معارف اسلامی کورس (عقائد، احکام،اخلاق ) جلد ۲

معارف اسلامی کورس (عقائد، احکام،اخلاق )18%

معارف اسلامی کورس (عقائد، احکام،اخلاق ) مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 204

جلد ۱ جلد ۲
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 204 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 33174 / ڈاؤنلوڈ: 3139
سائز سائز سائز

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

پھر خدا نے ایسی کتاب بھیجی جو نہ بجھنے والا نور اور چراغ ہے ایسا راستہ ہے جو اپنے رہروں کو گمراہ نہیں کرتا اور حق و باطل کو جدا کرنے والی ایسی چیز ہے جس کی دلیلیں کمزور نہیں پڑتیں۔

شیعوں کے امام عالی مقام کے قول سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن ایسا چراغ ہے جو ابد تک جلتا رہے گا اور اپنے پیروکاروں کو اندھیرے میں راستہ دکھاتا رہے گا اور اس میں ایسی کوئی تبدیلی نہیں آسکتی کہ جس کی بنا پر یہ چراغ گل ہوجائے۔ اور اس کے پیروکار راستہ سے بھٹک جائیں۔

۳۔ شیعہ علماء کا اتفاق ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا :

'' میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں۔ ایک قرآن اور دوسرے اہل بیت ہیں۔ میری عترت ہے۔ جب تک ان سے متمسک رہو گے گمراہ نہیں ہوگے۔ ''

یہ حدیث اسلام کی ان متواتر احادیث میں سے ہے جسے شیعہ سنی دونوں نے نقل کیا ہے اس حدیث کی روشنی میں بھی اس بات کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ شیعوں کی نظر میں قرآن میں کسی قسم کی تبدیلی واقع نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ اگر قرآن میں تحریف ہوجائے تو اس سے تمسک ہدایت کے بجائے گمراہی کا باعث ہوگا ۔ جبکہ حدیث متواتر یہ کہتی ہے کہ اس سے تمسک کرنے والا کبھی گمراہ نہیں ہوگا۔

۴۔ شیعوں کے آئمہ سے نقل شدہ روایتوں میں۔ جنہیں علماء اور فقہاء نے نقل کیا ہے اس بات کی تصریح موجود ہے کہ حق و باطل، صحیح اور غلط کی تشخیص کا معیار قرآن ہے۔ یعنی اگر کوئی چیز ہماری روایت کے نام پر تمہارے سامنے آئے تو اسے قرآن سے

۴۱

پرکھو اگر قرآن کی آیتوں سے مطابقت رکھتی ہے تو وہ حق اور درست ہے اور اگر مطابقت نہ رکھتی ہو تو باطل اور غلط ہے۔

شیعوں کی فقہ اور حدیث کی کتابوں میں اس طرح کی روایتیں بہت زیادہ ہیں کہ ہم یہاں اُن میں سے صرف ایک حدیث نقل کررہے ہیں۔

'' مالم یوافق من الحدیث القرآن فهو زخرف'' (۱)

جو حدیث قرآن کے موافق نہ ہو وہ بیہودہ اور باطل ہے۔

اس طرح کی روایتوں سے بھی بخوبی یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن میں تبدیلی ممکن نہیں ہے لہٰذا یہ مقدس کتاب ابد تک میزان حق و باطل کے عنوان سے پہچانی جاتی رہے گی۔

۵۔ شیعوں کے بزرگ علماء جو اسلامی اور شیعی ثقافت کے پیشرو تھے وہ اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ قرآن میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ ان تمام علماء اعلام کا ذکر تو یہاں مشکل ہے لیکن نمونہ کے طور پر ہم ان میں سے چند علماء کے نام درج کررہے ہیں۔

۱۔ ابو جعفر محمد بن علی بن حسین بابویہ قمی، معروف بہ ''صدوق'' متوفی ۳۸۱ھ ق فرماتے ہیں:'' ہمارا عقیدہ قرآن کے بارے میں یہ ہے کہ یہ خدا کی کتاب ہے ، وحی الٰہی ہے ایسی کتاب ہے جس میں باطل کے داخل ہونے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اِسے خدائے حکیم و دانا نے نازل کیا ہے اور وہی اس کی حفاظت کرنے والا ہے۔(۲)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ اصول کافی، ج۱، کتاب فضل العلم، باب الأخذ بالسنة وشواہد الکتاب، روایت ۴

(۲)۔ الاعتقادات س ۹۳

۴۲

۲۔ سید مرتضیٰ علی ابن الحسین موسوی علوی، معروف بہ ''علم الھدیٰ'' متوفی ۴۳۶ھ ق، فرماتے ہیں:''اصحاب کی ایک جماعت مثلاً عبداللہ بن مسعود، أبی بن کعب وغیرہ نے شروع سے آخر تک قرآن مجید کو پیغمبر اسلام(ص) کے سامنے بارہا پڑھا جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ قرآن بغیر کسی کمی یا پراکندگی کے مرتب تھا۔(۱)

۳۔ ابو جعفر محمد ابن حسن طوسی معروف بہ شیخ الطائفہ ، متوفی ۴۶۰ھ ق فرماتے ہیں:''قرآن میں کمی اور زیادتی کی بات تو اس کتاب کے شایان شان ہی نہیں ہے کیونکہ سارے مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ قرآن میں زیادتی نہیں ہوئی ہے اس میں کمی کے بارے میں بھی مسلمانوں میں ظاہر یہی ہے کہ کمی نہیں ہوئی ہے اور یہ بات (قرآن میں زیادتی کا نہ ہونا) ہمارے مذہب کے لیے مناسب ہے۔ اس بات کو سید مرتضیٰ نے قبول کیا ہے اور اس کی تائید بھی کی ہے اور ظاہر روایات بھی اسی حقیقت کا ثبوت ہیں۔ ایسی بہت کم روایتیں ہیں جن میں قرآن میں کمی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ شیعہ اور سنی دونوں فرقوں کی کتابوں میں موجود ہیں لیکن یہ روایتیں خبر واحد ہیں جو علم و عمل کا موجب نہیں ہیں اور ان سے اعراض کرنا ہی بہتر ہے۔(۲)

۴۔ ابو علی طبرسی صاحب تفسیر ''مجمع البیان'' فرماتے ہیں :

'' قرآن میں زیادتی کی بات کے بے بنیاد ہونے پر تمام امت اسلامی کا اتفاق ہے لیکن قرآن میں کمی کی روایتیں ہمارے بعض اصحاب نیز اہل سنت میں فرقہ ''حشویہ'' سے نقل ہوئی ہیں لیکن ہمارے مذہب میں جو چیز قبول شدہ حقیقت ہے وہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ مجمع البیان ج۱، ص ۱۰ منقول از جواب ''المسائل الطرابلسیّات'' سید مرتضیٰ

(۲)۔ تبیان ج۱، ص ۳

۴۳

اس کے برخلاف ہے۔(۱)

۵۔ علی بن طاؤوس حلی معروف بہ سید ابن طاؤوس متوفی ۶۶۴ھ ق فرماتے ہیں: ''شیعوں کا نظریہ یہ ہے کہ قرآن میں کسی طرح کی تبدیلی نہیں ہوسکتی''(۲)

نتیجہ :

خلاصہ بحث یہ ہے کہ شیعہ سنی تقریباً تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ یہ آسمانی کتاب وہی قرآن ہے جو پیغمبر اسلام(ص) پر نازل ہوا تھا اس میں کسی قسم کی تحریف ، تبدیلی اور کمی زیادتی واقع نہیں ہوئی ہے۔

اس بیان سے اس تہمت کی حقیقت معلوم ہوجاتی ہے جو شیعوں پر لگائی جاتی رہی ہے۔ اگر ضعیف روایتوں کا نقل کرنا اتہام کا سبب ہے تو ایسی روایتیں صرف شیعوں ہی کی کتابوں میں نہیں پائی جاتیں بلکہ مفسرین اہل سنت نے بھی اسی طرح کی ضعیف روایتیںاپنی کتابوں میں نقل کی ہیں جن میں بعض نمونہ کے طور پر ملاحظہ ہوں۔

۱۔ ابو عبداللہ محمد بن انصاری قرطبی اپنی تفسیر میں ابوبکر انباری سے اور وہ ابی ابن کعب سے روایت کرتے ہیں کہ سورہ احزاب (۷۳ آیات) پیغمبر(ص) کے زمانہ میں سورہ بقرہ کے برابر (۲۸۶ آیات) تھا اس سورہ میں آیت ''رجم'' بھی موجود تھی۔ اوراب سورہ احزاب میں ایسی کوئی آیت نظر نہیں آتی(۳ )اسی کتاب میں جناب عائشہ سے منقول ہے: ''سورہ احزاب پیغمبر اسلام(ص) کے زمانے میں دو سو آیتوں پر مشتمل تھا، لیکن جب مصحف لکھا گیا تو اب جتنی آیتیں موجود ہیں ان سے زیادہ آیتیں نہیں مل سکیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ مجمع البیان، ج۱، ص ۱۰ (۲)۔ سعد العود، ص ۴۴ (۳)۔ تفسیر قرطبی جزء ۱۴، ص ۱۱۳

۴۴

۲۔ صاحب کتاب الاتقان نقل کرتے ہیں کہ جناب أبی '' کے مصحف میں ۱۱۶ سورہ تھے۔ کیونکہ ''حقہ'' اور ''خلع'' کے نام سے بھی دو دوسرے سورے موجود تھے۔(۱)

