معارف قرآن

معارف قرآن0%

معارف قرآن مؤلف:
: سیدنسیم حیدر زیدی
زمرہ جات: مفاھیم قرآن
صفحے: 204

معارف قرآن

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: سید حمید علم الھدی
: سیدنسیم حیدر زیدی
زمرہ جات: صفحے: 204
مشاہدے: 76137
ڈاؤنلوڈ: 1153

تبصرے:

معارف قرآن
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 204 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 76137 / ڈاؤنلوڈ: 1153
سائز سائز سائز
معارف قرآن

معارف قرآن

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

تشریح:

امام صادق ـ سے منقول ہے کہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ نور ولایت علی ـ کو بجھادیں لیکن خداوند عالم اُسے مکمل کرے گا اور حضرت حجة ابن الحسن ـ کے ظہور کے ذریعہ اُسے سارے جہاں پر غلبہ عطا کرے گا۔

(8) امام زمانہ علیہ السلام

الم - ذَلِکَ الکِتَابُ لارَیْبَ فَیهِ هدیً للْمُتَّقِیْنَ - اَلْذِیْنَ یومنون بِالْغَیْبِ و--- (بقره ٢)

ترجمہ:

یہ وہ کتاب ہے جس میں کسی طرح کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے یہ صاحبان تقویٰ اور پرہیز گار لوگوں کے لئے مجسمہ ہدایت ہے جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔

تشریح:

امام جعفر صادق ـ سے منقول ہے کہ صاحبان تقویٰ سے مراد حضرت علی ـ کے شیعہ اور غیب سے مراد امام زمانہ ـ ہیں۔

۴۱

(9)اللّٰہ کا گروہ

أُوْلٰئِک حِزْبُ اللّٰهِ أَلَا اِنّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ المُفْلِحُونَ - (مجادله ٢٢)

ترجمہ

:یہی لوگ اللہ کا گروہ ہیں ، اور آگاہ ہوجاؤ کہ اللہ کا گروہ ہی نجات پانے والا ہے۔

تشریح:

جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں: پیغمبر اسلام (ص)نے فرمایا آخری امام حجة ابن الحسن العسکریـہیں۔ پھر فرمایا کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو ان کی غیبت میں ثابت قدم ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں خدا فرماتا ہے۔أُوْلٰئِک حِزْبُ اللّٰه ----

(10) پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانشین

أَطِیْعُوا اللّٰهَ أَطِیْعُوا الرَّسُولَ وَ أوْلِی الأَمْرِ مِنْکُمْ --- (نساء ٥٩)

ترجمہ:

اللہ کی اطاعت کرو، رسول اور صاحبان امر کی اطاعت کرو جو تم ہی میں سے ہیں۔

۴۲

تشریح:

جابر بن عبد اللہ انصاری فرماتے ہیں: میں نے رسالت مآب سے سوال کیا کہ أولی الامر سے مراد کون ہیں؟ رسالت مآب نے فرمایا: وہ میرے جانشین اور مسلمانوں کے پیشوا اور رہنما ہیں جن میں سے پہلے علی ابن ابی طالب ـ اور آخری حجة ابن الحسن العسکری ـ ہیں۔جابر نے کہا میں نے عرض کی، یارسول اللہ! کیا شیعہ حضرت مہدی ـ کی غیبت کے زمانے میں اُن سے مستفید ہوسکے گے۔ رسالت مآب نے فرمایا: یقینا اُس ذات کی قسم جس نے مجھے نبوت عطا کی ہے شیعہ مہدی کے نور ولایت سے مکمل بہرہ مند ہونگے جس طرح لوگ سورج کے فوائد سے بہرہ مند ہوتے ہیں ، چاہے وہ بادلوں کے پیچھے ہی کیوں نہ ہو۔

(11) کافروں کی سزا

--- یوم یأتی بَعْضُ آیاتِ ربّکَ لَا یَنْفَعُ نفساً اِیْمٰانُهٰا لَمْ تکُنْ آمَنتُ مِنْ قَبْل ---(انعام ١٥٨)

ترجمہ:

جس دن اسکی بعض نشانیاں آجائیں گی اس دن جو نفس پہلے سے ایمان نہیں لایا ہے ، اسکے ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔

تشریح:

حضرت امام جعفر صادق ـ سے منقول ہے کہ وہ دن حضرت بقیة اللہـ کے ظہور کا دن ہے۔

۴۳

(12) أَولیٰاء خدا

أَلَا اِنَّ أَوْلِیٰائَ اللّٰهِ لَا خَوْف عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُونَ -(یونس ٦٢)

ترجمہ:

آگاہ ہو جاؤ کہ اولیاء خدا پر نہ خوف طاری ہوتا ہے اور نہ ''محزون '' اور رنجیدہ ہوتے ہیں۔

تشریح:

امام صادق ـ سے مروی ہے آپ نے ابو بصیر سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے ابو بصیر حضرت بقیة اللہ ـ کے شیعہ خوش نصیب ہیں جو آپ(ع) کی غیبت میں آپ کے مطیع اور آپ کے ظہور کے منتظر ہیں ۔ اس کے بعد آپ (ع) نے اس آیت کی تلاوت فرمائی ۔أَلَا اِنَّ أَوْلِیٰائَ اللّٰه---

(13) وعدہ الٰہی

وَعَدَ اللّٰه الَّذِیْنَ أَمَنُوا مِنْکُمْ وَ عَمِلُوا لصَّالِحٰاتِ یَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِیْ الأَرْضِ ---(نور ٥٥)

ترجمہ:

اللہ نے تم میں سے صاحبان ایمان و عمل صالح سے وعدہ کیا ہے کہ انھیں روئے زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا۔

۴۴

تشریح:

امام جعفر صادق ـ سے منقول ہے کہ یہ آیت حضرت بقیة اللہ ـاور ان کے اصحاب کی شان میں ہے۔ جابر عبداللہ انصاری سے مروی ہے پیامبر اسلام (ص)نے فرمایا: جناب موسیٰ کی طرح میرے بھی بارہ جانشین ہونگے اسکے بعد آپ نے بارہ اماموں کے نام بتائے اور فرمایا کہ حسن(عسکری)ـ کے بیٹے غیبت میں چلے جائیں گے اسکے بعد آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی۔وَعَدَ اللّٰه الَّذِیْنَ----

(14) ظالموں کا انجام

وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا أَیَّ مُنْقَلَبٍ یَنْقَبُونَ - (شعراء ٢٢٧)

ترجمہ:

اور عنقریب ظالمین کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس جگہ پلٹا دیئے جائینگے۔

تشریح:

رسالت مآب (ص) سے منقول ہے جو میرے دین کا پیرو ، اور میری کشتی نجات میں سوار ہونا چاہتا ہے وہ علی ابن ابی طالب ـ سے وابستہ ہوجائے انکے دشمن کو دشمن اور انکے دوست کو دوست رکھے۔ اسکے بعد آپ نے اماموں کے نام بتائے اور فرمایا میری امت کے نو پیشوا حسین ـ کی اولاد سے ہیں جنکے آخری قائم ـ ہیں۔ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی۔وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ---

۴۵

(15) زمین کے وارث

أَمَّنْ یُجِیْبُ المُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَکْشِفُ السُّوئَ وَ یجْعلکم خلفائِ الأَرْضِ - (نمل ٥٢)

ترجمہ:

بھلا وہ کون ہے جو مضطر کی فریاد کو سنتا ہے جب وہ اس کو آواز دیتا ہے۔ اور اس کی مصیبت کو دور کردیتا ہے اور تم لوگوں کو زمین کا وارث بناتا ہے۔

تشریح:

امام صادق ـ سے روایت ہے کہ یہ آیت قائم آل محمد ـ کی شان میں ہے۔ ظہور کے وقت آپ مقام ابراہیم کے پاس نماز ادا کرتے ہوئے یہ مناجات کرینگے۔

(16) لوگوں کے پیشوا

وَنُرِیْدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَی الَّذِیْنَ استضعَفُوا فِی الْأَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ أَئِمّهً وَ نَجْعَلَهُمُ الوارثین- (قصص ٥)

ترجمہ:

اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور بنا دیا گیا ہے ۔ ان پر احسان کریں اور انھیں لوگوں کا پیشوا بنائیں اور زمین کا وارث قرار دیں۔

۴۶

تشریح:

