معارف اسلامی کورس (عقائد، احکام،اخلاق ) جلد ۲

معارف اسلامی کورس (عقائد، احکام،اخلاق )27%

معارف اسلامی کورس (عقائد، احکام،اخلاق ) مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 204

جلد ۱ جلد ۲
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 204 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 33197 / ڈاؤنلوڈ: 3140
سائز سائز سائز

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

درس ۲۵ ( مذاق اڑانا اور استہزاء کرنا )

دوسرے لوگوں کا مذاق اڑانا اور استہزاء کرنا بہت بُرا کام اور عظیم گناہ ہے۔

قرآن مجید نے شدت کے ساتھ ایک دوسرے کا مذاق اڑانے اور مسخرہ کرنے سے منع کیا ہے اور کسی کو ذلیل کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ارشاد رب العزت ہے ۔

(یَاَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَیَسْخَرْ قَوم مِنْ قَوْمٍ عَسَی أنْ یَکُونُوا خَیْرًا مِنْهُمْ وَلاَنِسَائ مِنْ نِسَائٍ عَسَی أَنْ یَکُنَّ خَیْرًا مِنْهُن...) .(۱)

'' ایمان والو! خبردار کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے کہ شاید وہ اس سے بہتر ہو

اور عورتوں کی بھی کوئی جماعت دوسری جماعت کا مسخرہ نہ کرے شاید وہی عورتیں ان سے بہتر ہوں...''۔

حضرت رسول خدا (ص) نے لوگوں کا مسخرہ کرنے والوں اور مومنین کو ذلیل کرنے والوں کے بارے میں فرمایا :

'' مسخرہ کرنے والوں کے لئے جنت کا ایک دروزاہ کھولا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: جنت کی طرف آگے بڑھو، جیسے ہی وہ لوگ اپنے غم و غصہ کے عالم میں بہشت کے دروازہکی طرف بڑھیں گے تووہ فوراًبند ہوجائیگا''۔(۲)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)سورۂ حجرات آیت ۱۱. (۲)کنزل العمال ص۸۳۲۸.

۱۶۱

جی ہاں، مومنین کا مسخرہ کرنے والوں کا روز قیامت مسخرہ کیا جائے گا اور مومنین کو ذلیل کرنے والوں کو ذلیل کیا جائے گا تاکہ اپنے برے اعمال کا مزہ چکھ سکیں۔

نیز آنحضرت (ص) کا ارشاد ہے :

'' انسان کی بدی اورشر کے لئے بس یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کا مذاق اڑائے''۔(۱)

ظاہری طور پر استہزاء ایک گناہ دکھائی دیتا ہے لیکن درحقیقت وہ چند گناہوں کا مجموعہ ہے مثال کے طور پر مذاق اڑانے میں، تحقیر کرنا، ذلیل و خوار کرنا، کسی کے عیوب ظاہر کرنا، اختلاف ایجاد کرنا، غیبت کرنا، کینہ توزی، فتنہ و فساد پھیلانا، انتقام جوئی کی طرف مائل کرنا، اور طعنہ زنی جیسے گناہ پوشیدہ ہیں۔

مذاق اڑانے کی وجوہات :

۱۔ کبھی مذاق اڑانے کی وجہ مال و دولت ہے قرآن مجید میں ہے(ویل لِکُلِّ هُمَزَة لُّمَزَةٍ الَّذِیْ جَمَعَ مٰالاً وَّعَدَّده ) (۲) وائے ہو اس پر جو اُس مال و دولت کی خا طر جو اس نے جمع کر رکھی ہے پیٹھ پیچھے انسان کی برائی کرتا ہے۔

۲۔ کبھی استہزاء اور تمسخر کی وجہ علم اور مختلف ڈگریاں ہوتی ہیں قرآن مجید نے اس گروہ کے بارے میں فرمایا:( فَرِحُوا بِمَا عِنْدَ هُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَاکَانُوا بِهِ یَسْتَهْزِؤُون) (۳) ''اپنے علم کی بناء پر ناز کرنے لگے ہیں اور جس چیز کی وجہ سے وہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)مجموعہ ورام ج۲ص۱۲۱.

(۲)۔ سورئہ مبارکہ ھمزہ ۱۔۲ (۳)۔ سورئہ مبارکہ غافر ۸۳

۱۶۲

مذاق اڑا رہے تھے اُسی نے انہیں اپنے گھیرے میں لے لیا۔ ''

۳۔ کبھی مذاق اڑانے کی وجہ جسمانی قوت و توانائی ہوتی ہے ۔ کفار کا کہنا تھا( مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةَ) (۱) ''کون ہے جو ہم سے زیادہ قوی ہے۔ ''

۴۔ کبھی دوسروں کا مذاق اڑانے کی وجہ وہ القاب اور عناوین ہوتے ہیں جنہیں معاشرہ میں اچھا نہیں سمجھتا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر کفار ان غریب لوگوں کو جو انبیاء کا ساتھ دیتے تھے حقارت کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے اور کہتے تھے:(مَا نَراکَ اتَّبَعکَ اِلّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرذِلْنَا) (۲)

'' ہم آپ کے پیرو کاروں میں صرف پست اور ذلیل افراد ہی دیکھ رہے ہیں۔ ''

۵۔ کبھی مذاق اڑانے کی علت تفریح ہوتی ہے۔

۶۔ کبھی مال و مقام کی حرص و لالچ کی وجہ سے تنقید تمسخر کی صورت اختیار کرلیتی ہے مثال کے طور پر ایک گروہ زکوٰة کی تقسیم بندی پر پیغمبر اسلام (ص) کی عیب جوئی کرتا تھا۔

