توحید اور شرک (کے معیار کی شناخت)

توحید اور شرک (کے معیار کی شناخت)0%

توحید اور شرک (کے معیار کی شناخت) مؤلف:
زمرہ جات: توحید
صفحے: 33

  • ابتداء
  • پچھلا
  • 33 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 7722 / ڈاؤنلوڈ: 1155
سائز سائز سائز
توحید اور شرک (کے معیار کی شناخت)

توحید اور شرک (کے معیار کی شناخت)

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

توحید اور شرک

(کے معیار کی شناخت)

(تالیف)

مولانا سید نسیم حیدرزیدی

انوار القرآن اکیڈمی (پاکستان)

۱

بسم اﷲالرّحمن الرّحیم

۲

توحید اور شرک

(کے معیار کی شناخت)

( ولقد بعثنا فی کلّ امّةٍ رسولاًان اعبدوا اﷲواجتنبوا الطّاغوت )

ہم نے ہر امّت کے درمیان ایک پیغمبر مبعوث کیا ہے تاکہ خدا کی پرستش کریں اور خدا کے علاوہ ہر معبود سے اجتناب کریں۔

(سورہ مبارکہ نحل آیت 36 )

۳

باب اوّل : توحید ودلائل توحید

مسئلہ توحید جو ما سوا اللّہ کے وجود کی نفی اور خداوند متعال کے اثبات کے مضمون پر دلالت کرتا ہے ، تمام ادوار میں پیغمبران ِ خدا کی دعوت کا اساس رہا ہے ۔تمام انسانوں کو چاہیے کہ خدا کی پر ستش کریں اور دوسرے موجودات کی عبادت اور پرستش سے اجتناب کریں ۔ایک خدا کو ماننا اور دوئی کی زنجیروں کو توڑنا خداکی طرف سے بھیجے ہوئے بنیادی ترین احکام میں سے ایک ہے ۔تمام انبیائے الٰہی (ع)کے مشن میں جو چیز سر فہرست ہے وہ یہی ہے ۔گویا تمام انبیاء (علیہم السّلام )ایک ہی ہدف کے لیئے چنے گئے ہیں اور وہ یہ کہ مسئلہ توحید اور یکتا پرستی کو انسانوں کے دلوں میں راسخ کریں ۔اور شرک کے خلاف بطور مطلق جہاد کریں ۔

قرآن مجید نے اس حقیقت کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:

١ ( ولقد بعثنا فی کلّ امّةٍ رسولاًان اعبدوا اﷲواجتنبوا الطّاغوت ) (1)

''ہم نے ہر امّت کے درمیان ایک پیغمبر مبعوث کیا ہے تاکہ خدا کی پرستش کریں اور خداکے علاوہ ہر معبود سے اجتناب کریں''۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1) سورہ مبارکہ نحل آیت 36

۴

٢ (وماارسلنا من قبلک من رسول الّا نوحی الیه انّه لااله الاّ انا فاعبدون ) (2)

''آپ سے قبل ہم نے کسی پیغمبر کو نہیں بھیجا مگر یہ کہ اسے ہم نے وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں اور

میری ہی عبادت و بندگی کرو ''

قرآن مجید نے خدا کی عبادت اور پر ستش کو تمام آسمانی شریعتوں کے لیئے ''اصل مشترک ''کے طور پر پہچنوایا ہے

(قل یا اهل الکتاب تعالوا الی کلمةٍسوائٍ بینناو بینکمالّانعبدو االّاﷲولا نشر ک به شیئاً) (1)

''اے رسول آپ کہدیجئے،کہ اے اہل کتاب آو اس کلمہ کو قبول کریں جو ہمارے اور تمھارے درمیان مشترک ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا کے علاوہ ہم کسی کی پرستش نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک قرار نہ دیں ۔

قرآن مجید نے اسی اساسی اور بنیادی مسئلہ کو ثابت کرنے کے لیئے متعدد دلائل اور براہین قاطعہ پیش کیے ہیں جنھیں دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔دلائل نظری اور دلائل مشاہداتی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1) سورہ مبارکہ نحل آیت 36 (2)سورہ مبارکہ انبیاء آیت 25

