معارف اسلامی کورس (عقائد، احکام،اخلاق ) جلد ۲

معارف اسلامی کورس (عقائد، احکام،اخلاق )36%

معارف اسلامی کورس (عقائد، احکام،اخلاق ) مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 204

جلد ۱ جلد ۲
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 204 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 33177 / ڈاؤنلوڈ: 3139
سائز سائز سائز

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

منزہ ہے ،اور میں اس کی حمد و ثنا، کرتا ہوں ،رکوع کے بعد سیدھاکھڑاہوجائے اور کھڑے ہو کر کہے:''سَمِعَ اللّٰهُ لِمَن حَمِدَه ' یعنی خدا وند عالم اپنے بندے کی حمد وثنا قبول کرنے والا ہے،یہ پڑھنا مستحب ہے ۔

5۔ سجدہ : رکوع کے بعد سجدہ میں جائے یعنی پیشانی کو زمین پر یا جو چیز اس سے اگتی ہے (لیکن کھانے اور پہننے والی نہ ہو )اس پر رکھے اور حالت سجدہ میں پیشانی، دونوں ہاتھوں کی ہتھیلی اور دونوں گھٹنے دونوں انگوٹھے کے سرے کو زمین پر رکھے پھر پڑھے:'' سُبحَانَ رَبِّیَ الاَعلَیٰ وَبِحَمدِه ''یا تین مرتبه '' ُسبحَانَ اللّٰه ِ '' (میرا پروردگار ہر ایک سے بالا وبرتر ہے اور ہر عیب و نقص سے پاک و منزہ ہے اور میں اس کی حمد کرتا ہوں ) پڑھے ۔ پھر سجدہ سے سر اٹھائے اور تھوڑا ٹھہر کر پھر دوبارہ سجدہ میں جائے اور سجدۂ دوم سے سر اٹھا کر تھوڑی دیر بیٹھے اور دوسری رکعت کے لئے کھڑاہو جائے اور کھڑے ہوتے وقت پڑھے'' بِحَولِ للّٰهِ وَقُوَّتِه اَقُومُ وَاَقعُدُ'' (میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی قدرت و مدد سے کھڑا ہوتا اور بیٹھتا ہوں )یہ کہنا مستحب ہے جب سیدھے کھڑا ہو جائے تو پھرالحمد اور دوسرا سورہ پہلی رکعت کی طرح پڑھے ۔

٭ قنوت : سورہ حمد اور دوسرے سورہ سے فارغ ہونے کے بعد دونوں ہاتھوں کو چہرے کے سامنے لا کر قنوت (دعا) پڑھے:''رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنیَا حَسَنَةً وَفِی الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ'' ( اے پروردگار! دنیا اور آخرت میں ہم کو حسنہ مرحمت فرما اور جہنم کے عذاب سے بچا ) دونوں ہاتھوں کو نیچے لائے اوپہل کی طرح رکوع کرے۔

٭ قنوت پڑھنا واجب نہیں بلکہ مستحب اور فضیلت و ثواب کا باعث ہے ۔

۶۱

6۔ تشہد : تمام نمازوں میں دوسری رکعت کے کامل کرنے کے بعد دوسرے سجدہ سے سر اٹھا کر بیٹھ جائے اور اس طریقے سے تشہد پڑھے :'' ِ اَشهَدُ اَن لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحدَه لَا شَرِیکَ لَه وَاَشهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبدُه وَرَسُولُه، اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ '' میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے وہ یگانہ ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد(ص) خدا کے بندے اور اس کے رسول ہیں خداوند ا ! محمد(ص) اور ان کی آل پر درود بھیج ۔

٭نماز مغرب میں پہلے تشہد کے بعد سلام نہیں پڑھنا چاہیے بلکہ کھڑے ہوجائے اور کھڑے ہوکر اطمینان کی حالت میں تیسری رکعت کو شروع کرے پھر رکوع و سجود و تشہد کے بعد سلام پڑھے ،اور نماز ظہر و عصر و عشا میں پہلے تشہد کے بعد سلام نہ پڑھے بلکہ کھڑے ہو کر تیسری اور چوتھی رکعت کے بعد بیٹھ کر تشہد و سلام پڑھے۔

7۔ سلام : نماز صبح میں تشہد کے بعد سلام اس طرح سے پڑھے :

'' اَلسَّلَامُ عَلَیکَ اَیُّهَا النَّبِیُّ وَرَحمَةُ اللّٰهِ وَبَرَکَاتُه ''

اے نبی(ص) !آپ پر سلام اور خدا کی رحمت و برکت ہو

'' اَلسَّلَامُ عَلَینَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِینَ ''

ہم پر اور خدا کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو،

'' اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم وَرَحمَةُ اللّٰهِ وَبَرَکَاتُه ''

تم پر سلام ہو اور خدا کی رحمت و برکتیں ہوں ۔

8۔ترتیب : بیان شدہ ترتیب کے مطابق انجام دے

9۔ موالات : تمام اعمال کو پے در پے انجام دے

۶۲

٭۔ تسبیحات اربعہ : نماز مغرب کی تیسری اور نماز عشا ،ظہر و عصر کی تیسری و چوتھی رکعت میں سورہ حمد کے بجائے تسبیحات اربعہ پڑھے :

'' سُبحَانَ اللّٰهِ وَالحَمدُ لِلّٰهِ وَلَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ اَکبَرُ '' خداوند عالم پاک ومنزہ ہے حمد و ثنا اس کے لئے مخصوص ہے اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں خدا اس سے کہیں بزرگ ہے کہ اس کی تعریف کی جائے ۔

٭نماز پڑھنے والے کا جسم ،لباس اور مکان پاک ہونا چاہیے اور لباس ومکان پاک ہونے کے ساتھ مباح بھی ہوں اوعر لباس حرام گوشت جانور یا مردار کی جلد اور کھال سے بنا ہوا نہیں ہونا چاہیے ۔

٭نماز پڑھنے والی عورت ، جنابت و حیض و استحاضہ و نفاس سے اور مرد جنابت سے پاک ہو ۔

سوالات:

1۔نماز کی ترکیب بتائیے ؟

2۔کیا تکبیرة الاحرام کہتے وقت ہاتھوں کاکانوں کی لو تک لیجا نا واجب ہے ؟

3۔قنوت کونسی رکعت میں پڑھتے ہیں ،اور کیا اس کا پڑھنا واجب ہے ؟

4۔اگر کوئی شخص نجس لباس میں نماز پڑھ لے تو کیا اس کی نماز صحیح ہے ؟

5۔اگر کوئی شخص کسی ایسے شخص کی جگہ پر نمازپڑھے جس کے بارے میں جانتا ہو کہ وہ راضی نہیں ہے تو کیا اس جگہ پر نمازپڑھنا صحیح ہے ۔؟

۶۳

درس نمبر 16

( نماز کے ارکان )

نماز کے پانچ ارکان واجب ہیں :

1۔ نیت۔

2 ۔تکبیرة الاحرام۔

3۔ قیام ، تکبیرة الاحرام کہتے وقت اور رکوع میں جانے سے پہلے جس کو قیام متصل بہ رکوع کہا جاتا ہے یعنی رکوع سے پہلے کھڑے ہونا ۔

4۔رکوع۔

5۔ دونوں سجدے

عمداً و سہواً یا ان ارکان کو کم یا زیادہ کرنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے ۔

نماز کو باطل کرنے والی چیزیں

مبطلات نماز :

ان کاموں کو انجام دینے سے نماز باطل ہوجاتی ہے :

1۔وضو کے ٹوٹ جانے سے نماز باطل ہوجاتی ہے ، چاہے عمداً ہو یا سہواً ۔

2۔ جان بوجھ کر دنیا کے متعلق گریہ کرنا ۔

3۔ عمداً قہقہ کے ساتھ ہنسنا ۔

4۔ جان بوجھ کر کھانا اور پینا ۔

۶۴

5۔ بھول کر یا جان بوجھ کر کسی رکن کو کم یا زیادہ کردینا ۔

6۔ حمد کے بعد آمین کہنا ۔

7۔ سہواً یا عمداً قبلہ کی طرف پیٹھ کرنا ۔

8۔ بات کرنا ۔

9۔ ایسا کام کرنا جس سے نماز کی صورت ختم ہو جائے جیسے تالی بجانا اوراچھلنا ،کودنا وغیرہ۔

