معارف اسلامی کورس (عقائد، احکام،اخلاق ) جلد ۲

معارف اسلامی کورس (عقائد، احکام،اخلاق )18%

معارف اسلامی کورس (عقائد، احکام،اخلاق ) مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 204

جلد ۱ جلد ۲
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 204 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 33174 / ڈاؤنلوڈ: 3139
سائز سائز سائز

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم پیغمبر اور آئمہ جیسے خدا کے صالح بندوں کی روح

پاک سے مدد مانگتے ہیں جو قرآنی آیات کی تصریح کے مطابق زندہ اور شہداء سے زیادہ بلند مقام و منزلت رکھتے ہیں اور عالم برزخ میں اپنی زندگی گزار رہے ہیں ۔ اور اگر ان کی قبر کے پاس کھڑے ہوکر درخواست کرتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح ان ارواح مقدسہ سے زیادہ ارتباط پیدا ہوتا ہے اور زیادہ نزدیکی کا احساس ہوتا ہے اس کے علاوہ روایتوں سے یہ بات ثابت ہے کہ یہ مقامات وہ ہیں جہاں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔دوسری بات یہ ہے کہ ان کے زندہ اورمردہ ہونے کو شرک اور توحید کا ملاک قرار نہیں دیا جاسکتا ۔

سوالات

۱۔کیا غیر خدا کو پکارنا شرک ہے؟اس سوال کے اٹھنے کا سبب کیا ہے ؟

۲۔ سورہ مبارکہ جن، کی آیت نمبر ۱۸ اور سورہ مبارکہ یونس، کی آیت نمبر ۱۰۶ کن کے بارے میں ہے اور ان آیتوں میںدعوت سے مراد کیا ہے ؟

۳۔ہم اولیا ء خدا کی قبر وں کے پاس کھڑے ہوکر درخواست اور دعا کیوں کرتے ہیں؟

۲۱

درس نمبر ۳ ( غیرخدا سے مدد مانگنا کیسا ہے؟ )

قرآن میں ارشاد رب العزت ہے :(وَمَا النصر الأمن عند اللّٰه العزیز الحکیم) (۱) ''نصرت و مدد صر ف خدا کی طرف سے ہے جو عزیز و حکیم ہے۔ ''

تو اب ایسی صورت میں کیا خدا کے علاوہ کسی اور سے مدد مانگنا شرک نہیں ہے ؟ مندرجہ بالا سوال کے جواب کے لیے چند باتوں پر غور کرنا ضروری ہے ۔ غیر خدا سے مدد مانگنے کی دو صورتیں ہیں۔

۱۔ پہلی صورت یہ ہے کہ ہم انسان یا کسی بھی مخلوق سے اس تصور کے ساتھ مدد مانگیں کہ وہ شی وجود کے اعتبار سے یا مدد کرنے میں مستقل حیثیت رکھتی ہے اور خدا سے بے نیاز ہے۔

تو ظاہر ہے کہ اس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ ایسی صورت میں غیر خدا سے مدد مانگنا شرک محض ہے۔ قرآن کریم نے اس عقیدہ کی کمزوری کو واضح طور پر بیان کیا۔

( قُلْ مَنْ ذاالذی یَعْصِمکم من اللّٰه ان اراد بکم سُوء ال و اراد ربکم رحمة وَلَا یجدونَ لَهُمْ من دونِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَلَا نصِیْرًا ) (۲)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ سورہ مبارکہ آل عمران، آیت نمبر ۱۲۶ (۲)۔ سورہ مبارکہ احزاب، آیت نمبر ۱۷

۲۲

'' آپ کہہ دیجئے کہ اگر خدا تمہارے بارے میں عذاب کا ارادہ کرے تو اس سے تم کو کون بچاسکتا ہے۔ یا اگر رحمت کا ارادہ کرے تو (اسے کون روک سکتا ہے) اوریہ لوگ

اپنے لئے خدا کے سوا نہ ولی پائیں گے نہ مددگار۔ ''

۲۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جب ہم کسی انسان سے مدد مانگیں تو اُسے خدا کی مخلوق، اور محتاج سمجھیں اور اُسے بذات خود مستقل نہ جانیں اور یہ سمجھیں کے اس کے اندر مدد کرنے کی جو طاقت ہے وہ خدا نے اُسے بعض بندوں کی مشکلات کو حل کرنے کے لیے عطا کی ہے۔

اگر اس تصور کی بنیاد پر ہم کسی سے مدد مانگیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہمارے اور خدا کے درمیان ایک واسطہ ہے جسے خداوند متعال نے بعض حاجتیں پوری کرنے کے لیے ''وسیلہ'' بنایا ہے۔ اس طرح مدد مانگنا درحقیقت خدا ہی سے امداد حاصل کرنے کی خواہش ہے کیونکہ اسی نے ان وسایل و اسباب کو پیدا کیا ہے اور ان کو دوسروں کی حاجتیں پوری کرنے کی صلاحیت عطا کی ہے۔ اصولی طور پر دیکھا جائے تو انسانوں کی زندگی اسباب و مُسبّباب کی بنیاد پر قائم ہے۔ اگر ان چیزوں سے مدد نہ لی جائے تو زندگی اجیرن ہوجائے۔ اب اگر ان چیزوں سے مدد لیتے وقت یہ تصور رہے کہ یہ سب خدا کی مدد کو پہنچانے کا ذریعہ اور وسیلہ ہیں ان کا وجود اور ان کے اندر مدد کرنے کی قوت و صلاحیت خدا ہی کی عطا کردہ ہے۔ تو اس طرح مدد مانگنا توحید اور یکتا پرستی کے منافی نہیں ہے۔

اگر ایک موّحِد اور خدا شناس کسان زمین ، پانی ، ہوا اور سورج سے مدد لیتے ہوئے دانہ اُگا کر غلّہ حاصل کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حقیقتاً خدا ہی سے مدد

۲۳

لے رہا ہے کیونکہ خدا ہی نے ان چیزوں کو یہ طاقت و صلاحیت عطا کی ہے۔

اور یہ بات واضح ہے کہ یہ مدد مانگنا روح توحید اور یکتا پرستی کے عین مطابق ہے بلکہ قرآن ہمیں ایسی چیزوں (جیسے نماز اور صبر) سے مدد طلب کرنے کا حکم دیتا ہے۔

( واستعینوا بِالصَّبر وَالصَّلوٰة) (۱) ''صبر اور نماز سے مدد طلب کرو۔ ''

واضح سی بات ہے کہ صبر و استقامت انسان کا کام ہے اور ہمیں ایسے کاموں سے مدد طلب کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس کے باوجود یہ استمداد، ''ایاک نستعین'' کے منافی نہیں ہے۔

سوالات

۱۔غیر خدا سے مدد مانگنے کی کتنی صورتیں ہیںاور کونسی صورت صحیح ہے ؟ ۔

۲۔ کیا سورہ مبارکہ آل عمران کی آیت نمبر ۱۲۶ غیر خدا سے مدد مانگنے کے منافی نہیں ؟

۳۔جب ہم کسی انسان سے مدد مانگیںاور اُسے بذات خود مستقل نہ جانیں تو اس کا کیا مطلب ہے ؟

۴۔کیا قرآن میں ہمیں خدا کے علاوہ کسی دوسری چیز سے مدد طلب کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ سورہ مبارکہ بقرہ، آیت نمبر ۴۵

۲۴

درس نمبر۴ ( بدأ )

'' بدا'' کیا چیز ہے اورکیا یہ علم خدا میں تبدیلی کا سبب نہیں بنتا؟

جواب: عربی زبان میں لفظ بدا کے معنی ظاہر و آشکار ہونے کے ہیں اور شیعہ علماء کی اصلاح میں ایک انسان کی طبیعی سرنوشت کے رخ کا اس کے صالح اور نیک عمل کی بنا پر بدل جانا ''بدا'' کہلاتا ہے ۔ مسئلہ بدا شیعہ مذہب کا ایک بڑا اور عظیم مسئلہ ہے۔ جو منطقِ وحی اور عقل کی استوارہے۔

قرآن کی نظر میں انسان ہمیشہ اپنی سرنوشت اور تقدیر کے سامنے دست بستہ اور مجبور نہیں ہے ۔ بلکہ اس کے لیے سعادت کا راستہ کھلا ہوا ہے وہ راہ حق پر چل کر اپنے اچھے عمل سے اپنی زندگی کو سنوار سکتا ہے قرآن نے اس حقیقت کو ایک عام اور دائمی قانون کے طور پر اس طرح بیان کرتا ہے ۔

( انّ اللّٰه لا یغیّر مَا بقومٍ حتّٰی یُغَیِّرُ مَا بِأنْفُسِهِمْ) (۱)

'' خداوند عالم کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔ '' دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے۔(ولو أنّ اهل القُریٰ آمنوا وَ اتَّقُوا لَفَتَحْنٰا عَلَیْهم بَرَکاتٍ مِن السَّمٰاء إوالارض) (۲)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ سورہ مبارکہ رعد، آیت نمبر ۱۱ (۲)۔ سورہ مبارکہ اعراف، آیت نمبر ۹۶

۲۵

اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لاتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔

حضرت یونس کے سر نوشت کے بدل جانے کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے :

( فَلَو لَا أَنَّه کَانَ مِنَ المُسَبِّحِیْنَ لَلَبِثَ فِی بَطْنِهِ اِلٰی یَوْمِ یبعثون)'' (۱)

'' اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو قیامت تک اس (مچھلی) کے پیٹ ہی میں رہتے''۔

آخری آیت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ظاہری حالات کی بنا پر حضرت یونس کو قیامت تک مچھلی کے پیٹ ہی میں رہنا چاہیے تھا مگر ان کے نیک عمل نے (یعنی تسبیح نے) ان کی سرنوشت کا رخ موڑ دیا اور مچھلی کے پیٹ سے نجات مل گئی۔

اسلامی روایتوں میں بھی اس حقیقت کو قبول کیا گیا ہے پیغمبر اسلام(ص) نے فرمایا :

( أنّ الرجل لیحرم الرّزق بالذنب یصیبه وَلا یردّ القدر اِلّا الدُعٰاء وَلَا یزید فی العمر اِلّا البِرّ) (۲)

گناہ کے سبب انسان اپنے رزق سے محروم ہوجاتا ہے اور دعا کے علاوہ اس کی تقدیر کو بدلنے والی اور کوئی چیز نہیں ہے اور نیکی کے علاوہ اور کوئی چیز انسان کی عمر میں اضافہ نہیں کرسکتی۔

اس روایت اور ایسی ہی دوسری روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ گناہ اور عصیان کی بنا پر انسان روزی سے محروم کردیا جاتا ہے لیکن دعا کے ذریعہ وہ اپنی تقدیر بدل سکتا ہے اور نیکی کے ذریعہ اپنی عمر میں اضافہ کرسکتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ سورہ مبارکہ صافات، آیت نمبر ۱۴۳۔ ۱۴۴ (۲)۔ مسند احمد ج۵، ص ۲۷۷،

۲۶

نتیجہ :

قرآن و احادیث کی روشنی میں انسان طبیعی اسباب و مسبّبات کی بنا پر عام حالات کے تحت اپنے کاموں کے ردّ عمل میں کسی خاص مصیبت میں گرفتار ہوسکتا ہے اور کبھی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اولیاء خدا جیسے پیغمبر اور امام کسی کو یہ خبر دیں کہ اگر تمہاری یہی رفتار رہی تو اس کا انجام ایسا ہوگا، لیکن اچانک کسی بات کی بنا پر وہ رفتار بدل جائے اور جو نتیجہ بتایا گیا تھا اس سے الگ ہٹ کر کوئی دوسرا نتیجہ سامنے آئے۔

منطق ِ وحی، سنت پیغمبر اور عقل سلیم سے حاصل شدہ اس حقیقت کو شیعہ علماء کی اصطلاح میں ''بدائ'' کہا جاتا ہے۔

اور مناسب ہے کہ یہ بات بھی واضح کردی جائے کہ لفظ ''بدائ'' کی تعبیر محض شیعوں سے مخصوص نہیں ہے بلکہ اہل سنت کی تحریروں اور پیغمبر اسلام (ص) کی احادیث میں بھی یہ تعبیر دیکھی جاسکتی ہے مثال کے طور پر پیغمبر کی مندرجہ ذیل حدیث میں لفظ ''بدا'' استعمال ہوا ہے۔

( بَدَاء اللّٰهُ عَزَّوجل أنْ یبتلِیهِمْ ) (۱)

اس بات کا تذکرہ کردینا بھی ضروری ہے کہ علم خدا میں تبدیلی کا نام بداء نہیں ہے کیوں کہ خداوند عالم ابتداء ہی سے انسان کی طبیعی رفتار سے واقف ہے اور وہ تبدیلی لانے والے اسباب و عوامل کا جو'' بدائ''کا موجب بنتے ہیں شروع ہی سے جاننے والا ہے۔ وہ خود قرآن میں ارشاد فرماتا ہے: (یمحوا اللّٰه مَا یشاء و یثبت و عندهأمّ الکتاب''(۲)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱) النھایہ فی غریب الحدیث : مجد الدین مبارک ج۱، ص ۱۰۹(۲) سورہ مبارکہ رعد، آیت نمبر ۳۹

۲۷

'' خدا جو چاہتا ہے ثبت کردیتا ہے اور جو چاہتا ہے مٹادیتا ہے اس کے پاس ام الکتاب (لوح محفوظ) ہے۔ ''

اسی بنا پر خداوند عالم بداء کے موقع پر ہماے سامنے اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے جو اس کو ازل ہی سے معلوم تھی ۔ لہٰذا مام جعفر صادق ارشاد فرماتے ہیں۔

'' مَا بَد اللّٰه فی شیٔ اِلّا کانَ فی علمه قبل أنْ یبدوله'' (۱)

'' کسی بھی موقع پر اللہ کے لیے بداء واقع نہیں ہوا مگر یہ کہ اس کو ازل ہی سے اس بات کا علم تھا۔ ''

فلسفہ بدا :

اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر انسان یہ جانتا ہو کہ وہ اپنی تقدیر کو بدل سکتا ہے اور اس سلسلے میں مجبور نہیں ہے۔ تو وہ اپنے بہتر مستقبل کے لیے عزم و ہمت اور حوصلہ کے ساتھ مکمل جدوجہد کریگا۔

دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ جس طرح توبہ اور شفاعت کا عقیدہ انسان کو یاس و ناامیدی اور سردمہری سے نجات دیتا ہے اسی طرح بداء کا عقیدہ بھی اس کے نشاط اور شادابی کا باعث بنتا ہے۔ مستقبل کی امیدیں بندھاتا ہے کیوں کہ اس عقیدہ کی روشنی میں انسان جانتا ہے کہ وہ خدا کے حکم سے اپنی تقدیر کو بدل سکتا ہے اور اپنے اچھے مستقبل اور بہتر نتائج کی طرف قدم بڑھا سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)اصول کافی، ج۱، کتاب توحید باب بدائ، حدیث۹

۲۸

سوالات

۱۔بداء کے لغوی اور اصطلاحی معنی ٰبیان کیجئے ؟

۲۔کیا''بدائ'' کا عقیدہ خدا کے عدم علم پر دلالت نہیں کرتا ؟ وضاحت کیجئے ؟

۳۔بدا ے کے بارے میں قرآن کریم کی کوئی دو آیاتیں پیش کیجئے ؟

۴۔حضرت ا مام جعفر صادق نے بداء کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا ؟

۵۔ ''بدائ'' کا فلسفہ بیان کیجئے ؟

۲۹

درس نمبر ۵ ( توسل )

قربِ الٰہی حاصل کرنے کے لیے گراں مایہ موجود کو اپنے اور خدا کے درمیان وسیلہ قرار دینے کو ''توسل'' کہا جاتا ہے۔

قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے :

( یَا أَیُّهَا الَّذِیْنَ آمَنُوا اتّقُوا للّٰه وَ ابْتَغُوا اِلَیْهِ الوسیله وَ جَاهِدُوا فی سبیل اللّٰهِ لعلّکم تفلِحُون) (۱)

اے اللہ پر ایمان لانے والو! تقویٰ اختیار کرو اور خدا تک پہنچنے کے لیے وسیلہ تلاش کرو اور اس کے راستہ میں جہاد کرو تاکہ تم فلاح پاجائو۔

جوہری اپنی کتاب ''صحاح اللغة'' میں وسیلہ کی اس طرح تعریف کرتے ہیں :

( الوسیلةُ مَا یتقربّ بِه الی الغیر )

'' وسیلہ اُسے کہتے ہیں جس کے ذریعہ دوسرے کا تقرب حاصل کیا جائے''۔

لہٰذا جن قابل قدر چیزوں کے ذریعہ خدا تک پہنچا جاتا ہے کبھی وہ ہمارے نیک اعمال اور مخلصانہ عبادت ہوتی ہے کہ جو ایک مضبوط وسیلہ کے طور پر ہمیں خداوند عالم سے نزدیک کرتی ہے اور کبھی وہ خداکے نزدیک ایک صاحب عزت انسان ہوتا جو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ سورہ مائدہ، ۳۴۔

۳۰

بارگاہِ خداوندی میں بلند مقام و منز لت رکھتا ہے۔

اقسام توسل :

توسل کی تین قسمیں ہیں۔

۱۔ اعمال صالحہ سے توسل۔ جیسا کہ جلال الدین سیوطی آیہ (و ابتغوا الَیہ الوسیلہ) کے ذیل میں''قتاد ہ ''سے روایت کرتے ہیںکہ۔ تم اطاعت خدا اور عمل صالحہ کے ذریعہ خدا کے نزدیک ہوجائو۔(۱)

۲۔ نیک اور صالح بندوں کی دعا سے توسل، جیسا کہ قرآن مجید نے جناب یوسف ـ کے بھائیوں کی زبانی نقل کیا ہے۔

( قَالُوا یَاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَاإ نَّا کُنَّا خَاطِئِینَ قَالَ سَوْفَ أسْتَغْفِرُ لَکُمْ رَبِّیإ نَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیم) (۲)

