معارف اسلامی کورس (عقائد، احکام،اخلاق ) جلد ۱

معارف اسلامی کورس (عقائد، احکام،اخلاق )33%

معارف اسلامی کورس (عقائد، احکام،اخلاق ) مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 104

  • ابتداء
  • پچھلا
  • 104 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 31316 / ڈاؤنلوڈ: 3051
سائز سائز سائز

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

منزہ ہے ،اور میں اس کی حمد و ثنا، کرتا ہوں ،رکوع کے بعد سیدھاکھڑاہوجائے اور کھڑے ہو کر کہے:''سَمِعَ اللّٰهُ لِمَن حَمِدَه ' یعنی خدا وند عالم اپنے بندے کی حمد وثنا قبول کرنے والا ہے،یہ پڑھنا مستحب ہے ۔

۵۔ سجدہ : رکوع کے بعد سجدہ میں جائے یعنی پیشانی کو زمین پر یا جو چیز اس سے اگتی ہے (لیکن کھانے اور پہننے والی نہ ہو )اس پر رکھے اور حالت سجدہ میں پیشانی، دونوں ہاتھوں کی ہتھیلی اور دونوں گھٹنے دونوں انگوٹھے کے سرے کو زمین پر رکھے پھر پڑھے:'' سُبحَانَ رَبِّیَ الاَعلَیٰ وَبِحَمدِه ''یا تین مرتبه '' ُسبحَانَ اللّٰه ِ '' (میرا پروردگار ہر ایک سے بالا وبرتر ہے اور ہر عیب و نقص سے پاک و منزہ ہے اور میں اس کی حمد کرتا ہوں ) پڑھے ۔ پھر سجدہ سے سر اٹھائے اور تھوڑا ٹھہر کر پھر دوبارہ سجدہ میں جائے اور سجدۂ دوم سے سر اٹھا کر تھوڑی دیر بیٹھے اور دوسری رکعت کے لئے کھڑاہو جائے اور کھڑے ہوتے وقت پڑھے'' بِحَولِ للّٰهِ وَقُوَّتِه اَقُومُ وَاَقعُدُ'' (میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی قدرت و مدد سے کھڑا ہوتا اور بیٹھتا ہوں )یہ کہنا مستحب ہے جب سیدھے کھڑا ہو جائے تو پھرالحمد اور دوسرا سورہ پہلی رکعت کی طرح پڑھے ۔

٭ قنوت : سورہ حمد اور دوسرے سورہ سے فارغ ہونے کے بعد دونوں ہاتھوں کو چہرے کے سامنے لا کر قنوت (دعا) پڑھے:''رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنیَا حَسَنَةً وَفِی الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ'' ( اے پروردگار! دنیا اور آخرت میں ہم کو حسنہ مرحمت فرما اور جہنم کے عذاب سے بچا ) دونوں ہاتھوں کو نیچے لائے اوپہل کی طرح رکوع کرے۔

٭ قنوت پڑھنا واجب نہیں بلکہ مستحب اور فضیلت و ثواب کا باعث ہے ۔

۶۱

۶۔ تشہد : تمام نمازوں میں دوسری رکعت کے کامل کرنے کے بعد دوسرے سجدہ سے سر اٹھا کر بیٹھ جائے اور اس طریقے سے تشہد پڑھے :'' ِ اَشهَدُ اَن لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحدَه لَا شَرِیکَ لَه وَاَشهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبدُه وَرَسُولُه، اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ '' میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے وہ یگانہ ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد(ص) خدا کے بندے اور اس کے رسول ہیں خداوند ا ! محمد(ص) اور ان کی آل پر درود بھیج ۔

٭نماز مغرب میں پہلے تشہد کے بعد سلام نہیں پڑھنا چاہیے بلکہ کھڑے ہوجائے اور کھڑے ہوکر اطمینان کی حالت میں تیسری رکعت کو شروع کرے پھر رکوع و سجود و تشہد کے بعد سلام پڑھے ،اور نماز ظہر و عصر و عشا میں پہلے تشہد کے بعد سلام نہ پڑھے بلکہ کھڑے ہو کر تیسری اور چوتھی رکعت کے بعد بیٹھ کر تشہد و سلام پڑھے۔

۷۔ سلام : نماز صبح میں تشہد کے بعد سلام اس طرح سے پڑھے :

'' اَلسَّلَامُ عَلَیکَ اَیُّهَا النَّبِیُّ وَرَحمَةُ اللّٰهِ وَبَرَکَاتُه ''

اے نبی(ص) !آپ پر سلام اور خدا کی رحمت و برکت ہو

'' اَلسَّلَامُ عَلَینَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِینَ ''

ہم پر اور خدا کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو،

'' اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم وَرَحمَةُ اللّٰهِ وَبَرَکَاتُه ''

تم پر سلام ہو اور خدا کی رحمت و برکتیں ہوں ۔

۸۔ترتیب : بیان شدہ ترتیب کے مطابق انجام دے

۹۔ موالات : تمام اعمال کو پے در پے انجام دے

۶۲

٭۔ تسبیحات اربعہ : نماز مغرب کی تیسری اور نماز عشا ،ظہر و عصر کی تیسری و چوتھی رکعت میں سورہ حمد کے بجائے تسبیحات اربعہ پڑھے :

'' سُبحَانَ اللّٰهِ وَالحَمدُ لِلّٰهِ وَلَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ اَکبَرُ '' خداوند عالم پاک ومنزہ ہے حمد و ثنا اس کے لئے مخصوص ہے اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں خدا اس سے کہیں بزرگ ہے کہ اس کی تعریف کی جائے ۔

٭نماز پڑھنے والے کا جسم ،لباس اور مکان پاک ہونا چاہیے اور لباس ومکان پاک ہونے کے ساتھ مباح بھی ہوں اوعر لباس حرام گوشت جانور یا مردار کی جلد اور کھال سے بنا ہوا نہیں ہونا چاہیے ۔

٭نماز پڑھنے والی عورت ، جنابت و حیض و استحاضہ و نفاس سے اور مرد جنابت سے پاک ہو ۔

سوالات:

۱۔نماز کی ترکیب بتائیے ؟

۲۔کیا تکبیرة الاحرام کہتے وقت ہاتھوں کاکانوں کی لو تک لیجا نا واجب ہے ؟

۳۔قنوت کونسی رکعت میں پڑھتے ہیں ،اور کیا اس کا پڑھنا واجب ہے ؟

۴۔اگر کوئی شخص نجس لباس میں نماز پڑھ لے تو کیا اس کی نماز صحیح ہے ؟

۵۔اگر کوئی شخص کسی ایسے شخص کی جگہ پر نمازپڑھے جس کے بارے میں جانتا ہو کہ وہ راضی نہیں ہے تو کیا اس جگہ پر نمازپڑھنا صحیح ہے ۔؟

۶۳

درس نمبر ۱۶

( نماز کے ارکان )

نماز کے پانچ ارکان واجب ہیں :

۱۔ نیت۔

۲ ۔تکبیرة الاحرام۔

۳۔ قیام ، تکبیرة الاحرام کہتے وقت اور رکوع میں جانے سے پہلے جس کو قیام متصل بہ رکوع کہا جاتا ہے یعنی رکوع سے پہلے کھڑے ہونا ۔

۴۔رکوع۔

۵۔ دونوں سجدے

عمداً و سہواً یا ان ارکان کو کم یا زیادہ کرنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے ۔

نماز کو باطل کرنے والی چیزیں

مبطلات نماز :

ان کاموں کو انجام دینے سے نماز باطل ہوجاتی ہے :

۱۔وضو کے ٹوٹ جانے سے نماز باطل ہوجاتی ہے ، چاہے عمداً ہو یا سہواً ۔

۲۔ جان بوجھ کر دنیا کے متعلق گریہ کرنا ۔

۳۔ عمداً قہقہ کے ساتھ ہنسنا ۔

۴۔ جان بوجھ کر کھانا اور پینا ۔

۶۴

۵۔ بھول کر یا جان بوجھ کر کسی رکن کو کم یا زیادہ کردینا ۔

۶۔ حمد کے بعد آمین کہنا ۔

۷۔ سہواً یا عمداً قبلہ کی طرف پیٹھ کرنا ۔

۸۔ بات کرنا ۔

۹۔ ایسا کام کرنا جس سے نماز کی صورت ختم ہو جائے جیسے تالی بجانا اوراچھلنا ،کودنا وغیرہ۔

