معارف اسلامی کورس (عقائد، احکام،اخلاق ) جلد ۱

معارف اسلامی کورس (عقائد، احکام،اخلاق )66%

معارف اسلامی کورس (عقائد، احکام،اخلاق ) مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 104

  • ابتداء
  • پچھلا
  • 104 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 31312 / ڈاؤنلوڈ: 3051
سائز سائز سائز

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

سوالات:

۱۔امام کسے کہتے ہیں ؟

۲۔امام کی صفات بیان کریں ؟

۳۔امام کو کیسے پہچانا جاتا ہے ؟

۴۔امام اور نبی کا فرق بیان کیجئے ؟

۵۔امام کتنے ہیں کوئی حدیث بیان کیجئے َ؟

۴۱

درس نمبر۱۰

( قیامت )

انبیاء و اولیاء اور تمام آسمانی کتابوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ انسان کی زندگی فقط مرنے سے ختم نہیں ہوتی بلکہ اس دنیا کے بعد بھی دنیا پائی جاتی ہے جہاں پر انسان کو اپنے کئے (اعمال و کردار ) کا بدلہ ملے گا ۔

اچھے لوگ وہاں پر تمام نعمتوں کے ساتھ خوشی خوشی زندگی بسر کریں گے اور بدکردار اور خطاکار افراد سخت دردناک عذاب میں گرفتار رہیں گے قیامت آسمانی تمام ادیان کی ضروریات میں سے ہے اور اصل قیامت مرنے کے بعد کی دنیا کو کہا جاتا ہے جو شخص بھی انبیاء کو مانتا اور ان کی بتائی ہوئی چیزوں پر ایمان رکھتا ہے اس کامعاد پر یقین و اعتقاد رکھنا ضروری ہے ،۔

قرآن مجید میں قیامت کے سلسلہ میں سیکڑوں آیات بیان ہوئی ہیں، ان کے علاوہ قیامت کے بارے میں بہت سی عقلی دلیلیں بھی موجود ہیں ہم ان میں سے صرف ایک کو خلاصہ کے طور پر بیان کررہے ہیں :

برہانِ حکمت: اگر قیامت کے بغیر اس زندگی کا تصور کریں تو بے معنی اور فضول دکھائی دیتی ہے، بالکل اسی طرح کہ شکم مادر میں بچہ کو اس دنیاوی زندگی کے بغیر تصور کریں۔

اگر قانون خلقت یہ ہوتا کہ بچہ شکم مادر میں پیدا ہوتے ہی مرجایا کرتا تو پھر تصور کریں کہ کسی ماں کاحاملہ ہونا کتنا بے مفہوم تھا؟ اسی طرح اگر قیامت کے بغیر اس دنیا کا تصور

۴۲

کریں تو یہی پریشانی دکھائی دے گی۔

کیونکہ کیا ضرورت ہے کہ ہم کم و بیش ۷۰ سال تک اس دنیا کی سختیوں کو برداشت کریں؟ اور ایک مدت تک بے تجربہ رہیں، اور جب تجربات حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو عمر تمام ہوجائے ؟ اور اسی طرح سونا اور بیدار ہونا، دسیوں سال تک ہر روز یہی تھکادینے والے کام انجام دینا ان سب چیزوں کی کیا ضرورت تھی ؟ !

یہ عظیم الشان آسمان، وسیع و عریض زمین، اور ان میں پائی جانے والی تمام چیزیں، یہ اساتید، مربیّ، یہ بڑے بڑے کتب خانے اور ہماری اور دوسری موجودات کی خلقت میں یہ باریک بینی، اورظرافت کیا واقعاً یہ سب کچھ کھانے پینے، پہننے اور مادی زندگی بسر کرنے کے لئے ہیں؟

اس سوال کی بنا پر معاد اور قیامت کا انکار کرنے والے اس زندگی کے عبث ہونے کا اقرار کرتے ہیں، اور ان میں سے بعض لوگ اس بے معنی زندگی سے نجات پانے کے لئے خود کشی کو اپنے لئے افتخار سمجھتے ہیں !

کیسے ممکن ہے کہ کوئی شخص خداوندعالم اور اس کی بے نہایت حکمت پر ایمان رکھتا ہولیکن اس دنیا کو عالم آخرت کے لئے مقدمہ شمار نہ کرے۔

قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:( َفَحَسِبْتُمْ َنَّمَا خَلَقْنَاکُمْ عَبَثًا وََنَّکُمْ ِلَیْنَا لاَتُرْجَعُونَ ) (۱) ''کیا تمہارا خیال یہ تھا کہ ہم نے تمہیں بیکار پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف پلٹا کر نہیں لائے جائو گے''۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱) سورۂ مؤمنون ، آیت ۱۱۵.

۴۳

اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر عالم آخرت نہ ہو تو اس دنیا کا خلق کرنا فضول ہے ۔

جی ہاں! یہ دنیوی زندگی اسی صورت میں با معنی اور حکمت خداوندی سے ہم آہنگ ہوتی ہے کہ جب اس دنیا کو عالم آخرت کی کھیتی قرار دیں''الدُّنْیَا مَزْرَعَةُ الآخِرَةِ'' ،یا اس کوعالم ِآخرت کے لئے پل قراردیں'' الدنیاقنطرة'' یا اس عالم کے لئے یونیورسٹی اور تجارت خانہ تصور کریں ، جیسا کہ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام اپنے عظیم کلام میں فرماتے ہیں: ''یاد رکھو کہ دنیا یقین کرنے والے کے لئے سچائی کا گھر ہے، سمجھ دار کے لئے امن و عافیت کی منزل ہے، اور نصیحت حاصل کرنے والے کے لئے نصیحت کا مقام ہے، یہ دوستان خدا کے سجود کی منزل اور آسمان کے فرشتوں کا مصلیٰ ہے، یہیںوحی الٰہی کا نزول ہوتا ہے اور یہیں اولیاء خدا آخرت کا سودا کرتے ہیں، اوررحمت الٰہی حاصل کرلیتے ہیں اور جنت کے مستحق قرار پاتے ہیں''۔(۱)

خلاصہ گفتگو یہ ہے کہ اس جہان کے حالات کا مطالعہ اور تحقیق کے بعدیہ معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کے بعد ایک دوسراجہان بھی موجود ہے

سوالات :

۱۔قیامت کے بارے میں کوئی دلیل پیش کریں ؟

۲۔ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام اپنے عظیم کلام میں دنیا کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟

۳۔الدُّنْیَا مَزْرَعَةُ الآخِرَةِ'' سے کیا مراد ہے ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱) نہج البلاغہ ،کلمات قصار کلمہ ۱۳۱.

