نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)6%

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ) مؤلف:
: علامہ السید ذیشان حیدر جوادی قدس سرہ
زمرہ جات: متن احادیث
صفحے: 863

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 863 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 656728 / ڈاؤنلوڈ: 15924
سائز سائز سائز
نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

۱

۲

نھج البلاغہ

مکمل اردو ترجمہ

مترجم علامہ ذیشان حیدر جوادی

ای بک کمپوزنگ : الحسنین علیھما السلام نیٹ ورک

۳

نهج البلاغة

باب المختار من خطب مولانا امیر المومنین

علی بن ابی طالب علیه التحیة والسلام الخطب

(١)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

یذکر فیها ابتداء خلق السلماء والارض، وخلق آدم

وفیها ذکر الحج

وتحتوی علی حمد الله،خلق العالم، وخلق الملائکة، واختیار الانبیائ، ومبعث النبی، والقران، والاحکام الشرعیة

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ اَلَّذِي لاَ يَبْلُغُ مِدْحَتَهُ اَلْقَائِلُونَ وَ لاَ يُحْصِي نَعْمَاءَهُ اَلْعَادُّونَ وَ لاَ يُؤَدِّي حَقَّهُ اَلْمُجْتَهِدُونَ [ اَلْجَاهِدُونَ ] اَلَّذِي لاَ يُدْرِكُهُ بُعْدُ اَلْهِمَمِ وَ لاَ يَنَالُهُ غَوْصُ اَلْفِطَنِ اَلَّذِي لَيْسَ لِصِفَتِهِ حَدٌّ مَحْدُودٌ وَ لاَ نَعْتٌ مَوْجُودٌ وَ لاَ وَقْتٌ مَعْدُودٌ وَ لاَ أَجْلٌ مَمْدُودٌ فَطَرَ اَلْخَلاَئِقَ بِقُدْرَتِهِ وَ نَشَرَ اَلرِّيَاحَ بِرَحْمَتِهِ وَ وَتَّدَ بِالصُّخُورِ مَيَدَانَ أَرْضِهِ

امیر المومنین کے منتخب خطبات

اور احکام کا سلسلہ کلام

(۱)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں آسمان کی خلقت کی ابتدا اور خلقت آدم ۔ کے تذکرہ کے ساتھ حج بیت اللہ کی عظمت کا بھی ذکر کیا گیاہے)

یہ خطبہ حمدو ثنائے پرودگار۔خلقت عالم۔ تخلیق ملائکہ انتخاب انبیا بعثت سرکا ر دوعالم، عظمت قرآن اور مختلف احکام شرعیہ پرمشتمل ہے۔

ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس کی مدحت تک بولنے والوں کے تکلم کی رسائی نہیں ہے اور اس کی نعمتوں کوگننے والے شمار نہیں کر سکتے ہیں۔ اس کے حق کو کو ش ش کرنے والے بھی ادا نہیں کر سکتے ہیں۔ نہ ہمتوں کی بلندیوں اس کا ادراک کرسکتی ہیں اور نہ ذہانتوں کی گہرائیوں اس کی تہ تک جا سکتی ہیں۔ اس کی صفت ذات کے لئے نہ کوئی معین حد ہے نہ توصیفی کلمات۔نہ مقررہ وقت ہے اور نہ آخری مدت۔اس نے تمام مخلوقات کو صرف اپنی قدرت کا ملہ سے پیدا کیا ہے اور پھر اپنی رحمت ہی سے ہوائیں چلائی ہیں اور زمین کی حرکت کو پہاڑوں کی میخوں سے سنبھال کر رکھا ہے۔

حواشی-مصادر خطبہ۱عیون الحکم والمواعظ الواسطی،بخار۷۷،۳۰۰و۴۲۳۔ربیع الا برارزمحشری باب السماءوالکواکب،شرح نہج البلاغہ قطب راوندی تحف العقول حرانی۔اصول کافی۱۔۱۴۰احتجاج طبرسی۱۔۱۵۰،مطالب السئول محمد بن طلحہ الشافعی دستور معالم الحکم القاضی القاضعی ۱۵۔تفسیر فخررازی۲۔۱۲۴۔ارشادمفید ۱۰۵و۱۰۶ توحید صدوق عیون الا خبار صدوق امالی طوسی ۱۔۲۲مصادر خطبہ ۳ الجمل شیخ مفید ۶۲، فہرست بنی ۔۶۲ فہرست ابن ۔

۴

أَوَّلُ اَلدِّينِ مَعْرِفَتُهُ وَ كَمَالُ مَعْرِفَتِهِ اَلتَّصْدِيقُ بِهِ وَ كَمَالُ اَلتَّصْدِيقِ بِهِ تَوْحِيدُهُ وَ كَمَالُ تَوْحِيدِهِ اَلْإِخْلاَصُ لَهُ وَ كَمَالُ اَلْإِخْلاَصِ لَهُ نَفْيُ اَلصِّفَاتِ عَنْهُ لِشَهَادَةِ كُلِّ صِفَةٍ أَنَّهَا غَيْرُ اَلْمَوْصُوفِ وَ شَهَادَةِ كُلِّ مَوْصُوفٍ أَنَّهُ غَيْرُ اَلصِّفَةِ فَمَنْ وَصَفَ اَللَّهَ سُبْحَانَهُ فَقَدْ قَرَنَهُ وَ مَنْ قَرَنَهُ فَقَدْ ثَنَّاهُ وَ مَنْ ثَنَّاهُ فَقَدْ جَزَّأَهُ وَ مَنْ جَزَّأَهُ فَقَدْ جَهِلَهُ

وَ مَنْ جَهِلَهُ فَقَدْ أَشَارَ إِلَيْهِ وَ مَنْ أَشَارَ إِلَيْهِ فَقَدْ حَدَّهُ وَ مَنْ حَدَّهُ فَقَدْ عَدَّهُ وَ مَنْ قَالَ فِيمَ

دین کی ابتداء اس کی معرفت سے ہے اور معرفت کا کمال اس کی تصدیق ہے۔تصدیق کا کمال توحید کا اقرار ہے اور توحید کا کمال اخلاص عقیدہ ہے اور اخلاص کا کمال زائد بر ذات صفات کی نفی ہے' کہ صفت کا مفہوم خود ہی گواہ ہے کہ وہ موصوف سے الگ کوئی شے ہے اورموصوف کا مفہوم ہی یہ ہے کہ وہ صفت سے جدا گانہ کوئی ذات ہے۔اس کے لئے الگ سے صفات کا اثبات ایک شریک کا اثبات ہے اور اس کا لازمی نتیجہ ذات کا تعدد ہے اور تعدد کا مقصد اس کے لئے اجزاء کا عقیدہ ہے اوراجزاء کا عقیدہ صرف جہالت ہے معرفت نہیں ہے اور جو بے معرفت ہوگیا اس نے اشارہ کرنا شروع کردیا اور جس نے اس کیطرف اشارہ کیا اس نے اسے ایک سمت میں محدود کردیا اورجس نے محدود کردیا اس نے اسے گنتی کا ایک شمار کرلیا

( جو سراسر خلاف توحید ذات ہے)

جس نے یہ سوال اٹھایاکہ وہ کس چیز میں ہے

خطبہ کا پہلا حصہ ذات واجب کی عظمتوں سے متعلق ہے جس میں اس کی بلندیوں اور گہرائیوں کے تذکرہ کے ساتھ اس کے بے پایاں نعمتوں کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ اس کی ذات مقدس لا محدود ہے اور اس کی ابتداء وانتہا کا تصور بھی محال ہے۔البتہ اس کے احسانات کی فہرست میں سر فہرست تین چیزیں ہیں :

(۱) اسنے اپنی قدرت کاملہ سے مخلوقات کوپیدا کیا ہے۔(۲) اسنے اپنی رحمت شاملہ سے سانس لینے کے لئے ہوائیں چلائی ہیں۔(۳) انسان کے قرار و استقراء کے لئے زمین کی تھر تھراہٹ کو پہاڑوں کی میخوں کے ذریعہ روک دیا ہے ورنہ انسان کا ایک لمحہ بھی کھڑا رہنا محال ہوجاتا اور اس کے ہر لمحہ گر پڑنے اور الٹ جانے کا امکان بر قرا رہتا۔دوسرے حصہ میں دین و مذہب کا ذکر کیا گیا ہے کہ جس طرح کائنات کا آغاز ذات واجب سے ہے اسی طرح دین کا آغاز بھی اسی کی معرفت سے ہوتا ہے اور معرفت میں حسب ذیل امور کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔دل و جان سے اس کی تصدیق کی جائے۔فکرو نظر سے اس کی وحدانیت کا اقرار کیا جائے اور خالق و مخلوق کے امتیاز سے اس کے صنعاف کو عین ذات تصور کیا جائے۔

۵

فَقَدْ ضَمَّنَهُ وَ مَنْ قَالَ عَلاَمَ فَقَدْ أَخْلَى مِنْهُ كَائِنٌ لاَ عَنْ حَدَثٍ مَوْجُودٌ لاَ عَنْ عَدَمٍ مَعَ كُلِّ شَيْ‏ءٍ لاَ بِمُقَارَنَةٍ وَ غَيْرُ كُلِّ شَيْ‏ءٍ لاَ بِمُزَايَلَةٍ فَاعِلٌ لاَ بِمَعْنَى اَلْحَرَكَاتِ وَ اَلآْلَةِ بَصِيرٌ إِذْ لاَ مَنْظُورَ إِلَيْهِ مِنْ خَلْقِهِ مُتَوَحِّدٌ إِذْ لاَ سَكَنَ يَسْتَأْنِسُ بِهِ وَ لاَ يَسْتَوْحِشُ لِفَقْدِهِ

خلق العالم

أَنْشَأَ الْخَلْقَ إِنْشَاءً وابْتَدَأَه ابْتِدَاءً، بِلَا رَوِيَّةٍ أَجَالَهَا ولَا تَجْرِبَةٍ اسْتَفَادَهَا، ولَا حَرَكَةٍ أَحْدَثَهَا ولَا هَمَامَةِ نَفْسٍ اضْطَرَبَ فِيهَا، أَحَالَ الأَشْيَاءَ لأَوْقَاتِهَا

اس نے اسے کسی کے ضمن میں قرار دے دیا اور جس نے یہ کہا کہ وہ کس کے اوپر قائم ہے اسنے نیچے کا علاقہ خالی کرالیا۔ اس کی ہستی حادث نہیں ہے اور اس کا وجودعدم کی تاریکیوں سے نہیں نکلا ہے ۔وہ ہر شے کے ساتھ ہے لیکن مل کرنہیں ' اور ہر شے سے الگ ہے لیکن جدائی کی بنیادپر نہیں۔ وہ فاعل ہے لیکن حرکات و آلات کے ذریعہ نہیں اور وہ اس وقت بھی بصیر تھا جب دیکھی جانے والی مخلوق کا پتہ نہیں تھا۔وہ اپنی ذات میں بالکل اکیلا ہے اور اس کا کوئی ایسا ساتھی نہیں ہے جس کو پاکر انس محسوس کرے اور کھو کر پریشان ہو جانے کا احسان کرے۔

اس ن ے مخلوقات کو از غیب ایجاد کیا اور ان کی تخلیق کی ابدا کی بغیر کسی فکر کی جو لانی کے اور بغیر کسی تجربہ سے فائدہ اٹھائے ہوئے یا حرکت کی ایجاد کئے ہوئے یا نفس کے افکار کی الجھن میں پڑے ہوئے ۔

تما م اشیاء کو ان کے اوقات کے حوالے کردیا

ورنہ ہر غلط عقیدہ انسان کو ایک جہالت سے دوچار کردے گا اور ہر مہمل سوال کے نتیجہ میں معرفت سے شروع ہونے والا سلسلہ جہالت پر تمام ہوگا اور یہ بد بختی کی آخری منزل ہے۔ اس کی عظمت کے ساتھ اس نکتہ کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے کہ وہ جملہ اعمال کی نگرانی کر رہا ہے اور اپنی یکتائی میں کسی کے وہم و گمان کا محتاج نہیں ہے۔

تخلیق کائنات کے بارے میں اب تک جونظریات سامنے آئے ہیں' ان کا تعلق دو موضوعات سے ہے:

ایک موضوع یہ ہے کہ اس کائنات کا مادہ کیا ہے ؟ تمام عناصر اربعہ ہیں یا صرف آگ ہے یا صرف پانی سے یہ کائنات خلق ہوئی ہے یا کچھ دوسرے عناصر اربعہ بھی کارفرما تھے یا کسی گیس سے یہ کائنات پیدا ہوئی ہے یا کسی بھاپ اور کہرے نے اسے جنم دیا ہے؟ دوسرا موضوع یہ ہے کہ اس کی تخلیق دفعتاً ہوئی ہے یا یہ بتدریج عالم وجود میں آئی ہے اور اس کی عمردس ملین سال ہے یا ۶۰ ہزار ملین سال ہے؟

چنانچہ ہر شخص نے اپنے اندازہ کے مطابق ایک رائے قائم کی ہے اور اسی رائے کی بنا پراسے محقق کا درجہ دیا گیا ہے۔ حالانکہ حقیقت امر یہ ہے کہ اس قسم کے موضوعات میں تحقیق کا کوئیامکان نہیں ہے اور نہ کوئی حتمی رائے قائم کی جا سکتی ہے۔

