پشاور میں ایک یاد گار مناظرہ خورشید خاور --ترجمہ-- شبہائے پشاور جلد ۱

پشاور میں ایک یاد گار مناظرہ خورشید خاور --ترجمہ-- شبہائے پشاور15%

پشاور میں ایک یاد گار مناظرہ خورشید خاور --ترجمہ-- شبہائے پشاور مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 369

جلد ۱ جلد ۲
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 369 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 310170 / ڈاؤنلوڈ: 9438
سائز سائز سائز
پشاور میں ایک یاد گار مناظرہ خورشید خاور --ترجمہ-- شبہائے پشاور

پشاور میں ایک یاد گار مناظرہ خورشید خاور --ترجمہ-- شبہائے پشاور جلد ۱

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


نوٹ: اس کتاب کو الیکٹرانک اور برقی شکل میں ،اسلامی ثقافتی ادارے " امامین الحسنین(ع) نیٹ ورک " نے قارئین کرام کیلئےشائع کیا ہے۔

اورادارہ کی گِروہ علمی کی زیر نگرانی حُرُوفِ چِینی، فنی تنظیم وتصحیح اور ممکنہ غلطیوں کو درست کرنے کی حدالامکان کوشش کی گئی ہے۔

اس کتاب کی (PDFڈاؤنلوڈ کرنے کےلئےدرج ذیل لنک پر کلک کیجئے

http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=۳۷۹&preview

اس کتاب کی دوسری جلد (PDF) ڈاؤنلوڈ کرنے کےلئےاس پر کلک کیجئے

http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=۳۷۹&view=download&format=pdf

نیز اپنے مفید مشورے، پیشنہادات، اعتراضات اور ہر قسم کےسوالات کو ادارہ کےایمیل(ihcf.preach@gmail.com)پر سینڈ کرسکتے ہیں

پشاور میں ایک یاد گار مناظرہ

خورشید خاور ترجمہ شبہائے پشاور

مصنف

حجة الاسلام وسلطان الواعظین آقائے سید محمد شیرازی

مترجم

الحاج مولانا سید محمد باقر صاحب باقری رئیس جوارس ضلع بارہ نیکی

تجدید نظر

سید اعجاز محمد ( فاضل)

۱

باسمہ سبحانہ،

من لم یشکر الناس لم یشکر اﷲ

ہم ان سطور میں محسن ملت، مبلغ مذہب ، مروج شیعیت ناشر حقائق دین اسلام، ناصر اہل بیت طاہرین علیہم السلام ، فخر المحققین، سید المدققین علامہ سید محمد باقر صاحب نقوی مد اﷲ ظلہ علی رؤوس الموالی بدوام الایا وللیالی کے اعماق قلب سے شکر گزار ہیں کہ آپ نے اپنے مطیع اصلاح کھجوا کی مطبوعات قیمہ و تصنیفات ثمینہ بلکہ بے بہا جواہر و لئالی میں سے حقیقت مذہب شیعہ میں نادر روز گار عظیم الشان تحقیقی شاہکار کتاب مستطاب خورشید خاور ترجمہ شبہائے پشاور کی جلد اول کی نشر و اشاعت اور طباعت کے جملہ حقوق مکتبہ الہمدانی سرگودھا کو مرحمت فرماکر ہم پر احسان عظیم فرمایا جس کے لیے ہم ہمیشہ آپ کے ممنون احسان رہیں گے۔ بے شک جو شخص کسی محسن کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ منعم حقیقی کے شکر کی سعادت سے بھی محروم رہتا ہے۔ اس کتاب میں ایران کے عالم متبحر آقائے سلطان الواعظین اور ہندوستان و کابل کے جلیل القدر علماء کی شہر پشاور میں مذہب شیعہ سے متعلق دلچسپ اور دوستانہ گفتگو ، جس کا سلسلہ دس راتوں تک رہا اور جس میں مذہب شیعہ کے تمام اصول و فروع پر محققانہ بحثین ہوئیں ۔ ہر مسئلہ پر سلطان الواعظین نے مذہب شیعہ کی حقیقت ایسے دلائل ساطعہ و براہین قاطعہ سے ثابت کی کہ علمائے اسلام بھی اعتراف پر مجبور ہوگئے۔انہی مباحثوں کو سلطان الواعظین نے شبہائے پشاور کے نام سے مرتب فرمایا جس کا اردو میں ترجمہ فخرالحجاج والزائرین جناب مولانا الحاج سید محمد باقر صاحب رئیس جوارس ضلع بارہ نیکی نے کیا اور ادارہ اصلاح کھجوا نے بڑے اہتمام سے شائع کیا۔

چونکہ پاکستان کے اکثر لوگ اس کتاب کی افادیت ، انفرادیت، اہمیت دندرت سے ناواقف تھے اس لیے ہم نے مکرم و محترم علیجناب علامہ سید محمد باقر صاحب مدﷲ ظلہ وہ فقہ سے اس کی نشر و اشاعت و طباعت کے لیے اجازت حاصل کی۔

چنانچہ علامہ موصوف مدظلہ نے بڑی وسعت قلبی کیساتھ اجازت مرحمت فرمائی۔ جیسا کہ حقائق مذہبیہ کی زیادہ سے زیادہ اشاعت ان کا شعار اور معارف دینیہ کا زیادہ سے زیادہ پرچار ان کا وثار ہے۔

مهتمم مکتبة الهمدانی سرگودھا

۲

اشارہ

بسم اﷲ والحمد ﷲ علی نواله والصلوٰة والسلام علی محمد وآله

میں اپنے حبیب لبیب جناب مولانا سید محمد باقر صاحب مدیر اصلاح اور مکرمی جناب سید محمد صاحب کنز رویٹر فار لیسٹ پٹنہ کی فرمایش کی بنا پر برادرانِ ایمانی کی خدمت میں زیر نظر ترجمہ پیش کرتے ہوئے بجا طور پر فخر محسوس کرتا ہوں کیونکہ اس کا تعلق شب ہائے پشاور ایسی مبسوطہ اور جامع و مانع کتاب سے ہے اور جو آقائے سلطان الواعظین دام ظلہ کے ان بے نظیر اور ایمان افروز مذاکرات علمیہ کا مجموعہ ہے جن کو نگاہ حق و انصاف سے مطالعہ کرلنے کے بعد کوئی شخص مذہب حق کی تلاش میں گمراہی اور دھوکے کا شکار نہیں ہوسکتا ۔ مجھ کو یقین ہے کہ یہ کتاب باطل کی تاریکی کو دور کرنے اور منزل حقیقت کو روشن کرنے میں انشاء اﷲ آفتاب نصف النہار کا کام کرے گی چنانچہ اسی خیال کو پیش نظر رکھتے ہوئے میں نے اس ترجمہ کا نام “ خورشید خاور” تجویز کیاہے۔

تھوڑے سے افسوس کیساتھ یہ بھی عرض کرودوں کی اختصار کا لحاظ رکھتے ہوئے مجبورا آقائے موصوف کے مقدمات دیباچہ اور درمیان کتاب سے کچھ مضامین مفید ہونے کے باوجود حذف کردینا پڑے ہیں۔ پھر بھی اس بات کا پورا خیال رکھا گیا ہے کہ اصل کتاب کا کوئی ایسا جز کم نہ کیا جائے جس سے مباحثے کی افادیت و جامعیت پر کوئی مضر اثر پڑے ۔ امید ہے کہ ناظرین اس قہری کوتاہی کو نگاہ در گذر سے دیکھتے ہوئے خیال خاکسار مترجم محترم مدیر اصلاح اور مکرمی جناب سید محمد صاحب نیز سلطان الواعظین دام ظلہم کے لیے دعائے خیر میں بخل نہ فرمائیں گے۔ والسلام

عاصی

محمد باقرالباقری الجواسی عفی عنہ

۳

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

آغازِ سفر

ماہ ربیع الاول سنہ۱۳۴۵ہجری میں جب میں اپنی زندگی کی تیسویں منزل طے کر رہا تھا زیارت عتبات عالیات سے مشرف ہوکر ہندوستان کے راستے سے ضامن ثامن حضرت امام رضا علیہ السلام کی عتبہ بوسی کے لیے روانہ ہوا کراچی اور ببئی پہنچنے کے بعد خلاف امید خاص خاص جرائد اور اخبارات نے میری آمد کی خبر شائع کی۔ میرے پرانے دوستوں اور خلوص احباب ایمانی نے مطلع ہوکر اطراف ملک سے دعوت نامے بھیجنا شروع کیے مجبورا تعمیل حکم کرتے ہوئے دہلی ، آگرہ، سیالکوٹ ، کشمیر، حیدر آباد ، بہاول پور، کوئٹہ اور دوسرے شہروں میں حاضر ہوا۔ اور جہاں بھی وارد ہوا ۔ بلا تفریق قوم، ملت پوری تعظیم و تکریم کیساتھ استقبال ہوا اور اکثر شہروں میں دوسرے مذاہب کے علماء کی طرف سے باب مناظرہ باز رہا۔ مخصوص جلسوں میں سے ایک وہ مناظرہ تھا۔ جو ہندوستان کے قومی پیشوا گاندھی جی کے سامنے علمائے اہل ہنود اور برہمنوں سے منعقد ہوا۔ اور اخبارات و رسائل میں اس کی تفصیل شائع ہوئی ۔ چنانچہ توفیق الہی اور حضرت خاتم الانبیاء کی تائید خاص سے میں کامیابی کیساتھ مقدس دین اسلام اور مذہب حقہ جعفریہ کی حقانیت ثابت کردی۔ پھر زیر صدارت جناب ابوالبشر سید عنایت علی شاہ مدیر محترم اخبار ہفتہ وار اردو در نجف، انجمن اثنا عشریہ “ شہر سیالکوٹ کی طرف سے دعوت نامہ موصول ہوا، اور میں اس طرف روانہ ہوگیا۔ حسن اتفاق سے میرے قدیم و صمیم دوست جناب سردار محمد سرور خان رسالدار فرزند رسالدار محمد اکرم خاں مرحوم و برادر کرنل محمد افضل خان نے جو پنچاب میں ہندوستان کے خاندان قزلباش کے نامی سرداروں میں سے تھے۔ سنہ۱۳۳۹ و سنہ۱۳۴۰ ہجری میں کربلا و کاظمین اور بغداد میں افسر رہ چکے تھے۔ خاندان قزلباش کے شریف و مشہور، مومن و محوش عقیدہ اور پاکدامن افراد میں سے تھے اور شہر سیالکوٹ میں رئیس ادارہ عالیہ اور عام طورپر احترام و بندگی کے مالک تھے مختلف طبقوں کے کثیر مجمع کیساتھ میرا شاندار استقبال کیا اور میں ان کے دولتکدہ پر مہمان ہوا ۔ جب اخبارات کے ذریعہ پنجاب میں میرے آنے کی خبر پھیلی تو باوجودیکہ میں ایران کی طرف روانہ ہونے کے لیے کوشش اور اصرار کر رہا تھا چاروں طرف سے مسلسل دعوت نامے

۴

پہنچنے لگے۔ بالخصوص حجة الاسلام جناب مولانا سید علی الحائری ، صاحب تفسیر لوامع التنزیل شہر لاہور کی طرف سے جو پنجاب کے نامور علمائے شیعہ میں سے تھے مجبورا میں برابر سفر اور زیارت برادرانِ ایمانی میں مصروف رہا ۔ من جملہ مومنین و برادران خاندان قزلباش کے جو پنجاب کے مخصوص شیعہ روسا میں سے ہیں افغانستان کے قریب آخری بڑے سرحدی شہر پشاور میں بھی مدعو ہوا۔ چنانچہ جناب محمد سرور خان کے اصرار سے اس کو منظور کر کے چودھویں رجب کو ادھر روانہ ہوا ۔ وہاں پہنچنے پر انتہائی اکرام و احترام کے بعد وعظ و تقریر کا تقاضا کیا گیا ۔ ( چونکہ میں ہندوستانی زبان سے بخوبی واقف نہیں ہوں۔ لہذا ہندوستان کے کسی شہر می منبر پر نہیں گیا۔ لیکن اہل پشاور عموما فارسی زبان سے اچھی طرح سے جانتے ہیں اس لیے میں نے قبول کر لیا اور ایک مدت تک مرحوم عادل بیگ رسالدار کے امامباڑے میں مخصوص طور پر مجالس کی تشکیل ہوتی رہی اور میں مختلف ادیان و مذاہب والوں کے کثیر مجمع کے سامنے اپنا فریضہ ادا کرتا رہا۔ چنانچہ ان لوگوں کے محترم علماء نے جو تبلیغی مجالس میں شریک ہوتے تھے خصوص نشست کی فرمائش کی گئی راتوں تک وہ حضرات میری قیام گاہ پر تشریف لاتے رہے اور گھنٹوں بحث و مباحثہ ہوتا رہا ۔ ایک روز جب میں منبر سے اترا تو معلوم ہوا کہ اکابر علمائے کابل میں سے دو عالم حافظ محمد رشید اور شیخ عبدالسلام ضلع ملتان سے تشریف لائے ہیں اور ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے وقت دیا اور وہ حضرات پے در پے در راتوں تک نماز مغرب کے بعد تشریف لاتے رہے ، ہر شب کا فی دیر تک جو غالبا چھ اور سات گھنٹہ کی مدت ہوتی تھی، اور بعض راتوں میں طلوع صبح کے قریب تک، ہمارا وقت مباحثوں اور مناظروں میں گذرتا تھا، یہاں تک کہ آخری شب کے خاتمے پر اہل سنت کے بزرگان و رؤسا اور اعناف محترم میں سے چھ افراد نے مذہب حقہ، شیعہ اختیار فرمایا۔

چونکہ اخبارات و رسائل کے نامہ نگاروں میں سے چار اشخاص ، فریقین ( شیعہ و سنی ) کی تقریبا دو سو نمایاں شخصیتوں کے سامنے طرفین کے مناظرات اور مقالات کو لکھتے تھے اور سدوسرے دن اخبارات و رسائل میں شائع کرتے تھے۔میں ان اشاعتوں سے ہر شب کے مقالات اور بحثیں جمع کرتا رہا اور اب سای مجموعے کو قارئین کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس وجہ سے اس کتاب کا نام، شبہائے پیشاور، رکھا جو کچھ صاحبان علم و ادب کے سامنے پیش ہو رہا ہے اس میں اس خیرا اندیش پر خور دہ گیری نہ فرمائیں۔ کیونکہ مناظرے کے موقع پر کوئی شخص الفاظ اور زیبائش کلام کی طرف توجہ نہیں رکھتا بلکہ ساری توجہ مطالبات اور حقائق کی طرف رہتی ہے جس طرح سے رسالوں میں چھپ چکا ہے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی ہے۔ بلکہ بعینہ وہ عبارتیں آپ کے سامنے پیش کی جارہی ہیں۔

ان مناظروں میں جن مطالب پر بحث و گفتگو ہے وہ آیات قرآن مجید ، معتبر احادیث و اخبار ، محققین و اساتذة کلام و علماء بزرگ اور پیشوایان دین کے بیانات اور تائیدات غیبی سے مستنبط ہیں۔

من بسر منزل عتقا نہ بخو و بروم راہ قطع این مرحلہ یا مرغ سلیمان کردم

۵

مجلسِ مناظرہ

پیشاور کے سربرآوردہ رئیس اور میرے میزبان عالیجناب مرزا یعقوب سب علی خان قزلباش کا دولت خانہ چونکہ وسیع تھا اور اس میں ایک بڑے مجمع کے لحاظ سے ہر طرح کی سہولتیں مہیا تھیں لہذا مجلس مناظرہ کے لیے اسی کو تجویز کیا گیا جہاں پوری دس راتوں تک جلسہ منعقد رہا اور انہوں نے انتہائی خلوص کیساتھ اس پورے مجمع کی خاطر تواضع کی۔

پہلی نشست

شب جمعہ ۲۳ رجب سنہ۱۳۴۵ہج

مولانا حافظ محمد رشید ، شیخ عبدالسلام ، سید عبدالحق اور مختلف طبقوں میں سے ان کے چند دوسرے علماء و بزرگان ملت رات کی پہلی ساعت میں وارد ہوئے ہیں ان حضرات سے انتہائی گرم جوشی اور خندہ پیشانی کے ساتھ ملا، اگرچہ وہ لوگ بہت دل گرفتہ اور ناخوش تھے لیکن چونکہ میں جاہلانہ تعصب و عناد کی نظر نہیں رکھتا تھا لہذا اپنے اخلاقی فریضے پر عمل کرتا رہا۔ فریقین کے محترم افراد کی کثیر جماعت کے سامنے مذاکرات شروع ہوئے ۔ رسی طور پر فریق صحبت جناب حافظ محمد رشید تھے لیکن کبھی دوسرے بھی اجازت لے کر داخل گفتگو ہوجاتے تھے۔ رسالوں اور اخباروں میں مجھ کو “ قبلہ و کعبہ کے عام سے تعبیر کیا ہے جو ہندوستان کے کے اندر روحانیت کے اہم مروجہ القاب میں سے ہے لیکن یا دواشت کے ان صفحات میں میں اس کلمے کو بدل کر اپنے لیے “ خیر طلب” اور حافظ محمد رشید صاحب کےلیے “ حافظ ” کا لفظ استعمال کرتا ہوں۔

حافظ : قبلہ صاحب ! آپ کے پیشاور تشریف لانے کے وقت سے اور برسر منبر تقریر کرنے سے اب تک بحث و مناظرہ اور اختلاف کے کافی جلسے ہوچکے ہیں۔ چونکہ ہم لوگوں پر لازم ہے کہ رفع اختلاف کے لیے کھڑے ہوں۔۔۔۔۔۔ لہذا شبہات کے دفع کرنے کے لیے مسافت طے کر کے پیشاور آئے اور آج امام باڑے میں آپ کے کلمات اور بیانات پورے طور سے سنے آپ کا سحر بیان جیسا سنا تھا۔ اس سے زیادہ پایا۔ آج کی رات بھی ہم آپ کی ملاقات سے فیض حاصل کرنے آئے چنانچہ اگر آپ اگر آپ کی مرضی ہوتو شامل صحبت ہو کر آپ کے ساتھ کچھ بنیادی گفتگو کریں۔

۶

خیر طلب : میں بہت خوشی کیساتھ آپ کے کلمات و ارشادات سننے کے لیے حاضر ہوں۔ لیکن ایک شرط کیساتھ کہ براہ کرم دیدہ تعصب و عادت کو بند رکھیں ہم لوگ وہ بھائیوں کو طرح انصاف اور علم و منطق کا نگاہ سے شبہات کوحل کرنے کے لیے گفتگو کریں اور مجادلات و تعصبات قومی کو الگ رکھ دیں۔

حافظ : آپ کا ارشاد بالکل بجا ہے میں بھی ایک شرط رکھتا ہوں، امید ہے کہ آپ قبول کیجئے گا ۔ اور وہ یہ کہ با ہمی بات چیت میں ہم قرآنی دلائل سے تجاوز نہ کریں۔

خیر طلب : آپ کا یہ تقاضا عقلا اور علماء کے نزدیک قابل قبول نہیں ہے یعنی علمی اور عقلی حیثیت سے غلط ہے کیونکہ کہ قرآن مجید ایک ایسی مجمل و مختصر مقدس کتاب ہے جس کے بلند مطالب مفسر کی تشریح کے محتاج ہیں۔ اور ہم مجبور ہیں کہ قرآنی کلیات کے ذیل میں معتبر اخبار و احادیث کے ذریعے ثبوت پیش کریں۔

حافظ : یہ درست ہے یہ ایک سلجھی ہوئی فرمایش ہے لیکن میرا تقاضا ہے کہ جب ایسا کرنا ضروری ہو تو ہم متفق علیہ اخبار و احادیث سے ہی استدلال کریں اور عوام کے کلمات اور سنی سنائی باتوں سے پر ہیز کریں اور غصہ اور تعصب سے الگ رہیں تاکہ دوسروں کے لیے مضحکہ نہ بن جائیں۔