10۔ پیٹ پر ہاتھ باندھنا ( اہل سنت کی طرح ) ۔

11۔ دو رکعتی یا تین رکعتی نماز کی رکعتوں میں شک کرنا ۔

مسافر کی نماز :

درج ذیل شرائط کے ساتھ مسافر کو چاہیے کہ چار رکعتی نماز کو دو رکعت پڑھے :

1۔ سفرآٹھ فرسخ سے کم نہ ہو(43 کلو میٹر) جسکی آمدورفت آٹھ فرسخ ہو جاتی ہے وہ نماز کو قصر پڑھے ۔

2۔ابتداء سے آٹھ فرسخ کی نیت ہو

3۔راستے میں اپنا ارادہ نہ بدل دے

4۔منزل تک پہنچنے سے پہلے اپنے وطن سے نہ گزرے اور اثنائے راہ میں دس دن یا زیادہ دن قیام نہ کرے

5۔ اس کا سفر کسی حرام کام کے لئے نہ ہو ، جیسے سفر کرے چوری یا مومن کے قتل کرنے کے لئے اسی طرح عورت بغیر شوہر کی اجازت کے گھر سے باہر نکلے ۔

6۔صحراء نشین خانہ بدوش نہ ہو ۔

۶۵

7۔اس کا مشغلہ اور کام مسافرت نہ ہو ۔

8 ۔ حد ترخّص تک پہنچ جائے ۔یعنی وطن یا اپنے ٹھہرنے کی جگہ سے اتنا دور ہوجائے کہ شہر کی اذان کی آواز کو نہ سنے اور شہر کے لوگ اس کو نہ دیکھ سکیں

٭جو مسافر سفر میں ایک جگہ دس دن رہنے کا ارادہ رکھے تو جب تک وہاں پر قیام ہے نماز پوری پڑھے اور وہ مسافر جو تیس دن تک متردد حالت میں رہ رہا ہو تیسویں دن کے بعداسے چاہیے کہ نماز کو پوری پڑھے ۔

سوالات:

1۔نمازکے ارکان سے کیا مراد ہے ؟

2۔ نمازکے ارکان بیان کیجئے ؟

3۔مبطلات نماز کیا ہیں ؟

4۔ کن شرائط کے ساتھ نماز قصر ہوجاتی ہے ؟

5۔ حد ترخّص سے کیا مراد ہے؟

۶۶

درس نمبر 17

( روزہ )

اسلام کے اہم واجبات میں سے روزہ ہے ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی (ص) نے فرمایا : روزہ جہنم کی آگ کے مقابلہ میں ڈھال ہے۔(1)

تمام مسلمانوں پر رمضان کے مہینے کا روزہ کھنا واجب ہے ، یعنی صبح صادق سے لے کر مغرب تک تمام وہ کام جو روزہ کو باطل کر تے ہیں ان سے اجتناب و پرہیز کرے ۔

مبطلات روزہ: روزہ کو باطل کرنے والے امور درج ذیل ہیں :

1۔ کھانا اور پینا۔

2۔ غلیظ گردوغبار کا حلق تک پہنچانا ۔

3۔ قے کرنا۔

4۔ جماع کرنا

5۔ حقنہ کرنا۔

6۔ پانی میں سر ڈبونا۔

7۔ اللہ اور اس کے رسول(ص) پر جھوٹا الزام لگانا۔

8۔ استمناء (منی نکالنا )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ وافی ،ج2، جز 7، ص5 ۔

۶۷

( 9 ) صبح کی اذان تک جنابت و حیض و نفاس پر باقی رہنا ۔

٭اگر یہ روزہ توڑنے والی چیزیں عمداً واقع ہو تو روزہ باطل ہوجاتا ہے

لیکن اگر بھول چوک یا غفلت کے سبب واقع ہو تو روزہ باطل نہیں ہوتا ہے سوائے جنابت و حیض و نفاس پر باقی رہنے کے ، کہ اگر سہواً اور غفلت کی وجہ سے بھی ہو، تو بھی روزہ باطل ہے ۔

وہ افراد جو روزہ کو توڑ سکتے ہیں

1۔ بیمار :جس پر روزہ رکھنا ضرر کا باعث ہو ۔

2۔ مسافر، انھیں شرائط کے ساتھ جو مسافر کی نماز کے متعلق بیان ہوئی ہیں۔

3۔ وہ عورت جو ماہواری (حیض کی حالت میں ) یا نفاس میں ہو ۔

٭ان تینوں قسم کے افراد کو چاہیے کہ اپنے روزہ کو توڑدیں اور عذر کو بر طرف ہونے کے بعد روزہ کی قضا کریں ۔

4۔ حاملہ عورت جس کا وضع حمل قریب ہو اور روزہ خود اس کے لئے یا اس کے بچے کے لئے ضرر کا باعث ہو ۔

5۔ بچے کو دودھ پلانے والی عورت جبکہ روزہ رکھنے سے دودھ میں کمی آتی ہو اور بچہ کی تکلیف کا سبب ہو۔

6۔ بوڑھے مرد اور بوڑھی عورتیں جن پر روزہ رکھنا سخت اور دشوار ہے ۔

٭مندرجہ بالا خواتین عذر کے زائل ہونے کے بعد اپنے روزے کی قضا اور تین پائو گیہوں فقیر کو دیں گی ۔

٭اگر یہ لوگ رمضان کے بعد بآسانی روزہ رکھ سکتے ہوں تو قضا کریں ، لیکن اگر ان

۶۸

پر روزہ رکھنا دشواری کا باعث ہو تو قضا واجب نہیں ہے ، لیکن ہر روزہ کے بدلے تین پائو گیہوں فقیر کو دیں۔

٭جو شخص عذر شرعی کے بغیر ماہ رمضان کے روزے نہ رکھے یا توڑ دے تو اسے چاہیے کہ اس کی قضا کرے اور ہر روزہ کے بدلے ساٹھ روزہ رکھے یا ساٹھ فقیروں کو کھانا کھلائے ۔

سوالات:

1۔مبطلات روزہ بیان کیجئے ؟

2۔ اگر کسی شخص کو قے آجائے تو کیا اسکا روزہ باطل ہے ؟

3۔ کونسے افراد روزہ توڑ سکتے ہیں ؟

4۔ جو شخص عذر شرعی کے بغیر ماہ رمضان کے روزہ ے نہ رکھے یا توڑ دے اسکا کیا حکم ہے ؟

۶۹

درس نمبر18

( زکوٰة )

اسلام کی واجب چیزوں میں سے ایک زکواة ہے ، حضرت امام صادق نے فرمایا : جو شخص اپنے مال کی زکواة نہ دے وہ نہ مومن ہے اور نہ ہی مسلمان ہے(1)

زکوٰةنو (9) چیزوں پر واجب ہے :

( 1 ) گیہوں (2) جو (3) کھجور (4) کشمش (5) گائے بھینس (6) بھیڑ بکری ( 7) اونٹ(8) سونا ( 9) چاندی ۔

دین اسلام نے ان چیزوں کے لئے ایک حد و مقدار بیان فرمائی ہے اگر اس حد تک پہنچ جائے تو اس میں زکوٰة دینا واجب ہوگی اگر اس مقدار تک نہ پہونچے تو اس پر زکوٰة واجب نہ ہوگی اس حد کو نصاب کہتے ہیں ۔

گیہوں ، جو ، کھجور اور کشمش : ان چار چیزوں کا نصاب 847کلو گرام ہے اگر اس مقدار سے کم ہوتو اس پر زکوٰة واجب نہیں ہے ، زکوٰة نکالتے وقت یہ نکتہ بھی ذہن نشین رہے کہ جو زراعت پر اخراجات ہوئے ہیں ان سب کو نکال کر اگر نصاب کی حد تک پہنچے تو زکوٰة واجب ہو گی ،باقی چیزوں کے نصاب کی مقدار جاننے کے لئے مفصل کتب کی طرف رجوع فرمائیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(ا)۔ وافی، ج2 ،ص5 ، جز 6 ۔

۷۰

( خمس )

اسلام کے مالی حقوق میں سے ایک خمس ہے جو تمام مسلمانوں پر فرض ہے ۔

سات چیزوں پر خمس دینا واجب ہے :

