فریقین کے عقائد کا تحلیلی جائزہ جلد ۲

فریقین کے عقائد کا تحلیلی جائزہ15%

فریقین کے عقائد کا تحلیلی جائزہ مؤلف:
: مولانا شاہ مظاہر حسین
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 367

جلد ۱ جلد ۲ جلد ۳
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 367 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 206424 / ڈاؤنلوڈ: 5998
سائز سائز سائز
فریقین کے عقائد کا تحلیلی جائزہ

فریقین کے عقائد کا تحلیلی جائزہ جلد ۲

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

حاطب بن ابی بلتعہ کا تھا،اس میں اس نے سرکار دو عالم ؐ کے کچھ امور کے بارے میں مشرکین مکہ کو جاسوسی کی تھی،سرکار ؐ نے حاطب سے پوچھا کہ اے حاطب یہ کیا ہے؟حاطب بولا،سرکار ؐ میرے خلاف فیصلہ کرنے میں جلدی نہ کریں،میں قریش کے قریب رہتا تھا اور آپ کے ساتھ جو مہاجرین ہیں ان کے کچھ اعزا ہیں جو مکہ میں ہیں جن کی قرابت کی وجہ سے ان کے اہل و عیال کی حمایت ہوتی ہے،چونکہ میرا کوئی نسبی لگاؤ ان سے نہیں ہے،اس لئے میں نے ان کے لئے جاسوسی کی کہ وہ اسی کا خیال کرکے میرے عزیزوں کی حمایت کریں گے ۔

میں نے کفر کی وجہ سے یہ حرکت نہیں کی اور نہ میں دیں سے مرتد ہوا ہوں،اور نہ اسلام کے بعد کفر کو پسند کیا ہے حضرت نے فرمایا یہ سچ کہہ رہا ہے،عمر نے کہا یا رسول اللہ ؐ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس گردن اڑادوں،آپ نے فرمایا نہیں یہ غازیان بدر میں سے ہے،اور خداوند عالم اہل بدر کے حال سے واقف ہے،اس نے فرما دیا ہے:جو چاہو کرو میں نے تمھیں معاف کردیا ہے،پس اس وقت یہ آیت نازل ہوئی:(اے ایمان لانےوالو!میرے اور اپنے دشمن کو دوست نہ بناؤ)(۱)

مذکورہ حدیث کا پس منظر

میں عرض کرتا ہوں کہ:

۱ ۔ آپ نے دیکھا کہ اس حدیث میں عمر کو اس لئے نہیں ڈ انٹا گیا کہ وہ حاطب پر لعن کررہے تھے،یا ان کے عمل کو برا کہہ رہے تھے،حالانکہ موضوع بحث یہی بات ہے(یعنی سابقون اوّلون پر طعن کا جواز یا عدم جواز)عمر صرف اس لئے ڈ انٹے گئے کہ وہ حاطب پر نفاق کا الزام لگا رہے تھے اور ان کو قتل کرنے کی کوشش کررہے تھے،جب کہ نبی ؐ نے حاطب کا عذر قبول کرلیا تھا اور حاطب نے خود کے بارے میں جو نفاق کی نفی کی تھی اس کی تصدیق کردی تھی،حدیث مذکورہ اسی بات کی تصریح کرتی ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( ۱) صحیح مسلم ج: ۴ ص: ۱۹۴۱ کتاب فضائل،اہل بدر اور حاطب بن ابی بلتعہ کی داستان

۸۱

قرآن مجید حاطب کے فعل کو غلط ثابت کرتا ہے

اس موقعہ پر خداوند عالم نے حاطب کے اس فعل کو غلط قرار دیا،قرآن مجید میں اس موقعہ پر ارشاد ہوتا ہے:(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِم بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُم مِّنَ الْحَقِّ يُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِيَّاكُمْأَن تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ رَبِّكُمْ إِن كُنتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِي سَبِيلِي وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِيتُسِرُّونَ إِلَيْهِم بِالْمَوَدَّةِ وَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا أَخْفَيْتُمْ وَمَا أَعْلَنتُمْوَمَن يَفْعَلْهُ مِنكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ..قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَآءُ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ.. لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيهِمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَوَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ) (۱)

ترجمہ آیت:(اے ایمان دارو!اگر تم میری راہ میں جہاد کرنے اور میری خوشنودی کی تمنا میں(گھر سے)نکلے ہو تو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ،تم ان کے پاس دوستی کا پیغام بھیجتے ہو اور جو دین حق تمہارے پاس آیا ہے اس سے وہ لوگ انکار کرتے ہیں،وہ لوگ رسول کو اور تم کو اس بات پر(گھر سے)نکالتے ہیں کہ تم اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے ہو(اور)تم ہو کہ ان کے پاس چھپ چھپ کے دوستی کا پیغام بھیجتے ہو،حالانکہ تم کچھ بھی چھپا کر یا بالاعلان کرتے ہو میں اس سے خوب واقف ہوں،اور تم میں سے ایسا جو شخص کرے تو وہ سیدھی راہ سے یقیناً بھٹک گیا ہے مسلمانو!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( ۱) سورہ ممتحنہ آیت ۶،۴،۱

۸۲

(تمہارے واسطے)تو ابراہیم اور ان کے ساتھیوں کے(قول و فعل کا اچھا نمونہ موجود ہے)کہ انھوں نے جب اپنی قوم سے کہا کہ ہم تم سے اور ان(بتوں)سے جنہیں تم خدا کے سوا پوجتے ہو بیزار ہیں ہم تو تمہارے(دین کے)منکر ہیں اور جب تک تم مکمل یکتا خدا پر ایمان نہ لاؤ ہمارے تمہارے درمیان کھلم کھلا عداوت اور دشمنی قائم رہےگی ۔ (مسلمانو)ان لوگوں کے(افعال)کا تمہارے واسطے جو خدا اور روز آخرت کی امید رکھتا ہے اچھا نمونہ ہے اور جو(اس)سے منھ موڑے تو خدا بھی یقیناً بےپرواہ(اور)سزاوار حمد ہے)

آپ دیکھ رہے ہیں کہ خداوند عالم اس قرآن میں جس کی تلاوت صبح و شام کی جاتی ہے علانیہ اس صحابی کو ڈ انٹ رہا ہے اور اس کو برا کہہ رہا ہے!کہ وہ خدا جو کھلے ہوئے قرآن میں کسی کو خود ڈ انٹ رہا ہے اور اس کو برا کہہ رہا ہے تو مسلمانوں کا ڈ انٹنا اور انکار کیوں پسند نہیں کرےگا اور کیوں اس کو برا کہنےوالے سے ناراض ہوگا مگر یہ کہ وہ خود توبہ کرلے تو یہ دوسری بات ہے جو ہماری بحث سے خارج ہے ۔

۲ ۔ نبی ؐ جو عمر کو روکا تو برا کہنے سے نہیں روکا تھا،بلکہ عمر اس کو جان سے مارنے کی کوشش کر رہے تھے اور سرکار ؐ کی رائے میں حاطب قتل کا مستحق بہرحال نہیں تھا یا یہ کہ حضور ؐ نے اس کو معاف کردیا تھا نہ یہ کہ اہل بدر کو غلطی کرنے پر انہیں دنیا میں سزا نہیں دی جائےگی،اس بات کا تو کسی نے التزام نہیں کیا ہے ۔

اس کے علاوہ حضور ؐ نے خود ہی مسطح بن اثاثہ پر اِفک کے معاملے میں حد جاری کی ہے(۱)

روایتوں میں یہ بات ملتی ہے(مسطح بن اثاثہ حالانکہ اہل بدر میں تھا)دوسرا ثبوت ابھی آپ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( ۱) مسند ابی یعلی،ج: ۸ ص: ۳۳۸ ،السنن الکبریٰ،للبیھقی،ج: ۸ ص: ۲۵۰ ،کتاب المرتد،باب شوہردار عورتوں کو زنا سے متہم کرنے کی حد سے متعلق،سبل الاسلام،ج: ۴ ص: ۱۵ ،کتاب الحدود حد القذف کے باب میں،تفسیر القرطبی،ج: ۱۲ ص: ۲۰۱ ۔ ۲۰۲ ،تفسیر ابن کثیر،ج: ۳ ص: ۲۷۲ ،فتح الباری،ج: ۳ ص: ۲۷۲ ،فتح الباری،ج: ۱۳ ص: ۳۴۲ ،تحفۃ المحتاج،ج: ۲ ص: ۴۸۰ ،تاریخ الطبری،ج: ۲ ص: ۱۱۴ ،حدیث الافک۔

۸۳

کے دوسرے سوال کے جواب میں گذرچکا ہے کہ عمربن خطاب نے قدامہ بن مظعون پر حد قائم کی حالانکہ یہ دونوں حضرات اصحاب بدر میں تھے ۔ ( ۱)

حدیث،اہل بدر کی قطعی سلامتی اور نجات کی ضمانت نہیں لیتی

۳ ۔ حضور کا یہ کہنا ہے:((اللہ اہل بدر کے حالات سے مطلع ہے اس نے کہہ دیا کہ تم جو چاہو کرو میں نے تمہیں معاف کردیا ہے،اس سے قطعی سلامتی کے بجائے صرف سلامتی اور نجات کی امید پیدا ہوتی ہے اور صرف امید اس بات کی مانع نہیں کہ ان کے اعمال کے نتیجے میں ان پر طعن نہ کی جائے،جبکہ ان کے اعمال قابل طعن ہوں،اس لئے کہ اگر کوئی آدمی علانیہ فاسق ہو تو اس پر طعن کے جائز ہونے میں کوئی اشکال نہیں جب کہ اس کی ہلاکت قطعی نہیں ہے،اس لئے کہ خدا کی رحمت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے اور وہ بخشنےوالا اور رحم کرنے والا ہے ۔