خیر طلب : بسر وچشم ، آپ نے بہت صحیح فرمایا ۔ صاحبان علم و عقل اور بالخصوص میرے لیے جس کو سیادت اور رسول اﷲ(ص) سے انتساب کا فخر حاصل ہے قطعی مناسب نہیں کہ اپنے جد بزرگوار رسول خدا(ص) کی سیرت اوع سنت سے اںحراف کرے جو پورے حسن اخلاق پر فائز اور آیہ مبارکہ و إِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ (۱) کے مخاطب تھے اور قرآنی ہدایات کے خلاف عمل کرے جیسا کہ ارشاد ہے:

"ادْعُ إِلى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ- وَ جادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ " (۲)

حافظ :- معاف فرمائے گا چونکہ آپ نے آپنی تقریر کے ضمن میں رسول اللہ(ص)کے ساتھ اپنی نسبت ظاہر کی۔اور اسی طرح سے مشہور بھی ہے ،کیا یہ ممکن ہے کہ میری گزاش قبول کرتے ہوئے ہماری مزید واقفیت کیلئے اپناشجرہ نسب بیان فرمائیے تاکہ ہم دیکھیں کہ آب کا نسب کس سلسلے سے پیغمبر تک ملتی ہے ۔

خاندانی نسب کا تعین

خیرطلب:- میرے خاندان کا نسب حضرت امام موسی کاظم کے ذریعے اس سلسلے سے رسول

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱ ـ یعنی یقینا تم صاحب خلق عظیم ہو۔

۲ ـ یعنی (ائے میرے رسول (ص)) خلق کو حکمت برہان اور اچھے موعظے کیساتھ راہ خدا کی طرف دعوت دو اور ان سے بہترین طریقے اور اچھے انداز سے مجادلہ کرو۔ ( آیہ ۱۲۶ سورہ نجل)

۷

اللہ (ص)تک منتہی ہوتا ہے ۔

محمد ابن علی اکبر(اشرف الواعظین)بن قاسم(بحرالعلوم)بن حسن ابن اسماعیل مجتہد الواعظ بن ابرہیم بن صالح بن ابی علی محمد(معروف بہ مروان)بن ابی القاسم محمد تقی بن (مقبول الدین)حسین بن ابی علی حسن بن محمد فتح اللہ بن اسحاق بن ہاشم بن ابی محمد بن ابراہیم بن ابی الفتیان بن عبد اللہ بن الحسن بن احمد(ابی الطیّب)بن ابی علی حسن بن ابی جعفر محمد الحائری(نزیل کرمان بن ابراہیم (معروف بہ مجاب)بن امیر محمد العابدین امام موسی الکاظم بن امام جعفر الصادق بن امام محمد الباقر بن امام علی زین العابدین بن امام ابی عبداللہ الحسین (سید الشہدا)الشہید بالطف بن امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب علیھم السلام ۔

حافظ:- یہ جو شجرہ آپ نے بیان فرمایا ہے امیر المؤمنین علی کرّم اللہ وجھہ تک منتہی ہوتا ہے درانحالیکہ آپ نے اپنے کو رسول خدا(ص)سے منسوب کیا تھا ۔ حق تو یہ ہے اس سلسلہ نسب سے آپ کو چاہیئے تھا کہ اپنے آپ کو اقربائے رسول(ص)سے کہتے نہ کہ آں حضرت(ص)کی اولاد ،کیونکہ اولاد وہی ہے جو رسول اللہ (ص)کی ذریت سے ہو۔

خیرطلب:- ہمارا نسب رسول اللہ تک صدّیقہ کبرای فاطمہ زہرا(س)کی طرف سے پہنچتا ہے کہ جو جضرت امام حسین علیہ السلام کی والدہ ماجدہ ہے ۔

حافظ :- تعجب ہے آپ کے اوپر کہ اہل علم وخبر ہوکر بھی ایسی بات منہ سے نکالتے ہیں ،حالانکہ خود جانتے ہیں کہ آدمی کہ سلسلہ نسب اور نسل اولاد ذکور کی طرف سے ہے نہ کہ اناث کی طرف سے ، اور حضرت رسول خدا(ص)کا بیٹوں سے کوئی سلسلہ نہیں لہذا آپ رسول اللہ کے نواسے اور دخترزادے ہیں نہ آنحضرت(ص)کی اولاد ۔

خیرطلب :- مجھ کو یہ خیال نہیں تھا کہ آپ حضرات اس بات میں اتنی ضد کریں گے ورنہ میں جواب ہی نہ دیتا ۔

حافظ:- آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے ، میری گفتگو میں کوئی ضد نہیں تھی بلکہ میری رائے یہی ہےجیسا کہ بہت سے علما ء بھی میرے ہم خیال ہیں کہ نسل اورذریّت اولاد ذکورسےچلتی ہے اناث سے نہیں ۔

چنا نچہ شاعر کہتاہے :-

بنونا بنو ابنائنا و بنا تنا ----بنو هن ابناء الرّجال الاباعد (۱)

اگر آپ اس بات کے خلاف اس بات پر کوئی دلیل رکھتے ہوں کہ رسول (ص)کی بیٹی کی اولاد آں حضرت (ص)ہی کی اولاد شمار ہوتی ہے، تو بیان کیجئے ۔ اگر آپ کا استدلال مکمل ہوگا تو یقینا ہم لوگ مان لیں گے ،بلکہ ممنون بھی ہوں گے ۔

خیر طلب قرآن مجید اور فریقین کے اخبار معتبرہ سے بہت قوی دلیلیں موجود ہیں ۔

-----------------

(۱):- (ہمارے بیٹوں کے بیٹے بیٹیاں ہم سے ہیں لیکن ہماری بیٹیوں کے بیٹے بیٹیاں دور کے مردوں سے ہیں)(یعنی ہم سے نہیں ہیں)

۸

حافظ :- میں متمنّی ہوں کہ بیا ن کیجئے تاکہ ہم مستفیض ہوں ۔

خیرطلب :-یہ آپ کی گفتگو کے ضمن میں مجھ کو وہ مناظرہ یاد آیا جو اسی موضوع پر ہارون رشید خلیفہ عباسی اور حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے درمیان واقع ہوا تھا ۔اور حضرت نے ہارون رشید کو ایسا کافی جواب دیا تھ کہ خود اس نے بھی اس کی تصدیق کی تھی ۔

حافظ:- وہ مناظرہ کیونکر ہوا ہے ؟!بیان کیجئے میں مشتاق ہوں ۔

ذریت رسول (ص)کے بارے میں بارون رشید اور امام موسی کاظم (ع)کا سوال وجواب

خیر طلب:- ابو جعفر محمد بن علی بن الحسین بن موسی بن بابویہ قمی ملقب بہ صدوق نے جو چوتھی صدی ہجری می اکابر علماء ،فقہائے شیعہ میں سے تھے ،علم حدیث کے نقّاد اور حالات رجال کے ماہر تھے ،علمائے قم اور خراسان کے درمیان حافظے اور کثرت علم میں ان کا مثل پیدا نہیں ہوا ۔ تین سو تصا نیف کے مالک تھے جن میں سے ایک کتاب "من لا یحضرہ الفقیہ "شیعوں کی ان چار کتابوں میں سے ہے جن پ ر ہر زمانے میں انحصار رہا ہے ۔ سنہ ۳۸۱ ھ میں ایران کے موجودہ پائتخت طہران کے قریب رے میں وفات پائی اورآپ کی قبر شریف اب تک اہل طہران اور باہر سے آنے والوں کے کی زیارت گاہ ہے ۔ اپنی معتبر کتاب "عیون اخبار الرضا"میں ابو منصور احمد بن علی طبرسی نے کتاب "احتجاج"میں مناظرے کی مفصّل کیفیت لکھی ہے کہ حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام ایک روز ہارون رشید کے دربار میں تشریف لے گئے ،اس نے چند سوالاد کئے اور ان کے جوابات سنے ۔۔الی آخر ۔من جملہ اس کے سوالوں کے یہ سوال بھی تھا کہ اس نے کہا ۔

"کیف قلتم انا ذرّیة النّبی والنّبی لم یعقب وانّما العقب للذّکر لا للا نثی وانتم ولد البنت ولا یکون له عقب " (۱)

حضرت نے اس کے جواب میں سورہ انعام کی یہ آیت نمبر ) ۸۴-۸۵) تلاوت فرمائی: -ومن ذرّیته دا‎‎ؤد وسلیمان وایّوب ویوسف وموسی وهارون وکذالک نجزی المحسنین وذکریا ویحیی وعیسی والیاس کل من الصالحین "(۲)

--------------

(۱):- تم یہ کیوں کر کہتے ہو کہ ہم اولاد رسول ہیں ؛ حالانکہ پیغمبر (ص)کوئی نسل نہیں رکھتے تھے اور یہ مسلّم ہے کہ نسل لڑکے سی چلتی ہے ،لڑکی سے نہیں ۔تم بیٹی کی اولاد ہو اور آں حضرت (ص)نے کوئی نسل نہیں چھوڑی (یعنی اولاد ذکور سے)۔

(۲):- اور پھر ابراہیم علیہ السّلام کی اولاد میں داؤدعلیہ السّلام ,سلیمان علیہ السّلام ایوب علیہ السّلامً یوسف علیہ السّلام,موسٰی علیہ السّلام ,اور ہارون علیہ السّلام قرار دئیے اور ہم ا ِسی طرح نیک عمل کرنے والوں کو جزا دیتے ہیں ۔ اور زکریا علیہ السّلام,یحیٰی علیہ السّلام,عیسٰی علیہ السّلام اور الیاس علیہ السّلام کو بھی رکھا جو سب کے سب نیک کرداروں میں تھے ۔

۹

اور اس سے استدلال فرماتے ہوئے ہارون رشید سے کہا کہ من ابو عیسٰی ؟یعنی عیسٰی کا باپ کون ہے ،ہارون رشید نے جواب دیا کہ لیس لعیسٰی اب یعنی عیسٰی کا کوئی باپ نہیں تھا ۔حضرت نے فرمایا "انّما الحقه بذراری الانبیاء علیهم السلام من طریق مریم ولذالک الحقنا بذراری النّبی من قبل امّنا فاطمة"

یعنی سوا اس کے کوئی بات نہیں کہ خدائے تعالی نے ان کو مریم کے سلسلے سے انبیاء کی ذریّت میں داخل فرمایا اور اسی طرح سے ہم کو ہماری ماں جناب فاطمہ (س)کی طرف سے رسول خدا (ص)کی ذریّت میں قراردیا ۔ امام فخر الدّین رازی بھی تفسیر کبیر جلد چہارم میں صفحہ نمبر۱۲۴میں اس آیت کے ماتحت مسئلہ پنجم میں کہتے ہیں کہ یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حسن او رحسین (ع) رسول اللہ(ص)کی ذریّت ہیں کیونکہ خدانے اس آیت میں عیسٰی کو جناب ابراہیم (ع)کی ذریّت سے قرار دیا ہے ،درانحالیکہ عیسٰی کا کوئی باپ نہیں تھا ؛ یہ انتساب ماں کی طرف سے ہے چنانچہ حسنین(ع)بھی اسی طرح سے ماں کی جانب سے ذریّت رسول(ص) ہوتے ہیں ۔جیسا کہ حضرت باقر العلوم امام پنجم نے بھی حجّاج کے سامنے اسی آیت سے استدلال فرمایا ہے۔

پھر حضرت(امام موسی کاظم علیہ السلام نے ہارون رشید کو)نے فرمایا کہ کیا تمہارے لئے کوئی اور دلیل بیان کروں ؟ہارون رشید نے عرض کیا کہ بیا ن کیجئے تو آپ نے آیت مباہلہ پڑھی جو سورہ مبارکہ آل عمران کی آیت ۶۱ ہے ۔

"فَمَنْ حَآجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءنَا وَأَبْنَاءكُمْ وَنِسَاءنَا وَنِسَاءكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَةَ اللّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ " (۱)

اور فرمایا کہ کسی شخص نے یہ دعوی نہیں کیا ہے کہ مباہلے کے موقع پر پیغمبر (ص)نے نصاری کے مقابلے میں حکم خدا سے سوا علی ابن ابی طالب ،فاطمہ ، حسن اورحسین علھیم السلام کے کسی اور کو کساء کے نیچے داخل کیا لہذا مطلب یہی نکلتا ہے کہ انفسنا سے علی ابن ابی طالب ،نسائنا سے فاطمہ زہراء اور ابنا ئنا سے حسن حسین (ع)مراد ہیں جن کو خدا نے اپنے رسول کے فرزند فرمایا ہے ۔ جوں ہی ہارون نے یہ واضح دلیل سنی بے اختیار بول اٹھا "احسنت یا ابا الحسن " چنانچہ ہارون کے مقابلے میں امام موسی کاظم کے اس استدلال سے" حسنین (ع)فرزند رسول خدا(ص)ہیں "ثابت ہوتا ہے ۔

--------------

(۱)پیغمبر علم کے آجانے کے بعد جو لوگ تم سے کٹ حجتی کریں ان سے کہہ دیجئے کہ آؤ ہم لوگ اپنے اپنے فرزند, اپنی اپنی عورتوں اور اپنے اپنے نفسوں کو بلائیں اور پھر خدا کی بارگاہ میں دعا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں ۔

۱۰

اس بات پر کافی دلائل کہ اولاد فاطمہ (س)اولاد رسول(ص)ہیں

چنانچہ ابن ابی الحدید معتزلی جوآپ کے سربرآوردہ علماء میں سے ہے شرح نہج البلاغہ میں اور ابو بکررازی اپنی تفسیر میں عیسٰی کو ان کی ماں مریم کی طرف سے اولاد جناب ابراہیم میں داخل فرمایا ۔

محمد بن یوسف گنجی شافعی کفایت الطالب میں ،ابن حجر مکی صواعق محرقہ صفحہ ۷۴-۹۳ میں طبرانی سے اور وہ جابر بن عبداللہ انصاری سے اور خطیب خوارزمی مناقب میں ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اکرم (ص)نے فرمایا "انّ الله عزّوجلّ جعل ذریة کل نبی فی صلبه وجعل ذریتی فی صلب علی ابن ابی طالب " یعنی خدائے عزوجل نے ہر پیغمبر کی ذریت خود اسے کے صلب میں قرار دیا اور میری ذریت علی ابن ابی طالب میں رکھی ہے ۔

خطیب خوارزمی مناقب میں ،میر سید علی ہمدانی شافعی مودۃ القربی میں ،امام احمد بن حنبل جو آپ کے کبار علماء میں سے ہیں اور سلیمان حنفی بلخی نے ینا بیع المودۃ میں نقل کرتے ہیں کہ (الفاظ کی تھوڑی کمی بیشی کے ساتھ)کہ رسول اکرم(ص)نے فرمایا "هذان ریحانتان من الدنیا ابنای لهذان امامان قاما او قعدا" یعنی میرے یہ دونوں فرزند( حسن اور حسین)دنیا میں میرے دو پھول ہیں ۔ اور میرے یہ دونوں فرزند امام ہیں خواہ امر امامت پر قائم ہوں یا خاموش اور قاعد ۔ اورشیخ سلیمان بلخی نے ینا بیع المودۃ کا باب ۵۷ اسی موضوع کیلئے مخصوص قراردیا ہے ۔اور مختلف طریقوں سے بکثرت حدیثیں اپنے جلیل القدر علماء جیسے طبرانی، حافظ عبدالعزیز ،ابن ابی شبیہ ،خطیب بغدادی،حاکم، بیقہی،بغوی، اورطبری وغیرہ سے مختلف الفاظ اور عبارت کے ساتھ نقل کی ہیں کہ حسن اور حسین(ع)رسول خدا(ص)کے فرزند ہیں ۔ اسی باب کے آخر میں ابو صالح ،حافظ عبد العزیز الاخضر،ابو نعیم اور طبری سے ،اور ابن حجر مکّی صواعق محرقہ صفحہ ۱۱۲ میں محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب کے سو بابوں کے بعد فصل اوّل کے آخر میں اور طبری نے ترجمہ حالات حضرت امام حسن علیہ السلام میں، خلیفہ ثانی عمر بن خطّاب سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا "انّی سمعت رسول الله یقول کل حسب ونسب فمنقطع یو م القیامة ما خلا حسبی و نسبی وکل بنی انثی عصبتهم لابیهم ما خلا بنی فاطمة فانی انا ابو هم و انا عصبتهم " یعنی میں نے رسول خدا(ص) سے سنا کہ آپ نے فرمایا "ہر حسب ونسب قیامت کے دن منقطع ہو جائے گا سوائے میرے حسب ونسب کے اور ہر دختری اولاد کا سلسلہ نسب باپ کی طرف سے ہے سوائے اولاد فاطمہ (س)کے کہ

۱۱

میں ان کا باپ اورنسب ہوں ۔ شیخ محمد بن محمد عامر شبیراوی شافعی نے کتاب "الاتحاف لجب الاشراف "میں اس حدیث کو بیہقی سے اور دار قطنی نے عبداللہ ابن عمر سے اور انہوں نے اپنے باپ سے نقل کیا ہے ۔جلا ل الدین سیوطی نے اپنی کتاب "احیاء اہلبیت بفضائل اہلبیت "میں اوسط طبرانی سے نقل کرتے ہوئے خلیفہ عمر سے نقل کرتے ہیں اور سید ابو بکر شہاب الدین علوی نے "رشقتہ الصاد من بحر فضائل النبی الہادی" مطبوعۃ مطبع اعلامیۃ مصر سنہ ۱۳۰۳ ھ کے صفحہ ۲۱ باب ۳ میں صفحہ ۴۳ تک نقل واستشہاد کیا ہے کہ اولاد فاطمہ(س) اولاد رسول (ص)ہیں لہذا شاعر کا شعر جو آپ نے پیش کیا ہے وہ تمام مضبوط دلائل کے سامنے مہمل ہوجاتا ہے ۔ جیسا کہ محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب کے سویں باب کے بعد فصل کو اسی شعر کے جواب میں اس مطلب سے مخصوص کیا ہے کہ پیغمبر(ص)کے دخترزادے آں حضرت (ص)کے فرزند ہیں ۔ اور یہ شعر زمانہ کفر کے شاعر کا ہے جس نے اس کو اسلام سے قبل نظم کیا ہے ۔ جیسا کہ صاحب جامع الشواہد نے نقل کیا ہے اسی قبیل سے کثرت کے ساتھ ایسی دلیلیں ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ فرزندان فاطمہ صدیقہ سلام اللہ علیہا فرزندان رسول اللہ (ص)ہیں لہذا جب ہمارا سلسلہ نسب حضرت امام حسین علیہ السلام تک ثابت ہوگیا تو ہم بیان کرچکے معتبر دلائل کی بنا پر ثابت ہے کہ ہم لوگ فرزندان و اولاد رسول خدا ہیں اور ہمارا سب سے فخر اسی بات پر ہے کہ اور کسی شخص کو سو اذریت رسول (ص)کے ایسا افتخار حاصل نہیں ہے کیا خوب کہا ہے فرزدق شاعر نے ؟

اولئک آبائی فجئنی بمثلهم ----اذاجمعتنا یا جریر الجامع (۱)

خلاصہ یہ کہ ابنائے زمانہ اور اہل دنیا میں سے کوئی شخص اپنے اجداد کی بزرگی پر فخر مباہات نہیں کرسکتا ہے ، سوا شرفاءاور سادات کے جن کی نسبت خاتم الانبیا اور علی المرتضی صلوات اللہ وسلامہ علیھما تک منتہی ہوتی ہے ۔

