معارف اسلامی کورس (عقائد، احکام،اخلاق ) جلد ۲

معارف اسلامی کورس (عقائد، احکام،اخلاق )27%

معارف اسلامی کورس (عقائد، احکام،اخلاق ) مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 204

جلد ۱ جلد ۲
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 204 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 33182 / ڈاؤنلوڈ: 3140
سائز سائز سائز

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

پھر خدا نے ایسی کتاب بھیجی جو نہ بجھنے والا نور اور چراغ ہے ایسا راستہ ہے جو اپنے رہروں کو گمراہ نہیں کرتا اور حق و باطل کو جدا کرنے والی ایسی چیز ہے جس کی دلیلیں کمزور نہیں پڑتیں۔

شیعوں کے امام عالی مقام کے قول سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن ایسا چراغ ہے جو ابد تک جلتا رہے گا اور اپنے پیروکاروں کو اندھیرے میں راستہ دکھاتا رہے گا اور اس میں ایسی کوئی تبدیلی نہیں آسکتی کہ جس کی بنا پر یہ چراغ گل ہوجائے۔ اور اس کے پیروکار راستہ سے بھٹک جائیں۔

۳۔ شیعہ علماء کا اتفاق ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا :

'' میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں۔ ایک قرآن اور دوسرے اہل بیت ہیں۔ میری عترت ہے۔ جب تک ان سے متمسک رہو گے گمراہ نہیں ہوگے۔ ''

یہ حدیث اسلام کی ان متواتر احادیث میں سے ہے جسے شیعہ سنی دونوں نے نقل کیا ہے اس حدیث کی روشنی میں بھی اس بات کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ شیعوں کی نظر میں قرآن میں کسی قسم کی تبدیلی واقع نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ اگر قرآن میں تحریف ہوجائے تو اس سے تمسک ہدایت کے بجائے گمراہی کا باعث ہوگا ۔ جبکہ حدیث متواتر یہ کہتی ہے کہ اس سے تمسک کرنے والا کبھی گمراہ نہیں ہوگا۔

۴۔ شیعوں کے آئمہ سے نقل شدہ روایتوں میں۔ جنہیں علماء اور فقہاء نے نقل کیا ہے اس بات کی تصریح موجود ہے کہ حق و باطل، صحیح اور غلط کی تشخیص کا معیار قرآن ہے۔ یعنی اگر کوئی چیز ہماری روایت کے نام پر تمہارے سامنے آئے تو اسے قرآن سے

۴۱

پرکھو اگر قرآن کی آیتوں سے مطابقت رکھتی ہے تو وہ حق اور درست ہے اور اگر مطابقت نہ رکھتی ہو تو باطل اور غلط ہے۔

شیعوں کی فقہ اور حدیث کی کتابوں میں اس طرح کی روایتیں بہت زیادہ ہیں کہ ہم یہاں اُن میں سے صرف ایک حدیث نقل کررہے ہیں۔

'' مالم یوافق من الحدیث القرآن فهو زخرف'' (۱)

جو حدیث قرآن کے موافق نہ ہو وہ بیہودہ اور باطل ہے۔

اس طرح کی روایتوں سے بھی بخوبی یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن میں تبدیلی ممکن نہیں ہے لہٰذا یہ مقدس کتاب ابد تک میزان حق و باطل کے عنوان سے پہچانی جاتی رہے گی۔

۵۔ شیعوں کے بزرگ علماء جو اسلامی اور شیعی ثقافت کے پیشرو تھے وہ اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ قرآن میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ ان تمام علماء اعلام کا ذکر تو یہاں مشکل ہے لیکن نمونہ کے طور پر ہم ان میں سے چند علماء کے نام درج کررہے ہیں۔

۱۔ ابو جعفر محمد بن علی بن حسین بابویہ قمی، معروف بہ ''صدوق'' متوفی ۳۸۱ھ ق فرماتے ہیں:'' ہمارا عقیدہ قرآن کے بارے میں یہ ہے کہ یہ خدا کی کتاب ہے ، وحی الٰہی ہے ایسی کتاب ہے جس میں باطل کے داخل ہونے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اِسے خدائے حکیم و دانا نے نازل کیا ہے اور وہی اس کی حفاظت کرنے والا ہے۔(۲)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ اصول کافی، ج۱، کتاب فضل العلم، باب الأخذ بالسنة وشواہد الکتاب، روایت ۴

(۲)۔ الاعتقادات س ۹۳

۴۲

۲۔ سید مرتضیٰ علی ابن الحسین موسوی علوی، معروف بہ ''علم الھدیٰ'' متوفی ۴۳۶ھ ق، فرماتے ہیں:''اصحاب کی ایک جماعت مثلاً عبداللہ بن مسعود، أبی بن کعب وغیرہ نے شروع سے آخر تک قرآن مجید کو پیغمبر اسلام(ص) کے سامنے بارہا پڑھا جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ قرآن بغیر کسی کمی یا پراکندگی کے مرتب تھا۔(۱)

۳۔ ابو جعفر محمد ابن حسن طوسی معروف بہ شیخ الطائفہ ، متوفی ۴۶۰ھ ق فرماتے ہیں:''قرآن میں کمی اور زیادتی کی بات تو اس کتاب کے شایان شان ہی نہیں ہے کیونکہ سارے مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ قرآن میں زیادتی نہیں ہوئی ہے اس میں کمی کے بارے میں بھی مسلمانوں میں ظاہر یہی ہے کہ کمی نہیں ہوئی ہے اور یہ بات (قرآن میں زیادتی کا نہ ہونا) ہمارے مذہب کے لیے مناسب ہے۔ اس بات کو سید مرتضیٰ نے قبول کیا ہے اور اس کی تائید بھی کی ہے اور ظاہر روایات بھی اسی حقیقت کا ثبوت ہیں۔ ایسی بہت کم روایتیں ہیں جن میں قرآن میں کمی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ شیعہ اور سنی دونوں فرقوں کی کتابوں میں موجود ہیں لیکن یہ روایتیں خبر واحد ہیں جو علم و عمل کا موجب نہیں ہیں اور ان سے اعراض کرنا ہی بہتر ہے۔(۲)

۴۔ ابو علی طبرسی صاحب تفسیر ''مجمع البیان'' فرماتے ہیں :

'' قرآن میں زیادتی کی بات کے بے بنیاد ہونے پر تمام امت اسلامی کا اتفاق ہے لیکن قرآن میں کمی کی روایتیں ہمارے بعض اصحاب نیز اہل سنت میں فرقہ ''حشویہ'' سے نقل ہوئی ہیں لیکن ہمارے مذہب میں جو چیز قبول شدہ حقیقت ہے وہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ مجمع البیان ج۱، ص ۱۰ منقول از جواب ''المسائل الطرابلسیّات'' سید مرتضیٰ

(۲)۔ تبیان ج۱، ص ۳

۴۳

اس کے برخلاف ہے۔(۱)

۵۔ علی بن طاؤوس حلی معروف بہ سید ابن طاؤوس متوفی ۶۶۴ھ ق فرماتے ہیں: ''شیعوں کا نظریہ یہ ہے کہ قرآن میں کسی طرح کی تبدیلی نہیں ہوسکتی''(۲)

نتیجہ :

خلاصہ بحث یہ ہے کہ شیعہ سنی تقریباً تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ یہ آسمانی کتاب وہی قرآن ہے جو پیغمبر اسلام(ص) پر نازل ہوا تھا اس میں کسی قسم کی تحریف ، تبدیلی اور کمی زیادتی واقع نہیں ہوئی ہے۔