حالانکہ ہم سب کو معلوم ہے کہ قرآن مجید میں ایک سو چودہ سورے ہیں اور اب ان دو سوروں (حقہ اور خلع) کا قرآن میں کہیں بھی کوئی نام و نشان نہیں ہے۔

۳۔ ہبة اللہ بن سلامہ کتاب ''الناسخ والمنسوخ'' میں انس بن مالک سے نقل کرتے ہیں :

'' پیغمبر اسلام(ص) کے زمانہ میں ایک سورہ سورہ توبہ کے برابر تھا مجھے اس سورہ کی صرف ایک آیت یاد ہے اور وہ یہ ہے۔ ''

''لو انّ لِابن آدم وادیان من الذهب لابتغیٰ اِلَیْهِمٰا ثَالِثًا وَ لَوْ اَنّ لَهُ ثالِثًا لابتغیٰ اِلَیْهٰا رابعاً وَلَا یملأَ جَوْفَ ابن آدم اِلّا التُراب ویتوبُ اللّٰه علٰی مَن تابَ''

حالانکہ قرآن میں اس قسم کی آیت موجود نہیں ہے اور درحقیقت یہ آیت قرآن کی بلاغت کے منافی ہے۔

۴۔ جلال الدین سیوطی اپنی تفسیر ''درالمنثور'' میں عمر بن خطاب'' سے روایت کرتے ہیں کہ سورہ احزاب، سورہ بقرہ کے برابر تھا اور اس میں آیہ رجم بھی موجود تھی۔(۲)

بہرحال شیعہ اور سنی فرقوں کے بعض افراد نے قرآن میں تحریف کے سلسلے کی کچھ ضعیف

روایتیں نقل کی ہیں لیکن شیعہ اور سنی اکثریت کے لیے یہ روایتیں قابل قبول نہیں ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ اتقان۔ ج۱، ص ۶۷(۲)۔ درالمنثور ج۵، ص ۱۸۰

۴۵

بلکہ نص قرآن، صحیح اور متواتر روایات، ہزاروں اصحاب پیغمبر(ص) اور دنیا کے مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن مجید میں کسی قسم کی تبدیلی ، کمی اور زیادتی نہ ہوئی ہے اور نہ ہوسکتی ہے۔

سوالات

۱۔عدم تحریف قرآن پر قرآن سے کوئی آیت پیش کریں ؟

۲۔حدیث ثقلین کس طرح عدم تحریف قرآن پر دلالت کرتی ہے ؟

۳۔عدم تحریف قرآن کے بارے میں شیخ صدوق اور علم الھدیٰ کیا فرماتے ہیں ؟

۴ ۔ کیا اہل سنت کی کتابوں میں تحریف قرآن پر دلالت کرنے والی روایات موجود ہیں ؟ کوئی دو مورد بیان کیجئے ؟

۴۶

درس نمبر ۸ ( منصب امامت )

شیعہ منصب خلافت کو پابند نص کیوں سمجھتے ہیں؟

جواب: دین اسلام ایک عالمی اور زندہ و جاوید دین ہے جب تک پیغمبر اسلام (ص) موجود تھے تو لوگوں کی ہدایت کی ذمہ داری آپ کے کاندھوں پر تھی۔ آپ کی رحلت کے بعد ہدایت اور رہنمائی کی ذمہ داری اس کے سپرد ہونی چاہیے جو امت میں سب سے زیادہ اس عہدہ کے لائق ہو۔

پیغمبر اسلام (ص) کے بعد خلافت کا عہدہ پابند نص ہے یعنی خدا کے حکم سے پیغمبر (ص) کسی کے خلیفہ ہونے کا اعلان کریں گے یا یہ کہ اسے انتخاب کے ذریعہ حل کیا جائے گا؟ اس سلسلہ میں دو نظریئے ہیں :

شیعوں کا عقیدہ ہے کہ منصب خلافت پابند نص ہے اورپیغمبر کے جانشین کو خدا کی طرف سے معین ہونا چاہیے۔

اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ یہ مسئلہ انتخابی ہے یعنی پیغمبر کے بعد ساری امت مل کر کسی ایک فرد کو حکومت اور امت کے امور کی نگرانی کے لیے چن لے گی۔

آنحضرت کے زمانہ کی سیاست کا تجزیہ منصب خلافت کے پابند نص ہونے پر دلیل ہے۔

شیعہ علماء نے عقائد کی کتابوں میں منصب خلافت کے پابند نص ہونے کے بارے

۴۷

میں بہت سی دلیلیں بیان کی ہیں۔ لیکن ہم یہاں عہد رسالت کے حاکم کے شرائط کا تجزیہ پیش کریں گے جس سے شیعوں کے نظریہ کا صحیح اور درست ہونا واضح ہوجائے گا۔

پیغمبر اسلام (ص) کے زمانہ کی داخلی اور خارجی سیاست کا تجزیہ بتاتا ہے کہ آپ(ص) کا جانشین خدا کیطرف سے معین ہونا چاہے۔ اور اس کا اعلان پیغمبر اسلام کی طرف سے کیا جانا ضروری تھا کیونکہ اسلامی معاشرہ کو تین طرف سے خطروں نے گھیر رکھا تھا۔ ایک طرف روم کی شہنشاہیت دوسری طرف ایران کی بادشاہت اور تیسری طرف منافقین کی سازشیں، اس طرح کی چیزوں کو دیکھتے ہوئے مصلحت امت کا تقاضا تھا کہ آنحضرت(ص) اپنا ایک جانشین معین کرکے ساری امت کو متحد کردیں اور داخلی اختلافات کی وجہ سے جو دشمن کو نفوذ کا موقع ملتا ہے اس کا راستہ بند کردیں ۔

وضاحت :

اسلام کو درپیش خطرات کا ایک حصہ روم کی شہنشاہیت تھی جزیرہ عرب کے شمال میں یہ بڑی قدرت کے عنوان سے موجود تھی۔ اور پیغمبر اسلام (ص) کو ہمیشہ اس کا کھٹکا لگا رہتا تھا اپنی عمر کے آخری وقت تک آپ کو اس فکر سے چھٹکارا نہیں مل سکا۔

روم کے عیسائی لشکر سے مسلمانوں کا پہلا ٹکرائو ۸ھ میں سرزمین فلسطین پر ہوا۔ جس میں تین سپہ سالار، جناب جعفرطیار، زید بن حارثہ اور عبداللہ بن رواحہ شہید ہوگے اور مسلمانوں کو شکست ہوئی۔ اس شکست سے قیصر روم کے لشکر کی جرأت بڑھ گئی اور ہر لمحہ ان کے حملے کا خطرہ رہتا تھا۔ اس لیے پیغمبر اسلام (ص) نے ۹ھ میں ایک بڑے لشکر کے ساتھ شام کی طرف کوچ کیا تاکہ کسی بھی قسم کے فوجی اقدام کی بہ نفس نفیس رہبری کریں اِس پر مشقت ِ سفر سے لشکر اسلام اپنی دیرینہ حیثیت بچانے اور سیاسی

۴۸

حیات کی تجدید میں کامیاب ہوا۔

اس سطحی کامیابی سے پیغمبر اسلام (ص) مطمئن نہیں ہوئے اور اپنی بیماری سے چند دنوں پہلے آنحضرت(ص) نے اسامہ بن زید کی سپہ سالاری میں لشکر اسلام کو شام کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا۔

اسلام کا دوسرا دشمن ایران کی شہنشاہیت تھی۔ خسرو ایران کی دشمنی کا یہ عالم تھا کہ اُس نے غصہ میں آکر پیغمبر اسلام (ص) کا خط پھاڑ دیا اور سفیر کی توہین کے ساتھ اُسے نکال دیا۔ اور اس نے یمن کے حاکم کو لکھا کہ پیغمبر اسلام کو گرفتار کرلو اور اگر وہ آسانی سے گرفتار نہ ہوں تو انہیں قتل کردو۔

ایران کا بادشاہ خسرو پرویز اگرچہ آنحضرت (ص) کی حیات طیبہ ہی میں مر گیا مگر یمن کی آزادی اور استقلال کا مسئلہ ایرانی شہنشاہوںکے لیے لمحہ فکریہ بنارہا۔ ایرانی سیاستدانوں کا غرور و تکبر کسی ایسی طاقت کو برداشت نہیں کرسکتا تھا۔

تیسرا خطرہ اُن منافقوں کا تھا جو مسلمانوں کے درمیان بیٹھ کر نفاق کے ذریعہ اسلام کی جڑیں کمزور کرنے میں مشغول تھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے پیغمبر اسلام (ص) کو تبوک اور مدینہ کے درمیان قتل کرنے کا ارادہ بھی کرلیا تھا۔ اور بعض افراد ایسے بھی تھے جو آپس میں یہ کہا کرتے تھے کہ پیغمبر اسلام کے انتقال کے بعد اسلامی تحریک کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اور ہم سب چین کی نیند سوئیں گے۔ منافقین کی تخریبی پالیسیاں اتنی خطرناک تھیں کہ قرآن نے انہیں سورہ آل عمران،نسائ،مائدہ، انفال، توبہ، عنکبوت،

احزاب ، محمد، فتح، مجادلہ، حدید، منافقون میں ذکر کیا ہے۔(۱)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ فروغ ابدیت، (آقا ی جعفر سبحانی) سے اقتباس