۴۴

( حصہ دوم )

( احکام)

۴۵

درس نمبر۱۱

( تقلید )

تقلید کے معنی پیروی کرنا اور نقش قدم پر چلنا ہے ،یہاں تقلید کے معنی ''فقیہ'' کی پیروی کرنا ہے یعنی اپنے کاموں کو مجتہد کے فتویٰ کے مطابق انجام دینا۔

u ۔ جوشخص خود مجتہد نہیں اوراحکام ودستورات الٰہی کو حاصل بھی نہیں کرسکتا تواُسے مجتہد کی تقلید کرنا چاہئے ۔

u ۔ جس مجتہد کی تقلید کی جاتی ہے اسے ''مرجع تقلید'' کہتے ہیں۔

u ۔ جس مجتہد کی انسان تقلید کرے، اس میں مندرجہ ذیل شرائط کا ہونا ضروری ہے :

٭ مرد ہو۔ ٭ بالغ ہو

٭ عاقل ہو ٭ عادل ہو

٭ حلال زادہ ہو ٭ شیعہ اثنا عشری ہو ۔

٭ احتیاط واجب کی بناپرزندہ ،اعلم ہو اور دنیا طلب نہ ہو۔

u ۔ مجتہد اوراعلم کو پہچاننے کے طریقے :

الف: انسان خود اہل علم ہواور مجتہد اعلم کی شناخت کرسکتا ہو ۔یا ایسی شہرت ہو جس سے انسان کو اطمینان ہو جائے ۔

ب: دو عالم وعادل افراد جو مجتہد واعلم کی تشخیص کرسکیں، کسی کے مجتہدیا اعلم ہونے

۴۶

کی تصدیق کردیں

ج: اہل علم کی ایک جماعت، جو مجتہد واعلم کی تشخیص دے سکتی ہو اور ان کے کہنے پر اطمینان پیدا ہوسکتا ہو، کسی کے مجتہد یا اعلم ہونے کی تصدیق کرے۔

u ۔ مجتہد کے فتویٰ کو حاصل کرنے کے طریقے :

٭ خود مجتہد سے سننا۔

٭ دویا ایک عادل شخص سے سننا۔

٭ ایک سچے اور قابل وثوق انسان سے سننا۔

٭مجتہد کے رسالہ عملیہ (توضیح المسائل )میں دیکھنا جبکہ ہر طرح کی غلطی اور اشتباہ سے مبرّاہو۔

u ۔ اگر مجتہد اعلم نے کسی مسئلہ میں فتویٰ نہ دیا ہو، تو اس کا مقلد دوسرے مجتہد کی طرف

اس مسئلہ میں رجوع کرسکتا ہے، بشرطیکہ دوسرے مجتہد کا اس مسئلہ میں فتویٰ پایا جاتا ہو، اور احتیاط واجب کی بناء پر جس کی طرف رجوع کیا جارہا ہے وہ مجتہد دوسرے مجتہدوں سے اعلم ہو۔

u ۔ اگر مجتہد کافتویٰ بدل جائے،تو مقلد کا اس کے نئے فتویٰ پر عمل کرنا چاہئے اور اس کے پہلے فتویٰ پر عمل کرنا جائز نہیں ہے۔

u روز مرہ پیش آنے والے مسائل کا یاد کرنا واجب ہے۔

مکلف کون ہے؟

عاقل ،بالغ اور وہ افرادجواحکام کو بجالانے کی قدرت رکھتے ہوں،مکلف ہیں، یعنی احکام کو انجام دینا ان پر واجب ہے، لہٰذا (نابالغ) بچے ،دیوانے (غیر عاقل) اور

۴۷

وہافراد جو احکام کو بجالانے کی قدرت نہیں رکھتے ،مکلف نہیں ہیں

بلوغ :

بلوغ کا مطلب ہے درج ذیل شرائط میں سے کسی ایک کا پایا جانا۔

۱۔شکم کے نیچے اور اورشرمگاہ کے اوپر سخت بالوں کا نکل آنا

۲۔احتلام (منی کا خارج ہونا )

۳۔لڑکوں میں پندرہ سال اور لڑکیوں میں ۹ سا ل قمری کے پورے ہونا

لڑکا یا لڑکی جب سن بلوغ کو پہنچ جائیں تو انھیں تمام شرعی فرائض کو انجام دینا چاہئے ، اگر اس سن سے کمتر بچے بھی نیک کام، جیسے نماز کو صحیح طریقے پر انجام دیں، تو ثواب پائیں گے ۔ توجہ رہے کہ سن بلوغ قمری سال سے حساب ہوتا ہے، چونکہ قمری سال ۴ ۵ ۳ دن اور ۶ گھنٹے کا ہوتا ہے اس لئے شمسی سال سے دس دن اور ۱۸ گھنٹے کم ہوتا ہے ، اس طرح ۹سال شمسی سے ۹۶ دن اور ۱۸ گھنٹے کم کرنے پر ۹ سال قمری بن جاتے ہیں اور ۱۵ سال شمسی سے ۶۱ ۱ دن اور ۶ گھنٹے کم کرنے پر ۱۵ سال قمری بن جاتے ہیں ۔

سوالات :

۱۔تقلید کے کیا معنیٰ ہیں ؟

۲۔مرجع تقلید کے شرائط کیا ہیں؟

۳۔مجتہد اور اعلم کو پہچاننے کے طریقے بیان کیجئے؟

۴۔مجتہد کے فتوے کو حاصل کرنے کے طریقے کیا ہیں ؟

۵۔مکلف کون ہے؟

۴۸

درس نمبر ۱۲

( نجاسات )

اسلام کچھ چیزوں کو نجس جانتا ہے ، اور مسلمانوں کو ان سے اجتناب کا حکم دیتا ہے :

۱۔۲۔ پیشاب و پاخانہ : خواہ انسان کا ہو یا ہر اس حرام گوشت حیوان کا جو خون جہندہ رکھتا ہو یعنی اگر اس کی رگ کو کاٹ دیں تو خون اچھل کر نکلتا ہے۔

۳۔منی :اہر انسان اور خون جہندہ رکھنے والے حیوان کی منی نجس ہے ۔

۴۔ مردار :انسان اور ہر خون جہندہ رکھنے والے حیوان کا مردہ نجس ہے ۔

۵۔خون : انسان اور ہرخون جہندہ رکھنے والے حیوان کا خون نجس ہے ۔

۶۔ خشکی کا کتا۔

۷۔ خشکی کاسور۔

۸۔ کافر جو خدا و رسول(ص) کا منکر ہے ۔

۹۔ شراب ۔

۱۰۔ فقاع (بیئر) جو، جو سے بنائی جاتی ہے ۔

( مطہرات )

۱۔ پانی : مطلق اور پاک پانی ،ہر چیز کی نجاست کو پاک کر تا ہے ۔

۲۔ زمین: اگر زمین پاک اور خشک ہے تو انسان کے پیر ، جوتے کے تلے اور ، گاڑی

۴۹

کے پہیہ وغیرہ کو پاک کردیتی ہے شرط یہ ہے کہ چلنے کی وجہ سے ان چیزوں کی نجاست زائل ہو گئی ہو ۔

۳۔ آفتاب : سورج ،زمین ،چھت ، دیوار ، دروازہ ، کھڑکی اور درخت وغیرہ کو پاک کرتا ہے شرط یہ ہے کہ عین نجاست بر طرف ہوگئی ہو اور نجاست کی تری آفتاب کی گرمی سے خشک ہو جائے ۔

۴۔ عین نجاست کا دور ہونا : اگر حیوان کا بدن نجس ہوجائے تو عین نجاست کے دور ہوتے ہی اس کا بدن پاک ہوجاتا ہے ، اور پانی سے دھونے کی ضرورت نہیں ہے ۔

۵۔ استحالہ : اگر عین نجس اس طرح متغیر ہوجائے کہ اس پر اس کے سابقہ نام کا اطلاق نہ ہو بلکہ اسے کچھ اور کہا جانے لگے تو وہ نجاست پاک ہوجاتی ہے، جیسے کتا نمک کی کان میں گر کر نمک بن جائے تو پاک ہو جائے گا یا نجس لکڑی کو آگ جلا کر خاکستر کر دے تووہ خاکستر پاک ہوجائیگی۔

سوالات :

۱۔ کوئی بھی پانچ نجاسات بیان کیجئے ؟

۲۔ کیا سانپ کا خون نجس ہے ؟

۳۔ زمین کن چیزوں کو پاک کرتی ہے ؟

۴۔ استحالہ سے کیا مراد ہے ؟

۵۰

درس نمبر ۱۳

( وضو )