اس بیان سے اس تہمت کی حقیقت معلوم ہوجاتی ہے جو شیعوں پر لگائی جاتی رہی ہے۔ اگر ضعیف روایتوں کا نقل کرنا اتہام کا سبب ہے تو ایسی روایتیں صرف شیعوں ہی کی کتابوں میں نہیں پائی جاتیں بلکہ مفسرین اہل سنت نے بھی اسی طرح کی ضعیف روایتیںاپنی کتابوں میں نقل کی ہیں جن میں بعض نمونہ کے طور پر ملاحظہ ہوں۔

۱۔ ابو عبداللہ محمد بن انصاری قرطبی اپنی تفسیر میں ابوبکر انباری سے اور وہ ابی ابن کعب سے روایت کرتے ہیں کہ سورہ احزاب (۷۳ آیات) پیغمبر(ص) کے زمانہ میں سورہ بقرہ کے برابر (۲۸۶ آیات) تھا اس سورہ میں آیت ''رجم'' بھی موجود تھی۔ اوراب سورہ احزاب میں ایسی کوئی آیت نظر نہیں آتی(۳ )اسی کتاب میں جناب عائشہ سے منقول ہے: ''سورہ احزاب پیغمبر اسلام(ص) کے زمانے میں دو سو آیتوں پر مشتمل تھا، لیکن جب مصحف لکھا گیا تو اب جتنی آیتیں موجود ہیں ان سے زیادہ آیتیں نہیں مل سکیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ مجمع البیان، ج۱، ص ۱۰ (۲)۔ سعد العود، ص ۴۴ (۳)۔ تفسیر قرطبی جزء ۱۴، ص ۱۱۳

۴۴

۲۔ صاحب کتاب الاتقان نقل کرتے ہیں کہ جناب أبی '' کے مصحف میں ۱۱۶ سورہ تھے۔ کیونکہ ''حقہ'' اور ''خلع'' کے نام سے بھی دو دوسرے سورے موجود تھے۔(۱)

حالانکہ ہم سب کو معلوم ہے کہ قرآن مجید میں ایک سو چودہ سورے ہیں اور اب ان دو سوروں (حقہ اور خلع) کا قرآن میں کہیں بھی کوئی نام و نشان نہیں ہے۔

۳۔ ہبة اللہ بن سلامہ کتاب ''الناسخ والمنسوخ'' میں انس بن مالک سے نقل کرتے ہیں :

'' پیغمبر اسلام(ص) کے زمانہ میں ایک سورہ سورہ توبہ کے برابر تھا مجھے اس سورہ کی صرف ایک آیت یاد ہے اور وہ یہ ہے۔ ''

''لو انّ لِابن آدم وادیان من الذهب لابتغیٰ اِلَیْهِمٰا ثَالِثًا وَ لَوْ اَنّ لَهُ ثالِثًا لابتغیٰ اِلَیْهٰا رابعاً وَلَا یملأَ جَوْفَ ابن آدم اِلّا التُراب ویتوبُ اللّٰه علٰی مَن تابَ''

حالانکہ قرآن میں اس قسم کی آیت موجود نہیں ہے اور درحقیقت یہ آیت قرآن کی بلاغت کے منافی ہے۔

۴۔ جلال الدین سیوطی اپنی تفسیر ''درالمنثور'' میں عمر بن خطاب'' سے روایت کرتے ہیں کہ سورہ احزاب، سورہ بقرہ کے برابر تھا اور اس میں آیہ رجم بھی موجود تھی۔(۲)

بہرحال شیعہ اور سنی فرقوں کے بعض افراد نے قرآن میں تحریف کے سلسلے کی کچھ ضعیف

روایتیں نقل کی ہیں لیکن شیعہ اور سنی اکثریت کے لیے یہ روایتیں قابل قبول نہیں ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ اتقان۔ ج۱، ص ۶۷(۲)۔ درالمنثور ج۵، ص ۱۸۰

۴۵

بلکہ نص قرآن، صحیح اور متواتر روایات، ہزاروں اصحاب پیغمبر(ص) اور دنیا کے مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن مجید میں کسی قسم کی تبدیلی ، کمی اور زیادتی نہ ہوئی ہے اور نہ ہوسکتی ہے۔

سوالات

۱۔عدم تحریف قرآن پر قرآن سے کوئی آیت پیش کریں ؟

۲۔حدیث ثقلین کس طرح عدم تحریف قرآن پر دلالت کرتی ہے ؟

۳۔عدم تحریف قرآن کے بارے میں شیخ صدوق اور علم الھدیٰ کیا فرماتے ہیں ؟

۴ ۔ کیا اہل سنت کی کتابوں میں تحریف قرآن پر دلالت کرنے والی روایات موجود ہیں ؟ کوئی دو مورد بیان کیجئے ؟

۴۶

درس نمبر ۸ ( منصب امامت )

شیعہ منصب خلافت کو پابند نص کیوں سمجھتے ہیں؟

جواب: دین اسلام ایک عالمی اور زندہ و جاوید دین ہے جب تک پیغمبر اسلام (ص) موجود تھے تو لوگوں کی ہدایت کی ذمہ داری آپ کے کاندھوں پر تھی۔ آپ کی رحلت کے بعد ہدایت اور رہنمائی کی ذمہ داری اس کے سپرد ہونی چاہیے جو امت میں سب سے زیادہ اس عہدہ کے لائق ہو۔

پیغمبر اسلام (ص) کے بعد خلافت کا عہدہ پابند نص ہے یعنی خدا کے حکم سے پیغمبر (ص) کسی کے خلیفہ ہونے کا اعلان کریں گے یا یہ کہ اسے انتخاب کے ذریعہ حل کیا جائے گا؟ اس سلسلہ میں دو نظریئے ہیں :

شیعوں کا عقیدہ ہے کہ منصب خلافت پابند نص ہے اورپیغمبر کے جانشین کو خدا کی طرف سے معین ہونا چاہیے۔

اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ یہ مسئلہ انتخابی ہے یعنی پیغمبر کے بعد ساری امت مل کر کسی ایک فرد کو حکومت اور امت کے امور کی نگرانی کے لیے چن لے گی۔

آنحضرت کے زمانہ کی سیاست کا تجزیہ منصب خلافت کے پابند نص ہونے پر دلیل ہے۔

شیعہ علماء نے عقائد کی کتابوں میں منصب خلافت کے پابند نص ہونے کے بارے

۴۷

میں بہت سی دلیلیں بیان کی ہیں۔ لیکن ہم یہاں عہد رسالت کے حاکم کے شرائط کا تجزیہ پیش کریں گے جس سے شیعوں کے نظریہ کا صحیح اور درست ہونا واضح ہوجائے گا۔

پیغمبر اسلام (ص) کے زمانہ کی داخلی اور خارجی سیاست کا تجزیہ بتاتا ہے کہ آپ(ص) کا جانشین خدا کیطرف سے معین ہونا چاہے۔ اور اس کا اعلان پیغمبر اسلام کی طرف سے کیا جانا ضروری تھا کیونکہ اسلامی معاشرہ کو تین طرف سے خطروں نے گھیر رکھا تھا۔ ایک طرف روم کی شہنشاہیت دوسری طرف ایران کی بادشاہت اور تیسری طرف منافقین کی سازشیں، اس طرح کی چیزوں کو دیکھتے ہوئے مصلحت امت کا تقاضا تھا کہ آنحضرت(ص) اپنا ایک جانشین معین کرکے ساری امت کو متحد کردیں اور داخلی اختلافات کی وجہ سے جو دشمن کو نفوذ کا موقع ملتا ہے اس کا راستہ بند کردیں ۔