۴۹

کیا یہ ممکن ہے کہ اسلام کی گھات میں لگے رہنے والے ایسے قوی دشمنوں کی موجودگی کے باوجود پیغمبر اسلام (ص) نئے اسلامی معاشرہ کے لیے اپنی جانب سے کوئی دینی اور سیاسی رہبر معین نہ کریں؟

اس وقت کے معاشرہ کے حالات کا تجزیہ بتاتا ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) کو ایک جانشین اور رہبر معین کرکے اسلامی اتحاد کو بچانا اور دفاعی طاقت کو مضبوط بنانا ضروری تھا۔ پیغمبر اسلام (ص) کی رحلت کے بعد امت کو افراتفری اور برے حالات _ کہ ہر گروہ یہ کہے کہ أمیر ہم میں سے ہوگا _ سے بچانے کے لیے رہبر کے علاوہ اور کوئی راستہ ممکن نہ تھا۔اس وقت کے یہ تمام حالات منصب خلافت کے پابند نص ہونے کے نظریہ کی درستی اور صحت کی طرف ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔

پیغمبر اسلام (ص) کی طرف سے نص :

پیغمبر اسلام نے معاشرہ کی بنیادی ضرورت کے پیش نظر ابتدائے بعثت سے اپنی عمر کے آخری حصہ تک ہر موقع پر جانشینی اور خلافت کے مسئلہ کا حل پیش کیا۔ آغاز رسالت میں دعوت ذو العشرہ کے موقع پر آپ نے اپنے قریبی رشتہ داروں کے درمیان اس مسئلہ کو واضح کیا۔ اپنی عمر کے آخری ایام میں حجة الوداع سے واپسی کے وقت مقام غدیر پر بھی آپ نے اپنا جانشین اور خلیفہ معین فرمایا، اسکے علاوہ بھی مختلف مناسبتوں کے موقع پر اس مسئلہ کی طرف اشارہ کرتے رہے۔ صدر اسلام کے معاشرتی حالات اور امیر المومنین ـ کی جانشینی کے بارے میں آنحضرت کے ارشادات کے بعد یہ بات واضح اور روشن ہوجاتی ہے کہ خلافت کے مسئلہ کا تنصیبی ہونا ضروری ہے۔

۵۰

سوالات

۱۔پیغمبر اسلام (ص) کے بعد خلافت کا عہدہ پابند ِنص ہے اس سے کیا مراد ہے ؟

۲۔خلافت کے تعیّن کے سلسلے میں اہل سنّت کا نظریہ بیان کیجئے ؟

۳۔خلافت کے تعیّن کے سلسلے میں شیعوں کا نظریہ بیان کیجئے ؟

۴۔ خلافت کا عہدہ پابند ِنص ہے اس نظریہ کی درستی پر دلیل پیش کیجئے ؟

۵۔ پیغمبر اسلام (ص)نے کتنے موارد پر حضرت علی (ع) کی خلافت کا اعلان کیا کوئی دو مورد بیان کیجئے ؟

۵۱

درس نمبر ۹ ( صحابہ کرام )

صحابہ کے بارے میں شیعوں کا کیا نظریہ ہے؟

جواب: جن لوگوں نے پیغمبر اسلام کا دیدار کیا اور آپ کی صحبت اختیار کی شیعوں کی نظر میں ان کی چند قسمیں ہیں اس گفتگو کی وضاحت سے پہلے اجمالی طور پر صحابی کی تعریف کردینا مناسب ہے۔

صحابی کی مختلف تعریفیں کی گئی ہیں جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔

۱ ۔سعید بن مسیب کہتے ہیں: ''صحابی وہ ہے جو ایک یا دو سال تک پیغمبر(ص) کے ساتھ رہا ہو اور ایک یا دوجنگ میں اس نے آپ(ص) کے ساتھ شریک ہوکر جنگ کی ہو۔''(۱)

۲۔ واقدی کہتے ہیں: '' جس نے پیغمبر(ص) کو دیکھا ، اسلام قبول کیا، دین کے مسائل میں غوروفکر سے کام لیا، دین سے راضی رہا وہ ہمارے نزدیک صحابی ہے چاہے وہ پیغمبر(ص) کے ساتھ ایک گھنٹہ ہی کیوں نہ رہا ہو۔''(۲)

۳۔ محمد بن اسماعیل کہتے ہیں: جس مسلمان نے پیغمبر (ص) کی صحبت اختیار کی یا آپ کو دیکھا وہ صحابی ہے۔(۳)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ اسد الغابہ ج۱، ص ۱۱ اور ۱۲(۲)۔ اسد الغابہ ج۱، ص ۱۲ ۔ ۱۱

(۳)۔ اسد الغابہ ج۱، ص ۱۲ ۔۱۱(۱)۔ اسد الغابہ ج۱، ص ۲۱ ۔ ۱۱

۵۲

۴۔ احمد بن حنبل کہتے ہیں: جس نے ایک مہینہ ، ایک دن ، یا ایک گھنٹہ بھی پیغمبر(ص) کی محبت

میں گزارا، یا آپ کی زیارت کی وہ صحابی ہے۔(۱)

دوسری طرف علمائے اہل سنت کے نزدیک ''عدالت صحابہ'' ایک اصل مسلم ہے ۔ ا اس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے پیغمبر(ص) کی صحبت اختیار کی وہ عادل ہے۔(۲)

اب ہم یہاں آیات قرآن کی روشنی میں ان اقوال کو پرکھ کر اس سلسلے میں شیعہ نظریہ بیان کریں گے جو منطق وحی پر استوار ہے۔

تاریخ میں بارہ ہزار سے زیادہ ان افراد کا ذکر موجود ہے جو صحابی پیغمبر(ص) کے نام سے پہچانے جاتے ہیں اور ان میں مختلف قسم کے افراد پائے جاتے ہیں۔

بیشک پیغمبر اسلام(ص) کی صحبت ایک بہت بڑا افتخار ہے جو ایک خاص گروہ کو حاصل ہوا ہے۔ ان افراد کو امت اسلامیہ نے ہمیشہ احترام کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ کیوں کہ وہ دین اسلام کو قبول کرنے والوں میں پیش پیش تھے کہ جنہوں نے سب سے پہلے شوکت اور عزت اسلام کا پرچم لہرایا تھا۔قرآن نے بھی ان پرچم داروں کی تعریف کی ہے :

(لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح و قاتل اولئک اعظم درجة من الذین انفقوا من بَعْد و قاتلوا) (۳)

جن افراد نے فتح مکہ سے پہلے انفاق و جہاد کیا وہ ان لوگوں کے برابر نہیں ہیں جنہوں نے فتح مکہ کے بعد انفاق و جہاد کیا بلکہ ان کا درجہ بلند ہے۔

مگر اس کے ساتھ ساتھ اس حقیقت کا اعتراف کرلینا بھی ضروری ہے کہ پیغمبر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ اسد الغابہ ج۱، ص ۲۱ ۔ ۱۱ (۲)۔ الاستیعاب فی اسماء الاصحاب ج۱، ص ۲، حاشیہ '' الاصابہ''، اسد الغابہ ج۱ص ۳۔ منقول از ابن اثیر۔ (۳)۔ سورہ مبارکہ حدید آیت ۱۰

۵۳

اسلام(ص) کی صحبت کوئی ایسا کیمیا نہیں تھی جو انسان کی ماہیت بدل دے اور آخر عمر تک کی

ضمانت لے لے اور انہیں عادلوں کی فہرست میں قرار دے دے۔

اس مسئلہ کی ضمانت کے لئے مناسب ہے کہ ہم قرآن مجید کا سہارا لیںجس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے۔

صحابہ قرآن کی نظر میں :

منطق وحی میں پیغمبر اسلام(ص) کی صحبت سے شرفیاب ہونے والوں کی دو قسمیں ہیں۔

پہلا گروہ:اس میں وہ افراد شامل ہیں، جن کی قرآن مجید نے مدح و ستائش کی ہے۔اوران کو اسلام کی شان و شوکت کی بنیاد رکھنے والوں میں شمارکیاہے قرآنی آیات کے چند نمونے ملاحظہ ہوں۔

۱۔ سابقین :

(والسَّابقونَ الاوّلون من المهاجرین والانصار والّذین اتبعُوهم باحسان رضی اللّٰه عنهم و رضوا عنه' وَ أَعَدَّ لهم جَنّاتٍ تَجْری من تَحْتِهَا الانهار خالدین فِیْهٰا اَبَدًا ذٰلِکَ الفوز العظیم ) (۱)

'' اور مہاجرین اور انصار میں سے (ایمان کی طرف) سبقت کرنے والے اور وہ لوگ جنہوں نے نیک نیتی سے (قبول ایمان میں) اُن کا ساتھ دیا، خدا اُن سے راضی اور وہ خدا سے خوش اور اُن کے واسطے خدا نے وہ (ہرے بھرے) باغ جن کے نیچے نہریں جاری ہیں تیار کر رکھے ہیں۔ وہ ہمیشہ ابدالاباد تک اُن میں رہیں گے یہی تو بڑی کامیابی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ سورہ توبہ، آیت نمبر ۱۰۰

۵۴

ہے۔ ''

۲۔ درخت کے نیچے بیعت کرنے والے :

