فریقین کے عقائد کا تحلیلی جائزہ جلد ۱

فریقین کے عقائد کا تحلیلی جائزہ6%

فریقین کے عقائد کا تحلیلی جائزہ مؤلف:
: مولانا شاہ مظاہر حسین
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 296

جلد ۱ جلد ۲ جلد ۳
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 296 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 129584 / ڈاؤنلوڈ: 6709
سائز سائز سائز
فریقین کے عقائد کا تحلیلی جائزہ

فریقین کے عقائد کا تحلیلی جائزہ جلد ۱

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

بسم الله الرحمن الرحیم

۱

فریقین کے عقائد کا تحلیلی جائزہ

(ترجمہ فی رحاب العقیدۃ)

مولف

آیت اللہ العظمی سید محمد سعید طباطبائی حکیم (مد ظلہ العالی)

ترجمہ: مولانا شاہ مظاہر حسین

پہلی جلد

۲

نام کتاب: فریقین کے عقائد کا تحلیلی جائزہ

مولف : آیت اللہ سید محمد سعید الحکیم طباطبائی( مد ظلہ العالی)

مترجم: مولانا شاہ مظاہر حسین

ناشر: انتشارات مرکزجہانی علوم اسلامی (قم ایران)

پہلا ایڈیشن :سنہ ۱۴۲۸ ھ مطابق سنہ ۲۰۰۷ ئ سنہ ۱۳۸۶ ھ شمسی

۳

عرض ناشر

خدا وند متعال کی لامتناہی عنایتوں اور ائمہ معصومین کی لاتعداد توجہات کے سہارے آج ہم دنیا میں انقلاب تغیر مشاہدہ کررہے ہین وہ بھی ایسا بے نظیر انقلاب اور تغیر جو تمام آسمانی ادیان میں صرف دین " اسلام" میں پایا جاتا ہے

گویا عصر حاضر میں اسلام نے اپنا ایک نیا رخ پیش کیا ہے یعنی دنیا کے تمام مسلمان بیدار ہوکر اپنی اصل ،(اسلام)کی طرف واپس ہورہے ہیں اور اپنے اصول وفروع ی تلاش کررہے ہیں-

آخر ایسے انقلاب وتغیر کی وجہ کیا ہوسکتی ہے ؟ سب سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم اس بات پرغور کریں کہ اس وقت اس کے آثار تمام اسلامی ممالک حتی مغربی دنیا میں بھی رونما ہوچکی ہے ۔اور دنیا کے آزاد فکر انسان تیزی کے ساتھ اسلام کی طرف مائل ہورہے ہیناور اسلامی معارف اور اصول سے واقف اور آگاہ ہونے کے طالب ہیں اور یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اسلام دنیا والوں کو ہرروز کونسا جدید پیغام دے رہا ہے ؟

ایسے حساس اور نازک موقعوں پر ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسلام کوکسی قسم کی کمی اور زیادتی کے بغیر واضح الفاظ، قابل درک ، سادہ عبارتوں اورآسان انداز مین عوام بلکہ دنیا والوں کے سامنے پیش کریں اور جو حضرات اسلام اور دیگر مذاہب سے آشنا ہونا چاہتے ہیں ہم اسلام کی حقیقت بیانی سے ان کی صدیوں ی پیاس بجھادیں اور کسی کو اپنی جگہ کوئی بات کہنے یا فیصلہ لینے کا موقع نہ دیں۔

۴

لیکن اس فرق کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ان سے تال میل نہ رکھا جائے یا ان کا نزدیک سے تعاون نہ کیا جائے ہونا تو یہ چایئے کہ تمام مسلمان ایک ہوکر ایک دوسرے کی مدد کریں اور اپنے اس آپسی تعاون اور تال میل کے سہارے مغرب کی ثقافتی حملوں کا جواب دیں اور اپنی حیثیت اور وجود کا اظہار کریں نیز اپنے مخالفین کو ان کے منصوبوں مین بھی کامیاب ہونے نہ دیں