قرآن مجید میں ارشاد ہوا:(وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَلْمِزْکَ فِی الصَّدَقاتِ فَاِنْ أُعْطُوا مِنْهٰا رَضُوا وَ اِنْ لَمْ یُعْطَوْا مِنْهٰا اِذَا هُمْ یَسْخَطُونَ) (۳) ''اس تنقید کی وجہ طمع اور لالچ ہے کہ اگر اسی زکوٰة میں سے تم خود ان کو دیدو تو یہ تم سے راضی ہوجائیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ سورئہ مبارکہ فصلت ۱۵

(۲)۔ سورئہ مبارکہ ھود ۲۷

(۳)۔ سورئہ مبارکہ توبہ ۵۸

۱۶۳

گے لیکن اگر انہیں نہیں دو گے تو وہ آپ سے ناراض ہوکر عیب جوئی کریں گے۔ ''

۷۔ کبھی مذاق اڑانے کی وجہ جہل و نادانی ہے۔ جیسے جناب موسی ـ نے جب گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تو بنی اسرائیل کہنے لگے کیا تم مذاق اڑا رہے ہو؟ جناب موسی ـنے فرمایا:(أَعُوذُ بِاللّٰهِ أَنْ أَکُونَ مِنَ الجٰاهِلِیْن) (۱) ''خدا کی پناہ جو میں جاہلوں میں سے ہوجاؤں''۔یعنی مذاق اڑانے کی وجہ جہالت ہوتی ہے اور میں جاہل نہیں ہوں۔

نا چاہتے ہوئے تحقیر کرنا :

حضرت امام جعفر صادق ـ نے ایک صحابی سے پوچھا اپنے مال کی زکوٰة کیسے دیتے ہو؟ اس نے کہا: فقراء میرے پاس آتے ہیں اور میں انہیں دے دیتا ہوں۔

امام ـ نے فرمایا: آگاہ ہوجاؤتم نے انہیں ذلیل کیا ہے آئندہ ایسانہ کرنا کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے جو بھی میرے دوست کو ذلیل کرے گا گویا وہ مجھ سے جنگ کے لیے آمادہ ہے۔(۲)

تمسخر اور مذاق اُڑانے کے مراتب :

٭جس کا مذاق اڑایا جارہا ہو وہ جس قدر مقدس ہوگا اس سے مذاق بھی اتنا ہی خطرناک ترہوگا قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے(أ باللّٰه و آیاتِه وَ رَسُولِهِ کنتم تَسْتَهْزِؤُنَ) (۳) ''کیا تم اللہ، اسکی آیات ور رسول کا مذاق اڑا رہے ہو۔ ''

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ سورئہ مبارکہ بقرہ ۶۷

(۲)۔مستدرک الوسائل ج/۹، ص ۱۰۵ (۳)۔سورئہ مبارکہ توبہ ۶۵

۱۶۴

٭ پیغمبر اسلام (ص) نے فتح مکہ کے موقع پر سب مشرکین کو معاف کردیا سوائے ان لوگوں کے جن کا کام عیب جوئی اور مذاق اڑانا تھا۔

٭حدیث میں ہے کہ مومن کو ذلیل کرنا خدا کے ساتھ اعلان جنگ کے مترادف ہے۔(۱)

مذاق اڑانے کا انجام :

٭آیات و روایات کی روشنی میں بری عاقبت مذاق اڑانے والوں کا انتظار کررہی ہے

من جملہ :

الف: سورئہ مطففین میں ہے کہ جو لوگ دنیا میں مومنین پر ہنستے تھے، انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے روز قیامت اہل جنت انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھیں گے اور ان پر ہنسیں گے(فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا مِنَ الکُفَّارِ یَضْحَکُون) (۲) ''توآج ایمان لانے والے بھی کفّار کا مذاق اڑائیں گے ''

ب: کبھی کبھی اڑانے والوں کو اسی دنیا میں سزا مل جاتی ہے(اِنْ تسخَرُوا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرو مِنکُمْ کما تَسْخَرُونَ) (۳) ''اگر تم ہمارا مذاق اڑاؤگے تو کل ہم اسی طرح تمھارا بھی مذاق اڑائیںگے ''

ج: قیامت کا دن مذاق اڑانے والوں کے لیے حیرت کا دن ہوگا (یَا حَسْرَةً عَلٰی العِبٰادَ مَا یَا تِیْهِمْ مِّنْ رَّسُولٍ اِلَّا کَانُوا بِه یَسْتَهزَئُ ون)(۴) ''کس قدرحسرت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ وسائل الشیعہ ج/ ۱۲،ص۲۷۰ (۲)۔ سورئہ مبارکہ مطففین ۳۴

(۳)۔ سورئہ مبارکہ ہود ۳۸ (۴)۔ سورئہ مبارکہ یس ۳۰

۱۶۵

ناک ہے ان بندوں کا حال کہ ضب ان کے پاس کوئی رسول آتاہے تو اسکا مذاق اڑانے لگتے ہیں ''

د: حدیث میں ہے کہ مذاق اڑانے والے کی جان کنی نہایت سخت ہوگی۔''مَاتَ بِشَرّ مَیْتَه' '(۱)

ھ: حضرت امام جعفر صادق ـ نے فرمایا: اگر کوئی شخص مومنین پر طعنہ زنی کرتا ہے یا انکی بات کو رد کرتا ہے تو گویا اس نے خدا کو رد کیا ہے۔(۲)

سوالات

۱۔ قرآن کی کون سی آیت میں مذاق اڑانے اوراستہزاء کو منع کیا گیا ہے ؟

۲۔ رسول خدا (ص) نے مذاق اڑانے والے کے بارے میں کیا فرمایا ہے ؟

۳۔ مذاق اڑانے کی کوئی بھی پانچ وجوہات بیان کریں ؟

۴۔ مذاق اڑانے والے کا انجام کیا ہو گا ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ بحار الانوار ج۷۲ ص ۱۴۵