( لَقَدْ رَضِیَ اللّٰه عَنِ المُؤمِنِیْنَ اِذْ یُبٰایِعُونَکَ تحت الشجرةِ فَعَلِمَ مَا فِی قُلوبِهِمْ فَأنزلَ السکینة عَلَیهِم وَ أثابَهُمْ فَتْحًا قریبًا ) (۱)

جس وقت مومنین تم سے درخت کے نیچے (لڑنے مرنے) کی بیعت کررہے تھے تو خدا ان سے ( اس بات پر ) ضرور خوش ہوا جو کچھ ان کے دلوں میں تھا خدا نے اُسے دیکھ لیا پھر ان پر تسلی نازل فرمائی۔ اور انہیں اس کے عوض میں بہت جلد فتح عنایت کی۔

۳۔ مہاجرین :

( لِلْفُقراء المُهٰاجِرِیْنَ الَّذِیْنَ أُخرِجُوا مِنْ دِیٰارِهِمْ وَ أَمْوالِهمْ یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْواناً وَ یَنْصُرُونَ اللّٰه وَ رَسُوَله' أُولٰئِکَ هُمُ الصَّادِقُونَ ) (۲)

( اس مال میں) ان مفلس مہاجروں کا (حصہ) بھی ہے جو اپنے گھروں سے اور مالوں سے نکالے اور الگ کئے گئے (اور) خدا کے فضل اور خوشنودی کے طلب گار ہیں۔ اور خدا کی اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں یہی لوگ سچے ایماندار ہیں۔

۴۔ اصحاب فتح :

( مُحمّد رسول اللّٰهِ وَالَّذِیْنَ مَعَه' أَشِدّاء عَلٰی الکفّار رَحْمٰائُ بَینَهُمْ تَرٰیُهُم رُکَّعًا سُجَّدًا یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْوٰاناً سِیْمٰا هُمْ فِی وُجُوهِهمْ مِن أَثَرِ السُّجُودِ)(۳)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ سورہ مبارکہ فتح۔ آیت نمبر ۸ (۱)۔ سورہ مبارکہ حشر، آیت نمبر۸

(۳)۔ سورہ مبارکہ فتح، آیت نمبر ۲۹

۵۵

محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدا کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کافروں پر بڑے سخت اور آپس میں بڑے رحمدل ہیں۔ تو ان کو دیکھے گاکہ (خدا کے سامنے) جھکے سر بسجود ہیں خدا کے فضل اور اس کی خوشنودی کے خواستگار ہیں(کثرت) سجود کے اثر سے ان کی پیشانیوں میں گھٹے پڑے ہوئے ہیں۔

دوسرا گروہ:پیغمبر (ص) کی صحبت اختیار کرنے والوں میں دوسرا گروہ اُن افراد پر مشتمل تھا جو دو چہرے اور بیمار دل تھے، قرآن نے انکی ماہیت کو آشکار کرتے ہوئے پیغمبر اسلام(ص) کو اُن کے وجود سے آگاہ کیا۔ اُن میں سے یہاں چند گروہ کا تذکرہ کررہے ہیں۔

۱۔ جانے پہچانے منافقین :

( اِذَا جٰائَکَ المُنٰافقونَ قَالوا نشهد انّک لَرسول اللّٰهِ واللّٰه یُعلَمُ انّکَ لَرَسُولُهُ وَاللّٰهُ یَشْهَد أَنَّ المُنَافقین لَکٰاذِبُونَ) (۱)

( اے رسول) جب منافقین آپ کے پاس آکر کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں خدا تو جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں وہ (خدا) گواہی دیتا ہے کہ منافقین جھوٹے ہیں۔

۲۔ انجانے منافقین :

(و مِمَّنْ حَوْلَکُم مِنَ الأَعرابِ مُنٰافِقُونَ وَ مِن أهْل المَدِیْنَهِ مَرَدُوا عَلی النّفاقِ لَا تَعْلَمَهُمْ نَحْنُ نَعْلَمَهُم )(۲)

آپ کے اطراف رہنے والے کچھ بادیہ نشین منافق ہیں اور کچھ اہل مدینہ نفاق

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ منافقون از اول تا آخر (۲)۔ سورہ توبہ، آیت نمبر۱۰۱

۵۶

میں ڈوبے ہوئے ہیں آپ ان کو نہیں پہچانتے میں پہچانتا ہوں۔

۳۔ بیمار دل :

(واذ یقول المُنٰافقون والذین فی قلوبهم مَرَض مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ و رَسُولُه' اِلّا غُرُوراً) (۱)

منافقین اور وہ لوگ جن کے دل میں مرض تھا کہنے لگے تھے کہ خدا نے اور اس کے رسول نے ہم سے جو وعدے کیے وہ بالکل فریب تھے۔

۴۔ گناہ گار :

( و آخَرُونَ اعتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا عَمَلاً صالِحًا وَ آخَرَ سَیِّئًا عسیٰ اللّٰهُ اَنْ یتوبَ عَلَیْهِمْ اِنّ اللّٰه غفور رَحِیْم ) (۲)

اور کچھ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا تو اقرار کیا (مگر ) ان لوگوں نے بھلے کام اور کچھ برے کام کو ملا جلا دیا۔ قریب ہے کہ خدا ان کی توبہ قبول کرے۔ خدا تو یقینا بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔

قرآن مجید کی آیات کے علاوہ پیغمبر اسلام(ص) کی بہت سی روایتیں بعض اصحاب کی مذمت میں وارد ہوئی ہیں جن میں سے دو مثالیں ملاحظہ ہوں۔

۱۔ ابو حازم نے سہل بن سعد سے روایت کی ہے کہ آنحضرت(ص) نے فرمایا :

میں تم کو اس حوض کی طرف بھیج رہا ہوں جہاں وارد ہونے والا اس سے سیراب ہوتا ہے اور جو اس سے سیراب ہو وہ ابد تک کبھی پیاسا نہیں ہوتا کچھ افراد وہاں میرے

پاس آئیں گے جن کو میں پہچانتا ہوں گا اور جو مجھے پہچانتے ہوں گے۔ پھرہمارے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ سورہ مبارکہ احزاب، آیت نمبر ۱۲ (۲)۔ سورہ مبارکہ توبہ، آیت نمبر ۱۰۲

۵۷

اور ان کے درمیان جدائی ہوجائے گی۔

ابو حازم کہتے ہیں کہ جب میں اس روایت کو بیان کررہا تھا تو نعمان بن ابی عیاش نے اِسے سن کر کہا کہ کیا آپ نے سھل سے اسی طرح سنا ہے؟ میں نے کہا ''ہاں'' تو ابو حازم نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ ابو سعید خدری نے اس حدیث میں پیغمبر اسلام(ص) کی زبانی کچھ زیادہ بیان کیا ہے۔

(انّهم منّی فیقال انّک لا تدری ما احد ثوا بعدکَ فاقول سحقًا لِمَنْ بدّل بعدی ) (۱)

'' یہ لوگ مجھ سے ہیں تو کہا جائے گا کہ آپ کو نہیں معلوم کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کیا کیا پھر میں کہوونگا کہ رحمت خدا سے دور ہوجائے جس نے احکام خدا کو بدل دیا۔ ''

'' میں ان کو پہچانتا ہوں گا اور وہ مجھے پہچانتے ہوں گے '' اور میرے بعد بدل ڈالا، یہ دونوں جملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس سے مراد آنحضرت کے وہ اصحاب ہیں جو مدتوں آپ(ص) کے ساتھ رہے۔ (اس حدیث کو بخاری اور مسلم دونوں نے روایت کیا ہے )

۲۔ بخاری اور مسلم نے پیغمبر اسلام(ص) سے روایت نقل کی ہے۔

'' قیامت کے دن میرے اصحاب میں سے کچھ افراد۔ یا آپ نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ افراد میرے پاس آئیں گے پھر حوض کوثر سے دور ہٹا دیئے

جائیں گے۔ پھر میں کہوونگا کہ پالنے والے یہ میرے اصحاب ہیں ۔ تو خدا فرمائے گا :

آپ(ص) کے بعد اِن لوگوں نے جو کچھ کیا آپ کو نہیں معلوم وہ اپنی سابقہ حالت کی طرف

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱) جامع الاصول (ابن اثیر)، ج۱۱ ص ۱۲۰ ح ۷۹۷۲

۵۸

پلٹ گئے تھے۔(۱)

نتیجہ :

قرآنی آیات اور پیغمبر اسلام(ص) کی احادیث کے مطالعہ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ آنحضرت (ص) کی صحبت میں رہنے والے تمام افراد ایک جیسے اور ایک سطح کے نہیں تھے، ایک گروہ وہ تھا جو پاکیزگی اور شائستگی کی بلندیوں پر فائز تھا۔ ان کی خدمات اسلام کی سربلندی اور سرفرازی کا سبب بنیں۔ اور دوسرا گروہ وہ تھا جو شروع ہی سے دو چہرے رکھتا تھا۔ جو منافق ، بیمار دل، اور گناہ گار تھا۔

بیان گذشتہ کی روشنی میں پیغمبر اسلام (ص) کے اصحاب کے بارے میں شیعوں کا نکتہ نظر واضح ہوجاتا ہے۔ یہ وہی نظریہ ہے جو قرآن مجید اور پیغمبر اسلام(ص) کی سنت سے حاصل ہوتا ہے۔

سوالات

۱۔اہل سنت کی نظر میں صحابہ کی تعریف کیجئے؟

۲۔قرآن کی نظر میں صحابہ کے کتنے گروہ ہیں ؟

۳۔صحابہ کے بارے میں شیعوں کا نکتہ نظر بیان کیجئے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ جامع الاصول ج۱۱، ص ۱۲۰، ح۷۹۷۳

