پشاور میں ایک یاد گار مناظرہ خورشید خاور --ترجمہ-- شبہائے پشاور جلد ۱

پشاور میں ایک یاد گار مناظرہ خورشید خاور --ترجمہ-- شبہائے پشاور15%

پشاور میں ایک یاد گار مناظرہ خورشید خاور --ترجمہ-- شبہائے پشاور مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 369

جلد ۱ جلد ۲
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 369 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 310299 / ڈاؤنلوڈ: 9438
سائز سائز سائز
پشاور میں ایک یاد گار مناظرہ خورشید خاور --ترجمہ-- شبہائے پشاور

پشاور میں ایک یاد گار مناظرہ خورشید خاور --ترجمہ-- شبہائے پشاور جلد ۱

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


نوٹ: اس کتاب کو الیکٹرانک اور برقی شکل میں ،اسلامی ثقافتی ادارے " امامین الحسنین(ع) نیٹ ورک " نے قارئین کرام کیلئےشائع کیا ہے۔

اورادارہ کی گِروہ علمی کی زیر نگرانی حُرُوفِ چِینی، فنی تنظیم وتصحیح اور ممکنہ غلطیوں کو درست کرنے کی حدالامکان کوشش کی گئی ہے۔

اس کتاب کی (PDFڈاؤنلوڈ کرنے کےلئےدرج ذیل لنک پر کلک کیجئے

http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=۳۷۹&preview

اس کتاب کی دوسری جلد (PDF) ڈاؤنلوڈ کرنے کےلئےاس پر کلک کیجئے

http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=۳۷۹&view=download&format=pdf

نیز اپنے مفید مشورے، پیشنہادات، اعتراضات اور ہر قسم کےسوالات کو ادارہ کےایمیل(ihcf.preach@gmail.com)پر سینڈ کرسکتے ہیں


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

بحمداللہ آپ نے ہمت و شجاعت کے ساتھ پردے اٹھادیے اور ادب کے پیرائے میں ہم کو حقائق سے روشناس فرمایا۔گزشتہ شب جب ہم لوگ یہاں سے واپس ہوئے تو راستے میں کافی دیر تک حضرات علماء پر ہماری چوٹیں ہوتی رہیں اور آپس میں سخت گفتگو کی نوبت آگئی یہاں تک کہ ہم نے مشکل سے حالات کو درست کیا۔ ہمارے درمیان ایک عجیب دو رنگی پیدا ہوگئی ہے۔ آج کی شب مولوی صاحبان ہم سے بہت نالاں اور برگشتہ خاطر ہیں۔ اتنے میں نماز کا وقت آیا اور انہوں نے مغرب و عشاء کی نماز ہماری اقتداء میں پڑھی اور ہماری ہی طرح سےفریضہ ادا کیا۔ آہستہ آہستہ حضرات تشریف لائے چنانچہ معمولی خاطر و جواضع چائے نوشی اور از حد اظہار خلق و محبت کے بعد نواب عبدالقیوم صاحب کی طرف سے سلسلہ گفتگو شروع ہوا۔

نواب : قبلہ صاحب ہماری خواہش ہے کہ کل شب کے بیان کو مکمل کردیجئے تاکہ مطلب ناقص نہ رہ جائے ،اس لیے کہ ہم سب نتیجہ کلام اور آیت کے حقیقی مفہوم کے منتطر ہیں۔

خیر طلب : بشرطیکہ آپ حضرات (مولوی صاحبان کی طرف اشارہ ) آمادہ ہوں اور اجازت دیں۔

حافظ: ( ناراضگی کے ساتھ) کوئی حرج نہیں اگر ابھی کچھ باقی ہے تو فرمائیے ہم سننے کو تیار ہیں۔

خیر طلب : گزشتہ رات یہ کہنے والوں کے رد میں کہ یہ آیت شریفہ خلفائے راشدین کے طریقہ خلافت میں ذکر کی گئی ہے ہم نے ادبی دلائل پیش کئے۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ مطالب کو دوسرے رخ سے زیر بحث لائیں تاکہ پردے ہٹیں اور حقیقت سامنے آجائے۔

جناب شیخ عبدالسلام نے گزشتہ شب میں فرمایا تھا کہ اس آیت کے اندر چار صفتین بتاتی ہیں کہ آیت خلفائے اربعہ اور ترتیب خلافت کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، لیکن اول تو فریقین کے بڑے بڑے مفسرین کی طرف سے اس آیہ شریفہ کی شان نزول میں ایسا کوئی بیان نہیں دیا گیا ہے، دوسرے آپ خود بہتر جانتے ہیں کہ کوئی صفت ہر پہلو سے موصوف کے ساتھ مطابقت کرتی ہے تب لائق اعتنا ہوتی ہے اور اگر صفت موصوف سے مطابق نہ ٹھہرے تو حقیقت کا مصداق نہیں بن سکتی۔

اگر بغیر محبت اور عداوت کے ہم اںصاف کی نگاہ سے دیکھیں اور تحقیق کریں تو دیکھیں گے کہ مندرجہ آیہ مبارکہ کے صفات کے حامل صرف حضرت امیرالمومنین صلوات اللہ علیہ تھے اور ہرگز یہ صفتین ان حضرات سے میل نہیں کھاتیں جن کو شیخ صاحب نے بیان کیا ہے۔

حافظ : کیا یہ ساری آیتیں جو آپ نے علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں نقل کیں کافی نہیں تھیں جو آپ چاہتے ہیں کہ اس آیت کو بھی اپنی جادو بیانی کے زور سے علی(ع) کی شان میں ثابت کریں؟ فرمائیے دیکھیں کیونکر یہ خلفائے راشدین کی خلافت سے مطابقت نہیں کرتی۔

۲۲۱

علی علیہ السلام کی شان میں تین سو آیتیں

خیر طلب : آپ نے جو یہ فرمایا کہ آیات قرآنی کو ہم نے مولانا امیرالمومنین علیہ السلام کی شان میں وارد کیا ہے، تو آپ نے یہ ایک عجیب خلط مبحث کیا ہے۔ کیا اس سے آنکھ بند کی جاسکتی ہے کہ خود آپ کی تمام بڑی بڑی تفسیروں اور معتبر کتابوں میں قرآن مجید کی ان کثیر آیتوں کو نقل کیا گیا ہے جو حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہیں؟ نہ یہ کہ اس کو ہم سے مخصوص بتایا جائے آیا حافظ ابونعیم اصفہانی جنہوں نے، ما نزل من القرآن فی علی کو اور حافظ ابوبکر شیرازی جنہوں نے نزول القرآن فی علی کو مستقل حیثیت سے لکھا ہے شیعہ تھے ؟ آیا تمام بڑے بڑے مفسرین جیسے امام ثعلبی، جلال الدین، سیوطی ، طبری ، امام فخرالدین رازی اور اکابر علماء جیسے ابن کثیر، مسلم ، حاکم، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابودائود اور احمد ابن حنبل وغیرہ، بیان تک کہ ابن حجر ایسے متعصب جنہوں نے صواعق محرقہ میں ان قرآنی آیات کو اکٹھا کیا ہے جو ان حضرت کی شان میں نازل ہوئی ہیں، شیعہ تھے ؟؟؟ بعض جیسے طبرانی نے اور محمد بن یوسف گنجی شافعی نے باب۶۲ کے شروع میں بسند ابن عباس اور محدث شام نے اپنی تاریخ کبیر میں نیز اور حضرات نے جو قرآن کی تین آیات تک ان حضرت کے بارے میں درج کی ہیں تو یہ شیعہ تھے یا آپ کے اکابر علماء اور پیشوا تھے

بہتر ہوگا کہ آپ حضرات تھوڑے غور و تامل کے ساتھ بیان کیا کریں تاکہ ندامت و پشیمانی کا باعث نہ ہو۔

ہم حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی منزلت ثابت کرنے میں کچھ گھڑنے اور وضع کرنے کے محتاج نہیں کہ زبردستی کسی آیت کو ان حضرت کی شان میں نقل کریں آپ کے مدارج آفتاب نصف النہار کی طرح ظاہر و ہویدا ہیں۔ یہ وہ خورشید تاباں ہے جو ابر کے پردے میں نہیں رہتا۔

امام محمد بن ادریس شافعی کہتے ہیں میں تعجب کرتا ہوں علی علیہ السلام سے کیونکہ ان حضرت کے دشمن ( بنی امیہ نواصب اور خوارج بغض و کینہ کی وجہ سے ان حضرت کے فضائل نقل نہیں کرتے اور دوستان علی(ع) بھی خوف و تقیہ کے سبب ذکر مناقب سے احتیاط کرتے ہیں اس کے با وجود کتابیں حضرت کے فضائل و مناقب سے پر ہیں جو ہر جگہ شمع محفل ہیں۔ چنانچہ اس آیت کے موضوع میں ہم کسی سحر آمیزی کو دخل نہیں دیتے بلکہ ان حقائق کو بیان کرتے ہیں جو پر ہم نے خود آپ کی معتبر کتابوں سے استدلال کیا ہے اور کرتے ہیں۔

آپ ملاحظہ فرمارہے ہیں کہ میں نے اب تک شیعہ روایات سے استدلال نہیں کیا ہے اور نہ انشاء اللہ آئندہ کروںگا میں نے منبروں پر اور تقریروں میں بار بار کہا ہے کہ اگر شیعوں کی تمام کتابیں درمیان سے ہٹائی جائیں تو میں صرف اکابر علمائے اہلسنت سے امیرالمومنین علیہ السلام کے مقام ولایت و خلافت اور اولویت کو بہترین طریقے پر ثابت کروں گا۔ چنانچہ اس آیہ شریفہ میں بھی میرا قول تنہا نہیں ہے کہ آپ کو سحر بیان میں مبتلا کروں بلکہ خود آپ کے علماء نے بھی اس مطلب کی

۲۲۲

تصدیق کی ہے۔ مجھ کو اچھی طرح سے یاد ہے کہ فقیہ و مفتی عراقین محدث شام محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب۴۳ میں حدیث تشبیہ کو نقل کرتے ہوئے کہ رسول خدا(ص) نے علی (ع) کو انبیاء(ع) کی شبیہ قرار دیا ہے، کہتے ہیں کہ علی(ع) کوجو حکم و حکمت میں نوح(ع) کی تشبیہ فرمایا تو اس کا سبب یہ ہے کہ

" انه کان شديدا علی الکافرين رئوفا بالمومنين کما وصفه الله تعالی القرآن بقوله والذين معه اشداء علی الکفار رحماء بينهم "

یعنی در حقیقت وہ کافروں پر سخت اور مومنوں پر مہربان تھے، جیسا کہ خدا نے قرآن میں اس آیت سے ان کی تعریف کی ہے کہ علی(ع) ہمیشہ پیغمبر(ص) کے ساتھی تھے کفار پر سختی اور مومنین پر مہربانی کرنے والے تھے۔ اور جو شیخ صاحب نے یہ فرمایا کہ والذین معہ ابوبکر کے بارے میں ہے اس دلیل سے کہ چند روز غار میں رسول اللہ(ص) کے قریب رہے تو (حالانکہ کل شب کو عرض کرچکا ہوں کہ خود آپ ہی کے علماء نے لکھا ہے کہ اتفاقیہ طور پر اور آئندہ خطروں سے بچنے کے لیے ان کو ساتھ لے گئے تھے) اگر فرض کر لیا جائے کہ آنحضرت(ص) مخصوص طریقے سے ان کو اپنے ہمراہ لے گئے تو کیا ایسا مسافر جو چند روز سفر کے عالم میں آں حضرت(ص) کے ساتھ رہا ہو مرتبہ میں اس شخص کی برابری کرسکتا ہے جو اوائل عمر ہی سے رسول اکرم(ص) کے ہمراہ اور آن حضرت(ص) کی تعلیم و تربیت میں رہا ہو؟

اگر انصاف و حقیقت کی نظر سے دیکھیے تو تصدیق کیجئے گا کہ حضرت علی علیہ السلام اس خصوصیت میں ابوبکر اور ان تمام مسلمانوں سے اولی ہیں جو اس آیت کے مصداق بن سکیں کیونکہ آپ نے بچپن ہی سے رسول اللہ(ص) کےساتھ اور آنحضرت(ص) کے زیر تربیت نشو و نما پائی۔ بالخصوص ابتدائے بعثت سے سوا علی علیہ السلام کے دوسرا آن حضرت(ص) کے ساتھ نہیں تھا۔ علی (ع) اس دن بھی پیغمبر(ص) کے ہمراہ تھے جب ابوبکر ، عمر ، عثمان، ابوسفیان، معاویہ اور تمام مسلمان دین توحید سے منحرف اور بت پرستی میں غرق تھے۔

رسول اللہ(ص) پر سب سے پہلے ایمان لانے والے علی(ع) تھے

چنانچہ آپ کے اکابر علماء جیسے بخاری ومسلم نے اپنی صحیحین میں، امام احمد بن حنبل نے مسند میں، ابن عبدالبر نے استیعاب جلد سیم ص۳۲ میں، امام ابوعبدالرحمن نسائی نے خصائص العلوی میں، سبط ابن جوزی نے تذکرہ ص۶۳ میں، شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودت باب۱۳ میں ترمذی و مسلم سے، محمد بن طلحہ شافعی نے مطالب السئول فصل اولی میں، ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد سیم ص۲۵۸ میں، ترمذی نے جامع ترمذی جلد دوم ص۳۱۴ میں، حموینی نے فرائد میں امیر سید علی ہمدانی نے مودۃ القربی میں، یہاں تک کہ ابن حجر متعصب نے صواعق میں اور آپ کے دوسرے جید علماء نے الفاظ کے مختصر کمی و بیشی ے ساتھ ابن بن مالک نیز اور لوگوں سے نقل کیا ہے کہ " بعث النبی فی يوم الاثنين و آمن علی يوم الثلاث " یعنی پیغمبر(ص) دو شنبے کے روز مبعوث ہوئے اور علی(ع) سہ شنبہ کو ایمان لائے نیز روایت کی ہے " بعث النبی فی يوم الاثنين و صلی علی معهيوم الثلاث " یعنی پیغمبر(ص) دو شنبہ کے روز مبعوث ہوئے اور سہ شبنہ کو علی نے ان کے ساتھ نماز پڑھی) اور

۲۲۳

" انه اول من آمن برسول الله من الذکور " یعنی علی(ع) وہ پہلے مرد تھے جو رسول اللہ پر ایمان لائے۔

نیز طبری نے اپنی تاریخ جلد دوم ص۲۴۱ میں، ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد سیم ص۲۵۱ میں، ترمذی نے جامع جلد دوم ص۲۱۵ میں، امام احمد نے مسند جلد چہارم ص۳۶۸ میں، ابن اثیر نے کامل جلد دوم ص۲۴ میں، حاکم نیشاپوری نے مستدرک جلد چہارم ص۳۴۶ میں اور محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب ۲۵ میں اپنے اسناد کے ساتھ ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اول من صلی علی ( اسلام کے اندر) جس نے سب سے پہلے نماز ادا کی وہ علی(ع) تھے۔ اور زید ابن ارقم سے روایت کی ہے کہ" اول من سلم مع رسول الله علی ابن ابی طالب " یعنی جو شخص سب سے پہلے رسول اللہ(ص) کےساتھ اسلام لایا وہ علی(ع) ابن طالب تھے اور اسی قسم کی روایتیں آپ کی معتبر کتابوں میں بھری پڑی ہیں۔ لیکن نمونے کے لیے اسی قدر کافی ہیں۔

علی(ع) بچپن ہی سے پیغمبر(ص) کی تربیت میں

خصوصیت سے آپ کو اس طرف توجہ کرنا چاہئیے کہ آپ ہی کے ذی علم فقیہہ نور الدین بن صباغ مالکی نے فصول المہمہ فصل تربیتہ النبی ص۱۶ میں، محمد بن طلحہ شافعی نے مطالب السئول فصل اول ص۱۱ میں اور دوسروں نے نقل کیا ہے کہ جس سال مکہ معظمہ میں قحط پڑا تھا ایک روز رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ( جو ابھی ظاہری طور پر مبعوث برسالت نہ ہوئے تھے) اپنےچچا عباس سے فرمایا کہ آپکے بھائی ابو طالب کثیر العیال ہیں اور زمانہ بھی بہت سخت ہے لہذا ہم لوگوں چل کے ان کی اولاد میں سے جس کومناسب سمجھیں ایک ایک نفر کو ا پنی کفالت میں لے لیں تاکہ میرے عزیز چچا کو بار ہلکا ہوجائے۔ عباس نے منظور کیا۔ دونوں حضرات مل کے جناب ابو طالب کے پاس گئے اور اپنے آنے کی غرض بیان کی ۔ چنانچہ ابوطالب راضی ہوگئے۔ چنانچہ عباس نے جناب جعفر طیار کو اپنے ذمے لیا اور رسول خدا(ص) نے حضرت علی(ع) کی ذمہ داری لی، اس کے بعد مالکی یہ عبارت لکھتے ہیں کہ

" فلم يزل عليّ مع رسول اللّه صلّى اللّه عليه وآله وسلّم حتّى بعثه اللّه نبيّافاتّبعه علي ّوآمن به وصدّقه و کان عمره اذ ذاک فی السنه الثالثه عشر من عمره لم يبلغ الحلم و انه اول من اسلم و آمن برسول الله من الذکور بعد خديجة"

( یعنی علی(ع) ہمیشہ رسول اللہ(ص) کے ساتھ رہے یہاں تک کہ خدا نے آنحضرت(ص) کو مبعوث برسالت فرمایا تو علی(ع) نے ان کی پیروی کی ان پر ایمان لائے اور ان کی تصدیق کی، حالانکہ ابھی ان کی عمر کے صرف تیرہ سال گزرے تھے اور حد بلوغ میں نہیں پہنچے تھے، خدیجہ(ع) کے بعد مردوں میں آں حضرت(ص) پر سب سے پہلے اسلام و ایمان لانے والے یہی تھے۔)

۲۲۴

اسلام میں علی(ع) کی سبقت

پھر مالکی اسی فصل میں امام ثعلبی کا قول نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے سورہ نمبر۹ ( توبہ) کی آیت نمبر۱۰۶ " وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهاجِرِينَ وَالْأَنْصارِ" کی تفسیر میں اس طرح روایت کی ہے کہ ابن عباس جابر ابن عبداللہ اںصاری، زید بن ارقم، محمد بن منکور اور بعیتہ الرائی کہتے ہیں کہ خدیجہ کے بعد جو شخص سب سے پہلے رسول خدا(ص) پر ایمان لایا وہ علی(ع) تھے ۔ اس کے بعد کہتے ہیں کہ علی کرم اللہ وجہہ نے اس بات کی طرف اپنے اشعار میں اشارہ فرمایا ہے جن کو ثقات علماء نے آپ سے نقل کیا ہے۔ فرماتے ہیں۔

محمّدالنبي أخي وصنوي وحمزةسيّدالشهداءعمي

وبنت محمّدسكني وعرسي من وطلحمهابدمي ولحمي

وسبطاأحمدولداي منهافأيكم له سهم كسهمي

سبقتكم الى الاسلام طراعلى ماكان من فهمي وعلمي

فأوجب لي ولايته عليكم رسولاللّه يوم غديرخم

فويل ثم ويل ثم ويل لمن يلقى الإله غدابظلمي

( یعنی محمد رسول اللہ(ص) میرے بھائی اور میرے چچا کے بیٹے ہیں، اور حمزہ سید الشہداء میرے چچا ہیں اور فاطمہ بنت رسول اللہ(ص) میری زوجہ اور شریک زندگی ہیں۔ اور پیغمبر(ص) کے دونوں نواسے میرے دو فرزند ہیں فاطمہ(س) سے، پس تم میں سے کون ہے جس کا حصہ میرے حصے کے برابر ہو، پس تم سب سے پہلے اسلام لایا جب کہ میں کم سن تھا اور حد بلوغ کو نہیں پہنچا تھا، اور پیغمبر(ص) نے میرے لیے اپنی ولایت کو تم پر غدیر خم کے روز واجب کیا، پھر تین مرتبہ فرمایا کہ وائے ہو اس پرجو کل (روز قیامت) اس حالت میں خدا سے ملاقات کرے کہ اس نے مجھ پر ظلم کیا ہو۔)

محمد طن طلحہ شافعی نے مطالب السئول باب اول فصل اول کے ضمن میں ص۱۱ پر اور آپ کے بڑے بڑے علمائے مورخین و محدثین نے نقل کیا ہے کہ حضرت نے یہ اشعار اس موقع پر معاویہ کے جواب لکھے تھے جب اس نے اپنے خط میں ان حضرت کے مقابلے میں فخر و مباہات کیا تھا کہ میرا باپ زمانہ جاہلیت میں سردار قوم تھا اور اسلام میں اس نے بادشاہی کی، اور میں خال المومنین، کاتب وحی اور مصاحب فضائلی ہوں۔

حضرت نے خط پڑھنے کے بعد فرمایا " ابا الفضائل يفخر علی ابن آکلة الاکباد " یعنی آیا میرے سامنے جگر چبانے والی ( یعنی معاویہ کی ماں ہندہ جس کے لیے احد میں سید شہداء حمزہ کا جگر لایا گیا اور اس نے منہ میں رکھ کر چبایا ) کو لڑکا فضائل

۲۲۵

فخر کرتا ہے۔ اس کے بعد مذکورہ بالا اشعار اس کو لکھے جن میں غدیر خم کی طرف اشارہ فرمایا اور ثابت فرمایا کہ آپ ہی امام و خلیفہ اور رسول خدا(ص) کے آں حضرت(ص) ہی کے حکم سے مسلمانوں کے امور میں اولی بہ تصرف ہیں۔ اور معاویہ باوجودیکہ آپ کا اتنا سخت مخالف تھا ان مفاخرات میں آپ کی تکذیب نہیں کرسکتا۔ نیز حاکم ابو القاسم اسکافی جو آپ کےبہت بڑے عالم اور آپ کے علماء کے معتمد علیہ ہیں آیہ مذکورہ کے ذیل میں عبدالرحمن ابن عوف سے نقل کرتے ہیں کہ قریش میں سے دس نفر ایمان لائے جن میں سب سے پہلے علی ابن ابی طالب(ع) تھے۔

آپ کے اکابر علماء جیسے احمد ابن حنبل مسند میں، خطیب خوارزمی مناقب میں اور سلیمان بلخی حنفی ینابیع المودۃ باب ۱۲ میں انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ رسول (ص) نے فرمایا :

" لَقَدْصَلَّتِ الْمَلَائِكَةُعَلَيّ َوَعَلَى عَلِيِّ سَبْعَ سِنِين َوَذَلِكَ أَنَّهُ لَمْ تُرْفَعْ شَهَادَةُأَنْ لَاإِلَه إِلَّااللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّداًرَسُول ُاللَّهِ إِلَّامِنِّ يوَمِنْ عَلِيٍّ"

یعنی ملائکہ نے سات سال مجھ پر اور علی پر صلوات بھیجی کیونکہ اس مدت میں سوا میرے اور علی(ع) کے کسی اور کی طرف سے کلمہ شہادت آسمان کی جانب بلند نہیں ہوا۔

ابن ابی الحدید معتزلی نے شرح نہج البلاغہ جلد اول میں ص۳۷۵ سے ص۳۷۸ تک آپ کے روایات و علماء کےسلسلوں سے بکثرت روایتیں نقل کی ہیں کہ علی علیہ السلام و ایمان میں سارے مسلمانوں سے آگے تھے اور تمام اخبار و اختلاف اقوال کے آخر میں کہتے ہیں :

" فدل مجم وعماذكرناعلى أن علياأول الناس إسلاماوأن المخالف في ذلك شاذوالشاذلايعتدبه انتهى كلامه."

