معارف اسلامی کورس (عقائد، احکام،اخلاق ) جلد ۲

معارف اسلامی کورس (عقائد، احکام،اخلاق )18%

معارف اسلامی کورس (عقائد، احکام،اخلاق ) مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 204

جلد ۱ جلد ۲
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 204 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 33178 / ڈاؤنلوڈ: 3139
سائز سائز سائز

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

منزہ ہے ،اور میں اس کی حمد و ثنا، کرتا ہوں ،رکوع کے بعد سیدھاکھڑاہوجائے اور کھڑے ہو کر کہے:''سَمِعَ اللّٰهُ لِمَن حَمِدَه ' یعنی خدا وند عالم اپنے بندے کی حمد وثنا قبول کرنے والا ہے،یہ پڑھنا مستحب ہے ۔

5۔ سجدہ : رکوع کے بعد سجدہ میں جائے یعنی پیشانی کو زمین پر یا جو چیز اس سے اگتی ہے (لیکن کھانے اور پہننے والی نہ ہو )اس پر رکھے اور حالت سجدہ میں پیشانی، دونوں ہاتھوں کی ہتھیلی اور دونوں گھٹنے دونوں انگوٹھے کے سرے کو زمین پر رکھے پھر پڑھے:'' سُبحَانَ رَبِّیَ الاَعلَیٰ وَبِحَمدِه ''یا تین مرتبه '' ُسبحَانَ اللّٰه ِ '' (میرا پروردگار ہر ایک سے بالا وبرتر ہے اور ہر عیب و نقص سے پاک و منزہ ہے اور میں اس کی حمد کرتا ہوں ) پڑھے ۔ پھر سجدہ سے سر اٹھائے اور تھوڑا ٹھہر کر پھر دوبارہ سجدہ میں جائے اور سجدۂ دوم سے سر اٹھا کر تھوڑی دیر بیٹھے اور دوسری رکعت کے لئے کھڑاہو جائے اور کھڑے ہوتے وقت پڑھے'' بِحَولِ للّٰهِ وَقُوَّتِه اَقُومُ وَاَقعُدُ'' (میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی قدرت و مدد سے کھڑا ہوتا اور بیٹھتا ہوں )یہ کہنا مستحب ہے جب سیدھے کھڑا ہو جائے تو پھرالحمد اور دوسرا سورہ پہلی رکعت کی طرح پڑھے ۔

٭ قنوت : سورہ حمد اور دوسرے سورہ سے فارغ ہونے کے بعد دونوں ہاتھوں کو چہرے کے سامنے لا کر قنوت (دعا) پڑھے:''رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنیَا حَسَنَةً وَفِی الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ'' ( اے پروردگار! دنیا اور آخرت میں ہم کو حسنہ مرحمت فرما اور جہنم کے عذاب سے بچا ) دونوں ہاتھوں کو نیچے لائے اوپہل کی طرح رکوع کرے۔

٭ قنوت پڑھنا واجب نہیں بلکہ مستحب اور فضیلت و ثواب کا باعث ہے ۔

۶۱

6۔ تشہد : تمام نمازوں میں دوسری رکعت کے کامل کرنے کے بعد دوسرے سجدہ سے سر اٹھا کر بیٹھ جائے اور اس طریقے سے تشہد پڑھے :'' ِ اَشهَدُ اَن لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحدَه لَا شَرِیکَ لَه وَاَشهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبدُه وَرَسُولُه، اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ '' میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے وہ یگانہ ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد(ص) خدا کے بندے اور اس کے رسول ہیں خداوند ا ! محمد(ص) اور ان کی آل پر درود بھیج ۔

٭نماز مغرب میں پہلے تشہد کے بعد سلام نہیں پڑھنا چاہیے بلکہ کھڑے ہوجائے اور کھڑے ہوکر اطمینان کی حالت میں تیسری رکعت کو شروع کرے پھر رکوع و سجود و تشہد کے بعد سلام پڑھے ،اور نماز ظہر و عصر و عشا میں پہلے تشہد کے بعد سلام نہ پڑھے بلکہ کھڑے ہو کر تیسری اور چوتھی رکعت کے بعد بیٹھ کر تشہد و سلام پڑھے۔

7۔ سلام : نماز صبح میں تشہد کے بعد سلام اس طرح سے پڑھے :

'' اَلسَّلَامُ عَلَیکَ اَیُّهَا النَّبِیُّ وَرَحمَةُ اللّٰهِ وَبَرَکَاتُه ''

اے نبی(ص) !آپ پر سلام اور خدا کی رحمت و برکت ہو

'' اَلسَّلَامُ عَلَینَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِینَ ''

ہم پر اور خدا کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو،

'' اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم وَرَحمَةُ اللّٰهِ وَبَرَکَاتُه ''

تم پر سلام ہو اور خدا کی رحمت و برکتیں ہوں ۔

8۔ترتیب : بیان شدہ ترتیب کے مطابق انجام دے

9۔ موالات : تمام اعمال کو پے در پے انجام دے

۶۲

٭۔ تسبیحات اربعہ : نماز مغرب کی تیسری اور نماز عشا ،ظہر و عصر کی تیسری و چوتھی رکعت میں سورہ حمد کے بجائے تسبیحات اربعہ پڑھے :

'' سُبحَانَ اللّٰهِ وَالحَمدُ لِلّٰهِ وَلَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ اَکبَرُ '' خداوند عالم پاک ومنزہ ہے حمد و ثنا اس کے لئے مخصوص ہے اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں خدا اس سے کہیں بزرگ ہے کہ اس کی تعریف کی جائے ۔

٭نماز پڑھنے والے کا جسم ،لباس اور مکان پاک ہونا چاہیے اور لباس ومکان پاک ہونے کے ساتھ مباح بھی ہوں اوعر لباس حرام گوشت جانور یا مردار کی جلد اور کھال سے بنا ہوا نہیں ہونا چاہیے ۔

٭نماز پڑھنے والی عورت ، جنابت و حیض و استحاضہ و نفاس سے اور مرد جنابت سے پاک ہو ۔

سوالات:

1۔نماز کی ترکیب بتائیے ؟

2۔کیا تکبیرة الاحرام کہتے وقت ہاتھوں کاکانوں کی لو تک لیجا نا واجب ہے ؟

3۔قنوت کونسی رکعت میں پڑھتے ہیں ،اور کیا اس کا پڑھنا واجب ہے ؟

4۔اگر کوئی شخص نجس لباس میں نماز پڑھ لے تو کیا اس کی نماز صحیح ہے ؟

5۔اگر کوئی شخص کسی ایسے شخص کی جگہ پر نمازپڑھے جس کے بارے میں جانتا ہو کہ وہ راضی نہیں ہے تو کیا اس جگہ پر نمازپڑھنا صحیح ہے ۔؟

۶۳

درس نمبر 16

( نماز کے ارکان )

نماز کے پانچ ارکان واجب ہیں :

1۔ نیت۔

2 ۔تکبیرة الاحرام۔

3۔ قیام ، تکبیرة الاحرام کہتے وقت اور رکوع میں جانے سے پہلے جس کو قیام متصل بہ رکوع کہا جاتا ہے یعنی رکوع سے پہلے کھڑے ہونا ۔

4۔رکوع۔

5۔ دونوں سجدے

عمداً و سہواً یا ان ارکان کو کم یا زیادہ کرنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے ۔

نماز کو باطل کرنے والی چیزیں

مبطلات نماز :

ان کاموں کو انجام دینے سے نماز باطل ہوجاتی ہے :

1۔وضو کے ٹوٹ جانے سے نماز باطل ہوجاتی ہے ، چاہے عمداً ہو یا سہواً ۔

2۔ جان بوجھ کر دنیا کے متعلق گریہ کرنا ۔

3۔ عمداً قہقہ کے ساتھ ہنسنا ۔

4۔ جان بوجھ کر کھانا اور پینا ۔

۶۴

5۔ بھول کر یا جان بوجھ کر کسی رکن کو کم یا زیادہ کردینا ۔

6۔ حمد کے بعد آمین کہنا ۔

7۔ سہواً یا عمداً قبلہ کی طرف پیٹھ کرنا ۔

8۔ بات کرنا ۔

9۔ ایسا کام کرنا جس سے نماز کی صورت ختم ہو جائے جیسے تالی بجانا اوراچھلنا ،کودنا وغیرہ۔

10۔ پیٹ پر ہاتھ باندھنا ( اہل سنت کی طرح ) ۔

11۔ دو رکعتی یا تین رکعتی نماز کی رکعتوں میں شک کرنا ۔

مسافر کی نماز :

درج ذیل شرائط کے ساتھ مسافر کو چاہیے کہ چار رکعتی نماز کو دو رکعت پڑھے :

1۔ سفرآٹھ فرسخ سے کم نہ ہو(43 کلو میٹر) جسکی آمدورفت آٹھ فرسخ ہو جاتی ہے وہ نماز کو قصر پڑھے ۔

2۔ابتداء سے آٹھ فرسخ کی نیت ہو

3۔راستے میں اپنا ارادہ نہ بدل دے

4۔منزل تک پہنچنے سے پہلے اپنے وطن سے نہ گزرے اور اثنائے راہ میں دس دن یا زیادہ دن قیام نہ کرے

