معارف اسلامی کورس (عقائد، احکام،اخلاق ) جلد ۲

معارف اسلامی کورس (عقائد، احکام،اخلاق )18%

معارف اسلامی کورس (عقائد، احکام،اخلاق ) مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 204

جلد ۱ جلد ۲
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 204 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 33195 / ڈاؤنلوڈ: 3140
سائز سائز سائز

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

۴۔ امر ونہی کرنے والے کے لئے ، امرو نہی کرنا اپنے رشتہ داروں اور دوست یا ہمراہوں، دیگر مومنین کی جان ومال اور آبرو کے لئے قابل توجہ ضررونقصان کا سبب نہ بنے۔

امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے مراحل :

امربالمعروف ونہی عن المنکر کے لئے چند مراحل ہیں اور اگر سب سے نچلے مرحلے پر عمل کرنے سے نتیجہ نکلے تو بعد والے مرحلہ پر عمل کرنا جائز نہیں ہے اور یہ مراحل حسب ذیل ہیں :

پہلا مرحلہ : گناہگار کے ساتھ ایسا برتائوکیا جائے کہ وہ سمجھ لے کہ اس کا سبب اس کا گناہ میں مرتکب ہوناہے مثلا اس سے منہ موڑلے یا ترش روئی سے پیش آئے یا آنا جانا بند کردے۔

دوسرا مرحلہ :زبان سے امر ونہی کرنا:یعنی واجب تر ک کرنے والے کو حکم دیدے کہ واجب بجالائے اور گناہگار کو حکم دیدے کہ گناہ کو ترک کرے۔

تیسر امرحلہ : طاقت کا استعمال: منکر کو روکنے اور واجب انجام دینے کے لئے طاقت کا استعمال کرنا،مثلاً حائل ہوجانا، فرد کا راستہ روک لینا ،ہاتھ سے ہتھیا وغیرہ چھین لینا ،بند کردینا،تھپڑمارنا وغیرہ

۱۲۱

سوالات:

۱۔ معروف ومنکر میں سے ہر ایک کی پانچ مثالیں بیان کیجئے؟

۲۔کس صورت میں امربالمعروف اور نہی عن المنکر واجب ہے؟

۳۔ اگر کوئی کسی گانے کو سن رہا ہواور ہم نہیں جانتے وہ غناہے یا نہیں ؟تو کیا اس کو منع کرنا واجب ہے یا نہیں ؟ اور کیوں ؟

۴۔ گناہ گارکو کس صورت میں زخمی کرنا جائز ہے، دومثال سے واضح کیجئے؟

۱۲۲

حصہ سؤم ( آداب واخلاق )

۱۲۳

درس نمبر ۲۱ ( عبادت اور عبودیت )

عبادت کیا ہے ؟

ہماری تخلیق کا اصل مقصد عبادت ہے (و ما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون)(۱) ''میں نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے ''

ہم لوگ جو بھی کام انجام دیتے ہیں اگر رضائے پروردگار کی خاطر ہو تو وہ عبادت ہے چاہے وہ کام علم حاصل کرنا ، شادی کرنا یالوگوں کی خدمت کرنا ہو اور یااپنی یا معاشرتی ضرورتوں کو پورا کرنے کی خاطر ہو ۔ جو چیز کسی کام کو عبادت بناتی ہے وہ انسان کی مقدس نیت ہے جس کو قرآن مجید کی زبان میں '' صبغة اللہ ''( ۲) کہتے ہیں یعنی جس میں خدائی رنگ و بو پائی جائے ۔

فطرت و عبادت :

ہمارے کچھ کام عادت کی بنا پر ہوتے ہیں اور بعض کام فطرت کی بنا پر انجام پاتے ہیں۔ جو کام عادت کی بنا پر ہوتے ہیں ممکن ہے کہ وہ کسی اہمیت کے حامل ہوں جیسے ورزش کی عادت اور ممکن ہے وہ کسی اہمیت کے حامل نہ ہوں ، جیسے چائے پینے ،اور

سگریٹ پینے کی عادت، لیکن اگر کوئی کام فطری ہو یعنی فطرت اور اس پاک سرشت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ ذاریات آیہ ۵۶. (۲)۔بقرہ آیہ ۱۳۸.

۱۲۴

کی بنا پر ہو جو اللہ تعالیٰ نے ہر بشر کے اندر ودیعت کی ہے تو ایسا ہر کام اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔عادت پر فطرت کی فوقیت یہ ہے کہ فطرت میں زمان ، مکان، جنسیت، نسل اورسن و سال مؤثر نہیں ہوتے ۔ ہر انسان اس جہت سے کہ انسان ہے فطرت رکھتا ہے جیسے اولاد سے محبت،کسی خاص نسل یازمانے سے مخصوص نہیں ہے بلکہ ہر انسان اپنے بچے کو چاہتا ہے(۱) لیکن لباس اور غذا جیسی چیزیں عادات میں شامل ہیں جن میںزمان و مکان کے اختلاف سے تبدیلی ہوتی رہتی ہے ۔ بعض جگہوں پر کچھ رسم و رواج مو جودہیں لیکن دوسری جگہ پر وہی رسم و رواج نہیں پائے جاتے ہیں۔

عبادت و پرستش بھی ایک فطری امر ہے اسی لئے جتنی بھی قدیم ، خوبصورت اور مضبوط عمارتیں دیکھنے میں آتی ہیں وہ عبادت گا ہیں ، مسجدیا مندر اور چرچ وغیرہ ہیں یا پھر آتش کدے ہیں ۔ یہ اور بات ہے کہ عبادت و پرستش کے انواع و اقسام میں کافی فرق پایا جاتا ہے ۔ ایک طرف تو خود معبود میں فرق ؛ یعنی پتھر ، لکڑی اور بت کی عبادت سے لے کر خدائے وحدہ لاشریک کی عبادت تک۔ اسی طرح عبادت کے طریقوں میں فرق

--------------------------

(۱)۔ سوال: اگر بچے سے محبت کرنا فطری چیز ہے تو پھر کیوں بعض زمانوں ، جیسے دورجاہلیت میں لو گ لڑکیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے ؟ جواب : فطری مسائل کئی طرح کے ہوتے ہیں جیسے اولاد سے محبت فطری ہے اسی طرح حفظ آبرو بھی فطری ہے ۔عرب کے جاہل لڑکی، کو ذلت کاباعث سمجھتے تھے چونکہ جنگوں میں عورتیں اسیر ہوتی تھیں اور ان سے کوئی اقتصادی فائدہ نہیں ہوتا تھا، لہٰذا آبرو کے

تحفظ کے لئے اپنی لڑکیوں سے ہاتھ دھوبیٹھتے تھے ۔ دور جانے کی بات نہیں ہے مال اور جان دونوں سے محبت کرنا فطرت ہے لیکن کچھ لوگ مال کو جان پر اور کچھ لوگ جان کو مال پر قربان کر دیتے ہیں لہٰذا لڑکی کو آبرو پر قربان کرنا اولا د سے محبت کی فطرت کے منافی نہیں ہے۔

۱۲۵

ہے جیسے ناچنے ، مٹکنے سے لے کر اولیاء اللہ کی انتہائی عمیق و لطیف مناجات تک فرق پایا جاتا ہے ۔ انبیاء کا مقصد یہ نہیں تھا کہ لوگوں کے اندر خدا کی عبادت و پرستش کی روح پھو نکیںبلکہ انکا اصل مقصد معبو د سے متعلق تصور اور عبادت کے طریقے کو صحیح کرنا تھا ۔

مساجد ، گرجا گھروں اور مندر وغیرہ کی عمارتوں میں اتنا زیادہ پیسہ لگانا ، اپنے وطن کے

پرچم کو مقدس سمجھنا ، اپنی قوم کے بزرگوں اور بڑی شخصیتوں کی قدر کرنا ، لوگوں کے کمالات و فضائل کی تعریف کرنا حتی اچھی چیزوں سے رغبت ہو نایہ سب انسان کے وجود میں روحِ عبادت کے جلوے ہیں ۔

جو لوگ خدا کی عبادت نہیں کرتے ہیں وہ بھی مال و اقتدار یا بیوی ، بچوں،سندا ور ڈگری یا فکر و قانون اوراپنے مکتب فکر یا اپنی راہ و روش کی پوجا کرتے ہیں اور اسی کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔ یہ لوگ اس راہ میں اتنا زیادہ بڑھ جاتے ہیں کہ دل دے بیٹھتے ہیں اور جانفشانی پر تیار رہتے ہیں ۔ اپنی پوری ہستی کو اپنے معبودپر فدا کر دیتے ہیں ۔ خدا کی عبادت انسان کی فطرت کی گہرا ئیوں میں شامل ہے ، چاہے انسان اس سے غافل ہی ہو جیسے مولاناروم کہتے ہیں :

'' انسان اپنی فطرت کی طرف اس طرح رغبت رکھتا ہے جیسے بچہ اپنی ماں سے ، جبکہ اس کا راز وہ نہیں جانتا''۔

خدائے حکیم نے جس رغبت اور چا ہت کو پیکر انسان میں قرار دیا ہے اس کی تکمیل و تشفی کے اسباب و وسائل بھی فراہم کئے ہیں ۔ اگر انسان کو پیاس لگے تواس کے لئے