حافظ :- آپ کے دلائل بہت تسکین بخش اور مکمّل تھے جن سے ضدّی اور متعصّب اشخاص کے قطعا کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا میں ممنون ہوں کہ آپ نے حقیقت کو بے نقاب کرکے ہم لوگوں کو مستفیض فرمایا جس سے بڑا شبہ رفع ہوگیا

اتنے میں مسجد سے نماز عشاء کے لیے موذن کی اذان کی آواز بلند ہوئی کیونکہ برادران اہل سنت بصورت نماز ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو ایک دوسرے سے الگ اور اس کے وقت فضیلت پر بجالاتے ہیں ۔ بر خلاف شیعوں کے جو رسول خدا(ص) اور ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی پیروی جمع اور تفریق کے درمیان مختار ہیں) وہ حضرات

--------------

(۱) (یعنی یہ ہیں میرے آباء واجداد پس لاؤ میرے سامنے ان کی مثل جس وقت محفلوں اور انجمنوں میں ہم اکھٹے ہوں۔)

۱۲

مسجد جانے اور فریضہ ادا کرنے کے لیے آمادہ ہوئے لیکن بعض صاحبان نے کہا کہ اگر واپس آنے اور مباحثہ جاری رکھنے کا قصد ہے تو مسجد جانے اور آنے میں نشست کا کافی وقت نکل جائیگا۔ لہذا بہتر یہ ہےکہ جب تک اس صحبت کا سلسلہ ہے نماز عشاء اسی جگہ ادا کی جائے فقط مولوی سید عبدالحی امام جماعت مسجد چلے جائیں اور مسجد میں لوگوں کو نماز پڑھا کر واپس آئیں ۔ یہ رائے سب حضرات نے قبول کی لہذا ساری مدت مناظرہ میں یعنی دس راتوں تک اسی مقام پر نماز عشاء ہوتی رہی چنانچہ وہ حضرات ایک دوسرے بڑے ہال میں چلے گئے اور نماز پڑھ کر مناظرے والے کمرے میں واپس آئے۔

نواب:- نواب عبد القیوم خان نے جو ا ہ ل تسنن ک ے شرفاءاور رؤساء م یں سے اور بال ک ی کھ ال نکالن ے اور جستجو کرن ے وال ے انسان ت ھے ، ک ہ ا ک ہ قبل ہ صاحب اگر آپ اجازت د یں تو جب تک حضرات چائے نوش فرمائ یں میرے دل موضوع بحث سے خارج ا یک سوال ہے اس کو عرض کرو ں۔

خیر طلب:- فرمایئے میں سننے ک یلئے تیار ہ و ں ۔

نواب :- میرا سوال بہ ت مختصر ہے چونک ہ مدتو ں س ے م یرے دل میں تھ ا ک ہ باخبر ش یعہ حضرات سے پوچ ھ و ں گا ، ل یکن کوئی موقع ہ ات ھ ن ہ آ یا اور اب اس کا مناسب محل آگیا ہے ل ہ ذا عرض کرنا چا ہ تا ہ و ں ک ہ حضرات ش یعہ سنت رسول خدا (ص)کے خلاف نماز ظ ہ ر وعصر ا ور مغرب وعشاء کو ملا کر کس لئے پ ڑ ھ ت ے ہیں ؟ ۔

پیغمبر(ص)نماز ظہ ر ین و مغربین جمع وتفریق دونوں طرح س ے پ ڑھ ت ے ت ھے

خیر طلب :- اول یہ کہ آپ حضرات (علمائ ے جلس ہ ک ی طرف اشارہ ) جانت ے ہیں کہ فروع ی مسائل میں علماء کے درم یان بہ ت اختلاف ہے ج یسا کہ آپ ک ے چارو ں امام ب ھی آپس میں بہ ت ز یادہ اختلاف رکھ ت ے ہیں دوسرے یہ کہ آپ ن ے فرما یا "شیعوں کا عمل سنت رسول کے خلاف ہے "تو اس امر میں آپ کو اشتباہ ہ وا ہے ک یونکہ آں حضرت (ص) نماز یں کبھی یکجا اور کبھی الگ الگ ادا فرماتے ت ھے ۔

نواب :- (اپنے علماء ک ی طرف رخ کرکے ) ک یا یہ صحیح ہے ک ہ رسول الل ہ (ص)جمع اورتفر یق دونوں طرح س ے نماز بجا لات ے ت ھے ؟-

حافظ:- فقط سفر اور ،عذر کے مواقع ج یسے بارش وغیرہ میں اسی طرح سے عمل فرمات ے ت ھے ۔ تاک ہ امت تعصب اور مشقت م یں مبتلا نہ ہ و،ورن ہ حضر م یں ہ م یشہ الگ الگ پڑھ ت ے ت ھے م یرا خیا ل ہے ک ہ قبل ہ صاحب ن ے غلط ی سے سفر کو حضر سمج ھ ل یا ہے ۔

خیرطلب :- نہیں مجھ کو مغالط ہ ن ہیں ہ وا ،بلک ہ یقین رکھ تا ہ و ں یہ ا ں تک کہ آپ حضرات ک ی روایتوں میں

۱۳

بھی موجود ہے ک ہ کب ھی حضر میں اور بغیر کسی عذر کے ب ھی بصورت جمع ادافرماتے ت ھے ۔

حافظ:- میں خیال کرتا ہ و ں ک ہ آپ ن ے غلط ف ہ م ی سے ش یعہ روایات کو ہ مار ی روایات سمجھ ل یا ہے ۔

خیر طلب :- شیعہ راوی تو اس مقصد پر متفق ہی ہیں گفتگو ہ و ر ہی ہے آپ ک ے راو یوں پر ،اس بارے م یں میں متعدد صحیح روایتیں صحاح اور آپ کی معتبر کتا بوں م یں وارد ہیں ۔

حافظ:- ممکن ہے آپ ک ی نظر میں ہ و ں تو ان کا حوال ہ ب یان کیجئے

خیر طلب :-مسلم ابن حجاج نے اپن ی صحیح کے اندر "باب الجمع بین الصلواتین فی الحضر " میں روایوں کا سلسلہ نقل کرت ے ہ و ئ ے ابن عباس س ے روا یت کی ہے ک ہ ان ہ و ں ن ے ک ہ ا "صلّ ی رسول اللہ الظ ھ ر و العصر جمعا والمغرب والعشاء جمعا ف ی غیر خوف ولا سفر " (یعنی رسول خدا(ص) نماز ظہ ر و عصر اور مغرب وعشا ءکو بغ یر خوف اور سفر کے ملا کر ادا فرماتے ت ھے ) ۔

اور پھ ر ابن عباس س ے نقل ک یا ہے ک ہ ان ہ و ں ن ے ک ہ ا " صلّیت مع النّبی ثمانیا جمعا و سبعا " (یعنی میں نے رسول خدا (ص) ک ے سات ھ آ ٹھ رکعت (نماز ظ ہ ر وعصر)اور سات رکعت (مغرب وعشاء) کو ملا کر پ ڑھ تا ت ھ ا ۔ اور اس ی حدیث کو اما م احمد بن جنبل نے اپن ی مسند کے جز ء اول صفحہ نمبر ۲۲۱م یں نقل کیا ہے ۔ علاو ہ اس دوسر ی حدیث کے ابن عباس ن ے ک ہ ا " صلّی رسول الله فی المدینة مقیما غیر مسافر سبعا وثما نیا " (یعنی رسول خدا(ص) نے مد ینے کے اندر حالت اقامت م یں بغیر مسافرت کے سات رکعت اور آ ٹھ رکعت یعنی مغرب وعشاء اور ظہ ر وعصر کو ملا ک ے نماز پ ڑھی )۔

امام مسلم اسی طرح کی کئی حدیثیں نقل کرتے ہیں یہ ا ں تک کہ لک ھ ت ے ہیں کہ عبد الل ہ بن شف یق نے ک ہ ا ک ہ ا یک روز عبد اللہ ابن عباس عصر ک ے بعد ہ مار ے سامن ے خطب ہ پ ڑھ ر ہے ت ھے اور شریک صحبت تھے یہ ا ں تک کہ آفتاب ن ے غروب ک یا ستارے ظا ہ ر ہ و گئ ے لوگ وں نے " الصّلواة الصّلواة " کی آواز دینا شروع کی لیکن ابن عباس نے اعتنا ن ہ ک ی اسی وقت بنی تمیم میں سے ا یک شخص نے بلند آواز م یں کہ ا " الصّلواة الصّلواة " ابن عباس نے ک ہ ا " اتعلّمنی بالسنّة لا ام ّ لک رایت رسول الله یجمع بین الظهر و العصر والمغرب والعشاء " (یعنی تم مجھ کو سنت ک ی یاد دلاتے ہ و حالانک ہ م یں نے خودد یکھ ا ہے ک ہ رسول الل ہ (ص) ن ے نماز ظ ہ ر عصر اور مغرب وعشاء کو جمع فرما یا ) عبد اللہ ک ہ تا ہے ک ہ اس کلام س ے م یرے دل میں خدشہ پ یدا ہ وا اور م یں نے جاکر ابو ہ ر یرہ سے در یافت کیا تو انہ و ں ن ے ب ھی تصدیق کی اور کہ ا حق یقت وہی ہے جو ابن عباس ن ے ب یان کی ۔

اور دوسرے طر یقے سے ب ھی عبداللہ بن شف یق عقیل سے نقل کرت ے ہیں کہ ا یک مرتبہ منبر پر عبد الل ہ ابن عباس ک ی تقریر نے طول ک ھینچی یہ ا ں تک کہ اند ھیرا پھیل گیا ،ایک شخص نے پ ے در پ ے ت ین بار " الصّلواة الصّلواة " کی آواز دی ۔ ابن عباس ج ھ نج ھ لا گئ ے اور کہ ا "لا امّ لک اتعلّمنا بالصلواة وکنّا نجمع بین الصلواتین علی عهد رسول الله "

۱۴

( یعنی ۔۔۔ مج ھ کو نماز ک ی تعلیم دیتا ہے ؟حالانک ہ ہ م زمان ہ رسو ل خدا (ص) م یں دو نمازوں کو ملا کر پ ڑھ ا کرت ے ت ھے یعنی ظہ ر کو عصر ک ے سات ھ اور مغرب کو عشاء ک ے سات ھ ۔

زرقانی بھی جو آپ کے اکابر علماء م یں سے ہیں ،شرح موطاء مالک کے جزء اول "باب جمع ب ین الصلواتین "میں صفحہ ۳۶۳ پر نسائ ی سے بطر یق عمرو بن ہ رم اب ی شعشاء سے نقل کرت ے ہیں کہ ابن عباس بصر ہ م یں نماز ظہ ر وعصراور مغرب وعشاء پ ڑھ ت ے ت ھے بغ یر اسکے ک ہ ان ک ے درم یان کوئی فاصلہ یا کوئی چیز حا ئل ہ وت ی ہ و اور ک ہ ت ے ت ھے ک ہ رسول خدا (ص) اس ی طرح نماز ادا فرماتے ت ھے ( یعنی ظہ ر کو عصر ک ے سات ھ اور مغرب کو عشاء ک ے سات ھ جمع فرمات ے ت ھے ) ۔

نیز مسلم نے صح یح میں ، مالک نے موطاء "باب جمع ب ین الصلا تین میں امام احمد بن جنبل نے مسند سلسل ہ روا یات کو نقل کرتے ہ وئ ے س عید ابن جبیر کرے ذر یعے ابن عباس سے روا یت کی ہے ک ہ ان ہ و ں ن ے ک ہ ا "صلّی رسول الله الظهر و العصر جمعا بالمدینة فی غیر خوف و لا مطر " (یعنی رسو ل اللہ مد ینے میں نماز ظہ ر اور عصر کو ملا کر پ ڑھی بغیر خوف اور بارش کے ) ابو زب یر کہ تا ہے ک ہ م یں نے ابو سع ید سے سوال ک یا کہ پ یغمبر (ص)کس وجہ س ے نماز جمع فرمات ے ت ھے " تو ابو سع ید نے ک ہ ا ک ہ یہی سوال میں نے ابن عباس س ے ک یا تھا تو انہ و ں ن ے جواب د یا کہ "اراد ان لا یحرج احدا من امته" ( یعنی اسلئے جمع فرمات ے ت ھے ک ہ آ ں حضرت (ص)ک ی امت میں سے کوئ ی شخص سختی اور مشقت میں نہ پ ڑے اور چند دوسر ی روایتوں میں بھی نقل کرتے ہیں کہ ابن عباس ن ے ک ہ ا "جمع رسول الله بین الظهر والعصر والمغرب والعشاء فی غیر خوف ولا مطر"( یعنی رسول اللہ (ص)ن ے ظ ہ ر وعصر اور مغرب وعشاء ک ے درم یان جمع فرمایا بغیر اسکے ک ہ کوئ ی خوف ہ و یا بارش ہ وت ی ہ و) ۔ اس بار ے م یں میں روایتیں کثرت سے نقل ک ی ہیں لیکن جمع بین الصلاتین کے جواز پر سب س ے واضح دل یل یہی جمع بین الصلواتین کے نام ک ے سات ھ ابواب ک ی تعیین اور اسی باب میں احادیث جمع کرنا ہے تا ک ہ یہ مطلقا جمع کے جائز ہ ون ے کی دلیلیں بنیں ۔ ورن ہ ا یک مخصوص باب میں حضر میں اور ایک باب سفر میں نمازوں کو جمع کرن ے پر قائم کرت ے ،چنانچ ہ یہ منقولہ روائت یں صحاح اور آپ کی دوسری معتبر کتابو ں م یں سفر وحضر دونوں م یں اس کے جائز ہ ون ے س ے تعلق رک ھ ت ی ہیں ۔

حافظ:- ایسا کوئی باب یا نقل روایات صحیح بخاری میں موجود نہیں ہے ۔

خیرطلب :-اولا جب سارے ارباب صحاح ج یسے مسلم، نسائی، احمد ابن حنبل ،صحیحین مسلم وبخاری کے شارح ین اور آپ کے دوسر ے ب ڑے علماء ن ے نقل ک یا ہے تو یہی ہ مار ے مطلب اور مقصد ک ے لئ ے کاف ی ہے ۔

دوسرے امام بخاری نے ب ھی انہیں روایات کو جنہیں دوسروں ن ے نقل ک یا ہے اپن ی صحیح میں درج کیا ہے ل یکن پوری چالاکی کے سات ھ ان ک ے محل یعنی جمع بین الصلواتین سے دوسر ے محل پر منتقل کرد یا ہے ،چنانچ ہ

۱۵

"باب تاخ یر الظھ ر ال ی العصر من کتاب مواقیت الصلواۃ" "باب ذکرالعشاء والعمتہ "اورباب "وقت المغرب " کا مطالع ہ ک یجیئے اور ان کا جائزہ ل یجیئے تویہ جمع بین الصلواتین کی ساری حدیثیں نظر آجائیں گی نتیجہ یہ کہ جمع ب ین الصلواتین کی اجازت اور رخصت کے عنوان ک یساتھ ان احادیث کا نقل کرنا بتا تا ہے ک ہ یہ جمہ ور علمائ ے فر یقین کا عقیدہ ہے ۔ ا یسی صورت میں کہ اپن ے صحاح ک ے اندر ان حد یثوں کی صحت کا اقرار بھی کیا ہے چنانچ ہ علاّم ہ نوو ی نے شرح صح یح مسلم میں عسقلانی اور قسطلانی ،زکریا رازی نے ان شرحو ں م یں جو انہ و ں ن ے صح یح بخاری کی لکھی ہیں ،زرقانی نے شرح موطاء مالک میں اور آپ کے دوسر ے علماءن ے یہ احادیث اورخصوصا حدیث ابن عباس کو نقل کرنے ک ے بعد ان ک ی صحت اور اس کا اعتراف کیا ہے ک ہ یہ حدیثیں حضر میں جمع بین الصلاتین کی اجازت ورخصت کی دلیل ہیں تا کہ امت وال ے حرج اور مشقت م یں مبتلا نہ ہ و ں ۔

نواب :- یہ کیونکر ممکن ہے ک ہ زمان ہ رسول خدا(ص)س ے یہ حدیثیں جمع کے عمل پر مرو ی ہ و ں ل یکن علماء حکم اور عمل میں ان کے خلاف راست ہ اخت یار کریں ؟۔

خیرطلب :- یہ صرف اسی موضوع سے مخصوص ن ہیں ہے ،بعد کو آپ ک ی سمجھ م یں آئے گا اس ک ی مثالیں بہ ت ہیں ۔ خاص اس موضوع م یں بھی حضرات فقہ اء ا ہ ل تسنن ن ے یا تو غور وفکر کے تصور س ے یا کسی اور سبب سے جو مج ھ کو معلوم ن ہیں ہے ان معتبر حد یثوں کی ان کے ظا ہ ر ی کے خلاف م ہمل تاویلیں کی ہیں۔ ج یسا کہ ک ہ ت ے ہیں "شاید یہ حدیثیں عذرکے مواقع س ے تعلق رک ھ ت ی ہ و ں مثلا خوف وب یم ، بارش اور آندھی وغیرہ چنانچہ آپ ک ے اکابر متقدم ین میں سے ا یک جماعت جیسے امام مالک ،امام شافعی ، اور مدینے کے چند فق یہ و ں نے اس ی تاویل کے سات ھ فتو ی دیا حالانکہ اس عق یدے کو ابن عباس کی حدیث رد کررہی ہے جو صاف صاف ک ہ ت ے ہیں کہ "من غ یر خوف ولا مطر"یعنی بغیر خوف اور نزول باراں ک ے نماز کو جمع پ ڑھ ت ے ت ھے ۔

بعض دوسروں ن ے یہ خیال آرائی کی ہے ک ہ غالبا ابر گ ھ را ہ وا ت ھ ا اس وج ہ س ے وقت کو ن ہیں پہ چانا اور ج یسے ہی نماز ظہ ر تمام ک ی ابر چھٹ گ یا تو دیکھ ا کہ عصر کا وقت ہے ل ہ ذا عصر ب ھی پڑھ لی اور اس طرح سے ظ ہ ر عصر با ہ م جمع ہ وگئ یں ۔

میں نہیں سوچ سکتا کہ اس س ے ز یادہ کمزور تاویل بھی گھڑی جاسکتی ہے گو یا تاویل کرنے والو ں ن ے غور ہی نہیں کیا کہ نماز پ ڑھ ن ے وال ے رسول الل ہ (ص) ت ھے اور رسول خدا(ص) ک یلئے ابر کا ہ ونا ن ہ ہ ونا کوئ ی فرق نہیں رکھ تا ت ھ ا ۔ ک یونکہ آنحضرت (ص)کا علم اسباب ظاہ ر ی کا محتاج نہیں تھ ا ،بلک ہ اسباب و آثار پر حاو ی تھ ا اس س ے قطع نظر ک ہ یہ کم فہ م جماعت ا یسی صورت حال پید ہ ون ے پر کوئ ی دلیل اپنے پاس ن ہیں رکھ ت ی اور علاوہ اس ک ے ک ہ یہ بات احادیث کے ک ھ ل ے ہ وئ ے مطالب کے خلاف ہے اس تاو یل کا باطل ہ ونا نماز مغ رب وعشاء کو جمع کرنے س ے

۱۶

ب ھی ثابت ہ وتا ہے ک یونکہ اس وقت ابر کے موجود ہ ون ے اور بر طرف ہ ون ے س ے کوئ ی اثر نہیں پڑ تا ۔