یعنی یہ سب جو ہم نے ذکر کیا اس پر دلالت کرتا ہے کہ علی علیہ السلام سب سے پہلے اسلام لائے اور اس امر کے مخالف بہت کم ہیں اور قول شاذ قابل توجہ نہیں ہوتا۔

امام ابو عبدالرحمن نسائی نے جو ائمہ صحاح ستہ میں سے ایک ہیں خصائص العلوی کی پہلی چھ حدیثیں اسی موضوع میں نقل کی ہیں اور تصدیق کی ہے کہ سب سے پہلے رسول اللہ(ص) پر ایمان لانے والے اور آن حضرت(ص) کے ساتھ نماز پڑھنے والے علی علیہ السلام تھے۔

اور شیخ سلیمان بلخی حنفی نے یابیع المودۃ باب۱۲ میں ترمذی، حموینی، ابن ماجہ، احمد حنبل، حافظ ابونعیم، امام ثعلبی، ابن مغازلی، ابوالموید خوارزمی اور دیلمی سے مختلف مضامین کےساتھ اکتیس (۳۱) روایتیں نقل کی ہیں جن سب کا خلاصہ اور نتیحہ یہ ہے کہ علی علیہ السلام ساری امت سے پہلے اسلام و ایمان لائے یہاں تک کہ ابن حجر مکی جیسے متعصب نے بھی صواعق محرقہ فصل دوم میں انہیں مضامین کی روایتیں نقل کی ہیں، چنانچہ سلیمان بلخی حنفی نے بھی ینابیع المودۃ میں ان میں سے بعض رایتیں ان سے نقل کی ہیں اور ینابیع المودۃ باب۱۴ کے آخر میں اپنے اسناد کےساتھ ابن زبیر مکی سے اور انہوں نے جابر ابن عبداللہ اںصاری سے مناقب کے سلسلے میں ایک مبارک روایت نقل کی ہے جس کو آپ حضرات کی اجازت سے ہیش کررہا ہوں تاکہ حجت تمام ہوجائے رسول اکرم (ص) کا ارشاد ہے:

"إِنَّ اللَّه َتَبَارَكَ وَتَعَالَى اصفَانِي وَاخْتَارَنِي وَجَعَلَنِي رَسُولًاوَأَنْزَل َعَلَيَّ سَيِّدَالْكُتُبِ فَقُلْتُ إِلَهِي وَسَيِّدِي إنَّكَ أَرْسَلْتَ مُوسَى إِلَى فِرْعَوْنَ فَسَأَلَ كَأَنْ تَجْعَلَ مَعَهُ أ َخاهُ هارُونَ وَزِيراً

۲۲۶

تَشُدُّبِه ِعَضُدَهُ وَتُصَدِّقُ بِهِ قَوْلَهُ وَإِنِّي أَسْأَلُكَ يَاسَيِّدِي وَإِلَهِي أَنْ تَجْعَلَ لِي مِنْ أَهْلِي وَزِيراًتَشُدُّبِهِ عَضُدِي فَجَعَل َاللَّهُ لِي عَلِيّاًوَزِيراًوَأَخاًوَجَعَل َالشَّجَاعَةَفِي قَلْبِهِ وَأَلْبَسَهُ الْهَيْبَةَعَلَى عَدُوِّهِ وَهُوَأَوَّلُ مَنْ آمَنَ بِي وَصَدَّقَنِي وَأَوَّلُ مَنْ وَحَّدَاللَّهَ مَعِي وَإِنِّي سَأَلْتُ ذَلِكَ رَبِّي عَزَّوَجَلَّ فَأَعْطَانِيهِ فَهُوَسَيِّدُالْأَوْصِيَاءِاللُّحُوقُ بِهِ سَعَادَةٌوَالْمَوْتُ فِي طَاعَتِهِ شَهَادَةٌوَاسْمُه ُفِي التَّوْرَاةِمَقْرُون ٌإِلَى اسْمِي وَزَوْجَتُهُ الصِّدِّيقَةُالْكُبْرَى ابْنَتِي وَابْنَاهُ سَيِّدَاشَبَابِ أَهْل ِالْجَنَّةِابْنَايَ وَهُوَوَهُمَاوَالْأَئِمَّةُبَعْدَهُمْ حُجَجُ اللَّهِ عَلَى خَلْقِهِ بَعْدَالنَّبِيِّين َوَهُمْ أَبْوَابُالْعِلْمِ فِي أُمَّتِي مَنْ تَبِعَهُمْ نَجَامِنَ النَّارِوَمَنِ اقْتَدَى بِهِمْ هُدِيَ إِلى صِراطٍ مُسْتَقِيمٍ لَمْ يَهَبِ اللَّه ُعَزَّوَجَلَّ مَحَبَّتَهُمْ لِعَبْدٍإِلَّاأَدْخَلَهُ اللَّه ُالْجَنَّةَ.انتهی. فاعتبروا يا اولی الالباب"

یعنی خدائے تعالی نے مجھ کو برگزیدہ او منتخب کیا ( مخلوقات میں سے ) مجھ کو پیغمبر بنایا اور مجھ پر سب سے بہتر کتاب نازل کی۔ پس میں نے عرض کیا اے میرے معبود اور مالک تونے موسی کو فرعون کی طرف بھیجا، تو انہوں نے تجھ سے دعا کی کہ میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر بنا دے تاکہ ان سے میرا بازو مضبوط ہو اور ان کے ذریعے میرے قول کی تصدیق ہو۔ چنانچہ اب میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ خداوندا میرے اہل میں سے میرے لیے ایک وزیر قرار دے جس سے میرا بازو مضبوط ہو۔ پس علی (ع) کو میرا وزیرا اور میرا بھائی بنا، شجاعت کو ان کے دل میں قائم کر اور ان کے دشمنوں کے مقابلے میں ان کو ہیبت عطا کر۔ علی(ع) وہ پہلے شخص ہیں جو مجھ پر ایمان لائے اور میری تصدیق کی او سب سے پہلے میرے ساتھ خدا کی وحدانیت کا اقرار کیا۔ اس کے بعد فرمایا کہ میں نے خدا سے یہ سوال کیاتو اس نے مجھ کو عطا بھی فرمایا ( یعنی علی(ع) کو میرا وزیر اور بھائی قرار دیا) پس علی(ع) اوصیاء کے سردار ہیں، ان سے وابستہ ہونا سعادت اور ن کی اطاعت میں مرنا شہادت ہے، توریت میں ان کا نام میرے نام کے ساتھ ہے، ان کی زوجہ صدیقہ کبری میری بیٹی ہے، ان کے دو بیٹے جو جوانان جنت کے سردار ہیں، میرے فرزند ہیں علی(ع)، حسن(ع)، حسین(ع) اور ان کے بعد سارے امام انبیاء کے بعد تمام خلقت پر خدا کی حجت ہیں اور یہ حضرات میری امت میں علم کے دروازے ہیں جس شخص نے ان کی پیروی کی اس نے۔۔۔۔۔ آتش جہنم سے نجات پائی اور جس نے ان کی اقتداء کی اس نے صراط مستقیم کی ہدایت پائی۔ خدا نے جس بندے کو ان کی محبت عنایت فرمائی اس کو ضرور جنت میں داخل کرے گا ( لہذا اے صاحبان بصیرت عبرت حاصل کرو۔)

اگر میں چاہوں کہ بغیر کتب شیعہ کی سند کی صرف وہی سب روایتیں پیش کروں جو محض آپ ہی کے روات اور اکابر علماء کے سلسلوں سے اس بارے میں مروی ہیں تو ساری رات صرف ہوجائے گی۔ میرا خیال ہے کہ نمونے کے طور پر اسی قدر کافی ہے جس سے آپ حضرات سمجھ لیں گے کہ علی(ع) وہ شخص ہیں جو ابتدا سے رسول خدا (ص) کے ساتھ تھے لہذا اولی و احق بات یہ ہے کہ ہم انہیں بزرگوار کو والذین معہ کا مصداق سمجھیں نہ کہ اس کو جو غار کی مسافرت میں چند راتیں رسول(ص) کے ہمراہ رہا۔

۲۲۷

علی(ع) کے ایمان طفلی میں اشکال اور اس کا جواب

حافظ : یہ بات تو ثابت ہے اور کسی نے اس حقیقت کا انکار نہیں کیا ہے کہ علی کرم اللہ وجہہ ساری امت سے سابق الاسلام تھے لیکن یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ یہ سبقت دوسرے صحابہ پر علی کرم اللہ وجہہ کی فضیلت و شرافت کی دلیل نہیں ہے۔ یہ صحیح ہے کہ خلفائے معظم ابوبکر وعمر و عثمان رضی اللہ عنہم علی کرم اللہ وجہہ کے ایک مدت بعد ایمان لائے لیکن ان کا ایمان علی کے ایمان سے فرق رکھتا تھا اور قطعا ان کا ایمان علی(ع) کے ایمان سے افضل تھا کیوں کہ علی(ع) ایک نا بالغ بچے اور یہ لوگ سن رسیدہ اور کامل العقل تھے۔

بدیہی چیز ہے کہ ایک تجربہ کار جہاں دیدہ اور پختہ عقل رکھنے والے بوڑھے کا ایمان ایک نو خیز و نابالغ لڑکے کے ایمان سے افضل اور بالاتر ہے۔ اس کے علاوہ علی(ع) کا ایمان تقلیدی اور ان لوگوں کا تحقیقی تھا تقلیدی ایمان سے قطعا افضل ہے اس لیے کہ نابالغ اور غیر مکلف بچہ بغیر تقلید کے ہرگز ایمان نہیں لانا اور علی(ع) تیرہ سال کے ایک کم سن بچے تھے جن پر کوئی شرعی تکلیف نہیں تھی لہذا یقینا انہوں نے محض تقلید میں ایمان قبول کیا۔

خیر طلب : آپ جیسے علمائے قوم سے اس قسم کی گفتگو سن کے تعجب ہوتا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ کی ان باتوں کا کیا مطلب سمجھوں۔ آیا یہ کہوں کہ آپ محض عناد کی بنا پر ہٹ دھرمی کررہے ہیں لیکن اس پر میرا دل آمادہ نہیں ہوتا کہ ایک عالم کی طرف ایسی نسبت دوں؟ تو کیا یہ کہوں کہ آپ بغیر سوچے سمجھے اپنے اسلاف کی پیروی میں اس قسم کی باتیں کرتے ہیں یعنی آپ صرف ( بنی امیہ کے زیر اثر خوارج و نواصب کی تقلید میں بول رہے ہیں اور اپنی تقریر میں کسی تحقیق سے مطلب نہیں رکھتے۔)

میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ آیا بچپنے میں علی علیہ السلام کی ایمان اپنی خواہش اور ارادے سے تھا یا رسول اللہ(ص) کی دعوت پر ؟

حافظ: پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ طریقہ گفتگو سے کیوں متاثر ہوتے ہیں کیونکہ جب شبہ اور اشکال دل میں الجھن پیدا کرتا ہے تو اس کو زیر بحث لانا ضروری ہوتا ہے تاکہ حقیقتوں کا انکشاف ہو۔

دوسرے آپ کے جواب میں یہ طے شدہ امر ہے کہ علی(ع) رسول خدا(ص) کی دعوت پر ایمان لائے، اپنی خواہش اور ارادے سے نہیں۔

خیر طلب: آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب علی علیہ السلام کو اسلام کی دعوت دی تو آپ یہ جانتے تھے کہ بچے کے اوپر بلوغ سے پہلے شرعی تکلیف نہیں ہے یا نہیں جانتے تھے؟ اگر یہ کہئے کہ نہیں جانتے تھے تو آپ نے آں حضرت (ص) کی طرف جہالت کی نسبت دی اور اگر جانتے تھے کہ چھوٹے بچے کے لیے کوئی دینی ذمہ داری نہیں ہے اس کے باوجود ان کو دعوت دی تو ایک لغو و مہمل اور بے محل کام کیا۔ بدیہی چیز ہے کہ رسول اللہ(ص) کی طرف لغو اور عبث کام کی نسبت دینا کھلا ہوا

۲۲۸

کفر ہے کیونکہ پیغمبر(ص) لغو اور فصول باتوں سے پاک و مبرا ہے خصوصا خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیونکہ خدا سورہ۵۳ ( النجم) آیت نمبر۳ میں آنحضرت(ص) کے لیے فرماتا ہے۔ "وَمايَنْطِقُ عَنِ الْهَوى إِنْ هُوَإِلَّاوَحْيٌ يُوحى " ( یعنی رسول خدا(ص) اپنی خواہش نفس سے کوئی بات نہیں کہتے ہیں وہ از روئے وحی ہوتا ہے جو ان پر نازل ہوتی ہے۔)

بچپن میں علی(ع) کا ایمان ان کی عقل و فضل کی زیادتی کی دلیل ہے

پس قطعا آن حضرت(ص) نے علی (ع) کو دعوت دینے کے قابل اور اہل جان کے دعوت دی کیونکہ آنحضرت(ص) سے کوئی لغو عمل سرزد نہیں ہوتا اس کے علاوہ کم سنی کمال عقل کی منافی نہیں ہوتی، بلوغ وجوب تکلیف کی دلیل نہیں ہے۔ بلکہ صرف احکام شرعی میں اس کے لحاظ کیا جاتا ہے نہ کہ عقلی امور میں، اور ایمان ایک عقلی امر ہے تکلیف شرعی نہیں ہے لہذا" ایمان علی فی الصغر من فضائلہ" بچپن میں علی (ع) کا ایمان ان کی ایک فضیلت ہے، جیسا کہ حضرت عیسی بن مریم علی نبینا و آلہ وعلیہ السلام کے لیے جو ابھی نوزائیدہ بچے تھے خدائے تعالی سورہ نمبر۱۹ ( مریم) آیت نمبر۳۱ میں خبر دیتا ہے کہ انہوں نے کہا :

" قالَ إِنِّي عَبْدُاللَّهِ آتانِيَ الْكِتابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا"

(یعنی در حقیقت میں خدا کا ایک خاص بندہ ہوں، اس نے مجھ کو آسمانی کتاب عطا کی اور نبی بنایا ہے۔ ) اور حضرت یحی علیہ السلام کے لیے اسی سورے کی آیت نمبر۱۳ میں فرماتا ہے " و آت ي نا الحکم صبيا" یعنی ہم نے یحی کو بچپنے ہی میں منصب نبوت عطا کیا۔

سید اسماعیل حمیری یمنی متوفی سنہ۱۷۵ ہجری نے جو دوسری صدی ہجری کے مشہور شعراء میں سے تھے ان اشعار میں جو انہوں نے حضرت کی مدح میں کہے تھے اس پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے:

وصي محمدوأب ابنيه ووارثه وفارسه الوفيا

وقدأوتي الهدى والحكم طفلاكيحيىي ومأوتيه صبيا

یعنی جس طرح یحی عالم طفلی میں نبوت پر فائز ہوئے اسی طرح جانشین پیغمبر(ص)، آپ کے فرزندوں کے باپ، آپ کے وارث اور جان نثار شہسوار علی علیہ السلام بھی بچپنے ہی میں ولایت و ہدایت کے حامل ہوئے۔

جو فضیلت و منزلت خدا عطا فرماتا ہے و سن بلوغ تک پہنچنے کی محتاج نہیں ہے بلکہ عقل کی پختگی اور صلاحیت طبع پاک طینت کا نتیجہ ہے جس سے فقط ہر سر د خفی کا جاننے والا خدا ہی واقف ہے لہذا اگر یحی(ع) بچپنے میں اور عیسی(ع) گہوارے میں نبوت تک اور علی(ع) تیرہ سال کے سن میں ولایت مطلقہ تک پہنچ جائیں تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ آپ کی اس گفتگو پر جس سے میں متاثر ہوا زیادہ تر تعجب یہ تھا کہ ایسے شبہات و اعتراضات نواصب و خوارج اور بنی امیہ کے پروپیگنڈے سے متاثر معنادین کے پرئووں سے سننے میں آتے ہیں جو علی علیہ السلام کے ایمان پر نکتہ چینی کرتے

۲۲۹

ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کا ایمان معرفت و یقین کی بنیاد پر نہیں تھا بلکہ تلقین و تقلید کی بنا پر تھا۔

اول تو آپ کےسارے موثق اکابر علماء اس فضیلت کے معترف ہیں، دوسرے اگر کم سنی کا ایمان ان حضرت کے لیے باعث فخر وبزرگی نہیں تھا تو آپ نے صحابہ کے مقابلے میں اس قدر فخر و مباہات کیوں فرمایا۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا آپ کے اکابر علماء جیسے محمد بن طلحہ شافعی، ابن صباغ مالکی، ابن ابی الحدید اور دوسروں نے بھی حضرت کے اشعار نقل کئے ہیں کہ آپ نے ضمنا فرمایا :

سبقتكم الى الإسلام طراصغيرامابلغت أوانحلمي

( یعنی میں نے اس وقت تم لوگوں پر اسلام میں سبقت کی جب کہ میں ایک چھوٹا بچہ تھا اور سن بلوغ کو نہیں پہنچا تھا۔ ۱۲ مترجم عفی عنہ)

اگر بچپن ان حضرت کا ایمان کوئی فضل و شرف نہ ہوتا تو رسول خدا(ص) کو اس فضیلت کے ساتھ خصوصیت نہ دیتے اور آپ خود اس بات پر فخر و مباہات نہ کرتے، چنانچہ سلیمان بلخی حنفی ینابیع المودۃ ضمن باب۵۶ ص۴۰۲ میں ذخائر العقبی امام الحرم احمد بن عبداللہ شافعی سے بسندخلیفہ ثانی عمر ابن خطاب نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں، ابوبکر، ابو عبیدہ جراح اور ایک جماعت خدمت رسول (ص) میں حاضر تھے کہ آں حضرت(ص) نے اپنا دست مبارک علی(ع) کے شانے پر رکھا اور فرمایا :

"ياعلي أنت أول المؤمنين إيمانا،وأول المسلمين إسلاما،وأنت مني بمنزلةهارون من موسى."