فرزندان یعقوب نے جناب یعقوب سے کہا: اے بابا جان آپ خدا سے ہمارے گناہوں کی بخشش کی دعا کریں ہم سے خطا ہوگئی یعقوب نے کہا میں جلد ہی اپنے پروردگار سے تمہاری بخشش کی دعا کروں گا۔ وہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔

مذکورہ آیت سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت یعقوب ـ کے بیٹوں نے جناب یعقوبـ کی دعا و استغفار سے توسل کیا۔ اور اسے اپنی مغفرت کا وسیلہ بنایا اور جناب یعقوب ـ نے بھی نہ صرف یہ کہ ان کے توسل پر اعتراض نہیں کیا بلکہ ان کے لیے دعا اور استغفار کا وعدہ کیا۔

۳۔ قرب الٰہی حاصل کرنے کے لیے ان افراد سے توسل کرنا جو خدا کے نزدیک

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ الدر المنثور، ج۲، ص ۲۸۰۔ (۲)۔ سورہ یوسف، آیہ ۹۸، ۹۷۔

۳۱

عزت و وقار اور ایک خاص مقام و منزلت رکھتے ہیں صدر اسلام میں بھی اس طرح کا

توسل مورد قبول تھا اور صحابہ اس پر عمل کرتے تھے۔

اس جگہ پر احادیث، صحابہ اور اکابرین اسلام کی سیرت کی روشنی میں اس مسئلہ کی دلیلیں پیش کر رہے ہیں :

۱۔ '' ایک نابینا شخص نے پیغمبر اسلام (ص) کے پاس آکر کہا کہ آپ(ص) خدا سے ہمارے لیے عافیت کی دعا کریں آپ(ص) نے فرمایا: اگر تم کہو تو میں دعا کردوں اور اگر تاخیر چاہتے ہو تو میں تاخیر کروں، کہ یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔نابینا نے عرض کی: آپ(ص) دعا فرما دیں۔ آنحضرت نے اُسے وضو کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اچھی طرح وضو کرکے دو رکعت نماز پڑھو اور اس طرح دعا کرو۔ پروردگارا میں تجھ سے نبی رحمت محمد (ص) کے وسیلہ سے درخواست کرتا ہوں اور ان کے وسیلہ سے تیری بارگاہ میں حاضر ہوتا ہوں۔ اے اللہ کے رسول (محمد (ص)) میں آپ کے وسیلہ سے اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہو رہا ہوں تاکہ وہ میری حاجت فرمائے۔ اور آپ(ص) کو میرا شفیع قرار دے۔(۱)

اس حدیث کی صحت پر محدثین کا اتفاق ہے۔ حاکم نیشاپوری نے مستدرک میں اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ ابن ماجہ نے بھی ابواسحاق سے نقل کیا ہے کہ یہ روایت صحیح ہے۔ ترمذی نے کتاب ''ابواب الادعیہ'' میں اس روایت کی صحت کی تائید کی ہے۔ محمد نسیب الرفاعی ''التوسل الی حقیقة التوسل '' میں نقل فرماتے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱) مُسند احمد بن حنبل، ج۴، ص ۱۳۸۔ مستدرک حاکم، ج۱، ص ۳۱۳۔ سنن ابن ماجہ، ج۱، ص ۴۴۱۔ التاج، ج۱، ص ۲۸۶۔ الجامع الصغیر، سیوطی، ص ۵۹۔ التوسل والوسیلہ (ابن تیمیہ) ص ۹۸۔

۳۲

ہیں: اس حدیث کے صحیح ہونے میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ یقینا

روایت سے یہ بات ثابت ہے کہ رسولِ خدا کی دعا سے ایک نابینا شخص بینا ہوگیا۔(۱)

اس روایت سے یہ بات بخوبی واضح ہوگئی کہ حاجت پوری کرنے کے لیے پیغمبر اسلام (ص) سے توسل کرنا جائز ہے بلکہ پیغمبر اسلام (ص) نے تو اس نابینا کو حکم دیا کہ تم اپنے اور خدا کے درمیان اپنے پیغمبر کو وسیلہ قرار دے کر اس سے دعا کرو۔ اسی چیز کا نام اولیاء خدا سے توسل ہے۔

۲۔ ابو عبد اللہ بخاری اپنی صحیح میںلکھتے ہیں۔

قحط کے زمانے میں عمر بن خطاب پیغمبر کے چچا جناب عباس بن عبد المطلب کے وسیلہ سے طلب باراں کرتے تھے، اور کہتے تھے بار الٰہا، پیغمبر کی حیات میں تو ہم اُن کا وسیلہ ڈھونڈتے تھے اورہم پر بارانِ رحمت نازل ہوتی تھی اب ہم تیرے نبی کے چچا سے متوسل ہوتے ہیں تاکہ تو ہم کو سیراب کردے۔ اور اس طرح لوگ سیراب ہوجایا کرتے تھے۔(۲)

۳۔توسل کے حوالے سے ''امام شافعی '' کے دو بیت ملاحظہ فرمائیں :

اَلُ النبی ذریعتی هم الیه وسیلتی

ارجوبهم اعطی غداً بیدی الیمین صحیفتی(۳)

پیغمبر اسلام (ص) کی ذریت میرے لیے خدا تک پہنچنے کا وسیلہ ہے اور مجھے اُمید ہے کہ ان کی وجہ سے میرا نامہ اعمال میرے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ التوصل الی حقیقة التوسل، ص ۱۵۸۔ (۲)۔ صحیح بخاری، جزء ۳، کتاب الجمعہ، باب الاستسقائ، ص ۶۷۔ (۲)۔ الصواعق المحرقہ (ابن حجر عسقلانی) ص ۱۷۸۔

۳۳

اولیائے خدا سے توسل کے جواز کے سلسلہ میں روایتیں تو بہت ہیں لیکن ہم نے یہاں

جن روایتوں کو بیان کیا ہے اُن سے سنت پیغمبر، روش صحابہ اور عظیم علماء اسلام کی سیرت کا اندازہ ہوجاتا ہے پھر اس کے بعد اب کلام کو زیادہ طول دینے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی ہے۔

اس بناء پر ان افراد کے اقوال کا بے بنیاد ہونا اچھی طرح ثابت ہوجاتا ہے جو وسیلہ کو شرک اور بدعت سمجھتے ہیں۔

سوالات

۱۔ توسل کے کیا معنی ہیں ؟

۲۔توسل کی اقسام بیان کیجئے ؟

۳۔توسل کے سلسلے میں کتاب ''صحیح بخاری '' کی روایت بیان کیجئے ؟

۴۔توسل سے متعلق ''جناب شافعی '' کا شعر نقل کیجئے ؟

۳۴

درس نمبر ۶ ( اولیائے خدا کی ولادت کے دن جشن منانا )

اولیائے خدا کی یاد تازہ کرنا اور ان کی ولادت کے دن جشن میلاد منانا یہ وہ مسئلہ ہے جو صاحبان عقل اور اہل خرد کے نزدیک بہت ہی واضح ہے لیکن ہر طرح کے شبہات کی بیخ کنی کے لیے اس کے جواز کی دلیلوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

۱۔ یاد گار منانا اظہار محبت کا طریقہ ہے۔

قرآن نے مسلمانوں کو پیغمبر اسلام (ص) اور اہل بیت ٪ سے مودت کی دعوت دی ہے۔

(قُلْ لاأسْألُکُمْ عَلَیْهِ أجْرًا إلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبَی) (۱)

اے میرے نبی (ص) آپ ان سے کہہ دیں کہ سوائے اپنے اقرباء کی محبت کے اجر ِ رسالت میں تم سے اور کچھ نہیں مانگتا۔

یقینا اولیاء خدا کی یادگار منانا اُن سے عشق و محبت کی علامت ہے جسے قرآن نے بھی قبول کیا ہے۔

۲۔ یادگار منانا پیغمبر اسلام (ص) کی تعظیم ہے۔

( فَالَّذِینَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِی ُنزِلَ مَعَهُ ُوْلَئِکَ هُمْ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ سورہ شوریٰ، ۲۳۔

۳۵

الْمُفْلِحُونَ ) (۱)

جو لوگ پیغمبر پر ایمان لائے، آپ کی عزت اور مدد کی اور اس نور کی پیروی کی جو

آپ کے ساتھ نازل ہوا ہے۔ تو یہی لوگ نجات پانے والے اور کامیاب ہیں۔

مذکورہ آیت سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) کی تعظیم و تکریم خدا کی نظر میںایک مطلوب اور پسندیدہ أمر ہے۔ اور ایسے مراسم منعقد کرنا جو پیغمبر اسلام (ص) کی یاد دلائیں اور آپ کے عظیم الشان مقام کو بیان کریں خدا کی خوشنودی اور رضا کا باعث ہیں کیوں کہ اس آیت میں نجات پانے والوں کی چار صفتیں بیان کی گئی ہیں۔

الف۔ الذین آمنو: جو لوگ آنحضرت پر ایمان لائے۔

ب۔ و اتّبعوا النّور الذی انزل معہ: اس نور کی پیروی جو آپ کے ساتھ نازل ہوا۔

ج۔ ونصروہ: آنحضرت (ص) کی نصرت۔

د۔ و عزّروہ: آنحضرت کی تعظیم و تکریم۔

اس بنا پر ایمان، نصرت، احکام کی پیروی کے علاوہ آپ کی تعظیم و تکریم بھی ضروی ہے۔ آپ کی یادگار منانا ''عزروہ'' کے حکم کی بجا آوری ہے۔