۵۹

درس نمبر ۱۰

( شفاعت )

اسلام کے مسلم اصولوں میں سے ایک شفاعت ہے جسے تمام اسلامی فرقوں نے قرآن اور روایات کی پیروی کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے اگرچہ شفاعت کے نتیجہ میں نظریاتی اختلاف پایا جاتا ہے۔ شفاعت کی حقیقت یہ ہے کہ ایک محترم انسان جو خدا کے نزدیک تقرب اور خاص منزلت رکھتا ہو دوسرے انسان کی گناہوں کی بخشش یا اس کے درجات کی بلندی کا خداوند متعال کی بارگاہ میں خواستگار ہو۔

پیغمبر اسلام(ص) نے فرمایا :

'' أُعْطَیْتُ خمسْاً ---- وَ أُعطِیْتُ الشَّفَاعَةَ فاَدّخَرْتُهٰا لِأُمّتِي'' (۱)

مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئیں ۔۔۔ مجھے حق شفاعت عطا کیا گیا لہٰذا میں نے اس کو اپنی امت کے لیے ذخیرہ کرلیا۔

شفاعت کے حدود :

پہلی بات تو یہ کہ شفاعت کرنے والے کو خدا کی طرف سے شفاعت کرنے کی اجازت حاصل ہو۔ لہٰذا صرف وہی گروہ شفاعت کرنے کا مجاز ہے جو تقرب الٰہی کے ساتھ ساتھ اس سے شفاعت کرنے کی اجازت بھی حاصل کرچکا ہو۔ قرآن مجید میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔مسند احمد ، ج۱، ص ۳۰۱، صحیح بخاری ج۱، ص ۹۱

۶۰

اس سلسلے میں ارشاد ہوتا ہے۔

(لا یملکونَ الشفاعة اِلّا من اتخذ عند الرحمٰن عَهْدًا ) (1)

کوئی شخص بھی شفاعت کرنے کا حق نہیں رکھتا مگر جس نے خدا سے شفاعت کا عہد لے لیا ہو۔

( یَوْمَئِذٍ لا تنفع الشفاعة الّا من اذن له الرحمٰن و رَضِیَ لَه' قَوْلاً ) (2)

قیامت کے دن کسی کے بارے میں کسی کی شفاعت سودمند نہیں ہوگی، مگر اس شخص کی شفاعت جس کو خدا نے اجازت دی ہو اور جس کے قول سے راضی ہو۔

دوسری بات یہ کہ جس کی شفاعت کی جائے اس کے اندر شفاعت کرنے والے کے ذریعہ فیض الٰہی حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہو یعنی خدا سے ایمانی رشتہ اور شفاعت کرنے والے سے اس کا روحانی رشتہ منقطع نہ ہو۔ لہٰذا کفار جن کا خدا سے ایمانی رابطہ نہیں ہے یا مسلمانوں میں سے بعض گناہگار افراد کہ جن کا شفاعت کرنے والے سے کوئی رابطہ نہیں ہے جیسے بے نمازی، قاتل وغیرہ کی شفاعت نہیں ہوگی۔

قرآن بے نمازیوں اور منکرین معاد کے لیے فرماتا ہے :

(فَمٰا تَنْفَهُم شفاعة الشافعین) (3)

اس وقت شفاعت کرنے والوں کی شفاعت ان کے کام نہیں آئے گی۔

ظالموں اور ستمگاروں کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے۔

ما للظلمین من حمیم ولا شفیع یطاع (4)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1) سورہ مبارکہ مریم ، آیت نمبر 87 (2)سورہ مبارکہ طٰہٰ ، آیت نمبر109 (3)۔ سورہ مبارکہ مدثر، آیت نمبر 48 (4)۔ سورہ مبارکہ مؤمن، آیت نمبر 18

۶۱

ظالموں کا نہ کوئی سچا دوست ہوگا اور نہ کوئی شفاعت کرنے والا جس کی بات مانی جائے۔

فلسفہ شفاعت :

جو افراد گمراہی اور معصیت میں پڑے ہیں ان کے لیے شفاعت توبہ کی طرح امید کی ایک کرن ہے کہ وہ گناہوں کو چھوڑیں اور باقی زندگی خدا کی اطاعت و فرماں برداری میں بسر کریں،کیونکہ ایک گناہگار انسان کو جب اس بات کا احساس ہوجاتا ہے کہ محدود شرائط کے ساتھ شفاعت کرنے والے کی شفاعت حاصل ہوسکتی ہے تو وہ کوشش کرتا ہے کہ ان شرطوں کا پاس اور لحاظ کرکے معین کی ہوئی حدود سے آگے نہ بڑھے۔

شفاعت کا نتیجہ :

بعض مفسرین اسلام کی نظر یہ ہے کہ شفاعت کے ذریعہ گناہ بخشے جاتے ہیں جبکہ بعض کے نکتہ نظر سے شفاعت درجات میں بلندی کا سبب ہے۔

سوالات

1۔شفاعت سے کیا مراد ہے ؟

2۔شفاعت کی حدود بیان کیجئے ؟

3۔شفاعت کا فلسفہ کیا ہے ؟

4۔شفاعت کانتیجہ کیا ہے ؟

۶۲

دوسرا حصہ ( احکام )

۶۳

سبق نمبر11 ( تقلید )

خداوند عالم نے ہماری سعادت اور دنیا و آخرت میں نجات کے لئے تمام احکام و قوانین کو اپنے نبی (ص) کے ذریعہ لوگوں تک پہنچایا اور آپ (ص) نے اس امانت عظمیٰ کو ائمہ طاہرین کوودیعت اعطا فرمایا ہے اور حضرت کے جانشین اور خلفائے برحق نے اپنی عمر کے تمام نشیب و فراز میں اس ذمہ داری کو پہنچانے کی کوشش فرمائی ہے جو آج تک ان تمام ادوار کو طے کرتے ہوے ہمارے سامنے حدیثوں اور روایتوں کی کتابوں میں موجود ہیں ۔

اس زمانہ میں چونکہ امام زمانہ تک ہماری رسائی ممکن نہیں ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں اور وظائف کو حضرت سے دریافت کر سکیں ،لہذا مجبور ہیں کہ حدیثوں اور قرآنی آیات سے احکام کا استنباط کریں اور اگر اس پر بھی قادر اور دست رسی نہیں رکھتے تو ضروری ہے کہ کسی مجتہد اعلم (سب سے زیادہ علم رکھنے والا )کی تقلید کریں ۔

روایات و احادیث میں کھری کھوٹی ، صحیح و غلط وضعی جعلی سب ہی موجود ہیں روایات کے اس سمندر سے گوہر کا الگ کرنا ہر ایک کے بس کا م نہیں ہے اس لئے ضروری ہے کہ ایسے افراد کا انتخاب کیا جائے جو اس بحر بیکراں میں غواصی کر رہے ہوں ، جو اس سمندر کے طغیان اور طوفان سے خوب واقف ہوں جنھوں نے اس کو حاصل کرنے کے لئے رات و دن نہ دیکھا ، عمر کے لمحات کو نہ شمار کیا ہو ، علوم کے سمندر کی تہہ میں بیٹھے ہوں اس

۶۴

کی راہوں سے خوب واقف ہوں اس میں سے گوہر و موتی نکالنے میں ان کے لئے کوئیمشکل کام نہ ہو ، ایسے افراد کو مجتہد کہتے ہیں ۔

لہذا ہم مجبور ہیں کہ اپنی ذمہ داریوں کو طے کرنے کے لئے ان کے دامن کو تھامیں کیونکہ اس کام کے ماہر وہی ہیں ، مریض ڈاکٹر ہی کے پاس تو جائے گا ، یہ ایک عقلی قاعدہ ہے جس چیز کے متعلق معلوم نہیں اس علم کے ماہر و متخصص سے ہی اس کے بارے میں پوچھا جائے اور حضرات ائمہ طاہرین علیہم السلام نے بھی دور دراز رہنے والوں کے لئے قریب کے عالم کی طرف راہنمائی فرمائی ہے ۔

البتہ تقلید میں یہ چیز ذہن نشین رہے ، کہ ایسے مجتہد کی تقلید کی جائے جو تمام مجتہدین میں اعلم ( جو احکام خدا کو سمجھنے میں سب سے زیادہ جاننے والا ہو ) عادل و پرہیز گار ہو پس اس کے حکم کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے ، مجتہدین اکثر موارد میں اتفاق نظر رکھتے ہیں ، سوائے بعض جزئیات کے کہ جس میں اختلاف پایا جاتا ہے، ہو سکتا ہے کہ ان جزئیات میں ان کے فتوے ایک دوسرے سے مختلف ہوں۔ اس مقام پر یہ بھی ذکر کرنا ضروری ہے کہ خداوند عالم کے پاس فقط ایک حکم موجود ہے اس کے علاوہ کوئی حکم نہیں پایا جاتا وہی حق ہے، اور حکم حقیقی و واقعی فتویٰ کے بدلنے سے تبدیل نہیں ہوتا ہے ، مجتہدین بھی نہیں کہتے ہیں کہ خدا کے نظریات و احکام ہمارے نظریات و خیالات کے تابع ہیں یا ہمارے حکم کی تبدیلی سے خدا کا حکم بدل جاتا ہے۔