(۲)۔ وسائل الشیعہ ج۱۳، ص ۲۷۰

۱۶۶

درس نمبر۶ ۲( سوئِ ظن )

آج دنیا کے سارے حقوق دان حقوق بشر کی باتیں کرتے ہیں لیکن اسلام ایسے ہزاروں مسائل کو مورد توجہ قرار دیتا ہے جن سے یہ سب حقوق دان غافل ہیں ،ان میں سے ایک سؤء ظن ہے ، کسی کے بارے میں برا گمان کرنا سؤء ظن کہلاتا ہے ۔اسلام سؤء ظن کو بھی حقوق بشر پر حملہ کرنے کے مترادف سمجھتا ہے ۔لہذا اس نے امن و امان اور مسلمانوں کی عزت و آبرو کی حفاظت کی خاطر سوء ظن، کو حرام قرار دیا ہے۔سورہ مبارکہ حجرات کی ۱۲ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے :(یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اِجْتَنِبُوا کثیراًمِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثم) ''اے ایمان والو اکثر گمانوں سے اجتناب کرو کہ بعض گمان گناہ کا درجہ رکھتے ہیں ۔ ''

سوء ظن کی اقسام :

سوئے ظن کی کئی اقسام ہیں جن میں سے بعض کی ممانعت کی گئی ہے۔

۱۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوء ظن رکھنا :

حدیث میں ہے کہ اگر کوئی شخص اخراجات کے ڈر سے شادی نہں کرتا ہے تو درحقیقت وہ خداوند عالم کے بارے سوء ظن رکھتا ہے یعنی وہ یہ سوچتا ہے کہ اگر وہ تنہا رہے گا تب تو

۱۶۷

خدا اُسے رزق دینے پر قادر ہے لیکن اگر بیوی ساتھ ہوگی تو خداوند اُسے رزق دینے کی قدرت نہیں رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس قسم کا سوء ظن رکھنا منع ہے۔

۲۔ لوگوں کے بارے میں سوء ظن رکھنا :

جس کی مندرجہ بالاآیت میں ممانعت کی گئی ہے۔

۳۔ اپنے بارے میں سوء ظن رکھنا :

یہ قسم مورد ستائش ہے۔ انسان کو اپنے بارے میں حسن ظن نہیں رکھنا چاہیے کہ اپنے ہرکام کو بے عیب سمجھنے لگے۔ حضرت علی ـ نے (خطبہ ہمام میں) متقین کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا: متقین کے کمالات میں سے ایک کمال یہ ہے کہ وہ اپنے بارے میں سوء ظن رکھتے ہیں۔

جو لوگ اپنے آپ کو بے عیب سمجھتے ہیں دراصل ان کے علم و ایمان کا نور کم ہے اور نور کی کمی کے باعث انسان کسی چیز کو نہیں دیکھ سکتا ہے مثال کے طور پر اگر آپ ٹارچ

لے کر ایک ہال میں داخل ہوں تو اس سے فقط بڑی چیزیں ہی دیکھ پائیں گے لیکن اگر ٹارچ کی جگہ کوئی طاقتور لائٹ ہو تو اس وقت ماچس کا تنکا اور سگریٹ کی راکھ بھی ہال میں نظر آئے گی۔

جن لوگوں کے ایمان کا نور کم ہوتا ہے بڑے گناہوں کے علاوہ انہیں کچھ نظر نہیں آتا ہے لہٰذا کبھی وہ کہتے ہیں کہ ہم نے تو کسی کو قتل نہیں کیا ، ہم نے تو کسی کے گھر کی دیوار نہیں پھلانگی! وہ فقط اس قسم کے کاموں کو گناہ سمجھتے ہیں لیکن اگر ان کے ایمان کا نور زیادہ ہو تو وہ اپنی معمولی سے لغزشوں کو بھی دیکھ لیں گے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نالہ و

۱۶۸

فریاد کریں گے۔

آئمہ معصومین ـ کی مناجات اور بے حد گریہ کی ایک وجہ ان کی معرفت اور ایمان کا

نور ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے بارے میں خوش بین ہو (اور اپنے افکار و کردار کے بارے میں کسی قسم کا سوء ظن نہ رکھتا ہو) تو وہ کبھی بھی ترقی نہیں کرسکتا اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو ہمیشہ اپنے پیچھے کی طرف دیکھتا ہے کہ وہ کتنا راستہ طے کرچکا ہے اور پھر اُس پر غرور کرتا ہے لیکن اگر وہ سامنے کی طرف دیکھے کہ اس نے ابھی کتنا راستہ اور طے کرنا ہے تو جان لے گا کہ جو راستہ اس نے ابھی طے نہیں کیا وہ اس راستہ سے کئی گناہ زیادہ ہے جو وہ طے کرچکا ہے۔

جب ہم دیکھتے کہ قرآن پیغمبر اسلام (ص) کو یہ حکم(قل رَبِّ ذدنی عِلْمًا ) (۱) دیتا ہے کہ حصول علم کے سلسلے میں کوشاں رہو اور پھر یہ حکم(شَاوِرْهُم فی الأَمْر ) (۲) کہ تم لوگوں سے مشورہ کرو اور یہ حکم کہ(فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ) (۳) جیسے ہی اپنے کام سے فارغ ہوجاؤ تو نئے کام کو فوراً مکمل قدرت کے ساتھ انجام دو۔ تو جب اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات کے لیے ایسے دستور دیئے ہیں تو کیا ہمیں زیب دیتا ہے کہ ہم اپنے آپ کو تحصیل علم اور مشورہ کرنے سے بے نیاز سمجھیں۔ نیز اپنی ذمہ داری کو ختم سمجھیں اور اپنے بارے میں حسن ظن رکھیں؟ اس لیے کہ ہمیں اپنے بارے میں خوش بین اور حسن ظن نہیں رکھنا چاہیے۔ بلکہ لطف الٰہی اور لوگوں کی رفتار وکردار کے بارے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ سورئہ مبارکہ طہ آیت ۱۱۴