۳۔ یادگار منانا خدا کی تأسی اورپیروی ہے۔

خداوند عالم نے قرآن مجید میں پیغمبر اسلام (ص) کی تعظیم و تکریم کرتے ہوئے فرمایا:(وَ رَفَعْنٰا لَکَ ذِکْرَکَ) (۲) ''اور ہم نے آپ کے ذکر کو بلند کیا۔ ''

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱) سورہ مبارکہ اعراف۱۵۷ (۲)۔ سورہ مبارکہ انشراح، آیت ۴۔

۳۶

اس آیت کی روشنی میں یہ پتہ چلتا ہے کہ خداوند عالم پیغمبر اسلام (ص) کی عظمت و

جلالت کو پوری دنیا میں پھیلانا چاہتا ہے کہ وہ خود بھی قرآن کی بہت سی آیتوں میں آپ

کی شان و شوکت کو بیان کرتا ہے۔

ہم بھی آسمانی کتاب کی پیروی کرتے ہوئے اس اسوہ کمال و فضیلت کی یاد منا کے ان کی تعظیم و تکریم کرتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ ہم وہی کام کر رہے ہیں جو پروردگار عالم بھی کرتا ہے۔

اور یہ بات بہت واضح سی ہے کہ آپ کی یادگار منانے کے سلسلے میں مسلمانوں کا اور کوئی مقصد نہیں ہے۔ بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ آپ کا نام بلند ہو۔

۴۔ نزولِ وحی کا مرتبہ نزولِ مائدہ سے کم نہیں۔

قرآن مجید حضرت عیسیٰ ـ کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کی اس طرح حکایت کرتا ہے۔

(قَالَ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰهُمّ رَبَّنَا أنزِلْ عَلَیْنَا مَائِدَةً مِنْ السَّمَائِ تَکُونُ لَنَا عِیدًا لِأوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآیَةً مِنْکَ وَارْزُقْنَا وأنْتَ خَیرُ الرَّازِقِینَ ) (۱)

عیسیٰ بن مریم ـ نے کہا: اے پالنے والے ہمارے اوپر آسمان سے ایک خوان نازل فرما تاکہ وہ دن ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لیے نیز ہمارے حق میں بھی عید قرار پائے۔ اور تیری طرف سے ایک بڑی نشانی ہو تو ہمیں روزی دے اور تو سب روزی دینے والوں سے بہتر ہے۔

حضرت عیسیٰ ـ خوان نازل کرنے کی درخواست کرتے ہیں تاکہ لوگ اس دن

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔سورہ مائدہ، آیت ۱۱۴۔

۳۷

عید منائیں۔

اگر ایک نبی اس خوان کے نازل ہونے پر عید مناسکتا ہے جو انسان کی جسمانی لذت

کا باعث ہے تو اب اگر مسلمان وحی کے نازل ہونے یا پیغمبر اسلام (ص) کی ولادت کے دن عید منائیں تو شرک و بدعت کیسے ہے؟ یہ دن تو وہ دن ہے کہ جب انسانوں کو نجات دینے والے اور بشریت کے لیے سرمایہ حیات نے اس دنیا میں قدم رکھا۔

مسلمانوں کی سیرت :

اہل اسلام کا شروع ہی یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ پیغمبر اسلام (ص) کی تعظیم و تکریم کی خاطر آپ(ص) کی یاد مناتے رہے ہیں۔

حسین بن محمد یار بکری ''تاریخ الخمیس'' میں لکھتے ہیں :

مسلمان ہمیشہ پیغمبر اسلام (ص) کی ولادت کے مہینے میں جشن مناتے ہیں۔ ولیمہ کرتے ہیں اس مہینے کی راتوں میں صدقہ دیتے ہیں خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہیں طرح طرح کی نیکیاں کرتے ہیں۔ نعتیں پڑھتے ہیں او اس کی عام رحمتیں اور برکتیں سب پر ظاہر ہوتی ہیں۔(۱)

اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اولیائے خدا کی یادگار منانا قرآن مجید کے بیان اور مسلمانوں کی سیرت کے مطابق جائز ہے لہٰذا جو لوگ اس کو بدعت کہتے ہیں ان کے بے بنیاد کلام کی حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ کیونکہ بدعت وہ چیزیں ہیں جن کا قرآن و سنت سے کلی یا خصوصی جواز ثابت نہ ہو۔ جبکہ مذکورہ مسلہ کا کلی حکم ہمیں قرآن

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ تاریخ الخمیس، حسین بن محمد بن حسن دیار بکری، ج۱، ص ۲۲۳۔

۳۸

اور مسلمانوں کی سیرت سے ملتا ہے۔

ان یادگاروں کے قیام کا مقصد خدا کے نیک اور شائستہ بندوں کا احترام ہے ۔پھر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی عقیدہ ہوتا ہے کہ یہ اللہ کے بندے اور اس کے محتاج ہیں۔

اس وجہ سے اس طرح کی یادگاریں توحید اور یکتا پرستی کی مخالف نہیں لہٰذا جو لوگ اولیائے خدا کی یاد منانے کو شرک کہتے ہیں ان کی یہ بات بے بنیاد ہے۔

سوالات

۱۔ولادت کے دن جشن منانا کس چیز پر دلالت کرتا ہے ؟

۲۔کیا ولادت کے دن جشن مناناکاجواز کلی طور پر قرآن سے ثابت ہے ؟

۳۔ولادت کے دن جشن وغیرہ مناننے کے سلسلے میں مسلمانوں کی کیا سیرت رہی ہے ؟

۳۹

درس نمبر ۷ ( عدم تحریف قرآن )

شیعہ علماء کے درمیان یہ بات مشہور ہے کہ قرآن مجید میں کسی قسم کی تحریف نہیں ہوئی ہے۔ اور موجودہ قرآن وہی آسمانی کتاب ہے جو پیغمبر اسلام(ص) پر نازل ہوئی تھی اس میں نہ کوئی کمی ہوئی ہے اور نہ ہی زیادتی اس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے ہم یہاں چند دلیلیں پیش کررہے ہیں :

۱۔ پروردگار عالم نے مسلمانوں کی اس آسمانی کتاب کے تحفظ کی ذمہ داری لی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے(إنا نحن نزّلنا الذکر واِنّا له لحافظون) (۱)

ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ واضح سی بات ہے کہ ساری دنیا کے شیعہ کیوں کہ قرآن کو اپنی فکر اور اپنے عمل کا محور قرار دیتے ہیں لہٰذا اس آیت کے پیغام کی بنا پرقرآن کے محفوظ ہونے پر ایمان رکھتے ہیں۔

۲۔ شیعوں کے پہلے امام حضرت علی ہمیشہ پیغمبر اسلام(ص) کے ساتھ رہتے اور آپ ہی سب سے پہلے کاتب وحی تھے۔ آپ نے مختلف مواقع پر لوگوں کو قرآن کی طرف بلایاایک مقام پر آپ ارشاد فرماتے ہیں : (ثُمّ انزل علیه الکتاب نورًا لَآتطغاً مصابیحه، و سراجاً لا یخبوا توقده، و منهاجاً لا یضلّ نهجه---- و فرقاناً لا یخمدبرهانه) (۲)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱) سورہ مبارکہ حجر آیت نمبر ۹ (۲)۔ نہج البلاغہ (صبحی صالحی) خطبہ ۱۹۸

۴۰

پھر خدا نے ایسی کتاب بھیجی جو نہ بجھنے والا نور اور چراغ ہے ایسا راستہ ہے جو اپنے رہروں کو گمراہ نہیں کرتا اور حق و باطل کو جدا کرنے والی ایسی چیز ہے جس کی دلیلیں کمزور نہیں پڑتیں۔

شیعوں کے امام عالی مقام کے قول سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن ایسا چراغ ہے جو ابد تک جلتا رہے گا اور اپنے پیروکاروں کو اندھیرے میں راستہ دکھاتا رہے گا اور اس میں ایسی کوئی تبدیلی نہیں آسکتی کہ جس کی بنا پر یہ چراغ گل ہوجائے۔ اور اس کے پیروکار راستہ سے بھٹک جائیں۔

3۔ شیعہ علماء کا اتفاق ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا :

'' میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں۔ ایک قرآن اور دوسرے اہل بیت ہیں۔ میری عترت ہے۔ جب تک ان سے متمسک رہو گے گمراہ نہیں ہوگے۔ ''

یہ حدیث اسلام کی ان متواتر احادیث میں سے ہے جسے شیعہ سنی دونوں نے نقل کیا ہے اس حدیث کی روشنی میں بھی اس بات کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ شیعوں کی نظر میں قرآن میں کسی قسم کی تبدیلی واقع نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ اگر قرآن میں تحریف ہوجائے تو اس سے تمسک ہدایت کے بجائے گمراہی کا باعث ہوگا ۔ جبکہ حدیث متواتر یہ کہتی ہے کہ اس سے تمسک کرنے والا کبھی گمراہ نہیں ہوگا۔