5۔ اس کا سفر کسی حرام کام کے لئے نہ ہو ، جیسے سفر کرے چوری یا مومن کے قتل کرنے کے لئے اسی طرح عورت بغیر شوہر کی اجازت کے گھر سے باہر نکلے ۔

6۔صحراء نشین خانہ بدوش نہ ہو ۔

۶۵

7۔اس کا مشغلہ اور کام مسافرت نہ ہو ۔

8 ۔ حد ترخّص تک پہنچ جائے ۔یعنی وطن یا اپنے ٹھہرنے کی جگہ سے اتنا دور ہوجائے کہ شہر کی اذان کی آواز کو نہ سنے اور شہر کے لوگ اس کو نہ دیکھ سکیں

٭جو مسافر سفر میں ایک جگہ دس دن رہنے کا ارادہ رکھے تو جب تک وہاں پر قیام ہے نماز پوری پڑھے اور وہ مسافر جو تیس دن تک متردد حالت میں رہ رہا ہو تیسویں دن کے بعداسے چاہیے کہ نماز کو پوری پڑھے ۔

سوالات:

1۔نمازکے ارکان سے کیا مراد ہے ؟

2۔ نمازکے ارکان بیان کیجئے ؟

3۔مبطلات نماز کیا ہیں ؟

4۔ کن شرائط کے ساتھ نماز قصر ہوجاتی ہے ؟

5۔ حد ترخّص سے کیا مراد ہے؟

۶۶

درس نمبر 17

( روزہ )

اسلام کے اہم واجبات میں سے روزہ ہے ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی (ص) نے فرمایا : روزہ جہنم کی آگ کے مقابلہ میں ڈھال ہے۔(1)

تمام مسلمانوں پر رمضان کے مہینے کا روزہ کھنا واجب ہے ، یعنی صبح صادق سے لے کر مغرب تک تمام وہ کام جو روزہ کو باطل کر تے ہیں ان سے اجتناب و پرہیز کرے ۔

مبطلات روزہ: روزہ کو باطل کرنے والے امور درج ذیل ہیں :

1۔ کھانا اور پینا۔

2۔ غلیظ گردوغبار کا حلق تک پہنچانا ۔

3۔ قے کرنا۔

4۔ جماع کرنا

5۔ حقنہ کرنا۔

6۔ پانی میں سر ڈبونا۔

7۔ اللہ اور اس کے رسول(ص) پر جھوٹا الزام لگانا۔

8۔ استمناء (منی نکالنا )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ وافی ،ج2، جز 7، ص5 ۔

۶۷

( 9 ) صبح کی اذان تک جنابت و حیض و نفاس پر باقی رہنا ۔

٭اگر یہ روزہ توڑنے والی چیزیں عمداً واقع ہو تو روزہ باطل ہوجاتا ہے

لیکن اگر بھول چوک یا غفلت کے سبب واقع ہو تو روزہ باطل نہیں ہوتا ہے سوائے جنابت و حیض و نفاس پر باقی رہنے کے ، کہ اگر سہواً اور غفلت کی وجہ سے بھی ہو، تو بھی روزہ باطل ہے ۔

وہ افراد جو روزہ کو توڑ سکتے ہیں

1۔ بیمار :جس پر روزہ رکھنا ضرر کا باعث ہو ۔

2۔ مسافر، انھیں شرائط کے ساتھ جو مسافر کی نماز کے متعلق بیان ہوئی ہیں۔

3۔ وہ عورت جو ماہواری (حیض کی حالت میں ) یا نفاس میں ہو ۔

٭ان تینوں قسم کے افراد کو چاہیے کہ اپنے روزہ کو توڑدیں اور عذر کو بر طرف ہونے کے بعد روزہ کی قضا کریں ۔

4۔ حاملہ عورت جس کا وضع حمل قریب ہو اور روزہ خود اس کے لئے یا اس کے بچے کے لئے ضرر کا باعث ہو ۔

5۔ بچے کو دودھ پلانے والی عورت جبکہ روزہ رکھنے سے دودھ میں کمی آتی ہو اور بچہ کی تکلیف کا سبب ہو۔

6۔ بوڑھے مرد اور بوڑھی عورتیں جن پر روزہ رکھنا سخت اور دشوار ہے ۔

٭مندرجہ بالا خواتین عذر کے زائل ہونے کے بعد اپنے روزے کی قضا اور تین پائو گیہوں فقیر کو دیں گی ۔

٭اگر یہ لوگ رمضان کے بعد بآسانی روزہ رکھ سکتے ہوں تو قضا کریں ، لیکن اگر ان

۶۸

پر روزہ رکھنا دشواری کا باعث ہو تو قضا واجب نہیں ہے ، لیکن ہر روزہ کے بدلے تین پائو گیہوں فقیر کو دیں۔

٭جو شخص عذر شرعی کے بغیر ماہ رمضان کے روزے نہ رکھے یا توڑ دے تو اسے چاہیے کہ اس کی قضا کرے اور ہر روزہ کے بدلے ساٹھ روزہ رکھے یا ساٹھ فقیروں کو کھانا کھلائے ۔

سوالات:

1۔مبطلات روزہ بیان کیجئے ؟

2۔ اگر کسی شخص کو قے آجائے تو کیا اسکا روزہ باطل ہے ؟

3۔ کونسے افراد روزہ توڑ سکتے ہیں ؟

4۔ جو شخص عذر شرعی کے بغیر ماہ رمضان کے روزہ ے نہ رکھے یا توڑ دے اسکا کیا حکم ہے ؟

۶۹

درس نمبر18

( زکوٰة )

اسلام کی واجب چیزوں میں سے ایک زکواة ہے ، حضرت امام صادق نے فرمایا : جو شخص اپنے مال کی زکواة نہ دے وہ نہ مومن ہے اور نہ ہی مسلمان ہے(1)

زکوٰةنو (9) چیزوں پر واجب ہے :

( 1 ) گیہوں (2) جو (3) کھجور (4) کشمش (5) گائے بھینس (6) بھیڑ بکری ( 7) اونٹ(8) سونا ( 9) چاندی ۔

دین اسلام نے ان چیزوں کے لئے ایک حد و مقدار بیان فرمائی ہے اگر اس حد تک پہنچ جائے تو اس میں زکوٰة دینا واجب ہوگی اگر اس مقدار تک نہ پہونچے تو اس پر زکوٰة واجب نہ ہوگی اس حد کو نصاب کہتے ہیں ۔

گیہوں ، جو ، کھجور اور کشمش : ان چار چیزوں کا نصاب 847کلو گرام ہے اگر اس مقدار سے کم ہوتو اس پر زکوٰة واجب نہیں ہے ، زکوٰة نکالتے وقت یہ نکتہ بھی ذہن نشین رہے کہ جو زراعت پر اخراجات ہوئے ہیں ان سب کو نکال کر اگر نصاب کی حد تک پہنچے تو زکوٰة واجب ہو گی ،باقی چیزوں کے نصاب کی مقدار جاننے کے لئے مفصل کتب کی طرف رجوع فرمائیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(ا)۔ وافی، ج2 ،ص5 ، جز 6 ۔

۷۰

( خمس )

اسلام کے مالی حقوق میں سے ایک خمس ہے جو تمام مسلمانوں پر فرض ہے ۔

سات چیزوں پر خمس دینا واجب ہے :

1۔ کاروبار کے منافع ، انسان کو زراعت و صنعت و تجارت مختلف اداروں میں ملازمت کاریگری وغیرہ سے جو آمدنی ہوتی ہے اس میں سے (مثلاً کھانا ،پینا، لباس ، گھر کا ساز وسامان ، گھر کی خریداری ، شادی ، مہمان نوازی ، مسافرت کے خرچ وغیرہ کے بعد ) سالانہ خرچ سے جو بچ جائے اس بچت کا پانچواں حصہ بعنوان خمس ادا کرے ۔

2۔ کان سے جو سونا ،چاندی ،لوہا ، تانبہ ، پیتل ، تیل ، نمک ، کوئلہ ، گندھک معدنی چیز برآمد ہوتی ہے اور جو دھاتیں ملتی ہیں، ان سب پر خمس واجب ہے ۔

3۔ خزانے ۔

4۔ جنگ کی حالت میں مال غنیمت ۔

5۔ دریا میں غوطہ خوری کے ذریعہ حاصل ہونے والے جواہرات ۔

6۔جو زمین مسلمان سے کافر ذمی خرید ے اس کو چاہیے کہ پانچواں حصہ اس کا یا اس کی قیمت کا بعنوان خمس ادا کرے ۔

7۔ حلال مال جو حرام مال میں مخلوط ہوجائے اس طرح کہ حرام کی مقدار معلوم نہ ہو اور نہ ہی اس مال کو پہچانتا ہو، تو اسے چاہیے ان تمام مال کا پانچواں حصہ خمس دے تاکہ باقی مال حلال ہوجائے ۔

٭جو شخص خمس کے مال کا مقروض ہے اس کو چاہیے کہ مجتہد جامع الشرائط یا اس کے

۷۱

کسی وکیل کو دے تاکہ وہ عظمت اور ترویج اسلام اور غریب سادات کے مخارج کو اس سے پورا کرے۔

