نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)4%

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ) مؤلف:
: علامہ السید ذیشان حیدر جوادی قدس سرہ
زمرہ جات: متن احادیث
صفحے: 863

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 863 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 656726 / ڈاؤنلوڈ: 15924
سائز سائز سائز
نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

ولَا أَنْفَدَ سَعَةَ مَا عِنْدَه - ولَكَانَ عِنْدَه مِنْ ذَخَائِرِ الأَنْعَامِمَا لَا تُنْفِدُه مَطَالِبُ الأَنَامِ - لأَنَّه الْجَوَادُ الَّذِي لَا يَغِيضُه سُؤَالُ السَّائِلِينَ - ولَا يُبْخِلُه إِلْحَاحُ الْمُلِحِّينَ.

صفاته تعالى في القرآن

فَانْظُرْ أَيُّهَا السَّائِلُ - فَمَا دَلَّكَ الْقُرْآنُ عَلَيْه مِنْ صِفَتِه فَائْتَمَّ بِه واسْتَضِئْ بِنُورِ هِدَايَتِه ومَا كَلَّفَكَ الشَّيْطَانُ عِلْمَه - مِمَّا لَيْسَ فِي الْكِتَابِ عَلَيْكَ فَرْضُه - ولَا فِي سُنَّةِ النَّبِيِّصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وأَئِمَّةِ الْهُدَى أَثَرُه - فَكِلْ عِلْمَه إِلَى اللَّه سُبْحَانَه - فَإِنَّ ذَلِكَ مُنْتَهَى حَقِّ اللَّه عَلَيْكَ - واعْلَمْ أَنَّ الرَّاسِخِينَ فِي الْعِلْمِ هُمُ الَّذِينَ أَغْنَاهُمْ - عَنِ اقْتِحَامِ السُّدَدِ الْمَضْرُوبَةِ دُونَ الْغُيُوبِ - الإِقْرَارُ بِجُمْلَةِ مَا جَهِلُوا تَفْسِيرَه مِنَ الْغَيْبِ الْمَحْجُوبِ فَمَدَحَ اللَّه تَعَالَى اعْتِرَافَهُمْ بِالْعَجْزِ -

!

اور نہ اس کے خزانوں کی وسعت میں کوئی کمی آسکتی ہے ۔اوراس کے پاس نعمتوں کے وہ خزانے رہ جائی گے جنہیں مانگ نے والوں کے مطالبات ختم نہیں کر سکتے ہیں۔اس لئے کہ وہ ایسا جواد و کریم ہے کہ نہ سائلوں کا سوال اس کے یہاں کمی پیدا کر سکتا ہے اور نہ مفلسوں کا اصرار اسے بخیل بنا سکتا ہے۔

قرآن مجید میں صفات پروردگار

صفات خدا کے بارے میں سوال کرنے والو! قرآن مجید نے جن صفات) ۱ ( کی نشان دہی کی ہے انہیں کا اتباع کرو۔اوراسی کے نور ہدایت کے سے روشنی حاصل کرو اور جس علم کی طرف شیطان متوجہ کرے اور اس کا کوئی فریضہ نہ کتاب الٰہی میں موجود ہو اور نہ سنت پیغمبر (ص) اور ارشادات ائمہ ہدیٰ میں تو اس کا علم پروردگار کے حوالے کردو کہ۔یہی اس کے حق کی آخری حد ہے اور یہ یاد رکھو کہ راسخون فی العلم وہی افراد ہیں جنہیں غیب الٰہی کے سامنے پڑے ہوئے پردوں کے اندر درانہ داخل ہونے سے اس امر نے بے نیاز بنادیا ہے کہ وہ اس پوشیدہ غیب کا اجمالی اقرار رکھتے ہیں اور پروردگار نے ان کے اسی جذبہ کی تعریف کی ہے کہ جس چیز کو ان کا علم احاطہ نہیں کر سکتا اس کے بارے میں اپنی عاجزی کا اقرار کر لیتے ہیں اور اسی

(۱)اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قرآن مجید نے جتنے صفات بیان کردئیے ہیں ان کے علاوہ دیگراسماء و صفات کا اطلاق نہیں ہوسکتا ہے جیسا کہ بعض علماء اعلام کا خیال ہے۔کہ اسماء الہیہ توقیفہ ہیں اور نصوص آیات و روایات کے بغیر کسی نام یا صفت کا اطلاق جائز نہیں ہے۔بلکہ اس ارشاد کا واضح سا مفہوم یہ ہے کہ جن صفات کی قرآن کریم نے نفی کردی ہے ان کا اطلاق جائز نہیں ہے چاہے کسی زبان اور کسی لہجہ ہی میں کیوں نہ ہو۔

۱۴۱

عَنْ تَنَاوُلِ مَا لَمْ يُحِيطُوا بِه عِلْماً - وسَمَّى تَرْكَهُمُ التَّعَمُّقَ - فِيمَا لَمْ يُكَلِّفْهُمُ الْبَحْثَ عَنْ كُنْهِه رُسُوخاً

فَاقْتَصِرْ عَلَى ذَلِكَ - ولَا تُقَدِّرْ عَظَمَةَ اللَّه سُبْحَانَه عَلَى قَدْرِ عَقْلِكَ - فَتَكُونَ مِنَ الْهَالِكِينَ هُوَ الْقَادِرُ الَّذِي إِذَا ارْتَمَتِ الأَوْهَامُ لِتُدْرِكَ مُنْقَطَعَ قُدْرَتِه - وحَاوَلَ الْفِكْرُ الْمُبَرَّأُ مِنْ خَطَرَاتِ الْوَسَاوِسِ - أَنْ يَقَعَ عَلَيْه فِي عَمِيقَاتِ غُيُوبِ مَلَكُوتِه - وتَوَلَّهَتِ الْقُلُوبُ إِلَيْه لِتَجْرِيَ فِي كَيْفِيَّةِ صِفَاتِه - وغَمَضَتْ مَدَاخِلُ الْعُقُولِ فِي حَيْثُ لَا تَبْلُغُه الصِّفَاتُ - لِتَنَاوُلِ عِلْمِ ذَاتِه رَدَعَهَا وهِيَ تَجُوبُ مَهَاوِيَ سُدَف ِ الْغُيُوبِ مُتَخَلِّصَةً إِلَيْه سُبْحَانَه فَرَجَعَتْ إِذْ جُبِهَتْ مُعْتَرِفَةً - بِأَنَّه لَا يُنَالُ بِجَوْرِ الِاعْتِسَافِ كُنْه مَعْرِفَتِه - ولَا تَخْطُرُ بِبَالِ أُولِي الرَّوِيَّاتِ خَاطِرَةٌ مِنْ تَقْدِيرِ جَلَالِ عِزَّتِه الَّذِي ابْتَدَعَ الْخَلْقَ عَلَى غَيْرِ مِثَالٍ امْتَثَلَه ولَا مِقْدَارٍ احْتَذَى عَلَيْه مِنْ خَالِقٍ مَعْبُودٍ كَانَ قَبْلَه - وأَرَانَا مِنْ مَلَكُوتِ قُدْرَتِه - وعَجَائِبِ مَا نَطَقَتْ بِه آثَارُ حِكْمَتِه - واعْتِرَافِ الْحَاجَةِ مِنَ الْخَلْقِ

صفت کو اس نے رسوخ سے تعبیر کیا ہے کہ جس بات کی تحقیق ان کے ذمہ نہیں ہے اس کی گہرائیوں میں جانے کاخیال نہیں رکھتے ہیں۔

تم بھی اسی بات پراکتفا کرو اور اپنی عقل کے مطابق عظمت الٰہی کا اندازہ نہ کرو کہ ہلاک ہونے والوں میں شمار ہو جائو۔ دیکھو و ایسا قادر ہے کہ جب فکریں اس کی قدرت کی انتہا معلوم کرنے کے لئے آگے بڑھتی ہیں اور ہر طرح کے وسوسہ سے پاکیزہ خیال اس کی سلطنت کے پوشیدہ اسرار کو اپنی زد میں لانا چاہتا ہے اور دل والہانہ طور پر اس کے صفات کی کیفیت معلوم کرنے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اورعقل کی راہیں اس کی ذات کاعلم حاصل کرنے کے لئے صفات کی رسائی سے آگے بڑھنا چاہتی ہیں تو وہ انہیں اس عالم میں مایوس واپس کردیتا ہے کہ وہ عالم غیب کی گہرائیوں کی راہیں طے کر رہی ہوتی ہیں اورمکمل طور پر اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں عقلیں اس اعتراف کے ساتھ پلٹ آتی ہیں کہ غلط فکروں سے اس کی معرفت کی حقیقت کا ادراک نہیں ہوسکتا ہے اور صاحبان فکر کے دلوں میں اس کے جلال و عزت کا ایک کرشمہ بھی خطور نہیں کر سکتا ہے۔اس نے مخلوقات کو بغیر کسی نمونہ کو نگاہ میں رکھے ہوئے ایجاد کیا ہے اور کسی ماسبق کے خالق و معبود کے نقشہ کے بغیر پیدا کیا ہے۔اس نے اپنی قدرت کے اختیارات ' اپنی حکمت کے منہ بولتے آثار اورمخلوقات کے

۱۴۲

إِلَى أَنْ يُقِيمَهَا بِمِسَاكِ قُوَّتِه - مَا دَلَّنَا بِاضْطِرَارِ قِيَامِ الْحُجَّةِ لَه عَلَى مَعْرِفَتِه - فَظَهَرَتِ الْبَدَائِعُ - الَّتِي أَحْدَثَتْهَا آثَارُ صَنْعَتِه وأَعْلَامُ حِكْمَتِه - فَصَارَ كُلُّ مَا خَلَقَ حُجَّةً لَه ودَلِيلًا عَلَيْه - وإِنْ كَانَ خَلْقاً صَامِتاً فَحُجَّتُه بِالتَّدْبِيرِ نَاطِقَةٌ - ودَلَالَتُه عَلَى الْمُبْدِعِ قَائِمَةٌ

فَأَشْهَدُ أَنَّ مَنْ شَبَّهَكَ بِتَبَايُنِ أَعْضَاءِ خَلْقِكَ - وتَلَاحُمِ حِقَاقِ مَفَاصِلِهِمُ الْمُحْتَجِبَةِ لِتَدْبِيرِ حِكْمَتِكَ - لَمْ يَعْقِدْ غَيْبَ ضَمِيرِه عَلَى مَعْرِفَتِكَ - ولَمْ يُبَاشِرْ قَلْبَه الْيَقِينُ بِأَنَّه لَا نِدَّ لَكَ - وكَأَنَّه لَمْ يَسْمَعْ تَبَرُّؤَ التَّابِعِينَ مِنَ الْمَتْبُوعِينَ - إِذْ يَقُولُونَ «تَا لله إِنْ كُنَّا لَفِي ضَلالٍ مُبِينٍ - إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعالَمِينَ» - كَذَبَ الْعَادِلُونَ بِكَ إِذْ شَبَّهُوكَ بِأَصْنَامِهِمْ - ونَحَلُوكَ حِلْيَةَ الْمَخْلُوقِينَ بِأَوْهَامِهِمْ

لئے اس کے سہارے کی احتیاج کے اقرارکے ذریعہ اس حقیقت کو بے نقاب کردیا ہے کہ ہم اس کی معرفت پردلیل قائم ہونے کا اقرار کرلیں کہ جن جدید ترین اشیاء کو اس کے آثار صنعت نے ایجاد کیا ہے اور نشان ہائے حکمت نے پیدا کیا ہے وہ سب بالکل واضح ہیں اور ہر مخلوق اس کے وجود کے لئے ایک مستقل حجت اور دلیل ہے کہ اگر وہ خاموش(۱) بھی ہے تو اس کی تدبیر بول رہی ہے اور اس کی دلالت ایجاد کرنے والے پر قائم ہے۔

خدایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ جس نے بھی تیری مخلوقات کے اعضاء کے اختلاف اور ان کے جوڑوں کے سروں کے ملنے سے تیری حکمت کی تدبیر کے لئے تیری شبیہ قراردیا۔اس نے اپنے ضمیر کے غیب کو تیری معرفت سے وابستہ نہیں کیا اور اس کے دل میں یہ یقین پیوست نہیں ہوا کہ تیرا کوئی مثل نہیں ہے اورگویا اس نے یہ پیغام نہیں سنا کہ ایک دن مرید اپنے پیرو مرشد سے یہ کہہ کر بیزاری کریں گے کہ '' بخدا ہم کھلی ہوئی گمراہی میں تھے جب تم کو رب العالمین کے برابر قرار دے رہے تھے۔بے شک تیرے برابر قراردینے والے جھوٹے ہیں کہ انہوں نے تجھے اپنے اصنام سے تشبیہ دی ہے اور اپنے او ہام کی بنا پر تجھے مخلوقات کا حلیہ عطا کردیا ہے اور اپنے خیالات

(۱)انسان کی غفلت کی آخری حد یہ ہے کہ وہ وجود و حکمت الٰہی کی دلیل تلاش کر رہا ہے جب کہ اس نے ادنیٰ تامل سے کام لیا ہوتا تو اسے اندازہ ہو جاتا کہ جس نگاہ سے آثار قدرت کو تلاش کر رہا ہے۔اور جس دماغ سے دلائل حکمت کی جستجو کر رہا ہے یہ دونوں اپنی زبان بے زبانی سے آواز دے رہے ہیں کہ اگر کوئی خالق حکیم اور رصانع کریم نہ ہوتا تو ہمارا وجود بھی نہ ہوتا۔ہم اس کی عظمت و حکمت کے بہترین گواہ ہیں۔ہمارے ہوتے ہوئے دلائل حکمت و عظمت کا تلاش کرنا بغل میں کٹورہ رکھ کر شہرمیں ڈھنڈورہ پیٹنے کے مترادف ہے اوریہ کار عقلا ء نہیں ہے۔

۱۴۳

وجَزَّءُوكَ تَجْزِئَةَ الْمُجَسَّمَاتِ بِخَوَاطِرِهِمْ - وقَدَّرُوكَ عَلَى الْخِلْقَةِ الْمُخْتَلِفَةِ الْقُوَى بِقَرَائِحِ عُقُولِهِمْ - وأَشْهَدُ أَنَّ مَنْ سَاوَاكَ بِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِكَ فَقَدْ عَدَلَ بِكَ - والْعَادِلُ بِكَ كَافِرٌ بِمَا تَنَزَّلَتْ بِه مُحْكَمَاتُ آيَاتِكَ - ونَطَقَتْ عَنْه شَوَاهِدُ حُجَجِ بَيِّنَاتِكَ - وإِنَّكَ أَنْتَ اللَّه الَّذِي لَمْ تَتَنَاه فِي الْعُقُولِ - فَتَكُونَ فِي مَهَبِّ فِكْرِهَا مُكَيَّفاً ولَا فِي رَوِيَّاتِ خَوَاطِرِهَا فَتَكُونَ مَحْدُوداً مُصَرَّفاً

ومنها

قَدَّرَ مَا خَلَقَ فَأَحْكَمَ تَقْدِيرَه ودَبَّرَه فَأَلْطَفَ تَدْبِيرَه ووَجَّهَه لِوِجْهَتِه فَلَمْ يَتَعَدَّ حُدُودَ مَنْزِلَتِه - ولَمْ يَقْصُرْ دُونَ الِانْتِهَاءِ إِلَى غَايَتِه - ولَمْ يَسْتَصْعِبْ إِذْ أُمِرَ بِالْمُضِيِّ عَلَى إِرَادَتِه - فَكَيْفَ وإِنَّمَا صَدَرَتِ الأُمُورُ عَنْ مَشِيئَتِه - الْمُنْشِئُ أَصْنَافَ الأَشْيَاءِ بِلَا رَوِيَّةِ فِكْرٍ آلَ إِلَيْهَا - ولَا قَرِيحَةِ غَرِيزَةٍ أَضْمَرَ عَلَيْهَا - ولَا تَجْرِبَةٍ أَفَادَهَا مِنْ حَوَادِثِ الدُّهُورِ - ولَا شَرِيكٍ أَعَانَه عَلَى ابْتِدَاعِ عَجَائِبِ الأُمُورِ

کی بنا پرمجسموں کی طرح تیرے ٹکڑے کردئیے ہیں اور اپنی عقلوں کی سوجھ بوجھ سے تجھے مختلف طاقتوں والی مخلوقات کے پیمانے پر ناپ تول دیا ہے۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ جس نے بھی تجھے کسی کے برابر قراردیا ہے اس نے تیرا ہمسر بنادیا اور جسنے تیرا ہمسر بنادیا اسنے آیات محکمات کی تنزیل کا انکار کردیا ہے اور واضح ترین دلائل کے بیانات کو جھٹلا دیا ہے۔بے شک تو وہ خدا ہے جو عقلوں کی حدوں میں نہیں آسکتا ہے کہ افکار کی روانی میں کیفیوں کی زد میں آجائے او نہ غورو فکر کی جولانیوں میں سما سکتا ہے کہ محدود اورتصرفات کا پابند ہوجائے۔

(ایک دوسرا حصہ )

مالک نے ہر مخلوق کی مقدار معین کی ہے اور محکم ترین معین کی ہے اور ہر ایک کی تدبیر کی ہے اور لطیف ترین تدبیر کی ہے ہرایک کو ایک رخ پر لگا دیا ہے تو اس نے اپنی منزلت کے حدود سے تجاوز بھی نہیں کیا ہے اور انتہا تک پہنچنے میں کوتاہی بھی نہیں کی ہے اور مالک کے ارادہ پر چلنے کا حکم دے دیا گیا تو اس سے سرتابی بھی نہیں کی ہے اور یہ ممکن بھی کیسے تھا جب کہ سب اس کی مشیت سے منظر عام پرآئے ہیں۔وہ تمام اشیاء کا ایجاد کرنے والا ہے بغیر اس کے کہ فکر کی جولانیوں کی طرف رجوع کرے یا طبیعت کی داخلی روانی کا سہارا لے یا حوادث زمانہ کے تجربات سے فائدہ اٹھائے عجیب و غریب مخلوقات کے بنانے میں کسی شریک کی مدد کا محتاج ہو۔

اس کی مخلوقات اس کے امر سے تمام ہوئی ہے

۱۴۴

فَتَمَّ خَلْقُه بِأَمْرِه وأَذْعَنَ لِطَاعَتِه وأَجَابَ إِلَى دَعْوَتِه لَمْ يَعْتَرِضْ دُونَه رَيْثُ الْمُبْطِئِ ولَا أَنَاةُ الْمُتَلَكِّئِ فَأَقَامَ مِنَ الأَشْيَاءِ أَوَدَهَا ونَهَجَ حُدُودَهَا - ولَاءَمَ بِقُدْرَتِه بَيْنَ مُتَضَادِّهَا - ووَصَلَ أَسْبَابَ قَرَائِنِهَا وفَرَّقَهَا أَجْنَاساً - مُخْتَلِفَاتٍ فِي الْحُدُودِ والأَقْدَارِ والْغَرَائِزِ والْهَيْئَاتِ - بَدَايَا خَلَائِقَ أَحْكَمَ صُنْعَهَا وفَطَرَهَا عَلَى مَا أَرَادَ وابْتَدَعَهَا!