پیغمبر اسلام (ص) سے منقول ہے آپ نے جناب سلمان فارسی سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے سلمان کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں تمہیں اپنے بارہ جانشینوں کے نام بتاؤں۔ اور اسکے بعد بارہ اماموں کے نام بیان کئے۔ جناب سلمان فارسی کہتے ہیں کہ میں نے ان کے شوق دیدار میں بے انتہا گریہ کیا، تو پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا: اے سلمان ، اُن کے ہونے سے اس آیت کی تکمیل ہوگی۔وَنُرِیْدُ أَنْ نَمُنَّ---

(17) نماز کا قیام

أَلَّذِیْنَ اِنْ مَکّنَّا هُمْ فِی الْأَرضِ أَقَامُو الصَّلوٰةَ وأتوا الزّکٰاة وَ أَمَر وا بِالْمَعْروفِ ونَهَو عَنِ الْمُنْکرِ وَ لِلّٰهِ عٰاقِبَةُ الأُمور -(حج ٤١)

ترجمہ:

یہی وہ لوگ ہیں جنھیں ہم نے زمین میں اختیار دیا تو انھوں نے نماز قائم کی اور ذکات ادا کی اور نیکیوں کا حکم دیا اور برائیوں سے روکا اور یہ طے ہے کہ جملہ امور کا انجام خدا کے اختیار میں ہے۔

تشریح: امام جعفر صادق ـسے منقول ہے کہ یہ آیت مہدی آخر الزمان ـاور ان کے اصحاب کی شان میں ہے جو مشرق و مغرب میں دین اسلام کا پرچم لہرا کر خرافات اور ظلم وجور کو صفحہ ہستی سے مٹا دینگے۔ اور پھر فرمایا ، ویَا مُرُونَ بالمعروف (نیکیوں کا حکم دینے ، و۔۔۔۔۔۔۔

۴۷

(18)ذخیرہ الٰہی

بقیة اللّٰه خِیْر لَکُمْ اِنْ کُنْتُم مومنین-(هود ٨٦)

ترجمہ:

اللہ کی طرف کا ذخیرہ تمھارے لئے بہت بہتر ہے۔ اگر تم صاحب ایمان ہو۔

تشریح:

روایات میں امام عصر ـ کو '' بقیة اللہ '' کے لقب سے یاد کیا گیا ہے۔ اس لیے کہ پروردگار عالم نے انہیں آخری انقلاب اور زمانہ کی واقعی اصلاح کے لیے بچا کر رکھا ہے۔ جب سر زمین مکّہ سے آپ کا ظہور ہوگا تو آپ اس آیت کی تلاوت فرما کر کہیں گے میں ہی وہ بقیة اللہ ہوں۔

(19) صالحین کی حکومت

وَلَقَدْ کتبنا فِی الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّکرَ انّ الأَرْضَ یَرِثُهٰا عبادی الصَّالِحُونَ - (انبیاء ١٠٥)

ترجمہ:

اور ہم نے ذکر کے بعد زبور میں لکھ دیا ہے کہ ہماری زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہونگے۔

۴۸

تشریح:

رسالت مآب (ص)سے روایت ہے: کہ قیامت اُس وقت تک برپا نہیں ہوگی ، جب تک دنیا ظلم و جور سے نہ بھر جائے ۔ پھر میری ذرّیت میں سے ایک فرد قیام کرے گا اور دنیا کو اس طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ پہلے ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی۔

(20)امام برحق

فَوَ رَبِ السَّمَائِ وَ الْأرْض اِنّه لَحَقّ مِثْلَ مَا أَنَّکُمْ تَنطِقُونَ- (ذاریات ٢٣)

ترجمہ:

آسمان اور زمین کے مالک کی قسم یہ قرآن بالکل برحق ہے جس طرح تم خود باتیں کر رہے ہو۔

تشریح:

امام سجاد ـسے منقول ہے : اس آیت میں حق سے مراد حضرت حجة ابن الحسن العسکری ـ کا ظہور ہے۔

۴۹

(21) زمین کا جگمگانا

وَ أَشْرَقَتِ الأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهٰا- (زمر ٦٨)

ترجمہ:

اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے جگمگا اٹھے گی۔

تشریح:

امام جعفر صادق ـ سے مروی ہے کہ جب قائم ـ کا ظہور ہوگا تو زمین نورِ پروردگار سے اس طرح جگمگا اٹھے گی کہ لوگ سورج کی روشنی سے بے نیاز ہوجائیں گے۔ دن رات ایک ہی معلوم ہونگے اور لوگ ہزار سال تک صحیح و سالم زندگی گزاریں گے۔