پانی پیدا کیا ، اگر انسان کو بھوک لگے تو غذا بھی موجود ہے ۔ اگر خداوند عالم نے انسان میں جنسی خو اہش کو رکھا تو اس کے لئے شریک حیات کو بھی خلق کیا،اگر خدا نے قوت

۱۲۶

شامّہ دی تو اس کے لئے اچھی خوشبوئیں بھی پیدا کیں ۔

انسان کے متعددجذبات میں سے ایک گہرا جذبہ یہ ہے کہ وہ لا متناہی چیز سے رغبت رکھتا ہے ، کمال سے عشق کرتا ہے اور بقاء کو دوست رکھتا ہے ۔ اور ان فطری رجحانات کی تکمیل ، خداوند متعال سے رابطہ اور اس کی پرستش کے ذریعہ ہوتی ہے ،نماز و عبادت ؛ کمال کے سر چشمہ انسان کا ارتباط ، محبوب واقعی سے اُنس اور اس کی قدرت لا متناہی میں احساس امنیت کرنا ہے ۔

رضائے الٰہی محور عبادت ہے :

جس طرح سے آسمانی کرات اور کرہ ارضی مختلف ( وضعی و انتقالی ) حرکات کے باوجود ہمیشہ ایک ثابت مدار رکھتے ہیں اسی طرح عبادت بھی ہے اپنی مختلف شکلوںکے با وجود ایک ثابت مدار رکھتی ہے اور وہ رضائے الہی ہے ۔ اگرچہ زمان و مکان اور انفرادی و اجتماعی شرائط اس مدار میں انجام پانے والی حرکتوں کو معین کرتے ہیں ۔ جیسے سفر میں چار رکعتی نماز دو رکعت ہو جاتی ہے اور بیماری میں نماز پڑھنے کی شکل بدل جاتی ہے لیکن دو رکعتی یا قصر نماز ، نماز ہے یہ بھی یاد خداا ور رضائے پروردگار کوانجام دینے کے لئے ہوتی ہے ۔(واقم الصلاة لذکری)(۱)

عبادت کا جذبہ :

عبادت روح کی غذا ہے ۔ سب سے اچھی غذا وہی ہوتی ہے جو بدن میں جذب ہو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)سورہ مبارکہ۱۴

۱۲۷

جائے (یعنی بدن کے لئے سود مند ثابت ہو ) نیز بہترین عبادت وہ ہے جو روح میں جذب ہو جائے یعنی خوشی اور حضور قلب کے ساتھ انجام پائے ۔ زیادہ کھانا اچھی بات نہیں ہے بلکہ سود مند غذا کھانا ضروری ہے ۔

پیغمبر اکرم (ص)،جابر بن عبد اللہ انصاری سے ارشاد فرماتے ہیں :

'' خدا کا دین مستحکم و استوار ہے اس کی نسبت نرم رویہ اختیار کرو ۔(لہٰذا جس وقت روحی اعتبار سے آمادہ نہ ہو اس وقت عبادت کو اپنے اوپر بوجھ نہ بناؤ )کہ تمہارا نفس اللہ کی عبادت سے نفرت کرنے لگے ۔ ''(۱)

رسول اکرم (ص) کی دوسری حدیث میں ہے :

'' کتنا خوش قسمت ہے وہ شخص جو عبادت سے عشق کرتا ہے اور اپنے محبوب کی طرح عبادت کو گلے لگاتا ہے۔''(۲)

عبادت سکون کا باعث ہے :

آپ بڑے بڑے سرکش ، سرمایہ داروں اور صاحبان علم و صنعت کو پہچانتے ہیں لیکن کیا ان سب کے یہاں قلبی سکون کا سراغ ملتا ہے ؟ !

کیا اہل مغرب کے پاس روحانی ا ور نفسیاتی سکون موجود ہے ؟

کیا قدرت و صنعت اور مال و ثروت آج کے انسان کو صلح و دوستی اوردلی اطمینان و

سکون عطا کرسکے ہیں ؟ لیکن خدا کی عبادت و اطاعت سے خدا کے اولیاء کو ایسی کیفیت

و حالت حاصل ہوتی ہے کہ کسی بھی حالت میں یہ لوگ مضطرب او رپریشان نہیں ہوتے

-----------------------------

(۱)۔ بحار الانوار جلد ۷۱ صفحہ ۲۱۲.

۱۲۸

عبادت کا ما حصل :

عبادت ؛ نصرت و الطاف الہی کے حصول کا ذریعہ ہے :

( واعبد ربک حتی یاتیک الیقین )(۱ )

اس قدر عبادت کرو کہ درجہ ٔ یقین پر فائز ہوجاؤ ۔

حضرت موسیٰ ـ آسمانی کتاب توریت کو حاصل کرنے کے لئے چالیس رات دن کوہِ طور پر مناجات میں مشغول رہے اور پیغمبر گرامی اسلام (ص) وحی کو حاصل کرنے کے لئے ایک طولانی مدت تک غار حرا میں عبادت کرتے رہے ۔ روایتوں میں آیا ہے : ''مَن اخلص العبادة للہ اربعین صباحا ظھرت ینابیع الحکمةمن قلبہ علی لسانہ''(۲)

جو شخص بھی چالیس رات دن اپنے تمام کاموں کو عبادت و خلوص کا رنگ دے تو پروردگار عالم حکمت کے چشمے اس کے دل اورزبان پر جاری کر دیتا ہے ۔

جی ہاں خلوص دل سے عبادت وہ یونیورسٹی ہے جو چالیس روز کے اندر تعلیم سے فارغ ہونے و الوں کو ایسا حکیم بناتی ہے جو حکمت کو الٰہی سر چشمہ سے حاصل کرکے اسے دوسروں کی طرف منتقل کرتے رہتے ہیں ۔

--------------------------

(۱)۔ حجر آیہ ۹۹ (۲)۔ بحار الانوار جلد ۵۳ صفحہ ۳۲۶.

۱۲۹

سوالات :

۱۔عبادت کیا ہے ؟

۲۔ فطرت اور عادت میں کیا فرق ہے ؟

۳۔۱گر بچے سے محبت کرنا فطری چیز ہے تو پھر کیوں دورجاہلیت میں لو گ لڑکیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے ؟

۴۔عبادت کا محور کیا چیز ہے؟

۵۔عبادت کا ماحصل بیان کیجئے ؟

۱۳۰

درس نمبر ۲۲

( تقویٰ اور پرہیز گاری )

تقویٰ کیا ہے ؟

اپنے کو گناہوں اور معصیتوں سے محفوظ رکھنا اور ہلاک کنندہ آفات و بلائوں سے حفظ کرنا ایک ایسی حقیقت ہے جس کو قرآن کریم اور دینی تعلیمات نے ''تقویٰ'' کے عنوان سے یاد کیا ہے۔

تقویٰ اس حالت کا نام ہے جو گناہوں سے اجتناب اور عبادت خدا سے حاصل ہوتی ہے اور تقویٰ دینی اقدار و معنوی زیبائی میں ایک خاص عظمت رکھتا ہے۔

صرف متقی افراد ہی میں ہدایت الٰہی کے آثار ظاہر ہوتے ہیں اور جنت بھی صرف اور صرف اہل تقویٰ کے لئے آمادہ کی گئی ہے :

(ذَلِکَ الْکِتَابُ لاَرَیْبَ فِیهِ هُدًی لِلْمُتَّقِینَ) .(۱)

'' یہ وہ کتاب ہے جس میں کسی طرح کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے.یہ

صاحبان تقویٰ اور پرہیز گار لوگوں کے لئے مجسم ہدایت ہے''۔

(وَاُزْلِفَتْ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِینَ) .(۲)

'' اور جنت بھی صرف اور صرف اہل تقویٰ کے لئے آمادہ کی گئی ہے ''

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)سورۂ بقرہ آیت ۲ (۲)سورۂ شعراء آیت ۹۰.

