فریقین کے عقائد کا تحلیلی جائزہ جلد ۲

فریقین کے عقائد کا تحلیلی جائزہ15%

فریقین کے عقائد کا تحلیلی جائزہ مؤلف:
: مولانا شاہ مظاہر حسین
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 367

جلد ۱ جلد ۲ جلد ۳
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 367 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 206086 / ڈاؤنلوڈ: 5979
سائز سائز سائز
فریقین کے عقائد کا تحلیلی جائزہ

فریقین کے عقائد کا تحلیلی جائزہ جلد ۲

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

بسم الله الرحمن الرحیم

فریقین کے عقائد کا تحلیلی جائزہ

(ترجمہ فی رحاب العقیدۃ)

مولف

آیت اللہ العظمی سید محمد سعید طباطبائی حکیم (مد ظلہ العالی)

ترجمہ : مولانا شاہ مظاہر حسین

دوسری جلد

ناشر : انتشارات مرکز جہانی علوم اسلامی (قم ایران)

پہلاایڈیشن سنہ ۱۴۲۸ ھ مطابق سنہ ۲۰۰۷ ء سہ ۱۳۲۶ ھ شمسی

۱

عرض ناشر

خدا وند متعال کی لامتناہی عنایتوں اور ائمہ معصومین کی لاتعداد توجہات کے سہارے آج ہم دنیا میں انقلاب تغیر مشاہدہ کررہے ہین وہ بھی ایسا بے نظیر انقلاب اور تغیر جو تمام آسمانی ادیان میں صرف دین " اسلام" میں پایا جاتا ہے

گویا عصر حاضر میں اسلام نے اپنا ایک نیا رخ پیش کیا ہے یعنی دنیا کے تمام مسلمان بیدار ہوکر اپنی اصل ،(اسلام)کی طرف واپس ہورہے ہیں اور اپنے اصول وفروع ی تلاش کررہے ہیں-

آخر ایسے انقلاب وتغیر کی وجہ کیا ہوسکتی ہے ؟ سب سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم اس بات پرغور کریں کہ اس وقت اس کے آثار تمام اسلامی ممالک حتی مغربی دنیا میں بھی رونما ہوچکی ہے ۔اور دنیا کے آزاد فکر انسان تیزی کے ساتھ اسلام کی طرف مائل ہورہے ہیناور اسلامی معارف اور اصول سے واقف اور آگاہ ہونے کے طالب ہیں اور یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اسلام دنیا والوں کو ہرروز کونسا جدید پیغام دے رہا ہے ؟

ایسے حساس اور نازک موقعوں پر ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسلام کوکسی قسم کی کمی اور زیادتی کے بغیر واضح الفاظ، قابل درک ، سادہ عبارتوں اورآسان انداز مین عوام بلکہ دنیا والوں کے سامنے پیش کریں اور جو حضرات اسلام اور دیگر مذاہب سے آشنا ہونا چاہتے ہیں ہم اسلام کی حقیقت بیانی سے ان کی صدیوں ی پیاس بجھادیں اور کسی کو اپنی جگہ کوئی بات کہنے یا فیصلہ لینے کا موقع نہ دیں۔

۲

لیکن اس فرق کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ان سے تال میل نہ رکھا جائے یا ان کا نزدیک سے تعاون نہ کیا جائے ہونا تو یہ چایئے کہ تمام مسلمان ایک ہوکر ایک دوسرے کی مدد کریں اور اپنے اس آپسی تعاون اور تال میل کے سہارے مغرب کی ثقافتی حملوں کا جواب دیں اور اپنی حیثیت اور وجود کا اظہار کریں نیز اپنے مخالفین کو ان کے منصوبوں مین بھی کامیاب ہونے نہ دیں

سچ تو یہ ہے کہ ایسی مفاہمت ، تال میل ،مضبوطی اور گہرائی اسی وقت آسکتی ہے جب ہم اصول وضوابط کی رعایت کریں اس سے بھی اہم یہ ہے کہ تمام اسلامی فرقے ایک دوسرے ک معرفت اور شناخت حاصل کریں تاکہ ہر ایک کی خصوصیت دوسرے پر واضح ہو ، کیونکہ صرف معرفت سے ہی سوئے تفاہم ،غلط فہمی اور بدگمانی دورہوجائے گی اور امداد ،تعاون کا راستہ بھی خودبخود کھل جائے گا۔