٭خمس و زکوٰة کی رقوم اسلامی مالیات کا سنگین اور قابل توجہ بجٹ ہے۔

اگر صحیح طریقہ سے اس کی وصولی کی جائے اور حاکم شرع کے پاس جمع ہوتو اسے مسلمانوں کے تمام اجتماعی کاموں کو بطور احسن انجام دیا جا سکتا ہے ، یا فقیری و بیکاری اور جہالت کا ڈٹ کر مقابلہ اور اس سے لاچار و فقیر لوگوں کی دیکھ بھال کی جا سکتی ہے اور لوگوں کے ضروری امور کہ جس کا فائدہ عمومی ہوتا ہے اس کے ذریعہ کرائے جا سکتے ہیں مثلاًہسپتال ، مدرسہ ، مسجد ، راستہ ، پل اور عمومی حمام وغیرہ کی تعمیرکا کام ۔

سوالات:

1۔ حضرت امام صادق نے زکات کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا ؟

2۔ زکات کن چیزوں پر واجب ہے ؟

3۔گیہوں ، جو ، کھجور اور کشمش کی کتنی مقدار پر زکوٰة واجب ہوتی ہے ؟

4۔خمس کتنی چیزوں پر واجب ہے ؟

5۔ خمس کی رقم کسے ادا کرنی چاہیے ؟

۷۲

درس نمبر 19

( حج )

جو شخص جسمانی اور مالی قدرت رکھتا ہو توااس پر پوری عمر میں ایک مرتبہ خانہ کعبہ کی زیارت کے لئے جانا واجب ہے ۔ یعنی اس کے پاس اتنا مال موجود ہو کہ اگر وہ اپنے مال سے حج کے اخراجات نکال لے تو واپس آنے پر بیچارہ حیران و سرگرداں نہ پھرے بلکہ مثل سابق اپنی زندگی اور کام وغیرہ کو ویسے ہی انجام دے سکے ۔

حضرت امام صادق نے فرمایا : جو شخص مر جائے اس حال میں کہ عذر شرعی کے بغیر اپنے واجبی حج کو ترک کردے تو ایسا شخص دنیا سے مسلمان نہیں جاتا بلکہ وہ یہود و نصاریٰ کے ساتھ محشور ہوگا ۔

حج اسلام کی بڑی عبادتوں میں سے ایک عبادت ہے ،دنیا کے تمام مسلمان ایک جگہ اور ایک مقام پر جمع اور ایک دوسرے کے رسوم و عادات سے آشنا ہوتے ہیں اور ہر ملک کے عمومی حالات کے تبادلۂ خیالات کے نتیجہ میں علمی سطح میں اضافہ ہوتا ہے،اس کے علاوہ مسلمان اسلام کی مشکلات اور مہم خطرات سے با خبر ہوتے ہیں، اسی کے ساتھ ایک دوسرے کے اقتصادی اور سیاسی و فرہنگی پروگراموں کے سلسلہ میں باز پرس کرتے ہیں نیز عمومی مصالح و فوائد پر آپس میں گفتگو کرتے ہیں جس سے اتحاد ، ہم فکری اور آپسی دوستی کے روابط مستحکم ہوتے ہیں۔

۷۳

( جہاد )

اسلام کا ایک مہم دستور جہاد ہے ۔ خدا پرستی کی ترویج و احکام اسلام کے نفوذ ، کفر و بے دینی اور اسلام کے دشمنوں کے خلاف جنگ کرنے کو جہاد کہتے ہیں اور جہاد تمام مسلمانوں پر واجب ہے، اس ضمن میں قرآن مجید میں ارشاد رب العزت ہے :( اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِه صَفًّا کَاَنَّهُم بُنیَان مَرصُوص) خدا تو ان لوگوں سے الفت رکھتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف باندھ کر لڑتے ہیں کہ گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں(1)

اور دوسرے مقام پر اس طرح ارشاد ہوتاہے( وَقَاتِلُ المُشرِکِینَ کَافَّةً کَمَا یُقَاتِلُونَکُم کَافَّةً ) اور مشرکین جس طرح تم سے سب کے سب لڑتے ہیں تم بھی اسی طرح سب کے سب مل کر ان سے لڑو۔(2) حضرت علی ارشاد فرماتے ہیں :''جہاد جنت کے دروازے میں سے ایک دروازہ ہے جو شخص جہاد سے انکار کرے خدا اس کو ذلیل و رسوا کرے گا ''اسلام نے جہاد کو اسلامی ملکوں کی حفاظت کے لئے تمام مسلمانوں پر واجب قرار دیا ہے اور تمام مسلمانوں کو مجاہد اور اسلامی ملک کو مجاہدوں کی جگہ قرار دی ہے ، مجاہدین اسلام کو چاہیے ہمیشہ کفر و الحاد کے مقابلہ میں مسلح اور صف بصف آمادہ رہیں تاکہ دشمن اسلام قدرت و شوکت اور اتحاد مسلمین سے خوف کھائے

اور اس کے ذہن سے اسلامی ملکوں پر زیادتی اور تجاوز کے خیالات دورہوجائیں،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورہ صف(61) آیت 4 ۔ (2)۔ سورہ توبہ (9 )آیت 36 ۔

۷۴

اگرکفار کی فوج اسلام کے کسی علاقہ پر حملہ آور ہو جائے تو تمام مسلمانوں پر اپنے استقلال کے لئے اس کا دفاع کرنا واجب ہے اور تمام لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ سب

کے سب دشمنوں کے مقابلہ میں صف بستہ کھڑے ہوں اور ایک ہی حملہ میں مخالف کی فوج کو تہس نہس اور تباہ و برباد کر کے اپنی جگہ پر بٹھادیں تاکہ دوبارہ وہ اس کی جرأت و ہمت نہ کر سکیں ۔

٭جہاد کے لئے مخصوص شرائط ہیں جس کی بابت چاہیے کہ فقہ کی کتابوں کی طرف رجوع کیا جائے ۔

سوالات:

1۔ حج کس پر اور زندگی میں کتنی مرتبہ واجب ہے ؟

2۔حضرت امام صادق نیاس شخص کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا ہے جو عذر شرعی کے بغیر اپنے واجبی حج کو ترک کردے ؟

3۔ حج کے کیا فوائد ہیں ؟

4۔ جہاد کی تعریف کیجئے ؟

5۔ جہا د کے بارے میاں کوئی آیت پیش کیجئے ؟

۷۵

درس نمبر 20

( امر بالمعروف و نہی عن المنکر )

اسلام کے واجبات میں سے ایک امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے ، ترویج اسلام و تبلیغ احکام میں کوشش کرنا لوگوں کو دینی ذمہ داریوں اور اچھے کاموں سے آشنائی کرانا تمام مسلمانوں پر واجب ہے اگر کسی کو دیکھے کہ اپنے وظیفہ پر عمل پیرا نہیں ہے تو اس کو انجام دینے کے لئے آمادہ کرے اس کام کو امر بالمعروف کہتے ہیں ۔

منکرات (خدا کی منع کردہ چیزیں ) سے لوگوں کو منع کرنا بھی اسلام کے واجبات میں سے ہے ، اور واجب ہے کہ مسلمان فساد ، ظلم و ستم کے خلاف جنگ کرے اور برے و گندے کاموں سے روکے اگر کسی کو دیکھے کہ اسلام نے جن کاموں سے منع کیا ہے یہ ان کاموں (منکرات) کو انجام دے رہا ہے تو اس کام کے برے ہونے کی طرف اس کی توجہ دلائے ، جس حد تک ممکن ہوسکے اس کو برے کاموں سے روکے اس کام کو نہی از منکر کہتے ہیں۔

لہٰذا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اسلام کی بڑی ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری ہے اگر اس وظیفہ پر عمل ہونا شروع جائے تو اسلام کا کوئی بھی قانون بلا عمل باقی نہ رہے، تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ ایک دوسرے کا خیال رکھیں نیز دین اسلام کے قوانین کا ہر طرح سے دفاع اور اس کی حفاظت اور رائج کرنے میں کوشش کریں ، تاکہ اس کے فائدے سے تمام افراد بہرہ مند ہوسکیں ، ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ خود نیک کام کو انجام دے اور لوگوں کو بھی نیک کام پر آمادہ کرے ، خود بھی برے اور گندے

۷۶

کاموں سے دوری کرے اور دوسروں کو بھی محرّمات الٰہی سے روکے ۔ ارشاد ہوتا ہے :(کُنتُم خَیرَ اُمَّةٍ اُخرِجَت لِلنَّاسِ تَامُرُونَ بِالمَعرُوفِ وَتَنهَونَ عَنِ المُنکَرِ وَتُؤمِنُونَ بِاللّٰهِ) تم کیا اچھے گروہ ہو کہ لوگوں کی ہدایت کے واسطے پیدا کئے گئے تم لوگوں کو اچھے کام کا حکم کرتے اور برے کاموں سے روکتے ہو اور خدا پر ایمان رکھتے ہو(1)

اور ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے:( وَلتَکُن مِنکُم اُمَّة یَدعُونَ اِلَی الخَیرِ وَیَامُرُونَ بِالمَعرُوفِ وَیَنهَونَ عَنِ المُنکَرِ ) اور تم میں سے ایک گروہ(ایسے لوگوں کا بھی ) تو ہونا چاہیے جو (لوگوں کو) نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کا حکم اور برے کاموں سے روکے۔(2)

