اہل ذکر۔۔۔۔۔۔؟ جلد ۱

اہل ذکر۔۔۔۔۔۔؟0%

اہل ذکر۔۔۔۔۔۔؟ مؤلف:
قسم: مناظرے
صفحے: 291

اہل ذکر۔۔۔۔۔۔؟

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: محمد تیجانی سماوی (تیونس)
قسم: صفحے: 291
مشاہدے: 3605
ڈاؤن لوڈ، اتارنا: 343

تبصرے:

کتاب کے اندر تلاش کریں
  • شروع
  • پچھلا
  • 291 /
  • آگے
  • آخر
  •  
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا HTML
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا Word
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا PDF
  • مشاہدے: 3605 / ڈاؤن لوڈ، اتارنا: 343
سائز سائز سائز
اہل ذکر۔۔۔۔۔۔؟

اہل ذکر۔۔۔۔۔۔؟ جلد 1

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

۱

اہل ذکر....؟

ڈاکٹر محمد تیجانی سماوی

ترجمہ

نثار احمد زین پوری

انتشارات انصاریان

قم خیابان شہدا ص. پ187. تلفن 21744

۲

۳

نام کتاب................................................................اہل ذکر.....؟

تالیف...........................................................ڈاکٹر محمد تیجانی سماوی

ترجمہ.......................................................... نثار احمد زین پوری

کتابت ........................................................رضوان حیدر ہندی

کتابت سرورق.................................................پیغمبر عباس نوگانوی

ناشر .........................................................انتشارات انصاریان قم ایران

تعداد....................................................تین ہزار 3000

تاریخ ....................................................سنہ1371ھ شمسی

۴

مقدمہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد لله رب العالمین و افضل الصلاة و ازکی التسلیم علی سیدنا و مولانا محمد المبعوث رحمة للعالمین سید الاولین والآخرین و المنزه عن کل ما هو مشین، و علی آله الطیبین الطاهرین اعلام الهدی و مصابیح الدجی و ائمة المسلمین.

اما بعد:

یہ چند سوالات میں نے مسلمان محققین کے لئے تیار کئے ہیں خصوصا اہلسنت کے لئے جن کا یہ گمان ہے کہ صرف وہی نبی(ص) کی صحیح سنت سے متمسک ہیں. یہی نہیں بلکہ وہ اپنے مخالف پر اعتراض کرتے ہیں اور انہیں برے القاب سے نوازتے ہیں.

اور بعض اسلامی ممالک میں تو سنت محمدی(ص) سے دفاع کے

۵

نام پر انصار السنہ اور انصار الصحابہ نامی انجمنین وجود میں آگئی ہیں اور شیعوں کو کافر ثابت کرنے اور ان کے ائمہ و علماء کا مذاق اور مضحکہ اڑانے کے لئے متعدد کتابیں لکھی گئی ہیں اور اس فکر کو تمام اسلامی اور غیر اسلامی خطوں میں پہونچانے کے لئے عالمی ذرائع ابلاغ نشر کر رہے ہیں جن کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج لوگوں کی گفتگو کا موضوع شیعہ اور سنی بنے ہوئے ہیں.

بہت سے پروگراموں میں میری ملاقات بعض سچے اور زہین جوان مسلمانوں سے ہوئی جو شیعیت کی حقیقت اور اس کے خرافات کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور شیعوں کے خلاف جو کچھ کتابوں میں پڑھتے اور سنتے ہیں دونوں کے درمیان بہت فرق پاتے ہیں وہ یہ نہیں جانتے کہ حق کیا ہے. میں نے بعض سے گفتگو کی اور اپنی کتاب "ثم اہتدیت" ان کو ہدیہ کی الحمد للہ ان میں سے اکثر نے بحث و تمحیص کے بعد حق کو پہچان لیا اور اس کا اتباع کرنے لگے، لیکن یہ چیز ان گنے چنے جوانوں میں منحصر ہوکر رہ گئی ہے جن سے میری اتفاقا ملاقات ہوئی تھی. لیکن دوسرے جوانوں کے لئے ایسی ملاقات مشکل ہے. وہ مختلف افکار کے تانے بانے میں پھنسے ہوئے ہیں.