وضاحت :

اسلام کو درپیش خطرات کا ایک حصہ روم کی شہنشاہیت تھی جزیرہ عرب کے شمال میں یہ بڑی قدرت کے عنوان سے موجود تھی۔ اور پیغمبر اسلام (ص) کو ہمیشہ اس کا کھٹکا لگا رہتا تھا اپنی عمر کے آخری وقت تک آپ کو اس فکر سے چھٹکارا نہیں مل سکا۔

روم کے عیسائی لشکر سے مسلمانوں کا پہلا ٹکرائو ۸ھ میں سرزمین فلسطین پر ہوا۔ جس میں تین سپہ سالار، جناب جعفرطیار، زید بن حارثہ اور عبداللہ بن رواحہ شہید ہوگے اور مسلمانوں کو شکست ہوئی۔ اس شکست سے قیصر روم کے لشکر کی جرأت بڑھ گئی اور ہر لمحہ ان کے حملے کا خطرہ رہتا تھا۔ اس لیے پیغمبر اسلام (ص) نے ۹ھ میں ایک بڑے لشکر کے ساتھ شام کی طرف کوچ کیا تاکہ کسی بھی قسم کے فوجی اقدام کی بہ نفس نفیس رہبری کریں اِس پر مشقت ِ سفر سے لشکر اسلام اپنی دیرینہ حیثیت بچانے اور سیاسی

۴۸

حیات کی تجدید میں کامیاب ہوا۔

اس سطحی کامیابی سے پیغمبر اسلام (ص) مطمئن نہیں ہوئے اور اپنی بیماری سے چند دنوں پہلے آنحضرت(ص) نے اسامہ بن زید کی سپہ سالاری میں لشکر اسلام کو شام کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا۔

اسلام کا دوسرا دشمن ایران کی شہنشاہیت تھی۔ خسرو ایران کی دشمنی کا یہ عالم تھا کہ اُس نے غصہ میں آکر پیغمبر اسلام (ص) کا خط پھاڑ دیا اور سفیر کی توہین کے ساتھ اُسے نکال دیا۔ اور اس نے یمن کے حاکم کو لکھا کہ پیغمبر اسلام کو گرفتار کرلو اور اگر وہ آسانی سے گرفتار نہ ہوں تو انہیں قتل کردو۔

ایران کا بادشاہ خسرو پرویز اگرچہ آنحضرت (ص) کی حیات طیبہ ہی میں مر گیا مگر یمن کی آزادی اور استقلال کا مسئلہ ایرانی شہنشاہوںکے لیے لمحہ فکریہ بنارہا۔ ایرانی سیاستدانوں کا غرور و تکبر کسی ایسی طاقت کو برداشت نہیں کرسکتا تھا۔

تیسرا خطرہ اُن منافقوں کا تھا جو مسلمانوں کے درمیان بیٹھ کر نفاق کے ذریعہ اسلام کی جڑیں کمزور کرنے میں مشغول تھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے پیغمبر اسلام (ص) کو تبوک اور مدینہ کے درمیان قتل کرنے کا ارادہ بھی کرلیا تھا۔ اور بعض افراد ایسے بھی تھے جو آپس میں یہ کہا کرتے تھے کہ پیغمبر اسلام کے انتقال کے بعد اسلامی تحریک کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اور ہم سب چین کی نیند سوئیں گے۔ منافقین کی تخریبی پالیسیاں اتنی خطرناک تھیں کہ قرآن نے انہیں سورہ آل عمران،نسائ،مائدہ، انفال، توبہ، عنکبوت،

احزاب ، محمد، فتح، مجادلہ، حدید، منافقون میں ذکر کیا ہے۔(۱)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ فروغ ابدیت، (آقا ی جعفر سبحانی) سے اقتباس

۴۹

کیا یہ ممکن ہے کہ اسلام کی گھات میں لگے رہنے والے ایسے قوی دشمنوں کی موجودگی کے باوجود پیغمبر اسلام (ص) نئے اسلامی معاشرہ کے لیے اپنی جانب سے کوئی دینی اور سیاسی رہبر معین نہ کریں؟

اس وقت کے معاشرہ کے حالات کا تجزیہ بتاتا ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) کو ایک جانشین اور رہبر معین کرکے اسلامی اتحاد کو بچانا اور دفاعی طاقت کو مضبوط بنانا ضروری تھا۔ پیغمبر اسلام (ص) کی رحلت کے بعد امت کو افراتفری اور برے حالات _ کہ ہر گروہ یہ کہے کہ أمیر ہم میں سے ہوگا _ سے بچانے کے لیے رہبر کے علاوہ اور کوئی راستہ ممکن نہ تھا۔اس وقت کے یہ تمام حالات منصب خلافت کے پابند نص ہونے کے نظریہ کی درستی اور صحت کی طرف ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔

پیغمبر اسلام (ص) کی طرف سے نص :

پیغمبر اسلام نے معاشرہ کی بنیادی ضرورت کے پیش نظر ابتدائے بعثت سے اپنی عمر کے آخری حصہ تک ہر موقع پر جانشینی اور خلافت کے مسئلہ کا حل پیش کیا۔ آغاز رسالت میں دعوت ذو العشرہ کے موقع پر آپ نے اپنے قریبی رشتہ داروں کے درمیان اس مسئلہ کو واضح کیا۔ اپنی عمر کے آخری ایام میں حجة الوداع سے واپسی کے وقت مقام غدیر پر بھی آپ نے اپنا جانشین اور خلیفہ معین فرمایا، اسکے علاوہ بھی مختلف مناسبتوں کے موقع پر اس مسئلہ کی طرف اشارہ کرتے رہے۔ صدر اسلام کے معاشرتی حالات اور امیر المومنین ـ کی جانشینی کے بارے میں آنحضرت کے ارشادات کے بعد یہ بات واضح اور روشن ہوجاتی ہے کہ خلافت کے مسئلہ کا تنصیبی ہونا ضروری ہے۔

۵۰

سوالات

۱۔پیغمبر اسلام (ص) کے بعد خلافت کا عہدہ پابند ِنص ہے اس سے کیا مراد ہے ؟

۲۔خلافت کے تعیّن کے سلسلے میں اہل سنّت کا نظریہ بیان کیجئے ؟

۳۔خلافت کے تعیّن کے سلسلے میں شیعوں کا نظریہ بیان کیجئے ؟

۴۔ خلافت کا عہدہ پابند ِنص ہے اس نظریہ کی درستی پر دلیل پیش کیجئے ؟

۵۔ پیغمبر اسلام (ص)نے کتنے موارد پر حضرت علی (ع) کی خلافت کا اعلان کیا کوئی دو مورد بیان کیجئے ؟

۵۱

درس نمبر ۹ ( صحابہ کرام )

صحابہ کے بارے میں شیعوں کا کیا نظریہ ہے؟

جواب: جن لوگوں نے پیغمبر اسلام کا دیدار کیا اور آپ کی صحبت اختیار کی شیعوں کی نظر میں ان کی چند قسمیں ہیں اس گفتگو کی وضاحت سے پہلے اجمالی طور پر صحابی کی تعریف کردینا مناسب ہے۔

صحابی کی مختلف تعریفیں کی گئی ہیں جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔

۱ ۔سعید بن مسیب کہتے ہیں: ''صحابی وہ ہے جو ایک یا دو سال تک پیغمبر(ص) کے ساتھ رہا ہو اور ایک یا دوجنگ میں اس نے آپ(ص) کے ساتھ شریک ہوکر جنگ کی ہو۔''(۱)

۲۔ واقدی کہتے ہیں: '' جس نے پیغمبر(ص) کو دیکھا ، اسلام قبول کیا، دین کے مسائل میں غوروفکر سے کام لیا، دین سے راضی رہا وہ ہمارے نزدیک صحابی ہے چاہے وہ پیغمبر(ص) کے ساتھ ایک گھنٹہ ہی کیوں نہ رہا ہو۔''(۲)

۳۔ محمد بن اسماعیل کہتے ہیں: جس مسلمان نے پیغمبر (ص) کی صحبت اختیار کی یا آپ کو دیکھا وہ صحابی ہے۔(۳)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ اسد الغابہ ج۱، ص ۱۱ اور ۱۲(۲)۔ اسد الغابہ ج۱، ص ۱۲ ۔ ۱۱

(۳)۔ اسد الغابہ ج۱، ص ۱۲ ۔۱۱(۱)۔ اسد الغابہ ج۱، ص ۲۱ ۔ ۱۱

۵۲

۴۔ احمد بن حنبل کہتے ہیں: جس نے ایک مہینہ ، ایک دن ، یا ایک گھنٹہ بھی پیغمبر(ص) کی محبت

میں گزارا، یا آپ کی زیارت کی وہ صحابی ہے۔(۱)

دوسری طرف علمائے اہل سنت کے نزدیک ''عدالت صحابہ'' ایک اصل مسلم ہے ۔ ا اس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے پیغمبر(ص) کی صحبت اختیار کی وہ عادل ہے۔(۲)

اب ہم یہاں آیات قرآن کی روشنی میں ان اقوال کو پرکھ کر اس سلسلے میں شیعہ نظریہ بیان کریں گے جو منطق وحی پر استوار ہے۔

تاریخ میں بارہ ہزار سے زیادہ ان افراد کا ذکر موجود ہے جو صحابی پیغمبر(ص) کے نام سے پہچانے جاتے ہیں اور ان میں مختلف قسم کے افراد پائے جاتے ہیں۔

بیشک پیغمبر اسلام(ص) کی صحبت ایک بہت بڑا افتخار ہے جو ایک خاص گروہ کو حاصل ہوا ہے۔ ان افراد کو امت اسلامیہ نے ہمیشہ احترام کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ کیوں کہ وہ دین اسلام کو قبول کرنے والوں میں پیش پیش تھے کہ جنہوں نے سب سے پہلے شوکت اور عزت اسلام کا پرچم لہرایا تھا۔قرآن نے بھی ان پرچم داروں کی تعریف کی ہے :

(لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح و قاتل اولئک اعظم درجة من الذین انفقوا من بَعْد و قاتلوا) (۳)

جن افراد نے فتح مکہ سے پہلے انفاق و جہاد کیا وہ ان لوگوں کے برابر نہیں ہیں جنہوں نے فتح مکہ کے بعد انفاق و جہاد کیا بلکہ ان کا درجہ بلند ہے۔

مگر اس کے ساتھ ساتھ اس حقیقت کا اعتراف کرلینا بھی ضروری ہے کہ پیغمبر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ اسد الغابہ ج۱، ص ۲۱ ۔ ۱۱ (۲)۔ الاستیعاب فی اسماء الاصحاب ج۱، ص ۲، حاشیہ '' الاصابہ''، اسد الغابہ ج۱ص ۳۔ منقول از ابن اثیر۔ (۳)۔ سورہ مبارکہ حدید آیت ۱۰

۵۳

اسلام(ص) کی صحبت کوئی ایسا کیمیا نہیں تھی جو انسان کی ماہیت بدل دے اور آخر عمر تک کی

ضمانت لے لے اور انہیں عادلوں کی فہرست میں قرار دے دے۔

اس مسئلہ کی ضمانت کے لئے مناسب ہے کہ ہم قرآن مجید کا سہارا لیںجس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے۔

صحابہ قرآن کی نظر میں :

منطق وحی میں پیغمبر اسلام(ص) کی صحبت سے شرفیاب ہونے والوں کی دو قسمیں ہیں۔

پہلا گروہ:اس میں وہ افراد شامل ہیں، جن کی قرآن مجید نے مدح و ستائش کی ہے۔اوران کو اسلام کی شان و شوکت کی بنیاد رکھنے والوں میں شمارکیاہے قرآنی آیات کے چند نمونے ملاحظہ ہوں۔

۱۔ سابقین :

(والسَّابقونَ الاوّلون من المهاجرین والانصار والّذین اتبعُوهم باحسان رضی اللّٰه عنهم و رضوا عنه' وَ أَعَدَّ لهم جَنّاتٍ تَجْری من تَحْتِهَا الانهار خالدین فِیْهٰا اَبَدًا ذٰلِکَ الفوز العظیم ) (۱)

'' اور مہاجرین اور انصار میں سے (ایمان کی طرف) سبقت کرنے والے اور وہ لوگ جنہوں نے نیک نیتی سے (قبول ایمان میں) اُن کا ساتھ دیا، خدا اُن سے راضی اور وہ خدا سے خوش اور اُن کے واسطے خدا نے وہ (ہرے بھرے) باغ جن کے نیچے نہریں جاری ہیں تیار کر رکھے ہیں۔ وہ ہمیشہ ابدالاباد تک اُن میں رہیں گے یہی تو بڑی کامیابی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ سورہ توبہ، آیت نمبر ۱۰۰

۵۴

ہے۔ ''

۲۔ درخت کے نیچے بیعت کرنے والے :

( لَقَدْ رَضِیَ اللّٰه عَنِ المُؤمِنِیْنَ اِذْ یُبٰایِعُونَکَ تحت الشجرةِ فَعَلِمَ مَا فِی قُلوبِهِمْ فَأنزلَ السکینة عَلَیهِم وَ أثابَهُمْ فَتْحًا قریبًا ) (۱)

جس وقت مومنین تم سے درخت کے نیچے (لڑنے مرنے) کی بیعت کررہے تھے تو خدا ان سے ( اس بات پر ) ضرور خوش ہوا جو کچھ ان کے دلوں میں تھا خدا نے اُسے دیکھ لیا پھر ان پر تسلی نازل فرمائی۔ اور انہیں اس کے عوض میں بہت جلد فتح عنایت کی۔

۳۔ مہاجرین :

( لِلْفُقراء المُهٰاجِرِیْنَ الَّذِیْنَ أُخرِجُوا مِنْ دِیٰارِهِمْ وَ أَمْوالِهمْ یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْواناً وَ یَنْصُرُونَ اللّٰه وَ رَسُوَله' أُولٰئِکَ هُمُ الصَّادِقُونَ ) (۲)

( اس مال میں) ان مفلس مہاجروں کا (حصہ) بھی ہے جو اپنے گھروں سے اور مالوں سے نکالے اور الگ کئے گئے (اور) خدا کے فضل اور خوشنودی کے طلب گار ہیں۔ اور خدا کی اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں یہی لوگ سچے ایماندار ہیں۔

۴۔ اصحاب فتح :