1۔ کاروبار کے منافع ، انسان کو زراعت و صنعت و تجارت مختلف اداروں میں ملازمت کاریگری وغیرہ سے جو آمدنی ہوتی ہے اس میں سے (مثلاً کھانا ،پینا، لباس ، گھر کا ساز وسامان ، گھر کی خریداری ، شادی ، مہمان نوازی ، مسافرت کے خرچ وغیرہ کے بعد ) سالانہ خرچ سے جو بچ جائے اس بچت کا پانچواں حصہ بعنوان خمس ادا کرے ۔

2۔ کان سے جو سونا ،چاندی ،لوہا ، تانبہ ، پیتل ، تیل ، نمک ، کوئلہ ، گندھک معدنی چیز برآمد ہوتی ہے اور جو دھاتیں ملتی ہیں، ان سب پر خمس واجب ہے ۔

3۔ خزانے ۔

4۔ جنگ کی حالت میں مال غنیمت ۔

5۔ دریا میں غوطہ خوری کے ذریعہ حاصل ہونے والے جواہرات ۔

6۔جو زمین مسلمان سے کافر ذمی خرید ے اس کو چاہیے کہ پانچواں حصہ اس کا یا اس کی قیمت کا بعنوان خمس ادا کرے ۔

7۔ حلال مال جو حرام مال میں مخلوط ہوجائے اس طرح کہ حرام کی مقدار معلوم نہ ہو اور نہ ہی اس مال کو پہچانتا ہو، تو اسے چاہیے ان تمام مال کا پانچواں حصہ خمس دے تاکہ باقی مال حلال ہوجائے ۔

٭جو شخص خمس کے مال کا مقروض ہے اس کو چاہیے کہ مجتہد جامع الشرائط یا اس کے

۷۱

کسی وکیل کو دے تاکہ وہ عظمت اور ترویج اسلام اور غریب سادات کے مخارج کو اس سے پورا کرے۔

٭خمس و زکوٰة کی رقوم اسلامی مالیات کا سنگین اور قابل توجہ بجٹ ہے۔

اگر صحیح طریقہ سے اس کی وصولی کی جائے اور حاکم شرع کے پاس جمع ہوتو اسے مسلمانوں کے تمام اجتماعی کاموں کو بطور احسن انجام دیا جا سکتا ہے ، یا فقیری و بیکاری اور جہالت کا ڈٹ کر مقابلہ اور اس سے لاچار و فقیر لوگوں کی دیکھ بھال کی جا سکتی ہے اور لوگوں کے ضروری امور کہ جس کا فائدہ عمومی ہوتا ہے اس کے ذریعہ کرائے جا سکتے ہیں مثلاًہسپتال ، مدرسہ ، مسجد ، راستہ ، پل اور عمومی حمام وغیرہ کی تعمیرکا کام ۔

سوالات:

1۔ حضرت امام صادق نے زکات کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا ؟

2۔ زکات کن چیزوں پر واجب ہے ؟

3۔گیہوں ، جو ، کھجور اور کشمش کی کتنی مقدار پر زکوٰة واجب ہوتی ہے ؟

4۔خمس کتنی چیزوں پر واجب ہے ؟

5۔ خمس کی رقم کسے ادا کرنی چاہیے ؟

۷۲

درس نمبر 19

( حج )

جو شخص جسمانی اور مالی قدرت رکھتا ہو توااس پر پوری عمر میں ایک مرتبہ خانہ کعبہ کی زیارت کے لئے جانا واجب ہے ۔ یعنی اس کے پاس اتنا مال موجود ہو کہ اگر وہ اپنے مال سے حج کے اخراجات نکال لے تو واپس آنے پر بیچارہ حیران و سرگرداں نہ پھرے بلکہ مثل سابق اپنی زندگی اور کام وغیرہ کو ویسے ہی انجام دے سکے ۔

حضرت امام صادق نے فرمایا : جو شخص مر جائے اس حال میں کہ عذر شرعی کے بغیر اپنے واجبی حج کو ترک کردے تو ایسا شخص دنیا سے مسلمان نہیں جاتا بلکہ وہ یہود و نصاریٰ کے ساتھ محشور ہوگا ۔

حج اسلام کی بڑی عبادتوں میں سے ایک عبادت ہے ،دنیا کے تمام مسلمان ایک جگہ اور ایک مقام پر جمع اور ایک دوسرے کے رسوم و عادات سے آشنا ہوتے ہیں اور ہر ملک کے عمومی حالات کے تبادلۂ خیالات کے نتیجہ میں علمی سطح میں اضافہ ہوتا ہے،اس کے علاوہ مسلمان اسلام کی مشکلات اور مہم خطرات سے با خبر ہوتے ہیں، اسی کے ساتھ ایک دوسرے کے اقتصادی اور سیاسی و فرہنگی پروگراموں کے سلسلہ میں باز پرس کرتے ہیں نیز عمومی مصالح و فوائد پر آپس میں گفتگو کرتے ہیں جس سے اتحاد ، ہم فکری اور آپسی دوستی کے روابط مستحکم ہوتے ہیں۔

۷۳

( جہاد )

اسلام کا ایک مہم دستور جہاد ہے ۔ خدا پرستی کی ترویج و احکام اسلام کے نفوذ ، کفر و بے دینی اور اسلام کے دشمنوں کے خلاف جنگ کرنے کو جہاد کہتے ہیں اور جہاد تمام مسلمانوں پر واجب ہے، اس ضمن میں قرآن مجید میں ارشاد رب العزت ہے :( اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِه صَفًّا کَاَنَّهُم بُنیَان مَرصُوص) خدا تو ان لوگوں سے الفت رکھتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف باندھ کر لڑتے ہیں کہ گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں(1)

اور دوسرے مقام پر اس طرح ارشاد ہوتاہے( وَقَاتِلُ المُشرِکِینَ کَافَّةً کَمَا یُقَاتِلُونَکُم کَافَّةً ) اور مشرکین جس طرح تم سے سب کے سب لڑتے ہیں تم بھی اسی طرح سب کے سب مل کر ان سے لڑو۔(2) حضرت علی ارشاد فرماتے ہیں :''جہاد جنت کے دروازے میں سے ایک دروازہ ہے جو شخص جہاد سے انکار کرے خدا اس کو ذلیل و رسوا کرے گا ''اسلام نے جہاد کو اسلامی ملکوں کی حفاظت کے لئے تمام مسلمانوں پر واجب قرار دیا ہے اور تمام مسلمانوں کو مجاہد اور اسلامی ملک کو مجاہدوں کی جگہ قرار دی ہے ، مجاہدین اسلام کو چاہیے ہمیشہ کفر و الحاد کے مقابلہ میں مسلح اور صف بصف آمادہ رہیں تاکہ دشمن اسلام قدرت و شوکت اور اتحاد مسلمین سے خوف کھائے

اور اس کے ذہن سے اسلامی ملکوں پر زیادتی اور تجاوز کے خیالات دورہوجائیں،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورہ صف(61) آیت 4 ۔ (2)۔ سورہ توبہ (9 )آیت 36 ۔

۷۴

اگرکفار کی فوج اسلام کے کسی علاقہ پر حملہ آور ہو جائے تو تمام مسلمانوں پر اپنے استقلال کے لئے اس کا دفاع کرنا واجب ہے اور تمام لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ سب

کے سب دشمنوں کے مقابلہ میں صف بستہ کھڑے ہوں اور ایک ہی حملہ میں مخالف کی فوج کو تہس نہس اور تباہ و برباد کر کے اپنی جگہ پر بٹھادیں تاکہ دوبارہ وہ اس کی جرأت و ہمت نہ کر سکیں ۔

٭جہاد کے لئے مخصوص شرائط ہیں جس کی بابت چاہیے کہ فقہ کی کتابوں کی طرف رجوع کیا جائے ۔

سوالات:

1۔ حج کس پر اور زندگی میں کتنی مرتبہ واجب ہے ؟

2۔حضرت امام صادق نیاس شخص کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا ہے جو عذر شرعی کے بغیر اپنے واجبی حج کو ترک کردے ؟

3۔ حج کے کیا فوائد ہیں ؟

4۔ جہاد کی تعریف کیجئے ؟

5۔ جہا د کے بارے میاں کوئی آیت پیش کیجئے ؟

۷۵

درس نمبر 20

( امر بالمعروف و نہی عن المنکر )