( یعنی یا علی(ع) تم ایمان و اسلام میں تمام مومنین و مسلمین سے اول ہو اور تم میرے لیے بمنزلہ ہارون ہو موسی کے لیے۔)

نیز امام احمد ابن حنبل مسند میں ابن عباس ( خیر امت) سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں، ابوبکر، ابو عبیدہ بن جراح اور دوسرے صحابہ کا ایک مجمع پیغمبر(ص) کی خدمت میں حاضر تھے کہ آں حضرت(ص) نے علی بن ابی طالب(ع) کے شانے جپر دست مبارک رکھ کے فرمایا :

"فَقَالَ يَاعَلِيُّ أَنْتَ أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ إِسْلَاماًوَأَنْتَ أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَاناًوَأَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِهَارُونَ مِن ْمُوسَى كَذَبَيَ اعَلِيُّ مَنْ زَعَم َأَنَّهُ يُحِبُّنِي وَيُبْغِضُكَ"

(یعنی تم اسلام و ایمان میں تمام مسلمانوں اور مومنوں سے آگے ہو۔ اور تم میرے لیے بمنزلہ ہارون ہو موسی(ع) سے ۔ اے علی(ع) جھوٹ کہتا ہے وہ شخص جو یہ سمجھتا ہے کہ مجھ کو دوست رکھتا ہے در آنحالیکہ تم کو دشمن رکھتا ہو۔)

ابن صباغ مالکی فصول المہمہ ص۱۴۵ میں اسی طرح کی روایت کتاب خصائص سے بروایت ابن عباس نیز امام ابو عبدالرحمن نسائی خصائص العلوی میں نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں نے عمر ابن خطاب ( خلیفہ ثانی) کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ علی(ع) کا ذکر نیکی کے ساتھ کرو کیونکہ میں نے پیغمبر(ص) سے سنا ہے کہ فرمایا : علی(ع) میں تین خصلتیں ہیں میں ( یعنی عمر) چاہتا تھا کہ ان میں سے ایک ہی مجھ کو حاصل ہوتی کیونکہ ان صفتوں میں سے ہر ایک میرے نزدیک ہر اس چیز سے زیادہ محبوب ہے جس پر آفتاب چمکتا ہے پھر کہا کہ ابوبکر ابوعبیدہ اور صحابہ کا ایک گروہ بھی حاضر تھا کہ آں حضرت(ص) نے علی(ع) کے شانے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا:

۲۳۰

(عبارت مذکورہ بالا) اور ابن صباغ نے ان کلمات کو دوسروں سے زیادہ نقل کیا ہے کہ فرمایا :

" وَمَنْ أَحَبَّكَ فَقَدْأَحَبَّنِي وَمَن ْأ َحَبَّنِي فَقَدْأَحَبَّه اللَّهَ وَ مَن أَحَبَّه اللَّهَ ادخله الجنة وَمَنْ أَبْغَضَكَ فَقَدْأَبْغَضَنِي وَمَنْ أَبْغَضَنِي فَقَدْأَبْغَضَه اللَّهُ تَعَالی أَدْخَلَهُ النَّارَ"

( یعنی جو شخص تم کو دوست رکھے اس نے مجھ کو دوست رکھا اور جس نے مجھ کو دوست رکھا اس کو خدا دوست رکھتا ہے اور جس کو خدا دوست رکھتا ہے اس کو جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص تم کو دشمن رکھے اس نے مجھ کو دشمن رکھا اور جس نے مجھ کو دشمن رکھا اس کو خدا دشمن رکھتا ہے اور اس کو جہنم میں داخل کرے گا۔)

پس عالم طفلی میں علی علیہ السلام کا ایمان عقل و خرد کی زیادتی کو ثابت کرتا ہے اور حضرت کے لیے ایک ایسی فضیلت ہے کہ لم یسبقہ احد من المسلمین جس میں مسلمانوں میں سے کسی نے آپ پر سبقت نہیں کی ہے۔

طبری اپنی تاریخ میں محمد بن سعد ابن ابی وقاص سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں نے اپنے باپ سے پوچھا کہ آیا ابوبکر سب سے پہلے مسلمان ہیں؟ کہا نہیں " وَلَقَدْأَسْلَمَ قَبْلَهُ أَكْثَرُمِنْ خَمْسِينَ رَجُلًاوَلَكِنْ كَانَ أَفْضَلَنَاإِسْلَاماً ."( یعنی ابوبکر سے پہلے پچاس آدمیوں سے زیادہ اسلام لاچکے تھے لیکن وہ اسلام کی حیثیت سے ہم سے افضل تھے۔ نیز لکھا ہے کہ عمر ابن خطاب پینتالیس (۴۵) مردوں اور اکیس عورتوں کے بعد مسلمان ہوئے "و لکن اسبق الناس اسلاما و ايمانا فهو علی بن ابی طالب" ( یعنی لیکن اسلام و ایمان کی حیثیت سے تمام انسانوں سے سابق تر علی ابن ابی طالب(ع) تھے)

علی(ع) کا ایمان کفر سے نہیں تھا، فطری تھا

علاوہ اس کے کہ علی(ع) تمام مسلمانوں سے پہلے ایمان لائے ان کے لیے اس سلسلے میں ایک فضیلت اور ہے جو تمام فضائل میں اہم اور ان کے مخصوص صفات میں سے ہے کہ " اسلامه عن الفطرة و اسلامهم عن الکفر " یعنی علی(ع) کا اسلام فطرت سے ہے اور دوسروں کا اسلام کفر سے تھا۔ امیرالمومنین علی علیہ السلام ایک چشم زدن کے لیے بھی کفر وشرک کی طرف مائل نہیں ہوئے۔ بر خلاف عام مسلمین اور صحابہ کے جو کفر وشرک اور بت پرستی سے نکل کے اسلام لائے ( کیونکہ آپ قبل بلوغ ہی دعوت پیغمبر(ص) پر ایمان لے آئے ) چنانچہ حافظ ابو نعیم اصفہانی نے مانزل القرآن فی علی میں اور میر سید علی ہمدانی نے مودۃ القربی میں ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ:

" وَاللَّهِ مَامِنْ عَبْدٍآمَنَ بِاللَّهِ إِلَّاوَقَدْعَبَدَالصَّنَمَ فَقَال َوَهُوَالْغَفُورُلِمَن ْتَابَ مِنْ عِبَادَةِالْأَصْنَامِ إِلَّاعَلِيَّ بْنَ أَبِيطَالِبٍ فَإِنَّهُ آمَنَب ِاللَّهِ مِنْ غَيْرِأَنْ عَبَدَصَنَماً"

( یعنی قسم خدا کی بندوں ( یعنی امت) میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہے جو ایمان لانے سے پہلے بت پرستی نہ کرچکا ہو سوا علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے کیونکہ آپ بغیر بت کی برستش کئے ہوئے خدا پر ایمان لائے۔)

محمد بن یوسف گنجی شافعی کفایت الطالب باب۲۴ میں اپنے اسناد کے ساتھ رسول اللہ(ص) سے نقل کرتے ہیں کہ

۲۳۱

فرمایا :

"سبّاق الامةثلاثةلم يشرکواباللّه طرفةعين: عليّ بن أبيطالب،وصاحب ياسين،ومؤمن آل فرعون ،فهم الصدّيقون ،حبيب النجارمؤمن آل يسوحزقيل مؤمن آل فرعون وعلي بن أبيطالب وهوأفضلهم."

( یعنی تمام امتوں میں ( ایمان و توحید کی دوڑ میں) سبقت لے جانے والے تین شخص ہیں جنہوں نے چشم زدن کے لیے بھی خدا کے ساتھ شرک نہیں کیا، علی ابن ابی طالب(ع) صاحب یاسین اور مومن آل فرعون، پس یہی لوگ سچے ہیں یعنی نجیب بخار مومن آل یاسین حزقیل مومن آل فرعون اور علی ابن ابی طالب(ع) اور آپ ان سب میں، فضل ہیں۔)

چنانچہ نہج البلاغہ میں ہے کہ حضرت نے خود فرمایا : "فانى ولدت على الفطرةوسبق تالى الايمان والهجرة." ( یعنی میں فطرت توحید پر پیدا ہوا اور رسول خدا(ص) کےساتھ ایمان و ہجرت میں پیش قدمی کی۔)

نیز حافظ ابونعیم اصفہانی، شافعی اور آپ کے دوسرے علماء جیسے ابن ابی الحدید نے نقل کیا ہے: "إنّ عليّالم يكفرباللّه طرفةعين " ( یعنی حقیقتا علی علیہ السلام نے پلک جھپکنے کے برابر بھی خدا کے ساتھ کفر نہیں کیا، اور امام احمد بن حنبل نے مسند اور سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ میں ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے زمعہ بن خارجہ سے کہا : " إِنَّ ه لَمْ يَعْبُدْصَنَماًوَلَاوَثَناًوَلَمْ يَشْرَبْ خَمْراً" ( یعنی علی علیہ السلام نے ہرگز بت کو سجدہ نہیں کیا اور کبھی شراب نہیں پی اور تمام انسانوں سے پہلے اسلام لائے۔)

آپ جو یہ کہتے ہیں کہ شیخین کا ایمان علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے ایمان سے افضل تھا تو کیا آپ نے یہ حدیث شریف نہیں دیکھی ہے جس کو ابن مغازلی شافعی نے فضائل میں، امام احمد حنبل نے مسند میں، خطیب خوارزمی نے مناقب میں سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ میں اور آپ کے دوسرے اکابر علماء نے رسول اکرم(ص) سے نقل کیا ہے کہ فرمایا :

"لَوْوُزِنَ إِيمَانُ عَلِيٍ وَإِيمَانُأ ُمَّتِيل َرَجَحَ إِيمَانُ عَلِيٍّ عَلَى إِيمَانِ أُمَّتِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ."

(یعنی اگر علی(ع) کے ایمان کا میری امت ایمان سے وزن کیا جائے تو علی(ع) کا ایمان میری امت کے قیامت تک کے ایمان پر بھاری ہوگا۔)

نیز سید میر علی ہمدانی نے مودۃ القربی مودت ہفتم میں، خطیب خوارزمی نے مناقب میں اور امام ثعلبی نے اپنی تفسیر میں خلیفہ ثانی عمر ابن خطاب سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول خدا(ص) کو یہ فرماتے ہوئے سنا

"لَوْأَنَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ وَالْأَرَضِين َالسَّبْع وُضِعَن فِي كِفَّةمِيزَانِ وَوُضِعَ إِيمَانُ عَلِيٍ فِي كِفَّةمِيزَانِ لَرَجَحَ إِيمَانُ عَلِيٍّ."

یعنی اگر ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کو ترازو کے ایک پلے میں رکھیں اور علی(ع) کا ایمان دوسرے پلے میں تو یقینا علی(ع) کا ایمان سب پر بھاری پڑے گا۔

اور ایک مشہور شاعر سفیان بن مصعب بن کوفی نے اسی بنیاد پر اپنے اشعار میں نظم کیا ہے۔

أشهدبالله لقدقال لنامحمدوالقول منهماخفي

لوأن إيمان جميعالخلق ممن سكن الأرض ومن حلال سما

۲۳۲

يجعل في كفةميزان لكي يوفى بإيمان علي ماوفى.

یعنی خدا کی قسم میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد رسول اللہ (ص) نے ہم سے بیان فرمایا کہ کسی پر مخفی نہ رہے کہ اگر زمین و آسمان میں بسنے والے کل مخلوقات کا ایمان ترازو کے ایک پلے میں رکھا جائے اور علی(ع) کا ایمان دوسرے پلے میں تب بھی علی(ع) ہی کا ایمان وزنی ہوگا۔

علی (ع) تمام صحابہ اور امت سے افضل تھے

شافعی فقیہ و عارف میر سید علی ہمدانی نے کتاب مودۃ القربی میں اس سلسلے کی بکثرت ایسی روایتیں نقل کی ہیں جو دلائل و براہین اور احادیث صحیحہ کےساتھ علی علیہ السلام کی افضلیت ثابت کرتی ہیں۔ منجملہ ان کے مودت ہفتم میں ابن عباس ( خیر امت) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا :

"أفضل رجال العالمين في زماني هذاعلي عليه السلام"

( یعنی عالمین کے مردوں میں سب سے افضل میرے زمانے میں یہ علی علیہ السلام ہیں۔)

اور آپ کے اکثر منصف علماء علی علیہ السلام کی افضلیت پر عقیدہ رکھتے تھے، چنانچہ ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد سیم ص۴۰ میں لکھا ہے کہ فرقہ معتزلہ کے پیشوا ابوجعفر اسکافی کی ایک کتاب مجھ کو ملی جس میں لکھا ہوا تھا کہ بشر بن معتمر، ابوموسی، جعفر بن مبشر اور بغداد کے دوسرے علمائے متقدمین کا مذہب یہ تھا کہ

"أن أفضل المسلمين علي بن أبيطالب ثم ابنه الحسن ثم ابنه الحسين ثم حمزةبن عبدالمطلب ثم جعفربن أبيطالب الخ"

( یعنی تمام مسلمانوں سے افضل و برتر علی بن ابی طالب(ع) پھر آپ کے فرزند حسن(ع) پھر کے آپ کے دوسرے فرزند حسین(ع) پھر حمزہ بن عبدالمطلب پھر جعفر ابن ابی طالب(معروف بہ طیار۔)

ہمارے شیخ ابوعبداللہ بصری، شیخ ابوالقاسم بلخی اور شیخ ابوالحسن خیاط ( جو متاخرین علمائے بغداد کے شیخ تھے) ابوجعفر اسکافی کے اسی عقیدے پر تھے ( یعنی حضرت علی(ع) کو افضلیت تھی) اور افضلیت سے مراد یہ تھی کہ یہ حضرات خدا کے نزدیک تمام انسانوں سے بزرگ تھے، ان کا ثواب سب سے زیادہ تھا، اور روز قیامت ان کا درجہ سب سے بلند ہوگا۔ اس کے بعد شرح نہج البلاغہ کے اسی ص۴۰ کے آخر میں معتزلی عقیدے کی تفصیل نظم کی ہے اور کہا ہے:

وخيرخلق الله بعدالمصطفى أعظمهم يوم الفخارشرفا

السيدالمعظم الوصي بعل البتول المرتضى علي

وابناه ثم حمزةوجعفرثم عتيق بعدهم لاينكر

( یعنی رسول خدا(ص) کے بعد انسانوں میں سب سے بہتر اور اپنے شرف پر فخر کرنے کے روز سب سے بزرگ سید

۲۳۳

بزرگوار، وصی پیغمبر(ص) اور شوہر بتول فاطمہ زہرا(س)، علی مرتضی(ع) ہیں اور ان کے بعد ان کے دونوں فرزند (حسن و حسین علیہما السلام) پھر حمزہ پھر جعفر ( طیار) تھے۔)

شیخ : اگر آپ نے خلیفہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی افضلیت ایمان کے ثبوت میں علماء کے اقوال دیکھے ہوتے تو ایسی باتیں نہ کہتے ۔

خیر طلب: آپ بھی اگر متعصب لوگوں کے اقوال سے منہ موڑ کے اپنے محقق اور منصف علماء کے بیانات پر توجہ کرتے تو دیکھتے کہ وہ سب کے سب افضلیت علی علیہ السلام کی تصدیق کرتے ہیں۔

نمونے کے لیے شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید معتزلی جلد سیم ص۲۶۴ کی طرف رجوع کیجئے جس میں آپ کے اس بیان کو جاحظ سے نقل کیا ہے کہ ابوبکر کا ایمان علی علیہ السلام کے ایمان سے افضل تھا، اس کے بعد فرقہ معتزلہ کے بڑے عالم اور شیخ ابوجعفر اسکافی نے اس کے رد میں جواب دیا ہے اس کو تفصیل سے درج کیا ہے، چنانچہ عقلی و نقلی دلائل سے کئی صفحات میں ثابت کرتے ہیں کہ بچپن میں حضرت علی(ع) کا ایمان ابوبکر اور تمام صحابہ کے ایمان سے افضل تھا، یہاں تک کہ ص۲۷۵ میں کہتے ہیں کہ ابوجعفر نے کہا ہے:

"إننالاننكرفضل الصحابةوسوابقهم ولكنناننكرتفضيلأحدمن الصحابةعلى علي بن أبيطالب انتهی"

( یعنی ہم صحابہ کے فضائل کا انکار نہیں کرتے لیکن ان میں سے کسی کو علی ابن ابی طالب(ع) سے برتر نہیں مانتے۔)

ان اقوال سے قطع نظر در اصل امیرالمومنین کا نام دوسرے صحابہ کے مقابلے میں لانا قیاس مع الفارق ہے کیونکہ ان حضرات کی منزل اس قدر بلند ہے کہ صحابہ وغیرہ میں سے کسی کےساتھ ہرگز اس کا موازنہ نہیں ہوسکتا جس سے آپ فضائل صحابہ کو چند یکطرفہ روایتوں کے سہارے ( اگر ان کو صحیح بھی مان لیا جائے) ان حضرات کے جامع و مانع کمالات کے مقابلے پر لانے کی کوشش کریں۔ چنانچہ میر سید علی ہمدانی مودۃ القربی کی مودت ہفتم میں احمد بن محمد الکرزی بغدادی سے نقل کرتےہیں کہ انہوں نے کہا میں نے عبداللہ بن احمد حنبل کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے اپنے باپ احمد ابن حنبل سے فضیلت صحابہ کا درجہ دریافت کیاتو وہ ابوبکر، عمر اور عثمان کا نام لے کر خاموش ہوگئے۔ " فقلت يا ابت اين علی بن ابی طالب قال هو من اهل البيت لايقاس به هئولاء" یعنی میں نے کہا اے پدر بزرگوار علی ابن ابی طالب (ع) کہاں ہیں؟ ( یعنی ان کا نام کیوں نہیں لیا) میرے باپ نے کہا کہ وہ اہل بیت رسالت میں سےہیں ان پر ان لوگوں کا قیاس نہیں ہوسکتا) یعنی جس طرح سے اہلبیت رسول (ص) کا مقام و مرتبہ آیات قرآنی اور ارشادات رسول کے حکم تمام مقامات و مراتب سے بلند تر ہے اسی طرح علی علیہ السلام کے مدارج تمام صحابہ وغیرہ سے بالاتر ہیں، چنانچہ آپ کا نام صحابہ کے شمار میں نہ لانا چاہیئے بلکہ وہ نبوت اور منصب رسالت کے ساتھ منسوب ہوگا۔

جیسا کہ آیہ مباہلہ میں حضرت کو نفس رسول(ص) کی جگہ پر بتایا گیا ہے۔

اس مقصد پر ایک دوسری حدیث بھی گواہ ہے جو اسی فصل اور مودت ہفتم میں بروایت عبداللہ ابن عمر ابن خطاب ابی وائل سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا ایک مرتبہ ہم نے اصحاب پیغمبر(ص) کو شمار کیا تو ابوبکر ، عمر اور عثمان کا نام لیا، ایک شخص نے کہا :

" يَابَاعَبْدِالرَّحْمَنِ فَعَلِيٌّ ما هوقَالَ: عَلِيٌ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ لَايُقَاسُ بِهِ احدٌ،هُومَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلیَ اللهُ عَليَه

۲۳۴

وَ آلِه فِي دَرَجَتِهِ"

( یعنی اے ابو عبدالرحمن ( عبد اللہ ابن عمر کی کنیت) علی(ع) کا نام کیوں چھوڑ دیا؟ تو میں نے کہا علی(ع) اہل بیت رسالت میں سے ہیں کسی کا ان پر قیاس نہیں ہوسکتا وہ رسول خدا(ص) کے ساتھ ان کے درجے میں ہیں) یعنی علی علیہ السلام کا حساب امت اور صحابہ سے الگ اور خود پیغمبر(ص) کے ساتھ شامل ہے۔ آپ رسول اللہ(ص) کے ہمراہ آں حضرت کے درجے میں ہیں۔

اجازت دیجئے کہ اسی فصل اور مودت سے ایک حدیث اور پیش کروں ۔ جابر ابن عبداللہ انصاری سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا ایک روز مہاجرین و انصار کے سامنے رسول اللہ(ص) نے حضرت علی(ع) سے فرمایا:

"ياعلي لوأنّ أحداعبداللّه حق عبادته ثم يشك فيك وأهل بيتك أنكم أفضل الناس كان في النار"

( یعنی اے علی(ع) اگر کوئی شخص خدا کی پوری عبادت کرے پھر تمہارے اور تمہارے اہل بیت کے تمام لوگوں سے افضل ہونے میں شک کرے تو وہ جہنم میں جھونک دیا جائیگا۔)

یہ حدیث سنتے ہی سارے اہل جلسہ خصوصا حافظ صاحب نے استغفار کیا کہ شک کرنے والوں میں شمار نہ ہوں۔

خلاصہ یہ کہ ان احادیث کثیرہ میں سے جو صحابہ اور تمام امت پر امیرالمومنین علی علیہ السلام کی فضیلت اور حق تقدم کے بارے میں وارد ہوئی ہیں یہ مشتے نمونہ از خروارے ہے اب یا تو ان اخبار صحیحہ کی جو آپ ہی کی معتبر کتابوں میں موجود ہیں رد کیجئے یا عقل و نقل کے حکم سے تسلیم کیجئے کہ آن حضرت(ع) کا ایمان تمام صحابہ اور امت سے افضل تھا جن میں ابوبکر اور عمر بھی تھے۔

اگر آپ فریقین کی اس متفق علیہ حدیث پر توجہ کیجئے جو غزوہ احزاب اور جنگ خندق میں امیرالمومنین(ع) کے ہاتھ سے مشہور بہادر عمرو بن عبدود کے مارے جانے پر رسول اللہ(ص) نے ارشاد فرمائی کہ:

"ضربةعلي يوم الخندق أفضل من عبادةالثقلين."