۱۰۔ پیٹ پر ہاتھ باندھنا ( اہل سنت کی طرح ) ۔

۱۱۔ دو رکعتی یا تین رکعتی نماز کی رکعتوں میں شک کرنا ۔

مسافر کی نماز :

درج ذیل شرائط کے ساتھ مسافر کو چاہیے کہ چار رکعتی نماز کو دو رکعت پڑھے :

۱۔ سفرآٹھ فرسخ سے کم نہ ہو(۴۳ کلو میٹر) جسکی آمدورفت آٹھ فرسخ ہو جاتی ہے وہ نماز کو قصر پڑھے ۔

۲۔ابتداء سے آٹھ فرسخ کی نیت ہو

۳۔راستے میں اپنا ارادہ نہ بدل دے

۴۔منزل تک پہنچنے سے پہلے اپنے وطن سے نہ گزرے اور اثنائے راہ میں دس دن یا زیادہ دن قیام نہ کرے

۵۔ اس کا سفر کسی حرام کام کے لئے نہ ہو ، جیسے سفر کرے چوری یا مومن کے قتل کرنے کے لئے اسی طرح عورت بغیر شوہر کی اجازت کے گھر سے باہر نکلے ۔

۶۔صحراء نشین خانہ بدوش نہ ہو ۔

۶۵

۷۔اس کا مشغلہ اور کام مسافرت نہ ہو ۔

۸ ۔ حد ترخّص تک پہنچ جائے ۔یعنی وطن یا اپنے ٹھہرنے کی جگہ سے اتنا دور ہوجائے کہ شہر کی اذان کی آواز کو نہ سنے اور شہر کے لوگ اس کو نہ دیکھ سکیں

٭جو مسافر سفر میں ایک جگہ دس دن رہنے کا ارادہ رکھے تو جب تک وہاں پر قیام ہے نماز پوری پڑھے اور وہ مسافر جو تیس دن تک متردد حالت میں رہ رہا ہو تیسویں دن کے بعداسے چاہیے کہ نماز کو پوری پڑھے ۔

سوالات:

۱۔نمازکے ارکان سے کیا مراد ہے ؟

۲۔ نمازکے ارکان بیان کیجئے ؟

۳۔مبطلات نماز کیا ہیں ؟

۴۔ کن شرائط کے ساتھ نماز قصر ہوجاتی ہے ؟

۵۔ حد ترخّص سے کیا مراد ہے؟

۶۶

درس نمبر ۱۷

( روزہ )

اسلام کے اہم واجبات میں سے روزہ ہے ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی (ص) نے فرمایا : روزہ جہنم کی آگ کے مقابلہ میں ڈھال ہے۔(۱)

تمام مسلمانوں پر رمضان کے مہینے کا روزہ کھنا واجب ہے ، یعنی صبح صادق سے لے کر مغرب تک تمام وہ کام جو روزہ کو باطل کر تے ہیں ان سے اجتناب و پرہیز کرے ۔

مبطلات روزہ: روزہ کو باطل کرنے والے امور درج ذیل ہیں :

۱۔ کھانا اور پینا۔

۲۔ غلیظ گردوغبار کا حلق تک پہنچانا ۔

۳۔ قے کرنا۔

۴۔ جماع کرنا

۵۔ حقنہ کرنا۔

۶۔ پانی میں سر ڈبونا۔

۷۔ اللہ اور اس کے رسول(ص) پر جھوٹا الزام لگانا۔

۸۔ استمناء (منی نکالنا )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ وافی ،ج۲، جز ۷، ص۵ ۔

۶۷

( ۹ ) صبح کی اذان تک جنابت و حیض و نفاس پر باقی رہنا ۔

٭اگر یہ روزہ توڑنے والی چیزیں عمداً واقع ہو تو روزہ باطل ہوجاتا ہے

لیکن اگر بھول چوک یا غفلت کے سبب واقع ہو تو روزہ باطل نہیں ہوتا ہے سوائے جنابت و حیض و نفاس پر باقی رہنے کے ، کہ اگر سہواً اور غفلت کی وجہ سے بھی ہو، تو بھی روزہ باطل ہے ۔

وہ افراد جو روزہ کو توڑ سکتے ہیں

۱۔ بیمار :جس پر روزہ رکھنا ضرر کا باعث ہو ۔

۲۔ مسافر، انھیں شرائط کے ساتھ جو مسافر کی نماز کے متعلق بیان ہوئی ہیں۔

۳۔ وہ عورت جو ماہواری (حیض کی حالت میں ) یا نفاس میں ہو ۔

٭ان تینوں قسم کے افراد کو چاہیے کہ اپنے روزہ کو توڑدیں اور عذر کو بر طرف ہونے کے بعد روزہ کی قضا کریں ۔

۴۔ حاملہ عورت جس کا وضع حمل قریب ہو اور روزہ خود اس کے لئے یا اس کے بچے کے لئے ضرر کا باعث ہو ۔

۵۔ بچے کو دودھ پلانے والی عورت جبکہ روزہ رکھنے سے دودھ میں کمی آتی ہو اور بچہ کی تکلیف کا سبب ہو۔

۶۔ بوڑھے مرد اور بوڑھی عورتیں جن پر روزہ رکھنا سخت اور دشوار ہے ۔

٭مندرجہ بالا خواتین عذر کے زائل ہونے کے بعد اپنے روزے کی قضا اور تین پائو گیہوں فقیر کو دیں گی ۔

٭اگر یہ لوگ رمضان کے بعد بآسانی روزہ رکھ سکتے ہوں تو قضا کریں ، لیکن اگر ان

۶۸

پر روزہ رکھنا دشواری کا باعث ہو تو قضا واجب نہیں ہے ، لیکن ہر روزہ کے بدلے تین پائو گیہوں فقیر کو دیں۔

٭جو شخص عذر شرعی کے بغیر ماہ رمضان کے روزے نہ رکھے یا توڑ دے تو اسے چاہیے کہ اس کی قضا کرے اور ہر روزہ کے بدلے ساٹھ روزہ رکھے یا ساٹھ فقیروں کو کھانا کھلائے ۔

سوالات:

۱۔مبطلات روزہ بیان کیجئے ؟

۲۔ اگر کسی شخص کو قے آجائے تو کیا اسکا روزہ باطل ہے ؟

۳۔ کونسے افراد روزہ توڑ سکتے ہیں ؟

۴۔ جو شخص عذر شرعی کے بغیر ماہ رمضان کے روزہ ے نہ رکھے یا توڑ دے اسکا کیا حکم ہے ؟

۶۹

درس نمبر۱۸

( زکوٰة )

اسلام کی واجب چیزوں میں سے ایک زکواة ہے ، حضرت امام صادق نے فرمایا : جو شخص اپنے مال کی زکواة نہ دے وہ نہ مومن ہے اور نہ ہی مسلمان ہے(۱)

زکوٰةنو (۹) چیزوں پر واجب ہے :

( ۱ ) گیہوں (۲) جو (۳) کھجور (۴) کشمش (۵) گائے بھینس (۶) بھیڑ بکری ( ۷) اونٹ(۸) سونا ( ۹) چاندی ۔

دین اسلام نے ان چیزوں کے لئے ایک حد و مقدار بیان فرمائی ہے اگر اس حد تک پہنچ جائے تو اس میں زکوٰة دینا واجب ہوگی اگر اس مقدار تک نہ پہونچے تو اس پر زکوٰة واجب نہ ہوگی اس حد کو نصاب کہتے ہیں ۔

گیہوں ، جو ، کھجور اور کشمش : ان چار چیزوں کا نصاب ۸۴۷کلو گرام ہے اگر اس مقدار سے کم ہوتو اس پر زکوٰة واجب نہیں ہے ، زکوٰة نکالتے وقت یہ نکتہ بھی ذہن نشین رہے کہ جو زراعت پر اخراجات ہوئے ہیں ان سب کو نکال کر اگر نصاب کی حد تک پہنچے تو زکوٰة واجب ہو گی ،باقی چیزوں کے نصاب کی مقدار جاننے کے لئے مفصل کتب کی طرف رجوع فرمائیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(ا)۔ وافی، ج۲ ،ص۵ ، جز ۶ ۔

۷۰

( خمس )

اسلام کے مالی حقوق میں سے ایک خمس ہے جو تمام مسلمانوں پر فرض ہے ۔

سات چیزوں پر خمس دینا واجب ہے :