جیسا کہ م یں نے عرض ک یا حدیث ابن عباس (خیر امت) میں اس کی صراحت موجود ہے ک ہ ان ک ے خطب ے ن ے اتنا طول ک ھینچا کہ سامع ین نے کئ ی مرتبہ " الصّلوا ۃ الصّلواۃ "کی آوازبلند کی یعنی یاد دلایا کہ ستار ے ظا ہ ر ہ وگئ ے ہیں اور نماز کا وقت ہ وگ یا ہے اس ک ے باوجود وہ نماز مغرب م یں عمدا تاخیر کرتے ر ہے یہ ا ں تک کہ نماز عشاء کا وقت آگ یا اور دونوں کو ملا ک ے ادا ک یا اور ابو ہ ر یرہ نے ب ھی اس کی تصدیق کی رسول اللہ (ص) اس ی طرح عمل فرماتے ت ھے ۔یقینا اس طرح کی تاویلیں ہ مار ے نزد یک باطل ہیں ، بلکہ آپ ک ے ب ڑے بڑے علماء نے ب ھی ان کو رد کیا ہے اور تاو یلات کو ظواہ ر احاد یث کے برخلاف جان ا ہے ج یسا کہ آپ ک ے اکابر علماء م یں سے ش یخ الاسلام انصاری نے "تحف ۃ الباری فی شرح صحیح البخاری " باب الصلواۃ الظھ ر مع العصر والمغرب والعشاء"آخرصفح ہ ۲۹۲ جزءدوم م یں اسی طرح علّامہ قسطان ی نے "ارشاد السار ی فی شرح صحیح بخاری"صفحہ ۲۹۳ جزءدوم م یں اور صحیح بخاری کے دوسر ے شارح ین اور آپ کے علماء محقق ین کے ا یک جم غفیر نے لک ھ ا ہے ک ہ اس قسم ک ی تاویلیں ظواہ ر احاد یث کیخلاف ہیں اور اس بات کی قید لگانا کہ ہ ر نماز حتم ی طور پر الگ الگ پڑھ نا چائ یئے ترجیح بلا مرجح اور تخصیص بلا مخصص ہے ۔

نواب :- پھ ر یہ اختلاف کہ ا ں س ے آ یا کہ مسلما ں ب ھ ائ یوں کے دوگرو ہ آپس م یں ایک دوسرے ک ی جان کے درپ ے ہ وگئ ے با ہ م عداوت ک ی نظر سے د یکھ ت ے ہیں او راعمال کی مذمت اور قدح کرتے ہیں ؟۔

خیر طلب :- اولا ! یہ کہ آپ ن ے فرما یا ہے مسلمان دو گرو ہ آپس م یں ایک دوسرے کو عداوت ک ی نگاہ س ے د یکھ ت ے ہیں ، تو میں مجبور ہ و ں ک ہ ش یعیان اہ ل ب یت طہ ارت وخاندان رسالت ک ی طرف سے دفاع کرو ں ک ہ ہ م ش یعوں کی جماعت برادران اہ ل تسنن ک ے علماء اور عوام م یں کسی ایک کو بھی حقارت یا عداوت کی نگاہ س ے ن ہیں دیکھ ت ی ہے بل کہ ان کو اپن ے مسلمان ب ھ ائ ی سمجھ ت ی ہے البت ہ ہ م کو ب ہ ت افسوس ہے ک ہ غ یروں ،خارجیوں ، ناصبیوں اور امویوں کے غلط پروپ یگنڈے اور شیاطین جن وانس کی تحریکیں برادران اہ ل سنت ک ے دلو ں م یں کس لئے گ ھ ر کر ل یتی ہیں ؟ یہ ا ں تک کہ اپن ے ش یعہ بھ ائ یوں کو جو قبلہ ، کتاب ، نبوت ، تمام احکام اور واجبات و مستحبات پر عمل اور کبائر ومعاص ی کے ترک م یں ان کے سات ھ شر یک ہیں رافضی ،مشرک اور کافر جانتے ہیں ۔ اپن ے س ے جدا قرارد یتے ہیں اور بغض وعداوت کی نظر سے ان ک ی طرف دیکھ ت ے ہیں ۔

ثانیا ! آپ نے فرمایا ہے ک ہ " یہ اختلاف کہ ا ں س ے آ یا ؟" تو میں سوز دل کے عرض کرتا ہ و ں :-

آتش بجاں شمع فتد ک یں بنا نہ اد

ابھی یہ عرض کرنے کا وقت ن ہیں ہے ک ہ اس قسم ک ے اختلاف کا چشم ہ ک ہ ا ں س ے پ ھ و ٹ ا ۔ شا ید انشا اللہ آ یندہ راتوں م یں موقع محل کی مناسبت سے اس ک ی نقاب کشائی ہ و جائ ے اور آپ خود اصل حق یقت کی طرف متوجہ ہ و جائ یں ۔

۱۷

ثالثا ! نماز جمع و تفریق کے بار ے م یں حضرات فقہ اء ا ہ ل تسنن ن ے مذکور ہ روا یتوں کو جو مطلقا نماز ظہ ر وعصر ومغرب وعشاء کو ملا کر پ ڑھ ن ے ک ی اجازت اور جواز پر دلالت کرتی ہیں ، امت کی سہ ولت و راحت اور سخت ی ومشقت و حرج سے بچان ے ک ے لئ ے نقل ک یا ہے لیکن میں نہیں جانتا کہ کس وج ہ س ے فضول تاو یلیں کرتے ہیں اور بغیر عذر کے نمازو ں کو اک ھٹ ا پ ڑھ ن ے کو جائز ن ہیں جانتے بلک ہ ان م یں سے بعض ج یسے ابو حنیفہ اور ان کے تاب عین مطلقا جمع کرنے کو منع کرت ے ہیں چاہے عذر ک یساتھ ہ و یا بغیر عذر کے ،سفر م یں ہ و یا حضر میں لیکن دوسرے شافع ی ،مالکی ، اور جنبلی علماء نے باوجود سار ے اصول و فروع م یں باہ م ی اختلافات کے سفر مباح کر ے اندر ج یسے حج ،عمرہ اور جنگ وغ یرہ میں اس کی اجازت دی ہے ۔

البتہ شیعہ فقہ اء ائم ہ طا ہ ر ین آل محمد علیھ م السلام کی پیروی میں جو ارشاد رسول (ص) کی بنا پر حق وباطل کے درم یان فرق کرنے وال ے اور عد یل قرآن ہیں مطلقا اس کے جواز کا حکم د یتے ہیں ،خواہ سفر م یں یا حضر میں ،عذرکے سات ھ یا بغیر عذر کے ، چا ہے تقد یم کے ساتھ جمع کرے یا تاخیر کے سات ھ اور یہ جواز اختیار مصلی کے سات ھ ہے یعنی نماز گزار اگر چاہے تو نماز ظ ہ ر وعصر اورمغرب وعشاء چارو ں کو س ہ ولت اور آرام ک ے لئ ے ا یک نشست میں پڑھے یا ظہ ر ومغرب کو اول وقت فض یلت میں پڑھے اور نماز عصر وعشاء کو بھی انہیں کے اول وقت فض یلت میں ادا کرے اس کو اخت یار ہے ہ ا ں ہ ر ا یک کو الگ الگ اور اپنے اپن ے وقت فض یلت میں بجا لانا جمع کرنے س ے افضل ضرور ہے ج یسا کہ فق ہ اء ش یعہ کی استدلالی کتابوں اور عمل یہ رسالوں م یں اس کا مکمل ذکر کیا گیا ہے ۔ ل یکن چونکہ لوگ اکثر مشاغل اور بہ ت س ی پریشانیوں میں گرفتار رہ ت ے ہیں اور ممکن ہے ک ہ ت ھ و ڑی سی غفلت میں نماز ان سے فوت ہ و جائ ے ل ہ ذا س ہ ولت اور رفع زحمت وحرج ک ے لئ ے (جو شارع مقدس کا مقصد ہے ) ش یعہ تقدیم یا تاخیر کے سات ھ جمع پ ڑھ ت ے ہیں میرا خیا ل ہے ک ہ حضرات محترم کا ذہ ن روشن ہ ون ے اور دوسر ے برادران ا ہ ل سنت ک ے لئ ے جو ہ م کو غ یض وغضب ک ی نگاہ س ے د یکھ ت ے ہیں اسی قدر جواب کافی ہ وگا چونک ہ دوسر ے ا ہ م بن یادی مطالب پیش نظر ہیں ۔ ل ہ ذا ب ہ تر ہے ک ہ ہ م لوگ سابق اصل مذاکرات ک ی طرف واپس ہ و ں ک یوں کہ جب خاص خاص اصول ی مطالب حل ہ وجائ ینگے تو ان کے سات ھ فروعات خود بخود واضح ہ و جائ ینگے ۔

حافظ:-مجھ کو ب ہ ت مسرت ہے ک ہ م یں نے پ ہ ل ی ہی نشست میں قبلہ صاحب ک ے معلومات کا پت ہ لگال یا اور یہ جان لیا کہ م یرافریق صحبت وہ شخص ہے جو ز یادہ محدود نہیں اور ہ مار ی کتابوں س ے پور ی طرح باخبر ہے ج یسا کہ آپ ن ے فرما یا بلکل بجا ہے ک ہ ہ م اس ی پہ ل ی گفتگو کی طرف رجوع کریں ۔

آپ کی اجازت سے میں یہ سمجھنا چاہتا ہوں کہ جب آپ نے فصیح و بلیغ بیان سے ثابت کردیا کہ آپ حجازی و ہاشمی اور ایسے پاک نسب کے حامل ہیں تو یہ کیونکر ہوا کہ جو سنیوں کے مرکز ایران میں آبسے چنانچہ اس ہجرت کا سبب اور تاریخ بیان فرمائیے۔

۱۸

ہم لوگ مسرور ہوں گے۔

( اس محل پر قبلہ سلطان الواعظین نے اپنے اجداد کی ہجریت کا سبب اور مفصل تاریخ بیان فرمائی ہے۔ جو اختصار کا لحاظ رکتے ہوئے حذف کی جاتی ہے۔ لیکن اسی سلسلے میں ضمنا ظہور قبرامیرالمومنین (ع) کا بھی ذکر آگیا ہے جس کے بارے میں گفتگو کا ترجمہ درج کیا جاتا ہے۔ ۱۲ مترجم)

حافظ : لیکن امیرالمومنین علی کرم اﷲ وجہ کی قبر اس زمانہ تک کس حال میں تھی کہ ڈیڑھ سو سال کے بعد ظاہر ہوئی۔

خیر طلب : چونکہ امیرالمومنین علیہ السلام کی شہادت ،خلافت معاویہ اور بنی امیہ کی فتنہ انگیزی کے زمانے میں واقع ہوئی لہذا حضرت نے وصیت فرما دی تھی کہ آپ کا جسد مبارک رات کے وقت پوشیدہ طریقہ پر دفن کیا جائے یہاں تک کہ کوئی علامت بھی قبر پر باقی نہ رہے ۔ صرف چند اصحاب خاص اور ان حضرت کے فرزند دفن کے موقع پر حاضر تھے اور اکیسویں رمضان کے صبح کو اس لیے کہ دشمنوں پر معاملہ مشتبہ ہوجائے اور وہ قبر مبارک کی جگہ معلوم نہ کرسکیں دو محملیں تیار کی گئیں۔ ایک کو مدینہ کی طرف اور ایک کو مکہ کی جانب روانہ کیا گیا اسی وجہ سے ان حضرت (ع) کی قبر مبارک برسوں پوشیدہ رہی اور سوا حضرت کے فرزندوں اور خاص خاص اصحاب کے کوئی شخص ان جناب کے مدفن اور قبر سے واقف نہ تھا۔

حافظ : اس وصیت اور قبر کو پوشیدہ رکھنے کی کیا وہ تھی؟

خیر طلب : غالبا بنی امیہ بے دین کے خوف سے ایسا ہوا چونکہ یہ لوگ ظالم و باغی اور مخصوص طور پر آل محمد علیہم السلام کے شدید دشمن تھے لہذا ممکن تھا کہ قبر مبارک کے ساتھ بے ادبی کریں اور یہ ظلم سارے مظالم سے سخت ہوتا ۔

حافظ : یہ آپ کیا فرمارہے ہیں ؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ مرنے اور میت کے قبر میں دفن ہونے کے بعد کوئی مسلمان چاہے وہ دشمن ہی کیوں نہ ہو ایسا قبیح عمل انجام دے؟

بنی امیہ کے دلدوز حرکات

خیر طلب : غالبا آپ نے بنی امیہ کی رسوائے زمانہ تاریخ اور ان کے شرمناک اور دلدوز حرکات کا مطالعہ نہیں فرمایا ہے کہ اس شجرہ ملعونہ اور جماعت خبیثہ نے جس روز سے خلافت اور امارت مسلمین کی لجام ہاتھ میں لی۔ اسی دن سے مسلمانوں کے اندر ظلم و تعدی اور فساد کا دروازہ کھل گیا کیا کیا ظلم انہوں نے نہیں کیئے

۱۹

کتنے کتنے خون نہیں بہائے کیس کیسی عزتیں برتباد نہیں کیں، یہ رسوا بے وقعت قوم کسی چیز کی پابند نہیں تھی چنانچہ ان کی بد اعمالوں کو آپ کے بڑے بڑے علماء اور مورخین انتہائی خجالت کے ساتھ ضبط تحریر میں لائے ہیں۔

واقعہ شہادت زیدبن علی علیہ السلام

خصوصیت کیساتھ علامہ صفر یزی ابوالعباس احمد بن علی شافعی نے جو آپ کے اکابر علماء میں سے ہیں اپنی کتاب ، مقریزی النزاع والتخاصم فیما بنی بنی ہاشم و بنی امیہ میں ان کی دل سوز حرکتوں اور بد اعمالیوں کو تفصیل کے ساتھ درج کیا ہے کہ وہ زندہ اور مردہ میں بھی فرق نہیں کرتے تھے نمونہ کے لیے اس بدنام زمانہ قوم (بنی امیہ) کے دل دوز اعمال کی نشانیاں اور وہ اہم تاریخی واقعے آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں تاکہ آپ حضرات تعجب نہ کریں۔ اور یہ سمجھ لیں کہ جو کچھ میں عرض کررہا ہوں سند اور بنیاد کے ساتھ ہے وہ اہم واقعے حضرت زید بن علی بن الحسین علیہما السلام اور ان کے فرزدن یحیٰ کی شہادتیں ہیں جن کو فریقین کے جملہ مورخین نے لکھا ہے ۔ کہ جب ہشام بن عبد الملک ابن مروان سنہ۱۱۵ہ میں تخت خلافت پر بیٹھا ہے اور یہ بہت قصی القلب اور مغلوب الغضب شخص تھا۔ ) تو اس نے ظلم و تعدی شروع کی اور مخصوص طور پر بنی ہاشم کے حق میں تو خود اس نے اور اس کے پیروں نے تکلیف دہی اور ایذا رسانی کی انتہا کر دی آخر کار یکتائے زمانہ سخی شریف عالم عابد و زاہد فقیہ اور متقی جناب زید بن علی خلیفہ کے پاس فریاد کے لیے تشریف لے گئے اور زصافہ میں ہشام سے ملاقات کی قبل اس کے کہ آپ اپنے آنے کی غرض بیان فرمائیں وہ بجائے اس کے کہ اپنے تازہ وارد مہمان اور وہ بھی رسول اﷲ(ص) کے پارہ تن کی امداد و دادرسی اور خاطر داری کرتا پہنچتے ہی سخت توہین کے ساتھ پیش آیا اور ایسی فحش گالیوں کیساتھ جن کو میں اپنی زبان پر جاری نہیں کرسکتا ۔ آپ کو دربار خلافت سے نکال دیا چنانچہ ہمارے اور آپ کے بڑے بڑے مورخین جیسے امام مسعودی مروج الذہب جلد دوم ص۱۸۱ میں ، علامہ مقریزی النزاع و التخاصم فیما بین بنی ہاشم و بنی امیہ میں ابن ابی الحدید معتزلی شرح نہج البلاغہ میں اور دوسرے لوگ تفصیل کے ساتھ لکھتے ہیں کہ شدید گالیاں اور شدید چوٹیں کھانے اور خلیفہ کے پاس سے نکالے جاتے کے بعد آپ مجبورا شام سے کوفہ تشریف لے گئے اور دفع ظلم کے لیے ہویوں کے خلاف ایک پارٹی تیار کی حاکم کوفہ یوسف بن عمر ثقفی ایک بڑے لشکر کے ساتھ مقابلہ پر آیا وہ جناب ہاشمی شجاعت اور دلیری کے ساتھ جنگ کر رہے تھے اور رجز میں یہ اشعار پڑھتے تھے۔

اذل الحیات و عز الممات و کلا اراه طعاما وبیلا

۲۰

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

5۔ ابن ابی الحدید معتزلی نے شرح نہج البلاغہ جلد اول ص134 مطبوعہ مصر میں جوہری کی کتاب سقیفہ سے سقیفہ بنی ساعدہ کا قضیہ تفصیل سے نقل کیا ہے یہاں تک کہ کہتے ہیں، بن ہاشم علی علیہ السلام کے گھر میں جمع ہوئے اور زبیر بھی ان کے ساتھ تھے اس لیے کہ وہ اپنے کو بنی ہاشم میں شمار کرتے تھے( حضرت امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے تھے کہ زبیر ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے یہاں تک کہ ان کے لڑکے بڑے ہوئے اور ان کو ہم سے برگشتہ کردیا) پس عمر ایک گروہ لے کر سید اور سلمہ کے ہمراہ حضرت فاطمہ(ع) کے گھر پر گئے اور کہا باہر نکل کے بیعت کرو، ان لوگوں نے انکار کیا اور زبیر تلوار کھینچ کر باہر نکل آئے۔ عمر نے کہا اس کتے کو پکڑ لو سلمہ بن اسلم نے ان کی تلوار پکڑ کر دیوار پر دے ماری اس کے بعد علی(ع) کو جبر و تشدد کے ساتھ کھینچتے ہوئے ابوبکر کی طرف لے چلے بنی ہاشم بھی ان کے ساتھ ساتھ آرہے تھے اور دیکھ رہے تھے کہ آپ کیا طرز عمل اختیار کرتے ہیں۔ علی(ع) کہتے تھے کہ میں خدا کا بندہ اور اس کے رسول(ص) کا بھائی ہوں لیکن کوئی ان کی بات پر کان نہیں دھرتا تھا یہاں تک کہ ان کو ابوبکر کے پاس لے گئے انہوں نے کہا بیعت کرو آپ نے فرمایا کہ میں اس منصب کا سب سے زیادہ حقدار ہوں اور تمہاری بیعت نہیں کروں گا البتہ تمہارا فرض ہے کہ میری بیعت کرو۔ تم نے قرابت رسول(ص) کی دلیل سے یہ عہدہ انصار سے لیا ہے اور میں بھی اسی دلیل سے تمہارے مقابلے میں احتجاج کرتا ہوں۔ پس اگر تم خدا سے ڈرتے ہو تو انصاف سے کام لو اور میرے حق کا اعتراف کرو جس طرح انصار نے تمہارے حق میں انصاف کیا ، ورنہ اس کا اقرار کرو کہ جان بوجھ کر مجھ پر ظلم کر رہے ہو۔

عمر نے کہا جب تک بیعت نہ کروگے میں تم کو نہیں چھوڑوں گا۔ حضرت نے فرمایا خوب تم لوگوں نے آپس میں سازباز کر رکھا ہے، آج تم ان کے لیے کام کر رہے ہوتا کہ کلی وہ تمہاری طرف پلٹائیں ( اس عہدے کہ) خدا کی قسم میں تمہاری بات نہیں مانوں گا اور ان کی بیعت نہیں کروں گا اسلیے کہ ان کو میری بیعت کرنا چاہیئے پھر لوگوں کی طرف رخ کر کے فرمایا، اے گروہ مہاجرین خدا سے ڈرو۔ محمدی سلطنت اور اقتدار کو ان کے گھرانے سے جہان اس کو خدا نے قرار دیا ہے باہر نہ لے جائو اور اس کے اہل کو اس کے منصب اور حق سے الگ نہ کرو۔ خدا کی قسم ہم اہل بیت(ع) اس امر میں تم سے کہیں زیادہ حقدار ہیں جب تک ہمارے درمیان کوئی کتاب خدا و سنت رسول(ص) کا عالم اور دین کا فقیہہ موجود رہے۔ خدا کی قسم یہ تمام صفتین ہمارے اندر لہذا اپنے نفس کی پیروی نہ کرو جس سے حق سے دور ہوجائو۔ اس کے بعد علی علیہ السلام بغیر بیعت کئے ہوئے گھر واپس گئے اور خانہ نشین ہوگئے یہاں تک کہ حضرت فاطمہ(ع) نے رحلت فرمائی اور آپ نے بے بس ہوکر بیعت کی۔

6۔ ابو محمد عبداللہ بن مسلم ن قتیبہ بن عمرو الباہلی الدینوری متوفی سنہ376ھ جو آپ کے اکابر علماء میں سے ہیں اور مدتوں شہر دینور میں باقاعدہ قاضی رہے ہیں اپنی مشہور کتاب تاریخ الخلفاء الراشدین و دولت بنی امیہ معروف بہ الامامہ والسیاسہ (مطبوعہ مصر) جلد اول ص13 میں سقیفے کا قضیہ تفصیل سے بیان کرتے ہیں اور اس عبارت سے مضمون شروع کرتے ہیں۔

"وإنّ أبابكررضى اللّه عنه تفقّدقوماتخلّفواعن بيعته عندعليّ كرّماللّه وجهه فبعث إليهم

۳۲۱

عمرفجاءفناداهم وهم في دارعليّ،فأبواأن يخرجوافدعابالحطب وقال: والّذي نفس عمربيده لتخرجنّ أولأحرقّنهاعليكم على من فيها،فقيل له: ياأباحفص،إنّ فيهافاطمةفقال: وإن فخرجوا فبايعوا الا عليا الخ."