( مُحمّد رسول اللّٰهِ وَالَّذِیْنَ مَعَه' أَشِدّاء عَلٰی الکفّار رَحْمٰائُ بَینَهُمْ تَرٰیُهُم رُکَّعًا سُجَّدًا یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْوٰاناً سِیْمٰا هُمْ فِی وُجُوهِهمْ مِن أَثَرِ السُّجُودِ)(۳)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ سورہ مبارکہ فتح۔ آیت نمبر ۸ (۱)۔ سورہ مبارکہ حشر، آیت نمبر۸

(۳)۔ سورہ مبارکہ فتح، آیت نمبر ۲۹

۵۵

محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدا کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کافروں پر بڑے سخت اور آپس میں بڑے رحمدل ہیں۔ تو ان کو دیکھے گاکہ (خدا کے سامنے) جھکے سر بسجود ہیں خدا کے فضل اور اس کی خوشنودی کے خواستگار ہیں(کثرت) سجود کے اثر سے ان کی پیشانیوں میں گھٹے پڑے ہوئے ہیں۔

دوسرا گروہ:پیغمبر (ص) کی صحبت اختیار کرنے والوں میں دوسرا گروہ اُن افراد پر مشتمل تھا جو دو چہرے اور بیمار دل تھے، قرآن نے انکی ماہیت کو آشکار کرتے ہوئے پیغمبر اسلام(ص) کو اُن کے وجود سے آگاہ کیا۔ اُن میں سے یہاں چند گروہ کا تذکرہ کررہے ہیں۔

۱۔ جانے پہچانے منافقین :

( اِذَا جٰائَکَ المُنٰافقونَ قَالوا نشهد انّک لَرسول اللّٰهِ واللّٰه یُعلَمُ انّکَ لَرَسُولُهُ وَاللّٰهُ یَشْهَد أَنَّ المُنَافقین لَکٰاذِبُونَ) (۱)

( اے رسول) جب منافقین آپ کے پاس آکر کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں خدا تو جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں وہ (خدا) گواہی دیتا ہے کہ منافقین جھوٹے ہیں۔

۲۔ انجانے منافقین :

(و مِمَّنْ حَوْلَکُم مِنَ الأَعرابِ مُنٰافِقُونَ وَ مِن أهْل المَدِیْنَهِ مَرَدُوا عَلی النّفاقِ لَا تَعْلَمَهُمْ نَحْنُ نَعْلَمَهُم )(۲)

آپ کے اطراف رہنے والے کچھ بادیہ نشین منافق ہیں اور کچھ اہل مدینہ نفاق

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ منافقون از اول تا آخر (۲)۔ سورہ توبہ، آیت نمبر۱۰۱

۵۶

میں ڈوبے ہوئے ہیں آپ ان کو نہیں پہچانتے میں پہچانتا ہوں۔

۳۔ بیمار دل :

(واذ یقول المُنٰافقون والذین فی قلوبهم مَرَض مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ و رَسُولُه' اِلّا غُرُوراً) (۱)

منافقین اور وہ لوگ جن کے دل میں مرض تھا کہنے لگے تھے کہ خدا نے اور اس کے رسول نے ہم سے جو وعدے کیے وہ بالکل فریب تھے۔

۴۔ گناہ گار :

( و آخَرُونَ اعتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا عَمَلاً صالِحًا وَ آخَرَ سَیِّئًا عسیٰ اللّٰهُ اَنْ یتوبَ عَلَیْهِمْ اِنّ اللّٰه غفور رَحِیْم ) (۲)

اور کچھ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا تو اقرار کیا (مگر ) ان لوگوں نے بھلے کام اور کچھ برے کام کو ملا جلا دیا۔ قریب ہے کہ خدا ان کی توبہ قبول کرے۔ خدا تو یقینا بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔

قرآن مجید کی آیات کے علاوہ پیغمبر اسلام(ص) کی بہت سی روایتیں بعض اصحاب کی مذمت میں وارد ہوئی ہیں جن میں سے دو مثالیں ملاحظہ ہوں۔

۱۔ ابو حازم نے سہل بن سعد سے روایت کی ہے کہ آنحضرت(ص) نے فرمایا :

میں تم کو اس حوض کی طرف بھیج رہا ہوں جہاں وارد ہونے والا اس سے سیراب ہوتا ہے اور جو اس سے سیراب ہو وہ ابد تک کبھی پیاسا نہیں ہوتا کچھ افراد وہاں میرے

پاس آئیں گے جن کو میں پہچانتا ہوں گا اور جو مجھے پہچانتے ہوں گے۔ پھرہمارے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ سورہ مبارکہ احزاب، آیت نمبر ۱۲ (۲)۔ سورہ مبارکہ توبہ، آیت نمبر ۱۰۲

۵۷

اور ان کے درمیان جدائی ہوجائے گی۔

ابو حازم کہتے ہیں کہ جب میں اس روایت کو بیان کررہا تھا تو نعمان بن ابی عیاش نے اِسے سن کر کہا کہ کیا آپ نے سھل سے اسی طرح سنا ہے؟ میں نے کہا ''ہاں'' تو ابو حازم نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ ابو سعید خدری نے اس حدیث میں پیغمبر اسلام(ص) کی زبانی کچھ زیادہ بیان کیا ہے۔

(انّهم منّی فیقال انّک لا تدری ما احد ثوا بعدکَ فاقول سحقًا لِمَنْ بدّل بعدی ) (۱)

'' یہ لوگ مجھ سے ہیں تو کہا جائے گا کہ آپ کو نہیں معلوم کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کیا کیا پھر میں کہوونگا کہ رحمت خدا سے دور ہوجائے جس نے احکام خدا کو بدل دیا۔ ''

'' میں ان کو پہچانتا ہوں گا اور وہ مجھے پہچانتے ہوں گے '' اور میرے بعد بدل ڈالا، یہ دونوں جملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس سے مراد آنحضرت کے وہ اصحاب ہیں جو مدتوں آپ(ص) کے ساتھ رہے۔ (اس حدیث کو بخاری اور مسلم دونوں نے روایت کیا ہے )

۲۔ بخاری اور مسلم نے پیغمبر اسلام(ص) سے روایت نقل کی ہے۔

'' قیامت کے دن میرے اصحاب میں سے کچھ افراد۔ یا آپ نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ افراد میرے پاس آئیں گے پھر حوض کوثر سے دور ہٹا دیئے

جائیں گے۔ پھر میں کہوونگا کہ پالنے والے یہ میرے اصحاب ہیں ۔ تو خدا فرمائے گا :

آپ(ص) کے بعد اِن لوگوں نے جو کچھ کیا آپ کو نہیں معلوم وہ اپنی سابقہ حالت کی طرف

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱) جامع الاصول (ابن اثیر)، ج۱۱ ص ۱۲۰ ح ۷۹۷۲

۵۸

پلٹ گئے تھے۔(۱)

نتیجہ :

قرآنی آیات اور پیغمبر اسلام(ص) کی احادیث کے مطالعہ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ آنحضرت (ص) کی صحبت میں رہنے والے تمام افراد ایک جیسے اور ایک سطح کے نہیں تھے، ایک گروہ وہ تھا جو پاکیزگی اور شائستگی کی بلندیوں پر فائز تھا۔ ان کی خدمات اسلام کی سربلندی اور سرفرازی کا سبب بنیں۔ اور دوسرا گروہ وہ تھا جو شروع ہی سے دو چہرے رکھتا تھا۔ جو منافق ، بیمار دل، اور گناہ گار تھا۔