۱۳۱

حضرت رسول خدا (ص) کا ارشاد ہے :

''لَوْاَنَّ السَّماواتِ وَالْاَرْضَ کانَتا رَتْقاً عَلیٰ عَبْدٍ ثُمَّ اتَّقَی اللّٰهَ لَجَعَلَ اللّٰهُ لَهُ مِنْهُما فَرَجاً وَمَخْرَجاً'' ۔(۱)

'' اگر کسی بندہ پر زمین و آسمان کے دروازے بند ہوجائیں ، لیکن اگر وہ بندہ تقویٰ الٰہی اختیار کرے تو خدا اس کے لئے زمین و آسمان کے دروازے کھول دیتاہے''۔

تقویٰ کے آثار و برکات :

۱۔ تقویٰ ہدایت قبول کرنے کا پیش خیمہ ہے( هُدیً للمتقین) (۲)

۲۔ خداوند عالم صاحبان تقویٰ کو علم عطا کرتا ہے۔(واتقوا للّٰه و یُعَلمکم اللّٰهُ (۳)

۳۔ تقویٰ رحمت الٰہی کے حصول کا ذریعہ ہے۔(واتقو اللّٰه لَعَلْکم تُرْحمون) (۴)

۴۔ تقویٰ اعمال کے قبول ہونے کا وسیلہ ہے ہم قرآن مجید میں پڑھتے ہیں کہ خداوند عالم فقط صاحبان تقویٰ کے اعمال قبول کرتا ہے-( انّما یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ-) (۵)

۵۔ تقویٰ کے باعث انسان کو ایسی جگہ سے رزق ملتا ہے جس کا اُسے خیال بھی نہیں ہوتا ( ویَرْزُقُه' من حَیْثُ لَا یَحْتَسِبْ)(۶)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)عدة الداعی ص۳۰۵،فصل فی خواص متفرقة ؛بحار الانوار ج۶۷،ص۲۸۵،باب ۵۶،حدیث۸ (۲)۔ سورئہ بقرہ، آیت ۲ (۳)۔سورئہ بقرہ، آیت ۲۸۲ (۴)۔ سورئہ انعام، آیت ۱۵۵ (۵)۔ سورئہ مائدہ، آیت ۲۷ (۶)۔ سورئہ طلاق، آیت ۳

۱۳۲

۶۔ اللہ تعالیٰ نے صاحبان تقویٰ سے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ بے یار ومددگار نہیں رہیں گے( وَمَنْ یَتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَه' مَخْرَجًا) (۱)

۷۔ اللہ تعالیٰ اپنی حمایت اور غیبی امداد صاحبان تقویٰ پر نثار کردیتا ہے۔(وَ اعْلَمُوا انّ اللّٰهَ مَعَ المتقینَ ) (۲)

۸۔ تقویٰ قیامت کے خطرات سے محفوظ رہنے (۳) اور عاقبت بالخیر کا ذریعہ ہے( والعاقبة للمتقین) (۴)

تقویٰ میں مؤثر عوامل :

تقویٰ کے آثار و برکات کی طرف اشارہ کرنے کے بعد اب ہم ان عوامل کا ذکر

کرتے ہیں جو متقی اور پرہیز گار بننے میں انسان کی مدد کرتے ہیں۔

۱۔ مبدأ و معاد پر ایمان رکھنے سے انسان کا گناہوں کے مقابلے میں بیمہ ہوجاتا ہے۔ جس قدر اس کا ایمان قوی ہوگا، تقویٰ بھی اتنا ہی پائیدار ہوگا۔

۲۔ عمومی نظارت (امر بالمعروف اور نہی از منکر) معاشرے میں تقویٰ کے رشد کا باعث

بنتی ہے۔

۳۔ خاندان کی تربیت، ۴۔ لقمہ حلال کا حصول،

۵۔ اپنی ذمہ داری کو دیانتداری سے ادا کرنا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ سورئہ طلاق، آیت ۲ (۲)۔ سورئہ توبہ آیت ۳۶ اور ۱۲۳

(۳)۔ سورئہ مریم، آیت ۷۲ (۴)۔ سورئہ اعراف ، آیت ۱۲۸

۱۳۳

۶۔ دوستوں (بیوی، ہم پیشہ، ہمسایہ، اور ہم جماعت افراد) کے ساتھ اچھا برتاؤ۔

۷۔ صحیح پیشہ کا انتخاب، (۸ ) ۔ با تقویٰ افراد کو دوست رکھنا

یہ سب ایسے عوامل ہیں جو تقویٰ میں مؤثر ہیں۔

حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی نظر میںا ہل تقویٰ کی نشانیاں :

حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے اہل تقویٰ کے کچھ نشانیاں بیان کی ہیں، منجملہ :

صداقت،ادائے امانت، وفائے عہد، عجز و بخل میں کمی، صلہ رحم، کمزوروں پر رحم، ، خوبی کرنا، اخلاق حسنہ، بردباری میں وسعت، اس علم پر عمل جس کے ذریعہ خدا کے قریب

ہوجائے، اور اس کے بعد فرمایا: خوش نصیب ہیں یہ افراد، کیونکہ ان کی آخرت سعادت بخش نیک اور اچھی ہوگی۔(۱)

کیا تقویٰ محدودیت ہے؟

بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ تقویٰ محدودیت اور قید خانہ ہے ۔ جبکہ تقویٰ تو ایک قلعہ اور حصار ہے۔ قید خانے اور قلعے کے درمیان فرق یہ ہے کہ قید خانے کو باہر

سے تالا لگایا جاتا ہے جو ایک زبردستی کی محدودیت ہے۔ جو انسان کی آزادی سے سازگار نہیں ہے لیکن قلعے کا انتخاب انسان خود کرتا ہے۔ اور پھر خود اُسے اندر سے تالا لگاتا ہے۔ تاکہ حوادث روزگار سے محفوظ رہ سکے۔ آپ خود بتائیں جب ہم پاؤں میں جوتا پہنتے ہیں تو ہم پاؤں کو محدود کرتے ہیں یا محفوظ؟ پس ہر محدودیت بری نہیں ہوتی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)تفسیر عیاشی ج۲،ص۲۱۳،حدیث۵۰؛ بحار الانوار ،ج۶۷،ص ۲۸۲،باب ۵۶،حدیث۲.

۱۳۴

اور ہر آزادی اہم نہیں ہوتی۔

اسی طرح ہر وسعت کی اہمیت نہیں جیسا کہ سرطان کے جراثیم جو بدن میں پھیل جاتے ہیں۔ اسی طرح ہر عقب نشینی، اور پہلے والی حالت پر واپس پلٹنا برا نہیں۔ مریض ڈاکٹر کیپاس اس لیے جاتا ہے کہ وہ اسے پہلے والی حالت پر واپس لے آئے۔ اس کا ہدف بیماری سے پہلے والی حالت کی طرف پلٹنا ہے۔ اس کا یہ واپس آنا اہمیت رکھتا ہے۔ تقویٰ امن و امان کے حصول کا نام ہے۔ جو عورتیں اور لڑکیاں آزادی کے نام پر مختلف انداز میں لوگوں کی نظروں کے سامنے جلوہ گر ہوتی ہیں اگر چند منٹ (فقط چند

منٹ) کے لیے غور وفکر کریں چاہے وہ مسلمان نہ بھی ہوں تب بھی علم و عقل ان کو عفت و پاکیزگی کی دعوت دے گی۔

بدحجابی یا بے حجابی مندرجہ ذیل مسائل کو ایجاد کرتی ہے۔

۱۔ لوگ بے حجاب خواتین کی نسبت سوء ظن رکھتے ہیں۔

۲۔ لوگ بے حجاب خواتین کو اغوا کرنے کی سازشیں کرتے ہیں۔

۳۔ بے پردہ خواتین کی وجہ سے خاندانی نظام تباہ و برباد ہوجاتا ہے۔

۴۔ نوجوان نسل کو روحی طور پر بد اندیشی اور کج فکری کی کھلی دعوت ملتی ہے۔

۵۔ بے پردگی سے خواتین خود نمائی اور فضول خرچی کی طرف راغب ہوجاتی ہیں۔

۶۔ بے پردگی طالب علموں کے درس و مطالعہ میں فکری تمرکز کو ختم کردیتی ہے۔

۷۔ بے بضاعت افراد کو شرمندہ کرتی ہے ۔ جو اس قسم کے لباس خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے۔

۱۳۵

۸۔ بے پردگی اقتصادی حالت کو ابتر بنادیتی ہے۔ کیونکہ ایسی صورت میں کام محنت سے انجام نہیں دیئے جاتے اور ہمیشہ ہوس بازی کا بازار گرم رہتا ہے۔

۹۔ ایسی خواتین اور لڑکیوں کو ناکام کرنا جو اپنی شکل و صورت پر زیادہ توجہ نہیں دیتیں۔

۱۰۔ والدین کو حیران و پریشان رکھنا۔ ۱۱۔ بد قماش افراد کو راضی کرنا۔

۱۲۔ منفی رقابت کا پیدا ہونا۔ ۱۳۔ گھر سے فرار کرنا۔

۱۴۔ ناجائز اولاد کا دنیا میں آنا۔ ۱۵۔ ایڈز جیسے امراض کا پیدا ہونا۔

۱۶۔ سقط حمل، خودکشی، قتل وکشتار، حادثات وغیرہ جیسے مسائل کا وجود میں آنا اور یہ سب عدم تقویٰ اور بے حجابی کے مسائل ہیں۔ ۱۷۔ روحی اور نفسیاتی امراض کا زیادہ ہونا۔

اسی لیے شاید قرآن میں تقویٰ کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ اور امام جمعہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر خطبہ میں تقویٰ کے مسائل بیان کرے۔

قرآن کریم کم مقدار تقویٰ پر قناعت نہیں کرتا اور فرماتا ہے:(فَا تَّقُوا اللّٰه مَا اسْتَطَعتُمْ) (۱) جہاں تک ممکن ہو تقویٰ اختیار کرو۔

ایک اور جگہ ارشاد فرماتا ہے:( وَ اتّقُوا اللّٰه حَقَّ تُقٰاتِه) (۲) جس طرح تقویٰ کا حق ہے اُسی طرح اُسے اختیار کرو۔

البتہ مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ جب بھی ہم کسی گناہ میں گرفتار ہوجائیں تو ہم نماز، توبہ اور اپنے پروردگار سے مدد طلب کرکے گناہوں کی دلدل سے نکل سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔سورئہ تغابن، آیت ۱۶ (۲) سورہ آل عمران آیت ۱۰۲