ومنها في صفة السماء

ونَظَمَ بِلَا تَعْلِيقٍ رَهَوَاتِ فُرَجِهَا ولَاحَمَ صُدُوعَ انْفِرَاجِهَا .ووَشَّجَ بَيْنَهَا وبَيْنَ أَزْوَاجِهَا وذَلَّلَ لِلْهَابِطِينَ بِأَمْرِه - والصَّاعِدِينَ بِأَعْمَالِ خَلْقِه حُزُونَةَ مِعْرَاجِهَا - ونَادَاهَا بَعْدَ إِذْ هِيَ دُخَانٌ فَالْتَحَمَتْ عُرَى أَشْرَاجِهَا وفَتَقَ بَعْدَ الِارْتِتَاقِ صَوَامِتَ أَبْوَابِهَا - وأَقَامَ رَصَداً مِنَ الشُّهُبِ الثَّوَاقِبِ عَلَى نِقَابِهَا وأَمْسَكَهَا مِنْ أَنْ تُمُورَ فِي خَرْقِ الْهَوَاءِ بِأَيْدِه وأَمَرَهَا أَنْ تَقِفَ مُسْتَسْلِمَةً لأَمْرِه وجَعَلَ شَمْسَهَا آيَةً مُبْصِرَةً لِنَهَارِهَا

اور اس کی اطاعت میں سربسجود ہے۔اس کی دعوت پر لبیک کہتی ہے اور اس راہ میں نہ دیر کرنے والے کی سستی کاشکار ہوتی ہے اور نہ حیلہ و حجت کرنے والے کی ڈھیل میںمبتلا ہوتی ہے ۔اس نے اشیاء کی کجی کو سیدھا رکھا ہے۔ان کے حدود کو مقررکردیا ہے۔اپنی قدرت سے ان کے متضاد عناصر میں تناسب پیدا کردیا ہے اور نفس و بدن کا رشتہ جوڑ دیا ہے ۔انہیں حدود و مقادیر' طبائع و ہیات کی مختلف جنسوں میں تقسیم کردیا ہے۔یہ نو ایجاد مخلوق ہے جس کی صنعت مستحکم رکھی ہے اور اس کی فطرت و خلقت کو اپنے ارادہ کے مطابق رکھا ہے۔

(کچھ آسمان کے بارے میں)

اس نے بغیر کسی چیز سے وابستہ کئے آسمانوں کے نشیب و فراز کو منظم کرادیا ہے اور اس کے شگافوں کوملا دیا ہے اور انہیں آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ جکڑ دیا ہے اور اس کا حکم لے کر اترنے والے اور بندوں کے اعمال کو لے کر جانے والے فرشتوں کے لئے بلندی کی نا ہمواریوں کو ہموار کردیا ہے۔ابھی یہ آسمان دھوئیں کی شکل میں تھے کہ مالک نے انہیں آواز دی اور ان کے تسموں کے رشتے آپس میں جڑ گئے اور ان کے دروازے بند رہنے کے بعد کھل گئے۔پھر اس نے ان کے سوراخوں پر ٹوٹتے ہوئے ستاروں کے نگہبان کھڑے کر دئیے اور اپنے دست قدرت سے اس امر سے روک دیا کہ ہوا کے پھیلائو میں ادھرادھرچلے جائیں۔ انہیں حکم دیاکہ اس کے حکم کے سامنے سرپا تسلیم کھڑے رہیں ۔ان کے آفتاب کودن کے لئے روشن نشانی

۱۴۵

وقَمَرَهَا آيَةً مَمْحُوَّةً مِنْ لَيْلِهَا - وأَجْرَاهُمَا فِي مَنَاقِلِ مَجْرَاهُمَا - وقَدَّرَ سَيْرَهُمَا فِي مَدَارِجِ دَرَجِهِمَا - لِيُمَيِّزَ بَيْنَ اللَّيْلِ والنَّهَارِ بِهِمَا - ولِيُعْلَمَ عَدَدُ السِّنِينَ والْحِسَابُ بِمَقَادِيرِهِمَا - ثُمَّ عَلَّقَ فِي جَوِّهَا فَلَكَهَا ونَاطَ بِهَا زِينَتَهَا - مِنْ خَفِيَّاتِ دَرَارِيِّهَا ومَصَابِيحِ كَوَاكِبِهَا - ورَمَى مُسْتَرِقِي السَّمْعِ بِثَوَاقِبِ شُهُبِهَا - وأَجْرَاهَا عَلَى أَذْلَالِ تَسْخِيرِهَا مِنْ ثَبَاتِ ثَابِتِهَا - ومَسِيرِ سَائِرِهَا وهُبُوطِهَا وصُعُودِهَا ونُحُوسِهَا وسُعُودِهَا.

ومنها في صفة الملائكة

ثُمَّ خَلَقَ سُبْحَانَه لإِسْكَانِ سَمَاوَاتِه - وعِمَارَةِ الصَّفِيحِ الأَعْلَى مِنْ مَلَكُوتِه - خَلْقاً بَدِيعاً مِنْ مَلَائِكَتِه - ومَلأَ بِهِمْ فُرُوجَ فِجَاجِهَا وحَشَا بِهِمْ فُتُوقَ أَجْوَائِهَا وبَيْنَ فَجَوَاتِ تِلْكَ الْفُرُوجِ زَجَلُ الْمُسَبِّحِينَ - مِنْهُمْ فِي حَظَائِرِالْقُدُسِ وسُتُرَاتِ الْحُجُبِ،

اورماہتاب کو رات کی دھندلی نشانی قراردے دیا اور دونوں کو ان کے بہائو کی منزل پرڈال دیا ہے اور ان کی گزر گاہوں میں رفتارکی مقدار معین کردی ہے تاکہ ان کے ذریعہ دن اور رات کا امتیاز قائم ہو سکے اور ان کی مقدار سے سال وغیرہ کا حساب کیا جا سکے۔پھر فضائے بسیط میں سب کے مدار معلق کردئیے اور ان سے اس زینت کو وابستہ کردیا جو چھوٹے چھوٹے تاروں اوربڑے بڑے ستاروں کے چراغوں سے پیدا ہوئی تھی۔آوازوں کے چرانے والوں کے لئے ٹوٹتے تاروں سے سنگسار کا انتظام کردیا اور انہیں بھی اپنے جبر و قہر کی راہوں پر لگا دیا کہ جو ثابت ہیں وہ ثابت رہیں۔جو سیار ہیں وہ سیار رہیں۔بلند و پست نیک و بدسب اسی کی مرضی کے تابع رہیں ۔

(اوصاف ملائکہ کا حصہ)

اس کے بعد اس نے آسمانوں کوآباد کرنے اوراپنی سلطنت کے بلند ترین طبقہ کو بسانے(۱) کیلئے ملائکہ جیسی انوکھی مخلوق کو پیدا کیا اور ان سے آسمانی راستوں کے شگافتوں کو پر کردیا اورفضا کی پہنائیوں کو معمور کردیا۔انہیں شگافوں کے درمیان تسبیح کرنے والے فرشتوں کی آوازیں قدس کی چار دیواری ' عظمت کے

(۱)واضح رہے کہ ملائکہ اور جنات کا مسئلہ غیبیات سے تعلق رکھتاہے اوراس کاعلم دنیا کے عام وسائل کے ذریعہ ممکن نہیں ہے۔قرآن مجید نے ایمان کے لئے غیب کے قارار کو شرط اساسی قراردیا ہے لہٰذا اس مسئلہ کا تعلق صرف صاحبان ایمان سے ہے۔دیگر افراد کے لئے دیگر ارشادات امام سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔لیکن اتنی بات تو بہر حال واضح ہو چکی ہے کہ آسمانوں کے اندر آبادیاں پائی جاتی ہیں اور یہاں کے افراد کا وہاں زندہ نہ رہ سکنا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہاں کے باشندے بھی زندہ نہ رہ سکیں۔مالک نے ہر جگہ کے باشندہ میں وہاں کے اعتبار سے صلاحیت حیات رکھی ہے اور اس سامان زندگی عنایت فرمایا ہے۔امام صادق کا ارشاد گرامی ہے کہ پروردگار عالم نے دس لاکھ عالم پیدا کئے ہیں اور دس لاکھ آدم ۔اور ہماری زمین کے باشندے آخری آدم کی اولاد میں ہیں (الہیتہ و الا سلام شہرستانی)

۱۴۶

وسُرَادِقَاتِ الْمَجْدِ - ووَرَاءَ ذَلِكَ الرَّجِيجِ الَّذِي تَسْتَكُّ مِنْه الأَسْمَاعُ - سُبُحَاتُ نُورٍ تَرْدَعُ الأَبْصَارَ عَنْ بُلُوغِهَا - فَتَقِفُ خَاسِئَةً عَلَى حُدُودِهَا -. وأَنْشَأَهُمْ عَلَى صُوَرٍ مُخْتَلِفَاتٍ وأَقْدَارٍ مُتَفَاوِتَاتٍ -( أُولِي أَجْنِحَةٍ ) تُسَبِّحُ جَلَالَ عِزَّتِه - لَا يَنْتَحِلُونَ مَا ظَهَرَ فِي الْخَلْقِ مِنْ صُنْعِه - ولَا يَدَّعُونَ أَنَّهُمْ يَخْلُقُونَ شَيْئاً مَعَه مِمَّا انْفَرَدَ بِه -( بَلْ عِبادٌ مُكْرَمُونَ لا يَسْبِقُونَه بِالْقَوْلِ وهُمْ بِأَمْرِه يَعْمَلُونَ ) - جَعَلَهُمُ اللَّه فِيمَا هُنَالِكَ أَهْلَ الأَمَانَةِ عَلَى وَحْيِه - وحَمَّلَهُمْ إِلَى الْمُرْسَلِينَ وَدَائِعَ أَمْرِه ونَهْيِه - وعَصَمَهُمْ مِنْ رَيْبِ الشُّبُهَاتِ - فَمَا مِنْهُمْ زَائِغٌ عَنْ سَبِيلِ مَرْضَاتِه - وأَمَدَّهُمْ بِفَوَائِدِ الْمَعُونَةِ - وأَشْعَرَ قُلُوبَهُمْ تَوَاضُعَ إِخْبَاتِ السَّكِينَةِ - وفَتَحَ لَهُمْ أَبْوَاباً ذُلُلًا إِلَى تَمَاجِيدِه - ونَصَبَ لَهُمْ مَنَاراً وَاضِحَةً عَلَى أَعْلَامِ تَوْحِيدِه - لَمْ تُثْقِلْهُمْ مُؤْصِرَاتُ الآثَامِ - ولَمْ تَرْتَحِلْهُمْ عُقَبُ اللَّيَالِي والأَيَّامِ - ولَمْ تَرْمِ الشُّكُوكُ بِنَوَازِعِهَا عَزِيمَةَ إِيمَانِهِمْ - ولَمْ تَعْتَرِكِ الظُّنُونُ عَلَى مَعَاقِدِ يَقِينِهِمْ

حجابات ' بزرگی کے سرا پردوں کے پیچھے گونج رہی ہیں اوہر اس گونج کے پیچھے جس سے کان کے پردے پھٹ جاتے ہیں۔نور کی وہ تجلیاں ہیں جو نگاہوں کو وہاں تک پہنچنے سے روک دیتی ہیں اوروہ ناکام ہو کر اپنی حدود پر ٹھہر جاتی ہے۔ اس نے ان فرشتوں کو مختلف شکلوں اور الگ الگ پیمانوں کے مطابق پیدا کیا ہے۔انہیں بال و پر عنایت کئے ہیں اوروہ اس کے جلال و عزت کی تسبیح میں مصروف ہیں۔مخلوقات میں اس کی نمایاں صنعت کو اپنی طرف منسوب نہیں کرتے ہیں۔اور کسی چیز کی تخلیق کا ادعا نہیں کرتے ہیں۔یہ اللہ کے محترم بندے ہیں جو اس پر کسی بات میں سبقت نہیں کرتے ہیں اور اسی کے حکم کے مطابق عمل کر رہے ہیں ''۔اللہ نے انہیں اپنی وحی کا امین بنایا ہے اورمرسلین کی طرف اپنے امرو نہی کی امانتوں کا حامل قرار دیا ہے۔انہیں شکوک و شبہات سے محفوظ رکھا ہے کہ کوئی بھی اس کی مرضی کی راہ سے انحراف کرنے والا نہیں ہے۔سب کواپنی کارآمد امداد سے نوازا ہے اور سب کے دل میں عاجزی اور شکستگی کی تواضع پیدا کردی ہے ۔ ان کے لئے اپنی تمجید کی سہولت کے دروازے کھول دئیے ہیں اور توحید کی نشانیوں کے لئے واضح منارے قائم کردئیے ہیں۔ان پر گناہوں کا بوجھ بھی نہیں ہے اور انہیں شب و روز کی گردشیں اپنے ارادوں پرچلا بھی نہیں سکتی ہیں۔شکوک و شبہات ان کے مستحکم ایمان کو اپنے خیالات کے تیروں کا نشانہ بھی نہیں بنا سکتے ہیں اور وہم و گمان ان کے یقین کی پختگی پرحملہ آور بھی نہیں ہوسکتے

۱۴۷

ولَا قَدَحَتْ قَادِحَةُ الإِحَنِ فِيمَا بَيْنَهُمْ - ولَا سَلَبَتْهُمُ الْحَيْرَةُ مَا لَاقَ مِنْ مَعْرِفَتِه بِضَمَائِرِهِمْ - ومَا سَكَنَ مِنْ عَظَمَتِه وهَيْبَةِ جَلَالَتِه فِي أَثْنَاءِ صُدُورِهِمْ - ولَمْ تَطْمَعْ فِيهِمُ الْوَسَاوِسُ فَتَقْتَرِعَ بِرَيْنِهَا عَلَى فِكْرِهِمْ ومِنْهُمْ مَنْ هُوَ فِي خَلْقِ الْغَمَامِ الدُّلَّحِ وفِي عِظَمِ الْجِبَالِ الشُّمَّخِ وفِي قَتْرَةِ الظَّلَامِ الأَيْهَمِ ومِنْهُمْ مَنْ قَدْ خَرَقَتْ أَقْدَامُهُمْ تُخُومَ الأَرْضِ السُّفْلَى - فَهِيَ كَرَايَاتٍ بِيضٍ قَدْ نَفَذَتْ فِي مَخَارِقِ الْهَوَاءِ - وتَحْتَهَا رِيحٌ هَفَّافَةٌ تَحْبِسُهَا عَلَى حَيْثُ انْتَهَتْ مِنَ الْحُدُودِ الْمُتَنَاهِيَةِ - قَدِ اسْتَفْرَغَتْهُمْ أَشْغَالُ عِبَادَتِه - ووَصَلَتْ حَقَائِقُ الإِيمَانِ بَيْنَهُمْ وبَيْنَ مَعْرِفَتِه وقَطَعَهُمُ الإِيقَانُ بِه إِلَى الْوَلَه إِلَيْه

ہیں۔ان کے درمیان حسد کی چنگاری بھی نہیں بھڑکتی ہے اورحیرت و استعجاب ان کے ضیمروں کی معرفت کو سلب بھی نہیں کر سکتے ہیں اور ان کے سینوں میں چھپے ہوئے عظمت دہیب و جلالت الٰہی کے ذخیروں کو چھین بھی نہیں سکتے ہیں اور وسوسوں نے کبھی یہ سوچا بھی نہیں ہے کہ ان کی فکر کو زنگ آلود بنا دیں ان میں بعض وہ ہیں جنہیں بوجھل بادلوں ۔بلند ترین پہاڑوں اور تاریک ترین ظلمتوں کے پردوں میں رکھا ہے اور بعض وہ ہیں جن کے پیروں نے) ۱ ( زمین کے آخری طبقہ کو پارہ کردیا ہے اور وہ ان سفید پرچموں جیسے ہیں جو فضا کی وسعتوں کو چیر کرباہر نکل گئے ہوں۔جن کے نیچے ایک ہلکی ہوا ہو جوانہیں ان کی حدوں پر روکے رہے۔انہیں عبادت کی مشغولیت نے ہر) ۲ ( چیز سے بے فکربنادیا ہے اور ایمان کے حقائق نے ان کے اور معرفت کے درمیان گہرا رابطہ پیدا کردیا ہے۔اور یقین کامل نے ہر چیز سے رشتہ توڑ کر انہیں مالک کی طرف مشتاق بنادیا ہے۔

(۱)بعض علماء نے اس کی یہ تاویل کی ہے کہ ملائکہ کا علم زمین و آسمان کے تمام طبقات کو محیط ہے لیکن بظاہر اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔جب ان کا جسم نورانی ہے اور اس پر مادیات کادبائو نہیں ہے تو ان کا جسم لطیف مادیات کے تمام حدود کو توڑ سکتا ہے اور اس میں کوئی بات خلاف عقل نہیں ہے۔نورانیت میں مختلف اشکال اختیار کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہیں اور وہ مختلف صورتوں میں سامنے آسکتے ہیں۔

ملائکہ کے نورانی اجسام کی وسعت حیرت انگیز نہیں ہے وہ زمین کی آخری تہ سے آسمان کی آخری بلندی تک احاطہ کر سکتے ہیں۔حیرت انگیز اس کسا یمانی کی وسعت ہے جس میں اس گروہملائکہ کا سردار بھی سما جاتا ہے اورچادر کی وسعت پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔

(۲)ظاہر ہے کہ جس کی زندگی میں دنیا کے مسائل تجارت و زراعت ' ملازمت و صنعت اور رشتہ وقرابت شامل نہ ہوں اس سے زیادہ عبادت کون کر سکتا ہے اور اس سے زیادہ عبادات کو کون وقت دے سکتا ہے۔یہ اوربات ہے کہ بعض اللہ کے بندے ایسے بھی ہیں جن کی زندگی میں زراعت بھی ہے اور تجارت بھی صنعت بھی ہے اور سیاست بھی ۔رشتہ بھی ہے اورقرابت بھی لیکن اس کے باوجود اتنی عبادت کرتے ہیں کہ مالک کو آرام کرنے کاحکم دینا پڑتا ہے اور ان کی ایک ضربت عبادت ثقلین پر بھاری ہو جاتی ہے یا وہ ایک نیند سے مرضی معبود کاسودا کر لیتے ہیں۔

۱۴۸

ولَمْ تُجَاوِزْ رَغَبَاتُهُمْ مَا عِنْدَه إِلَى مَا عِنْدَ غَيْرِه - قَدْ ذَاقُوا حَلَاوَةَ مَعْرِفَتِه - وشَرِبُوا بِالْكَأْسِ الرَّوِيَّةِ مِنْ مَحَبَّتِه - وتَمَكَّنَتْ مِنْ سُوَيْدَاءِ قُلُوبِهِمْ وَشِيجَةُ خِيفَتِه - فَحَنَوْا بِطُولِ الطَّاعَةِ اعْتِدَالَ ظُهُورِهِمْ - ولَمْ يُنْفِدْ طُولُ الرَّغْبَةِ إِلَيْه مَادَّةَ تَضَرُّعِهِمْ - ولَا أَطْلَقَ عَنْهُمْ عَظِيمُ الزُّلْفَةِ رِبَقَ خُشُوعِهِمْ - ولَمْ يَتَوَلَّهُمُ الإِعْجَابُ فَيَسْتَكْثِرُوا مَا سَلَفَ مِنْهُمْ - ولَا تَرَكَتْ لَهُمُ اسْتِكَانَةُ الإِجْلَالِ - نَصِيباً فِي تَعْظِيمِ حَسَنَاتِهِمْ - ولَمْ تَجْرِ الْفَتَرَاتُ فِيهِمْ عَلَى طُولِ دُءُوبِهِمْ ولَمْ تَغِضْ رَغَبَاتُهُمْ فَيُخَالِفُوا عَنْ رَجَاءِ رَبِّهِمْ -

ان کی رغبتیں مالک کی نعمتوں سے ہٹ کر کسی اور کی طرف نہیں ہیں کہ انہوں نے معرفت کی حلاوت کامزہ چکھ لیا ہے اور محبت کے سیراب کرنے والے جام سے سر شار ہوگئے ہیں ۔اور ان کے دلوں کی تہ میں اس کا خوف جڑ پکڑ چکا ہے جس کی بنا پر انہوں نے مسلسل اطاعت سے اپنی سیدھی کمروں کو خمیدہ بنالیا ہے اور طول رغبت(۱) کے باوجود ان کے تضرع و زاری کاخزانہ ختم نہیں ہوا ہے اور نہ کمال تقرب کے باوجود ان کے خشوع کی رسیاں ڈھلی ہوئی ہیں اورنہ خود پسندی نے ان پر غلبہ حاصل کیا ہے کہ وہ اپنے گذشتہ اعمال کو زیادہ تصور کرنے لگیں اور نہ جلال(۲) الٰہی کے سامنے ان کے انکسار نے کوئی گنجائش چھوڑی ہے کہ وہ اپنی نیکیوں کو بڑا خیال کرنے لگیں۔ مسلسل تعب کے باوجود انہوں نے سستی کو راستہ نہیں دیا اور نہ ان کی رغبت میں کوئی کمی واقع ہوئی ہے کہ وہ مالک سے امید کے راستہ کو ترک کردیں۔

(۱)کردار کا کمال یہی ہے کہ انسانی زندگی میں نہ امید خوف پر غالب آنے پائے اور نہ قربت کا احساس خشوع و خضوع کے جذبہ کو مجروح بنا دے۔مولائے کائنات نے اس حقیقت کا اظہار ملائکہ کے کمال کے ذیل میں فرمایا ہے لیکن مقصد یہی ہے کہ انسان اس صورت حال سے عبرت حاصل کرے اور اشرف المخلوقات ہونے کا دعویدار ہے تو کردار میں بھی دوسری مخلوقات کے مقابلہ میں اشرفیت کامظاہرہ کرے ورنہ دعوائے بے دلیل کسی منطق میں قابل قبول نہیں ہوتا ہے۔

(۲)انسان جب اپنے ذاتی اعمال کا موازنہ بہت سے دوسرے افراد سے کرتا ہے تو اس میں غرور پیدا ہونے لگتا ہے کہ اس کی نمازیں ' عبادتیں ی اس کے مالی کارہائے خیر دوسر ے افراد سے زیادہ ہیں لیکن جب ان کا موازنہ کرم پروردگار اور جلال الٰہی سے کرتا ہے تو یہ سارے اعمال ہیچ نظر آنے لگتے ہیں۔

مولائے کائنات نے اسی نکتہ کی طرف متوجہ کیا ہے کہ اپنے عمل کا موازنہ دوسرے افراد کے اعمال سے نہ کرو۔موازنہ کرنے کا شوق ہے تو کرم الٰہی اور جلال پروردگار سے کرو تاکہتمہیں اپنی اوقات کا صحیح اندازہ ہو جائے اور شیطان تمہارے اوپر غالب نہ آنے پائے۔