وضو کا طریقہ :

پہلے نیت کرے کہ خدا کی خوشنودی کے لئے وضو انجام دیتا ہوں ''قربةً الی اللہ ''

پھرچہرے پر بال اگنے کی جگہ سے ٹھڈی کے آخری حصے تک دھوئے ،چہرہ دھونے کے بعد داہنے ہاتھ کو کہنی سے لے کر انگلیوں کے آخری سرے تک ( یعنی اوپر سے نیچے کی طرف) دھوئے اور پھر بائیں ہاتھ کو کہنی سے لے کر انگلیوں کے آخری سرے تک یعنی اوپر سے نیچے کی طرف دھوئے اس کے بعد داہنے ہاتھ کی تری سے سر کے اگلے حصہ پر اوپر سے نیچے کی طرف مسح کرے ۔ پھر داہنے ہاتھ کی بچی ہوئی تری سے داہنے پیر کی انگلیوں سے لے کر پیر کے ابھار تک مسح کرے ۔اسکے بعد بائیں ہاتھ سے بائیں پیر کی انگلیوں سے لے کر پیر کے ابھار کی جگہ تکمسح کرے ۔

( غسل )

چھ غسل واجب ہیں :

( ۱ ) غسل جنابت (۲)غسل میت (۳) غسل مس میت (۴) غسل حیض(۵) غسل نفاس (۶) غسل استحاضہ

( ۱ ) غسل جنابت: اگر انسان جماع کرے ،یا اس سے منی نکل آئے تو اسے غسل

۵۱

جنابت کرنا چاہیے ۔

( ۲ ) غسل میت: ہر مسلمان کو مرنے کے بعد اور دفن کرنے سے پہلے غسل دینا واجب ہے اسے غسل میّت کہتے ہیں ۔

( ۳ ) غسل مس میت: اگر کوئی شخص کسی میت کو سرد ہونے کے بعد اور غسل میت سے پہلے مس کرلے تو اس پر غسل مس میت واجب ہوجاتا ہے ۔

( ۴،۵،۶ ) غسل حیض،غسل نفاس،غسل استحاضہ،یہ تین غسل خواتین کے ساتھ مخصوص ہیں جنکی تفصیل کے لیے ہماری کتاب ''خواتین کے اہم مسائل '' کی طرف رجوع فرمائیں ۔

غسل کا طریقہ :

غسل میں چند چیزیں واجب ہیں :

۱۔ نیت : غسل کو خدا کے لئے بجالائے اور معلوم ہونا چاہیے کہ کون سا غسل انجام دے رہا ہے ( یا دے رہی ہے )

۲۔ نیت کے بعد پورے سر و گردن کو دھوئے اس طریقے سے کہ ایک ذرہ کہیں چھوٹنے نہ پائے ۔

۳۔ سر و گردن کے بعد داہنے طرف کے پورے بدن کو دھوئے ۔

۴۔ اس کے بعد بائیں طرف کے پورے بدن کو دھوئے ۔

مجنب پر چند چیزیں حرام ہیں :

۱۔ خط قرآن ، اسم خدا ، اور اسماء انبیاء ، اسماء ائمہ طاہرین کو بدن کے کسی حصہ سے مس کرنا ۔

۲۔ مساجد اور ائمہ علیہم السلام کے حرم میں ٹھہرنا ۔

۳۔ کسی چیز کو رکھنے کے لئے مسجد میں داخل ہونا ۔

۴۔ وہ سورہ جن میں سجدہ واجب ہے ان کی سجدہ والی آیت کا پڑھنا ۔

۵۔ مسجد الحرام اور مسجد النبوی میں جانا ۔

۵۲

( تیمم کا طریقہ )

تیمم میں پانچ چیزیں واجب ہیں :

۱۔ نیت ۔

۲۔ دونوں ہاتھوں کو ملا کر ہتھیلیوں کو زمین پر مارے ۔

۳۔ دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کوپوری پیشانی اور اس کے دونوں طرف جہاں سے سر کے بال اُگتے ہیں ابرو ئوں تک اور ناک کے اوپر تک کھینچے

۴۔ بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو داہنے ہاتھ کی پوری پشت پر پھیرے ۔

۵۔ داہنے ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کی پوری پشت پر پھیرے ۔

نکتہ ۱: جب انسان کے لئے پانی ضرر رکھتا ہو یا پانی تک رسائی ممکن نہ ہو یا نماز کا وقت تنگ ہو تو چاہیے کہ نماز کے لئے تیمم کرے ۔

نکتہ ۲: مٹی ، کنکر ، ریت ، ڈھیلہ ، پتھر ، پر تیمم کرنا صحیح ہے ۔

۵۳

سوالات :

۱۔ وضو کا طریقہ بیان کیجئے ؟

۲۔غسل کا طریقہ بیان کیجئے ؟

۳۔کتنے غسل واجب ہیں ؟

۴۔ تیمم کا طریقہ بیان کیجئے ؟

۵۔ تیمم کن چیزوں پر جائز ہے ؟

۵۴

درس نمبر ۱۴

( نماز )

نماز دین کا ستون ہے، آنحضرت (ص) نے فرمایا : خدا کی قسم نماز کو حقیر سمجھنے والے اور ترک کرنے والے کومیری شفاعت نصیب نہیں گی۔(۱)

٭واجب نمازیں چھ ہیں :

۱۔ نماز پنجگانہ ۔

۲۔ نماز آیات (سورج گہن و چاند گہن )

۳۔ نماز میت۔

۴۔ نماز طواف۔

۵۔ نمازقسم و نذر وغیرہ

۶۔ نماز قضاء والدین

تمام مسلمانوں کو پانچ وقت کی نماز پڑھنا واجب ہے ، صبح کی دورکعت ، ظہر کی چار رکعت ، عصر کی چار رکعت ، مغرب کی تین رکعت ، اور عشا کی چار رکعت ۔

٭اوقات نماز :

نماز صبح کا وقت ،صبح صادق سے لے کر سورج نکلنے کے وقت تک ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ وافی ۔ج۲ ، جزء پنجم، ص ۱۳ ۔

۵۵

نمازظہر و عصر کا وقت سورج کے زوال سے لے کر غروب آفتاب تک ہے۔نماز مغرب و عشا سورج ڈوبنے (مغرب ) سے لے کر آدھی رات تک ہے

( اذان )

نماز سے پہلے اذان کہنا مستحب ہے ، اس کی ترتیب یہ ہے :

اَللّٰهُ اَکبَرُ ''اللہ سب سے بڑا ہے '' ۴ مرتبہاَشهَدُ اَن لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُُ ''میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ۔'' ۲مرتبہ

اَشهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللّٰهِ ''میں گواہی دیتا ہوں کی محمد(ص) بن عبد اللہ ، اللہ کے رسول ہیں'' ۲ مرتبہ

اَشهَدُ اَنَّ عَلِیّاً ولی الله (۱) '' میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت علی تمام لوگوں پر اللہ کے ولی ہیں'' ۲ مرتبہ

حَیَّ عَلیٰ الصَّلٰوةِ ''نماز کے لئے جلدی کرو '' ۲مرتبہحَیَّ عَلیٰ الفَلَاحِ ''کامیابی کے لئے جلدی کرو '' ۲ مرتبہ