۶

ولأَمَ بَيْنَ مُخْتَلِفَاتِهَا، وغَرَّزَ غَرَائِزَهَا وأَلْزَمَهَا أَشْبَاحَهَا، عَالِماً بِهَا قَبْلَ ابْتِدَائِهَا، مُحِيطاً بِحُدُودِهَا وانْتِهَائِهَا عَارِفاً بِقَرَائِنِهَا وأَحْنَائِهَا: ثُمَّ أَنْشَأَ سُبْحَانَه فَتْقَ الأَجْوَاءِ، وشَقَّ الأَرْجَاءِ وسَكَائِكَ الْهَوَاءِ، فَأَجْرَى فِيهَا مَاءً مُتَلَاطِماً تَيَّارُه ، مُتَرَاكِماً زَخَّارُه حَمَلَه عَلَى مَتْنِ الرِّيحِ الْعَاصِفَةِ، والزَّعْزَعِ الْقَاصِفَةِ فَأَمَرَهَا بِرَدِّه، وسَلَّطَهَا عَلَى شَدِّه وقَرَنَهَا إِلَى حَدِّه، الْهَوَاءُ مِنْ تَحْتِهَا فَتِيقٌ والْمَاءُ مِنْ فَوْقِهَا دَفِيقٌ ، ثُمَّ أَنْشَأَ سُبْحَانَه رِيحاً

اور پھر ان کے اختلاف میں تناسب پیدا کردیا سب کی طبیعتیں مقرر کردیں اور پھر انہیں شکلیں عطا کردیں۔اسے یہ تمام باتیں ایجاد کے پہلے سے معلوم تھیں اور وہ ان کے حدود اور ان کی انتہا کو خوب جانتا تھا۔اسے ہرشے کے ذاتی اطراف کا بھی علم تھا اوراس کے ساتھ شامل ہو جانے والی اشیاء کا بھی علم تھا۔

اس کے بعد اس نے فضا کی وسعتیں۔اس کے اطراف واکناف اورہوائوں کے طبقات ایجاد کئے اور ان کے درمیان وہ پانی بہا دیا جس کی لہروں میں تلاطم تھا اور جس کی موجیں تہ بہ تہ تھیں اور اسے ایک تیز و تند ہوا کے کاندھے پر لا د دیا اور پھر ہوا کو الٹنے پلٹنے اور روک کر رکھنے کا حکم دے دیا اور اس کی حدوں کو پانی کی حدوں سے یوں ملا دیا کے نیچے ہوا کی وستعیں تھیں اور اوپر پانی کا طلاطم۔

اس کے بعد ایک اور ہوا ایجاد کی جس

صرف اندازے میں جن پر ساراکاروبار چل رہا ہے اور ایسے ماحول میں ہر شخص کوایک نئی رائے قائم کرنے کاحق ہے اور کسی کو یہ چیلنج کرنے کا حق نہیں ہے کہ یہ رائے آلات اور وسائل سے پہلے کی ہے لہٰذا اس کی کوئی قیمت نہیں ہے امیر المومنین نے اصل کائنات پانی کو قرار دیا ہے اور اسی کی طرف قرآن مجید نے بھی اشارہ کیاہے اور آپ کی رائے دیگر آراء کے مقابلہ میں اس لئے بھی اہمیت رکھتی ہے کہ اس کی بنیاد تحقیق۔انکشاف 'تجربہ اور اندازہ پر نہیں ہے بلکہ یہ اس مالک کا دیا ہوا بے پناہ علم ہے جس نے اس کائنات کو بنایا ہے اورکھلی بات ہے کہ مالک سے زیادہ مخلوقات سے با خبر اور کون ہو سکتا ہے۔امیر المومنین نے اپنے بیان میں تین نکات کی طرف توجہ دلائی ہے:(۱) اصل کائنات پانی ہے اور پانی کو قابل استعمال ہوا نے بنایا ے۔(۲) اس فضائے بسیط کے تین رخ ہیں، بلندی جس کو اجواء کہا جاتا ہے اور اطراف جسے ارجاء سی تعبیر کیا جاتا ہے اور طبقات جنہیں سکائک کا نام دیا جاتا ہے۔عام طور سے علماء فلک کو اکب کے ہر مجموعہ کو سکہ کا نام دیتے ہیں جس می ایک ارب سے زیادہ ستارے پائے جاتے ہیں جس طرح کہ ہمارے اپنے نظام شمسی کا حال ہے کہ اس میں ایک ارب سے زیادہ ستاروں کا انکشاف کیا جا چکا ہے۔(۳) آسمانی مخلوقات میں ایک مزکزی شے ہے جسے اس کی حرکت کی بنا پرچراغ کہا جاتا ہے اورایک اس کے گرد حرکت کرنے والی زمین ہے اور ایک زمین کے گرد حرکت کرنے والا ستارہ ہے جسے قمر کہا جاتا ہے اورعلماء فلک اس تابع در تابع کو قمر کہتے ہیں کو کب نہیں کہتے ہیں

۷

اعْتَقَمَ مَهَبَّهَا ، وأَدَامَ مُرَبَّهَا وأَعْصَفَ مَجْرَاهَا، وأَبْعَدَ مَنْشَأَهَا فَأَمَرَهَا بِتَصْفِيقِ الْمَاءِ الزَّخَّارِ، وإِثَارَةِ مَوْجِ الْبِحَارِ فَمَخَضَتْه مَخْض السِّقَاءِ، وعَصَفَتْ بِه عَصْفَهَا بِالْفَضَاءِ، تَرُدُّ أَوَّلَه إِلَى آخِرِه وسَاجِيَه إِلَى مَائِرِه حَتَّى عَبَّ عُبَابُه ورَمَى بِالزَّبَدِ رُكَامُه ، فَرَفَعَه فِي هَوَاءٍ مُنْفَتِقٍ وجَوٍّ مُنْفَهِقٍ، فَسَوَّى مِنْه سَبْعَ سَمَوَاتٍ، جَعَلَ سُفْلَاهُنَّ مَوْجاً مَكْفُوفاً ، وعُلْيَاهُنَّ سَقْفاً مَحْفُوظاً وسَمْكاً مَرْفُوعاً، بِغَيْرِ عَمَدٍ يَدْعَمُهَا ولَا دِسَارٍ يَنْظِمُهَا ثُمَّ زَيَّنَهَا بِزِينَةِ الْكَوَاكِبِ وضِيَاءِ الثَّوَاقِبِ ، وأَجْرَى فِيهَا سِرَاجاً مُسْتَطِيراً وقَمَراً مُنِيراً، فِي فَلَكٍ دَائِرٍ وسَقْفٍ سَائِرٍ ورَقِيمٍ مَائِرٍ.

خلق الملائكة

ثُمَّ فَتَقَ مَا بَيْنَ السَّمَوَاتِ الْعُلَا،

کی حرکت میں کوئی تولیدی صلاحیت نہیں تھی اور اسے مرکز پر روک کراس کے جھونکوں کو تیز کردیا اور اس کے میدان کو وسیع تر بنادیا اور پھراسے حکم دیدیا کہ اس بحر زخار کو متھ ڈالے اور موجوں کو الٹ پلٹ کردے۔چنانچہ اس نے سارے پانی کو ایک مشکیزہ کی طف متھ ڈالا اوراسے فضائے بسیط میں اس طرح لے کرچلی کہ اول کو آخر پر الٹ دیا اور ساکن کو متحرک پر پلٹ دیا اور اسکے نتیجہ میں پانی کی ایک سطح بلند ہوگئی اور اس کے اوپر ایک جھاگ کی تہہ بن گئی۔پھر اس جھاگ کو پھیلی ہوئی ہوا اور کھلی ہوئی فضا میں بلند کردیا اوراس سے سات آسمان پیدا کردئیے جس کی نچلی سطح ایک ٹھہری ہوئی موج کی طرح تھی اور اوپر کا حصہ ایک محفوظ سقف اوربلند عمارت کے مانند تھا۔نہ اس کا کوئی ستون تھا جو سہارا دے سکے اور نہ کوئی بندھن تھا جو منظم کر سکے ۔پھر ان آسمانوں کو ستاروں کی زینت سے مزین کیا اور ان میں تا بندہ نجوم کی روشنی پھیلادی اور ان کے درمیان ایک ضوفگن چراغ اور ایک روشن ماہتاب رواں کردیا جس کی حرکت ایک گھومنے والے فلک اور ایک متحرک چھت اور جنبش کرنے والی تختی میں تھی۔

پھر اس نے بلند ترین آسمانوں کے درمیان شگاف پیدا کئے

۸

فَمَلأَهُنَّ أَطْوَاراً مِنْ مَلَائِكَتِه، مِنْهُمْ سُجُودٌ لَا يَرْكَعُونَ ورُكُوعٌ لَا يَنْتَصِبُونَ، وصَافُّونَ لَا يَتَزَايَلُونَ ومُسَبِّحُونَ لَا يَسْأَمُونَ، لَا يَغْشَاهُمْ نَوْمُ الْعُيُونِ ولَا سَهْوُ الْعُقُولِ، ولَا فَتْرَةُ الأَبْدَانِ ولَا غَفْلَةُ

النِّسْيَانِ، ومِنْهُمْ أُمَنَاءُ عَلَى وَحْيِه وأَلْسِنَةٌ إِلَى رُسُلِه، ومُخْتَلِفُونَ بِقَضَائِه وأَمْرِه، ومِنْهُمُ الْحَفَظَةُ لِعِبَادِه والسَّدَنَةُ لأَبْوَابِ جِنَانِه، ومِنْهُمُ الثَّابِتَةُ فِي الأَرَضِينَ السُّفْلَى أَقْدَامُهُمْ، والْمَارِقَةُ مِنَ السَّمَاءِ الْعُلْيَا أَعْنَاقُهُمْ، والْخَارِجَةُ مِنَ الأَقْطَارِ أَرْكَانُهُمْ، والْمُنَاسِبَةُ لِقَوَائِمِ الْعَرْشِ أَكْتَافُهُمْ،

اور انہیں طرح طرح کے فرشتوں سے بھر دیا

جن میں سے بعض سجدہ میں ہیں تو رکوع کی نوبت نہیں آتی ہے اور بعض رکوع میں ہیں تو سر نہیں اٹھاتے ہیں اور بعض صف باندھے ہوئے ہیں تو اپنی جگہ سے حرکت نہیں کرتے

ہیں بعض مشغول تسبیح ہیں تو خستہ حال نہیں ہوتے ہیں سب کے سب وہ ہیں کہ ان کی آنکھوں پر نیند کا غلبہ ہوتا ہے اورنہ عقلوں پر سہوو نسیان کا۔ نہ بدن میں سستی پیدا ہوتی ہے اور نہ دماغ میں نسیان کی غفلت۔

ان میں سے بعض کو وحی کا امین اور رسولوں کی طرف قدرت کی زبان بنایا گیا ہے جو اس کے فصیلوں اور احکام کو برابر لاتے رہتے ہیں اور کچھ اس کے بندوں کے محافظ اور جنت کے دروازوں کے دربان ہیں اور بعض وہ بھی ہیں جن کے قدم زمین کے آخری طبقہ میں ثابت ہیں اور گردنیں بلند ترین آسمانوں سے بھی باہرنکلی ہوئی ہیں۔ان کے اطراف بدن اقطار عالم سے وسیع تر ہیں اور ان کے کاندھے پایہ ہائے عرش کے اٹھانے کے قابل ہیں۔

۹

نَاكِسَةٌ دُونَه أَبْصَارُهُمْ مُتَلَفِّعُونَ تَحْتَه بِأَجْنِحَتِهِمْ، مَضْرُوبَةٌ بَيْنَهُمْ وبَيْنَ مَنْ دُونَهُمْ حُجُبُ الْعِزَّةِ، وأَسْتَارُ الْقُدْرَةِ، لَا يَتَوَهَّمُونَ رَبَّهُمْ بِالتَّصْوِيرِ،ولَا يُجْرُونَ عَلَيْه صِفَاتِ الْمَصْنُوعِينَ، ولَا يَحُدُّونَه بِالأَمَاكِنِ ولَا يُشِيرُونَ إِلَيْه بِالنَّظَائِرِ.

صفة خلق آدمعليه‌السلام

ثُمَّ جَمَعَ سُبْحَانَه مِنْ حَزْنِ الأَرْضِ وسَهْلِهَا، وعَذْبِهَا وسَبَخِهَا ، تُرْبَةً سَنَّهَا بِالْمَاءِ حَتَّى خَلَصَتْ، ولَاطَهَا بِالْبَلَّةِ حَتَّى لَزَبَتْ ، فَجَبَلَ مِنْهَا صُورَةً ذَاتَ أَحْنَاءٍ ووُصُولٍ وأَعْضَاءٍ، وفُصُولٍ أَجْمَدَهَا حَتَّى اسْتَمْسَكَتْ، وأَصْلَدَهَا حَتَّى صَلْصَلَتْ لِوَقْتٍ مَعْدُودٍ وأَمَدٍ مَعْلُومٍ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهَا مِنْ رُوحِه، فَمَثُلَتْ إِنْسَاناً

ان کی نگاہیں عرش الٰہی کے سامنے جھکی ہوئی ہیں اوروہ اس کے نیچے پروں کو سمیٹے ہوئے ہیں۔ان کے اور دیر مخلوقات کے درمیان عزت کے حجاب اور قدرت کے پردے حائل ہیں۔وہ اپنے پروردگار کے بارے میں شکل و صورت کا تص و ر بھی نہیں کرتے ہیں اور نہ اس کے حق میں مخلوقات کے صفات کو جاری کرتے ہیں۔وہ نہ اسے مکان میں محود کرتے ہیں اور نہ اس کی طرف اشباہ ونظائر سے اشارہ کرتے ہیں۔

تخلیق جناب آدم کی کیفیت

اس کے بعد پروردگار(۱) نے زمین کے سخت و نرم اور شورو شیریں حصوں سے خاک کو جمع کیا اور اسے پانی سے اس قدر بھگویا کہ بالکل خالص ہوگئی اور پھر تری میں اس قدر گوندھا کہ لسدار بن گئی اور اس سے ایک ایسی صورت بنائی جس میں موڑ بھی تھے اور جوڑ بھی۔اعضاء بھی تھے اور جوڑ بند بھی۔پھر اسے اس قدر سکھایا کہ مضبوط ہوگئیاور اس قدر سخت کیا کہ کنکھنانے لگی اور یہ صورت حال ایک وقت معین اور مدت خاص تک برقرار رہی جس کے بعد اس میں مالک نے اپنی روح کمال پھونک دی اور اسے ایسا انسان بنادیا