آپ کے سامنے موجودہ " فی رحاب العقیدہ: نامی کتاب حضرت آیت اللہ العظمی سید محمد سعید حکیم دام ظلہ کی انتھک اور بے لوث کوششوں کا نتیجہ ہے جیسے اپنی مصروفیتوں کے باوجود کافی عرق ریزی کے ساتھ ، حوزہ علمیہ کھجوا بہار کے افاضل جناب مولانا مظاہر حسین صاحب نے ترجمہ سے آراستہ کیا اور حوزہ علمیہ کے ہونہار طالب افاضل نے اپنی بے مثال کوششوں سے نوک پلک سنوارتے ہوئے اس کتاب کی نشر واشاعت میں تعاول کیا ہے لہذا ہم اپنے تمام معاونین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خداوند منان سے دعا گو ہیں کہ ہو ان تمام حضرات کو اپنے سایہ لطف وکرم میں رکھتے ہوئے روز افزوں ان کی توفیقات میں اضافہ کرے اور لغزشوں کو اپنی عفو وبخشش سے درگزر فرمائے ۔ آمین

مرکز جہانی علوم اسلامی

معاونت تحقیق

۳

فہرست

عرض ناشر ۲

پیش لفظ ۱۷

سوال نمبر ۱ ۲۱

سوال نمبر۔ ۲ ۲۲

سوال نمبر۔ ۳ ۲۳

سوال نمبر۔ ۴ ۲۳

سوال نمبر۔ ۵ ۲۳

سوال نمبر۔ ۶ ۲۴

سوال نمبر ۔ ۷ ۲۴

سوال نمبر۔ ۸ ۲۴

سوال نمبر ۔ ۹ ۲۵

تلاش حقیقت کے وقت جستجو کے حق کو ادا کرنا ضروری ہے ۲۸

سنّی اور شیعہ روایتوں میں ہاتھ میں ہاتھ دینے کے معنی میں بیعت کا تذکرہ ۳۱

اقرار ولایت اور قبول ولایت کے معنی میں بیعت ثابت ہے ۳۳

حدیث غدیر سے استدلال بیعت پر موقوف نہیں ہے ۳۴

حدیث غدیر سے امامت و خلافت پر مزید تاکید کے لئے شیعہ بیعت پر زور دیتے ہیں ۳۵

حدیث غدیر سے امامت پر دلالت کو بعض قرینے ثابت کرتے ہیں ۳۶

۴

جو ولی ہے وہی امام ہے اور اس کی اطاعت واجب ہے ۳۷

سوال نمبر ۔ ۱ ۳۹

لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ رضائے پروردگار کسی کے مرنے تک باقی رہے یعنی خدا ان سے مرنے کے وقت تک راضی رہے! ۴۱

جنت کے وعدے کی وجہ سے سابقون اوّلون کی نجات پر استدلال ۴۱

مدعا کے دو رخ ممکن ہیں ۴۱

ہر مہاجر اور انصار کے لئے کامیابی اور جنت کا وعدہ ۴۲

ہر صالح مومن کے لئے کامیابی کا وعدہ ہے ۴۴

ہر مومن سے جنت اور کامیابی کا وعدہ ہے ۴۵

ہر گنہگار اور بےراہ کو خسران اور عذاب کی وعید ہے ۴۵

الہی وعدے حُسن خاتمہ سے مشروط ہیں ۴۷

صحابہ کو فتنہ اور پھر جانے سے بچنے کی ہدایت ۴۸

پھر کامیابی کا وعدہ مطلق کیوں؟ ۵۱

تھوڑی سی گفتگو تا بعین کے بارے میں بھی ہوجائے ۵۲

سابقون اوّلون میں کچھ لوگ مرتد بھی ہوگئے ۵۳

سابقین اوّلین کے حالات ایسے نہیں کہ سب کی کامیابی کا یقین کر لیا جائے! ۵۴

سابقین اوّلین کو قطعی طور پر نجات یافتہ مان لینا انھیں برائیوں کی طرف ترغیب دینا ہے ۵۵