۴ ۔ حدیث کا قطعی نجات پر محمول کرنا ایک تکلف ہے،جو بے بنیاد اور بے دلیل بات ہے،اس کا کوئی دعویٰ بھی نہیں کرتا ہے،اہل سنت کی بات دوسری ہے وہ تو تسلیم کرچکے ہیں کہ سارے صحابہ کو استقامت حاصل تھی اور سارے صحابہ جہنم سے محفوظ ہیں اور ہمارا موضوع بحث بھی یہی ہے اس لئے کہ دعویٰ کبھی دلیل نہیں بن سکتا یہاں پر مقام احتجاج میں اس نظریہ کو پیش کیا جاسکتا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( ۱) تفسیر القرطبی،ج: ۶ ص: ۲۹۷ ،المستدرک علی صحیحن،ج: ۳ ص: ۴۶۶ ،کتاب معرفۃ الصحابۃ قدامہ بن مظعون بن حبیب وہب جمحی سے متعلق بحث میں،المعجم الکبیر،ج: ۱۹ ص: ۳۷ ،جس کا نام قدامہ تھا یعنی قدامہ بن مظعون جمحی بدری،فتح الباری،ج: ۷ ص: ۳۰۶ ،سیر اعلام النبلاءج: ۱ ص: ۱۶۱ ،قدامہ بن مظعون کی سوانح میں،الطبقات الکبریٰ،ج: ۳ ص: ۴۰۱ ،قدامۃ بن مظعون کے سوانح حیات میں،الاصابۃ،ج: ۵ ص: ۴۲۳ ،قدامہ بن مظعون کی سوانح میں،تہذیب الاسماء،ج: ۲ ص: ۳۷۱ ،قدامہ بن مظعون کے سوانح حیات میں،الاستیعاب،ج: ۴ ص: ۱۴۷۲ ،مسطح بن اثاثہ کے سوانح حیات میں،المتقنیٰ فی سردالکنی،ج: ۱ ص: ۳۴۰ ،ابی عباد مسطح بن اثاثہ کی سوانح حیات میں،سیر اعلام النبلاء،ج: ۱ ص: ۱۸۷ ،مسطح بن اثاثہ کے سوانح حیات میں،مشاہیر علماء الامصار،ص: ۱۲ ،مسطح بن اثاثہ کے سوانح حیات میں الثقات،ج: ۳ ص: ۳۸۳ ،مسطح بن اثاثہ کے سوانح حیات میں نیز اس کے علاوہ منابع،

۸۴

اہل بدر کی قطعی سلامتی کا اعلان انھیں گناہ پر ابھارےگا

اولاً ۔ اس نظریہ سے برائی کی چھوٹ ملتی ہے جیسا کہ آپ نے دیکھا کہ سابقون اوّلون والی آیت کی تفسیر میں جو حدیث لائی گئی اس میں اہل بدر کو کس طرح برائی کے لئے آزادی دی جارہی ہے ۔

مزید وضاحت کے لئے بخاری شریف کی مندرجہ ذیل حدیث ملاحظہ ہو ۔ ((بخاری فلاں سے روایت کرتے ہیں کہ ابوعبدالرحمن اور حبان بن عطیہ میں جھگڑا ہوا ابوعبدالرحمٰن نے حبان بن عطبہ سے کہا تمہیں معلوم ہے تمہارے صاحب یعنی علی ؑ کی ہمت خون بہانے میں کیوں بڑھی ہوئی ہے،حبان نے کہا تیرا باپ نہ ہو کیوں؟کہا اس کی وجہ ایک بات ہے جو میں نےن کو کہتے ہوئے سنا ہے،پوچھا گیا بات ہے؟کہا ہو کہہ رہے تھے کہ ہمیں زبیر کو اور ابومرثد کو سرکار نے کسی کام سے بھیجا ہم سب گھوڑوں پر سوار تھے....عمر نے کہا یا رسول اللہ ؐ اس نے خدا اور خدا کے رسول اور مومنین سے خیانت کی ہے،مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی گردن ماردوں،سرکار ؑ نے کہا سچ کہہ رہے ہو لیکن اس کے بارے میں سوائے خیر کے کچھ مت بولا کرو،پھر عمر نے اعادہ کیا اور کہا اے رسول ؐ اس نے خدا سے خدا کے رسول اور مومنین سے خیانت کی ہے آپ اجازت دیں کہ میں اس کی گردن ماردوں،آپ نے فرمایا کیا وہ بدر والوں میں نہیں ہے؟اور کیا تمہیں معلوم نہیں،اللہ اہل بدر کے حال سے اچھی طرح واقف ہے،تم جو چاہو کرو،میں نے تم پر جنت واجب کردی ہے،یہ سن کے عمر رونے لگے اور ان کی آنکھیں دب ڈ با گئیں،پھر کہا اللہ اور اللہ کے رسول ؐ بہتر جانتے ہیں(۱)

ملاحظہ ہو اگر چہ ہم شیعہ اس بات کے قائل ہیں بلکہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ امیرالمومنین ؑ کبھی خون ناحق نہیں بہاسکتے اور صفین و نہروان کی جنگ میں شریک ہونا آپ کے اوپر واجب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)صحیح بخاری ج:۶ص:۲۵۴۲،کتاب استتابۃ المرتدین...باب ما جاء فی المتادلین حدیث:۶۵۴۰

۸۵

تھا،جیسا کہ بہت سے علماء نے تصریح کی ہے(۱)

اس کے علاوہ آپ نے نبی کے ہمرکاب ہو کر جنگ کا ایک عہد کیا تھا ۔ اور نبی نے آپ کو ناکثین قاسطین اور مارقین(۲) سے لڑنے کا حکم دیا تھا لیکن حدیث مذکور عام ذہنوں کا بہرحال

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)بہت مناسب ہے کہ ہم یہاں پر وہ عبارت تحریر کریں جسے نصر بن مزاحم نے وقعۃ الصفین میں جنگ کے شعلوں کے بھڑک جانے کے بعد طرفین کی یلغار کے سلسلہ میں روایت کی ہے:وہ کہتے ہیں کہ:شامیوں میں سے ایک شخص باہر آیا جو پکار پکار کے کہہ رہا تھا کہ اے ابوالحسن اے علی کہاں ہو آؤ مجھ سے جنگ کرو حضرت علیؑ وارد میدان ہوئے دونوں صفوں کے درمیان ان کے گھوڑوں کی گردنیں ایک دوسرے سے ٹکرئیں،اس شامی نے آپ سے کہاں کہ:اے علی!آپ نے ہجرت کی کیا یہ ہوسکتا ہے کہ میں ؤپ کے سامنے ایک تجویز رکھوں جس میں ان سارے خون خرابے سے بچاؤ اور اس طرح کی جگ و خونریزی سے بچنے کی سبیل مضہر ہے،پھر اس کے بعد آپ کو اختیار ہے،امام نے فرمایا:وہ تجویز کیا ہے؟اس نے کہا آپ عراق واپس چلے جائیں ہم آپ کے لئے عراق کا علاقہ چھوڑ دیتے ہیں اور ہم شام چلے جاتے ہیں اور شام ہمارے قبضہ میں رہے آپ اس سے تعرض نہ کریں،امام نے فرمایا:تم نے شفقت بھری نصیحت کی ہے میں اس کی قدر کرتا ہوں مجھے بھی جنگ و جدال کا شوق نہیں ہے بلکہ اس فکر نے میری راتوں کی نیند چھین لی ہے میں نے بہت سوچ سمجھ کر یہ قدم اٹھایا ہے اور اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ((لم اجد الا القتال او الکفر بما انزل اللہ علی محمد))یا میں ان سے جنگ کروں یا پھر دین محمدی کا منکر ہوجاؤں،اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء سے راضی نہیں ہے کہ روئے زمین پر اس کی معصیت ہو اور چپ بیٹھے رہیں امربالمعروف نہ کریں اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا نہ کریں،بھائی!میں ان سے جگ کو اپنے حق میں کہیں بہتر سمجھتا ہوں اس سے کہ جہنم میں آگ کی زنجیروں میں جکڑدیا جاؤں،وقعۃ الصفین،ص:۴۷۴،شرح نہج البلاغہ،ج:۲ص:۲۰۸،۲۰۷،اخبار الطّوال،ص:۱۸۷۔۱۸۸،ینابیع المودہ ج:۲ص:۸۔۹،اسد الغابۃ ج:۲ص:۶۳،

(۲)المستدرک علی صحیحین،ج:۳ص:۱۵۰،کتاب صحابہ کی معرفت اور حضرت امیرالمومنینؑ کے اسلام کا ذکر،مجمع الزوائدج:۵ص:۱۸۶،کتاب الخلافۃ خلفاء اربعہ کے باب میں،ج:۷ص:۲۳۸،کتاب الفتن،جو دو گروہ کے درمیان صفین میں رونما ہوا ہے اس کے باب میں،مسند ابی یعلی،ج:۱ص:۳۷۹،مسند علی ابن ابی طالبؑ کے بیان میں،مسند البراز،ج:۲ص:۲۱۵،جو علقمہ بن قیس نے علی سے متعلق روایت کی ہے کہ بیان میں،ج:۳ص:۲۷،جو علی بن ربیعہ اسدی نے علی بن ابی طالب سے متعلق روایت کی ہے،مسندالشاشی،ج:۲ص:۳۴۲،اس روایت کے ذیل میں جو علقمہ بن قیس نے عبداللہ بن مسعود کے بارے میں کی ہے،المعجم الکبیر،ج:۱۰ص:۹۱،اس روایت کے ذیل میں جو علقمہ بن قیس نے عبداللہ بن مسعود کے بارے میں کی ہے۔

۸۶

انکشاف کرتی ہے،آپ دیکھیں کہ اس حدیث میں صرف یہ امید کی گئی ہے کہ اہل بدر نجات یافتہ ہیں مگر محض اس امید کی بنیاد پر حضرت علی ؑ نے(امام بخاری کے نظریہ کے مطابق یا ابوعبدالرحمٰن کے نظریہ کے مطابق)امت میں کتنا خون بہایا،امیر المومنین ؑ تو ہمارے عقیدہ کے مطابق معصوم ہیں اور آپ اس طرح کی غلطیوں سے اپنی عصمت کی بنا پر بالکل پاک ہیں لیکن آپ دیکھیں کہ اس حدیث کی بنیاد پر عام ذہن کیا سونچ رہا ہے اور اس حدیث کا عام آدمی پر کیا اثر پڑےگا اس لئے کہ عام آدمی بشری کمزوریوں اور انسانی جذبات سے محفوظ تو نہیں ہے خصوصاً جب ان کا نفس یہ کہہ کے انھیں گناہ پر ابھارے کہ تم گناہ و ثواب کی فکر کیوں کرتے ہو؟حضور ؐ نے تو تمہاری سلامتی کی نص وارد کردی ہے ۔

ثانیاً ۔ بعض واقعات کو دیکھیں تو خود اہل بدر کا نظریہ آپ کے نظریہ سےمیل نہیں کھاتا نہ قرآن مجید اس ی تائید کرتا ہے قرآن نے بعض سابقون کے بارے میں دوسرے سابقون کے نظریہ پر اعتراض کیا ہے یہ سب باتیں آپ کے دوسرے سوال کے جواب میں عرض کی جاچکی ہیں جہاں میں نے بتایا تھا کہ قرآن مجید کا صحابہ کے بارےمیں کیا موقف ہے ۔

ثالثاً ۔ مزید بر آں آپ کے اہل بدر والے اس نظریہ سے خود دوسرے صحابہ سے متفق نہیں ہیں آپ تاریخ تو پڑھیں،میں دوسرے سوال کے جواب میں یہ باتیں بھی پیش کرچکا ہوں ۔