حَیَّ عَلیٰ خَیرِ العَمَلِ ''بہترین عمل کے لئے جلدی کر و '' ۲ مرتبہ

اَللّٰهُ اَکبَرُ ''اللہ سب سے بڑا ہے '' ۲مرتبہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۔مراجع تقلید کے مطابق'' اَشهَدُ اَنَّ عَلِیّاً وَلِیُ اللّٰهِ '' ( میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت علی تمام لوگوں پر اللہ کے ولی ہیں) اذان و اقامت کا (جز) حصہ نہیں ہے ، لیکن'' اَشهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللّٰهِ '' کے بعد'' اَشهَدُ اَنَّ عَلِیاً وَلِیُّ اﷲِ '' بقصد تبرک و تیمن کہنا بہتر ہے ۔

۵۶

لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ''خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے '' ۲مرتبہ

( اقامت )

نماز کے لئے اذان کے بعداقامت کہنا مستحب ہے،اس کی ترتیب یہ ہے :

اَللّٰهُ اَکبَرُ ''اللہ سب سے بڑا ہے '' ۲ مرتبہاَشهَدُ اَن لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُُ ''میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ۔'' ۲مرتبہ

اَشهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللّٰهِ ''میں گواہی دیتا ہوں کی محمد(ص) بن عبد اللہ ، اللہ کے رسول ہیں'' ۲ مرتبہ

اَشهَدُ اَنَّ عَلِیّاً ولی الله (۱) '' میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت علی تمام لوگوں پر اللہ کے ولی ہیں'' ۲ مرتبہ

حَیَّ عَلیٰ الصَّلٰوةِ ''نماز کے لئے جلدی کرو '' ۲مرتبہ

حَیَّ عَلیٰ الفَلَاحِ ''کامیابی کے لئے جلدی کرو '' ۲ مرتبہ

حَیَّ عَلیٰ خَیرِ العَمَلِ ''بہترین عمل کے لئے جلدی کر و '' ۲ مرتبہ

قَد قَا مَتِ الصَّلَوٰةُ '' نماز قائم ہوگئی '' ۲مرتبہ

لَااِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ '' خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے '' ۱ مرتبہ

۵۷

سوالات:

۱۔واجب نمازوں کے کے نام بتائیں ؟

۲ ۔اذان کی ترتیب بیان کیجئے ؟

۳۔اذان اور اقامت کا فرق بیان کیجئے ؟

۴۔مراجع تقلیداذان و اقامت میں'' اَشهَدُ اَنَّ عَلِیّاً وَلِیُ اللّٰهِ '' کے بارے میں کیا فرماتے ہیں

۵۸

درس نمبر۵۱

( نماز پڑھنے کا طریقہ )

نماز میں چند چیزوں کا انجام دینا ضروری ہے :

۱۔ نیت : قبلہ رخ کھڑے ہونے کے بعد نیت کرے کہ میں دو رکعت نماز صبح پڑھتا ہوں(یا پڑھتی ہوں ) واجب قربة ً الی اللہ ۔

۲۔تکبیرة الاحرام : نیت کے بعد ہاتھوں کو کان کی لو تک لیجا کر کہے'' اللہ اکبر'' پھر ہاتھوں کو نیچے لائے۔

۳۔ قرائت : تکبیرة الاحرام کے بعد سورہ حمد کی تلاوت کرے۔ :

بِسمِ اللّٰهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ

اَلحَمدُ لِلّٰهِ رَبِّ العٰالَمِینَ- الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ - مَالِکِ یَومِ الدِّینِ- اِیَّاکَ نَعبُدُ وَاِیَّاکَ نَستَعِینُ- اِهدِنَاالصِّرَاطَ المُستَقِیمَ - صِرَاطَ الَّذِینَ اَنعَمتَ عَلَیهِم غَیرِ المَغضُوبِ عَلَیهِم وَلَا الضَّالِّینَ -

ترجمہ :

خداوند رحمن و رحیم کے نام سے (شروع کرتا ہوں )

ساری تعریفیں اس خدا کے لئے مخصوص ہیں جو جہانوں کا پالنے والا ہے ، جوبڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے جوجزا کے دن کا مالک ہے ، (پروردگار)ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں ، اور صرف تجھ سے مدد مانگتے ہیں، ہم کو صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھ ،

۵۹

ایسے لوگوں کا راستہ جن پر تو نے اپنی نعمتیں نازل کی ہیں ، ان لوگوں کا راستہ نہیں ، جن پر تو نے غصب نازل کیا ہے اور گمراہوں کا راستہ ۔

٭سورہ حمد پڑھنے کے بعد قرآن مجید سے کوئی ایک سورہ پڑھے مثلا سورہ توحید اس طرح :

بِسمِ اللّٰهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ

قُل هُوَ اللّٰهُ اَحَد - اَللّٰهُ الصَّمَدُ - لَم یَلِد وَلَم یُولَد - وَلَم یَکُن لَّه کُفُواً اَحَد-

ترجمہ :

اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو رحمن و رحیم ہے۔

اے پیغمبر ! کہہ دیجئے وہ خدا یکتا ہے ، وہ خدا سب سے بے نیاز ہے،اس سے، کوئی پیدا نہیںہواہے اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا ہے اور کوئی اس کا مثل و نظیر نہیں ہے ۔

٭مردوں پر واجب ہے کہ نماز صبح و مغرب و عشا میں سورہ حمد اور دوسرا سورہ بلند آواز سے پڑھیں ۔

٭ تکبیرة الاحرام(الله اکبر) کہتے وقت ہاتھوں کا کان کی لو تک اٹھانا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے ۔

۴۔ رکوع : سورہ حمد اور دوسرے سورہ کے بعد رکوع میں جائے یعنی اس انداز میں جھکے کہ ہاتھ دونوں گھٹنوں تک پہنچ جائیں اور پھر پڑھے ،

'' سُبحَانَ رَبِّیَ العَظِیمِ وَ بِحَمدِه ''

یا تین مرتبہ کہے''سُبحَانَ اللّٰه''ِ یعنی میرا عظیم پروردگار ہر عیب و نقص سے پاک و

۶۰

منزہ ہے ،اور میں اس کی حمد و ثنا، کرتا ہوں ،رکوع کے بعد سیدھاکھڑاہوجائے اور کھڑے ہو کر کہے:''سَمِعَ اللّٰهُ لِمَن حَمِدَه ' یعنی خدا وند عالم اپنے بندے کی حمد وثنا قبول کرنے والا ہے،یہ پڑھنا مستحب ہے ۔

5۔ سجدہ : رکوع کے بعد سجدہ میں جائے یعنی پیشانی کو زمین پر یا جو چیز اس سے اگتی ہے (لیکن کھانے اور پہننے والی نہ ہو )اس پر رکھے اور حالت سجدہ میں پیشانی، دونوں ہاتھوں کی ہتھیلی اور دونوں گھٹنے دونوں انگوٹھے کے سرے کو زمین پر رکھے پھر پڑھے:'' سُبحَانَ رَبِّیَ الاَعلَیٰ وَبِحَمدِه ''یا تین مرتبه '' ُسبحَانَ اللّٰه ِ '' (میرا پروردگار ہر ایک سے بالا وبرتر ہے اور ہر عیب و نقص سے پاک و منزہ ہے اور میں اس کی حمد کرتا ہوں ) پڑھے ۔ پھر سجدہ سے سر اٹھائے اور تھوڑا ٹھہر کر پھر دوبارہ سجدہ میں جائے اور سجدۂ دوم سے سر اٹھا کر تھوڑی دیر بیٹھے اور دوسری رکعت کے لئے کھڑاہو جائے اور کھڑے ہوتے وقت پڑھے'' بِحَولِ للّٰهِ وَقُوَّتِه اَقُومُ وَاَقعُدُ'' (میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی قدرت و مدد سے کھڑا ہوتا اور بیٹھتا ہوں )یہ کہنا مستحب ہے جب سیدھے کھڑا ہو جائے تو پھرالحمد اور دوسرا سورہ پہلی رکعت کی طرح پڑھے ۔