( یعنی خندق کے روز علی (ع) کا ایک وار( عمرو بن عبدود پر) جن وانس کی عبادت سے بہتر ہے)

تو آپ خود تصدیق کیجئے گا کہ جب حضرت علی علیہ السلام کا ایک عمل جن و انس کی عبادت سے بہتر ہے تو اگر آپ کے سارے اعمال و عبادات شامل ہو جائیں تو یقینا آپ کی افضلیت ثابت ہوگی اور اس سے سوا متعصب اور کینہ پرور انسان کے اور کوئی انکار نہیں کرسکتا۔

اگر تمام صحابہ اور اہل عالم پر آپ کی افضلیت کے لیے اور کوئی دلیل نہ ہوتی تو صرف آیت مباہلہ ہی اس کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہوتی جس میں خدا نے علی (ع) کو بمنزلہ نفس رسول (ص) قرار دیا ہے۔ کیونکہ یہ مسلم ہے کہ رسول اللہ اولین و آخرین میں تمام انسانوں سے افضل تھے۔ لہذا آیہ شریفہ میں کلمہ انفسنا کے حکم سے علی علیہ السلام بھی اولین و آخرین میں سب سے افضل ٹھہرتے ہیں۔ پس آپ حضرات تصدیق کیجئے کہ والذین معہ کے حقیقی مصداق امیرالمومنین علیہ السلام ہیں جو تمام مسلمانوں سے پہلے ظہور اسلام کی ابتدا ہی سے رسول خدا(ص) کے ہمراہ تھے اور آخر عمر تک ان سے ذرہ برابر بھی کوئی لغزش نہیں ہوئی۔

( نماز کا وقت ہوگیا لہذا مولوی صاحبان فریضہ ادا کرنے اٹھے، فراغت کے بعد چائے نوشی ہوئی پھر میری طرف سے سلسلہ کلام شروع ہوا۔)

خیر طلب : رہی یہ بات کہ شب ہجرت امیرالمومنین (ع) رسول خدا(ص) کے ہمراہ کیوں روانہ نہیں ہوئے تو یہ بہت واضح چیز ہے کیونکہ آنحضرت(ص) کے حکم سے چند اہم کام آپ کے سپرد تھے جن کو مکہ معظمہ میں ٹھہرکے انجام دینا تھا۔

۲۳۵

اس لیے کہ پیغمبر(ص) کے نزدیک علی(ع) سے زیادہ کوئی امین نہیں تھا جو ان امانتوں کو جو آں حضرت(ص

کے پاس جمع تھیں، ان کے مالکوں تک پہنچاتا۔

( دوست و دشمن کا اتفاق ہے کہ رسول اللہ(ص) اہل مکہ کے امین تھے، یہاں تک کہ دشمن بھی اپنی امانتیں آںحضرت(ص) کے پاس جمع کرتے تھے تاکہ تلف ہونے سے محفوظ رہیں۔ اسی وجہ سے آںحضرت(ص) مکہ میں محمد امین(ص) کے نام سے مشہور تھے۔)

دوسرا فرض امیرالمومنین(ع) کے ذمے یہ تھا کہ آنحضرت(ص) کے اہل و عیال اور باقی مسلمانوں کو مدینے پہنچائیں۔

علاوہ ان چیزوں کے اگر علی علیہ السلام اس رات غار میں نہیں تھے تو قطعا اس سے بالاتر منزل حاصل کی کہ رسول اللہ(ص) کے بستر اور چادر میں آرام فرمایا اگرچہ خلیفہ ابوبکر آں حضرت(ص) کے طفیل میں ثانی اثنین کہے جاتے ہیں لیکن اسی شب میں مصاحبت غار سے زیادہ نیک اور اہم عمل کے سلسلے میں مستقل طور پر ایک آیت حضرت کی شان میں نازل ہوئی، اور یہ عمل خود آپ کی ایسی فضیلت و منقبت ہے جس پر فریقین ( شیعہ و سنی) کا اتفاق ہے کیونکہ اگر اس رات امیرالمومنین(ع) فداکاری اور جان نثاری نہ فرماتے تو رسول اللہ(ص) کی جان مبارک بہت بڑے خطرے میں تھی۔

شب ہجرت بستر رسول (ص) پر سونے سے علی(ع) کی شان میں نزول آیت

چنانچہ آپ کے موثق اکابر علماء نے اپنی تفسیروں اور معتبر کتابوں میں اس بزرگ فضیلت کو نقل کیا ہے جیسے ابن سبع مغربی نے شفاء الصدور میں، طبرانی نے اوسط اور کبیر میں، ابن اثیر نے اسدالغابہ جلد چہارم ص۲۵ میں، نور الدین بن صباغ مالکی نے فصول المہمہ فی معرفت الائمہ ص۳۳ میں، ابو اسحق ثعلبی، فاضل نیشاپوری امام فخر الدین رازی اور جلال الدین سیوطی نے اپنی تفسیروں میں، حافظ ابونعیم اصفہانی مشہور شافعی محدث نے مانزل القرآن فی علی میں، خطیب خوارزمی نے مناقب میں، شیخ الاسلام ابراہیم بن محمد حموینی نے فرائد میں، محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب ۶۲ میں، امام احمد حنبل نے مسند میں، محمد بن جریہ نے مختلف طریقوں سے، ابن ہشام نے سیرۃ النبی میں، حافظ محدچ شام نے اربعین طوال میں، امام غزالی نے احیاء العلوم جلد سوم ص۲۲۳ میں، ابوالسعادات نے فضائل العترۃ الطاہرہ میں، ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں، سبط ابن جوزی نے تذکرۃ خواص الامہ ص۲۱ میں اور آپ کے دوسرے بڑے بڑے علماء نے مختلف عبارات و الفاظ میں اس مطلب کا خلاصہ نقل کیا ہے اور شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ باب۲۱ میں بکثرت علماء سے نقل کیا ہے کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حکم خداوندی سے مدینہ منورہ کے لیے آمادہ ہوئے تو شب ہجرت امیرالمومنین علی علیہ السلام سے فرمایا کہ میری سبز خضرمی چادر جو میں رات کو استعمال کرتا ہوں اوڑھ لو اور میرے بستر پر سوجائو پس علی(ع) آنحضرت(ص) کی جہ سو رہے اور وہ سبز چادر سر سے اوڑھ لی تاکہ گھر کا محاصرہ کئے ہوئے کفار یہ نہ سمجھیں کہ بستر پر علی(ع) ہیں، یہاں تک کہ رسول خدا(ص) صحیح و سلامت تشریف لے گئے۔

۲۳۶

خدا کی جانب سے جبرئیل و میکائیل کو خطاب ہوا کہ میں نے تم دونوں کے درمیان بھائی چارہ قرار دیا ہے اور قطعا تم میں سے ایک کی عمر دوسرے سے زیادہ ہے لہذا کون اس کو منظور کرتا ہے کہ اپنی زیادہ عمر جس کا اس کو علم بھی نہیں ہے دوسرے کو بخش دے؟ انہوں نے عرض کیا کہ یہ حکم ہے یا اختیاری فعل؟ خطاب ہوا کہ حکم نہیں ہے تم کو اختیار حاصل ہے۔ تو ان میں سے کوئی بھی تیار نہیں ہوا کہ اپنی خوشی سے عمر کی زیادتی دوسرے کو دے دے اس وقت ارشاد ہوا۔

" انی آخيتبين علی ولی ومحمدنبيّ (ص) فنثر علی حياته للنبی فوقدعلى فراش النبی بقيه بمهجته اهبطاإلى الأرض ،فاحفظاه من عدوه"

( یعنی در حقیقت میں نے اپنے ولی علی(ع) اور اپنے نبی محمد(ص) کے درمیان برادری قائم کی ہے پس علی(ع) نے پیغمبر(ص) کی زندگی پر اپنی زندگی کو فدا اور نثار کردیا ہے اور ان کے بستر پر سو کردل و جان سے ان کی حفاظت کر رہے ہیں، لہذا تم دونوں زمین پر جائو اور دشمنوں کے شر سے ان کی حفاظت کرو۔)

چنانچہ دونوں زمین پر آئے ، جبرئیل حضرت کے سرہانے اور میکائیل پائینی بیٹھے اور جبرئیل کہہ رہے تھے :

"بخ بخ من مثلك ياابن أبيطالب اللّه عزّوجلّ يباهي بک الملائكة"

( یعنی مبارک ہو مبارک ہو کون ہے تمہارے مثل اے ابوطالب کے فرزند کیونکہ خدائے عزوجل تمہارے وجود سے ملائکہ پر فخر و مباہات کررہا ہے۔)

پھر خاتم الانبیاء(ص) پر سورہ ۲ ( بقرہ) کی آیت ۲۰۳ نازل ہوئی " وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغاءَمَرْضاتِ اللَّهِ واللَّه رئوف بالعبادِ "

( یعنی انسانوں میں سے بعض ( علی علیہ السلام) وہ ہیں جو رضائے الہی کے لیے اپنی جان پر کھیل جاتے ہیں اور خدا ایسے بندوں پر مہربان ہے۔)

اب میں آپ حضرات سے درخواست کرتا ہوں کہ جب قیام گاہ پر تشریف لے جائیے تو اس آیہ شریفہ کو آیہ غار سے جو آپ کا محل استدلال ہے ملاکر بغیر شیعہ و سنی کے بغض و محبت کے غیر جانبداری اور انصاف سے مطالعہ فرمائیے اور غور کیجئے کہ آیا افضلیت اس شخص کے لیے ہے جو مسافرت میں چند روز غم و اندوہ کے ساتھ پیغمبر(ص) کے ہمراہ رہا ہو یا اس شخص کے لیے جس نے اسی شب میں جان نثاری کی اور قدرت و شجاعت و مسرت کے ساتھ علم و ارادہ سے اپنا نفس رسول اللہ(ص) پر قربان کیا تاکہ آن حضرت(ص) سلامتی کے ساتھ تشریف لے جائیں ، پروردگار عالم نے ملائکہ روحانی کے سامنے اس کی ذات پر فخر و مباہات کیا اور اس کی مدح میں ایک مستقل آیت نازل فرمائی ہے۔ چنانچہ آپ کے بڑے بڑے علماء نے ہٹ دھرمی معاندین کے مقابلے میں تھوڑے غور و فکر سے کام لے کر از روئے انصاف تصدیق کی ہے کہ علی علیہ السلام ابوبکر سے افضل تھے اور بستر پر علی(ع) کا سونا غار میں ابوبکر کی مصاحبت سے بدرجہ ہا بہتر و بالاتر تھا۔

سنی علماء کا اعتراف کہ غار میں مصاحبت ابوبکر سے علی(ع) کا بستر رسول (ص) پر سونا بہتر تھا

اگر شرح نہج البلاغہ جلد سیم کو ص۲۶۹ سے ص۲۸۱ تک غور سے پڑھئے اور ابوبکر پر علی(ع) کی افضلیت میں، ابوعثمان

۲۳۷

جاحظ ( ناصبی) کے شبہات کے رد میں معتزلیوں کے بہت بڑے عالم اور شیخ امام ابو جعفر اسکافی کے بیانات اور دلائل پر گہری نظر ڈالئے تو دیکھئے گا کہ یہ انصاف پسند عالم مضبوط دلیلوں کے ساتھ بہ صراحت ثابت کرتا ہے کہ پیغمبر(ص) کے بستر پر آنحضرت (ص) کے حکم سے علی(ع) کا سونا غار کے سفر میں ابوبکر کی چند روزہ مصاحبت سے افضل تھا، یہاں تک کہ لکھا ہے :

"قال علماءالمسلمين إن فضيلةعلي ع تلك الليلةلانعلم أحدامن البشرنالمثله اإلاماكان من إسحاق وإبراهيم عنداستسلامه للذبح"

( یعنی علمائے مسلمین کا اتفاق ہے کہ حقیقتا اس رات میں علی(ع) کی وہ فضیلت ہے جس کو کوئی انسان نہیں پاسکا سوا اسحق وہ ابراہیم کے جب وہ ذبح اور قربانی پر آمادہ تھے)

( لیکن اکثر مفسرین و مورخین اور علمائے اخبار کا عقیدہ ہے کہ ذبیح اسماعیل تھے نہ کہ اسحق) اور ص۳۷۱ کے آخر میں ابو عثمان جاحظ ( ناصبی) کے جواب میں ابو جعفر اسکافی کا قول نقل کیا ہےکہ وہ کہتے ہیں :

"قد بينا فضيلة المبيت على الفراش على فضيلة الصحبةفي الغار بما هو واضح لمن أنصف و نزيد هاهنا تأكيدا بما لم نذكره فيما تقدم فنقول إن فضيلة المبيت على الفراش على الصحبة في الغار لوجهين أحدهما أن عليا ع قد كان أنس بالنبي ص و حصل له بمصاحبته قديما أنس عظيم و إلف شديد فلما فارقه عدم ذلك الأنس و حصل به أبو بكر فكان ما يجده علي ع من الوحشة و ألم الفرقة موجبا زيادة ثوابه لأن الثواب على قدر المشقة.و ثانيهما أن أبا بكر كان يؤثر الخروج من مكة و قد كان خرج من قبل فردا فازداد كراهية للمقام فلما خرج مع رسول الله ص وافق ذلك هوى قلبه و محبوب نفسه فلم يكن له من الفضيلة ما يوازي فضيلة من احتمل المشقة العظيمة و عرض نفسه لوقع السيوف و رأسه لرضخ الحجارة لأنه على قدر سهولة العبادة يكون نقصان الثواب "

( ماحصل مطلب یہ کہ میں پہلے شب ہجرت علی(ع) سے بستر رسول(ص) پر سونے کو ابوبکر کے غار میں پیغمبر(ص) کے ساتھ ہونے سے اس طرح افضل ثابت کرچکا ہوں کہ کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی اب مزید تاکید کے لیے جو کچھ کہہ چکا ہوں اس کے علاوہ اور دو صورتوں سے اس مقصد کو ثابت کرتا ہوں۔ رسول اللہ(ص) کے ساتھ علی علیہ السلام کو قدیمی مصاحبت کی وجہ سے شدید انس و محبت تھی لہذا جب جدائی ہوئی تو سارا لطف الفت جاتا رہا اور اس کے برعکس ابوبکر کو یہی چیز حاصل ہوگئی۔ پس موقع پر علی علیہ السلام جو وحشت اور درد جدائی محسوس کر رہے تھے اس سے آپ کا ثواب بڑھ رہا تھا کیونکہ ثواب عمل مشقت کے لحاظ سے ہوتا ہے( جیسا کہ قول ہے افضل الاعمال احمزہا۔ (یعنی جو عمل زیادہ سخت ہے وہی افضل ہے) اور ابوبکر چونکہ برابر مکے سے نکلنے پر تیار تھے چنانچہ پہلے کبھی اکیلے نکل بھی چکے تھے، لہذا ان کے لیے قیام مکہ کی ناگواریی بڑھ گئی، پس جب وہ رسول اللہ(ص) وہاں سے نکلے تو ان کی تمنائے دلی اور مراد قبلی بر آئی لہذا ان کے لیے کوئی ایسی فضیلت ثابت نہیں ہوتی جو فضیلت علی(ع) کے مقابل لائی جاسکے جنہوں نے عظیم مشقت برداشت کی، اپنی جان کو تلواروں کے سامنے اور سر کو دشمنوں کی سنگباری کے لیے پیش کردیا۔ بدیہی چیز ہے، کہ

۲۳۸

سہولت کے حساب سے عبادت کا ثواب گھٹ جاتا ہے۔ اور ابن سبع مغربی شفاء الصدور میں بسلسلہ بیان شجاعت علی علیہ السلام کہتے ہیں :

" علماء العرب اجمعوا علی ان نوم علی عليه السلام علی فراش رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم افضل لمن خروجه معه و ذالک انه وطن نفسه علی مفاعاته لرسول الله صلی الله عليه و آله وسلم و اثر حياته و اظهر شجاعته بين اقرانه"

یعنی علماء عرب کا اجماع ہے کہ شب ہجرت علی علیہ السلام کا بستر رسول(ص) پر سونا ان کے آں حضرت کے ہمراہ باہر نکلنے سے افضل تھا کیونکہ آپ نے اپنے نفس کو آںحضرت(ص) کا قائم مقام بنایا اپنی زندگی کو آں حضرت(ص) پر قربان کیا اور اپنے ہم عصروں کے درمیان اپنی شجاعت ثابت کردی۔ یہ مطلب اس قدر واضح ہے کہ کسی نے اس حقیقت سے انکار نہیں کیا ہے سوا جنون یا جنون سے بدترتعصب کی وجہ سے بس اتنا ہی کافی ہے۔ میں معافی چاہتا ہوں کہ اس مقام پر گفتگو کا سلسلہ طولانی ہوگیا، بہتر ہے کہ اب ہم پھر اصل مطلب پر آجائیں آپ نے جو یہ فرمایا کہ اشداء علی الکفار سے خلیفہ ثانی عمر ابن خطاب مراد ہیں تو فقط آپ کے دعوے سے یہ بات نہیں مانی جاسکتی، دیکھنا چاہئیے کہ آیا یہ صفت بھی موصوف کی حالت سے مطابقت کرتی ہے یا نہیں چنانچہ اگر مطابق ہے تو ہم دل وجان سے ماننے کے لیے تیار ہیں۔

علمی مباحث اور دینی مناظروں میں عمر کے اندر کوئی تیزی نہیں تھی

بدیہی بات ہے کہ شدت اور تیزی دو طرح کی ہوسکتی ہے ایک علمی مباحث اور مذہبی مناظروں میں تاکہ مخالف علماء کےمقابل زور کلام دکھایا جاسکے۔ دوسرے میدان جنگ اور جہاد فی سبیل اللہ میں بذات خود ثبات قدم، شجاعت اور درشتی کا ثبوت دیا جائے۔ چنانچہ علمی مباحث اور دینی مناظروں کے سلسلے میں تاریخ کے اندر خلیفہ عمر کی قطعا کوئی مضبوطی نظر نہیں آتی کیونکہ جہاں تک میں نے فریقین ( شیعہ و سنی) کی کتب اخبار و تواریخ اور غیروں کی کتابیں پڑھی ہیں اور اس بارے میں خلیفہ عمر کی کوئی شدت اور شہ زوری نہیں دیکھی، چنانچہ اگر آپ حضرات نے موصوف کی کوئی علمی مہارت دینی مباحثہ اور غیر مذہب کے عالموں سے مںاظرے ان کی ساری تاریخ زندگی میں دیکھے ہوں تو بیان کیجئیے میں ممنون ہوں گا کیونکہ اس سے میرے معلومات میں اضافہ ہوگا۔

عمر کا اقرار کہ علی(ع) مجھ سے علم و عمل میں بہتر ہیں

البتہ جہاں تک مجھے معلوم ہے اور آپ کے بڑے بڑے علماء نے بھی اپنی معتبر کتابوں میں لکھا ہے خلفاء ثلاثہ کے

۲۳۹

زمانوں میں ہر علمی اور مذہبی مشکل مسئلہ کو حل کرنے والے صرف علی علیہ السلام تھے۔

باوجودیکہ بنی امیہ اور خلفائے ثلاثہ کے عقیدت مندوں نے خلفاء کے فضائل میں اس کثرت سے روایتیں گھڑی ہیں( جیسا کہ خود آپ کے علماء نے جرح و تعدیل کی کتابوں میں لکھا ہے) لیکن وہ لوگ ان حقیقتوں کو نہیں چھپا سکے کہ جس وقت یہودی عیسائی اور دوسرے مخالف فرقوں کے علماء ابوبکر، عمر اور عثمان کے دور خلافت میں ان کے پاس آکر یا خطوط بھیج کر مشکل مسائل دریافت کرتے تھے تو یہ لوگ مجبور ہو کر علی علیہ السلام کا وسیلہ اختیار کرتے تھے اور کہتے تھے ان پیچیدہ اور مشکل سوالات کا سوا علی ابن ابی طالب(ع) کے اور کوئی جواب نہیں دے سکتا۔ چنانچہ آپ تشریف لاتے تھے اور اس طریقے سے ان کو جواب دیتے تھے، کہ وہ مطمئن ہوکر مسلمان ہوجاتے تھے،جیسا کہ خلفاء کے تاریخی حالات میں تفصیل سے درج ہے، خلفاء ابوبکر و عمر وعثمان، کا علی علیہ السلام کے مقابلے میں اپنی مجبوری ظاہر کرنا، آں حضرت کی برتری کا اقرار اور یہ کہنا کہ اگر علی نہ ہوتے تو ہم ہلاک ہوجاتے، اس مقصد کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔

چنانچہ آپ کے مخفی اکابر علماء نے نقل کیا ہے کہ خلیفہ ابوبکر کہتے تھے۔ " أقيلوني أقيلوني فلستبخيركم وعليّ فيكم " یعنی مجھ کو برطرف کرود مجھ کو برطرف کردو کیونکہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں جب کہ علی(ع) تم میں موجود ہوں۔

اور خلیفہ عمر نے مختلف معاملات اور مواقع پرستر مرتبہ سے زیادہ اقرار کیا کہ " لولاعلي لهلك عمر." یعنی اگر علی(ع) نہ ہوتے تو میں ہلاک ہوگیا ہوتا۔ کتابوں میں ان خطرناک مواقع میں سے اکثر کا ذکر موجود ہے۔ لیکن میں یہ نہیں چاہتا کہ اب جلسے کا زیادہ وقت خراب ہوکیونکہ شاید اس سے اہم مسائل پر گفتگو کرنا ضروری ہو۔

نواب : قبل صاحب اس موضوع سے بڑھ کے کون سا مطلب اہم ہوگا کیا یہ کلمات ہماری معتبر کتابوں میں موجود ہیں؟ اگر میں اور آپ کے پیش نظر ہیں تو ہماری مزید بصیرت کے لیے بیان فرمائیے ہم ممنون ہوں گے۔

خیر طلب : میں نے عرض کیا کہ اکابر علماء اہلسنت اس بات پر متفق ہیں( سوا چند متعصب اور ضدی لوگوں کے) اور مختلف عبارات و الفاظ کے ساتھ متعدد مقامات پر اس کو نقل کیا ہے۔ میں مطلب کی وضاحت اور اتمام حجت کے لیے ان میں سے بعض اسناد و کتب کی طرف جو اس وقت مجھ کو یاد ہیں اشارہ کرتا ہوں۔

قول عمر لولاعلي لهلك عمر کے اسناد

۱۔ قاضی فضل اللہ بن روز بہان متعصب نے ابطال الباطل میں۔ ۲۔ ابن حجر عسقلانی متوفی سنہ۸۵۲ ھ نے تہذیب التہذیب مطبوعہ حیدر آباد دکن ص۳۳۷ میں۔ ۳۔ نیز ابن حجر نے اصابہ جلد دوم مطبوعہ مصر ص۵۰۹ میں۔ ۴۔ ابن قتیبہ دینوری متوفی سنہ۳۷۶ھ نے کتاب تاویل مختلف الحدیث ص۲۰۱، ۲۰۲ میں۔ ۵۔ ابن حجر مکی متوفی سنہ۹۷۳ھ نے صواعق محرقہ ص۷۸ میں۔ ۶۔ حاج احمد آفندی نے ہدایت المرتاب ص۱۲۶ ، ص۱۵۲ میں۔ ۷۔ ابن اثیر جزری متوفی سنہ۶۳۰ھ نے اسد الغابہ جلد چہارم ص۲۲ میں۔ ۸۔ جلال الدین

۲۴۰

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

خَلْقَه - إِنَّه مَا تَوَجَّه الْعِبَادُ إِلَى اللَّه تَعَالَى بِمِثْلِه - واعْلَمُوا أَنَّه شَافِعٌ مُشَفَّعٌ وقَائِلٌ مُصَدَّقٌ - وأَنَّه مَنْ شَفَعَ لَه الْقُرْآنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُفِّعَ فِيه - ومَنْ مَحَلَ بِه الْقُرْآنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صُدِّقَ عَلَيْه - فَإِنَّه يُنَادِي مُنَادٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ - أَلَا إِنَّ كُلَّ حَارِثٍ مُبْتَلًى فِي حَرْثِه وعَاقِبَةِ عَمَلِه - غَيْرَ حَرَثَةِ الْقُرْآنِ - فَكُونُوا مِنْ حَرَثَتِه وأَتْبَاعِه - واسْتَدِلُّوه عَلَى رَبِّكُمْ واسْتَنْصِحُوه عَلَى أَنْفُسِكُمْ - واتَّهِمُوا عَلَيْه آرَاءَكُمْ واسْتَغِشُّوا فِيه أَهْوَاءَكُمْ.