اس طرح کی حدیثوں میں گناہ کبیرہ سے بچنے کی قید لگانا ضروری ہے

۵ ۔ اگر یہ مان لیا بھی جائے کہ مذکورہ حدیث سے اصحاب بدر کی نجات یقینی ہے تب بھی اس میں گناہان کبیرہ سے بچنے کی قید لگانا ضروری ہے یعنی اسیے گناہ جو مہلک ہیں مثلاً ارتداد،نفاق،حکم خدا کی تردید اور دین میں بدعت و غیرہ،اس لئے کہ کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ مندرجہ بالا گناہ کرنے کے باوجود اہل بدر بخش دئے جائیں گے میرا خیال ہے کہ سابقون اوّلون کی بخشش کا یقین اہل سنت کو یا تو اس لئے ہے کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سابقون سے مذکورہ گناہ صادر ہی نہیں ہوئے یا اس لئے کہ اگر انہوں نے ایسے گناہ کئے بھی تو توبہ کرلی لیکن حدیث میں ان دونوں ہی باتوں پر کوئی دلالت موجود نہیں

۸۷

ہے کہ جب انہوں نے گناہ کیا تھا اس وقت بخش دئے گئے تھے یا اس سے قبل کے گناہ بخش دئے گئے ہیں اور جب حدیث کو مہلک گناہوں سے مقید کردیں گے یعنی ذنوب مہلکہ کا غفران اس مغفرت میں شامل نہیں ہے تو پھر یہ دعویٰ کہ ان سے اس طرح کے گناہ ہوئے ہی نہیں یا یہ کہ گناہاں کبیرہ کئے لیکن توبہ کرلی،ان دونوں باتوں کے لئے الگ سے دلیل لانی پڑےگی ۔

قرآن مجید حاطب کی جس طرح تہدید کرتا ہے اس سے سلامت قطعی نہیں سمجھی جاسکتی

۶ ۔ خداوند عالم کا یہ کہنا ہے کہ:

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيهِمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ (۱)

ترجمہ آیت:(جو خدا اور آخرت سے امیدوار ہے اس کی سیرت میں تمہارے لئے قابل پیروی باتیں ہیں اور جو منھ موڑ لیتا ہے تو اللہ بےنیاز اور سزاوار احمد ہے ۔ )

یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حاطب اس وقت تک معرض ہلاکت میں ہے جب تک توبہ نہ کرلے،یہ ثابت کرنےکے لئے کہ وہ اللہ اور آخرت کا امیدوار ہے،اسے اسوہ ابراہیمی اور اصحاب ابراہیم ؑ کی پیروی کرنا ضروری ہے اور اس پیروی کا اظہار اس طرح ہوگا کہ وہ کافروں سے اظہار برائت کرے اور ان سے دور رہے،اگر وہ اس سیرت ابراہیمی کی پیروی نہیں کرتا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کو خدا سے کوئی امید ہے نہ آخرت سے،اس منزل پاس میں جو بھی پہنچ جائے اس کی ہلاکت میں کسی کو اشکال نہٰں ہے بلکہ ارشاد ہوتا ہے(جو منھ موڑےتو اللہ بےنیاز ہے اور سزاوار حمد ہے)اور اس ٹکڑے میں اتنی سخت دھمکی ہے کہ جو کسی پر مخفی نہیں ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)سورہ ممتحنہ آیت:۶

۸۸

جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:

لَن تَنفَعَكُمْ أَرْحَامُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَفْصِلُ بَيْنَكُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ(۱)

ترجمہ آیت:(تمہاری رشتہ داریاں اور تمہاری اولاد تم کو قیامت کے دن کوئی فائدہ نہیں پہنچائےگی،اس دن تو وہی تمہارے درمیان فیصلہ کرےگا اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے ۔ )

اس آیت میں حاطب کی تردید اور اس کے قبول عذر سے رفض ظاہر ہورہا ہے،حاطب کا شدت سے انکار کیا جارہا ہے اور تہدید کی جارہی ہے پھر کیسے ممکن ہے کہ اس تہدید و انکار کے بعد بھی اللہ اس کو معاف کرکے اس کی سلامتی کو قطعی قرار دےگا،اس آیت سے امید بھی ظاہر نہیں ہورہی ہے جو معنائے حدیث میں شامل ہے کہ:اگر گناہاں کبیرہ اس سے صادر ہوئے ہیں تو حدیث سے تو پتہ چلتا ہے کہ اس کے بخشے جانے کی امید ہے،جب کہ آیت کا اس کا انکار کرتی ہے ۔

۷ ۔ چونکہ مذکورہ آیتیں نبی ؐ کی حدیث مذکور کے بعد نازل ہوئیں ہیں لہذا دو میں سے کوئی ایک بات ماننی پڑےگی یا تو نبی کریم ؐ اس گناہ کی اہمیت سے ہی ناواقف تھے جو حاطب کرچکا تھا،جب کہ ایسا ناممکن ہے بہرحال مان لیں کہ نبی ؐ اس گناہ کی اہمیت سے ناواقف تھے اور اللہ نے نبی کریم ؐ کے وہم کو دور کردیا اس آیت کو نازل کرکے یا یہ کہ نبی ؐ عمر کی منھ زوری کو لگام دینا چاہتے تھے اور ان کو روکنا چاہتے تھے،آپ اس کو معاملات نبوت میں مداخلت سے باز رکھنا چاہتے تھے اس لئے کہ اس سے آگے چل کے بہت سے نقصانات دین کو پہنچ سکتے ہیں اس لئے حضور ؐ نے ان کو ڈ انٹا،یعنی حضور ؐ حاطب کے گناہ کی اہمیت سے واقف تھے اور اس کو معرض خطر میں سمجھ رہے تھے اب دو میں سے جو بات آپ کے دل کو لگتی ہو مان لیں ۔

رہا شیعوں کا سوال تو ہم لوگ تو آیات مذکورہ کی صراحت کے بعد ابھی اس حدیث ہی کو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( ۱) سورہ ممتحنہ آیت: ۳

۸۹

مشکوک سمجھ رہے ہیں ہمیں متن حدیث ہی میں شک ہے دلالت اور سند حدیث میں تو شک و شبہ ہے ہی،کیونکہ اس میں جان بوجھ کے تحریف ہوئی یا غیرارادی طور پر تحریف ہوئی ۔

تھوڑی سی گفتگو حدیث حاطب جیسی حدیثوں کے بارے میں

۸ ۔ اس طرح کی دوسری حدیث حاضر کررہا ہوں اس سے بھی اسی حالت کا اظہار ہوتا ہے،ابوہریرہ کہتے ہیں(پھر انصار میں سے ایک آدمی اندھا ہوگیا تو اس نے حضور ؐ کو بلا بھیجا کہ اس کے گھر میں ایک مسجد بنادیں تا کہ وہ وہیں نماز پڑھا کرے،سرکار ؐ اس کے گھر آئے اور اس کی قوم اس کے پاس جمع ہوئی لیکن ان کا ایک آدمی نہیں آیا،جب حضور ؐ نے پوچھا وہ کہاں ہے لوگوں نے اس سوال کے جواب سے چشم پوشی کی لیکن ایک آدمی بولا وہ تو(ایسا ویسا ہوگیا)آپ نے فرمایا کیا وہ اہل بدر میں سے نہیں ہے؟کہاں ہاں اے خدا کے رسول ؐ لیکن وہ اسی ویسی حرکتیں کرتا ہے فرمایا،اللہ بدروالوں کے حال سے بہتر واقف ہے تم کو جو سمجھ میں آئے کرو بیشک میں نے تم کو بخش دیا ہے)(۱) مندرجہ بالا حدیث کی سند میں اگر چہ ہلکاپن ہے،لیکن یہ بھی اہل بدر کی قطعی سلامتی پر دلالت نہیں کرتی ۔ جس طرح آیہ کریمہ کے معنی سے اس کو کوئی مناسبت نہیں ہے ممکن ہے کہ یہ حدیث اس آیت کے قبل صادر ہوئی ہو تو بھی اس پر سابقہ اصول جاری ہوں گے ۔

۹ ۔ اسی طرح کی ایک حدیث جابر سے ہے،کہتے ہیں کہ حاطب کا ایک غلام تھا وہ حضور ؐ کی خدمت میں حاطب کی شکایت لے کے آیا،کہنے لگا خدا کے رسول ؐ حاطب ضرور جہنم میں جائےگا،آپ نے فرمایا ہرگز نہیں جھوٹا ہے،وہ جہنم میں نہیں جاسکتا،وہ بدری مجاہدوں میں ہے اور حدیبیہ میں شریک تھا ۔(۲)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( ۱) صحیح حبّان،ج: ۱۱ ص: ۱۲۳ ،حدیث شمارہ ۴۷۹۸ ،غزوہ بدر میں جہاد کے وجوب کے باب سے متعلق ایسی خبر کا ذکر کرنا جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو اہل بدر نے بدر کے دن کرتوت کئے ہیں خداوند عالم نے اسے بخش دیا اور طلحہ اور زبیر بھی انہیں میں سے ہیں۔

( ۲) صحیح ابن حبان ج: ۱۱ ص: ۱۲۲ حدیث: ۴۷۹۹ باب فرض جہاد:جنگ بدر:جنگ بدر اور صلح حدیبیہ میں شریک افراد کے داخل جہنم ہونے کے بارے میں انکار کا تذکرہ

۹۰

چونکہ بدر اور حدیبیہ کی فضیلت تمام گناہوں سے بخشش کی سند نہیں دےسکتی،گناہان کبیرہ کی تو بات ہی الگ ہے اور یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ نبی ؐ برحق اس غفران کو قطعی قرار دیں،اس لئے کہ اس سے اعمال قبیحہ کی طرف ترغیب لازم آئےگی پس ضروری ہے کہ اس حدیث کو اس معنی پر محمول کیا جائے کہ آپ نے حاطب کے غلام کے اس نظریہ کی تردید کی تھی کہ حاطب کا جہنم میں جانا یقینی ہے جب کہ وہ بدر اور حدیبیہ کا شاہد ہے،یہ بھی ممکن ہے کہ غلام نے جن گناہوں کی شکایت کی تھی وہ قابل بخشش ہوں اور ان کی وجہ سے اس کا جہنمی ہونا یقینی نہ ہو ۔

حکمت اور عقل کا تقاضا یہ ہے کہ حدیث حاطب کی تاویل کی جائے

ممکن ہے کہ اس طرح کی حدیثون کی اگر سند و متن محکم ہوں تو ایسی تاویل کی جائے جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق ہو،ساتھ ہی کتاب اور سنت میں اسی معنی کا ظہور ہو جیسے یاد دہانی پر تاکید،عذرتراشی سے پرہیز اور خواہ مخواہ دوسروں کو سرزنش کرنے سے روکنا تا کہ نفس کے بہکنے اور نجات کی امید و غیرہ پر ایسا اعتماد نہ ہوجائے کہ جس کی وجہ سے انسان محارم کا مرتکب ہو،حدود الہی کو توڑ دےاور آخرت میں منکر الہی سے بالکل محفوظ دل میں ڈ الی دے یا اسی طرح کے دوسرے گناہوں پہ ابھارے جس سے بچنے کی اللہ نے تاکید کی ہے ۔ ان تاویلوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حضور ؐ بدر میں جہاد کی اہمیت اور اس کی عظیم فضیلت بیان کرنا چاہتے ہیں اور یہ کہ بدر میں جہاد کی وجہ سےہل بدر کے سابقہ گناہ بخشے جاسکتے ہیں،اس لئے کہ:

إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّـيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ(۱)

(ترجمہ آیت:(اچھائیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں) ۔

یا یہ کہ حضور ؐ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ عمل جاری رکھو چاہے وہ خیر ہو یا شر،تمہارا گذشتہ کردار یعنی جنگ بدر میں شرکت تمہاری سابقہ خطاؤں کی بخشش کے لئے کافی ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( ۱) سورہ ہود آیت ۱۱۴ ،

۹۱

اب اس کے بعد(گناہ چاہے ثواب)جو عمل بھی اختیار کرو تمہارے اختیار میں ہے جیسے حاجیوں کے بارے میں حدیث وارد ہوئی ہے(کہ عمل کرتے رہو تمہیں بخش دیا گیا ہے)(۱) ابوہریرہ حضور ؐ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو خدا کے لئے حج کرے پس وہ فحش نہ بکے اور فاسق نہ ہو تو وہ گناہوں سے یونہی پاک ہوجاتا ہے جیسے آج ہی ماں کے پیٹ سے نکلا ہو ۔(۲)

اس بیان سے مقصد یہ ہے کہ ایسی فضیلتوں والا اس بات کا مستحق ہے کہ نبی ؐ اس کی اس طرح کی غلطیوں کو معاف کردیں جس سے مقصد اس کی اصلاح ہے یا یہ بتانا کہ اللہ نے اس کے گناہوں کو بخش دیا ہے نہ کہ اس کی قطعی سلامتی کا اعلان کیا ہے ۔

عمداً یا سہواً حدیثوں سے مغالطے ہوتے ہیں

اصل میں یا تو انسان ان مرتبوں سے لاعلم ہوتا ہے جن کے ماحول میں حدیث صادر ہوئی یا جان بوجھ کے گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے،بہرحال جو ہو حدیثوں سے غلط فہمی پیدا ہوتی ہے مثال کے طور پر محمد بن مارد کی حدیث ملاحظہ فرمائیں،اس نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ جب تمہیں معرفت امام حاصل ہوجائے تو پھر جو چاہے کرو،آپ نے فرمایا ہاں میں نے یہ کہا ہے میں نے عرض کیا اس کا مطلب ہے کہ امام کو پہچان لینے کے بعد اس کو اجازت ہے چاہے وہ زنا کرے چاہے چوری کرے یا شراب پیئے،آپ نے فرمایا:(انّا لله و انّا الیه راجعون) خدا کی قسم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)وسائل الشیعہ ج:۸باب:۳۸شرائط واجبات حج)

(۲)صحیح بخاری ج:۲ص:۵۵۳،کتاب الحج،حج مبرور(مقبول)کی فضیلت کے باب میں انھیں الفاظ میں صحیح مسلم،ج:۲ص:۹۸۴،کتاب حج،حج عمرہ اور روز عرفہ کی فضیلت کے باب میں،صحیح بن خزیمۃ،ج:۴ص:۱۳۱،کتاب المناسک حج کی فضیلت کے بیان میں جس میں جنگ و جدال،فسق و فجور اور گناہوں اور خطاؤں کے کفارہ کے باب میں،صحیح بن حبان،ج:۹ص:۷،کتاب حج،حج و عمرہ کی فضیلت کے باب میں،اللہ کی بخشش گذشتہ گناہوں سے متعلق جو کوئی ایسا حج کرے جس میں جنگ و جدال اور فسق و فجور نہ ہو،مسند ابی الجعد،ص:۱۴۱شعبہ بن منصور کی باقی حدیث کے ضمن میں نیز اس کے علاوہ بہت سارے مصادر میں۔

۹۲

لوگوں نے ہمارے ساتھ انصاف نہٰں کیا یہ ممکن ہے کہ ہم تو عمل کی وجہ سے پکڑے جائیں اور ہمارے شیعوں پر سے اعمال ساقط ہوجائیں میرے کہنے کا مطلب تو یہ تھا کہ جب تم امام کو پہچان لیتے ہو تو اچھا کام چاہے زیادہ کرو چاہے کم،اللہ اسے قبول کرےگا ۔(۱)

واقعہ بدر کے علاوہ بھی ایسی چیزیں ہیں جن کے بارے میں سلامت قطعی وارد ہوئی ہے

۱۰ ۔ بہت سے اعمال خیر اور عقائد حقہ ہیں جن کے بارے میں سلمات قطعی وارد ہوئی ہے،ملاحظہ ہو ابوذر غفاری کی حدیث آپ کہتے ہیں حضور ؐ نے فرمایا:کوئی بندہ ایسا نہیں ہے کہ لا الہ الا اللہ کہے اور اسی کلمہ پر مرجائے مگر یہ کہ وہ جنت میں داخل ہوگا میں نے کہا چاہے وہ زنا کرے چاہے چوری فرمایا چاہے زنا کرے یا چوری،میں نے کہا چاہے زنا کرے یا چوری فرمایا چاہے زنا کرے یا چوری میں نے پھر پوچھا چاہے زنا کرے یا چوری فرمایا چاہے وہ زنا کرے یا چوری ابوذر کی چاہت کے خلاف(۲) اس طرح کی بہت سی حدیثیں ہیں ۔(۳)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)وسائل الشیعہ ج:۱ص:۸۷باب:۲۸باب مقدمہ عبادت حدیث:۲

(۲)صحیح بخاری ج:۵ص:۲۱۹۳کتاب اللباس:باب ثیاب البیض

(۳)صحیح بخاری ج:۱ص:۴۱۷،باب اور کتاب دونوں ہی جنازوں سے متعلق ہے،ج:۵ص:۲۳۱۲،کتاب الاستیذان،جس نے لبیک اور سعدیک جیسے کلموں کے ذریعہ جواب دیا،ص:۲۳۶۶،کتاب الرقاق(بندگی)سے متعلق،جو اسے پیش کیا گیا وہ اس کا مال ہے کے باب میں،صحیح مسلم،ج:۱ص:۹۵۔۹۴،کتاب الایمان اس امت کے افتراق سے متعلق باب الزکاۃ،صدقہ کی ترغیب کے باب میں،سنن الترمذی،ج:۵ص:۲۷،کتاب الایمان اس امت کے افتراق سے متعلق باب میں،السنن الکبریٰ،نسائی،ج:۶ص:۱۴۴،ابوذر غفاری کی حدیث میں،مسند ابی عوانہ،ج:۱ص:۲۸،کتاب الایمان،ان اعمال اور فرائض کے بیان میں جن میں قول و فعل کے ذریعہ انجام دیا ہے اور اس کی وجہ سے جنت میں داخل ہوا،نیز اس دلیل کے سلسلے میں صرف اقرار کافی نہیں ہے جب تک دل سے یقین نہ کرے اور خدا کی رضا کا طالب نہ ہو جو چیز حرام کردیتی ہے اور اس کے علاوہ مصادر۔

۹۳

عمر کہتے ہیں کہ سرکار ؑ نے فرمایا،تم میں سے جو بھی وضو کرے اوراشهد ان لا اله الله و اشهد ان محمد عبده و رسوله کہے اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جائیں گے جنت میں چاہے جس دروازے سے داخل ہو ۔(۱)

عبادہ بن صامت کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے پیغمبر کو یہ کہتے سنا اللہ نے پانچ نمازیں فرض کی ہیں جو بہترین وضو کرکے ان کو ان کے وقت پر ادا کرے اور کامل رکوع و سجود اور خشوع کے ساتھ ادا کرے،اللہ پر عہد ہے کہ وہ اس بندہ کو بخشےگا اور جو ایسا نہیں کرے اس کا اللہ پر کوئی عہد نہیں چاہے بخشے چاہے سزادے.(۲) اسی طرح کی دوسری حدیثیں ملاحظہ ہوں ۔(۳)

ابوہریرہ کہتے ہیں ایک عرب حضور ؐ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا مجھے ایسا عمل بتائیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( ۱) السنن الکبریٰ،بیھقی،ج: ۱ ص: ۷۸ ،کتاب الطہارۃ،وضو کے مستحبات اور واجبات کے بیان میں،باب وضو سے فارغ ہونے کے بعد کیا کہےگا انھیں الفاظ میں صحیح بخاری،ج: ۳ ص: ۱۲۶۷ ،کتاب الانبیاء باب قول خداوند(یا اهل الکتاب لا تفعلو فی دینکم و لاتقولوا علی الله الا الحق انّما المسیح بن مریم رسول الله و کلمة القاها الی مریم و روح منه فٰامنوا بالله و رسوله و لاتقولوا ثلاثة...) صحیح مسلم ج: ۱ ص: ۲۰۹ کتاب الطہارۃ وضو کے بعد مستحب ذکر کے باب میں،صحیح ابن خزیمہ،ج ۱ ص: ۱۱۰ ،کتاب الوضو،بغیر ایجاب کے تطہیر اور استحباب کے ابواب میں،باب تحلیل اور نبی کی رسالت کی گواہی کی فضیلت اور عبودیت کے بیان میں نیز وہ چیزیں نہ کہی جاتیں جو نصاریٰ عیسٰ بن مریم کے بارے میں کہتے ہیں،نیز اس کے علاوہ دیگر منابع و ماخذ

( ۲) السنن الکبریٰ،بیھقی،ج: ۳ ص: ۳۶۶ ،تارک الصلواۃ کے باب میں،جس کے ذریعہ اس بات پر استدلال کیا جاتا ہے کہ اس کفر سے مراد وہ کفر ہے جس سے اس کا خون مباح ہوتا ہے نہ یہ کہ اللہ،رسول پر ایمان سے خارج ہوجاتا ہے اگر وجوؓ صلاۃ کا منکر نہیں ہے

( ۳) سنن ابی داؤدج: ۱ ص: ۱۱۵ ،باب اوقات نماز کی پابندی،مسند احمدج: ۵ ص: ۳۱۷ ،عبادۃ بن صامت کی حدیث،الاحادیث المختارۃ،ج: ۸ ص: ۳۲۰ ،جس کا نام عبدالرحمٰن بن عسیلۃ الصنابحی،المعجم الاوسط ج: ۹ ص: ۱۲۶ ،باب الھاء،ہاشم کے اسم کے بارے میں،الترغیب و الترھیب،ج: ۱ ص: ۱۴۸ ۔ ۱۵۷ ۔ ۱۵۵ ،تعظیم قدر الصلاۃ ج: ۲ ص: ۹۵۳ ،وغیرہ مصادر

۹۴

جس کو کر کے میں جنت میں داخل ہوجاؤں،آپ نے فرمایا اللہ کی عبادت کرو اور اس کی ذات میں کسی کو شریک نہ بنا،واجب نمازیں پڑھتا رہ،فرض زکٰوۃ ادا کرتا رہ،رمضان میں روزے رکھتا رہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس سے زیادہ میں کچھ نہ کہوں گا ۔(۱)