حضرت امام علی رضا فرماتے ہیں : امر بالمعروف نہی از منکر کرو اگر تم نے اس فرض پر عمل نہیں کیا تو اشرار تم پر مسلط ہوجائیں گے اس وقت اچھے لوگ جس قدر بھی دعائیں کریں اور ان کے ظلم و ستم پر گریہ کریں توبھی ان کی دعا قبول نہیں کی جائے گی ۔(3)

امر بالمعروف اور نہی از منکر کے چند مراحل ہیں :

پہلا مرحلہ : زبان سے نرمی کے ساتھ اس کام کی اچھائی یا برائی اس شخص کے لئے ثابت کی جائے اور نصیحت و موعظہ کی صورت میں اس سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ اس کام کو نہ کرے یا برے کام کو چھوڑ دے ۔

دوسرا مرحلہ : اگر زبان سے موعظہ و نصیحت اسے کوئی فائدہ نہ پہنچائے تو سختی اور غصہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1)۔ آل عمران (3) آیت 110 ۔ (2)۔ آل عمران (3 )آیت 104 ۔

(3)۔ وسائل الشیعہ ،ج11، ص 394

۷۷

دوسرا مرحلہ : اگر زبان سے موعظہ و نصیحت اسے کوئی فائدہ نہ پہنچائے تو سختی اور غصہ سے، برے کام سے روکا جائے ۔

تیسرا مرحلہ : سختی و غصہ کی وجہ سے بھی اگر اس پر اثر نہ ہو تو جس حد تک ، قدرت رکھتا ہو یا جس وسیلہ و طریقہ سے ممکن ہو اسے برے کام سے منع کرے ۔

چوتھا مرحلہ : اگر اس کے باوجود بھی اس کو گناہ سے نہ روک سکے تو تمام لوگوں کو چاہیے اس سے اس طرح اظہار نفرت کریں کہ اس کو احساس ہوجائے کہ تمام لوگ اس کے مخالف اور اس سے متنفر ہیں ۔

سوالات:

1۔ امر با لمعروف و نہی از منکر سے کیا مراد ہے ؟

2۔ امر با لمعروف و نہی از منکر سے متعلق قرآن کی کوئی آیت پیش کریں ؟

3۔ حضرت امام علی رضاامر با لمعروف و نہی از منکر سے متعلق کیا ارشاد فرماتے ہیں ؟

4۔مر با لمعروف و نہی از منکر کے مراحل بیان کیجئے ؟

۷۸

حصہ سوم

( اخلاق )

۷۹

درس نمبر 21

( اخلاق )

پروردگار عالم اور اس کے رسول کی محبت کے حصول کا بہترین ذریعہ اخلاق حسنہ کو اپنانا ہے ۔ چونکہ خدا کے نزدیک اس کا محبوب بندہ و ہ ہے کہ جس کا اخلاق سب سے زیادہ عمدہ ہو ، اخلاق ، انسان کا اصلی جوہر اور حیوان اور انسان میں وجہ امتیاز ہے ، دنیا اور آخرت میں انسان کی کامیابی کا کسی حد تک دارومدار اخلاق حسنہ پر ہی ہے انسان اپنی انفرادی یا اجتماعی حیثیت میں اس کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ انسانی زندگی کا کوئی بھی شعبہ ایسا نہیں ہے جس میں بنیادی اخلاقیات کی ضرورت نہ ہو ، کوئی بھی مذہب ، تہذیب اور معاشرہ ایسا نہیں جسے اپنے وجود میں اخلاقیات کی ضرورت نہ ہو۔ایک مسلمان کی حیثیت سے دیکھیں تو اخلاق کی پستی کے ساتھ ہم سرے سے اسلامی زندگی کا تصور نہیں کرسکتے ، مسلمان تو بنایا ہی اسی لئے گیاہے کہ اس کی ذات سے دنیا میں اخلاق کا چراغ روشن رہے ۔ آئمہ طاہرین علیہم السلام نے ہمیں ہر مقام پر اخلاق کے دامن کو پکڑے رہنے کا طریقہ سکھایاہے ،دراصل اچھے اور برے صفات کو اخلاق کہتے ہیں :

اچھے صفات : ان صفات کو کہا جاتا ہے جو انسان کی افضلیت و کمال کا باعث بنیں ، جیسے عدالت ، تواضع ، خدا پر بھروسہ ، برد باری ، لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا ، سچ بولنا ، امانتداری ،خدا کی مرضی پر راضی رہنا ، خدا کا شکر ، قناعت ، سخاوت ، بہادری ، دین میں غیرت ، ناموس میں غیرت ، صلۂ رحم ، والدین کے ساتھ احسان ، پڑوسیوں سے اچھا

۸۰

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

وہ راضی نہ بھی ہو۔ مثال کے طور پر اگر ڈاکٹر کو مریض کی بیماری کی تفصیلات بتائی جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے چاہے مریض راضی نہ بھی ہو۔

۳۔ جس شخص کی غیبت ہورہی ہے اُسے معین کریں لیکن اگر یوں کہیں کہ بعض لوگ یوں ہیں اور سننے والے اُن بعض لوگوں کو نہ پہچان سکیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔

۴۔ کبھی غیبت تو نہیں ہوتی ہے لیکن بات تحقیر اور بدکاری کی اشاعت تک پہنچ جاتی ہے تو یہ بھی حرام ہے۔

سوالات

۱۔غیبت کے کوئی بھی پانچ آثار بیان کیجئے ؟

۲۔غیبت کرنے کی پانچ وجوہات بیان کیجئے ؟

۳۔غیبت سننے والے کی کیا ذمہ داری ہے ؟

۴۔غیبت ترک کرنے کے طریقے بیان کریں؟

۱۸۱

درس نمبر۲۹ ( گناہ اور اس کے آثار )

ہر انسان ذاتی طور پر اور باطنی لحاظ سے پاک و سالم اس دنیا میں آتا ہے۔

حرص، حسد، بخل، ریاکاری، فسق و فجور او ردیگر گناہ انسان کی ذات میںنہیںہوتے ۔ حضرت رسول اکرم (ص) سے روایت ہے :

(کُلُّ مَولودٍ یولد عَلَی فِطْرَةِ السْلَامِ، حَتّی یَکُونَ ابواه یهودانه وینصِّرانه) (۱)

'' ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے،مگر اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی بنادیتے ہیں .''

منحرف استاد، منحرف معاشرہ اور منحرف سماج، انسان کی گمراہی میں بہت زیادہ موثر ہوتے ہیں۔

چنانچہ انسان انھیں اسباب کی بنا پر فکری و عملی اور اخلاقی لحاظ سے گمراہ ہوجاتا ہے ، اور گناہوں میں ملوث ہوجاتا ہے،

کیا کیاچیزیں گناہ ہیں ؟

حضرت امام صادق علیہ السلام ' کے کلام میں درج ذیل چیزوں کو گناہوں کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے :

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)بحار الانوارج۲۸۱۳؛باب ۱۱،حدیث ۲۲.

۱۸۲

'' واجبات الٰہی کا ترک کرنا، حقوق الٰہی جیسے نماز، روزہ، زکوٰة، جہاد، حج، عمرہ، وضوء ،

غسل، عبادت ِشب، کثرت ذکر، کفارہ قسم، مصیبت میں کلمہ استرجاع(انا ﷲ و انا الیه راجعون) وغیرہ کہنے سے غفلت کرنا، اور اپنے واجب و مستحب اعمال میں کوتاہی

ہونے کے بعد ان سے روگردانی کرنا۔، معصیت الٰہی کی طرف رغبت رکھنا، بری چیزوں کو اپنانا، شہوات میں غرق ہونا،، غرض یہ کہ عمدی یا غلطی کی بنا پر ظاہری اور مخفی طور پر معصیت خدا کرنا۔کسی کا ناحق خون بہانا، والدین کا عاق ہونا، قطع رحم کرنا، میدان جنگ سے فرار کرنا، باعفت شخص پر تہمت لگانا، ناجائز طریقہ سے یتیم کا مال کھانا، جھوٹی گواہی دینا، حق کی گواہی سے کترانا، دین فروشی، ربا خوری، خیانت، مال حرام ،جادو، غیب کی باتیں گڑھنا، نظر بد ڈالنا، شرک، ریا، چوری، شراب خوری، کم تولنا اور کم ناپنا، ، کینہ و دشمنی، منافقت ، عہد و پیمان توڑدینا، خوامخواہ الزام لگانا،فریب اور دھوکہ دینا، اہل ذمہ سے کیا ہوا عہدو پیمان توڑنا، قسم، غیبت کرنایا سننا، چغلی کرنا، تہمت لگانا، دوسروں کی عیب تلاش کرنا، دوسروں کو بُرا بھلا کہنا، دوسروں کو بُرے ناموںسے پکارنا، پڑوسی کو اذیت پہچانا، دوسروں کے گھروں میں بغیر اجازت کے داخل ہونا، اپنے اوپر بلا وجہ فخر و مباہات کرنا، گناہوں پر اصرار کرنا، ظالموں کا ہمنوا بننا، تکبر کرنا غرور سے چلنا، حکم دینے میں ستم کرنا، غصہ کے عالم میں ظلم کرنا، کینہ و حسد رکھنا، ظالموںکی مدد کرنا، دشمنی اور گناہ میں مدد کرنا، اہل و عیال اور مال کی تعداد میں کمی کرنا، لوگوں سے بدگمانی کرنا، ہوائے نفس کی اطاعت کرنا، شہوت پرستی ،برائیوں کا حکم دینا، نیکیوں سے روکنا، زمین پر فتنہ و فساد پھیلانا، حق کا انکار کرنا، ناحق کاموں میں ستمگروں سے مدد لینا، دھوکا دینا، کنجوسی کرنا، نہ جاننے والی چیز کے بارے میں گفتگو کرنا، خون پینا، سور کا گوشت کھانا، مردار یا