(۲)۔ سورئہ مبارکہ آل عمران آیت ۱۵۹ (۳)۔ سورئہ مبارکہ الم نشرح آیت ۷

۱۶۹

میں حسن ظن رکھنا چاہیے۔

یادآوری :

٭ اس نکتہ کی طرف توجہ دینا ضروری ہے کہ حسن ظن سے مراد سادگی ، جلدی یقین کرلینا، سطحی فکر کرنا، سازشوں اور شرارتوں سے غفلت کرنا نہیں ہے۔ اُمت مسلمہ کو بھی حسن ظن کی خاطر بیجا غفلت نہیں کرنا چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس بے جا غفلت کے نتیجہ میں دشمنوں کے جال میں پھنس جائیں۔

سوالات :

۱۔سوء ظن سے کیا مراد ہے؟

۲۔سوء ظن کے حرام ہونے پر قرآن سے کوئی آیت پیش کیجئے َ

۳۔سوء ظن کی اقسام بیان کیجئے اور بتائیے اسکی کونسی قسم مورد ستائش ہے ؟

۴۔ لوگ اپنے آپ کو بے عیب کیوں سمجھتے ہیں ؟

۵۔ اپنے بارے میں خوش بین ہونے کے کیا نقصانات ہیں ؟

۱۷۰

درس نمبر۲۷ ( غیبت )

غیبت کی تعریف :

غیبت سے مراد کسی شخص کی غیر موجودگی میں اس کے بارے میں ایسی بات کہنا کہ جس سے لوگ بے خبر ہوں اوراگر وہ شخص اُسے سنے تو ناراض ہو۔(۱) لہٰذا کسی کے سامنے اُس پر تنقید کرنا ، یا ایسے عیوب بیان کرنا جن سے لوگ باخبر ہوں یا جس کی غیبت ہورہی ہے وہ سنے تو ناراض نہ ہو ،تو پھر یہ غیبت نہیں ہوگی۔ کسی بھی فرد کی غیبت کرنا حرام ہے وہ مرد ہو یا عورت ، چھوٹا ہو یا بڑا، آشنا ہو یا بیگانہ، استا ہو یاشاگرد، باپ ہو یا بیٹا، مردہ ہو یا زندہ۔خدا وند متعال نے سورہ حجرات کی آیت نمبر ۱۲میں واضح الفا ظ میںاس برے عمل سے روکا ہے ۔ارشاد ہوتا ہے :(لَا یَغْتَبْ بَعْضُکمْ اَیُحِبُّ أَحَدُکُمْ أِنْ یّٰاکُلَ لَحْمَ أَخِیْهَ مَیْتًا فَکَرِهتُمُوْهُط وَاَتّقُوا اللّٰهَط اِنَّ اللّٰه تَوَّاب رَّحِیْم ) '' ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کہ کیا تم میں کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے یقینا تم اسے برا سمجھو گے تو اللہ سے ڈرو کہ بے شک اللہ بہت بڑا توبہ کا قبول کرنے والا اورمہر بان ہے ''

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ وسائل الشیعہ ج۸ ، ص۶۰۰۔ ۶۰۴

۱۷۱

٭ پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا: جو کسی مرد یا عورت کی غیبت کرے تو چالیس دن تک

کی نماز اور روزہ قبول نہیں کیا جائے گا۔(۱)

٭ روایات میں ہے کہ جو اپنے دینی بھائی کے عیوب تلاش کرے (اور انہیں دوسروں کو بتائے) تو اللہ تعالیٰ اس کے عیوب آشکار رکردے گا۔(۲)

غیبت کا ازالہ :

٭ اگر ایسے شخص کی غبیت کی ہو جو اب دنیا سے جاچکا ہوتو اس کے ازالہ کے لیے توبہ کریں اور خدا سے عذر خواہی کریں بے شک خدا توبہ قبول کرنے والا ہے۔

لیکن اگر وہ زندہ ہو اور اس چیز کا امکان ہو کہ اگر اس سے یہ کہا جائے کہ ہم نے تمہاری غیبت کی تو وہ ناراض ہوگا تو ایسی صورت میں اسے نہ بتایا جائے بلکہ اپنے اور اللہ کے درمیان توبہ کریں اور اگر غبیت سننے والوں تک رسائی ممکن ہوسکے تو ان کے سامنے اس کا ذکر خیر اور تعظیم و تکریم کے ذریعہ اپنی کی ہوئی غیبت کا ازالہ کریں اور اگر وہ شخص یہ بتانے سے کہ ہم نے تمہاری غیبت کی ہے ناراض نہ ہوتا ہو تو خود اُسی سے عذر خواہی کرنی چاہیے۔

٭ شیخ طوسی علیہ الرحمہ نے شرح تجرید میں پیغمبر اسلام (ص) کی حدیث کے حوالے سے یہ بیان کیا ہے کہ جس کی غیبت کی گئی ہو اگر اُس نے اُسے سن لیا ہو تو اس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ بحار الانوار ج ۷۲، ص ۲۵۸

(۲)۔محجة البیضاء ج۵، ص۲۵۲ (نقل از سنن ابی داؤد ج۲، ص ۵۶۸)