اسلام کے واجبات میں سے ایک امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے ، ترویج اسلام و تبلیغ احکام میں کوشش کرنا لوگوں کو دینی ذمہ داریوں اور اچھے کاموں سے آشنائی کرانا تمام مسلمانوں پر واجب ہے اگر کسی کو دیکھے کہ اپنے وظیفہ پر عمل پیرا نہیں ہے تو اس کو انجام دینے کے لئے آمادہ کرے اس کام کو امر بالمعروف کہتے ہیں ۔

منکرات (خدا کی منع کردہ چیزیں ) سے لوگوں کو منع کرنا بھی اسلام کے واجبات میں سے ہے ، اور واجب ہے کہ مسلمان فساد ، ظلم و ستم کے خلاف جنگ کرے اور برے و گندے کاموں سے روکے اگر کسی کو دیکھے کہ اسلام نے جن کاموں سے منع کیا ہے یہ ان کاموں (منکرات) کو انجام دے رہا ہے تو اس کام کے برے ہونے کی طرف اس کی توجہ دلائے ، جس حد تک ممکن ہوسکے اس کو برے کاموں سے روکے اس کام کو نہی از منکر کہتے ہیں۔

لہٰذا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اسلام کی بڑی ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری ہے اگر اس وظیفہ پر عمل ہونا شروع جائے تو اسلام کا کوئی بھی قانون بلا عمل باقی نہ رہے، تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ ایک دوسرے کا خیال رکھیں نیز دین اسلام کے قوانین کا ہر طرح سے دفاع اور اس کی حفاظت اور رائج کرنے میں کوشش کریں ، تاکہ اس کے فائدے سے تمام افراد بہرہ مند ہوسکیں ، ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ خود نیک کام کو انجام دے اور لوگوں کو بھی نیک کام پر آمادہ کرے ، خود بھی برے اور گندے

۷۶

کاموں سے دوری کرے اور دوسروں کو بھی محرّمات الٰہی سے روکے ۔ ارشاد ہوتا ہے :(کُنتُم خَیرَ اُمَّةٍ اُخرِجَت لِلنَّاسِ تَامُرُونَ بِالمَعرُوفِ وَتَنهَونَ عَنِ المُنکَرِ وَتُؤمِنُونَ بِاللّٰهِ) تم کیا اچھے گروہ ہو کہ لوگوں کی ہدایت کے واسطے پیدا کئے گئے تم لوگوں کو اچھے کام کا حکم کرتے اور برے کاموں سے روکتے ہو اور خدا پر ایمان رکھتے ہو(1)

اور ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے:( وَلتَکُن مِنکُم اُمَّة یَدعُونَ اِلَی الخَیرِ وَیَامُرُونَ بِالمَعرُوفِ وَیَنهَونَ عَنِ المُنکَرِ ) اور تم میں سے ایک گروہ(ایسے لوگوں کا بھی ) تو ہونا چاہیے جو (لوگوں کو) نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کا حکم اور برے کاموں سے روکے۔(2)

حضرت امام علی رضا فرماتے ہیں : امر بالمعروف نہی از منکر کرو اگر تم نے اس فرض پر عمل نہیں کیا تو اشرار تم پر مسلط ہوجائیں گے اس وقت اچھے لوگ جس قدر بھی دعائیں کریں اور ان کے ظلم و ستم پر گریہ کریں توبھی ان کی دعا قبول نہیں کی جائے گی ۔(3)

امر بالمعروف اور نہی از منکر کے چند مراحل ہیں :

پہلا مرحلہ : زبان سے نرمی کے ساتھ اس کام کی اچھائی یا برائی اس شخص کے لئے ثابت کی جائے اور نصیحت و موعظہ کی صورت میں اس سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ اس کام کو نہ کرے یا برے کام کو چھوڑ دے ۔

دوسرا مرحلہ : اگر زبان سے موعظہ و نصیحت اسے کوئی فائدہ نہ پہنچائے تو سختی اور غصہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1)۔ آل عمران (3) آیت 110 ۔ (2)۔ آل عمران (3 )آیت 104 ۔

(3)۔ وسائل الشیعہ ،ج11، ص 394

۷۷

دوسرا مرحلہ : اگر زبان سے موعظہ و نصیحت اسے کوئی فائدہ نہ پہنچائے تو سختی اور غصہ سے، برے کام سے روکا جائے ۔

تیسرا مرحلہ : سختی و غصہ کی وجہ سے بھی اگر اس پر اثر نہ ہو تو جس حد تک ، قدرت رکھتا ہو یا جس وسیلہ و طریقہ سے ممکن ہو اسے برے کام سے منع کرے ۔

چوتھا مرحلہ : اگر اس کے باوجود بھی اس کو گناہ سے نہ روک سکے تو تمام لوگوں کو چاہیے اس سے اس طرح اظہار نفرت کریں کہ اس کو احساس ہوجائے کہ تمام لوگ اس کے مخالف اور اس سے متنفر ہیں ۔

سوالات:

1۔ امر با لمعروف و نہی از منکر سے کیا مراد ہے ؟

2۔ امر با لمعروف و نہی از منکر سے متعلق قرآن کی کوئی آیت پیش کریں ؟

3۔ حضرت امام علی رضاامر با لمعروف و نہی از منکر سے متعلق کیا ارشاد فرماتے ہیں ؟

4۔مر با لمعروف و نہی از منکر کے مراحل بیان کیجئے ؟

۷۸

حصہ سوم

( اخلاق )

۷۹

درس نمبر 21

( اخلاق )

پروردگار عالم اور اس کے رسول کی محبت کے حصول کا بہترین ذریعہ اخلاق حسنہ کو اپنانا ہے ۔ چونکہ خدا کے نزدیک اس کا محبوب بندہ و ہ ہے کہ جس کا اخلاق سب سے زیادہ عمدہ ہو ، اخلاق ، انسان کا اصلی جوہر اور حیوان اور انسان میں وجہ امتیاز ہے ، دنیا اور آخرت میں انسان کی کامیابی کا کسی حد تک دارومدار اخلاق حسنہ پر ہی ہے انسان اپنی انفرادی یا اجتماعی حیثیت میں اس کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ انسانی زندگی کا کوئی بھی شعبہ ایسا نہیں ہے جس میں بنیادی اخلاقیات کی ضرورت نہ ہو ، کوئی بھی مذہب ، تہذیب اور معاشرہ ایسا نہیں جسے اپنے وجود میں اخلاقیات کی ضرورت نہ ہو۔ایک مسلمان کی حیثیت سے دیکھیں تو اخلاق کی پستی کے ساتھ ہم سرے سے اسلامی زندگی کا تصور نہیں کرسکتے ، مسلمان تو بنایا ہی اسی لئے گیاہے کہ اس کی ذات سے دنیا میں اخلاق کا چراغ روشن رہے ۔ آئمہ طاہرین علیہم السلام نے ہمیں ہر مقام پر اخلاق کے دامن کو پکڑے رہنے کا طریقہ سکھایاہے ،دراصل اچھے اور برے صفات کو اخلاق کہتے ہیں :

اچھے صفات : ان صفات کو کہا جاتا ہے جو انسان کی افضلیت و کمال کا باعث بنیں ، جیسے عدالت ، تواضع ، خدا پر بھروسہ ، برد باری ، لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا ، سچ بولنا ، امانتداری ،خدا کی مرضی پر راضی رہنا ، خدا کا شکر ، قناعت ، سخاوت ، بہادری ، دین میں غیرت ، ناموس میں غیرت ، صلۂ رحم ، والدین کے ساتھ احسان ، پڑوسیوں سے اچھا

۸۰

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

۴۔ امر ونہی کرنے والے کے لئے ، امرو نہی کرنا اپنے رشتہ داروں اور دوست یا ہمراہوں، دیگر مومنین کی جان ومال اور آبرو کے لئے قابل توجہ ضررونقصان کا سبب نہ بنے۔

امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے مراحل :

امربالمعروف ونہی عن المنکر کے لئے چند مراحل ہیں اور اگر سب سے نچلے مرحلے پر عمل کرنے سے نتیجہ نکلے تو بعد والے مرحلہ پر عمل کرنا جائز نہیں ہے اور یہ مراحل حسب ذیل ہیں :