الحث على العمل

الْعَمَلَ الْعَمَلَ ثُمَّ النِّهَايَةَ النِّهَايَةَ - والِاسْتِقَامَةَ الِاسْتِقَامَةَ ثُمَّ الصَّبْرَ الصَّبْرَ والْوَرَعَ الْوَرَعَ - إِنَّ لَكُمْ نِهَايَةً فَانْتَهُوا إِلَى نِهَايَتِكُمْ - وإِنَّ لَكُمْ عَلَماً فَاهْتَدُوا بِعَلَمِكُمْ - وإِنَّ لِلإِسْلَامِ غَايَةً فَانْتَهُوا إِلَى غَايَتِه - واخْرُجُوا إِلَى اللَّه بِمَا افْتَرَضَ عَلَيْكُمْ مِنْ حَقِّه - وبَيَّنَ لَكُمْ مِنْ وَظَائِفِه - أَنَا شَاهِدٌ لَكُمْ وحَجِيجٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَنْكُمْ.

مخلوقات سے سوال نہ کرو۔اس لئے کہ مالک کی طرف متوجہ ہونے کا اس کا جیسا کوئی وسیلہ نہیں ہے اور یاد رکھو کہ وہ ایسا شفیع ہے جس کی شفاعت مقبول ہے اور ایسا بولنے والا ے جس کی بات مصدقہ ہے۔جس کے لئے قرآن روز قیامت سفارش کردے اس کے حق میں شفاعت مقبول ہے اور ایسا بولنے والا ہے جس کی بات مصدقہ ہے۔جس کے لئے قرآن روز قیامت سفارش کردے اس کے حق میں شفاعت قبول ہے اور جس کے عیب کو وہ بیان کردے اس کا عیب تصدیق شدہ ہے۔روز قیامت ایک منادی آوازدے گا کہ ہر کھیتی کرنے والا اپنی کھیتی اور اپنے عمل کے انجام میں مبتلا ہے لیکن جو اپنے دل میں قرآن کا بیج بونے والے تھے وہ کامیاب ہیں لہٰذا تم لوگ انہیں لوگوں اور قرآن کی پیروی کرنے والوں میں شامل ہو جائو۔ اسے مالک کی بارگاہ میں رہنما بنائو اور اس سے اپنے نفس کے بارے میں نصیحت کرواور اپنے خیالات کو متہم قراردو اور اپنے خواہشات کو فریب خوردہ تصور کرو۔

عمل کرو عمل

انجام پر نگاہ رکھو انجام۔استقامت سے کام لو استقامت اور احتیاط کرو احتیاط تمہارے لئے ایک انتہا معین ہے اس کی طرف قدم آگے بڑھائو اور اللہ کی بارگاہ میں اس کے حقوق کی ادائیگی اور اس کے احکام کی پابندی کے ساتھ حاضری دو۔میں تمہارے اعمال کا گواہ بنوںگا اور روز قیامت تمہاری طرف سے وکالت کروں گا۔

۳۲۱

نصائح للناس

أَلَا وإِنَّ الْقَدَرَ السَّابِقَ قَدْ وَقَعَ - والْقَضَاءَ الْمَاضِيَ قَدْ تَوَرَّدَ - وإِنِّي مُتَكَلِّمٌ بِعِدَةِ اللَّه وحُجَّتِه - قَالَ اللَّه تَعَالَى -( إِنَّ الَّذِينَ قالُوا رَبُّنَا الله ثُمَّ اسْتَقامُوا - تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلائِكَةُ أَلَّا تَخافُوا ولا تَحْزَنُوا - وأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ ) - وقَدْ قُلْتُمْ رَبُّنَا اللَّه فَاسْتَقِيمُوا عَلَى كِتَابِه - وعَلَى مِنْهَاجِ أَمْرِه وعَلَى الطَّرِيقَةِ الصَّالِحَةِ مِنْ عِبَادَتِه - ثُمَّ لَا تَمْرُقُوا مِنْهَا ولَا تَبْتَدِعُوا فِيهَا - ولَا تُخَالِفُوا عَنْهَا - فَإِنَّ أَهْلَ الْمُرُوقِ مُنْقَطَعٌ بِهِمْ عِنْدَ اللَّه يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ إِيَّاكُمْ وتَهْزِيعَ الأَخْلَاقِ وتَصْرِيفَهَا - واجْعَلُوا اللِّسَانَ وَاحِداً ولْيَخْزُنِ الرَّجُلُ لِسَانَه - فَإِنَّ هَذَا اللِّسَانَ جَمُوحٌ بِصَاحِبِه - واللَّه مَا أَرَى عَبْداً يَتَّقِي تَقْوَى تَنْفَعُه حَتَّى يَخْزُنَ لِسَانَه - وإِنَّ لِسَانَ الْمُؤْمِنِ مِنْ وَرَاءِ قَلْبِه - وإِنَّ قَلْبَ الْمُنَافِقِ مِنْ وَرَاءِ لِسَانِه - لأَنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِكَلَامٍ تَدَبَّرَه فِي نَفْسِه - فَإِنْ كَانَ خَيْراً

(نصائح)

یاد رکھو کہ جو کچھ ہونا تھا وہ ہو چکا اور جو فیصلہ خداوندی تھا وہ سامنے آچکا ۔میں خدائی وعدہ اور اس کی حجت کے سہارے کلام کر رہا ہوں '' بیشک جن لوگوں نے خدا کو خدا مانا اور اسی بات پر قائم رہ گئے۔ان پر ملائکہ اس بشارت کے ساتھ نازل ہوتے ہیں کہ خبر دار ڈرو نہیں اور پریشان مت ہو۔تمہارے لئے اس جنت کی بشارت ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے '' اور تم لوگ تو خداکوخدا کہہ چکے ہو تو اب اس کی کتاب پر قائم رہو اور اس کے امر کے راستہ پر ثابت قدم رہو۔اس کی عبادت کے نیک راستہ پرجمے رہو اور اس سے خروج نہ کرو اور نہ کوئی بدعت ایجاد کرو اور نہ سنت سے اختلاف کرو۔اس لئے کہاطاعت الٰہی سے نکل جانے والے کا رشتہ پروردگار سے روز قیامت ٹوٹ جاتا ہے۔اس کے بعد ہوشیار ہوکر تمہارے اخلاق میں الٹ پھیرا دل بدل نہ ہونے پائے۔اپنی زبان کو ایک رکھو اور اسے محفوظ رکھو اس لئے کہ یہ زبان اپنے مالک سے بہت منہ زوری کرتی ہے۔خدا کی قسم میں نے کسی بندۂ مومن کو نہیں دیکھا جس نے اپنے تقویٰ سے فائدہ اٹھایا ہو مگر یہ کہ اپنی زبان کو روک کر رکھا ہے۔مومن کی زبان ہمیشہ اس کے دل کے پیچھے ہوتی ہے اور منافق کا دل ہمیشہ اس کی زبان کے پیچھے ہوتا ہے۔اس لئے کہ مومن جب بات کرنا چاہتا ہے تو پہلے دل میں غوروفکر کرتا ہے۔اس کے بعد حرف خیر ہوتا ہے تو اس کا

۳۲۲

أَبْدَاه وإِنْ كَانَ شَرّاً وَارَاه - وإِنَّ الْمُنَافِقَ يَتَكَلَّمُ بِمَا أَتَى عَلَى لِسَانِه - لَا يَدْرِي مَا ذَا لَه ومَا ذَا عَلَيْه - ولَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - لَا يَسْتَقِيمُ إِيمَانُ عَبْدٍ حَتَّى يَسْتَقِيمَ قَلْبُه - ولَا يَسْتَقِيمُ قَلْبُه حَتَّى يَسْتَقِيمَ لِسَانُه - فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَلْقَى اللَّه تَعَالَى - وهُوَ نَقِيُّ الرَّاحَةِ مِنْ دِمَاءِ الْمُسْلِمِينَ وأَمْوَالِهِمْ - سَلِيمُ اللِّسَانِ مِنْ أَعْرَاضِهِمْ فَلْيَفْعَلْ.

تحريم البدع

واعْلَمُوا عِبَادَ اللَّه أَنَّ الْمُؤْمِنَ يَسْتَحِلُّ الْعَامَ - مَا اسْتَحَلَّ عَاماً أَوَّلَ ويُحَرِّمُ الْعَامَ مَا حَرَّمَ عَاماً أَوَّلَ - وأَنَّ مَا أَحْدَثَ النَّاسُ لَا يُحِلُّ لَكُمْ شَيْئاً - مِمَّا حُرِّمَ عَلَيْكُمْ - ولَكِنَّ الْحَلَالَ مَا أَحَلَّ اللَّه والْحَرَامَ مَا حَرَّمَ اللَّه - فَقَدْ جَرَّبْتُمُ الأُمُورَ

اظہار کرتا ہے ورنہ اسے دل ہی میں چھپا رہنے دیتا ہے لیکن منافق جواس کے منہ میں آتاہے بک دیتاہے ۔اسے اس بات کی فکرنہیں ہوتی ہے کہ میرے موافق ہے یا مخالف اور پیغمبر (ص) اسلام نے فرمایا ہے کہ '' کسی شخص کا ایمان اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا ہے جب تک اس کا دل درست نہ ہو اور کسی شخص کا دل درست نہیں ہو سکتا ہے جب تک اس کی زبان درست نہ ہو۔اب جو شخص بھی اپنے پروردگار سے اس عالم میں ملاقات کر سکتا ہے کہ اس کا ہاتھ مسلمانوں کے خون اور ان کے مال سے پاک ہو اور اس کی زبان ان کی آبرو ریزی سے محفوظ ہو تو اسے بہر حال ایسا ضرور کرنا چاہیے۔

(بدعتوں کی ممانعت)

یاد رکھو کہ مرد مومن اس سال(۱) اسی چیز کو حلال کہتا ہے کہ جسے اگلے سال حلال کہہ چکا ہے اور اس سال اسی شے کو حرام قرار دیتا ہے جسے پچھلے سال حرام قرار دے چکا ہے۔اور لوگوں کی بدعتیں اور ان کی ایجادات حرام الٰہی کو حلال نہیں بنا سکتی ہیں۔ حلال و حرام وہی ہے جسے پروردگار نے حلال و حرام کہہ دیا ہے۔تم نے تمام امور کو

(۱)اسلام کے حلال و حرام دو قسم کے ہیں بعض امور وہ ہیں جنہیں مطلق طور پر حلال یا حرام قراردیا گیا ہے۔ان میں تغیر کا کوی امکان نہیں ہے اور انہیں بدلنے والا دین خدا میں دخل اندازی کرنے والا ہے جو خود ایک طرح کا کفر ہے۔اگرچہ بظاہر اس کا نام کفر یا شرک نہیں ہے۔

اور بعض امور وہ ہیں جن کی علیت یا حرمت حالات کے اعتبارسے رکھی گئی ہے۔ظاہر ہے کہ ان کا حکم حالات کے بدلنے کے ساتھ خود ہی بدل جائے گا۔اس میں کسی کے بدلنے کا کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا ہے۔ایک مسلمان اور غیر مسلم یا ایک مومن اور غیر مومن کا فرق یہی ہے کہ مسلمان اور امر الہیہ کا مکمل اتباع کرتاہے اور کافر یا منافق ان احکام کو اپنے مصالح اور منافع کے مطابق بدل لیتا ہے اور اس کا نام مصلحت اسلام یا مصلحت مسلمین رکھ دیتا ہے ۔

۳۲۳

وضَرَّسْتُمُوهَا - ووُعِظْتُمْ بِمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ وضُرِبَتِ الأَمْثَالُ لَكُمْ - ودُعِيتُمْ إِلَى الأَمْرِ الْوَاضِحِ فَلَا يَصَمُّ عَنْ ذَلِكَ إِلَّا أَصَمُّ - ولَا يَعْمَى عَنْ ذَلِكَ إِلَّا أَعْمَى - ومَنْ لَمْ يَنْفَعْه اللَّه بِالْبَلَاءِ والتَّجَارِبِ - لَمْ يَنْتَفِعْ بِشَيْءٍ مِنَ الْعِظَةِ وأَتَاه التَّقْصِيرُ مِنْ أَمَامِه - حَتَّى يَعْرِفَ مَا أَنْكَرَ ويُنْكِرَ مَا عَرَفَ - وإِنَّمَا النَّاسُ رَجُلَانِ مُتَّبِعٌ شِرْعَةً ومُبْتَدِعٌ بِدْعَةً - لَيْسَ مَعَه مِنَ اللَّه سُبْحَانَه بُرْهَانُ سُنَّةٍ ولَا ضِيَاءُ حُجَّةٍ.

القرآن

وإِنَّ اللَّه سُبْحَانَه لَمْ يَعِظْ أَحَداً بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ - فَإِنَّه حَبْلُ اللَّه الْمَتِينُ وسَبَبُه الأَمِينُ - وفِيه رَبِيعُ الْقَلْبِ ويَنَابِيعُ الْعِلْمِ - ومَا لِلْقَلْبِ جِلَاءٌ غَيْرُه مَعَ أَنَّه قَدْ ذَهَبَ الْمُتَذَكِّرُونَ - وبَقِيَ النَّاسُونَ أَوِ الْمُتَنَاسُونَ - فَإِذَا رَأَيْتُمْ خَيْراً فَأَعِينُوا عَلَيْه - وإِذَا رَأَيْتُمْ شَرّاً فَاذْهَبُوا عَنْه - فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كَانَ يَقُولُ - يَا ابْنَ آدَمَ اعْمَلِ الْخَيْرَ ودَعِ الشَّرَّ - فَإِذَا أَنْتَ جَوَادٌ قَاصِدٌ ».

آزمالیا ہے اور سب کا باقاعدہ تجربہ کرلیا ہے اور تمہیں پہلے والوں کے حالات سے نصیحت بھی کی جا چکی ہے اور ان کی مثالیں بھی بیان کی جا چکی ہے اور ایک واضح امر کی دعوت بھی دی جا چکی ہے کہ اب اس معاملہ میں بہرہ پن اختیار نہیں کرے گا مگر وہی جو واقعاً بہرہ ہو اور انددھا نہیں بنے گا مگر وہی جو واقعاً اندھا ہو اور پھر جسے بلائیں اور تجربات فائدہ نہ دے سکیں اسے نصیحتیں کیا فائدہ دیں گی۔اس کے سامنے صرف کوتاہیاں ہی رہیں گی جن کے نتیجہ میں برائیوں کو اچھا اور اچھائیوں کو برا سمجھنے لگے گا۔لوگ دو ہی قسم کے ہوتے ہیں۔یا وہ جو شریعت کا اتباع کرتے ہیں یا وہ جو بدعتوں کی ایجاد کرتے ہیں اور ان کے پاس نہ سنت کی کوئی دلیل ہوتی ہے اور نہ حجت پروردگار کی کوئی روشنی ۔

(قرآن)

پروردگار نے کسی شخص کو قرآن سے بہتر کوئی نصیحت نہیں فرمائی ہے۔کہ یہی خدا کی مضبوط رسی اور اس کا امانت دار وسیلہ ہے اس میں دلوں کی بہار کا سامان اور علم کے سر چشمے ہیں اور دل کی جلاء اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔اب اگرچہ نصیحت حاصل کرنے والے جا چکے ہیں اور صرف بھول جانے والے یا بھلا دینے والے باقی رہ گئے ہیں لیکن پھر بھی تم کوئی خیر دیکھو تو اس پر لوگوں کی مدد کرو اور کوئی شر دیکھو تو اس سے دور ہو جائو کہ رسول اکرم (ص) برابر فرمایا کرتے تھے '' فرزند آدم خیر پرعمل کر اور شر کونظراندازکردے تاکہ بہترین نیک کردار اورمیانہ رو ہو جائے ۔

۳۲۴

أنواع الظلم

أَلَا وإِنَّ الظُّلْمَ ثَلَاثَةٌ - فَظُلْمٌ لَا يُغْفَرُ وظُلْمٌ لَا يُتْرَكُ - وظُلْمٌ مَغْفُورٌ لَا يُطْلَبُ - فَأَمَّا الظُّلْمُ الَّذِي لَا يُغْفَرُ فَالشِّرْكُ بِاللَّه - قَالَ اللَّه تَعَالَى( إِنَّ الله لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِه ) - وأَمَّا الظُّلْمُ الَّذِي يُغْفَرُ - فَظُلْمُ الْعَبْدِ نَفْسَه عِنْدَ بَعْضِ الْهَنَاتِ - وأَمَّا الظُّلْمُ الَّذِي لَا يُتْرَكُ - فَظُلْمُ الْعِبَادِ بَعْضِهِمْ بَعْضاً - الْقِصَاصُ هُنَاكَ شَدِيدٌ لَيْسَ هُوَ جَرْحاً بِاْلمُدَى - ولَا ضَرْباً بِالسِّيَاطِ ولَكِنَّه مَا يُسْتَصْغَرُ ذَلِكَ مَعَه - فَإِيَّاكُمْ والتَّلَوُّنَ فِي دِينِ اللَّه - فَإِنَّ جَمَاعَةً فِيمَا تَكْرَهُونَ مِنَ الْحَقِّ - خَيْرٌ مِنْ فُرْقَةٍ فِيمَا تُحِبُّونَ مِنَ الْبَاطِلِ - وإِنَّ اللَّه سُبْحَانَه لَمْ يُعْطِ أَحَداً بِفُرْقَةٍ خَيْراً مِمَّنْ مَضَى - ولَا مِمَّنْ بَقِيَ.

لزوم الطاعة

يَا أَيُّهَا النَّاسُ - طُوبَى لِمَنْ شَغَلَه عَيْبُه عَنْ عُيُوبِ النَّاسِ - وطُوبَى لِمَنْ لَزِمَ بَيْتَه وأَكَلَ قُوتَه - واشْتَغَلَ بِطَاعَةِ رَبِّه وبَكَى عَلَى خَطِيئَتِه - فَكَانَ مِنْ نَفْسِه فِي شُغُلٍ والنَّاسُ مِنْه فِي رَاحَةٍ!