۱۔ کاروبار کے منافع ، انسان کو زراعت و صنعت و تجارت مختلف اداروں میں ملازمت کاریگری وغیرہ سے جو آمدنی ہوتی ہے اس میں سے (مثلاً کھانا ،پینا، لباس ، گھر کا ساز وسامان ، گھر کی خریداری ، شادی ، مہمان نوازی ، مسافرت کے خرچ وغیرہ کے بعد ) سالانہ خرچ سے جو بچ جائے اس بچت کا پانچواں حصہ بعنوان خمس ادا کرے ۔

۲۔ کان سے جو سونا ،چاندی ،لوہا ، تانبہ ، پیتل ، تیل ، نمک ، کوئلہ ، گندھک معدنی چیز برآمد ہوتی ہے اور جو دھاتیں ملتی ہیں، ان سب پر خمس واجب ہے ۔

۳۔ خزانے ۔

۴۔ جنگ کی حالت میں مال غنیمت ۔

۵۔ دریا میں غوطہ خوری کے ذریعہ حاصل ہونے والے جواہرات ۔

۶۔جو زمین مسلمان سے کافر ذمی خرید ے اس کو چاہیے کہ پانچواں حصہ اس کا یا اس کی قیمت کا بعنوان خمس ادا کرے ۔

۷۔ حلال مال جو حرام مال میں مخلوط ہوجائے اس طرح کہ حرام کی مقدار معلوم نہ ہو اور نہ ہی اس مال کو پہچانتا ہو، تو اسے چاہیے ان تمام مال کا پانچواں حصہ خمس دے تاکہ باقی مال حلال ہوجائے ۔

٭جو شخص خمس کے مال کا مقروض ہے اس کو چاہیے کہ مجتہد جامع الشرائط یا اس کے

۷۱

کسی وکیل کو دے تاکہ وہ عظمت اور ترویج اسلام اور غریب سادات کے مخارج کو اس سے پورا کرے۔

٭خمس و زکوٰة کی رقوم اسلامی مالیات کا سنگین اور قابل توجہ بجٹ ہے۔

اگر صحیح طریقہ سے اس کی وصولی کی جائے اور حاکم شرع کے پاس جمع ہوتو اسے مسلمانوں کے تمام اجتماعی کاموں کو بطور احسن انجام دیا جا سکتا ہے ، یا فقیری و بیکاری اور جہالت کا ڈٹ کر مقابلہ اور اس سے لاچار و فقیر لوگوں کی دیکھ بھال کی جا سکتی ہے اور لوگوں کے ضروری امور کہ جس کا فائدہ عمومی ہوتا ہے اس کے ذریعہ کرائے جا سکتے ہیں مثلاًہسپتال ، مدرسہ ، مسجد ، راستہ ، پل اور عمومی حمام وغیرہ کی تعمیرکا کام ۔

سوالات:

۱۔ حضرت امام صادق نے زکات کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا ؟

۲۔ زکات کن چیزوں پر واجب ہے ؟

۳۔گیہوں ، جو ، کھجور اور کشمش کی کتنی مقدار پر زکوٰة واجب ہوتی ہے ؟

۴۔خمس کتنی چیزوں پر واجب ہے ؟

۵۔ خمس کی رقم کسے ادا کرنی چاہیے ؟

۷۲

درس نمبر ۱۹

( حج )

جو شخص جسمانی اور مالی قدرت رکھتا ہو توااس پر پوری عمر میں ایک مرتبہ خانہ کعبہ کی زیارت کے لئے جانا واجب ہے ۔ یعنی اس کے پاس اتنا مال موجود ہو کہ اگر وہ اپنے مال سے حج کے اخراجات نکال لے تو واپس آنے پر بیچارہ حیران و سرگرداں نہ پھرے بلکہ مثل سابق اپنی زندگی اور کام وغیرہ کو ویسے ہی انجام دے سکے ۔

حضرت امام صادق نے فرمایا : جو شخص مر جائے اس حال میں کہ عذر شرعی کے بغیر اپنے واجبی حج کو ترک کردے تو ایسا شخص دنیا سے مسلمان نہیں جاتا بلکہ وہ یہود و نصاریٰ کے ساتھ محشور ہوگا ۔

حج اسلام کی بڑی عبادتوں میں سے ایک عبادت ہے ،دنیا کے تمام مسلمان ایک جگہ اور ایک مقام پر جمع اور ایک دوسرے کے رسوم و عادات سے آشنا ہوتے ہیں اور ہر ملک کے عمومی حالات کے تبادلۂ خیالات کے نتیجہ میں علمی سطح میں اضافہ ہوتا ہے،اس کے علاوہ مسلمان اسلام کی مشکلات اور مہم خطرات سے با خبر ہوتے ہیں، اسی کے ساتھ ایک دوسرے کے اقتصادی اور سیاسی و فرہنگی پروگراموں کے سلسلہ میں باز پرس کرتے ہیں نیز عمومی مصالح و فوائد پر آپس میں گفتگو کرتے ہیں جس سے اتحاد ، ہم فکری اور آپسی دوستی کے روابط مستحکم ہوتے ہیں۔

۷۳

( جہاد )

اسلام کا ایک مہم دستور جہاد ہے ۔ خدا پرستی کی ترویج و احکام اسلام کے نفوذ ، کفر و بے دینی اور اسلام کے دشمنوں کے خلاف جنگ کرنے کو جہاد کہتے ہیں اور جہاد تمام مسلمانوں پر واجب ہے، اس ضمن میں قرآن مجید میں ارشاد رب العزت ہے :( اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِه صَفًّا کَاَنَّهُم بُنیَان مَرصُوص) خدا تو ان لوگوں سے الفت رکھتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف باندھ کر لڑتے ہیں کہ گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں(۱)

اور دوسرے مقام پر اس طرح ارشاد ہوتاہے( وَقَاتِلُ المُشرِکِینَ کَافَّةً کَمَا یُقَاتِلُونَکُم کَافَّةً ) اور مشرکین جس طرح تم سے سب کے سب لڑتے ہیں تم بھی اسی طرح سب کے سب مل کر ان سے لڑو۔(۲) حضرت علی ارشاد فرماتے ہیں :''جہاد جنت کے دروازے میں سے ایک دروازہ ہے جو شخص جہاد سے انکار کرے خدا اس کو ذلیل و رسوا کرے گا ''اسلام نے جہاد کو اسلامی ملکوں کی حفاظت کے لئے تمام مسلمانوں پر واجب قرار دیا ہے اور تمام مسلمانوں کو مجاہد اور اسلامی ملک کو مجاہدوں کی جگہ قرار دی ہے ، مجاہدین اسلام کو چاہیے ہمیشہ کفر و الحاد کے مقابلہ میں مسلح اور صف بصف آمادہ رہیں تاکہ دشمن اسلام قدرت و شوکت اور اتحاد مسلمین سے خوف کھائے

اور اس کے ذہن سے اسلامی ملکوں پر زیادتی اور تجاوز کے خیالات دورہوجائیں،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ سورہ صف(۶۱) آیت ۴ ۔ (۲)۔ سورہ توبہ (۹ )آیت ۳۶ ۔

۷۴

اگرکفار کی فوج اسلام کے کسی علاقہ پر حملہ آور ہو جائے تو تمام مسلمانوں پر اپنے استقلال کے لئے اس کا دفاع کرنا واجب ہے اور تمام لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ سب

کے سب دشمنوں کے مقابلہ میں صف بستہ کھڑے ہوں اور ایک ہی حملہ میں مخالف کی فوج کو تہس نہس اور تباہ و برباد کر کے اپنی جگہ پر بٹھادیں تاکہ دوبارہ وہ اس کی جرأت و ہمت نہ کر سکیں ۔

٭جہاد کے لئے مخصوص شرائط ہیں جس کی بابت چاہیے کہ فقہ کی کتابوں کی طرف رجوع کیا جائے ۔

سوالات:

۱۔ حج کس پر اور زندگی میں کتنی مرتبہ واجب ہے ؟

۲۔حضرت امام صادق نیاس شخص کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا ہے جو عذر شرعی کے بغیر اپنے واجبی حج کو ترک کردے ؟

۳۔ حج کے کیا فوائد ہیں ؟

۴۔ جہاد کی تعریف کیجئے ؟

۵۔ جہا د کے بارے میاں کوئی آیت پیش کیجئے ؟

۷۵

درس نمبر ۲۰

( امر بالمعروف و نہی عن المنکر )