پھر آپ ہم سے یہ سوال کرنے پر مجبور ہوجائیں گے :اگر حکم خدا ایک ہے تو پھر مجتہدین کے فتوے میں اختلاف کیوں پایا جاتا ہے ؟

ایسی صورت میں آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ : فتویٰ میں اختلاف ان وجوہ

۶۵

میں سے کسی ایک کی بنا پر ممکن ہے ۔

پہلا : کبھی ایک مجتہد حکم واقعی کو سمجھنے میں شک کرتا ہے تو اس حال میں قطعی حکم دینا ممکن نہیں ہوتا لہذا احتیاط کی رعایت کرتے ہوئے مطابق احتیاط فتویٰ دیتا ہے تاکہ حکم الٰہی محفوظ رہے ، اور مصلحت واقعی بھی نہ نکلنے پائے ۔

دوسرا : کبھی اختلاف اس جہت سے ہوتا ہے ، کہ دو مجتہدین جس روایت کو دلیل بنا کر فتویٰ دیتے ہیں وہ روایت کو سمجھنے میں اختلاف نظر رکھتے ہیں ، ایک کہتا ہے امام اس روایت میں یہ کہنا چاہتے ہیں اور دوسرا کہتا ہے امام کا مقصود دوسری چیز ہے ، اس وجہ سے ہر ایک اپنی سمجھ کے مطابق فتویٰ دیتا ہے ۔

تیسرا : حدیث کی کتابوں میں کسی مسئلہ کے اوپر کئی حدیثیں موجود ہیں جو باہم تعارض رکھتی ہیں فقیہ ان میں سے ایک کو دوسرے پر ترجیح دے کراس کے مطابق فتویٰ دیتا ہے ۔

یہاں ممکن ہے کہ مجتہدین کا نظریہ ایک دوسرے سے مختلف ہو، ایک کہے فلاں اور فلاں جہت سے یہ روایت اس روایت پر مقدم ہے اور دوسرا کہے ، فلاں و فلاں جہت سے یہ روایت اس روایت پر ترجیح رکھتی ہے پس ہر ایک اپنے مد نظر روایت کے مطابق فتویٰ دیتا ہے ۔

البتہ اس طرح کے جزئی اختلافات کہیں پر ضرر نہیں پہونچاتے بلکہ محققین اور متخصصین و ماہرین کے نزدیک ایسے اختلافی مسائل پائے جاتے ہیں آپ کئی انجینیر ، اور مہارت رکھنے والے کو نہیں پا سکتے جو تمام چیزوں میں ہم عقیدہ و اتفاق رای رکھتے ہوں ۔

۶۶

ہم مذکورہ مطالب سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں :

1 : تقلید کرنا کوئی نئی بات نہیں ، بلکہ ہر شخص جس فن میں مہارت نہیں رکھتا ہے اس فن میں اس کے متخصص وماہر کے پاس رجوع کرتا ہے ، جیسے گھر وغیرہ بنوانے کے معاملہ میں انجینیراور بیماری میں ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں ،پس احکام الٰہی حاصل کرنے کے لئے مرجع تقلید کی طرف رجوع کریں اس لئے کہ وہ اس فن کے متخصص و ماہر ہیں ۔

2۔ مرجع تقلید : من مانی اور ہوا و ہوس کی پیروی میں فتویٰ نہیں دیتے بلکہ تمام مسائل میں ان کا مدرک قرآن کی آیات و احادیث پیغمبر (ص) اور ائمہ طاہرین ہوتی ہے ۔

3 : تمام مجتہدین ، اسلام کے کلی مسائل بلکہ اکثر مسائل جزئی میں بھی ہم عقیدہ اور نظری اختلاف نہیں رکھتے ہیں ۔

4 : بعض مسائلِ جزئیہ جس میں اختلاف ِنظر پایا جاتا ہے وہ اس وجہ سے نہیں ہے کہ مجتہدین اختلاف کرنا چاہتے ہیں بلکہ تمام مجتہدین چاہتے ہیں کہ حکم واقعی خدا جو کہ ایک ہے اس کو حاصل کرکے مقلدین تک پہنچائیں ، لیکن استنباط اور حکم واقعی کے سمجھنے میں اختلاف پیدا ہوجاتا ہے پھراس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ جو کچھ سمجھا ہوا ہے اس کو بیان کر یں ا ور لکھیں جب کہ حکم واقعی ایک حکم کے علاوہ نہیں ہے ۔ مقلدین کے لئے بھی کوئی صورت نہیں ہے مگر اعلم کے فتوے پر عمل کریںاور یہی انکا وظیفہ شرعی ہے

5 : جیسا کہ پہلے بیان ہوا کہ دنیا کا ہر متخصص و محقق و ماہر چاہے جس فن کے بھی ہوں ان کے درمیان اختلاف نظر پایا جاتا ہے ، لیکن لوگ امر عادی سمجھتے ہوئے اس پر خاص توجہ نہیں دیتے ہیں اور اس سے اجتماعی امور میں کوئی رخنہ اندازی بھی نہیں ہوتی ہے ۔

مجتہدین کے بعض جزئیات میں اختلافی فتوے بھی اس طرح کے ہیں ، اس کو امر غیر

۶۷

عادی نہیں شمار کرنا چاہیے ۔

6 : ہمیں چاہیے کہ ایسے مجتہد کی تقلید کریں جو تمام مجتہدین سے اعلم ہو ، اور احکام الٰہی کے حاصل کرنے میں سب سے زیادہ مہارت رکھتا ہو نیز عادل و پرہیز گار جو اپنے وظیفہ و ذمہ داری پر عمل کرتا ہو اور قانون و شریعت کی حفاظت کے لئے کوشاں ہو۔

سوالات

1۔ تقید سے کیا مراد ہے ؟

2۔ کیسے مجتہد کی تقلید کی جائے؟

3۔مجتہدین کے فتوے میں اختلاف کیوں پایا جاتا ہے ؟

۶۸

درس نمبر12 ( طہارت و نجاست )

نمازکو انجام دینے سے پہلے نماز گزار کو جن مسائل کی طرف توجہ دینی چاہئے ان میں سے ایک طہارت ہے۔طہارت سے مراد صفائی نہیں کیونکہ ممکن ہے کوئی چیز صاف ہو لیکن اسلامی احکام کی نگاہ سے پاک نہ ہوطہارت سے مراد یہ ہے کہ نماز گزار اپنے بدن ولباس کو ناپاک چیزوں (نجاسات ) سے پاک رکھے اور نجاسات سے پاکی کے لئے ان کی پہچان اورنجس چیزوں کو پاک کرنے کے طریقے سے آگاہ ہونا ضروری ہے، لہٰذا پہلے اسے بیان کرتے ہیں البتہ نجاسات کو جاننے سے پہلے اسلام کے ایک کلی قاعدہ کی طرف توجہ ہونا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ

'' دنیا میں9چیزوں کے علاوہ تمام چیزیں پاک ہیں، مگریہ کہ کوئی چیزان9چیزوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ملنے کی وجہ سے نجس ہوجائے۔ ''

وہ 9 چیزیں یہ ہیں : ا۔پیشاب 2۔پائخانہ 3۔ منی 4۔خون 5۔مردار

6۔ کتّا 7۔سور 8۔کافر(جو کسی بھی آسمانی دین پر عقیدہ نہیں رکھتا ) 9۔مست کردینے والے مشروبات

مندرجہ بالا 9چیزوں کو ''نجاسات '' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے

۶۹

پاک چیز کیسے نجس ہوجاتی ہے؟

گزشتہ یہ بیان ہوا کہ دنیا میں چند چیزوں کے علاوہ تمام چیزیں پاک ہیں ،لیکن ممکن ہے پاک چیزیں بھی نجس چیزوں کے ساتھ ملنے کی وجہ سے نجس ہوجائیں، اس صورت میں کہ ان دو ( پاک ونجس)میں سے کوئی ایک چیز گیلی ہواور اس کی رطوبت دوسری چیزمیں منتقل ہوجائے۔

نجس چیز کیسے پاک ہوتی ہے؟

تمام نجس چیزیں پاک ہوجاتی ہیں اور پاک کرنے والی چیزیں جنہیں مطہرات کے

نام سے یاد کیاجاتاہے حسب ذیل میں :

1۔پانی۔ 2۔ زمین۔ 3۔سورج 4۔ اسلام۔

5۔استحالہ 6۔ اانتقال 7۔تبعیت 8۔ نجاست کازائل ہونا

9۔نجاست کھانے والے جانور کا استبراء 10۔مسلمان کا غایب ہونا ۔

1۔پانی

برتنوں کو پاک کرنے کا طریقہ

نجس برتن کو قلیل پانی کے ساتھ تین مرتبہ دھویا جائے ۔لیکن کر اور جاری پانی میں ایک بار کافی ہے ۔

برتنوں کے علاوہ دوسری چیزوں کو پاک کرنے کا طریقہ

٭۔جو چیز نجس ہوگئی ہے عین نجاست دور کرنے کے بعد ایک بار اسے کر یا جاری پانی میں ڈبودیا جائے یا کر سے متصل پانی کی ٹوٹی یا دھار کے نیچے رکھ دیا جائے اس طرح کہ پانی تمام نجس شدہ جگہوں تک پہنچ جائے تو وہ پاک ہو جائے گی ۔ اور اگر لباس وغیرہ ہے تو