سچ تو یہ ہے کہ ایسی مفاہمت ، تال میل ،مضبوطی اور گہرائی اسی وقت آسکتی ہے جب ہم اصول وضوابط کی رعایت کریں اس سے بھی اہم یہ ہے کہ تمام اسلامی فرقے ایک دوسرے ک معرفت اور شناخت حاصل کریں تاکہ ہر ایک کی خصوصیت دوسرے پر واضح ہو ، کیونکہ صرف معرفت سے ہی سوئے تفاہم ،غلط فہمی اور بدگمانی دورہوجائے گی اور امداد ،تعاون کا راستہ بھی خودبخود کھل جائے گا۔

آپ کے سامنے موجودہ " فی رحاب العقیدہ: نامی کتاب حضرت آیت اللہ العظمی سید محمدسعید حکیم دام ظلہ کی انتھک اور بے لوثکوششوں کا نتیجہ ہے جیسے اپنی مصروفیتوں کے باوجود کافی عرق ریزی کے ساتھ ، حوزہ علمیہ کھجوا بہار کے افاضل جناب مولانا مظاہر حسین صاحب نے ترجمہ سے آراستہ کیا اور حوزہ علمیہ کے ہونہار طالب افاضل نے اپنی بے مثال کوششوں سے نوکپلک سنوارتے ہوئے اس کتاب کی نشر واشاعت میں تعاول کیا ہے لہذا ہم اپنے تمام معاونین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خداوند منان سے دعا گو ہیں کہ ہو ان تمام حضرات کو اپنے سایہ لطف وکرم میں رکھتے ہوئے روز افزوں ان کی توفیقات میں اضافہ کرے اور لغزشوں کو اپنی عفو وبخشش سے درگزر فرمائے ۔ آمین

مرکز جہانی علوم اسلامی

معاونت تحقیق

۵

فہرست

عرض ناشر۵

پیش لفظ۱۳

سوال نمبر۔۱۱۵

سوال نمبر۔۲۱۶

سوال نمبر۔۳ ۱۶

سوال نمبر۔۴۱۶

سوال نمبر۔۵۱۶

سوال نمبر۔۶۱۷

سوال نمبر۔۷ ۱۷

سوال نمبر۔۸۱۷

سوال نمبر۔۹۱۸

سوال نمبر۔۱۰۱۸

شریعت لڑنے جھگڑنےسے روکتی ہے ۲۰

۶

نتیجہ خیز گفتگو کے لئے مناسب ماحول کا ہونا ضروری ہے ۲۲

سوال نمبر۔۱۲۵

جواب:۲۵

علم حدیث میں شیعوں کی کتابیں ۲۶

شیعوں کی فقہ کی کتابیں ۳۰

فقہ کی استدلالی کتابیں:۳۱

سیرت کے موضوع پر شیعہ تالیفات ۳۳

عقائد شیعوں کی کتابیں ۳۵

فرقہ شیعہ کی طرف سے لکھی ہوئی ہر کتاب متفق علیہ نہیں ہے ۳۸

سوال نمبر۔۲۴۱

شیعوں کے نزدیک کفر و اسلام کا معیار۴۱

مسئلہ نمبر۱:۴۴

کتاب و سنت اور مسلمانوں کی بول چال میں کفر کا اطلاق مزید کچھ افراد پر ہوتا ہے ۴۶

صحابہ خود اپنی نظر میں قابل احترام نہیں تھے۴۹

۷

عثمان کے معاملے میں صحابہ کے کارنامے۵۰

قتل عثمان کے بعد صحابہ کے درمیان کیا ہوا؟۵۸

نبیﷺکے بعد صحابہ کے درمیان کیا ہوا؟۶۱

صحابہ کی سیرت میں وہ انسانی خامیاں جو عام طور سے سب میں پائی جاتی ہیں ۶۴

صحابہ کا انفرادی اور غیرمناسب کردار بھی ان کی تقدیس کی نفی کرتا ہے ۸۲

صحابہ کے بارے میں تابعین اور تبع تابعین کے خیالات اور نظریئے۱۲۲

صحابہ کرام کے بارے میں قرآن مجید کا نظریہ۱۲۹

عام اصحاب کے بارے میں نبی کریمؐ کا نظریہ۱۴۸

ایک تنبیہ اس بات کے لئے کہ صحابہ طبیعت بشری پر تھے اور اس کے تقاضون کو پورا کرنے پر مجبور تھے۱۵۹