۱۳۶

سوالات :

۱۔تقویٰ کیا ہے ؟

۲۔ تقویٰ کے کوئی بھی پانچ آثار بیان کیجئے ؟

۳۔تقویٰ میں کیا عوامل مؤثر ہیں ؟

۴۔حضتر علی کی نگاہ میں اہل تقویٰ کی کیا نشانیاں ہیں ؟

۵۔کیا تقویٰ محدودیت ہے؟

۱۳۷

درس نمبر ۲۳ ( نعمتیں اور انسان کی ذمہ داری )

خدا وندمتعال نے اپنے خاص لطف و کرم، رحمت ومحبت اور عنایت کی بنا پر انسان کو ایسی نعمتوں سے سرفراز ہونے کا اہل قرار دیا جن سے اس کائنات میں دوسری مخلوقات یہاں تک کہ مقرب فرشتوںکو بھی نہیں نوازا۔

انسان کے لئے خداوندعالم کی نعمتیں اس طرح موجود ہیں کہ اگر انسان ان کو حکم خدا کے مطابق استعمال کرے تو اس کے جسم اور روح میں رشد و نمو پیدا ہوتا ہے او ردنیاوی اور اُخروی زندگی کی سعادت و کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

قرآن مجید نے خدا کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں کے بارے میں ۱۲اہم نکات کی طرف توجہ دلائی ہے :

۱۔ نعمت کی فراوانی اور وسعت۔ ۲۔ حصول نعمت کا راستہ۔

۳۔ نعمت پر توجہ ۔ ۴۔نعمت پر شکر۔

۵۔نعمت پر ناشکری سے پرہیز۔ ۶۔نعمتوں کا بے شمار ہونا۔

۷۔نعمت کی قدر کرنے والے۔ ۸۔نعمتوں میں اسراف کرنا۔

۹۔نعمتوں کو خرچ کرنے میں بخل سے کام لینا۱۰۔نعمت چھن جانے کے اسباب و علل۔

۱۱۔اتمام ِنعمت ۔ ۱۲۔نعمت سے صحیح فائدہ اٹھانے کا انعام۔

آئیے اب ہم قرآن مجید کے بیان کردہ ان عظیم الشان بارہ نکات کی طرف توجہ کرتے

۱۳۸

ہیں :

۱۔ نعمت کی فراوانی اور وسعت :

زمین و آسمان کے در میان پائی جانے والی تمام چیزیں کسی نہ کسی صورت خداوندعالم کے ارادہ اور اس کے حکم سے انسان کو فائدہ پہنچارہی ہیں۔

پہاڑ، جنگل، صحرا، دریا، درخت و سبزے، باغ، چشمے، نہریں، حیوانات اور دیگر زمین پر پائی جانے والی بہت سی مخلوقات ایک طرح سے انسان کی زندگی کی مشین کو چلانے میں اپنی اپنی کارکردگی میں مشغول ہیں۔

خداوندعالم کی نعمتیں اس قدر وسیع ، زیادہ، کامل اور جامع ہیں کہ انسان کو عاشقانہ طور پر اپنی آغوش میں لیئے ہوئے ہیں، اور ایک مہربان اور دلسوز ماں کی مانند ،انسان کے رشد

و نمو کے لئے ہر ممکن کوشش کررہی ہیں۔

انسان کو جن ظاہری و باطنی نعمتوں کی ضرورت تھی خداوندعالم نے اس کے لئے پہلے سے ہی تیار کررکھی ہے، اور اس وسیع دسترخوان پر کسی بھی چیز کی کمی نہیں ہے۔

چنانچہ قرآن کریم میں اس سلسلے میں بیان ہوتا ہے :

( َلَمْ تَرَوْا أنَّ اﷲَ سَخَّرَ لَکُمْ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْأرْضِ وأسْبَغَ عَلَیْکُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً...) .(۱)

'' کیا تم لوگوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے زمین و آسمان کی تمام چیزوں کو تمہارے لئے مسخر کر دیا ہے اور تمہارے لئے تمام ظاہری اور باطنی نعمتوں کو مکمل فرمایااور لوگوں میں

بعض ایسے بھی ہیں جو علم ہدایت اور روشن کتا ب کے بغیر بھی خدا کے بارے میں بحث

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)سورہ ٔ لقمان آیت ۲۰.

۱۳۹

کرتے ہیں ''.

۲۔ حصول نعمت کا راستہ :

رزق کے حصول کے لئے ہر طرح کا صحیح کام اور صحیح کوشش کرنا؛ بے شک خداوندعالم کی عبادت اور بندگی ہے؛ کیونکہ خدائے مہربان نے قرآن مجید کی بہت سی آیات میں اپنے بندوں کو زمین کے آباد کرنے اور حلال روزی حاصل کرنے، کسب معاش، جائز تجارت اورخرید و فروخت کا حکم دیا ہے، اور چونکہ خداوندعالم کے حکم کی اطاعت کرنا عبادت و بندگی لہٰذا اس عبادت و بندگی کا اجر و ثواب روز قیامت ]ضرور[ ملے گا۔

قرآن مجید اس مسئلہ کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے :

(یَاَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَاْکُلُوا أمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِإ لاَّ أنْ تَکُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْکُمْ).(۱)

'' اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال کو ناحق طریقہ سے نہ کھایا کرو۔مگر یہ کہ باہمی رضامندی سے معاملہ کرلو ''.

( یَاَیُّهَا النَّاسُ کُلُوا مِمَّا فِی الْأرْضِ حَلاَلًا طَیِّبًا وَلاَتَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّیْطَانِ إنَّهُ لَکُمْ عَدُوّ مُبِین) .(۲)

'' اے انسانو! زمین میں جو کچھ بھی حلال و پاکیزہ ہے اسے استعمال کرو اور شیطان کے نقش قدم پر مت چلو بے شک وہ تمہاراکھلا دشمن ہے ''.

بہر حال خداوندعالم کی طرف سے جو راستے حلال اور جائز قرار دئے گئے ہیںاگر ان جائز اور شرعی طریقوں سے روزی حاصل کی گئی ہے اور اس میں اسراف و تبذیر سے خرچ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)سورۂ نساء آیت ۲۹. (۲)سورۂ بقرہ آیت۱۶۸.

۱۴۰

نہیں کیا گیا تو یہ حلال روزی ہے اور اگر غیر شرعی طریقہ سے حاصل ہونے والی روزی اگرچہ وہ ذاتی طور پر حلال ہو جیسے کھانے

پینے کی چیزیں؛ تو وہ حرام ہے اور ان کا اپنے پاس محفوظ رکھنا منع ہے اور ان کے اصلی مالک کی طرف پلٹانا واجب ہے۔

3۔ نعمت پر توجہ :

کسی بھی نعمت سے بغیر توجہ کئے فائدہ اٹھانا، چوپائوں، غافلوں اور پاگلوں کاکام ہے ، انسان کم از کم یہ تو سوچے کہ یہ نعمت کیسے وجود میں آئی ہے یا اسے ہمارے لئے کس مقصد کی خاطر پیدا کیا گیا؟ اس کے رنگ، بو اور ذائقہ میں کتنے اسباب و عوامل پائے گئے ہیں، المختصر یہ کہ بغیر غور و فکر کئے ایک لقمہ روٹی یا ایک لباس، یا زراعت کے لائق

زمین، یا بہتا ہوا چشمہ، یا بہتی ہوئی نہر، یا مفید درختوں سے بھرا جنگل، اور یہ کہ کتنے کروڑ یا کتنے ارب عوامل و اسباب کی بنا پر کوئی چیز وجود میں آئی تاکہ انسان زندگی کے لئے مفید واقع ہو ؟ !!

صاحبان عقل و فہم اور دانشور اپنے پاس موجود تمام نعمتوں کو عقل کی آنکھ اور دل کی بینائی سے دیکھتے ہیں تاکہ نعمت کے ساتھ ساتھ،نعمت عطا کرنے والے کے وجود کا احساس کریں اور نعمتوںکے فوائد تک پہنچ جائیں، نیز نعمت سے اس طرح فائدہ حاصل کریں جس طرح نعمت کے پیدا کرنے والے کی مرضی ہو۔

قرآن مجید جو کتاب ہدایت ہے ؛اس نے لوگوں کوخداوندعالم کی نعمتوں پر اس طرح متوجہ کیاہے :

( یَاَیُّهَاالنَّاسُ اذْکُرُوا نِعْمَةَ اﷲِ عَلَیْکُمْ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُاﷲِ یَرْزُقُکُمْ مِنْ السَّمَائِ

۱۴۱

وَالْأرْضِ لاَإلَهَ إلاَّ هُوَ فَأنَّی تُؤْفَکُونَ) .(1)

'' اے لوگو! اپنے اوپر ]نازل ہونے والی[ اللہ کی نعمت کو یاد کرو کیا ، ]کیا[ اس کے علاوہ بھی کوئی خالق ہے ؟وہی تو تمھیں آسمان اور زمین سے روزی دیتا ہے اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ، پس تم کس طرف بہکے چلے جارہے ہو ''.