۱۸۳

غیر ذبیحہ جانور کا گوشت کھانا،حسد کرنا، کسی پر تجاوز کرنا، بری چیزوں کی دعوت دینا، خدا

کی نعمتوں پر مغرور ہونا، خودغرضی دکھانا، احسان جتانا، قرآن کا انکار کرنا، یتیم کو ذلیل کرنا، سائل کو دھتکارنا، قسم توڑنا، جھوٹی قسم کھانا، دوسروں کی ناموس اور مال پر ہاتھ

ڈالنا، برا دیکھنا ،برا سننا اور برا کہنا، کسی کو بری نظر سے چھونا، دل میں بُری بُری باتیں سوچنااور جھوٹی قسم کھانا۔۔۔''۔(۱)

گناہوں کے برے آثار :

قرآن مجید کی آیات اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کے پیش نظر دنیا و آخرت میں گناہوںکے برُے آثارنمایاں ہوتے ہیں کہ اگر گناہگار اپنے گناہوں سے توبہ نہ کرے تو بے شک ان کے برے آثار میں گرفتار ہوجاتا ہے۔

۱۔دائمی جھنم :

( بَلَی مَنْ کَسَبَ سَیِّئَةً وَأحَاطَتْ بِهِ خَطِیئَتُهُ فَاُوْلَئِکَ أصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِیهَا خَالِدُونَ ).(۲)

'' یقینا جس نے کوئی برائی کی اور اس کی غلطی نے اسے گھیر لیا ، تو ایسے لوگوں کے لئے جہنم ہے اور وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ''۔

۲۔ اعمال کی بربادی :

( قُلْ هَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْأخْسَرِینَ أعْمَالًا٭ الَّذِینَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَهُمْ یَحْسَبُونَ أنَّهُمْ یُحْسِنُونَ صُنْعًا ٭ اُولَئِکَ الَّذِینَ کَفَرُوا بِآیَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱) بحار الانوار ج ۹۴، ص ۳۲۸ باب ۲

(۲)سورۂ بقرہ آیت۸۱.

۱۸۴

فَحَبِطَتْ أعْمَالُهُمْ فَلاَنُقِیمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَزْنًا). ( ۱ )

'' اے پیغمبر کیا ہم تمہیں ان لوگوں کے بارے میں اطلا ع دیں جو اپنے اعمال میں

بدترین خسارہ میں ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کی کوشش زندگانی ٔ دنیا میں بہک گئی ہے اور یہ

خیال کرتے ہیں کہ یہ اچھے اعمال انجا م دیں رہے رہیں،یہی وہ لوگ ہیںجنھوں نے

آیات پروردگار اور اس کی ملاقات کا انکار کیا، ان کے اعمال برباد ہو گئے ہیں اور ہم قیامت کے دن ان کے لئے کوئی وزن قائم نہیں کریں گے ''۔

۳۔ درد ناک عذاب :

( فِی قُلُوبِهِمْ مَرَض فَزَادَهُمْ اﷲُ مَرَضًا وَلَهُمْ عَذَاب ألِیم...) .(۲)

'' ان کے دلوں میں بیماری ہے اور خدا نے نفاق کی بنا پر اسے اور بھی بڑھا دیا ہے ،اب اس جھوٹ کے نتیجہ میں دردناک عذاب ملے گا...''۔

۴۔ کفر کی موت :

( وَأمَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِهِمْ مَرَض فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا إلَی رِجْسِهِمْ...) .(۳)

'' اور جن کے دلوں میں مرض ہے ان کے مرض میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے اور وہ کفر ہی کی حالت میں مر جاتے ہیں''۔

۵۔شکم میں آگ :

(إنَّ الَّذِینَ یَاْکُلُونَ أمْوَالَ الْیَتَامَی ظُلْمًا إنَّمَا یَاْکُلُونَ فِی بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیرًا) .(۴)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)سورۂ کہف آیت ،۱۰۳۔۱۰۵. (۲)سورۂ بقرہ آیت۱۰. (۳)سورۂ توبہ آیت۱۲۵. (۴)سورۂ نساء آیت ،۱۰.

۱۸۵

'' جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھا جاتے ہیں وہ در حقیقت اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے

ہیں اور وہ عنقریب واصل جہنم ہوں گے ''۔

۶۔گمراہی :

(مَثَلُ الَّذِینَ کَفَرُوا بِرَبِّهِمْ أعْمَالُهُمْ کَرَمَادٍ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّیحُ فِی یَوْمٍ عَاصِفٍ لاَیَقْدِرُونَ مِمَّا کَسَبُوا عَلَی شَیْئٍ ذَلِکَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِیدُ) .(۱)

'' جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا انکار کیا ان کے اعمال کی مثال اس راکھ کی مانند ہے جسے آندھی کے دن کی تند ہوا اڑا لے جائے کہ وہ اپنے حاصل کئے ہوئے پر بھی کوئی اختیار نہیں رکھتے اور یہی بہت دور تک پھیلی ہوئی گمراہی ہے''۔

اس طرح کی آیات سے نتیجہ نکلتا ہے کہ گناہوں کے بُرے آثار اس سے کہیں زیادہ ہیں، مثلاً:آتش جہنم میں جلنا، عذاب کا ابدی ہونا، دنیا و آخرت میںنقصان اور خسارہ میں رہنا، انسان کی ساری زحمتوں پر پانی پھرجانا، روز قیامت ]نیک[ اعمال کا حبط ]یعنی ختم[ ہوجانا، روز قیامت اعمال کی میزان قائم نہ ہونا، توبہ نہ کرنے کی وجہ سے گناہوں میں اضافہ ہونا، دشمنان خدا کی طرف دوڑنا، انسان سے خدا کا تعلق ختم ہوجانا، قیامت میں تزکیہ نہ ہونا، ہدایت کا گمراہی سے بدل جانا،مغفرت الٰہی کے بدلہ عذاب الٰہی کا مقرر ہونا۔

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام ایک تفصیلی روایت میں گناہوں کے برے آثار کے بارے میں اس طرح ارشاد فرماتے ہیں :

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)سورۂ ابراہیم آیت ،۱۸.

۱۸۶

۱۔جن گناہوں کے ذریعہ نعمتیں تبدیل ہوجاتی ہیں :

عوام الناس پرظلم و ستم کرنا، کار خیر کی عادت چھوڑ دینا، نیک کام کرنے سے دوری کرنا، کفران نعمت کرنا اور شکر الٰہی چھوڑ دینا۔

۲۔جو گناہ ندامت اور پشیمانی کے باعث ہوتے ہیں :

قتل نفس، قطع رحم ،وقت ختم ہونے تک نماز میں تاخیر کرنا ،وصیت نہ کرنا، لوگوں کے حقوق ادا نہ کرنا، زکوٰة ادانہ کرنا، یہاں تک کہ اس کی موت کا پیغام آجائے اور اس کی زبان بند ہوجائے۔

۳۔جن گناہوں کے ذریعہ نعمتیں زائل ہوجاتی ہیں :

جان بوجھ کر ستم کرنا، لوگوں پر ظلم و تجاوز کرنا، لوگوں کا مذاق اڑانا، دوسرے لوگوں کو ذلیل کرنا۔

۴۔جن گناہوں کے ذریعہ انسان تک نعمتیں نہیں پہنچتیں :

اپنی محتاجگی کا اظہار کرنا،نماز پڑھے بغیر رات کے ایک تہائی حصہ میں سونا یہاں تک کہ نماز کا وقت نکل جائے، صبح میں نماز قضا ہونے تک سونا، خدا کی نعمتوں کو حقیر سمجھنا، خداوندعالم سے شکایت کرنا۔

۵۔جن گناہوں کے ذریعہ پردہ اٹھ جاتا ہے :

شراب پینا، جوا کھیلنا یا سٹہ لگانا، مسخرہ کرنا، بیہودہ کام کرنا، مذاق اڑانا ، لوگوں کے عیوب بیان کرنا، شراب پینے والوں کی صحبت میں بیٹھنا۔

۱۸۷

۶جو گناہ نزول بلاء کا سبب بنتے ہیں :

غم زدہ لوگوں کی فریاد رسی نہ کرنا، مظلوموں کی مدد نہ کرنا، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے الٰہی فریضہ کا ترک کرنا۔

۷۔جن گناہوں کے ذریعہ دشمن غالب آجاتے ہیں :