باوجودیکہ مطمئن کن دلیلیں اور ٹھوس حجتیں" ثم اہتدیت" اور " لاکون مع الصادقین" میں موجود ہیں، پھر بھی دونوں کتابیں شیعوں کے خلاف ہونے والے ان پروپیگنڈوں اور ان کے دفاع کے لئے کافی نہیں ہیں، جو ڈالر کے بل بوتے پر مختلف ذرائع ابلاغ سے نشر کئے جارہے ہیں.

اس کے باوجود اس شور وغل میں حق کی آواز گونجے گی، اورعنقریب اس سخت تاریکی میں نور حق چمکے گا اس لئے کہ یہ خدا کا وعدہ ہے اور اس کا وعدہ ضرور پورا ہوگا چنانچہ پروردگار عالم کا ارشاد ہے:

۶

( يريدون‏ ليطفئوا نور اللّه‏ بأفواههم و اللّه متمّ نوره و لو كره الكافرون ) ( سورہ الصف، آیت/8)

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ نور خدا کو اپنے منہ سے بجھا دیں اور خدا اپنے نور کو مکمل کرنے والا ہے چاہے یہ بات کفار کو کتنی ہی ناگوار کیوں نہ ہو.

خداوند عالم صاف طور پر فرمارہے ہے کہ ان کے اعمال تباہ ہوجائیں گے چنانچہ ارشاد ہے:

( إِنَ‏ الَّذِينَ‏ كَفَرُوا يُنْفِقُونَ‏ أَمْوالَهُمْ‏- لِيَصُدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ فَسَيُنْفِقُونَها- ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ- وَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلى‏ جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ ‏)

جن لوگوں نے کفر اختیار کیا یہ اپنے اموال کو صرف اس لئے خرچ کرتے ہیں کہ لوگوں کو راہ خدا سے روکیں تو یہ خرچ بھی کریں گے اور اس کے بعد یہ بات ان کے لئے حسرت بھی بنے گی اور آخر میں مغلوب بھی ہو جائیں گے اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا یہ سب جہنم کی طرف لے جائیں گے.

اس لئے علماء، صاحبان قلم اور مفکرین پر واجب ہے کہ وہ اس کی لوگوں کے سامنے وضاحت کریں جو صورت حال ان کے سامنے ہے اور سیدھے راستہ کی ہدایت کریں. چنانچہ خداوند عالم کا ارشاد ہے:

( إِنَ‏ الَّذِينَ‏ يَكْتُمُونَ‏ ما أَنْزَلْنا مِنَ الْبَيِّناتِ

۷

وَ الْهُدى‏ مِنْ بَعْدِ ما بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتابِ أُولئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَ يَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ إِلَّا الَّذِينَ تابُوا وَ أَصْلَحُوا وَ بَيَّنُوا فَأُولئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَ أَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ) ( بقر ہ ، آیت /160)

جو لوگ ہمارے نازل کئے ہوئے واضح بیانات اور ہدایات کو ہمارے بیان کردینے کے بعد بھی چھپاتے ہیں ان پر اللہ بھی لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں علاوہ ان لوگوں کے جو توبہ کرلیں اور اپنے کئے کی اصلاح کرلیں اور جس کو چھپایا ہے اس کو واضح کردیں تو ہم ان کی توبہ قبول کرلیتے ہیں کہ ہم بہترین توبہ قبول کرنے والے اور مہربان ہیں.

تو علماء اس موضوع کے سلسلہ میں صرف خدا اور حق پسندی کے تحت کیوں نہیں زبان کھولتے اور کیوں نہیں چھان بین کرتے جبکہ خداوند عالم ہدایت و بینات نازل کرچکا ہے. اور جب وہ دین کو کامل اور نعمت کو تمام کرچکا ہے جب رسول(ص) امانت ادا کرچکے ہیں. اور تبلیغ رسالت کرچکے ہیں. اور امت کو سمجھا چکے ہیں تو پھر یہ تفرقہ اور عداوة، بغض اور ایک دوسرے کو برے القاب سے نوازنا کیسا اور ایک دوسرے کو کافر کہنا کیوں؟

میں اپنے موقع پر تھوڑی دیر ٹھہر کر تمام مسلمانوں سے صاف طور پر کہوں گا کہ نجات اور اتحاد و سعادت اور جنت کا حصول دو بنیادی اصول پر موقوف ہے اور وہ ہیں کتاب خدا اور عترت رسول(ص) یا سفینة نجات پر سوار ہونے میں نجات ہے اور وہ سفینہ اہلبیت(ع) ہیں اور یہ بات میری اپنی ایجاد نہیں ہے. بلکہ یہ تو قرآن میں خدا کا اور حدیث میں رسول(ص) کا فرمان ہے

۸

آج مسلمانوں کے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کے لئے دو چیزیں ضروری ہیں.