گذشتہ بیانات کی روشنی میں شیعوں کا صحابہ کے بارے میں نظریہ۱۶۱

خدا کی راہ میں محبت خدا کی راہ میں روشنی۱۶۳

صحبت کا اثر اور اس کی اہمیت ۱۶۶

غیر شیعہ افراد کا شیعوں کے بارے میں مناسب نظریہ۱۶۹

دوسرے فرقوں سے شیعوں کا حسن معاشرت ۱۷۰

۸

سوال نمبر۔۳ ۱۷۳

اہل سنت اور شیعوں کا عدم تحریف قرآن پر عملی اجماع ۱۷۴

شیعہ علما عدم تحریف کے قائل ہیں ۱۷۵

ہم نے اس گفتگو کو طویل دیا اس لئے کہ اس میں دو خاص باتیں ہیں ۱۷۸

قائلین تحریف کے ساتھ کیا کیا جائے؟۱۸۵

عدم تحریف کی تاکید۱۸۶

تحریف قرآن کا موضوع ایک خطرناک موضوع ۱۸۹

سوال نمبر۔۴۱۹۳

دونوں فرقوں(شیعہ اور سنی)کے علاوہ درمیان نظام حکومت کی تعریف ۱۹۵

سرکار حجۃ بن الحسن العسکری المہدیؑ کے سلسلے میں مذہب شیعہ کی حقانیت پر چند دلیلیں ۲۰۳