4۔نعمت پر شکر :

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ شکر کے معنی یہ ہیں کہ نعمت سے فائدہ اٹھانے کے بعد ''شکر ﷲ '' ]الٰہی تیرا شکر[ یا ''الحمد ﷲ'' کہہ دیا جائے ، یا اس سے بڑھ کر ''الحمد ﷲ رب العالمین'' زبان پر جاری کردیا جائے۔

یاد رہے کہ ان بے شمار مادی اور معنوی نعمتوں کے مقابلہ میں اردو یا عربی میں ایک جملہ

کہہ دینے سے حقیقی معنی میں شکر نہیں ہوتا، بلکہ شکر ، نعمت عطا کرنے والی ذات کے مقام اور نعمت سے ہم آہنگ ہونا چاہئے ، اور یہ معنی اس وقت تک متحقق نہیں ہوں گے، جب تک انسان اپنے اعضاء و اجوارح کے ذریعہ خداوندمتعال کا شکر ادا کرنے کے لئے ان افعال و اقدامات کو انجام نہ دے جن سے پتہ چل جائے کہ وہ پروردگارعالم کا اطاعت گزار بندہ ہے ، پس شکر خدا کے لئے ضروری ہے کہ انسان ایسے امور کو انجام دے جو خدا کی رضایت کا سبب قرار پائیں اور اس کی یاد سے غافل نہ ہونے دیں۔

کیا خداوندعالم کے اس عظیم لطف و کرم کے مقابلہ میں صرف زبانی طور پر''الٰہی تیرا شکر

'' یا ''الحمد للہ'' کہہ دینے سے کسی کوشاکر کہا جاسکتا ہے؟ !

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورۂ فاطر آیت 3

۱۴۲

خواجہ نصیر الدین طوسی ،علامہ مجلسی کی روایت کی بنا پر شکر کے معنی اس طرح فرماتے ہیں :

'' شکر، شریف ترین اور بہترین عمل ہے، معلوم ہونا چاہئے کہ شکر کے معنی قول و فعل اور نیت کے ذریعہ نعمتوں کے مدّمقابل قرار پانا ہے، اور شکر کے لئے تین رکن ہیں :

ا۔ نعمت عطا کرنے والے کی معرفت ، اوراس کے صفات کی پہچان، نیز نعمتوں کی شناخت کرنا ضروری ہے، اور یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ تمام ظاہری اور باطنی نعمتیں سب اسی کی طرف سے ہیں، اس کے علاوہ کوئی حقیقی منعم نہیں ہے، انسان اور نعمتوں کے درمیان تمام واسطے اسی کے فرمان کے سامنے سرِتسلیم خم کئے ہیں۔

2۔ ایک خاص حالت کا پیدا ہونا، اور وہ یہ ہے کہ انسان عطا کرنے والے کے سامنے خشوع و خضوع اور انکساری کے ساتھ پیش آئے اور نعمتوں پر خوش رہے، اور اس بات

پر یقین رکھے کہ یہ تمام نعمتیں خدا وندعالم کی طرف سے انسان کے لئے تحفے ہیں، جو اس بات کی دلیل ہیں کہ خداوندعالم انسان پر عنایت و توجہ رکھتا ہے، اس خاص حالت کی نشانی یہ ہے کہ انسان مادی چیزوں پر خوش نہ ہو مگر یہ کہ جن کے بارے میں خداوندعالم کا قرب حاصل ہو۔

3۔ عمل، اور عمل بھی دل، زبان اور اعضاء سے ظاہر ہونا چاہئے۔

دل سے خداوندعالم کی ذات پر توجہ رکھے اس کی تعظیم اور حمدو ثناکرے، اور اس کی مخلوقات اور اس لطف و کرم کے بارے میں غور و فکر کرے، نیز اس کے تمام بندوں تک خیر و نیکی پہنچانے کا ارادہ کرے۔

زبان سے اس کا شکر و سپاس، اس کی تسبیح و تہلیل اور لوگوں کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرے۔

۱۴۳

تمام ظاہری و باطنی نعمتوں کو استعمال کرتے ہوئے اس کی عبادت و اطاعت میںاعضاء کو کام میں لائے، اور اعضاء کو خدا کی معصیت و مخالفت سے روکے رکھے''۔

لہٰذا شکر کے اس حقیقی معنی کی بنا پر یہ بات روشن ہوجاتی ہے کہ شکر ،صفات کمال کے اصول میں سے ایک ہے، جو صاحبان نعمت میں بہت ہی کم ظاہر ہوتے ہیں، چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:( وَقَلِیل مِنْ عِبَادِی الشَّکُورُ) .(1)

'' اور ہمارے بندوں میں شکر گزار بندے بہت کم ہیں ''.

5۔نعمت پر ناشکری سے پرہیز :

بعض لوگ ،حقیقی منعم سے بے خبر اورخداداد نعمتوں میں بغیر غور و فکر کئے اپنے پاس

موجودتمام نعمتوں کو مفت تصور کرتے ہیں، اور خودکو ان کا اصلی مالک تصورکرتے ہیں اور جو بھی ان کا دل اور ہوائے نفس چاہتا ہے ویسے ہی ان نعمتوں کو استعمال کرتے ہیں۔

یہ لوگ جہل و غفلت اور بے خبری اور نادانی میں گرفتار ہیں ،خدائی نعمتوں کو شیطانی کاموں اور ناجائز شہوتوں میں استعمال کرتے ہیں، اور اس سے بدتر یہ ہے کہ ان تمام خداداد نعمتوں کو اپنے اہل و عیال، اہل خاندان، دوستوں او ردیگر لوگوں کو گمراہ کرنے پر بھی خرچ کرڈالتے ہیں۔

اعضاء و جوارح جیسی عظیم نعمت کو گناہوں میں، مال و دولت جیسی نعمت کو معصیت و خطا میں ، علم و دانش جیسی نعمت کو طاغوت و ظالموں کی خدمت میںاور بیان جیسی نعمت کو

بندگان خدا کو گمراہ کرنے میں خرچ کرڈالتے ہیں !!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورۂ سباء ،آیت 13.

۱۴۴

یہ لوگ خدا ئی نعمتوں کی زیبائی اور خوبصورتی کو شیطانی پلیدگی اور برائی میں تبدیل کردیتے ہیں، اور اپنے ان پست کاموں کے ذریعہ خود کو بھی اور اپنے دوستوں کو بھی جہنم کے ابدی عذاب کی طرف ڈھکیلے جاتے ہیں !

( َلَمْ تَرَی إلَی الَّذِینَ بَدَّلُوا نِعْمَةَ اﷲِ کُفْرًا وَأحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَالْبَوَارِ٭جَهَنَّمَ یَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ) .(1)

'' کیاتم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھوں نے اللہ کی نعمت کو کفران نعمت سے بدل دیا اور اپنے قوم کو ہلاکت کی منزل تک پہنچا دیا۔یہ لوگ واصل جہنم ہوں گے اور جہنم کتنا بُرا ٹھکانہ ہے ''.

6۔نعمتوں کا بے شمار ہونا :

اگر ہم نے قرآن کریم کی ایک آیت پر بھی توجہ کی ہو تی تو یہ بات واضح ہوجاتی کہ خداوندعالم کی مخلوق اور اس کی نعمتوں کا شمار ممکن نہیں ہے، اور شمار کرنے والے چاہے کتنی بھی قدرت رکھتے ہوں ان کے شمار کرنے سے عاجز رہے ہیں. جیسا کہ قر آن مجید میں ارشاد ہوتا ہے :

( وَلَوْ أنَّمَا فِی الْأرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ أقْلَام وَالْبَحْرُ یَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أبْحُرٍ مَا نَفِدَتْ کَلِمَاتُ اﷲِ إنَّ اﷲَ عَزِیز حَکِیم) (2)

'' اور اگر روئے زمین کے تمام درخت ،قلم بن جائیں اور سمندر میں مزید سات سمندر اور آجائیں تو بھی کلمات الٰہی تمام ہونے والے نہیں ہیں ،بیشک اللہ صاحب عزت بھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورۂ ابراہیم آیت ،28۔29.

(2)سورۂ لقمان آیت ،27.

۱۴۵

ہے اور صاحب حکمت بھی ''.

ہمیں اپنی پیدائش کے سلسلے میں غور و فکر کرنا چاہئے اور اپنے جسم کے ظاہری حصہ کو عقل کی آنکھوں سے دیکھنا چاہئے تاکہ یہ حقیقت واضح ہوجائے کہ خداوندعالم کی نعمتوں کا شمار کرنا ہمارے امکان سے باہر ہے۔جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے :

( وَإنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اﷲِ لاَتُحْصُوهَا إنَّ اﷲَ لَغَفُور رَحِیم ) .(1)

'' اور تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں کرسکتے ، بیشک اللہ بڑا مہربان اور بخشنے والا ہے ''.