سابق الایمان ہونے سے ذمّہ داریاں بڑھ جاتی ہیں ۵۷

کیا سابقون اولون کے معاملے میں دخل دینا چاہئے ۵۸

۵

سابقون اوّلون مشخص ہی نہیں ہیں! ۶۰

سابقون اوّلون نقد و جرح سے بالاتر نہیں ہیں اس پر امت کا اجماع ہے ۶۱

صحابہ کی لفظ کا صرف سابقون اوّلون پر محمول کرنا ہی قابل تامل ہے ۶۲

حاطب ابن ابی بلتعہ کے قصہ سے استدلال ۶۶

حاطب بن ابی بلتعہ کے قصے میں احتیاط ۶۷

مقام تقدّس میں صحابہ کو اہل بیت ؑ کے مقابلے میں لانے کی کوشش ۶۷

نبی پر درود پڑھتے وقت اہل بیتؑ کو شامل کرنے کے بارے میں اہل سنّت کا نظریہ ۶۸

اہل سنت کے نظریہ کی توجیہ میں طحاوی کا بیان ۶۹

حدیث نبوی میں اختلاف اور امیرالمومنینؑ کا مشورہ ۷۱

حضرت امام محمد باقرؑ کے وضعی حدیثوں کے بارے میں ارشادات ۷۵

جعلی حدیثوں کے بارے میں مدائنی اور نفطو یہ کی روایت ۷۷

جعلی حدیثوں میں صحاحِ ستّہ کا حصّہ ۷۹

اہل بدر کے بارے میں وارد حدیثوں کا متن ۸۰

مذکورہ حدیث کا پس منظر ۸۱

قرآن مجید حاطب کے فعل کو غلط ثابت کرتا ہے ۸۲

حدیث،اہل بدر کی قطعی سلامتی اور نجات کی ضمانت نہیں لیتی ۸۴

اہل بدر کی قطعی سلامتی کا اعلان انھیں گناہ پر ابھارےگا ۸۵

اس طرح کی حدیثوں میں گناہ کبیرہ سے بچنے کی قید لگانا ضروری ہے ۸۷

۶

قرآن مجید حاطب کی جس طرح تہدید کرتا ہے اس سے سلامت قطعی نہیں سمجھی جاسکتی ۸۸

تھوڑی سی گفتگو حدیث حاطب جیسی حدیثوں کے بارے میں ۹۰

حکمت اور عقل کا تقاضا یہ ہے کہ حدیث حاطب کی تاویل کی جائے ۹۱

واقعہ بدر کے علاوہ بھی ایسی چیزیں ہیں جن کے بارے میں سلامت قطعی وارد ہوئی ہے ۹۳

حدیث مذکورہ اہل بدر سے مخصوص ہے نہ کی باقی سابقون اوّلون سے ۹۶

سوال نمبر ۔ ۲ ۹۷

بیعت رضوان کے بارے میں گفتگو ۹۸

آیہ کریمہ رضا کو مطلق نہیں کرتے بلکہ رضا کا سبب بیان کرتی ہے ۹۸

بعض آیتیں بتاتی ہیں کہ اس بیعت کے عہد کو پورا کرنا سلامتی کی شرط ہے ۹۸

خدا کی رضا صرف بیعت رضوان والوں سے مخصوص نہیں ہے ۱۰۰

رضا بشرط استقامت ہے اور اس کی تائید باقی رہےگی ۱۰۲

غطبہ اور حسد میں فرق ہے ۱۰۳

حسد اعظم محرمات میں سے ہے ۱۰۴

اپنے اماموں کے بارے میں شیعوں کا نظریہ سنیوں کے اماموں کے بارے میں سنیوں کا نظریہ ان دونوں میں بہت فرق ہے ۱۰۵

سوال نمبر۔ ۳ ۱۰۹

جو ہورہا ہے اس کو ہونے دینا ۱۱۰

حالات حاضرہ کو جاری رکھنا اور شرعی شکل دینا ۱۱۰

خلافت کا تعین خدا کرتا ہے خلیفہ کو حق(نہیں کہ وہ دوسرے کے حق میں دست بردار ہوجائے) ۱۱۱

۷

منصب(امامت)کی اہلیت صرف اسی میں ہوتی ہے جس کو اللہ منصب کے لئے معین کرتا ہے ۱۱۳

عثمان کی خلافت پر کوئی نص نہیں تھی مگر وہ معزول ہونے پر تیار نہیں تھے ۱۱۷

دورخلافت کے جاری رکھنے سے معالم حق کی بربادی لازم آتی ہے ۱۱۸

اسلام کی اعلی ظرفی اجازت نہیں دیتی کہ شریعت الٰہیہ کی پیروی قہر و غلبہ اور بزور کروائی جائے ۱۲۲

خلیفہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ امت کے کاروبار کو چلانے کے لئے اپنا نائب بنائے ۱۲۳

شیعہ اچھی طرح اس بات کو سمجھتے ہیں کہ اہل بیت ؑ اپنے حق سے دست بردا رنہیں ہوئے ۱۲۳

یہ دعویٰ کرنا کہ شیعہ اپنے اماموں کے بارے میں جھوٹ بولتے ہیں کہاںتک حقیقت پر مبنی ہے؟ ۱۲۴

مذکورہ دعوی کی تردید اور شیعوں کی صداقت کے شواہد ۱۲۴

جھوٹ بولنے کی کوئی وجہ نہیں ہے جب کہ شیعہ انھیں عقیدوں کی وجہ سے ہمیشہ بلاؤں کا سامنا کرتے رہے ۱۲۵

اگر شیعہ مفتری ہوتے تو ان کے امام ان سے الگ ہوجاتے ۱۲۶

ائمہ اہل بیتؑ کی میراث کا تحفظ شیعوں ہی نے کیا ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شیعہ ان حضرات سے مخصوص تھے ۱۲۷