1.یہ کہ اہلسنت والجماعت مذہب اہلبیت(ع) رسول(ص) کو قبول کر لیں یعنی شیعہ اثنا عشری کے ساتھ ہوجائیں اس طریقے سے مذہب شیعہ ان کے نزدیک پانچواں مذہب ہوجائے گا اور اس کے ساتھ وہی سلوک کریں جو دوسرے اسلامی مذاہب کے ساتھ اختیار کر رکھا ہے اس میں نقض نہ نکالیں اس کے ماننے والوں کو برے القاب سے نہ نوازیں اور طلبہ و روشن فکر افراد کو اس مذہب کو اختیار کرنے میں آزاد چھوڑ دیں. جس سے وہ مطمئن ہیں اسی طرح تمام مسلمانوں (سنی اور شیعوں) کو دوسرے اسلامی مذاہب جیسے زیدیہ وغیرہ کو بھی تسلیم کرنا چاہیئے، باوجودیکہ اس مشکل کا حل ہے لیکن ہماری امت میں صدیوں سے چلے آنے والے تفرقہ اور نفرت کے لئے اس کی حیثیت ایک قرص( tablate ) کی ہے.

2.یہ کہ تمام مسلمان ایک عقیدہ پر متحد ہوجائیں کہ جس کو کتاب خدا اور اس کے رسول(ص) نے بیان کیا ہے اور یہ ایک ہی طریقہ سے ہوسکتا ہے اور وہ یہ کہ سارے مسلمان ائمہ اہلبیت(ع) کا اتباع کریں کہ جن سے خدا نے رجس کو دور رکھا ہے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھا جو حق ہے، اور یہی وجہ ہے کہ سارے مسلمان ان کی اعلمیت اور ان کے تمام چیزوں پر مقدم ہونے پر متفق ہیں جیسے تقوی، ورع، زہد و اخلاق اور علم و عمل میں وہ سب پر فائق ہیں جبکہ صحابہ کے بارے میں مسلمانوں میں اختلاف ہے، پس مسلمانوں کو وہ چیز چھوڑ دینی چاہیئے جس میں اختلاف ہے اور اسے اختیار کرنا چاہیئے جس میں اتفاق ہے. جیسا کہ رسول(ص) کا ارشاد بھی ہے. مشکوک چیزوں کو چھوڑ کر غیر مشکوک کو اختیار کرو. اس طرح

۹

امت ایک پلیٹ فارم جمع ہو جائے گی. اور اس اساسی قاعدہ پر متفق ہوجائے گی جو ہر چیز کا محور ہے جس کی بنیاد رسالتماب(ص) نے اپنے اس قول کے ذریعہ رکھی:

میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑ رہا ہوں جب تک تم ان سے وابستہ رہوگے کبھی گمراہ نہ ہوگے اور وہ ہیں کتاب خدا اور میری عترت اہلبیت(ع).(1)

اور جب یہ حدیث مذہب میں اختلاف کے باوجود فریقین بلکہ تمام مسلمانوں کے نزدیک ثابت ہے تو مسلمانوں کے ایک گروہ کو کیا ہوگیا ہے وہ اس پر عمل نہیں کرنا؟؟؟ اگر سارے مسلمان اس حدیث پر عمل کرئے تو ان کے درمیان ایسی قوی وحدت اسلامی پیدا ہوجاتی جس کو (زمانہ کی) ہوا ہلا نہ سکتی اور طوفان اسے متزلزل نہیں کرسکتے تھے پروپیگنڈے اور دشمن اسلام اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے تھے.