امام کی معرفت واجب ہے اور اس کے حکم کو بھی ماننا واجب ہے ۲۰۴

بارہ امام قریش سے ہیں ۲۰۶

سوال نمبر۔۵۲۰۹

لطف الہی کے قائد کی شرح اور اس کی تعریف ۲۰۹

۹

لطف الہی کا اصول صرف مذہب امامیہ کا نظریہ ماننے پر ہی ٹوٹےگا۲۱۳

سوال نمبر۔۶۲۱۷

حدیث ثقلین کے کچھ متن حاضر ہیں ۲۱۷

حدیث ثقلین دلالت کرتی ہے کہ عترتؑ کی اطاعت واجب ہے ۲۱۹

عترتؑ کی اطاعت واجب ہونے کا مطلب ان کی امامت ہے ۲۲۲

سوال نمبر۔۷ ۲۲۵

واقعہ غدیر کے موقع پر آیت کا نازل ہونا۲۲۶

آیہ بلغ کا نزول غدیرخم میں ۲۲۸

غدیر میں نبیؐ کا نماز جماعت کے لئے پکارنا۲۳۰

غدیر کے دن حضور اکرمﷺکا خطبہ۲۳۱

واقعہ غدیر میں اکمال کا نزول ۲۴۳

ہادی اعظم نے علیؑ کے سر پر عمامہ باندھا۲۴۶

حاضرین نے غدیرخم میں علیؑ کو مبارک باد دی ۲۴۶

واقعہ غدیر کے دن حسان بن ثابت کا معرکۃ الآراء قصیدہ۲۴۸

۱۰

غدیر کا روزہ۲۴۹

حارث بن نعمان فہری کا واقعہ((سئل سائل بعذاب واقع))۲۵۱

حدیث غدیر مقام احتجاج میں ۲۵۲

رحبہ(کوفہ)میں امیرالمومنینؑ کا حدیث غدیر کےحوالہ سے مناظرہ اور مناشدہ۲۵۴

جس نے غدیر کی گواہی دینے سے منع کیا اس لئے امیرالمومنین حضرت علیؑ کی بددعا۲۵۷

حدیث غدیر کی شہرت اور اشاعت پر اس مناشدہ کا اثر۲۵۸

سنت نبوی کو جامد کرنے اور اس کو پوشیدہ رکھنے کی کوشش کے شواہد۲۵۹

سوال نمبر۔۸۲۶۶

سوال نمبر۔۹۲۷۲

اسلام کی خدمت کے لئے مشترکہ کوشش کرنا ائمہ اہل بیتؑ کی تعلیم ہے ۲۷۴

خدمت اسلام کے لئے متحدہ جد و جہد کے بارے میں شیعہ اور ان کے علما کا نظریہ۲۷۶

حقیقت تک پہونچنے کے لئے میں عملی گفتگو کو خوش آمدید کہتا ہوں ۲۷۸

شیعہ اور اہل سنت کے درمیان عقیدے کے اعتبار سے اتحاد نہیں پیدا ہوسکتا۲۷۹

غالیوں کے بارے میں شیعوں کا نظریہ۲۸۲

۱۱

سوال نمبر۔۱۰۲۸۴

حتی لانںخدع جیسی کتابوں کے بارے میں ہمارا نظریہ۲۸۵

آج کے دور میں شیعوں پر حملے۲۸۷

شیعوں کو اپنے خلاف حملہ کا مقابلہ کرنے کے لئے کیا کرنا چاہئے؟۲۸۸

سلفیوں کے واقعات اور ان کے مقاصد۲۹۰

جو آدمی حقیقت پر بحث کرنا چاہتا ہے اس کے لئے ایک اہم نصیحت ۲۹۳

۱۲

پیش لفظ

الحمد لله علی رب العالمین و الصلاة و السلام علی اشرف الانبیاء و المرسلین وخاتم النبیین و علی آله المعصومین

بے شک خالق کائنات کی معرفت اور دین کی تبلیغ و ترویج انسان کا پہلا فریضہ ہے اور دین اسلام میں سب سے زیادہ اہمیت عقیدہ کی ہے جس پر انسان کی سعادت و کامیابی اور نجات کا انحصار ہے جیسا کہ قرآن کریم اور احادیث پیغمبر اعظمؐ سے صاف واضح ہے کہ جنت عقیدہ ہی کی بنیاد پر ملے گی عمل کے ذریعہ نہیں اور ویسے بھی خود عمل کا دار و مدار عقیدہ ہی پر ہے، اسی وجہ سے دین میں عقیدہ اور عمل کی مثال درخت کی جڑ اور شاخوں سے دی جاتی ہے اور یہ بات ہر ذی عقل و شعور پر واضح ہے کہ اگر جڑ میں خرابی آجائے تو شاخیں خودبخود خشک ہوجاتی ہیں اسی بنا پر جڑ کی اہمیت زیادہ ہے اور اس کا تحفظ اور خیال زیادہ رکھا جاتا ہے اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مرکز تحقیقات نشر علوم اسلامی امام حسن عسگری علیہ السلام نے جس کی بنیاد ۱۶ جمادی الثانی ۱۴۲۵ ؁ بمطابق ۲۰۰۳ ؁کو رکھی گئی، خدمت دین اور انسانی عقیدہ کی صحت اور پختگی کے لئے عالم جلیل و فاضل و کامل بحرالشریعہ آیۃ اللہ فی العالمین عالم تشیع کے عظیم الشان مرجع حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ سید

۱۳

محمد سعید حکیم طباطبائی گراں بہا تالیف کا اردو ترجمہ کرایا جسے مرکز جہانی علوم اسلامی نے زیور طبع سے آراستہ کیا تا کہ ہر ایک کے لئے عقیدہ کی اصلاح و پختگی و تکمیل آسان ہوجائے،آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد سعید حکیم طباطبائی دنیائے عالم کے عظیم المرتبت مرجع تشیع سید محسن حکیم طاب ثراہ کے نواسے ہیں جن کی شخصیت محتاج تعارف نہیں ہے موصوف کی اس کے علاوہ بھی دیگر کتابیں زیر طبع ہیں جو انشااللہ عنقریب خدا کی توفیق و مدد اور آپ حضرات کی دعا سے منظر عام پر آجائیں گی،ادارہ بصد خلوص شکر گزار ہے آیۃ اللہ کا جنہوں نے اس گراں بہا تالیف کے ذریعہ سے قوم کی بے لوث خدمت کی اور ان محترم و مکرم علمائ و فضلائ مولانا مظاہر شاہ صاحب و مولانا کوثر مظہری صاحب مولانا سید نسیم رضا صاحب کا جنہوں نے اس کتاب کے ترجمہ و تصحیح کے ذریعہ ادارہ کا تعاون فرمایا ہم اس خدمت دین میں آپ حضرات کے نیک مشوروں کے خواہاں ہیں۔