خلاصہ یہ کہ جب ابوبکر کو معلوم ہوا کہ امت کی ایک جماعت ان کی بیعت سے انحراف کر کے علی علیہ السلام کے گھر میں جمع ہوئی ہے تو عمر کو ان کی طرف بھیجا، عمر نے آکر ان کو آواز دی لیکن ان لوگوں نے گھر سے باہر نکلنا گوارا نہیں کیا، عمر نے لکڑی منگوائی اور کہا اس خدا کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں عمر کی جان ہے یا تم باہر آئو گے یا میں گھر کو گھر والوں سمیت جلائے دیتا ہوں۔ لوگوں نے کہا اے ابو حفص ( کنیت عمر) اس گھر میں فاطمہ(ع) بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کچھ پرواہ نہیں، وہ ہیں تب بھی جلا دوں گا۔ پس سب لوگ باہر آگے اور بیعت کی سوا علی علیہ السلام کے کہ انہوں نے فرمایا میں نے قسم کھائی ہے کہ جب تک قرآن جمع نہ کرلوں گا نہ باہر نکلوں گا نہ عباپہنوں گا، عمر نے قبول نہیں کیا لیکن فاطمہ سلام اللہ علیہا کی نالہ و زاری اور لوگوں کی ملامت سے مجبور ہو کر ابوبکر کے پاس واپس گئے اور ان کو حضرت سے بیعت لینے پر ابھارا ابوبکر نے حضرت کو بلانے کے لیے کئی مرتبہ قنفذ کو بھیجا لیکن کامیابی نہیں ہوئی۔ بالآخر عمر ایک مجمع کے ساتھ فاطمہ(ع) کے دروازے پر گئے اور دق الباب کیا، فاطمہ(ع) نے ان لوگوں کی صدا سنی تو با آواز بلند فرماد کی۔

"ياأبت يارسول اللّه ،ماذالقينابعدك من ابن الخطّاب وابن أبي قحافة؟!!."

یعنی اے بابا رسول اللہ (ص) آپ کے بعد ہم کو عمر ابن خطاب اور ابوبکر ابن ابو قحافہ کی طرف سے کیا کیا مصیبتیں پہنچ رہی ہیں۔

جب لوگوں نے فاطمہ(ع) کی گریہ و زاری کی آواز سنی تو اس حالت سے پلٹے کہ آنسو بہ رہے تھے اور کلیجے بھن رہے تھے۔لیکن چند اشخاص کےساتھ عمر ٹھہر گئے یہاں تک کہ علی (ع) کو جبرا گھر سے نکال کے ابوبکر کے پاس لے گئے اور ان سے کہا کی ابوبکر کی بیعت کرو حضرت نے فرمایا کہ اگر بیعت نہ کروں تو کیا کرو گے؟ " قالوااذاواللَّه الّذى لااله الّاهونضرب عنقك " ( کہا خدا کی قسم ہم تمہاری گردن ماردیں گے۔ علی علیہ السلام نے فرمایا تو کیا بندہ خدا اور برادر رسول(ص) کو قتل کروگے؟ عمر نے کہا تم رسول خدا(ص) کے بھائی نہیں ہو۔ ابوبکر یہ سارے واقعات اور گفتگو خاموشی سے دیکھ رہے تھے اور کچھ نہیں کہتے تھے۔ عمر نے ابوبکر سے کہا کہ آیا یہ سب کام میں تمہارے حکم سے نہیں کر رہا ہوں ؟ ابوبکر نے کہا جب تک فاطمہ(ع) ہیں میں ان کو مجبور نہیں کروں گا۔ امیرالمومنین علیہ السلام نے اپنے کو قبر رسول (ص) تک پہنچایا اور نالہ و فریاد کے ساتھ آنحضرت(ص) سے وہی بات عرض کی جو ہارون نے اپنے بھائی موسی(ع) سے کہی تھی اور خدا نے قرآن میں اس کی خبر دی ہے کہ:

" ياابنأمّ إنالقوم استضعفوني وكادوايقتلونني" ( یعنی اے میری مان کے فرزند قوم نے مجھ کو ضعیف بنا دیا اور قریب تھا کہ مجھ کو قتل کردیں۔)

اس قضیے کی مفصل شرح نقل کرنے کے بعدکہتے ہیں کہ علی علیہ السلام نے بیعت نہیں کی اور گھر واپس چلے آئے۔ بعد کو ایک مرتبہ ابوبکر و عمر فاطمہ سلام اللہ علیہا کے گھر پر آئے تاکہ ان کی خوشنودی حاصل کریں۔ آپ نے فرمایا میں خدا کو گواہ کرتی ہوں کہ

۳۲۲

تم دونوں نے مجھ کو اذیت پہنچائی ہے، میں ہر نماز میں تم پر نفرین کرتی ہوں یہاں تک کہ اپنے باپ کے پاس پہنچوں اور تمہاری شکایت کروں۔ انتہی۔

بے لاگ فیصلہ کرنا چاہیئے

حضرات آپ کو خدا کیا واسطہ دے کے انصاف چاہتا ہوں، کیا اجماع کے یہی معنی ہیں کہ اصحاب پیغمبر(ص) کو اہانت ، زد و کوب اور زبردستی کےساتھ قتل اور گھر پھونکنے کی دھمکیاں دے کر بیعت کے لیے لے جائیں۔ اس کا نام اجماع رکھیں؟ ارباب انصاف اگر آپ حضرات تعصب سے ہٹ کر ذرا سنجیدگی کے ساتھ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اس روز کی شعبدہ بازی بھی آج ہی کے مانند تھی جس کی مثالیں اکثرملتی ہیں کہ چند اشخاص ایک آدمی کا ساتھ پکڑ کے شور و شغب اور ہنگامہ برپا کر کے اس کو ریاست یا سلطنت کی کرسی تک پہنچا دیتے ہیں اور بعد کو کہتے ہیںکہ قوم نے اس کو منتخب کیا ہے۔ اس روز بھی چند بازیگروں نے پارٹی بناکر ایک نفر کا انتخاب کر لیا اور بعد کو شور و غوغا اہانت ، آتش زنی اور قتل و خون کی دھمکی سے دبائو ڈال کر بقیہ لوگوں کو بیعت کے لیے تیار کیا جس کا آج کی شب آپ حضرات نام رکھتے ہیں، اجماع، اور اس کند حربے کو اپنی حقانیت کی دلیل بناتے ہیں۔

پھر تعجب یہ کہ ہم سے بھی فرمائش ہے کہ اندھے بہرے اور نادان بن جائو، پچھلی تاریخ پر قطعی دھیان نہ دو دین میں کوئی تحقیق نہ کرو، چاہے جو کچھ بھی کیا ہو لیکن سب کے نیک سمجھو اور اندھا دھند تصدیق کردو کہ اجماع واقع ہوا اور یہ خلافت برحق ہے اس لیے کہ اجماع کے ذریعے قائم ہوئی ہے۔

خدا کی قسم اگر آپ حضرات غیر جانبداری اور عدل و باریک بینی کی نظر سے دیکھیں تو خود تصدیق کریں گے کہ ان لوگوں کی جتھہ بندی اور پارٹی بازی اس روز سیاسی تھی برخلاف جماعت شیعہ کے جنہوں نے ارشاد پیغمبر(ص) کے مطابق آں حضرت(ص) کی عترت طاہرہ(ع) کا ساتھ اختیار کیا اور کہا کہ جب خود پیغمبر(ص) کی ہدایت ہے کہ قرآن اور میرے اہل بیت(ع) سے متمسک رہو تو ہم بھی تعمیل کرتے ہوئے ان سے جدا نہیں ہوتے ہیں اور کسی غیر کی نہیں بلکہ صرف انہیں کی پیروی کرتے ہیں۔

7۔ احمد بن عبدالعزیز جوہری جو آپ کے ثقات علماء میں سے ہیں جیسا کہ ابن ابی الحدید نے اس عبارت کے ساتھ ان کی توثیق کی ہے کہ

" هو عالم محدث کثير الادب ثقة ورع اثنی عليه المحدثون رووا عنه فی مصنفاتهم "

یعنی وہ عالم، محدث ، بہت بڑے ادیب، ثقہ اور صاحب ورع تھے، محدثین نے ان کی مدح و ثناء کی ہے اور اپنے تصنیفات میں ان سے روایت کی ہے، انہوں نے کتاب سقیفہ میں روایت کی ہے اور ابن ابی الحدید معتزلی نے بھی شرح نہج البلاغہ جلد دوم ص19 مطبوعہ مصر میں بسند ابواسود اس سے نقل کیا ہے کہ اصحاب کی ایک

۳۲۳

جماعت اور سربرآوردہ مہاجرین نے ابوبکر کی بیعت میں غیظ و غضب کا اظہار کیا کہ ان مشورہ کیوں نہیں کیوں نہیں لیا گیا۔ نیز علی(ع) اور زبیر بھی غضبناک ہوکر بیعت سے کنارہ کش ہوئے اور خانہ جناب فاطمہ(ع) میں آگئے۔ عمر نے اسید بن غضیر اور سلمہ بن سلامہ بن قریش ( جو دوںوں بنی عبدالاشہل سے تھے) اور لوگوں کا ایک گروہ لے کر خانہ فاطمہ(ع) پر چڑھائی کردی فاطمہ(ع) نے ہر چند فریاد کی اور ان لوگوں کو قسم دی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ علی(ع) و زبیر کی تلواریں لے کر دیوار پر مار مار کے توڑ ڈالیں اور ان کو جبر و تشدد کے ساتھ کھینچ کے بیعت کے لیے مسجد میں لے گئے۔

8۔ نیز جوہری نے سلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کی ہے کہ جب ابوبکر منبر پر بیٹھے اور سنا کہ علی(ع) و زبیر اور بنی ہاشم ایک جماعت خانہ فاطمہ(ع) میں جمع ہوئے ہیں اور عمر کو بھیجا کہ ان کو لے آئو، عمر فاطمہ(ع) کے گھر پر آکر چیخے کہ باہر آئو ورنہ خدا کی قسم میں تم کو اور تمہارے گھر کو جلائے دیتا ہوں۔

9۔ نیز جوہری نے جیسا کہ ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد دوم ص19 مطبوعہ مصر میں لکھا ہے، اسناد کے ساتھ شعبی سے روایت کی ہے کہ جس وقت ابوبکر کو خانہ علی علیہ السلام میں بنی ہاشم کے اجتماع کی خبر ملی تو عمر سے کہا کہ خالد کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا موجود ہیں۔ ابوبکر نے کہا تم دوںوں جا کر علی(ع) اور زبیر کو نکال کے لائو تاکہ بیعت کریں، پس عمر فاطمہ(ع) کے گھر میں داخل ہوئے اور خالد دروازے پر کھڑے ہوئے عمر نے زبیر سے کہا یہ تلوار کیسی ہے ؟ انہوں نے کہا میں نے اس کو بیعت علی(ع) کے لیے مہیا کیا ہے۔ عمر نے وہ تلوار کھینچ کر گھر کے اندر ہی ایک پتھر پر مار کر توڑ ڈالی، اس کے بعد زبیر کا ہاتھ پکڑ کے اٹھایا اور باہر لاکر خالد کے قبضے میں دیا۔ پھر مکان کے اندر واپس گئے وہاں کافی لوگ جمع تھے، جیسے مقداد اور جملہ بنی ہاشم عمر نے علی علیہ السلام سے کہا اٹھو اور چل کر ابوبکر کی بیعت کرو۔ حضرت نے انکار کیا تو حضرت کا ہاتھ پکڑکے کھینچا، اور خالد کے ہاتھ میں دیا خالد کے ساتھ کثیر مجمع تھا جو ابوبکر نے مدد کے لیے بھیجا تھا۔ خالد اور عمر مل کے حضرت کو جبر اور سختی کےساتھ کھینچ رہے تھے۔ تمام گلیوں میں لوگ بھرے ہوئے تھے اور یہ منظر دیکھ رہے تھے، حضرت فاطمہ(ع) نے جس وقت عمر کی یہ بدسلوکیاں دیکھیں تو بنی ہاشم وغیرہ کی بہت سی عورتوں کے ساتھ ( جو جناب فاطمہ(ع) کو تسکین دینے کے لیے جمع ہوئی تھیں) باہر آگئیں اور ان کے نالہ و شیون اور فریاد و فغان کی آوازیں بلند تھیں، یہاں تک کہ حضرت فاطمہ(ع) نے مسجد کے اندر ابوبکر کو آواز دے کر فریاد کی کہ کتنی جلدی تم لوگوں نے اہل بیت رسول اللہ(ص) کے گھر پر ڈاکہ ڈال دیا۔ قسم ہے خدا کی کہ میں عمر سے بات بھی نہیں کروں گی یہاں تک کہ اپنے خدا سے ملاقات کروں( معصومہ اپنی قسم اور عہد کی پابند رہیں اور زندگی بھر ان لوگوں سے بات نہیں کی) چنانچہ بخاری اور مسلم نے اپنی صحیحین میں لکھا ہے۔

"فغضبت فاطمةعلى ابى بكرفهجرته فلم تكلّمه حتّى توفّيت"

یعنی فاطمہ سلام اللہ علیہا ابوبکر پر غضبناک ہوئیں اور وفات کے وقت تک ان سے بات نہیں کی۔ جیسا کہ صحیح بخاری کے جزء پنجم و ہفتم میں نقل ہوا ہے۔

10۔ ابو ولید محب الدین محمد بن الشختہ الحنفی متوفی سنہ815ھ جو آپ کے اکابر علماء میں سے اور حلب میں برسوں حنفی

۳۲۴

مذہب کے قاضی رہے تھے۔ اپنی تاریخ کی کتاب روضتہ المناظر فی اخبار الاوائل والاواخر میں قضیہ سقیفہ کی تشریح کرتے ہوئے آگ والا واقعہ ان الفاظ میں لکھتے ہیں۔

"ان عمر جاء الی بيت علی ليحرقه علی من فيه فلقيته فاطمة فقال ادخلوا فيما دخلت الامة"

یعنی عمر علی(ع) کے گھر پر آئے تاکہ اس کو مع گھر والوں کے جلا دیں پس فاطمہ(ع) نے ان سے گفتگو کی تو عمر نے کہا جس چیز میں امت داخل ہوئی ہے تم بھی داخل ہو) اور آخر تک یہ واقعہ نقل کرتے ہیں۔

11۔ طبری نے اپنی تاریخ جلد دوم ص443 میں زیاد ابن کلب سے نقل کیا ہے کہ طلحہ و زبیر اور مہاجرین کی ایک جماعت علی(ع) کے گھر میں تھی، عمر ابن خطاب آئے اور کہا بیعت کے لیے باہر نکلو ورنہ سب کو آگ سے جلائے دیتا ہوں۔

12۔ مشہور مورخ ابن شحنہ حاشیہ کامل ابن اثیر جلد یا زدہم ص112 ضمن واقعہ سقیفہ میں لکھتے ہیں کہ جس وقت اصحاب اور بنی ہاشم کی ایک جماعت جیسے زبیر ، عتبہ بن ابی لہب، خالد بن سعید بن عاص، ،مقداد ابن اسود کندی، سلمان فارسی، ابوذر غفاری، عماریاسر، براء بن عازب اور ابی بن کعب نے بیت ابوبکر سے اختلاف کیا اور علی علیہ السلام کی طرف میلان ہونے کی وجہ سے سب آپ کے گھر میں جمع تھے تو عمر ابن خطاب آئے تاکہ اس مکان میں جو بھی ہو آگ سے اس کو جلا دیں، فاطمہ سلام اللہ علیہا نے احتجاج کیا تو عمر نے کہا کہ اس کام میں شامل ہو جس میں اورلوگ شامل ہوئے ہیں۔ ( یعنی بیعت کرنے والے اشخاص کی پیروی کرتے ہوئے بیعت کرو۔)

ان مطالب کا شاید مقبول فریقین مورخ اور جلیل القدر فاضل ابوالحسن علی ابن الحسین مسعودی کا قول ہے جو تاریخ مروج الذہب جلد دوم ص100 میں واقعات عبداللہ ابن زبیر کو جنہوں نے مکے میں ریاست و خلافت کا دعوی کیا تھا۔ نقل کرتےہوئے لکھتے ہیں کہ جس وقت بنی ہاشم مع فرزند امیرالمومنین محمد ابن حنفیہ کے شعب ابوطالب میں جمع تھے اور عبداللہ کا لشکر ان کا محاصرہ کئے ہوئے تھا تو وہ لوگ بہت سی لکڑی لائے تاکہ سب کو جلادیں اور آگ کے شعلے بھی بلند ہوئے لیکن پھر بھی بنی ہاشم نے اطاعت قبول نہیں کی یہاں تک کہ مختار کے لشکر نے پہنچ کر ان کو نجات دلائی۔

کہتے ہیں کہ نوفلی نے اپنی کتاب میں روایت کیا ہے کہ ایک جلسے میں محاصرہ ثعب ابوطالب کا قضیہ زیر بحث تھا اور لوگ اس آتش زنی کی ملامت کررہے تھے تو وہ عروہ بن زبیر اپنے بھائی عبداللہ کی طرف سے لوگوں کے سامنے یہ عذر پیش کررہے تھے کہ میرے بھائی عبداللہ قصور وار نہیں تھے اس لیے کہ آگ اور لکڑی لانے اور آگ روشن کرنے سے بنی ہاشم کو ڈرانا مقصود تھا:

" إنّماأرادبذلك إرهابهم ليدخلوافي طاعته كماأرهب بنوهاشم وجمع لهم الحطب لإحراقهم اذهم أبواالبيعةفيماسلف"

مطلب یہ کہ عبد اللہ ابن زہیر کا شعب ابو طالب میں ہاشم کیلے آگ لے جانا ان کو خوف زدہ کرنے کیلے تھا تاکہ وہ ان کی اطاعت کریں ٹھیک اسی طرح جیسے (عمر اور اصحاب ابو بکر نے)بنی ہاشم اور بزرگان قوم کو اس وقت ڈرایا دھمکایا تھا اور ان کو