میرے عقیدہ کے لحاظ سے مسلمانوں کو گلو خلاصی اور نجات کا واحد راستہ یہی ہے، اس کے علاوہ سب باطل و خرافات ہے قرآن و سنت میں غور کرنے والا، تاریخ پر اپنی عقل کے ساتھ نظر رکھنے والا بلاتردد میری موافقت کرے گا.

لیکن پہلی اساس تو اسی روز منہدم ہوگئی تھی جس روز رسول(ص) اس دنیا کو خیرباد کہنے والے تھے، صحابہ نے آپ کی حیات ہی میں اختلاف برپا کیا جس کی وجہ سے تفرقہ پڑگیا اور امت ٹکڑوں میں تقسیم

____________________

1.صحیح بخاری و مسلم

۱۰

ہوگئی، اس طرح امت صدیوں سے دوسری اساس یعنی عترت و کتاب کی طرف رجوع کرنے کے سلسلہ میں پریشان رہی ہے. جیسا کہ ماضی میں بنی امیہ و بنی عباس کے زمانہ میں ذرائع ابلاغ نے اس کو ثابت کیا ہے. آج ہمارے زمانہ میں اہلبیت(ع) کا اتباع کرنے والوں کو کافر کہا جارہا ہے. ان کو گمراہ ثابت کرنے کی کوششیں جاری ہیں. اس وقت ہمارے سامنے ایک ہی راستہ ہے وہ یہ کہ ان کا مقابلہ کیا جائے اور کھلم کھلا حق کا اظہار کیا جائے اور اس سلسلہ میں قرآن کریم کے اسلوب کو اختیار کیا جائے چنانچہ ارشاد ہے:

( ..قُلْ‏ هاتُوا بُرْهانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صادِقِينَ )

.... کہہ دیجئے کہ اگر تم سچے ہوتو دلیل پیش کرو.(1)

اور برہان و حجت زبردستی کسی پر تحمیل نہیں کی جاسکتی ہیں اور نہ ہی آزاد منش افراد کو لالچ و طمع کے جال میں پھنسا کر یہ بات باور کرائی جاسکتی ہے کہ جنہوں نے اپنے نفسوں کو خدا کے لئے فروخت کردیا ہے اور اب حق کے عوض میں کسی دوسری شئی کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اگر چہ اس کے لئے انہیں جان ہی پر کھیلنا پڑے.

اے کاش علمائے امت ایک کانفرنس منعقد کرتے اور ان مسائل کے سلسلہ میں فراخ دلی، روشن فکری اور بے لوث طریقہ سے، غور کرنے اور اس طرح امت اسلامی کی خدمت کرنے اور اس کے تفرقہ کو اتحاد میں بدلتے اور اس کے درد کا مداوا کرتے.

____________________

1.سورۃ بقرة آیت/111

۱۱

یہ وحدت ہوکے رہے گی خواہ لوگوں کو یہ بات گوارہ ہو یا نہ. کیونکہ خدا نے ذریت مصطفی(ص) میں امام منتخب کیا ہے. چو عنقریب اس کو عدل و انصاف سے اسی طرح پر کرے گا جیسے وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی یہ امام عترت طاہرہ(ع) میں سے ہوگا. خداوند عالم امت کی طول حیات سے اس کا امتحان لے رہا ہے. یہاں تک کہ جب اس کا وقت قریب آجائے گا تو اس کے امام کے انتخاب میں غلطی کو اس پر آشکار کردے گا اور اسے حق کی طرف رجوع کرنے اور اس اصل راستہ کے اتباع کی مہلت عطا کرے گا جس کی طرف محمد(ص) نے دعوت دی تھی وہ محمد(ص) جو یہ کہا کرتے تھے:

بار الہا میری قوم کی ہدایت فرما کیونکہ وہ نادان ہے.

اب وہ وقت آن پہونچا ہے کہ میں اپنی کتاب،( فاسئلوا اهل الذکر ) کو پیش کروں یہ کتاب کچھ سوالات پر مشتمل ہے کہ جس کے جوابات ائمہ اہلبیت(ع) کے آثار و مواقف سے دئے گئے ہیں امید ہے کہ تمام اسلامی ممالک کے مسلمان اس سے استفادہ کریں گے و ما توفیقی الا باللہ"

خدا سے میری دعا ہے کہ وہ میرے عمل کو قبول کرے اس میں خیرو برکت عطا کرے، یہ تو وحدت کی بنیاد ہے.