7۔نعمتوںکی قدر شناسی :

جن افراد نے اس کائنات ، زمین و آسمان اور مخلوقات میں صحیح غور و فکر کرنے کے بعد خالق کائنات، نظام عالم ،انسان اور قیامت کو پہچان لیا ہے وہ لوگ اپنے نفس کا تذکیہ ، اخلاق کو سنوارنے، عبادت و بندگی کے راستہ کو طے کرنے اور خدا کے بندوں پر نیکی و احسان کرنے میں سعی و کوشش کرتے ہیں، درحقیقت یہی افراد خداوندعالم کی نعمتوں کے قدر شناس ہیں۔

جی ہاں ، یہی افراد خداکی تمام ظاہری و باطنی نعمتوں سے فیضیاب ہوتے ہیں اور اس طریقہ سے خود اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے افراد دنیا و آخرت کی سعادت و خوش بختی تک پہنچ جاتے ہیں، اس پاک قافلہ کے قافلہ سالار اور اس قوم کے ممتاز رہبر انبیاء اور ائمہ معصومین علیہم السلام ہیں ، تمام مومنین شب و روز کے فریضہ الٰہی یعنی نماز میں انھیں کے راستہ پر برقرار رہنے کی دعا کرتے ہیں :

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورۂ نحل آیت ،18.

۱۴۶

( اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیمَ ٭صِرَاطَ الَّذِینَ أنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْهِمْ وَلاَالضَّالِّینَ). (1)

'' ہمیں سیدھے راستہ کی ہدایت فرماتا رہ ۔جو ان لوگوں کا راستہ ہے جن پر تونے نعمتیں نازل کی ہیں ،ان کا راستہ نہیں جن پر غضب نازل ہوا ہے یا جو بہکے ہوئے ہیں ''.

جی ہاں، انبیاء اور ائمہ معصومین علیہم السلام خداوندعالم کی تمام مادی و معنوی نعمتوں کا صحیح

استعمال کیا کرتے تھے، اور شکر نعمت کرتے ہوئے اس عظیم مقام اور بلند مقام و مرتبت پر پہنچے ہوئے ہیں کہ انسان کی عقل درک کرنے سے عاجز ہے۔

خداوندمہربان نے قرآن مجید میں ان افراد سے وعدہ کیا ہے جو اپنی زندگی کے تمام مراحل میں خدا و رسول (ص)کے مطیع و فرمانبردار رہے ہیں، ان لوگوں کو قیامت کے دن نعمت شناس حضرات کے ساتھ محشور فرمائے گا۔

( وَمَنْ یُطِعْ اﷲَ وَالرَّسُولَ فَاُوْلَئِکَ مَعَ الَّذِینَ أنْعَمَ اﷲُ عَلَیْهِمْ مِنْ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّهَدَائِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ اُوْلَئِکَ رَفِیقًا) .(2)

'' اور جو شخص بھی اللہ اوررسول کی اطاعت کرے گا وہ ان لوگوں کے ساتھ رہے گا جن پر خدا نے نعمتیں نازل کی ہیں انبیائ،صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ اور یہی لوگ بہترین رفقاء ہیں ''.

8۔نعمتوں کا بیجا استعمال :

مسرف ]فضول خرچی کرنے والا[ قرآن مجید کی رُوسے اس شخص کو کہا جاتا ہے جو اپنے

مال، مقام، شہوت اور تقاضوں کو شیطانی کاموں ، غیر منطقی اور بے ہودہ کاموں میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورۂ حمد آیت ،6۔7. (2)سورۂ نساء آیت69.

۱۴۷

خرچ کرتا ہے۔

خداکے عطا کردہ مال و ثروت اور فصل کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے :

(... وَآتُوا حَقَّهُ یَوْمَ حَصَادِهِ وَلاَتُسْرِفُوا إنَّهُ لاَیُحِب الْمُسْرِفِینَ) .(1)

'' اور جب فصل ]گندم، جو خرما اور کشمش[ کاٹنے کا دن آئے تو ان ]غریبوں، مسکینوں، زکوٰة جمع کرنے والوں، غیر مسلم لوگوں کو اسلام کی طرف رغبت دلانے کے لئے، مقروض، فی سبیل اللہ اور راستہ میں بے خرچ ہوجانے والوں[ کا حق ادا کردو اور

خبردار اسراف نہ کرنا کہ خدا اسراف کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا ہے ''.

جو لوگ اپنے مقام و منصب اور جاہ و جلال کو لوگوں پر ظلم و ستم ڈھانے، ان کے حقوق کو ضائع کرنے، معاشرہ میں رعب ودہشت پھیلانے اور قوم و ملت کو اسیر کرنے کے لئے خرچ کرتے ہیں، ان لوگوں کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے :

(وَإنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْأرْضِ وَإنَّهُ لَمِنْ الْمُسْرِفِینَ) .(2)

'' اور یہ فرعون ]اپنے کو[ بہت اونچا ]خیال کرنے لگا[ہے اور وہ اسراف اور زیادتی کرنے والا بھی ہے ''.

اسی طرح جو لوگ عفت نفس نہیں رکھتے یا جولوگ اپنے کو حرام شہوت سے نہیں بچاتے اور صرف مادی و جسمانی لذت کے علاوہ کسی لذت کو نہیں پہچانتے اور ہر طرح کے ظلم سے اپنے ہاتھوں کو آلودہ کرلیتے ہیںنیز ہر قسم کی آلودگی ، ذلت اور جنسی شہوات سے پرہیز نہیں کرتے ، ان کے بارے میں بھی قرآن مجید فرماتا ہے :

( ِنَّکُمْ لَتَاْتُونَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِنْ دُونِ النِّسَائِ بَلْ أنْتُمْ قَوْم مُسْرِفُونَ) .(3)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورۂ انعام آیت ،141. (2)سورۂ یونس آیت83 (3)سورۂ اعراف آیت81.

۱۴۸

تم از راہ شہوت عورتوں کے بجائے مردوں سے تعلقات پیدا کرتے ہو اور تم یقینا اسراف اور زیادتی کرنے والے ہو ''.

قرآن مجیدان لوگوں کے بارے میں بھی فرماتا ہے جو انبیاء علیہم السلام اور ان کے معجزات کے مقابلہ میں تواضع و انکساری اور خاکساری نہیں کرتے اور قرآن ،اس کے دلائل اور خدا کے واضح براہین کا انکار کرتے ہیں اور کبر و نخوت، غرور و تکبر و خودبینی کا راستہ چلتے ہوئے خداوندعالم کے مقابل صف آرا نظر آتے ہیں، ارشاد ہوتا ہے :

(ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ فَأَنْجَیْنٰاهُمْ وَ مَن نَّشَآئُ وَ أَهْلَکْنٰا الْمُسْرِفِینَ) (1)

پھر ہم نے ان کے وعدہ کو سچ کر دکھایا اور انھیں اورا ن کے ساتھ جن کو چاہا بچالیا اور زیادتی کرنے والوں کو تباہ و بر باد کر دیا ''.

9۔نعمتوں کے استعمال میں بخل کرنا :

بخل اور اضافی نعمت کو مستحقین پر خرچ نہ کرنے کی برائی کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے۔

( وَلاَیَحْسَبَنَّ الَّذِینَ یَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمْ اﷲُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَیْرًا لَهُمْ بَلْ هُوَ شَرّ لَهُمْ سَیُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَلِلَّهِ مِیرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأرْضِ وَاﷲُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیر) (2)

'' اور خبردار جو لوگ خدا کے دیئے ہوئے میں مال میں بخل کرتے ہیں ان کے بارے میں یہ نہ سوچنا کہ اس بخل میں کچھ بھلائی ہے ۔یہ بہت برا ہے، اور عنقریب جس مال میں بخل کیا ہے وہ روز قیامت ان کی گردن میں طوق بنادیا جائے گا، اوراللہ ہی کے لئے زمین و آسمان کی ملکیت ہے اور وہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے ''.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورۂ انبیاء آیت9.(2)سورۂ آل عمران آیت180.

۱۴۹

10۔نعمت ، زائل ہونے کے اسباب و علل :

قرآن مجید کی حسب ذیل آیتوں (سورہ اسراء آیت 83،سورہ قصص آیت 76تا79، سورہ فجرآیت 17 تا 20، سورہ لیل آیت 8تا10) سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ درج ذیل چیزیں، نعمتوں کے زائل ہونے، فقر و فاقہ ، معاشی تنگ دستی اور ذلت و رسوائی کے اسباب ہیں :

نعمت میں مست ہونا، غفلت کا شکار ہونا، نعمت عطا کرنے والے کو بھول جانا، خداوندعالم سے منھ موڑلینا، احکام الٰہی سے مقابلہ کرنا اور خدا ، قرآن و نبوت اور امامت کے مقابل آجانا، چنانچہ اسی معنی کی طرف درج ذیل آیہ شریفہ اشارہ کرتی ہے :

( وَإذَا أَنْعَمْنَا عَلَی الْإنسَانِ أعْرَضَ وَنَأی بِجَانِبِهِ وَإذَا مَسَّهُ الشَّرُّ کَانَ یَئُوسًا) .(1)

اور ہم جب انسان پر کوئی نعمت نازل کرتے ہیں تو وہ پہلو بچاکر کنارہ کش ہوجاتا ہے اور جب تکلیف ہوتی ہے تو مایوس ہو جاتا ہے ''.