دوسری حدیث ابوہریرہ ہی سے ہے کہ ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک ان کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے اور مستحب حج کی جزا سوائے جنت کے کچھ نہیں ۔(۲)

حضرت ام سلمہ سے روایت ہے کہ حضور ؐ نے فرمایا جو حج یا عمرہ کے لئے سفر میں ہو اور مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ کے درمیان چاند دیکھے اس کے گذشتہ اور آئندہ گناہ بخش دئے جاتے ہیں اور اس پر جنت واجب ہوجاتی ہے ۔(۳)

ظاہر ہے کہ ان حدیثوں کو ہم ظاہر پر حمل نہیں کرسکتے ورنہ اعمال کی دنیا میں اندھیرا ہوجائےگا اس لئے کہ باقی محرمات و واجبات پر جو دلیلیں اور کتاب و سنت میں جو وعید وارد ہوئی ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( ۱) صحیح بخاری ج: ۲ ص: ۵۰۶ ،کتاب الزکاۃ،باب زکوۃ کا وجوب اسی لفظ میں صحیح مسلم ج: ۱ ص: ۴۴ ،کتاب الایمان،اس ایمان کے باب میں جس کی وجہ سے جنت میں داخل ہوتا ہے نیز مامور بہ سے جو متمسک ہوجائے وہ جنت کا حقدار ہے مسند احمد،ج: ۲ ص: ۳۴۲ ،مسند ابی ہریرہ،جامع العلوم و الحکم،ص: ۲۰۷ ،الایمان لابن مندۃ،ج: ۱ ص: ۲۶۹ ،اس بات کے ذکر میں نبی کی اصحاب نے بیعت کی اس طرح سے کہ اشہد ان لا الہ الّا اللہ و ان محمداً رسول اللہ کی گواہی دے،الترغیب و الترھیب،ج: ۱ ص: ۳۰۲

( ۲) صحیح بخاری ج: ۲ ص: ۶۲۹ ،باب عمرہ،وجوب عمرہ اور اس کی فضیلت کے باب میں اور اسی لفظ میں صحیح مسلم ج: ۲ ص: ۹۸۳ ،کتاب حج،حج و عمرہ اور روز عرفہ کی فضیلت کے باب میں،صحیح ابن خزیمۃ ج: ۴ ص: ۱۳۱ ،کتاب المناسک،حج و عمرہ کے درمیان فرق کے باب میں،السنن الکبری،بیھقی ج: ۵ ص: ۲۶۱ ،کتاب حج،حج و عمرہ کی فضیلت کے باب میں،سنن ابن ماجۃ ج: ۲ ص: ۹۶۴ ،باب فضیلت حج و عمرہ،موطا مالک،ج: ۱ ص: ۳۶۴ ،کتاب حج،جو عمرہ کے لئے آئے اس کے باب میں،مسند احمدج: ۳ ص: ۴۴۷ ،حدیث عامر بن ربیعۃ،

( ۳) سنن الدار قطنی،ج: ۲ ص: ۲۸۳ ،کتاب الحج،انھیں الفاظ میں السنن الکبری،بیھقی ج: ۵ ص: ۳۰ ،کتاب الحج،جو مسجد اقصی اور مسجدالحرام کے جوار میں اس کی فضیلت کے باب میں،سنن ابی داؤد،ج: ۲ ص: ۱۴۳ ،کتاب مناسک کی ابتداء میں اوقات کے باب میں،المعجم الاوسط ج: ۶ ص: ۳۱۹ ،الترغیب و الترھیب،ج: ۲ ص: ۱۲۱ ،وغیرہ

۹۵

ان حدیثوں سے مطابقت نہٰں کرتیں،ظاہر ہے کہ ان حدیثوں کی تاویل،کرنی پڑےگی اور استقامت اور حسن خاتمہ کی قید لگانی پڑےگی،اس لئے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ نجات اور ابدی نعمتوں کے لئے یہ دونوں چیزیں شرط ہیں،تو آپ جیسی بھی ان حدیثوں کی تاویل کریں حدیث بدر کی بھی وہی تاویل کرلیں،(یعنی استقامت اور حسن خاتمہ کو حدیث میں قطعی نجات کے لئے شرط قرار دیں)

حدیث مذکورہ اہل بدر سے مخصوص ہے نہ کی باقی سابقون اوّلون سے

اختتام کلام میں عرض ہے کہ(اگر ہم حدیث مذکورہ کی بنار پر اہل بدر کو مغفور و مامون مان بھی لیں تو)یہ حدیث تو صرف اہل بدر سے مخصوص ہے ان کے لئے جو واقعہ بدر میں نبی ؐ برحق کے ساتھ تھے تو پھر سابقون اوّلون جن کو اہل سنت سابقون اوّلون کہتے ہیں ان کی قطعی نجات اور یقینی سلامت پر یہ دلیل کیسے بن سکتی ہے؟جبکہ سابقون اوّلون کی ایسی حد بندی بھی نہیں کی گئی ہے جو زیادتی اورک می کو قبول نہ کرے،میرا خیال ہے کہ ہماری گفتگو آپ کے سوال کا کافی جواب ہوگی،ہم اللہ سے استمداد،توفیق و تسدید مانگتے ہیں اور وہی سیدھے راستے کا رہبر ہے ۔

۹۶

سوال نمبر ۔ ۲

ہم اس بات کے منکر نہیں ہیں کہ صحابہ کبھی ذاتی بغض کی وجہ سے مجبور ہوجاتے تھے،کبھی کسی مصلحت سے مجبور ہوجاتے تھے اور کبھی ایک دوسرے پر غبطہ کرنے لگتے تھےہ معاملات اس قول کو محال قرار دیتے ہیں کہ صحابہ بشری کمزوریوں سے منزہ تھے اس کہ باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ ان تمام غلطیوں کے ہوتے ہوئے بھی اللہ ان سے راضی ہے اور یہ رضا صرف زمانہ نبوت تک محدود نہیں ہے بلکہ رضا مطلقاً وارد ہوئی ہے اور اس سے کوئی صحابی مستثنیٰ نہیں ہے مگر یہ کہ شریعت اس کے لئے کوئی خاص نص پیش کرے ۔

پھر شیعہ حضرات خلافت عمر و ابوبکر و عثمان کے حق میں وہ بھی حضرت علی ؑ ہی کی زندگی میں خلافت پر قبضہ جمانے کے لئے یہ تاویل کیوں نہیں کرتے کہ حضرت علی ؑ کے پہلےوالے خلفا کی حرکتیں بشری تقاضوں اور ان کی ذاتی کمزوریوں کا نتیجہ تھیں جن کا شرعی مواخذہ نہیں کیا جاتا یا یہ کہ مولائے کائنات ؑ اور دوسرے خیلفہ آپس میں مل بیٹھ کے راضی ہوگئے تھے کہ خلافت کس کس کو دی جائےگی،حالانکہ شیعوں کے خیال کے مطابق مستحق ترین فرد مولا علی ؑ تھے ۔

جواب ۔ اس سوال کے جواب میں مندرجہ ذیل باتیں حاضر ہیں

امر اول ۔ خداوند عالم نے خاص صحابہ کے لئے دو جگہ اپنی رضا کا اظہار کیا ہے،یہ دو آیتوں سے رضا ظاہر ہوتی ہے ۔

۹۷

پہلی آیت تو سابقون اوّلین والی آیت ہے اور وہ لوگ جو ان کے احسان کے ساتھ پیروی کرتے ہیں،اس پر کافی گفتگو ہوچکی ہے اور ہم اعادہ نہیں کریں گے ۔

بیعت رضوان کے بارے میں گفتگو

رضوان الہی کے بارےمیں دوسری آیت حاضر ہے،ارشاد ہوتا ہے:((بیشک اللہ راضی ہوگیا مومنین سے جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کررہے تھے،ان کے دل کے حالات سے اللہ واقف ہوا اور ان پر سکینہ نازل کیا اور فتح قریب سے سرفراز کیا بہت سا مال غنیمت بھی دے دیا اور اللہ عزیز اور حکمت والا ہے))(۱) پہلی آیت کے ذیل میں یہ عرض کیا جاچکا ہے کہ اپنی رضا کی خبر اللہ دے تو رہا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ رضا ہمیشہ باقی رہےگی،یہاں اللہ نے درخت کے نیچے بیعت کرنےوالوں کو اپنے رضا کی خبر دی ہے،لیکن اس کے بعد وہ جو اعمال بھی انجام دیں گےاسی کے حساب سےجزا اور سزا کے مستحق ہوں گے،اس بات کو دو امر کچھ اور مضبوط کرتے ہیں۔

آیہ کریمہ رضا کو مطلق نہیں کرتے بلکہ رضا کا سبب بیان کرتی ہے

پہلی بات تو یہ ہے کہ رضا ان کے لئے مطلقاً وارد نہیں ہوئی ہے بلکہ رضا کا سبب اور اس کا منشا بیان کیا جارہا ہے،سبب رضا ہے درخت کے نیچے بیعت کرنا اور وہ اس لئے کہ انہوں نے نبیؐ کے طلب بیعت پر لبیک کہی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر وہ نبیؐ کی نافرمانی کریں گےتو ان پر غضب نازل نہیں ہوگا،پھر اس آیت سے رضا کی تائید کیسے سمجھی جائے؟

بعض آیتیں بتاتی ہیں کہ اس بیعت کے عہد کو پورا کرنا سلامتی کی شرط ہے

خداوند عالم نےاسی سورہ میں یہ صراحت کردی ہے کہ وہ بیعت جو رضائے الہی کا سبب ہے،نجات کے لئے کافی نہیں ہے جب تک وفا بعہد کی بیعت نہ کی جائے ملاحظہ ہو:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( ۱) سورہ فتح آیت: ۱۹،۱۸

۹۸

(إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ فَمَن نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنكُثُ عَلَىٰ نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا)(۱)

ترجمہ آیت:((بیشک وہ لوگ جو آپ سے بیعت کررہے تھے اصل میں اللہ سے بیعت کررہے تھے،اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھ پر تھا،اس کے بعد بھی اگر کوئی بیعت توڑتا ہے تو خود گھاٹا اٹھائےگاور جو اس عہد بیعت کو وفا کرےگا تو عنقریب اللہ اسے اجر عظیم عنایت فرمائےگا)) ۔

یہ بات صریحی ہے کہ رضا و غضب کی چکی ان کے اعمال کے مدار پر گھوم رہی ہے،اللہ راضی بھی ہوگا،ثواب بھی دےگا،غضب ناک بھی ہوگا اور سزا بھی دےگا معیار اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت ہے اور ان کی نافرمانی ہے اگر وہ وفا کریں گے کامیاب ہوں گے اور اگر کجروی اختیار کریں گےاور بیعت توڑدیں گے تو گھاٹا اٹھائیں گے اور خود کو نقصان پہنچائیں گےٹھیک یہی بات شیعہ بھی صحابہ کے بارے میں کہتے ہیں ۔