آخر کلام میں خدائے مہربان سے دعاگو ہیں کہ ہمیں خلوص اور صدق نیت کے ساتھ خدمت دین کی زیادہ سے زیادہ توفیق عطا فرمائے۔

سید نسیم رضا زیدی

۱۹۔۹۔۸۵ھ ش،۱۷۔ذیقعدہ۱۴۲۷؁

مرکز تحقیقات نشر علوم اسلامی امام حسن عسکریؑ قم المقدسہ ایران

۱۴

بسم الله الرحمن الرحیم

ساری تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو عالمین کا رب ہے اور دورود و سلام ہو خدا کی سب سے بلند مخلوق سیدالانبیاء اور ان کی پاک آل پر اور سلام کا سلسلہ تا قیامت معزز اصحاب پر جاری رہے۔

اما بعد: مرجع دینی عظیم اور بزرگ علامہ سید محمد سعید الحکیم محترم کی خدمت میں سلام عرض ہو پاک و پاکیزہ اور صاحب کرم آپ پر سلام ہو اللہ کا اور اس کی رحمت و برکت ہو۔

جناب عالی سے امید ہے کہ اس خط میں میں نے جو سوالات کئے ہیں اور جو وضاحتیں مانگی ہیں ان کے جوابات عنایت فرمائیں گے۔انشاءاللہ

سوال نمبر۔۱

میرا خیال ہے کہ تمام عالم اسلام کو(اس میں شیعہ اور سنی کی قید نہیں ہے)ان باتوں سے واقف ہونا بہت ضروری ہے جو ہماری اسلامی میراث ہیں۔

خصوصاً ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اہل سنت پہلے تو خود اپنی علمی میراث سے ناواقف ہیں پھر شیعوں

۱۵

کی علمی میراث سے بھی انہیں کوئی واقفیت نہیں ہے۔

گذارش ہے کہ ان کتابوں کا ایک تعارف پیش کریں جو آپ کی نظر میں عقائد، فقہ، حدیث اور سیرت کے سلسلے میں قابل اعتماد ہوں، خداوند عالم آپ کے فضل و کرم کو ہمیشہ باقی رکھے۔

سوال نمبر۔۲

صحابہ کو گالیاں دینے اور نہیں کافر قرار دینے کے فعل کو شیوں کی طرف منسوب کیا گیا ہے، خاص طور سے شیعہ ابوبکر،عمر عثمان کو کافر قرار دیتے ہیں،کیا واقعی شیعہ اس بات کے قائل ہیں؟اس طرح عائشہ کو بھی شیعہ کافر قرار دیتے ہیں،کیا یہ بات صحیح ہے؟

سوال نمبر۔۳

کچھ اہل سنت حضرات یہ الزام لگاتے ہیں کہ شیعہ تحریف قرآن کے قائل ہیں کیا شیعوں پر یہ الزام صحیح ہے؟حالانکہ میں نے شیخ محمد ابوزہرہ کی کتاب(الامام جعفر الصادقؑ)میں پڑھا ہے کہ محقق طوسی علیہ الرحمہ سے نقل کیا گیا ہے کہ یہ قول صحیح نہیں ہے، آپ کی اس سلسلہ میں کیا رائے ہے؟خداوند عالم آپ کی عمر میں اضافہ کرے.

سوال نمبر۔۴

اہل سنت کے امام مہدیؑ کوئی دوسرے ہیں اور شیعوں کے امام مہدیؑ دوسرے، کیا دونوں باتیں ایک ساتھ صحیح ہونا ممکن ہیں یا نہیں؟اور صحیح نظریہ کس کا ہے سنی یا شیعہ کا۔

سوال نمبر۔۵

شیعوں کا عقیدہ ہے کہ خداوند عالم نے بندوں پر لطف و کرم کرنے کو اپنے اوپر واجب قرار دیا ہے، اس

۱۶

لئے واجب ہے کہ وہی امام کو منصوب و معین کرے، اس نظریہ کے تحت امام عادل کا لوگوں کے درمیان ہمیشہ رہنا واجب ہے، کیا یہ نظریہ آج کے دور میں غلط دکھائی نہین دیتا کیونکہ آج لوگوں کے درمیان امام عادل نہیں ہے جو لوگوں کی نظارت کرسکے،پھر لطف الہی کے ذریعہ نصب امام پر استدلال خودبخود ساقط ہوجاتا ہے۔

