اہل ذکر۔۔۔۔۔۔؟ جلد ۱

اہل ذکر۔۔۔۔۔۔؟13%

اہل ذکر۔۔۔۔۔۔؟ مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 291

  • ابتداء
  • پچھلا
  • 291 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 36726 / ڈاؤنلوڈ: 4833
سائز سائز سائز
اہل ذکر۔۔۔۔۔۔؟

اہل ذکر۔۔۔۔۔۔؟ جلد ۱

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

۱

اہل ذکر....؟

ڈاکٹر محمد تیجانی سماوی

ترجمہ

نثار احمد زین پوری

انتشارات انصاریان

قم خیابان شہدا ص. پ۱۸۷. تلفن ۲۱۷۴۴

۲

۳

نام کتاب................................................................اہل ذکر.....؟

تالیف...........................................................ڈاکٹر محمد تیجانی سماوی

ترجمہ.......................................................... نثار احمد زین پوری

کتابت ........................................................رضوان حیدر ہندی

کتابت سرورق.................................................پیغمبر عباس نوگانوی

ناشر .........................................................انتشارات انصاریان قم ایران

تعداد....................................................تین ہزار ۳۰۰۰

تاریخ ....................................................سنہ۱۳۷۱ھ شمسی

۴

مقدمہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد لله رب العالمین و افضل الصلاة و ازکی التسلیم علی سیدنا و مولانا محمد المبعوث رحمة للعالمین سید الاولین والآخرین و المنزه عن کل ما هو مشین، و علی آله الطیبین الطاهرین اعلام الهدی و مصابیح الدجی و ائمة المسلمین.

اما بعد:

یہ چند سوالات میں نے مسلمان محققین کے لئے تیار کئے ہیں خصوصا اہلسنت کے لئے جن کا یہ گمان ہے کہ صرف وہی نبی(ص) کی صحیح سنت سے متمسک ہیں. یہی نہیں بلکہ وہ اپنے مخالف پر اعتراض کرتے ہیں اور انہیں برے القاب سے نوازتے ہیں.

اور بعض اسلامی ممالک میں تو سنت محمدی(ص) سے دفاع کے

۵

نام پر انصار السنہ اور انصار الصحابہ نامی انجمنین وجود میں آگئی ہیں اور شیعوں کو کافر ثابت کرنے اور ان کے ائمہ و علماء کا مذاق اور مضحکہ اڑانے کے لئے متعدد کتابیں لکھی گئی ہیں اور اس فکر کو تمام اسلامی اور غیر اسلامی خطوں میں پہونچانے کے لئے عالمی ذرائع ابلاغ نشر کر رہے ہیں جن کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج لوگوں کی گفتگو کا موضوع شیعہ اور سنی بنے ہوئے ہیں.

بہت سے پروگراموں میں میری ملاقات بعض سچے اور زہین جوان مسلمانوں سے ہوئی جو شیعیت کی حقیقت اور اس کے خرافات کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور شیعوں کے خلاف جو کچھ کتابوں میں پڑھتے اور سنتے ہیں دونوں کے درمیان بہت فرق پاتے ہیں وہ یہ نہیں جانتے کہ حق کیا ہے. میں نے بعض سے گفتگو کی اور اپنی کتاب "ثم اہتدیت" ان کو ہدیہ کی الحمد للہ ان میں سے اکثر نے بحث و تمحیص کے بعد حق کو پہچان لیا اور اس کا اتباع کرنے لگے، لیکن یہ چیز ان گنے چنے جوانوں میں منحصر ہوکر رہ گئی ہے جن سے میری اتفاقا ملاقات ہوئی تھی. لیکن دوسرے جوانوں کے لئے ایسی ملاقات مشکل ہے. وہ مختلف افکار کے تانے بانے میں پھنسے ہوئے ہیں.

باوجودیکہ مطمئن کن دلیلیں اور ٹھوس حجتیں" ثم اہتدیت" اور " لاکون مع الصادقین" میں موجود ہیں، پھر بھی دونوں کتابیں شیعوں کے خلاف ہونے والے ان پروپیگنڈوں اور ان کے دفاع کے لئے کافی نہیں ہیں، جو ڈالر کے بل بوتے پر مختلف ذرائع ابلاغ سے نشر کئے جارہے ہیں.

اس کے باوجود اس شور وغل میں حق کی آواز گونجے گی، اورعنقریب اس سخت تاریکی میں نور حق چمکے گا اس لئے کہ یہ خدا کا وعدہ ہے اور اس کا وعدہ ضرور پورا ہوگا چنانچہ پروردگار عالم کا ارشاد ہے:

۶

( يريدون‏ ليطفئوا نور اللّه‏ بأفواههم و اللّه متمّ نوره و لو كره الكافرون ) ( سورہ الصف، آیت/۸)

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ نور خدا کو اپنے منہ سے بجھا دیں اور خدا اپنے نور کو مکمل کرنے والا ہے چاہے یہ بات کفار کو کتنی ہی ناگوار کیوں نہ ہو.

خداوند عالم صاف طور پر فرمارہے ہے کہ ان کے اعمال تباہ ہوجائیں گے چنانچہ ارشاد ہے:

( إِنَ‏ الَّذِينَ‏ كَفَرُوا يُنْفِقُونَ‏ أَمْوالَهُمْ‏- لِيَصُدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ فَسَيُنْفِقُونَها- ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ- وَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلى‏ جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ ‏)

جن لوگوں نے کفر اختیار کیا یہ اپنے اموال کو صرف اس لئے خرچ کرتے ہیں کہ لوگوں کو راہ خدا سے روکیں تو یہ خرچ بھی کریں گے اور اس کے بعد یہ بات ان کے لئے حسرت بھی بنے گی اور آخر میں مغلوب بھی ہو جائیں گے اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا یہ سب جہنم کی طرف لے جائیں گے.

اس لئے علماء، صاحبان قلم اور مفکرین پر واجب ہے کہ وہ اس کی لوگوں کے سامنے وضاحت کریں جو صورت حال ان کے سامنے ہے اور سیدھے راستہ کی ہدایت کریں. چنانچہ خداوند عالم کا ارشاد ہے:

( إِنَ‏ الَّذِينَ‏ يَكْتُمُونَ‏ ما أَنْزَلْنا مِنَ الْبَيِّناتِ

۷

وَ الْهُدى‏ مِنْ بَعْدِ ما بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتابِ أُولئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَ يَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ إِلَّا الَّذِينَ تابُوا وَ أَصْلَحُوا وَ بَيَّنُوا فَأُولئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَ أَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ) ( بقر ہ ، آیت /۱۶۰)

جو لوگ ہمارے نازل کئے ہوئے واضح بیانات اور ہدایات کو ہمارے بیان کردینے کے بعد بھی چھپاتے ہیں ان پر اللہ بھی لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں علاوہ ان لوگوں کے جو توبہ کرلیں اور اپنے کئے کی اصلاح کرلیں اور جس کو چھپایا ہے اس کو واضح کردیں تو ہم ان کی توبہ قبول کرلیتے ہیں کہ ہم بہترین توبہ قبول کرنے والے اور مہربان ہیں.

تو علماء اس موضوع کے سلسلہ میں صرف خدا اور حق پسندی کے تحت کیوں نہیں زبان کھولتے اور کیوں نہیں چھان بین کرتے جبکہ خداوند عالم ہدایت و بینات نازل کرچکا ہے. اور جب وہ دین کو کامل اور نعمت کو تمام کرچکا ہے جب رسول(ص) امانت ادا کرچکے ہیں. اور تبلیغ رسالت کرچکے ہیں. اور امت کو سمجھا چکے ہیں تو پھر یہ تفرقہ اور عداوة، بغض اور ایک دوسرے کو برے القاب سے نوازنا کیسا اور ایک دوسرے کو کافر کہنا کیوں؟

میں اپنے موقع پر تھوڑی دیر ٹھہر کر تمام مسلمانوں سے صاف طور پر کہوں گا کہ نجات اور اتحاد و سعادت اور جنت کا حصول دو بنیادی اصول پر موقوف ہے اور وہ ہیں کتاب خدا اور عترت رسول(ص) یا سفینة نجات پر سوار ہونے میں نجات ہے اور وہ سفینہ اہلبیت(ع) ہیں اور یہ بات میری اپنی ایجاد نہیں ہے. بلکہ یہ تو قرآن میں خدا کا اور حدیث میں رسول(ص) کا فرمان ہے

۸

آج مسلمانوں کے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کے لئے دو چیزیں ضروری ہیں.