۱۷۲

کے ازالہ کا طریقہ یہ ہے کہ اس کے پاس جائے اور رسمی طور پر اس سے عذر خواہی کرے

اور اگر اُسے پتہ نہیں چلا ہے تو جب کبھی اس کا ذکر آئے تو اُس کے لیے استغفار کریں۔(اِنَّ کَفَّارَةَ الغِیْبَةِ أنْ تَسْتَغْفِى لِمَنْ اِغْتَبتَه' کُلَّما ذَکَرْتَه) (۱)

وہ مقامات جہاں غیبت کرنا جائز ہے :

بعض مقامات پر غیبت کرنا جائز ہے ۔ وہ یہ ہیں :

۱۔ مشورہ کے وقت: اگر کوئی شخص کسی کے بارے میں ہم سے مشورہ کرنا چاہے تو اس کے عیب مشورہ کرنے والے کو بتا سکتے ہیں۔

۲۔ باطل کو ردّ کرنے کیلئے: باطل عقیدے کو ردّ کرنے یا پھر ایسے اشخاص کی ردّ کرنے کے لیے جو ایسے عقیدے کے مالک ہوں اس ڈر سے کہ کہیںلوگ ان کے عقائد کی پیروی نہ کرنے لگیں۔ (غیبت کرنا جائز ہے )

۳۔ قاضی کے پا س مجرم کے خلاف گواہی دیتے وقت: جس طرح بے جا دعوؤں کو ردّ کرنے کے لیے حقیقت کو بیان کرنا ضروری ہوتا ہے۔

۴۔ اس شخص کی گواہی ردّ کرنے کے لیے جو قابل اطمینان نہیں ہے۔

۵۔ مظلومیت کے اظہار کے لیے، ظالم کے ظلم کو بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

۶۔ جو شرم و حیاء کے بغیر آشکارہ طور پر گناہ کرتا ہے اس کی غیبت کی جاسکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ جسکی غیبت کی ہے جب بھی اس کا ذکر ہو اس کے لیے استغفار کریں۔

۱۷۳

۷۔ تقیہ یا بیہودہ دعوؤں کو ردّ کرنے کے لیے غیبت ہوسکتی ہے مثال کے طور پر اگر

کوئی یہ کہے کہ میں مجتہد ہوں ، میں ڈاکٹر ہوں میں سید ہوں اور ہم یہ جانتے ہوں کہ وہ ان صفات کا مالک نہیں ہے تو ہمارے لیے جائز ہے کہ لوگوں کو بتائیں کہ وہ ان صفات کا مالک نہیں ہے۔

غیبت کی اقسام :

غیبت کبھی زبان سے ،کبھی اشارے سے کبھی تحریر سے، کبھی تصویر سے، کبھی شکل و مجسمہ سے، کبھی اس کی نقل اتارنے سے اور کبھی خاموشی کے ذریعہ ہوسکتی ہے۔مثال کے طور پر کہے کہ افسوس دین نے میری زبان روک رکھی ہے۔ اس جملے سے وہ سب کو سمجھانا چاہتا ہے کہ فلاں صاحب میں بہت عیب پائے جاتے ہیں۔ یا الحمد للّٰہ کہہ کر یہ کہے کہ ہم اس مسئلہ میں گرفتار نہیں ہوتے اس جملے سے وہ یہ بتانا چاہتا ہے کہ فلان صاحب اس مسئلے میں گرفتا ہیں۔ کبھی اپنے عیوب کے ذکر کے ذریعے یہ سمجھانا چاہتا ہے کہ دوسرے میں عیب پائے جاتے ہیں مثال کے طور پر وہ یہ کہے کہ انسان ضعیف ہے ہم سب بے صبرے ہیں یعنی وہ ضعیف اور بے صبرے ہیں۔کبھی غیبت سننے کے بعد کہتے ہیں سبحان اللّٰہ ، اللّٰہ اکبر اس ذکر کے ذریعہ غیبت کرنے والے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ غیبت کو جاری رکھے اور کبھی زبان سے کہتے ہیں کہ غیبت نہ کریں لیکن دلی طور پر چاہتے ہیں کہ غیبت سنیں یہ نفاق ہے۔

۱۷۴

سوالات :

۱۔غیبت کی تعریف کیجئے ؟

۲۔غیبت سے متعلق قرآن کی کوئی آیت ترجمہ کے ساتھ بیان کریں ؟

۳۔رسول خدا (ص) نے غیبت کے بارے میں کیا فرمایا ہے ؟

۴۔ غیبت کا ازالہ کیسے کیا جائے ؟

۵۔پانچ ایسے مورد بیان کیجئے جہاں غیبت کرنا جائز ہے ؟

۶۔غیبت کی اقسام بیان کیجئے؟

۱۷۵

درس نمبر۲۸ ( غیبت کے آثار )

الف ٭ اخلاقی اور اجتماعی آثار۔

۱۔ غیبت بغض و کینہ کے پیدا ہونے، اعتماد ختم ہوجانے ، اختلاف اور فتنہ و فساد کے پھیلنے، اور معاشرہ کے لیے مفید اور کارآمد افراد کے ایک طرف ہوجانے کا سبب بنتی ہے۔

۲۔ گناہ کے لیے زیادہ جرأت پیدا ہوتی ہے جیسے ہی انسان یہ سمجھ لے کہ لوگ اس کے عیب اور بدکاری سے باخبر ہوگئے ہیں اور وہ بے آبرو ہوچکا ہے تو اس میں گناہ کرنے کی جرأت زیادہ ہوجاتی ہے اور وہ گناہ نہ کرنے اور توبہ کرنے کا ارادہ ترک کردیتا ہے۔