۱۴۹

ولَمْ تَجِفَّ لِطُولِ الْمُنَاجَاةِ أَسَلَاتُ أَلْسِنَتِهِمْ - ولَا مَلَكَتْهُمُ الأَشْغَالُ فَتَنْقَطِعَ بِهَمْسِ الْجُؤَارِ إِلَيْه أَصْوَاتُهُمْ - ولَمْ تَخْتَلِفْ فِي مَقَاوِمِ الطَّاعَةِ مَنَاكِبُهُمْ - ولَمْ يَثْنُوا إِلَى رَاحَةِ التَّقْصِيرِ فِي أَمْرِه رِقَابَهُمْ -. ولَا تَعْدُو عَلَى عَزِيمَةِ جِدِّهِمْ بَلَادَةُ الْغَفَلَاتِ - ولَا تَنْتَضِلُ فِي هِمَمِهِمْ خَدَائِعُ الشَّهَوَاتِ قَدِ اتَّخَذُوا ذَا الْعَرْشِ ذَخِيرَةً لِيَوْمِ فَاقَتِهِمْ ويَمَّمُوه عِنْدَ انْقِطَاعِ الْخَلْقِ إِلَى الْمَخْلُوقِينَ بِرَغْبَتِهِمْ - لَا يَقْطَعُونَ أَمَدَ غَايَةِ عِبَادَتِه - ولَا يَرْجِعُ بِهِمُ الِاسْتِهْتَارُ بِلُزُومِ طَاعَتِه - إِلَّا إِلَى مَوَادَّ مِنْ قُلُوبِهِمْ غَيْرِ مُنْقَطِعَةٍ مِنْ رَجَائِه ومَخَافَتِه - لَمْ تَنْقَطِعْ أَسْبَابُ الشَّفَقَةِ مِنْهُمْ فَيَنُوا فِي جِدِّهِمْ - ولَمْ تَأْسِرْهُمُ الأَطْمَاعُ - فَيُؤْثِرُوا وَشِيكَ السَّعْيِ عَلَى اجْتِهَادِهِمْ - لَمْ يَسْتَعْظِمُوا مَا مَضَى مِنْ أَعْمَالِهِمْ - ولَوِ اسْتَعْظَمُوا ذَلِكَ لَنَسَخَ الرَّجَاءُ مِنْهُمْ شَفَقَاتِ وَجَلِهِمْ ولَمْ يَخْتَلِفُوا فِي رَبِّهِمْ بِاسْتِحْوَاذِ الشَّيْطَانِ عَلَيْهِمْ - ولَمْ يُفَرِّقْهُمْ سُوءُ التَّقَاطُعِ ولَا تَوَلَّاهُمْ غِلُّ التَّحَاسُدِ - ولَا تَشَعَّبَتْهُمْ مَصَارِفُ الرِّيَبِ

مسلسل مناجاتوں نے ان کی نوک زبان کوخشک نہیں بنایا اور نہ مصروفیات نے ان پرقابو پالیا ہے کہ ان کی مناجات کی خفیہ آوازیں منقطع ہوجائیں۔نہ مقامات اطاعت میں ان کے شانے آگے پیچھے ہوتے ہیں اور نہ تعمیل احکام الہیہ میں کوتاہی کی بنا پران کی گردن کسی طرف مڑ جاتی ہے۔ان کی کوششوں کے عزائم پر نہ غفلتوں کی نادانیوں کاحملہ ہوتا ہے اور نہ خواہشات کی فریب کاریاں ان کی ہمتوں کو اپنا نشانہ بناتی ہیں۔انہوں نے اپنے مالک صاحب عرش کو روز فقر و فاقہ کے لئے ذخیرہ بنا لیا ہے اور جب لوگ دوسری مخلوقات کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں تو وہ اسی کو اپنا ہدف نگاہ بنائے رکھتے ہیں۔یہ عبادت کی انتہا کو نہیں پہنچ سکتے ہیں لہٰذا ان کا اطاعت کا والہانہ جذبہ کسی اور طرف لے جانے کے بجائے صرف امید و بیم کے نا قابل اختتام ذخیروں ہی کی طرف لے جاتا ہے ان کے لئے خوف خدا کے اسباب منقطع نہیں ہوئے ہیں کہ ان کی کوششوں میں سستی پیدا کرادیں اورنہ انہیں خواہشات نے قیدی بنایا ہے کہ وقتی کوششوں کوابدی سعی پرمقدم کردیں۔یہ اپنے گزشتہ اعمال کو برا خیال نہیں کرتے ہیں کہ اگر ایسا ہوتا تو اب تک امیدیں خوف خدا کو فنا کردیتیں۔انہوں نے شیطانی غلبہ کی بنیاد پر پروردگار کے بارے میں آپس میں کوئی اختلاف بھی نہیں کیاہے اور نہ ایک دوسرے سے بگاڑنے ان کے درمیان افتراق پیدا کیا ہے۔نہ ان پرحسد کا کینہ غالب آیا ہے اور نہ وہ شکوک کی بناپرآپس میں ایک دوسرے سے الگ ہوئے ہیں۔

۱۵۰

ولَا اقْتَسَمَتْهُمْ أَخْيَافُ الْهِمَمِ فَهُمْ أُسَرَاءُ إِيمَانٍ لَمْ يَفُكَّهُمْ مِنْ رِبْقَتِه زَيْغٌ ولَا عُدُولٌ - ولَا وَنًى ولَا فُتُورٌ - ولَيْسَ فِي أَطْبَاقِ السَّمَاءِ مَوْضِعُ إِهَابٍ إِلَّا وعَلَيْه مَلَكٌ سَاجِدٌ - أَوْ سَاعٍ حَافِدٌ يَزْدَادُونَ عَلَى طُولِ الطَّاعَةِ بِرَبِّهِمْ عِلْماً - وتَزْدَادُ عِزَّةُ رَبِّهِمْ فِي قُلُوبِهِمْ عِظَماً.

ومنها في صفة الأرض ودحوها على الماء

كَبَسَ الأَرْضَ عَلَى مَوْرِ أَمْوَاجٍ مُسْتَفْحِلَةٍ ولُجَجِ بِحَارٍ زَاخِرَةٍ تَلْتَطِمُ أَوَاذِيُّ أَمْوَاجِهَا - وتَصْطَفِقُ مُتَقَاذِفَاتُ أَثْبَاجِهَا وتَرْغُو زَبَداً كَالْفُحُولِ عِنْدَ هِيَاجِهَا - فَخَضَعَ جِمَاحُ الْمَاءِ الْمُتَلَاطِمِ لِثِقَلِ حَمْلِهَا - وسَكَنَ هَيْجُ ارْتِمَائِه إِذْ وَطِئَتْه بِكَلْكَلِهَا وذَلَّ مُسْتَخْذِياً إِذْ تَمَعَّكَتْ عَلَيْه بِكَوَاهِلِهَا - فَأَصْبَحَ بَعْدَ اصْطِخَابِ أَمْوَاجِه سَاجِياً مَقْهُوراً - وفِي حَكَمَةِ الذُّلِّ مُنْقَاداً أَسِيراً - وسَكَنَتِ الأَرْضُ مَدْحُوَّةً فِي لُجَّةِ تَيَّارِه

اور نہ پست ہمتوں نے انہیں ایک دوسرے سے جدا کیا ہے یہ ایمان کے وہ قیدی ہیں جن کی گردنوں کی کجی ' انحراف ، سستی ' فتور کوئی چیزآزاد نہیں کرا سکتی ہے۔فضائے آسمان میں ایک کھال کے برابر بھی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں کوئی فرشتہ سجدہ گزار یا دوڑ دھوپ کرنے والا نہ ہو۔یہ طول اطاعت سے اپنے رب کی معرفت میں اضافہ ہی کرتے ہیں اور ان کے دلوں میں اس کی عظمت و جلالت بڑھتی ہی جاتی ہے۔

زمین اور اس کے پانی پر فرش ہونے کی تفصیلات

اس نے زمین کو تہ وبالا ہونے والی موجوں اور اتھاہ سمندر کی گہرائیوں کے اوپر(۱) قائم کیا ہے جہاں موجوں کا تلاطم تھا اور ایک دوسرے کوڈھکیلنے والی لہریں ٹکرا رہی تھیں۔ان کا پھین ایسا ہی تھا جیسے ہیجان زدہ اونٹ کا جھاگ۔مگر اس طوفان کو تلاطم خیز پانی کے بوجھ نے دبا دیا اور اس کے جوش و خروش کو اپنا سینہ ٹیک کر ساکن بنادیا اور اپنے شانے ٹکا کر اس طرح دبا دیا کہ وہ ذلت و خواری کے ساتھ حرام ہوگیا۔اب وہ پانی موجود کی گھڑ گھڑاہٹ کے بعد ساکت اور مغلوب ہوگیا اورذلت کی لگام میں اسیر ومطیع ہوگیا اور زمین بھی طوفان خیز پانی کی سطح پر

(۱) واضح رہے کہ اس مقام پر اصل خلقت زمین کا کوئی تذکرہ نہیں ہے کہ اس کی تخلیق مستقل حیثیت رکھتی ہے جیسا کہ دورحاضر میں علماء طبیعت کا خیال ہے یا اسے سورج سے الگ کرکے بنایا گیا ہے جیسا کہ سابق کے علماء ہئیت کہا کرتے تھے۔اس خطہ میں صرف زمین کے بعض کیفیات اور حالات کا ذکر کیا گیا ہے اور پروردگار کے اس احسان کو یاد دلایا گیا ہے کہ اس نے زمین کو انسانی زندگی کا مستقر قرار دینے وکے لئے کتنی دور سے اہتمام کیا ہے اور اس مخلوق کو بسانے کے لئے کتنے عظیم اہتمام سے کام لیا ہے ۔کاش انسان ان احسانات کا احساس کرتا اور اسے یہ اندازہ ہوتا کہ اس کے مالک نے اسے کس قدر عظیم قرار دیا تھا کہ اس کے قیام و استقرار کے لئے زمین و آسمان سب کو منقلب کردیا اور اس نے اپنے کو اس قدر ذلیل کردیا کہ ایک ایک ذرہ کائنات اور ایک ایک چپہ زمین کے لئے جان دینے کو تیار ہے اور اپنی قدرو قیمت کو یکسر نظرانداز کئے ہوئے ہے

۱۵۱

ورَدَّتْ مِنْ نَخْوَةِ بَأْوِه واعْتِلَائِه وشُمُوخِ أَنْفِه وسُمُوِّ غُلَوَائِه وكَعَمَتْه عَلَى كِظَّةِ جَرْيَتِه فَهَمَدَ بَعْدَ نَزَقَاتِه ولَبَدَ بَعْدَ زَيَفَانِ وَثَبَاتِه - فَلَمَّا سَكَنَ هَيْجُ الْمَاءِ مِنْ تَحْتِ أَكْنَافِهَا وحَمْلِ شَوَاهِقِ الْجِبَالِ الشُّمَّخِ الْبُذَّخِ عَلَى أَكْتَافِهَا - فَجَّرَ يَنَابِيعَ الْعُيُونِ مِنْ عَرَانِينِ أُنُوفِهَا - وفَرَّقَهَا فِي سُهُوبِ بِيدِهَا وأَخَادِيدِهَا وعَدَّلَ حَرَكَاتِهَا بِالرَّاسِيَاتِ مِنْ جَلَامِيدِهَا وذَوَاتِ الشَّنَاخِيبِ الشُّمِّ مِنْ صَيَاخِيدِهَا فَسَكَنَتْ مِنَ الْمَيَدَانِ لِرُسُوبِ الْجِبَالِ فِي قِطَعِ أَدِيمِهَا وتَغَلْغُلِهَا مُتَسَرِّبَةً فِي جَوْبَاتِ خَيَاشِيمِهَا ورُكُوبِهَا أَعْنَاقَ سُهُولِ الأَرَضِينَ وجَرَاثِيمِهَا وفَسَحَ بَيْنَ الْجَوِّ وبَيْنَهَا وأَعَدَّ الْهَوَاءَ مُتَنَسَّماً لِسَاكِنِهَا - وأَخْرَجَ إِلَيْهَا أَهْلَهَا عَلَى تَمَامِ مَرَافِقِهَا

دامن(۱) پھیلاکر بیٹھ گئی تھی کہ اس نے اٹھلانے ' سر اٹھانے ' ناک چڑھانے ' جست و خیز کی سرمستیوں کے بعد ساکت ہوگیا تھا۔اب جب پانی کا جوش اطراف زمین کے نیچے ساکن ہوگیا اور سر بفلک پہاڑوں کے بوجھ نے اس کے کاندھوں کو دبا دیا تو مالک نے اس کی ناک کے بانسوں سے چشمے جاری کر دئیے اور انہیں دور دراز صحرائوں اور گڑھوں تک منتشر کر دیا اور پھر زمین کی حرکت کو پہاڑوں کی چٹانوں اور اونچی اونچی چوٹیوں والے پہاڑوں کے وزن سے معتدل بنادیا۔اورپہاڑوں کے اس کی سطح کے مختلف حصوں میں ڈوب جانے اور اس کی گہرائیوں کی تہہ میں گھس جانے اور اس کے ہموار حصوں کی بلندی اور پستی پر سوار ہوجانے کی بنا پر اس کی تھر تھراہٹ رک گئی اور مالک نے زمین سے فضا تک ایک وسعت پیدا کردی اور ہوا(۲) کواس کے باشندوں کے سانس لینے کے لئے مہیا کردیا اور اس کے بسنے والوں کو تمام سہولتوں کے ساتھ ٹھہرا دیا۔

(۱) مدحوہ کے معنی اگرچہ عام طور سے فرش شدہ کے بیان کئے جاتے ہیں۔لیکن لغت میں '' مدحی'' انڈے دینے کی جگہ کوبھی کہا جاتا ہے۔اس لئے ممکن ہے کہ مولائے کائنات نے اس لفظ سے زمین کی بیضاوی شکل کی طرف اشارہ کیا ہو کہ دوہر حاضر کی تحقیق کی بناپر زمین کی شکل کروی نہیں ہے۔ بلکہ بیضاوی ہے۔

(۲) اس حصہ کلام میں مولائے کائنات نے مالک کے دو عظیم احسانات کی طرف اشارہ کیا ہے جن پر انسانی زندگی کا دارومدار ہے اور وہ ہیں ہوا اورپانی ہوا انسان کے سانس لینے کا ذریعہ ہے اور پانی انسان کے قوام حیات ہے۔یہ دونوں نہ ہوتے تو انسان ایک لمحہ زندہ نہیں رہ سکتا تھا۔

اس کے بعد ان دونوں کی تخلیق کو مزید کارآمد بنانے کے لئے ہوا کو ساری فضا میں منتشر کردیا اور پانی کے چشمے اگر پہاڑوں کی بلندیوں کو سیراب نہیں کر سکتے تھے تو بارش کا انتظام کردیا تاکہ بلندی کوہ پر رہنے والی مخلوق بھی اس سے استفادہ کر سکے اور انسانوں کی طرح جانوروں کی زندگی کا انتظام بھی ہو جائے۔

افسوس کہ انسان نے دنیا کی ہر معمولی سے معمولی نعمت کی قدرو قیمت کا احساس کیا ہے لیکن ان دونوں کی قدرو قیمت کا احساس نہیں کیا ہے۔ورنہ ہر سانس پر شکر خدا کرتا اور ہر قطرہ آب پر احسانات الہیہ کویاد رکھتا اور کسیآن اس کی یاد سے غافل نہ ہوتا اور اس کے احکام کی مخالفت نہ کرتا۔

۱۵۲

ثُمَّ لَمْ يَدَعْ جُرُزَ الأَرْضِ - الَّتِي تَقْصُرُ مِيَاه الْعُيُونِ عَنْ رَوَابِيهَا ولَا تَجِدُ جَدَاوِلُ الأَنْهَارِ ذَرِيعَةً إِلَى بُلُوغِهَا - حَتَّى أَنْشَأَ لَهَا نَاشِئَةَ سَحَابٍ تُحْيِي مَوَاتَهَا وتَسْتَخْرِجُ نَبَاتَهَا - أَلَّفَ غَمَامَهَا بَعْدَ افْتِرَاقِ لُمَعِه وتَبَايُنِ قَزَعِه حَتَّى إِذَا تَمَخَّضَتْ لُجَّةُ الْمُزْنِ فِيه والْتَمَعَ بَرْقُه فِي كُفَفِه ولَمْ يَنَمْ وَمِيضُه فِي كَنَهْوَرِ رَبَابِه ومُتَرَاكِمِ سَحَابِه - أَرْسَلَه سَحّاً مُتَدَارِكاً قَدْ أَسَفَّ هَيْدَبُه تَمْرِيه الْجَنُوبُ دِرَرَ أَهَاضِيبِه ودُفَعَ شَآبِيبِه فَلَمَّا أَلْقَتِ السَّحَابُ بَرْكَ بِوَانَيْهَا وبَعَاعَ مَا اسْتَقَلَّتْ بِه مِنَ الْعِبْءِ الْمَحْمُولِ عَلَيْهَا - أَخْرَجَ بِه مِنْ هَوَامِدِ الأَرْضِ النَّبَاتَ - ومِنْ زُعْرِ الْجِبَالِ الأَعْشَابَ فَهِيَ تَبْهَجُ بِزِينَةِ رِيَاضِهَا - وتَزْدَهِي بِمَا أُلْبِسَتْه مِنْ رَيْطِ أَزَاهِيرِهَا وحِلْيَةِ مَا سُمِطَتْ بِه مِنْ نَاضِرِ أَنْوَارِهَا وجَعَلَ ذَلِكَ بَلَاغاً لِلأَنَامِ ورِزْقاً لِلأَنْعَامِ -

اس کے بعد زمین کے وہ چٹیل میدان جن کی بلندیوں تک چشموں اور نہروں کے بہائوں کا کوئی راستہ نہیں تھا انہیں بھی یونہی نہیں رہنے دیا یہاں تک کہ ان کے لئے وہ بادل پیدا کردئیے جوان کی مردہ زمینوں کو زندہ بنا سکیں اور نباتات کو اگا سکیں۔اس نے ابر کی چمک دا ر ٹکڑیوں کو اور پراگندہ بدلیوں کو جمع کیا یہاں تک کہ جب اس کے اندر پانی کا ذخیرہ جوش مارنے لگا اور اس کے کناروں پر بجلیاں تڑپتنے لگیں اور ان کی چمک سفید بادلوں کی تہوں اورتہہ بہ تہہ سحابوں کے اندر برابر جاری رہی تو اس نے انہیں موسلا دھار بارش کے لئے بھیج دیا اس طرح کہ اس کے بوجھل حصے زمین پرمنڈلا رہے تھے اورجنوبی ہوائیں انہیں مسل مسل کر برسنے والے بادل کی بوندیں اورتیز بارش کی شکل میں برسا رہی تھیں۔اس کے بعد جب بادلوں نے اپنا سینہ ہاتھ پائوں سمیٹ زمین پر ٹیک دیا اور پانی کا سارا لدا ہوا بوجھ اس پر پھینک دیا تو اس کے ذریعہ افتادہ زمینوں سے کھیتیاں اگا دیں اور خشک پہاڑوں پر ہراب ھرا سبزہ پھیلا دیا ۔اب زمین اپنے سبز ہ کی زینت سے جھومنے لگی اور شگوفوں کی اوڑھنیوں اور شگفتہ و شاداب کلیوں کے زیوروں سے اترانے لگی۔

پروردگار نے ان تمام چیزوں کو انسانوں کی زندگانی کا سامان اور جانوروں کا رزق قرار دیا ہے۔اس

۱۵۳

وخَرَقَ الْفِجَاجَ فِي آفَاقِهَا - وأَقَامَ الْمَنَارَ لِلسَّالِكِينَ عَلَى جَوَادِّ طُرُقِهَا فَلَمَّا مَهَدَ أَرْضَه وأَنْفَذَ أَمْرَه - اخْتَارَ آدَمَعليه‌السلام خِيرَةً مِنْ خَلْقِه - وجَعَلَه أَوَّلَ جِبِلَّتِه وأَسْكَنَه جَنَّتَه - وأَرْغَدَ فِيهَا أُكُلَه - وأَوْعَزَ إِلَيْه فِيمَا نَهَاه عَنْه - وأَعْلَمَه أَنَّ فِي الإِقْدَامِ عَلَيْه التَّعَرُّضَ لِمَعْصِيَتِه - والْمُخَاطَرَةَ بِمَنْزِلَتِه - فَأَقْدَمَ عَلَى مَا نَهَاه عَنْه مُوَافَاةً لِسَابِقِ عِلْمِه - فَأَهْبَطَه بَعْدَ التَّوْبَةِ - لِيَعْمُرَ أَرْضَه بِنَسْلِه - ولِيُقِيمَ الْحُجَّةَ بِه عَلَى عِبَادِه - ولَمْ يُخْلِهِمْ بَعْدَ أَنْ قَبَضَه - مِمَّا يُؤَكِّدُ عَلَيْهِمْ حُجَّةَ رُبُوبِيَّتِه - ويَصِلُ بَيْنَهُمْ وبَيْنَ مَعْرِفَتِه -