لظف یہ ہے کہ اہل حدیث اور مورخین کا کہنا ہے کہ اس دن حضور نے ان سے اس بات پر بیعت لی تھی کہ وہ مشرکین سے قتال کریں گے اور جہاد سےبھاگیں گے نہیں(۲) ظاہر ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)سورہ فتح آیت:۱۰)

(۲)صحیح مسلم،ج:۳ص:۱۴۸۴۔۱۴۸۵،کتاب الامارۃ(علامت)قتال کے موقع پر لشکر امام کی بیعت کے استحباب کے باب میں نیز بیعت الرضوان درخت کے نیچے،صحیح ابن حبّان ج:۱۰ص:۴۱۵،حدیث:۴۵۵۱،بیعت ائمہ کے باب میں اور جوان کے لئے مستحب ہے،نیز اس بیعت کے بیان میں جو امام کی آزاد لوگوں کی طرف سے ہو نہ غلاموں کی طرف سے،ج:۱۱ص:۲۳۱،حدیث۴۸۷۵،باب المواعدۃ(وعدہ کرنا)والمھادنۃ(سکون و وقار کے باب میں نیز اس تعداد کے وصف کے بیان میں جو رسول خداؐ کے ساتھ حدیبیہ کے دن تھے،مسند ابی عوانی،ج:۴ص:۴۲۷۔۴۳۰،ایسی اخبار کے باب میں اس امیر کی اطاعت کے بیان میں جس کی طاعت کا امام حکم دیتا ہے اور جس نے اس کی اطاعت کی اس نے امام کی اطاعت کی امام کی صفت کے بیان میں،سنن ترمذی،ج:۳ص:۳۵۵،جابر کی مسند میں تفسیر طبری،ج:۲۶ص:۸۶،تفسیر ابن کثیرج:۴ص:۱۷۸،ابن عبدالبراج کی التمھید،ج:۱۲ص:۱۴۹،السیرۃ النبویۃ،ابن ہشام،ج:۴ص:۳۸۳،(بیعۃ الرضوان)کے بارے میں نیز اس کے علاوہ مصادر۔

۹۹

کہ اس(لایفروا)سے مراد ہے کہ تمام جنگوں میں نہیں بھاگیں گے نہ کہ صرف صلح حدیبیہ میں،اس لئے خداوند عالم نےآیہ کریمہ میں وفا کی شرط رکھدی ہے،صلح حدیبیہ میں تو جنگ بھی نہیں ہوئی تھی پھر ٹھہرنے اور بھاگنے کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے،یہ آیتیں اورہ فتح کی ہیں اور سورہ فتح صلح حدیبیہ کے بعد نازل ہوا ہے اور اسی وجہ سے غزوہ حنین میں سرکار دو عالم ؐ نے انھیں ان کے فرار پر بیعت رضواں یاد دلائی نبی ؐ لوگوں کو پکار رہے تھے اےسورہ بقرہ والو!اے بیعت شجرہ والو!(۱) ظاہر ہے کہ فرار واقع ہوا اور رضا ختم ہوئی،غزوہ خیبر میں ایک جماعت کا فرار ہونا اور غزوہ حنین میں اکثر صحابہ کا فرار بتا رہا ہے کہ انھوں نے بیعت توڑدی اور جب بیعت توڑدی تو رضا بقی نہیں رہی ۔

خدا کی رضا صرف بیعت رضوان والوں سے مخصوص نہیں ہے

اب ایک بات رہ جاتی ہے وہ یہ کہ یہ مان لیا جائے کہ رضا استمرار کے لئے وارد ہوئی ہے اور ہمیشہ باقی رہےگی،جیسا کہ آپ فرماتے ہیں اور میں نے جو عرض کیا اس سے چشم پوشی کی جائے تو پھر میں عرض کروں گا کہ رضا کے لئے خاص اصحاب ہی مخصوص نہیں ہیں بلکہ قرآن مجید میں تو عمومی رضا واقع ہوئی ہے خدا ان تمام لوگوں سے اپنی رضا کا اعلان کرتا ہے جو ایمان کی دولت سے مالامال اور اعمال صالحہ سے مزین ہیں ۔

ملاحظہ ہوا ارشاد ہوتا ہے: (لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُولَٰئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُولَٰئِكَ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)مصنف ابی شیبہ ج:۷ص:۴۱۷جنگ حنین

۱۰۰

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

خندق کھورنے لگے امیر المؤمنین کھدی ہوئی مٹی کو خندق سے نکال کر باہر لے جار رہے تھے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اتنا کام کیا کہ پسینہ سے تر ہوگئے اور تھکاوٹ کے آثار آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چہرہ سے نمایاں تھے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :

''لا عیش لا عیش الاخرة اللهم اغفر للانصار و المهاجرین '' (۱)

آخرت کے آرام کے سوا اور کوئی آرام نہیں ہے اے اللہ مہاجرین و انصار کی مغفرت فرما_

جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب نے دیکھا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خود بہ نفس نفیس خندق کھودنے اور مٹی اٹھانے میں منہمک میں تو ان کو اور زیادہ جوش سے کام کرنے لگے_

جابر ابن عبداللہ انصاری فرماتے ہیں : خندق کھودتے کھودتے ہم ایک بہت ہی سخت جگہ پر پہونچے ہم نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ اب کیا کیا جائے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : وہاں تھوڑا پانی ڈال دو اس کے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وہاں خود تشریف لائے حالانکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھو کے بھی تھے اور پشت پر پتھر باندھے ہوئے تھے لیکن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تین مرتبہ خدا کا نام زبان پر جاری کرنے کے بعد اس جگہ پر ضرب لگائی تو وہ جگہ بڑی آسانی سے کھد گئی_(۲)

عمرو بن عوف کہتے ہیں کہ میں اور سلمان اور انصار میں سے چند افراد مل کر چالیس ہاتھ کے قریب زمین کھود رہے تھے ایک جگہ سخت پتھر آگیا جس کی وجہ سے ہمارے آلات ٹوٹ

___________________

۱) ( بحار الانوار ج ۲ ص ۲۱۸) _

۲ (بحار الانوار ج ۲۰ ص ۱۹۸)_

۱۸۱

گئے ہم نے سلمان سے کہا تم جاکر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ماجرا بیان کردو سلمان نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سارا واقعہ بیان کردیاآنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خود تشریف لائے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے چند ضربوں میں پتھر کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا _(۱)

کھانا تیار کرنے میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شرکت

جب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپ کے اصحاب اپنی سواریوں سے اترے اور اپنا سامان اتار لیا تو یہ طے پایا کہ بھیڑ کو ذبح کرکے کھانا تیار کیا جائے _

اصحاب میں سے ایک نے کہا گوسفند ذبح کرنے کی ذمہ داری میرے اوپر ہے ، دوسرے نے کہا اس کی کھال میں اتاروں گا ، تیسرے نے کہا گوشت میں پکاؤں گا _ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : جنگل سے لکڑی لانے کی ذمہ داری میں قبول کرتا ہوں لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم زحمت نہ فرمائیں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آرام سے بیٹھیں ان سارے کاموں کو ہم لوگ فخر کے ساتھ انجام دینے کے لئے تیار ہیں ، تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : مجھے معلوم ہے کہ تم لوگ سارا کام کرلو گے لیکن خدا کسی بندہ کو اس کے دوستوں کے درمیان امتیازی شکل میں دیکھنا پسند نہیں کرتا _پھر اس کے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صحرا کی جانب گئے اور وہاں سے لکڑی و غیرہ جمع کرکے لے آئے _(۲)

___________________

۱) ( بحار الانوار ج ۲۰ ص ۱۹۸)_

۲) ( داستان راستان منقول از کحل البصر ص ۶۸)_

۱۸۲

شجاعت کے معنی :

شجاعت کے معنی دلیری اور بہادری کے ہیں علمائے اخلاق کے نزدیک تہور اور جبن کی درمیانی قوت کا نام شجاعت ہے یہ ایک ایسی غصہ والی طاقت ہے جس کے ذریعہ نفس اس شخص پر برتری حاصل کرنا چاہتا ہے جس سے دشمنی ہوجاتی ہے _(۱)

جب میدان کا رزار گرم ہو اور خطرہ سامنے آجائے تو کسی انسان کی شجاعت اور بزدلی کا اندازہ ایسے ہی موقع پر لگایا جاتا ہے _

شجاعت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :

صدر اسلام میں کفار اور مسلمانوں کے درمیان جو جنگیں ہوئیں تاریخ کی گواہی کے مطابق اس میں کامیابی کی بہت بڑی وجہ حضور نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شجاعت تھی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بہ نفس نفیس بہت سی جنگوں میں موجود تھے اور جنگ کی کمان اپنے ہاتھوں میں سنبھالے ہوئے تھے _

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شجاعت علیعليه‌السلام کی زبانی :

تقریبا چالیس سال کا زمانہ علیعليه‌السلام نے میدان جنگ میں گذارا عرب کے بڑے بڑے

___________________

۱) (لغت نامہ دہخدا مادہ شجاعت)

۱۸۳

پہلوانوں کو زیر کیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا یہ بیان رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شجاعت کی بہترین دلیل ہے کہ آپعليه‌السلام فرماتا ہیں :

''کنا اذا احمر الباس و القی القوم اتقینا برسول الله فما کان احد اقرب الی العدو منه'' (۱)

جب جنگ کی آگ بھڑکتی تھی اور لشکر آپس میں ٹکراتے تھے تو ہم رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دامن میں پناہ لیتے تھے ایسے موقع پر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دشمن سے سب سے زیادہ نزدیک ہوئے تھے_

دوسری جگہ فرماتے ہیں :

''لقد رایتنی یوم بدر و نحن نلوذ بالنبی و هو اقربنا الی العدو و کان من اشد الناس یومئذ'' (۲)

بے شک تم نے مجھ کو جنگ بدر کے دن دیکھا ہوگا اس دن ہم رسول خدا کی پناہ میں تھے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دشمن سے سب سے زیادہ نزدیک اور لشکر میں سب سے زیادہ قوی تھے_

جنگ '' حنین '' میں براء بن مالک سے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شجاعت کے بارے میں دوسری روایت نقل ہوئے ہے جب قبیلہ قیس کے ایک شخص نے براء سے پوچھا کہ کیا تم جنگ حنین کے دن رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے اور تم نے ان کی مدد نہیں کی

___________________

۱) ( الوفاء باحوال المصطفی ج ۲ ص ۴۴۳) _

۲) ( الوفا باحوال المصطفی ج ۲ ص ۴۴۳)_

۱۸۴

تھی ؟ تو انہوں نے کہا :