اقسام ظلم

یاد رکھو کہ ظلم کی تین قسمیں ہیں۔وہ ظلم جس کی بخشش نہیں ہے اور وہ ظلم جسے چھوڑا نہیں جا سکتا ہے۔اور وہ ظلم جس کی بخش ہوجاتی ہے اور اس کا مطالبہ نہیں ہوتا ہے۔ وہ ظلم جس کی بخشش نہیں ہے وہ اللہ کا شریک قرار دینا ہے کہ پروردگار نے خود اعلان کردیا ہے کہ اس کا شریک قراردینے والے کی مغفرت نہیں ہو سکتی ہے اوروہ ظلم جو معاف کردیا جاتا ہے وہ انسان کا اپنے نفس پر ظلم ہے معمولی گناہوں کے ذریعہ۔اور وہ ظلم جسے چھوڑا نہیں جا سکتا ہے۔وہ بندوں کا ایک دوسرے پر ظلم ہے کہ یہاں قصاص بہت سخت ہے اور یہ صرف چھری کا زخم اور تازیانہ کی مار نہیں بلکہ ایسی سزا ہے جس کے سامنے یہ سب بہت معمولی ہیں لہٰذا خبردار دی خدا میں رنگ بدلنے کی روشن اختیار مت کرو کہ جس حق کو تم نا پسند کرتے ہو اس پرمتحد رہنا اس باطل پر چل کرمنتشر ہو جانے سے بہر حال بہتر ہے جسے تم پسند کرتے ہو۔پروردگار نے افتراق و انتشار میں کسی کو کوئی خیرنہیں دیا ہے نہ ان لوگوں میں جو چلے گئے اور نہ ان میں جوباقی رہ گئے ہیں۔

لوگو!خوش نصیب ہے وہ جسے اپنا عیب دوسروں کے عیب پر نظر کرنے سے مشغول کرلے اور قابل مبارکباد ہے وہ شخص جو اپنے گھرمیں بیٹھ رہے ۔اپنا رزق کھائے اور اپنے پروردگار کی اطاعت کرتا رہے اوراپنے گناہوں پر گریہ کرتا رہے۔وہ اپنے نفس میں مشغول رہے اور لوگ اس کی طرف سے مطمئن رہیں۔

۳۲۵

(۱۷۷)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في معنى الحكمين

فَأَجْمَعَ رَأْيُ مَلَئِكُمْ عَلَى أَنِ اخْتَارُوا رَجُلَيْنِ - فَأَخَذْنَا عَلَيْهِمَا أَنْ يُجَعْجِعَا عِنْدَ الْقُرْآنِ ولَا يُجَاوِزَاه - وتَكُونُ أَلْسِنَتُهُمَا مَعَه وقُلُوبُهُمَا تَبَعَه فَتَاهَا عَنْه - وتَرَكَا الْحَقَّ وهُمَا يُبْصِرَانِه - وكَانَ الْجَوْرُ هَوَاهُمَا والِاعْوِجَاجُ رَأْيَهُمَا - وقَدْ سَبَقَ اسْتِثْنَاؤُنَا عَلَيْهِمَا فِي الْحُكْمِ بِالْعَدْلِ - والْعَمَلِ بِالْحَقِّ سُوءَ رَأْيِهِمَا وجَوْرَ حُكْمِهِمَا - والثِّقَةُ فِي أَيْدِينَا لأَنْفُسِنَا حِينَ خَالَفَا سَبِيلَ الْحَقِّ - وأَتَيَا بِمَا لَا يُعْرَفُ مِنْ مَعْكُوسِ الْحُكْمِ

(۱۷۷)

آپ کا ارشاد گرامی

(صفین کے بعد حکمین کے بارے میں )

تمہاری جماعت(۱) ہی نے دوآدمیوں کے انتخاب پر اتفاق کرلیا تھا۔میں نے تو ان دونوں سے شرط کرلی تھی کہ قرآن کی حدوں پر واقف کریں گے اور اس سے تجاوز نہیں کریں گے۔ان کی زبان اس کے ساتھ رہے گی اوروہ اسی کا اتباع کریں گے لیکن وہ دونوں بھٹک گئے اور حق کو دیکھ بھال کر نظر انداز کردیا۔ظلم ان کی آرزو تھا اور کج فہمی ان کی رائے جب کہ اس بد ترین رائے اوراس ظالمانہ فیصلہ سے پہلے ہی میں نے یہ شرط کردی تھی کہ عدالت کے ساتھ فیصلہ کریں گے اور حق کے مطابق عمل کریں گے لہٰذا اب میرے پاس اپنے حق میں حجت و دلیل موجود ہے کہ ان لوگوں نے راہ حق سے اختلاف کیا ہے اور طے شدہ قرار داد کے خلاف الٹا حکم کیا ہے۔

(۱) جب معاویہ نے صفین میں اپنے لشکر کو ہارتے ہوئے دیکھا تو نیزوں پر قرآن بلند کردیا کہ ہم قرآن سے فیصلہ چاہتے ہیں۔امیر المومنین نے فرمایا کہ یہ صرف مکاری اور غداری ہے ورنہ میں تو خود ہی قرآن ناطق ہو ں ۔مجھ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کون ہو سکتا ہے لیکن شام کے نمک خوار اور ضمیر فروش سپاہیوں نے ہنگامہ کردیا اور حضرت کومجبور کردیا کہ دو افراد کو حکم بنا کر ان سے فیصلہ کرائیں ۔آپ نے اپنی طرف سے ابن عباس کو پیش کیا لیکن ظالموں نے اسے بھی نہ مانا۔بالآخر آپ نے فرمایا کہ کوئی بھی فیصلہ کرے لیکن قرآن کے حدود سے آگے نہ بڑھے کہ میں نے قرآن ہی کے نام پرجنگ کو موقوف کیا ہے مگر افسوس کہ یہ کچھ نہ ہو سکا اور عمرو عاص کی عیارینے آپ کے خلاف فیصلہ کرادیا اوراس طرح اسلام ایک عظیم فتنہ سے دوچار ہوگیا لیکن آپ کا عذر واضح رہا کہ میں نے فیصلہ میں قرآن کی شرط کی تھی اور یہ فیصلہ قرآن سے نہیں ہوا ہے لہٰذا مجھ پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔

۳۲۶

(۱۷۸)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في الشهادة والتقوى. وقيل: إنه خطبها بعد مقتل عثمان في أول خلافته

اللَّه ورسوله

لَا يَشْغَلُه شَأْنٌ ولَا يُغَيِّرُه زَمَانٌ - ولَا يَحْوِيه مَكَانٌ ولَا يَصِفُه لِسَانٌ - لَا يَعْزُبُ عَنْه عَدَدُ قَطْرِ الْمَاءِ ولَا نُجُومِ السَّمَاءِ - ولَا سَوَافِي الرِّيحِ فِي الْهَوَاءِ - ولَا دَبِيبُ النَّمْلِ عَلَى الصَّفَا - ولَا مَقِيلُ الذَّرِّ فِي اللَّيْلَةِ الظَّلْمَاءِ - يَعْلَمُ مَسَاقِطَ الأَوْرَاقِ وخَفِيَّ طَرْفِ الأَحْدَاقِ - وأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللَّه غَيْرَ مَعْدُولٍ بِه - ولَا مَشْكُوكٍ فِيه ولَا مَكْفُورٍ دِينُه - ولَا مَجْحُودٍ تَكْوِينُه شَهَادَةَ مَنْ صَدَقَتْ نِيَّتُه - وصَفَتْ دِخْلَتُه وخَلَصَ يَقِينُه وثَقُلَتْ مَوَازِينُه - وأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُه ورَسُولُه الَمْجُتْبَىَ مِنْ خَلَائِقِه - والْمُعْتَامُ لِشَرْحِ حَقَائِقِه والْمُخْتَصُّ بِعَقَائِلِ كَرَامَاتِه - والْمُصْطَفَى لِكَرَائِمِ رِسَالَاتِه - والْمُوَضَّحَةُ بِه أَشْرَاطُ الْهُدَى والْمَجْلُوُّ بِه غِرْبِيبُ الْعَمَى.

(۱۷۸)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(شہادت ایمان اور تقویٰ کے بارے میں )

نہ اس پر کوئی حالت طاری ہو سکتی ہے اور نہ اسے کوئی زمانہ بدل سکتا ہے اور نہ اس پر کوئی مکان حاوی ہو سکتا ہے اور نہ اس کی توصیف ہو سکتی ہے۔اس کے علم سے نہ بارش کے قطرے مخفی ہیں اور نہآسمان کے ستارے۔نہ فضائوں میں ہواکے جھکڑ مخفی ہیں اور نہ پتھروں پرچیونٹی کے چلنے کی آواز اور نہ اندھیری رات میں اس کی پناہ گاہ۔وہ پتوں کے گرنے کی جگہ بھی جانتا ہے اورآنکھ کے دز دیدہ اشارے بھی۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔نہ اس کا کوئی ہمسرو عدیل ہے اور نہ اس میں کسی طرح کا شک ے نہ اس کے دین کا انکار ہو سکتا ہے اور نہ اس کی تخلیق سے انکار کیا جا سکتا ہے۔یہ شہادت اس شخص کی ہے جس کی نیت سچی ہے اور باطن صاف ہے اس کا یقین خالص ہے اور میزان عمل گرانبار۔

اور پھر میں شہادت دیتا ہوں کہ حضرت محمد (ص) اس کے بندہ اور تمام مخلوقات میں منتخب رسول ہیں۔انہیں حقائق کی تشریح کے لئے چنا گیا ہے اور بہترین شرافتوں سے مخصوص کیا گیا ہے۔عظیم ترین پیغامات کے لئے ان کا انتخاب ہوا ہے اور ان کے ذریعہ ہدایت کی علامات کی وضاحت کی گئی ہے اور گمراہی کی تاریکیوں کو دور کیا گیا ہے۔

۳۲۷

أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الدُّنْيَا تَغُرُّ الْمُؤَمِّلَ لَهَا والْمُخْلِدَ إِلَيْهَا - ولَا تَنْفَسُ بِمَنْ نَافَسَ فِيهَا وتَغْلِبُ مَنْ غَلَبَ عَلَيْهَا - وايْمُ اللَّه مَا كَانَ قَوْمٌ قَطُّ فِي غَضِّ نِعْمَةٍ مِنْ عَيْشٍ - فَزَالَ عَنْهُمْ إِلَّا بِذُنُوبٍ اجْتَرَحُوهَا لـ( أَنَّ الله لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ ) - ولَوْ أَنَّ النَّاسَ حِينَ تَنْزِلُ بِهِمُ النِّقَمُ وتَزُولُ عَنْهُمُ النِّعَمُ فَزِعُوا إِلَى رَبِّهِمْ بِصِدْقٍ مِنْ نِيَّاتِهِمْ ووَلَه مِنْ قُلُوبِهِمْ - لَرَدَّ عَلَيْهِمْ كُلَّ شَارِدٍ وأَصْلَحَ لَهُمْ كُلَّ فَاسِدٍ - وإِنِّي لأَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تَكُونُوا فِي فَتْرَةٍ - وقَدْ كَانَتْ أُمُورٌ مَضَتْ مِلْتُمْ فِيهَا مَيْلَةً - كُنْتُمْ فِيهَا عِنْدِي غَيْرَ مَحْمُودِينَ - ولَئِنْ رُدَّ عَلَيْكُمْ أَمْرُكُمْ إِنَّكُمْ لَسُعَدَاءُ - ومَا عَلَيَّ إِلَّا الْجُهْدُ - ولَوْ أَشَاءُ أَنْ أَقُولَ لَقُلْتُ( عَفَا الله عَمَّا سَلَفَ ) !

لوگو! یاد رکھو یہ دنیا اپنے سے لو گانے والے اور اپنی طرف کھینچ جانے والے کو ہمیشہ دھوکہ دیا کرتی ہے۔جو اس کا خواہش مند ہوتا ہے اس سے بخل نہیں کرتی ہے اورجواس پر غالب آجاتا ہے اس پرقابو پالیتی ہے ۔خدا کی قسم کوئی بھی قوم جو نعمتوں کی ترو تازہ اورشاداب زندگی میں تھی اور پھر اس کی وہ زندگی زائل ہوگئی ہے تو اس کا کوئی سبب سوائے ان گناہوں کے نہیں ہے جن کا ارتکاب(۱) اس قوم نے کیا ہے۔اس لئے کہ پروردگار اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا ہے۔پھر بھی جن لوگوں پر عتاب نازل ہوتاہے اورنعمتیں زائل ہو جاتی ہیں اگرصدق نیت اورت وجہ قلب کے ساتھ پروردگار کی بارگاہ میں فریاد کریں تو وہ گئی ہوئی نعمتوں کو واپس کردے گا اور بگڑے کاموں کو بنادے گا۔میں تمہارے بارے میں اس بات سے خوفزدہ ہوں کہ کہیں تم جہالت اورنادانی میں نہ پڑ جائو ۔کتنے ہی معاملات ایسے گزر چکے ہیں جن میں تمہارا جھکائو اس رخ کی طرف تھا جس میں تم قطعاً قابل تعریف نہیں تھے۔اب اگر تمہیں پہلے کی روشن کی طرف پلٹا دیا جائے تو پھرنیک بخت ہو سکتے ہو لیکن میری ذمہ داری صرف محنت کرنا ہے اور اگر میں کہنا چاہوں تو یہی کہہ سکتا ہوں کہ پرردگار گزشتہ معاملات سے درگزر فرمائے۔

(۱)بعض حضرات نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اگر ارفاد کا زوال صرف گناہوں کی بنیاد پرہوتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ دنیا میں بے شمار بد ترین قسم کے گناہ گار پائے جاتے ہیں لیکن ان کی زندگی میں راحت و آرام' تقدم اورترقی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔کیا اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ گناہوں کا راحت و آرام یا رنج و الم میں کوئی دخل نہیں ہے اور ان مسائل کے اسباب کسی اورشے میں پائے جاتے ہیں۔لیکن اس کا واضح سا جواب یہ ہے کہ امیر المومنین نے افراد کاذکر نہیں کیا ہے ۔قوم کاذکر کیا ہے اور قوموں کی تاریخ گواہ ہے کہ ان کا زوال ہمیشہ انفرادی یا اجتماعی گناہوں کی بنا پر ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جس قوم نے شکر خدا نہیں ادا کیا وہ صفحہ ہستی سے نابود ہوگئی اور جس قوم نے نعمت کی فراوانی کے باوجود شکر خدا سے انحراف نہیں کیا اس کا ذکرآج تک زندہ ہے اور قیامت تک زندہ رہے گا۔

۳۲۸

(۱۷۹)

ومن كلام لهعليه‌السلام

وقد سأله ذعلب اليماني فقال - هل رأيت ربك يا أمير المؤمنين

فقالعليه‌السلام - أفأعبد ما لا أرى فقال وكيف تراه فقال

لَا تُدْرِكُه الْعُيُونُ بِمُشَاهَدَةِ الْعِيَانِ - ولَكِنْ تُدْرِكُه الْقُلُوبُ بِحَقَائِقِ الإِيمَانِ - قَرِيبٌ مِنَ الأَشْيَاءِ غَيْرَ مُلَابِسٍ بَعِيدٌ مِنْهَا غَيْرَ مُبَايِنٍ - مُتَكَلِّمٌ لَا بِرَوِيَّةٍ مُرِيدٌ لَا بِهِمَّةٍ صَانِعٌ لَا بِجَارِحَةٍ - لَطِيفٌ لَا يُوصَفُ بِالْخَفَاءِ كَبِيرٌ لَا يُوصَفُ بِالْجَفَاءِ - بَصِيرٌ لَا يُوصَفُ بِالْحَاسَّةِ رَحِيمٌ لَا يُوصَفُ بِالرِّقَّةِ - تَعْنُو الْوُجُوه لِعَظَمَتِه وتَجِبُ الْقُلُوبُ مِنْ مَخَافَتِه

(۱۸۰)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في ذم العاصين من أصحابه

أَحْمَدُ اللَّه عَلَى مَا قَضَى مِنْ أَمْرٍ وقَدَّرَ مِنْ فِعْلٍ - وعَلَى ابْتِلَائِي بِكُمْ

(۱۷۹)

آپ کا ارشاد گرامی

(جب دغلب یمانی نے دریافت کیا کہ یا امیر المومنین کیا آپ نے اپنے خدا کو دیکھا ہے تو فرمایا کیا میں ایسے خدا کی عبادت کر سکتا ہوں جسے دیکھا بھی نہ ہو۔عرض کی مولا ! اسے کس طرح دیکھا جا سکتا ہے ؟فرمایا)

ا س ے نگاہیں آنکھوں کے مشاہدہ سے نہیں دیکھ سکتی ہیں۔اس کا ادراک دلوں کو حقائق ایمان کے سہارے حاصل ہوتا ہے ۔وہ اشیاء سے قریب ہے لیکن جسمانی اتصال کی بناپ ر نہیں اور دوربھی ہے لیکن علیحدگی کی بنیاد پر نہیں۔وہ کلام کرتا ہے لیکن فکر کا متحاج نہیں اور وہ اراد ہ کرتا ہے لیکن سوچنے کی ضرورت نہیں رکھتا ۔ وہ بلا اعضاء و جوارح کے صانع ہے اور بلا پوشیدہ ہوئے لطیف ہے۔ایسا بڑا ہے جو چھوٹوں پرظلم نہیں کرتا ہے اور ایسا بصیر ہے جس کے پاس حواس نہیں ہیں اور اس کی رحمت میں دل کی نرمی شامل نہیں ہے۔تمام چہرے اس کی عظمت کے سامنے ذلیل و خوار ہیں اور تمام قلوب اس کے خوف سے لرز رہے ہیں۔

(۱۸۰)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

میں خدا کا شکرکرتا ہوں ان امور پر جو گزر گئے اوران افعال پر جو اس نے مقدر کردئیے اوراپنے تمہارے ساتھ مبتلا

۳۲۹

أَيَّتُهَا الْفِرْقَةُ الَّتِي إِذَا أَمَرْتُ لَمْ تُطِعْ - وإِذَا دَعَوْتُ لَمْ تُجِبْ - إِنْ أُمْهِلْتُمْ خُضْتُمْ وإِنْ حُورِبْتُمْ خُرْتُمْ - وإِنِ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَى إِمَامٍ طَعَنْتُمْ - وإِنْ أُجِئْتُمْ إِلَى مُشَاقَّةٍ نَكَصْتُمْ -. لَا أَبَا لِغَيْرِكُمْ مَا تَنْتَظِرُونَ بِنَصْرِكُمْ - والْجِهَادِ عَلَى حَقِّكُمْ - الْمَوْتَ أَوِ الذُّلَّ لَكُمْ - فَوَاللَّه لَئِنْ جَاءَ يَومِي ولَيَأْتِيَنِّي لَيُفَرِّقَنَّ بَيْنِي وبَيْنِكُمْ - وأَنَا لِصُحْبَتِكُمْ قَالٍ وبِكُمْ غَيْرُ كَثِيرٍ - لِلَّه أَنْتُمْ أَمَا دِينٌ يَجْمَعُكُمْ ولَا حَمِيَّةٌ تَشْحَذُكُمْ - أَولَيْسَ عَجَباً أَنَّ مُعَاوِيَةَ يَدْعُو الْجُفَاةَ الطَّغَامَ - فَيَتَّبِعُونَه عَلَى غَيْرِ مَعُونَةٍ ولَا عَطَاءٍ

ہونے پر بھی اے وہ گروہ جسے میں حکم دیتا ہوں تو اطاعت نہیں کرتا ہے اورآواز دیتا ہوں تو لبیک نہیں کہتا ہے۔تمہیں مہلت دے دی جاتی ہے تو خوب باتیں بناتے ہو اور جنگ میں شامل کردیا جاتا ہے تو بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہو۔لوگ کسی امام پر اجتماع کرتے ہیں تو اعتراضات کرتے ہو اور گھیر کر مقابلہ کی طرف لائے جاتے ہو تو فرار اختیار کرلیتے ہو۔

تمہارے دشمنوں کا برا ہو آخر تم میری نصرت اور اپنے حق کے لئے جہاد میں کس چیزکا انتظار کر رہے ہو؟ موت کا یا ذلت کا ؟ خدا کی قسم اگر میرادن آگیا جو بہر حا ل آنے والا ہے تو میرے تمہارے درمیان اس حال میں جدائی ہوگی کہ میں تمہاری صحبت سے دل برداشتہ ہوں گا اور تمہاری موجودگی سے کسی کثرت کا احساس نہ کروں گا۔

خدا تمہارا بھلا کرے ! کیا تمہارے پاس کوئی دین نہیں(۱) ہے۔جو تمہیں متحد کرسکے اورنہ کوئی غیرت جو تمہیں آمادہ کر سکے ؟ کیا یہ بات حیرت انگیز نہیں ہے کہ معاویہ اپنے ظالم اور بدکار ساتھیوں کو آواز دیتاہے تو کسی امداد اور عطا کے بغیر بھی اس کی اطاعت کر لیتے ہیں

(۱) انسان کے پاس دو ہی سرمایہ ہیں جو اسے شرافت کی دعوت دیتے ہیں۔دیندار کے پاس دین اورآزاد منش کے پاس غیرت مگر افسوس کہ امیرالمومنین کے اطراف جمع ہو جانے والے افراد کے پاس نہ دین تھا اور نہ قومی شرافت کا احساس۔اور ظاہر ہے کہ ایسی قوم سے کسی خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی ہے اور نہ وہ کسی وفاداری کا اظہار کر سکتی ہے۔کس قدرافسوس ناک یہ بات ہے کہ عام اسلام میں معاویہ اور عمرو عاص کی بات سنی جائے اورنفس رسول (ص) کی بات کو ٹھکرا دیا جائے بلکہ اس سے جنگ کی جائے ۔کیا اس کے بعد بھی کسی غیرت دار انسان کو زندگی کی آرزو ہو سکتی ہے اور وہ اس زندگی سے دل لگا سکتا ہے۔امیرالمومنین کے اس فقرہ میں کہ '' قزت و رب الکعبة '' بے پناہ درد پایا جاتا ہے۔جس میں ایک طرف اپنی شہادت اور قربانی کے ذریعہ کا میابی کا اعلان ہے اوردوسری طرف اس بے غیرت قوم سے جدائی کی مسرت کااظہار بھی پایا جاتا ہے کہ انسان ایسی قوم سے نجات حاصل کرلے اور اس انداز سے حاصل کرلے کہ اس پر کوئی الزام نہ ہو بلکہ وہ معرکہ حیات میں کامیاب رہے۔

۳۳۰

وأَنَا أَدْعُوكُمْ وأَنْتُمْ تَرِيكَةُ الإِسْلَامِ - وبَقِيَّةُ النَّاسِ إِلَى الْمَعُونَةِ أَوْ طَائِفَةٍ مِنَ الْعَطَاءِ - فَتَفَرَّقُونَ عَنِّي وتَخْتَلِفُونَ عَلَيَّ - إِنَّه لَا يَخْرُجُ إِلَيْكُمْ مِنْ أَمْرِي رِضًى فَتَرْضَوْنَه - ولَا سُخْطٌ فَتَجْتَمِعُونَ عَلَيْه - وإِنَّ أَحَبَّ مَا أَنَا لَاقٍ إِلَيَّ الْمَوْتُ - قَدْ دَارَسْتُكُمُ الْكِتَابَ وفَاتَحْتُكُمُ الْحِجَاجَ - وعَرَّفْتُكُمْ مَا أَنْكَرْتُمْ وسَوَّغْتُكُمْ مَا مَجَجْتُمْ - لَوْ كَانَ الأَعْمَى يَلْحَظُ أَوِ النَّائِمُ يَسْتَيْقِظُ - وأَقْرِبْ بِقَوْمٍ مِنَ الْجَهْلِ بِاللَّه قَائِدُهُمْ مُعَاوِيَةُ - ومُؤَدِّبُهُمُ ابْنُ النَّابِغَةِ !