شیعوں کے کردار میں اماموں کے اخلاق کی جھلک ۱۲۹

اہل سنت کی ائمہ اہل بیت علیہم السلام سے کنارہ کشی ۱۳۱

شیعیان اہل بیت ع اور دشمنان اہل بیت ع کے بارے میں سنیوں کا نظریہ ۱۳۱

ائمہ اہل بیت ؑ کے بارے میں علما اہل سنت کے کچھ نظریے ۱۳۲

ائمہ اہل بیتؑ کے بارے میں عام سنیوں کے کچھ نظریئے ۱۳۷

ائمہ اہل بیتؑ نے امت کی ہدایت و ثقافت اور تہذیب اخلاق کو اہمیت دی ۱۴۱

جب جمہور نے منھ موڑ لیا تو آپ حضرات نے اپنے شیعوں کو بہت اہمیت دی ۱۴۳

۸

عالم اسلام میں ائمہ اہل بیتؑ کا بہرحال ایک مقام ہے ۱۴۴

خلافت کے معاملے میں ائمہ اہل بیت(ہدیٰ)علیہم السلام اور ان کے خاص لوگوں کی تصریحات ۱۴۵

امیرالمومنین علیہ السلام کا امر خلافت کے معاملے میں صریحی بیان ۱۴۶

امیرالمومنین علیہ السلام کے شکوے کی بہت سی خبریں ہیں ۱۵۹

امیرالمومنینؑ کے شکوے پر ابن ابی الحدید کا نوٹ ۱۶۰

امیرالمومنین علیہ السلام کے کلام سے رضا ظاہر نہیں ہوتی ۱۶۱

خلافت کے بارے میں صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کا موقف ۱۶۲

خلافت کے معاملے میں امام حسن علیہ السلام کا موقف ۱۶۵

خلافت کے معاملے میں امام حسین علیہ السلام کا موقف ۱۶۷

خلافت کے معاملے میں امام زین العابدین علیہ السلام کا موقف ۱۷۰

خلافت کے معاملے میں امام محمد باقر علیہ السلام کا موقف ۱۷۲

خلافت کے مسئلہ میں محمد بن حنفیہ کا موقف ۱۷۳

خلافت کے بارے میں عباس بن عبدالمطلب کا موقف ۱۷۴

امر خلافت میں فضل بن عباس کا نظریہ ۱۷۴

امر خلافت میں عبداللہ بن عباس کا موقف ۱۷۵

خطبہ شقشقیہ مقام تنقید میں ۱۷۸

امیرالمومنین علی علیہ السلام کے خاص اصحاب اور امر خلافت ۱۷۹

صادق اللہجہ ابوذر اور امر خلافت ۱۷۹

۹

حذیفہ اور امر خلافت ۱۸۰

شوریٰ کے متعلق بعض صحابہ کا موقف ۱۸۰

بعض اعلام جمہور کی تصریحات ۱۸۵

عمر بن خطاب کا اعتراف حق ۱۸۵

خلافت کے بارے میں عثمان بن عفان کا نظریہ ۱۸۸

معاویہ کا خط محمد بن ابی بکر کے نام ۱۸۹

دوسری جگہوں پر معاویہ کا اعتراف حق ۱۹۱

عمرو بن عاص کی بات بھی سنئے ۱۹۲

عبداللہ بن زبیر کا نظریہ ۱۹۲

علامہ علی بن فارقی کی باتیں ۱۹۳

وہ واقعات جن سے اہل بیتؑ کا خلافت پر عدم اقرار ثابت ہوتا ہے ۱۹۴

سقیفہ کی باتیں ۱۹۴

سقیفہ کے بعد کیا ہوا ۱۹۵

واقعات سقیفہ پر صدیقہ طاہرہ صلوات اللہ علیہا کا رد عمل ۱۹۶

ابوبکر کی بیعت سے امیرالمومنینؑ کا باز رہنا ۱۹۸

شوریٰ کے واقعات اور امیرالمومنینؑ اور آپؑ کے اصحاب کا نظریہ ۱۹۸

امیرالمومنین ؑ اور آپ کے معاصرین کے کلام کا اثر یہ ہوا کہ شیعیت کے عقائد ظاہر ہوگئے ۲۰۱

امیرالمومنین کا واضح موقف اور علما اہل سنت کا ادراک ۲۰۷

۱۰

شیخین کے متعلق امیرالمومنین ؑ کے موقف کے بارے میں اسمٰعیل حنبلی کا واقعہ ۲۰۷

یہ دعویٰ کہ ائمہ ؑ شیخین کی خلافت کا اقرار کرتے تھے اور ان سے راضی تھےمحتاج دلیل ہے ۲۰۹