اسلام کے واجبات میں سے ایک امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے ، ترویج اسلام و تبلیغ احکام میں کوشش کرنا لوگوں کو دینی ذمہ داریوں اور اچھے کاموں سے آشنائی کرانا تمام مسلمانوں پر واجب ہے اگر کسی کو دیکھے کہ اپنے وظیفہ پر عمل پیرا نہیں ہے تو اس کو انجام دینے کے لئے آمادہ کرے اس کام کو امر بالمعروف کہتے ہیں ۔

منکرات (خدا کی منع کردہ چیزیں ) سے لوگوں کو منع کرنا بھی اسلام کے واجبات میں سے ہے ، اور واجب ہے کہ مسلمان فساد ، ظلم و ستم کے خلاف جنگ کرے اور برے و گندے کاموں سے روکے اگر کسی کو دیکھے کہ اسلام نے جن کاموں سے منع کیا ہے یہ ان کاموں (منکرات) کو انجام دے رہا ہے تو اس کام کے برے ہونے کی طرف اس کی توجہ دلائے ، جس حد تک ممکن ہوسکے اس کو برے کاموں سے روکے اس کام کو نہی از منکر کہتے ہیں۔

لہٰذا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اسلام کی بڑی ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری ہے اگر اس وظیفہ پر عمل ہونا شروع جائے تو اسلام کا کوئی بھی قانون بلا عمل باقی نہ رہے، تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ ایک دوسرے کا خیال رکھیں نیز دین اسلام کے قوانین کا ہر طرح سے دفاع اور اس کی حفاظت اور رائج کرنے میں کوشش کریں ، تاکہ اس کے فائدے سے تمام افراد بہرہ مند ہوسکیں ، ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ خود نیک کام کو انجام دے اور لوگوں کو بھی نیک کام پر آمادہ کرے ، خود بھی برے اور گندے

۷۶

کاموں سے دوری کرے اور دوسروں کو بھی محرّمات الٰہی سے روکے ۔ ارشاد ہوتا ہے :(کُنتُم خَیرَ اُمَّةٍ اُخرِجَت لِلنَّاسِ تَامُرُونَ بِالمَعرُوفِ وَتَنهَونَ عَنِ المُنکَرِ وَتُؤمِنُونَ بِاللّٰهِ) تم کیا اچھے گروہ ہو کہ لوگوں کی ہدایت کے واسطے پیدا کئے گئے تم لوگوں کو اچھے کام کا حکم کرتے اور برے کاموں سے روکتے ہو اور خدا پر ایمان رکھتے ہو(۱)

اور ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے:( وَلتَکُن مِنکُم اُمَّة یَدعُونَ اِلَی الخَیرِ وَیَامُرُونَ بِالمَعرُوفِ وَیَنهَونَ عَنِ المُنکَرِ ) اور تم میں سے ایک گروہ(ایسے لوگوں کا بھی ) تو ہونا چاہیے جو (لوگوں کو) نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کا حکم اور برے کاموں سے روکے۔(۲)

حضرت امام علی رضا فرماتے ہیں : امر بالمعروف نہی از منکر کرو اگر تم نے اس فرض پر عمل نہیں کیا تو اشرار تم پر مسلط ہوجائیں گے اس وقت اچھے لوگ جس قدر بھی دعائیں کریں اور ان کے ظلم و ستم پر گریہ کریں توبھی ان کی دعا قبول نہیں کی جائے گی ۔(۳)

امر بالمعروف اور نہی از منکر کے چند مراحل ہیں :

پہلا مرحلہ : زبان سے نرمی کے ساتھ اس کام کی اچھائی یا برائی اس شخص کے لئے ثابت کی جائے اور نصیحت و موعظہ کی صورت میں اس سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ اس کام کو نہ کرے یا برے کام کو چھوڑ دے ۔

دوسرا مرحلہ : اگر زبان سے موعظہ و نصیحت اسے کوئی فائدہ نہ پہنچائے تو سختی اور غصہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( ۱)۔ آل عمران (۳) آیت ۱۱۰ ۔ (۲)۔ آل عمران (۳ )آیت ۱۰۴ ۔

(۳)۔ وسائل الشیعہ ،ج۱۱، ص ۳۹۴

۷۷

دوسرا مرحلہ : اگر زبان سے موعظہ و نصیحت اسے کوئی فائدہ نہ پہنچائے تو سختی اور غصہ سے، برے کام سے روکا جائے ۔

تیسرا مرحلہ : سختی و غصہ کی وجہ سے بھی اگر اس پر اثر نہ ہو تو جس حد تک ، قدرت رکھتا ہو یا جس وسیلہ و طریقہ سے ممکن ہو اسے برے کام سے منع کرے ۔

چوتھا مرحلہ : اگر اس کے باوجود بھی اس کو گناہ سے نہ روک سکے تو تمام لوگوں کو چاہیے اس سے اس طرح اظہار نفرت کریں کہ اس کو احساس ہوجائے کہ تمام لوگ اس کے مخالف اور اس سے متنفر ہیں ۔

سوالات:

۱۔ امر با لمعروف و نہی از منکر سے کیا مراد ہے ؟

۲۔ امر با لمعروف و نہی از منکر سے متعلق قرآن کی کوئی آیت پیش کریں ؟

۳۔ حضرت امام علی رضاامر با لمعروف و نہی از منکر سے متعلق کیا ارشاد فرماتے ہیں ؟

۴۔مر با لمعروف و نہی از منکر کے مراحل بیان کیجئے ؟

۷۸

حصہ سوم

( اخلاق )

۷۹

درس نمبر ۲۱

( اخلاق )

پروردگار عالم اور اس کے رسول کی محبت کے حصول کا بہترین ذریعہ اخلاق حسنہ کو اپنانا ہے ۔ چونکہ خدا کے نزدیک اس کا محبوب بندہ و ہ ہے کہ جس کا اخلاق سب سے زیادہ عمدہ ہو ، اخلاق ، انسان کا اصلی جوہر اور حیوان اور انسان میں وجہ امتیاز ہے ، دنیا اور آخرت میں انسان کی کامیابی کا کسی حد تک دارومدار اخلاق حسنہ پر ہی ہے انسان اپنی انفرادی یا اجتماعی حیثیت میں اس کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ انسانی زندگی کا کوئی بھی شعبہ ایسا نہیں ہے جس میں بنیادی اخلاقیات کی ضرورت نہ ہو ، کوئی بھی مذہب ، تہذیب اور معاشرہ ایسا نہیں جسے اپنے وجود میں اخلاقیات کی ضرورت نہ ہو۔ایک مسلمان کی حیثیت سے دیکھیں تو اخلاق کی پستی کے ساتھ ہم سرے سے اسلامی زندگی کا تصور نہیں کرسکتے ، مسلمان تو بنایا ہی اسی لئے گیاہے کہ اس کی ذات سے دنیا میں اخلاق کا چراغ روشن رہے ۔ آئمہ طاہرین علیہم السلام نے ہمیں ہر مقام پر اخلاق کے دامن کو پکڑے رہنے کا طریقہ سکھایاہے ،دراصل اچھے اور برے صفات کو اخلاق کہتے ہیں :

اچھے صفات : ان صفات کو کہا جاتا ہے جو انسان کی افضلیت و کمال کا باعث بنیں ، جیسے عدالت ، تواضع ، خدا پر بھروسہ ، برد باری ، لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا ، سچ بولنا ، امانتداری ،خدا کی مرضی پر راضی رہنا ، خدا کا شکر ، قناعت ، سخاوت ، بہادری ، دین میں غیرت ، ناموس میں غیرت ، صلۂ رحم ، والدین کے ساتھ احسان ، پڑوسیوں سے اچھا

۸۰

برتائو ، لوگوں کے ساتھ میل محبت ، اللہ سے محبت رکھنا ، ان تمام صفات کاحصول ہر مسلمان پر واجب ہے ۔