نعمت پر مغرور ہونا، مال و دولت پر حد سے زیادہ خوش ہونا ، غریبوں اور مستحقوں کا حق نہ دے کر آخرت کی زادہ راہ سے بے خبر ہونا، نیکی اور احسان میں بخل سے کام لینا، نعمتوں کے ذریعہ شروفساد پھیلانا، اوریہ تصور کرنا کہ میں نے اپنی محنت ، زحمت اور ہوشیاری سے یہ مال و دولت حاصل کی ہے، لوگوں کے سامنے مال و دولت ، اور زر و زینت پر فخر کرنا اور اسی طرح کے دوسرے کام، یہ تمام باتیں سورہ قصص کی آیات 76 تا 83 میں بیا ن ہوئی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورۂ اسراء آیت83.

۱۵۰

یتیموں کا خیال نہ رکھنا، محتاج لوگوں کے بارے میں بے توجہ ہونا، کمزور وارثوں کی میراث کو ہڑپ لینا، نیز مال و دولت کا بجاری بن جانا، یہ سب باتیں حسب ذیل آیات میں بیان ہوئی ہیں، ارشاد ہوتا ہے :

( کَلاَّ بَلْ لاَّ تُکْرِمُونَ الْیَتِیمَ ٭وَلَا تَحٰاضُونَ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِینَ٭وَتَأْکُلُونَ التُّرَاثَ أَکْلاً لَمَّا٭وَ تُحِبُّونَ الْمٰالَ حُبًّا جَمًّا).(1)

'' ایسا ہر گز نہیں ہے بلکہ تم یتیموں کا احترام نہیں کرتے ہو،اور لوگوں کو مسکینوں کے طعام دینے پر آمادہ نہیں کرتے ہو،اور میراث کے مال کو اکھٹا کرکے حلال و حرام سب کھالیتے ہو، اور مال دنیا کو بہت دوست رکھتے ہو''۔

اسی طرح خمس و زکوٰة ،صدقہ اور راہ خدا میں انفاق کرنے میں بخل سے کام لینے یا تھوڑا سا مال و دولت حاصل کرنے کے بعد خداوندعالم کے مقابل میں بے نیازی کا ڈنکا بجانے اورروز قیامت کو جھٹلانے، کے بارے میں بھی درج آیت اشارہ کرتی ہے :

(وَاَمَّا مَنْ بَخِلَ وَ اسْتَغْنیٰ ٭وَکَذَّبَ بِالْحُسْنیٰ٭فَسَنُیَسِّرُهُ لِلْعُسْریٰ) (2)

'' اور جس نے بخل کیا اور لا پرواہی برتی اور نیکی کو جھٹلایا ہے ، ہم اس کے لئے سختی کی راہ ہموار کردیں گے ''

جس وقت انسان نعمتوں سے مالامال ہوجائے تو اس کو خداوندعالم اور اس کے بندوں کی بابت نیکی و احسان کرنے پر مزید توجہ کرنا چاہئے، خداوندعالم کی عطاکردہ نعمتوں کے شکرانہ میں اس کی عبادت اور اس کے بندوں کی خدمت میں زیادہ سے زیادہ کوشش کرنا چاہئے، تاکہ اس کی نعمتیں باقی رہیںاور خداوندعالم کی طرف سے نعمت او رلطف و

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورۂ فجر آیت ،17۔20. (2)سورۂ لیل آیت 8۔10

۱۵۱

کرم میں اور اضافہ ہو۔

11۔اتمام ِنعمت :

تمام مکتب تشیّع اور اہل سنّت کی معتبرکلامی کتب میں بیان کیا ہے(1) کہ جس وقت پیغمبر

اکرم (ص) ہدایت کے تداوم اور و دین کے تحفظ نیز دنیا و آخرت میں انسان کی سعادت کے لئے خداوندعالم کے حکم سے امام و رہبر اور فکر و عقیدہ اور اخلاق و عمل میں گناہوں سے پاک شخصیت حضرت امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام جیسی عظیم شخصیت کو 18 ذی الحجہ کو غدیر خم کے میدان میں اپنے بعد خلافت و ولایت اور

امت کی رہبری کے لئے منصوب فرمایا، اس وقت خداوندعالم نے اکمال دین اور اتمام نعمت اور دین اسلام سے اپنی رضایت کا اعلان فرمایا کہ یہی دین قیامت تک باقی رہے گا، ارشاد ہوا :

(...الْیَوْمَ أکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ وَأتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی وَرَضِیتُ لَکُمْ الْإسْلاَمَ دِینًا...) (2

'' آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا ہے اور اپنی نعمتوں کو تمام کردیا ہے اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسندیدہ بنا دیا ہے''۔

جی ہاں، حضرت علی علیہ السلام کی ولایت ،حکومت ،رہبری اوردین و دنیا کے امور

میںآپ کی اطاعت کرنا اکمال دین اور اتمام نعمت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)الغدیر ،ج1،ص6۔8. (2)سورۂ مائدہ آیت ،3.

۱۵۲

12۔نعمت سے صحیح فائدہ اٹھانے کا انعام :

وہ مومنین و مومنات جن کے دل ایمان سے آراستہ اور نفس برائیوں سے پاک ہیں اور وہ اعمال صالحہ بجالانے والے، حق بات کہنے والے، اپنے مال سے جود و کرم اور سخاوت

کرنے والے ، صدقہ دینے والے اور بندگان خدا کی مدد کرنے والے ہیں ؛ان کے لئے اجر و ثواب اور رضوان و جنت اور ہمیشہ کے لئے عیش و آرام کا وعدہ دیا گیا ہے۔

قرآن مجید نے اپنی نورانی آیات میں یہ اعلان کردیا ہے کہ اہل ایمان کے اعمال کا اجر و ثواب ضائع نہیں کیا جائے گا۔

کتاب الٰہی بلند آواز میں یہ اعلان کرتی ہے کہ خداوندعالم کا وعدہ سچا اور حق ہے اور اس کا وعدہ خلاف نہیں ہوتا۔

قرآن مجید، اہل ایمان اور اعمال صالحہ بجالانے والے افراد یا یوں کہا جائے کہ قرآن نے مومنین، محسنین، مصلحین، متقین اورمجاہدین کے لئے کئی قسم کا اجر بیان کیا ہے :

اجر عظیم، اجر کبیر، اجر کریم، اجر غیر ممنون، اجر حسن۔چنانچہ ارشاد ہوتا ہے :

(وَعَدَ اﷲُ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَهُمْ مَغْفِرَة وَأجْر عَظِیم). (1)

'' اللہ نے صاحبان ایمان اور عمل صالح بجالانے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ ان کے لئے مغفرت اور اجر عظیم ہے ''۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورۂ مائدہ آیت9.

۱۵۳

سوالات :

1۔قرآن مجید نے خدا کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں کے بارے میں جن12اہم نکات کی طرف

توجہ دلائی ہے وہ کیا ہے ؟

2۔حصول نعمت کا راستہ کیا ہے ؟

3۔نعمتوں پر کس طرح شکر کیا جائے ؟

4۔نعمتوں کے استعمال میں بخل کرنے کے بارے میں کیا کہا گیا ہے ؟

5۔نعمت ، زائل ہونے کے اسباب و علل کیا ہیں ؟

6۔کونسی سورہ مبارکہ میں اتمام نعمت کا ذکر ہے اور اس سے کیا مراد ہے ؟

7۔نعمت سے صحیح فائدہ اٹھانے کا انعام کیا ہے ؟

۱۵۴

درس نمبر24 ( صلہ رحم )

دین اسلا م نے جن معاشرتی اور سماجی حقوق کی تاکید کی ہے ۔ اور مسلمانوں کو انکی پابندی کا حکم دیا ہے ۔ان میں سے ایک اپنے ا عزاء و اقرباء کے ساتھ ہمیشہ اچھے روابط قائم رکھنا ہے اسی کو صلہ رحم کہا جاتا ہے ۔لہذا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ اپنے اعزوء اقرباء سے ملاقات کرتا رہے ان کی مزاج پرسی کرے ،ان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھے ،اگر غریب ہوں تو ان کی امداد کرے ،پریشان حال ہوں تو ان کی پریشانیوں کو دور کرے اور ان کے ساتھ گھل مل کر رہے ،تقوی ٰالھی اور نیک اعمال کی انجام دھی میں ان کے ساتھ تعاون کرے ، اگر کسی کو کوئی مشکل درپیش ہو تو اسے حل کرنے کی کوشش کرے ،اگر ان کی طرف سے کوئی غلط رویہ یا کوئی ناروا کام دیکھے تو خوبصورت طریقے سے انہیں نصیحت کرے۔

یقیناًہرخاندان ، قبیلے اور سماج میں بہت سارے افراد پائے جاتے ہیں جن کی صلاحیتیں ،امکانات اور قابلیتیں مختلف ہوتی ہیں آپ کو ان کے اندر عالم ،جاہل ،مالدار ،غریب ۔تندرست وتوانا ،کمزور گویا ہر قسم کے افراد مل جائیں گے ۔

آخر وہ کونسی چیز ہے جو اس سماج اور معاشرہ کو ترقی یافتہ اور بالکل معتدل سماج بنا سکتی ہے؟ آپس کے تعلقات ،مستحکم روابط ،اور ایک دوسرے کی نسبت احساس ذمہ داری ہی