٭ قنوت : سورہ حمد اور دوسرے سورہ سے فارغ ہونے کے بعد دونوں ہاتھوں کو چہرے کے سامنے لا کر قنوت (دعا) پڑھے:''رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنیَا حَسَنَةً وَفِی الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ'' ( اے پروردگار! دنیا اور آخرت میں ہم کو حسنہ مرحمت فرما اور جہنم کے عذاب سے بچا ) دونوں ہاتھوں کو نیچے لائے اوپہل کی طرح رکوع کرے۔

٭ قنوت پڑھنا واجب نہیں بلکہ مستحب اور فضیلت و ثواب کا باعث ہے ۔

۶۱

6۔ تشہد : تمام نمازوں میں دوسری رکعت کے کامل کرنے کے بعد دوسرے سجدہ سے سر اٹھا کر بیٹھ جائے اور اس طریقے سے تشہد پڑھے :'' ِ اَشهَدُ اَن لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحدَه لَا شَرِیکَ لَه وَاَشهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبدُه وَرَسُولُه، اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ '' میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے وہ یگانہ ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد(ص) خدا کے بندے اور اس کے رسول ہیں خداوند ا ! محمد(ص) اور ان کی آل پر درود بھیج ۔

٭نماز مغرب میں پہلے تشہد کے بعد سلام نہیں پڑھنا چاہیے بلکہ کھڑے ہوجائے اور کھڑے ہوکر اطمینان کی حالت میں تیسری رکعت کو شروع کرے پھر رکوع و سجود و تشہد کے بعد سلام پڑھے ،اور نماز ظہر و عصر و عشا میں پہلے تشہد کے بعد سلام نہ پڑھے بلکہ کھڑے ہو کر تیسری اور چوتھی رکعت کے بعد بیٹھ کر تشہد و سلام پڑھے۔

7۔ سلام : نماز صبح میں تشہد کے بعد سلام اس طرح سے پڑھے :

'' اَلسَّلَامُ عَلَیکَ اَیُّهَا النَّبِیُّ وَرَحمَةُ اللّٰهِ وَبَرَکَاتُه ''

اے نبی(ص) !آپ پر سلام اور خدا کی رحمت و برکت ہو

'' اَلسَّلَامُ عَلَینَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِینَ ''

ہم پر اور خدا کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو،

'' اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم وَرَحمَةُ اللّٰهِ وَبَرَکَاتُه ''

تم پر سلام ہو اور خدا کی رحمت و برکتیں ہوں ۔

8۔ترتیب : بیان شدہ ترتیب کے مطابق انجام دے

9۔ موالات : تمام اعمال کو پے در پے انجام دے

۶۲

٭۔ تسبیحات اربعہ : نماز مغرب کی تیسری اور نماز عشا ،ظہر و عصر کی تیسری و چوتھی رکعت میں سورہ حمد کے بجائے تسبیحات اربعہ پڑھے :

'' سُبحَانَ اللّٰهِ وَالحَمدُ لِلّٰهِ وَلَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ اَکبَرُ '' خداوند عالم پاک ومنزہ ہے حمد و ثنا اس کے لئے مخصوص ہے اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں خدا اس سے کہیں بزرگ ہے کہ اس کی تعریف کی جائے ۔

٭نماز پڑھنے والے کا جسم ،لباس اور مکان پاک ہونا چاہیے اور لباس ومکان پاک ہونے کے ساتھ مباح بھی ہوں اوعر لباس حرام گوشت جانور یا مردار کی جلد اور کھال سے بنا ہوا نہیں ہونا چاہیے ۔

٭نماز پڑھنے والی عورت ، جنابت و حیض و استحاضہ و نفاس سے اور مرد جنابت سے پاک ہو ۔

سوالات:

1۔نماز کی ترکیب بتائیے ؟

2۔کیا تکبیرة الاحرام کہتے وقت ہاتھوں کاکانوں کی لو تک لیجا نا واجب ہے ؟

3۔قنوت کونسی رکعت میں پڑھتے ہیں ،اور کیا اس کا پڑھنا واجب ہے ؟

4۔اگر کوئی شخص نجس لباس میں نماز پڑھ لے تو کیا اس کی نماز صحیح ہے ؟

5۔اگر کوئی شخص کسی ایسے شخص کی جگہ پر نمازپڑھے جس کے بارے میں جانتا ہو کہ وہ راضی نہیں ہے تو کیا اس جگہ پر نمازپڑھنا صحیح ہے ۔؟

۶۳

درس نمبر 16

( نماز کے ارکان )

نماز کے پانچ ارکان واجب ہیں :

1۔ نیت۔

2 ۔تکبیرة الاحرام۔

3۔ قیام ، تکبیرة الاحرام کہتے وقت اور رکوع میں جانے سے پہلے جس کو قیام متصل بہ رکوع کہا جاتا ہے یعنی رکوع سے پہلے کھڑے ہونا ۔

4۔رکوع۔

5۔ دونوں سجدے

عمداً و سہواً یا ان ارکان کو کم یا زیادہ کرنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے ۔

نماز کو باطل کرنے والی چیزیں

مبطلات نماز :

ان کاموں کو انجام دینے سے نماز باطل ہوجاتی ہے :

1۔وضو کے ٹوٹ جانے سے نماز باطل ہوجاتی ہے ، چاہے عمداً ہو یا سہواً ۔

2۔ جان بوجھ کر دنیا کے متعلق گریہ کرنا ۔

3۔ عمداً قہقہ کے ساتھ ہنسنا ۔

4۔ جان بوجھ کر کھانا اور پینا ۔

۶۴

5۔ بھول کر یا جان بوجھ کر کسی رکن کو کم یا زیادہ کردینا ۔

6۔ حمد کے بعد آمین کہنا ۔

7۔ سہواً یا عمداً قبلہ کی طرف پیٹھ کرنا ۔

8۔ بات کرنا ۔

9۔ ایسا کام کرنا جس سے نماز کی صورت ختم ہو جائے جیسے تالی بجانا اوراچھلنا ،کودنا وغیرہ۔

10۔ پیٹ پر ہاتھ باندھنا ( اہل سنت کی طرح ) ۔

11۔ دو رکعتی یا تین رکعتی نماز کی رکعتوں میں شک کرنا ۔

مسافر کی نماز :

درج ذیل شرائط کے ساتھ مسافر کو چاہیے کہ چار رکعتی نماز کو دو رکعت پڑھے :

1۔ سفرآٹھ فرسخ سے کم نہ ہو(43 کلو میٹر) جسکی آمدورفت آٹھ فرسخ ہو جاتی ہے وہ نماز کو قصر پڑھے ۔

2۔ابتداء سے آٹھ فرسخ کی نیت ہو

3۔راستے میں اپنا ارادہ نہ بدل دے

4۔منزل تک پہنچنے سے پہلے اپنے وطن سے نہ گزرے اور اثنائے راہ میں دس دن یا زیادہ دن قیام نہ کرے

5۔ اس کا سفر کسی حرام کام کے لئے نہ ہو ، جیسے سفر کرے چوری یا مومن کے قتل کرنے کے لئے اسی طرح عورت بغیر شوہر کی اجازت کے گھر سے باہر نکلے ۔

6۔صحراء نشین خانہ بدوش نہ ہو ۔

۶۵

7۔اس کا مشغلہ اور کام مسافرت نہ ہو ۔

8 ۔ حد ترخّص تک پہنچ جائے ۔یعنی وطن یا اپنے ٹھہرنے کی جگہ سے اتنا دور ہوجائے کہ شہر کی اذان کی آواز کو نہ سنے اور شہر کے لوگ اس کو نہ دیکھ سکیں