کھلے عام ظلم کرنا، اپنے گناہوں کو بیان کرنا، حرام چیزوں کو مباح سمجھنا، نیک و صالح لوگوں کی نافرمانی کرنا، بدکاروں کی اطاعت کرنا۔

۸۔جن گناہوں کے ذریعہ عمر گھٹ جاتی ہے :

قطع تعلق کرنا، جھوٹی قسم کھانا، جھوٹی باتیں بنانا، زناکرنا، مسلمانوں کا راستہ بند کرنا، ناحق امامت کا دعویٰ کرنا۔

۹۔جن گناہوں کے ذریعہ امیدٹوٹ جاتی ہے :

رحمت خدا سے ناامیدہونا، لطف خدا سے زیادہ مایوس ہونا، غیر حق پر بھروسہ کرنا اور خداوندعالم کے وعدوں کو جھٹلانا۔

۱۰۔جن گناہوں کے ذریعہ انسان کا ضمیر تاریک ہوجاتا ہے :

سحر و جادو اور غیب کی باتیں کرنا، ستاروں کو موثر ماننا، قضا و قدر کو جھٹلانا، عقوق والدین ہونا۔

۱۱۔جن گناہوں کے ذریعہ ]احترام کا[ پردہ اٹھ جاتا ہے :

واپس نہ دینے کی نیت سے قرض لینا، فضول خرچی کرنا، اہل و عیال اور رشتہ داروں پر خرچ کرنے میں بخل کرنا، بُرے اخلاق سے پیش آنا، بے صبری کرنا، بے حوصلہ ہونا،

۱۸۸

اپنے کو کاہل جیسا بنانااوراہل دین کو حقیر سمجھنا۔

۱۲۔جن گناہوں کے ذریعہ دعا قبول نہیں ہوتی :

بری نیت رکھنا، باطن میں برا ہونا، دینی بھائیوں سے منافقت کرنا، دعا قبول ہونے کا یقین نہ رکھنا، نماز میں تاخیر کرنا یہاں تک کہ اس کا وقت ختم ہوجائے، کار خیر اور صدقہ کو ترک کرکے تقرب الٰہی کو ترک کرنا اور گفتگو کے دوران نازیبا الفاظ استعمال کرنا اور گالی گلوچ دینا۔

۱۳۔جو گناہ باران رحمت سے محرومی سبب بنتے ہیں :

قاضی کاناحق فیصلہ کرنا، ناحق گواہی دینا، گواہی چھپانا، زکوٰة اور قرض نہ دینا، فقیروں اور نیازمندوں کی نسبت سنگدل ہونا، یتیم اورضرورت مندوں پر ستم کرنا، سائل کو دھتکارنا، رات کی تاریکی میں کسی تہی دست اور نادار کو خالی ہاتھ لوٹانا۔(۱)

حضرت امیر المومنین علیہ السلام گناہوں کے سلسلے میں فرماتے ہیں :

(لَوْ لَمْ یَتَوَعَّدِ اللّٰهُ عَلٰی مَعْصِیَتِهِ لَکانَ یَجِبُ أن لا یُعْصیٰ شُکْراً لِنِعَمِهِ:) (۲)

'' اگر خداوندعالم نے اپنے بندوں کو اپنی مخالفت پر عذاب کا وعدہ نہ دیا ہوتا، تو بھی اس کی نعمت کے شکرانے کے لئے واجب تھا کہ اس کی معصیت نہ کی جائے''۔

قارئین کرام! خداوندعالم کی بے شمار نعمتوں کے شکرکی بنا پر ہمیں چاہئے کہ ہر طرح کی

معصیت اور گناہ سے پرہیز کریں اور اپنے بُرے ماضی کو بدلنے کے لئے خداوندعالم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)معا نی الاخبار ۲۷۰،باب معنی الذنوب التی تغیر النعم ،حدیث ۲؛وسائل الشیعہ ،ج۱۶،ص۲۸۱،باب ۴۱،حدیث ۲۱۵۵۶؛ بحار الانوار،ج۷۰،ص۳۷۵،باب ۱۳۸،حدیث ۱۲.

(۲)نہج البلاغہ ،حکمت ۸۴۲،حکمت ۲۹۰؛بحار الانوار ج۷۰،ص۳۶۴،باب ۱۳۷،حدیث ۹۶.

۱۸۹

کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کریں کیونکہ توبہ استغفار کی بنا پر خداوندعالم کی رحمت و

مغفرت اور اس کا لطف و کرم انسان کے شامل حال ہوتا ہے۔

سوالات :

۱۔ہر انسان دنیا میں پاک و پاکیزہ آتا ہے اس سلسلے میں پیغمبر اسلام(ص) نے کیا فرمایا ہے ؟

۲۔حضرت امام جعفر صادق (ع) کی حدیث کی روشنی میں دس گناہوں کے نام بتایئے ؟

۳۔قرآنی آیات کی روشنی میں گناہ کے پانچ آثار کی طرف اشارہ کیجئے ؟

۴۔امام زین العابدین کی روایت کی روشنی میں جو گناہ ندامت اور پشیمانی کے باعث ہوتے ہیںبیان کیجئے َ

۵۔وہ گناہ بیان کیجئے جن سے عمر گھٹ جاتی ہے؟

۶۔حضرت امیر المومنین علیہ السلام گناہوں کے سلسلے میں کیا فرماتے ہیں؟

۱۹۰

درس نمبر۳۰ ( توبہ )

توبہ یعنی خداوندعالم کی رحمت و مغفرت اور اس کی رضا و خوشنودی کی طرف پلٹنا ،جنت میں پہونچنے کی صلاحیت کا پیدا کرنا، عذاب جہنم سے امان ملنا، گمراہی کے راستہ سے نکل آنا، راہ ہدایت پر آجانا اور انسان کے نامہ اعمال کا ظلمت و سیاہی سے پاک و صاف ہوجانا ہے؛اس کے اہم آثار کے پیش نظریہ کہا جاسکتا ہے کہ توبہ ایک عظیم مرحلہ ہے ، اور ایک روحانی اور آسمانی واقعیت ہے ۔

لہٰذا فقط ''استغفر اﷲ'' کہنے، یا باطنی طور پر شرمندہ ہونے اور خلوت و بزم میں آنسو بہانے سے توبہ حاصل نہیں ہوتی، کیونکہ جولوگ اس طرح توبہ کرتے ہیں وہ کچھ ہی مدت کے بعد دوبارہ گناہوں کی طرف پلٹ جاتے ہیں !

گناہوں کی طرف دوبارہ پلٹ جانا اس چیز کی بہترین دلیل ہے کہ حقیقی طور پر توبہ نہیں

ہوئی اور انسان حقیقی طور پر خدا کی طرف نہیں پلٹا ہے۔

حقیقی توبہ اس قدر اہم اور باعظمت ہے کہ قرآن کریم کی بہت سی آیات اور الٰہی تعلیمات اس سے مخصوص ہیں۔

امام علی کی نظر میںحقیقی توبہ :

امام علی علیہ السلام نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جس نے زبان پر ''استغفر اﷲ''

۱۹۱

جاری کیا تھا :

اے شخص ! تیری ماں تیرے سوگ میں بیٹھے، کیا تو جانتا ہے کہ توبہ کیا ہے؟ یاد رکھ توبہ علّیین کا درجہ ہے، جو ان چھ چیزوں سے مل کر متحقق ہوتا ہے :

۱۔اپنے ماضی پر شرمندہ اور پشیمان ہونا۔ ۲۔ دوبارہ گناہ نہ کرنے کا مستحکم ارادہ کرنا۔

۳۔ لوگوں کے حقوق کاادا کرنا۔ ۴۔ ترک شدہ واجبات کو بجالانا۔

۵۔ گناہوں کے ذریعہ پیدا ہونے والے گوشت کواس قدر پگھلادینا کہ ہڈیوں پر گوشت باقی نہ رہ جائے،اور حالت عبادت میں ہڈیوں پر گوشت پیدا ہو۔

۶۔ بدن کو اطاعت کی تکلیف میں مبتلا کرنا جس طرح گناہ کا مزہ چکھا ہے۔

لہٰذا ان چھ مرحلوں سے گزرنے کے بعد ''استغفر اﷲ'' کہنا۔(۱)

جی ہاں، توبہ کرنے والے کو اس طرح توبہ کرنا چاہئے ، گناہوں کو ترک کرنے کا مصمم ارادہ کرلے، گناہوں کی طرف پلٹ جانے کا ارادہ ہمیشہ کے لئے اپنے دل سے نکال دے، دوسری ، تیسری بار توبہ کی امید میں گناہوں کو انجام نہ دے، کیونکہ یہ امید ایک

شیطانی امید اور مسخرہ کرنے والی حالت ہے، حضرت امام رضا علیہ السلام ایک روایت کے ضمن میں فرماتے ہیں :

''مَنِ اسْتَغْفَرَ بِلِسانِهِ وَلَمْ یَنْدَمْ بِقَلْبِهِ فَقَدِ اسْتَهْزَأ بِنَفْسِهِ...'' (۲)

'' جو شخص زبان سے توبہ و استغفار کرے لیکن دل میں پشیمانی اور شرمندگی نہ ہو تو گویا اس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)نہج البلاغہ ،۸۷۸حکمت ۴۱۷؛وسائل الشیعہ ج۱۶،ص۷۷،باب ۸۷،حدیث ۲۱۰۲۸؛بحار الانوارج۶،ص۳۶،باب ۲۰،حدیث۵۹.