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے محاذ جنگ سے فرار نہیں اختیار کیا قبیلہ '' ہوازان '' کے افراد بڑے ماہر تیرانداز تھے _ ابتداء میں جب ہم نے ان پر حملہ کیا تو انہوں نے فرار اختیار کیا _ جب ہم نے یہ ماحول دیکھا تو ہم مال غنیمت لوٹنے کے لئے دوڑ پڑے ، اچانک انہوں نے ہم پر تیروں سے حملہ کردیا ہیں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دیکھا کہ وہ سفید گھوڑے پر سوارہیں_ ابو سفیان بن حارث نے اس کی لگام اپنے ہاتھ میں پکڑ رکھی ہے اورآنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرما رہے ہیں :

''اناالنبی لا کذب و انا بن عبدالمطلب'' (۱)

میں راست گو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہوں میں فرزند عبدالمطلب ہوں _

___________________

۱) ( الوفاء باحوال المصطفی ج ۲ ص ۴۴۳)_

۱۸۵

خلاصہ درس :

۱ _ باہمی امداد اور تعاون معاشرتی زندگی کی اساس ہے اس سے افراد قوم کے دلوں میں محبت اور دوستی پیدا ہوتی ہے _

۲ _ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صرف باہمی تعاون کی تعلیم ہی نہیں دیتے تھے بلکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لوگوں کے کام میں خود بھی شریک ہوجاتے تھے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس عمل سے باہمی تعاون کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے _

۳_شجاعت کے معنی میدان کار زار میں دلیری اور بہادری کے مظاہرہ کے ہیں اور علمائے اخلاق کے نزدیک تہور اور جبن کی درمیانی قوت کا نام شجاعت ہے _

۴_ تاریخ گواہ ہے کہ صدر اسلام میں مسلمانوں اور کفار کے درمیان جو جنگیں ہوئیں ہیں ان میں رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شجاعت اور استقامت فتح کا سب سے اہم سبب تھا_

۵_ امیر المؤمنین فرماتے ہیں : جنگ بدر کے دن ہم نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دامن میں پناہ لے لی اور وہ دشمنوں کے سب سے زیادہ قریب تھے اور اس دن تمام لوگوں میں سے سب زیادہ قوی اور طاقت ور تھے_

۱۸۶

سوالات :

۱_ باہمی تعاون اور ایک دوسرے کی مدد کی اہمیت کو ایک روایت کے ذریعے بیان کیجئے؟

۲_ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ابوطالب کے ساتھ کس زمانہ اور کس چیز میں تعاون تھا ؟

۳ _ وہ امور جن کا تعلق معاشرتی امور سے تھا ان میں رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی کیا روش تھی مختصر طور پر بیان کیجئے؟

۴_ شجاعت کا کیا مطلب ہے ؟

۵_ علمائے اخلاق نے شجاعت کی کیا تعریف کی ہے ؟

۶_ جنگوں میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شجاعت کیا تھی ؟ بیان کیجئے؟

۱۸۷

تیرہواں سبق:

(پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بخشش و عطا )

دین اسلام میں جس صفت اور خصلت کی بڑی تعریف کی گئی ہے اور معصومینعليه‌السلام کے اقوال میں جس پر بڑا زور دیا گیا ہے وہ جود و سخا کی صفت ہے _

سخاوت عام طور پر زہد اور دنیا سے عدم رغبت کا نتیجہ ہوا کرتی ہے اور یہ بات ہم کو اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء کرامعليه‌السلام سب سے بڑے زاہد اور دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرنے والے افراد تھے اس بنا پر سخاوت کی صفت بھی زہد کے نتیجہ کے طور پر ان کی ایک علامت اور خصوصیت شمار کی جاتی ہے _

اس خصوصیت کا اعلی درجہ یعنی ایثار تمام انبیاءعليه‌السلام خصوصاً پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذات گرامی میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے _

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :

''ما جبل الله اولیائه الا علی السخا ء و حسن الخلق'' (۱)

___________________

۱) ( الحقائق فی محاسن الاخلاق ۱۱۷فیض کاشانی )_

۱۸۸

سخاوت اور حسن خلق کی سرشت کے بغیر خدا نے اپنے اولیاء کو پیدا نہیں کیا ہے _

سخاوت کی تعریف :

سخاوت یعنی مناسب انداز میں اس طرح فائدہ پہونچانا کہ اس سے کسی غرض کی بونہ آتی ہو اور نہ اس کے عوض کسی چیز کا تقاضا ہو(۱)

اسی معنی میں سخی مطلق صرف خدا کی ذات ہے جس کی بخشش غرض مندی پر مبنی نہیں ہے انبیاءعليه‌السلام خدا '' جن کے قافلہ سالار حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں جو کہ خدا کے نزدیک سب سے زیادہ مقرب اور اخلاق الہی سے مزین ہیں'' سخاوت میں تمام انسانوں سے نمایان حیثیت کے مالک ہیں _

علماء اخلاق نے نفس کے ملکات اور صفات کو تقسیم کرتے ہوئے سخاوت کو بخل کا مد مقابل قرار دیا ہے اس بنا پر سخاوت کو اچھی طرح پہچاننے کے لئے اس کی ضد کو بھی پہچاننا لازمی ہے _

مرحوم نراقی تحریر فرماتے ہیں :'' البخل هو الامساک حیث ینبغی البذل کما ان الاسراف هو البذل حیث ینبغی الامساک و کلا هما مذمومان و المحمود هو الوسط و هو الجود و السخا ء'' (۲) بخشش کی جگہ پر بخشش و عطا

___________________

۱) ( فرہنگ دہخدا ، منقول از کشاف اصطلاحات الفنون)_

۲) ( جامع السعادات ج ۲ ص ۱۱۲ مطبوعہ بیروت)_

۱۸۹

نہ کرنا بخل ہے اور جہاں بخشش کی جگہ نہیں ہے وہاں بخشش و عطا سے کام لینا اسراف ہے یہ دونوں باتیں ناپسندیدہ میں ان میں سے نیک صفت وہ ہے جو درمیانی ہے اور وہ ہے جودوسخا_

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے قرآن نے کہا ہے :

( لا تجعل یدک مغلولة الی عنقک و لا تبسطها کل البسط فتقعد ملوما محسورا ) (۱)

اپنے ہاتھوں کو لوگوں پر احسان کرنے میں نہ تو بالکل بندھا ہوا رکھیں اور نہ بہت کھلا ہوا ان میں سے دونوں باتیں مذمت و حسرت کے ساتھ بیٹھے کا باعث ہیں _

اپنے اچھے بندوں کی صفت بیان کرتے ہوئے اللہ فرماتا ہے :

( و الذین اذا انفقوا لم یسرفوا و لم یقتروا و کان بین ذالک قواما ) (۲)

اور وہ لوگ جو مسکینوں پر انفاق کرتے وقت اسراف نہیں کرتے اور نہ بخل سے کام لیتے ہیں بلکہ احسان میں میانہ رو ہوتے ہیں _

مگر صرف انہیں باتوں سے سخاوت متحقق نہیں ہوتی بلکہ دل کا بھی ساتھ ہونا ضروری ہے مرحوم نراقی لکھتے ہیں :''و لا یکفی فی تحقق الجود و السخا ان یفعل

___________________

۱) ( الاسراء ۲۹) _

۲) (فرقان ۶۷) _

۱۹۰

ذلک بالجوارح ما لم یکن قلبه طیبا غیر منازع له فیه'' (۱) سخاوت کے تحقق کیلئے صرف سخاوت کرنا کافی نہیں ہے بلکہ دل کا بھی اس کام پر راضی ہونا اور نزاع نہ کرنا ضروری ہے _

سخاوت کی اہمیت :

اسلام کی نظر میں سخاوت ایک بہترین اور قابل تعریف صفت ہے اس کی بہت تاکید بھی کی گئی ہے نمونہ کے طور پر اس کی قدر و قیمت کے سلسلہ میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چند اقوال ملاحظہ فرمائیں_

''السخا شجرة من شجر الجنة ، اغصانها متدلیة علی الارض فمن اخذ منها غصنا قاده ذالک الغصن الی الجنة '' (۲)

سخاوت جنت کا ایک ایسا درخت ہے جس کی شاخیں زمین پر جھکی ہوئی ہیں جو اس شاخ کو پکڑلے وہ شاخ اسے جنت تک پہونچا دے گی _

''قال جبرئیل: قال الله تعالی : ان هذا دین ارتضیته لنفسی و لن یصلحه الا السخاء و حسن الخلق فاکرموه بهما ما استطعم '' (۳)

___________________

۱) ( جامع السعادات ج ۲ ص ۱۱۲ مطبوعہ بیروت )_

۲) ( الحقائق فی محاسن الاخلاق ۱۱۷فیض کاشانی ) _

۳) ( الحقائق فی محاسن الاخلاق ۱۱۷ فیض کاشانی ) _

۱۹۱

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جبرئیل سے اور جبرئیل نے خدا سے نقل کیا ہے کہ خداوند فرماتا ہے : اسلام ایک ایسا دین ہے جس کو میں نے اپنے لیئے منتخب کر لیا ہے اس میں جود و سخا اور حسن خلق کے بغیر بھلائی نہیں ہے پس اس کو ان دو چیزوں کے ساتھ ( سخاوت او حسن خلق ) جہاں تک ہوسکے عزیز رکھو _

''تجافوا عن ذنب السخی فان الله آخذ بیده کلما عثر'' (۱) سخی کے گناہوں کو نظر انداز کردو کہ خدا ( اس کی سخاوت کی وجہ سے ) لغزشوں سے اس کے ہاتھ روک دیتا ہے _

سخاوت کے آثار :

خدا کی نظر میں سخاوت ایسی محبوب چیز ہے کہ بہت سی جگہوں پر اس نے سخاوت کی وجہ سے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کفار کے ساتھ مدارات کا حکم دیا ہے_

۱ _ بہت بولنے والا سخی

امام جعفر صادقعليه‌السلام سے منقول ہے کہ یمن سے ایک وفدآنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ملاقات کیلئے آیا ان میں ایک ایسا بھی شخص تھا جو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ بڑی باتیں اور جدال کرنے والا شخص تھا اس نے کچھ ایسی باتیں کیں کہ غصہ کی وجہ سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ابرو اور چہرہ سے پسینہ ٹپکنے لگا _

___________________

۱) (جامع السعادات ج ۲ ص ۱۱۷ مطبوعہ بیروت )_

۱۹۲

اس وقت جبرئیل نازل ہوئے اور انہوں نے کہا کہ خدا نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو سلام کہا ہے اور ارشاد فرمایا: کہ یہ شخص ایک سخی انسان ہے جو لوگوں کو کھانا کھلاتا ہے _ یہ بات سن کر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا غصہ کم ہوگیا اس شخص کی طرف مخاطب ہو کر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : اگر جبرئیل نے مجھ کو یہ خبر نہ دی ہوتی کہ تو ایک سخی انسان ہے تو میں تیرے ساتھ بڑا سخت رویہ اختیار کرتا ایسا رویہ جس کی بنا پر تودوسروں کے لئے نمونہ عبرت بن جاتا _