برے صفات : ان صفات کو کہتے ہیں جو انسان کی پستی اور ذلت کا سبب واقع ہوتے ہیں جیسے تکبر ( اپنے کو بڑا سمجھنا ) خود پسندی ، ظلم و ستم ، اللہ پر بھروسہ نہ رکھنا ، لوگوں کو پست شمار کرنا ، لوگوںکا برا چاہنا ، خدا سے راضی نہ رہنا ، کینہ و حسد، ناشکری ، چغلخوری ، غصب کرنا ، غصہ کرنا ، لالچ ، جس چیز کا مستحق نہیں اس کی خواہش کرنا ، طمع ، کنجوسی ، دیکھاوے کے لئے کام کرنا ، منافقت ، دوسرے کے مال میں خیانت ، فضول خرچی کرنا ، دین اور ناموس میں بے حیائی ، بے غیرتی ، صلۂ رحم کا ترک کرنا ، والدین کو اذیت و رنج پہنچانا ، پڑوسیوں کو تنگ کرنا ، لوگوں کے ساتھ برا سلوک ،بد گوئی ، چاپلوسی ، منصب کی خواہش ، عیب تلاش کرنا ، لمبی خواہش وغیرہ

ہر مسلمان کیلئے بری خصلتوںسے پرہیز کرنا ضروری ہے

اخلاقیات ، دین اسلام کا ایک اہم جز ہے اور اسلام نے اخلاقی مسائل پر بہت توجہ دی ہے ، حضرت رسول(ص) خدا نے نفس کے ساتھ جہاد (جنگ) کرنے کو سب سے بڑا جہاد کہا ہے(1) آنحضرت (ص) نے فرمایا : میں مبعوث برسالت ہوا ہوں تاکہ اچھے اخلاق کی تکمیل کروں(2) کیونکہ انسان کے تمام کام خود اس کے نفس ہی سے صادر ہوتے ہیں اس لئے سب سے پہلے اس کی اصلاح اوراسے پاک کرنے کی کوشش کرے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ وسائل الشیعہ، کتاب الجہاد، ص 122 ۔ (2)۔ المحجة البیضائ، فیض کاشانی، ج2،ص 312 ۔

۸۱

سوالات:

1۔ اخلاق کی تعریف کیجئے ؟

2۔ اچھے صفات کسے کہتے ہیں ؟

3۔ برے صفات کی تعریف کیجئے ؟

۸۲

درس نمبر22

( ایمان اور عمل میں اخلاص )

اخلاص سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے ہر کام کو چاہے وہ عبادی ہو یا عملی ،ظاہری ہو یا باطنی،روحانی ہو یا مادی،دینی ہو یا دنیاوی سب کے سب صرف خدا کے لئے انجام دے ۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان نفسانی خواہشات ،مال و دولت کے حصول،شہرت و عزت،لالچ وحرص کے لئے کوئی کام نہیں کرتا۔ اخلاص تلوار کے مانند ہے کہ جو بھی رکاوٹ اس کے سامنے آتی ہے وہ اس کو کاٹ کر پھینک دیتی ہے۔قرآن میںلفظ اخلاص کا استعمال تو نہیں ہوا ہے لیکن اس کے مشتقات قرآن میںبار بار استعمال ہوئے ہیں جو اخلاص کی اہمیت کو بتانے کے لئے کافی ہیں۔ارشاد رب العزت ہے ۔( وَمَآ اُمِرُوْآ اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ- حُنَفَآئَ وَیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَیُؤْتُوالزَّکٰوةَ وَذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَة) (1)

'' اور انہیں صرف اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ خدا کی عبادت کریں اور اس عبادت کو اسی کے لئے خالص رکھیں اور نماز قائم کریں اور زکا ادا کریں اور یہی سچا اور مستحکم دین ہے۔ ''

ایک اور مقام پر ارشاد ہوا :(وَمَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ٭اِلَّاعِبَادَاللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ ٭) (2)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورہ بینہ ،آیت 5 (2)سور ہ صافات ،آیت 39،40

۸۳

'' اور تمہیں تمہارے اعمال کے مطابق ہی بدلہ دیا جائے گاعلاوہ اللہ کے مخلص بندوں کے کہ ان کے لئے معین رزق ہے۔ ''

اسی طرح سے قرآن نے ریا اور شرک کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اورشرک کو گناہ عظیم قرار دیا ہے پس ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ اخلاص کا نہ ہونا بھی ایک طرح کا شرک شمار ہوتا ہے اور ایسا نہ ہو کہ ہم دکھاوے کے لئے عمل کرتے رہیں اور شرک کے مرتکب ہوتے رہیں ۔اگر ہم نماز کے لئے ایسی جگہ کا انتخاب کریں کہ لوگ ہمیں دیکھیں اور بہت نمازی سمجھیں یا نماز اول وقت پڑھیں تاکہ لوگ ہماری طرف متوجہ ہوں یا نماز کو لوگوں کو سنانے کے لئے بہت ہی بنا کر اور اس انداز میں پڑھیں کہ ہم بہت بڑے قاری ہیں تو یہ سب عمل ریا کاری شمار ہوتے ہیں اور نماز کے بطلان کے ساتھ ساتھ گناہ کا بھی باعث ہوتے ہیں۔یہی باتیں ساری عبادات پرلاگو ہوتی ہیں یعنی ہر وہ عمل جو غیر خدا کو متوجہ کرنے کے لئے کیا جائے وہ باطل ہے اور گناہ کا باعث ہے۔

ارشاد ہوتا ہے :( وَالَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ رِئَآئَ النَّاسِ وَلَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَنْ یَّکُنِ الشَّیْطٰنُ لَه' قَرِیْنًا فَسَآئَ قَرِیْنًا) (1)

'' اور جو لوگ اپنے اموال کو لوگوں کو دکھانے کے لئے خرچ کرتے ہیں اور اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ جس کا شیطان ساتھی ہو جائے وہ بدترین ساتھی ہے۔ ''

اگر قرآن ریا اور دکھاوے کی سخت الفاظ میں مذمت کر رہا ہے تو دوسری طرف اخلاص کے ساتھ راہ خدا میں خرچ کرنے والوں کو بھی بشارت دے رہا ہے کہ انہوںنے جو بھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1) سورہ نسا،آیت 38

۸۴

راہ خدا میں خرچ کیا ہے خداوند انکو اس کا دگنا اجر عطا کرے گا۔ارشاد ہوتا ہے :

( مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فَیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ کَمَثَلِ حَبَّةٍ امنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنمبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ- وَاللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآئُ- وَاللّٰهُ وَاسِع عَلِیْم )(1)

'' جو لوگ راہ خدا میں اپنے اموال خرچ کرتے ہیں ان کے عمل کی مثال اس دانہ کی ہے جس سے سات بالیاں پیدا ہوں اور پھر ہر بالی میں سوسو دانے ہوں اور خدا جس کو چاہتا ہے اضافہ بھی کر دیتا ہے ۔ ''

اگر ہم خداوند عالم کے علم و قدرت کی طرف متوجہ رہیں اور یہ جان لیں کہ ساری عزت اور قدرت ،مال و دولت ، رزق و روزی خداوند عالم کے ہاتھ میں ہے تو ہم ہرگز عزت و قدرت اور مال و دولت کے حاصل کرنے کے لئے غیر کے سامنے سرنگوں نہیں ہو نگے،اور ہم اس طرف بھی متوجہ رہیں کہ ہر چیز اسی کے حکم سے خلق ہو تی ہے اور اسی کے حکم سے فنا ہوتی ہے،حضرت مریم کے لئے سوکھے پیڑ سے کھجور پیدا کرنے والا وہی ہے اور حضرت ابراہیم کے لئے آگ کو گلزار کرنے والا بھی وہی ہے تو ہم کسی دوسرے کے سامنے ہاتھ نہیں پھلائیں گے ۔ لیکن افسوص یہ ہے کہ ہم زبان سے تو اس کے خالق و قادر، عالم و رازق ہونے کا اقرار کرتے ہیں لیکن عمل میں اس سے کوسوں دور ہیں ۔

روایات میں بھی اخلاص کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے ۔

حضرت امام علی علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے کہ:افضل ترین عمل وہ ہے جو صرف خدا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورہ بقرہ ،آیت 261

۸۵

کے لئے انجام دیا جائے ۔(1)

امام باقر علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے کہ:اگر کوئی چالیس دن تک اپنے عمل میں اخلاص قائم رکھے تواس کے قلب و زبان سے حکمت کے چشمے جاری ہو جاتے ہیں۔(2)