سوال نمبر۔۶

ہمارے آقا و مولا و سردار حضرت علی علیہ الاسلام کی امامت پر حدیث عترت سے کیسے استدلال کیا جاسکتا ہے؟کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ حدیث عترت کے ذریعہ سرکار دو عالم اپنے صحابہ کو اہل بیت علیہم السلام کے ساتھ اچھے سلوک کی وصیت کررہے ہوں اور انھیں اہل بیت علیہم السلام کی طرف متوجہ کررہے ہوں۔

سوال نمبر۔۷

واقعہ غدیر کے سلسلے میں شیعوں کا خیال ہے کہ اس حدیث کو تواتر حاصل ہے لیکن اہل سنت نے اپنی کتابوں میں نہیں لکھا ہے پھر یہ حدیث متواتر کیسے ہوسکتی ہے جبکہ اہل سنت نے تو اس کا شمار خبر احاد اور ضعیف میں بھی نہیں کیا ہے۔

سوال نمبر۔۸

کیا آپ کے علم میں علامہ ابن تیمیہ کی کتاب((منهاج السنة)) کا جواب کسی شیعہ نے لکھا ہے، یہ کتاب ابن تیمیہ نے علامہ حلی کی کتاب کے جواب میں لکھی تھی، علماء اہل سنت نے بھی اس کتاب کا جواب دیا ہے جن میں ایک شیخ ابوحامد بن مرزوق ہیں پس انھوں نے اپنی کتاب ((براءۃ الاشریں اس کے جواب میں لکھی ہے۔

۱۷

سوال نمبر۔۹

کیا آپ کی رائے میں شیعہ سنی اتحاد کی کوئی گنجائش ہے؟میرا خیال ہے کہ اہل سنت میں خصوصاً اشعری اور ماتریدی فرقے شیعوں کی تفکیر کے قائل نہیں ہیں بلکہ شیعوں کے عقائد کو اپنی کتابوں میں لکھتے بھی ہیں، ان پر بحث بھی کرتے ہیں اگر چہ یہ حضرات کچھ شیعوں کے غلو کی وجہ سے ان کی گمراہی کے قائل ہیں اور اسی طرح کچھ غالی سنیوں کے بھی گمراہ ہونے کےقائل ہیں۔

سوال نمبر۔۱۰

جناب عالی سے امید کرتا ہوں کہ طلاب علم کو فائدہ پہنچانے کے لئے عبداللہ موصلی کی کتاب((حتی لانخدع))( ہم منزل سے بھٹک نہ جائیں)کا جواب تحریر فرمائیں گے۔

جس میں شیعہ اور ان کے علمائے حضرات اہل سنت کو کافر سمجھتے ہیں اور ان کی جان اور مال کو مباح جانتے ہیں، مجھے معلوم ہے کہ بے حد مصروفیت کی بنا پر آپ کے پاس وقت نہیں ہے، اسی لئے میں نے جناب کی توجہ اس طرف مبذول کرائی ہے ورنہ آپ ان معاملات سے زیادہ واقف ہیں۔

مذکورہ کتاب مصر میں چھپی ہے چھاپنے والے ادارہ کا نام((دارالسلام للنشر و التوزیع)) ہے خاص طور سےبعض مبلغین حضرات اس کتاب کے نشر کرنے میں کوشاں رہتے ہیں اور اس پر اعتماد بھی کرتے ہیں۔

آخر کلام میں امید کرتا ہوں کہ طول کلام کو اور اگر کوئی بے ادبی ہو تو در گذر فرمائیں گے،میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ آپ کو مسلمانوں کی خدمت کرنے کی توفیق عنایت فرمائے جس میں اس کی رضا و خشنودی ہے اور امید ہے کہ آپ میرے لئے دعا فرمائیں گے۔

(۳۔۱۲۔۱۹۹۹)

اردن عمان

۱۸

بسم الله الرحمن الرحیم

ہر تعریف کا مستحق عالمین کا پروردگار ہے،درود و سلام ہو اس کی اشرف مخلوقات ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کی پاک و پاکیزہ آل پر اور اسلام کا سلسلہ معزز اصحاب پر روز قیامت تک جاری رہے۔آمین