۱.یہ کہ اہلسنت والجماعت مذہب اہلبیت(ع) رسول(ص) کو قبول کر لیں یعنی شیعہ اثنا عشری کے ساتھ ہوجائیں اس طریقے سے مذہب شیعہ ان کے نزدیک پانچواں مذہب ہوجائے گا اور اس کے ساتھ وہی سلوک کریں جو دوسرے اسلامی مذاہب کے ساتھ اختیار کر رکھا ہے اس میں نقض نہ نکالیں اس کے ماننے والوں کو برے القاب سے نہ نوازیں اور طلبہ و روشن فکر افراد کو اس مذہب کو اختیار کرنے میں آزاد چھوڑ دیں. جس سے وہ مطمئن ہیں اسی طرح تمام مسلمانوں (سنی اور شیعوں) کو دوسرے اسلامی مذاہب جیسے زیدیہ وغیرہ کو بھی تسلیم کرنا چاہیئے، باوجودیکہ اس مشکل کا حل ہے لیکن ہماری امت میں صدیوں سے چلے آنے والے تفرقہ اور نفرت کے لئے اس کی حیثیت ایک قرص( tablate ) کی ہے.

۲.یہ کہ تمام مسلمان ایک عقیدہ پر متحد ہوجائیں کہ جس کو کتاب خدا اور اس کے رسول(ص) نے بیان کیا ہے اور یہ ایک ہی طریقہ سے ہوسکتا ہے اور وہ یہ کہ سارے مسلمان ائمہ اہلبیت(ع) کا اتباع کریں کہ جن سے خدا نے رجس کو دور رکھا ہے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھا جو حق ہے، اور یہی وجہ ہے کہ سارے مسلمان ان کی اعلمیت اور ان کے تمام چیزوں پر مقدم ہونے پر متفق ہیں جیسے تقوی، ورع، زہد و اخلاق اور علم و عمل میں وہ سب پر فائق ہیں جبکہ صحابہ کے بارے میں مسلمانوں میں اختلاف ہے، پس مسلمانوں کو وہ چیز چھوڑ دینی چاہیئے جس میں اختلاف ہے اور اسے اختیار کرنا چاہیئے جس میں اتفاق ہے. جیسا کہ رسول(ص) کا ارشاد بھی ہے. مشکوک چیزوں کو چھوڑ کر غیر مشکوک کو اختیار کرو. اس طرح

۹

امت ایک پلیٹ فارم جمع ہو جائے گی. اور اس اساسی قاعدہ پر متفق ہوجائے گی جو ہر چیز کا محور ہے جس کی بنیاد رسالتماب(ص) نے اپنے اس قول کے ذریعہ رکھی:

میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑ رہا ہوں جب تک تم ان سے وابستہ رہوگے کبھی گمراہ نہ ہوگے اور وہ ہیں کتاب خدا اور میری عترت اہلبیت(ع).(۱)

اور جب یہ حدیث مذہب میں اختلاف کے باوجود فریقین بلکہ تمام مسلمانوں کے نزدیک ثابت ہے تو مسلمانوں کے ایک گروہ کو کیا ہوگیا ہے وہ اس پر عمل نہیں کرنا؟؟؟ اگر سارے مسلمان اس حدیث پر عمل کرئے تو ان کے درمیان ایسی قوی وحدت اسلامی پیدا ہوجاتی جس کو (زمانہ کی) ہوا ہلا نہ سکتی اور طوفان اسے متزلزل نہیں کرسکتے تھے پروپیگنڈے اور دشمن اسلام اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے تھے.

میرے عقیدہ کے لحاظ سے مسلمانوں کو گلو خلاصی اور نجات کا واحد راستہ یہی ہے، اس کے علاوہ سب باطل و خرافات ہے قرآن و سنت میں غور کرنے والا، تاریخ پر اپنی عقل کے ساتھ نظر رکھنے والا بلاتردد میری موافقت کرے گا.

لیکن پہلی اساس تو اسی روز منہدم ہوگئی تھی جس روز رسول(ص) اس دنیا کو خیرباد کہنے والے تھے، صحابہ نے آپ کی حیات ہی میں اختلاف برپا کیا جس کی وجہ سے تفرقہ پڑگیا اور امت ٹکڑوں میں تقسیم

____________________

۱.صحیح بخاری و مسلم

۱۰

ہوگئی، اس طرح امت صدیوں سے دوسری اساس یعنی عترت و کتاب کی طرف رجوع کرنے کے سلسلہ میں پریشان رہی ہے. جیسا کہ ماضی میں بنی امیہ و بنی عباس کے زمانہ میں ذرائع ابلاغ نے اس کو ثابت کیا ہے. آج ہمارے زمانہ میں اہلبیت(ع) کا اتباع کرنے والوں کو کافر کہا جارہا ہے. ان کو گمراہ ثابت کرنے کی کوششیں جاری ہیں. اس وقت ہمارے سامنے ایک ہی راستہ ہے وہ یہ کہ ان کا مقابلہ کیا جائے اور کھلم کھلا حق کا اظہار کیا جائے اور اس سلسلہ میں قرآن کریم کے اسلوب کو اختیار کیا جائے چنانچہ ارشاد ہے:

( ..قُلْ‏ هاتُوا بُرْهانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صادِقِينَ )

.... کہہ دیجئے کہ اگر تم سچے ہوتو دلیل پیش کرو.(۱)

اور برہان و حجت زبردستی کسی پر تحمیل نہیں کی جاسکتی ہیں اور نہ ہی آزاد منش افراد کو لالچ و طمع کے جال میں پھنسا کر یہ بات باور کرائی جاسکتی ہے کہ جنہوں نے اپنے نفسوں کو خدا کے لئے فروخت کردیا ہے اور اب حق کے عوض میں کسی دوسری شئی کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اگر چہ اس کے لئے انہیں جان ہی پر کھیلنا پڑے.

اے کاش علمائے امت ایک کانفرنس منعقد کرتے اور ان مسائل کے سلسلہ میں فراخ دلی، روشن فکری اور بے لوث طریقہ سے، غور کرنے اور اس طرح امت اسلامی کی خدمت کرنے اور اس کے تفرقہ کو اتحاد میں بدلتے اور اس کے درد کا مداوا کرتے.

____________________

۱.سورۃ بقرة آیت/۱۱۱

۱۱

یہ وحدت ہوکے رہے گی خواہ لوگوں کو یہ بات گوارہ ہو یا نہ. کیونکہ خدا نے ذریت مصطفی(ص) میں امام منتخب کیا ہے. چو عنقریب اس کو عدل و انصاف سے اسی طرح پر کرے گا جیسے وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی یہ امام عترت طاہرہ(ع) میں سے ہوگا. خداوند عالم امت کی طول حیات سے اس کا امتحان لے رہا ہے. یہاں تک کہ جب اس کا وقت قریب آجائے گا تو اس کے امام کے انتخاب میں غلطی کو اس پر آشکار کردے گا اور اسے حق کی طرف رجوع کرنے اور اس اصل راستہ کے اتباع کی مہلت عطا کرے گا جس کی طرف محمد(ص) نے دعوت دی تھی وہ محمد(ص) جو یہ کہا کرتے تھے:

بار الہا میری قوم کی ہدایت فرما کیونکہ وہ نادان ہے.

اب وہ وقت آن پہونچا ہے کہ میں اپنی کتاب،( فاسئلوا اهل الذکر ) کو پیش کروں یہ کتاب کچھ سوالات پر مشتمل ہے کہ جس کے جوابات ائمہ اہلبیت(ع) کے آثار و مواقف سے دئے گئے ہیں امید ہے کہ تمام اسلامی ممالک کے مسلمان اس سے استفادہ کریں گے و ما توفیقی الا باللہ"

خدا سے میری دعا ہے کہ وہ میرے عمل کو قبول کرے اس میں خیرو برکت عطا کرے، یہ تو وحدت کی بنیاد ہے.

یہ میں اس لئے عرض کر رہا ہوں کہ آج تک مسلمان ایک دوسرے کے حقوق کا لحاظ کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئے ہیں.

اس بات کو میں نے اسلامی اور غیر اسلامی ممالک کے

۱۲

سفر کے دوران محسوس کیا اور ابھی کچھ دنوں پہلے ہندوستان جانے کا اتفاق ہوا تھا کہ جہاں بیس کروڑ مسلمان ایک چوتھائی شیعہ اور تین حصہ سنی آباد ہیں ان کے بارے میں میں نے بہت کچھ سن رکھا تھا لیکن جس کا میں نے خود مشاہدہ کیا ہے وہ بہت ہی خوفناک اور حیرت انگیز ہے. یقینا مجھے امت کی حالت پر افسوس ہوا اور میں رو دیا. اگر ایمان و امید کا سہارا نہ ہوتا تو قلب حسرت و یاس سے بھر جاتا.

ہندوستان سے واپسی پر میں نے اہلسنت کے مرجع ابوالحسن ندوی کے نام ایک خط روانہ کیا تھا اور ان سے یہ وعدہ کیا تھا کہ میں اس خط کو مع آپ کے جواب کے نشر کروں گا، لیکن ابھی تک اس کا کوئی جواب نہیں آیا ہے. اس خط کو میں اس کتاب کے مقدمہ میں شامل کررہا ہوں تاکہ وہ ہمارے لئے تاریخی و ثیقہ بن جائے اور عنداللہ اور اور عندالناس ہمارے حق میں گواہی دے کہ ہم نے انہیں اتحاد کی دعوت دی تھی.