٭جو مسافر سفر میں ایک جگہ دس دن رہنے کا ارادہ رکھے تو جب تک وہاں پر قیام ہے نماز پوری پڑھے اور وہ مسافر جو تیس دن تک متردد حالت میں رہ رہا ہو تیسویں دن کے بعداسے چاہیے کہ نماز کو پوری پڑھے ۔

سوالات:

1۔نمازکے ارکان سے کیا مراد ہے ؟

2۔ نمازکے ارکان بیان کیجئے ؟

3۔مبطلات نماز کیا ہیں ؟

4۔ کن شرائط کے ساتھ نماز قصر ہوجاتی ہے ؟

5۔ حد ترخّص سے کیا مراد ہے؟

۶۶

درس نمبر 17

( روزہ )

اسلام کے اہم واجبات میں سے روزہ ہے ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی (ص) نے فرمایا : روزہ جہنم کی آگ کے مقابلہ میں ڈھال ہے۔(1)

تمام مسلمانوں پر رمضان کے مہینے کا روزہ کھنا واجب ہے ، یعنی صبح صادق سے لے کر مغرب تک تمام وہ کام جو روزہ کو باطل کر تے ہیں ان سے اجتناب و پرہیز کرے ۔

مبطلات روزہ: روزہ کو باطل کرنے والے امور درج ذیل ہیں :

1۔ کھانا اور پینا۔

2۔ غلیظ گردوغبار کا حلق تک پہنچانا ۔

3۔ قے کرنا۔

4۔ جماع کرنا

5۔ حقنہ کرنا۔

6۔ پانی میں سر ڈبونا۔

7۔ اللہ اور اس کے رسول(ص) پر جھوٹا الزام لگانا۔

8۔ استمناء (منی نکالنا )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ وافی ،ج2، جز 7، ص5 ۔

۶۷

( 9 ) صبح کی اذان تک جنابت و حیض و نفاس پر باقی رہنا ۔

٭اگر یہ روزہ توڑنے والی چیزیں عمداً واقع ہو تو روزہ باطل ہوجاتا ہے

لیکن اگر بھول چوک یا غفلت کے سبب واقع ہو تو روزہ باطل نہیں ہوتا ہے سوائے جنابت و حیض و نفاس پر باقی رہنے کے ، کہ اگر سہواً اور غفلت کی وجہ سے بھی ہو، تو بھی روزہ باطل ہے ۔

وہ افراد جو روزہ کو توڑ سکتے ہیں

1۔ بیمار :جس پر روزہ رکھنا ضرر کا باعث ہو ۔

2۔ مسافر، انھیں شرائط کے ساتھ جو مسافر کی نماز کے متعلق بیان ہوئی ہیں۔

3۔ وہ عورت جو ماہواری (حیض کی حالت میں ) یا نفاس میں ہو ۔

٭ان تینوں قسم کے افراد کو چاہیے کہ اپنے روزہ کو توڑدیں اور عذر کو بر طرف ہونے کے بعد روزہ کی قضا کریں ۔

4۔ حاملہ عورت جس کا وضع حمل قریب ہو اور روزہ خود اس کے لئے یا اس کے بچے کے لئے ضرر کا باعث ہو ۔

5۔ بچے کو دودھ پلانے والی عورت جبکہ روزہ رکھنے سے دودھ میں کمی آتی ہو اور بچہ کی تکلیف کا سبب ہو۔

6۔ بوڑھے مرد اور بوڑھی عورتیں جن پر روزہ رکھنا سخت اور دشوار ہے ۔

٭مندرجہ بالا خواتین عذر کے زائل ہونے کے بعد اپنے روزے کی قضا اور تین پائو گیہوں فقیر کو دیں گی ۔

٭اگر یہ لوگ رمضان کے بعد بآسانی روزہ رکھ سکتے ہوں تو قضا کریں ، لیکن اگر ان

۶۸

پر روزہ رکھنا دشواری کا باعث ہو تو قضا واجب نہیں ہے ، لیکن ہر روزہ کے بدلے تین پائو گیہوں فقیر کو دیں۔

٭جو شخص عذر شرعی کے بغیر ماہ رمضان کے روزے نہ رکھے یا توڑ دے تو اسے چاہیے کہ اس کی قضا کرے اور ہر روزہ کے بدلے ساٹھ روزہ رکھے یا ساٹھ فقیروں کو کھانا کھلائے ۔

سوالات:

1۔مبطلات روزہ بیان کیجئے ؟

2۔ اگر کسی شخص کو قے آجائے تو کیا اسکا روزہ باطل ہے ؟

3۔ کونسے افراد روزہ توڑ سکتے ہیں ؟

4۔ جو شخص عذر شرعی کے بغیر ماہ رمضان کے روزہ ے نہ رکھے یا توڑ دے اسکا کیا حکم ہے ؟

۶۹

درس نمبر18

( زکوٰة )

اسلام کی واجب چیزوں میں سے ایک زکواة ہے ، حضرت امام صادق نے فرمایا : جو شخص اپنے مال کی زکواة نہ دے وہ نہ مومن ہے اور نہ ہی مسلمان ہے(1)

زکوٰةنو (9) چیزوں پر واجب ہے :

( 1 ) گیہوں (2) جو (3) کھجور (4) کشمش (5) گائے بھینس (6) بھیڑ بکری ( 7) اونٹ(8) سونا ( 9) چاندی ۔

دین اسلام نے ان چیزوں کے لئے ایک حد و مقدار بیان فرمائی ہے اگر اس حد تک پہنچ جائے تو اس میں زکوٰة دینا واجب ہوگی اگر اس مقدار تک نہ پہونچے تو اس پر زکوٰة واجب نہ ہوگی اس حد کو نصاب کہتے ہیں ۔

گیہوں ، جو ، کھجور اور کشمش : ان چار چیزوں کا نصاب 847کلو گرام ہے اگر اس مقدار سے کم ہوتو اس پر زکوٰة واجب نہیں ہے ، زکوٰة نکالتے وقت یہ نکتہ بھی ذہن نشین رہے کہ جو زراعت پر اخراجات ہوئے ہیں ان سب کو نکال کر اگر نصاب کی حد تک پہنچے تو زکوٰة واجب ہو گی ،باقی چیزوں کے نصاب کی مقدار جاننے کے لئے مفصل کتب کی طرف رجوع فرمائیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(ا)۔ وافی، ج2 ،ص5 ، جز 6 ۔

۷۰

( خمس )

اسلام کے مالی حقوق میں سے ایک خمس ہے جو تمام مسلمانوں پر فرض ہے ۔

سات چیزوں پر خمس دینا واجب ہے :

1۔ کاروبار کے منافع ، انسان کو زراعت و صنعت و تجارت مختلف اداروں میں ملازمت کاریگری وغیرہ سے جو آمدنی ہوتی ہے اس میں سے (مثلاً کھانا ،پینا، لباس ، گھر کا ساز وسامان ، گھر کی خریداری ، شادی ، مہمان نوازی ، مسافرت کے خرچ وغیرہ کے بعد ) سالانہ خرچ سے جو بچ جائے اس بچت کا پانچواں حصہ بعنوان خمس ادا کرے ۔

2۔ کان سے جو سونا ،چاندی ،لوہا ، تانبہ ، پیتل ، تیل ، نمک ، کوئلہ ، گندھک معدنی چیز برآمد ہوتی ہے اور جو دھاتیں ملتی ہیں، ان سب پر خمس واجب ہے ۔