(۱) انسان کی کمزوری کے سلسلہ میں اتنا ہی کافی ہے کہ اسے اپنی اصل کے بارے میں اتنا بھی معلوم نہیں ہے جتنا دوسری مخلوقات کے بارے میں علم ہے۔وہ نہ اپنے مادہ کی اصل سے با خبر ہے اورنہ اپنی رو ح کی حقیقت سے۔مالک نے اسے متضاد عناصر سے ایسا جامع بنادیا ہے کہ جسم صغیرمیں عالم اکبر سما گیا ہے اور بقول شخصے اس میں جمادات جیسا کون و فساد، نباتات جیسا نمو حیوان جیسی حرکت اور ملائکہ جیسی اطاعت و حیات سے پائی جاتی ہے اوراوصاف کے اعتبار سے بھی اس میں کتے جیسی خوشامد' مکرڑی جیسے تانے بانے، قنفذ جیسے اسلحے، پرندوں جیسا تحفظ، حشر ات الارض جیسا تحفظ' ہرن جیسی اچھل کود، چوہے ،چوہے جیسی چوری، مور جیسا غرور'اونٹ جیسا کینہ، خچر جیسی شرارت'بلبل جیسا ترنم' بچھو جیسا ڈنگ سب کچھ پایا جاتا ہے

۱۰

ذَا أَذْهَانٍ يُجِيلُهَا، وفِكَرٍ يَتَصَرَّفُ بِهَا وجَوَارِحَ يَخْتَدِمُهَا ، وأَدَوَاتٍ يُقَلِّبُهَا ومَعْرِفَةٍ يَفْرُقُ بِهَا بَيْنَ الْحَقِّ والْبَاطِلِ، والأَذْوَاقِ والْمَشَامِّ والأَلْوَانِ والأَجْنَاسِ، مَعْجُوناً بِطِينَةِ الأَلْوَانِ الْمُخْتَلِفَةِ، والأَشْبَاه الْمُؤْتَلِفَةِ والأَضْدَادِ الْمُتَعَادِيَةِ، والأَخْلَاطِ الْمُتَبَايِنَةِ مِنَ الْحَرِّ والْبَرْدِ، والْبَلَّةِ والْجُمُودِ، واسْتَأْدَى اللَّه سُبْحَانَه الْمَلَائِكَةَ وَدِيعَتَه لَدَيْهِمْ، وعَهْدَ وَصِيَّتِه إِلَيْهِمْ فِي الإِذْعَانِ بِالسُّجُودِ لَه، والْخُنُوعِ لِتَكْرِمَتِه، فَقَالَ سُبْحَانَه:( اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ ) ، اعْتَرَتْه الْحَمِيَّةُ، وغَلَبَتْ عَلَيْه الشِّقْوَةُ، وتَعَزَّزَ بِخِلْقَةِ النَّارِ واسْتَوْهَنَ خَلْقَ الصَّلْصَالِ، فَأَعْطَاه اللَّه النَّظِرَةَ اسْتِحْقَاقاً لِلسُّخْطَةِ، واسْتِتْمَاماً لِلْبَلِيَّةِ وإِنْجَازاً لِلْعِدَةِ، فَقَالَ:( فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِينَ إِلى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ ) .

ثُمَّ أَسْكَنَ سُبْحَانَه آدَمَ دَاراً أَرْغَدَ فِيهَا، عَيْشَه وآمَنَ فِيهَا مَحَلَّتَه وحَذَّرَه إِبْلِيسَ وعَدَاوَتَه،

.

جس میں ذہن کی جولانیاں بھی تھیں اورفکر کے تصرفات بھی۔کام کرنے والے اعضاء و جوارح بھی تھے اور حرکت کرنے والے ادوات و آلات بھی حق و باطل میں فرق کرنے والی معرفت بھی تھی اورمختلف ذائقوں ' خوشبووں' رنگ و روغن میں تمیز کرنے کی صلاحیت بھی۔ اسے مختلف قسم کی مٹی سے بنایا گیا جس میں موافق اجزاء بھی پائے جاتے تھے اورمتضاد و عناصربھی اور گرمی ' سردی' تری خشکی جیسے کیفیات بھی۔ پھر پروردگار نے ملائکہ سے مطالبہ کیا کہ اس کی امانت کو واپس کریں اور اس کی معہودہ وصیت پرعمل کریں یعنی اس مخلوق کے سامنے سر جھکادیں اور اس کی کرامت کا اقرار کرلیں۔چنانچہ اس نے صاف صاف اعلان کردیا کہ آدم کو سجدہ کرو اور سب نے سجدہ بھی کرلیا سوائے ابلیس کے کہ اسے تعصب نے گھیر لیااور بد بختی غالب آگئی اور اس نے آگ کی خلقت کو وجہ عزت اور خاک کی خلقت کو وجہ ذلت قراردے دیا۔مگر پروردگار نے اسے غضب الٰہی کے مکمل استحقاق ،آزمائش کی تکمیل اور اپنے وعدہ کو پورا کرنے کے لئے یہ کہہ کر مہلت دے دی کہ'' تجھے روز وقت معلوم تک کے لئے مہلت دی جا رہی ہے''۔

اس کے بعد پروردگار نے آدم کو ایک ایسے گھرمیں ساکن کردیا جہاں کی زندگی خوش گوار اور مامون و محفوظ تھی اور پھر انہیں ابلیس اور اس کی عداوت سے بھی با خبر کردیا۔

۱۱

فَاغْتَرَّه عَدُوُّه نَفَاسَةً عَلَيْه بِدَارِ الْمُقَامِ، ومُرَافَقَةِ الأَبْرَارِ، فَبَاعَ الْيَقِينَ بِشَكِّه والْعَزِيمَةَ بِوَهْنِه، واسْتَبْدَلَ بِالْجَذَلِ وَجَلًا وبِالِاغْتِرَارِ نَدَماً، ثُمَّ بَسَطَ اللَّه سُبْحَانَه لَه فِي تَوْبَتِه، ولَقَّاه كَلِمَةَ رَحْمَتِه ووَعَدَه الْمَرَدَّ إِلَى جَنَّتِه، وأَهْبَطَه إِلَى دَارِ الْبَلِيَّةِ وتَنَاسُلِ الذُّرِّيَّةِ.

اختيار الأنبياء

واصْطَفَى سُبْحَانَه مِنْ وَلَدِه أَنْبِيَاءَ، أَخَذَ عَلَى الْوَحْيِ مِيثَاقَهُمْ وعَلَى تَبْلِيغِ الرِّسَالَةِ أَمَانَتَهُمْ، لَمَّا بَدَّلَ أَكْثَرُ خَلْقِه عَهْدَ اللَّه إِلَيْهِمْ، فَجَهِلُوا حَقَّه واتَّخَذُوا الأَنْدَادَ مَعَه، واجْتَالَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ عَنْ مَعْرِفَتِه، واقْتَطَعَتْهُمْ عَنْ عِبَادَتِه فَبَعَثَ فِيهِمْ رُسُلَه، ووَاتَرَ إِلَيْهِمْ أَنْبِيَاءَه لِيَسْتَأْدُوهُمْ مِيثَاقَ فِطْرَتِه، ويُذَكِّرُوهُمْ مَنْسِيَّ نِعْمَتِه، ويَحْتَجُّوا عَلَيْهِمْ بِالتَّبْلِيغِ، ويُثِيرُوا لَهُمْ دَفَائِنَ الْعُقُولِ، ويُرُوهُمْ آيَاتِ الْمَقْدِرَةِ،

مِنْ سَقْفٍ فَوْقَهُمْ مَرْفُوعٍ

لیکن دشمن نے ان کے جنت کے قیام اورنیک بندوں کی رفاقت سے جل کر انہیں دھوکہ دے دیا اور انہو ں نے بھی اپنے یقین محکم کو شک اور عزم مستحکم کو کمزوری کے ہاتھوں فروخت کردیا اور اس طرح مسرت کے بدلے خوف کو لے لیا اورابلیس کے کہنے میں آکر ندامت کا سامان فراہم کرلیا۔پھر پروردگار نے ان کے لئے توبہ کا سامان فراہم کردیا اور اپنے کلمات رحمت کی تلقن کردی اور ان سے جنت میں واپسی کاوعدہ کرکے انہیں آزمائش کی دنیامیں اتار دیا جہاں نسلوں کا سلسلہ قائم ہونے والا تھا۔

انبیاء کرام کا انتخاب

اس کے بعد اس نے ان کی اولاد میں سے ان انبیاء کا انتخاب کیا جن سے وحی کی حفاظت اور پیغام کی تبلیغ کی امانت کا عہد لیا اس لئے کہ اکثر مخلوقات نے عہد الٰہی کو تبدیل کر دیا تھا۔اس کے حق سے نا واقف ہوگئے تھے۔اس کے ساتھ دوسرے خدا بنالئے تھے اور شیطان نے انہیں معرفت کی راہ سے ہٹا کر عبادت سے یکسر جدا کردیا تھا۔ پروردگار نے ان کے درمیان رسول بھیجے۔ انبیاء کا تسلسل قائم کیا تاکہ وہ ان سے فطرت کی امانت کو واپس لیں اور انہیں بھولی ہوئی نعمت پروردگار کویاد دلائیں تبلیغ کے ذریعہ ان پر اتمام حجت کریں اور ان کی عقل کے دفینوں کوباہرلائیں اور انہیں قدرت الٰہی کی نشانیاں دکھلائیں۔ یہ سروں پر بلند ترین چھت۔

۱۲

ومِهَادٍ تَحْتَهُمْ مَوْضُوعٍ، ومَعَايِشَ تُحْيِيهِمْ وآجَالٍ تُفْنِيهِمْ وأَوْصَابٍ تُهْرِمُهُمْ، وأَحْدَاثٍ تَتَابَعُ عَلَيْهِمْ، ولَمْ يُخْلِ اللَّه سُبْحَانَه خَلْقَه مِنْ نَبِيٍّ مُرْسَلٍ، أَوْ كِتَابٍ مُنْزَلٍ أَوْ حُجَّةٍ لَازِمَةٍ أَوْ مَحَجَّةٍ قَائِمَةٍ، رُسُلٌ لَا تُقَصِّرُ بِهِمْ قِلَّةُ عَدَدِهِمْ، ولَا كَثْرَةُ الْمُكَذِّبِينَ لَهُمْ، مِنْ سَابِقٍ سُمِّيَ لَه مَنْ بَعْدَه،

أَوْ غَابِرٍ عَرَّفَه مَنْ قَبْلَه عَلَى ذَلِكَ نَسَلَتِ الْقُرُونُ ومَضَتِ الدُّهُورُ، وسَلَفَتِ الآبَاءُ وخَلَفَتِ الأَبْنَاءُ.

مبعث النبي

إِلَى أَنْ بَعَثَ اللَّه سُبْحَانَه مُحَمَّداً، رَسُولَ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله لإِنْجَازِ عِدَتِه وإِتْمَامِ نُبُوَّتِه، مَأْخُوذاً عَلَى النَّبِيِّينَ مِيثَاقُه، مَشْهُورَةً سِمَاتُه كَرِيماً مِيلَادُه، وأَهْلُ الأَرْضِ يَوْمَئِذٍ مِلَلٌ مُتَفَرِّقَةٌ، وأَهْوَاءٌ مُنْتَشِرَةٌ وطَرَائِقُ مُتَشَتِّتَةٌ، بَيْنَ مُشَبِّه لِلَّه بِخَلْقِه أَوْ مُلْحِدٍ فِي اسْمِه، أَوْ مُشِيرٍ إِلَى غَيْرِه، فَهَدَاهُمْ بِه مِنَ الضَّلَالَةِ وأَنْقَذَهُمْ بِمَكَانِه مِنَ الْجَهَالَةِ، ثُمَّ اخْتَارَ سُبْحَانَه لِمُحَمَّدٍصلى‌الله‌عليه‌وآله لِقَاءَه، ورَضِيَ لَه مَا عِنْدَه وأَكْرَمَه عَنْ دَارِ الدُّنْيَا،

یہ زیر قدم گہوارہ۔یہ زندگی کے اسباب۔یہ فنا کرنے والی اجل۔یہ بوڑھا بنا دینے والے امراض اور یہ پے پر دپے پیشآنے والے حادثات

اس نے کبھی اپنی مخلوقات کو بنی مرسل یا کتاب منزل یا حجت لازم یا طریق واضح سے محروم نہیں رکھا ہے۔ ایسے رسول بھیجے ہیں جنہیں نہ عدد کی قلت کام سے روک سکتی تھی اورنہ جھٹلانے والوں کی کثرت۔ان میں جو پہلے تھا اس بعد والے کا حال معلوم تھا اور جو بعد میں آیا اسے پہلے والے نے پہنچوادیا تھا اور یوں ہی صدیاں گزرتی رہیں اور زمانے بیتتے رہے۔آباء و اجداد جاتے رہے اور اولاد و احفاد آتے رہے۔

بعثت رسول اکرم (ص)

یہاں تک کہ مالک نے اپنے وعدہ کو پورا کرنے اور اپنے نبوت کو مکمل کرنے کے لئے حضرت محمد(ص) کو بھیج دیا جن کے بارے میں انبیاء سے عہد لیا جا چکا تھا اور جن کی علامتیں مشہور اور ولادت مسعود و مبارک تھی۔اس وقت اہل زمین متفرق مذاہب'منتشر خواہشات اورمختلف راستوں پر گامزن تھے۔کوئی خدا کو مخلوقات کی شبیہ بتا رہا تھا۔کوئی اس کے ناموں کوبگاڑ رہا تھا۔اور کوئی دوسرے خدا کا اشارہ دے رہا تھا۔مالک نے آپ کے ذریعہ سب کو گمراہی سے ہدایت دی اورجہالت سے باہر نکال لیا۔