۵

(1)دلائل نظری

قرآن مجید نے نظری استدلال کا اندازو اسلوب اختیار کرتے ہوئے اثبات توحید کے باب میں متعدد مقامات پر جو ارشاد فرمایا ہے یہاں اس کا بیان مقصود ہے

پہلی دلیل:

قرآن مجید تصوّر توحید کو انتہائی مثبت اور انوکھے انداز میں یوں پیش کرتا ہے

(والٰهکم الٰه واحد لآاله الاهو الرّحمن الرّحیم ) (1)

'' اور تمھارا معبود خدائے واحد ہے اس کے سواء کوئی معبود نہیں (وہ) نہایت مہربان بہت رحم والا ہے''

ابتدائے آفرینش سے انسان کی یہ کمزوری رہی ہے کہ وہ توہماتی طورپر ہر اس وجود کو منصب الوہیت پر فائز کرکے اس کی بندگی اور پرستش کا خوگر بنا رہا ،جس سے اس کی ذات کے لئے مادی منفعت کا کوئی پہلو نظر آتا تھا ،ایک نادیدہ خدا کا تصوّر اس کے لئے عجیب وغریب بات تھی ۔

اس کائنات رنگ و بو میں خدا کی ربوبیت نے جتنے بھی اسباب مہیا فرمائے اور مظاہر قدرت پیدا کئے ہیں وہ سب کسی نہ کسی طرح انسان کی خدمت بجا لانے اور اس کے لئے منفعت اندوزی کا سامان مہیا کر نے میں لگے ہوئے ہیں ۔انسان نے اپنی اس ازلی اور فطری کمزوری کی بنا پرعناصر اربعہ آگ ،پانی ،مٹی ،ہوا اور ان کے متعلقات

----------------

(1) سورہ مبارکہ بقرہ 2:162

۶

کو جن سے وہ کسی نہ کسی صورت میں تمتّع حاصل کرتا رہا ،مقام الوہیت پر لا بٹھایااور اپنی نادانی اور کوتاہ نظری سے انہیں خدایا خدا تک پہنچنے کا ذریعہ تصوّر کرتا رہادرج بالا آیہ کریمہ میں اس باطل تصوّر کی نفی کرتے ہوئے انسان پر یہ حقیقت واشگاف کی جارہی ہے کہ وہ ذات جونفع رساں اور مسلسل ا پنی بے پایان رحمت عمومی کے خزانے نچھاور کرنے والی ہے ہی ،منصب الوہیت کی سزاواراور اس لائق ہے کہ جبینِ نیاز اسی کے سامنے جھکائی جائے ۔وہی لازوال ہستی جو تمھارے معاش کی حاجتوں کو پورا کرنے والی اورمعاد کی حاجتوںاور ضرورتوں کو بھی فراہم کرنے والی ہے اس بات کی مستحق ہے کہ تم اپنا سر تسلیم اور جبیں بندگی اسی کے سامنے خم کرو اور سبھی معبودان باطلہ کی پرستش و بندگی سے باز آجاو۔

دو سری دلیل:

قرآن مجید سورہ بقرہ کی 164 ویں آیت میں اسی عقلی و نظری استدلال کو بروئے کار لاتے ہوئے انسان کو تخلیق کائنات اوراختلاف لیل ونہار کے مطالعہ کی دعوت دیتا ہے ۔ ارشاد ربّ العزت ہے ۔

(انّ فی خلق السمّوات والارض واختلاف الّیلِ والنّهارِلایات لّقومِ یعقلون )

''بے شک آسمانوںاور زمین کی تخلیق میں اور رات دن کی گردش میں عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں ''

۷

اس آیہ کریمہ میں انسان کی توجہ اس طرف مبذول کرائی جارہی ہے کہیہ کائنات ارضی و سماوی تو خود مخلوق ہے لہذا یہ الہٰ کیسے ہوسکتی ہے منصب الوہیت پر فائز ہونے کی حقدار تو وہی ذات ہو سکتی ہے جو پیدا نہ کی گئی ہو ،اس لئے کہ پیدا کی جانے والی ذات حادث تصوّر ہو گی اور حادث ذات کبھی الہٰ نہیں ہوسکتی۔

تیسری دلیل:

قرآن مجید میں ایک مقام پرخداوندمتعال نے اپنی خالقیت وربوبیت کو اپنی الوہیت ومعبودیت کی عقلی دلیل کے طور پر ان الفاظ میں پیش کیا ہے ۔

(یا أيّها الناس اعبدوا ربّکم الذی خلقکم والذین من قبلکم لعلّکم تتّقون الذی جعل لکم الارض فراشاًوّالسمائَ بنائًوانزل من السّمائِ مائً فاخرج به من الثّمرات رزقاًلّکم فلا تجعلوا للّه انداداًوّانتم تعلمون ) (1)

'' اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمھیں پیدا کیا اور ان لوگوں کو بھی جو تم سے پیشتر تھے تاکہ تم پرہیز گار بن جاو۔جس نے تمھارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو عمارت بنایا اور آسمانوں سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعے تمھارے کھانے کے لئے پھل پیدا کئے پس تم اﷲ کے لئے شریک نہ ٹھراو حالانکہ تم جانتے ہو ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سورہ مبارکہ بقرہ،2:21۔22

۸

اس آیہ کریہ میں اس حقیقت کی نشاندہی ہے کہ بنی نوع انسان کی تمام گزشتہ اور آئندہ

نسلوں اور انسانیت کے تمام طبقوں کو معرض وجود میں لانے والی اور ان کی کفالت کرنے والی واحد ہستی ہی اس امر کی مستحق ہے کہ اس کے سامنے سر بندگی اور جبین نیاز خم کی جائے ۔اس انداز استدلال سے اس بات کا استشہاد کیا گیا ہے کہ جب سب کو پیدا کرنے والی اور پرورش وتربیت کرنے والی ذات رب ذو الجلال کی ہے تو انسان کس وجہ سے معبودان ِ باطلہ کو اس کے ساتھ عبادت میں شریک کرتا ہے ۔گویا خالقیت اور ربوبیت میں یکتا اور واحد ہونا اس کی الوہیت و معبودیت میں یکتا و واحد ہونے پر محکم دلیل ہے ۔کیوں کہ یہ بات عقل ِسلیم کے خلاف ہے کہ انسان کو پردہ نیستی سے وجود میں لانے والی اور اس کی تمام فطری اور جبلّی ضرورتوں کی تکمیل و تسکین کا سامان فراہم کرنے والی تو اس کی ذات ہو اور وہ عبادت کسی اور کی کرتا رہے ۔جب وہ اوّلین وآخرین سب کا خالق و مالک اور پروردگار ہے تو اسے چھوڑ کر کسی مخلوق کی عبادت کرنا یا اﷲ کی عبادت کے ساتھ اس کو شریک کرلینا عقل و فہم کی رو سے کب جائز وروا ہوگا۔

مشاہداتی دلائل:

خدا کی ہستی اور اثبات توحیدپرقرآن ِ مجید کا طرز واسلوبِ استدلال اس ہمہ گیر ربوبیت کے نظام میں تعقّل و تفکّر اورتدبّر کی دعوت دیتاہے جو اس کائنات بسیط میں ایک خاص نظم و ضبط اور ترتیب و قاعدے کے ساتھ بندھا ہوا ہے ۔چنانچہ قرآن جا بجا انسان کوعالم انفس ،آفاق میں تدبّر کی دعوت دیتا ہے اور اس سے اس بات کا تقاضا کرتا ہے

۹

کہ وہ اپنی اور اس کائنات کی خلقت پر غور کریاور دیکھے کہ یہ کارخانہ حیات کس نظم وانضباط کے ساتھ چل رہا ہے ۔ انسان اگر غور و فکر کرے تو خود اپنی پیدائش اور عالم گرد و پیش کے مشاہدات اس پر عرفان ذات اور معرفت خداوند متعال کے بہت سے سر بستہ راز کھول دیں گے ۔اس سلسلے میں قرآن مجید نے جن دلائل سے ذات باری تعالیٰ کی توحید پر استشہاد کیا ہے ان میں سے چند کا اجمالی تذکرہ ذیل میں کیا جا رہا ہے۔

پہلی دلیل:

اگر گوش اور دیدہ بینا کو وا کرکے ہم کائنات کی کھلی کتاب کا مطالعہ کریں تو اس کے ورق ورق سے ایک پروردگار کے وجود کا اعلان ہوتا دکھائی دے گا۔اس کے اندر سے یہ پکار سنائی دے گیکہ اس کائنات کی تخلیق با لحق ہوئی ہے ۔انسان بے ساختہ اس بات کے اقرار پر مجبور ہوگا کہ (ربّنا ما خلقت ھذا باطل )(1)

''اے ہمارے رب ! تونے یہ (سب کچھ) بے حکمت اور بے تدبیر نہیں بنایا ۔

دوسری دلیل:

قرآن اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ انسان کائنات میں کار فرما نظام ِ ربوبیت کا بے لاگ مطالعہ کرنے بیٹھے اور اس کے وجدان میں ایک ربّ العالمین ہستی کے ہونے کایقین انگڑائیاں نہ لینے لگے ۔یہ ممکن ہے کہ انسان سرکشی ،اور تمرّد اور غفلت کی بنا پر ہر چیز سے انکار کردے ، لیکن وہ اپنی فطرت سے انکار نہیں کرسکتا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1) آل عمران 3: 191

۱۰

اس کی فطرت سلیمہ کے خمیر میں خدا پرستی کا جذبہ خوابیدہ حالت میں ودیعت کیا گیا ہے ۔ جب اس کی غفلت کا پردہ چاک ہوتا ہے تو اس کا وجدان خود اس کی رہنمائی کرکے اسے اس کے مدّعا تک پہنچادیتا ہے ۔

چنانچہ قرآن مجید نے اس حقیقت کی نشاندہی ان الفاظ میں کی ہے ۔

( بل الانسان علیٰ نفسه بصیر ة) (1)

''بلکہ انسان خود بھی اپنی حالت پر مطلّع ہے ''

تیسری دلیل :

قرآن مجید میں ایسے مقامات ہیں جن میں ایک وسیع البنیاد نظام ربوبیت سے توحید باری تعالیٰ پر استدلال کیا گیا ہے ،بے شمار ہیں ۔لیکن یہاں طوالت کے خوف سے صرف چند ارشادات پر اکتفا کیا جائے گا ۔

انسان سے مخاطب ہو کر فرمایا گیا

( فلینظر الانسان الیٰ طعامه انّا صببنا المأئَ صبّا ثمّ شققنا الارض شقاًفانبتنا فیها حبّا) (2)

''پس انسان کو چاہیے کہ اپنی غذا کی طرف غور کرےبشک ہم ہی نے خوب پانی برسایا پھر ہم نے زمین کو جابجا پھاڑدیاپھر ہم نے اس میں غلّہ پیدا کیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورہ مبارکہ قیامت ،75:14

(2)سورہ مبارکہ عبس ،24۔۔27

۱۱

یہاں ''فلینظر الانسان '' کے ابتدائی کلمات ہی انتہائی فکر انگیز اور بصیرت افزاء ہیں ۔انسان ہر چیز سے غافل ہو سکتا ہے لیکن وہ اپنی خوراک کی طرف سے آنکھیں نہیں پھیر سکتا ۔وہ دانہ گندم پر بیج سے پودا بننے کے نامیاتی عمل پر غور کرے تو نظام کائنات کے باطن میں جھلکنے والی ربوبیت اسے اس کار خانہ حیات کے پیدا کرنے والی ہستی کا سراغ دے گی ۔

سورہ نحل میں خدا کے کارخانہ ربوبیت کی مثال شہد کی مکھی سے انتہائی بلیغ پیرائے میں دی گئی ہے ارشاد ربّ العزت ہے ۔

(واوحیٰ ربّک الیٰ النحل ان اتّخذی من الجبال بیوتاًو من الشجروممّایعرشون ) (1)

''اور آپ کے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں ڈال دیا کہ تو بعض پہاڑوں میں اپنے گھر بنا اور بعض درختوںمیں اور بعض چھپروں میں جھنیں لوگ اونچا بناتے ہیں۔''

یہ بات طے شدہ ہے کہ دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں جسے پرورش کی احتیاج نہ ہو جس طرح ہر چیز جو مخلوق ہے اپنے خالق پر دلالت کرتی ہے ۔ایسی ہر چیز جو مربوب ہے اس کے لئے لازمی ہے کہ اس کا ایک رب بھی ہو۔