اس شخص نے کہا : کہ کیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا خدا سخاوت کو پسند کرتا ہے ؟ حضرت نے فرمایا : ہاں ، اس شخص نے یہ سن کے کلمہ شہادتیں زبان پر جاری کیا اور کہا، اس ذات کی قسم جس نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے میں نے آج تک کسی کو اپنے مال سے محروم نہیں کیا ہے(۱)

۲_سخاوت روزی میں اضافہ کا سبب ہے :

مسلمانوں میں سخاوت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ روزی کے معاملہ میں خدا پر توکل کرتے ہیں جو خدا کو رازق مانتا ہے اور اس بات کا معتقد ہے کہ اس کی روزی بندہ تک ضرور پہنچے گی وہ بخشش و عطا سے انکار نہیں کرتا اس لئے کہ اس کو یہ معلوم ہے کہ خداوند عالم اس کو بھی بے سہارا نہیں چھوڑ سکتا _

انفاق اور بخشش سے نعمتوں میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے معراج کے واقعات بتاتے ہوئے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے_

___________________

۱) ( بحار الانوار ج ۲۲ ص ۸۴)_

۱۹۳

''و رایت ملکین ینادیان فی السماء احدهما یقول : اللهم اعط کل منفق خلفا و الاخر یقول : اللهم اعط کل ممسک تلفا'' (۱)

میں نے آسمان پر دو فرشتوں کو آواز دیتے ہوئے دیکھا ان میں سے ایک کہہ رہا تھا خدایا ہر انفاق کرنے والے کو اس کا عوض عطا کر _ دوسرا کہہ رہا تھا ہر بخیل کے مال کو گھٹادے _

دل سے دنیا کی محبت کو نکالنا :

بخل کے مد مقابل جو صفت ہے اس کا نام سخاوت ہے _ بخل کا سرچشمہ دنیا سے ربط و محبت ہے اس بنا پر سخاوت کا سب سے اہم نتیجہ یہ ہے کہ اس سے انسان کے اندر دنیا کی محبت ختم ہوجاتی ہے _ اس کے دل سے مال کی محبت نکل جاتی ہے اور اس جگہ حقیقی محبوب کا عشق سماجاتا ہے _

اصحاب کی روایت کے مطابق پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سخاوت

جناب جابر بیان کرتے ہیں :

''ما سئل رسول الله شیئا قط فقال : لا'' (۲)

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جب کسی چیز کا سوال کیا گیا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے '' نہیں '' نہیں فرمایا _

امیرالمؤمنینعليه‌السلام رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں ہمیشہ فرمایا کرتے تھے :

___________________

۱) ( بحار الانوار ج ۱۸ ص ۳۲۳) _

۲) ( الوفاء باحوال المصطفی ج ۲ ص ۴۴۱) _

۱۹۴

'' کان اجود الناس کفا و اجرا الناس صدرا و اصدق الناس لهجةو اوفاهم ذمة و الینهم عریکهة و اکرمهم عشیرة من راه بدیهة هابه و من خالطه معرفة احبه لم ارقبله و بعده مثله '' (۱)

بخشش و عطا میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہاتھ سب سے زیادہ کھلے ہوئے تھے_ شجاعت میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا سینہ سب سے زیادہ کشادہ تھا ، آپ کی زبان سب سے زیادہ سچی تھی ، وفائے عہد کی صفت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں سب سے زیادہ موجود تھی ، تمام انسانوں سے زیادہ نرم عادت کے مالک تھے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا خاندان تمام خاندانوں سے زیادہ بزرگ تھا ، آپ کو جو دیکھتا تھا اسکے اوپر ہیبت طاری ہوجاتی تھی اور جب کوئی معرفت کی غرض سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ بیٹھتا تھا وہ اپنے دل میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی محبت لیکر اٹھتا تھا _ میں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پہلے یا آپ کے بعد کسی کو بھی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جیسا نہیں پایا _

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مقبول کی یہ صفت تھی کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو جو بھی ملتا تھا وہ عطا کردیتے تھے اپنے لئے کوئی چیز بچاکر نہیں رکھتے تھے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے نوے ہزار درہم لایا گیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان درہموں کو تقسیم کردیا _ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کبھی کسی ساءل کو واپس نہیں کیا جب تک اسے فارغ نہیں کیا _(۲)

___________________

۱) ( مکارم الاخلاق ص ۱۸) _

۲) (ترجمہ احیاء علوم الدین ج ۲ ص ۷۱)_

۱۹۵

خلاصہ درس :

۱) اسلام نے جس چیز کی تاکید کی اور جس پر سیرت معصومینعليه‌السلام کی روایتوںمیں توجہ دلائی گئی ہے وہ سخاوت کی صفت ہے _

۲) تمام انبیاءعليه‌السلام خصوصا ً پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس صفت کے اعلی درجہ '' ایثار '' فائز تھے _

۳) سخاوت یعنی مناسب جگہوں پر اس طرح سے فائدہ پہونچانا کہ غرض مندی کی بو اس میں نہ آتی ہوا اور نہ کسی عوض کے تقاضے کی فکر ہو _

۴) سخاوت بخل کی ضد ہے بخل اور اسراف کے درمیان جو راستہ ہے اس کا نام سخاوت ہے_

۵)خدا کی نظر میں سخاوت ایسی محبوب صفت ہے کہ اس نے اپنے حبیب کو کافر سخی انسان کی عزت کرنے کا حکم دیا _

۶) انفاق اور بخشش نعمت و روزی میں اضافہ کا سبب ہے_

۷)رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو جو ملتا تھا اس کو بخش دیا کرتے تھے اپنے پاس بچاکر کچھ بھی نہیں رکھتے تھے_

۱۹۶

سوالات :

۱_ جود و سخاوت کا کیا مطلب ہے ؟

۲_ سب سے اعلی درجہ کی سخاوت کی کیا تعبیر ہوسکتی ہے ؟

۳_قرآن کریم کی ایک آیت کے ذریعہ سخاوت کے معنی بیان کیجئے؟

۴_ سخاوت کی اہمیت اور قدر و قیمت بتانے کیلئے ایک روایت پیش کیجئے؟

۵_ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جودو سخا کی ایک روایت کے ذریعے وضاحت کیجئے؟

۱۹۷

چودھواں سبق:

(سخاوت ، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خداداد صفت )

ابن عباس نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا یہ قول نقل کیا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :

''انا ادیب الله و علی ادیبی امرنی ربی بالسخاء و البر و نهانی عن البخل و الجفاء و ما شئ ابغض الی الله عزوجل من البخل و سوء الخلق و انه لیفسد العمل کما یفسد الخل العسل '' (۱)

میری تربیت خدا نے کی ہے اور میں نے علی علیہ السلام کی تربیت کی ہے ، خدا نے مجھ کو سخاوت اور نیکی کا حکم دیا ہے اور اس نے مجھے بخل اور جفا سے منع کیا ہے ، خدا کے نزدیک بخل اور بد اخلاقی سے زیادہ بری کوئی چیز نہیں ہے کیونکہ برا اخلاق عمل کو اسی طرح خراب کردیتا ہے جس طرح سرکہ شہد کو خراب کردیتا ہے _ جبیربن مطعم سے منقول ہے کہ ''حنین'' سے واپسی کے بعد ، اعراب مال غنیمت میں سے اپنا حصہ لینے کیلئے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ارد گرد اکھٹے ہوئے اور بھیڑ میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ردا اچک لے گئے _

___________________

۱) مکارم الاخلاق ص ۱۷_

۱۹۸

حضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :

''ردوا علی ردائی اتخشون علی البخل ؟ فلو کان لی عدد هذه العضاة ذهبا لقسمته بینکم و لا تجدونی بخیلا و لا کذابا و لا جبانا'' (۱)

میری ردا مجھ کو واپس کردو کیا تم کو یہ خوف ہے کہ میں بخل کرونگا ؟ اگر اس خار دار جھاڑی کے برابر بھی سونا میرے پاس ہو تو میں تم لوگوں کے درمیان سب تقسیم کردوں گا تم مجھ کو بخیل جھوٹا اور بزدل نہیں پاؤگے _

صدقہ کو حقیر جاننا

جناب عائشہ کہتی ہیں کہ : ایک دن ایک ساءل میرے گھر آیا ، میں نے کنیز سے کہا کہ اس کو کھانا دیدو ، کنیز نے وہ چیز مجھے دکھائی جو اس ساءل کو دینی تھی رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : اے عائشہ تم اس کو گن لوتا کہ تمہارے لئے گنا نہ جائے_(۲)

انفاق کے سلسلہ میں اہم بات یہ ہے کہ انفاق کرنے والا اپنے اس عمل کو بڑا نہ سمجھے ورنہ اگر کوئی کسی عمل کو بہت عظیم سمجھتا ہے تو اس کے اندر غرور اور خود پسندی پیدا ہوگی کہ جو اسے کمال سے دور کرتی ہے یہ ایسی بیماری ہے کہ جس کو لگ جاتی ہے اس کو ہلاکت اور رسوائی تک پہونچا دیتی ہے _

___________________

۱) الوفاء باحوال المصطفی ج ۲ ص ۴۴۲ _

۲) شرف النبی ج ۶۹_

۱۹۹

اس سلسلہ میں امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد :

'' رایت المعروف لا یصلح الابثلاث خصال : تصغیره و تستیره و تعجیله ، فانت اذا صغرته عظمته من تصنعه الیه و اذا سترته تممته و اذا عجلته هناته و ان کان غیر ذلک محقته و نکدته'' (۱)

نیک کام میں بھلائی نہیں ہے مگر تین باتوں کی وجہ سے اس کو چھوٹا سمجھنے ، چھپا کر صدقہ دینے اور جلدی کرنے سے اگر تم اس کو چھوٹا سمجھ کر انجام دو گے تو جس کے لئے تم وہ کام کررے ہو اس کی نظر میں وہ کام بڑا شمار کیا جائیگا اگر تم نے اسے چھپا کر انجام دیا تو تم نے اس کام کو کمال تک پہونچا دیا اگر اس کو کرنے میں جلدی کی تو تم نے اچھا کام انجام دیا اس کے علاوہ اگر دوسری کوئی صورت اپنائی ہو تو گویا تم نے ( اس نیک کام ) کو برباد کردیا _

اس طرح کے نمونے ائمہ کی سیرت میں جگہ جگہ نظر آتے ہیں ،رات کی تاریکی میں روٹیوں کا بورا پیٹھ پر لاد کر غریبوں میں تقسیم کرنے کا عمل حضرت امیرالمومنین اور معصومین علیہم السلام کی زندگی میں محتاج بیان نہیں ہے _

___________________

۱) (جامع السعادہ ج ۲ ص ۱۳۵)_

۲۰۰

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367