۳۔ لوگوں کے عیوب نشر کرنے سے اردگرد کا ماحول اور معاشرے کی فضا آلودہ ہوجاتی ہے اور دوسروں کی گناہ کرنے کی جرأت میں اضافہ ہوتا ہے۔

۴۔ انتقام لینے کے جذبے کو تحریک ملتی ہے اس لیے کہ جیسے ہی اُسے جس کی غیبت ہوئی ہے یہ پتا چلتا ہے کہ اس کی آبرو ریزی کی گئی ہے تو وہ پھر اسی فکر میں رہتا ہے کہ اُسے کب موقع ملے اور وہ بھی غیبت کرنے والے کو بے آبرو کرے۔

۵۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے آج ہمارا غیبت کرنا اس بات کا سبب بنتا

ہے

۱۷۶

کہ کل لوگ ہماری غیبت کریں ۔

ب ٭ أُخروی آثار۔

۱۔ غیبت کرنا، نیکیوں اور خوبیوں کی بربادی کا سبب ہے۔

۲۔ غیبت کرنا عبادات کی قبولیت میں رکاوٹ ہے۔

۳۔ غیبت کرنے سے انسان ولایت الٰہی کے دائرے سے خارج ہوکر شیطان کی ولایت کے دائرے میں چلا جاتا ہے۔

غیبت کی وجوہات :

۱۔ کبھی غیبت کی وجہ حسد ہے۔

۲۔ کبھی تفریحاً کسی کی غیبت کرتا ہے۔

۳۔ کبھی اپنے آپ کو کسی عیب سے بری الذمہ کرکے اُسے دوسروں کی گردن پر ڈالنے کی وجہ سے غیبت کرتا ہے ۔

۴۔ کبھی از راہ ہمدردی غیبت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں فلاں شخص کی طرف سے بہت پریشان ہوں جو اس مشکل میں پریشان ہے۔

۵۔ کبھی غیبت کی وجہ غیظ و غضب ہے۔

۶۔ کبھی دوسروں کے ساتھ ہم محفل ہونا غیبت کا سبب بنتا ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ کچھ لوگ کسی کی بدگوئی کررہے ہیں تو ان کا ہم محفل ہونے کی خاطر خود بھی غیبت کرنے لگتا ہے جب کہ وہ اس چیز سے غافل ہے کہ فقط اپنے دوستوں کی نظروں میں محبوب ہونے کے احتمال کی خاطر خدا کے فوری اور یقینی غضب کو مول لے رہا ہے نیز اس نے

۱۷۷

لوگوں کی رضا کو اللہ کی رضا پر مقدم کیا ہے جو سب سے بڑا خسارہ ہے۔

۷۔ کبھی غیبت کی وجہ اپنے آپ کو بڑا ظاہر کرنا ہوتا ہے ۔ یعنی دوسروں کو پست کرنا تاکہ اپنی بڑائی ثابت کرسکے ایسا شخص بھی لوگوں کے نزدیک محبوب ہونے کی امید پر قہر الٰہی کو مول لیتا ہے اور یہ ایک نقصان دہ معاملہ ہے۔

۸۔ کبھی غیبت کی وجہ دوسروں کا مذاق اڑانا ہے وہ اس سے غافل ہوتا ہے کہ وہ کچھ لوگوں کے سامنے کسی کی تحقیر کررہا ہے اللہ تعالیٰ روز قیامت سب کے سامنے اس کی تحقیر کرے گا۔

۹۔ کبھی تعجب کی صورت میں غیبت کرتا ہے مثال کے طور پر وہ کہتا ہے کہ مجھے تعجب ہے کہ فلاں شخص اتنا علم اور معلومات رکھنے کے باوجود ایسا کیوں ہوگیا ہے جب کہ اُسے تعجب تو اس بات پر ہونا چاہیے کہ وہ کس طرح اس ایک جملے کے ذریعہ اپنی تمام عبادت کو تباہ و برباد کررہا ہے۔

غیبت کرنے کی اور بھی کئی اوروجوہات ہیں۔

غیبت سننا :

٭ غیبت سننے والے کی ذمہ داری یہ ہے کہ غیبت نہ سنے اور مومن کا دفاع کرے۔ حدیث میں ہے(السّاکِت' شَرِیْکُ القائل) اگر کوئی غیبت سنے اور اُس پر خاموش رہے تو وہ شریک جرم ہے۔(۱)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔غرر الحکم

۱۷۸

٭پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا: جو غیبت سننے کے بعد اُسے ردّ کردے تو اللہ تعالیٰ شرّ کے ہزار در دنیا و آخرت میں اس پر بند کردے گا لیکن اگر خاموش رہا اور غیبت سنتا رہا تو جتنا گناہ غیبت کرنے والے کا تھا اتنا ہی گناہ اس کے نامہ اعمال میں لکھ دیا جائے گا۔(۱)

٭ پیغمبر اسلام (ص)نے فرمایا: اگر کسی مجلس میں کسی کی بدگوئی ہورہی ہو تو انہیں منع کرے اور وہاں سے سے چلا جائے۔(۲)

٭ ایک روایت کے مطابق غیبت کرنا کفر، سننا اور اُس پر راضی رہنے کو شرک کہا گیا ہے۔(۳)

غیبت ترک کرنے کے طریقے :

۱۔ غیبت کرنے کے خطرات اور اس کے منفی اثرات پر توجہ دیں (جن کے بارے گزشتہ صفحات پر بحث کی گئی ہے )

۲۔ اپنے عیوب یاد رکھیں حضرت علی ـ نے فرمایا: کہ تم کس طرح لوگوں کے عیوب بیان کرتے ہو جب کہ خود اس جیسے یا اس سے بدتر گناہ کا ارتکاب کرچکے ہو اور اگر فرض کریں کہ تم میں کوئی عیب نہیں ہے تو تمہاری یہی جرأت کہ تم دوسروں کے عیوب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ وسائل الشیعہ ج۸، ص۶۰۸