نے زمین کی اطراف میں کشادہ راستے نکالے ہیں۔اور شاہراہوں پر چلنے والوں کے لئے روشنی کے منارے نصب کئے ہیں۔

پھر جب زمین کا فرش بچھا لیا اور اپنا کام مکمل کرلیا۔تو آدم کو اپنی مخلوقات میں منتخب قراردے دیا اور انہیں نوع انسانی کی فرد اول بنا کرجنت میں ساکن کردیا اور ان کے لئے ہر طرح کے کھانے پینے کو آزاد کردیا اور جس سے منع کرنا تھا اس کا اشارہ بھی دے دیا اور یہ بتا دیا کہ اس کے اقدام میں نا فرمانی کا اندیشہ اور اپنے مرتبہ کوخطرہ میں ڈالنے کا خطرہ ہے لیکن انہوں نے اسی چیز کی طرف رخ کرلیا جس سے روکا گیا تھا کہ یہ بات پہلے سے علم خدا میں موجودتھی ۔نتیجہ یہ ہوا کہ پروردگار نے توبہ کے بعد انہیں نیچے اتار دیا تاکہ اپنی نسل(۱) سے دنیاکو آباد کریں اور ان کے ذریعہ سے اللہ بندوں پر حجت قائم کرے پھر ان کو اٹھا لینے کے بعد بھی زمین کو ان چیزوں سے خالی نہیں رکھا جن کے ذریعہ ربوبیت کی دلیلوں کی تاکید کرے اور جنہیں بندوں کی معرفت کا وسیلہ بنائے

(۱) اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جناب آدم نے درخت کا پھل کھا کر اپنے کو زحمتوں میں مبتلا کرلیا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب انہیں روئے زمین کا خلیفہ بنایاگیا تھا تو کیا جنت ہی میں محو اسراحت رہ جاتے اور اپنے فرائض منصبی کی طرف متوجہ نہ ہوتے۔یہ تو احساس ذمہ داری کا ایک رخ ہے کہ انہوں نے جنت کے راحت و آرام کو نظر انداز کرنے کا عزم کر لیا اور روئے زمین پرآگئے تاکہ اپنی نسل سے دنیا کو آباد کرسکیں اور اپنے فریضہ منصب کوادا کر سکیں یہ اوربات ہے کہ تقاضائے احتیاط یہی تھا کہ مالک کائنات ہی سے گزارش کرتے کہ جہاں کے لئے ذمہ دار بنایا ہے وہاں تک جانے کا انتظام کردے یا کوئی راستہ بتا دے۔اس راستہ کو ابلیس کے شارہ کے بعد اختیار نہیں کرنا چاہیے تھا کہ اسے ابلیس اپنی فتح مبین قراردے لے اور خلیفہ اللہ کے مقابلہ میں اپنے غرور کا اظہار کر سکے۔غالباً احتیاط کے اسی تقاضہ پرعمل نہ کرنے کا نام '' ترک اولیٰ'' رکھا گیا ہے۔

۱۵۴

بَلْ تَعَاهَدَهُمْ بِالْحُجَجِ - عَلَى أَلْسُنِ الْخِيَرَةِ مِنْ أَنْبِيَائِه - ومُتَحَمِّلِي وَدَائِعِ رِسَالَاتِه - قَرْناً فَقَرْناً - حَتَّى تَمَّتْ بِنَبِيِّنَا مُحَمَّدٍصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

حُجَّتُه - وبَلَغَ الْمَقْطَعَ عُذْرُه ونُذُرُه وقَدَّرَ الأَرْزَاقَ فَكَثَّرَهَا وقَلَّلَهَا - وقَسَّمَهَا عَلَى الضِّيقِ والسَّعَةِ - فَعَدَلَ فِيهَا لِيَبْتَلِيَ - مَنْ أَرَادَ بِمَيْسُورِهَا ومَعْسُورِهَا - ولِيَخْتَبِرَ بِذَلِكَ الشُّكْرَ والصَّبْرَ مِنْ غَنِيِّهَا وفَقِيرِهَا - ثُمَّ قَرَنَ بِسَعَتِهَا عَقَابِيلَ فَاقَتِهَا وبِسَلَامَتِهَا طَوَارِقَ آفَاتِهَا - وبِفُرَجِ أَفْرَاحِهَا غُصَصَ أَتْرَاحِهَا وخَلَقَ الآجَالَ فَأَطَالَهَا وقَصَّرَهَا وقَدَّمَهَا وأَخَّرَهَا - ووَصَلَ بِالْمَوْتِ أَسْبَابَهَا وجَعَلَه خَالِجاً لأَشْطَانِهَا وقَاطِعاً لِمَرَائِرِ أَقْرَانِهَا عَالِمُ السِّرِّ مِنْ ضَمَائِرِ الْمُضْمِرِينَ - ونَجْوَى الْمُتَخَافِتِينَ وخَوَاطِرِ رَجْمِ الظُّنُونِ وعُقَدِ عَزِيمَاتِ الْيَقِينِ ومَسَارِقِ إِيمَاضِ الْجُفُونِ ومَا ضَمِنَتْه أَكْنَانُ الْقُلُوبِ

بلکہ ہمیشہ منتخب انبیاء کرام اور رسالت کے امانت داروں کی زبانوں سے حجت کے پہنچانے کی نگرانی کرتا رہا اور یوں ہی صدیاں گزرتی رہیں یہاں تک کہ ہمارے پیغمبر حضرت محمد (ص) کے ذریعہ اس کی حجت تمام ہوگئی اور اتمام حجت اور تخویف عذاب کا سلسلہ نقطہ آخرت تک پہنچ گیا۔

اللہ نے سب کی روزیاں معین کر رکھی ہیں چاہے قلیل ہوں یا کثیر اور پھر انہیں تنگی اور وسعت کے اعتبارسے بھی تقسیم کردیا اور اس میں بھی عدالت رکھی ہے تاکہ دونوں کا امتحان لیا جا سکے اور غنی و فقیر دونوں کو شکر یا صبر سے آزمایا جا سکے۔پھر وسعت رزق کے ساتھ فقر وفاقہ کے خطرات اور سلامتی کے ساتھ نازل ہونے والی آفات کے اندیشے اورخوشی و شادمانی کی وسعت کے ساتھ غم و الم کے گلو گیر پھندے شامل بھی کردئیے۔زندگیوں کی طویل و قصیرمدتیں معین کیں۔انہیں آگے پیچھے رکھا اور پھر سب کو موت سے ملا دیا اور موت کو ان کی رسیوں کاکھینچنے والا اور مضبوط رشتوں کو پارہ پارہ کر دینے والا بنادیا۔وہ دلوں میں باتوں کے چھپانے والوں کے اسرار۔خفیہ باتیں کرنے والوں کی گفتگو ۔خیالات میں اٹکل پچو لگانے والوں کے اندازے ۔دل میں جمے ہوئے یقینی عزائم ۔پلکوں میں دبے ہوئے کنکھیوں کے شارے اور دلوں کی تہوں کے راز اور غیب کی گہرائیوں کے رموز سب کو جانتا ہے۔

۱۵۵

وغَيَابَاتُ الْغُيُوبِ ومَا أَصْغَتْ لِاسْتِرَاقِه مَصَائِخُ الأَسْمَاعِ - ومَصَايِفُ الذَّرِّ ومَشَاتِي الْهَوَامِّ - ورَجْعِ الْحَنِينِ مِنَ الْمُولَهَاتِ وهَمْسِ الأَقْدَامِ - ومُنْفَسَحِ الثَّمَرَةِ مِنْ وَلَائِجِ غُلُفِ الأَكْمَامِ ومُنْقَمَعِ الْوُحُوشِ مِنْ غِيرَانِ الْجِبَالِ وأَوْدِيَتِهَا - ومُخْتَبَإِ الْبَعُوضِ بَيْنَ سُوقِ الأَشْجَارِ وأَلْحِيَتِهَا ومَغْرِزِ الأَوْرَاقِ مِنَ الأَفْنَانِ ومَحَطِّ الأَمْشَاجِ مِنْ مَسَارِبِ الأَصْلَابِ ونَاشِئَةِ الْغُيُومِ ومُتَلَاحِمِهَا - ودُرُورِ قَطْرِ السَّحَابِ فِي مُتَرَاكِمِهَا - ومَا تَسْفِي الأَعَاصِيرُ بِذُيُولِهَا وتَعْفُو الأَمْطَارُ بِسُيُولِهَا، وعَوْمِ بَنَاتِ الأَرْضِ فِي كُثْبَانِ الرِّمَالِ - ومُسْتَقَرِّ ذَوَاتِ الأَجْنِحَةِ بِذُرَا شَنَاخِيبِ الْجِبَالِ - وتَغْرِيدِ ذَوَاتِ الْمَنْطِقِ فِي دَيَاجِيرِ الأَوْكَارِ -

وہ ان آوازوں کو بھی سن لیتاہے جن کے لئے کانوں کے سوراخوں کو جھکنا پڑتا ہے۔چیونٹیوں(۱) کے موسم گرما کے مقامات اور دیگرحشرات الارض کی سردیوں کی منزل سے بھی آگاہ ہے۔پسر مردہ عورتوں کی درد بھری فریاد اور پیروں کی چاپ بھی سن لیتا ہے۔وہ سبز پتیوں کے غلافوں کے اندرونی حصوں میں تیار ہونے والے پھلوں کی جگہ کو بھی جانتا ہے اور پہاڑوں کے غاروں اور وادیوں میں جانوروں کی پناہ گاہوں کو بھی پہنچانتا ہے۔وہ درختوں کے تنوں اور ان کے چھلکوں میں مچھروں کے چھپنے کی جگہ سے بھی با خبر ہے اور شاخوں میں پتے نکلنے کی منزل اور صلبوں کی گزر گاہوں میں نطفوں کے ٹھکانوں اور آپس میں جڑے ہوئے بادلوںاور تہہ بہ تہہ سحابوں سے ٹپکنے والے بارش کے قطروں سے بھی آشنا ہے بلکہ جن ذرات کو آندھیاں اپنے دامن سے اڑا دیتی ہیں اور جن نشانات کو بارشیں اپنے سیلاب سے مٹا دیتی ہیں ان سے بھی با خبر ہے۔وہ ریت کے ٹیلوں پر زمین کے کیڑوں کے چلنے پھرنے اور سربلند پہاڑوں کی چوٹیوں پر بال و پر رکھنے والے پرندوں کے نشیمنوں کو بھی جانتا ہے اور گھونسلوں کے اندھیروں میں پرندوں کے نغموں کو بھی پہچانتا ہے

(۱) مالک کائنات کے علم کے بارے میں اس قدر دقیق بیان ایک طرف غیر حکیم فلاسفہ کے اس تصور کی تردید ہے کہ خالق حکیم کے علم کا تعلق صرف کلیات سے ہوتا ہے اور وہ جزئیات سے بہ حیثیت جزئیات با خبرنہیں ہوتا ہے ورنہ اس سے بدلتے ہوئے جزئیات کے ساتھ ذات میں تغیر لازم آئے گا اور یہبات غیر معقول ہے اور دوسری طرف انسان کو اس نکتہ کی طرف متوجہ کرنا ہے کہ جو خالق و مالک مذکور تمام باریکیوں سے با خبر ہے وہ خلوت کدوں میں نا محرموں کے اجتماعات ' نیم تاریک رقص گاہوں کے رقص سڑکوں اوربازاروں کے وزدیدہ اشارات' اسکولوں اور دفتروں کے غیر شرعی تصرفات اور دل و دماغ میں چھپے ہوئے غیر شریفانہ تصورات و خیالات سے بھی با خبر ہے۔اس کے علم سے کائنات کا کوئی ذرہ مخفی نہیں ہو سکتا ہے۔وہآنکھوں کی خیانت اور دل کے پوشیدہ اسرار دونوں سے مساوی طورپر اطلاع رکھتا ہے۔واللہ اعلم بذات الصدور

۱۵۶

ومَا أَوْعَبَتْه الأَصْدَافُ وحَضَنَتْ عَلَيْه أَمْوَاجُ الْبِحَارِ - ومَا غَشِيَتْه سُدْفَةُ لَيْلٍ أَوْ ذَرَّ عَلَيْه شَارِقُ نَهَارٍ - ومَا اعْتَقَبَتْ عَلَيْه أَطْبَاقُ الدَّيَاجِيرِ وسُبُحَاتُ النُّورِ وأَثَرِ كُلِّ خَطْوَةٍ - وحِسِّ كُلِّ حَرَكَةٍ ورَجْعِ كُلِّ كَلِمَةٍ - وتَحْرِيكِ كُلِّ شَفَةٍ ومُسْتَقَرِّ كُلِّ نَسَمَةٍ - ومِثْقَالِ كُلِّ ذَرَّةٍ وهَمَاهِمِ كُلِّ نَفْسٍ هَامَّةٍ - ومَا عَلَيْهَا مِنْ ثَمَرِ شَجَرَةٍ أَوْ سَاقِطِ وَرَقَةٍ - أَوْ قَرَارَةِ نُطْفَةٍ أَوْ نُقَاعَةِ دَمٍ ومُضْغَةٍ - أَوْ نَاشِئَةِ خَلْقٍ وسُلَالَةٍ - لَمْ يَلْحَقْه فِي ذَلِكَ كُلْفَةٌ - ولَا اعْتَرَضَتْه فِي حِفْظِ مَا ابْتَدَعَ مِنْ خَلْقِه عَارِضَةٌ ولَا اعْتَوَرَتْه فِي تَنْفِيذِ الأُمُورِ وتَدَابِيرِ الْمَخْلُوقِينَ مَلَالَةٌ ولَا فَتْرَةٌ - بَلْ نَفَذَهُمْ عِلْمُه وأَحْصَاهُمْ عَدَدُه - ووَسِعَهُمْ عَدْلُه وغَمَرَهُمْ فَضْلُه - مَعَ تَقْصِيرِهِمْ عَنْ كُنْه مَا هُوَ أَهْلُه.

۔جن چیزوں کو صدف نے سمیٹ رکھا ہے انہیں بھی جانتا ہے اورجنہیں دریا کی موجوں نے اپنی گود میں دبا رکھا ہے انہیں بھی پہچانتا ہے۔جسے رات کی تاریکی نے چھپا لیا ہے اسے بھی پہچانتا ہے اور جس پر دن کے سورج نے روشنی ڈالی ہے اس سے بھی با خبر ہے۔جن چیزوں پریکے بعد دیگرے اندھیری راتوں کے پردے اور روشن دنوں کے آفتاب کی شعاعیں نور بکھیرتی ہیں وہ ان سب سے با خبر ہے نشان قدم' حس و حرکت ' الفاظ کی گونج' ہونٹوں کی جنبش' سانسوں کی منزل ' ذرات کا وزن ' ذی روح کی سسکیوں کی آواز ' اس زمین پر درختوں کے پھل ۔گرنے والے پتے ' نطفوں کی قرار گاہ ' منجمد خون کے ٹھکانے ' لوتھڑے یا اس کے بعد بننے والی مخلوق یا پیدا ہوئے بچے سب کو جانتا ہے اور اسے اس علم کے حصول میں کوئی زحمت نہیں ہوتی اور نہ اپنی مخلوقات کی حفاظت میں کوئی رکاوٹ پیش آئی اور نہ اپنے امور کے نافذ کرنے اور مخلوقات کا انتظام کرنے میں کوئی سستی یا تھکن لاحق ہوئی بلکہ اس کا علم گہرائیوں میں اترا ہوا ہے اور اس نے سب کے اعداد کو شمار کرلیا ہے اور سب پر اس کا عدل شامل اور فضل محیط ہے حالانکہ یہ سب اس کے شایان شان حق کے ادا کرنے سے قاصر ہیں۔

۱۵۷

دعاء

اللَّهُمَّ أَنْتَ أَهْلُ الْوَصْفِ الْجَمِيلِ - والتَّعْدَادِ الْكَثِيرِ إِنْ تُؤَمَّلْ فَخَيْرُ مَأْمُولٍ وإِنْ تُرْجَ فَخَيْرُ مَرْجُوٍّ - اللَّهُمَّ وقَدْ بَسَطْتَ لِي فِيمَا لَا أَمْدَحُ بِه غَيْرَكَ - ولَا أُثْنِي بِه عَلَى أَحَدٍ سِوَاكَ - ولَا أُوَجِّهُه إِلَى مَعَادِنِ الْخَيْبَةِ ومَوَاضِعِ الرِّيبَةِ - وعَدَلْتَ بِلِسَانِي عَنْ مَدَائِحِ الآدَمِيِّينَ؛والثَّنَاءِ عَلَى الْمَرْبُوبِينَ الْمَخْلُوقِينَ - اللَّهُمَّ ولِكُلِّ مُثْنٍ عَلَى مَنْ أَثْنَى عَلَيْه مَثُوبَةٌ مِنْ جَزَاءٍ - أَوْ عَارِفَةٌ مِنْ عَطَاءٍ - وقَدْ رَجَوْتُكَ دَلِيلًا عَلَى ذَخَائِرِ الرَّحْمَةِ - وكُنُوزِ الْمَغْفِرَةِ - اللَّهُمَّ وهَذَا مَقَامُ مَنْ أَفْرَدَكَ بِالتَّوْحِيدِ الَّذِي هُوَ لَكَ - ولَمْ يَرَ مُسْتَحِقّاً لِهَذِه الْمَحَامِدِ والْمَمَادِحِ غَيْرَكَ - وبِي فَاقَةٌ إِلَيْكَ لَا يَجْبُرُ مَسْكَنَتَهَا إِلَّا فَضْلُكَ - ولَا يَنْعَشُ مِنْ خَلَّتِهَا إِلَّا مَنُّكَ وجُودُكَ - فَهَبْ لَنَا فِي هَذَا الْمَقَامِ رِضَاكَ - وأَغْنِنَا عَنْ مَدِّ الأَيْدِي إِلَى سِوَاكَ –( إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ )

(۹۲)

ومن كلام لهعليه‌السلام

لما أراده الناس على البيعة - بعد قتل عثمان

دعائ

خدایا! تو ہی بہترین توصیف اورآخر تک سراہے جانے کا اہل ہے تجھ سے آس لگائی جائے تو بہترین آسرا ہے اور امید رکھی جائے تو بہترین مرکز امید ہے۔تونے مجھے وہ طاقت دی ہے جس کے ذریعہ کسی غیرکی مدح و ثنا نہیں کرتا ہوں اور اس کا رخ ان افراد کی طرف نہیں موڑتا ہوں جو ناکامی کا مرکز اور شبہات کی منزل ہیں۔میں نے اپنی زبان کو لوگوں کی تعریف اورتیری پروردہ مخلوقات کی ثناو صفت سے موڑ دیا ہے۔ خدایا!ہر تعریف کرنے والے کا اپنے ممدوح پرایک حق ہوتا ہے چاہے وہ معاوضہ ہویا انعام و اکرام۔اور میں تجھ سے آس لگائے بیٹھا ہوں کہ تو رحمت کے ذخیروں اور مغفرت کے خزانوں کی رہنمائی کرنے والا ہے۔خدایا! یہ اس بندہ کی منزل ہے جس نے صرف تیری توحید اور یکتائی کا اعتراف کیا ہے اور تیرے علاوہ ان اوصاف و کمالات کا کسی کو اہل نہیں پایا ہے۔پھر میں ایک احتیاج رکھتا ہوں جس کا تیرے فضل کے علاوہ کوئی علاج نہیں کر سکتا ہے اور تیرے احسانات کے علاوہ کوئی اس کا سہارا نہیں بن سکتا ہے۔اب اس وقت مجھے اپنی رضا عنایت فرما دے اور دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بے نیاز بنادے کہ تو ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے۔

(۹۲)

آپ کا ارشاد گرامی(جب لوگوں نے قتل عثمان کے بعد آپ کی بیعت کا اراہ کیا)

۱۵۸

دَعُونِي والْتَمِسُوا غَيْرِي - فَإِنَّا مُسْتَقْبِلُونَ أَمْراً - لَه وُجُوه وأَلْوَانٌ - لَا تَقُومُ لَه الْقُلُوبُ - ولَا تَثْبُتُ عَلَيْه الْعُقُولُ وإِنَّ الآفَاقَ قَدْ أَغَامَتْ والْمَحَجَّةَ قَدْ تَنَكَّرَتْ واعْلَمُوا أَنِّي إِنْ أَجَبْتُكُمْ - رَكِبْتُ بِكُمْ مَا أَعْلَمُ - ولَمْ أُصْغِ إِلَى قَوْلِ الْقَائِلِ وعَتْبِ الْعَاتِبِ وإِنْ تَرَكْتُمُونِي فَأَنَا كَأَحَدِكُمْ - ولَعَلِّي أَسْمَعُكُمْ وأَطْوَعُكُمْ - لِمَنْ وَلَّيْتُمُوه أَمْرَكُمْ - وأَنَا لَكُمْ وَزِيراً خَيْرٌ لَكُمْ مِنِّي أَمِيراً!