اس کے بعد اس نے آپ کی ملاقات کو پسند کیا اور انعامات سے نوازنے کے لئے اس دار دنیا سے بلند کرلیا۔

۱۳

ورَغِبَ بِه عَنْ مَقَامِ الْبَلْوَى، فَقَبَضَه إِلَيْه كَرِيماً، وخَلَّفَ فِيكُمْ مَا خَلَّفَتِ الأَنْبِيَاءُ فِي أُمَمِهَا، إِذْ لَمْ يَتْرُكُوهُمْ هَمَلًا بِغَيْرِ طَرِيقٍ وَاضِحٍ ولَا عَلَمٍ قَائِمٍ

القرآن والأحكام الشرعية

كِتَابَ رَبِّكُمْ فِيكُمْ مُبَيِّناً حَلَالَه وحَرَامَه، وفَرَائِضَه وفَضَائِلَه ونَاسِخَه ومَنْسُوخَه ورُخَصَه وعَزَائِمَه وخَاصَّه وعَامَّه، وعِبَرَه وأَمْثَالَه ومُرْسَلَه ومَحْدُودَه ومُحْكَمَه ومُتَشَابِهَه مُفَسِّراً مُجْمَلَه ومُبَيِّناً غَوَامِضَه، بَيْنَ مَأْخُوذٍ مِيثَاقُ عِلْمِه ومُوَسَّعٍ

عَلَى الْعِبَادِ فِي جَهْلِه، وبَيْنَ مُثْبَتٍ فِي الْكِتَابِ فَرْضُه، ومَعْلُومٍ فِي السُّنَّةِ نَسْخُه، ووَاجِبٍ فِي السُّنَّةِ أَخْذُه، ومُرَخَّصٍ فِي الْكِتَابِ تَرْكُه، وبَيْنَ وَاجِبٍ بِوَقْتِه وزَائِلٍ فِي مُسْتَقْبَلِه، ومُبَايَنٌ بَيْنَ مَحَارِمِه مِنْ كَبِيرٍ أَوْعَدَ عَلَيْه نِيرَانَه، أَوْ صَغِيرٍ أَرْصَدَ لَه غُفْرَانَه، وبَيْنَ مَقْبُولٍ فِي أَدْنَاه مُوَسَّعٍ فِي أَقْصَاه.

آپ کو مصائب سے نجات دلادی اور نہایت احترام سے اپنی بارگاہ میں طلب کرلیا اور امت میں ویسا ہی انتظام کردیا جیسا کہ دیگر انبیاء نے کیا تھا کہ انہوں نے بھی قوم کو لاوارث نہیں چھوڑا تھا جس کے لئے کوئی واضح راستہ اورمستحکم نشان نہ ہو۔

قرآن اور احکام شرعیہ

انہوں نے تمہارے درمیان تمہارے پروردگار کی کتاب کو چھوڑا ہے جس کے حلال و حرام۔ فرائض و فضائل ناسخ و منسوخ۔رخصت و عزیمت۔خاص و عام۔عبرت و امثال ۔مطلق و مقید۔محکم و متشابہ سب کو واضح کردیا تھا۔مجمل کی تفسیرکردی تھی گتھیوں کو سلجھا دیاتھا۔اس میں بعض آیات ہیں جن کے علم کا عہد لیا گیا ہے اور بعض سے نا واقفیت کومعاف کردیا گیا ہے۔بعض احکام کے فرض کا کتاب میں ذکر کیا گیا ہے اور سنت سے ان کے منسوخ ہونے کا علم حاصل ہوا ہے یا سنت میں ان کے وجوب کا ذکرہوا ہے جب کہ کتاب میں ترک کرنے کی آزادی کا ذکرتھا۔بعض احکام ایک وقت میں واجب ہوئے ہیں اور مستقبل میں ختم کردئیے گئے ہیں۔اس کے محرمات میں بعض پر جہنم کی سزا سنائی گئی ہے اور بعض گناہ صغیرہ ہیں جن کی بخشش کی امید دلائی گئی ہے۔بعض احکام ہیں جن کا مختصر بھی قابل قبول ہے اور زیادہ کی بھی گنجائش پائی جاتی ہے۔

۱۴

ومنها في ذكر الحج

وفَرَضَ عَلَيْكُمْ حَجَّ بَيْتِه الْحَرَامِ، الَّذِي جَعَلَه قِبْلَةً لِلأَنَامِ، يَرِدُونَه وُرُودَ الأَنْعَامِ ويَأْلَهُونَ إِلَيْه وُلُوه الْحَمَامِ، وجَعَلَه سُبْحَانَه عَلَامَةً لِتَوَاضُعِهِمْ لِعَظَمَتِه، وإِذْعَانِهِمْ لِعِزَّتِه، واخْتَارَ مِنْ خَلْقِه سُمَّاعاً أَجَابُوا إِلَيْه دَعْوَتَه، وصَدَّقُوا كَلِمَتَه ووَقَفُوا مَوَاقِفَ أَنْبِيَائِه، وتَشَبَّهُوا بِمَلَائِكَتِه الْمُطِيفِينَ بِعَرْشِه، يُحْرِزُونَ الأَرْبَاحَ فِي مَتْجَرِ عِبَادَتِه، ويَتَبَادَرُونَ عِنْدَه مَوْعِدَ مَغْفِرَتِه، جَعَلَه سُبْحَانَه وتَعَالَى لِلإِسْلَامِ عَلَماً، ولِلْعَائِذِينَ حَرَماً فَرَضَ حَقَّه وأَوْجَبَ حَجَّه، وكَتَبَ عَلَيْكُمْ وِفَادَتَه ، فَقَالَ سُبْحَانَه:( ولِلَّه عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطاعَ إِلَيْه سَبِيلًا، ومَنْ كَفَرَ فَإِنَّ الله غَنِيٌّ عَنِ الْعالَمِينَ )

ذکر حج بیت اللہ

پروردگار نے تم لوگوں پر حج بیت الحرام کو واجب قرار دیا ہے جسے لوگوں کے لئے قبلہ بنایا ہے اور جہاں لوگ پیاسے جانوروں کی طرح بے تابانہ وارد ہوتے ہیں اورویسا انس رکھتے ہیں جیسے کبوتر اپنے آشیانہ سے رکھتا ہے۔ ح ج بییت اللہ کو مالک نے اپنی عظمت کے سامنے جھکنے کی علامت اور اپنی عزت کے ایقان کی نشانی قراردیا ہے۔اس نے مخلوقات میں سے ان بندوں کا انتخاب کیا ہے جواس کی آواز سن کرلبیک کہتے ہیں اوراس کے کلمات کی تصدیق کرتے ہیں۔انہوں نے انبیاء کے مواقف ہیں وقوف کیا ہے اور طواف عرش کرنے والے فرشتوں کا انداز اختیار کیا ہے۔یہ لوگ اپنی عبادت کے معاملہ میں برابر فائدے حاصل کر رہے ہیں اورمغفرت کی وعدہ گاہ کی طرف تیزی سے سبقت کر رہے ہیں۔

پروردگار نے کعبہ کو اسلام کی نشانی اور بے پناہ افراد کی پناہ گاہ قرار دیا ہے۔اس کے حج کو فرض کیا ہے اور اس کے حق کو واجب قرار دیا ہے۔تمہارے اوپر اس گھر کی حاضری کو لکھ دیا ہے اور صاف اعلان کردیا ہے کہ'' اللہ کے لئے لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ اس کے گھر کا حج کریں جس کے پاس بھی اس راہ کو طے کرنے کی استطاعت پائی جاتی ہو۔ اور جس نے انکار کیا تو اللہ تعالی عالمین سے بے نیاز ہے

۱۵

(۲)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

بعد انصرافه من صفين

وفيها حال الناس قبل البعثة وصفة آل النبي ثم صفة قوم آخرين

أَحْمَدُه اسْتِتْمَاماً لِنِعْمَتِه واسْتِسْلَاماً لِعِزَّتِه، واسْتِعْصَاماً مِنْ مَعْصِيَتِه، وأَسْتَعِينُه فَاقَةً إِلَى كِفَايَتِه، إِنَّه لَا يَضِلُّ مَنْ هَدَاه ولَا يَئِلُ مَنْ عَادَاه، ولَا يَفْتَقِرُ مَنْ كَفَاه، فَإِنَّه أَرْجَحُ مَا وُزِنَ وأَفْضَلُ مَا خُزِنَ، وأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَحْدَه لَا شَرِيكَ لَه، شَهَادَةً مُمْتَحَناً إِخْلَاصُهَا مُعْتَقَداً مُصَاصُهَا، نَتَمَسَّكُ بِهَا أَبَداً مَا أَبْقَانَا، ونَدَّخِرُهَا لأَهَاوِيلِ مَا يَلْقَانَا، فَإِنَّهَا عَزِيمَةُ الإِيمَانِ وفَاتِحَةُ الإِحْسَانِ، ومَرْضَاةُ الرَّحْمَنِ ومَدْحَرَةُ الشَّيْطَانِ

(۲)

صفیں سے واپسی پرآپ کے خطبہ کا ایک حصہ

جس میں بعثت پیغمبر(ص) کے وقت لوگوں کے حالات' آل رسول (ص) کے اوصاف اور دوسرے افراد کے کیفیات کاذکر کیا گیا ہے۔

میں پروردگار کی حمد کرتا ہوں اس کی نعمتوں کی تکمیل کے لئے اور اس کی عزت کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے۔ میں اس کی نا فرمانی سے تحفظ چاہتا ہوں اور اس سے مدد مانگتا ہوں کہ میں اسی کی کفایت و کفالت کا محتاج ہوں۔وہ جسے ہدایت دیدے وہ گمراہ نہیں ہو سکتا ہے اور جس کا وہ دشمن ہو جائے اسے کہیں پناہ نہیں مل سکتی ہے۔

جس کے لئے وہ کافی ہو جائے وہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔اس حمد کا پلہ ہر باوزن شے سے گراں تر ہے اور یہ سرمایہ ہرخزانہ سے زیادہ قیمتی ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے۔اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور یہ وہ گواہی ہے جس کے اخلاص کا امتحان ہو چکا ہے اور جس کا نچوڑ عقیدہ کا جزء بن چکا ہے۔میں اس گواہی سے تا حیات وابستہ رہوں گا اور اسی کو روز قیامت کے ہولناک مراحل کے لئے ذخیرہ بنائوں گا۔یہی ایمان کی مستحکم بنیاد ہے اوریہی نیکیوں کا آغاز ہے اور اسی میں رحمان کی مرضی اور شیطان کی تباہی کا راز مضمر ہے۔

۱۶

وأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُه ورَسُولُه، أَرْسَلَه بِالدِّينِ الْمَشْهُورِ والْعَلَمِ الْمَأْثُورِ، والْكِتَابِ الْمَسْطُورِ والنُّورِ السَّاطِعِ، والضِّيَاءِ اللَّامِعِ والأَمْرِ الصَّادِعِ، إِزَاحَةً لِلشُّبُهَاتِ واحْتِجَاجاً بِالْبَيِّنَاتِ، وتَحْذِيراً بِالآيَاتِ وتَخْوِيفاً بِالْمَثُلَاتِ ، والنَّاسُ فِي فِتَنٍ انْجَذَمَ فِيهَا حَبْلُ الدِّينِ، وتَزَعْزَعَتْ سَوَارِي الْيَقِينِ ، واخْتَلَفَ النَّجْرُ وتَشَتَّتَ الأَمْرُ، وضَاقَ الْمَخْرَجُ وعَمِيَ الْمَصْدَرُ، فَالْهُدَى خَامِلٌ والْعَمَى شَامِلٌ، عُصِيَ الرَّحْمَنُ ونُصِرَ الشَّيْطَانُ وخُذِلَ الإِيمَانُ، فَانْهَارَتْ دَعَائِمُه وتَنَكَّرَتْ مَعَالِمُه، ودَرَسَتْ

سُبُلُه وعَفَتْ شُرُكُه ، أَطَاعُوا الشَّيْطَانَ فَسَلَكُوا مَسَالِكَه ووَرَدُوا مَنَاهِلَه ، بِهِمْ سَارَتْ أَعْلَامُه وقَامَ لِوَاؤُه فِي فِتَنٍ دَاسَتْهُمْ بِأَخْفَافِهَا ووَطِئَتْهُمْ بِأَظْلَافِهَا ، وقَامَتْ عَلَى سَنَابِكِهَا فَهُمْ فِيهَا تَائِهُونَ حَائِرُونَ جَاهِلُونَ مَفْتُونُونَ، فِي خَيْرِ دَارٍ وشَرِّ جِيرَانٍ، نَوْمُهُمْ سُهُودٌ وكُحْلُهُمْ دُمُوعٌ، بِأَرْضٍ عَالِمُهَا مُلْجَمٌ وجَاهِلُهَا مُكْرَمٌ.

اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد(ص) اللہ کے بندہ اور اس کے رسول ہیں۔انہیں پروردگار نے مشہور دین' ماثور نشانی' روشن کتاب' ضیاء پاش نور' چمکدار روشنی اور واضح امر کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ شبہات زائل ہو جائیں اور دلائل کے ذریعہ حجت تمام کی جاسکے' آیات کے ذریعہ ہو شیار بنایا جا سکے اورمثالوں کے ذریعہ ڈرایا جا سکے۔

یہ بعثت اس وقت ہوئی ہے جب لوگ ایسے فتنوں میں مبتلا تھے جن سے ریسمان دین ٹوٹ چکی تھی۔یقین کے ستون ہل گئے تھے۔اصول میں شدید اختلاف تھا اور امور میں سخت انتشار۔مشکلات سے نکلنے کے راستے تنگ و تاریک ہوگئے تھے۔ہدایت گمنام تھی اور گمراہی برسر عام۔،رحمان کی معصیت ہو رہی تھی اور شیطان کی نصرت' ایمان یکسر نظر انداز ہوگیا تھا' اس کے ستون گر گئے تھے اورآثار ناقابل شناخت ہوگئے تھے' راستے مٹ گئے تھے اور شاہراہیں بے نشان ہوگئی تھیں۔لوگ شیطان کی اطاعت میں اس کے راستہ پر چل رہے تھے۔ یہ لوگ ایسے فتنوں میں مبتلا تھے جنہوں نے انہیں پیروں تلے روند دیا تھا اور سموں سے کچل دیا تھا اور خود اپنے پنجوں کے بل کھڑے ہوگئے تھے۔یہ لوگ فتنوں میں حیران و سر گرداں اور جاہل و فریب خوردہ تھے۔ پروردگار نے انہیں اس گھر ( مکہ) میں بھیجا جو بہترین مکان تھا لیکن بدترین ہمسائے۔جن کی نیند بیداری تھی اور جن کا سرمہ آنسو۔ وہ سر زمین جہاں عالم کو لگام لگی ہوئی تھی اور جاہل محترم تھا

۱۷

ومنها يعني آل النبي عليه الصلاة والسلام

هُمْ مَوْضِعُ سِرِّه ولَجَأُ أَمْرِه وعَيْبَةُ عِلْمِه ومَوْئِلُ حُكْمِه، وكُهُوفُ كُتُبِه وجِبَالُ دِينِه، بِهِمْ أَقَامَ انْحِنَاءَ ظَهْرِه وأَذْهَبَ ارْتِعَادَ فَرَائِصِه

ومِنْهَا يَعْنِي قَوْماً آخَرِينَ

زَرَعُوا الْفُجُورَ وسَقَوْه الْغُرُورَ وحَصَدُوا الثُّبُورَ، لَا يُقَاسُ بِآلِ مُحَمَّدٍصلى‌الله‌عليه‌وآله مِنْ هَذِه الأُمَّةِ أَحَدٌ، ولَا يُسَوَّى بِهِمْ مَنْ جَرَتْ نِعْمَتُهُمْ عَلَيْه أَبَداً، هُمْ أَسَاسُ الدِّينِ وعِمَادُ الْيَقِينِ، إِلَيْهِمْ يَفِيءُ الْغَالِي وبِهِمْ يُلْحَقُ التَّالِي، ولَهُمْ خَصَائِصُ حَقِّ الْوِلَايَةِ، وفِيهِمُ الْوَصِيَّةُ والْوِرَاثَةُ، الآنَ إِذْ رَجَعَ الْحَقُّ إِلَى أَهْلِه ونُقِلَ إِلَى مُنْتَقَلِه!

آل رسول اکرم (ص)

یہ لوگ راز الٰہی کی منزل اورامر دین کا ملجاء و ماویٰ ہیں۔یہی علم خداکے مرکز اورحکم خداکی پناہ گاہ ہیں۔کتابوں نے یہیں پناہ لی ہے اور دین کے یہی کوہ گراں ہیں۔انہیں کے ذریعہ پرورگار نے دین کی پشت کی کجی سیدھی کی ہے اور انہیں کےذریعہ اس کے جوڑ بند کے رعشہ کا علاج کیا ہے ۔

ایک دوسری قوم

ان لوگوں نے فجور کا بیج بویا ہے اور اسے غرور کے پانی سے سینچا ہے اور نتیجہ میں ہلاکت کو کاٹاہے۔یادرکھو کہ آل محمد(ص) پر اس امت میں کس کا قیاس نہیں کیا جا سکتا ہے اور نہ ان لوگوں کو ان کے بر قرار دیا جا سکتا ہے جن پر ہمیشہ ان کی نعمتوں کا سلسلہ جاری رہا ہے۔

آل محمد(ص) دین کی اساس اوریقین کا ستون ہیں۔ ان سے آگے بڑھ جانے والا پلٹ کرانہیں کی طرف آتا ہے اور پیچھے رہ جانے والا بھی انہیں سے آکر ملتا ہے۔ان کے پاس حق و لایت کے خصوصیات ہیں اور انہیں کے درمیان

پیغمبر(ص) کی وصیت اور ان کی وراثت ہے۔اب جب کہ حق اپنے اہل کے پاس واپس آگیا ہے اور اپنی منزل کی طرف منتقل ہوگیا ہے۔

۱۸

(۳)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وهي المعروفة بالشقشقية

وتشتمل على الشكوى من أمر الخلافة ثم ترجيح صبره عنها ثم مبايعة الناس له

أَمَا واللَّه لَقَدْ تَقَمَّصَهَا فُلَانٌ وإِنَّه لَيَعْلَمُ أَنَّ مَحَلِّي مِنْهَا مَحَلُّ الْقُطْبِ مِنَ الرَّحَى، يَنْحَدِرُ عَنِّي السَّيْلُ ولَا يَرْقَى إِلَيَّ الطَّيْرُ، فَسَدَلْتُ دُونَهَا ثَوْباً وطَوَيْتُ عَنْهَا كَشْحاً وطَفِقْتُ أَرْتَئِي بَيْنَ أَنْ أَصُولَ بِيَدٍ جَذَّاءَ أَوْ أَصْبِرَ عَلَى طَخْيَةٍ عَمْيَاءَ ، يَهْرَمُ فِيهَا الْكَبِيرُ ويَشِيبُ فِيهَا الصَّغِيرُ، ويَكْدَحُ فِيهَا مُؤْمِنٌ حَتَّى يَلْقَى رَبَّه،

ترجيح الصبر

فَرَأَيْتُ أَنَّ الصَّبْرَ عَلَى هَاتَا أَحْجَى فَصَبَرْتُ وفِي الْعَيْنِ قَذًى وفِي الْحَلْقِ شَجًا أَرَى تُرَاثِي نَهْباً حَتَّى مَضَى الأَوَّلُ لِسَبِيلِه، فَأَدْلَى بِهَا إِلَى فُلَانٍ بَعْدَه، ثُمَّ تَمَثَّلَ بِقَوْلِ الأَعْشَى:

شَتَّانَ مَا يَوْمِي عَلَى كُورِهَا

ويَوْمُ حَيَّانَ أَخِي جَابِرِ

فَيَا عَجَباً بَيْنَا هُوَ يَسْتَقِيلُهَا فِي حَيَاتِه، إِذْ عَقَدَهَا لِآخَرَ بَعْدَ وَفَاتِه

(۳)

آپ کے ایک خطبہ کا حصہ

جسے شقشقیہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے

آگاہ ہو جائو کہ خداکی قسم فلاں شخص ( ابن ابی قحافہ) نے قمیص خلافت کو کھینچ تان کر پہن لیا ہے حالانکہ اسے معلوم ہے کہ خلات کی چکی کے لئے میری حیثیت مرکزی کیل کی ہے۔علم کا سیلاب میری ذات سے گزر کرنیچے جاتا ہے اور میری بلندی تک کسی کا طائر فکر بھی پرواز نہیں کر سکتا ہے۔پھر بھی میں نے خلافت کے آگے پردہ ڈا ل دیا اور اس سے پہلے تہی کرلی اوریہ سوچنا شروع کردیا کہ کٹے ہوئے ہاتھوں سے حملہ کردوں یا اسی بھیانک اندھیرے پرصبر کرلوں جس میں سن رسیدہ بالکل ضعیف ہو جائے اوربچہ بوڑھا ہو جائے اور مومن محنت کرتے کرتے خدا کی بارگاہ تک پہنچ جائے۔

تو میں نے دیکھا کہ ان حالات میں صبر ہی قرین عقل ہے تو میں نے اس عالم میں صبر کرلیا کہ آنکھوں میں مصائب کی کھٹک تھی اورگلے میں رنج و غم کے پھندے تھے۔میں اپنی میراث کو لٹتے دیکھ رہا تھا ۔یہاں تک کہ پہلے خلیفہ نے اپنا راستہ لیا اور خلافت کو اپنے بعد فلاں کے حوالے کردیا بقول اعشی:''کہاں وہ دن جو گزرتا تھا میرا اونٹوں پر۔کہاں یہ دن کہ میں حیان کے جوار میں ہوں '' حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی میں استعفا دے رہا تھا اور مرنے کے بعد کے لئے دوسرے کے لئے طے کرگیا

۱۹

لَشَدَّ مَا تَشَطَّرَا ضَرْعَيْهَا ، فَصَيَّرَهَا فِي حَوْزَةٍ خَشْنَاءَ يَغْلُظُ كَلْمُهَا ، ويَخْشُنُ مَسُّهَا ويَكْثُرُ الْعِثَارُ فِيهَا والِاعْتِذَارُ مِنْهَا، فَصَاحِبُهَا كَرَاكِبِ الصَّعْبَةِ ، إِنْ أَشْنَقَ لَهَا خَرَمَ وإِنْ أَسْلَسَ

لَهَا تَقَحَّمَ ، فَمُنِيَ النَّاسُ لَعَمْرُ اللَّه بِخَبْطٍ وشِمَاسٍ وتَلَوُّنٍ واعْتِرَاضٍ ، فَصَبَرْتُ عَلَى طُولِ الْمُدَّةِ وشِدَّةِ الْمِحْنَةِ حَتَّى إِذَا مَضَى لِسَبِيلِه، جَعَلَهَا فِي جَمَاعَةٍ زَعَمَ أَنِّي أَحَدُهُمْ فَيَا لَلَّه ولِلشُّورَى ، مَتَى اعْتَرَضَ الرَّيْبُ فِيَّ مَعَ الأَوَّلِ مِنْهُمْ، حَتَّى صِرْتُ أُقْرَنُ إِلَى هَذِه النَّظَائِرِ ، لَكِنِّي أَسْفَفْتُ إِذْ أَسَفُّوا وطِرْتُ إِذْ طَارُوا، فَصَغَا رَجُلٌ مِنْهُمْ لِضِغْنِه ، ومَالَ الآخَرُ لِصِهْرِه مَعَ هَنٍ وهَنٍ إِلَى أَنْ قَامَ ثَالِثُ الْقَوْمِ نَافِجاً حِضْنَيْه ، بَيْنَ نَثِيلِه ومُعْتَلَفِه ، وقَامَ مَعَه بَنُو أَبِيه يَخْضَمُونَ مَالَ اللَّه،

بیشک دونوں نے مل کر شدت سے اس کے تھنوں کو دوہا ہے۔اور اب ایک ایسی درشت اور سخت منزل میں رکھ دیا ہے جس کے زخم کاری ہیں اورجس کو چھونے سے بھی درشتی کا احساس ہوتا ہے۔لغزشوں کی کثرت ہے اورمعذرتوں کی بہتات! اس کو برداشت کرنے والا ایس ہی ہے جیسے سر کش اونٹنی کا سوار کہ مہار کھنیچ لے تو ناک زخمی ہو جائے اور ڈھیل دیدے تو ہلاکتوں میں کود پڑے۔تو خدا کی قسم لوگ ایک کجروی' سر کشی' تلون مزاجی اور بے راہ روی میں مبتلا ہوگئے ہیں اور میں نے بھی سخت حالات میں طویل مدت تک صبر کیا یہاں تک کہ وہ بھی اپنے راستہ چلا گیا لیکن خلافت کو ایک جماعت میں قرار دے گیا جن میں ایک مجھے بھی شمار کرگیا جب کہ میرا اس شوریٰ سے کیا تعلق تھا؟مجھ میں پہلے دن کون سا عیب و ریب تھا کہ آج مجھے ایسے لوگوں کے ساتھ ملایا جا رہا ہے۔لیکن اس کے باوجود میں نے انہیں کی فضا میں پرواز کی اور یہ نزدیک فضا میں اڑے تو وہاں بھی ساتھ رہا اور اونچے اڑے تو وہاں بھی ساتھ رہا مگرپھر بھی ایک شخص اپنے کینہ کی بنا پرمجھ سے منحرف ہوگیا اور دوسری دامادی کی طرف جھک گیا اور کچھ اوربھی ناقابل ذکراسباب واشخاص تھے جس کے نتجیہ میں تیسرا شخص سرگین اورچارہ کے درمیان پیٹ پھلائے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا اور اس کے ساتھ اس کے اہل خاندان بھی کھڑے ہوئے جو مال خا کو اس طرح ہضم کر رہے تھے

۲۰

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

(یا ایها الذین آمنوا ان تطیعوا الذین کفروا یردّوکم علی اعقابکم فتنقلبوا خاسرین) (52)

اے ایمان والو! اگر تم کفر اختیار کرنے والوں کی اطاعت کرو گے تو یہ تمھیں گزشتہ زمانہ کی طرف پلٹا لے جائیں گے، اور سر انجام تم خود ہی خسارہ و نقصان اٹھانے والوں میں ہوگے۔

(ودّ کثیر من اهل الکتاب لو یردّونکم من بعد ایمانکم کفار حسداً من عند انفسهم من بعد ما تبین لهم الحق) (53)

بھت سے اہل کتاب حسد کی بنا پر یہ چاہتے ہیں کہ تمھیں ایمان کے بعد کافر بنادیں حالانکہ حق ان پر بالکل واضح و آشکار ھوچکا ہے۔

2۔ اسلامی اصول و اقدار سے انحراف کی تمنا کرنا

دشمن کی ایک اہم خواہش یہ ہوتی ہے کہ اسلامی حکومت اور مومنین، اسلامی اصول و اقدار سے رو گرداں و منحرف ھوجائیں، مومنین سے اسلامی اصول اور اس کے اقدار پر سودا کرنے کے خواہش مند ھوتے ہیں:

(ودّوا لو تدهن فیه هنون) (54)

یہ چاہتے ہیں کہ آپ تھوڑا نرم (حق کی راہ سے منحرف) ہوجائیں تاکہ وہ بھی نرم ہوجائیں۔

اسلامی حکومت میں الہی سیاست گزار کو صرف اپنی شرعی ذمہ داری و فرائض کا خیال رکھنا ہوتا ہے، ان کے پروگرام میں سر فھرست الہی مقاصد اور اصولوں کی حفاظت مقصود ہوتی ہے، ان کے طریقۂ کار میں اصولی و بنیادی مسائل پر سودا گری اور ساز باز کا کوئی مفھوم نہیں ہوتا ہے۔

------------

52. سورہ آل عمران/ 149۔

53. سورہ بقرہ/ 109۔

54. سورہ قلم/ 9۔

۴۱

لیکن دنیاوی اور مادہ پرست سیاست گزار کا ھدف و مقصد صرف حکومت و استعماریت ہوتا ہے ان کی سیاست کی بساط، اصول کی سودا گری و ساز و باز پر ہوتی ہے وہی سیاست کہ جس کا معاویہ شیدائی تھا لیکن مولائے کائنات علی ابن ابی طالب علیہ السلام شدت سے مخالف تھے، آپ اس طریقۂ کار کو شیطنت و مکر و فریب سمجھتے تھے۔

حضرت علی علیہ السلام ایسی پست سیاست و طرز عمل سے دور تھے، وہ لوگ جو معاویہ کی حرکات کو زیرکی و دانائی تصور کرتے تھے، امام علی علیہ السلام ان کے جواب میں فرماتے ہیں:

((و الله ما معاویة با دهٰی منی و لکنه یغدر و یفجر ولو لا کراهیة الغدر لکنت منّی ادهی الناس)) (55)

خدا کی قسم! معاویہ مجھ سے زیادہ ھوشیار و صاحب ھنر نہیں ہے، لیکن وہ مکر و فریب اور فسق و فجور کا ارتکاب کرتا ہے، اگر مجھے مکر و فریب نا پسند نہ ہوتا تو مجھ سے زیادہ ھوشیار کوئی نہیں تھا۔

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام اپنی مختصر مدت حکومت و خلافت میں بعض قریبی اصحاب کی نصیحت و مشورہ کے باوجود ھرگز اسلامی اصول سے انحراف و سودا گری کو قطعاً قبول نہیں کرتے تھے، بعض صاحبان تفسیر ابن عباس سے نقل کرتے ہیں، یھودی مذہب کے بزرگان ایک نزاع کے سلسلہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسلامی اصول سے منحرف کرنے کی غرض سے آپ کی خدمت میں آئے، اور اپنی آرزؤں کو اس انداز سے پیش کیا، ہم یھودی قوم و مذہب کے اشراف و عالم ہیں اگر ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے، تو تمام یھودی ہم لوگ کی پیروی کرتے ہوئے آپ پر ایمان لے آئیں گے، لیکن ھمارے ایمان لانے کی شرط یہ ہے کہ آپ اس نزاع میں ھمارے فائدے و حق میں فیصلہ دیں،

-----------------

55. نھج البلاغہ، خطبہ200۔

۴۲

لیکن مرسل اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی شرط اور ایمان لانے کی لالچ کو ٹھکرادیا، اسلام کے اصول و ارکان یعنی عدالت سے ھرگز منحرف نہیں ہوئے، ذیل کی آیت اسی واقعہ کی بنا پر نازل ھوئی ھے:

( و ان احکم بینهم بما انزل الله ولا تتبع اهوائهم و احذرهم ان یفتنوک عن بعض ما انزل الله الیک) (56)

اور پیامبر آپ کے درمیان تنزیل خدا کے مطابق فیصلہ کریں اور ان کی خواہشات کا اتباع نہ کریں، اور اس بات سے بچتے رھیں کہ یہ بعض احکام الہی سے جو تم پر نازل کیا جاچکا ہے منحرف کردیں۔

سورہ اسراء میں پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اصول سے منحرف کرنے کے لئے دشمنون کے شدید وسوسہ کا ذکر کیا گیا ہے خدا کا ارشاد ہو رہا ہے، اگر آپ کو عصمت اور وحی کی مساعدت نہ ھوتی، اگر آپ عام بشر کے مثل ھوتے تو ان کے دلدادہ ھوجاتے۔

(و ان کادوا لیفتنوک عن الذی اوحینا الیک لتفتری علینا غیره و اذاً لاتّخذوک خلیلا ولولا ان ثبتناک لقد کدت ترکن الیهم شیئا قلیلا) (57)

اور یہ ظالم اس بات کے کوشاں تھے کہ آپ کو میری وحی سے ھٹا کر دوسری باتوں کی افترا پر آمادہ کردیں، اور اسی طرح یہ آپ کو اپنا دوست بنا لیتے اور اگر ھماری توفیق خاص نے آپ کو ثابت قدم نہ رکھا ہوتا تو آپ (بشری طور سے) کچھ نہ کچھ ان کی طرف ضرور مائل ھوجاتے۔

--------------

56. سورہ مائدہ/ 49۔

57. سورہ اسراء/ 73/ 74۔

۴۳

3۔ خیر خواہ نہ ہونا

قرآن کریم نے اغیار کی شناخت کے سلسلہ میں دوسری جو صفت بیان کی ہے وہ اغیار کا مسلمانوں کے سلسلہ میں خیر خواہ نہ ہونا ہے، وہ اپنی بد خصلت اور پست فطرت خمیر کی بنا پر ہمیشہ اسلام کے افکار و نظام کے خلاف سازش کرتے رہتے ہیں وہ مومنین کے سلسلہ میں صرف عدم خیر خواھی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ صاحبان ایمان کی آسائش و آرام، امن و سکون، فتح و کامرانی کو ایک لمحے کے لئے تحمل بھی نہیں کرسکتے۔

(ما یودّ الذین کرو من اهل الکتاب ولا المشرکین ان ینزل علیکم من خیر من ربکم) ) 58 (

کافر اہل کتاب (یھود و نصاری) اور عام مشرکین یہ نہیں چاہتے کہ تمھارے اوپر پروردگار کی طرف سے کوئی خیر و برکت نازل ھو۔

وہ مومنین کے سلسلہ میں صرف خیر و برکت کے عدم نزول کی خواہش ہی نہیں رکھتے بلکہ مومنین کی سختی و پریشانی کو دیکھ کر خوشحال اور ایمان والوں کی خوشی کو دیکھ کر غمگین ھوتے ہیں۔

(ان تمسسکم حسنة تسؤهم وان تصبکم سیئة یفرحوا بها) ) 59 (

اگر تمھیں ذرا بھی خیر و نیکی ملے تو انھیں برا لگے گا اور اگر تمھیں تکلیف پھونچےتو وہ خوش ہوں گے۔

------------------

58. سورہ بقرہ/ 105۔

59. سورہ آل عمران/ 120۔

۴۴

4۔بغض و کینہ کا رکھنا

اغیار کی ایک اور اہم خصوصیت بغض اور کینہ پرستی ہے ان کا تمام وجود اسلام کے خلاف عداوت و نفرت سے بھرا ہوا ہے، یہ صفت رذائل فقط دل کی چھار دیواری تک محدود نہیں بلکہ عملی طور سے ان کے افعال و کردار میں حسد و کینہ توزی کے آثار ھویدا ہیں، اپنی اس کیفیت کو پوشیدہ و مخفی رکھے بغیر اہل اسلام کے خلاف وسیع پیمانے پر معرکہ و جنگ کی جد و جھد میں مصروف رہتے ہیں۔

(لا یألونکم خبالا ودّوا ما عنتّم قد بدت البغضاء من افواهم وما تخفی صدورکم اکبر…… اذا لقوکم قالوا آمنا واذا خلوا عضو علیکم الأنامل من الغیظ قل موتوا بغیظکم) ) 60 (

یہ تمھیں نقصان پھونچانے میں کوئی کوتاھی نہیں کریں گے، یہ صرف تمھاری مشقت و زحمت رنج و مصیبت کے خواہش مند ہیں ان کی عداوت و نفرت زبان سے بھی ظاہر ہے اور جو دل میں پوشیدہ کر رکھا ہے وہ تو بھت زیادہ ہے اور جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے اور جب اکیلے ھوتے ہیں تو خشم و غصہ سے انگلیاں کاٹتے ہیں، پیامبر آپ کہہ دیجئے کہ تم اسی غصہ میں مرجاؤ۔

------------------

60. سورہ آل عمران/ 118 و /119۔

۴۵

5۔ غفلت پذیری میں مبتلا کرنا

دشمن و اغیار کا اپنی کامیابی و موفقیت کے لئے مسلمانوں کو غفلت و بے خبری کے جال میں پھنسائے رکھنا ہے، وہ چاہتے یہ ہیں کہ ایسی فضا و حالات وجود میں لائے جائیں جس کی بنا پر صاحبان ایمان اپنی قوت و طاقت کی صلاحیت و موقف سے غفلت ورزی کا شکار ہوجائیں تاکہ وہ ان پر قابض و کامران ھوسکیں، ان کی دائمی کوشش رھتی ہے کہ مسلمان کی نظر میں ان کی اقتصادی طاقت فوجی قدرت، ثمرۂ وحدت اور دین و دنیا کی شان و شوکت کو بے وقعت پیش کیا جائے، تاکہ زیادہ سے زیادہ غفلت و بے خبری کے دام میں الجھے رھیں جس کے نتیجہ میں اغیار کی فتح و ظفر کی زمین ھموار ھوسکے۔

(ودّا لذین کفروا لو تغفلون عن اسلحتکم و امتعتکم فیمیلون علیکم میلة واحدة) ) 61 (

کفار کی خواہش یھی ہے کہ تم اپنے ساز و سامان اور اسلحہ سے غافل ھوجاؤ تو یہ یکبارگی تم پر حملہ کردیں۔

مذکورہ آیت میں اگر چہ اسلحہ و ساز و سامان کا ذکر ہے لیکن آیت کی دلالت صرف اقتصادی ساز و سامان وجنگی اسلحہ جات پر منحصر نہیں ہے بلکہ تمام وہ وسائل و عوامل جو مسلمانوں کے لئے عزت و شرف قوت و طاقت کا باعث ہو آیت کی غرض وغایت ہے، اس لئے کہ دشمن کا ھدف ان وسائل سے غفلت و لاپرواھی میں مبتلا کرنا ہے تاکہ تسلط کے مواقع فراھم ھوسکیں۔

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام مالک اشتر کو خطاب کرتے ہوئے عہد نامہ میں فرماتے ہیں:

((الحذر کل الحذر من عدوک بعد صلحه فان العدو ربما قارب لیتغفل فخذ با لحزم و اتهم فی ذلک حسن الظن)) ) 62 (

صلح کے بعد دشمن کی طرف سے قطعاً مکمل طور پر ھوشیار رھنا کہ کبھی کبھی وہ تمہیں غفلت میں ڈالنے کے لئے تم سے قربت اختیار کرنا چاھیں گے لھذا اس سلسلہ میں مکمل ھوشیار رھنا، اور کسی حسن ظن سے کام نہ لینا۔

--------------

61. سورہ نساء/ 102۔

62. نھج البلاغہ، نامہ/ 53۔

۴۶

6۔ مومنین سے سخت و تند برتاؤ کرنا

قرآن کریم کی روشنی میں اغیار کی ایک دوسری صفت، مومنین کی ساتھ سخت طرز عمل و سلوک کا انجام دینا ہے، یہ عہد و پیمان کی پابندی اور دوستی کا اظھار کرتے ہوئے مومنین کو فریب دینا چاہتے ہیں، ان کے عہد و پیمان، قول و قرار پر اعتماد کرنا منطقی عمل نہیں، جب ناتواں اور کمزور ہوجاتے ہیں تو حقوق بشر اور اخلاق انسانی کی بات کرتے ہیں، لیکن جب قوی و مسلط ہوجاتے ہیں، تمام حقوقِ اور انسانی اخلاق کو پامال کرتے ہیں، عہد و پیمان، قول و قرار، حقوق و اصول بشریت، عظمت انسانیت، سب ہتکنڈے ہیں تاکہ اپنے منافع کو حاصل کرسکیں، منظور نظر منافع کے حصول کے بعد ان قوانین و عہد و پیمان کی کوئی وقعت نہیں رھتی ہے۔

(کیف وان یظهروا علیکم لا یرقبوا فیکم الّا ولا ذمّة یرضونکم بأفواههم و تأبی قلوبهم و اکثرهم فاسقون) ) 63 (

ان کے ساتھ کس طرح رعایت کی جائے، جب کہ یہ تم پر غالب آجائیں گے تو نہ کسی ھمسایگی و قرابتداری کی رعایت کریں گے اور نہ ہی کسی عہد و پیمان کا لحاظ کریں گے یہ تو صرف زبانی تم کو خوش کر رہے ہیں، ورنہ ان کا دل قطعی منکر ہے اور ان کی اکثریت فاسق و بد عہد ہے۔

7۔ خیانت کاری اور دشمنی کا مستمر ہونا

اغیار کی ایک اور صفت، تجاوز گری و تخریب کاری ہے، جب تک ان کے اھداف پایہ تکمیل کو نہیں پہنچتے فتنہ گری و خراب کاری کا بازار گرم کئے رہتے ہیں۔

---------------

63. سورہ توبہ/ 8۔

۴۷

(لا یزالون یقاتلونکم حتی یردّوکم عن دینکم) ) 64 (

اور یہ کفار برابر تم لوگوں سے جنگ کرتے رھیں گے، یہاں تک کہ ان کے امکان میں ہو تو وہ تم کو تمھارے دین سے پلٹادیں۔