(۱۸۱)

ومِنْ كَلَامٍ لَهعليه‌السلام

وقَدْ أَرْسَلَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِه - يَعْلَمُ لَه عِلْمَ أَحْوَالِ قَوْمٍ مِنْ جُنْدِ الْكُوفَةِ - قَدْ هَمُّوا بِاللِّحَاقِ بِالْخَوَارِجِ - وكَانُوا عَلَى خَوْفٍ مِنْهعليه‌السلام فَلَمَّا عَادَ إِلَيْه الرَّجُلُ - قَالَ لَه أَأَمِنُوا فَقَطَنُوا أَمْ جَبَنُوا فَظَعَنُوا - فَقَالَ الرَّجُلُ بَلْ ظَعَنُوا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ - فَقَالَعليه‌السلام

اورمیں تم کو دعوت دیتا ہوں اورتم سے عطیہ کاوعدہ بھی کرتا ہوں تو تم مجھ سے الگ ہو جاتے ہو اورمیری مخالفت کرتے ہو۔حالانکہ اب تمہیں اسلام کا ترکہ اور اس کے باقی ماندہ افراد ہو۔افسوس کہ تمہاری طرف نہ میری رضا مندی کی کوئی بات ایسی آتی ہے جس سے تم راضی ہو جائو اور نہ میری ناراضگی کا کوئی مسئلہ ایسا آتا ہے جس سے تم بھی ناراض ہو جائو۔اب تو میرے لئے محبوب ترین شے جس سے میں ملنا چاہتا ہوں صرف موت ہی ہے میں نے تمہیں کتاب خدا کی تعلیم دی ۔تمہارے سامنے کھلے ہوئے دلائل پیش کئے ۔جسے تم نہیں پہچانتے تھے اسے پہچنوایا اورجسے تم تھوک دیاکرتے تھے اسے خوشگوار بنایا۔مگر یہ سب اس وقت کارآمد ہے جب اندھے کو کچھ دکھائی دے اورسوتا ہوا بیدار ہو جائے۔وہ قوم جہالت سے کس قدر قریب ہے۔جس کا قائد معاویہ ہو اور اس کا ادب سکھانے والا نابغہ کا بیٹا ہو۔

(۱۸۱)

آپ کا ارشاد گرامی

(جب آپ نے ایک شخص کو اس کی تحقیق کے لئے بھیجا۔جوخوارج سے ملنا چاہتی تھی اور حضرت سے خوف زدہ تھی اور وہ شخص پلٹ کر آیاتو آپ نے سوال کیا کہ کیا وہ لوگ مطمئن ہو کر ٹھہر گئے ہیں یا بزدلی کا مظاہرہ کرکے نکل پڑے ہیں۔اس نے کہا کہ وہ کوچ کر چکے ہیں۔تو آپ نے فرمایا)

۳۳۱

بُعْداً لَهُمْ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُودُ - أَمَا لَوْ أُشْرِعَتِ الأَسِنَّةُ إِلَيْهِمْ - وصُبَّتِ السُّيُوفُ عَلَى هَامَاتِهِمْ - لَقَدْ نَدِمُوا عَلَى مَا كَانَ مِنْهُمْ - إِنَّ الشَّيْطَانَ الْيَوْمَ قَدِ اسْتَفَلَّهُمْ - وهُوَ غَداً مُتَبَرِّئٌ مِنْهُمْ ومُتَخَلٍّ عَنْهُمْ - فَحَسْبُهُمْ بِخُرُوجِهِمْ مِنَ الْهُدَى وارْتِكَاسِهِمْ فِي الضَّلَالِ والْعَمَى - وصَدِّهِمْ عَنِ الْحَقِّ وجِمَاحِهِمْ فِي التِّيه

(۱۸۲)

ومِنْ خُطْبَةٍ لَهعليه‌السلام :

رُوِيَ عَنْ نَوْفٍ الْبَكَالِيِّ - قَالَ خَطَبَنَا بِهَذِه الْخُطْبَةِ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيٌّعليه‌السلام بِالْكُوفَةِ - وهُوَ قَائِمٌ عَلَى حِجَارَةٍ - نَصَبَهَا لَه جَعْدَةُ بْنُ هُبَيْرَةَ الْمَخْزُومِيُّ - وعَلَيْه مِدْرَعَةٌ مِنْ صُوفٍ وحَمَائِلُ سَيْفِه لِيفٌ - وفِي رِجْلَيْه نَعْلَانِ مِنْ لِيفٍ - وكَأَنَّ جَبِينَه ثَفِنَةُ بَعِيرٍ فَقَالَعليه‌السلام

خدا انہیں(۱) قوم ثمودکی طرح غارت کردے۔یاد رکھو نیزوں کی انیاں ان کی طرف سیدھی کردی جائیں گی اورتلواریں ان کے سروں پر برسنے لگیں گی تو انہیں اپنے کئے پر شرمندگی کا احساس ہوگا۔آج شیطان نے انہیں منتشر کردیا ہے اور کل وہی ان سے الگ ہو کر پرائت و بیزاری کا اعلان کرے گا۔اب ان کے لئے ہدایت سے نکل جانا۔ضلالت اور گمراہی میں گر پڑنا۔ راہ حق سے روک دینا اور گمراہی میں منہ زوری کرنا ہی ان کے تباہ ہونے کے لئے کافی ہے۔

(۱۸۲)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

نوف بکالی سے روایت کی گئی ہے کہ امیر المومنین نے ایک دن کوفہ میں ایک پتھر پرکھڑے ہو کرخطبہ ارشاد فرمایا جسے جعدہ بن ہبیرہ مخزومی نے نصب کیا تھا اور اس وقت آپ اون کا ایک جبہ پہنے ہوئے تھے اور آپ کی تلوار کا پرتلہ بھی لیف خرما کا تھا اور پیروں میں لیف خرما ہی کی جوتیاں تھیں آپ کی پیشانی اقدس پر سجدوں کے گھٹے نمایاں تھے ۔فرمایا !

(۱) بنی ناجیہ کا ایک شخص جس کا نام خریت بن راشد تھا۔امیر المومنین کے ساتھ صفین میں شریک رہا اور اس کے بعد گمراہ ہوگیا۔حضرت سے کہنے لگا کہ میں نہ آپ کی اطاعت کروں گا اور نہ میں آپ کے پیچھے نماز پڑھوں گا۔ آپ نے سبب دریافت کیا ؟ اس نے کہا کل بتائوں گا۔اور پھرآنے کے بجائے تیس افراد کو لے کر صحرائوں میں نکل گیا اورل وٹ مار کاکام شروع کردیا۔ایک امیرالمومنین کے چاہنے والے مسافر کو صرف حب علی کی بنیاد پر کافر قراردے کر قتل کردیا اور ایک یہودی کو آزاد چھوڑ دیا۔حضرت نے اس کی روک تھام کے لئے زیاد بن ابی حفصہ کو ۱۳۰ افراد کے ساتھ بھیجا۔زیاد نے چند افراد کو تہ تیغ کردیا اور خریت فرار کرگیا اور کردوں کو بغاوت پرآمادہ کرنے لگا آپ نے معقل بن قیس ریاحی کو دو ہزار سپاہیوں کے ساتھ روانہ کیا۔انہوں نے زمین فارس تک اس کا پیچھا کیا یہاں تک کہ طرفین میں شدید جنگ ہوئی اورخریت نعمان بن صہیان کو اسیکے ہاتھوں فنا کے گھاٹ اتار دیا گیا اور اس فتنہ کاخاتمہ ہوگیا۔

۳۳۲

حمد اللَّه واستعانته

الْحَمْدُ لِلَّه الَّذِي إِلَيْه مَصَائِرُ الْخَلْقِ - وعَوَاقِبُ الأَمْرِ نَحْمَدُه عَلَى عَظِيمِ إِحْسَانِه - ونَيِّرِ بُرْهَانِه ونَوَامِي فَضْلِه وامْتِنَانِه - حَمْداً يَكُونُ لِحَقِّه قَضَاءً ولِشُكْرِه أَدَاءً - وإِلَى ثَوَابِه مُقَرِّباً ولِحُسْنِ مَزِيدِه مُوجِباً - ونَسْتَعِينُ بِه اسْتِعَانَةَ رَاجٍ لِفَضْلِه مُؤَمِّلٍ لِنَفْعِه وَاثِقٍ بِدَفْعِه - مُعْتَرِفٍ لَه بِالطَّوْلِ مُذْعِنٍ لَه بِالْعَمَلِ والْقَوْلِ - ونُؤْمِنُ بِه إِيمَانَ مَنْ رَجَاه مُوقِناً - وأَنَابَ إِلَيْه مُؤْمِناً وخَنَعَ لَه مُذْعِناً - وأَخْلَصَ لَه مُوَحِّداً وعَظَّمَه مُمَجِّداً ولَاذَ بِه رَاغِباً مُجْتَهِداً.

اللَّه الواحد

( لَمْ يُولَد ْ) سُبْحَانَه فَيَكُونَ فِي الْعِزِّ مُشَارَكاً - و( لَمْ يَلِدْ ) فَيَكُونَ مَوْرُوثاً هَالِكاً - ولَمْ يَتَقَدَّمْه وَقْتٌ ولَا زَمَانٌ - ولَمْ يَتَعَاوَرْه زِيَادَةٌ ولَا نُقْصَانٌ - بَلْ ظَهَرَ لِلْعُقُولِ بِمَا أَرَانَا مِنْ عَلَامَاتِ التَّدْبِيرِ الْمُتْقَنِ - والْقَضَاءِ الْمُبْرَمِ  

ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس کی طرف تمام مخلوقات کی بازگشت اورجملہ امور کی انتہاء ہے۔میں اس کی حمد کرتا ہوں اس کے عظیم احسان' واضح دلائل اور بڑھتے ہوئے فض و کرم پر۔وہ حمد جو اس کے حق کو پورا کر سکے اور اس کے شکر کوادا کرسکے۔اس کے عظیم احسان ' واضح دلائل اور بڑھتے ہوئے فضل و کرم پر۔وہ حمد جواس کے حق کو پورا کرا سکے اوراس کے شکر کوادا کرسکے۔اس کے ثواب سے قریب بنا سکے اورنعمتوں میں اضافہ کا سبب بن سکے۔میں اس سے مدد چاہتا ہوں اور اس بندہ کی طرح جو اس کے فضل کا امید وار ہو۔اس کے منافع کا طلب گار ہو۔اس کے دفع بلاء کا یقین رکھنے والا ہو اس کے کرم کا اعتراف کرنے والا ہو اور قول وعمل میں اس پر مکمل اعتماد کرنے والا ہو۔

میں اس پر ایمان رکھتا ہوں اس بندہ کی طرح جو یقین کے ساتھ اس کا امید وار ہو اور ایمان کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہو۔اذعان کے ساتھ اس کی بارگاہ میں سر بسجود ہو اور توحید کے ساتھ اس سے اخلاص رکھتا ہو۔تمجید کے ساتھ اس کی عظمت کا اقرار کرتا ہو اور رغبت و کوشش کے ساتھ اس کی پناہ میں آیا ہو۔

وہ پیدا نہیں کیا گیا ہے کہ کوئی اس کی عزت میں شریک بن جائے اور اس نے کسی بیٹے کوپیدا نہیں کیا ہے کہ خود ہلاک ہو جائے اور بیٹا وارث ہو جائے۔نہ اس سے پہلے کوئی زمان و مکان تھا اور نہ اس پر کوئی کمی یا زیادتی طاری ہوتی ہے۔اس نے اپنی محکم تدبیر اور اپنے حتمی فیصلہ

۳۳۳

فَمِنْ شَوَاهِدِ خَلْقِه خَلْقُ السَّمَاوَاتِ مُوَطَّدَاتٍ بِلَا عَمَدٍ - قَائِمَاتٍ بِلَا سَنَدٍ دَعَاهُنَّ فَأَجَبْنَ طَائِعَاتٍ مُذْعِنَاتٍ - غَيْرَ مُتَلَكِّئَاتٍ ولَا مُبْطِئَاتٍ - ولَوْ لَا إِقْرَارُهُنَّ لَه بِالرُّبُوبِيَّةِ - وإِذْعَانُهُنَّ بِالطَّوَاعِيَةِ - لَمَا جَعَلَهُنَّ مَوْضِعاً لِعَرْشِه ولَا مَسْكَناً لِمَلَائِكَتِه - ولَا مَصْعَداً لِلْكَلِمِ الطَّيِّبِ والْعَمَلِ الصَّالِحِ مِنْ خَلْقِه جَعَلَ نُجُومَهَا أَعْلَاماً يَسْتَدِلُّ بِهَا الْحَيْرَانُ - فِي مُخْتَلِفِ فِجَاجِ الأَقْطَارِ - لَمْ يَمْنَعْ ضَوْءَ نُورِهَا ادْلِهْمَامُ سُجُفِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ - ولَا اسْتَطَاعَتْ جَلَابِيبُ سَوَادِ الْحَنَادِسِ - أَنْ تَرُدَّ مَا شَاعَ فِي السَّمَاوَاتِ مِنْ تَلأْلُؤِ نُورِ الْقَمَرِ - فَسُبْحَانَ مَنْ لَا يَخْفَى عَلَيْه سَوَادُ غَسَقٍ دَاجٍ - ولَا لَيْلٍ سَاجٍ فِي بِقَاعِ الأَرَضِينَ الْمُتَطَأْطِئَاتِ - ولَا فِي يَفَاعِ السُّفْعِ الْمُتَجَاوِرَاتِ - ومَا يَتَجَلْجَلُ بِه الرَّعْدُ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ -

کی بنا پر اپنے کو عقلوں کے سامنے بالکل واضح اورنمایاں کردیا ہے۔اس کی خلقت کے شواہد میں ان آسمانوں کی تخلیق بھی ہے جنہیں بغیر ستون کے روک رکھا ہے اور بغیر کسی سہارے کے قائم کردیا ہے۔اس نے انہیں پکارا تو سب لبیک کہتے ہوئے حاضر ہوگئے۔اطاعت و ادغان کے ساتھ۔نہ کسی طرح کی تساہلی اور نہ کاہلی۔اور ظاہر ہے کہ اگر ان آسمانوں نے اس طرح اس کی ربوبیت کا اقرارنہ کیا ہوتا اور اس کے سامنے سرتسلیم خم نہ کردیا ہوتا تو وہ کبھی انہیں اپنے عرش کی منزل(۱) ملائکہ کا مسکن۔کلمہ طیب اور عمل صاحل کی بلندیوں کا مرکز نہ قرار دیتا۔اس نے ان کے ستاروں کومختلف راستوں میں حیران و سرگرداں مسافروں کے لئے نشان منزل بنادیاہے۔ان کے انوار کی تابش کو زمین تک پہنچنے سے نہ تاریک رات کی سیاہی روک سکی ہے اور نہ سواد شب کی چادر میں اتنا دم ہے کہ آسمانوں میں پھیلے ہوئے نور قمر کی روشنی کو روک سکے ۔

پاک و بے نیاز ہے وہ خدا جس پر نہ تاریک رات کی سیاہی مخفی ہے اور نہ ٹھہری ہوئی شب کی تاریکی۔نہ پست زمینوں کے قطعات میں اورنہ باہمی ملے ہوئے پہاڑوں کی چوٹیوں میں۔اس کے لئے نہ آسمان کی بلندی پر گرجتی ہوئی رعد پوشیدہ ہے اور نہ بادلوں کی چمکتی ہوئی

(۱) اس مقام پر حضرت نے غافل انسانوں کو بیدار کرنا چاہا ہے کہ مالک کائنات کی بارگاہ میں کوئی مرتبہ اطاعت کے بغیر نہیں مل سکتا ہے۔اس نے آسمانوں کوب ھی اگر یہ بلندی عطا کی ہے کہ انہیں ملائکہ کی منزل اور عرش کا مستقر بنادیاہے تو یہ بھی ان کی اطاعت کا نتیجہ ہے۔لہٰذا انسان بھی اگرملکوتی صفات کاحامل بننا چاہتا ہے اور اپنے قلب کو عرش الٰہی کا مرتبہ دینا چاہتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ مالک کے سامنے سراپا اطاعت بن جائے اور زندگی کا ہر لمحہ اس کی بندگی میں صرف کردے جس طرح ان اولیاء کرام نے کیا ہے جنہیں مالک نے اپنے کمالات کا نمونہ اور صفات کا آئینہ بنا دیا ہے۔

۳۳۴

ومَا تَلَاشَتْ عَنْه بُرُوقُ الْغَمَامِ - ومَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ تُزِيلُهَا عَنْ مَسْقَطِهَا عَوَاصِفُ الأَنْوَاءِ - وانْهِطَالُ السَّمَاءِ - ويَعْلَمُ مَسْقَطَ الْقَطْرَةِ ومَقَرَّهَا ومَسْحَبَ الذَّرَّةِ ومَجَرَّهَا - ومَا يَكْفِي الْبَعُوضَةَ مِنْ قُوتِهَا ومَا تَحْمِلُ الأُنْثَى فِي بَطْنِهَا.

عود إلى الحمد

والْحَمْدُ لِلَّه الْكَائِنِ قَبْلَ أَنْ يَكُونَ كُرْسِيٌّ أَوْ عَرْشٌ - أَوْ سَمَاءٌ أَوْ أَرْضٌ أَوْ جَانٌّ أَوْ إِنْسٌ - لَا يُدْرَكُ بِوَهْمٍ ولَا يُقَدَّرُ بِفَهْمٍ - ولَا يَشْغَلُه سَائِلٌ ولَا يَنْقُصُه نَائِلٌ - ولَا يَنْظُرُ بِعَيْنٍ ولَا يُحَدُّ بِأَيْنٍ ولَا يُوصَفُ بِالأَزْوَاجِ - ولَا يُخْلَقُ بِعِلَاجٍ ولَا يُدْرَكُ بِالْحَوَاسِّ ولَا يُقَاسُ بِالنَّاسِ - الَّذِي كَلَّمَ مُوسَى تَكْلِيماً وأَرَاه مِنْ آيَاتِه عَظِيماً - بِلَا جَوَارِحَ ولَا أَدَوَاتٍ ولَا نُطْقٍ ولَا لَهَوَاتٍ - بَلْ إِنْ كُنْتَ صَادِقاً أَيُّهَا الْمُتَكَلِّفُ لِوَصْفِ رَبِّكَ - فَصِفْ جِبْرِيلَ ومِيكَائِيلَ وجُنُودَ الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ فِي حُجُرَاتِ الْقُدُسِ مُرْجَحِنِّينَ

بجلیاں اور نہ درختوں سے گرتے ہوئے پتے جنہیں بالدوں کے ساتھ چلتی ہوئی تیز ہوائیں یاموسلا دھار بارش کا زور گرادیتا ے۔وہ ہر قطرہ کے گرنے کی جگہ بھی جانتا ہے اور ٹھہرنے کی جگہ بھی۔ہر چیونٹی کے چلنے کی جگہ سے بھی با خبر ہے اور کھینچ کر پہنچنے کی منزل سے بھی۔وہ یہ بھی جانتا ہے کہ ایک مچھرکے لئے کتنی غذا کافی ہوتی ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ ایک مادہ اپنے شکم میں کیا لئے ہوئے ہے۔ساری تعریف اس خدا کے لئے ہے جو اس وقت بھی تھا جب نہ کرسی تھی اور نہ عرش ۔نہ آسمان تھا اور نہ زمین ۔نہ جنات تھے ننہ انسان نہ وہم سے اس کا ادراک ہوتا ہے اور نہ فہم سے اس کا اندازہ ۔نہ کوئی سائل اسے مشغول کر سکتا ے اور نہ کسی عطا سے اس کے خزانہ میں کوئی کمی آسکتی ہے ۔وہ نہ آنکھو سے دیکھتا ہے اور نہ کسی مکان میں محدود ہوتا ہے۔نہ ساتھیوں کے ساتھ اس کی توصیف ہو سکتی ہے اور نہ اعضاء و جوارح کی حرکت سے کسی چیز کوخلق کرتا ہے جو اس اس کا ادراک نہیں کر سکتے ہیں اور انسانوں پر اس کا قیاس نہیں کیا جا سکتاے۔اس نے موسیٰ کو کلیم بنایا تو انہیں عظیم نشانیاں بھی دکھلادیں حالانکہ نہ جوارح کو استعال کیا اورنہ آلات کو۔نہ کوئی نطق درمیان میں تھا اور نہ گلے کے کوے کی حرکت

اے توصیف پروردگار میں بلا سبب زحمت کرنے والو! اگرتمہارے خیال میں صداقت پائی جاتی ہے تو پہلے جبرائیل و میکائیل اوراس کے دوسرے مقرب ملائکہ کی توصیف بیان کرو جو پاکیزگی کے حجرات میں سر جھکا

۳۳۵

مُتَوَلِّهَةً عُقُولُهُمْ أَنْ يَحُدُّوا أَحْسَنَ الْخَالِقِينَ - فَإِنَّمَا يُدْرَكُ بِالصِّفَاتِ ذَوُو الْهَيْئَاتِ والأَدَوَاتِ - ومَنْ يَنْقَضِي إِذَا بَلَغَ أَمَدَ حَدِّه بِالْفَنَاءِ - فَلَا إِلَه إِلَّا هُوَ أَضَاءَ بِنُورِه كُلَّ ظَلَامٍ - وأَظْلَمَ بِظُلْمَتِه كُلَّ نُورٍ.