4۔ شیعوں کے آئمہ سے نقل شدہ روایتوں میں۔ جنہیں علماء اور فقہاء نے نقل کیا ہے اس بات کی تصریح موجود ہے کہ حق و باطل، صحیح اور غلط کی تشخیص کا معیار قرآن ہے۔ یعنی اگر کوئی چیز ہماری روایت کے نام پر تمہارے سامنے آئے تو اسے قرآن سے

۴۱

پرکھو اگر قرآن کی آیتوں سے مطابقت رکھتی ہے تو وہ حق اور درست ہے اور اگر مطابقت نہ رکھتی ہو تو باطل اور غلط ہے۔

شیعوں کی فقہ اور حدیث کی کتابوں میں اس طرح کی روایتیں بہت زیادہ ہیں کہ ہم یہاں اُن میں سے صرف ایک حدیث نقل کررہے ہیں۔

'' مالم یوافق من الحدیث القرآن فهو زخرف'' (1)

جو حدیث قرآن کے موافق نہ ہو وہ بیہودہ اور باطل ہے۔

اس طرح کی روایتوں سے بھی بخوبی یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن میں تبدیلی ممکن نہیں ہے لہٰذا یہ مقدس کتاب ابد تک میزان حق و باطل کے عنوان سے پہچانی جاتی رہے گی۔

5۔ شیعوں کے بزرگ علماء جو اسلامی اور شیعی ثقافت کے پیشرو تھے وہ اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ قرآن میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ ان تمام علماء اعلام کا ذکر تو یہاں مشکل ہے لیکن نمونہ کے طور پر ہم ان میں سے چند علماء کے نام درج کررہے ہیں۔

1۔ ابو جعفر محمد بن علی بن حسین بابویہ قمی، معروف بہ ''صدوق'' متوفی 381ھ ق فرماتے ہیں:'' ہمارا عقیدہ قرآن کے بارے میں یہ ہے کہ یہ خدا کی کتاب ہے ، وحی الٰہی ہے ایسی کتاب ہے جس میں باطل کے داخل ہونے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اِسے خدائے حکیم و دانا نے نازل کیا ہے اور وہی اس کی حفاظت کرنے والا ہے۔(2)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ اصول کافی، ج1، کتاب فضل العلم، باب الأخذ بالسنة وشواہد الکتاب، روایت 4

(2)۔ الاعتقادات س 93

۴۲

2۔ سید مرتضیٰ علی ابن الحسین موسوی علوی، معروف بہ ''علم الھدیٰ'' متوفی 436ھ ق، فرماتے ہیں:''اصحاب کی ایک جماعت مثلاً عبداللہ بن مسعود، أبی بن کعب وغیرہ نے شروع سے آخر تک قرآن مجید کو پیغمبر اسلام(ص) کے سامنے بارہا پڑھا جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ قرآن بغیر کسی کمی یا پراکندگی کے مرتب تھا۔(1)

3۔ ابو جعفر محمد ابن حسن طوسی معروف بہ شیخ الطائفہ ، متوفی 460ھ ق فرماتے ہیں:''قرآن میں کمی اور زیادتی کی بات تو اس کتاب کے شایان شان ہی نہیں ہے کیونکہ سارے مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ قرآن میں زیادتی نہیں ہوئی ہے اس میں کمی کے بارے میں بھی مسلمانوں میں ظاہر یہی ہے کہ کمی نہیں ہوئی ہے اور یہ بات (قرآن میں زیادتی کا نہ ہونا) ہمارے مذہب کے لیے مناسب ہے۔ اس بات کو سید مرتضیٰ نے قبول کیا ہے اور اس کی تائید بھی کی ہے اور ظاہر روایات بھی اسی حقیقت کا ثبوت ہیں۔ ایسی بہت کم روایتیں ہیں جن میں قرآن میں کمی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ شیعہ اور سنی دونوں فرقوں کی کتابوں میں موجود ہیں لیکن یہ روایتیں خبر واحد ہیں جو علم و عمل کا موجب نہیں ہیں اور ان سے اعراض کرنا ہی بہتر ہے۔(2)

4۔ ابو علی طبرسی صاحب تفسیر ''مجمع البیان'' فرماتے ہیں :

'' قرآن میں زیادتی کی بات کے بے بنیاد ہونے پر تمام امت اسلامی کا اتفاق ہے لیکن قرآن میں کمی کی روایتیں ہمارے بعض اصحاب نیز اہل سنت میں فرقہ ''حشویہ'' سے نقل ہوئی ہیں لیکن ہمارے مذہب میں جو چیز قبول شدہ حقیقت ہے وہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ مجمع البیان ج1، ص 10 منقول از جواب ''المسائل الطرابلسیّات'' سید مرتضیٰ

(2)۔ تبیان ج1، ص 3

۴۳

اس کے برخلاف ہے۔(1)

5۔ علی بن طاؤوس حلی معروف بہ سید ابن طاؤوس متوفی 664ھ ق فرماتے ہیں: ''شیعوں کا نظریہ یہ ہے کہ قرآن میں کسی طرح کی تبدیلی نہیں ہوسکتی''(2)

نتیجہ :

خلاصہ بحث یہ ہے کہ شیعہ سنی تقریباً تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ یہ آسمانی کتاب وہی قرآن ہے جو پیغمبر اسلام(ص) پر نازل ہوا تھا اس میں کسی قسم کی تحریف ، تبدیلی اور کمی زیادتی واقع نہیں ہوئی ہے۔

اس بیان سے اس تہمت کی حقیقت معلوم ہوجاتی ہے جو شیعوں پر لگائی جاتی رہی ہے۔ اگر ضعیف روایتوں کا نقل کرنا اتہام کا سبب ہے تو ایسی روایتیں صرف شیعوں ہی کی کتابوں میں نہیں پائی جاتیں بلکہ مفسرین اہل سنت نے بھی اسی طرح کی ضعیف روایتیںاپنی کتابوں میں نقل کی ہیں جن میں بعض نمونہ کے طور پر ملاحظہ ہوں۔

1۔ ابو عبداللہ محمد بن انصاری قرطبی اپنی تفسیر میں ابوبکر انباری سے اور وہ ابی ابن کعب سے روایت کرتے ہیں کہ سورہ احزاب (73 آیات) پیغمبر(ص) کے زمانہ میں سورہ بقرہ کے برابر (286 آیات) تھا اس سورہ میں آیت ''رجم'' بھی موجود تھی۔ اوراب سورہ احزاب میں ایسی کوئی آیت نظر نہیں آتی(3 )اسی کتاب میں جناب عائشہ سے منقول ہے: ''سورہ احزاب پیغمبر اسلام(ص) کے زمانے میں دو سو آیتوں پر مشتمل تھا، لیکن جب مصحف لکھا گیا تو اب جتنی آیتیں موجود ہیں ان سے زیادہ آیتیں نہیں مل سکیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ مجمع البیان، ج1، ص 10 (2)۔ سعد العود، ص 44 (3)۔ تفسیر قرطبی جزء 14، ص 113

۴۴

2۔ صاحب کتاب الاتقان نقل کرتے ہیں کہ جناب أبی '' کے مصحف میں 116 سورہ تھے۔ کیونکہ ''حقہ'' اور ''خلع'' کے نام سے بھی دو دوسرے سورے موجود تھے۔(1)

حالانکہ ہم سب کو معلوم ہے کہ قرآن مجید میں ایک سو چودہ سورے ہیں اور اب ان دو سوروں (حقہ اور خلع) کا قرآن میں کہیں بھی کوئی نام و نشان نہیں ہے۔

3۔ ہبة اللہ بن سلامہ کتاب ''الناسخ والمنسوخ'' میں انس بن مالک سے نقل کرتے ہیں :

'' پیغمبر اسلام(ص) کے زمانہ میں ایک سورہ سورہ توبہ کے برابر تھا مجھے اس سورہ کی صرف ایک آیت یاد ہے اور وہ یہ ہے۔ ''

''لو انّ لِابن آدم وادیان من الذهب لابتغیٰ اِلَیْهِمٰا ثَالِثًا وَ لَوْ اَنّ لَهُ ثالِثًا لابتغیٰ اِلَیْهٰا رابعاً وَلَا یملأَ جَوْفَ ابن آدم اِلّا التُراب ویتوبُ اللّٰه علٰی مَن تابَ''

حالانکہ قرآن میں اس قسم کی آیت موجود نہیں ہے اور درحقیقت یہ آیت قرآن کی بلاغت کے منافی ہے۔

4۔ جلال الدین سیوطی اپنی تفسیر ''درالمنثور'' میں عمر بن خطاب'' سے روایت کرتے ہیں کہ سورہ احزاب، سورہ بقرہ کے برابر تھا اور اس میں آیہ رجم بھی موجود تھی۔(2)

بہرحال شیعہ اور سنی فرقوں کے بعض افراد نے قرآن میں تحریف کے سلسلے کی کچھ ضعیف

روایتیں نقل کی ہیں لیکن شیعہ اور سنی اکثریت کے لیے یہ روایتیں قابل قبول نہیں ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ اتقان۔ ج1، ص 67(2)۔ درالمنثور ج5، ص 180