ڈاکٹر محمد تیجانی سماوی

۱۳

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سید ابوالحسن ندوی ہندی

کے نام کھلا خط...!

السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ

مجھے محمد تیجانی سماوی تیونسی کہتے ہیں، خدا نے ہدایت و توفیق کے ذریعہ مجھ پر احسان کیا اور میں طویل تحقیق کے بعد مذہب شیعہ سے متمسک ہوگیا ہوں جبکہ اس سے قبل میں مالکی تھا اور شمالی افریقہ کے صوفیوں کے مشہور سلسلہ تیجانیہ کا پیروکار تھا، شیعہ علماء کے پاس آمد و رفت کے ذریعہ میں نے حق کو پہچانا اور اس سے متعلق ایک کتاب لکھی اور اس کا نام " ثم اھتدیت" رکھا جو آپ کے ملک"ھندوستان" میں بھی... مجمع علمی اسلامی، کی طرف سے متعدد زبانوں میں چھپ کر ختم ہوچکی ہے. اسی مناسبت سے مجھے ہندوستان آنے کی دعوت دی گئی.

سیدی عزیز میں مختصر زیارت کے لئے ہند آیا میں آپ سے ملاقات کرنا چاہتا تھا کیونکہ میں نے آپ کے بارے میں سنا تھا کہ اہلسنت

۱۴

والجماعت کے مرجع آپ ہی ہیں. لیکن مسافت کی زیادتی اور وقت کی تنگی کی بنا پر ملاقات نہ کرسکا، اور صرف بمبئی، پونہ، جبل پور اور گجرات کے کچھ شہروں تک ہی جاسکا. لیکن ہندوستان میں سنی اور شیعوں کے درمیان بغض و عداوت دیکو کر بہت تکلیف ہوئی.

یقینا یہ بات میں پہلے بھی سنتا تھا کہ ہندوستان میں اسلام کے نام پر جنگ و جدال ہوتی ہے اور کبھی نیک مسلمانوں کا خون بہہ جاتا ہے میں اس کی تصدیق نہیں کرتا تھا، سوچتا تھا کہ مبالغہ آرائی ہے لیکن جو میں نے اپنے سفر کے دوران وہاں دیکھا اور سنا اس سے میری حیرت و تعجب ہوا ہوگئی. اور مجھے یہ یقین ہوگیا کہ ( یہاں) اسلام اور شیعہ سنی مسلمانوں کے خلاف پست سازشیں اور بڑی منصوبہ بندی سے کام ہورہا ہے. میرے اس علم و یقین کو اس بالمشافہہ گفتگو نے اور تقویت بخشی جو میرے اور اہلسنت کے علماء کی ایک جماعت کے درمیان ہوئی تھی. اس جماعت میں جماعت اسلامی کے مفتی شیخ عزیز الرحمن پیش پیش تھے یہ ملاقات ان ہی کی دعوت کی بنا پر بمبئی میں ان ہی کی مسجد میں ہوئی تھی.

میں صحیح طریقہ سے ان کے درمیان پہونچا بھی نہیں تھا کہ انہوں نے شیعیان اہلبیت(ع) پر لعن و طعن کرنا شروع کردی اور زہر اگلنے لگے وہ مجھے ذلیل اور قتل کرنا چاہتے تھے. کیونکہ انہیں یہ بات معلوم ہوچکی تھی کہ میں نے ایک کتاب لکھی ہے کہ جس میں اہلسنت کو مذہب اہلبیت(ع) اختیار کرنے کی دعوت دی ہے. لیکن میں ان کے ارادوں کو بھانپ گیا میں نے اپنے اعصاب پر قابو کیا اور مسکراتے ہوئے کہا: میں تمہارا مہمان ہوں، تم نے مجھے دعوت دی، میں حاضر ہوگیا. کیا تم نے مجھے اسی لئے بلایا ہے کہ مجھ پر سب و شتم کرو

۱۵

کیا اسلام نے تمہیں اسی اخلاق کی تعلیم دی ہے؟ انہوں نے بہت ہی منہ پھٹ انداز میں اور حلفیہ جواب دیا: کہ میں اپنی عمر کے کسی دن میں مسلمان تھا ہی نہیں کیونکہ میں شیعہ ہوں اور شیعہ مسلمان نہیں ہیں.

میں نے کہا : میرے بھائیو! خدا سے ڈرو! ہمارا ایک خدا ایک نبی(ص)، ایک کتاب اور ایک قبلہ ہے، اور شیعہ خدا کو ایک جانتے ہیں اور نبی(ص) و اہلبیت(ع) کی اقتدا کرتے ہوئے اسلام پر عمل کرتے ہیں، وہ نماز پڑھتے ہیں روزہ رکھتے ہیں، زکوة دیتے ہیں، حج کرتے ہیں انہیں کافر قرار دینا تمہارے لئے کیسے جائز ہوگیا؟

انھوں نے مجھے جواب دیا: تمھارا قرآن پر ایمان نہیں ہے تم منافق ہو، تقیہ پر عمل کرتے ہو، تمھارے امام کہتے ہیں تقیہ میرے آباء و اجداد کا دین ہے، تم یہودی ہو، کیونکہ اسکا موسس عبداللہ ابن سبا یہودی ہے.

میں نے مسکراتے ہوئے کہا: مجھ سے شیعہ ہونے کی حیثیت سے گفتگو نہ کریں میں خود تمھاری طرح مالکی تھا اور تحقیق و چھان بین کے بعد میں اس بات سے مطمئن ہوگیا کہ اہلبیت(ع) کا اتباع کرنا بہتر ہے. کیا تمھارے پاس ایسی کوئی دلیل ہے کہ جس کے ذریعہ مجھ سے مجادلہ کر سکو یا پھر تم مجھ سے سوال کرو کہ میری دلیل کیا ہے. ہوسکتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کو سمجھا سکیں.

انہوں نے کہا! اہلبیت(ع) ازواج نبی(ص) ہیں. تم قرآن کے متعلق کچھ نہیں جانتے.

میں نے کہا: صحیح بخاری اور مسلم سے تو تمہارے قول کی مخالفت ثابت ہوتی ہے! انہوں نے کہا: جو کچھ صحیح بخاری و مسلم اور دوسری

۱۶

حدیث کی کتابوں میں ایسی چیزیں مرقوم ہیں جس سے تم حجت قائم کرتے ہو وہ شیعوں کی گڑھی ہوئی حدیثیں ہیں جنہیں ہماری کتابوں میں سمو دیا گیا ہے.

میں نے ہنستے ہوئے انہیں جواب دیا : جب شیعوں نے تمہاری کتابوں اور صحاح میں غلط حدیثیں بھر دی ہیں تو ان کتابوں کا اور اس پر قائم تمہارے مذہب کا کوئی اعتبار نہیں ہے. ( میرے اس جملہ سے) وہ خاموش ہوگئے، لیکن ان میں سے ایک نے بے جوڑ گفتگو کا ازسر نو آغاز کیا اور کہا: جو بھی خلفائے راشدین، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی(ع) و سیدنا معاویہ اور سیدنا یزید رضی اللہ عنہ، کی خلافت پر ایمان نہیں رکھتا ہے وہ مسلمان نہیں ہے!!!

میں اس کی یہ بات سن کر ہکا بکا رہ گیا، اس لئے کہ میں نے اپنی زندگی میں یہ بات کبھی نہیں سنی تھی کہ. جو معاویہ و یزید کی خلافت پر ایمان نہیں رکھتا وہ کافر ہے، میں نے اپنے دل میں کہا: یہ بات تو کسی حد تک صحیح ہے کہ مسلمان ابوبکر و عمر اور عثمان سے راضی ہوجائیں لیکن یزید(لع) کے بارے میں تو میں نے ہندوستان کے علاوہ کہیں نہیں سنا تھا. میں نے ان سب کو مخاطب کرکے سوال کیا، کیا تم سب اس شخص کی رای سے متفق ہو؟ ان سب نے بیک زبان کہا: ہاں.

اب میں نے یہ سوچا کہ ان سے گفتگو کرنے میں کوئی فائدہ نہیں ہے. اور میری سمجھ میں یہ بات آگئی کہ وہ مجھے غیظ دلا کر مجھ سے انتقام لینا چاہتے ہیں. اور صحابہ پر لعنت کے الزام میں مجھے قتل کردیں گے اور کسی کو خبر نہ ہوگی.

میں نے ان کی آنکھوں میں شرکو دیکھ لیا اور اپنے اس ساتھی

۱۷

سے کہا" جو مجھے ان کے پاس لے گیا تھا " کہ مجھے یہاں سے فورا نکال لے چلو، چنانچہ اس نے مجھے نجات دلائی. حالانکہ وہ مجھ سے روا رکھے جانے والے سلوک پر، عذر خواہی کر رہا تھا. اور اس بات پر افسوس کر رہا تھا. اور یہ شخص کہ جو اس ملاقات کے ذریعہ حق کو پہچانتا تھا اس سے بری تھا. واضح رہے کہ یہ نوجوان اور مہذب شخص بمبئی کے مکتبہ اور مطبع اسلامیہ کا مالک شرف الدین تھا. وہ ہمارے درمیان ہونے والی مذکورہ گفتگو کا گواہ ہے. اس کے سامنے ان افراد کی بد اخلاقی کہ جو اپنے کو سب سے بڑا عالم تصور کرتے ہیں پوشیدہ نہ رہی.