یہ میں اس لئے عرض کر رہا ہوں کہ آج تک مسلمان ایک دوسرے کے حقوق کا لحاظ کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئے ہیں.

اس بات کو میں نے اسلامی اور غیر اسلامی ممالک کے

۱۲

سفر کے دوران محسوس کیا اور ابھی کچھ دنوں پہلے ہندوستان جانے کا اتفاق ہوا تھا کہ جہاں بیس کروڑ مسلمان ایک چوتھائی شیعہ اور تین حصہ سنی آباد ہیں ان کے بارے میں میں نے بہت کچھ سن رکھا تھا لیکن جس کا میں نے خود مشاہدہ کیا ہے وہ بہت ہی خوفناک اور حیرت انگیز ہے. یقینا مجھے امت کی حالت پر افسوس ہوا اور میں رو دیا. اگر ایمان و امید کا سہارا نہ ہوتا تو قلب حسرت و یاس سے بھر جاتا.

ہندوستان سے واپسی پر میں نے اہلسنت کے مرجع ابوالحسن ندوی کے نام ایک خط روانہ کیا تھا اور ان سے یہ وعدہ کیا تھا کہ میں اس خط کو مع آپ کے جواب کے نشر کروں گا، لیکن ابھی تک اس کا کوئی جواب نہیں آیا ہے. اس خط کو میں اس کتاب کے مقدمہ میں شامل کررہا ہوں تاکہ وہ ہمارے لئے تاریخی و ثیقہ بن جائے اور عنداللہ اور اور عندالناس ہمارے حق میں گواہی دے کہ ہم نے انہیں اتحاد کی دعوت دی تھی.

ڈاکٹر محمد تیجانی سماوی

۱۳

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سید ابوالحسن ندوی ہندی

کے نام کھلا خط...!

السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ

مجھے محمد تیجانی سماوی تیونسی کہتے ہیں، خدا نے ہدایت و توفیق کے ذریعہ مجھ پر احسان کیا اور میں طویل تحقیق کے بعد مذہب شیعہ سے متمسک ہوگیا ہوں جبکہ اس سے قبل میں مالکی تھا اور شمالی افریقہ کے صوفیوں کے مشہور سلسلہ تیجانیہ کا پیروکار تھا، شیعہ علماء کے پاس آمد و رفت کے ذریعہ میں نے حق کو پہچانا اور اس سے متعلق ایک کتاب لکھی اور اس کا نام " ثم اھتدیت" رکھا جو آپ کے ملک"ھندوستان" میں بھی... مجمع علمی اسلامی، کی طرف سے متعدد زبانوں میں چھپ کر ختم ہوچکی ہے. اسی مناسبت سے مجھے ہندوستان آنے کی دعوت دی گئی.

سیدی عزیز میں مختصر زیارت کے لئے ہند آیا میں آپ سے ملاقات کرنا چاہتا تھا کیونکہ میں نے آپ کے بارے میں سنا تھا کہ اہلسنت

۱۴

والجماعت کے مرجع آپ ہی ہیں. لیکن مسافت کی زیادتی اور وقت کی تنگی کی بنا پر ملاقات نہ کرسکا، اور صرف بمبئی، پونہ، جبل پور اور گجرات کے کچھ شہروں تک ہی جاسکا. لیکن ہندوستان میں سنی اور شیعوں کے درمیان بغض و عداوت دیکو کر بہت تکلیف ہوئی.

یقینا یہ بات میں پہلے بھی سنتا تھا کہ ہندوستان میں اسلام کے نام پر جنگ و جدال ہوتی ہے اور کبھی نیک مسلمانوں کا خون بہہ جاتا ہے میں اس کی تصدیق نہیں کرتا تھا، سوچتا تھا کہ مبالغہ آرائی ہے لیکن جو میں نے اپنے سفر کے دوران وہاں دیکھا اور سنا اس سے میری حیرت و تعجب ہوا ہوگئی. اور مجھے یہ یقین ہوگیا کہ ( یہاں) اسلام اور شیعہ سنی مسلمانوں کے خلاف پست سازشیں اور بڑی منصوبہ بندی سے کام ہورہا ہے. میرے اس علم و یقین کو اس بالمشافہہ گفتگو نے اور تقویت بخشی جو میرے اور اہلسنت کے علماء کی ایک جماعت کے درمیان ہوئی تھی. اس جماعت میں جماعت اسلامی کے مفتی شیخ عزیز الرحمن پیش پیش تھے یہ ملاقات ان ہی کی دعوت کی بنا پر بمبئی میں ان ہی کی مسجد میں ہوئی تھی.