(۹۳)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وفيها ينبّه أمير المؤمنين على فضله وعلمه ويبيّن فتنة بني أمية!

أَمَّا بَعْدَ حَمْدِ اللَّه والثَّنَاءِ عَلَيْه - أَيُّهَا النَّاسُ - فَإِنِّي فَقَأْتُ عَيْنَ الْفِتْنَةِ - ولَمْ يَكُنْ لِيَجْتَرِئَ عَلَيْهَا أَحَدٌ غَيْرِي

مجھے چھوڑ دو اور جائو کسی اورکو تلاش کرلو۔ہمارے سامنے وہ معاملہ ہے جس کے بہت سے رنگ اور رخ ہیں جن کی نہ دلوں میں تاب ہے اور نہ عقلیں انہیں برداشت کرسکتی ہیں۔دیکھو افق کس قدر ابر آلود ہے اور راستے کس قدر انجانے ہوگئے ہیں۔یاد رکھو کہ اگر میں نے بیعت کی دعوت کو قبول کرلیا تو تمہیں اپنے علم ہی کے راستے پر چلائوں گا اور کسی کی کوئی بات یا سرزنش نہیں سنوں گا ۔لیکن اگر تم نے مجھے چھوڑ دیا تو تمہاری ہی ایک فرد کی طرح زندگی گزار دوں گا بلکہ شائد(۱) تم سب سے زیادہ تمہارے حاکم کے احکام کا خیال رکھو۔میں تمہارے لئے وزیر کی حیثیت سے امیر کی بہ نسبت زیادہ بہتر رہوں گا۔

(۹۳)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں آپ نے اپنے علم و فضل سے آگاہ کرتے ہوئے بنی امیہ کے فتنہ کی طرف متوجہ کیا ہے )

حمدوثنائے پروردگار کے بعد۔لوگو! یادرکھو میں(۱) نے فتنہ کی آنکھ کو پھوڑ دیاہے اور یہ کام میرے علاوہ کوئی دوسرا انجام نہیں دے سکتا ہے

(۱)پیغمبر اسلام (ص) کے انتقال کے بعد جنازۂ رسول (ص) کو چھوڑ کر مسلمانوں کی خلافت سازی ' خلافت کے بعد امیرالمومنین سے مطالبہ بیعت۔ابو سفیان کی طرف سے حمایت کی پیش کش۔فدک کا غاصبانہ قبضہ۔دروازہ کا جلایا جانا' پھر ابو بکر کی طرف سے عمر کی نامزدگی ۔پھر عمر کی طرف سے شوریٰ کے ذریعہ عثمان کی خلافت ۔پھر طلحہ و زبیر اورعائشہ کی بغاوت اور پھرخوارج کا دین سے خروج۔یہ وہ فتنے تھے جن میں سے کوئی ایک بھی اسلام کو تباہ کردینے کے لئے کافی تھا۔اگر امیر المومنین نے مکمل صبرو تحمل کامظاہرہ نہ کیا ہوتا اور سخت ترین حالات پر سکوت اختیار نہ فرمایاہوتا۔اسی سکوت اور تحمل کو فتنوں کی آنکھ پھوڑ دینے سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس کے بعد علمی فتنوں سے بچنے کا ایک راستہ یہ بتا دیا گیا ہے کہ جو چاہو دریافت کرلو' میں قیامت تک کے حالات سے با خبر کر سکتا ہوں ۔( روحی لہ الفدائ)

۱۵۹

بَعْدَ أَنْ مَاجَ غَيْهَبُهَا واشْتَدَّ كَلَبُهَا فَاسْأَلُونِي قَبْلَ أَنْ تَفْقِدُونِي - فَوَ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِه - لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ - فِيمَا بَيْنَكُمْ وبَيْنَ السَّاعَةِ - ولَا عَنْ فِئَةٍ تَهْدِي مِائَةً وتُضِلُّ مِائَةً - إِلَّا أَنْبَأْتُكُمْ بِنَاعِقِهَا وقَائِدِهَا وسَائِقِهَا ومُنَاخِ رِكَابِهَا - ومَحَطِّ رِحَالِهَا - ومَنْ يُقْتَلُ مِنْ أَهْلِهَا قَتْلًا - ومَنْ يَمُوتُ مِنْهُمْ مَوْتاً - ولَوْ قَدْ فَقَدْتُمُونِي - ونَزَلَتْ بِكُمْ كَرَائِه الأُمُورِ - وحَوَازِبُ الْخُطُوبِ - لأَطْرَقَ كَثِيرٌ مِنَ السَّائِلِينَ - وفَشِلَ كَثِيرٌ مِنَ الْمَسْئُولِينَ - وذَلِكَ إِذَا قَلَّصَتْ حَرْبُكُمْ وشَمَّرَتْ عَنْ سَاقٍ - وضَاقَتِ الدُّنْيَا عَلَيْكُمْ ضِيقاً - تَسْتَطِيلُونَ مَعَه أَيَّامَ الْبَلَاءِ عَلَيْكُمْ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّه لِبَقِيَّةِ الأَبْرَارِ مِنْكُمْ.

إِنَّ الْفِتَنَ إِذَا أَقْبَلَتْ شَبَّهَتْ وإِذَا أَدْبَرَتْ نَبَّهَتْ - يُنْكَرْنَ مُقْبِلَاتٍ - ويُعْرَفْنَ مُدْبِرَاتٍ - يَحُمْنَ حَوْمَ الرِّيَاحِ يُصِبْنَ بَلَداً - ويُخْطِئْنَ بَلَداً

جب کہ اس کی تاریکیاں تہ و بالا ہو رہی ہیں اور اس کی دیوانگی کامرض شدید ہوگیا ہے۔اب تم مجھ سے جو چاہو دریافت کرلو قبل اس کے کہ تمہارے درمیان نہ رہ جائوں۔اس پروردگار کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم اب سے قیامت تک کے درمیان جس چیز کے بارے میں سوال کرو گے اور جس گروہ کے بارے میں دریافت کرو گے جو سو افراد کو ہدایت دے اور سو کو گمراہ کردے تو میں اس کے للکارنے والے۔کھینچنے والے ' ہنکانے والے' سواریوں کے قیام کی منزل' سامان اتارنے کی جگہ' کون ان میں سے قتل کیا جائے گا ' کون اپنی موت سے مرے گا۔سب بتادوں گا۔حالانکہ اگریہ بدترین حالات اورسخت ترین مشکلات میرے بعد پیش آئے تو دریافت کرنے والا بھی پریشانی سے سرجھکا لے گا اور جس سے دریافت کیاجائے گا وہ بھی بتانے سے عاجز رہے گا اور یہ سب اس وقت ہوگا جب تم پرجنگیں پوری تیری کے ساتھ ٹوٹ پڑیں گی اور دنیا اس طرح تنگ ہوجائے گی کہ مصیبت کے دن طولانی محسوس ہونے لگیں گے۔یہاں تک کہ اللہ باقی ماندہ نیک بندوں کو کامیابی عطا کردے۔

یاد رکھو فتنے جب آتے ہیں تو لوگوں کو شبہات میں ڈال دیتے ہیں اور جب جاتے ہیں تو ہوشیار کرجاتے ہیں۔یہ آتے وقت نہیں پہچانے جاتے ہیں لیکن جب جانے لگتے ہیں۔تو پہچان لئے جاتے ہیں۔ہوائوں کی طرح چکر لگاتے رہتے ہیں۔کسی شہر کو اپنی زد میں لے لیتے ہیں اور کسی کو نظرانداز کر دیتے ہیں

۱۶۰

أَلَا وإِنَّ أَخْوَفَ الْفِتَنِ عِنْدِي عَلَيْكُمْ فِتْنَةُ بَنِي أُمَيَّةَ فَإِنَّهَا فِتْنَةٌ عَمْيَاءُ مُظْلِمَةٌ عَمَّتْ خُطَّتُهَا وخَصَّتْ بَلِيَّتُهَا،وأَصَابَ الْبَلَاءُ مَنْ أَبْصَرَ فِيهَا - وأَخْطَأَ الْبَلَاءُ مَنْ عَمِيَ عَنْهَا –

وايْمُ اللَّه لَتَجِدُنَّ بَنِي أُمَيَّةَ لَكُمْ - أَرْبَابَ سُوءٍ بَعْدِي كَالنَّابِ الضَّرُوسِ تَعْذِمُ بِفِيهَا وتَخْبِطُ بِيَدِهَا - وتَزْبِنُ بِرِجْلِهَا وتَمْنَعُ دَرَّهَا لَا يَزَالُونَ بِكُمْ حَتَّى لَا يَتْرُكُوا مِنْكُمْ إِلَّا نَافِعاً لَهُمْ - أَوْ غَيْرَ ضَائِرٍ بِهِمْ ولَا يَزَالُ بَلَاؤُهُمْ عَنْكُمْ - حَتَّى لَا يَكُونَ انْتِصَارُ أَحَدِكُمْ مِنْهُمْ - إِلَّا كَانْتِصَارِ الْعَبْدِ مِنْ رَبِّه - والصَّاحِبِ مِنْ مُسْتَصْحِبِه - تَرِدُ عَلَيْكُمْ فِتْنَتُهُمْ شَوْهَاءَ مَخْشِيَّةً وقِطَعاً جَاهِلِيَّةً - لَيْسَ فِيهَا مَنَارُ هُدًى ولَا عَلَمٌ يُرَى

نَحْنُ أَهْلَ الْبَيْتِ مِنْهَا بِمَنْجَاةٍ ولَسْنَا فِيهَا بِدُعَاةٍ - ثُمَّ يُفَرِّجُهَا اللَّه عَنْكُمْ كَتَفْرِيجِ الأَدِيمِ بِمَنْ يَسُومُهُمْ خَسْفاً ويَسُوقُهُمْ عُنْفاً - ويَسْقِيهِمْ بِكَأْسٍ مُصَبَّرَةٍ لَا يُعْطِيهِمْ إِلَّا السَّيْفَ -

یاد رکھو میری نگاہ میں سب سے خوفناک فتنہ بنی امیہ کا ہے جو خود بھی اندھا ہوگا اوردوسروں کو بھی اندھیرے میں رکھے گا۔اس کے خطوط عام ہوں گے لیکن اس کی بلاخاص لوگوں کے لئے ہوگی جو اس فتنہ میں آنکھ کھولے ہوں گے ورنہ اندھوں کے پاس سے بآسانی گذر جائے گا۔

خدا کی قسم!تم بنی امیہ کو میرے بعد بد ترین صاحبان اقتدار پائو گے جن کی مثال اس کاٹنے والی اونٹنی کی ہوگی جومنہ سے کاٹے گی اور ہاتھ مارے گی یا پائوں چلائے اور دودھ نہ دوہنے دے گی اور یہ سلسلہ یوں ہی بر قرار رہے گا جس سے صرف وہ افراد بچیں گے جوان کے حق میں مفید ہوں یا کم سے کم نقصان دہ نہ ہوں۔یہ مصیبت تمہیں اسی طرح گھیرے رہے گی یہاں تک کہ تمہاری داد خواہی ایسے ہی ہوگی جیسے غلام اپنے آقا سے یا مرید اپنے پیر سے انصاف کا تقاضا کرے۔تم پر ان کا فتنہ ایسی بھیانک شکل میں وارد ہوگا جس سے ڈر لگے گا اور اس میں جاہلیت کے اجزا بھی ہوں گے۔نہ کوئی منارہ ہدایت ہوگا اور نہ کوئی راستہ دکھانے والا پرچم۔

بس ہم اہل بیت ہیں جو اس فتنہ سے محفوظ رہیں گے اور اس کے داعیوں میں سے نہ ہوں گے۔اس کے بعد اللہ تم سے اس فتنہ کو اس طرح الگ کردے گا جس طرح جانور کی کھال اتاردی جاتی ہے۔اس شخص کے ذریعہ جو انہیں ذلیل کرے گا اور سختی سے ہنکائے گا اور موت کے تلخ گھونٹ پلائے گا اور تلوارکے علاوہ کچھ نہ دے گا اور

۱۶۱

ولَا يُحْلِسُهُمْ إِلَّا الْخَوْفَ فَعِنْدَ ذَلِكَ تَوَدُّ قُرَيْشٌ بِالدُّنْيَا - ومَا فِيهَا لَوْ يَرَوْنَنِي مَقَاماً وَاحِداً - ولَوْ قَدْرَ جَزْرِ جَزُورٍ لأَقْبَلَ مِنْهُمْ مَا أَطْلُبُ الْيَوْمَ بَعْضَه فَلَا يُعْطُونِيه!

(۹۴)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وفيها يصف اللَّه تعالى ثم يبين فضل الرسول الكريم وأهل بيته ثم يعظ الناس

اللَّه تعالى

فَتَبَارَكَ اللَّه الَّذِي لَا يَبْلُغُه بُعْدُ الْهِمَمِ - ولَا يَنَالُه حَدْسُ الْفِطَنِ،الأَوَّلُ الَّذِي لَا غَايَةَ لَه فَيَنْتَهِيَ - ولَا آخِرَ لَه فَيَنْقَضِيَ.

ومنها في وصف الأنبياء

فَاسْتَوْدَعَهُمْ فِي أَفْضَلِ مُسْتَوْدَعٍ - وأَقَرَّهُمْ فِي خَيْرِ مُسْتَقَرٍّ - تَنَاسَخَتْهُمْ كَرَائِمُ الأَصْلَابِ إِلَى مُطَهَّرَاتِ الأَرْحَامِ

خوف کے علاوہ کوئی لباس نہ پہنائے گا۔وہ وقت ہوگا جب قریش کو یہ آرزد ہوگی کہ کاش دنیا اور اس کی تمام دولت دے کر ایک منزل پر مجھے دیکھ لیتے چاہے صرف اتنی دیر کے لئے جتنی دیرمیں ایک اونٹ نحر کیا جاتا ہے تاکہ میں ان سے اس چیز کو قبول کرلوں جس کا ایک حصہ آج مانگتا ہوں تووہ دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

(۹۴)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں پروردگار کے اوصاف ۔رسول اکرم (ص) اور اہل بیت اطہار کے فضائل اور موعظہ حسنہ کا ذکر کیا گیا ہے)

با برکت ہے وہ پروردگار جس کی ذات تک ہمتوں کی بلندیاں نہیں پہنچ سکتی ہیں اور عقل و فہم کی ذہانتیں اسے نہیں پا سکتی ہیں وہ ایسا اول ہے جس کی کوئی آخری حد نہیں ہے اور ایساآخر ہے جس کے لئے کوئی فنا نہیں ہے۔

(انبیاء کرام )

پروردگارنے انہیں بہترین مقامات پر ودیعت رکھااور بہترین منزل میں مستقر کیا۔وہ مسلسل شریف ترین(۱) اصلاب سے پاکیزہ ترین ارحام کی طرف منتقل ہوتے

(۱)امیر المومنین کا یہ ارشاد گرامی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ انبیاء کرام کے آباء و اجداد اورامہات میں کوئی ایک بھی ایمان یا کردار کے اعتبار سے ناقص اور عیب دارنہیں تھا اور اس کے بعد اس بحث کی ضرورت نہیں رہ جاتی ہے کہ یہ بات عقلی اعتبار سے ضروری ہے یا نہیں اور اس کے بغیر منصب کا جوازپیدا ہو سکتا ہے یا نہیں ؟ اس لئے کہ اگر کافر اصلاب اوربے دین ارحام میں کوئی نقص نہیں تھا اور ناپاک ظرف منصب الٰہی کے حامل کے لئے نا مناسب نہیں تھا تو اس قدر اہتمام کی کیا ضرورت تھی کہ آدم سے لے کرخاتم تک کسی ایک مرحلہ پر بھی کوئی ناپاک صلب یا غیر طیب رحم داخل نہ ہونے پائے۔

۱۶۲

كُلَّمَا مَضَى مِنْهُمْ سَلَفٌ - قَامَ مِنْهُمْ بِدِينِ اللَّه خَلَفٌ.

رسول اللَّه وآل بيته

حَتَّى أَفْضَتْ كَرَامَةُ اللَّه سُبْحَانَه وتَعَالَى إِلَى مُحَمَّدٍصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - فَأَخْرَجَه مِنْ أَفْضَلِ الْمَعَادِنِ مَنْبِتاً وأَعَزِّ الأَرُومَاتِ مَغْرِساً مِنَ الشَّجَرَةِ الَّتِي صَدَعَ مِنْهَا أَنْبِيَاءَه - وانْتَجَبَ مِنْهَا أُمَنَاءَه عِتْرَتُه خَيْرُ الْعِتَرِ وأُسْرَتُه خَيْرُ الأُسَرِ وشَجَرَتُه خَيْرُ الشَّجَرِ - نَبَتَتْ فِي حَرَمٍ وبَسَقَتْ فِي كَرَمٍ - لَهَا فُرُوعٌ طِوَالٌ وثَمَرٌ لَا يُنَالُ - فَهُوَ إِمَامُ مَنِ اتَّقَى وبَصِيرَةُ مَنِ اهْتَدَى - سِرَاجٌ لَمَعَ ضَوْؤُه وشِهَابٌ سَطَعَ نُورُه - وزَنْدٌ بَرَقَ لَمْعُه سِيرَتُه الْقَصْدُ وسُنَّتُه الرُّشْدُ وكَلَامُه الْفَصْلُ وحُكْمُه الْعَدْلُ - أَرْسَلَه عَلَى حِينِ فَتْرَةٍ مِنَ الرُّسُلِ - وهَفْوَةٍ عَنِ الْعَمَلِ وغَبَاوَةٍ مِنَ الأُمَمِ.

عظة الناس

اعْمَلُوا رَحِمَكُمُ اللَّه عَلَى أَعْلَامٍ بَيِّنَةٍ فَالطَّرِيقُ نَهْجٌ( يَدْعُوا إِلى دارِ السَّلامِ ) - وأَنْتُمْ فِي دَارِ مُسْتَعْتَبٍ عَلَى مَهَلٍ وفَرَاغٍ

رہے کہ جب کوئی بزرگ گزر گیا تو دین خدا کی ذمہ داری بعد والے نے سنبھال لی۔

رسول اکرم (ص)

یہاں تک کہ الٰہی شرف حضرت محمد مصطفی (ص)تک پہنچ گیا اور اس نے انہیں بہترین نشوونما کے معدن اورشریف ترین اصل کے مرکز کے ذریعہ دنیا میں بھیج دیا۔ اسی شجرۂ طیبہ سے جس سے انبیاء کو پیدا کیا اور اپنے امینوں کا انتخاب کیا۔پیغمبر (ص) کی عترت بہترین اور ان کاخاندان شریف ترین خاندان ہے۔ان کا شجرہ وہ بہترین شجرہ ے جو سرزمین حرم پر اگا ہے اور بزرگ کے سایہ میں پروان چڑھا ہے۔اس کی شاخیں بہت طویل ہیں اور اس کے پھل انسانی دسترس سے بالا تر ہیں۔وہ اہل تقویٰ کے امام اور طالبان ہدایت کے لئے سر چشمہ بصیرت ہیں۔وہ ایساچراغ ہیں جس کی روشنی لو دے رہی ہے اور ایسا ستارہ ہیں جس کا نور درخشاں ہے اور ایسا چقماق ہیں جس کی چمک برق آسا ہے۔ان کی سیرت میانہ روی' ان کی سنت رشد و ہدایت ' ان کا کلام حرف آخر اور ان کا فیصلہ عادلانہ ہے۔اللہ نے انہیں اس وقت بھیجا جب انبیاء کا سلسلہ موقوف تھا اور بدعملی کا دوردورہ تھا اور امت غفلت میں ڈوبی ہوئی تھی۔

(موعظہ)

دیکھو! خدا تم پر رحمت نازل کرے۔واضح نشانیوں پر عمل کرو کہ راستہ بالکل سیدھا ہے اوروہ جنت کی طرف دعوت دے رہا ہے اور تم ایسے گھرمیں ہو جہاں خوشنودی پروردگار حاصل کرنے کی مہلت اور فراغت

۱۶۳

والصُّحُفُ مَنْشُورَةٌ - والأَقْلَامُ جَارِيَةٌ - والأَبْدَانُ صَحِيحَةٌ - والأَلْسُنُ مُطْلَقَةٌ - والتَّوْبَةُ مَسْمُوعَةٌ - والأَعْمَالُ مَقْبُولَةٌ.