میں نے انہیں چھوڑ دیا. حالانکہ مجھے مسلمانوں کے اس انحطاط پر افسوس ہورہا تھا. خصوصا ان لوگوں پر جو مرکز صدارت پربیٹھے ہوئے ہیں اور خود کو علماء کے نام سے پیش کرتے ہیں. پھر میں نے اپنے دل میں کہا جب اندھے تعصب میں علماء کی یہ حالت ہے تو(یہاں کے) عوام الناس اور جاہلوں کی کیا کیفیت ہوگی. اب میری سمجھ میں بہ بات آئی کہ ایسے معرکے اور جنگیں کیسے وجود میں آتی ہیں. جن میں محترم خون بہہ جاتا ہے عزتیں پامال ہو جاتی ہیں اور ہتکہ حرمت ہوتی ہے اور یہ سب کچھ اسلام سے دفاع کے نام پر ہوتا ہے. میں امت کی اس پست روش پر رو دیا کیونکہ اس امت کے سپرد خدا نے ہدایت کی ذمہ داری کی تھی اور رسول(ص) نے تاریک قلوب تک نور پہونچانے کی ذمہ داری لی تھی اور ابھی ہدایت کی شدید ضرورت ہے اور اس وقت صرف ہندوستان میں سات سو ملیون افراد غیر خدا کی پرستش کرتے ہیں گائے اور بتوں کی تقدیس کرتے ہیں اور بجائے اس کے کہ مسلمان انہیں موحد بنائیں ان کی ہدایت کرتے تاریکی سے نکال کر روشنی میں لائیں تاکہ وہ رب العالمین کو قبول کریں. آج ہم مسلمانوں کو خصوصا ہندوستان میں دیکھتے ہیں کہ انہیں

۱۸

خود ہدایت کی ضرورت ہے.

لہذا میرے سید و سردار آپ کو دعوت نامہ ارسال کررہا ہوں کہ خدائے رحمن و رحیم، اس کے رسول(ص) اور غظیم اسلام کے نام پر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑیں اور تفرقہ بازی سے پرہیز کریں " میری گذارش ہے کہ آپ ایک شجاع مسلمان کا موقف اختیار کریں کہ جو خدا کے بارے میں کسی ملامت گر کی ملامت سے نہیں ڈرتا اور نہ ہی اس پر شیطان کی دلی خواہش عصبیت و قبائلیت طاری ہوتی ہے.

میں آپ کو پر خلوص اور واضح موقف کی دعوت دیتا ہوں آپ لوگوں ہی پر خدا نے اس علاقہ کے لوگوں کی ہدایت کی ذمہ داری اس وقت تک عائد کی ہے جب تک آپ اسلام کا دم بھرتے رہیں گے. خدا آپ کے اس موقف سے ہرگز راضی نہیں ہوگا کہ آپ یہاں وہاں رونما ہونے والے حادثات سے راضی ہوں کہ جس کی قیمت شیعہ سنی مسلمانوں کو چکانا پڑتی ہے. قیامت کے روز خداوند عالم ہر چھوٹے بڑے کا آپ سے حساب لے گا، اور ہر نافرمانی کے متعلق آپ سے پوچھا جائے گا. کیونکہ صاحبان علم اور جاہل برابر نہیں ہیں ہر ایک پر اس کے ظرف و دانائی کےمطابق ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور شرافت کے لحاظ سے بزرگی و عظمت ملتی ہے.

لہذا جب تک آپ اپنے کو ھندوستان کا عالم سمجھتے رہیں گے اس وقت تک آپ کی ذمہ داری بھی عظیم رہے گی. اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آپ کے کچھ کہنے میں ہندوستان کے لوگوں کی صلاح بھی ہوسکتی ہے اور کبھی اس سے نسلیں ہلاک بھی ہوسکتی ہیں اے صاحبان عقل اللہ سے ڈرو!

بیشک خداوند عالم نے ملائکہ کے بعد علماء کو بلند مرتبہ عطا کیا ہے

۱۹

چنانچہ ارشاد ہے:

‏( شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلهَ إِلَّا هُوَ- وَ الْمَلائِكَةُ وَ أُولُوا الْعِلْمِ قائِماً بِالْقِسْطِ ) سورہ آل عمران، آیت/۱۸

اللہ خود گواہ ہے کہ اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے ملائکہ اور صاحبان علم گواہ ہیں کہ وہ عدل کے ساتھ قائم ہے. اور جب خداوند عالم ہم سب کو یہ حکم دے رہا ہے یہ کہکر.

( وَ أَقِيمُوا الْوَزْنَ‏ بِالْقِسْطِ وَ لا تُخْسِرُوا الْمِيزانَ‏. ) سورہ رحمن، آیت/۸

اور انصاف کے ساتھ وزن کو قائم کرو اور تولنے میں کم نہ تو لو.

اور جب مفسرین نے قیمتی مادی اشیاء میں عدلم قائم کرنے کے لئے کہا ہے تو ان عقائدی چیزوں میں عدالت سے کیوں کام نہیں لیتے کہ جو حق وباطل کے درمیان امتیازی حیثیت رکھتی ہیں، انہیں پر بشر کی ہدایت موقوف اور اس میں پوری انسانیت کی نجات کا راز مضمر ہے. خداوند عالم کا ارشاد ہے:

( وَ إِذا حَكَمْتُمْ‏ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ‏ )

اور جب کوئی فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ کرو. نیز ارشاد ہے:

( يا داوُدُ إِنَّا جَعَلْناكَ‏ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لا تَتَّبِعِ الْهَوى‏ فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ )

اے دائود ہم نے تم کو زمین میں اپنا جانشین بنایا ہے لہذا تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو اور

۲۰

خواہشات کا اتباع نہ کرو کہ وہ راہ خدا سے منحرف کردے.اور رسول اکرم(ص) کا ارشاد ہے کہ:

حق بات کہو اگرچہ وہ تمہارے خلاف ہی ہو.نیز فرمایا: حق کہو خواہ وہ تلخ ہی ہو...

میرے عزیز محترم میں آپ کو کتاب خدا اور سنت رسول(ص) کی طرف دعوت دیتا ہوں کہ انہیں صاف صاف بیان کیجئے اگرچہ تلخ ہی ہو. یہ بات خدا کے نزدیک آپ کے لئے شاہد ہوگی اپنے پروردگار کی قسم کھا کے بتائیے کیا شیعہ آپ کے نزدیک مسلمان نہیں ہیں؟

کیا آپ کا یہ عقیدہ حق ہے کہ وہ کافر ہیں؟ کیا اہلبیت(ع) نبوی(ص) کے اتباع کرنے والے کہ جنہوں نے خدا کی وحدانیت و عظمت کے سلسلہ میں تمام فرقوں سے زیادہ کام کیا ہے. ان کا کہنا ہے کہ خدا مشابہت و ہم شکل ہونے اور جسمانیت سے پاک ہے، وہ اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں اور دوسرے فرقوں سے زیادہ ان کی عظمت کے قائل ہیں. ان کا قول ہے کہ نبی(ص) بعثت سے قبل بھی مطلق طور پر معصوم تھے. کیا آپ انہیں کافر کہتے ہیں؟

کیا جو لوگ خدا و رسول(ص) اور مومنوں سے دوستی رکھتے ہیں جو عترت نبی(ص) کو دوست رکھتے ہیں جیسا کہ ابن منظور نے لسان العرب میں مادۃ شیعہ کے ذیل میں تحریر کیا ہے، کیا ان کو آپ غیر مسلمان کہتے ہیں؟

کیا وہ شیعہ جو بہترین طریقے سے نماز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں مزید خدا و رسول(ص) کی اطاعت کرتے ہوئے اپنے اموال سے خمس نکالتے ہیں اور رمضان و دیگر ایام کے روزے رکھتے ہیں خانہ خدا کا حج بجالاتے ہیں

۲۱

اور شعائر اللہ کی تعظیم کرتے ہیں اور اولیائے خدا کا احترام کرتے ہیں، دشمنان خدا اور اسلام دشمن طاقتوں سے اظہار برائت کرتے ہیں، کیا وہ آپ کے نزدیک مشرک ہیں.