(۲)۔کنز العمال ج۲، ص ۸۰

(۳)۔ بحار الانوار ج۷۲، ص ۲۲۶

۱۷۹

اور بدکاری کو عام کررہے ہو ان کے عیوب سے بدتر ہے۔(۱)

روایات میں ہے کہ خوش بخت ہے وہ شخص جس کے عیوب اُسے مشغول رکھتے ہیں (اور وہ اصلاح کی فکر میں رہتا ہے) اور لوگوں کے عیوب سے اُسے کوئی سروکار نہیں ہے۔(۲)

یاد آوری :

غیبت کی بحث کے اختتام پر چند باتوں کی یاد آوری ضروری ہے :

۱۔ غیبت کے حرام ہونے کا حکم فقط اس سورئہ یا اس آیت میں نہیں بلکہ دیگر آیات میں بھی ہے مثلاً آیت(وَیْل لِّکُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ) (۳) وائے ہو ہر عیب جو اور بدگوئی کرنے والے پر ، اور آیت(َا یُحِبُّ اللّٰهُ الجَهْرَ بِالسُّوْئِ ) (۴) اللہ تعالیٰ کو یہ پسند نہیں کہ لوگوں کی برائیوں کو عیاں کیا جائے۔ ان آیات سے بھی غیبت کے

حرام ہونے کا پتہ چلتاہے۔

۲۔ اگر غیبت عیب جوئی کی وجہ سے کی جائے تو حرام ہے لیکن اگر لوگوں کے عیب اصلاح کی خاطر بیان کیے جائیں تو پھر جائز ہے چاہے جس کے عیب بیان کیے جائیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ نہج البلاغہ۔خطبہ ۱۴۰

(۲)۔ بحار الانوار ج۱، ص ۱۹۱

(۳)۔سورئہ مبارکہ ہمزہ آیت ۱

(۴)۔ سورئہ مبارکہ نساء آیت ۱۴۸

۱۸۰

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

ایمان ابوطالبعليه‌السلام کو چھپانے کی ضرورت کیا تھی؟

ہم جرا ت کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ابوطالبعليه‌السلام کا اپنے ایمان کو مخفی رکھنا اسلام کی ایک شدید ضرورت تھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ دعوت اسلامی کو ایک ایسے بااثر فرد کی ضرورت تھی جو اس دعوت کیپشت پناہی اور اس کے علمبردار کی محافظت کرتا بشرطیکہ وہخود غیر جانبدار ہوتا تاکہ اس کی بات میں وزن ہو _یوں اسلامی دعوت اپنی حرکت و کارکردگی کو غیر مؤثر بنانے والے ایک بہت بڑے دباؤ کا سامنا کئے بغیر اپنی راہ پر چل نکلتی_

ابن کثیر وغیرہ نے کہا ہے اگر ابوطالبعليه‌السلام مسلمان ہوجاتے (ہم تو یہ کہتے ہیں کہ وہ مسلمان تھے لیکن اس حقیقت کو چھپاتے تھے) تو مشرکین قریش کے پاس ان کی کوئی حیثیت نہ رہتی اور نہ ان کی بات میں وزن ہوتا _نیز نہ ان پر آپ کی ہیبت باقی رہتی اور نہ وہ ان کا احترام ملحوظ رکھتے بلکہ ان کے خلاف ان میں جسارت پیدا ہوتی اور اپنے دست و زبان سے ان کی مخالفت کرتے_(۱)

ابوطالبعليه‌السلام پر تہمت کیوں؟

شاید حضرت ابوطالب کا واحد جرم یہ ہو کہ وہ امیرالمومنین حضرت علیعليه‌السلام کے والد تھے_ درحقیقت اس قسم کی ناروا تہمتوں کا اصلی ہدف حضرت ابوطالبعليه‌السلام نہیں بلکہ ان کے بیٹے حضرت علیعليه‌السلام ہیں جوامویوں، زبیریوں اور دشمنان اسلام کی آنکھوں کا کانٹا تھے _ان لوگوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ حضرت علیعليه‌السلام سے مربوط ہر کام میں عیب نکالیں یہاں تک کہ نوبت ان کے بھائی جعفر اور ان کے والد ابوطالبعليه‌السلام تک بھی جا پہنچی _بلکہ ہم تو دیکھتے ہیں کہ ان کے حق میں مختلف فرقوں کے نزدیک صحیح سند کے ساتھ ثابت کوئی فضیلت ایسی نہیں جس کی نظیر خلفاء ثلاثہ کیلئے بھی بیان نہ کی گئی ہو (البتہ ضعیف اسناد کے ساتھ) تمام تعریفیں اس خدا کیلئے ہیں اور برہان کامل بھی اس کی ہی ہے_

ہم یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ اگر ابوسفیان یا حضرت علیعليه‌السلام کے دیگر دشمنوں کے آباء و اجداد میں سے کسی

___________________

۱_ البدایة و النہایة ج ۳ ص ۴۱ نیز رجوع کریں السیرة النبویة (دحلان) ج ۱ ص ۴۶_

۲۰۱

ایک نے بھی ابوطالبعليه‌السلام جیسی خدمات کا دسواں حصہ انجام دیا ہوتا تو اس کی خوب تعریفیں ہوتیں اور اسے زبردست خراج تحسین پیش کیاجاتا _اس کی شان میں احادیث کے ڈھیر لگ جاتے_ نیز دنیوی و اخروی لحاظ سے اس کی کرامتوں اور شفاعتوں کا زبردست چرچاہوتا بلکہ ہر زمانے اور ہر مقام پر ان چیزوں میں مسلسل اضافہ ہی ہوتا رہتا_