۱۵۵

وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعے ہم اس نیک مقصد تک پہنچ سکتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ دین اسلام نے مسلمانوں کو بھائی چارہ اور اخوت و برادری کو مستحکم سے مستحکم تر بنانے کی تاکید کی ہے اور کسی بھی حال میں ان روابط کو توڑنے یا کمزور کرنے کی اجازت نہیں دی ہے ۔

صلہ رحم روایات کی روشنی میں :

روایات اہل بیت (ع) میں صلہ رحم کی بے حد اہمیت بیان کی گئی ہے ۔ دین اور ایمان سے اسکے گہرے تعلق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ حضرت امام محمّد باقر (ع) نے

اپنے اجداد طاہرین کے ذریعہ رسول خدا (ص) سے یہ حدیث نقل فرمائی ہے ۔کہ آپ (ص) نے فرمایا : ''اپنی امت کے موجود ہ اور غیر موجود حتی ٰ مردوں کے صلبوں اور عورتوں کے ارحام میں موجود اور قیامت تک آنے والے ہر شخص سے میری وصیت ہے کہ اپنے اعزاء واقرباء کے ساتھ صلہ رحم کرے چاہے وہ اس سے ایک سال کی مسافت کے فاصلے پر کیوں نہ رہتے ہوں کیوں کہ یہ دین کا حصہ ہے ۔نیز حضرت امام علی رضا (ع) رسول خدا سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ(ص) نے فرمایا : ''جو شخص مجھ سے ایک بات کا وعدہ کرلے تو میں اسے چار چیزوں کی ضمانت دیتا ہوں ۔اور وہ یہ کہ وہ مجھ سے وعدہ کرے کہ اپنے اعزاء و اقرباء سے صلہ رحم کرے گا تو میں ضمانت دیتا ہوں کہ خدا اسے محبوب رکھے گا ،اس کے رزق میں وسعت عطا کریگا ،اسکی عمر میں اضافہ فرمائیگا ،اور اس کواس جنّت میں داخل کردیگا ۔جس کا اس سے وعدہ کیا ہے۔(1) آپ (ص) نے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1) بحارالانوار ج74باب صلہ رحم

۱۵۶

اپنے ایک خطبہ کے دوران فرمایا :'' اس میں دین و ایمان ،طول عمر ،کثرت رزق ،خدا کی

محبت و رضا،جنّت اور کیا کچھ موجود نہیں ہے ۔ یہ صلہ رحم ہی تو ہے جو دنیا میں انسان کی ثروت مندی اور آخرت میں اس کی جنّت کا ضامن ہے ۔اور خدا کی مرضی تو سب سے

بڑی ہے جس کے معنیٰ یہ ہیں کہ صلہ رحم کرنے والا دنیا میں حیات طیّبہ اور آخرت میں روشن اور تابناک مقدّر کا مالک ہے ۔ '' صلہ رحمی کی اتنی اہمیت اور عظمت کو پہچانے کے بعد کیا اب بھی یہ عذر صحیح ہے کہ اعزّاء و اقرباء سے ہم بہت زیادہ فاصلہ پر ہیں یا کام کی زیادتی کی بنا پر بہت زیادہ مصروف رہتے ہیں لہذا ان سے رابطہ نہیں رکھ پاتے ؟اور اگر کسی کا کوئی عزیز کسی کے ظلم کا شکار ہوتو کیا اس کے ساتھ یہ طریقہ کار واقعاًجائزہے؟

پیغمبر اسلام (ص) نے ہر مومن کے لئے ایک ایسا روشن اور واضح راستہ بتا دیا ہے جس پر چلنے والے ہر شخص سے خدا راضی رہے گا ۔روایات میں ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) سے کسی نے یہ شکایت کی کہ مجھے میری قوم والے اذیت دیتے ہیں لہذا میں نے یہی بہتر سمجھا کہ ان سے قطع تعلق کرلوں تو آپ (ص) نے فرمایا : '' خدا وند عالم تم سے ناڑاض ہوجائے گا اس نے عرض کی اے اللہ کے رسول پھر میں کیا کروں ؟ آپ (ص) نے فرمایا : جو تمھیں محروم کرے اسے عطا کروجو تم سے رابطہ توڑے اس سے رابطہ قائم رکھو جو تمھارے اوپر ظلم کرے اسے معاف کردو اگر تم ایسا کرو گے تو ان کے مقابلہ کے لئے خدا وندمتعال تمھارا یارو مددگار ہے(1) مؤلاے کائنات نے فرمایا ہے : ''اپنے اعزّاء و اقرباء سے صلہ رحم کرو چاہے وہ تم سے قطع تعلق کرلیں ۔(2)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1) احیاء العلوم کتاب الصحبہ والمعاشرہ

(2) بحار الانوار ج71 ص88 ،103تا 117

۱۵۷

قطع رحم (اعزاء واقرباء سے قطع تعلق ):

ہمیں بخوبی معلوم ہوچکا ہے کہ دین اسلام میں صلہ رحم اور اعزاء و اقرباء سے تعلقات استوار رکھنے کی کیا اہمیت ہے ۔ لہذااب یہ جاننا بھی مناسب ہوگا کہ ان لوگوں سے تعلقات توڑلینے کے بعد ایک مسلمان کی زندگی میں کتنے خطرناک اور بھیانک نتائج سامنے آتے ہیں ۔ قرآن کریم میں ارشاد رب العزت ہے :(فَهَل عَسَیتْم اِن تَوَلَّیتْم اَن تْفسِدْوا فِی الاَرض إوتْقَطِّعْوا اَرحاَمَکم) ' (1) 'تو کیا تم سے کچھ بعید ہے کہ تم صاحب اختیار بن جاؤتو زمین میں فساد برپا کرو اور قرابت داروں سے قطع تعلق کرلو .''

یا دوسری آیت میں ارشادہے :(اَلَّذِینَ یَنقْضْونَ عَهدَاللهِ من بعدِمیثاقهِ و یقطعون أما اَمَرَاللهْ به اَن یْوصل أوَیْفسِدون فی الارضِ اولئک هم الخاسرْون ) (2) ''جو خدا کے ساتھ مظبوط عہد کرنے کے بعداسے توڑدیتے ہیں اور جسے خدانے جوڑنے کا حکم دیا ہے اسے کاٹ دیتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو حقیقتاًخسارہ اٹھانے والے ہیں ''

درج بالا آیات میں خداوند عالم نے قطع رحم کو زمین میں فساد بر پا کرنے کے برابر قرار دیا ہے اور اس کی طرف متوجہ کیا ہے کہ ایک دوسرے سے تعلق توڑلینے کے بعد اور زمین میں فتنہ و فساد پھیلانے کے بعد بھی کیا تم کسی سعادت کے امیدوار ہو ؟ جبکہ خداوند متعال نے تم کو حکم دیا ہے کہ ہمیشہ آپسی بھائی چارگی اور صلہ رحم کو زیادہ سے زیادہ مستحکم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1) سورہ مبارکہ محمّد آیت 22 (2)سورہ مبارکہ بقرہ آیت 27

۱۵۸

اور پائیدار بنائے رکھو

قطع رحم کے کیا خطرناک نتائج اور نقصانات ہوسکتے ہیں ان کو احادیث کی روشنی میںملاحظہ فرمائیں ۔

پیغمبراسلام (ص) کا ارشاد گرامی ہے ۔''جس قوم میں کوئی رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنے والا موجود ہو اس پر رحمت نازل نہیں ہوسکتی(1)

مؤلائے کائنات (ع) سے مروی ہے : تین چیزیں ایسی ہیں جن کو انجام دینے والا اس وقت تک نہیں مرتا جب تک خود اس کا نتیجہ نہ بھگت لے ۔1۔ بغاوت 2۔ قطع رحم 3۔ جھوٹی قسم

احادیث کے مطابق جو اعزا ئواقرباء ایک دوسرے سے قطع تعلق کرلیتے ہیں ان پر رحمت الٰہی نازل نہیں ہوتی اور یہ کہ قطع رحم ان اعمال میں سے ہے جن کا بھیانک نتیجہ انسان دنیا میں ہی اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے کیونکہ تعلقات اورروابط میں دوری اور آپسی رنجش ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے خطرناک آثار بہت جلد کھل کر سامنے آجاتے ہیں ۔اور قطع رحم کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی اپنے ہاتھوں سے کانٹے بورہا ہو کہ کل اسے کانٹے ہی کانٹناپڑیں گے اسی طرح شرّاور برائی کے بیج بونے سے ندامت اور گھاٹیکے سوا کیا حاصل ہو سکتا ہے۔ ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)کنز العما ل ج8 ص796

۱۵۹

سوالات :

1۔صلہ رحم سے کیا مراد ہے ؟

2۔صلہ رحم کے بارے میں پیغمبر اسلام (ص) کی روایت بیان کیجئے ؟

3۔صلہ رحم کے بارے میں حضرت امام علی رضا(ع) کی روایت بیان کیجئے ؟

4۔قطع رحم کے بارے میں کوئی آیت بیان کیجئے ؟

5۔قطع رحم کرنیوالے کے بارے میں مولائے کائنا ت سے نقل شدہ روایت بیان کیجئے ؟

۱۶۰

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204