کیا وہ لوگ جو اہلبیت(ع) میں سے ان بارہ(12) اماموں کی امامت کے قائم ہیں جن سے خدا نے رجس کو دور رکھا ہے اور اس طرح پاک کیا جو کہ حق ہے اور ان کی امامت پر رسول(ص) نے نص فرمائی ہے جیسا کہ اہلسنت علماء مثلا بخاری و مسلم وغیرہ نے اپنی صحاح میں تحریر کیا ہے. وہ آپ کے نظریہ کے مطابق دائرہ اسلام سے خارج ہوگئے ہیں؟؟

کیا وہ لوگ مسلمان ہیں جو حیات نبی(ص) میں اور بعد نبی(ص) کسی روز بھی امامت سے متعارف نہیں تھے. اور اس نظریہ کو فارس (ایران) و مجوس کا نظریہ کہتے ہیں؟

کیا آپ اس وقت اس شخص کو کافر قرار دیتے ہیں جو یزید ابن معاویہ کو امام مانتا ہے کہ جس کے فسق کو ہر خاص و عام مسلمان جانتا ہے؟ اور یزید کی خست و ذلالت کے لئے تو یہی چیز کافی ہے کہ جس پر مسلمانوں کا اجماع بھی ہے کہ یزید نے بیعت لینے کے لئے، مدینہ منورہ کو اپنے لشکر کے لئے مباح کر دیا تھا. وہ جو چاہے کرے. پس اس کے فوجیوں نے ہزاروں بہترین صحابہ اور تابعین کو قتل کیا اور بے شمار عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ بالجبر زنا کیا جن سے پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد کو خدا ہی جانتا ہے. اس(یزید لع) کے لئے تو رہتی دنیا تک یہی رسوائی اور ذلت کافی ہے کہ اس نے جوانانِ جنت کے سردار کو قتل کیا اور رسول(ص) کی بیٹیوں کو بے پردہ کیا، امام حسین علیہ السلام کے دندان مبارک کو چھڑی لگائی اور مشہور اشعار میں اس کی مثال دی.

۲۲

اے کاش بدر میں شہید ہونے والے میرے بزرگ ہوتے تو دیکھتے،، یہاں تک کہ اس نے کیا: یہ تو بنی ہاشم کا بادشاہ بننے کے لئے ڈھونگ تھا، ورنہ نہ کوئی فرشتہ آیا اور نہ وحی نازل ہوئی.

اس کے ان اشعار سے صاف طور پر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کی نبوت اور قرآن مجید پر ایمان نہیں رکھتا تھا. کیا یہ حق ہے کہ جو یزیدلع اور اس کے باپ معاویہ پر لعنت کرے آپ اسے کافر قرار دیں؟ جو علی علیہ السلام پر لعنت کرتا تھا اور لعنت کرنے کا حکم دیتا تھا بلکہ صحابہ میں سے جو لعنت کرنے سے انکار کرتا تھا اسے تہ تیغ کر دیتا تھا جیسا کہ حجر ابن عدی کندی اور ان کے ساتھیوں کو قتل کیا. اس لعنت کے سلسلہ کو ایک سنت بنادیا کہ جو ستر(70) سال تک جاری رہی جبکہ وہ ( معاویہ) رسول(ص) کے اس قول سے واقف تھا:

"جس نے علی(ع) پر لعنت کی اس نے میرے اوپر لعنت کی اور جس نے میرے اوپر لعنت کی اس نے خدا کو برا کہا"

جیسا کہ اہلسنت کی صحاح میں یہ چیزیں بیان ہوئی ہیں. اس کے علاوہ اس کے بہت سے ایسے افعال ہیں جو اسلام کے منافی ہیں. اس نے اپنے بیٹے یزید کی بیعت لینے کے لئے بہت سے نیکوکار لوگوں کو قتل کیا. اور جعدہ بنت اشعث کے ذریعہ حسن ابن علی علیہما السلام کو قتل کرایا اس کے علاوہ اس کے اور بہت سے جرائم ہیں جنہیں اہلسنت کی تاریخ نے ذکر کیا ہے جیسا کہ شیعیان علی علیہ السلام نے اس کی شہادت دی ہے.

محترم میں آپ کے بارے میں یہ خیال نہیں کرتا ہوں کہ آپ

۲۳

ان تمام چیزوں سے متفق ہوں گے ورنہ اسلام پر سلام، اور دنیا پر خاک، کیونکہ اس کے بعد نہ دنیا میں کوئی پیمانہ ہے نہ عقل ہے نہ شرع ہے نہ کوئی منطق ہے نہ کوئی دلیل ہے. خداوند عالم کا ارشاد ہے:

( يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَ كُونُوا مَعَ‏ الصَّادِقِينَ )

ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور صادقین کے ساتھ ہو جائو.

قسم خدا کی پاکستان کے عالم ابو الاعلی مودودی رحمتہ اللہ نے اپنی کتاب خلافت و ملوکیت کے ص106 پر ابوالحسن بصری سے نقل کیا ہے کہ:

قسم خدا کی معاویہ میں چار خصلتیں ایسی تھیں کہ اگر ان میں سے ایک بھی ہوتی تو وہی اس کی ہلاکت کے لئے کافی تھی.

مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر خلیفہ بن بیٹھا جبکہ ان میں صحابہ اور با فضلیت افراد موجود تھے.

اپنے بعد اپنے بیٹے کو خلیفہ بنادیا جو شراب خوار حریر پوش اور طنبور بجاتا تھا.

زیاد کو اپنا بھائی بنایا، جبکہ رسول(ص) کا قول ہے کہ: بچہ صاحب فراش کا ہے اور زناکار کے لئے پتھر ہے.

اس کا، حجر اور ان کے ساتھیوں کو قتل کرنا پس حجر اور ان کے اصحاب کےسلسلہ میں معاویہ پر ویل ہو( اس جملہ

۲۴

کو تین مرتبہ دہرایا)

خدا ابو الاعلی مودودی پر رحم کرے کہ انہوں نے حق کا اظہار کیا اور اگر وہ چاہے تو ان خصلتوں سے زیادہ اس کی چالیس خصلتیں گنواتے لیکن مرحوم نے معاویہ کی ہلاکت کے لئے ان چار ہی کو کافی سمجھا.

شاید مودودی صاحب نے ان لوگوں کے جذبات کا خیال رکھا جو معاویہ کی تقدیس و احترام اور اسے رضی اللہ عنہ، کہنا سیکھتے ہیں بلکہ اس کے بیٹے یزید کو بھی اسی زمرہ میں شامل کر لیتے ہیں جیسا کہ خود میں نے علماء ہند سے سنا ہے."لا حول‏ و لا قوة الا بالله العلى العظيم"

اور انہیں باتوں کے تحت میں نے بھی ان لوگوں کے جذبات کا خیال رکھا تھا جنہوں نے مجھے رسوا کرنے کے لئے دعوت دی تھی ان میں سے میں نے ایک بات بھی بیان نہیں کی تھی کیونکہ مجھے اپنا ڈر تھا.

محترم میری آپ سے گذارش ہے کہ آپ واضح موقف کو اختیار کریں اور اس سے خدا کی رضا کو حاصل کریں بیشک خدا حق کے بارے میں ذرا بھی شرم نہیں کرتا، میں آپ سے یہ نہیں چاہتا کہ آپ ان کی برابری کے قائل ہوجائیں اور نہ ہی ان کی برائیوں سے پردہ ہٹانے کے لئے کہتا ہوں اس سلسلہ میں ہمارے اور آپ کے لئے تاریخ کافی ہے لیکن یہ ضرور چاہتا ہوں کہ آپ خود اعتراف کریں اور اپنے پیروں کو یہ بتائیں کہ جو ان ( معاویہ و یزید وغیرہ) کی امامت کے قائل نہیں ہیں اور ان سے محبت نہیں رکھتے وہی سچے اور حقیقی مسلمان ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آپ یہ کہیں کہ شیعہ ہمیشہ مظلوم رہے ہیں کیونکہ انہوں نے کبھی شجرۃ ملعونہ کی امامت کا اعتراف نہیں کیا ہے جس کی مثال خداوند کریم نے

۲۵

قرآن مجید میں بیان فرمائی ہے.

آپ قسم کھا کے بتائیں کہ شیعوں کی کیا خطا ہے. رسول(ص) خود اپنے بعد اپنے اہلبیت(ع) کے اتباع کا حکم دیتے ہیں یہاں تک کہ انہیں سفینہ نوح سے تشبیہ دی جو اس پر سوار ہوا وہ نجات پائے گا اور جس نے اس سے روگردانی کی وہ ہلاک ہوگا. شیعوں کی کیا خطا ہے جبکہ وہ رسول(ص) کے اس حکم کا اتباع کرتے ہیں:

میں تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑ رہا ہوں کتاب خدا اور میری عترت، جب تک ان سے وابستہ رہوگے ہرگز گمراہ نہ ہوگے.

اور اس بات کو گواہیاں تو اہلسنت کتابوں میں بھی ہیں چہ جائیکہ شیعہ کی کتابیں.

لیکن رسول(ص) کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے ان کے شکر گزار ہوئے، انہیں دوسروں پر مقدم کرنے اور فضیلت دینے کے بجائے ان پر سب وشتم کرتے ہیں انہیں کافر کہتے ہیں ان سے بیزاری اختیار کرتے ہیں، یہ تو انصاف نہیں ہے اور نہ ہی یہ بات معقول ہے.