(۹۵)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يقرر فضيلة الرسول الكريم

بَعَثَه والنَّاسُ ضُلَّالٌ فِي حَيْرَةٍ - وحَاطِبُونَ فِي فِتْنَةٍ قَدِ اسْتَهْوَتْهُمُ الأَهْوَاءُ - واسْتَزَلَّتْهُمُ الْكِبْرِيَاءُ واسْتَخَفَّتْهُمُ الْجَاهِلِيَّةُ الْجَهْلَاءُ حَيَارَى فِي زَلْزَالٍ مِنَ الأَمْرِ وبَلَاءٍ مِنَ الْجَهْلِ - فَبَالَغَصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فِي النَّصِيحَةِ - ومَضَى عَلَى الطَّرِيقَةِ - ودَعَا إِلَى الْحِكْمَةِ( والْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ) .

(۹۶)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في اللَّه وفي الرسول الأكرم

اللَّه تعالى

الْحَمْدُ لِلَّه الأَوَّلِ فَلَا شَيْءَ قَبْلَه - والآخِرِ فَلَا شَيْءَ بَعْدَه - والظَّاهِرِ فَلَا شَيْءَ فَوْقَه

حاصل ہے۔نامۂ اعمال کھلے ہوئے ہیں۔قلم قدرت چل رہا ہے۔بدن صحیح و سالم ہیں۔زبانیں آزاد ہیں ' تو بہ سنی جا رہی ہے اور اعمال قبول کئے جا رہے ہیں۔

(۹۵)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں رسول اکرم (ص) کے فضائل و مناقب کا تذکرہ کیا گیا ہے )

اللہ نے انہیں اس وقت بھیجا جب لوگ گمراہی میں متحیر تھے۔اور فتنوں میں ہاتھ پائوں مار رہے تھے۔ خواہشات نے انہیں بہکا دیا تھا اور غرورنے ان کے قدموں میں لغزش پیدا کردی تھی۔جاہلیت نے انہیں سبک سر بنا دیاتھا اور وہ غیر یقینی حالات اورجہالت کی بلائوں میں حیران و سرگرداں تھے۔آپ نے نصیحت کا حق ادا کردیا ' سیدھے راستہ پرچلے اور لوگوں کو حکمت اورموعظہ حسنہ کی طرف دعوت دی۔

(۹۶)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(حضرت رب العالمین اور رسول اکرم (ص) کے صفات کے بارے میں )

تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو ایسا اول ہے کہ اس سے پہلے کوئی شے نہیں ہے اور ایسا آخر ہے کہ اس کے بعد کوئی شے نہیں ہے۔وہ ظاہر ہے تو اس سے مافوق کچھ نہیں ہے

۱۶۴

والْبَاطِنِ فَلَا شَيْءَ دُونَه.

ومنها في ذكر الرسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

مُسْتَقَرُّه خَيْرُ مُسْتَقَرٍّ - ومَنْبِتُه أَشْرَفُ مَنْبِتٍ - فِي مَعَادِنِ الْكَرَامَةِ - ومَمَاهِدِ السَّلَامَةِ - قَدْ صُرِفَتْ نَحْوَه أَفْئِدَةُ الأَبْرَارِ - وثُنِيَتْ إِلَيْه أَزِمَّةُ الأَبْصَارِ - دَفَنَ اللَّه بِه الضَّغَائِنَ وأَطْفَأَ بِه الثَّوَائِرَ أَلَّفَ بِه إِخْوَاناً - وفَرَّقَ بِه أَقْرَاناً - أَعَزَّ بِه الذِّلَّةَ - وأَذَلَّ بِه الْعِزَّةَ - كَلَامُه بَيَانٌ وصَمْتُه لِسَانٌ.

(۹۷)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في أصحابه وأصحاب رسول اللَّه

أصحاب علي

ولَئِنْ أَمْهَلَ الظَّالِمَ - فَلَنْ يَفُوتَ أَخْذُه - وهُوَ لَه بِالْمِرْصَادِ عَلَى مَجَازِ طَرِيقِه - وبِمَوْضِعِ الشَّجَا مِنْ مَسَاغِ رِيقِه

اور باطن ہے تو اس سے قریب تر کوئی شے نہیں ہے۔

(رسول اکرم (ص) ) آپ کامستقر بہترین مستقر اور آپ کی نشوونما کی جگہ بہترین منزل ہے یعنی کرامتوں کا معدن اور سلامتی کامرکز نیک کرداروں کے دل آپ کی طرف جھکا دئیے گئے ہیں اور نگاہوں کے رخ آپ کی طرف موڑ دئیے گئے ہیں۔اللہ نے آپ کے ذریعہ کینوں کو دفن کردیا ہے اور عداوتوں کے شعلے بجھا دئیے ہیں۔لوگوں کو بھائی بھائی بنا دیا ہے اور کفر کی برادری کو منتشر کردیا ہے اہل ذلت کو عزیز بنا دیا ہے اور کفر کی عزت پر اکڑنے والوں کو ذلیل کردیا ہے ۔آپ کا کلام شریعت کا بیان ہے اور آپ کی خاموشی احکام(۱) کی زبان۔

(۹۷)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں اپنے اصحاب اور اصحاب رسول اکرم (ص) کا موازنہ کیا گیا ہے)

اگر پروردگارنے ظالم کو مہلت دے رکھی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اس کی گرفت سے باہر نکل گیا ہے۔یقینا وہ اس کی گزر گاہ اور اس کی گردن میں اچھو لگنے کی جگہ پر اس کی تاک میں ہے۔

(۱)علماء اصول کی زبان میں معصوم کی خاموشی کو تقریر سے تعبیر کیا جاتا ہے اوروہ اسی طرح حجت اور مدرک احکام ہے جس طرح معصوم کا قول و عمل حجت اور سند کی حیثیت رکھتا ہے اور اس سے احکام شریعت کا استنباط و استخراج کیا جاتا ہے۔عام انسانوں کی خاموشی دلیل رضا مندی نہیں بن سکتی ہے لیکن معصوم کی خاموشی دلیل احکام بھی بن سکتی ہے۔

۱۶۵

أَمَا والَّذِي نَفْسِي بِيَدِه - لَيَظْهَرَنَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ عَلَيْكُمْ - لَيْسَ لأَنَّهُمْ أَوْلَى بِالْحَقِّ مِنْكُمْ - ولَكِنْ لإِسْرَاعِهِمْ إِلَى بَاطِلِ صَاحِبِهِمْ وإِبْطَائِكُمْ عَنْ حَقِّي - ولَقَدْ أَصْبَحَتِ الأُمَمُ تَخَافُ ظُلْمَ رُعَاتِهَا - وأَصْبَحْتُ أَخَافُ ظُلْمَ رَعِيَّتِي - اسْتَنْفَرْتُكُمْ لِلْجِهَادِ فَلَمْ تَنْفِرُوا - وأَسْمَعْتُكُمْ فَلَمْ تَسْمَعُوا - ودَعَوْتُكُمْ سِرّاً وجَهْراً فَلَمْ تَسْتَجِيبُوا - ونَصَحْتُ لَكُمْ فَلَمْ تَقْبَلُوا - أَشُهُودٌ كَغُيَّابٍ وعَبِيدٌ كَأَرْبَابٍ - أَتْلُو عَلَيْكُمْ الْحِكَمَ فَتَنْفِرُونَ

مِنْهَا - وأَعِظُكُمْ بِالْمَوْعِظَةِ الْبَالِغَةِ - فَتَتَفَرَّقُونَ عَنْهَا - وأَحُثُّكُمْ عَلَى جِهَادِ أَهْلِ الْبَغْيِ - فَمَا آتِي عَلَى آخِرِ قَوْلِي - حَتَّى أَرَاكُمْ مُتَفَرِّقِينَ أَيَادِيَ سَبَا تَرْجِعُونَ إِلَى مَجَالِسِكُمْ - وتَتَخَادَعُونَ عَنْ مَوَاعِظِكُمْ - أُقَوِّمُكُمْ غُدْوَةً وتَرْجِعُونَ إِلَيَّ عَشِيَّةً - كَظَهْرِ الْحَنِيَّةِ عَجَزَ الْمُقَوِّمُ وأَعْضَلَ الْمُقَوَّم.

قسم ہے اس مالک کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ یہ قوم یقینا تم پر غالب آجائے گی۔نہ اس لئے کہ وہ تم سے زیادہ حقدار ہیں(۲) بلکہ اس لئے کہ وہ اپنے امیر کے باطل کی فوراً اطاعت کر لیتے ہیں اورتم میرے حق میں ہمیشہ سستی سے کام لیتے ہو۔تمام دنیا کی قومیں اپنے حکام کے ظلم سے خوفزدہ ہیں اورمیں اپنی رعایا کے ظلم سے پریشان ہوں۔میں نے تمہیں جہاد کے لئے آمادہ کیا مگر تم نہ اٹھے۔موعظہ سنایا تو تم نے نہ سنا۔علی الاعلان اور خفیہ طریقہ سے دعوت دی لیکن تم نے لبیک نہ کہی اورنصیحت بھی کی تو اسے قبول نہ کیا۔تم ایسے حاضر ہو جیسے غائب اور ایسے اطاعت گذار ہوجیسے مالک میں تمہارے لئے حکمت آمیز باتیں کرتا ہوں اورتم بیزار ہو جاتے ہو۔بہترین نصیحت کرتا ہوں اورتم بھاگ کھڑے ہوتے ہو۔باغیوں کے جہاد پر آمادہ کرتا ہوں اور ابھی آخر کلام تک نہیں پہنچنے پاتا ہوں کہ تم سباکی اولاد کی طرح منتشر ہوجاتے ہو۔اپنی محفلوں کی طرف پلٹ جاتے ہو اور ایک دوسرے کے دھوکہ میں مبتلاہو جاتے ہو۔میں صبح کے وقت تمہیں سیدھا کرتا ہوں اور تم شام کے وقت یوں پلٹ کرآتے ہوجیسے کمان۔تمہیں سیدھا کرنے والا بھی عاجزآگیا اور تمہاری اصلاح بھی نا ممکن ہوگئی۔

(۲)خدا گواہ ہے کہ قائد کی تمام قائدانہ صلاحیتیں بیکار ہو کر رہ جاتی ہیں جب قوم اطاعت کے راستہ سے منحرف ہو جاتی ہے اور بغاوت پر آمادہ ہوجاتی ہے۔انحراف بھی اگر جہالت کی بناپر ہوتا ہے تو اس کی اصلاح کا امکان رہتا ہے۔لیکن مال غنیمت اور رشوت کا بزار گرم ہو جائے اوردولت دین کی قیمت بننے لگے تو وہاں ایک صحیح اورصالح قائد کا فرض قیامت انجام دینا تقریبا ً نا ممکن ہو کر رہ جاتا ہے اور اسے صبح و شام حالات کی فریاد ہی کرنا پڑتی ہے تاکہ قوم پرحجت تمام کردے اور مالک کی بارگاہ میں اپناعذر پیش کردے ۔

۱۶۶

أَيُّهَا الْقَوْمُ الشَّاهِدَةُ أَبْدَانُهُمْ - الْغَائِبَةُ عَنْهُمْ عُقُولُهُمْ - الْمُخْتَلِفَةُ أَهْوَاؤُهُمْ - الْمُبْتَلَى بِهِمْ أُمَرَاؤُهُمْ - صَاحِبُكُمْ يُطِيعُ اللَّه وأَنْتُمْ تَعْصُونَه - وصَاحِبُ أَهْلِ الشَّامِ يَعْصِي اللَّه - وهُمْ يُطِيعُونَه - لَوَدِدْتُ واللَّه أَنَّ مُعَاوِيَةَ صَارَفَنِي بِكُمْ - صَرْفَ الدِّينَارِ بِالدِّرْهَمِ - فَأَخَذَ مِنِّي عَشَرَةَ مِنْكُمْ - وأَعْطَانِي رَجُلًا مِنْهُمْ.

يَا أَهْلَ الْكُوفَةِ - مُنِيتُ مِنْكُمْ بِثَلَاثٍ واثْنَتَيْنِ - صُمٌّ ذَوُو أَسْمَاعٍ - وبُكْمٌ ذَوُو كَلَامٍ - وعُمْيٌ ذَوُو أَبْصَارٍ - لَا أَحْرَارُ صِدْقٍ عِنْدَ اللِّقَاءِ - ولَا إِخْوَانُ ثِقَةٍ عِنْدَ الْبَلَاءِ - تَرِبَتْ أَيْدِيكُمْ - يَا أَشْبَاه الإِبِلِ غَابَ عَنْهَا رُعَاتُهَا - كُلَّمَا جُمِعَتْ مِنْ جَانِبٍ تَفَرَّقَتْ مِنْ آخَرَ - واللَّه لَكَأَنِّي بِكُمْ فِيمَا إِخَالُكُمْ - أَنْ لَوْ حَمِسَ الْوَغَى وحَمِيَ الضِّرَابُ - قَدِ انْفَرَجْتُمْ عَنِ ابْنِ أَبِي طَالِبٍ - انْفِرَاجَ الْمَرْأَةِ عَنْ قُبُلِهَا وإِنِّي لَعَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي ومِنْهَاجٍ مِنْ نَبِيِّي - وإِنِّي لَعَلَى الطَّرِيقِ الْوَاضِحِ - أَلْقُطُه لَقْطاً

اے وہ قوم جس کے بدن حاضر ہیں اور عقلیں غائب تمہارے خواہشات گونا گوں ہیں اورتمہارے حکام تمہاری بغاوت میں مبتلا ہیں۔تمہاری امیر اللہ کی اطاعت کرتا ہے اورتم اس کی نا فرمانی کرتے ہو اور شام کا حاکم اللہ کی معصیت کرتا ہے اور اس کی قوم اس کی اطاعت کرتی ہے۔خدا گواہ ہے کہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ معاویہ مجھ سے درہم و دینار کا سودا کرلے کہتم میں کے دس لے کراپنا ایک دیدے۔ کوفہ والو! میں تمہاری وجہ سے تین طرح کی شخصیات اور دو طرح کی کیفیات سے دوچار ہوں ۔تم کان رکھنے والے بہرے ' زبان رکھنے والے گونگے اور آنکھ رکھنے والے اندھے ہو۔تمہاری حالت یہ ہے کہ نہ میدان جنگ کے سچے جواں مرد ہو اور نہ مصیبتوں میں قابل اعتماد ساتھی۔تمہارے ہاتھ خاک میں مل جائیں۔تم ان اونٹوں جیسے ہو جن کے چرانے والے گم ہو جائیں کہ جب ایک طرف سے جمع کئے جائیں تو دوسری طرف سے منتشر ہو جائیں۔خدا کی قسم: میں اپنے خیال کے مطابق تمہیں ایسا دیکھ رہا ہوں کہ اگر جنگ تیز ہوگئی اور میدان کا رزار گرم ہو گیا تو تم فرزندابو طالب سے اس بے شرمی کے ساتھ الگ ہو جائو گے جس طرح کوئی عورت برہنہ ہو جاتی ہے۔لیکن بہر حال میں اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل روشن رکھتا ہوں اور پیغمبر (ص) کے راستہ پرچل رہا ہوں ۔میرا راستہ بالکل روشن ہے جسے میں باطل کے اندھیروں میں بھی ڈھونڈھ لیتاہوں۔

۱۶۷

أصحاب رسول اللَّه

انْظُرُوا أَهْلَ بَيْتِ نَبِيِّكُمْ - فَالْزَمُوا سَمْتَهُمْ واتَّبِعُوا أَثَرَهُمْ - فَلَنْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ هُدًى - ولَنْ يُعِيدُوكُمْ فِي رَدًى - فَإِنْ لَبَدُوا فَالْبُدُوا وإِنْ نَهَضُوا فَانْهَضُوا - ولَا تَسْبِقُوهُمْ فَتَضِلُّوا - ولَا تَتَأَخَّرُوا عَنْهُمْ فَتَهْلِكُوا - لَقَدْ رَأَيْتُ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - فَمَا أَرَى أَحَداً يُشْبِهُهُمْ مِنْكُمْ - لَقَدْ كَانُوا يُصْبِحُونَ شُعْثاً غُبْراً وقَدْ بَاتُوا سُجَّداً وقِيَاماً - يُرَاوِحُونَ بَيْنَ جِبَاهِهِمْ وخُدُودِهِمْ - ويَقِفُونَ عَلَى مِثْلِ الْجَمْرِ مِنْ ذِكْرِ مَعَادِهِمْ - كَأَنَّ بَيْنَ أَعْيُنِهِمْ رُكَبَ الْمِعْزَى مِنْ طُولِ سُجُودِهِمْ - إِذَا ذُكِرَ اللَّه هَمَلَتْ أَعْيُنُهُمْ - حَتَّى تَبُلَّ جُيُوبَهُمْ - ومَادُوا كَمَا يَمِيدُ الشَّجَرُ يَوْمَ الرِّيحِ الْعَاصِفِ - خَوْفاً مِنَ الْعِقَابِ ورَجَاءً لِلثَّوَابِ!

(اصحاب رسول اکرم (ص))

دیکھو! اہل بیت پیغمبر (ص) پر نگاہ رکھو اور انہیں کے راستہ کو اختیار کرو انہیں کے نقش قدم پر چلتے رہوکہوہ نہ تمہیں ہدایت سے باہر لے جائیں گے اور نہ ہلاکت میں پلٹ کرجانے دیں گے۔وہ ٹھہر جائیں تو ٹھہر جائو اور اٹھ کھڑے ہوں تو کھڑے ہوجائو۔خبر دار ان سے آگے نہ نکل جانا کہ گمراہ ہو جائو اور پیچھے بھی نہ رہ جانا کہ ہلاک ہو جائو میں نے اصحاب پیغمبر(ص)کادور بھی دیکھا ہے مگر افسوس تم میں کا ایک بھی ان کا جیسا نہیں ہے۔وہ صبح کے وقت اس طرح اٹھتے تھے کہ بال الجھے ہوئے' سر پر خاک پڑی ہوئی جب کہ رات سجدہ اور قیام میں گذار چکے ہوتے تھے ۔اور کبھی پیشانی خاک پر رکھتے تھے اور کبھی رخسار قیامت کی یاد میں گویا انگاروں پر کھڑے رہتے تھے اور ان کی پیشانیوں پرسجدوں کی وجہ سے بکری کے گھٹنے جیسے گھٹے ہوتے تھے۔ان کے سامنے خدا کا ذکر آتا تھا توآنسو اس طرح برس پڑتے تھے کہ گریبان تک تر ہو جاتا تھا اوران کا جسم عذاب کے خوف اور ثواب کی امید میں اس طرح لرزتا تھا جس طرح سخت ترین آندھی کے دن کوئی درخت۔

۱۶۸

(۹۸)

ومن كلام لهعليه‌السلام

يشير فيه إلى ظلم بني أمية

واللَّه لَا يَزَالُونَ - حَتَّى لَا يَدَعُوا لِلَّه مُحَرَّماً إِلَّا اسْتَحَلُّوه ولَا عَقْداً إِلَّا حَلُّوه - وحَتَّى لَا يَبْقَى بَيْتُ مَدَرٍ ولَا وَبَرٍ إِلَّا دَخَلَه ظُلْمُهُمْ - ونَبَا بِه سُوءُ رَعْيِهِمْ وحَتَّى يَقُومَ الْبَاكِيَانِ يَبْكِيَانِ - بَاكٍ يَبْكِي لِدِينِه - وبَاكٍ يَبْكِي لِدُنْيَاه - وحَتَّى تَكُونَ نُصْرَةُ أَحَدِكُمْ مِنْ أَحَدِهِمْ - كَنُصْرَةِ الْعَبْدِ مِنْ سَيِّدِه - إِذَا شَهِدَ أَطَاعَه - وإِذَا غَابَ اغْتَابَه - وحَتَّى يَكُونَ أَعْظَمَكُمْ فِيهَا عَنَاءً أَحْسَنُكُمْ بِاللَّه ظَنّاً - فَإِنْ أَتَاكُمُ اللَّه بِعَافِيَةٍ فَاقْبَلُوا - وإِنِ ابْتُلِيتُمْ فَاصْبِرُوا - فَإِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ.