پہلا مرحلہ : گناہگار کے ساتھ ایسا برتائوکیا جائے کہ وہ سمجھ لے کہ اس کا سبب اس کا گناہ میں مرتکب ہوناہے مثلا اس سے منہ موڑلے یا ترش روئی سے پیش آئے یا آنا جانا بند کردے۔

دوسرا مرحلہ :زبان سے امر ونہی کرنا:یعنی واجب تر ک کرنے والے کو حکم دیدے کہ واجب بجالائے اور گناہگار کو حکم دیدے کہ گناہ کو ترک کرے۔

تیسر امرحلہ : طاقت کا استعمال: منکر کو روکنے اور واجب انجام دینے کے لئے طاقت کا استعمال کرنا،مثلاً حائل ہوجانا، فرد کا راستہ روک لینا ،ہاتھ سے ہتھیا وغیرہ چھین لینا ،بند کردینا،تھپڑمارنا وغیرہ

۱۲۱

سوالات:

۱۔ معروف ومنکر میں سے ہر ایک کی پانچ مثالیں بیان کیجئے؟

۲۔کس صورت میں امربالمعروف اور نہی عن المنکر واجب ہے؟

۳۔ اگر کوئی کسی گانے کو سن رہا ہواور ہم نہیں جانتے وہ غناہے یا نہیں ؟تو کیا اس کو منع کرنا واجب ہے یا نہیں ؟ اور کیوں ؟

۴۔ گناہ گارکو کس صورت میں زخمی کرنا جائز ہے، دومثال سے واضح کیجئے؟

۱۲۲

حصہ سؤم ( آداب واخلاق )

۱۲۳

درس نمبر ۲۱ ( عبادت اور عبودیت )

عبادت کیا ہے ؟

ہماری تخلیق کا اصل مقصد عبادت ہے (و ما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون)(۱) ''میں نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے ''

ہم لوگ جو بھی کام انجام دیتے ہیں اگر رضائے پروردگار کی خاطر ہو تو وہ عبادت ہے چاہے وہ کام علم حاصل کرنا ، شادی کرنا یالوگوں کی خدمت کرنا ہو اور یااپنی یا معاشرتی ضرورتوں کو پورا کرنے کی خاطر ہو ۔ جو چیز کسی کام کو عبادت بناتی ہے وہ انسان کی مقدس نیت ہے جس کو قرآن مجید کی زبان میں '' صبغة اللہ ''( ۲) کہتے ہیں یعنی جس میں خدائی رنگ و بو پائی جائے ۔

فطرت و عبادت :

ہمارے کچھ کام عادت کی بنا پر ہوتے ہیں اور بعض کام فطرت کی بنا پر انجام پاتے ہیں۔ جو کام عادت کی بنا پر ہوتے ہیں ممکن ہے کہ وہ کسی اہمیت کے حامل ہوں جیسے ورزش کی عادت اور ممکن ہے وہ کسی اہمیت کے حامل نہ ہوں ، جیسے چائے پینے ،اور

سگریٹ پینے کی عادت، لیکن اگر کوئی کام فطری ہو یعنی فطرت اور اس پاک سرشت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ ذاریات آیہ ۵۶. (۲)۔بقرہ آیہ ۱۳۸.

۱۲۴

کی بنا پر ہو جو اللہ تعالیٰ نے ہر بشر کے اندر ودیعت کی ہے تو ایسا ہر کام اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔عادت پر فطرت کی فوقیت یہ ہے کہ فطرت میں زمان ، مکان، جنسیت، نسل اورسن و سال مؤثر نہیں ہوتے ۔ ہر انسان اس جہت سے کہ انسان ہے فطرت رکھتا ہے جیسے اولاد سے محبت،کسی خاص نسل یازمانے سے مخصوص نہیں ہے بلکہ ہر انسان اپنے بچے کو چاہتا ہے(۱) لیکن لباس اور غذا جیسی چیزیں عادات میں شامل ہیں جن میںزمان و مکان کے اختلاف سے تبدیلی ہوتی رہتی ہے ۔ بعض جگہوں پر کچھ رسم و رواج مو جودہیں لیکن دوسری جگہ پر وہی رسم و رواج نہیں پائے جاتے ہیں۔

عبادت و پرستش بھی ایک فطری امر ہے اسی لئے جتنی بھی قدیم ، خوبصورت اور مضبوط عمارتیں دیکھنے میں آتی ہیں وہ عبادت گا ہیں ، مسجدیا مندر اور چرچ وغیرہ ہیں یا پھر آتش کدے ہیں ۔ یہ اور بات ہے کہ عبادت و پرستش کے انواع و اقسام میں کافی فرق پایا جاتا ہے ۔ ایک طرف تو خود معبود میں فرق ؛ یعنی پتھر ، لکڑی اور بت کی عبادت سے لے کر خدائے وحدہ لاشریک کی عبادت تک۔ اسی طرح عبادت کے طریقوں میں فرق

--------------------------

(۱)۔ سوال: اگر بچے سے محبت کرنا فطری چیز ہے تو پھر کیوں بعض زمانوں ، جیسے دورجاہلیت میں لو گ لڑکیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے ؟ جواب : فطری مسائل کئی طرح کے ہوتے ہیں جیسے اولاد سے محبت فطری ہے اسی طرح حفظ آبرو بھی فطری ہے ۔عرب کے جاہل لڑکی، کو ذلت کاباعث سمجھتے تھے چونکہ جنگوں میں عورتیں اسیر ہوتی تھیں اور ان سے کوئی اقتصادی فائدہ نہیں ہوتا تھا، لہٰذا آبرو کے

تحفظ کے لئے اپنی لڑکیوں سے ہاتھ دھوبیٹھتے تھے ۔ دور جانے کی بات نہیں ہے مال اور جان دونوں سے محبت کرنا فطرت ہے لیکن کچھ لوگ مال کو جان پر اور کچھ لوگ جان کو مال پر قربان کر دیتے ہیں لہٰذا لڑکی کو آبرو پر قربان کرنا اولا د سے محبت کی فطرت کے منافی نہیں ہے۔

۱۲۵

ہے جیسے ناچنے ، مٹکنے سے لے کر اولیاء اللہ کی انتہائی عمیق و لطیف مناجات تک فرق پایا جاتا ہے ۔ انبیاء کا مقصد یہ نہیں تھا کہ لوگوں کے اندر خدا کی عبادت و پرستش کی روح پھو نکیںبلکہ انکا اصل مقصد معبو د سے متعلق تصور اور عبادت کے طریقے کو صحیح کرنا تھا ۔

مساجد ، گرجا گھروں اور مندر وغیرہ کی عمارتوں میں اتنا زیادہ پیسہ لگانا ، اپنے وطن کے

پرچم کو مقدس سمجھنا ، اپنی قوم کے بزرگوں اور بڑی شخصیتوں کی قدر کرنا ، لوگوں کے کمالات و فضائل کی تعریف کرنا حتی اچھی چیزوں سے رغبت ہو نایہ سب انسان کے وجود میں روحِ عبادت کے جلوے ہیں ۔

جو لوگ خدا کی عبادت نہیں کرتے ہیں وہ بھی مال و اقتدار یا بیوی ، بچوں،سندا ور ڈگری یا فکر و قانون اوراپنے مکتب فکر یا اپنی راہ و روش کی پوجا کرتے ہیں اور اسی کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔ یہ لوگ اس راہ میں اتنا زیادہ بڑھ جاتے ہیں کہ دل دے بیٹھتے ہیں اور جانفشانی پر تیار رہتے ہیں ۔ اپنی پوری ہستی کو اپنے معبودپر فدا کر دیتے ہیں ۔ خدا کی عبادت انسان کی فطرت کی گہرا ئیوں میں شامل ہے ، چاہے انسان اس سے غافل ہی ہو جیسے مولاناروم کہتے ہیں :

'' انسان اپنی فطرت کی طرف اس طرح رغبت رکھتا ہے جیسے بچہ اپنی ماں سے ، جبکہ اس کا راز وہ نہیں جانتا''۔

خدائے حکیم نے جس رغبت اور چا ہت کو پیکر انسان میں قرار دیا ہے اس کی تکمیل و تشفی کے اسباب و وسائل بھی فراہم کئے ہیں ۔ اگر انسان کو پیاس لگے تواس کے لئے