رحم مادر میں پرورش پانے والے جنین کو غذاپہنچانے کے پیچیدہ نظام کے مطالعہ سے نظام ربوبیت کی وہ کرشمہ سازیاں عیاں ہوتی ہیں جو کسی پرورش کرنے والی ہستی کی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورہ مبارکہ نحل،:68

۱۲

خبر دیتی ہیں ۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ہر ایک کی پرورش ہو رہی ہو اور پرورش کرنے والی کوئی ذات موجود نہ ہو۔خود بخود تخلیق کے تصوّرکی کوئی سائنسی بنیاد نہیں اور اس کی لغویت اتنی آشکارا ہے کہ غیر جانبدارانہ تعقّل و تفکّر سے انسان خدا کے وجود کا اقرار کئے بغیر رہ نہیں سکتا ۔

۱۳

باب دوم :توحید اور شرک کا معیار

توحید اور شرک کی بحث میں سب سے اہم مسئلہ دونوں کے معیار کی شناخت ہے۔ اگر کلیدی طور پر اس مسئلہ کو حل نہ کیا گیا تو بہت سے بنیادی مسائل کا حل ہونا مشکل ہے لہٰذا ہم مختصرطور پر توحید اور شرک کے مختلف پہلوئوں پر بحث کریں گے۔

1۔ توحید ذات

توحید ذات کی دو صورتیں ہیں:

الف: خدا (علماء کلام کی تعبیر کے مطابق ''واجب الوجود'') ایک ہے اس کی مثل و نظیر نہیں ہے۔ یہ وہی توحید ہے جس کو خداوند عالم نے قرآن مجید میں مختلف انداز سے بیان کیا ہے۔ مثلاً :

(لیس کَمِثْلِهِ شیئ) (1)

کوئی چیز اس کی مثل و نظیر نہیں ہے۔

یا دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورہ مبارکہ شوریٰ، آیت 11۔

۱۴

(وَ لَمْ یَکُنْ لَه' کُفْواً أَحَدا) (1)

کوئی اس جیسا نہیں ہے۔

قدیم فلاسفہ و حکماء کے نزدیک یہ کائنات دو حصوں میں منقسم ہے ۔

1۔ ممکن الوجود

2۔ واجب الوجود

ممکن الوجود کے زمرے میںوہ سب وجود اور چیزیں شامل ہیں جن کا ہست و نیست ہونا اور موجود و معدوم ہونا دونوں جائز اور روا ہے اور ان کے وجود پر کائنات کے وجود کا انحصار نہ ہو ۔گویا دوسرے لفظوں میں ان کا وجود اور عدم وجود برابر و یکساں ہے۔ اگر ان مختلف ا لنوع ا شیاء کا کائنات میں وجود مان بھی لیا جائے تب بھی درست ہے اور اگر نہ مانا جائے تب بھی درست و جائز ہے ۔اس میں خداوند متعال کے علاوہ کائنات کی ہر چیز شامل ہے جبکہ اس کے بر عکس واجب الوجود ہستی سے مراد وہ ذات ہے جس کے وجود پر کائنات کے وجود کا انحصار ہے اور اس کاہر آن ،ہر زمانے اور ہر کیفیت میں ہونا بہر حال ضروری ہے ۔اس کے عدم وجود کا تصوّر بھی ناممکن ومحال ہے ۔اس بنا پر جب یہ کہا جاتا ہے کہ فلان چیز واجب ہے تو اس کا معنیٰ لا محالہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا ہونا لازمی ہے اور نہ ہونے کا سوال ہی خارج از بحث ہے ۔اس کا اطلاق صرف اور صرف خداوند متعال کی ذات مطلق پر ہوتا ہے کہ تنہا وہی ایک ایسی ہستی ہے جو ازل