۳۲۵

جلانے کیلے لکڑی جمع کی تھی جب وہ بیعت پر تیار نہیں ہورہے تھے (تاکہ کسی طرح اجماع کا نام ہوجاے اور آج آپ کے لیے دلیل محکم بنے )یہ روایتیں اور مورخین کا بیان ان کثیر اخبار و بیانات میں سے صرف ایک نمونہ ہے جو آپ کے موثق راویوںنے اپنی معتبر کتابوں میں نقل کیا ہے۔انصاف پسند علماءکے نزدیک یہ واقعہ اس قدر مشہور تھا کہ شعراء اس کو اپنے اشعار میں نظم کرتے تھے۔

ہاں آپ کے بعض علماء احتیاطاًاس خیال سے کہ اگر ہم ان معاملات کو بیان کریںگے تو عقیدہ اجماع کے باطل ہونےپر ایک دلیل ہوجا ےگی اس واقعہ کو نقل کرنے سے پرہیزکرتے تھے ورنہ اصلیت سب کے سامنے ظاہر تھی۔آپ کے مشہورومعروف شعراءمیںسے ایک بزرگ عالم حافظ ابراہیم مصری قصیدہ عمریہ میں خلیفہ کی مدح وتمھید کرتے ہوے کہتےہیں

وقولة لعلي قالها عمر

أكرم بسامعها أعظم بملقيها

حرقت دارك لا أبقي عليك بها

إن لم تبايع وبنت المصطفى فيها

ما كان غير أبي حفص يفوه بها

أمام فارس عدنان وحاميها

مطلب یہ کہ سو ابوحفص(کنیت عمر)کے شہسوار قبیلہ عدنان،علی اور ان کے حامیوں سے کوئی اور یہ نہیں کہ سکتا تھا کہ اگر بیعت نہ کروگے تو تمہارا گھر پُھونک دوںگا اور اُس میں سے کسی کو زندہ نہ چھورں گا چاہے یہاں رسول کی بیٹی ہی ہو۔

حافظ: یہ روایتیں بتاتی ہیںکہ ڈرانے دھمکانے اور مخالفین خلافت کا مجمع منتشر کرنے کےلئےآگ لائے تھے حلانکہ شیعوں نے یہ گھڑا ہے کہ گھر میں آگ لگادی اور دروازےاور دیوار کے درمیاں محسن کا ششماہہ حمل ساقط ہوگیا۔

جناب فاطمہ کے اسقاط حمل کی روایتیں

خیرطلب: میں نے عرض کیا تھا کہ تنگی وقت کی وجہ سے اختصار کی کوشش کررہاہوں اوراسی وجہ سے میں نے مفصّل روایتیں نقل کرنے سے گریز کیا ورنہ اس بارے میں بھی بہت ہے نمونے کے طور پر اور یہ ثابت کرنے کیلے کہ ہم موّحد اورروز جزا پر ایمان رکھنے والے شیعہ دروغ اورجعلسازی سے کام نہیں لیتے اور نہ کسی سے ذاتی پر خاش رکھتےے ہیں۔بہتر ہوگا کہ آپ مقبول فریقین(شیعہ و سنی )مشہور عالم فاضل موّرخ ابوالحسن علی ابن حسین سعودی صاحب مروج الذہب متوفی سنہ346ھ کی تالیف کتاب اثبات الوصیہ کی طرف رجوع فرمائیے، جس میں اس روز کے مفصل واقعات درج کئے ہیں یہاں تک کہ کہتے ہیں۔

"اللّه عليه وآله فوجهواالى منزله فهجمواعليه ،وأحرقوابابه،واستخرجوه

۳۲۶

منه كرها،وضغطواسيّدةالنساءبالبابحتىاسقطت محسنا"

پس علی علیہ السلام پر ہجوم کر لیا ان کا دروازہ جلا ڈالا، ان کو زبردستی گھر سے باہر نکالا اور سیدہ زنان جناب فاطمہ(ع) کو دروازے اور دیوار کے درمیان اس طرح سے دبایا کہ محسن کا حمل ساقط ہوگیا۔

اس سے آپ کو پتہ چل جائے گا کہ یہ شیعوں کی گھڑی ہوئی باتین نہیں ہیں بلکہ جو کچھ ہوا ہے وہ تاریخ کے اندر محفوظ ہے۔ تاریخ ہرگز گم نہ ہوگی، اگر بعض جانب داری سے کام لیں گے اور اس کو تحریر کرنے سے پرہیز کریں گے تو دوسرے انصاف پسند حضرات بھی ہیں جو درج کر کے رہیں گے۔

اسقاط حمل کا سانحہ تو تاریخ کے اندر اظہر من الشمس ہے۔ یہاں تک کہ بعض علماء نے اپنے خلفاء کی محبت میں پردہ پوشی اور سکوت سے کام لینے کی کوشش کی ہے۔ لیکن پھر بھی کبھی کبھی یہ حقیقت بے اختیار ان کی زبان قلم پر آگئی ہے اور ہمارے دعوے کے ثبوت میں ایک سچا گواہ بن گئی ہے۔

ملاحظہ فرمائیے شرح نہج البلاغہ مطبوعہ مصر جلد سیم ص351 تاکہ مطلب آپ کے سامنے واضح ہوجائے، ابن ابی الحدید نے لکھا ہے کہ جب میں نے اپنے استاد ابو جعفر نقیب شیخ معتزلہ کےسامنے یہ روایت نقل کی کہ جس وقت سول خدا(ص) کو یہ اطلاع دی گئی کہ ہبار ابن اسود نے آپ کی دختر زینب کی عماری پر نیزے سے حملہ کیا جس کے خوف سے زینب کا حمل ساقط ہوگیا (1) تو حضرت نے اس کا خون مباح فرمادیا تو ابوجعفر نے کہا :

"لوكان رسول اللّه حيّالأباحدممن روّع فاطمةحتّى ألقت ذابطنها."

یعنی اگر رسول اللہ (ص) زندہ ہوتے تو یقینا اس شخص کا خون بھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔ رسول اللہ(ص) کی ربیبہ زینب اپنے خالہ زاد بھائی ابوالعاص بن ربیع بن عبدالعز کو بیاہی ہوئی تھیں جنگ بدر میں کفار کے بہت سے قیدیوں کے ساتھ ابوالعاص بھی اسیر ہوا۔ طے یہ پایا کہ مشرکین فدیہ دے دے کر اپنے کو رہا کرائیں۔ ابوالعاص نے زینت کے پاس کہلا بھیجا کہ میرے لیے فدیہ بھیج دو۔ ان بی بی نے کچھ مال مہیا کیا اور اس کے ساتھ ایک مروارید کا گلو بند جو عقیق یمنی اور یاقوت رمانی سے موصع تھا اور جناب خدیجہ سے ان کو ملا تھا۔ پیغمبر(ص) کی خدمت میں بھیجا۔ رسول اللہ(ص) اس کو دیکھ کر غمگین ہوگئے تو امت نے آنحضرت(ص) کے لحاظ سے فدیہ چھوڑ دیا اور ابوالعاص کو آزاد کردیا۔ پیغمبر(ص) نے ابوالعاص سے فرمایا کہ زینب چونکہ تجھ پر حرام ہے لہذا ان کو مدینے بھیج دے۔ اس نے منظور کیا آں حضرت(ص) نے زینب کو لانے کے لیے اس کے ہمراہ مرد پیر حضرت زید بن حارث کو روانہ فرمایا۔ جب مشرکین کو معلوم ہوا کہ زینب کی روانگی ہوگئی تو ابوسفیان کےساتھ ایک گروہ نے تعاقب کیا اور ذی طوی میں ان تک پہنچ گئے ہبار ابن اسود نے زینب کی عماری میں نیزہ مارا اور نیزے کی انی ان کی پشت میں لگی جس سے وہ گھبرا گئیں اور دہشت کی وجہ سے حمل ساقط ہوگیا جس وقت زینب مدینے پہنچیں اور رسول اللہ(ص) سے واقعہ بیان کیا تو آں حضرت(ص) کو بہت صدمہ ہوا اور ہبار کا خون حلال فرما دیا نیز حکم دیا کہ اس کے ہاتھ پائوں کاٹ کے اس کو قتل کیا جائے۔

۳۲۷

حلال کردیتے جس نے فاطمہ(ع) کو خوف زدہ کیا یہاں تک کہ ان کا حمل ( محسن) ساقط ہوگیا۔

نیز صلاح الدین خلیل بن ابیک الصعدی نے وافی الوفیات ضمن حرف الف میں ابراہیم بن سیار بن باقی بصری معروف بہ نظام معتزلی کے کلمات عقائد نقل کئے ہیں، یہاں تک کہ کہتے ہیں کہ نظام نے کہا ہے۔

"إنّ عمرضرب بطن فاطمةعليهاالسّلام يومال بيعةحتّى ألقت المحسن من بطنها."

یعنی عمر نے بیعت کے روز حضرت فاطمہ(ع) کے بطن پر ایسی ضرب لگائی کہ محسن ان کے شکم سے ساقط ہوگئے۔

وافی الوفیات کی یہ قلمی جلد حاجی حسین آقا ملک کے کتب خانہ ملی تہران میں موجود ہے۔ لہذا آپ حضرات اپنے بزرگوں کی پیروی میں بلا وجہ شیعہ قوم کو بدنام نہ کیجئے اور ناواقف عوام کے سامنے ہم کو قصور وار مشہور نہ کیجئے جس

سے ان کو دھوکا ہو کہ واقعی یہ روایتیں شیعون نے وضع کی ہیں۔ اور پھر آپ ان میں غلط فہمی پھیلائیں اور کہیں کہ ہمارے خلفاء نے علی(ع) و فاطمہ(ع) کو کوئی ایذا نہیں پہنچائی بلکہ یہ خود ان کی خلافت پر راضی تھے۔ آتش زنی، جبرو تشدد ، بیعت کے لیے علی(ع) و بنی ہاشم کی توہین و تذلیل اور اسقاط کے واقعات نیز دوسرے مظالم آپ کے منصف مزاج علماء کی معتبر کتابوں میں مندرج ہیں۔ اگر آپ کو کوئی اعتراض کرنا ہے تو بلاذری، طبری، ابن خزابہ، ابن عبدربہ، جوہری، مسعودی، نظام، ابن ابی الحدید ، ابن قتیبہ، ابن شخبہ اور حافظ ابراہیم وغیرہ پر کیجئے کہ انہوں نے کیوں اپنی کتابون میں لکھا اور کیوں اپنے اشعار میں نظم کیا۔ ہم تو جو کچھ کہتے ہیں مضبوط اور مسلم سند کے ساتھ کہتے ہیں۔ جذبات اور جاہلانہ تعصب سے روایتیں نہیں گھڑتے۔

حافظ : آخر اس قسم کی روایتیں نقل کرنے سے نتیجہ کیا ہے؟ سوا باہمی نفاق و عداوت اور اختلاف پیدا ہونے کے قطعا ان سے کوئی فائدہ نہیں نکلتا۔

نصرت حق اور اثبات مظلومیت ضروری ہے

خیر طلب : اولا بہتر تویہ ہے کہ اپنے علماء مورخین پر یہ اعتراض کیجئے کہ انہوں نے لکھا کیوں؟ ورنہ حق چھپا نہیں رہتا۔" فَلِلَّهِ الْحُجَّةُالْبالِغَةُ،" اور تاریخ محو نہیں ہوتی۔ آخر کار ہر قوم و ملت میں کچھ پاک نفس، انصاف پسند اور بے لوث افراد پیدا ہوتے ہیں جو حقائق پیش کرتے ہیں۔ جیسے آپ کے منصف مزاج علماء کہ انہوں نے اپنی کتابوں میں درج کر کے حقیقتوں کو ظاہر کردیا۔

دوسرے آپ کا یہ فرمانا کہ تم کیوں کہتے ہو اور کیوں لکھتے ہو؟ تو بدیہی چیز ہے کہ ہمارا یہ کہنا اور لکھنا آپ کے ان کج فہم مطلب پرست اور افترا پرداز مقررین و مصنفین کے حملوں اور تہمتوں کے جواب میں دفاعی حیثیت رکھتا ہے جو مسلمانوں کے اندر تفرقہ ڈالنے کے لیے ہمارے ناواقف بھائیوں کو بہکاتے ہیں، مومن و موحد شیعہ

۳۲۸

جماعت کو کافر و مشرک اور ملحد مشہور کرتے ہیں اور اس قسم کے حالات اور تاریخی واقعات کو شیعون کی من گھڑت بتا کے سادہ طبیعتوں کو غلط الزامات کے ذریعہ مکدر بناتے ہیں۔

ہم مجبور ہیں کہ اپنے مظلومانہ حق سے دفاع کریں اور اطراف عالم میں پھیلے ہوئے اپنے روشن دماغ مسلمان بھائیوں پر واضح کریں کہ شیعیان اہل بیت رسالت(ص) یعنی علی(ع) اور اولاد علی(ع) کے پیرو " لاإله إلّااللّه ،محمّدرسولاللّه " کے کہنے والے ہیں اور علی علیہ السلام کے بارے میں جو کچھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے اس کے علاوہ کچھ اور نہیں کہتے چنانچہ ہم نے گزشتہ شبوں میں عقلی و نقلی دلائل و براہین کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ ہم علی(ع) کو خدا کا بندہ صالح رسول اللہ(ص) کا وصی و خلیفہ منصوص اور بھائی سمجھتے ہیں، اور ہر اس عمل کے مخالف ہیں جو غیر خدا کے لیے ہو۔

آپ فرماتے ہیں کہ تم کیوں کہتے ہو؟ حقائق بیان کرنے سے کیا نتیجہ ہے؟ تو ہم بھی آپ سے کہتے ہیں کہ آپ نہ کہئے تاکہ ہم بھی نہ کہیں، آپ نہ لکھئے تاکہ ہم بھی نہ لکھیں، حق اور واجبی حقوق کی حمایت فرض ہے۔ ہم خود نہیں کہتے ہیں آپ ہم کو کہنے پر مجبور کرتے ہیں، اب اسی رات میں اگر آپ یہ نہ فرماتے کہ یہ شیعہ عوام کے عقائد ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں، تو میں پردہ اٹھانے پر مجبور نہ ہوتا اور حضرات حاضرین جلسہ کو یہ نہ بتاتا کہ جیسا آپ نے سنا ہے، یہ شیعہ عوام کے عقائد نہیں ہیں بلکہ حق گو علمائے اہلسنت والجماعت کے اعتقادات ہیں۔ چنانچہ ان میں سے نمونے کے طور پر کچھ عرض بھی کرنا پڑا۔ ہم شیعہ لوگ خاص موحد ہیں۔ اور کتاب وسنت اور عقل و اجماع کی روشنی میں صرف صحیح عقائد کے حامل ہیں۔

حافظ : آپ کی ان باتوں پر حیرت اور تعجب ہے، اس لیے کہ علمائے شیعہ کی خاص کتابوں میں ایسی روایتیں موجود ہیں جو کتاب وسنت کے خلاف ہیں اور پورے پورے شیعوں کی جسارت اور گناہوں میں ان کی بے پروائی کا باعث ہوتی ہیں۔ اس قسم کے روایات قطعا موضوع ہیں۔ اور ان سے امت کے اخلاق بگڑنے کے علاوہ اور کوئی نتیجہ نہیں۔ آپ لوگ بھی ان سے منع نہیں کرتے۔

خیر طلب : سخت تعجب ہے کہ جناب عالی مطالب کو بے ربط بیان فرماتے ہیں۔

بہتر ہے، جو روایتیں آپ کی نظر میں غلط و موضوع اور موجب فساد ہیں ان کو بیان فرمائیے تاکہ مطلب واضح ہو۔

۳۲۹

حدیث حب علی حسنہ و من بکی علی الحسین

میں اشکال اور اس کا جواب

حافظ : آخوند ملا محمد باقر مجلسی اصفہانی جو آپ کے بزرگ علماء میں سے بحارالانوار کی اکثر جلدوں میں ایسی روایتیں درج کرتے ہیں جن میں سے فی الحال ایک تعجب خیز حدیث میرے پیش نظر ہے جس کو رسول خدا(ص) سے نقل کیا ہے کہ فرمایا " حبّ علىّ حسنةلاتضرّمعهاسيّئة" یعنی علی علیہ السلام کی محبت ایسی نیکی ہے کہ اس کے ساتھ کوئی گناہ (صغیرہ) نقصان نہیں پہنچاتا، نیز نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت(ص) نے فرمایا " من بكى على الحسين وجبتلهالجنة" ( یعنی جو شخص حسین علیہ السلام پر روئے بہشت اس کے لیے واجب ہے)۔ اور اس طرح کے بہت سے روایات میں نے دیکھے ہیں جن سے امت میں فساد پیدا ہوتا ہے اور انہی کی وجہ سے شیعوں میں جسارت اور گناہوں کی طرف سے بے پروائی پیدا ہوتی ہے کہ چاہے جیسا گناہ کریں ان کو یہ امید ہے کہ چونکہ علی(ع) کو دوست رکھتے ہیں ان معاصی سے ہرگز کوئی نقصان نہ پہنچے گا یا اس خیال سے ہر گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کے لیے ایک قطرہ آنسو ہمارے گناہوں کو دھو دے گا اور ہم جنت میں چلے جائیں گے جب لوگوں میں یہ بے قاعدہ امید کافی بڑھ جاتی ہے تو رفتہ رفتہ بدکاری اور بد اخلاقی پھیل جاتی ہے۔ چنانچہ ہم شیعوں کے اکثر ایسے لوگوں کو جانتے ہیں جو سال بھر گناہوں میں غرق رہنے کے بعد ایام عاشورہ میں عزاداری میں مشغول ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ دس دن ختم ہونے کے بعد عزاداری کے اثر سے ہم اس طرح گناہوں سے باہر آجاتے ہیں جیسے پیدائش کے روز تھے۔

بلاد اہل تسنن میں گناہوں کی گرم بازاری

خیر طلب : اول تو آپ حضرات نے بہت بڑا دھوکا کھایا ہے کہ بعض شیعوں میں بدکاری یا لا ابالی پن کا رواج پایا تو اس قسم کی روایتوں پر عقیدہ رکھنے کا نتیجہ سمجھ لیا۔ اگر بعض شیعہ عوام کا ارتکاب گناہ اس طرح کی حدیثوں سے وابستہ ہے تو فرمائیے برادران اہل سنت جن کے اعتقادات آپ جیسے حضرات کی رہنمائی کے باعث ان احادیث کے برخلاف ہیں کس لیے گناہوں اور بدکاریوں میں غرق بلکہ علی الاعلان معاصی میں مبتلا رہتے ہیں؟ بلاد اہل تسنن اور ان کے خاص خاص شہروں جیسے مصر، اسکندریہ، شام، بیت المقدس، بیروت، عمان، حلب، بغداد، بصرہ عشار اور بہت سے چھوٹے چھوٹے