محترم ہمیں ان خرافات اور رکیک باتوں کو چھوڑ دینا چاہئے جو کسی دلیل و برہان پر استوار نہیں ہیں اور انہیں اپنی امت کے نوجوانوں پر تحمیل نہ کریں کہ شیعوں کا ایک خاص قرآن ہے یا شیعہ تو علی(ع) کو صاحب شریعت کہتے ہیں یا عبداللہ ابن سبا مذہب تشیع کا موسس ہے. اس کے علاوہ اور واہیات قسم کے اقوال ہیں کہ جن کے بارے میں خدا گواہ ہے کہ دشمنان اسلام اور عدو اہلبیت(ع) کا پروپیگنڈہ ہے جو انہوں نے اندھے تعصب اور جہالت کی بنا پر گڑھ دیا ہے

۲۶

محترم میں یہ سوال کرتا ہوں کہ ہندوستان کے علماء کو جامعہ اظہر کے علماء سے کیا نسبت ہے کہ جنہوں نے مذہب شیعہ امامیہ کو قبول کرنے کا تیس سال قبل فتوی دیا تھا اور جامعہ اظہر ہی کے علمائے اعلام کا یہ بھی نظریہ ہے کہ فقہ جعفری کہ جس پر شیعہ عمل کرتے ہیں وہ ان تمام مذاہب اسلامی سے زیادہ روح اسلام سے قریب ہے کہ جو اس کی فرع ہیں اور ان علما کے راس و رئیس شیخ محمود سلتوت رحمتہ اللہ ہیں، پس کیا وہ علمائے اسلام اور مسلمانوں کو نہیں پہچانتے تھے؟ یا ہندوستان کے علما ان سے اعلم و اعرف ہیں. میں نہیں سمجھتا کہ آپ بھی اسی کے قائل ہوں گے...!

محترم! آنکھیں آپ پر لگی ہیں آپ کی محبت و شفقت کے لئے میرا قلب کھلا ہوا ہے، یقینا گذشتہ زمانہ میں میں بھی آپ کی طرح حقیقف سے بے خبر اور اہلبیت(ع) اور ان کے شیعوں سے ناواقف تھا. پس خدا نے اس حق کی طرف میری راہنمائی کی کہ جس کے علاوہ گمراہی و ضلالت ہے میں تعصب کی بندشوں اور اندھی تقلید سے آزاد ہوگیا ہوں اور مجھ پر بات آشکار ہوگئی ہے کہ زیادہ تر مسلمان ابھی تک باطل اور پروپیگنڈے کے پردوں میں چھپے ہوئے ہیں اور ان کو حقیقت تک پہونچنے نہیں دیا جاتا کہ کہیں سفینہ نجات پر سوار نہ ہو جائیں اور خدا کی رسی کو پکڑ نہ لیں جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ شیعہ و سنی کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے سوائے اس اختلاف کے جو خلافت کے سلسلہ میں بعد رسول(ص) رونما ہوا. اس اختلاف کی بنیاد تمہارا صحابہ پر اعتقاد ہے جب کہ صحابہ رضی اللہ عنہم میں آپس میں اختلاف تھا یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے پر لعنت کرتے تھے. لڑتے تھے اور بعض بعض کو قتل کرتے تھے.

پس اگر شیعوں کا اختلاف انہیں دین سے خارج کردیتا ہے

۲۷

تو العیاذ باللہ صحابہ اس تہمت کے زیادہ مستحق ہیں میں نہیں سمجھتا کہ آپ اس کو برداشت کرسکیں گے، انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ آپ اس سلسلہ میں یہ بھی نہ کہیں کہ وہ دین سے خارج ہیں، اہلبیت(ع) کے تقدس و احترام کے سلسلے میں جو شیعوں کا نظریہ ہے وہی صحابہ کے تقدس و احترام کے سلسلہ ہیں اہلسنت کا نظریہ ہے پس دونوں موقفوں میں کتنا بعد ہے، اگر اس نظریہ میں شیعہ خطا پر ہیں تو اہلسنت بدرجہ اولی خطا کار ہیں. کیونکہ تمام صحابہ اہلبیت(ع) کو اپنے نفسوں پر مقدم کرتے تھے اور ان پر بلکل اسی طرح درود بھیتے تھا جس طرح نبی(ص) پر بھیجتے تھے، ہمیں کسی ایک صحابی کے بارے میں بھی یہ معلوم نہیں ہے کہ اس نے نفس کو اہلبیت مصطفی(ص) پر مقدم کیا ہو یا علم و عمل کے لحاظ سے خود کو ان پر فضیلت دی ہو.

پس اب وہ وقت آن پہونچا ہے کہ شیعیان اہلبیت(ع) سے تاریخی تاریکی کو ہٹایا جائے ان سے قربت و بھائی چارگی قائم کی جائے نیک اور اچھے کاموں میں تعاون کیا جائے، اس امت کے لئے ویسے ہی خونریزی اور فتنہ انگیزی کیا کم ہے.

عنقریب خدا آپ کو ایک کلمہ پر جمع کردے گا ، اور آپ کے ذریعہ افتراق کو ختم کردے گا اور آپ کے سبب علیحدگی و سنگدلی کو دور کردے گا. آپ کے باعث اس زخم کا مداوا کرے گا، آپ کے توسط سے اس فتنہ کی آگ کو خاموش کرے گا، آپ ہی کے وسیلہ سے شیطان اور اس کے گروہ کو رسوا کرے گا. اور آپ خدا کے نزدیک کامیاب ہوجائیں گے. خصوصا آپ تو اہلبیت(ع) کی اولاد سے ہیں جیسا کہ میں نے سنا ہے لہذا ایسے اعمال بجالائے کہ جن کے سبب آپ ان(اہلبیت(ع)) کے ساتھ محشور ہوسکیں

۲۸

"اور یہ تمہاری امت ایک ہی ہے میں تمہارا رب ہوں پس میری عبادت کرو" " اور کہدیجیئے کہ (نیک) عمل بجالائو کیونکہ خدا، اس کا رسول(ص) اورمومنین تمہارے اعمال کو دیکھتے ہیں" اور خدا ہمیں اور آپ کو توفیق مرحمت فرمائے اسی میں لوگوں اور شہروں کی فلاح ہے، خداوند عالم ہمیں اور آپ کو اپنے مخلص بندوں میں شمار فرمائے.

اس خط کے ہمراہ آپ کی خدمت میں اپنی کتاب " ثم اھتدیت" کا ایک نسخہ بھی ارسال کررہا ہوں، یہ کتاب میں نے اسی موضوع پر تالیف کی ہے میری طرف سے یہ ہدیہ ہے امید ہے کہ قبول فرمائیں گے.

وَ السَّلَامُ‏ عَلَيْكُمْ‏ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ.

مخلص محمد تیجانی السماوی، تیونسی

۲۹

. پوچھ لو

آیہ فاسئلوا اہل الذکر مسلمانوں کو ہر مشکل کام میں اہل ذکر کی طرف رجوع کرنے کا حکم دے رہی ہے تاکہ وہ راہ راست سے اگاہ ہوجائیں. کیونکہ خداوند عالم نے انہیں تعلیم دینے کے بعد اس کام کے لئے منتخب کیا ہے یہی راسخون فی العلم ہیں اور یہی قرآن کی تاویل سے واقف ہیں.

یہ آیت اہلبیت(ع) یعنی محمد(ص) و علی(ع) و فاطمہ(س) و حسن(ع) و حسین(ع) کے تعارف کے لئے نازل ہوئی ہے. عہد نبی(ص) کے علاوہ قیام قیامت تک پنچتن پاک، اصحاب کساء میں سے حسین علیہ السلام کی نسل سے تو ائمہ ہوں گے کہ جن کو رسول(ص) نے معین کیا ہے. اور مناسب موقعوں پر ان کا تذکرہ بھی کیا ہے اور انہیں ائمہ ہدی، مصابیح الدجی، اہل ذکر، راسخون فی العلم کے القاب سے نوازا ہے.

یہ روایات عہد نبی(ص) ہی سے شیعوں کے نزدیک متواتر اور صحیح

۳۰

ہیں. اہل سنت کے بعض علماء و مفسرین نے بھی اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے اور اس آیت کے ذیل میں تحریر کیا ہے کہ یہ آیت اہلبیت علیہم السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے ان میں سے بعض علماء کے اسماء یہاں مثال کے طور پر پیش کر رہا ہوں.

1.امام ثعلبی نے تفسیر کبیر میں سورہ نحل کی اسی آیت کے معنی کے ذیل میں.