۴۵

بلکہ نص قرآن، صحیح اور متواتر روایات، ہزاروں اصحاب پیغمبر(ص) اور دنیا کے مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن مجید میں کسی قسم کی تبدیلی ، کمی اور زیادتی نہ ہوئی ہے اور نہ ہوسکتی ہے۔

سوالات

1۔عدم تحریف قرآن پر قرآن سے کوئی آیت پیش کریں ؟

2۔حدیث ثقلین کس طرح عدم تحریف قرآن پر دلالت کرتی ہے ؟

3۔عدم تحریف قرآن کے بارے میں شیخ صدوق اور علم الھدیٰ کیا فرماتے ہیں ؟

4 ۔ کیا اہل سنت کی کتابوں میں تحریف قرآن پر دلالت کرنے والی روایات موجود ہیں ؟ کوئی دو مورد بیان کیجئے ؟

۴۶

درس نمبر 8 ( منصب امامت )

شیعہ منصب خلافت کو پابند نص کیوں سمجھتے ہیں؟

جواب: دین اسلام ایک عالمی اور زندہ و جاوید دین ہے جب تک پیغمبر اسلام (ص) موجود تھے تو لوگوں کی ہدایت کی ذمہ داری آپ کے کاندھوں پر تھی۔ آپ کی رحلت کے بعد ہدایت اور رہنمائی کی ذمہ داری اس کے سپرد ہونی چاہیے جو امت میں سب سے زیادہ اس عہدہ کے لائق ہو۔

پیغمبر اسلام (ص) کے بعد خلافت کا عہدہ پابند نص ہے یعنی خدا کے حکم سے پیغمبر (ص) کسی کے خلیفہ ہونے کا اعلان کریں گے یا یہ کہ اسے انتخاب کے ذریعہ حل کیا جائے گا؟ اس سلسلہ میں دو نظریئے ہیں :

شیعوں کا عقیدہ ہے کہ منصب خلافت پابند نص ہے اورپیغمبر کے جانشین کو خدا کی طرف سے معین ہونا چاہیے۔

اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ یہ مسئلہ انتخابی ہے یعنی پیغمبر کے بعد ساری امت مل کر کسی ایک فرد کو حکومت اور امت کے امور کی نگرانی کے لیے چن لے گی۔

آنحضرت کے زمانہ کی سیاست کا تجزیہ منصب خلافت کے پابند نص ہونے پر دلیل ہے۔

شیعہ علماء نے عقائد کی کتابوں میں منصب خلافت کے پابند نص ہونے کے بارے

۴۷

میں بہت سی دلیلیں بیان کی ہیں۔ لیکن ہم یہاں عہد رسالت کے حاکم کے شرائط کا تجزیہ پیش کریں گے جس سے شیعوں کے نظریہ کا صحیح اور درست ہونا واضح ہوجائے گا۔

پیغمبر اسلام (ص) کے زمانہ کی داخلی اور خارجی سیاست کا تجزیہ بتاتا ہے کہ آپ(ص) کا جانشین خدا کیطرف سے معین ہونا چاہے۔ اور اس کا اعلان پیغمبر اسلام کی طرف سے کیا جانا ضروری تھا کیونکہ اسلامی معاشرہ کو تین طرف سے خطروں نے گھیر رکھا تھا۔ ایک طرف روم کی شہنشاہیت دوسری طرف ایران کی بادشاہت اور تیسری طرف منافقین کی سازشیں، اس طرح کی چیزوں کو دیکھتے ہوئے مصلحت امت کا تقاضا تھا کہ آنحضرت(ص) اپنا ایک جانشین معین کرکے ساری امت کو متحد کردیں اور داخلی اختلافات کی وجہ سے جو دشمن کو نفوذ کا موقع ملتا ہے اس کا راستہ بند کردیں ۔

وضاحت :

اسلام کو درپیش خطرات کا ایک حصہ روم کی شہنشاہیت تھی جزیرہ عرب کے شمال میں یہ بڑی قدرت کے عنوان سے موجود تھی۔ اور پیغمبر اسلام (ص) کو ہمیشہ اس کا کھٹکا لگا رہتا تھا اپنی عمر کے آخری وقت تک آپ کو اس فکر سے چھٹکارا نہیں مل سکا۔

روم کے عیسائی لشکر سے مسلمانوں کا پہلا ٹکرائو 8ھ میں سرزمین فلسطین پر ہوا۔ جس میں تین سپہ سالار، جناب جعفرطیار، زید بن حارثہ اور عبداللہ بن رواحہ شہید ہوگے اور مسلمانوں کو شکست ہوئی۔ اس شکست سے قیصر روم کے لشکر کی جرأت بڑھ گئی اور ہر لمحہ ان کے حملے کا خطرہ رہتا تھا۔ اس لیے پیغمبر اسلام (ص) نے 9ھ میں ایک بڑے لشکر کے ساتھ شام کی طرف کوچ کیا تاکہ کسی بھی قسم کے فوجی اقدام کی بہ نفس نفیس رہبری کریں اِس پر مشقت ِ سفر سے لشکر اسلام اپنی دیرینہ حیثیت بچانے اور سیاسی

۴۸

حیات کی تجدید میں کامیاب ہوا۔

اس سطحی کامیابی سے پیغمبر اسلام (ص) مطمئن نہیں ہوئے اور اپنی بیماری سے چند دنوں پہلے آنحضرت(ص) نے اسامہ بن زید کی سپہ سالاری میں لشکر اسلام کو شام کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا۔

اسلام کا دوسرا دشمن ایران کی شہنشاہیت تھی۔ خسرو ایران کی دشمنی کا یہ عالم تھا کہ اُس نے غصہ میں آکر پیغمبر اسلام (ص) کا خط پھاڑ دیا اور سفیر کی توہین کے ساتھ اُسے نکال دیا۔ اور اس نے یمن کے حاکم کو لکھا کہ پیغمبر اسلام کو گرفتار کرلو اور اگر وہ آسانی سے گرفتار نہ ہوں تو انہیں قتل کردو۔

ایران کا بادشاہ خسرو پرویز اگرچہ آنحضرت (ص) کی حیات طیبہ ہی میں مر گیا مگر یمن کی آزادی اور استقلال کا مسئلہ ایرانی شہنشاہوںکے لیے لمحہ فکریہ بنارہا۔ ایرانی سیاستدانوں کا غرور و تکبر کسی ایسی طاقت کو برداشت نہیں کرسکتا تھا۔

تیسرا خطرہ اُن منافقوں کا تھا جو مسلمانوں کے درمیان بیٹھ کر نفاق کے ذریعہ اسلام کی جڑیں کمزور کرنے میں مشغول تھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے پیغمبر اسلام (ص) کو تبوک اور مدینہ کے درمیان قتل کرنے کا ارادہ بھی کرلیا تھا۔ اور بعض افراد ایسے بھی تھے جو آپس میں یہ کہا کرتے تھے کہ پیغمبر اسلام کے انتقال کے بعد اسلامی تحریک کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اور ہم سب چین کی نیند سوئیں گے۔ منافقین کی تخریبی پالیسیاں اتنی خطرناک تھیں کہ قرآن نے انہیں سورہ آل عمران،نسائ،مائدہ، انفال، توبہ، عنکبوت،

احزاب ، محمد، فتح، مجادلہ، حدید، منافقون میں ذکر کیا ہے۔(1)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ فروغ ابدیت، (آقا ی جعفر سبحانی) سے اقتباس

۴۹

کیا یہ ممکن ہے کہ اسلام کی گھات میں لگے رہنے والے ایسے قوی دشمنوں کی موجودگی کے باوجود پیغمبر اسلام (ص) نئے اسلامی معاشرہ کے لیے اپنی جانب سے کوئی دینی اور سیاسی رہبر معین نہ کریں؟

اس وقت کے معاشرہ کے حالات کا تجزیہ بتاتا ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) کو ایک جانشین اور رہبر معین کرکے اسلامی اتحاد کو بچانا اور دفاعی طاقت کو مضبوط بنانا ضروری تھا۔ پیغمبر اسلام (ص) کی رحلت کے بعد امت کو افراتفری اور برے حالات _ کہ ہر گروہ یہ کہے کہ أمیر ہم میں سے ہوگا _ سے بچانے کے لیے رہبر کے علاوہ اور کوئی راستہ ممکن نہ تھا۔اس وقت کے یہ تمام حالات منصب خلافت کے پابند نص ہونے کے نظریہ کی درستی اور صحت کی طرف ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔

پیغمبر اسلام (ص) کی طرف سے نص :

پیغمبر اسلام نے معاشرہ کی بنیادی ضرورت کے پیش نظر ابتدائے بعثت سے اپنی عمر کے آخری حصہ تک ہر موقع پر جانشینی اور خلافت کے مسئلہ کا حل پیش کیا۔ آغاز رسالت میں دعوت ذو العشرہ کے موقع پر آپ نے اپنے قریبی رشتہ داروں کے درمیان اس مسئلہ کو واضح کیا۔ اپنی عمر کے آخری ایام میں حجة الوداع سے واپسی کے وقت مقام غدیر پر بھی آپ نے اپنا جانشین اور خلیفہ معین فرمایا، اسکے علاوہ بھی مختلف مناسبتوں کے موقع پر اس مسئلہ کی طرف اشارہ کرتے رہے۔ صدر اسلام کے معاشرتی حالات اور امیر المومنین ـ کی جانشینی کے بارے میں آنحضرت کے ارشادات کے بعد یہ بات واضح اور روشن ہوجاتی ہے کہ خلافت کے مسئلہ کا تنصیبی ہونا ضروری ہے۔