۳۳۰

قصبوں میں جن کو میں نے دیکھا ہے اور جہاں اکثریت بلکہ بعض بعض شہروں اور قصبوں میں پوری پوری آبادی، اہل سنت کی ہے۔ تمام چھوٹے بڑے عمومی قہوہ خانوں میں مختلف اقسام کا جو ارائج ہے جو ان کی عادت اور طبیعت ثانیہ بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے گناہ اور بد اعمالیاں جس قدر بعض شیعہ عوام میں پائی جاتی ہیں۔ اس سے کہیں زیادہ ان لوگوں کے اندر رائج ہیں۔ تمام پارکوں اور راستوں میں قمار بازی، شراب نوشی رقص و سرود، باقاعدہ حرامکاری کے اڈے اور دوسرے فحش حرکات جن کے ذکر سے بھی شرم آتی ہے ہر جگہ موجود ملیں گے۔ اگر ہم بھی آپ کی طرح نکتہ چینی اور حیلہ سازی کرتے اور کہدیتے کہ برادران اہل تسنن میں بدکاری، زنا، لواطہ، شراب اور حوئے وغیرہ کا اس قدر رواج اور احکام دین میں ان کی اس قدر جسارت اور لا ابالی پن ان کے اماموں اور فقیہوں کے بے جا فتوی کی وجہ سے ہے۔ مثلا کتے کی طہارت کا حکم اس کا گوشت حلال جاننا، منی و سکرات اور حرام سے ؟؟؟؟؟ ہونے والے کا پسینہ پاک سمجھنا، سفر میں اطفال کےساتھ مقاربت اور ریشم یا کوئی اور چیز آلہ تناسل پر لپیٹ کے محرم عورتوں سے مباشرت کا جواز اور اسی قسم کے دیگر مسائل نے عوام کو گناہوں میں جری اور بے پروا بنا دیا ہے۔

لیکن شیعہ فقہاء ان تمام باتوں کو حرام سمجھتے ہیں اور ان کے مرتکب سے بیزاری اختیار کرتے ہیں۔

حافظ : یہ جھوٹے الزامات محض افسانہ ہیں۔ آپ کے پاس اپنی گفتگو پر دلیل کیا ہے؟

اہل تسنن میں سے زمخشری کا اعتراف اور تنقید

خیر طلب : آپ خود ہی جانتے ہیں لیکن بیچارگی میں عمدا مدعی سست گواہ چست کا مصداق بنتے ہیں۔ ورنہ آپ کی فقہی کتابوں میں آپ کے فقہاء کے یہ فتاوی موجود ہیں۔ وقت میں اتنی گنجائش نہیں کہ سب کو نقل کرسکوں لیکن یہ اتنی واضح اور بدیہی چیز ہے کہ خود آپ کے اکابر علماء نے بھی اس کی تنقید کی ہے۔ نمونے کے لیے آخر تفسیر کشاف جلد سیم ص301 میں جار اللہ زمخشری کا یہ قول آپ کے ملاحظے کے قابل ہے۔

إذا سألوا عن مذهبي لم أبح به*وأكتمه كتمانه لي أسلم

فإن حنفيا قلت قالوا بأنني * أبيح الطلا وهو الشراب المحرم

وإن مالكيا قلت قالوا بأنني * أبيح لهم أكل الكلاب وهم هم

وإن شافعيا قلت قالوا بأنني* أبيح نكاح البنت والبنت محرم

وإن حنبليا قلت قالوا بأنني * ثقيل حلولي بغيض مجسم

وإن قلت من أهل الحديث وحزبه* يقولون تيس ليس يدري ويفهم

۳۳۱

تعجبت من هذا الزمان وأهله*** فما أحد من ألسن الناس يسلم

وأخرني دهري وقدم معشرا** على أنهم لا يعلمون وأعلم

ومذ أفلح الجهال أيقنت أنني * أنا الميم والأيام أفلح أعلم"

یعنی اگر مجھ سے میرا مذہب دریافت کریں تو میں اس کو ظاہر نہیں کروں گا۔ کیوں کہ اس کے پوشیدہ رکھنے میں سلامتی ہے۔ اس لیے کہ اگر میں کہوں حنفی ہوں تو کہتے ہیں کہ تم حرام شراب کو حلال جانتے ہو۔ اگر کہوں مالکی ہوں تو کہتے ہیں کہ تم کتے کا گوشت حلال سمجھتے ہو۔ اگر کہوں شافعی ہوں تو کہتے ہیں کہ تمہارے یہاں اپنی لڑکی سے نکاح جائز ہے حالانکہ لڑکی حرام ہے۔ اگر کہوں حنبلی ہوں تو کہتے ہیں کہ تم حلولی اور مجسمہ مذہب کے ہو۔ اگر کہوں اہل حدیث ہوں تو کہتے ہیں کہ یہ بکرا ہے کچھ جانتا بوجھتا نہیں ہے۔ ( مطلب یہ ہے کہ یہ فقہائے مذاہب اربعہ کے فتاوی ہیں بلکہ مشتے نمونہ از خروارے ہیں) اس زمانے اور زمانے والوں سے مجھ کو تعجب ہے کہ کوئی شخص لوگوں کی زبان سے محفوظ نہیں ہے۔ میں کیا کروں کہ زمانے نے مجھ کو پیچھے ڈال دیا ہے کیونکہ میں جانتا ہوں اور اس گروہ کو آگے بڑھا دیا ہے جو نافہم ہے جب میں نے دیکھا کہ جاہلوں نے ترقی کی ہے تو میں نے یقین کر لیا کہ مجھ کو شمع کی طرح جلتا ہے اور زمانے کے لیے کامیابی ہے۔

ایک ایسا عالم جلیل اور مفسر نبیل کہہ رہا ہے کہ مجھ کو مذاہب اربعہ کے فاسد فتاوی اور غلط عقائد کی بناء پر شرم آتی ہے کہ اپنے کو انہیں میں سے ظاہر کروں۔ اس کے بعد بھی آپ حضرات امید کرتے ہیں کہ ہم ایسے عجیب و غریب مذاہب کی پیروی اختیار کریں گے۔

اچھا اب اس کو چھوڑ کر اصل مطلب پر آتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ جیساآپ کہہ رہے ہیں۔ اس کے برخلاف اس قسم کے روایات دو وجہوں سے شیعوں کے گڑھے ہوئے نہیں ہوسکتے۔ اول یہ کہ میں بار بار عرض کرچکا ہوں کہ شیعوں کو حدیثیں وضع کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ دوم یہ کہ خود آپ کے بڑے بڑے علماء کی اکثر معتبر کتابوں میں اس طرح کی روایتیں کثرت سے مروی ہیں۔ صرف علامہ مجلسی علیہ الرحمہ ہی کی خصوصیت نہیں ہے بلکہ شیعوں نے بالعموم نقل کیا ہے، چونکہ میں وعدے کے خلاف نہیں کرنا چاہتا۔ لہذا علمائے شیعہ کے اقوال چھوڑتا ہوں اور علمائے اہل سنت کے اقوال پیش کرتا ہوں۔

کتب اہل تسنن سے حدیث حب علی حسنہ کے اسناد اور اس کے معنی

یہی روایت جو آپ نے علامہ مجلسی علیہ الرحمہ کی بحار الانوار سے نقل کی ہے۔ امام احمد بن حنبل نے مسند میں خطیب

۳۳۲

خوارزمی نے مناقب کے آخر فصل ششم میں، سلیمان قندوزی حنفی نے ینابیع المودۃ باب42 میں نیز ضمن باب 56 ص180 میں کنز الدقائق شیخ عبدالرئوف المنادی المصری ص239 سے اور وہ مناقب السبعین سے حدیث نمبر49 اور وہ فردوس دیلمی سے بروایت معاذ بن جبل، میر سید علی ہمدانی فقیہ شافعی نے مودۃ القربی مودت ششم میں، امام الحرم، شافعی محب الدین ابوجعفر احمد بن عبداللہ طبری نے ان ستر حدیثوں میں سے جو اہل بیت طہارت(ع) کے فضائل میں نقل کی ہیں حدیث نمبر59 ذخائز العقبی میں محمد طن طلحہ شافعی نے مطالب السئول میں محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب میں اور آپ کے دوسرے علماء نے انس بن مالک اور معاذ ابن جبل سے اور انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی ہے کہ فرمایا:

"حب على حسنة لايضرمعهاسيئةوبغض على سيئةلاتنفع معه احسنة"

یعنی علی علیہ السلام کی محبت وہ نیکی اور کار ثواب ہے کہ اس کے ساتھ کوئی گناہ نقصان نہیں پہنچاتا اور علی(ع) کی دشمنی وہ گناہ ہے جس کی موجودگی میں کوئی عمل خیر فائدہ نہیں پہنچاتا۔

نیز امام الحرم احمد بن عبداللہ طبری شافعی نے ذخائر العقبی میں، ابن حجر نے ص215 میں ملا سے نقل کرتے ہوئے سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ ص247 ضمن باب56 میں حدیث ص33 مناقب السبعین سے اور اس میں فردوس دیلمی سے اور ابن عساکر نے اپنی تاریخ جلد چہارم ص159 میں نسائی سے اور انہوں نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا :

"حب علي ابن ابی طالب يأكل الذنوب كماتأكلالنارالحطب"

یعنی علی (ع) کی محبت گناہوں کو اس طرح کھالیتی ہے جس طرح آگ ایندھن کو کھا جاتی ہے۔

تیسرے جو لوگ روایات میں سوجھ بوجھ رکھتے ہیں وہ پوری طرح غور و فکر کرتے ہیں تاکہ انکشاف حقیقت ہو جائے اور گتھی سلجھ جائے، نہ یہ کہ جہاں کوئی حدیث سمجھ میں نہ آئی یا اس کی تہ تک نہ پہنچ سکے بس فورا طعن و تشنیع شروع کردی اور ؟؟؟ اس کو موضوع کہتے۔ مخالفانہ پروپیگنڈا کرنا آسان ہے لیکن خدا کی اطاعت بھی تو ضروری ہے جو قرآن مجید سورہ نمبر21 ( انبیاء) آیت نمبر7 میں ہم کو ہدایت دے رہا ہے کہ" فَسْئَلُواأَهْلَ الذِّكْرِإِنْكُنْتُمْ لاتَعْلَمُونَ " ( یعنی سوال کرو اہل ذکر سے ( مراد قرآن ہے یا رسول اللہ(ص) ) اگر تم کو معلوم نہیں ہے) چنانچہ اس متفق علیہ فریقین حدیث کے معنی جو آپ کی اور اکثر سطحی نظر رکھنے والے اشخاص کی نگاہوں میں معما معلوم ہوتی ہے۔ اتفاق سے بہت سہل الحصول ہیں، اس لیے کہ جب ہم قرآن مجید کی طرف رجوع کرتے ہیں تو گناہوں کی تقسیم دو حصوں میں نظر آتی ہے۔ کبیرہ اور صغیرہ اور بعض آیات میں کبیرہ کے مقابل صغیرہ کو سیئہ سے تعبیر کیا گیا ہے جیسا کہ سورہ نمبر4(نساء) آیت نمبر35 میں صریح ارشاد ہے۔

"إِنْ تَجْتَنِبُواكَبائِرَماتُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْعَنْكُمْ سَيِّئاتِكُم ْوَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلًاكَرِيماً."

(یعنی اگر تم لوگ منہیات میں سے بڑے گناہوں سے پرہیز کرو تو ہم تمہارے دوسرے گناہوں سے ( جو چھوٹے ہیں) درگزر کریں گے اور تم کو بلند منزل تک پہنچائیں گے)

پس اس آیت کے حکم سے اگر بندہ گناہان کبیرہ کا ارتکاب نہ کرے تو اس کے

۳۳۳

سیئات اور گناہان صغیرہ سے چشم پوشی کی جاتی ہے اور وہ بخش دیا جاتا ہے۔

اور اس حدیث میں بھی یہی ارشاد ہے کہ علی(ع) کی محبت ایسا نیک عمل ہے کہ کوئی سئیہ اور گناہ صغیرہ اس کے سامنے ضرر نہیں پہنچاتا۔

حافظ : مگر کیا خداوند عالم صریحا ارشاد نہیں فرماتا ہے کہ " إِنَّ اللَّهَ َغْفِرُالذُّنُوبَ جَمِيعاً" ( یعنی حقیقتا خدا تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے) کوئی گنہگار بندہ چاہے اس کا گناہ کبیرہ ہو یا صغیرہ جس وقت نادم ہو کہ خدا کی طرف رجوع کرتا ہے تو قطعا بخش دیا جاتا ہے۔ لہذا کبیرہ اور صغیرہ کے درمیان کوئی فرق نہیں۔

انکشاف حقیقت

خیر طلب: گویا آپ نے آیہ مبارکہ پر کوئی دھیان ہی نہیں دیا ورنہ اس ایراد کو ہمت نہ کرتے اول تو کبیرہ اور صغیرہ کے درمیان میں نے فرق نہیں قائم کیا ہے بلکہ پروردگار عالم نے فرمایا ہے۔ دوسرے آپ کی طرح مجھ کو بھی اعتراف ہے کہ جو گنہگار مومن بندہ خداوند کریم کی عفاریت کا معتقد ہوتا ہے وہ جس وقت نادم ہو کہ اس کی طرف لو لگائے تو خدائے غفار اس کو بخش دیتا ہے لیکن اگر دینا سے توبہ کے چلائے تو ؟؟؟؟ کے بعد کی دشوار منزلوں میں حساب کے موقع پر اس کو بخش دیا جاتا ہے اور اگر اس کے اعمال بد اور گناہان کبیرہ زیادہ ثابت ہوئے تو اس کو جہنم میں لے جائیں گے اور اس کی نافرمانی کے مطابق عذاب کرنے کے بعد نجات دیں گے۔

لیکن سئیات اور گناہان صغیرہ میں اگر بغیر توبہ کے بھی دینا سے چلا جائے اور علی علیہ السلام کا چاہنے والا ہو تو خدا اس کو معاف فرما دیتا ہے اور موت کے بعد کی منزلوں میں اس پر سختیاں نہیں کی جاتیں۔ وہ جہنم میں نہیں بھیجا جاتا بلکہ بہشت میں داخل کیا جاتا ہے جیسا کہ ارشاد ہے" وَنُدْخِلْ كُمْ مُدْخَلًا كَرِيماً " میری سمجھ میں نہیں آیا کہ آپ نے اس حدیث کو کس رخ سے جسارت اور بے پروائی کا سبب سمجھ لیا۔ آیا حدیث شریف میں سئیات یا گناہان کبیرہ وصغیرہ کا حکم دیا گیا ہے جس سے آپ نے اس کو شیعوں کی جرات اور لا ابالی پن کا باعث قرار دیا ظاہر ہے کہ جواب نفی ہوگا۔ اب اسکو سوا بد گمانی اور عصیبت کے اور کیا کہا جائے۔ حالانکہ یہ حدیث انسان کو صرف مایوسی سے روکتی ہے۔ حد سے زیادہ امیدوار نہیں بناتی۔ اس لیے کہ لوگوں کو یقین ہے کہ ہم ہوائے نفس میں گرفتار ہیں اور جب وہ گناہان صغیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں تو شیاطین جن و انس ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالتے ہیں کہ اب وہ رحمت الہی کے مستحق نہیں رہے۔ چونکہ اکثر جوان وجاہل اور نادان ہوتے ہیں لہذا اس فریب میں آکر امید ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب ہم بخشے ہی نہیں

۳۳۴

جائیں گے تو پھر اپنی نفسانی خواہشوں کا خون کیوں کریں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ رفتہ رفتہ ان میں بغاوت اور سرکشی پیدا ہوتی ہے اور صغائر سے آگے بڑھ کے کبائر میں غرق ہوجاتے ہیں لیکن اس طرح کی حدیثیں دلوں میں امید کا دروازہ کھولتی ہیں اور سمجھاتی ہے کہ انسان چونکہ جائز لخطا ہے لہذا اگر اس سے کچھ گناہ سرزد ہوگئے ہیں اور حقیقتا وہ علی علیہ السلام کا سچا دوست ہے تو اس کو کوئی ضرر نہیں پہنچے گا۔

چونکہ خدائے تعالے نے آیہ شریفہ میں بخشش کا وعدہ فرمایا ہے اور مغفرت کے لیے کچھ وسائل قرار دیئے ہیں لہذا علی علیہ السلام کی محبت بھی ان میں سے ایک وسیلہ ہے جو گناہوں سے معافی دلاتا ہے۔ ورنہ شیعہ جب تشیع کے معنی سمجھ لے گا تو ہرگز لا ابالی نہ ہوگا۔ وہ دیکھے گا کہ شیعہ علی(ع) یعنی علی(ع) کا پیرو وہ شخص ہے جو رفتار و گفتار میں حضرت کے قدم بہ قدم چلے پھر اسی کی نجات بھی یقینی ہے کیوں کہ آپ کے علماء کی تمام تفسیروں اور معتبر کتابوں میں مختلف الفاظ و عبارت کے ساتھ وارد ہے جس کے ایک جزو کو ہم گزشتہ راتوں میں پیش کرچکے ہیں کہ پیغمبر(ص) نے فرمایا ہے" يَاعَلِيُ أَنْتَ وَشِيعَتُكَ هُمُ الفَائِزُون فِيالْجَنَّةِ" ( یعنی اے علی(ع) تم اور تمہارے شیعہ جنت میں رستگار ہیں۔ ملاحظہ ہوں اسی کتاب کے صفحات) پس اگر آپ اعتراض کرنا چاہیں تو اس طرح کے اکثر احادیث پر بھی اعتراض کرسکتے ہیں کہ جب شیعہ یہ سمجھ لے گا کہ رسول اللہ(ص) نے اس کو رستگار اور جنتی فرمایا ہے تو اس میں جرائت اور جسارت پیدا ہوجائے گا اور ہر طرح کا گناہ کرنے لگے گا حالانکہ ایسا نہیں ہے۔

معرفت خدا اور رسول(ص) کےبعد ایک مکلف شیعہ کا پہلا فرض یہ ہے کہ تشیع کے معنی سمجھے جب یہ سمجھ لے گا کہ شیعہ سے مراد علی(ع) اور آل علی(ع) کا پیرو ہے تو یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ علی(ع) کا پیرو وہ شخص ہے جو علم و عمل قول و فعل اور کردار و گفتار میں حضرت کا نمونہ ہو اور حضرت کے نقش قدم پر چلے۔ یعنی جو کچھ علی(ع) نے کیا ہے یہ بھی کرے اور جو کچھ علی علیہ السلام نے نہیں کیا یہ بھی نہ کرے۔ پس شیعہ علی(ع) جس وقت یہ جانے گا کہ علی علیہ السلام کسی کبیرہ یا صغیرہ گناہ کے مرتکب نہیں ہوئے بلکہ کوئی مکروہ عمل بھی ان سے صادر نہیں ہوا تو وہ پوری کوشش کرے گا کہ اپنے مولا کے مانند صفات حمیدہ سے متصف ہو اور اخلاق و عادات رذیلہ سے علیحدگی اختیار کرے، چونکہ یہ عصمت کی قوت سے جو نبوت و امامت کی ایک مخصوص منزل ہے، محروم ہے اور ہر پہلو سے علی(ع) بن جانا مشکل بلکہ محال ہے لہذا سعی کرے گا کہ کم از کم کبائر کا مرتکب قطعا نہ ہو اور صغائر پر اصرار نہ کرے تاکہ علی علیہ السلام کا محبوب رہے اور اس کا نام شیعوں کے زمرے میں شمار ہو۔ غیر معصوم اور جائز الخطا ہونے کی وجہ سے اگر کوئی سئیہ یا گناہ صغیرہ اس سے صادر بھی ہوجائے تو امیرالمومنین علیہ السلام کی محبت و دوستی کے وسیلے سے معافی اور چشم پوشی کا مستحق قرار پائے گا۔ اگر خدا نخواستہ اس دنیا سے بغیر توبہ کئے اٹھا ہے تو اس محبت کے طفیل صغائر و سئیات کی باز پرس اس سے نہ ہوگی۔

رہے حدیث " من بكى على الحسين وجبت له الجنة" کے معنی تو یہ بہت سادہ اور ہر عالم وجاہل کی سمجھ میں آنے والے ہیں۔ اور انہیں کے ساتھ ایک جواب بھی ہے جو فی الحال اکثر حضرات حاضرین جلسہ کے حسب دلخواہ