بیان گذشتہ کی روشنی میں پیغمبر اسلام (ص) کے اصحاب کے بارے میں شیعوں کا نکتہ نظر واضح ہوجاتا ہے۔ یہ وہی نظریہ ہے جو قرآن مجید اور پیغمبر اسلام(ص) کی سنت سے حاصل ہوتا ہے۔

سوالات

۱۔اہل سنت کی نظر میں صحابہ کی تعریف کیجئے؟

۲۔قرآن کی نظر میں صحابہ کے کتنے گروہ ہیں ؟

۳۔صحابہ کے بارے میں شیعوں کا نکتہ نظر بیان کیجئے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ جامع الاصول ج۱۱، ص ۱۲۰، ح۷۹۷۳

۵۹

درس نمبر ۱۰

( شفاعت )

اسلام کے مسلم اصولوں میں سے ایک شفاعت ہے جسے تمام اسلامی فرقوں نے قرآن اور روایات کی پیروی کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے اگرچہ شفاعت کے نتیجہ میں نظریاتی اختلاف پایا جاتا ہے۔ شفاعت کی حقیقت یہ ہے کہ ایک محترم انسان جو خدا کے نزدیک تقرب اور خاص منزلت رکھتا ہو دوسرے انسان کی گناہوں کی بخشش یا اس کے درجات کی بلندی کا خداوند متعال کی بارگاہ میں خواستگار ہو۔

پیغمبر اسلام(ص) نے فرمایا :

'' أُعْطَیْتُ خمسْاً ---- وَ أُعطِیْتُ الشَّفَاعَةَ فاَدّخَرْتُهٰا لِأُمّتِي'' (۱)

مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئیں ۔۔۔ مجھے حق شفاعت عطا کیا گیا لہٰذا میں نے اس کو اپنی امت کے لیے ذخیرہ کرلیا۔

شفاعت کے حدود :

پہلی بات تو یہ کہ شفاعت کرنے والے کو خدا کی طرف سے شفاعت کرنے کی اجازت حاصل ہو۔ لہٰذا صرف وہی گروہ شفاعت کرنے کا مجاز ہے جو تقرب الٰہی کے ساتھ ساتھ اس سے شفاعت کرنے کی اجازت بھی حاصل کرچکا ہو۔ قرآن مجید میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔مسند احمد ، ج۱، ص ۳۰۱، صحیح بخاری ج۱، ص ۹۱

۶۰

عبا د ت

جناب ام سلمیٰ فرماتی ہیں :''ایک شب، حضور (ص) میرے گھر تشریف فرماتھے، میں نے آدھی رات کے بعد آپ (ص) کے بستر مبارک کو خالی دیکھا، میں نے تلاش کرنے کے بعد دیکھا کہ آپ (ص) تاریکی میں کھڑے ہو ئے ہیں، دست مبارک عرش کی جانب بلند ہیں، چشم مبارک سے اشکوں کی برسات ہو رہی ہے اور دعا فر مارہے ہیں کہ ''پروردگار! جو نعمتیں تونے مجھے عطا کی ہیں انھیں مجھ سے واپس نہ لینا ، میرے دشمنوں کوخوش نہ ہونے دینا، جن بلائوں سے مجھے نجات دے چکا ہے ان میں دوبارہ گرفتار نہ کرنا، مجھے ایک پلک جھپکنے کے برابر بھی تنہا نہ چھوڑنا'' میں نے حضور (ص) سے کہا یا رسول اللہ (ص)! آپ تو پہلے ہی سے بخشش شدہ ہیں ، حضور (ص) نے فرمایا : '' نہیں کوئی بھی بندہ ایسا نہیں ہے کہ جو خدا وند عالم کا محتاج نہ ہو اور اس سے بے نیاز ہو ، حضرت یونس ـ کو خدا وند عالم نے صرف ایک لمحہ کے لئے تنہا چھوڑ دیا تھا تو آپ ـ شکم ماہی (مچھلی کے پیٹ )میں زندانی ہو گئے''

حضور (ص) کی نماز شب ہم کو یہ درس دیتی ہے کہ امت کے رہبر کو آرام طلب نہیں ہونا چاہیئے بلکہ اس کا پورا وجود محنت وزحمت کے سمندر میں غرق رہنا چاہیئے، آپ (ص)نے مولا علی ـ کو نماز شب کی بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے،آپ (ص) نے مکرر تین مرتبہ ارشاد فرمایا:''علیک بصلاة اللیل، علیک بصلاة اللیل، علیک بصلاة اللیل'' یعنی ! اے علی تم پر لازم ہے کہ نماز شب بجا لائو، نماز شب ضرور بجا لائو ،نماز شب کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے۔

۶۱

سا د گی

ایک روز آپ (ص) نے مولا علی ـ کو بارہ درہم دیئے اور فرمایا: ''میرے لئے ایک لباس خرید کر لے آئو'' حضرت علی ـ بازار گئے اور بارہ درہم کا لباس خرید کر لے آئے ، حضور (ص) نے لباس کو دیکھا اور علی ـ سے فرمایا: ''اے علی ـ اگر اس لباس سے سستا لباس مل جاتا تو بہتر تھا اگر ابھی دوکاندار موجود ہو تو یہ لباس واپس کردو'' علی ـ دوبارہ بازار گئے اور لباس واپس کردیا اور بارہ درہم واپس لاکر آپ (ص) کے حوالہ کر دیئے۔

حضرت (ص) مولاعلی ـ کو اپنے ہمراہ لے کر بازار کی جانب روانہ ہوئے، راستہ میں ایک کنیز پر نظر پڑی کہ جو گریہ کر رہی تھی، آپ (ص) نے سبب دریافت کیا تو کنیز نے جواب دیا کہ میرے آقا نے مجھے چار درہم دیئے تھے کہ کچھ سامان خرید کر لے جائوں لیکن وہ چار درہم گم ہو گئے، اب گھر واپس جائوں تو کس طرح؟

آپ (ص) نے اپنے بارہ درہموں میںسے چار درہم اس کنیز کو عطا کئے کہ وہ سامان خرید کر لے جائے اور بازار پہونچکر چار درہم کا لباس خریدا، لباس لے کر بازار سے واپس آرہے تھے تو ایک برہنہ تن انسان پر نظر پڑ گئی، آپ (ص)نے وہ لباس اس برہنہ تن کو بخش دیا اور پھر بازار کی جانب چلے، بازار پہونچکر باقی بچے ہوئے چار درہموں کا لباس خریدا ، لباس لیکر بیت الشرف کا قصد تھا کہ دوبارہ پھر وہی کنیز نظر آگئی جو پہلے ملی تھی، آپ (ص) نے دریافت کیا کہ اب کیا ہوا؟ تو اس نے جواب دیا کہ مجھے کافی دیر ہو چکی ہے، میں ڈر رہی ہوں کہ کیسے جائوں،آقا کی سرزنش سے کیسے بچوں؟

حضور (ص) کنیز کے ہمراہ اس کے گھر تک تشریف لے گئے، اس کنیز کے آقا نے جب یہ دیکھا کہ میری کنیز ، سرکار رسالت (ص) کی حفاظت میں آئی ہے تو اس نے کنیز کو معاف کردیا اور اسے آزاد کردیا، آپ (ص) نے فرمایا:

'' کتنی برکت تھی ان بارہ درہموں میں کہ دو برہنہ تن انسانوں کو لباس پہنا دیا اور ایک کنیز کو آزاد کردیا''