۵۰

سوالات

1۔پیغمبر اسلام (ص) کے بعد خلافت کا عہدہ پابند ِنص ہے اس سے کیا مراد ہے ؟

2۔خلافت کے تعیّن کے سلسلے میں اہل سنّت کا نظریہ بیان کیجئے ؟

3۔خلافت کے تعیّن کے سلسلے میں شیعوں کا نظریہ بیان کیجئے ؟

4۔ خلافت کا عہدہ پابند ِنص ہے اس نظریہ کی درستی پر دلیل پیش کیجئے ؟

5۔ پیغمبر اسلام (ص)نے کتنے موارد پر حضرت علی (ع) کی خلافت کا اعلان کیا کوئی دو مورد بیان کیجئے ؟

۵۱

درس نمبر 9 ( صحابہ کرام )

صحابہ کے بارے میں شیعوں کا کیا نظریہ ہے؟

جواب: جن لوگوں نے پیغمبر اسلام کا دیدار کیا اور آپ کی صحبت اختیار کی شیعوں کی نظر میں ان کی چند قسمیں ہیں اس گفتگو کی وضاحت سے پہلے اجمالی طور پر صحابی کی تعریف کردینا مناسب ہے۔

صحابی کی مختلف تعریفیں کی گئی ہیں جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔

1 ۔سعید بن مسیب کہتے ہیں: ''صحابی وہ ہے جو ایک یا دو سال تک پیغمبر(ص) کے ساتھ رہا ہو اور ایک یا دوجنگ میں اس نے آپ(ص) کے ساتھ شریک ہوکر جنگ کی ہو۔''(1)

2۔ واقدی کہتے ہیں: '' جس نے پیغمبر(ص) کو دیکھا ، اسلام قبول کیا، دین کے مسائل میں غوروفکر سے کام لیا، دین سے راضی رہا وہ ہمارے نزدیک صحابی ہے چاہے وہ پیغمبر(ص) کے ساتھ ایک گھنٹہ ہی کیوں نہ رہا ہو۔''(2)

3۔ محمد بن اسماعیل کہتے ہیں: جس مسلمان نے پیغمبر (ص) کی صحبت اختیار کی یا آپ کو دیکھا وہ صحابی ہے۔(3)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ اسد الغابہ ج1، ص 11 اور 12(2)۔ اسد الغابہ ج1، ص 12 ۔ 11

(3)۔ اسد الغابہ ج1، ص 12 ۔11(1)۔ اسد الغابہ ج1، ص 21 ۔ 11

۵۲

4۔ احمد بن حنبل کہتے ہیں: جس نے ایک مہینہ ، ایک دن ، یا ایک گھنٹہ بھی پیغمبر(ص) کی محبت

میں گزارا، یا آپ کی زیارت کی وہ صحابی ہے۔(1)

دوسری طرف علمائے اہل سنت کے نزدیک ''عدالت صحابہ'' ایک اصل مسلم ہے ۔ ا اس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے پیغمبر(ص) کی صحبت اختیار کی وہ عادل ہے۔(2)

اب ہم یہاں آیات قرآن کی روشنی میں ان اقوال کو پرکھ کر اس سلسلے میں شیعہ نظریہ بیان کریں گے جو منطق وحی پر استوار ہے۔

تاریخ میں بارہ ہزار سے زیادہ ان افراد کا ذکر موجود ہے جو صحابی پیغمبر(ص) کے نام سے پہچانے جاتے ہیں اور ان میں مختلف قسم کے افراد پائے جاتے ہیں۔

بیشک پیغمبر اسلام(ص) کی صحبت ایک بہت بڑا افتخار ہے جو ایک خاص گروہ کو حاصل ہوا ہے۔ ان افراد کو امت اسلامیہ نے ہمیشہ احترام کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ کیوں کہ وہ دین اسلام کو قبول کرنے والوں میں پیش پیش تھے کہ جنہوں نے سب سے پہلے شوکت اور عزت اسلام کا پرچم لہرایا تھا۔قرآن نے بھی ان پرچم داروں کی تعریف کی ہے :

(لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح و قاتل اولئک اعظم درجة من الذین انفقوا من بَعْد و قاتلوا) (3)

جن افراد نے فتح مکہ سے پہلے انفاق و جہاد کیا وہ ان لوگوں کے برابر نہیں ہیں جنہوں نے فتح مکہ کے بعد انفاق و جہاد کیا بلکہ ان کا درجہ بلند ہے۔

مگر اس کے ساتھ ساتھ اس حقیقت کا اعتراف کرلینا بھی ضروری ہے کہ پیغمبر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ اسد الغابہ ج1، ص 21 ۔ 11 (2)۔ الاستیعاب فی اسماء الاصحاب ج1، ص 2، حاشیہ '' الاصابہ''، اسد الغابہ ج1ص 3۔ منقول از ابن اثیر۔ (3)۔ سورہ مبارکہ حدید آیت 10

۵۳

اسلام(ص) کی صحبت کوئی ایسا کیمیا نہیں تھی جو انسان کی ماہیت بدل دے اور آخر عمر تک کی

ضمانت لے لے اور انہیں عادلوں کی فہرست میں قرار دے دے۔

اس مسئلہ کی ضمانت کے لئے مناسب ہے کہ ہم قرآن مجید کا سہارا لیںجس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے۔

صحابہ قرآن کی نظر میں :

منطق وحی میں پیغمبر اسلام(ص) کی صحبت سے شرفیاب ہونے والوں کی دو قسمیں ہیں۔

پہلا گروہ:اس میں وہ افراد شامل ہیں، جن کی قرآن مجید نے مدح و ستائش کی ہے۔اوران کو اسلام کی شان و شوکت کی بنیاد رکھنے والوں میں شمارکیاہے قرآنی آیات کے چند نمونے ملاحظہ ہوں۔

1۔ سابقین :

(والسَّابقونَ الاوّلون من المهاجرین والانصار والّذین اتبعُوهم باحسان رضی اللّٰه عنهم و رضوا عنه' وَ أَعَدَّ لهم جَنّاتٍ تَجْری من تَحْتِهَا الانهار خالدین فِیْهٰا اَبَدًا ذٰلِکَ الفوز العظیم ) (1)

'' اور مہاجرین اور انصار میں سے (ایمان کی طرف) سبقت کرنے والے اور وہ لوگ جنہوں نے نیک نیتی سے (قبول ایمان میں) اُن کا ساتھ دیا، خدا اُن سے راضی اور وہ خدا سے خوش اور اُن کے واسطے خدا نے وہ (ہرے بھرے) باغ جن کے نیچے نہریں جاری ہیں تیار کر رکھے ہیں۔ وہ ہمیشہ ابدالاباد تک اُن میں رہیں گے یہی تو بڑی کامیابی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورہ توبہ، آیت نمبر 100

۵۴

ہے۔ ''

2۔ درخت کے نیچے بیعت کرنے والے :

( لَقَدْ رَضِیَ اللّٰه عَنِ المُؤمِنِیْنَ اِذْ یُبٰایِعُونَکَ تحت الشجرةِ فَعَلِمَ مَا فِی قُلوبِهِمْ فَأنزلَ السکینة عَلَیهِم وَ أثابَهُمْ فَتْحًا قریبًا ) (1)

جس وقت مومنین تم سے درخت کے نیچے (لڑنے مرنے) کی بیعت کررہے تھے تو خدا ان سے ( اس بات پر ) ضرور خوش ہوا جو کچھ ان کے دلوں میں تھا خدا نے اُسے دیکھ لیا پھر ان پر تسلی نازل فرمائی۔ اور انہیں اس کے عوض میں بہت جلد فتح عنایت کی۔

3۔ مہاجرین :

( لِلْفُقراء المُهٰاجِرِیْنَ الَّذِیْنَ أُخرِجُوا مِنْ دِیٰارِهِمْ وَ أَمْوالِهمْ یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْواناً وَ یَنْصُرُونَ اللّٰه وَ رَسُوَله' أُولٰئِکَ هُمُ الصَّادِقُونَ ) (2)

( اس مال میں) ان مفلس مہاجروں کا (حصہ) بھی ہے جو اپنے گھروں سے اور مالوں سے نکالے اور الگ کئے گئے (اور) خدا کے فضل اور خوشنودی کے طلب گار ہیں۔ اور خدا کی اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں یہی لوگ سچے ایماندار ہیں۔

4۔ اصحاب فتح :

( مُحمّد رسول اللّٰهِ وَالَّذِیْنَ مَعَه' أَشِدّاء عَلٰی الکفّار رَحْمٰائُ بَینَهُمْ تَرٰیُهُم رُکَّعًا سُجَّدًا یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْوٰاناً سِیْمٰا هُمْ فِی وُجُوهِهمْ مِن أَثَرِ السُّجُودِ)(3)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورہ مبارکہ فتح۔ آیت نمبر 8 (1)۔ سورہ مبارکہ حشر، آیت نمبر8