پانی پیدا کیا ، اگر انسان کو بھوک لگے تو غذا بھی موجود ہے ۔ اگر خداوند عالم نے انسان میں جنسی خو اہش کو رکھا تو اس کے لئے شریک حیات کو بھی خلق کیا،اگر خدا نے قوت

۱۲۶

شامّہ دی تو اس کے لئے اچھی خوشبوئیں بھی پیدا کیں ۔

انسان کے متعددجذبات میں سے ایک گہرا جذبہ یہ ہے کہ وہ لا متناہی چیز سے رغبت رکھتا ہے ، کمال سے عشق کرتا ہے اور بقاء کو دوست رکھتا ہے ۔ اور ان فطری رجحانات کی تکمیل ، خداوند متعال سے رابطہ اور اس کی پرستش کے ذریعہ ہوتی ہے ،نماز و عبادت ؛ کمال کے سر چشمہ انسان کا ارتباط ، محبوب واقعی سے اُنس اور اس کی قدرت لا متناہی میں احساس امنیت کرنا ہے ۔

رضائے الٰہی محور عبادت ہے :

جس طرح سے آسمانی کرات اور کرہ ارضی مختلف ( وضعی و انتقالی ) حرکات کے باوجود ہمیشہ ایک ثابت مدار رکھتے ہیں اسی طرح عبادت بھی ہے اپنی مختلف شکلوںکے با وجود ایک ثابت مدار رکھتی ہے اور وہ رضائے الہی ہے ۔ اگرچہ زمان و مکان اور انفرادی و اجتماعی شرائط اس مدار میں انجام پانے والی حرکتوں کو معین کرتے ہیں ۔ جیسے سفر میں چار رکعتی نماز دو رکعت ہو جاتی ہے اور بیماری میں نماز پڑھنے کی شکل بدل جاتی ہے لیکن دو رکعتی یا قصر نماز ، نماز ہے یہ بھی یاد خداا ور رضائے پروردگار کوانجام دینے کے لئے ہوتی ہے ۔(واقم الصلاة لذکری)(۱)

عبادت کا جذبہ :

عبادت روح کی غذا ہے ۔ سب سے اچھی غذا وہی ہوتی ہے جو بدن میں جذب ہو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)سورہ مبارکہ۱۴

۱۲۷

جائے (یعنی بدن کے لئے سود مند ثابت ہو ) نیز بہترین عبادت وہ ہے جو روح میں جذب ہو جائے یعنی خوشی اور حضور قلب کے ساتھ انجام پائے ۔ زیادہ کھانا اچھی بات نہیں ہے بلکہ سود مند غذا کھانا ضروری ہے ۔

پیغمبر اکرم (ص)،جابر بن عبد اللہ انصاری سے ارشاد فرماتے ہیں :

'' خدا کا دین مستحکم و استوار ہے اس کی نسبت نرم رویہ اختیار کرو ۔(لہٰذا جس وقت روحی اعتبار سے آمادہ نہ ہو اس وقت عبادت کو اپنے اوپر بوجھ نہ بناؤ )کہ تمہارا نفس اللہ کی عبادت سے نفرت کرنے لگے ۔ ''(۱)

رسول اکرم (ص) کی دوسری حدیث میں ہے :

'' کتنا خوش قسمت ہے وہ شخص جو عبادت سے عشق کرتا ہے اور اپنے محبوب کی طرح عبادت کو گلے لگاتا ہے۔''(۲)

عبادت سکون کا باعث ہے :

آپ بڑے بڑے سرکش ، سرمایہ داروں اور صاحبان علم و صنعت کو پہچانتے ہیں لیکن کیا ان سب کے یہاں قلبی سکون کا سراغ ملتا ہے ؟ !

کیا اہل مغرب کے پاس روحانی ا ور نفسیاتی سکون موجود ہے ؟

کیا قدرت و صنعت اور مال و ثروت آج کے انسان کو صلح و دوستی اوردلی اطمینان و

سکون عطا کرسکے ہیں ؟ لیکن خدا کی عبادت و اطاعت سے خدا کے اولیاء کو ایسی کیفیت

و حالت حاصل ہوتی ہے کہ کسی بھی حالت میں یہ لوگ مضطرب او رپریشان نہیں ہوتے

-----------------------------

(۱)۔ بحار الانوار جلد ۷۱ صفحہ ۲۱۲.

۱۲۸

عبادت کا ما حصل :

عبادت ؛ نصرت و الطاف الہی کے حصول کا ذریعہ ہے :

( واعبد ربک حتی یاتیک الیقین )(۱ )

اس قدر عبادت کرو کہ درجہ ٔ یقین پر فائز ہوجاؤ ۔

حضرت موسیٰ ـ آسمانی کتاب توریت کو حاصل کرنے کے لئے چالیس رات دن کوہِ طور پر مناجات میں مشغول رہے اور پیغمبر گرامی اسلام (ص) وحی کو حاصل کرنے کے لئے ایک طولانی مدت تک غار حرا میں عبادت کرتے رہے ۔ روایتوں میں آیا ہے : ''مَن اخلص العبادة للہ اربعین صباحا ظھرت ینابیع الحکمةمن قلبہ علی لسانہ''(۲)

جو شخص بھی چالیس رات دن اپنے تمام کاموں کو عبادت و خلوص کا رنگ دے تو پروردگار عالم حکمت کے چشمے اس کے دل اورزبان پر جاری کر دیتا ہے ۔

جی ہاں خلوص دل سے عبادت وہ یونیورسٹی ہے جو چالیس روز کے اندر تعلیم سے فارغ ہونے و الوں کو ایسا حکیم بناتی ہے جو حکمت کو الٰہی سر چشمہ سے حاصل کرکے اسے دوسروں کی طرف منتقل کرتے رہتے ہیں ۔

--------------------------

(۱)۔ حجر آیہ ۹۹ (۲)۔ بحار الانوار جلد ۵۳ صفحہ ۳۲۶.

۱۲۹

سوالات :

۱۔عبادت کیا ہے ؟

۲۔ فطرت اور عادت میں کیا فرق ہے ؟

۳۔۱گر بچے سے محبت کرنا فطری چیز ہے تو پھر کیوں دورجاہلیت میں لو گ لڑکیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے ؟

۴۔عبادت کا محور کیا چیز ہے؟

۵۔عبادت کا ماحصل بیان کیجئے ؟

۱۳۰

درس نمبر ۲۲

( تقویٰ اور پرہیز گاری )

تقویٰ کیا ہے ؟

اپنے کو گناہوں اور معصیتوں سے محفوظ رکھنا اور ہلاک کنندہ آفات و بلائوں سے حفظ کرنا ایک ایسی حقیقت ہے جس کو قرآن کریم اور دینی تعلیمات نے ''تقویٰ'' کے عنوان سے یاد کیا ہے۔

تقویٰ اس حالت کا نام ہے جو گناہوں سے اجتناب اور عبادت خدا سے حاصل ہوتی ہے اور تقویٰ دینی اقدار و معنوی زیبائی میں ایک خاص عظمت رکھتا ہے۔

صرف متقی افراد ہی میں ہدایت الٰہی کے آثار ظاہر ہوتے ہیں اور جنت بھی صرف اور صرف اہل تقویٰ کے لئے آمادہ کی گئی ہے :

(ذَلِکَ الْکِتَابُ لاَرَیْبَ فِیهِ هُدًی لِلْمُتَّقِینَ) .(۱)

'' یہ وہ کتاب ہے جس میں کسی طرح کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے.یہ

صاحبان تقویٰ اور پرہیز گار لوگوں کے لئے مجسم ہدایت ہے''۔

(وَاُزْلِفَتْ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِینَ) .(۲)

'' اور جنت بھی صرف اور صرف اہل تقویٰ کے لئے آمادہ کی گئی ہے ''

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)سورۂ بقرہ آیت ۲ (۲)سورۂ شعراء آیت ۹۰.

