱)

سختی

اب تک رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ (علیہم السلام)کے دشمن پر عفو و مہربانی کے نمونے پیش کئے گئے ہیں اور یہ مہربانیاں ایسے موقع پر ہوتی ہیں جب ذاتی حق کو پامال کیا جائے یا ان کی توہین کی جائے اور ان کی شان میں گستاخی کی جائے، مثلا ً فتح مکہ میں کفار قریش کو معاف کردیا گیا حالانکہ انہوں نے مسلمانوں پر بڑا ظلم ڈھایا تھا لیکن رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم چونکہ مومنین کے ولی ہیں اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو حق حاصل ہے ، اس لئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسلامی معاشرہ کی مصلحت کے پیش نظر بہت سے مشرکین کو معاف فرمادیا تو بعض مشرکین کو قتل بھی کیا ، یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ معاف کردینے اور درگذر کرنے کی بات ہر مقام پر نہیں ہے اس لئے کہ جہاں احکام الہی کی بات ہو اور حدود الہی سامنے آجائیں اور کوئی شخص اسلامی قوانین کو پامال کرکے مفاسد اور منکرات کا مرتکب ہوجائے یا سماجی حقوق اور مسلمانوں

___________________

۱) (اقتباس از ترجمہ ارشاد مفید رسول محلاتی ص ۱۱)

۱۵۶

کے بیت المال پر حملہ کرنا چاہے کہ جس میں سب کا حق ہے تو وہ معاف کردینے کی جگہ نہیں ہے وہاں تو حق یہ ہے کہ تمام افراد پر قانون کا اجرا ہوجائے چاہے وہ اونچی سطح کے لوگ ہوں یا نیچی سطح کے ، شریف ہوں یا رذیل_

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ( والحافظون لحدود الله ) (۱) (حدود و قوانین الہی کے جاری کرنے والے اور انکی محافظت کرنے والے) کے مکمل مصداق ہیں_

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زندگی اور حضرت علیعليه‌السلام کے دور حکومت میں ایسے بہت سے نمونے مل جاتے ہیں جن میں آپ حضرات نے احکام الہی کو جاری کرنے میں سختی سے کام لیا ہے معمولی سی ہی چشم پوشی نہیں کی _

مخزومیہ عورت

جناب عائشہ سے منقول ہے کہ ایک مخزومی عورت کسی جرم کی مرتکب ہوئی ، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے اسکا ہاتھ کاٹنے کا حکم صادر ہوا ، اس کے قبیلہ والوں نے اس حد کے جاری ہونے میں اپنی بے عزتی محسوس کی تو انہوں نے اسامہ کو واسطہ بنایا تا کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس کردہ ان کی سفارش کریں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: اسامہ، حدود خدا کے بارے میں تم کو ئی بات نہ کرنا پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خطبہ میں فرمایا: خدا کی قسم تم سے پہلے کی امتیں اس لئے ہلاک

___________________

۱) (سورہ توبہ ۱۱۲) _

۱۵۷

ہوگئیں کہ ان میں اہل شرف اور بڑے افراد چوری کیا کرتے تھے ان کو چھوڑدیا جاتا تھا اگر کوئی چھوٹا آدمی چوری کرتا تھا تو اس پر حکم خدا کے مطابق حد جاری کرتے تھے ، خدا کی قسم اگر میری بیٹی فاطمہ بھی اس جرم کی مرکتب ہو تو بھی میرا یہی فیصلہ ہوگا پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس عورت کے ہاتھ کاٹنے کا حکم صادر فرمائی(۱)

آخرمیں خداوند عالم کی بارگاہ میں یہ دعا ہے کہ وہ ہم کو رحمة للعالمین کے سچے پیروکاروں میں شامل کرے اور یہ توفیق دے کہ ہم( والذین معه اشداء علی الکفار و رحماء بینهم ) کے مصداق بن جائیں، دشمن کے ساتھ سختی کرنیوالے اور آپس میں مہر و محبت سے پیش آنیوالے قرار پائیں _

___________________

۱) (میزان الحکمہ ج۲ ص ۳۰۸)_

۱۵۸

خلاصہ درس

۱) رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ معصومین کاایک تربیتی درس یہ بھی ہے کہ بدزبانی کے بدلے عفو اور چشم پوشی سے کام لیا جائے_

۲ ) نہ صرف یہ کہ ائمہ معصومین ہی پسندیدہ صفات کی بلندیوں پر فائز تھے بلکہ آپعليه‌السلام کے مکتب اخلاق و معرفت کے تربیت یافتہ افراد بھی شرح صدر اور مہربان دل کے مالک تھے، کہ ناواقف اور خودغرض افراد کے ساتھ مہربانی اور رحم و مروت کا سلوک کیا کرتے تھے_

۳) جن لوگوں نے رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ معصومین کے اوپر ظلم کیا ان کو بھی ان بزرگ شخصیتوں نے معاف کردیا ، یہ معافی اور درگزر کی بڑی مثال ہے _

۴ ) پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہعليه‌السلام کے عفو کا ایک نمونہ یہ بھی ہے کہ آپ حضرات نے ان لوگوں کو بھی معاف کردیا جن لوگوں نے آپ کے قتل کی سازش کی تھی_

۵ ) قابل توجہ بات یہ ہے کہ معافی ہر جگہ نہیں ہے اس لئے کہ جب احکام الہی کی بات ہو تو اور حقوق الہی پامال ہونے کی بات ہو اور جو لوگ قوانین الہی کو پامال کرنا چاہتے ہیں ان کے لئے معافی کو کوئی گنجائشے نہیں ہے بلکہ عدالت یہ ہے کہ تمام افراد کے ساتھ قانون الہی جاری کرنے میں برابر کا سلوک کیا جائے_

۱۵۹

سوالات

۱ _ وہ اعرابی جو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے زیادہ طلب کررہا تھا اس کے ساتھ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کیا سلوک کیا تفصیل سے تحریر کیجئے؟

۲_ امام زین العابدینعليه‌السلام کی جس شخص نے امانت کی آپعليه‌السلام نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟

۳_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ معصومین (علیہم السلام) نے اپنے اوپر ظلم کرنے والوں کو کب معاف فرمایا؟

۴ _ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ معصومین ( علیہم السلا م) جب سازشوں سے واقف تھے تو انہوں نے سازش کرنیوالوں کو تنبیہ کاکوئی اقدام کیوں نہیں کیا ، مثال کے ذریعہ واضح کیجئے؟

۵ _ جن جگہوں پر قوانین الہی پامال ہورہے ہوں کیاوہاں معاف کیا جاسکتاہے یا نہیں ؟ مثال کے ذریعہ سمجھایئے

۱۶۰

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369