(3)۔ سورہ مبارکہ فتح، آیت نمبر 29

۵۵

محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدا کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کافروں پر بڑے سخت اور آپس میں بڑے رحمدل ہیں۔ تو ان کو دیکھے گاکہ (خدا کے سامنے) جھکے سر بسجود ہیں خدا کے فضل اور اس کی خوشنودی کے خواستگار ہیں(کثرت) سجود کے اثر سے ان کی پیشانیوں میں گھٹے پڑے ہوئے ہیں۔

دوسرا گروہ:پیغمبر (ص) کی صحبت اختیار کرنے والوں میں دوسرا گروہ اُن افراد پر مشتمل تھا جو دو چہرے اور بیمار دل تھے، قرآن نے انکی ماہیت کو آشکار کرتے ہوئے پیغمبر اسلام(ص) کو اُن کے وجود سے آگاہ کیا۔ اُن میں سے یہاں چند گروہ کا تذکرہ کررہے ہیں۔

1۔ جانے پہچانے منافقین :

( اِذَا جٰائَکَ المُنٰافقونَ قَالوا نشهد انّک لَرسول اللّٰهِ واللّٰه یُعلَمُ انّکَ لَرَسُولُهُ وَاللّٰهُ یَشْهَد أَنَّ المُنَافقین لَکٰاذِبُونَ) (1)

( اے رسول) جب منافقین آپ کے پاس آکر کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں خدا تو جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں وہ (خدا) گواہی دیتا ہے کہ منافقین جھوٹے ہیں۔

2۔ انجانے منافقین :

(و مِمَّنْ حَوْلَکُم مِنَ الأَعرابِ مُنٰافِقُونَ وَ مِن أهْل المَدِیْنَهِ مَرَدُوا عَلی النّفاقِ لَا تَعْلَمَهُمْ نَحْنُ نَعْلَمَهُم )(2)

آپ کے اطراف رہنے والے کچھ بادیہ نشین منافق ہیں اور کچھ اہل مدینہ نفاق

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ منافقون از اول تا آخر (2)۔ سورہ توبہ، آیت نمبر101

۵۶

میں ڈوبے ہوئے ہیں آپ ان کو نہیں پہچانتے میں پہچانتا ہوں۔

3۔ بیمار دل :

(واذ یقول المُنٰافقون والذین فی قلوبهم مَرَض مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ و رَسُولُه' اِلّا غُرُوراً) (1)

منافقین اور وہ لوگ جن کے دل میں مرض تھا کہنے لگے تھے کہ خدا نے اور اس کے رسول نے ہم سے جو وعدے کیے وہ بالکل فریب تھے۔

4۔ گناہ گار :

( و آخَرُونَ اعتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا عَمَلاً صالِحًا وَ آخَرَ سَیِّئًا عسیٰ اللّٰهُ اَنْ یتوبَ عَلَیْهِمْ اِنّ اللّٰه غفور رَحِیْم ) (2)

اور کچھ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا تو اقرار کیا (مگر ) ان لوگوں نے بھلے کام اور کچھ برے کام کو ملا جلا دیا۔ قریب ہے کہ خدا ان کی توبہ قبول کرے۔ خدا تو یقینا بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔

قرآن مجید کی آیات کے علاوہ پیغمبر اسلام(ص) کی بہت سی روایتیں بعض اصحاب کی مذمت میں وارد ہوئی ہیں جن میں سے دو مثالیں ملاحظہ ہوں۔

1۔ ابو حازم نے سہل بن سعد سے روایت کی ہے کہ آنحضرت(ص) نے فرمایا :

میں تم کو اس حوض کی طرف بھیج رہا ہوں جہاں وارد ہونے والا اس سے سیراب ہوتا ہے اور جو اس سے سیراب ہو وہ ابد تک کبھی پیاسا نہیں ہوتا کچھ افراد وہاں میرے

پاس آئیں گے جن کو میں پہچانتا ہوں گا اور جو مجھے پہچانتے ہوں گے۔ پھرہمارے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورہ مبارکہ احزاب، آیت نمبر 12 (2)۔ سورہ مبارکہ توبہ، آیت نمبر 102

۵۷

اور ان کے درمیان جدائی ہوجائے گی۔

ابو حازم کہتے ہیں کہ جب میں اس روایت کو بیان کررہا تھا تو نعمان بن ابی عیاش نے اِسے سن کر کہا کہ کیا آپ نے سھل سے اسی طرح سنا ہے؟ میں نے کہا ''ہاں'' تو ابو حازم نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ ابو سعید خدری نے اس حدیث میں پیغمبر اسلام(ص) کی زبانی کچھ زیادہ بیان کیا ہے۔

(انّهم منّی فیقال انّک لا تدری ما احد ثوا بعدکَ فاقول سحقًا لِمَنْ بدّل بعدی ) (1)

'' یہ لوگ مجھ سے ہیں تو کہا جائے گا کہ آپ کو نہیں معلوم کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کیا کیا پھر میں کہوونگا کہ رحمت خدا سے دور ہوجائے جس نے احکام خدا کو بدل دیا۔ ''

'' میں ان کو پہچانتا ہوں گا اور وہ مجھے پہچانتے ہوں گے '' اور میرے بعد بدل ڈالا، یہ دونوں جملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس سے مراد آنحضرت کے وہ اصحاب ہیں جو مدتوں آپ(ص) کے ساتھ رہے۔ (اس حدیث کو بخاری اور مسلم دونوں نے روایت کیا ہے )

2۔ بخاری اور مسلم نے پیغمبر اسلام(ص) سے روایت نقل کی ہے۔

'' قیامت کے دن میرے اصحاب میں سے کچھ افراد۔ یا آپ نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ افراد میرے پاس آئیں گے پھر حوض کوثر سے دور ہٹا دیئے

جائیں گے۔ پھر میں کہوونگا کہ پالنے والے یہ میرے اصحاب ہیں ۔ تو خدا فرمائے گا :

آپ(ص) کے بعد اِن لوگوں نے جو کچھ کیا آپ کو نہیں معلوم وہ اپنی سابقہ حالت کی طرف

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1) جامع الاصول (ابن اثیر)، ج11 ص 120 ح 7972

۵۸

پلٹ گئے تھے۔(1)

نتیجہ :

قرآنی آیات اور پیغمبر اسلام(ص) کی احادیث کے مطالعہ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ آنحضرت (ص) کی صحبت میں رہنے والے تمام افراد ایک جیسے اور ایک سطح کے نہیں تھے، ایک گروہ وہ تھا جو پاکیزگی اور شائستگی کی بلندیوں پر فائز تھا۔ ان کی خدمات اسلام کی سربلندی اور سرفرازی کا سبب بنیں۔ اور دوسرا گروہ وہ تھا جو شروع ہی سے دو چہرے رکھتا تھا۔ جو منافق ، بیمار دل، اور گناہ گار تھا۔

بیان گذشتہ کی روشنی میں پیغمبر اسلام (ص) کے اصحاب کے بارے میں شیعوں کا نکتہ نظر واضح ہوجاتا ہے۔ یہ وہی نظریہ ہے جو قرآن مجید اور پیغمبر اسلام(ص) کی سنت سے حاصل ہوتا ہے۔

سوالات

1۔اہل سنت کی نظر میں صحابہ کی تعریف کیجئے؟

2۔قرآن کی نظر میں صحابہ کے کتنے گروہ ہیں ؟

3۔صحابہ کے بارے میں شیعوں کا نکتہ نظر بیان کیجئے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ جامع الاصول ج11، ص 120، ح7973

۵۹

درس نمبر 10

( شفاعت )

اسلام کے مسلم اصولوں میں سے ایک شفاعت ہے جسے تمام اسلامی فرقوں نے قرآن اور روایات کی پیروی کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے اگرچہ شفاعت کے نتیجہ میں نظریاتی اختلاف پایا جاتا ہے۔ شفاعت کی حقیقت یہ ہے کہ ایک محترم انسان جو خدا کے نزدیک تقرب اور خاص منزلت رکھتا ہو دوسرے انسان کی گناہوں کی بخشش یا اس کے درجات کی بلندی کا خداوند متعال کی بارگاہ میں خواستگار ہو۔

پیغمبر اسلام(ص) نے فرمایا :

'' أُعْطَیْتُ خمسْاً ---- وَ أُعطِیْتُ الشَّفَاعَةَ فاَدّخَرْتُهٰا لِأُمّتِي'' (1)

مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئیں ۔۔۔ مجھے حق شفاعت عطا کیا گیا لہٰذا میں نے اس کو اپنی امت کے لیے ذخیرہ کرلیا۔

شفاعت کے حدود :

پہلی بات تو یہ کہ شفاعت کرنے والے کو خدا کی طرف سے شفاعت کرنے کی اجازت حاصل ہو۔ لہٰذا صرف وہی گروہ شفاعت کرنے کا مجاز ہے جو تقرب الٰہی کے ساتھ ساتھ اس سے شفاعت کرنے کی اجازت بھی حاصل کرچکا ہو۔ قرآن مجید میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔مسند احمد ، ج1، ص 301، صحیح بخاری ج1، ص 91

۶۰

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204