۷۰

بنا بر احتیاط واجب پانی میں ڈبونے کے بعد اسے نچوڑایا جھاڑاجاے ،البتہ یہ ضروری نہیں ہے کہ نچوڑنا اور جھاڑنا پانی کے باہر ہو بلکہ پانی کے اندر بھی کافی ہے۔

٭جو چیز پیشاب کی وجہ سے نجس ہوگئی ہے ۔عین نجاست کے برطرف ہونے کے بعد قلیل پانی دو مرتبہ اس پر ڈالنے سے وہ پاک ہوجائے گی ۔اور جو چیز دوسری نجاسات کی وجہ سے نجس ہو جائے ۔عین نجاست کے برطرف ہونے کے بعد ایک مرتبہ دھوئی جائے تو وہ پاک ہو جائے گی ۔

٭جس چیز کو قلیل پانی سے دھویا جائے تو ضروری ہے کہ جو پانی اس پر ڈالا جارہا ہے وہ اس سے جدا ہو اور اگر نچوڑنے کے قابل ہے مثلاًلباس وغیرہ تو اسے نچوڑا اور جھاڑا جائے ۔تاکہ پانی اس سے جدا ہو جائے ۔

٭نجس چٹائی کارپٹ وغیرہ کو جب (گھروں میں سپلائی شدہ )ٹوٹی کے پانی سے پاک کیا جائے تو غسالہ کے پانی کا جدا ہونا ضروری نہیں ہے ۔بلکہ پانی کے نجس جگہ پہنچ جانے ۔عین نجاست کے برطرف ہونے اور پانی ڈالتے وقت ہاتھ کے ذریعہ سے غسالہ (دھون )کو اپنی جگہ سے حرکت دینے سے طہارت حاصل ہو جائے گی ۔

٭۔تندو رکا ظاہر جو نجس پانی ملی مٹی سے بنایا گیا ،دھونے سے پاک ہوجائے گا اور تندور کے ظاہری حصے کی پاکی کہ آٹا جس کے ساتھ لگتا ہے،روٹی پکنے کے لئے کافی ہے۔

٭۔وہ نجس لباس جو پاک کرتے وقت پانی کو رنگین کردیتے ہیں چنانچہ لباس کا رنگ دینا ،پانی کو مضاف کرنے کا باعث نہ بنے تو نجس لباس پر ڈالنے سے وہ ہو جائیں گے

٭۔وہ نجس لباس جو پانی پھیرنے کے لئے کسی برتن میں رکھے جاتے ہیں اگر ٹوٹی کا

۷۱

پانی ان پر اس طرح ڈالا جائے کہ پانی ساری جگہ جائے تو کپڑے ،برتن ،پانی اور کپڑوں سے جدا ہونے والے دھاگے وغیرہ جو پانی کے ساتھ باہر نکل آتے ہیں وہ سب پاک ہیں (البتہ جیسا کہ پہلے کہا گیا ہے کہ کپڑوں وغیرہ کے حوالے سے احتیاط یہ ہے کہ پانی میں غوطہ دینے کے بعد انہیں نچوڑیا جھاڑلیا جائے ۔ )

2۔زمین: زمیں پر چلتے ہوئے اگر پائوں کے تلوے یا جوتے کا تلا نجس ہوجائے تو پاک اور خشک زمین پر دس قدم چلنے سے پاک ہوجاتے ہیں۔ بشرطیکہ نجاست دور ہوجائے۔

یاددہانی :

تارکول والی زمین پاؤں کے تلؤؤں یا جوتوں کی تہوں کوپاک نہیں کرتی

3۔سورج :زمین،اور تمام غیر منقول اشیاء جیسے ،درخت ، نباتات،عمارت اور وہ چیزیں جو عمارت میں نصب کی جاتی ہیں، جیسے دروازہ اور کھڑکی وغیرہ.کو پاک کردیتا ہے

4۔اسلام :کافر، اگر مسلمان ہوجائے توتمام بدن پاک ہوجاتاہے

5۔استحالہ:اگر نجس چیز مکمل طور سے کسی دوسری چیز میں تبدیل ہوجائے تو وہ پاک ہوجائے گی ۔جیسے انسان یا حیوان کا پائخانہ مٹی بن جائے یا جل کر راکھ ہوجائے ۔

6۔انتقال:اگر کسی انسان یا حیوان کا خون کسی ایسے جانور میں منتقل ہوجائے کہ جو خون جھندہ نہ رکھتاہو(یعنی ذبح کے وقت اسکا خون اچھل کر نہ نکلتا ہو) جیسے مچھر وغیرہ اور کہا جائے کہ یہ خون اس جانور کا ہے تو یہ خون پاک ہے ۔

7۔تبعیت:ایک نجس چیز دوسری نجس چیز کے پاک ہونے سے پاک ہوجاتی ہے ۔جیسے اگر شراب سرکہ میں تبدیل ہوجائے تو اسکا برتن بھی خود بخود پاک ہوجاتاہے

۷۲

8 ۔عین نجاست کا برطرف ہونا:دومواقع پر عین نجاست کے برطرف ہونے سے نجس چیز پاک ہوجاتی ہے اور پانی ڈالنے کی ضرورت نہیں :

الف: حیوان کا بدن، مثلا ایک پرندہ کی چونچ نجاست کھانے کی وجہ سے نجس ہوگئی ہوتو نجاست برطرف ہونے پر پاک ہوجاتی ہے۔

ب۔ انسان کے بدن کا اندرونی حصہ، جیسے منھ، ناک اور کان کا اندرونی حصہ ۔مثلاً اگر مسوڑوں سے خون آئے، اور یہ خون آب دہن میں مل کر ختم ہوجائے توانسان کا منھ پاک ہے اوراس میں پانی ڈالنے کی ضروت نہیں۔

9۔نجاست کھانے والے جانور کا استبراء :نجاست خوار جانور کو ایک معین مددت تک خالص پاک غذاکھلانے سے اس کا استبراء ہوجاتا ہے ۔

10۔مسلمان کا غایب ہونا ۔جب یقین ہو کہ کسی مسلمان کا جسم ، لباس یا اسکی کویء چیز نجس ہے کچھ مددت کے بعد دیکھے کہ وہ چیز کو جوپہلے نجس تھی اب اسے پاک چیز کے طور پر استعمال کررہا ہے ۔تو اسے پاک ہی تصور کرنا چاہیے ۔البتہ اس میں شرط یہ ہے کہ وہ شخص جسکی چیز ہے وہ اسکے نجس ہو نے کے بارے میں باخبر ہو اور طہارت اور نجاست کے احکام سے آگاہ ہو۔

سوالات

1۔طہارت سے کیا مراد ہے ؟

2۔نجاسات کے نام بتایئے

3۔پاک چیز کیسے نجس ہوجاتی ہے؟

۷۳

4۔مطہرات کے نام بتائیے

5۔نجس برتن کو کیسے پاک کرتے ہیں ؟

6۔نجس لباس اور فرش کو پاک کرنے کا طریقہ بیان کیجئے

7۔ زمین کن چیزوں کو پاک کرتی ہے ؟

۷۴

درس نمبر13 ( وضو )

نماز گزار کو نماز پڑھنے سے پہلے ، وضو کرنا چاہئے اور اپنے آپ کو اس عظیم عبادت کو انجام دینے کے لئے آمادہ کرنا چاہئے۔

بعض مواقع پر''غسل'' کرنا چاہئے، یعنی پورے بدن کو دھونا اور اگر وضو یا غسل کرنے سے معذور ہوتو، ان کی جگہ پر ایک دوسرا کام بنام''تیمم'' بجالائے

وضو کا طریقہ :

وضو میںمستحب یہ ہے کہ سب سے پہلے دومرتبہ کلائی تک ہاتھ دھویں پھرتین مرتبہ کلّی کریں اور تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالیں اس کے بعد واجب یہ ہے کہ چہرے کو دھوئیں پھردائیں ہاتھ کواور پھر بائیں ہاتھ کوکہنیوںسے لیکر انگلیوں کے سرے تک دھوئیں ، ان اعضاء کو دھونے کے بعد، ہتھیلی میں بچی رطوبت سے سرکا مسح کریں یعنی بائیں ہاتھ کو سرپر کھینچ لیں اور اس کے بعد دائیں پائوںکا اور پھر بائیں پائوں کا مسح کریں۔ ا ب وضو کے اعمال سے مذید آگاہی کے لئے درج ذیل خاکہ ملا حظہ فرمائیں :

اعمال وضوکی وضاحت :

٭ چہرہ دھونے کی حدود :

٭لمبائی میں پیشانی کے اوپر بال اگنے کی جگہ سے لیکر ٹھوڑی کے آخر تک

چوڑائی میں چہرے کا وہ حصہ جو انگوٹھے اور درمیانی انگلی کے درمیان واقع ہے۔

۷۵

٭ ۔ اوپر سے نیچے کی طرف دھویا جائے ۔

٭اگر چہرے پر بال ہوں تو بالوں کے اوپر ہی دھولینا کافی ہے اور ضروری نہیں ہے کہ وضو کا پانی چہرے کی جلد تک پہنچے ،البتہ اگر بال اس قدر کم ہوں کہ چہرے کی جلد واضح نظر آئے تو پھر جلد تک پانی پہنچانا ضروری نہیں ہے ۔