دور حاضر میں ناممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے کہ کوئی عہدہ دار ایسی صفات کاحامل ہو، جن صفات سے نبی اکرم (ص) مزین تھے، دور حاضر تو کیا خود حضور (ص) کے دور میں، اگر چراغ لے کر بھی تلاش کیا جائے تو ان صفات کا پایا جانا دشوار ہے، آپ (ص) کے دور میں تو بعض بدو عرب کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی خود کو بہت کچھ سمجھتے تھے، واقعاَ اگر آج کے امراء ورئوسا بھی اس سیرت کو اپنائیں تو ہماری کشتی حیات، (دین اسلام اور شریعت کے مطابق)منزل مقصود سے ہمکنار ہوجائے۔

۶۲

مہمان نوازی

ایک روز حضور (ص) کی خدمت میں آپ (ص)کے دو رضاعی بھائی بہن یکے بعد دیگرے آئے، آپ (ص) نے بہن کا حترام زیادہ کیا اور بھائی کا احترام کم کیا، بعض لوگوں نے اعتراض کیا تو آپ (ص) نے جواب میں فرمایا: ''چونکہ، جتنا احترام اپنے ماں باپ کا یہ بہن کرتی ہے اتنا احترام بھائی نہیں کرتا لہٰذا میں بھی بہن کا زیادہ احترام کرتا ہوں''

دلسوزی

کشاف الحقائق، مصحف ناطق، حضرت امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں: ''ایک روز آپ (ص) نے نماز ظہر کی آخری دو رکعتیں بہت جلدی جلدی ادا کیں، لوگوں نے دریافت کیا یا رسول اللہ (ص)! آخر ایسا کیوں؟کیا کام درپیش ہے؟ حضور (ص) نے فرمایا: ''کیا تم بچہ کے رونے کی آواز نہیں سن رہے ہو؟''

اللہ اکبر........نماز جیسی عبادت، جس میں خضوع و خشوع شرط ہے، آپ (ص) نے بغیر مستحبات کے انجام دی اور یہ سمجھا دیا کہ دیکھو.....بچہ کو بہلانا خضوع و خشوع والی نماز سے بھی افضل ہے۔

۶۳

اھل خانہ کے ساتھہ

جناب عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا فرماتی ہیں :کبھی کبھی حضور (ص) ، خدیجہ کو بہت اچھی طرح یاد فرماتے تھے اور ان کی تعریف کرتے تھے ، میں نے ایک روزحضور (ص) سے کہا : یا رسول اللہ (ص)! خدا نے آپ کو خدیجہ سے بہتر بیوی(دوشیزہ) عطا کی ہے، انھیں بھول جائیئے وہ تو بڑھیا تھیں۔

حضور (ص)نے فرمایا: خدا کی قسم ایسا نہیں ہے ، خدیجہ جیسی کوئی بیوی نہیں ہو سکتی (چاہے وہ دوشیزہ ہو یا کھلونوں سے کھیلنے والی اور ناچ گانے کی شوقین) جس وقت پورا معاشرہ کافر تھا ، اس عالم میں یہ تنہا خاتون تھی جو مجھ پر ایمان لائی تھی اور میری مدد گار ثابت ہوئی تھی ، میری نسل تو خدیجہ سے ہی چلی ہے (ایسی دوشیزہ کا کیا فائدہ جو ماں بننے کو ترس جائے)

جناب خدیجہ کوئی معمولی عورت نہیں تھیں بلکہ یہ وہ خاتون تھیں کہ جنھوں نے اپنا رشتہ خود حضور (ص) کی خدمت میں بھیجا تھا اوردیگر رشتوں سے انکار کر دیا تھا جب کہ وہ لوگ خود اپنے رشتے لے کر آئے تھے(بڑے باپ کی بیٹی ہونے کے غرور میں چلی ہیں جناب خدیجہ سے ہمسری کرنے، بڑے باپ کی بیٹی ہونگی تو اپنے گھر کی ، یہاں تمھارا دیہ نہیں جلے گا تم جیسی ہزار دوشیزہ وباکرہ لڑکیوں سے یہ بڑھیا اچھی ہے)

۶۴

تبلیغ

آپ (ص) نے تین سال تک پوشیدہ طور پر تبلیغ کی یہاں تک کہ حکم خدا وندی نازل ہوا (فاصدع بما تؤمر واعرض عن المشرکین)

یعنی اے رسول! جن کاموں پر تمھیں مامور کیا گیا ہے انھیں آشکار کردو اور مشرکین سے پرہیز کرو(ان پر بھروسہ نہ کرو) ہم تمھیں ان کے شر سے محفوظ رکھیں گے۔

حضور (ص) کوہ صفا کے دامن میں خانۂ کعبہ کے کنارے تشریف لائے اور اعلان عام کردیا اور فرمایا کہ اگر تم میری دعوت کو قبول کرلوگے تو دنیاوی حکومت و عزت اور آخرت، سب تمھارا ہے لیکن لوگوں نے آپ (ص) کا مذاق اڑایا اور جناب ابوطالب ـ کے پاس آکر کہنے لگے کہ آپ کا بھتیجا ہمارے نو جوانوں کو گمراہ کر رہا ہے، اس سے پو چھئے کہ وہ کیاچاہتا ہے؟ اگر اسے دولت چاہیئے تو ہم دولت دینے کو تیار ہیں، اگر عورت درکار ہے تو ہم عورت دینے کو تیار ہیں، اگر منزلت کا خواہاںہے تو منزلت بھی دیدیں گے، جناب ابوطالبـ نے یہ بات رسول اسلام (ص)کو بتائی، رسول اسلام (ص) نے جواب دیا کہ اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ پر آفتاب اور دوسرے ہاتھ پر ماہتاب رکھ دیں تو بھی میں اپنے کام سے باز نہیں آسکتا، کفار نے جناب ابو طالبـ سے چاہا کہ محمد (ص) کو ان کے حوالے کردیں لیکن جناب ابوطالب ـنے قبول نہیں کیا۔

اس عمل کے ذریعہ حضور سرور کائنات (ص) نے ہمیں تبلیغ کا طریقۂ کار بتایا ہے کہ تبلیغ کتنی اہم شئی کا نام ہے؟ تبلیغ چند ڈالر کے عوض اپنے نفس کو بیچ دینے کا نام تبلیغ نہیں ہے بلکہ اگر چاند سورج بھی دے دیئے جائیں تو اس کا سلسلہ نہیں رکنا چاہیئے چونکہ اسی سے دین و شریعت کی ترویج ہوتی ہے، بار الٰہا ہمیں حضور (ص) کی سیرت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق مرحمت فرما۔

''آمین''

والسلام مع الاحترام

سید غافر حسن رضوی چھولسی "ھندی"

قم المقدسہ ایران

۶۵

منابع وماخذ

یعنی اس مقالہ میں جن کتابوں سے استفادہ کیا گیا ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں:

۱ ۔قرآن کریم:کلام اللہ مجید۔

۲۔لسان العرب:امام علامہ ابن منظور، داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۴۰۸ ھ۔

۳۔لسان اللسان :امام علامہ ابی الفضل جمال الدین بن مکرم ، دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۱۳ ھ۔

۴۔مفردات الفاظ القرآن:الامام الراغب الاصفھانی ، تحقیق: عدنان صفوان داودی، الدار الشامیہ بیروت ۱۴۱۲ھ۔

۵۔المنجد (عربی،فارسی) :احمد سیاح، چاپخانہ مفرد ۱۳۸۴ ش، چاپ پنجم، انتشارات اسلام تہران۔