اسی بنا پر دشمن کی عارضی، خاموشی و سکوت یا دوستی و محبت کا اظھار، دشمنی کے پایان و اتمام کی علامت نہیں، یہ صرف دشمن کی بدلتی ھوئی طرز و روش ہے، برابر کچھ وقفہ کے بعد کوئی نہ کوئی خیانت کاری کا آشکار ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ جب تک اغیار و دشمن اپنے اھداف و مقاصد کو عملی جامہ نہ پہنالیں تب تک وہ فتنہ گری و دشمنی سے دست بردار نہیں ہوں گے۔

(ولا تزال تطلع علی خائنة منهم) ) 65 (

آپ ان کی طرف سے خیانتوں پر مطلع ھوتے رھیں گے۔

اصل اوّل کا ماحصل، اسلام کے پیش نظر اغیار سے سیاسی روابط و اصول اور اغیار کی شناخت ہے جس میں ان کی چند خصائص کو بیان کیا گیا ہے کسی فرد یا گروہ میں ایک خصوصیت کا بھی پایا جانا قرآن کی رو سے اس کا شمار اغیار میں ہے، لھذا ان سے رابطہ کے سلسلہ میں اسلام کے اغیار سے رابطہ و اصول کا لحاظ کیا جانا چاھئے۔

------------------

64. سورہ بقرہ/ 217۔

65. سورہ مائدہ/ 13۔

۴۸

اصل دوّم: دشمن کے مقابلہ میں ھوشیاری اور اقتدار کا حصول

اسلام کے فردی و اجتماعی روابط میں حسن ظن کی رعایت اسلام کے اصل دستورات میں سے ہے لیکن اغیار سے روابط کے سلسلہ میں اسلام کی تاکید سوء ظن پر ہے، ہر زمان و مکان میں ان سے بھترین اقتصادی، سیاسی، ثقافتی روابط ہونے کے باوجود سوء ظن کی کیفیت باقی رکھتے ہوئے ھوشیار رھنا چاھئے۔ ان کی چھوٹی حرکتیں اور ھلکے مناظر دشمنی کو نظر انداز نہیں کرنا چاھئے۔

اسلام کی تاکید یہ ہے کہ اسلامی نظام و حکومت اغیار کے مقابلہ میں زیادہ سے زیادہ قدرت و طاقت کا حصول کریں، اس قدر قوی اور طاقتور ہوں کہ دشمن تجاوز کا خیال بھی دل میں نہ لاسکے۔

(و اعدّوا لهم ما استطعتم من قوة و من رباط الخیل ترهبون به عدو الله و عدوکم) ) 66 (

اور تم سب ان کے مقابلہ کے لئے امکانی قوت اور گھوڑے کی صف بندی (سلاح) کا انتظام کرو جس سے اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن سب کو خوف زدہ کردو۔

آیت قرآن سے استفادہ ہوتا ہے کہ دشمن کے مقابلہ میں قوی و قدرت مند ھونا، جدید اسلحہ جات سے آراستہ ہونا ضروری ہے تاکہ اسلامی حکومت و نظام کا دفاع کیا جاسکے، (ما استطعتم) عبارت کا مفھوم وسیع ہے وسائل و سلاح، اطلاعاتی و نظامی، اقتصادی و سیاسی، فرھنگی و ثقافتی آمادگی، سب پر منطبق ہوتا ہے، جیسا کہ ذیل کی آیت میں کلمہ حذر کا مفھوم وسیع و عریض

ہے۔

(یا ایها الذین آمنوا خذوا حذرکم فانفرو اثبات او انفروا جمیعا) ) 67 (

اے صاحبان ایمان! اپنے تحفظ کا سامان سنبھال لو اور گروہ در گروہ یا اکٹھا جیسا موقع ہو سب نکل پڑو۔

------------------

66. سورہ انفال/ 60۔

67. سورہ نساء/ 71، بعض مفسرین نے کلمہ حذر کو اسلحہ سے تفسیر کی ہے حالانکہ حذر کے معنی وسیع ہیں وسائل جنگ سے مختص نہیں نساء کی آیت 102 حذر و اسلحہ کے تفاوت کو پیش کر رھی ہے اس آیت میں دونوں لفظ کا استعمال ہوا ہے اور یہ تعدد معنا کی علامت ہے، (ان تصنعوا اسلحتکم و خذو احذرکم) ۔

۴۹

یہ آیت ایک جامع و کلی آئین و دستور ہر زمان و مکان کے مسلمانوں کو دے رھی ہے، اپنی امنیت و سرحد کی حفاظت کے لئے ہر وقت آمادہ رھیں اجتماع و معاشرے میں ایک قسم کی مادی و معنوی آمادگی کا ہمیشہ وجود رھے۔

حذر کے معنی اس قدر وسیع ہیں کہ ہر قسم کے مادی و معنوی وسائل پر اطلاق ھوتے ہیں۔

مسلمانوں کو چاھئے کہ مدام دشمن کی حرکات و سکنات، سلاح کی نوعیت، جنگ کے اطوار پر نگاہ رکھے رھیں، اس لئے کہ یہ تمام موارد دشمن کے خطرات کو روکنے میں مؤثر اور آیت حذر کے مفھوم کی نشان دھی ہے۔

آیت حذر کے دستور کے مطابق مسلمانوں کے چاھئے کہ اپنے تحفظ کے لئے زمان و مکان کے اعتبار سے انواع و اقسام کے وسائل کو فراھم کریں، نیز ان وسائل و سلاح سے بھترین استفادہ کے طور و طریقہ کو بھی حاصل کریں۔

۵۰

اصل سوم: اغیار سے دوستی و صمیمیت کا ممنوع ھونا

اغیار سے سیاسی رفتار و روابط کے سلسلہ میں اسلام کی نظر کے مطابق ان سے دوستانہ روابط و صمیم قلبی کو منع کیا گیا ہے، عداوت پسند افراد نیز وہ لوگ جو اسلامی مقدسات کی بے حرمتی کرتے ہیں ان سے سخت برتاؤ سے پیش آنا چاھئے۔

(یا ایها الذین آمنوا لاتتخذوا الذین اتخذوا دینکم هزوا ولعبا من الذین اوتوا الکتاب من قبلکم و الکفار اولیاء واتقوا الله ان کنتم مؤمنین و اذا نادیتم الی الصلاة اتخذوها هزوا ولعبا ذلک بانهم قوم لا یعقلون) ) 68 (

اے ایمان والو! خبر دار اہل کتاب میں جن لوگوں نے تمھارے دین کو مزاق و تماشا بنا لیا ہے اور دیگر کفار کو بھی اپنا ولی (دوست) و سرپرست نہ بناؤ اور اللہ سے ڈرو، اگر تم واقعی صاحب ایمان ہو اور تم جب نماز کے لئے اذان دیتے ہو تو یہ اس کو مذاق و کھیل بنالیتے ہیں اس لئے کہ یہ بالکل بے عقل قوم ہیں۔

ھنر و تمسخر آمیز گفتگو و حرکات کو کھا جاتا ہے جو کسی چیز کی قدر و قیمت کو کم کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

لعب، وہ افعال جب کے اھداف غلط یا بے ھدف ہوں ان پر اطلاق ہوتا ہے آیت کا مفھوم یہ ہے کہ مومنین کی حیا وغیرت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اسلامی مقدسات و دینی اقدار کو پامال کرنے والوں سے سخت اور تند برتاؤ کریں، اور ان کا یہ برتاؤ دینی تقوے کی ایک جھلک ہے، کیونکہ تقوا صرف فردی مسائل پر منحصر نہیں ہے۔

---------------

68. سورہ مائدہ/ 57، 58۔

۵۱

سورۂ ممتحنہ کی پہلی آیت میں بھی صریحاً اغیار سے دوستانہ روابط برقرار کرنے کی ممانعت کی گئی ہے۔

(یا ایها الذین آمنوا لا تتخذوا عدوی و عدوکم اولیاء تلقون الیهم بالمودة وقد کفروا بما جاءکم من الحق)

اے ایمان والو خبردار میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بنانا، کہ تم ان کی طرف دوستی کی پیش کش کرو جب کہ انھوں نے اس حق کا انکار کیا ہے، جو تمھارے پاس آچکا ہے۔

اس بنا پر تمام وہ افراد، جو دین اسلام اور اس کی شائستگی کے معتقد نہیں ہیں ان کا شمار اغیار و بیگانے میں ہوتا ہے، لھذا ان سے دوستی و نشست و برخاست کو منع کیا گیا ہے، قرآن مجید نے اغیار سے، خصوصاً جو اسلامی مقدسات کی بے حرمتی کرتے ہیں، فکری و ثقافتی قربت کو خسران و نقصان سے تعبیر کیا ہے، کیونکہ رفت و آمد و دوستی کے اثرات انسان پر ضرور مرتب ھوتے ہیں اور اسی کے مثل بنا دیتے ہیں۔

(وقد نزّل علیکم فی الکتاب ان اذا سمعتم آیات الله یکفر بها و یستهز ٔبها فلا تقعدوا معهم حتی یخوضوا فی حدیث غیره انکم اذا مثلهم) ) 69 (

اور اللہ نے کتاب میں یہ بات نازل کردی ہے کہ جب آیات الہی کے بارے میں یہ سنو کہ ان کا انکار اور استھزا ھورھا ہے تو خبردار ان کے ساتھ نشست و برخاست نہ کرو جب تک وہ دوسری باتوں میں مصروف نہ ہوجائیں ورنہ تم انھیں کے مثل ھوجاؤ گے۔

بیان شدہ اصل سوم کا مفھوم یہ نہیں کہ دیگر مذاھب کے پیروکاروں کے ساتھ مسالمت آمیز زندگی کی نفی کی جائے یا ان کے انسانی حقوق کو ضائع کیا جائے غیر اسلامی حکومتوں سے رابطہ نہ رکھا جائے) 70 (

----------------------------

69. سورہ نساء/140۔

70. اس سلسلہ میں بحث اصل چھارم میں پیش کی جائے گی۔

۵۲

بلکہ اصل سوم کا مفھوم یہ ہے کہ مسلمان دشمن سے دوستانہ وصمیمی روابط سے پرہیز کریں اغیار کی اطاعت و اثر پذیری سے دور رھیں، ان کو فکری و سیاسی اعتبار سے غیر ہی سمجھیں، قرآن اغیار پرستی سے مبارزہ اور برائت کے سلسلہ میں حضرت ابراھیم علیہ السلام اور آپ کے مقلدین کی سیرت کو بطور نمونہ پیش کر رہا ہے آپ اور آپ کے اصحاب اپنی ہی قوم کی بت پرستی کو مشاہدہ کرنے کے بعد، باوجودیکہ ان کے قرابتدار بھی اس میں شریک تھے ان کے افعال سے برائت کرتے ہیں۔

(قد کانت لکم اسوة حسنة فی ابراهیم و الذین معه اذ قالوا لقومهم انّا برآؤا منکم و مما تعبدون من دون الله کفرنا بکم و بدا بیننا وبینکم العداوة و البغضاء ابدا حتّی تؤمنوا بالله وحده؛) ) 71 (

تمھارے لئے بھترین نمونہ عمل ابراھیم اور ان کے ساتھیوں میں ہے، جب انھوں نے اپنی قوم سے کہدیا ہم تم سے اور تمھارے معبودوں سے بیزار ہیں ہم نے تمھارا انکار کردیا ہے اور ھمارے تمھارے درمیان بغض اور عداوت بالکل واضح ہے یھاں تک کہ تم خدائے وحدہ لاشریک پر ایمان لے آؤ۔

---------------

71. سورہ ممتحنہ/ 4۔

۵۳

اصل چھارم: غیر حربی اغیار سے صلح آمیز روابط رکھنا

اسلام کے سیاسی نظریہ و اصول میں اغیار و بیگانے کی دو قسم ہیں۔

1۔ حربی: وہ افراد اور حکومت جو اسلامی حکومت اور نظام سے برسر پیکار ہیں اور مدام سازشیں و خیانتیں کرتے رہتے ہیں۔

2۔ غیر حربی: وہ کفار جو اپنے دین و مذہب پر عمل کرتے ہوئے اسلامی سر زمین پر اسلامی قانون کے تحت اسلامی حکومت کو جزیہ دیتے ہوئے زندگی گزارتے ہیں، یا وہ ممالک جو اسلامی حکومت سے پیمان صلح یا اس کے مثل عہد و پیمان رکھتے ہیں، اور اس عہد کے پابند بھی ہیں۔اگرچہ دونوں ہی دستہ کا فکری و ثقافتی اعتبار سے اغیار میں شمار ہوتا ہے اور اصل سوم میں شمولیت رکھتے ہیں لیکن ان سے معاشرتی و سماجی رفتار و سلوک میں فرق ہونا چاھئے۔

قرآن کریم ان سے رفتار و برتاؤ کی نوعیت کو بیان کر رہا ہے۔

(لا ینها کم الله عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم ان تبرّوهم و تقسطوا الیهم ان الله یحسب المقسطین انما ینها کم الله عن الذین قاتلوکم فی الدین و اخرجوکم من دیارکم و ظاهرو اعلی اخراجکم ان تولّوهم و من یتولّهم فاولئک هم الظالمون) ) 72 (

خدا تمھیں ان لوگوں کے بارے میں جنھوں نے تم سے دین کے معاملہ میں جنگ نہیں کی ہے اور تمھیں وطن سے نہیں نکالا ہے اس بات سے نہیں روکتا ہے کہ تم ان کے ساتھ نیکی اور انصاف کرو کہ خدا انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے وہ تمھیں صرف ان لوگوں سے روکتا ہے جنھوں نے تم سے دین میں جنگ کی ہے، اور تمھیں وطن سے نکال باہر کیا ہے اور تمھارے نکالنے پر دشمن کی مدد کی ہے کہ ان سے دوستی کرو اور جو ان سے دوستی کرے گا وہ یقیناً ظالم ہوگا۔