2.ابن کثیر نے تفسیر القرآن کی جلد، 2، ص570 - 3.تفسیر طبری میں، جلد14، ص109

4.تفسیر آلوسی المسمی بہ روح المعانی جلد 14 ص134 - 5.تفسیر قرطبی جلد11 ص272

6. تفسیر حاکم المسمی بہ شواہد التنزیل جلد 1ص334 - 7. تفسیر تستری المسمی بہ احقاق الحق جلد3 ص482 - 8. قندوزی حنفی کی ینابیع المودة، ص51و 140

اگر آیت کے ظاہری معنی سے اہل کتاب" یہود و نصاری" مراد ہیں تو اس کے لئے ہم اس بات کو وضاحت کردینا ضروری سمجھتے ہیں کہ اس آیت سے مراد یہود و نصاری نہیں ہیں.

اوّلا: اس لئے کہ قرآن نے متعدد آیات میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہود و نصاری نے خدا کے کلام میں تحریف کی اور اپنے ہاتھوں سے لکھ کر کہہ دیا کہ یہ خدا کی کتاب ہے تاکہ اس سے کچھ قیمت حاصل کرسکیں(قرآن) ان لوگوں کے بارے میں کذب اور ان کے ہاتھوں سے کلام خدا میں تحریف کی گواہی دے رہا ہے. یہ بات معقول نہیں ہے کہ قرآن ان کی اس حرکت کے باوجود ان سے رجوع کرنے کا حکم دے اور کہے کہ جو مسائل تم نہیں جانتے وہ یہود و نصاری سے پوچھ لو.

۳۱

ثانیا:بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب الشہادت کے باب" لایسئل اہل الشرک" کی جلد 3 ص163 پر ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ:

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ: اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو نہ انہیں جھٹلائو، یہ کہو ہم تو اللہ اور اس کے نازل کئے ہوئے پر ایمان لاچکے ہیں. آیت"

اس آیت سے یہود و نصاری کو چھوڑنا اور ان سے رجوع نہ کرنا آشکار ہے، کیونکہ عدم تصدیق و تکذیب دونوں ہی اس سوال کی نفی کررہے ہیں. کہ جس کا صحیح جواب طلب کیا جاتا ہے.

ثالثا: بخاری نے اپنی صحیح کی جلد8، ص208 : کتاب التوحید اللہ تعالی کے قول" کل یوم ھو فی شان،، کے باب میں ابن عباس سے روایت کی ہے کہ:

انہوں نے کہا مسلمانو! تم اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں کیسے سوال کرتے ہو. جبکہ تمہاری کتاب وہ ہے جسے خدا نے اپنے نبی(ص) پر نازل کیا اور جو صرف اللہ کی طرف سے خبر دیتی ہے، وہ کوئی قصیدہ نہیں ہے. اور خدا تمہیں آگاہ کرچکا ہے کہ اہل کتاب. یہود و نصاری،، نے کتاب خدا میں تحریف کردی اور پھر اپنے ہاتھوں سے لکھ کر کہنے لگے(یہ) خدا کی کتاب ہے. تاکہ اس سے کچھ نفع حاصل کرسکیں. یا تمہیں اس چیز کے بارے میں ان سے سوال کرنے کو منع کیا ہے کہ جس کا تمہیں علم نہ ہو. خدا کی قسم ہم نے ان میں سے کسی کو نہیں دیکھا کہ وہ تم سے

اس چیز کے بارے میں سوال کرے جو تم پر نازل ہوئی ہے.

۳۲

رابعا: اگر آج ہم اہل کتاب " نصاری" سے سوال کریں تو وہ کہتے ہیں کہ عیسی خدا ہیں. اور یہود انہیں جھٹلاتے ہیں، یہاں تک کہ وہ عیسی کو نبی بھی نہیں مانتے ہیں. اور یہود و نصاری دونوں نبی(ص) اور اسلام کا انکار کرتے ہیں. اور کہتے ہیں: -محمد(ص)- بہت بڑے جھوٹے اور دجال ہیں. معاذ اللہ- کیا اس کے باوجود ہم آیت کا یہ مفہوم نکال سکتے ہیں کہ خدا نے ہمیں ان سے رجوع کرنے کا حکم دیا ہے- ناممکن ہے- اور جب ظاہر آیت سے اہل کتاب " یہود و نصاری" کا اہل ذکر ہونا سمجھ میں آتا ہے تو اس سے اس بات کی نفی نہیں ہوتی ہے کہ یہ آیت اہلبیت نبی(ع) کی شان میں نازل ہوئی ہے. جیسا کہ شیعوں اور سنیوں کے نزدیک صحیح حدیثوں سے ثابت ہے. اور اسی سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ خداوند متعال نے ان ہی کو اس کتاب کے علم کا وارث ہے -کہ جس میں کسی قسم کی تفریط نہیں ہے.- بنایا ہے. اور اپنے بندوں میں سے انہیں اس لئے منتخب کیا ہے تاکہ لوگ تفسیر و تاویل قرآن کے بارے میں ان سے رجوع کریں اور جب وہ خدا و رسول(ص) کی اطاعت کریں گے تو ان کی ہدایت کی ضمانت بھی ہوگی.

خداوند عالم چاہتا تھا کہ تمام لوگوں کو اپنے برگزیدہ اور عالم کتاب افراد کا مطیع و فرمانبردار بنا دے تاکہ قیادت اور دنیا کے نظم و نسق کا مسئلہ حل ہوجائے پس اگر وہ لوگوں کے درمیان نہ رہیں گے تو ہر ایک پر ہوس طاری ہوجائے گی، لوگوں کے امور میں بد نظمی پیدا ہوجائے گی اور ہر ایک کے لئے اعلمیت کا دعوی کرنا ممکن ہوگا.

اس بات سے مطمئن ہوجانے کے بعد اہل ذکر سے مراد اہلبیت(ع)

۳۳

ہیں، اس پر دلیل قائم کروں گا کہ اہل ذکر سے مراد اہلبیت(ع) ہی ہیں- عنقریب میں ایسے سوالات پیش کروں گا کہ اہل سنت کے پاس جن کا جواب نہیں ہے یا اگر جواب ہے، تو اس سے جان بوجھ کر پہلو تہی اختیار کرتے ہیں اور ایسی دلیل پیش کرتے ہیں جسے کوئی محقق قبول نہ کرسکے- ان سوالات کے حقیقی جوابات ائمہ اطہار(ع) ہی کے پاس ہیں کہ جنہوں نے دنیا کو علم و معرفت اور صالح عمل سے مالا مال کیا ہے.

۳۴

پہلی فصل

اللہ سے متعلق

پہلا سوال:

رئویت خدا اور اس کے مجسم ہونے کے بارے میں؟

خداوند عالم اپنی کتاب میں ارشاد فرماتا ہے:

( لا تُدْرِكُهُ‏ الْأَبْصارُ وَ هُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ ) انعام/103

آنکھیں اسے نہیں دیکھ سکتیں.

( ليس‏ كمثله‏ شئ ‏) شوری/11

اس کے مثل کے شئی نہیں ہے.

اور جب جناب موسی نے دیدار کی خواہش کی تو فرمایا:

( لَنْ‏ تَرَانِي ‏) اعراف/143

تم مجھے کبھی نہیں دیکھ سکتے

۳۵

پس تم ان حدیثوں کو کیسے قبول کرتے ہو جو صحیح بخاری اور مسلم میں منقول ہیں کہ خداوند عالم اپنی مخلوق کے سامنے جلوہ افروز ہوگا، اور لوگ اسے چودہویں کے چاند کی طرح سے دیکھیں گے.(1) اور ہر شب جمعہ کو آسمان دنیا پر اترتا ہے.(2) جہنم میں اپنا پیر ڈال دے گا اور وہ بھرجائے گا.(3) وہ اپنی پنڈلی کھول دے گا تاکہ مومنین پہچان لیں.(4) وہ ہنستا ہے اور حیرت میں پڑ جاتا ہے.(5) ان کے علاوہ اور بہت سی روایات ہیں کہ جن سے خدا کا مجسم اور متحرک ہونا ثابت ہوتا ہے- مثلا- اس کے دو ہاتھ اور دو پیئر ہیں، پانچ انگلیاں ہیں، پہلی انگلی آسمانوں پر، دوسری زمینوں پر، تیسری درختوں پر چوتھی پانی اور ثری پر، اور پانچویں تمام مخلوقات پر رکھے ہوئے ہے.(6) وہ اپنے گھر میں قیام پذیر ہے. محمد(ص) تین مرتبہ اس کے پاس پہونچنے کے لئے اجازت طلب کرتے ہیں. خداوند متعال اس سے بزرگ و برتر ہے- پروردگار تو توصیف کرنے والوں کی توصیف سے پاک و پاکیزہ ہے.- ائمہ ہدی، مصابیح الدجی کے پاس ان تمام باتوں کا جواب یہ ہے کہ خداوند عالم ہم شکل وہم جنس، صورت و جسم اور شبیہہ و حد بندی سے پاک ہے. حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