(۲)کنزالفوائد ج۱،ص۳۳۰،فصل حدیث عن الامام الرضا(ع)؛بحارالانوارج۷۵،ص۳۵۶

۱۹۲

نے خود کا مذاق اڑایاہے !''

توبہ؛ انسانی حالت میں انقلاب اور دل و جان کے تغیر کا نام ہے، اس انقلاب کے ذریعہ انسان گناہوں کی طرف کم مائل ہوتا ہے اور خداوندعالم سے ایک مستحکم رابطہ پیدا کرلیتا ہے۔

توبہ؛ ایک نئی زندگی کی ابتداء ہوتی ہے،معنوی اور ملکوتی زندگی جس میں قلب انسان تسلیم خدا، نفس انسان تسلیم حسنات ہوجاتا ہے اور ظاہر و باطن تمام گناہوں کی گندگی اور کثافتوں سے پاک ہوجاتا ہے۔

توبہ؛ یعنی ہوائے نفس کے چراغ کو گُل کرنا اور خدا کی مرضی کے مطابق اپنے قدم اٹھانا۔

توبہ؛ یعنی اپنے اندر کے شیطان کی حکومت کو ختم کرنا اور اپنے نفس پر خداوندعالم کی حکومت کا راستہ ہموار کرنا۔

ہر گناہ کے لئے مخصوص توبہ :

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر خدا کی بارگاہ میں اپنے مختلف گناہوں کے سلسلہ میں استغفارکرلیا جائے اور ''استغفراﷲ ربی و اتوب الیہ'' زبان پر جاری کرلیاجائے، یا مسجد اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے روضوں میں ایک زیارت پڑھ لی جائے یا چند آنسو بہالئے جائیں تو اس کے ذریعہ توبہ ہوجائے گی، جبکہ آیات وروایات کی نظر میں اس طرح کی توبہ مقبول نہیں ہے، اس طرح کے افراد کو توجہ کرنا چاہئے کہ ہر گناہ کے اعتبار سے توبہ بھی مختلف ہوتی ہے، ہر گناہ کے لئے ایک خاص توبہ مقرر ہے کہ اگر انسان اس طرح توبہ نہ کرے تو اس کا نامہ اعمال گناہ سے پاک نہیں ہوگا، اور اس

۱۹۳

کے بُرے آثار قیامت تک اس کی گردن پر باقی رہیں گے، اور روز قیامت اس کی سزا بھگتنا پڑے گی۔

تمام گناہوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے :

۱۔ عبادت اور واجبات کو ترک کرنے کی صورت میں ہونے والے گناہ، جیسے نماز، روزہ، زکوٰة، خمس اور جہاد وغیرہ کو ترک کرنا۔

۲۔ خداوندعالم کے احکام کی مخالفت کرتے ہوئے گناہ کرناجن میں حقوق الناس کا کوئی دخل نہ ہو، جیسے شراب پینا، نامحرم عورتوں کو دیکھنا، زنا، لواط، استمنائ، جُوا، حرام میوزیک سننا وغیرہ ۔

۳۔ وہ گناہ جن میں فرمان خدا کی نافرمانی کے علاوہ لوگوں کے حقوق کو بھی ضایع کیا گیا ہو، جیسے قتل ، چوری، سود، غصب، مالِ یتیم ناحق طور پر کھانا، رشوت لینا، دوسروں کے بدن پر زخم لگانا یا لوگوں کو مالی نقصان پہچانا وغیرہ وغیرہ۔

پہلی قسم کے گناہوںکی توبہ یہ ہے کہ انسان تمام ترک شدہ اعمال کو بجالائے،قضا نماز پڑھے،قضا روزے رکھے، ترک شدہ حج کرے، اور اگر خمس و زکوٰة ادانہیں کیا ہے تو ان کو ادا کرے۔

دوسری قسم کے گناہوں کی توبہ یہ ہے کہ انسان شرمندگی کے ساتھ استغفار کرے اور گناہوں کے ترک کرنے پر مستحکم ارادہ کرلے، اس طرح کہ انسان کے اندر پیدا ہونے والا انقلاب اعضاء وجوارح کو دوبارہ گناہ کرنے سے روکے رکھے۔

تیسری قسم کے گناہوں کی توبہ یہ ہے کہ انسان لوگوں کے پاس جائے اور ان کے حقوق کی ادائیگی کرے ،مثلاً قاتل ،خود کو مقتول کے ورثہ کے حوالے کردے، تاکہ وہ قصاص یا

۱۹۴

مقتول کا دیہ لے سکیں، یا اس کو معاف کردیں، سود خورتمام لوگوں سے لئے ہوئے سودکو ان کے حوالے کردے، غصب شدہ چیزوں کو ان کے مالک تک پہونچادے، مال یتیم اور رشوت ان کے مالکوں تک پہنچائے، کسی کو زخم لگایا ہے تو اس کا دیہ ادا کرے، مالی نقصان کی تلافی کرے، پس حقیقی طور پر توبہ قبول ہونے کے لئے ضروری ہے کہ مذکورہ چیزوں پر عمل کرے۔

حقیقی توبہ کرنے والوں کے لئے الٰہی تحفہ :

معصوم علیہ السلام کا ارشادہے: خداوندعالم توبہ کرنے والوں کو تین خصلتیں عنایت فرماتا ہے کہ اگر ان میں سے ایک خصلت بھی تمام اہل زمین و آسمان کو مرحمت ہوجائے تو اسی خصلت کی بنا پر ان کو نجات مل جائے :

(..إِنَّ اﷲَ یُحِبُّ التَّوَّابِینَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِینَ) .(۱)

'' بے شک خدا توبہ کرنے والوں اور پاکیزہ رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے''۔

لہٰذا جس کو خداوندعالم دوست رکھتا ہے اس پر عذاب نہیں کرے گا۔

توبہ جیسے باعظمت مسئلہ کے سلسلہ میں قرآن کا نظریہ :

قرآن کریم میں لفظ ''توبہ'' اور اس کے دیگر مشتقات تقریباً ۸۷ مرتبہ ذکر ہوئے ہیں، جس سے اس مسئلہ کی اہمیت اور عظمت واضح جاتی ہے۔

قرآن کریم میں توبہ کے سلسلہ میں بیان ہونے والے مطالب کو پانچ حصوں میں تقسیم

کیا جاسکتا ہے: ۱۔توبہ کا حکم۔ ۲۔حقیقی توبہ کا راستہ۔ ۳۔توبہ کی قبولیت۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)سورۂ بقرہ آیت۲۲۲.

۱۹۵

۴۔توبہ سے روگردانی۔ ۵۔توبہ قبول نہ ہونے کے اسباب۔

۱۔توبہ کا حکم :

(...َتُوبُوا إلَی اﷲِ جَمِیعًا أیُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ) .(۱)

'' توبہ کرتے رہو کہ شاید اسی طرح تمہیں فلاح اور نجات حاصل ہو جائے''۔

(یا اَیُّهاَ الَّذینَ آمَنُوا تُوبُوا اِلَی اللّٰهِ تَوْبَةً نَصوحاً...) .(۲)

'' اے ایمان والو! خلوص دل کے ساتھ توبہ کر و...''۔

۔ ۲۔حقیقی توبہ کا راستہ :

حقیقت تو یہ ہے کہ ''توبہ'' ایک سادہ اور آسان کام نہیں ہے،بلکہ معنوی اور عملی شرائط

کے ساتھ ہی توبہ محقق ہوسکتی ہے۔

شرمندگی، آئندہ میں پاک و پاکیزہ رہنے کا مصمم ارادہ، برے اخلاق کو اچھے اخلاق و عادات میں بدلنا، اعمال کی اصلاح کرنا، گزشتہ اعمال کا جبران اور تلافی کرنااور خدا پر ایمان رکھنا اور اسی پر بھروسہ کرنا یہ تمام ایسے عناصر ہیں جن کے ذریعہ سے توبہ کی عمارت پایہ تکمیل تک پہنچتی ہے، اور انھیں کے ذریعہ استغفار ہوسکتا ہے۔

(یا اَیُّهاَ الَّذینَ آمَنُوا تُوبُوا اِلَی اللّٰهِ تَوْبَةً نَصوحاً...) .(۳)

'' اے ایمان والو! خلوص دل کے ساتھ توبہ کر و...''۔

اور سورہ مائدہ (آیت ۳۹)میں ارشاد ہوا:(فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأصْلَحَ فَإنَّ اﷲَ یَتُوبُ عَلَیْهِ إنَّ اﷲَ غَفُور رَحِیم).

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)سورۂ نور آیت۳۱ .(۲،۳)سورۂ تحریم آیت۸.