سوال نمبر ۔ ۴ ۲۱۱

صحابہ کا نص سے تغافل یا نبی ؐ کا امر امت سے اہمال،کون بدتر ہے؟ ۲۱۱

اس مفروضہ غفلت اور اہمال کا نتیجہ ۲۱۶

اسلام کی پائیدار بلندی اور اس کا کمال رفعت ۲۱۷

عدم نص کے نظریہ کی ناکامی وجود نص کی سب سے بڑی دلیل ہے ۲۱۹

خود نبی ؐ کی حیات میں صحابہ کی نص سے مخالفت ۲۱۹

حدیث حوض اور فتنوں سے ڈرانےوالی احادیث کی سنگینی کا پتہ دیتی ہیں ۲۲۱

سابقہ امتوں کے واقعات ۲۲۱

مخالفت تو ایسی نصوص کی بھی کی گئی جو امامت کے لئے دلیل نہیں تھی ۲۲۲

انصار نے الائمۃ من قریش کی مخالفت کی ۲۲۸

نبی نے صحابہ کو خبردار کردیا تھا کہ وہ امیرالمومنینؑ کے بارے میں نصوص کی مخالفت کریں گے ۲۳۰

جن لوگوں نے نص کی مخالفت کی،ان کی تعداد بہت کم ہے ۲۳۱

انسانی سماج کا مزاق وقت کے دھارے کے ساتھ مڑجاتا رہا ہے ۲۳۲

ابوبکر کی بیعت پر اہل مدینہ کے اتفاق کا دعویٰ ۲۳۳

مذکورہ دعویٰ کے بطلان کے شواہد ۲۳۳

انصار کی کوشش کہ سعد بن عبادہ کی بیعت ہوجائے ۲۳۵

۱۱

منافقین و طلقاء کی کارستانیاں ۲۳۵

آنےوالےفتنوں کےبارےمیں رسول خدا ؐ کی پیشین گوئیاں ۲۳۷

نبی اعظم ؐ اور مولائے کائنات ؑ منافقین کے ٹکراؤ سے بچتے تھے ۲۳۹

انصار کے آرا اور ان کے نظریے ۲۴۰

انصار و غیرہ نے خلافت کے لئے امیرالمومنین ؑ کا نام لیا ۲۴۱

صحابہ کی جماعت کے نمایاں افراد علی ؑ کی طرف مائل تھے ۲۴۳

انصار ابوبکر کی بیعت کرکے پچھتا رہے تھے ۲۴۳

امیرالمومنین ؑ کو کمزور کرنے کی کوشش میں عباس کا استعمال ۲۴۴

صدیقہ طاہرہ ؐ کا خطبہ اور آپ کا انصار کو خاص طور سے قیام کی دعوت دینا ۲۴۶

خطبہ کی تاثیر توڑنے کے لئے ابوبکر کی چال ۲۴۷

جب تک امیرالمومنین ؑ مسلمانوں سے الگ رہے لوگ جہاد کرنے کے لئے نہیں نکلے ۲۴۹

بیرون مدینہ کے قبیلوں کا نظریہ اور مرتدین سے جنگ کی حقیقت ۲۵۰

اہل بیتؑ کو خلافت سے الگ رکھنے اور بیعتِ ابوبکر سے بعض عرب قبیلوں کا انکار ۲۵۱

کچھ عربوں کا اہل بیت ؑ کی خلافت کے لئے احتجاج ۲۵۴

سابقہ بیان سے نتجہ کیا نکلا ۲۵۵

ابوبکر کی بیعت کے بارے میں جدید الاسلام لوگوں کا موقف ۲۵۶

حکومت کو مضبوط کرنے میں رنگروٹ مسلمانوں کا پیش پیش ہونا ۲۵۶

عام صحابہ کی نصرتِ حق میں تقصیر ۲۶۰

۱۲

امیرالمومنین ؑ کے اصولی موقوف پر بعض شواہد ۲۶۱

نتیجہ چاہے تو ہو،امام منصوص کی آواز پر لبیک کہنا واجب ہے ۲۶۲

امام منصوص کی نصرت نہ کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگوں نے نص کی اندیکھی کی ۲۶۶

امامِ منصوص کی نصرت نہیں کرنا ایسا گناہ ہے جو قابلِ توبہ ہے ۲۶۷

صحابہ کی امیرالمومنین ؑ کی طرف واپسی اور آپ کی مدد کرنا ۲۶۸

قتل عثمان کے بعد صحابہ کا امیرالمومنین ؑ کی ہمراہی کرنا ۲۶۸

امیر المومنین علیہ السلام کی طرف سے اصحابِ پیغمبر ؐ بڑے اور ذمہ دار عہدوں پر رکھے جاتے تھے ۲۷۷