نیز حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے : اگر مومن اپنے کو صرف خدا کے لئے مخصوص کر لے تو خداونداس کو ایسی قدرت عطا کرتا ہے کہ جس کے ذریعہ سے اس کی ہیبت سبھی پر طاری ہو جاتی ہے حتی کہ حشرات اور درندے بھی اس سے ڈرتے ہیں اور کوئی بھی اس کو نقصان پہنچانے کی جرئت نہیں کرتاہے۔(3)

سوالات:

1۔ اخلاص سے کیا مراد ہے؟

2۔اخلاص کے بارے میں قرآن کی کوئی آیت بیان کیجئے ؟

3۔ریا کاری سے کیا مراد ہے اور قرآن نے اس کی کس طرح مذمت کی ہے ؟

4۔ اخلاص کے بارے میں امام باقر علیہ السلام کیا ارشاد فرماتے ہیں ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1) غرر الحکم (2) الکافی (3) کنز العمال

۸۶

درس نمبر 23

( ماہ رمضان اور روزہ )

ماہ رمضان المبارک رحمت و فضیلت کا مہینہ ہے رمضان المبارک کی خاص فضیلت یہ ہے کہ اس میں عظیم ترین آسمانی کتاب قرآن کریم کا نزول ہواہے اورصرف اسی مہینہ کا نام قرآن مجید میں ذکر ہوا ہے یہ وہ با برکت مہینہ ہے جس میں مسلمان خود کو معبود برحق کی بارگاہ میں پاتے ہیں اور اسی کے حکم کے مطابق روزہ کے ذریعہ سے اپنے اندر تقوی اور پرہیزگاری کی راہ ہموار کر تے ہیں ۔روزہ کی اہمیت خداوند عالم کے نزدیک اتنی زیادہ ہے کہ خداوند عالم حدیث قدسی میں ارشاد فرما رہا ہے:روزہ میرے لئے ہے اور میں خود اس کا اجر دوں گا۔یعنی خداوند متعال اس کے ثواب کو براہ راست عطاکرتا ہے۔(1)

قرآن کی نظر میں روزہ :

(یٰآَیُّهَآ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْن) ''ا ے صاحبان ایمان تمہارے اوپر روزے اسی طرح لکھ دئے گئے ہیں جس طرح تمہارے پہلے والوں پر لکھے گئے تھے شاید تم اسی طرح متقی بن جا۔''(2)

پھر ارشاد ہوتا ہے :

( اَیَّامًا مَعْدُوْدٰتٍ- فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا اَوْعَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّة مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ-

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)وسائل الشیعہ ،(2)سورہ بقرہ آیت183

۸۷

( اَیَّامًا مَعْدُوْدٰتٍ- فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا اَوْعَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّة مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ- وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَه'فِدْیَة طَعَامُ مِسْکِيْنٍ- فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْر لَّه'- وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرلَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ)(1)

'' یہ روزے صرف چند دن کے ہیں لیکن اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص مریض ہے یا سفر میں ہے تو اتنے ہی دن دوسرے زمانے میں (روزے) رکھ لے گا اور جو لوگ صرف شدت اور مشقت کی بنا پر روزے نہیں رکھ سکتے ہیں وہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں اور اگر اپنی طرف سے زیادہ نیکی کر دیں تو اور بہتر ہے ،لیکن روزہ رکھنا بہر حال تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم صاحبان علم و خبر ہو۔ ''

روزہ روایات کی نظر میں :

٭حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے :یہ وہ مہینہ ہے جو خدا وند عالم کی نظر میں دیگر تمام مہینوں سے افضل ہے ،نگاہ الہی میں اس مہینہ کی تمام راتوں کو بہترین رات ،تمام دنوں کو بہترین دن اور تمام لمحات کو بہترین لمحوں کی حیثیت حاصل ہے جس میں تمہیں لطف کرامت خداوندی سے مالا مال کیا گیا ہے ۔ اس مہینہ میں تمہاری ہر سانس تسبیح و ذکر الہی کا ثواب رکھتی ہے اور تمہاری نیند کو بھی عبادت و بندگئی معبود کا اجر حاصل ہے ۔(2)

٭حضرت امام علی علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے: ماہ مبارک رمضان میں روزہ عذاب الہی سے نجات کا باعث ہوتا ہے۔(3)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سورہ بقرہ آیت 184(2)(فضائل الاشہر الثلاثہ ،شیخ صدوق ،(3)نہج البلاغہ

۸۸

٭حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام نے فرمایا ہے: کہ روزہ کی تکمیل زکو فطرہ کی ادائیگی سے ہوتی ہے جس طرح کہ نماز کی تکمیل پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر درود سلام بھیجنے سے ہوتی ہے۔

روزہ وہ بہترین عبادت ہے جسے پرور دگار نے استعانت کا ذریعہ قرار دیا ہے اور آل محمد نے مشکلات میں اسی زریعہ سے کام لیا ہے ،یہ روزہ ہی کی برکت تھی کہ جب بیماری کے موقع پر آل محمد علیہم السلام نے روزہ کی نذر کر لی اور وفائے نذر میں روزے رکھ لئے تو پرور دگار نے پورا سورہ دہر نازل کر دیا۔آل محمدکو ماننے والے کسی حال میں روزہ سے غافل نہیں ہو سکتے ،اور صرف ماہ رمضان میں ہی نہیں بلکہ جملہ مشکلات میں روزہ کو سہارا بنائیں گے۔

آخر میں ہم بارگاہ معبود میں دعا گو ہیں کہ ہمیں اس با برکت مہینہ کی نعمتوں سے بھرپور استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،ہمارے دلوں کو اس کے لئے آمادہ کردے کہ ہم حقیقی معنوں میں اس کی بندگی کر سکیں اور اپنے قلوب کو گناہ و معاصیت سے دور رکھ سکیں الہی اس با برکت مہینہ کو ہماری مغفرت کاوسیلہ قرار دے ۔ آمین یا رب العالمین۔

سوالات:

1۔روزہ کے بارے میں قرآن سے کوئی آیت بیان کیجئے ؟

2۔حضرت رسول اکرم (ص)نے ماہ رمضان کی فضیل کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا ہے؟ 3۔حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی نظر میں روزہ کی تکمیل کس چیز سے ہوتی ہے ۔؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)وسائل الشیعہ (2)تفسیر قرآن علامہ جوادی

۸۹

درس نمبر 24

( انفاق اور صدقہ )

راہ خدا میں خرچ کرنا

احکامات اسلامی میں سے ایک حکم کہ جس کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے وہ انفاق ،صدقہ دینا یعنی راہ خدا میں خرچ کرنا ہے اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ قرآن مجیدنے بہت سی آیتوں میں اس امر کی جانب اشارہ کیاہے اور اس امر کے انجام دینے کی تاکید فرمائی ہے جیسا کہ قرآن مجید کی ابتدائی آیات ہی میں خداوند عالم پرہیز گاروں کی ایک صفت" انفاق" کو قرار دے رہا ہے ارشاد الہی ہوتا ہے"اس کتاب میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے یہ پرہیزگاروں کے لئے راہنما ہے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور پابندی سے نماز ادا کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں(1)

روایات میں بھی صدقہ دینے اور راہ خدا میں خرچ کرنے کی بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے اور اس کے بہت زیادہ فائدے بیان کئے گئے ہیں۔پیغمبر اکرم کاارشادہے :صدقہ شیطان کی کمر کو توڑ دیتا ہے۔(2)

حضرت امام جعفر صادق(ع) نے ارشاد فرمایا:پیغمبر اکرم نے ارشاد فرمایا:لوگ تین گروہ میں تقسیم ہو گئے ہیں کچھ لوگ محتاج ہیں ،کچھ لوگ انفاق کرتے ہیں اور راہ خدا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1) سورہ بقرہ آیت 2۔3 (2)سفینة البحار

۹۰

میں خرچ کرتے ہیں ،اور کچھ لوگ راہ خدا میں خرچ کرنے سے خودداری کرتے ہیں ،انمیں سے بہترین وہ ہیں جو انفاق کرتے ہیں ۔

صدقہ و خیرات دینے کے آداب :

٭ جب بھی آپ کے ذہن میں راہ خدا میں خرچ کرنے اور صدقہ دینے کا خیال آئے تو آپ جلد سے جلد اس کام کو انجام دیں کیونکہ شیطان آپ کو بہکا سکتا ہے۔جبکہ صدقہ شیطان کو آپ سے دور کرتا ہے ۔