------------------

72. سورہ ممتحنہ/ 8، 9۔

۵۴

آیت مذکورہ سے استفادہ ہوتا ہے کہ وہ افراد یا حکومتیں جو مومنین کے حق میں ظالمانہ رویہ اپناتی ہیں نیز اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نا شائستہ عمل انجام دیتی ہیں اور اسلام کے دشمنوں کی مساعدت کرتی ہیں، اہل اسلام کے وظائف کا تقاضا یہ ہے کہ ان سے سخت و تند رفتار کا مظاہرہ کریں، ان سے ہر قسم کے سماجی و معاشرتی رابطہ کو منقطع کردیں، لیکن وہ افراد جو بے طرف رہے ہیں مسلمانوں کے خلاف سازش میں ملوث نہیں رہے ہیں ان کے حقوق کی رعایت اور اسلامی حوکمت کی حمایت حاصل ہونا چاھئے، ان پر ظلم و تعدی شدید ممنوع ہے۔

پیامبر عظیم الشان (ص) فرماتے ہیں:

((من ظلم معاهداً و تخلّف فوق طاقته فانا حجیجه)) ) 73 (

جو شخص بھی معاھدہ پر ظلم کرے گا میں روز قیامت اس سے باز پرس کروں گا۔

معاہد سے مراد وہ یھودی و نصرانی ہیں جو جزیہ دیتے ہوئے اسلامی حکومت کے زیر سایہ زندگی بسر کرتے ہیں، اسلامی فقہ میں اغیار سے روابط کے تمام حقوقی جوانب توجّہ کے قابل ہیں، اگر اغیار و بیگانے سیاسی و فکری اعتبار سے مسالمت آمیز زندگی کی رعایت کریں مسلمانوں کے حقوق کا احترام کریں تو وہ اپنے تمام بنیادی اور جمھوری حقوق سے فیضیاب ھوسکتے ہیں کسی کو ان سے مزاحمت کا حق نہیں، ذیل کا واقعہ اسلامی نظام اور حکومت میں اغیار غیر حربی کے بنیادی حقوق کی رعایت کا آشکار نمونہ ہے۔

------------------

73. فتوح البلدان، ص67۔

۵۵

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے ایک نابینا بوڑھے آدمی کو دیکھا جو گدائی کر رہا تھا جب مولا نے اس کے احوال دریافت کئے تو معلوم ہوا وہ نصرانی ہے علی علیہ السلام رنجیدہ خاطر ھوے، فرمایا: وہ تمہارے درمیان میں تھا اس سے کام لیا گیا، لیکن جب وہ بوڑھا ھوگیا تو اس کے حال پر چھوڑ دیا گیا، آپ نے اس کے مخارج بیت المال سے اداء کرنے کا حکم دیا) 74 (

منافقین کا اغیار سے ارتباط اور ان کا طرز عمل

گزشتہ بحث میں اغیار سے روابط اور اسلام کے کلی و جامع اصول پیش کئے جاچکے ہیں، اب اغیار کے سلسہ میں منافقین کی روش اور طرز عمل کا مختصر تجزیہ پیش کیا جارھا ہے۔

قرآن کریم سے استفادہ ہوتا ہے کہ منافقین تمام دوستی و محبت اغیار اور بیگانوں پر نچھاور کرتے ہیں، یہ مسلمانوں کے ساتھ شرارت و خباثت سے پیش آتے ہیں، مومنین کو حقارت و ذلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، تمسخر و نکتہ چینی ان کا مشغلہ ہے ان کی تمام سعی و کوشش اور جد و جھد یہ ہوتی ہے کہ اغیار سے قریب تر ہوجائیں اغیار سے صمیمیت و اخلاص اور دوستانہ رفتار و گفتار کے حامی ہیں۔

(الم تر الی الذین تولّوا قوما غضب الله علیهم ما هم منکم ولا منهم و یحلفون علی الکذب وهم یعلمون) ) 75 (

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا ہے جنھوں نے اس قوم سے دوستی کرلی ہے جس پر خدا نے عذاب نازل کیا ہے کہ یہ نہ تم میں سے ہیں اور نہ ان میں سے ہیں اور یہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور خود بھی اپنے جھوٹ سے باخبر ہیں۔

------------------

74. وسائل الشیعہ، ج11، ص49۔

75. سورہ مجادلہ/14۔

۵۶

منافقین کے بیگانوں سے ارتباط کے جلووں میں سے، مشترک کانفرنس کا انجام دینا، ان سے ہم آواز وھم نشین ہونا ہے، قرآن صریح الفاظ میں کفار اور الہی دستور و آئین کا استھزا کرنے والوں کے ساتھ ہم نشینی کو منع کرتا ہے۔

(واذا رأیت الذین یخوضون فی آیاتنا فاعرض عنهم حتی یخوضوا فی حدیث غیره) ) 76 (

اور جب تم دیکھو کہ لوگ ھماری آیات کا استھزا و تمسخر کر رہے ہیں تو ان سے کنارہ کش ھوجاؤ یہاں تک کہ وہ دوسری باتوں میں مصروف ہوجائیں۔

لیکن قرآن کے صریح دستور و حکم کے باوجود منافقین، مخفی طریقہ سے اغیار کے جلسات و نشست میں شریک ہوا کرتے تھے لھذا سورہ نساء کی آیت نمبر 140 منافقین کو اس رفتار و طرز عمل پر سرزنش و توبیخ کر رھی ہے۔

منافقین کے اجنبی و غیر پرستی کے مظاہر میں سے ایک، ان کے لئے مطیع و فرمان بردار ہونا ہے سورۂ آل عمران کی آیت نمبر 149 منافقین کی اسی روش کو بیان کر رھی ہے اگر تم کفار کے مطیع و دوست ھوگے جیسا کہ بعض منافقین کا یہ طرز عمل ہے تو قدیم و جاھلی اطوار کی طرف پلٹا دیئے جاؤ گے،

(یا ایها الذین آمنوا ان تطیعوا الذین کفروا یردوکم علی اعقابکم) ) 77 (

اے ایمان لانے والو اگر تم کفر اختیار کرنے والوں کی اطاعت کرو گے تو یہ تمھیں گزشتہ طرز زندگی و عمل کی طرف پلٹالے جائیں گے۔

-----------------

76. سورہ انعام/ 68۔

77. سورہ آل عمران/ 149۔

۵۷

دشمنوں کی جماعت میں مدام مومنین سے عداوت و دشمنی رکھنے والے بعض یھودی ہیں خدا نے قرآن مجید میں دشمنوں کے عمومی و کلی اوصاف کو بیان کیا ہے لیکن اس عمومیت کے باوجود بعض دشمنوں کے اوصاف کے ساتھ ان کے نام کا بھی ذکر کیا ہے کہ جس میں یھودی سر فھرست ہیں۔

ہم جب عصر پیامبر عظیم الشان کے منافقین کی تاریخ کی تحقیق کرتے ہیں تو منافقین کے روابط کے شواہد یھودی کے تینوں گروہ بنی قینقاع، بنی نظیر، بنی قریظہ میں پائے جاتے ہیں۔

اغیار سے منافقین کے روابط کا فلسفہ

وہ اہم نکتہ جس کی اس فصل میں تحقیق ھونی چاھئے یہ کہ اغیار سے منافقین کے ارتباط کی حکمت کا پس منظر کیا ہے، وہ کن مضمرات کی بنا پر اس سیاست کے پجاری ہیں، قرآن مجید منافقین کے اغیار سے روابط کی ریشہ یابی کرتے ہوئے دو وجہ کو بیان کر رہا ھے:

1۔ تحصیل عزت

منافقین اپنے اس رویہ و طرز عمل کے ذریعہ محبوبیت و شھرت، عزت و منصب کے طلب گار ہیں، منافقین اغیار کے زیر سایہ خواہشات نفسانی کی تکمیل کے آرزو مند ہیں، شرک کا آشکار ترین جلوہ، وقار و عزت کو کسب کرنے کے لئے غیر (خدا) سے تمسک کرنا ہے۔

۵۸

(و اتّخذوا من دون الله الهةً لیکونوا لهم عزّا) ) 78 (

اور ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر دوسرے خدا اختیار کر لئے ہیں تاکہ وہ ان کے لئے باعث عزت رہے (کیا خیام خیالی ھے!) ۔

اسی طریقہ سے منافقین جو باطن میں مشرک ہیں، اغیار سے وابستگی و تعلقات کے ذریعہ عزت و آبرو کسب کرنا چاہتے ہیں۔

(الذین یتّخذون الکافرون اولیاء من دون المؤمنین أیبتغون عندهم العزة فان العزّة لله جمیعا) ) 79 (

جو لوگ مومنین کو چھوڑ کر کفار کو ولی و سرپرست بناتے ہیں، کیا یہ ان کے پاس عزت تلاش کر رہے ہیں جب کہ ساری عزت صرف اللہ کے لئے ہے۔

خداوند تبارک و تعالی نے عزت کو اپنے لئے مخصوص کر رکھا ہے، پیامبر عظیم المرتبت (ص) اور صاحبان ایمان کی عزت کا سر چشمہ عزت الہی ہے، منافقین عدم ایمان کی بنا پر اس کو درک کرنے سے قاصر ہیں۔

(ولله العزّة و لرسوله و للمؤمنین ولکن المنافقین لا یعلمون) ) 80 (

ساری عزت اللہ، رسول، اور صاحبان ایمان کے لئے ہی ہے اور منافقین یہ جانتے بھی نہیں ہیں۔

---------------

78. سورہ مریم/ 81۔

79. سورہ نساء/ 139۔

80. سورہ منافقون/8۔

۵۹

قرآن کریم فقط اللہ تعالی کے وجود اقدس اور جھان کے حقیقی صاحب عزت (محبوب) سے تمسک کو عزت و عظمت کا سر چشمہ جانتا ہے۔

(من کان یرید العزّة فللّٰه العزّة جمیعا) ) 81 (

جو شخص بھی عزت کا طلب گار ہے وہ یہ سمجھ لے کہ عزت سب پروردگار کے لئے ہے۔

اسی ذیل کی آیت میں پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا گیا ہے کہ تحصیل عزت کا واحد راستہ خدا کی اطاعت و فرمان برداری ہے۔

((ان الله یقول کلّ یوم انا ربّکم العزیز فمن اراد عزّ الدارین فلیطع العزیز)) ) 82 (

خداوند عالم ہر روز اعلان کرتا ہے کہ میں تمھارا عزت دار پروردگار ہوں جو شخص بھی آخرت و دنیا کی عزت کا خواہش مند ہے اسے چاھئے کہ حقیقی صاحب عزت کا مطیع و فرمانبردار ھو۔

شاید کوئی فرد خدا کی اطاعت کئے بغیر کسی اور طریقہ سے عزت کا حصول کر لے، لیکن یہ عزت وقتی و کھوکھلی ہوتی ہے یھی عزت اس کے لئے ذلت کا سبب بن جاتی ہے۔

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

((من اعتز بغیر الله اهلکه العز)) ) 83 (

جو شخص غیر خدا سے عزت یافتہ ہے وہ عزت اس کو تباہ کردے گی۔

-----------

81. سورہ فاطر/ 10۔

82. الدرالمنصور، ص2، ص717۔

83. میزان الحکمہ، ج6، ص298۔

۶۰

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417

418

419

420

421

422

423

424

425

426

427

428

429

430

431

432

433

434

435

436

437

438

439

440

441

442

443

444

445

446

447

448

449

450

451

452

453

454

455

456

457

458

459

460

461

462

463

464

465

466

467

468

469

470

471

472

473

474

475

476

477

478

479

480

481

482

483

484

485

486

487

488

489

490

491

492

493

494

495

496

497

498

499

500

501

502

503

504

505

506

507

508

509

510

511

512

513

514

515

516

517

518

519

520

521

522

523

524

525

526

527

528

529

530

531

532

533

534

535

536

537

538

539

540

541

542

543

544

545

546

547

548

549

550

551

552

553

554

555

556

557

558

559

560

561

562

563

564

565

566

567

568

569

570

571

572

573

574

575

576

577

578

579

580

581

582

583

584

585

586

587

588

589

590

591

592

593

594

595

596

597

598

599

600

601

602

603

604

605

606

607

608

609

610

611

612

613

614

615

616

617

618

619

620

621

622

623

624

625

626

627

628

629

630

631

632

633

634

635

636

637

638

639

640

641

642

643

644

645

646

647

648

649

650

651

652

653

654

655

656

657

658

659

660

661

662

663

664

665

666

667

668

669

670

671

672

673

674

675

676

677

678

679

680

681

682

683

684

685

686

687

688

689

690

691

692

693

694

695

696

697

698

699

700

701

702

703

704

705

706

707

708

709

710

711

712

713

714

715

716

717

718

719

720

721

722

723

724

725

726

727

728

729

730

731

732

733

734

735

736

737

738

739

740

741

742

743

744

745

746

747

748

749

750

751

752

753

754

755

756

757

758

759

760

761

762

763

764

765

766

767

768

769

770

771

772

773

774

775

776

777

778

779

780

781

782

783

784

785

786

787

788

789

790

791

792

793

794

795

796

797

798

799

800

801

802

803

804

805

806

807

808

809

810

811

812

813

814

815

816

817

818

819

820

821

822

823

824

825

826

827

828

829

830

831

832

833

834

835

836

837

838

839

840

841

842

843

844

845

846

847

848

849

850

851

852

853

854

855

856

857

858

859

860

861

862

863