اما بعد:بخدمت محترم و معزز،عالم و مرجع دینی علامہ السید الحکیم،خداوند عالم کا سلام ہو اور اس کی رحمتیں و برکتیں آپ پر نازل ہوں۔

جناب عالی سے امید ہے کہ میرے ان چند سوالوں کا جواب جو میرے اس خط میں موجود ہیں مرحمت فرما کے مجھے عزت بخشیں گے۔

جواب عرض ہے:

ساری تعریفوں کا مستحق عالمین کا پروردگار ہے،درود و سلام ہو سید المرسلین اور خاتم الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کی آل پاک پر اور ان کے دشمنوں پر قیامت تک لعنت ہو۔آمین

میرے معزز بھائی کی خدمت میں، خدا اپنی رضا کی توفیق عنایت فرمائے۔

السلام علیکم و رحمة الله و برکاته

جناب عالی!آپ کا خط ملا،آپ نے جن سوالوں کا جواب مانگا ہے،وہ سوالات ایسے اہم موضوعات سے متعلق ہیں جن پر کافی بحث و نظر کی ضرورت ہے،موضوع گفتگو بہت نفع بخش ہے اور

۱۹

اس بحث سے بہت سے علمی فائدے حاصل ہوسکتے ہیں مگر یہ کہ موضوعات بہت حساس بھی ہیں،ان پر بحث کرنے کے لئے کامل موضوعیت کے ساتھ وسعت صدر کی بھی ضرورت ہے،اس کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ انسان موروثی عقائد و مسلمات کی سطح سے کچھ بلند ہو کے سوچے یا غور کرے تا کہ ان حقائق تک پہنچ سکے جن کے بارے میں ہم بحث کرنا چاہتے ہیں۔

لیکن وسعت صدر اور وسعت نظر کے ساتھ اگر بحث نہیں کی گئی تو پھر بحث برائے بحث ہو کے رہ جائے گی اس لئے کہ موروثی مسلمات و عقائد سے چمٹے رہنا سچائی تک پہنچنے سے محروم کردیتا ہے،جس کو حاصل کرنا ہمارا ہدف ہے بلکہ معاملہ کچھ اور الجھ جائے گا اس لئے کہ موروثی عقائد مسلمات کے خلاف گفتگو انسان کے دل میں کینوں کو جنم دیتی ہے، انسان اس طرح کی باتوں کو فوراً اپنے وقار کا مسئلہ بنا لیتا ہے پھر ہمدردی اور محبت کے جذبات بزرگوں کی حفاظت کے لئے بڑھتے ہیں،بحث جزباتیت کا رخ اپنا لیتی ہے پھر تو آپس میں بغض و حسد اور کینہ پروری جیسی بہت سی برائیاں پیدا ہوجاتی ہیں اور فرقہ واریت کی بنیاد پڑتی ہے۔

جبکہ ہم اس طرح کا فساد مناسب نہیں سمجھتے ہیں خصوصاً آج عالم اسلام جس دور سے گذر رہا ہے ایسے دور میں ہمیں نفاق اور فرقہ پردازی سے پرہیز کی سخت ضرورت ہے بلکہ سب سے بہتر یہ ہے کہ ہر آدمی اپنے عقیدے کی حفاظت کرے اور تمام فرقے آپس میں حسن معاشرت رکھیں اور مل جل کے رہیں جیسا کہ خداوند عالم نے فرمایا:

(قل کل یعمل علی شاکلته فربّکم اعلم بمن هو اهدی سبیلا)(۱)

شریعت لڑنے جھگڑنےسے روکتی ہے

یہی سبب ہے کہ سرور کائنات اور آپ کی آل پاک سے لڑنے جگھڑنے کی نہی وارد ہوئی ہے،مسعدہ ابن صدقہ کی حدیث میں جو امام صادق علیہ السلام سے وارد ہے،سرکار دو عالم نے فرمایا:تین باتیں ایسی ہیں کہ جو ان صفتوں کے ساتھ اللہ سے ملاقات کرے گا تو جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہوجائے گا:

-------------

۱:- سورہ اسراء آیت ۸۴

۲۰

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296