۱۳۱

حضرت رسول خدا (ص) کا ارشاد ہے :

''لَوْاَنَّ السَّماواتِ وَالْاَرْضَ کانَتا رَتْقاً عَلیٰ عَبْدٍ ثُمَّ اتَّقَی اللّٰهَ لَجَعَلَ اللّٰهُ لَهُ مِنْهُما فَرَجاً وَمَخْرَجاً'' ۔(۱)

'' اگر کسی بندہ پر زمین و آسمان کے دروازے بند ہوجائیں ، لیکن اگر وہ بندہ تقویٰ الٰہی اختیار کرے تو خدا اس کے لئے زمین و آسمان کے دروازے کھول دیتاہے''۔

تقویٰ کے آثار و برکات :

۱۔ تقویٰ ہدایت قبول کرنے کا پیش خیمہ ہے( هُدیً للمتقین) (۲)

۲۔ خداوند عالم صاحبان تقویٰ کو علم عطا کرتا ہے۔(واتقوا للّٰه و یُعَلمکم اللّٰهُ (۳)

۳۔ تقویٰ رحمت الٰہی کے حصول کا ذریعہ ہے۔(واتقو اللّٰه لَعَلْکم تُرْحمون) (۴)

۴۔ تقویٰ اعمال کے قبول ہونے کا وسیلہ ہے ہم قرآن مجید میں پڑھتے ہیں کہ خداوند عالم فقط صاحبان تقویٰ کے اعمال قبول کرتا ہے-( انّما یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ-) (۵)

۵۔ تقویٰ کے باعث انسان کو ایسی جگہ سے رزق ملتا ہے جس کا اُسے خیال بھی نہیں ہوتا ( ویَرْزُقُه' من حَیْثُ لَا یَحْتَسِبْ)(۶)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)عدة الداعی ص۳۰۵،فصل فی خواص متفرقة ؛بحار الانوار ج۶۷،ص۲۸۵،باب ۵۶،حدیث۸ (۲)۔ سورئہ بقرہ، آیت ۲ (۳)۔سورئہ بقرہ، آیت ۲۸۲ (۴)۔ سورئہ انعام، آیت ۱۵۵ (۵)۔ سورئہ مائدہ، آیت ۲۷ (۶)۔ سورئہ طلاق، آیت ۳

۱۳۲

۶۔ اللہ تعالیٰ نے صاحبان تقویٰ سے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ بے یار ومددگار نہیں رہیں گے( وَمَنْ یَتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَه' مَخْرَجًا) (۱)

۷۔ اللہ تعالیٰ اپنی حمایت اور غیبی امداد صاحبان تقویٰ پر نثار کردیتا ہے۔(وَ اعْلَمُوا انّ اللّٰهَ مَعَ المتقینَ ) (۲)

۸۔ تقویٰ قیامت کے خطرات سے محفوظ رہنے (۳) اور عاقبت بالخیر کا ذریعہ ہے( والعاقبة للمتقین) (۴)

تقویٰ میں مؤثر عوامل :

تقویٰ کے آثار و برکات کی طرف اشارہ کرنے کے بعد اب ہم ان عوامل کا ذکر

کرتے ہیں جو متقی اور پرہیز گار بننے میں انسان کی مدد کرتے ہیں۔

۱۔ مبدأ و معاد پر ایمان رکھنے سے انسان کا گناہوں کے مقابلے میں بیمہ ہوجاتا ہے۔ جس قدر اس کا ایمان قوی ہوگا، تقویٰ بھی اتنا ہی پائیدار ہوگا۔

۲۔ عمومی نظارت (امر بالمعروف اور نہی از منکر) معاشرے میں تقویٰ کے رشد کا باعث

بنتی ہے۔

۳۔ خاندان کی تربیت، ۴۔ لقمہ حلال کا حصول،

۵۔ اپنی ذمہ داری کو دیانتداری سے ادا کرنا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ سورئہ طلاق، آیت ۲ (۲)۔ سورئہ توبہ آیت ۳۶ اور ۱۲۳

(۳)۔ سورئہ مریم، آیت ۷۲ (۴)۔ سورئہ اعراف ، آیت ۱۲۸

۱۳۳

۶۔ دوستوں (بیوی، ہم پیشہ، ہمسایہ، اور ہم جماعت افراد) کے ساتھ اچھا برتاؤ۔

۷۔ صحیح پیشہ کا انتخاب، (۸ ) ۔ با تقویٰ افراد کو دوست رکھنا

یہ سب ایسے عوامل ہیں جو تقویٰ میں مؤثر ہیں۔

حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی نظر میںا ہل تقویٰ کی نشانیاں :

حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے اہل تقویٰ کے کچھ نشانیاں بیان کی ہیں، منجملہ :

صداقت،ادائے امانت، وفائے عہد، عجز و بخل میں کمی، صلہ رحم، کمزوروں پر رحم، ، خوبی کرنا، اخلاق حسنہ، بردباری میں وسعت، اس علم پر عمل جس کے ذریعہ خدا کے قریب

ہوجائے، اور اس کے بعد فرمایا: خوش نصیب ہیں یہ افراد، کیونکہ ان کی آخرت سعادت بخش نیک اور اچھی ہوگی۔(۱)

کیا تقویٰ محدودیت ہے؟

بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ تقویٰ محدودیت اور قید خانہ ہے ۔ جبکہ تقویٰ تو ایک قلعہ اور حصار ہے۔ قید خانے اور قلعے کے درمیان فرق یہ ہے کہ قید خانے کو باہر

سے تالا لگایا جاتا ہے جو ایک زبردستی کی محدودیت ہے۔ جو انسان کی آزادی سے سازگار نہیں ہے لیکن قلعے کا انتخاب انسان خود کرتا ہے۔ اور پھر خود اُسے اندر سے تالا لگاتا ہے۔ تاکہ حوادث روزگار سے محفوظ رہ سکے۔ آپ خود بتائیں جب ہم پاؤں میں جوتا پہنتے ہیں تو ہم پاؤں کو محدود کرتے ہیں یا محفوظ؟ پس ہر محدودیت بری نہیں ہوتی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)تفسیر عیاشی ج۲،ص۲۱۳،حدیث۵۰؛ بحار الانوار ،ج۶۷،ص ۲۸۲،باب ۵۶،حدیث۲.

۱۳۴

اور ہر آزادی اہم نہیں ہوتی۔

اسی طرح ہر وسعت کی اہمیت نہیں جیسا کہ سرطان کے جراثیم جو بدن میں پھیل جاتے ہیں۔ اسی طرح ہر عقب نشینی، اور پہلے والی حالت پر واپس پلٹنا برا نہیں۔ مریض ڈاکٹر کیپاس اس لیے جاتا ہے کہ وہ اسے پہلے والی حالت پر واپس لے آئے۔ اس کا ہدف بیماری سے پہلے والی حالت کی طرف پلٹنا ہے۔ اس کا یہ واپس آنا اہمیت رکھتا ہے۔ تقویٰ امن و امان کے حصول کا نام ہے۔ جو عورتیں اور لڑکیاں آزادی کے نام پر مختلف انداز میں لوگوں کی نظروں کے سامنے جلوہ گر ہوتی ہیں اگر چند منٹ (فقط چند

منٹ) کے لیے غور وفکر کریں چاہے وہ مسلمان نہ بھی ہوں تب بھی علم و عقل ان کو عفت و پاکیزگی کی دعوت دے گی۔

بدحجابی یا بے حجابی مندرجہ ذیل مسائل کو ایجاد کرتی ہے۔

۱۔ لوگ بے حجاب خواتین کی نسبت سوء ظن رکھتے ہیں۔

۲۔ لوگ بے حجاب خواتین کو اغوا کرنے کی سازشیں کرتے ہیں۔

۳۔ بے پردہ خواتین کی وجہ سے خاندانی نظام تباہ و برباد ہوجاتا ہے۔

۴۔ نوجوان نسل کو روحی طور پر بد اندیشی اور کج فکری کی کھلی دعوت ملتی ہے۔

۵۔ بے پردگی سے خواتین خود نمائی اور فضول خرچی کی طرف راغب ہوجاتی ہیں۔

۶۔ بے پردگی طالب علموں کے درس و مطالعہ میں فکری تمرکز کو ختم کردیتی ہے۔

۷۔ بے بضاعت افراد کو شرمندہ کرتی ہے ۔ جو اس قسم کے لباس خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے۔

۱۳۵

۸۔ بے پردگی اقتصادی حالت کو ابتر بنادیتی ہے۔ کیونکہ ایسی صورت میں کام محنت سے انجام نہیں دیئے جاتے اور ہمیشہ ہوس بازی کا بازار گرم رہتا ہے۔