٭فضیلت والے دنوں مانند روز جمعہ،روز عید غدیر،ایام ولادت ائمہ معصومین ،ماہ ذی الحجہ،ماہ رمضان میں صدقہ دینا چاہئے۔جیسا کہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : میرے والد ہمیشہ روز جمعہ صدقہ دیتے تھے اور فرماتے تھے روز جمعہ صدقہ دینے کی اہمیت زیادہ ہے کیونکہ روز جمعہ دوسرے ایام پر برتری رکھتا ہے۔(1)

٭ جو کچھ بھی انفاق کریں یا صدقہ دیں وہ بہترین مال یا بہترین چیزوں میں سے ہو ۔جیسا کہ خداوند عالم کا ارشاد ہے"اے ایمان والو اپنی پاک کمائی اور ان چیزوں میں سے جو ہم نے تمہارے لئے زمین سے پیدا کی ہیں خداکی راہ میں خرچ کرو اور برے مال کو خدا کی راہ میںدینے کا قصد بھی نہ کرو(2)

٭صدقہ دینے کے بعد کسی پر احسان نہیں جتا نا چاہیے ورنہ ہم کو اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچے گاجیسا کہ ارشاد الہی ہو رہا ہے"اے صاحبان ایمان اپنی خیرات کو احسان جتانے اور سائل کو ایذا دینے کی وجہ سے اس شخص کی طرح اکارت مت کرو جو اپنا مال محض

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1) بحارالانوار(2) سورہ بقرہ

۹۱

لوگوں کے دکھانے کے واسطے خرچ کرتا ہے اور خدا و روز قیامت پر ایمان نہیں رکھتا،تو اس کی خیرات کی مثل اس چکنی چٹان کی سی ہے جس پر کچھ خاک پڑی ہوئی ہو پھر اس پر زورو شور کا پانی برسے اور اس مٹی کوبہا کر چکناچپڑا چھوڑ جائے اسی طرح ریا کار افراداپنی اس خیرات یا اسکے ثواب میں سے جو انہوںنے کی ہے کسی چیز پر قبضہ نہیں پائیں گے۔۔۔"(1)

اسی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:"جو شخص اپنے مومن بھائی کے ساتھ نیکی کرتا ہے اور پھر اس پر احسان جتاتا ہے تو خداوند اس کے اس عمل کو ساقط کر دیتا ہے" یعنی قبول نہیں کرتا ہے۔

٭مستحق کی مددکرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ آ پ کے اس عمل سے اس کی ذلت نہ ہو ،جو کچھ بھی دیں اس طرح دیں کہ جیسے آپ کسی کو ہدیہ دے رہے ہیں ۔ کوشش کریں کہ سائل کو آپ کے دروازے پر آنا نہ پڑے بلکہ آپ خود اس کے دروازے پر جا کر اس کی مدد کریں۔"اسحاق بن عمار کا بیان ہے : امام صادق علیہ السلام نے مجھ سے سوال کیا اے اسحاق!اپنی زکوہ کے مال کو کس طرح ادا کرتے ہو ؟اسحاق نے کہا :لوگ میرے گھر پر آتے ہیں اور زکوہ کا مال لے جاتے ہیں ۔ حضرت نے فرمایا اے اسحاق میری نظر میں تم نے ان کو ذلیل و رسوا کیا ہے ۔۔۔"(2)

٭جو کچھ بھی راہ خدا میں خرچ کرے اس کو اہمیت نہ دے اور یہ نہ سوچے کے اس نے اس عمل سے خدا کو راضی کر لیا ہے کیونکہ یہ امر باعث غرور ہوگا اور غرور اجر کو ضائع کر دیتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورہ بقرہ ،(2)وسائل الشیعہ

۹۲

٭ اگر قدرت رکھتا ہے تو اس قدر فقیر کو عطا کرے کہ اس کی مشکل حل ہو جائے اور اس کو در در بھٹکنا نہ پڑے۔

٭ یہ کہ انفاق و صدقہ دیتے وقت تواضع اور انکساری سے پیش آئیں اور فقیر کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں ۔امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: سائل کو حقارت اور خفت کے ساتھ نہ پکارو اور اس کوبہترین طریقہ سے پکارو

٭سائل کو اس کے سوال کرنے سے پہلے عطا کرنا چاہئے ۔کیونکہ سوال کرنے کے بعد جو عطا کیا جاتا ہے وہ سائل کی عزت و آبرو کی قیمت کے مانند ہے۔(1)

٭جب بھی آپ فقیر کو کچھ عطا کریں اس سے طلب دعا کریں کیونکہ فقیر کی دعا اس کے حق میں مستجاب ہوتی ہے۔امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :"جب کس فقیر کی مدد کرو تو اس سے طلب دعا کرو کیونکہ اس کی دعا تمہارے حق میں مستجاب ہوتی ہے"(2)

صدقہ و خیرات لینے کے آداب :

٭جس چیز کی ضرورت نہیں ہے اس کا سوال نہ کرے اور جو کچھ بھی لے اس میں اسراف نہ کرے اور اپنی ضرورت کے مطابق ہی لے۔

٭جب بھی کچھ ملے تو خدا کا شکر ادا کرے اور خیرات کرنے والے کا حق پہچانے اور اس کے لئے دعا کرے۔

٭جتنی مقدار میں بھی اس کو دیا جائے اس کو کم شمار نہ کرے اور دینے والے کی مذمت نہ کرے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)وسائل الشیعہ،(2)فروع کافی

۹۳

٭جو لوگ حرام و حلال کا پاس نہیں کرتے ان سے کچھ نہ لے۔

٭سب کے سامنے سوال کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے ۔

٭جو کچھ بھی ملے اس کا اظہار نہ کرے تاکہ اس کی آبرو باقی رہے مگر یہ کہ اظہار کی غرض شکر گزاری ہو۔

صدقہ دینے کے فائدے :

٭ غضب خداوندی کوخاموش کرتا ہے:-حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے کہ :صدقہ دینے سے غضب خداوندی سے نجات ملتی ہے۔(1)

٭مریض کی شفاکا باعث ہوتا ہے:-حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے کہ :اپنے مریضو ںکاعلاج صدقہ کے ذریعہ سے کرو۔

ایک شخص امام موسی کاظم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی پریشانیوں کو بیان کیا کہ میر خاندان میں دس افرد ہیں اور وہ سب کے سب مریض ہو گئے ہیں ،آپ نے فرمایا ان کا علاج صدقہ دینے سے کروکیونکہ کو ئی چیز صدقہ سے زیادہ فائدہ نہیں پہنچاتی میرے نزدیک مریض کے لئے صدقہ سے زیادہ فائدہ مند کوئی چیز نہیں ہے۔

٭روزی حاصل ہوتی ہے:-حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے کہ :صدقہ کے ذریعہ اپنی روزی حاصل کرو۔

٭فقر کو برطرف کرتا ہے:-حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے فرزند محمدسے سوال کیا کہ نان و نفقہ میں سے کتنا اضافی مال تمہارے پاس ہے فرمایا 40 دینار

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)معراج السعادہ،

۹۴

امام(ع) نے فرمایا اس کو صدقہ میں دے دو محمد نے فرمایا ان کے علاوہ میرے پاس کچھ نہیں ہے ،امام (ع) نے فرمایا:کیا تم نے نہیں سنا ہے کہ ہر چیز کے لئے ایک کنجی ہے اور روزی کی کنجی صدقہ ہے۔

حضرت امام محمدباقر علیہ السلام فرماتے ہیں: نیکی کرنے اور صدقہ دینے سے فقر دور ہوتا ہے۔

٭طول عمر کا باعث ہوتا ہے:-حضرت امام محمدباقر علیہ السلام فرماتے ہیں: صدقہ عمر کے طولانی ہونے کا باعث ہوتا ہے۔

٭ بری اور ناگہانی موت سے بچاتا ہے:-حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کاارشادہے : صدقہ بری اور ناگہانی موت سے مانع ہوتا ہے۔

٭گناہوں کو ختم کرتا ہے:-حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے :کہ رات میں صدقہ دینا غضب الہی سے نجات کا باعث ہوتا ہے اور گناہانان کبیرہ کو بھی ختم کرتا ہے۔

٭ قیامت کے حساب و کتاب کو آسان بناتا ہے:-حضرت ابو عبداللہ امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے :کہ صدقہ دینے سے روز قیامت کے حساب و کتاب میں آسانی ہوجاتی ہے۔