۵۰

چوتھی فصل(دعا)

۵۱

(1) د نیا اور آخرت میں سعادت کی دعا

رَبَّنَا أتِنا فی الدُّنیٰا حَسَنةُ وَفِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّار-(سوره مبارکه بقره ٢٠١)

ترجمہ:

پروردگار ہمیں دنیا میں بھی نیکی عطا فرما اور آخرت میں بھی اور ہم کو عذاب جہنم سے محفوظ رکھ۔

پیغام:

بعض افراد خدا سے دنیا کی سعادت چاہتے ہیں جب کہ مومنین خدا سے دنیا و آخرت دونوں کی سعادت چاہتے ہیں اور دین کا ہدف بھی یہی ہے کہ لوگوں کو دنیا و آخرت کی سعادت تک پہونچایا جائے۔

ہمیں جو تکلیف بھی پہنچتی ہے وہ ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے، لیکن خداوند عالم ہمیں اپنی پناہ میں لے کر اُس تکلیف کو راحت میں تبدیل کردیتا ہے۔

(2) اپنے اور اپنی اولاد کے حق میں دعا

رَبّ اجْعَلْنِی مُقِیْمَ الصَّلٰوة وَمِنْ ذُرِّیَتِیْ رَبَّنَا وتَقَبَّلْ دُعٰاء ربّنٰا اغفرلی وَلِوَالِدَیّ وَ لِلْمُؤمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُومُ الِحسَاب-(سوره مبارکه ابراهیم -٤٠-٤١)

۵۲

ترجمہ:

پروردگار مجھے اور میری ذریت میں نماز قائم کرنے والے قرار دے اور پروردگار میری دعا کو قبول کرلے۔ پروردگار مجھے اور میرے والدین کو اور تمام مومنین کو اُس دن بخش دینا جس دن حساب قائم ہوگا۔

پیغام:

نماز دین کی پہچان ہے ۔ نماز کے قیام کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنی اور معاشرہ کی زندگی کو خدا کی ہدایت اور رہنمائی کے ذریعہ کامیاب بنائیں، جب دعا کریں تو سب کیلئے دعا کریں، جیسا کہ جناب ابراہیم خلیل خدا ـنے اپنی اولاد، اپنے والدین اور تمام مومنین و مومنات کے حق میں دعا فرمائی۔ دعا کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ توحید اور معاد پر مکمل یقین رکھتا ہو۔

(3) ثابت قدمی کے لئے دعا

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَهَبْ لَنٰا مَنْ لَّدُنْکَ رَحْمَةً اِنَّکَ أَنْتَ الوَهَّابْ-(سوره مبارکه آل عمران ٨)

ترجمہ:

اے ہمارے پروردگار جب تو نے ہمیں ہدایت دے دی ہے تو اب ہمارے دلوں میں کجی نہ پیدا ہونے پائے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما کہ تو بہترین عطا کرنے والاہے ۔

۵۳

پیغام:

ہدایت پانا ایک اہم أمر ہے لیکن اس سے زیادہ اہم ہدایت پر باقی رہنا ہے جس طرح ابتدائی ہدایت اس کی رحمت ہے بالکل اُس طرح ہدایت پر ثابت قدمی بھی اس کی رحمت کا جلوہ ہے۔ ہم اپنے جسم کو صحیح و سالم رکھنے کیلئے مسلسل سانس لیتے ہیں، اسی طرح اپنی روح کو صحیح و سالم رکھنے کیلئے ہمیں مسلسل خدا سے رابطہ رکھنا ہوگا تاکہ روح اپنے صحیح راستہ سے منحرف نہ ہونے پائے۔

(4)توبہ کیلئے دعا

رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَا أُمَّةً مُسْلِمَةً لَکَ وَ أَرِنَا مَنَاسِکَنا وَتُبْ عَلَیْنَاج اِنَّکَ أَنْتَ التَّوابُ الرَّحِیْم-(سوره مبارکه بقره١٢٨)

ترجمہ:

پروردگار ہم دونوں کو اپنا مسلمان اور فرمانبردارقرار دے اور ہماری اولاد میں بھی ایک فرمانبردار پیداکر، ہمیں ہمارے مناسک دکھلادے اور ہماری توبہ قبول فرما کہ تو بہترین توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے۔

پیغام:

ہر صاحب ایمان کو خدا سے ہدایت پر قائم رہنے کی دعا کرنی چاہیے اور اپنے ساتھ ساتھ اولاد کی ہدایت و راہنمائی کی تلاش و کوشش کے ساتھ دعا بھی کرنی چاہیے۔ حق کے سامنے سر تسلیم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہمیشہ حق بات کہیں اور حق کا ساتھ دیں، ہمیں عبادت اور بندگی ،خدا کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق کرنی چاہیے خدا کی صفات سے آگاہی اس سے دعا کرنے میں تقویت کا سبب ہے۔ وہ توبہ کا قبول کرنے والا اور مہربان ہے۔

۵۴

(5) مومنین کی بخشش کیلئے دعا

رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُونَا بِالاِیْمٰانِ وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوبِنَا غِلّاً لِّلّذینَ اٰمَنُوا رَبَّنَارَؤُف رَّحِیْم-(سوره مبارکه حشر١٠)

ترجمہ:

خدایا ہمیں معاف کردے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جنہوں نے ایمان میں ہم پر سبقت کی ہے، اور ہمارے دلوں میں صاحبان ایمان کے لئے کسی طرح کا کینہ نہ قرار دینا کہ تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔

پیغام:

بعض افراد دنیا کے مال و مقام کے حصول کی فکر میں رہتے ہیں ، اور ہمیشہ یہ آرزو کرتے ہیں کہ وہ سب سے زیادہ ثروت مند ہوجائیں لیکن مومنین اہل معنویت سے محبت کرتے ہیں اور ان ہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کے لئے طلب رحمت اور مغفرت کی دعا کرتے ہیں ۔

پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا: مومنین مختلف جسموں کے باوجود ایک جان ہیں۔

۵۵

(6) ہر کام کی اچھی ابتداء اور انتہا کے لئے دعا

رَبِّ أَدْخِلْنی مَدْخَلَ صِدْقٍ وَ أَخْرِجْنِی مُخْرَجَ صِدْقٍ و اجْعَل لِی مِنْ لَدُنْکَ سُلْطٰانًا نصیراً-(سوره مبارکه اسرائ،٨٠)

ترجمہ:

پروردگار میرے ہر کام کی ابتداء و انتہا اچھی طرح اور بہترین انداز سے قرار دے اور میرے لئے ایک طاقت قرار دے دے جو میری مددگار ثابت ہو۔

پیغام:

ہرکام کی ابتدء اور انتہا نیک نیتی کے ساتھ ہونی چاہیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہمارا ہر کام سچائی اور رضائے الٰہی کی خاطر ہو، اگر ہم ہر کام نیک نیتی کے ساتھ انجام دیں تو ممکن ہے کہ ہمارا شمار صدیقین میں سے ہوجائے۔

(7) کافروں پر کامیابی کے لئے دعا

رَبَّنَا وَلَا تَحْمَل عَلَیْنٰآ اِصْرًا کَمٰا حَمَلْتَه عَلٰی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنٰاج رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ بِه وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنٰا وَارْحَمْنٰا أَنْتَ مَوْلٰنَا فَانْصُرْنٰا عَلٰی الْقَوْمِ الْکٰافِرِیْنَ- (سوره مبارکه بقره ٢٨٦)

۵۶

ترجمہ:

خدایا ہم پر ویسا بوجھ نہ ڈالنا جیسا پہلے والی اُمتوں پر ڈالا گیا ہے، پروردگار ! ہم پر وہ بار نہ ڈالنا جس کی ہم میں طاقت نہ ہو، ہمیں معاف کردینا ہمیں بخش دینا ہم پر رحم کرنا، تو ہمارا مولا اور مالک ہے، اب کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد فرما۔

پیغام:

دعا کے آداب میں سے ایک یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنی عجز و انکساری کا اظہار کریں اس کے بعد پروردگار کی عظمت و بزرگی کی گواہی دیں اور پھر دعا کریں۔

مومنین ہمیشہ یہ چاہتے ہیں کہ اسلام کفر پر کامیابی حاصل کرے۔

(8) صبر و استقامت کیلئے دعا

رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَیْنٰا صَبْرًا وَّثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلٰی القَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ-(سوره مبارکه بقره،٢٥٠)