۱۹۶

پھر ظلم کے بعد جو شخص توبہ کر لے اور اپنی اصلاح کر لے ،تو خدا]بھی[ اس کی توبہ کو قبول کر لے گا اور اللہ بڑابخشنے والا اور مہربان ہے''۔

۳۔توبہ قبول ہونا :

جس وقت کوئی گناہگار توبہ کے سلسلہ کے خداوندعالم کی اطاعت کرتا ہے اور توبہ کے شرائط پر عمل کرتا ہے، اور توبہ کے سلسلہ میں قرآن کا تعلیم کردہ راستہ اپناتا ہے، توبے شک خدائے مہربان؛جس نے گناہگار کی توبہ قبول کرنے کا وعدہ فرماتا ہے، وہ ضرور اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے اور اس کے نامہ اعمال میں توبہ قبول ہونے کی نشانی قرار دے دیتا ہے اور اس کو گناہوں سے پاک کردیتا ہے، نیز اس کے باطن سے ظلمت و تاریکی کو

سفیدی اور نور میں تبدیل کردیتا ہے۔

(َلَمْ یَعْلَمُوا أنَّ اﷲَ هُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ ...) .(۱)

'' کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے...''۔

( وَهُوَ الَّذِی یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَیَعْفُو عَنْ السَّیِّئَاتِ...).(۲)

'' اور وہی وہ ہے جو اپنے بندوں کی توبہ کو قبول کرتا ہے اور ان کی برائیوں کو معاف کرتا ہے...''(غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ...). (۳)

'' وہ گناہوں کا بخشنے والا اور توبہ کا قبول کرنے والا ہے...''۔

۴۔توبہ سے منھ موڑنا :

اگر گناہگار خدا کی رحمت سے مایوس ہوکر توبہ نہ کرے تو اس کو جاننا چاہئے کہ رحمت خدا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)سورۂ توبہ آیت۱۰۴.(۲)سورۂ شوری آیت۲۵.(۳) سورۂ غافر]مومن[آیت۳.

۱۹۷

سے مایوسی صرف اور صرف کفار سے مخصوص ہے(۱)

اگر گناہگار انسان اس وجہ سے توبہ نہیں کرتا کہ خداوندعالم اس کے گناہوں کو بخشنے پر قدرت نہیں رکھتا، تو اس کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ تصور بھی یہودیوں کا ہے۔(۲)

اگر گناہگار انسان کا تکبر ، خدائے مہربان کے سامنے جرائت اور ربّ کریم کے سامنے بے ادبی کی بنا پر ہو تو اس کو جاننا چاہئے کہ خداوندعالم اس طرح کے مغرور ،گھمنڈی اور بے ادب لوگوں کو دوست نہیں رکھتا، اور جس شخص سے خدا محبت نہ کرتا ہوتو دنیا و آخرت میں ان کی نجات ممکن نہیں ہے۔

گناہگار کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ توبہ سے منھ موڑنا، جبکہ باب توبہ کھلا ہوا ہے اور لازمی

شرائط کے ساتھ توبہ کرنا ممکن ہے نیز یہ کہ خداوندعالم توبہ قبول کرنے والا ہے، لہٰذا ان تمام باتوں کے پیش نظر توبہ نہ کرنا اپنے اوپر اور آسمانی حقائق پر ظلم وستم ہے۔

(...ِ وَمَنْ لَمْ یَتُبْ فَاُوْلَئِکَ هُمْ الظَّالِمُونَ) .(۳)

'' اگر کوئی توبہ نہ کرے تو سمجھو کہ درحقیقت یہی لوگ ظالم ہیں ''.

۵۔توبہ قبول نہ ہونے کے اسباب :

اگر گناہگار انسان کو توبہ کرنے کی توفیق حاصل ہوجائے اور تمام تر لازمی شرائط کے ساتھ توبہ کرلے تو بے شک اس کی توبہ بارگاہ خداوندی میں قبول ہوتی ہے، لیکن اگر توبہ

کرنے کا موقع ہاتھ سے کھوبیٹھے اور اس کی موت آپہنچے اور پھر وہ اپنے گزشتہ گناہوں سے توبہ کرے یا ضروری شرائط کے ساتھ توبہ نہ کرے یا ایمان لانے کے بعد کافر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)سورۂ یوسف آیت۸۷. (۲) سورہ مائدہ آیت ۶۴ (۳) سورہ حجرات آیت ۱۱

۱۹۸

ہوجائے تو ایسے شخص کی توبہ ہرگز قبول نہیں ہوسکتی۔

( وَلَیْسَتْ التَّوْبَةُ لِلَّذِینَ یَعْمَلُونَ السَّیِّئَاتِ حَتَّی إذَا حَضَرَ أحَدَهُمْ الْمَوْتُ قَالَ إنِّی تُبْتُ الْآنَ وَلاَالَّذِینَ یَمُوتُونَ وَهُمْ کُفَّار اُوْلَئِکَ أعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا ألِیمًا) .(۱)

'' اور توبہ ان لوگوں کے لئے نہیں ہے جو پہلے برائیاں کرتے ہیں اور پھر جب موت سامنے آجاتی ہے توکہتے ہیں کہ اب ہم نے توبہ کرلی اور نہ ان کے لئے ہے جو حالت کفر میں مرجاتے ہیں کہ ان کے لئے ہم نے بڑا دردناک عذاب مہیا کر رکھا ہے ''.

توبہ ، احادیث کی روشنی میں :

حضرت امام باقر علیہ السلام کا ارشاد ہے: جناب آدم ]علیہ السلام[ نے خداوندعالم کی

بارگاہ میں عرض کی: پالنے والے مجھ پر ]اور میری اولادپر[شیطان کو مسلط ہے اور وہ خون کی طرح گردش کرتا ہے، پالنے والے اس کے مقابلہ میں میرے لئے کیا چیز مقرر فرمائی ہے؟

خطاب ہوا: اے آدم یہ حقیقت آدم کے لئے مقرر کی ہے کہ تمہاری اولاد میں کسی نے گناہ کا ارادہ کیا، تو اس کے نامہ اعمال میں نہیں لکھا جائے گا، اور اگر اس نے اپنے ارادہ کے مطابق گناہ بھی انجام دے لیا تو اس کے نامہ اعمال میں صرف ایک ہی گناہ لکھا جائے گا، لیکن اگر تمہاری اولاد میں سے کسی نے نیکی کا ارادہ کرلیا تو فوراً ہی اس کے نامہ

اعمال میں لکھا جائے گا، اور اگر اس نے اپنے ارادہ پر عمل بھی کیا تو اس نے نامہ اعمال

میں دس برابر نیکی لکھی جائیں گی؛ اس وقت جناب آدم ]علیہ السلام[ نے عرض کیا :

پالنے والے! اس میں اضافہ فرمادے؛ آواز قدرت آئی: اگر تمہاری اولاد میں کسی شخص

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)سورۂ نساء آیت۱۸.

۱۹۹

نے گناہ کیا لیکن اس کے بعد مجھ سے استغفار کر لیا تو میں اس کو بخش دوں گا؛ ایک بار پھر جناب آدم ]علیہ السلام[ نے عرض کیا: پالنے والے! مزید اضافہ فرما؛ خطاب ہوا: میںنے تمہاری اولادکے لئے توبہ کورکھا اور اس کے د روازہ کو وسیع کردیا کہ تمہاری اولاد موت کا پیغام آنے سے قبل توبہ کرسکتی ہے، اس وقت جناب آدم

] علیہ السلام[ نے عرض کیا: خداوندا! یہ میرے لئے کافی ہے۔(۱)

حضرت امام صادق علیہ السلام نے حضرت ، رسول اکرم (ص)سے روایت کی ہے: جو شخص اپنی موت سے ایک سال پہلے توبہ کرلے تو خداوندعالم اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے، اس کے بعد فرمایا: بے شک ایک سال زیادہ ہے، جو شخص اپنی موت سے ایک ماہ

قبل توبہ کرلے تو خداوندعالم اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے، اس کے بعد فرمایا: ایک مہینہ بھی زیادہ ہے، جو شخص ایک ہفتہ پہلے توبہ کرلے اس کی توبہ قابل قبول ہے، اس کے بعد فرمایا: ایک ہفتہ بھی زیاد ہے، اگر کسی شخص نے اپنی موت سے ایک دن پہلے توبہ کرلی تو خداوندعالم اس کی توبہ بھی قبول کرلیتا ہے، اس کے بعد فرمایا: ایک دن بھی زیادہ ہے اگر اس نے موت کے آثار دیکھنے سے پہلے توبہ کرلی تو خداوندعالم اس کی بھی توبہ قبول کرلیتا ہے۔(۲)

حضرت رسول خدا (ص) فرماتے ہیں :

'' اِنَّ اللّٰهَ یَقْبَلُ تَوْبَةَ عَبْدِهِ ما لَمْ یُغَرْغِرْ، تُوبُوا اِلٰی رَبِّکُمْ قَبْلَ اَنْ تَمُوتُوا،وَبادِرُوا

بِالاَعْمالِ الزّاکِیَةِ قَبْلَ اَنْ تُشْتَغِلُوا،وَ صِلُوا الَّذی بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَهُ بِکَثْرَةِ ذِکْرِ کُمْ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)کافی ج۲،ص۴۴۰،باب فیما اعطی اللہ عز وجل آدم(ع) ،حدیث۱؛بحار الانوار ج۶،ص۱۸،باب ۲۰،حدیث۲. (۲)بحار الانوارج۶،ص۱۹،باب ۲۰،حدیث۴

۲۰۰

201

202

203

204