۶۔المنجد (عربی،اردو):گروہ اردو ادب، چاپ یازدہم ۱۹۹۴ ء دارالاشاعت کراچی(پاکستان)۔

۷۔اخلاق:المولیٰ سید عبد اللہ شبر، مترجم:آقای محمد رضا جباران، چاپ دھم زمستان ۱۳۸۳ ش انتشارات ھجرت۔

۸۔آموزہ ھای بنیادین علم اخلاق: محمد فتح علی خانی، چاپ اول بھار ۱۳۷۹ ش، مرکز جھانی علوم اسلامی۔

۹۔ بحا الانوار:علامہ محمد باقر مجلسی، دارالکتب الاسلامیہ بیروت، لبنان۔

۱۰۔مستدرک الوسائل:مرزا حسین النوری الطبرسی، المکتبة الاسلامیہ طھران ۱۳۸۲ ھ۔

۱۱۔احسن المقال:(ترجمہ اردو، منتھی الآمال: شیخ عباس قمی) دارالاشاعت کراچی(پاکستان)۔

۱۲۔غرر الحکم:عبد الواحد،ترجمہ و نگارش: محمد علی انصاری ،قرن پنجم۔

۱۳۔سیرۂ رسول اللہ وآرمان ھای انبیاء الٰہی از نظر امام خمینی رحمة اللہ علیہ: رسول سعادت مند، انتشارات تسنیم چاپ اول ۱۳۸۵ش۔

۶۶

۱۴۔وسائل الشیعہ:شیخ محمد بن حسن الحر العاملی، مکتبة الاسلامیہ طھران ۱۳۹۷ ھ۔

۱۵۔الغدیر:علامہ عبد الحسین احمد امینی نجفی، مؤسسة الأعلمی للمطبوعات بیروت،لبنان ۱۴۱۴ھ۔

۱۶۔اصول کافی:شیخ محمد بن یعقوب کلینی رازی، مکتبة الاسلامیہ طھران ۱۳۸۸ھ۔

۱۷۔ تفسیر المیزان:علامہ محمد حسین طباطبائی اعلیٰ اللہ مقامہ ، مؤسسة الأعلمی للمطبوعات بیروت ،لبنان ۱۴۱۱ ھ۔

۱۸۔صحیفۂ امام خمینی: مرکز مدارک فرھنگی انقلاب اسلامی، بھمن ۱۳۶۱ ش۔

۱۹۔شرح نھج البلاغہ: ابن ابی الحدید معتزلی، دار احیاء التراث العربی، بیروت ،لبنان۔

۲۰۔ المحجة البیضائ: محمد بن المرتضیٰ المدعو بالمولیٰ محسن الکاشانی، مؤسسة النشر الاسلامی التابعة لجماعة المدرسین

بقم المقدسہ(ایران) ۱۴۱۵ ھ۔

۲۱۔اخلاق درقرآن: آیة اللہ العظمیٰ الشیخ ناصر مکارم شیرازی دامت برکاتہ۔

۲۲۔اعلام الدین: المولیٰ دیلمی۔

۲۳۔ سنن النبی: علامہ محمد حسین طباطبائی اعلیٰ اللہ مقامہ، دار احیاء التراث العربی، بیروت ،لبنان۔

۲۴۔آمالی : شیخ الطائفہ علامہ شیخ نصیر الدین الطوسی علیہ الرحمة۔

۲۵۔ منتخب میزان الحکمة: آقای محمد ،ری شھری۔

۲۶۔ دیوان سعدی: شاعر بزرگ جھان آقای سعدی شیرازی۔

۲۷۔ گلستان سعدی:شاعر بزرگ جھان آقای سعدی شیرازی۔

۲۸۔ سیرۂ پیامبر اکرم (ص): حجة الاسلام آقای محسن قرأتی دامت برکاتہ۔

۲۹۔ ھمگام با رسول (ص):حجة الاسلام آقای جواد محدثی دامت برکاتہ،ناشر: انتشارات پویشگر،

نوبت چاپ: اول ۱۳۸۴ ش

۶۷

فہرست

حرف آغاز ۳

پہلی فصل ۶

۱۔اخلاق کی لغوی اور اصطلاحی تعریف ۶

۲۔ تعریف علم اخلاق ۸

دوسر ی فصل ۱۰

اخلاق ،قرآن کی روشنی میں ۱۰

تیسری فصل ۱۲

۱ ۔علم اخلاق کی اہمیت ، احادیث کی روشنی میں ۱۲

۲ ۔علم اخلاق کا ہدف اور فائدہ ۱۴

چوتھی فصل ۱۵

اخلاق کی قسمیں ۱۵

پانچویں فصل ۱۸

حضور اکرم (ص) کی بعثت کا مقصد ۱۸

چھٹی فصل ۲۱

۱۔ رسول اسلام (ص) کا خداوندعالم کے ساتھ اخلاق ۲۱

۲۔ رسول اکرم (ص) کی عبادت اور نماز شب ۲۱

ساتویں فصل ۲۴

۱۔ حضرت (ص) کی دلسوزی ومہربانی ۲۴

۲۔ آنحضرت کی سیرت میں مہمان نوازی ۲۵

۳۔ سرکار (ص) کی بچوں کے ساتھہ مہر بانی ۲۶

۶۸

۴۔ آنحضرت کا جوانوں کے ساتھہ اخلاق ۲۸

۵۔ پیغمبر اکرم (ص) کی ذاتی اور شخصی سیرت ۲۹

۶۔ سرکار (ص) کا اہل خانہ کے ساتھہ اخلاق ۳۳

۷ ۔ رسول اسلام (ص) کی سیرت میں ساد گی ۳۵

۸۔ حضور (ص) کا ہمسایوں کے ساتھہ اخلاق ۳۵

۹۔ آنحضرت (ص) کا دوستوں کے ساتھہ اخلاق ۳۶

۱۰۔ اعزاء و اقارب کے ساتھ اخلاق ۳۶

۱۱۔ خادموں اور غلاموں کے ساتھہ اخلاق ۳۷

۱ ۲ ۔ حضرت (ص)کا دشمنوں کے ساتھہ اخلاق ۳۷

۱۳۔ سرکار رسالت (ص) کا کفار کے ساتھہ اخلاق ۳۸

۱ ۴ ۔ حضرت (ص) کی سیرت ،اسیروں کے ساتھہ ۳۹

۱۵۔ اجنبی و مسافراور عام انسان کے ساتھہ اخلاق ۴۰

آٹھویں فصل ۴۱

۱۔ ذات رسول اسلام (ص)، درس عبرت ۴۱

۲۔ حضور اکرم (ص) کی سیرت میں عدالت ۴۱

۳۔ پیغمبر اسلام (ص) کا عہدو پیما ن ۴۲

۴۔ رسول اسلام (ص) کی تبلیغی سیرت ۴۳

۵۔ حضرت ختمی مرتبت (ص) کی عملی '' Practicaly '' سیرت ۴۵

۶۔ حضرت (ص) کی نظر میں حقوق برادری ۵۰

۷۔ حضور (ص) کی سیرت باعث محبوبیت ۵۱

۸۔ سنت رسول اسلا م (ص) کی جگہ بدعتوں کا رواج ۵۷

۶۹

خلاصہ ۶۰

بعثت کا ھد ف ۶۰

عبا د ت ۶۱

سا د گی ۶۲

مہمان نوازی ۶۳

دلسوزی ۶۳

اھل خانہ کے ساتھہ ۶۴

تبلیغ ۶۵

منابع وماخذ ۶۶

۷۰

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204