---------------

(1)۔ سورہ مبارکہ اخلاص، آیت 4۔

۱۵

سے موجود ہے اور ابد تک رہے گی اور اس کے وجود پرتمام کائنات کا دارو مدار ہے ۔

البتہ اس طرح کی توحید کی کبھی عوامی صورت سامنے آتی ہے جس میں توحید عددی کا رنگ شامل ہوتاہے اور کہا جاتا ہے کہ ''خدا ایک ہے'' دو نہیں ہیں ظاہر ہے کہ اس قسم کی توحید مقامِ الوہیت کے شایانِ شان نہیں ہے خدا کی ذات بسیط ہے مرکب نہیں ہے کیونکہ اجزائے ذہنی یا اجزاء خارجی سے کسی موجود کی ترکیب کا مطلب یہ ہے کہ اپنے اجزاء کا محتاج ہے اور احتیاج، امکان کی دلیل ہے۔ امکان اور علت کی احتیاج کا لازم و ملزوم ہونا واجب الوجود کی شان کے خلاف ہے۔

2۔ توحید خالقیت

توحید خالقیت عقل و نقل کے اعتبار سے قابل قبول ہے عقلی اعتبار سے اللہ کے علاوہ، ایک امکانی نظام ہے جس میں کسی قسم کا کوئی کمال یا جمال نہیں پایا جاتا۔ اس نظام کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ ''غنی بالذات'' منبع فیض کی دِین ہے۔ لہٰذا دنیا میں کمال و جمال کے جو بھی جلوے نظر آتے ہیں سب اسی کی عطا ہیں۔

توحید خالقیت کے موضوع پر قرآن میں بہت سے آیتیں ہیں نمونہ کے طور پر ہم یہاں ایک آیت پیش کر رہے ہیں:

(قل اللّٰه خالق کل شیئٍ وهو الواحد القهار) (1)

کہہ دیجئے کہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا خدا ہے جو ایک اور غالب ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورہ مبارکہ رعد، آیت 16۔

۱۶

کلی طور پر توحید خالقیت میں کسی قسم کا اختلاف نہیں پایا جاتا، البتہ پیدائش کی دو تفسیریں بیان کی جاتی ہیں۔

الف: موجودات کے درمیان ہر طرح علت و معلول اور سبب و مسبب والا قانون ''علة العلل'' اور مسبب الاسباب تک منتہی ہوتا ہے درحقیقت مستقل اور حقیقی خالق خدا ہے۔ اپنے معلولات میں غیر خدا کی اثر اندازی خدا کی اجازت اور مشیت کے بغیر ناممکن ہے۔

اس نظریہ میں اس علت و معلول والے نظام کا اعتراف ہے جو دنیا میں کارفرما ہے اور علم بشر نے بھی اس حقیقت کا انکشاف کیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ سارا نظام کسی نہ کسی انداز سے خدا سے متعلق ہے۔ وہ اس نظام کا خالق ہے۔ اسباب و علل کو اسباب و علل بنانے والا اور مؤثر کو تاثیر عطا کرنے والا وہی ہے۔

ب: دوسرا نظریہ یہ ہے کہ دنیا میں صرف ایک خالق کا وجود ہے اور وہ خدا ہے نظام ہستی میں اشیاء کے درمیان کسی طرح کی تاثیر و تأثر نہیں ہے ۔ وہ بلا واسطہ ساری طبیعی اشیاء کا پیدا کرنے والا ہے۔ یہاں تک کہ انسان کی طاقت بھی اس کے فعل پر اثر انداز نہیں ہوتی۔اس وجہ سے کائنات میں ایک ہی علت ہے۔ اس کے سوا اور کسی علت کا وجود نہیں ہے۔ علم جِسے علل طبیعی کے عنوان سے روشناس کراتا ہے۔ وہ وہی ذات ہے اور بس!

توحید خالقیت کے موضوع پر یہ تفسیر اشاعرہ نے پیش کی ہے لیکن اشاعرہ سے بعض

۱۷

اشخاص نے اس تفسیر سے انکار کیا ہے اور پہلی تفسیر کو اختیار کیا ہے۔ مثلاً۔ امام الحرمین(1) اور شیخ محمد عبدہ نے رسالہ توحید میں اسی رُخ کو اختیار کیا ہے۔

3۔ کائنات کی تنظیم میں توحید

چونکہ کائنات کا پیدا کرنے والا خدا ہے۔ اس لیے نظام ہستی کا چلانے والا بھی اسی کو ہونا چاہیے۔ دنیا کا منتظم صرف ایک ہے اور جس عقلی دلیل سے خالق کا ایک ہونا ثابت ہوتا ہے اِسی سے کائنات کے منتظم کا ایک ہونا ثابت ہوتا ہے۔