امیرالمومنینؑ کا اپنے خاص اصحاب کے لئے گریہ و اضطراب ۲۷۷

معاویہ اصحاب امیرالمومنینؑ سے انتقام لیتا ہے ۲۷۸

حجر بن عدی اور اصحاب حجر کی شہادت پر مسلمانوں کا اظہار نفرت ۲۷۸

بنوامیہ،صحابہ کی اسلامی خدمات سے لوگوں کو بےخبر رکھنا چاہتے تھے ۲۸۱

بنوامیہ اور حقیقتوں کو بدلنے کی کامیاب کوشش ۲۸۴

معاویہ کی ہلاکت کے بعد اہل بیتؑ کے بارے میں صحابہ کا نظریہ ۲۸۵

مناقب اہل بیتؑ بیان کرنے اور نص کی روایت کرنے میں صحابہ کی کوشش ۲۸۶

امام حسینؑ نے صحابہ کو اہل بیتؑ کا حق ثابت کرنے کے لئے جمع کیا ۲۸۶

آخر ابوبکر اور عمر نے سنت نبوی کی اشاعت پر پابندی کیوں لگادی تھی؟ ۲۸۸

اکثر صحابہ کے حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ مولائے کاتناتؑ کی امامت کے حق ہونے کا اعتراف کرتے تھے ۲۸۹

حضرت علیؑ کی بیعت ہوئی تو اکثر صحابہ نے یہ سمجھا کہ اب حق،حقدار تک پہنچا ۲۸۹

۱۳

صحابہ کو پختہ یقین تھا کہ امیرالمومنینؑ ہی وصی پیغمبرؐ ہیں ۲۹۴

اہل بیتؑ کو جو بھی شکایتیں ہیں قریش سے ہیں نہ کہ صحابہ سے ۲۹۷

بہت سے صحابہ بلند مرتبہ پر فائز تھے ۲۹۷

ائمہ ہدی علیہم الصلوٰۃ والسلام نے صحابہ کی بہت تعریف کی ہے ۲۹۸

جو صحابہ حق پر ثابت قدم رہے ان کی محبت دینی فریضہ ہے ۳۰۱

نتیجہ گفتگو ۳۰۳

صحابہ کا یہ شرف تھا کہ وہ نص کا یقین رکھتے تھے ۳۰۳

آیہ: کنتم خیر امة، پر گفتگو ۳۰۵

سوال نمبر۵ ۳۱۱

اس مشروع نظریہ کو عمل میں لانے کے لئے دور حاضر کے ماحول کا سازگار ہونا ضروری ہے ۳۱۲

اس مشروع نظریہ کو نافذ نہ کرنے کی صورت میں دور حاضر میں مسلمانوں کی ذمہ داری ۳۱۳

مذہبی اختلاف کی خلیج کو کم کرنا بہت ضروری ہے ۳۱۴

یہ معلوم کرنا بہت ضروری ہے کہ مسلمانوں کے اختلاف اور سیاسی انحطاط کا سبب کیا ہے؟ ۳۱۵

سوال نمبر۔ ۶ ۳۱۹

ابوبکر کی نماز کے بارے میں شیعوں کی روایت ۳۲۱

حادثہ صلوٰۃ کے سلسلے میں امیرالمومنینؑ کا عقیدہ سنیوں کی نظر میں ۳۲۲

جب سرکار دو عالم ؐ نماز کے لئے نکلے تو آپ نے کیا کہا؟یہ بھی اختلافی مسئلہ ہے ۳۲۶

روایت کی کچھ کمزوریاں،جو اس روایت کے لئے مصیبت بنی ہوئی ہیں ۳۲۷

۱۴

نہ داستان نماز،ابوبکر کی خلافت پر نص ہے اور نہ ہی اصحاب نے اسے بیعت ابوبکر کے لئے لازم سمجھا ۳۲۹

امام جماعت ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اس آدمی کے اندر امامت عامّہ کی بھی صلاحیت ہے ۳۳۱