3۔ خزانے ۔

4۔ جنگ کی حالت میں مال غنیمت ۔

5۔ دریا میں غوطہ خوری کے ذریعہ حاصل ہونے والے جواہرات ۔

6۔جو زمین مسلمان سے کافر ذمی خرید ے اس کو چاہیے کہ پانچواں حصہ اس کا یا اس کی قیمت کا بعنوان خمس ادا کرے ۔

7۔ حلال مال جو حرام مال میں مخلوط ہوجائے اس طرح کہ حرام کی مقدار معلوم نہ ہو اور نہ ہی اس مال کو پہچانتا ہو، تو اسے چاہیے ان تمام مال کا پانچواں حصہ خمس دے تاکہ باقی مال حلال ہوجائے ۔

٭جو شخص خمس کے مال کا مقروض ہے اس کو چاہیے کہ مجتہد جامع الشرائط یا اس کے

۷۱

کسی وکیل کو دے تاکہ وہ عظمت اور ترویج اسلام اور غریب سادات کے مخارج کو اس سے پورا کرے۔

٭خمس و زکوٰة کی رقوم اسلامی مالیات کا سنگین اور قابل توجہ بجٹ ہے۔

اگر صحیح طریقہ سے اس کی وصولی کی جائے اور حاکم شرع کے پاس جمع ہوتو اسے مسلمانوں کے تمام اجتماعی کاموں کو بطور احسن انجام دیا جا سکتا ہے ، یا فقیری و بیکاری اور جہالت کا ڈٹ کر مقابلہ اور اس سے لاچار و فقیر لوگوں کی دیکھ بھال کی جا سکتی ہے اور لوگوں کے ضروری امور کہ جس کا فائدہ عمومی ہوتا ہے اس کے ذریعہ کرائے جا سکتے ہیں مثلاًہسپتال ، مدرسہ ، مسجد ، راستہ ، پل اور عمومی حمام وغیرہ کی تعمیرکا کام ۔

سوالات:

1۔ حضرت امام صادق نے زکات کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا ؟

2۔ زکات کن چیزوں پر واجب ہے ؟

3۔گیہوں ، جو ، کھجور اور کشمش کی کتنی مقدار پر زکوٰة واجب ہوتی ہے ؟

4۔خمس کتنی چیزوں پر واجب ہے ؟

5۔ خمس کی رقم کسے ادا کرنی چاہیے ؟

۷۲

درس نمبر 19

( حج )

جو شخص جسمانی اور مالی قدرت رکھتا ہو توااس پر پوری عمر میں ایک مرتبہ خانہ کعبہ کی زیارت کے لئے جانا واجب ہے ۔ یعنی اس کے پاس اتنا مال موجود ہو کہ اگر وہ اپنے مال سے حج کے اخراجات نکال لے تو واپس آنے پر بیچارہ حیران و سرگرداں نہ پھرے بلکہ مثل سابق اپنی زندگی اور کام وغیرہ کو ویسے ہی انجام دے سکے ۔

حضرت امام صادق نے فرمایا : جو شخص مر جائے اس حال میں کہ عذر شرعی کے بغیر اپنے واجبی حج کو ترک کردے تو ایسا شخص دنیا سے مسلمان نہیں جاتا بلکہ وہ یہود و نصاریٰ کے ساتھ محشور ہوگا ۔

حج اسلام کی بڑی عبادتوں میں سے ایک عبادت ہے ،دنیا کے تمام مسلمان ایک جگہ اور ایک مقام پر جمع اور ایک دوسرے کے رسوم و عادات سے آشنا ہوتے ہیں اور ہر ملک کے عمومی حالات کے تبادلۂ خیالات کے نتیجہ میں علمی سطح میں اضافہ ہوتا ہے،اس کے علاوہ مسلمان اسلام کی مشکلات اور مہم خطرات سے با خبر ہوتے ہیں، اسی کے ساتھ ایک دوسرے کے اقتصادی اور سیاسی و فرہنگی پروگراموں کے سلسلہ میں باز پرس کرتے ہیں نیز عمومی مصالح و فوائد پر آپس میں گفتگو کرتے ہیں جس سے اتحاد ، ہم فکری اور آپسی دوستی کے روابط مستحکم ہوتے ہیں۔

۷۳

( جہاد )

اسلام کا ایک مہم دستور جہاد ہے ۔ خدا پرستی کی ترویج و احکام اسلام کے نفوذ ، کفر و بے دینی اور اسلام کے دشمنوں کے خلاف جنگ کرنے کو جہاد کہتے ہیں اور جہاد تمام مسلمانوں پر واجب ہے، اس ضمن میں قرآن مجید میں ارشاد رب العزت ہے :( اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِه صَفًّا کَاَنَّهُم بُنیَان مَرصُوص) خدا تو ان لوگوں سے الفت رکھتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف باندھ کر لڑتے ہیں کہ گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں(1)

اور دوسرے مقام پر اس طرح ارشاد ہوتاہے( وَقَاتِلُ المُشرِکِینَ کَافَّةً کَمَا یُقَاتِلُونَکُم کَافَّةً ) اور مشرکین جس طرح تم سے سب کے سب لڑتے ہیں تم بھی اسی طرح سب کے سب مل کر ان سے لڑو۔(2) حضرت علی ارشاد فرماتے ہیں :''جہاد جنت کے دروازے میں سے ایک دروازہ ہے جو شخص جہاد سے انکار کرے خدا اس کو ذلیل و رسوا کرے گا ''اسلام نے جہاد کو اسلامی ملکوں کی حفاظت کے لئے تمام مسلمانوں پر واجب قرار دیا ہے اور تمام مسلمانوں کو مجاہد اور اسلامی ملک کو مجاہدوں کی جگہ قرار دی ہے ، مجاہدین اسلام کو چاہیے ہمیشہ کفر و الحاد کے مقابلہ میں مسلح اور صف بصف آمادہ رہیں تاکہ دشمن اسلام قدرت و شوکت اور اتحاد مسلمین سے خوف کھائے

اور اس کے ذہن سے اسلامی ملکوں پر زیادتی اور تجاوز کے خیالات دورہوجائیں،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورہ صف(61) آیت 4 ۔ (2)۔ سورہ توبہ (9 )آیت 36 ۔

۷۴

اگرکفار کی فوج اسلام کے کسی علاقہ پر حملہ آور ہو جائے تو تمام مسلمانوں پر اپنے استقلال کے لئے اس کا دفاع کرنا واجب ہے اور تمام لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ سب

کے سب دشمنوں کے مقابلہ میں صف بستہ کھڑے ہوں اور ایک ہی حملہ میں مخالف کی فوج کو تہس نہس اور تباہ و برباد کر کے اپنی جگہ پر بٹھادیں تاکہ دوبارہ وہ اس کی جرأت و ہمت نہ کر سکیں ۔

٭جہاد کے لئے مخصوص شرائط ہیں جس کی بابت چاہیے کہ فقہ کی کتابوں کی طرف رجوع کیا جائے ۔

سوالات:

1۔ حج کس پر اور زندگی میں کتنی مرتبہ واجب ہے ؟

2۔حضرت امام صادق نیاس شخص کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا ہے جو عذر شرعی کے بغیر اپنے واجبی حج کو ترک کردے ؟

3۔ حج کے کیا فوائد ہیں ؟

4۔ جہاد کی تعریف کیجئے ؟

5۔ جہا د کے بارے میاں کوئی آیت پیش کیجئے ؟

۷۵

درس نمبر 20

( امر بالمعروف و نہی عن المنکر )