میں صحیح طریقہ سے ان کے درمیان پہونچا بھی نہیں تھا کہ انہوں نے شیعیان اہلبیت(ع) پر لعن و طعن کرنا شروع کردی اور زہر اگلنے لگے وہ مجھے ذلیل اور قتل کرنا چاہتے تھے. کیونکہ انہیں یہ بات معلوم ہوچکی تھی کہ میں نے ایک کتاب لکھی ہے کہ جس میں اہلسنت کو مذہب اہلبیت(ع) اختیار کرنے کی دعوت دی ہے. لیکن میں ان کے ارادوں کو بھانپ گیا میں نے اپنے اعصاب پر قابو کیا اور مسکراتے ہوئے کہا: میں تمہارا مہمان ہوں، تم نے مجھے دعوت دی، میں حاضر ہوگیا. کیا تم نے مجھے اسی لئے بلایا ہے کہ مجھ پر سب و شتم کرو

۱۵

کیا اسلام نے تمہیں اسی اخلاق کی تعلیم دی ہے؟ انہوں نے بہت ہی منہ پھٹ انداز میں اور حلفیہ جواب دیا: کہ میں اپنی عمر کے کسی دن میں مسلمان تھا ہی نہیں کیونکہ میں شیعہ ہوں اور شیعہ مسلمان نہیں ہیں.

میں نے کہا : میرے بھائیو! خدا سے ڈرو! ہمارا ایک خدا ایک نبی(ص)، ایک کتاب اور ایک قبلہ ہے، اور شیعہ خدا کو ایک جانتے ہیں اور نبی(ص) و اہلبیت(ع) کی اقتدا کرتے ہوئے اسلام پر عمل کرتے ہیں، وہ نماز پڑھتے ہیں روزہ رکھتے ہیں، زکوة دیتے ہیں، حج کرتے ہیں انہیں کافر قرار دینا تمہارے لئے کیسے جائز ہوگیا؟

انھوں نے مجھے جواب دیا: تمھارا قرآن پر ایمان نہیں ہے تم منافق ہو، تقیہ پر عمل کرتے ہو، تمھارے امام کہتے ہیں تقیہ میرے آباء و اجداد کا دین ہے، تم یہودی ہو، کیونکہ اسکا موسس عبداللہ ابن سبا یہودی ہے.

میں نے مسکراتے ہوئے کہا: مجھ سے شیعہ ہونے کی حیثیت سے گفتگو نہ کریں میں خود تمھاری طرح مالکی تھا اور تحقیق و چھان بین کے بعد میں اس بات سے مطمئن ہوگیا کہ اہلبیت(ع) کا اتباع کرنا بہتر ہے. کیا تمھارے پاس ایسی کوئی دلیل ہے کہ جس کے ذریعہ مجھ سے مجادلہ کر سکو یا پھر تم مجھ سے سوال کرو کہ میری دلیل کیا ہے. ہوسکتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کو سمجھا سکیں.

انہوں نے کہا! اہلبیت(ع) ازواج نبی(ص) ہیں. تم قرآن کے متعلق کچھ نہیں جانتے.

میں نے کہا: صحیح بخاری اور مسلم سے تو تمہارے قول کی مخالفت ثابت ہوتی ہے! انہوں نے کہا: جو کچھ صحیح بخاری و مسلم اور دوسری

۱۶

حدیث کی کتابوں میں ایسی چیزیں مرقوم ہیں جس سے تم حجت قائم کرتے ہو وہ شیعوں کی گڑھی ہوئی حدیثیں ہیں جنہیں ہماری کتابوں میں سمو دیا گیا ہے.