دھونے کا معیار یہ ہے کہ پانی تمام عضو تک پہنچے ،اگرچہ ہاتھ پھرنے کے ذریعہ سے ہی ہو اور فقط گیلے ہاتھ کے ساتھ اعضا ء کومسح کردینا کافی نہیں ہے۔

٭ سرکا مسح:1۔ مسح کی جگہ: سرکا اگلا ایک چوتھائی حصہ جو پیشانی کے اوپر واقع ہے۔

2۔ مسح کی واجب مقدار: جس قدر بھی ہوکافی ہے(اس قدر کہ دیکھنے والا یہ کہے کہ مسح کیاہے)۔

3۔ مسح کی مستحب مقدار: چوڑائی میں جڑی ہوئی تین انگلیوں کے برابر اور لمبائی میں ایک انگلی کی لمبائی کے برابر۔

4۔ ضروری نہیں ہے کہ مسح، سرکی کھال پر کیا جائے بلکہ سرکے اگلے حصے کے بالوں پر بھی صحیح ہے۔ اگر سرکے بال اتنے لمبے ہوں کہ کنگھی کرنے سے بال چہرے پر گرجائیں تو سرکی کھال پر یا بالوں کی جڑ پر مسح کیا جائے گا ۔

5۔ سرکے دیگر حصوں کے بالوں پر مسح جائز نہیں ہے اگرچہ وہ بال سرکے اگلے حصے یعنی مسح کی جگہ پر ہی کیوں نہ جمے ہوئے ہوں۔

٭ پا ؤں کا مسح :

1۔مسح کی جگہ: پائوں کا اوپر والاحصہ۔

2۔ مسح کی واجب مقدار: لمبائی میں انگلیوں کے سرے سے پائوں کے اوپر والے حصے

۷۶

کی ابھار تک اور چوڑائی میں جس قدر بھی ہو کافی ہے اگر چہ ایک انگلی کے برابر ہو۔

3۔ مسح کی مستحب مقدار: پائوں کا اوپر والا پورا حصہ ہے۔

سراور پاؤںکے مسح کے مشترک مسائل :

1۔ مسح میں ہاتھ کو سراور پائوںپر کھینچنا چاہئے اور اگر ہاتھ کو ایک جگہ قرار دے کر سریاپائوں کو اس پرکھنچ لیا جائے تو وضو باطل ہے، لیکن اگر ہاتھ کو کھینچتے وقت سریا پائوں میں تھوڑی سی حرکت پیدا ہوجائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

2۔ اگر مسح کے لئے ہتھیلی میں کوئی رطوبت باقی نہ رہی ہو تو ہاتھ کو باہر کے کسی پانی سے تر نہیں کرسکتے ،بلکہ وضو کے دیگر اعضاء سے رطوبت کو لے کر اس سے مسح کیا جائے گا۔

3۔ ہاتھ کی رطوبت اس قدر ہونا چاہئے کہ سراور پائوں پر اثر کرے۔

4۔مسح کی جگہ (سر اور پائوں کا اوپر والا حصہ)خشک ہونا چاہئے،اس لحاظ سے اگر مسح کی جگہ تر ہو تو اسے پہلے خشک کرلینا چاہئے، لیکن اگر رطوبت اتنی کم ہو کہ ہاتھ کی رطوبت کے اثر کے لئے مانع نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔

بیان ہونے والے شرائط کے ساتھ وضو صحیح ہے،اور ان میں سے کسی ایک کے نہ ہونے پر وضو باطل ہے۔

وضو کے پانی اور اس کے برتن کے شرائط

1۔نجس او رمضاف پانی سے وضو کرنا باطل ہے،خواہ جانتا ہو کہ پانی نجس یامضاف ہے یا نہ جانتا ہو، یا بھول گیا ہو۔

2۔وضو کا پانی مباح ہونا چاہئے،اس لحاظ سے درج ذیل مواقع پر وضو باطل ہے :

٭ اس پانی سے وضو کرنا،جس کا مالک راضی نہ ہو(اس کا راضی نہ ہونا معلوم ہو )

٭ اس پانی سے وضو کرنا،جس کے مالک کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ راضی ہے یا

۷۷

نہیں۔

٭ اس پانی سے وضو کرنا جوخاص افراد کے لئے وقف کیا گیا ہو،جیسے:بعض مدرسوں کے حوض اور بعض ہوٹلوں اور مسافر خانوں کے وضو خانے

٭ جب پانی کا محکمہ موٹر کے ساتھ پانی کھینچنے سے منع کردے تو اس صورت میں موٹرلگانا اور اس استفادہ کرنا جائز نہیں ہے اوراس موٹر سے حاصل شدہ پانی سے وضو کرنا درست نہیں ہے ۔

٭ رہائشی اور غیر رہائشی عمارتوں میں رہنے والے افراد جو سہولیات (پانی وغیرہ )سے استفادہ کرنے کے بعد واجبات ادانہ کریں تو ان کا وضو باطل ہے ۔

3۔اگر وضو کا پانی غصبی برتن میں ہو اور اس سے وضو کر لیا جائے تو وضو باطل ہے۔

اعضائے وضو کے شرائط

1۔دھونے اور مسح کرنے کے وقت ،اعضاء وضو کا پاک ہونا ضروری ہے۔

2۔اگر اعضائے وضو پر کوئی چیز ہو جو پانی کے اعضاء تک پہنچنے میں مانع ہو یا مسح کے اعضاء پر ہو،اگر چہ پانی پہنچنے میں مانع بھی نہ ہو،وضو کے لئے اس چیز کو پہلے ہٹانا چاہئے۔

3۔ بال پین کی لکیریں،رنگ ،چربی اور کریم کے دھبے،جب رنگ جرم کے بغیر ہوں،تو وضو ء کے لئے مانع نہیںہیں،لیکن اگرجرم دار ہوں تو (کھال پر جسم حائل ہو نے کی صورت میں )اول اسے برطرف کرنا چاہئے۔

کیفیت وضو کے شرائط

1۔ترتیب:وضو کے اعمال ا س ترتیب سے انجام دئے جائیں :

۷۸

٭ چہرہ کا دھونا ٭ دائیںہاتھ کا دھونا ٭ بائیںہاتھ کا دھونا

٭ سر کا مسح ٭ دائیں پیر کا مسح ٭ بائیں پیر کامسح

٭اگر اعمال وضو میں ترتیب کی رعایت نہ کی جائے تو وضو باطل ہے،

2۔موالات،یعنی اعمال وضو کا پے در پے بجالانا ،

3۔اگر وضو کے اعمال کے درمیان اتنا وقفہ کیا جائے کہ جب کسی عضو کو دھونا یا مسح کرنا چاہے تو اس سے پہلے والے وضو یا مسح کئے ہوئے عضو کی رطوبت خشک ہوچکی ہو،تو وضو باطل ہے۔

دوسروں سے مدد حاصل نہ کرنا

1۔جو شخص وضو کو خود انجام دے سکتا ہو،اسے دوسروں سے مدد حاصل نہیں کرنی چاہئے، لہٰذا اگر کوئی دوسرا شخص اس کے ہاتھ اور منھ دھوئے یا اس کا مسح انجام دے ، تو وضو باطل ہے۔

2۔جو خود وضو نہ کر سکتا ہو،اسے نائب مقرر کرنا چاہئے جو اس کا وضو انجام دے سکے، اگر چہ اس طرح اجرت بھی طلب کرے،تو استطاعت کی صورت میں دینا چاہئے، لیکن وضو کی نیت کو خود انجام دے۔

جن چیزوں کے لئے وضو کرنا ضروری ہے :

1۔ نماز اورنمازکے بھولے ہوئے اجزاء کی ادائیگی کے لئے (نماز میت کے علاوہ )

2۔ طواف خانہ کعبہ کے لئے ۔

یاد دہانی :

٭بدن کے کسی بھی حصے کو قرآن مجید کی لکھائی ،خداوندمتعال کے مخصوص اسماء و صفات ،

۷۹

اور بنا بر احتیاط واجب انبیاء اورائمّہ (ع) کے اسماء گرامی کو بغیر وضو کے ہاتھ لگانا حرام ہے۔

وضو کیسے باطل ہوتا ہے؟ (مبطلات وضو )

1۔انسان سے پیشاب،یا پاخانہ یا ریح خارج ہوجائے۔

2۔نیندآجائے ،جب کان نہ سن سکیں اور آنکھیں نہ دیکھ سکیں۔

3۔وہ چیزیں جو عقل کو ختم کردیتی ہیں،جیسے:دیوانگی،مستی اور بیہوشی انسان پر طاری ہو جائے ۔

4۔عورتوںکواگر خون استحا ضہ آجائے۔

5۔جوچیز غسل کا سبب بن جاتی ہے،جیسے جنابت، مس میت وغیرہ۔

توجہ

عورت اور مرد کے درمیان وضو کے افعال اور کیفیت کے حوالے سے صرف یہ فرق ہے کہ مردوں کے لیے مستحب ہے کہ کہنیوں کو دھو تے وقت باہر سے شروع کریں اور عورتیں اندر سے شروع کریں ۔

سوالات

1۔ جوخود وضو انجام دینے سے معذور ہو، اس کا فرض کیا ہے؟

2۔ وضوکی ترتیب وموالات میں کیا فرق ہے؟

3۔ کن چیزوں کے لئے وضو کرنا واجب ہے ؟

4۔ کیا قرآن کی جلد یا حاشیہ کو بدن کے کسی حصے سے مس کرنے کے لئے وضو کرنا ضروری ہے ؟

۸۰

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204