۳۳۵

ہوگا کیونکہ ان کی طرف سے مکرر جواب میں سادگی کی فرمائش کی جاچکی ہے میں عرض کرتا ہوں کہ اس حدیث شریف کے صاف صاف اور تحت اللفظ معنی یہ ہے کہ جو شخص ( کس) گریہ کرے حسین(ع) پر واجب ہوتی ہے اس کے لیے بہشت جس الٹا مفہوم یہ ہوا کہ اگر ناکس گریہ کرے تو بہشت اس پر واجب نہیں ہوتی بلکہ اس کو اس گریہ سے کوئی فائدہ ہی نہیں۔

حافظ : کس اور ناکس میں کیا فرق ہے کہ گریہ کس کے لیے تو نتیجہ بخش ہو لیکن ناکس کے لیے بے سود ہو۔

کس اور ناکس میں فرق

خیر طلب : اگرچہ کلمہ موصولہ میں کس اور ناکس کا سوال نہیں ہے لیکن فارسی معنی میں کس اور ناکس آتا ہے ( ملحوظ رہے کہ گفتگو فارسی ہی زبان میں ہوئی ہے 12 مترجم عفی عنہا لہذا عرض کرتا ہوں کہ کس اس مومن کو کہتے ہیں جو موحد اور خدا پرست ہو، اصول عقائد کو استدلال یا یقین کے ساتھ مانتا ہو۔ از آدم(ع) تا خاتم (ص) انبیائے کرام کی نبوت کا معتقد ہو اور اپنے کو نبی آخر حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہدایت پر پابند سمجھتا ہو، معاد جسمانی وجود بہشت و دوزخ اور ولایت آل محمد و عترت رسول(ص) پر عقیدہ رکھتے ہوئے حضرت علی(ع) اور ان کے گیارہ فرزند بزرگوار کو بندگان صالح، امام برحق اور رسول خدا(ص) کے مقرر کئے ہوئے نائب جانتا ہو، حضرت کے گیارہویں فرزند یعنی پیغمبر(ص) کے بارہویں خلیفہ کو زندہ و قائم اور عالم کا امام مانتا ہو، کتب سماویہ پر اعتقاد رکھتے ہوئے قرآن مجید کو برحق اور منجانب خدا سمجھتا ہو، اس کے مضامین کا معتقد اور اس کے ہدایات اور اوامر و نواہی پر عمل پیرا ہو۔

اور ناکس اس مسلمان کو کہتے ہیں جو صورت اور نام سے مسلمان اور تمام احکام دین کا قائل ہو لیکن مقام عمل میں صالح نہ ہو یا بالکل تارک ہو یا بعض پر عمل پیرا ہو اور بعض سے منحرف ہو یا بعض کبائر کا مرتکب ہو جیسے قتل، شراب نوشی، زنا، لواطہ سود خوری یا کم فروشی وغیرہ ایسا آدمی چاہے جس قدر گریہ کرے اس کے لیے بے سود ہے اور ترک واجبات جیسے نماز و روزہ حج خمس زکوۃ وغیرہ بدل نہیں ہوسکتا۔ البتہ اگر اعمال زشت سے توبہ کرے ، تلافی مافات کا عہد کرے ، انسانی حقوق کو ادا کرے اور حقداروں کو رضا مند کرے یا وہ اگر مرچکے ہیں تو ان کے وارثوں کو پہنچائے تو اس وقت گریہ اور خاندان رسالت کی محبت اس کے لیے بخشش اور خامیوں کو پورا کرنے کا وسیلہ ہوگی۔

لیکن اگر مثلا نماز نہیں پڑھی ہے یا روزہ نہیں رکھا ہے یا مستطیع ہونے کے بعد حج بیت اللہ نہیں بجالایا ہے یا خمس و زکوۃ عائد ہونے کے بعد اس کو ادا نہیں کیا ہے یا حرامکاریاں کی ہیں یا سود کھایا ہے یا لوگوں کا مال ناجائز طور سے ہضم کیا ہے اور حرام طریقوں سے روزی حاصل کی ہے یا سودا کم دیا ہے یا ظلم و تعدی اور قتل وخونریزی کی ہے اور پھر

۳۳۶

اس خیال سے گریہ کرے کہ اس کےگناہ رونے سےمعاف ہوجائیں گے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔ آل محمد علیہ السلام ایسے لوگوں سے بیزار ہیں اور ان کے لیے گریہ سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ جیسا کہ ہم نے اکثر محافل و مجالس اور مذہبی جلسوں میں اس کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔

ورنہ اگر یہ غلط عقیدہ صحیح ہو کہ آدمی چاہے جو زشت عمل کرے، گناہان کبیرہ اس سے صادر ہوں اور واجبات کو ترک کرے اس کے بعد خیال کرے کہ گریہ یا زیارت آل محمد علیہم السلام سے تلافی مافات ہو کہ نجات حاصل ہوگی تو دشمنان آل محمد کو بھی جنتی ہونا چاہیئے کیونکہ ان میں سے اکثر لوگوں نے اہلبیت(ع) کی مظلومی پر گریہ کیا ہے۔ چنانچہ ارباب مقاتل نے واقعہ کربلا میں لکھا ہے " واللَّه بکت و ابكت كلّ عدوّوصديق " دوست دشمن بھی اس مصیبت عظمی میں روئے۔ فرزند رسول(ص) اور ان کے اعزہ و اصحاب یہاں تک کہ کمسن اور شیر خوار بچوں کو بھی قتل کیا لیکن مصائب اہلبیت(ع)دیکھ کر گریہ بھی کرتے تھے۔ پس آپ قطعا یہ سمجھ لیجئے کہ ایسے ناکس مسلمانوں کو جن کے پاس صورت تو ہے لیکن سیرت نہیں کوئی نفع اور نتیجہ نہیں۔ جب تک مومن نہ ہوں یہ رونا بیکار ہے۔

حافظ : اگر کوئی مسلمان شخص اصول عقائد کا معتقد اور احکام شرعیہ پر عامل ہو تو خود ہی نجات یافتہ ہے گریہ سے اس کو کیا فائدہ ہوگا۔ اور مجالس عزا کی تشکیل سے کیا نتیجہ مد نظر ہے کہ ہر سال ایسی مجلسوں پر زر کثیر صرف کیا جائے تاکہ مومن گریہ کریں؟

گریہ اور مجالس عزا کا اثر اورنتیجہ

خیر طلب: بدیہی چیزہے کہ مسلمان چاہے جتنا نیک عمل اور معیاری ہو معصوم نہ ہوگا۔ آخر انسان ہے اور جائز الخطا ہے لہذا اگر اس سے کچھ لغزش اور خطائیں سرزد ہوئی ہیں اور وہ غافل رہا ہے تو خدائے تعالی جو اپنے بندوں پر انتہائی لطف و مہربانی رکھتا ہے اپنے فضل و کرم سے چند وسائل و اسباب کے ذریعے اس کو بخش دیتا ہے۔ کبھی علی ابن ابی طالب(ع) کی محبت کو وسیلہ قرار دیتا ہے، کبھی حضرت سید الشہداء(ع) اور خاندان رسالت کی مظلومیت پر رونے اور آنحضرت(ص) و اہلبیت طاہرین (ع) کی زیارت کے ذریعے سے رحم و کرم فرماتا ہے اور اس کے آنسوئوں کو آب توبہ قرار دے کر گناہووں کو دھوکہ دیتا ہے۔

اگر مومن و عادل ہے اور کوئی صغیرہ و کبیرہ گناہ اس سے سرزد نہیں ہوا ہے تو علی(ع) و اہلبیت رسالت(ع) کی محبت و مودت اور ان حضرات کے مصائب پر رونا جو اس جلیل القدر خاندان سے مہرو محبت کی علامت ہے۔ اس کی رفعت منزلت کا وسیلہ بنتا ہے۔

اور آپ نے جو یہ فرمایا کہ آل محمد(ع) کی عزاداری میں مجالس کے انعقاد اور کثیر اخراجات سے کیا فائدہ ہے تو محترم حضرات

۳۳۷

چونکہ آپ سے علیحدہ ہیں لہذا ان مجالس کے جو اثرات و نتائج مرتب ہوتے ہیں ان سے بھی بے خبر رہتے ہیں اول تو اپنی عادت اور اس مسلسل غلط پروپیگنڈے کے تحت کہ یہ مجلس بدعت ہیں۔ آپ حضرات ان میں شریک ہی نہیں ہوتے یا اگر کبھی کسی وجہ سے شرکت بھی ہوگئی تو بری نظر سے دیکھنے کے باعث پوری توجہ سے غور نہیں کرتے تاکہ ان کے اثرات نظر آئیں۔ اگر آپ حضرات اس طرح کی مجلسوں میں تشریف لے جائیں اور اںصاف و محبت کی نگاہ سے مطالعہ کریں تو تصدیق کریں گے کہ یہ مجالس آل محمد علیہم السلام کی بہت بڑی درسگاہیں ہیں کیونکہ انہیں حضرات کے نام پر ان کی تشکیل کی جاتی ہے اور اس بزرگ خانوادے کی کشش میں ہر طبقے کے مسلمان افراد یہاں تک کہ غیر مذاہب کے لوگ بھی حاضر ہوتے ہیں جن کے سامنے ذاکرین و واعظین ، متکلمین و محدیثین اور ذی علم مقررین توحید، نبوت، معاد اور فروع دین کے متعلق مذہبی حقائق اور انفرادی و اجتماعی زندگی کے اصول بیان کرتے ہیں۔ ان کو اخلاق رذیلہ اور بد اعمالیوں کے مفاسد اور نقصانات سے آگاہ کرتے ہیں اور دیگر مذاہب کے مقابلے میں مقدس دین اسلام کی حقانیت پر دلیلیں پیش کرتے ہیں جس سے کافی بہتر نتائج برآمد ہوتے ہیں۔

کوئی سال ایسا نہیں گزرتا جب انہیں مجالس اور دینی تبلیغات کی وجہ سے کچھ غیر افراد اسلام قبول نہ کرتے ہوں۔ اور بکثرت گمراہ اشخاص ان تبلیغی بیانات سے متاثر ہوکر اور اپنے گزشتہ اعمال سے توبہ کر کے صحیح راستے پر نہ آجاتے ہوں ہر سال ان اجتماعات اور مجالس عزا میں شرکت کے سبب سے اور آیات و احادیث کے ذریعے وعظ و تبلیغ کے اثر سے بہترے لا ابالی اور بدکردار لوگ توبہ کر کے پرہیزگار اور نیک بخت بن جاتے ہیں۔

یہ ہے رسول خدا صلعم کے ارشاد کا ایک رخ جس کو علمائے فریقین نے نقل کیا ہے کہ " حسين مني وأنامن حسين" حسین(ع) مجھ سے ہیں اور میں حسین(ع) سے ہوں یعنی میرا دین حسین(ع) کے ذریعے زندہ ہوگا۔ جنہوں نے اپنے زمانہ حیات میں ایسی جانبازی دکھائی کہ مطلومیت کی طاقت سے بنی امیہ کے ظلم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ اس لیے کہ وہ دین کی جڑ کو کھودنا چاہتے تھے اور اب ہزار سال سے زیادہ ہوگئے۔ ان بزرگوار کے نام سے خفیہ اور ظاہری طور پر شاندار مجلسیں منعقد ہوتی ہیں جن میں لوگ حاضر ہو کر مبلغین وذاکرین کے ذریعے دینی حقائق سے واقفیت حاصل کرتے ہیں اور صراط مستقیم پر گامزن ہوتے ہیں۔ یہ ہے مجالس عزا کے اثرات و نتائج کا مختصر نمونہ جو آل محمد علیہم السلام کی درسگاہیں کہی جاسکتی ہیں۔

مزید وضاحت کے لیے یہ بھی عرض کردوں کہ حقیقتا علی علیہ السلام کے دوست اور شیعہ حسین ابن علی علیہ السلام کے زائر اور عزادار اور حضرت کے سچے غلام اور چاہنے والے نہ واجبات کو ترک کرتے ہیں نہ گناہان کبیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں کیوںکہ وہ جانتے ہیں اور ان کو بتایا جاتا ہے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام شہید راہ خدا ہیں اور آپ نے شعائر دین کی ترویج کے لیے شربت شہادت نوش فرمایا ہے ، جیسا کہ زیارت وارثہ اور دیگر زیارات میں وارد ہے اور ہم پڑھتے ہیں کہ :

"أشهدأنّك قدأقمت الصّلوةواتيت الزّكاةوامرت بالمعروف ونهيت عن المنكرواطعت الله

۳۳۸

و رسوله حتی اتاک اليقين "

یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے ( اے ابو عبداللہ ) در حقیقت نماز کو قائم کیا، زکوۃ ادا کی، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر فرمایا اور زندگی کی آخری سانسوں تک خدا و رسول کی اطاعت کی۔

فریقین کی معتبر روایتوں میں ام المومنین عائشہ، جابر ابن عبداللہ اور انس وغیرہ سے منقول ہے کہ پیغمبر(ص) نے فرمایا :" مَنْ زَارَالْحُسَيْنَ ععَارِفاًبِحَقِّهِ و َ جَبَت لَه الَجنَّة" (یعنی جو شخص حسین علیہ السلام پر ان کا حق پہچانتے ہوئے روئے اس پر جنت واجب ہے، جس طرح سے واجب اور مستحب عبادتین معرفت خدا کی فروع ہیں اگر کماحقہ خدا کی معرفت نہیں ہے تو قصد قربت پیدا نہیں ہوتا ہے لہذا اس کے عبادات چاہے جس قدر کامل ہوں بیکار اور باطل ہیں۔

گریہ اور زیارت بھی پیغمبر(ص) اور امام کی معرفت کی فرع ہے یعنی چاہئیے کہ ان بزرگوار کو فرزند رسول امام برحق اور رسول اللہ (ص) کا تیسرا جانشین سمجھے جو حق پر قائم رہے اور حق ہی کے لیے قتل ہوئے اور یزید سے آپ کی مخالفت اس بناء پر تھی کہ وہ احکام دین کو پامال کر کے واجبات کا تارک اور محرمات پر عامل تھا اور بد اخلاقیوں کو رواج دے رہا تھا۔ ایسا زائر و عزادار اپنے مولا کے طور طریقے کے خلاف ہرگز عمل نہیں کرتا۔

نواب : قبل صاحب اگرچہ ہمارا اعتقاد ہے کہ حسین (ع) شہید حق پر تھے اور حق کے لیے عمال بنی امیہ کے ہاتھوں ناحق قتل کئے گئے لیکن ہم لوگوں میں ایک گروہ اور ہے بالخصوص وہ نوجوان افراد جو جدید مدرسوں اور اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں کہتے کہ کربلا کی جنگ دنیاوی جنگ تھی۔ یعنی حسین بن علی (ع) کو حکومت و خلافت کی خواہش کوفے کی طرف لے گئی اور ہر صاحب اقتدار سلطنت کا فرض ہے کہ خطرات کا سد باب کرے لہذا یزید اور اس کے عمال نے مجبورا اس فتنے کا مقابلہ کیا اور ان جناب کے سامنے ( بلاشرط) بیعت اور خلیفہ یزید کی اطاعت کی پیشکش کی اس لیے کہ اس کی فرمانبرداری واجب تھی اور خواہش کی کہ آپ شام چلے جائیں تاکہ خلیفہ کے پاس عزت سے رہیں یا اپنے وطن پلٹ جائیں لیکن ان جناب نے نہ مانا یہاں تک کہ قتل ہوگئے پس ایسے دینا طلب انسان کے لیے جو جاہ و سلطنت کی محبت میں قتل ہوا ہو عزاداری فضول بلکہ بدعت ہے۔ آیا آپ کے پاس کوئی ایسا صحیح جواب ہے کہ ان کو خاموش کر دیجئے تاکہ وہ اس عقیدے سے دستبردار ہوجائیں اور جان لیں کہ جنگ کربلا دنیاوی جنگ نہیں تھی بلکہ وہ جناب فقط خدا کے لیے اور دین خدا کی حفاظت کے لیے اٹھے اور مقابلہ کر کے شہید ہوئے؟

خیر طلب : چونکہ وقت کافی گزر چکا ہے لہذا سوچنتا ہوں کہ اگر اس مسئلے کو چھیڑوں گا تو دیر لگے گی جس سے نکان اور بڑھے گا۔

۳۳۹

نواب : نہیں نہیں ہم کو بالکل تکان نہیں ہے کہ بلکہ ہم انتہائی اشتیاق کے ساتھ اس موضوع کو سننے اور حقیقت معلوم کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ مخالفین کے مقابلے میں جواب دہی پر قادر ہوں۔ آپ یقین کیجئے کہ اس قوم کو جواب دینا چاہئیے وہ مختصر ہو کیوں نہ ہو بہت بڑی دینی خدمت ہے۔ مہربانی کر کے ارشاد فرمائیے۔

امام حسین (ع) جاہ و منصب کے خواہاں نہیں تھے

خیر طلب : میں نے پہلے ہی عرض کیا کہ ہر نیک و بد عمل معرفت کی بنیاد پر ہے۔ معترضین کو چاہئیے کہ پہلے اپنے خدا کو پہچانیں اور اس کے بعد آسمانی کتاب( قرآن) کی تصدیق کریں جو خدائے بزرگ و برتر کی طرف سے خاتم الانبیاء(ص) پر نازل ہوئی ہے اور تصدیق کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ جو کچھ اس کتاب میں ہے اس کو بہتر اور قابل قبول سمجھا جائے۔ اگر معترضین اہل مادہ اور محسوسات کے قائل ہیں اور دلائل محسوسہ چاہتے ہیں تو ان کا جواب بہت سہل ہے۔ اب میں وقت کا لحاظ کرتے ہوئے مختصرا دونوں پہلوئوں کی طرف اشارہ کرتا ہوں۔

خمسہ نجباء ہرگندے عمل سے مبراء تھے

اولا جو مسلمان قرآن کا تابع اس کا ریحانہ رسول حسین بن علی علیہما السلام کی طرف دنیا طلبی اور حب جاہ و ریاست کی نسبت دینا حق و حقیقت کے خلاف اور در اصل قرآن و رسول خدا(ص) کا انکار کرنا ہے اس لیے کہ خدائے تعالی نے سورہ نمبر33 ( احزاب) آیت نمبر33 میں ان جناب کی طہارت پر گواہی دی ہے اور ان کو نانا ماں باپ او بھائی کی طرح ہر رجس و پلیدی سے معرا و مبرا قرار دیا ہے جیسا کہ فرماتا ہے۔

"إِنَّمايُرِيدُاللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْل َالْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً."

یعنی سوا اس کے نہیں ہے کہ خدا کا ارادہ ہے کہ تم سے اے اہلبیت رسول(ص) ہر رجس و ناپاکی کو دور رکھے اور تم کو ہر عیب سے پاک و منزہ قرار دے۔

آپ کے جمہور اکابر علماء جیسے مسلم ، ترمذی، ثعلبی، سجستانی، ابونعیم اصفہانی، ابوبکر شیرازی، سیوطی، حموینی، احمد بن حنبل، زمخشری بیضاوی، ابن اثیر ، بیہقی ، طبرانی، ابن حجر، فخر الدین رازی، نیشاپوری، عسقلانی اور ابن عساکر وغیرہ بالاتفاق معتقد ہیں اور تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت پنجتن آل عبا محمد، علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیہم السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ یہ آیت شریفہ ان پنجتن پاکی کی عصمت اور ہر رجس و پلیدی سے طہارت پر سب سے بڑی دلیل ہے۔ ظاہر ہے کہ سب سے بڑی پلیدی جاہ و منصب کی محبت اور دنیائے وفی کی طرف رغبت ہے کیوںکہ اس دنیا یعنی امراء و سلاطین کے مانند

۳۴۰

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369