(۹۸)

آپ کا ارشاد گرامی

(جس میں بنی امیہ کے مظالم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے )

خدا کی قسم یہ یوں ہی ظلم کرتے رہیں گے یہاں تک کہ کوئی حرام نہ بچے گا جسے حلال نہ بنالیں اور کوئی عہد و پیمان نہ بچے گا جسے توڑ نہ دیں اور کوئی مکان یا خیمہ باقی نہ رہے گا جس میں ان کا ظلم داخل نہ ہو جائے اور ان کا بد ترین برتائو انہیں ترک وطن پرآمادہ نہ کردے اور دونوں طرح کے لوگ رونے پرآمادہ نہ ہو جائیں۔دنیا دار اپنی دنیا کے لئے روئے اور دیندار اپنے دین کی تباہی پرآنسو بہائے۔ اورتم میں سب سے زیادہ مصیبت زدہ وہ ہو جو خدا پر سب سے زیادہ اعتماد رکھنے والا ہو لہٰذا اگر خدا تمہیں عافیت دے تو اسے قبول کرلو۔اور اگرتمہارا امتحان لیاجائے تو صبر کرو کہ انجام کار بہر حال صاحبان تقویٰ(۱) کے لئے ہے۔

(۱) دنیا کے ہر ظلم کے مقابلہ میں صاحبان ایمان و کردار کے لئے یہی بشارت کافی ہے کہ انجام کار صاحبان تقوی کے ہاتھ میں ہے اور اس دنیا کی انتہا فساد اور تباہ کاری پر ہونے والی نہیں ہے بلکہ اسے ایک نہ ایک دن بہر حال عدل و انصاف سے معمور ہونا ہے۔اس دن ہر ظالم کو اس کے ظلم کا اندازہ ہو جائے گا اور ہر مظلوم کواس کے صبر کا پھل مل جائے گا۔مالک کائنات کی یہ بشارت نہ ہوتی تو صاحبان ایمان کے حوصلے پست ہو جاتے اور انہیں حالات زمانہ مایوسی کا شکار بنا دیتے لیکن اس بشارت نے ہمیشہ ان کے حوصلوں کو بلند رکھا ہے اور اسی کی بنیاد پر وہ ہر دورمیں ہر ظلم سے ٹکرانے کا حوصلہ رکھے رہے ہیں

۱۶۹

(۹۹)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في التزهيد من الدنيا

نَحْمَدُه عَلَى مَا كَانَ - ونَسْتَعِينُه مِنْ أَمْرِنَا عَلَى مَا يَكُونُ - ونَسْأَلُه الْمُعَافَاةَ فِي الأَدْيَانِ - كَمَا نَسْأَلُه الْمُعَافَاةَ فِي الأَبْدَانِ.

عِبَادَ اللَّه أُوصِيكُمْ بِالرَّفْضِ - لِهَذِه الدُّنْيَا التَّارِكَةِ لَكُمْ - وإِنْ لَمْ تُحِبُّوا تَرْكَهَا - والْمُبْلِيَةِ لأَجْسَامِكُمْ وإِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ تَجْدِيدَهَا - فَإِنَّمَا مَثَلُكُمْ ومَثَلُهَا كَسَفْرٍ سَلَكُوا سَبِيلًا فَكَأَنَّهُمْ قَدْ قَطَعُوه - وأَمُّوا عَلَماً فَكَأَنَّهُمْ قَدْ بَلَغُوه - وكَمْ عَسَى الْمُجْرِي إِلَى الْغَايَةِ أَنْ يَجْرِيَ إِلَيْهَا حَتَّى يَبْلُغَهَا - ومَا عَسَى أَنْ يَكُونَ بَقَاءُ مَنْ لَه يَوْمٌ لَا يَعْدُوه - وطَالِبٌ حَثِيثٌ مِنَ الْمَوْتِ يَحْدُوه ومُزْعِجٌ فِي الدُّنْيَا حَتَّى يُفَارِقَهَا رَغْماً - فَلَا تَنَافَسُوا فِي عِزِّ الدُّنْيَا وفَخْرِهَا

(۹۹)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں دنیا سے کنارہ کشی کی دعوت دی گئی ہے)

خدا کی حمد ہے اس پر جو ہوچکا اور اس کی امداد کا تقاضاہے ان حالات پر جو سامنے آنے والے ہیں۔ہم اس سے دین کی سلامتی کا تقاضا اسی طرح کرتے ہیں جس طرح بدن کی صحت و عافیت کی دعا کرتے ہیں۔

بندگان خدا! میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ اس دنیا کو چھوڑ دو جوتمہیں بہر حال چھوڑنے والی ہ چاہے تم اس کی جدائی کو پسند نہ کرو۔وہ تمہارے جسم کو بہر حال بوسیدہ کردے گی تم لاکھ اس کی تازگی کی خواہش کرو۔تمہاری اور اس کی مثال ان مسافروں جیسی ہے جو کسی راستہ پرچلے اورگویا کہ منزل تک پہنچ گئے ۔ کسی نشان راہ کا ارادہ کیا اور گویا کہ اسے حاصل کرلیا اور کتنا تھوڑاوقفہ ہوتا ہے اس گھوڑا دوڑانے(۱) والے کے لئے جو دوڑاتے ہی مقصدتک پہنچ جائے۔اس شخص کی بقا ہی کیا ہے جس کا ایک دن مقرر ہو جس سے آگے نہ بڑھ سکے اور پھر موت تیز رفتاری سے اسے ہنکا کر لے جا رہی ہو یہاں تک کہ بدل ناخواستہ دنیا کو چھوڑ دے۔خبر دار دنیا کی عزت اور اس کی سربلندی میں مقابلہ نہ کرنا ۔

(۱)خدا جانتا ہے کہ زندگی کی اس سے حسین تر تعبیر نہیں ہو سکتی ہے کہ انسان زندگی کے پروگرام بناتا ہی رہ جاتا ہے اور موت سامنے آکر کھڑی ہو جاتی ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گھوڑے نے دم بھرنے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ منزل قدموں میں آگئی اورسارے حوصلے دھرے رہ گئے۔ظاہر ہے کہ اس زندگی کی کیا حقیقت ہے کہ جس کی میعاد معین ہے اور وہ بھی زیادہ طویل نہیں ہے اور ہرحال میں پوری ہو جانے والی ہے چاہے انسان متوجہ ہویا غافل اور چاہے اسے پسند کرے یا ناپسند۔

۱۷۰

ولَا تَعْجَبُوا بِزِينَتِهَا ونَعِيمِهَا - ولَا تَجْزَعُوا مِنْ ضَرَّائِهَا وبُؤْسِهَا - فَإِنَّ عِزَّهَا وفَخْرَهَا إِلَى انْقِطَاعٍ - وإِنَّ زِينَتَهَا ونَعِيمَهَا إِلَى زَوَالٍ - وضَرَّاءَهَا وبُؤْسَهَا إِلَى نَفَادٍ وكُلُّ مُدَّةٍ فِيهَا إِلَى انْتِهَاءٍ - وكُلُّ حَيٍّ فِيهَا إِلَى فَنَاءٍ - أَولَيْسَ لَكُمْ فِي آثَارِ الأَوَّلِينَ مُزْدَجَرٌ وفِي آبَائِكُمُ الْمَاضِينَ تَبْصِرَةٌ ومُعْتَبَرٌ - إِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُونَ - أَولَمْ تَرَوْا إِلَى الْمَاضِينَ مِنْكُمْ لَا يَرْجِعُونَ - وإِلَى الْخَلَفِ الْبَاقِينَ لَا يَبْقَوْنَ - أَولَسْتُمْ تَرَوْنَ أَهْلَ الدُّنْيَا - يُصْبِحُونَ ويُمْسُونَ عَلَى أَحْوَالٍ شَتَّى - فَمَيِّتٌ يُبْكَى وآخَرُ يُعَزَّى - وصَرِيعٌ مُبْتَلًى وعَائِدٌ يَعُودُ - وآخَرُ بِنَفْسِه يَجُودُ وطَالِبٌ لِلدُّنْيَا والْمَوْتُ يَطْلُبُه - وغَافِلٌ ولَيْسَ بِمَغْفُولٍ عَنْه - وعَلَى أَثَرِ الْمَاضِي مَا يَمْضِي الْبَاقِي!

أَلَا فَاذْكُرُوا هَاذِمَ اللَّذَّاتِ - ومُنَغِّصَ الشَّهَوَاتِ - وقَاطِعَ الأُمْنِيَاتِ - عِنْدَ الْمُسَاوَرَةِ لِلأَعْمَالِ الْقَبِيحَةِ - واسْتَعِينُوا اللَّه عَلَى أَدَاءِ وَاجِبِ حَقِّه - ومَا لَا يُحْصَى مِنْ أَعْدَادِ نِعَمِه وإِحْسَانِه.

اور اس کی زینت و نعمت کو پسند نہ کرنا اور اس کی دشواری اور پریشانی سے رنجیدہ نہ ہونا کہ اس کی عزت و سر بلندی ختم ہو جانے والی ہے اور اس کی زینت و نعمت کو زوال آجانے والا ہے اوراس کی تنگی اور سختی بہر حال ختم ہو جانے والی ہے۔یہاں ہر مدت کی ایک انتہا ہے اور ہر زندہ کے لئے فنا ہے۔کیا تمہارے لئے گزشتہ لوگوں کے آثار میں سامان تنبیہ نہیں ہے ؟اور کیا آباء و اجداد کی داستانوں میں بصریت و عبرت نہیں ہے ؟ اگر تمہارے پاس عقل ہے۔کیا تم نے یہ نہیں دیکھا ہے کہ جانے والے پلٹ کر نہیں آتے ہیں اورب عد میں آنے والے رہ نہیں جاتے ہیں ؟ کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ اہل دنیا مختلف حالات میں صبح و شام کرتے ہیں۔کوئی مردہ ہے جس پرگریہ ہو رہا ہے اور کوئی زندہ ہے تو اسے پرسہ دیا جا رہا ہے۔ایک بستر پر پڑا ہوا ہے تو ایک اس کی عیادت کر رہا ہے اور ایک اپنی جان سے جا رہا ہے۔کوئی دنیا تلاش کر رہا ہے تو موت اسے تلاش کر رہی ہے اور کوئی غفلت میں پڑا ہوا ہے تو زمانہ اس سے غافل نہیں ہے اور اس طرح جانے والوں کے نقش قدم پر رہ جانے والے چلے جا رہے ہیں۔آگاہ ہو جائو کہ ابھی موقع ہیاسے یاد کرو جو لذتوں کو فنا کر دینے والی۔خواہشات کو مکدرکردینے والی اور امیدوں کو قطع کر دینے والی ہے۔ایسے اوقات میں جب برے اعمال کا ارتکاب کر رہے ہو اور اللہ سے مدد مانگو کر اس کے واجب حق کوادا کردو اور ان نعمتوں کا شکریہ ادا کر سکو جن کا شمار کرنا نا ممکن ہے

۱۷۱

(۱۰۰)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في رسول اللَّه وأهل بيته

الْحَمْدُ لِلَّه النَّاشِرِ فِي الْخَلْقِ فَضْلَه - والْبَاسِطِ فِيهِمْ بِالْجُودِ يَدَه - نَحْمَدُه فِي جَمِيعِ أُمُورِه - ونَسْتَعِينُه عَلَى رِعَايَةِ حُقُوقِه - ونَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَه غَيْرُه - وأَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُه ورَسُولُه - أَرْسَلَه بِأَمْرِه صَادِعاً وبِذِكْرِه نَاطِقاً - فَأَدَّى أَمِيناً ومَضَى رَشِيداً - وخَلَّفَ فِينَا رَايَةَ الْحَقِّ - مَنْ تَقَدَّمَهَا مَرَقَ ومَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا زَهَقَ ومَنْ لَزِمَهَا لَحِقَ - دَلِيلُهَا مَكِيثُ الْكَلَامِ بَطِيءُ الْقِيَامِ سَرِيعٌ إِذَا قَامَ - فَإِذَا أَنْتُمْ

(۱۰۰)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(رسول اکرم (ص) اور آپ کے اہل بیت کے بارے میں)

شکر ہےاس خدا کا جو اپنے فضل و کرم کا دامن پھیلائے ہوئے ہے اور اپنےجود و عطا کا ہاتھ بڑھائے ہوئے ہے۔ہم اس کی حمد کرتے ہیں اس کے تمام معاملات میں اوراس کی مدد چاہتے ہیں خود اس کے حقوق کا خیال رکھنے کے لئے ہم شہادت دیتے ہیں کہ اسکے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور محمد (ص) اس کے بندہ اور رسول ہیں۔جنہیں اس نے اپنے امر کا اظہار اور اپنے ذکر کے بیان کے لئے بھیجا توانہوں نے نہایت امانتداری کے ساتھ اس کے پیغام کو پہنچادیا اور راہ راست پر اس دنیا سے گزرگئے اور ہمارے درمیان ایک ایسا پرچم(۱) حق چھوڑ گئے کہ جو اس سے آگے بڑھ جائے وہ دین سے نکل گیااور جو پیچھے رہ جائے وہ ہلاک ہوگیا اور جواس سےوابستہ رہے وہ حق کے ساتھ رہا۔اس کی طرف رہنمائی کرنے والا وہ ہے جو بات ٹھہر کر کرتا ہے اور قیام اطمینان سےکرتا ہے لیکن قیام کےبعدپھر تیزی سےکام کرتا ہے۔دیکھوجب تم اس کے لئے اپنی

(۱)اس سے مراد خود حضرت کی ذات گرامی ہے جسے حق کا محور و مرکز بنایا گیا ہے اور جس کے بارے میں رسول اکرم (ص) کی دعا ہے کہ مالک حق کو ادھر ادھر پھیر دے جدھر جدھر علی مڑ رہے ہو( صحیح ترمذی) اوربعد کے فقرات میں آل محمد (ص) کے دیگر افراد کی طرف اشارہ ہے جن میں مستقبل قریب میں امام محمد باقر اور امام جعفر صادق کا دور تھا جن کی طرف اہل دنیا نے رجوع کیا اور ان کی سیاسی عظمت کا بھی احساس کیا۔اور مستقبل قریب میں امام محمد باقر اور امام جعفر صادق کادور تھا جن کی طرف اہل دنیا نے رجوع کیا اور ان کی سیاسی عظمت کا بھی احساس کیا۔اور مستقبل بعید میں امام مہدی کا دور ہے جن کے ہاتھوں امت کا انتشار دور ہوگا اور اسلام پلٹ کر اپنے مرکز پر آجائے گا۔ظلم و جور کاخاتمہ ہوگا اور عدل وانصاف کا نظام قائم ہو جائے گا۔

۱۷۲

أَلَنْتُمْ لَه رِقَابَكُمْ - وأَشَرْتُمْ إِلَيْه بِأَصَابِعِكُمْ - جَاءَه الْمَوْتُ فَذَهَبَ بِه - فَلَبِثْتُمْ بَعْدَه مَا شَاءَ اللَّه - حَتَّى يُطْلِعَ اللَّه لَكُمْ مَنْ يَجْمَعُكُمْ ويَضُمُّ نَشْرَكُمْ فَلَا تَطْمَعُوا فِي غَيْرِ مُقْبِلٍ ولَا تَيْأَسُوا مِنْ مُدْبِرٍ فَإِنَّ الْمُدْبِرَ عَسَى أَنْ تَزِلَّ بِه إِحْدَى قَائِمَتَيْه وتَثْبُتَ الأُخْرَى فَتَرْجِعَا حَتَّى تَثْبُتَا جَمِيعاً.

أَلَا إِنَّ مَثَلَ آلِ مُحَمَّدٍصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كَمَثَلِ نُجُومِ السَّمَاءِ - إِذَا خَوَى نَجْمٌ طَلَعَ نَجْمٌ فَكَأَنَّكُمْ قَدْ تَكَامَلَتْ مِنَ اللَّه فِيكُمُ الصَّنَائِعُ - وأَرَاكُمْ مَا كُنْتُمْ تَأْمُلُونَ.

(۱۰۱)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وهي إحدى الخطب المشتملة على الملاحم

الْحَمْدُ لِلَّه الأَوَّلِ قَبْلَ كُلِّ أَوَّلٍ والآخِرِ بَعْدَ كُلِّ آخِرٍ - وبِأَوَّلِيَّتِه وَجَبَ أَنْ لَا أَوَّلَ لَه - وبِآخِرِيَّتِه وَجَبَ أَنْ لَا آخِرَ لَه وأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللَّه

گردنوں کو جھکادوگے اور ہر مسئلہ میں اس کی طرف اشارہ کرنے لگو گے تو اسے موت آجائے گی اور اسے لے کرچلی جائے گی۔پھر جب تک خدا چاہے گاتمہیں اسی حال میں رہنا پڑے گا۔یہاں تک کہ وہ اس شخص کو منظر عام پر لے آئے جو تمہیں ایک مقام پرجمع کردے اور تمہارے انتشار کو دور کردے۔تو دیکھو جوآنے والا ہے اس کے علاوہ کسی کی طمع نہ کرو اور جو جا رہا ہے اس سے مایوس نہ ہو جائو۔ہو سکتا ہے کہ جانے والے کا ایک قدم اکھڑ جائے تو دوسرا جما رہے اور پھر ایسے حالات پیدا ہو جائیں کہ دونوں قدم جم جائیں۔ دیکھو آل محمد (ص) کی مثال آسمان کے ستاروں جیسی ہے کہ جب ایک ستارہ غائب ہو جاتا ہے تو دوسرا نکل آتا ہے۔توگویا یا اللہ کی نعمتیں تم پر تمام ہوگئی ہیں اور اس نے تمہیں وہ سب کچھ دکھلا دیا ہے جس کی تم آس لگائے بیٹھے تھے۔

(۱۰۱)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جو ان خطبوں میں ہے جن میں حوادث زمانہ کاذکر کیا گیا ہے )

ساری تعریف اس اول کے لئے ہے جو ہر ایک سے پہلے ہے اور اس آخر کے لئے ہے جو ہر ایک کے بعد ہے۔اس کی اولیت کا تقاضا ہے کہ اس کا اول نہ ہو اور اس کی آخریت کا تقاضا ہے کہ اس کا کوئی آخرنہ ہو۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے

۱۷۳

شَهَادَةً - يُوَافِقُ فِيهَا السِّرُّ الإِعْلَانَ - والْقَلْبُ اللِّسَانَ - أَيُّهَا النَّاسُ( لا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقاقِي ) ولَا يَسْتَهْوِيَنَّكُمْ عِصْيَانِي - ولَا تَتَرَامَوْا بِالأَبْصَارِ عِنْدَ مَا تَسْمَعُونَه مِنِّي - فَوَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وبَرَأَ النَّسَمَةَ إِنَّ الَّذِي أُنَبِّئُكُمْ بِه عَنِ النَّبِيِّ الأُمِّيِّصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مَا كَذَبَ الْمُبَلِّغُ ولَا جَهِلَ السَّامِعُ - لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى ضِلِّيلٍ قَدْ نَعَقَ بِالشَّامِ - وفَحَصَ بِرَايَاتِه فِي ضَوَاحِي كُوفَانَ فَإِذَا فَغَرَتْ فَاغِرَتُه واشْتَدَّتْ شَكِيمَتُه وثَقُلَتْ فِي الأَرْضِ وَطْأَتُه - عَضَّتِ الْفِتْنَةُ أَبْنَاءَهَا بِأَنْيَابِهَا - ومَاجَتِ الْحَرْبُ بِأَمْوَاجِهَا - وبَدَا مِنَ الأَيَّامِ كُلُوحُهَا ومِنَ اللَّيَالِي كُدُوحُهَا فَإِذَا أَيْنَعَ زَرْعُه وقَامَ عَلَى يَنْعِه وهَدَرَتْ شَقَاشِقُه وبَرَقَتْ بَوَارِقُه عُقِدَتْ رَايَاتُ الْفِتَنِ الْمُعْضِلَةِ - وأَقْبَلْنَ

اور اس گواہی میں میرا باطن ظاہرکے مطابق ہے اور میری زبان دل سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔

ایہاالناس !خبردار میری مخالفت کی غلطی نہ کرو اور میری نا فرمانی کرکے حیران و سر گردان نہ ہو جائو اور میری بات سنتے وقت ایک دوسرے کو اشارے نہ کرو کہ اس پروردگارکی قسم جس نے دانہ کو شگافتہ کیا ہے اور نفوس کو ایجاد کیا ہے کہ میں جو کچھ(۱) خبردے رہا ہوں وہ رسول امی کی طرف سے ہے جہاں نہ پہنچانے والا غلط گو تھا اور نہ سننے والا جاہل تھا اورگویا کہ میں اس بد ترین گمراہ کو بھی دیکھ رہا ہوں جس نے شام میں للکارا اور کوفہ کے اطراف میں اپنے جھنڈے گاڑ دئیے اور اس کے بعد جب اس کادہانہ کھل گیا اور اس کی لگام کا دہانہ مضبوط ہوگیا اور زمین میں اس کی پامالیاں سخت تر ہوگئیں تو فتنے ابناء زمانہ کو اپنے دانتوں سے کاٹنے لگے اور جنگوں نے اپنے تھپڑوں کی لپیٹ میں لے لیا اور دونوں کی سختیاں اور راتوں کی جراحتیں منظرعام پر آگئیں اور پھر جب اس کی کھیتی تیار ہو کر اپنے پیروں پرکھڑی ہوگئی اوراس کی سر مستیاں اپناجوش دکھلانے لگیں اور تلواریں چمکنے لگیں تو سخت ترین فتنوں کے جھنڈے گاڑ دئیے گئے

(۱)رسول اکرم (ص) کے دورمیں عبداللہ بن ابی اور مولائے کائنات کے دورمیں اشعث بن قیس جیسے افرادہمیشہ رہے ہیں جو بظاہر صاحبان ایمان کی صفوں میں رہتے ہیں لیکن ان کا کام باتوں کامذاق اڑا کر انہیں مشتبہ بنا دینے اور قوم میں انتشار پیدا کردینے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا ہے۔اس لئے آپ نے چاہا کہ اپنی خبروں کے مصدر و ماخذ کی طرف اشارہ کردیں تاکہ ظالموں کو شبہ پیدا کرنے کاموقع نہ ملے اور آپ اس حقیقت کو بھی واضح کرسکیں کہ میرے بیان میں شبہ درحقیقت رسول اکرم (ص) کی صداقت میں شبہ ہے جو کفار و مشرکین مکہ بھی نہکر سکے تو منافقین کے لئے اس کا جواز کس طرح پیدا ہو سکتا ہے ؟

اس کے بعد آپنے اس نکتہ کی طرف بھی اشارہ فرمادیا کہاگر باقی لوگ یہ کام نہیں کر سکتے ہیں تو اس کا تعلق ان کی جہالت سے ہے رسالت کے مبدء فیاض سے نہیں ہے۔اس نے تو ہر ایک کو تعلیم دینا چاہی لیکن بے صلاحیت افراد اورفیض سے محروم رہ گئے تو کریم کا کیا قصور ہے۔

۱۷۴

كَاللَّيْلِ الْمُظْلِمِ والْبَحْرِ الْمُلْتَطِمِ - هَذَا وكَمْ يَخْرِقُ الْكُوفَةَ مِنْ قَاصِفٍ ويَمُرُّ عَلَيْهَا مِنْ عَاصِفٍ وعَنْ قَلِيلٍ تَلْتَفُّ الْقُرُونُ بِالْقُرُونِ ويُحْصَدُ الْقَائِمُ ويُحْطَمُ الْمَحْصُودُ !