۹۔ ایسی خواتین اور لڑکیوں کو ناکام کرنا جو اپنی شکل و صورت پر زیادہ توجہ نہیں دیتیں۔

۱۰۔ والدین کو حیران و پریشان رکھنا۔ ۱۱۔ بد قماش افراد کو راضی کرنا۔

۱۲۔ منفی رقابت کا پیدا ہونا۔ ۱۳۔ گھر سے فرار کرنا۔

۱۴۔ ناجائز اولاد کا دنیا میں آنا۔ ۱۵۔ ایڈز جیسے امراض کا پیدا ہونا۔

۱۶۔ سقط حمل، خودکشی، قتل وکشتار، حادثات وغیرہ جیسے مسائل کا وجود میں آنا اور یہ سب عدم تقویٰ اور بے حجابی کے مسائل ہیں۔ ۱۷۔ روحی اور نفسیاتی امراض کا زیادہ ہونا۔

اسی لیے شاید قرآن میں تقویٰ کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ اور امام جمعہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر خطبہ میں تقویٰ کے مسائل بیان کرے۔

قرآن کریم کم مقدار تقویٰ پر قناعت نہیں کرتا اور فرماتا ہے:(فَا تَّقُوا اللّٰه مَا اسْتَطَعتُمْ) (۱) جہاں تک ممکن ہو تقویٰ اختیار کرو۔

ایک اور جگہ ارشاد فرماتا ہے:( وَ اتّقُوا اللّٰه حَقَّ تُقٰاتِه) (۲) جس طرح تقویٰ کا حق ہے اُسی طرح اُسے اختیار کرو۔

البتہ مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ جب بھی ہم کسی گناہ میں گرفتار ہوجائیں تو ہم نماز، توبہ اور اپنے پروردگار سے مدد طلب کرکے گناہوں کی دلدل سے نکل سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔سورئہ تغابن، آیت ۱۶ (۲) سورہ آل عمران آیت ۱۰۲

۱۳۶

سوالات :

۱۔تقویٰ کیا ہے ؟

۲۔ تقویٰ کے کوئی بھی پانچ آثار بیان کیجئے ؟

۳۔تقویٰ میں کیا عوامل مؤثر ہیں ؟

۴۔حضتر علی کی نگاہ میں اہل تقویٰ کی کیا نشانیاں ہیں ؟

۵۔کیا تقویٰ محدودیت ہے؟

۱۳۷

درس نمبر ۲۳ ( نعمتیں اور انسان کی ذمہ داری )

خدا وندمتعال نے اپنے خاص لطف و کرم، رحمت ومحبت اور عنایت کی بنا پر انسان کو ایسی نعمتوں سے سرفراز ہونے کا اہل قرار دیا جن سے اس کائنات میں دوسری مخلوقات یہاں تک کہ مقرب فرشتوںکو بھی نہیں نوازا۔

انسان کے لئے خداوندعالم کی نعمتیں اس طرح موجود ہیں کہ اگر انسان ان کو حکم خدا کے مطابق استعمال کرے تو اس کے جسم اور روح میں رشد و نمو پیدا ہوتا ہے او ردنیاوی اور اُخروی زندگی کی سعادت و کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

قرآن مجید نے خدا کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں کے بارے میں ۱۲اہم نکات کی طرف توجہ دلائی ہے :

۱۔ نعمت کی فراوانی اور وسعت۔ ۲۔ حصول نعمت کا راستہ۔

۳۔ نعمت پر توجہ ۔ ۴۔نعمت پر شکر۔

۵۔نعمت پر ناشکری سے پرہیز۔ ۶۔نعمتوں کا بے شمار ہونا۔

۷۔نعمت کی قدر کرنے والے۔ ۸۔نعمتوں میں اسراف کرنا۔

۹۔نعمتوں کو خرچ کرنے میں بخل سے کام لینا۱۰۔نعمت چھن جانے کے اسباب و علل۔

۱۱۔اتمام ِنعمت ۔ ۱۲۔نعمت سے صحیح فائدہ اٹھانے کا انعام۔

آئیے اب ہم قرآن مجید کے بیان کردہ ان عظیم الشان بارہ نکات کی طرف توجہ کرتے

۱۳۸

ہیں :

۱۔ نعمت کی فراوانی اور وسعت :

زمین و آسمان کے در میان پائی جانے والی تمام چیزیں کسی نہ کسی صورت خداوندعالم کے ارادہ اور اس کے حکم سے انسان کو فائدہ پہنچارہی ہیں۔

پہاڑ، جنگل، صحرا، دریا، درخت و سبزے، باغ، چشمے، نہریں، حیوانات اور دیگر زمین پر پائی جانے والی بہت سی مخلوقات ایک طرح سے انسان کی زندگی کی مشین کو چلانے میں اپنی اپنی کارکردگی میں مشغول ہیں۔

خداوندعالم کی نعمتیں اس قدر وسیع ، زیادہ، کامل اور جامع ہیں کہ انسان کو عاشقانہ طور پر اپنی آغوش میں لیئے ہوئے ہیں، اور ایک مہربان اور دلسوز ماں کی مانند ،انسان کے رشد

و نمو کے لئے ہر ممکن کوشش کررہی ہیں۔

انسان کو جن ظاہری و باطنی نعمتوں کی ضرورت تھی خداوندعالم نے اس کے لئے پہلے سے ہی تیار کررکھی ہے، اور اس وسیع دسترخوان پر کسی بھی چیز کی کمی نہیں ہے۔

چنانچہ قرآن کریم میں اس سلسلے میں بیان ہوتا ہے :

( َلَمْ تَرَوْا أنَّ اﷲَ سَخَّرَ لَکُمْ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْأرْضِ وأسْبَغَ عَلَیْکُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً...) .(۱)

'' کیا تم لوگوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے زمین و آسمان کی تمام چیزوں کو تمہارے لئے مسخر کر دیا ہے اور تمہارے لئے تمام ظاہری اور باطنی نعمتوں کو مکمل فرمایااور لوگوں میں

بعض ایسے بھی ہیں جو علم ہدایت اور روشن کتا ب کے بغیر بھی خدا کے بارے میں بحث

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)سورہ ٔ لقمان آیت ۲۰.

۱۳۹

کرتے ہیں ''.

۲۔ حصول نعمت کا راستہ :

رزق کے حصول کے لئے ہر طرح کا صحیح کام اور صحیح کوشش کرنا؛ بے شک خداوندعالم کی عبادت اور بندگی ہے؛ کیونکہ خدائے مہربان نے قرآن مجید کی بہت سی آیات میں اپنے بندوں کو زمین کے آباد کرنے اور حلال روزی حاصل کرنے، کسب معاش، جائز تجارت اورخرید و فروخت کا حکم دیا ہے، اور چونکہ خداوندعالم کے حکم کی اطاعت کرنا عبادت و بندگی لہٰذا اس عبادت و بندگی کا اجر و ثواب روز قیامت ]ضرور[ ملے گا۔

قرآن مجید اس مسئلہ کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے :

(یَاَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَاْکُلُوا أمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِإ لاَّ أنْ تَکُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْکُمْ).(۱)

'' اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال کو ناحق طریقہ سے نہ کھایا کرو۔مگر یہ کہ باہمی رضامندی سے معاملہ کرلو ''.

( یَاَیُّهَا النَّاسُ کُلُوا مِمَّا فِی الْأرْضِ حَلاَلًا طَیِّبًا وَلاَتَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّیْطَانِ إنَّهُ لَکُمْ عَدُوّ مُبِین) .(۲)

'' اے انسانو! زمین میں جو کچھ بھی حلال و پاکیزہ ہے اسے استعمال کرو اور شیطان کے نقش قدم پر مت چلو بے شک وہ تمہاراکھلا دشمن ہے ''.

بہر حال خداوندعالم کی طرف سے جو راستے حلال اور جائز قرار دئے گئے ہیںاگر ان جائز اور شرعی طریقوں سے روزی حاصل کی گئی ہے اور اس میں اسراف و تبذیر سے خرچ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)سورۂ نساء آیت ۲۹. (۲)سورۂ بقرہ آیت۱۶۸.

۱۴۰

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204