عمر نے خلافت کے بارے میں جب بھی گفتگو کی حادثہ صلوٰۃ کا ذکر بالکل نہیں کیا ۳۳۵

ایک تقابلی مطالعہ ۳۳۶

خلافت ایک اہم منصب ہے،اس کی طرف صرف اشار کرنا کافی نہیں ہے ۳۴۵

حقیقت کا شبہات سے پاک ہونا ضروری ہے ۳۴۵

دعوتِ اصلاح کے راستے میں رکاوٹیں ۳۴۶

سب سے بڑی رکاوٹ خود اہل دعوت کا داخلی اختلافات ہوتا ہے ۳۴۶

اختلاف و افتراق ہی کے درمیان آسمانی مذہب کی جانچ ہوجاتی ہے ۳۴۶

قرآن مجید،اختلاف سے بچنے کی سخت ہدایت کرتا ہے ۳۴۷

نبی کا اعلان کہ امت میں فرقے ہوں گے ۳۴۷

مسلمانوں کو فتنوں سے ڈرایا گیا اور انہیں خوف دلایا گیا ۳۴۸

اختلاف کے نتائج سے آگاہ کیا گیا اور اس کے خطروں سے خبردار کیا گیا ۳۴۹

خطرناک اختلاف کے پیش نظر واضح و آشکار حجت کا ہونا لازم ہے ۳۵۰

اختلاف کا سب سے بڑا سبب ریاست طلبی ہے ۳۵۳

اسلام میں پہلا اختلاف سلطنت ہی کے لئے ہوا اور یہ سب سے خطرناک اختلاف تھا ۳۵۴

اسلام،معرفتِ امام کو سختی سے واجب اور اس کی اطاعت فرض قرار دیتا ہے ۳۵۵

حاکم برحق کی مادی کمزوری یہ ہے کہ وہ قانون شرع میں رعایت نہیں کرتا ۳۵۵

۱۵

ناممکن ہے کہ نبیؐ نے امامت کی طرف صرف اشارے پر اکتفا کی ہو ۳۵۶

اسلام کے پاس ایسے نظام کا ہونا ضروری ہے جو خلافت کی تکمیل کرتا ہو! ۳۵۶

سوال نمبر ۔ ۷ ۳۵۹

ائمہؑ کا علم دین سے اختصاص اکمال دین کے منافی نہیں ہے ۳۵۹

اتنا ہی بتا دینا کافی ہے کہ احکام دین کا مرجع کون ہے؟ ۳۶۰

جمہور اہل سنت کی روایتوں کے مطابق بھی بہت سے صحابہ علم میں ممتاز تھے ۳۶۲

اہل سنت کو اہل بیتؑ کے ممتاز بالعلم ہونے کا اعتراف ہے ۳۶۴

۱۶

پیش لفظ

الحمد لله علی رب العالمین و الصلاة و السلام علی اشرف الانبیاء و المرسلین وخاتم النبیین و علی آله المعصومین

بے شک خالق کائنات کی معرفت اور دین کی تبلیغ و ترویج انسان کا پہلا فریضہ ہے اور دین اسلام میں سب سے زیادہ اہمیت عقیدہ کی ہے جس پر انسان کی سعادت و کامیابی اور نجات کا انحصار ہے جیسا کہ قرآن کریم اور احادیث پیغمبر اعظمؐ سے صاف واضح ہے کہ جنت عقیدہ ہی کی بنیاد پر ملے گی عمل کے ذریعہ نہیں اور ویسے بھی خود عمل کا دار و مدار عقیدہ ہی پر ہے، اسی وجہ سے دین میں عقیدہ اور عمل کی مثال درخت کی جڑ اور شاخوں سے دی جاتی ہے اور یہ بات ہر ذی عقل و شعور پر واضح ہے کہ اگر جڑ میں خرابی آجائے تو شاخیں خودبخود خشک ہوجاتی ہیں اسی بنا پر جڑ کی اہمیت زیادہ ہے اور اس کا تحفظ اور خیال زیادہ رکھا جاتا ہے اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مرکز تحقیقات نشر علوم اسلامی امام حسن عسگری علیہ السلام نے جس کی بنیاد ۱۶ جمادی الثانی ۱۴۲۵ ؁ بمطابق ۲۰۰۳ ؁کو رکھی گئی، خدمت دین اور انسانی عقیدہ کی صحت اور پختگی کے لئے عالم جلیل و فاضل و کامل بحرالشریعہ آیۃ اللہ فی العالمین عالم تشیع کے عظیم الشان مرجع حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ سید

۱۷

محمد سعید حکیم طباطبائی گراں بہا تالیف کا اردو ترجمہ کرایا جسے مرکز جہانی علوم اسلامی نے زیور طبع سے آراستہ کیا تا کہ ہر ایک کے لئے عقیدہ کی اصلاح و پختگی و تکمیل آسان ہوجائے،آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد سعید حکیم طباطبائی دنیائے عالم کے عظیم المرتبت مرجع تشیع سید محسن حکیم طاب ثراہ کے نواسے ہیں جن کی شخصیت محتاج تعارف نہیں ہے موصوف کی اس کے علاوہ بھی دیگر کتابیں زیر طبع ہیں جو انشااللہ عنقریب خدا کی توفیق و مدد اور آپ حضرات کی دعا سے منظر عام پر آجائیں گی،ادارہ بصد خلوص شکر گزار ہے آیۃ اللہ کا جنہوں نے اس گراں بہا تالیف کے ذریعہ سے قوم کی بے لوث خدمت کی اور ان محترم و مکرم علمائ و فضلائ مولانا مظاہر شاہ صاحب و مولانا کوثر مظہری صاحب مولانا سید نسیم رضا صاحب کا جنہوں نے اس کتاب کے ترجمہ و تصحیح کے ذریعہ ادارہ کا تعاون فرمایا ہم اس خدمت دین میں آپ حضرات کے نیک مشوروں کے خواہاں ہیں۔