ترجمہ:

خدایا ہمیں بے پناہ صبر عطا فرما ہمارے قدموں کو ثبات دے اور ہمیں کافروں کے مقابلہ میں نصرت عطا فرما۔

۵۷

پیغام:

وہ لوگ ظالموں اور کافروں کے مقابلے میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں جو جہاد بالسیف سے پہلے جہاد بالنفس کرکے مقام صبرو استقامت پر فائز ہوں اس لئے کہ اگر صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جائے تو میدان جہاد میں ثبات قدم رہنا مشکل ہے۔

خداوند عالم مومنین کی کامیابی چاہتا ہے لیکن یہ کامیابی جہاد اور مقابلہ کے بغیر ممکن نہیں ہے، باایمان مجاہد اور صابر خدا ہی سے مدد چاہتے ہیں۔

(9) متقیوں اور پرہیز گاروں کے پیشوا ہونے کی دعا

رَبَّنَا هَبْ لَنَا مَنْ أَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیٰتِنٰا قُرَّةَ أَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا-(سوره مبارکه فرقان،٧٨)

ترجمہ:

خدایا ہمیں ہماری ازواج اور اولاد کی طرف سے خنکی چشم عطا فرما اور ہمیں صاحبان تقویٰ کا پیشوا بنادے۔

پیغام:

صالح بیوی اور صالح فرزند انسان کی دنیا و آخرت کی سعادت کے لئے زمین ساز ہیں۔ صالح فرزند جنت کے پھولوں میں سے ایک پھول ہے۔

دوستان خدا وہ لوگ ہیں جو خود بھی تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور صاحبان تقویٰ کے پیشوا بننے کے خواہش مند ہیں۔

۵۸

(10) طلب رحمت کے لئے دعا

رَبَّنَا اٰتِنَا مِن لَّدُنْکَ رَحْمَةً وَّ هَیِّیُٔ لَنَا مِنْ اَمْرِنٰا رَشَدًا-(سوره مبارکه کهف،١٠)

ترجمہ:

پروردگار ہم کو اپنی رحمت عطا فرما اور ہمارے لئے ہمارے کام میں کامیابی کا سامان فراہم کردے۔

پیغام:

خداکی رحمت تمام انسانوں کے شامل حال ہے مگر بعض لوگ اس رحمت کو عذاب میں تبدیل کرلیتے ہیں ، اور مومنین اس رحمت کو کمال اور سعادت تک پہنچنے کا وسیلہ قرار دیتے ہیں، ہمیں ایسا ہی ہونا چاہیے۔

خداوند ہمیشہ یہ چاہتا ہے کہ ہم کمال وسعادت کے راستہ پر گامزن رہیں اور اس سلسلے میں اس سے مدد طلب کریں، تاکہ صحیح اور درست راہ کو پالیں۔

(11) مغفرت کیلئے دعا

غُفْرانَکَ رَبَّنَا وَ اِلَیْکَ المَصِیْر- (سوره مبارکه بقره،٨٠)

۵۹

ترجمہ:

پروردگار تیری ہی مغفرت درکار ہے اور تیری ہی طرف پلٹ کر آنا ہے۔

پیغام:

خداوند عالم کی بخشش ہماری تربیت کیلئے زمین ساز ہے خداوند عالم ، عالم طبیعت میں خاک سے پھل اور پھول پیدا کرتاہے۔اور اسی طرح اپنی رحمت سے ہماری برائیوں کو خوبیوں میں اور ضلالت کو ہدایت میں بدل دیتا ہے۔ تمام انسانوں کو اسی کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے مومنین اس کی رحمت کے زیر سایہ ہوں گے اور کفار اس کے عذاب میں گرفتار رہیں گے اور یہ وہ راستے ہیں جو خود انہوں نے انتخاب کئے ہیں۔

(12) نور ہدایت کی تکمیل کیلئے دعا

رَبَّنَا اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْلَنَاج اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَی ئٍ قَدِیْر- (سوره مبارکه تحریم،٨٠)

ترجمہ:

خدایا ہمارے لئے ہمارے نور کو مکمل کردے اور ہمیں بخش دے کہ تو یقینا ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے۔

۶۰