٭ ایام کی نحوست کو برطرف کرتا ہے:-حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے :کہ ہر وہ شخص جو کہ صدقہ کے ساتھ دن کی شروعات کرے گا تو خداوند عالم اس دن کی نحوست اور برائیوں کو اس سے دور کر دیگا۔(1)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)بحار الانوار،

۹۵

٭شہروںکو آباد کرتاہے:-حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایاہے : صدقہ دینے اور صلہ رحم سے شہر آباد ہوتے ہیں۔

٭ صدقہ بغیر واسطہ کے خداوند عالم تک پہنچتا ہے:حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:ہر چیز کے حصول کے لئے خداوند عالم نے ملک کو قراردیاہے مگر صدقہ سیدھے خداوند کے ہاتھوں میں جاتاہے۔ بحار الانوار،

٭ شر و بدی کے ستر دروںکو بند کرتا ہے:-حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کاارشاد ہے: کہ صدقہ دینے سے شر و بدی کے ستر باب بند ہوجاتے ہیں۔یعنی صدقہ انسان کی حفاظت کرتا ہے۔

٭ قرض کی ادائیگی کا باعث ہوتا ہے:-حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:صدقہ انسان کے قرض کو ادا کرتاہے ۔

٭قضاالہی کو برطرف کرتا ہے:-حضرت اما م علی علیہ السلام نے فرمایا: صدقہ قضاآسمانی کو برطرف کرتا ہے

٭ مشکلات کو حل کرتا ہے:-حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا:اگر تمہارے لئے کوئی مشکل پیش آئے تو کوئی چیز صدقہ کے عنوان سے جو پہلافقیر تم کو ملے اسے دے دو خداوندعالم تم سے اس مشکل کو دور فرمادیگا۔

٭پاداش اخروی کا باعث ہوتا ہے:-حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا : جو بھی صدقہ دیتا ہے تو خداوندعالم ہر درہم کے مقابلہ میں کو ہ احد کے برابر جنت میں اس کو اجر عطا کرے گا۔(1)

۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)بحار الانوار

۹۶

٭شیطان کی کمر کو شکستہ کرتا ہے:-حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: کہ صدقہ شیطان کی کمر کو توڑ دیتا ہے یعنی شیطان کو بے بس کر دیتا ہے(1)

٭ موت کی تا خیر کا باعث ہوتا ہے:-حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:اے'' میسر''کئی بار تمہاری موت کا وقت قریب آیا لیکن خداوند عالم نے صدقہ کی بنا پر اس کو تم سے دور کردیا ۔

٭قیامت کی گرمی میں سائبان ہے:-حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کی زمین آفتاب کی تپش سے جل رہی ہوگی لیکن مومن کے اوپر سائبان ہوگا کیونکہ اس نے جو صدقہ دنیا مین دیا ہو گا وہ سائبان کی شکل میںگرمی سے اس کی حفاظت کر ے گا۔

٭ زیادتی مال کا باعث ہوتا ہے:-حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کاارشاد ہے : کہ صدقہ دو کیونکہ صدقہ دینے سے مال میں اضافہ ہوتا ہے۔(2)

٭ جزام اور برص کے مرض سے انسان کو نجات دیتاہے:-صدقہ سترطرح کی بلاں سے انسان کو نجات بخشتا ہے جن میں سے جذام اور برص قابل ذکر ہیں(3)

٭بہترین ذخیرہ ہے:-حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے : صدقہ

تمہارے لئے بھترین مال اور بھترین ذخیرہ ہے۔

٭جہنم کی آگ کے لئے سپر ہے:-حضرت اما م علی علیہ السلام نے فرمایا: صدقہ انسان کو جھنم کی آگ سے بچاتا ہے۔(4)

٭محافظ ایمان ہے:-حضرت اما م علی علیہ السلام نے فرمایا:اپنے ایمان کی حفاظت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1) سفینةالبحار(2) بحار الانوار (3) کنز العمال (4)وسائل الشیعہ

۹۷

صدقہ کے ذریعہ کرو۔(1) صدقہ دینے کے بہت سے فائدے روایات میں ذکر ہوئے ہیںجن کا شماراختصار کی بنا پر نہیں کیا گیاہے،بعض فوائد یہ ہیں: حیوانات اور درندوں کے شر سے بچاتاہے،انسان کی دولت کی حفاظت کرتا ہے،دس راتوں کی مستحب نمازوں سے افضل ہے،فایدہ مند تجارت ہے،خداوند اس کا بدلہ ضرور دیتا ہے۔وغیرہ وغیرہ۔

سوالات:

1۔صدقہ کی اہمیت کے بارے میں کوئی دو روایات بیان کیجئے ؟

2۔ صدقہ و خیرات دینے کے آداب میں سے کوئی پانچ آداب ذکر کیجئے ؟

3۔ صدقہ و خیرا ت لینے کے آداب میں سے کوئی پانچ آداب ذکر کیجئے ؟

4۔صدقہ دینے کے کوئی پانچ فائدے بیان کیجئے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)نہج البلاغہ،حکمت

۹۸

درس نمبر25

( امانت اور امانت داری )

احکام اسلامی میں سے ایک حکم امانت داری ہے ۔کیونکہ ایک مضبوط و سالم معاشرہ کے لئے بنیادی طور پر باہمی اعتماد کا ہونا لازم و ضروری ہے۔اسی لئے صرف اسی معاشرے کو خوشبخت و سعادت مند سمجھنا چاہئے جس کے افراد کے درمیان مکمل رشتہ اتحاد و اطمینان پایا جاتا ہو ،لیکن اگر معاشرے کے افراد اپنے عمومی فرائض کی سرحدوں کو پار کر لیںاور دوسروں کے حقوق کے ساتھ خیانت کرنے لگیں تو وہیں سے معاشرے کے زوال کی ابتدا ہونے لگتی ہے۔اسی لئے قرآن و حدیث میںامانتداری کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ارشاد باری تعالی ہے:''اے ایمان والو! خدا اور رسول اور اپنی امانتوں میں خیانت نہ کرو جبکہ تم جانتے بھی ہو۔(1)

قرآن مومنین کے صفات میں سے ایک صفت "امانت داری "کو قرار دیتے ہوئے فرما تاہے: "اور جو مومنین اپنی امانتوں اور وعدوں کا لحاظ رکھنے والے ہیں ۔۔۔ درحقیقت یہی وارثان جنت ہیں(2)

دوسری جگہ ارشاد الہی ہو رہا ہے:"بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتوں کو ان کے اہل تک پہنچا دو ''(3)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورہ انفال (2)سورہ مومنون (3)سورہ نسا،

۹۹

آیت اللہ جوادی آملی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :"لفظ امانت عام ہے وہ مال ہو یا علم یاراز یا احکام دین یا کوئی اورشے جس کو خدا نے بندے کے پاس رکھوادیا ہے اس کا اہل تک پہچانا ضروری ہے اور خیانت کرنا حرام ہے۔ اسی لئے رسول امین ،خدا سے قرآن و اہلبیت(ع)لائے اورامت کے حوالے کر گئے، اپنے ساتھ واپس لے کر نہیں گئے ۔ "

لیکن افسوس یہ کہ امت نے اس امانت کا پاس نہیں کیابلکہ آپ اور اسلام کی تمام نصیحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آپ کے بعداہلبیت(ع) کے ساتھ ایسا برتا کیا کہ قلم بھی اس کی عکاسی کرنے سے قاصر نظر آتا ہے ۔ لعن اللہ علی الظالمین۔

روایات میں امانت اور امانت داری کی بہت تاکید کی گئی ہے اور خیانت کرنے والے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔

حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے:جو بھی امانت میں خیانت کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔(1)

دوسری جگہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے: "جو شخص بھی امانت کا پاس و لحاظ نہیں رکھتا ہے و ہ دین بھی نہیں رکھتا ہے۔

حضرت امام علی علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے:"جو شخص امانت دار نہیں ہے اس کا کوئی دین نہیں ہے۔(2)

حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ: " فقط لوگوں کے طولانی رکوع اور سجود پر نگاہ نہ کرو کیونکہ ممکن ہے یہ کام و ہ عادتا کرنے لگے ہوں اور اگر ترک کریں گے تو انکے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)مشکو الانوار،(2)بحار الانوار

۱۰۰

101

102

103

104