آخر کلام میں خدائے مہربان سے دعاگو ہیں کہ ہمیں خلوص اور صدق نیت کے ساتھ خدمت دین کی زیادہ سے زیادہ توفیق عطا فرمائے۔

سید نسیم رضا زیدی

مرکز تحقیقات نشر علوم اسلامی امام حسن عسکریؑ قم المقدسہ ایران

۱۸

بسم الله الرحمن الرحیم

خدا کی تعریف اور اشرف انبیا ؐ اور آپ کی آل ؑ پاک اور اصحاب مکرمین پر درود و سلام کے بعد،علامہ عالی قدر جناب سید محمد سعید الحکیم صاحب خداوند عالم آپ کی حفاظت فرمائے اور آپ کی عمر طولانی فرمائے.

السلام علیکم و رحمة الله و برکاته

آپ نے میرے سوالوں کے جواب بھیجے وہ مجھ تک پہنچے،آپ نے جواب دینے میں بڑی محنت کی ہے،ہم آپ کے بےحد شکرگذار ہیں کہ آپ نے جواب دینے کی ذمہ داری قبول فرمائی اور کشادہ دلی سے کام لیا ۔ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ سنّی اور شیعہ کے درمیان علمی گفتگو کا ایک دروازہ کھلا جو بہت اہم بات ہے،خاص طور سے شیعوں کے شرعی معاملات کو ان کے تصورات کے اعتبار سے سمجھنے کا موقعہ ملا جس کی وجہ سے تاریکی زائل ہوگئی اور اہل سنّت،شیعہ مذہب کی جو غلط تفسیریں کرتے ہیں وہ بات معلوم ہوگئی اب سنّی حضرات،شیعوں کے بارے میں نظر ثانی کرنے پر مجبور ہوگئے اور انھیں انصاف کی نظر سے دیکھنے لگے جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ موضوع کتنا اہم ہے

معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ آپ نے جو جوابات دئیے ہیں اس کی کچھ تعلیقات بھی ہیں لیکن جیسا کہ آپ جانتے ہیں ان کا جواب بھی بہت جگرکاوی چاہتا ہے،اس لئے کہ آپ کے دئیے ہوئے

۱۹

جوابوں کو بہت توجہ سے پڑھنے کی ضروت ہے،ہمارے شہر کے سنّی علما کی بھی یہی رائے ہے اور ان کا بھی نظریہ اس گفتگو اور جواب کے بارے میں یہی ہے،میں دوسرے خطوں سے آپ کے علم میں ان کے نظریات لانے کی کوشش کروں گا،البتہ اس وقت کچھ دوسرے سوالات جن کا لگاؤ نفس ہدف سے ہے آپ کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں اور امید کرتا ہوں کہ جناب عالی ان کا جواب مرحمت فرمائیں گے،جس سے آپ کا نقطہ نظر واضح ہوسکے.

آخر میں ایک ضروری بات کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ غدیر کے بارے میں جو سوال میں نے کیا تھا اس میں ایک بہت ضروری بات رہ گئی جو بیعت کی بات تھی

اس سوال کا مقصد یہ تھا کہ غدیر میں مولائے کائنات علی علیہ السلام کی بیعت واقع ہوئی تھی یا نہیں؟واقعۂ غدیر کے بارے میں تو مجھے معلوم ہے کہ اہل سنّت کی کتابیں خصوصی طور پر اس واقعہ کے ذکر سے بھری پڑی ہیں امید کرتا ہوں کہ اس موضوع پر بھی آئندہ خطوط میں آپ توجہ فرمائیں گے ۔

الحمداللہ آپ کے جوابات بےمقصد نہیں ہیں،بلکہ ان سے فائدہ جلیلہ حاصل ہورہا ہے آپ کے جواب دینے کا طریقہ بہت اچھا ہے اور ترتیب بےمثال ہے خصوصاً اس کے لئے جو ایسے سوالوں کا جواب دے رہا ہو،آخر میں التماس ہے کہ آپ اپنی دعاؤں میں مجھے یاد رکھیں گے میں خدا سے امید کرتا ہوں کہ وہ مجھے توفیق عطا فرمائے تا کہ میں اس کے محبوب و پسندیدہ راہ پر گامزن اور مسلمانوں کی بھلائی کے کام کرسکوں.

و آخر دعوانا ان الحمد الله ربّ العالمین

۲۰

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367