میں نے ہنستے ہوئے انہیں جواب دیا : جب شیعوں نے تمہاری کتابوں اور صحاح میں غلط حدیثیں بھر دی ہیں تو ان کتابوں کا اور اس پر قائم تمہارے مذہب کا کوئی اعتبار نہیں ہے. ( میرے اس جملہ سے) وہ خاموش ہوگئے، لیکن ان میں سے ایک نے بے جوڑ گفتگو کا ازسر نو آغاز کیا اور کہا: جو بھی خلفائے راشدین، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی(ع) و سیدنا معاویہ اور سیدنا یزید رضی اللہ عنہ، کی خلافت پر ایمان نہیں رکھتا ہے وہ مسلمان نہیں ہے!!!

میں اس کی یہ بات سن کر ہکا بکا رہ گیا، اس لئے کہ میں نے اپنی زندگی میں یہ بات کبھی نہیں سنی تھی کہ. جو معاویہ و یزید کی خلافت پر ایمان نہیں رکھتا وہ کافر ہے، میں نے اپنے دل میں کہا: یہ بات تو کسی حد تک صحیح ہے کہ مسلمان ابوبکر و عمر اور عثمان سے راضی ہوجائیں لیکن یزید(لع) کے بارے میں تو میں نے ہندوستان کے علاوہ کہیں نہیں سنا تھا. میں نے ان سب کو مخاطب کرکے سوال کیا، کیا تم سب اس شخص کی رای سے متفق ہو؟ ان سب نے بیک زبان کہا: ہاں.

اب میں نے یہ سوچا کہ ان سے گفتگو کرنے میں کوئی فائدہ نہیں ہے. اور میری سمجھ میں یہ بات آگئی کہ وہ مجھے غیظ دلا کر مجھ سے انتقام لینا چاہتے ہیں. اور صحابہ پر لعنت کے الزام میں مجھے قتل کردیں گے اور کسی کو خبر نہ ہوگی.

میں نے ان کی آنکھوں میں شرکو دیکھ لیا اور اپنے اس ساتھی

۱۷

سے کہا" جو مجھے ان کے پاس لے گیا تھا " کہ مجھے یہاں سے فورا نکال لے چلو، چنانچہ اس نے مجھے نجات دلائی. حالانکہ وہ مجھ سے روا رکھے جانے والے سلوک پر، عذر خواہی کر رہا تھا. اور اس بات پر افسوس کر رہا تھا. اور یہ شخص کہ جو اس ملاقات کے ذریعہ حق کو پہچانتا تھا اس سے بری تھا. واضح رہے کہ یہ نوجوان اور مہذب شخص بمبئی کے مکتبہ اور مطبع اسلامیہ کا مالک شرف الدین تھا. وہ ہمارے درمیان ہونے والی مذکورہ گفتگو کا گواہ ہے. اس کے سامنے ان افراد کی بد اخلاقی کہ جو اپنے کو سب سے بڑا عالم تصور کرتے ہیں پوشیدہ نہ رہی.

میں نے انہیں چھوڑ دیا. حالانکہ مجھے مسلمانوں کے اس انحطاط پر افسوس ہورہا تھا. خصوصا ان لوگوں پر جو مرکز صدارت پربیٹھے ہوئے ہیں اور خود کو علماء کے نام سے پیش کرتے ہیں. پھر میں نے اپنے دل میں کہا جب اندھے تعصب میں علماء کی یہ حالت ہے تو(یہاں کے) عوام الناس اور جاہلوں کی کیا کیفیت ہوگی. اب میری سمجھ میں بہ بات آئی کہ ایسے معرکے اور جنگیں کیسے وجود میں آتی ہیں. جن میں محترم خون بہہ جاتا ہے عزتیں پامال ہو جاتی ہیں اور ہتکہ حرمت ہوتی ہے اور یہ سب کچھ اسلام سے دفاع کے نام پر ہوتا ہے. میں امت کی اس پست روش پر رو دیا کیونکہ اس امت کے سپرد خدا نے ہدایت کی ذمہ داری کی تھی اور رسول(ص) نے تاریک قلوب تک نور پہونچانے کی ذمہ داری لی تھی اور ابھی ہدایت کی شدید ضرورت ہے اور اس وقت صرف ہندوستان میں سات سو ملیون افراد غیر خدا کی پرستش کرتے ہیں گائے اور بتوں کی تقدیس کرتے ہیں اور بجائے اس کے کہ مسلمان انہیں موحد بنائیں ان کی ہدایت کرتے تاریکی سے نکال کر روشنی میں لائیں تاکہ وہ رب العالمین کو قبول کریں. آج ہم مسلمانوں کو خصوصا ہندوستان میں دیکھتے ہیں کہ انہیں

۱۸

خود ہدایت کی ضرورت ہے.