اسلام کے واجبات میں سے ایک امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے ، ترویج اسلام و تبلیغ احکام میں کوشش کرنا لوگوں کو دینی ذمہ داریوں اور اچھے کاموں سے آشنائی کرانا تمام مسلمانوں پر واجب ہے اگر کسی کو دیکھے کہ اپنے وظیفہ پر عمل پیرا نہیں ہے تو اس کو انجام دینے کے لئے آمادہ کرے اس کام کو امر بالمعروف کہتے ہیں ۔

منکرات (خدا کی منع کردہ چیزیں ) سے لوگوں کو منع کرنا بھی اسلام کے واجبات میں سے ہے ، اور واجب ہے کہ مسلمان فساد ، ظلم و ستم کے خلاف جنگ کرے اور برے و گندے کاموں سے روکے اگر کسی کو دیکھے کہ اسلام نے جن کاموں سے منع کیا ہے یہ ان کاموں (منکرات) کو انجام دے رہا ہے تو اس کام کے برے ہونے کی طرف اس کی توجہ دلائے ، جس حد تک ممکن ہوسکے اس کو برے کاموں سے روکے اس کام کو نہی از منکر کہتے ہیں۔

لہٰذا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اسلام کی بڑی ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری ہے اگر اس وظیفہ پر عمل ہونا شروع جائے تو اسلام کا کوئی بھی قانون بلا عمل باقی نہ رہے، تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ ایک دوسرے کا خیال رکھیں نیز دین اسلام کے قوانین کا ہر طرح سے دفاع اور اس کی حفاظت اور رائج کرنے میں کوشش کریں ، تاکہ اس کے فائدے سے تمام افراد بہرہ مند ہوسکیں ، ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ خود نیک کام کو انجام دے اور لوگوں کو بھی نیک کام پر آمادہ کرے ، خود بھی برے اور گندے

۷۶

کاموں سے دوری کرے اور دوسروں کو بھی محرّمات الٰہی سے روکے ۔ ارشاد ہوتا ہے :(کُنتُم خَیرَ اُمَّةٍ اُخرِجَت لِلنَّاسِ تَامُرُونَ بِالمَعرُوفِ وَتَنهَونَ عَنِ المُنکَرِ وَتُؤمِنُونَ بِاللّٰهِ) تم کیا اچھے گروہ ہو کہ لوگوں کی ہدایت کے واسطے پیدا کئے گئے تم لوگوں کو اچھے کام کا حکم کرتے اور برے کاموں سے روکتے ہو اور خدا پر ایمان رکھتے ہو(1)

اور ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے:( وَلتَکُن مِنکُم اُمَّة یَدعُونَ اِلَی الخَیرِ وَیَامُرُونَ بِالمَعرُوفِ وَیَنهَونَ عَنِ المُنکَرِ ) اور تم میں سے ایک گروہ(ایسے لوگوں کا بھی ) تو ہونا چاہیے جو (لوگوں کو) نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کا حکم اور برے کاموں سے روکے۔(2)

حضرت امام علی رضا فرماتے ہیں : امر بالمعروف نہی از منکر کرو اگر تم نے اس فرض پر عمل نہیں کیا تو اشرار تم پر مسلط ہوجائیں گے اس وقت اچھے لوگ جس قدر بھی دعائیں کریں اور ان کے ظلم و ستم پر گریہ کریں توبھی ان کی دعا قبول نہیں کی جائے گی ۔(3)

امر بالمعروف اور نہی از منکر کے چند مراحل ہیں :

پہلا مرحلہ : زبان سے نرمی کے ساتھ اس کام کی اچھائی یا برائی اس شخص کے لئے ثابت کی جائے اور نصیحت و موعظہ کی صورت میں اس سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ اس کام کو نہ کرے یا برے کام کو چھوڑ دے ۔

دوسرا مرحلہ : اگر زبان سے موعظہ و نصیحت اسے کوئی فائدہ نہ پہنچائے تو سختی اور غصہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1)۔ آل عمران (3) آیت 110 ۔ (2)۔ آل عمران (3 )آیت 104 ۔

(3)۔ وسائل الشیعہ ،ج11، ص 394

۷۷

دوسرا مرحلہ : اگر زبان سے موعظہ و نصیحت اسے کوئی فائدہ نہ پہنچائے تو سختی اور غصہ سے، برے کام سے روکا جائے ۔

تیسرا مرحلہ : سختی و غصہ کی وجہ سے بھی اگر اس پر اثر نہ ہو تو جس حد تک ، قدرت رکھتا ہو یا جس وسیلہ و طریقہ سے ممکن ہو اسے برے کام سے منع کرے ۔

چوتھا مرحلہ : اگر اس کے باوجود بھی اس کو گناہ سے نہ روک سکے تو تمام لوگوں کو چاہیے اس سے اس طرح اظہار نفرت کریں کہ اس کو احساس ہوجائے کہ تمام لوگ اس کے مخالف اور اس سے متنفر ہیں ۔

سوالات:

1۔ امر با لمعروف و نہی از منکر سے کیا مراد ہے ؟

2۔ امر با لمعروف و نہی از منکر سے متعلق قرآن کی کوئی آیت پیش کریں ؟

3۔ حضرت امام علی رضاامر با لمعروف و نہی از منکر سے متعلق کیا ارشاد فرماتے ہیں ؟

4۔مر با لمعروف و نہی از منکر کے مراحل بیان کیجئے ؟

۷۸

حصہ سوم

( اخلاق )

۷۹

درس نمبر 21

( اخلاق )

پروردگار عالم اور اس کے رسول کی محبت کے حصول کا بہترین ذریعہ اخلاق حسنہ کو اپنانا ہے ۔ چونکہ خدا کے نزدیک اس کا محبوب بندہ و ہ ہے کہ جس کا اخلاق سب سے زیادہ عمدہ ہو ، اخلاق ، انسان کا اصلی جوہر اور حیوان اور انسان میں وجہ امتیاز ہے ، دنیا اور آخرت میں انسان کی کامیابی کا کسی حد تک دارومدار اخلاق حسنہ پر ہی ہے انسان اپنی انفرادی یا اجتماعی حیثیت میں اس کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ انسانی زندگی کا کوئی بھی شعبہ ایسا نہیں ہے جس میں بنیادی اخلاقیات کی ضرورت نہ ہو ، کوئی بھی مذہب ، تہذیب اور معاشرہ ایسا نہیں جسے اپنے وجود میں اخلاقیات کی ضرورت نہ ہو۔ایک مسلمان کی حیثیت سے دیکھیں تو اخلاق کی پستی کے ساتھ ہم سرے سے اسلامی زندگی کا تصور نہیں کرسکتے ، مسلمان تو بنایا ہی اسی لئے گیاہے کہ اس کی ذات سے دنیا میں اخلاق کا چراغ روشن رہے ۔ آئمہ طاہرین علیہم السلام نے ہمیں ہر مقام پر اخلاق کے دامن کو پکڑے رہنے کا طریقہ سکھایاہے ،دراصل اچھے اور برے صفات کو اخلاق کہتے ہیں :

اچھے صفات : ان صفات کو کہا جاتا ہے جو انسان کی افضلیت و کمال کا باعث بنیں ، جیسے عدالت ، تواضع ، خدا پر بھروسہ ، برد باری ، لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا ، سچ بولنا ، امانتداری ،خدا کی مرضی پر راضی رہنا ، خدا کا شکر ، قناعت ، سخاوت ، بہادری ، دین میں غیرت ، ناموس میں غیرت ، صلۂ رحم ، والدین کے ساتھ احسان ، پڑوسیوں سے اچھا

۸۰

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104