عجیب بات تو یہ ہے کہ معاویہ کا باپ ابوسفیان جس نے حضرت عثمان (کے خلیفہ بننے کے بعد ان )کی محفل میں یہ کہا: '' یہ حکومت تیم اور عدی سے ہوتے ہوئے اب تم تک آئی ہے اسے اپنے درمیان گیند کی طرح لڑھکا تے رہو اور بنی امیہ کو اس حکومت کے ستون بناؤ ، کیونکہ یہ تو صرف حکومت کا کھیل ہے_ قسم ہے اس کی جس کی ابوسفیان قسم کھاتا ہے نہ جنت کی کوئی حقیقت ہے نہ جہنم کی''(۱) وہ تو ان کی نظر میں مؤمن متقی عادل اور معصوم ٹھہرا لیکن حضرت ابوطالب (بہ الفاظ دیگر حضرت علیعليه‌السلام کے والد) کافر و مشرک ٹھہرے اور جہنم کے ایک حوض میں ان کا ٹھکانہ ہو جس کی آگ ان کے ٹخنوں تک پہنچے اور جس کی حرارت سے ان کا دماغ کھولنے لگے_ (نعوذ باللہ من ذلک) آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا

ابولہب اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نصرت؟

مذکورہ بالا معروضات کے بعداس بات کی طرف اشارہ ضروری ہے جس کا بعض لوگ اس مقام پر ذکر کرتے ہیں اور وہ یہ کہ ابوطالبعليه‌السلام کی وفات کے بعد ابولہب نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد کرنے کیلئے اپنی آمادگی کا اعلان کیا _ قریش نے از راہ حیلہ ابولہب سے کہا کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کہتا ہے کہ تمہارا باپ عبدالمطلب جہنمی ہے_ ابولہب نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سوال کیا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے جو جواب دیا وہ ان لوگوں کے قول کے مطابق تھا پس ابولہب نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیا پھر زندگی بھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دشمنی اختیار کی_(۲)

___________________

۱_ النزاع و التخاصم ص ۲۰ عجیب بات یہ بھی ہے کہ معاویہ جس کے باپ کے نظریات او پر مذکور ہوچکے ہیں اور بیٹا یزید جو یہ کہتا ہو کہ ''لعبت ہاشم بالملک فلا خبر جاء و لا وحی نزل'' بنی ہاشم نے حکومت کا کھیل کھیلا وگرنہ حقیقت میں نہ تو کوئی خبر آئی ہے نبوت کی اور نہ ہی کوئی وحی اتری ہے _ یہ سب کے سب اور ان کے ماننے والے تو پکے مسلمان لیکن ابوطالب اورانہیں مسلمان ماننے والے ؟ از مترجم _

۲_ بطور مثال رجوع کریں : البدایة والنہایة ج۳ ص ۴۳ از ابن جوزی اور تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۰۲_

۲۰۲

ہمیں یقین ہے کہ یہ واقعہ جھوٹا ہے اور اس کی وجوہات درج ذیل ہیں_

پہلی وجہ: یہ ہے کہ ابولہب کو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ دس سالہ دشمنی کے دوران کیونکر علم نہ ہوا کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور اسلام کا نقطہ نظر حالت شرک میں مرنے والے ہر شخص کے بارے میں یہی ہے کہ وہ جہنمی ہوتا ہے؟ پھر وہ اتنی مد ت تک کس بنا پر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مقابلہ کرتا رہا؟

نیز اس نے حضرت ابوطالبعليه‌السلام کی زندگی میں حضوراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کیوں دشمنی کی اور ان کی وفات کے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت اور نصرت پر کیوں اتر آیا؟ وہ بتائیں کہ ابوطالبعليه‌السلام نے ابولہب کی روش کیوں نہیں اپنائی اورابولہب نے حضرت ابوطالبعليه‌السلام کی روش کیوں اختیار نہیں کی؟

دوسری وجہ: ہم پہلے ہی بیان کرچکے کہ عبدالمطلب مشرک نہیں تھے بلکہ سچے مؤمن تھے_

یہ روایت کیوں گھڑی گئی؟

اس روایت کو جعل کرنے کی وجہ شاید یہ تاثر دینا ہو کہ حضرت ابوطالب کی حمایت خاندانی جذبے، نسلی تعصب یا بھتیجے کے ساتھ فطری محبت کی بنا پر تھی_ لیکن یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس سے قبل ابولہب کا خاندانی تعصب اور جذبہ کہاں تھا؟ یا بھتیجے کے ساتھ اس کی فطری محبت کہاں گئی ہوئی تھی؟ خاص کر اس وقت جب قریش نے بنی ہاشم کا شعب ابوطالب میں محاصرہ کررکھا تھا اور وہ بھوک کی وجہ سے قریب المرگ ہوگئے تھے؟

نیز اس کے بعد بھی اس کا قومی اور خاندانی جذبہ کہاں چلاگیا؟ ابولہب ہی تھا جو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ستانے اور لوگوں کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے دور رکھنے کیلئے جگہ جگہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا تعاقب کرتا تھا _حضرت ابوطالبعليه‌السلام کی قربانیوں کے ذکر میں ہم نے اس بارے میں بعض عرائض پیش کئے تھے، لہذا ان کا اعادہ مناسب نہیں_

۲۰۳

چوتھا باب

ہجرت طائف تک

پہلی فصل : ہجرت طائف

دوسری فصل : بیعت عقبہ تک کے حالات

تیسری فصل : بیعت عقبہ

۲۰۴