قرآن مجید نے بھی مختلف آیتوں میں یہی بتایا ہے کہ منتظم کائنات ایک ہے۔

( قُلْ أغَیْرَ اﷲِ أبْغِی رَبًّا وَهُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْئٍ) (2)

کہہ دیجئے کہ کیا میں خدا کے علاوہ کوئی دوسرا پروردگار ڈھونڈوں حالانکہ تمام چیزوں کا رب وہی ہے۔

توحید خالقیت میں جو دو تفسیریں بیان کی گئی تھیں، وہی مدبر ومنتظم کائنات کی توحید میں بھی بیان کی جاتی ہیں۔ ہماری نظر میں مستقل اور اصلی مدبر خدا ہی کی ذات ہے۔

چونکہ نظام ہستی میں سب کچھ خدا کی مشیت اور اس کے ارادہ سے انجام پاتا ہے۔ اسی وجہ سے قرآن نے بھی ان تدبیر اور تنظیم کرنے والوں کی طرف اشارہ کیا ہے جو خالق کی ذات سے وابستہ ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ ملل و نحل: شہرستانی، ج1۔

(2)۔ سورہ مبارکہ انعام، آیت 164۔

۱۸

(فَالْمُدَبِّرٰاتِ أمْراً) (1)

وہ نظام ہستی کا انتظام کرنے والے ہیں۔

4۔ توحیدِ حاکمیت

توحید حاکمیت سے مراد یہ ہے کہ حقِ ثابت کے عنوان سے حکومت کا حق صرف اللہ کو ہے اور سارے انسانوں پر صرف وہی حاکم ہے۔

قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

(ان الحکم اِلّا اللّٰه) (2)

صرف خدا کو حاکمیت کا حق ہے۔

اس بنا پر خدا کی مشیت سے ہی دوسروں کی حکومت قائم ہوسکتی ہے تاکہ نیک انسان معاشرہ کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں سنبھالیں اور منزلِ سعادت و کمال کی طرف لوگوں کی راہنمائی کریں۔

قرآن خود کہتا ہے:

(یَادَاوُودُ ِنَّا جَعَلْنَاکَ خَلِیفَةً فِی الَْرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقّ)(3)

اے دائود ہم نے تم کو زمین پر اپنا نمائندہ بنایا ہے لہٰذا لوگوں کے درمیان حق فیصلے کرو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورہ مبارکہ نازعات، آیت 5۔

(2)۔ سورہ مبارکہ یوسف، آیت 40۔

(3)۔ سورہ مبارکہ ص، آیت 26۔

۱۹

5۔ اطاعت میں توحید

بالذات جس کی پیروی لازم ہے وہ خداوند عالم کی ذات ہے۔ اس بنا پر انبیائ، ائمہ ٪ فقیہ، ماں باپ وغیرہ کی اطاعت خدا کے حکم اور ارادہ کی پابند ہے۔

6۔ قانون سازی کے مسئلہ میں توحید

اس کا مطلب یہ ہے کہ قانون سازی اور شریعت بنانے کا حق صرف خدا کو حاصل ہے اسی وجہ سے ہماری آسمانی کتاب کے مطابق جو حکم قانون الٰہی حدوں سے خارج ہو وہ کفر، فسق اور ظلم و ستم ہے۔

( وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا أَنزَلَ اﷲُ فَأُوْلَئِکَ هُمْ الْکَافِرُون) (1)

جو قانون الٰہی کے مطابق حکم نہیں کرتے وہی لوگ کافر ہیں۔

( وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا أَنزَلَ اﷲُ فَأُوْلَئِکَ هُمْ الْفاسِقُون) (2)

جو قانون الٰہی کے مطابق حکم نہیں کرتے وہی لوگ فاسق ہیں۔

( وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا أَنزَلَ اﷲُ فَأُوْلَئِکَ هُمْ الْظَالِمُون) (3)

جو قانون الٰہی کے مطابق حکم نہیں کرتے وہی لوگ ظالم ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورہ مبارکہ مائدہ، آیت 44۔

(2)۔ سورہ مبارکہ مائدہ، آیت 47۔

(3)۔ سورہ مبارکہ ص، آیت 45۔

۲۰