لہذا میرے سید و سردار آپ کو دعوت نامہ ارسال کررہا ہوں کہ خدائے رحمن و رحیم، اس کے رسول(ص) اور غظیم اسلام کے نام پر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑیں اور تفرقہ بازی سے پرہیز کریں " میری گذارش ہے کہ آپ ایک شجاع مسلمان کا موقف اختیار کریں کہ جو خدا کے بارے میں کسی ملامت گر کی ملامت سے نہیں ڈرتا اور نہ ہی اس پر شیطان کی دلی خواہش عصبیت و قبائلیت طاری ہوتی ہے.

میں آپ کو پر خلوص اور واضح موقف کی دعوت دیتا ہوں آپ لوگوں ہی پر خدا نے اس علاقہ کے لوگوں کی ہدایت کی ذمہ داری اس وقت تک عائد کی ہے جب تک آپ اسلام کا دم بھرتے رہیں گے. خدا آپ کے اس موقف سے ہرگز راضی نہیں ہوگا کہ آپ یہاں وہاں رونما ہونے والے حادثات سے راضی ہوں کہ جس کی قیمت شیعہ سنی مسلمانوں کو چکانا پڑتی ہے. قیامت کے روز خداوند عالم ہر چھوٹے بڑے کا آپ سے حساب لے گا، اور ہر نافرمانی کے متعلق آپ سے پوچھا جائے گا. کیونکہ صاحبان علم اور جاہل برابر نہیں ہیں ہر ایک پر اس کے ظرف و دانائی کےمطابق ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور شرافت کے لحاظ سے بزرگی و عظمت ملتی ہے.

لہذا جب تک آپ اپنے کو ھندوستان کا عالم سمجھتے رہیں گے اس وقت تک آپ کی ذمہ داری بھی عظیم رہے گی. اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آپ کے کچھ کہنے میں ہندوستان کے لوگوں کی صلاح بھی ہوسکتی ہے اور کبھی اس سے نسلیں ہلاک بھی ہوسکتی ہیں اے صاحبان عقل اللہ سے ڈرو!

بیشک خداوند عالم نے ملائکہ کے بعد علماء کو بلند مرتبہ عطا کیا ہے

۱۹

چنانچہ ارشاد ہے:

‏( شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلهَ إِلَّا هُوَ- وَ الْمَلائِكَةُ وَ أُولُوا الْعِلْمِ قائِماً بِالْقِسْطِ ) سورہ آل عمران، آیت/18

اللہ خود گواہ ہے کہ اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے ملائکہ اور صاحبان علم گواہ ہیں کہ وہ عدل کے ساتھ قائم ہے. اور جب خداوند عالم ہم سب کو یہ حکم دے رہا ہے یہ کہکر.

( وَ أَقِيمُوا الْوَزْنَ‏ بِالْقِسْطِ وَ لا تُخْسِرُوا الْمِيزانَ‏. ) سورہ رحمن، آیت/8

اور انصاف کے ساتھ وزن کو قائم کرو اور تولنے میں کم نہ تو لو.

اور جب مفسرین نے قیمتی مادی اشیاء میں عدلم قائم کرنے کے لئے کہا ہے تو ان عقائدی چیزوں میں عدالت سے کیوں کام نہیں لیتے کہ جو حق وباطل کے درمیان امتیازی حیثیت رکھتی ہیں، انہیں پر بشر کی ہدایت موقوف اور اس میں پوری انسانیت کی نجات کا راز مضمر ہے. خداوند عالم کا ارشاد ہے:

( وَ إِذا حَكَمْتُمْ‏ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ‏ )

اور جب کوئی فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ کرو. نیز ارشاد ہے:

( يا داوُدُ إِنَّا جَعَلْناكَ‏ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لا تَتَّبِعِ الْهَوى‏ فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ )

اے دائود ہم نے تم کو زمین میں اپنا جانشین بنایا ہے لہذا تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو اور

۲۰