____________________

1.صحیح بخاری ج7، ص205، صحیح مسلم ج1، ص112

2. صحیح بخاری ج2، ص47

3.صحیح بخاری ج8، ص178و ص187

4.صحیح بخاری ج8، ص182. صحیح مسلم ج1، ص115

5. صحیح بخاری ج6، ص33

6. صحیح بخاری ج8، ص183 صحیح مسلم ج1،ص124

۳۶

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَا يَبْلُغُ‏ مِدْحَتَهُ‏ الْقَائِلُونَ‏ وَ لَا يُحْصِي نِعَمَهُ الْعَادُّونَ وَ لَا يُؤَدِّي حَقَّهُ الْمُجْتَهِدُونَ الَّذِي لَا يُدْرِكُهُ بُعْدُ الْهِمَمِ وَ لَا يَنَالُهُ غَوْصُ الْفِطَنِ الَّذِي لَيْسَ لِصِفَتِهِ حَدٌّ مَحْدُودٌ وَ لَا نَعْتٌ مَوْجُودٌ وَ لَا وَقْتٌ مَعْدُودٌ وَ لَا أَجَلٌ مَمْدُودٌ فَطَرَ الْخَلَائِقَ بِقُدْرَتِهِ وَ نَشَرَ الرِّيَاحَ بِرَحْمَتِهِ وَ وَتَّدَ بِالصُّخُورِ مَيَدَانَ أَرْضِهِ أَوَّلُ الدِّينِ مَعْرِفَتُهُ وَ كَمَالُ مَعْرِفَتِهِ التَّصْدِيقُ بِهِ وَ كَمَالُ التَّصْدِيقِ بِهِ تَوْحِيدُهُ وَ كَمَالُ تَوْحِيدِهِ الْإِخْلَاصُ لَهُ وَ كَمَالُ الْإِخْلَاصِ لَهُ نَفْيُ الصِّفَاتِ عَنْهُ لِشَهَادَةِ كُلِّ صِفَةٍ أَنَّهَا غَيْرُ الْمَوْصُوفِ وَ شَهَادَةِ كُلِّ مَوْصُوفٍ أَنَّهُ غَيْرُ الصِّفَةِ فَمَنْ وَصَفَ اللَّهَ سُبْحَانَهُ فَقَدْ قَرَنَهُ وَ مَنْ قَرَنَهُ فَقَدْ ثَنَّاهُ وَ مَنْ ثَنَّاهُ فَقَدْ جَزَّأَهُ وَ مَنْ جَزَّأَهُ فَقَدْ جَهِلَهُ وَ مَنْ أَشَارَ إِلَيْهِ فَقَدْ حَدَّهُ وَ مَنْ حَدَّهُ فَقَدْ عَدَّهُ وَ مَنْ قَالَ فِيمَ فَقَدْ ضَمَّنَهُ وَ مَنْ قَالَ عَلَامَ فَقَدْ أَخْلَى مِنْهُ كَائِنٌ لَا عَنْ حَدَثٍ مَوْجُودٌ لَا عَنْ عَدَمٍ مَعَ كُلِّ شَيْ‏ءٍ لَا بِمُقَارَنَةٍ وَ غَيْرُ كُلِّ شَيْ‏ءٍ لَا بِمُزَايَلَةٍ فَاعِلٌ لَا بِمَعْنَى الْحَرَكَاتِ وَ الْآلَةِ بَصِيرٌ إِذْ لَا مَنْظُورَ إِلَيْهِ مِنْ خَلْقِهِ.(1)

تمام حمد اس اللہ کے لئے ہے، جس کی مدح تک بولنے والوں کی رسائی نہیں، جس کی نعمتوں کو گننے والے گن نہیں سکتے، نہ کوشش کرنے والے اس کا حق ادا کر سکتے ہیں، نہ بلند پرواز ہمتیں اسے پا سکتی ہیں نہ عقل و فہم

____________________

1.نہج البلاغہ شرح محمد عبدہ ج1، خطبہ اوّل

۳۷

کی گہرائیاں اس کی تہ تک پہونچ سکتی ہیں. اس کے کمال ذات کی کوئی حد معین نہیں. نہ اس کے لئے توصیفی الفاظ ہیں نہ اس( کی ابتدا) کے لئے کوئی وقت ہے، جسے شمار میں لایا جاسکے، نہ اس کی کوئی مدت ہے جو کہیں پرختم ہو جائے.

بس جس نے ذات الہی کے علاوہ صفات مانے، اس نے اس کی ذات کا ایک دوسرا ساتھی مان لیا اور جس نے اس کی ذات کا کوئی اور ساتھی مانا اس نے دوائی پیدا کی جس نے دوئی پیدا کی. اس نے اس کے لئے جز بنا ڈالا اور جو اس کے لئے اجزائ کا قائل ہو وہ اس سے بے خبر رہا. اور جو اس سے بے خبر رہا اس نے اسے قابل اشارہ سمجھ لیا اور جس نے اسے قابل اشارہ سمجھ لیا اس نے اس کی حد بندی کردی اور جس نے اسے محدود سمجھا وہ اسے دوسری چیزوں ہی کی قطار میں لے آیا، جس نے یہ کہا کہ وہ کس چیز میں ہے اس نے اسے کسی شئی کے ضمن میں فرض کر لیا، اور جس نے یہ کہا کہ وہ کسی چیز پر ہے. اس نے اور جگہیں اس سے خالی سمجھ لیں. وہ ہے، ہوا نہیں، موجود ہے، مگر عدم سے وجود میں نہیں آیا. وہ ہر شئی کے ساتھ ہے، نہ جسمانی اتصال کی طرح، وہ ہر چیز سے علیحدہ ہے، نہ جسمانی دوری کے طور پر، وہ فاعل ہے. لیکن حرکات و آلات کا محتاج نہیں

۳۸

وہ اس وقت بھی دیکھنے والا نہیں تھا، جب مخلوقات میں کوئی چیز دکھائی دینے والی نہ تھی.

میں نے جوان محققین کی توجہ اس خزانہ کی طرف مبذول کرائی ہے جو حضرت علی علیہ السلام نے چھوڑا ہے. جو کچھ نہج البلاغہ میں جمع کیا ہے وہ بہترین کتاب ہے. اس سے بلند کتاب صرف قرآن مجید ہے. مگر افسوس! کہ لوگ امویوں اور عباسیوں کے پروپیگنڈوں سے اور دہشتگردی اور حضرت علی علیہ السلام سے محبت رکھنے والوں کو قید خانہ میں ڈالدینے کی وجہ سے اس خزانہ سے بے خبر رہے ہیں.

اگر میں یہ کہوں تو مبالغہ نہ ہوگا کہ : نہج البلاغہ میں ایسے بے شمار علوم و معارف موجود ہیں کہ جن کی ضرورت ہر زمانہ کے افراد کو رہی ہے. فلسفہ،سلوک، اور سیاسیات و حکمت کے علاوہ نہج البلاغہ میں علم اخلاق، علم اجتماع(سماجیات) علم اقتصاد اورخلا و فضا کے علم اور ٹیکنالوجی کی طرف قیمتی اشارے موجود ہیں.

۳۹

تعلیق

دونوں عقیدوں میں واضح فرق ہے

اہل سنت والجماعت کا عقیدہ خدا کو اس طرح شکل و صورت والا مجسم بناکر پیش کرتا ہے جو دیکھا جاسکے، گویا وہ ایک انسان ہے جو چلتا ہے، اترتا ہے، مکان میں رہتا ہے، اس کے علاوہ اور بہت سی مکروہ باتیں ہیں کہ جن سے خداوند عالم بری ہے.شیعوں کا عقیدہ ہے کہ خدا ہم شکل، ہم جنس اور جسم سے پاک ہے. شیعہ کہتے ہیں کہ دینا و آخرت میں خدا کا دیدار محال ہے. اور خود میرا عقیدہ ہے کہ جن روایات سے اہل سنت خدا کی رئویت پر استدلال کرتے ہیں وہ سب صحابہ کے زمانہ میں یہودیوں نے گڑھی تھیں، کیونکہ کعب الاحبار جو"یہودی" جو عمر بن خطاب کے زمانہ میں مسلمان ہوا اور اس نے یہودی معتقدات کو بعض ضعیف العقل راویوں مثل ابوہریرہ اور وہب بن منبہ کے ذریعہ اسلام میں داخل کردیا. اور بخاری و مسلم میں زیادہ تر روایتیں ابوہریرہ سے مروی ہیں اور گذشتہ بحث میں یہ بیان گذر چکا ہے کہ ابوہریرہ، احادیث نبوی اور کعب الاحبار کی حدیثوں میں تمیز نہیں کر پاتے تھے. یہاں تک کہ ایک مرتبہ خطاب نے اسے اس بات پر مارا اور اس یہ حدیث نقل کرنے سے منع کیا کہ خدا نے زمین و آسمان کو سات روز میں پیدا کیا.

جب تک کہ اہلسنت والجماعت بخاری و مسلم کو معتبر سمجھتے رہیں گے اور انہیں تمام کتابوں سے زیادہ صحیح سمجھتے رہیں گے، اور ابوہریرہ پر اعتماد کرتے رہیں گے کہ جو اہل سنت کے نزدیک عمدۃ المحدثین راوی اسلام بن گیا

۴۰

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291