الوصية بالتقوى

أُوصِيكُمْ عِبَادَ اللَّه بِتَقْوَى اللَّه - الَّذِي أَلْبَسَكُمُ الرِّيَاشَ وأَسْبَغَ عَلَيْكُمُ الْمَعَاشَ - فَلَوْ أَنَّ أَحَداً يَجِدُ إِلَى الْبَقَاءِ سُلَّماً أَوْ لِدَفْعِ الْمَوْتِ سَبِيلًا - لَكَانَ ذَلِكَ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَعليه‌السلام الَّذِي سُخِّرَ لَه مُلْكُ الْجِنِّ والإِنْسِ - مَعَ النُّبُوَّةِ وعَظِيمِ الزُّلْفَةِ - فَلَمَّا اسْتَوْفَى طُعْمَتَه واسْتَكْمَلَ مُدَّتَه - رَمَتْه قِسِيُّ الْفَنَاءِ بِنِبَالِ الْمَوْتِ - وأَصْبَحَتِ الدِّيَارُ مِنْه خَالِيَةً - والْمَسَاكِنُ مُعَطَّلَةً ووَرِثَهَا قَوْمٌ آخَرُونَ - وإِنَّ لَكُمْ فِي الْقُرُونِ السَّالِفَةِ لَعِبْرَةً!

أَيْنَ الْعَمَالِقَةُ وأَبْنَاءُ الْعَمَالِقَةِ - أَيْنَ الْفَرَاعِنَةُ وأَبْنَاءُ الْفَرَاعِنَةِ -

ئے ہوئے پڑے ہیں اور ان کی عقلیں حیران ہیں کہ احسن الخالقین کی توصیف کس طرح بیان کریں ۔

یاد رکھو صفات کے ذریعہ اس کا ادراک ہوتا ہے جس کی شکل و صورت ہوتی ہے اور جس کے اعضاء و جوارح ہوتے ہیں اور جو اپنی آخری حد پر پہنچ کر فنا ہو جاتا ہے۔پس اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے جس نے اپنے نور وجود سے ہر تاریکی کو منور بنادیا ہے اور پھر عدم کی ظلمت سے ہر نورانی شے کو تاریک بنادیا ہے۔

بندگان خدا! میں تمہیں اس خدا سے ڈرنے کی دعوت دیتا ہوں جس نے تمہیں بہترین لباس پہنائے ہیں اور تمہاری مکمل معیشت کا انتظام کیا ہے۔یاد رکھو اگر کوئی شخص ایسا ہوتا جسے بقا کی زینہ مل جاتا اور وہ موت کو ٹالنے کا راستہ تلاش کر لیتا تو وہ سلیمان بن دائود ہوتے جن کے لئے جن و انس دونوں کو مسخر کردیا گیا تھا اور پھر نبوت اور تقرب الٰہی کا شرف بھی حاصل تھا لیکن جب انہوں نے اپنے حصہ کی غذا استعمال کرلی اور اپنی مدت بقا کو پورا کرلیا تو فنا کی کمانوں نے موت کے تیر چلا دئیے اور سارے دیار ان سے خالی ہو گئے اور سارے قصر معطل ہو کر رہ گئے اور دوسری قومیں ان کی وارث ہوگئیں '' اور تمہارے لئے انہیں گذشتہ قوموں میں عبرت کا سامان فراہم کیا گیا ہے ''۔

کہاں ہیں ( شام و حجاز کے ) عمالقہ اور ان کی اولاد؟ کہاں ہیں ( مصر کے ) فراعنہ اور ان کی اولاد ؟ کہاں

۳۳۶

أَيْنَ أَصْحَابُ مَدَائِنِ الرَّسِّ الَّذِينَ قَتَلُوا النَّبِيِّينَ - وأَطْفَئُوا سُنَنَ الْمُرْسَلِينَ وأَحْيَوْا سُنَنَ الْجَبَّارِينَ - أَيْنَ الَّذِينَ سَارُوا بِالْجُيُوشِ وهَزَمُوا بِالأُلُوفِ - وعَسْكَرُوا الْعَسَاكِرَ ومَدَّنُوا الْمَدَائِنَ!

ومِنْهَا - قَدْ لَبِسَ لِلْحِكْمَةِ جُنَّتَهَا - وأَخَذَهَا بِجَمِيعِ أَدَبِهَا مِنَ الإِقْبَالِ عَلَيْهَا - والْمَعْرِفَةِ بِهَا والتَّفَرُّغِ لَهَا - فَهِيَ عِنْدَ نَفْسِه ضَالَّتُه الَّتِي يَطْلُبُهَا - وحَاجَتُه الَّتِي يَسْأَلُ عَنْهَا - فَهُوَ مُغْتَرِبٌ إِذَا اغْتَرَبَ الإِسْلَامُ - وضَرَبَ بِعَسِيبِ ذَنَبِه - وأَلْصَقَ الأَرْضَ بِجِرَانِه بَقِيَّةٌ مِنْ بَقَايَا حُجَّتِه - خَلِيفَةٌ مِنْ خَلَائِفِ أَنْبِيَائِه.

ثم قالعليه‌السلام :

أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ بَثَثْتُ لَكُمُ الْمَوَاعِظَ - الَّتِي وَعَظَ الأَنْبِيَاءُ بِهَا أُمَمَهُمْ - وأَدَّيْتُ إِلَيْكُمْ مَا أَدَّتِ الأَوْصِيَاءُ إِلَى

ہیں (آذربائیجان کے ) اصحاب الرس؟ جنہوں نے انبیاء کو قتل کیا مرسلین کی سنتوں کوخاموش کیا اور جباروں کی سنتوں کو زندہ کردیا تھا۔کہاں ہیں وہ لوگ جو لشکر لے کر بڑھے اور ہزار ہا ہزار کو شکست دے دی۔لشکرکے لشکر تیار کئے اور شہروں کے شہر آباد کردئیے۔

(اسی خطبہ کا ایک حصہ)

وہ حکمت کی سپر زیب تن کئے ہوگا۔اور اسے پورے آداب کے ساتھ اختیار کئے ہوگا کہاس کی طرف متوجہ ہوگا۔اس کی معرفت رکھتا ہوگا اوراس کے لئے مکمل طور پر فارغ ہوگا۔یہ حکمت اس کی نگاہ میں اس کی گم شدہ دولت ہوگی جس کو تلاش کر رہا ہوگا اور ایسی ضرورت ہوگی جس کے بارے میں دریافت کر رہا ہوگا۔وہاسلام کی غربت کے ساتھ غریب الوطن ہوگا اور اس اونٹ کی طرح ہوگا جو تھکن سے زمین پر دم پٹک رہا ہو اورسینہ زمین پر ٹیک ہوئے ہو۔اللہ کی حجتوں میں سے آخری حجت اوراس کے انبیاء کے خلفاء میں سے ایک خلیفہ۔

لوگو! میں نے تمہارے لئے وہ تمام نصیحتیں پیش کردی ہیں جو انبیاء(۱) نے اپنی امتوں کے سامنے پیش کی تھیں اورتم تک ان تمام ہدایتوں کو پہنچا دیاہے جو اولیاء نے

(۱)بیشک امیر المومنین وارث انبیاء تھے اورانہوں نے ان تمام نصیحتوں کو استعمال کیا جنہیں انبیاء کرام استعمال کرچکے تھے لیکن ان کے نصائح کا انجام بھی وہی ہوا جو انبیاء کرام کی نصیحتوں کا ہوا تھا کہ جناب نوح کو پتھروں میں دبا دیا گیا۔جناب ابراہیم کوآگمیں ڈال دیا گیا۔جناب موسیٰ کو ملک سے نکال باہرکیا گیا جناب عیسیٰ کو سولی پرچڑھانے کامنصوبہ بنایا گیا ۔سرکار دوعالم (ص) کے قتل کامکمل انتظام کیا گیا اور کوئی دو ر ایسا نہ آیا جب قوم کی اکثریت نصیحتوں کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو جاتی اور اللہ والوں کے مقدس وجود اور ان کے پاکیزہ تعلیمات سے فائدہ اٹھاتی۔امیرالمومنین نے توان نصیحتوں پر تازیانہ اور تنبیہ کابھی اضافہ کردیا لیکن اس کے باوجود کوئی فائدہ نہ ہوا اور قوم مادیت کی دنیا سے نکل کر روحانیت کی فضا میں قدم رکھنے کے لئے تیار نہ ہوئی اور اس کے اثرات آجت ک باقی ہیں کہ کلام خدا اور رسول (ص) اور ارشادات معصومین کی صبح و شام تلاوت ہو رہی ہے لیکن کردار کا وہی عالم ہے جو اس سے پہلے دیکھا جا چکا ہے ۔

۳۳۷

مَنْ بَعْدَهُمْ وأَدَّبْتُكُمْ بِسَوْطِي فَلَمْ تَسْتَقِيمُوا - وحَدَوْتُكُمْ بِالزَّوَاجِرِ فَلَمْ تَسْتَوْسِقُوا - لِلَّه أَنْتُمْ - أَتَتَوَقَّعُونَ إِمَاماً غَيْرِي يَطَأُ بِكُمُ الطَّرِيقَ - ويُرْشِدُكُمُ السَّبِيلَ؟ أَلَا إِنَّه قَدْ أَدْبَرَ مِنَ الدُّنْيَا مَا كَانَ مُقْبِلًا - وأَقْبَلَ مِنْهَا مَا كَانَ مُدْبِراً، وأَزْمَعَ التَّرْحَالَ عِبَادُ اللَّه الأَخْيَارُ - وبَاعُوا قَلِيلًا مِنَ الدُّنْيَا لَا يَبْقَى - بِكَثِيرٍ مِنَ الآخِرَةِ لَا يَفْنَى - مَا ضَرَّ إِخْوَانَنَا الَّذِينَ سُفِكَتْ دِمَاؤُهُمْ وهُمْ بِصِفِّينَ - أَلَّا يَكُونُوا الْيَوْمَ أَحْيَاءً يُسِيغُونَ الْغُصَصَ - ويَشْرَبُونَ الرَّنْقَ قَدْ واللَّه لَقُوا اللَّه فَوَفَّاهُمْ أُجُورَهُمْ - وأَحَلَّهُمْ دَارَ الأَمْنِ بَعْدَ خَوْفِهِمْ.

أَيْنَ إِخْوَانِيَ الَّذِينَ رَكِبُوا الطَّرِيقَ - ومَضَوْا عَلَى الْحَقِّ أَيْنَ عَمَّارٌ وأَيْنَ ابْنُ التَّيِّهَانِ - وأَيْنَ ذُو الشَّهَادَتَيْنِ - وأَيْنَ نُظَرَاؤُهُمْ مِنْ إِخْوَانِهِمُ الَّذِينَ تَعَاقَدُوا عَلَى الْمَنِيَّةِ - وأُبْرِدَ بِرُءُوسِهِمْ إِلَى الْفَجَرَةِ.

قَالَ ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِه عَلَى لِحْيَتِه الشَّرِيفَةِ الْكَرِيمَةِ - فَأَطَالَ الْبُكَاءَ ثُمَّ قَالَعليه‌السلام

أَوِّه عَلَى إِخْوَانِيَ الَّذِينَ تَلَوُا الْقُرْآنَ

بعدوالوں کےحوالہ کی تھیں۔میں نے اپنے تازیانہ سے تمہاری تنبیہ کی لیکن تم سیدھے نہ ہوئے اور تم کو زجرو تو بیخ سے ہنکانا چاہا لیکن تم متحد نہ ہوئے۔اللہ ہی تمہیں سمجھے کیا میرے بعد کسی اور امام کاانتظار کر رہے ہو جو تمہیں سیدھے راستہ پر چلائے گا اور راہ حق کی ہدایت دے گا۔

یاد رکھو جو چیزیں دنیا کی طرف رخ کئے ہوئے تھیں انہوں نے منہ پھیرا لیا ہے اور جومنہ پھیرائے ہوئے تھیں انہوں نے رخ کرلیا ہے اللہ کے نیک بندوں نے یہاں سے کوچ کرنے کا عزم کرلیا ہے اور دنیا کا وہ قلیل سرمایہ جو باقی رہنے والا نہیں ہے اسے بیچ ڈالا ہے ۔اس آخرت کے اجر کثیر کے مقابلہ میں جو فنا ہونے والا نہیں ہے۔ہمارے وہ ایمانی بھائی جن کا خون صفین کے میدان میں بہادیا گیا ان کا کیا نقصان ہوا ہے اگر وہ آج زندہ نہیں ہیں کہ دنیا کے مصائب کے گھونٹ پئیں اور گندے پانی پر گزارا کریں۔وہ خدا کی بارگاہ میں حاضر ہوگئے اور انہیں ان کامکمل اجر مل گیا۔مالک نے انہیں خوف کے بعد امن کی منزل میں وارد کردیا ہے۔کہا ہیں میرے وہ بھائی جو سیدھے راستہ پر چلے اور حق کی راہ پر لگے رہے۔کہاں ہیں عمار ؟ کہاں ہیں ابن التیہان ؟۔کہاں ہیں ذوالشہادتین؟ کہاں ہیں ان کے جیسے ایمانی بھائی جنہوں نے موت کا عہدو پیمان باندھ لیا تھا اور جن کے سر فاجروں کے پاس بھیج دئیے گئے۔

(یہ کہہ کر آپ نے محاسن شریف پر ہاتھ رکھا اورتادیر گریہ فرماتے رہے اس کے بعد فرمایا :)

آہ ! میرے ان بھائیوں پر جنہوں نے قرآن کی

۳۳۸

فَأَحْكَمُوه - وتَدَبَّرُوا الْفَرْضَ فَأَقَامُوه - أَحْيَوُا السُّنَّةَ وأَمَاتُوا الْبِدْعَةَ - دُعُوا لِلْجِهَادِ فَأَجَابُوا ووَثِقُوا بِالْقَائِدِ فَاتَّبَعُوه.

ثُمَّ نَادَى بِأَعْلَى صَوْتِه

الْجِهَادَ الْجِهَادَ عِبَادَ اللَّه - أَلَا وإِنِّي مُعَسْكِرٌ فِي يَومِي هَذَا - فَمَنْ أَرَادَ الرَّوَاحَ إِلَى اللَّه فَلْيَخْرُجْ

قَالَ نَوْفٌ وعَقَدَ لِلْحُسَيْنِعليه‌السلام فِي عَشَرَةِ آلَافٍ - ولِقَيْسِ بْنِ سَعْدٍ رحمهالله فِي عَشَرَةِ آلَافٍ - ولأَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ فِي عَشَرَةِ آلَافٍ - ولِغَيْرِهِمْ عَلَى أَعْدَادٍ أُخَرَ - وهُوَ يُرِيدُ الرَّجْعَةَ إِلَى صِفِّينَ - فَمَا دَارَتِ الْجُمُعَةُ حَتَّى ضَرَبَه الْمَلْعُونُ ابْنُ مُلْجَمٍ لَعَنَه اللَّه - فَتَرَاجَعَتِ الْعَسَاكِرُ فَكُنَّا كَأَغْنَامٍ فَقَدَتْ رَاعِيهَا - تَخْتَطِفُهَا الذِّئَابُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ!

(۱۸۳)

من خطبة لهعليه‌السلام

في قدرة اللَّه وفي فضل القرآن وفي الوصية بالتقوى الله تعالى

الْحَمْدُ لِلَّه الْمَعْرُوفِ مِنْ غَيْرِ رُؤْيَةٍ - والْخَالِقِ مِنْ غَيْرِ مَنْصَبَةٍ

تلاوت کی تو اسے مستحکم کیا اور فرائض پر غورو فکر کیا تو انہیں قائم کیا ۔سنتوں کو زندہ کیا اور بدعتوں کو مردہ بنایا۔ انہیں جہاد کے لئے بلایا گیا تو لبیک کہی اور اپنے قائد پر اعتماد کیا تواس کا اتباع بھی کیا۔

(اس کے بعد بلند آوازسے پکار کر فرمایا)

جہاد ،جہاد ، اے بندگان خدا! آگاہ ہو جائو کہ میں آج اپنی فوج تیار کر رہا ہوں اگر کوئی خدا کی بارگاہ کی طرف جانا چاہتا ہے تو نکلنے کے لئے تیار ہو جائے ۔

نوف کا بیان ہے کہ اس کے بعد حضرت نے دس ہزار کا لشکر امام حسین کے ساتھ ۔دس ہزار قیس بن سعد کے ساتھ۔دس ہزار ابو ایوب انصاری کے ساتھ اوراسی طرح مختلف تعداد میں مختلف افراد کے ساتھ تیار کیا اور آپ کا مقصد دوبارہ صفین کی طرف کوچ کرنے کا تھا کہ آئندہ جمعہ آنے سے پہلے ہی آپ کو ابن ملجم نے زخمی کردیا اور اس طرح سارا لشکر پلٹ گیا اور ہم سب ان چوپایوں کے مانند ہوگئے جن کا رکھوالا گم ہو جائے اور انہیں چاروں طرف سے بھیڑئیے اچک لینے کی فکرمیں ہو۔

(۱۸۳)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(قدرت خدا فضیلت قرآن اور وصیت تقویٰ کے بارے میں )

ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہے جو بغیر دیکھے بھی پہچانا ہوا ہے اور بغیر کسی تکان کے بھی خلق کرنے والا

۳۳۹

خَلَقَ الْخَلَائِقَ بِقُدْرَتِه - واسْتَعْبَدَ الأَرْبَابَ بِعِزَّتِه وسَادَ الْعُظَمَاءَ بِجُودِه - وهُوَ الَّذِي أَسْكَنَ الدُّنْيَا خَلْقَه - وبَعَثَ إِلَى الْجِنِّ والإِنْسِ رُسُلَه - لِيَكْشِفُوا لَهُمْ عَنْ غِطَائِهَا ولِيُحَذِّرُوهُمْ مِنْ ضَرَّائِهَا - ولِيَضْرِبُوا لَهُمْ أَمْثَالَهَا ولِيُبَصِّرُوهُمْ عُيُوبَهَا - ولِيَهْجُمُوا عَلَيْهِمْ بِمُعْتَبَرٍ مِنْ تَصَرُّفِ مَصَاحِّهَا وأَسْقَامِهَا - وحَلَالِهَا وحَرَامِهَا - ومَا أَعَدَّ اللَّه لِلْمُطِيعِينَ مِنْهُمْ والْعُصَاةِ - مِنْ جَنَّةٍ ونَارٍ وكَرَامَةٍ وهَوَانٍ - أَحْمَدُه إِلَى نَفْسِه كَمَا اسْتَحْمَدَ إِلَى خَلْقِه - وجَعَلَ( لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْراً ) - ولِكُلِّ قَدْرٍ أَجَلًا ولِكُلِّ أَجَلٍ كِتَاباً.

فضل القرآن

منها: فَالْقُرْآنُ آمِرٌ زَاجِرٌ وصَامِتٌ نَاطِقٌ - حُجَّةُ اللَّه عَلَى خَلْقِه أَخَذَ عَلَيْه مِيثَاقَهُمْ - وارْتَهَنَ عَلَيْهِمْ أَنْفُسَهُمْ أَتَمَّ نُورَه - وأَكْمَلَ بِه دِينَه وقَبَضَ نَبِيَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - وقَدْ فَرَغَ إِلَى الْخَلْقِ مِنْ أَحْكَامِ الْهُدَى بِه - فَعَظِّمُوا مِنْه سُبْحَانَه مَا عَظَّمَ مِنْ نَفْسِه – فَإِنَّه لَمْ يُخْفِ عَنْكُمْ شَيْئاً مِنْ دِينِه - ولَمْ يَتْرُكْ شَيْئاً رَضِيَه أَوْ كَرِهَه إِلَّا وجَعَلَ لَه عَلَماً بَادِياً -

ہے۔اس نے مخلوقات کو اپنی قدرت سے پیدا کیا اور اپن یعزت کی بناپ ر ان سے مطالبہ عبدیت کیا۔وہ اپنے جودو کرم میں تمام عظماء عالم سے بالا تر ہے۔اسی نے اس دنیا میں اپنی مخلوقات کو آباد کیا ہے اور جن و انس کی طرف اپنے رسول بھیجے ہیں تاکہ وہ نگاہوں سے عبرت دلانے کا سامان کریں اور حلال و حرام اور اطاعت کرنے والوں کے لئے مہیا شدہ اجر اور نا فرمانوں کے لئے عذاب سے آگاہ کردیں۔میں اس کی ذات اقدس کی اسی طرح حمد کرتا ہوں جس طرح اس نے بندوں سے مطالبہ کیا ہے اور ہر شے کی ایک مقدار معین ہے اور ہر قدر کی ایک مہلت رکھی ہے اور ہرتحریری کی ایک معیاد معین کی ہے۔

دیکھو قرآن امر کرنے والا بھی ہے اور روکنے والا بھی۔وہ خاموش بھی ہے اور گویا بھی۔وہ مخلوقات پر پروردگار کی حجت ہے۔جس کا لوگوں سے عہد لیا گیا ہے اور ان کے نفسوں کو اس کا پابند بنا دیا گیا ہے۔مالک نے اس کے نور کو تمام بنایا ہے اور اس کے ذریعہ دین کو کامل قرار دیا ہے۔اپنے پیغمبر کو اس وقت اپنے پاس بلایا ہے جب وہ اس کے احکام کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت دے چکے تھے لہٰذا پروردگار کی عظمت کا اعتراف اس طرح کرو جس طرح اس نے اپنی عظمت کا اعلان کیا ہے کہ اس نے دین کی کسی بات کو مخفی نہیں رکھا ہے اور کوئی ایسی پسندیدہ یا نا پسندیدہ بات نہیں چھوڑی ہے جس کے لئے واضح نشان ہدایت نہ بنا دیا

۳۴۰

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369