(۱۰۲)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

تجري هذا المجرى

وفيها ذكر يوم القيامة وأحوال الناس المقبلة

يوم القيامة

وذَلِكَ يَوْمٌ يَجْمَعُ اللَّه فِيه الأَوَّلِينَ والآخِرِينَ - لِنِقَاشِ الْحِسَابِ وجَزَاءِ الأَعْمَالِ - خُضُوعاً قِيَاماً قَدْ أَلْجَمَهُمُ الْعَرَقُ ورَجَفَتْ بِهِمُ الأَرْضُ فَأَحْسَنُهُمْ حَالًا مَنْ وَجَدَ لِقَدَمَيْه مَوْضِعاً - ولِنَفْسِه مُتَّسَعاً

حال مقبلة على الناس

ومنها: فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ لَا تَقُومُ لَهَا قَائِمَةٌ ولَا تُرَدُّ لَهَا رَايَةٌ - تَأْتِيكُمْ مَزْمُومَةً مَرْحُولَةً يَحْفِزُهَا قَائِدُهَا ويَجْهَدُهَا رَاكِبُهَا - أَهْلُهَا قَوْمٌ شَدِيدٌ كَلَبُهُمْ

اور وہ تاریک رات اور تلاطم خیز سمندر کی طرح منظر عام پر آگئے۔اور کوفہ کو اس کے علاوہ بھی کتنی ہی آندھیاں پارہ پارہ کرنے والی ہیں اور اس پر سے کتنے ہی جھکڑ گزرنے والے ہیں اور عنقریب وہاں جماعتیں جماعتوں سے گتھنے والی ہیں اور کھڑی کھیتیاں کاٹی جانے والی ہیں اور کٹے ہوئے ماحصل کو بھی تباہ و برباد کردیا جائے گا۔

(۱۰۲)

(آپ کے خطبہ کا ایک حصہ)

(جس میں قیامت اور اس میں لوگوں کے حالات کا ذکر کیا گیا ہے )

وہ دن وہ ہوگا جب پروردگار اولین و آخرین کودقیق ترین حساب اور اعمال کی جزا کے لئے اس طرح جمع کرے گا کہ سب خضوع و خشوع کے عالم میں کھڑے ہوں گے۔پسینہ ان کے دہن تک پہنچا ہوگا اور زمین لرز رہی ہوگی۔بہترین حال اس کا ہوگا جو اپنے قدم جمانے کی جگہ حاصل کرلے گا اورجسے سانس لینے کا موقع مل جائے گا۔

(اس خطبہ کا ایک حصہ)

ایسے فتنے جیسے اندھیری رات کے ٹکڑے جس کے سامنے نہ گھوڑے کھڑے ہو سکیں گے اور نہ ان کے پرچموں کو پلٹایا جاسکے گا۔یہ فتنے لگام و سامان کی پوری تیاری کے ساتھ آئیں گے کہ ان کا قائد انہیں ہنکارہا ہوگا اور ان کا سوار انہیں تھکا رہا ہوگا۔اس کی اہل ایک قوم ہوگی جس کے حملے سخت ہوں گے

۱۷۵

قَلِيلٌ سَلَبُهُمْ يُجَاهِدُهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّه قَوْمٌ أَذِلَّةٌ عِنْدَ الْمُتَكَبِّرِينَ - فِي الأَرْضِ مَجْهُولُونَ - وفِي السَّمَاءِ مَعْرُوفُونَ - فَوَيْلٌ لَكِ يَا بَصْرَةُ عِنْدَ ذَلِكِ - مِنْ جَيْشٍ مِنْ نِقَمِ اللَّه - لَا رَهَجَ لَه ولَا حَسَّ وسَيُبْتَلَى أَهْلُكِ بِالْمَوْتِ الأَحْمَرِ - والْجُوعِ الأَغْبَرِ !

(۱۰۳)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في التزهيد في الدنيا

أَيُّهَا النَّاسُ انْظُرُوا إِلَى الدُّنْيَا نَظَرَ الزَّاهِدِينَ فِيهَا - الصَّادِفِينَ عَنْهَا - فَإِنَّهَا واللَّه عَمَّا قَلِيلٍ تُزِيلُ الثَّاوِيَ السَّاكِنَ - وتَفْجَعُ الْمُتْرَفَ الآْمِنَ - لَا يَرْجِعُ مَا تَوَلَّى مِنْهَا فَأَدْبَرَ - ولَا يُدْرَى مَا هُوَ آتٍ مِنْهَا فَيُنْتَظَرَ سُرُورُهَا مَشُوبٌ بِالْحُزْنِ - وجَلَدُ الرِّجَالِ فِيهَا إِلَى الضَّعْفِ والْوَهْنِ فَلَا يَغُرَّنَّكُمْ كَثْرَةُ مَا يُعْجِبُكُمْ فِيهَا - لِقِلَّةِ مَا يَصْحَبُكُمْ مِنْهَا.

رَحِمَ اللَّه امْرَأً تَفَكَّرَ فَاعْتَبَرَ - واعْتَبَرَ فَأَبْصَرَ - فَكَأَنَّ مَا هُوَ كَائِنٌ مِنَ الدُّنْيَا عَنْ قَلِيلٍ لَمْ يَكُنْ - وكَأَنَّ مَا هُوَ كَائِنٌ مِنَ الآخِرَةِ -

لیکن لوٹ مار کم اور ان کا مقابلہ راہ خدا میں صرف وہ لوگ کریں گے جو متکبرین کی نگاہ میں کمزور اور پست ہوں گے۔وہ اہل دنیا میں مجہول اوراہل آسمان میں معروف ہوں گے۔ اے بصرہ! ایسے وقت میں تیری حالت قابل رحم ہوگی اس عذاب الٰہی کے لشکر کی بناپ رجس میں نہ غبار ہوگا نہ شورو غوغا اور عنقریب تیرے باشندوں کو سرخ موت اورسخت بھوک میں مبتلا کیا جائے گا۔

(۱۰۳)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(زہد کے بارے میں )

ایہا الناس !دنیا کی طرف اس طرح دیکھو جیسے وہ لوگ دیکھتے ہیں جو زہد رکھنے والے اور اس سے نظر بچانے والے ہوتے ہیں کہ عنقریب یہ اپنے ساکنوں کوہٹا دے گی اور انپے خوشحالوں کو رنجیدہ کردے گی۔اس میں جو چیزمنہ پھر کرجا چکی وہ پلٹ کر آنے وال نہیں ہے اور جو آنے والی ہے اس کاحال نہیں معلوم ہے کہ اس کا انتظار کیاجائے۔اس کی خوشی رنج سے مخلوط ہے اور اس میں مردوں کی مضبوطی ضعف و نا توانی کی طرف مائل ہے۔خبردار اس کی دل لبھانے والی چیزیں تمہیں دھوکہ میں نہ ڈال دیں کہ اس میں سے ساتھ جانے والی چیزیں بہت کم ہیں۔

خدا رحمت نازل کرے اس شخص پر جس نے غورو فکر کیا تو عبرت حاصل کی اور عبرت حاصل کی تو بصیرت پیداکرلی کہ دنیا کی ہر موجود شے عنقریب ایسی ہو جائے گی جیسے تھی ہی نہیں اورآخرت کی چیزیں اس طرح ہو جائیں گی

۱۷۶

عَمَّا قَلِيلٍ لَمْ يَزَلْ - وكُلُّ مَعْدُودٍ مُنْقَضٍ - وكُلُّ مُتَوَقَّعٍ آتٍ - وكُلُّ آتٍ قَرِيبٌ دَانٍ.

صفة العالم

ومنها: الْعَالِمُ مَنْ عَرَفَ قَدْرَه - وكَفَى بِالْمَرْءِ جَهْلًا أَلَّا يَعْرِفَ قَدْرَه - وإِنَّ مِنْ أَبْغَضِ الرِّجَالِ إِلَى اللَّه تَعَالَى لَعَبْداً - وَكَلَه اللَّه إِلَى نَفْسِه - جَائِراً عَنْ قَصْدِ السَّبِيلِ - سَائِراً بِغَيْرِ دَلِيلٍ - إِنْ دُعِيَ إِلَى حَرْثِ الدُّنْيَا عَمِلَ - وإِنْ دُعِيَ إِلَى حَرْثِ الآخِرَةِ كَسِلَ - كَأَنَّ مَا عَمِلَ لَه وَاجِبٌ عَلَيْه - وكَأَنَّ مَا وَنَى فِيه سَاقِطٌ عَنْه.

آخر الزمان

ومنها: وذَلِكَ زَمَانٌ لَا يَنْجُو فِيه إِلَّا كُلُّ مُؤْمِنٍ نُوَمَةٍ إِنْ شَهِدَ لَمْ يُعْرَفْ وإِنْ غَابَ لَمْ يُفْتَقَدْ - أُولَئِكَ مَصَابِيحُ الْهُدَى وأَعْلَامُ السُّرَى لَيْسُوا بِالْمَسَايِيحِ ولَا الْمَذَايِيعِ الْبُذُرِ

جیسے ابھی موجود ہیں۔ہر گنتی میں آنے والا کم ہونے والا ہے اور ہر وہ شے جس کی امید ہو وہ عنقریبآنے والی ہے اورجوآنے والی ہے وہ گویا کہ قریب اور بالکل قریب ہے۔

(صفت عالم)

عالم(۱) وہ ہے جو اپنی قدر خود پہچانے اور انسان کی جہالت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنی قدر کو نہ پہچانے اللہ کی نگاہ میں بد ترین بندہ وہ ہے جسے اس نے اسی کے حوالہ کردیا ہو کہ وہ سیدھے راستے سے ہٹ گیا ہے اور بغیر رہنما کے چل رہا ہے۔اسے دنیاکے کاروبار کی دعوت دی جائے تو عمل پر آمادہ ہوجاتا ہے اورآخرت کے کام کی دعوت دی جائے تو سست ہو جاتا ہے گویا کہ جو کچھ کیا ہے وہی واجب تھا اور جس میں سستی برتی ہے وہ اس سے ساقط ہے۔

(آخر زمانہ)

وہ زمانہ ایسا ہوگا جس میں صرف وہی مومن نجات پا سکے گا جو گویاکہ سورہا ہوگا کہ مجمع میں آئے تو لوگ اسے پہچان نہ سکیں اور غائب ہو جائے تو کوئی تلاش نہ کرے۔یہی لوگ ہدایت کے چراغ اور راتوں کے مسافروں کے لئے نشان منزل ہوں گے۔نہ ادھر ادھر لگاتے پھریں گے اور نہ لوگوں کے عیوب کی اشاعت کریں گے۔

(۱)حقیقت امر یہ ہے کہ انسان اپنی قدرو اوقات کو پہچان لیتا ہے تواس کا کردار خو د بخود سدھر جاتا ہے اور اس حقیقت سے غافل ہو جاتا ہے تو کبھی قدر و منزلت سے غفلت دربار داری خوشامد ' مدح بیجا ' ضمیر فروشی پرآمادہ کر دیتی ہے کہ علم کو مال و جاہ کے عوض بیچنے لگتا ہے اور کبھی اوقات سے ناواقفیت مالک سے بغاوت پرآمادہ کر دیتی ہے کہ عوام الناس پرحکومت کرتے کرتے مالک کی اطاعت کا جذبہ بھی ختم ہو جاتا ہے اور احکام الہیہ کوبھی اپنی خواہشات کے راستہ پرچلانا چاہتا ہے جو جہالت کابدترین مظاہرہ ہے اوراس کا علم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

۱۷۷

أُولَئِكَ يَفْتَحُ اللَّه لَهُمْ أَبْوَابَ رَحْمَتِه - ويَكْشِفُ عَنْهُمْ ضَرَّاءَ نِقْمَتِه.

أَيُّهَا النَّاسُ سَيَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ - يُكْفَأُ فِيه الإِسْلَامُ كَمَا يُكْفَأُ الإِنَاءُ بِمَا فِيه –

أَيُّهَا النَّاسُ - إِنَّ اللَّه قَدْ أَعَاذَكُمْ مِنْ أَنْ يَجُورَ عَلَيْكُمْ - ولَمْ يُعِذْكُمْ مِنْ أَنْ يَبْتَلِيَكُمْ وقَدْ قَالَ جَلَّ مِنْ قَائِلٍ –( إِنَّ فِي ذلِكَ لَآياتٍ وإِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِينَ ) .

قال السيد الشريف الرضي أما قولهعليه‌السلام كل مؤمن نومة - فإنما أراد به الخامل الذكر القليل الشر - والمساييح جمع مسياح - وهو الذي يسيح بين الناس بالفساد والنمائم - والمذاييع جمع مذياع - وهو الذي إذا سمع لغيره بفاحشة أذاعها - ونوه بها - والبذر جمع بذور - وهو الذي يكثر سفهه ويلغو منطقه.

(۱۰۴)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّه سُبْحَانَه بَعَثَ مُحَمَّداًصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ولَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْعَرَبِ يَقْرَأُ كِتَاباً - ولَا يَدَّعِي نُبُوَّةً ولَا وَحْياً - فَقَاتَلَ بِمَنْ أَطَاعَه مَنْ عَصَاه - يَسُوقُهُمْ إِلَى مَنْجَاتِهِمْ - ويُبَادِرُ بِهِمُ السَّاعَةَ أَنْ تَنْزِلَ بِهِمْ -

ان کے لئے اللہ رحمت کے دروازے کھول دے گا اور ان سے عذاب کی سختیوں کو دور کردے گا۔

لوگو! عنقریب ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے جس میں اسلام کو اسی طرح الٹ دیا جائے گا جس طرح برتن کواس کے سامان سمیت الٹ دیا جاتا ہے۔

لوگو! اللہ نے تمہیں اس بات سے پناہ دے رکھی ہے کہ وہ تم پر ظلم کرے لیکن تمہیں اس بات سے محفوظ نہیں رکھا ہے کہ تمہارا امتحان نہ کرے۔اس مالک جل جلالہ نے صاف اعلان کردیا ہے کہ '' اس میں ہماری کھلی ہوئی نشانیاں ہیں اور ہم بہر حال تمہارا امتحان لینے والے ہیں ''

سید شریف رضی : مومن کے نومہ ( خوابیدہ) ہونے کا مطلب اس کا گمنام اوربے شر ہونا ہے اور مسا بیح ، مسیاح کی جمع ہے اور وہ شخص ہے کہ جسے کسی کا عیب معلوم ہو جائے تو اس کی اشاعت کے بغیر چین نہ پڑ۔بذر۔ بذر کی جمع ہے یعنی وہ شخص جس کی حماقت زیادہ ہے اور اس کی گفتگو لغو یات پر مشتمل ہو۔

(۱۰۴)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

اما بعد!اللہ نے حضرت محمد (ص)کو اس دورمیں بھیجا ہے جب عرب میں نہ کوئی کتاب پڑھنا جانتا تھا اورنہ نبوت اور وحی کا ادعا کرنے والا تھا۔آپ نے اطاعت گزاروں کے سہارے نافرمانوں سے جہاد کیا کہ انہیں منزل نجات کی طرف لے جانا چاہتے تھے اور قیامت کے آنے سے پہلے ہدایت دے دینا چاہتے تھے۔

۱۷۸

يَحْسِرُ الْحَسِيرُ ويَقِفُ الْكَسِيرُ فَيُقِيمُ عَلَيْه حَتَّى يُلْحِقَه غَايَتَه - إِلَّا هَالِكاً لَا خَيْرَ فِيه - حَتَّى أَرَاهُمْ مَنْجَاتَهُمْ - وبَوَّأَهُمْ مَحَلَّتَهُمْ - فَاسْتَدَارَتْ رَحَاهُمْ واسْتَقَامَتْ قَنَاتُهُمْ وايْمُ اللَّه لَقَدْ كُنْتُ مِنْ سَاقَتِهَا - حَتَّى تَوَلَّتْ بِحَذَافِيرِهَا - واسْتَوْسَقَتْ فِي قِيَادِهَا - مَا ضَعُفْتُ ولَا جَبُنْتُ - ولَا خُنْتُ ولَا وَهَنْتُ - وايْمُ اللَّه لأَبْقُرَنَّ الْبَاطِلَ - حَتَّى أُخْرِجَ الْحَقَّ مِنْ خَاصِرَتِه!

قال السيد الشريف الرضي - وقد تقدم مختار هذه الخطبة - إلا أنني وجدتها في هذه الرواية - على خلاف ما سبق من زيادة ونقصان - فأوجبت الحال إثباتها ثانية.

جب کوئی تھکا ماندہ رک جاتا تھا اور کوئی لوٹا ہوا ٹھہر جاتا تھا تو اس کے سر پر کھڑے ہو جاتے تھے کہ اس منزل تک پہنچا دیں مگریہ کہ کوئی ایسا لاخیرا ہو جس کے مقدرمیں ہلاکت ہو۔یہاں تک کہ آپ نے لوگوں کو مرکز نجات سے آشنا بنا دیا اور انہیں ان کی منزل تک پہنچادیا ان کی چکی چلنے لگی اوران کے ٹیڑھے سیدھے ہوگئے ۔

اور خدا کی قسم! میں بھی ان کے ہنکانے والوں میں سے تھا یہاں تک کہ وہ مکمل طور پر پسپا ہوگئے اور اپنے بندھنوں میں جکڑ دئیے گئے۔اس درمیان میں میں نہ کمزور ہو ا) ۱ ( نہ بزدلی کاشکار ہوا۔نہ میں نے خیانت کی اور نہ سستی کا اظہارکیا۔خدا کی قسم ۔میں باطل) ۲ ( کاپیٹ چاک کرکے اس کے پہلو سے حق کو بہر حال نکال لوں گا۔

سید رضی : اس خطبہ کا ایک انتخاب پہلے نقل کیا جا چکا ہے۔لیکن چونکہ اس روایت میں قدر ے کمی اور زیادتی پائی جاتی تھی لہٰذا حالات کا تقاضا یہ تھاکہ اسے دوبارہ اس شکل میں بھی درج کردیا جائے ۔

(۱)یہ امام علیہ السلام کی زندگی کا بہترین نقشہ ہے اور اسی کی روشنی میں دوسرے کرداروں کا جائزہ لیا جاسکتا ہے جنہیں میدان تاریخ نے تو پہچانا ہے لیکن میدان جہاد ان کی گرد قدم سے بھی محروم رہ گیا۔مگر افسوس کہ جانی پہچانی شخصیتیں اجنبی ہو گئیں اور اجنبی شہر کے مشاہیر بن گئے ۔

(۲)اس جملہ میں اس نکتہ کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے کہ غاصب افراد نے جن اموال کو ہضم کرلیا ہے۔وہ ایک دن ان کا شکم چاک کرکے اس میں سے نکال لیا جائے گا اوراس امر کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے کہ حق ابھی فنا نہیں ہوا ہے۔اسے باطل نے دبا دیا ہے اورگویا کہ اپنے شکم کے اندر چھپا لیا ہے اور مجھ میں اس قدر طاقت پائی جاتی ہے کہ میں اس شکم کو چاک کرکے اس حق کو منظر عام پر لے آئوں اور باطل کے ہر راز کو بے نقاب کردوں

۱۷۹

(۱۰۵)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في بعض صفات الرسول الكريم وتهديد بني أمية وعظة الناس

الرسول الكريم

حَتَّى بَعَثَ اللَّه مُحَمَّداًصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - شَهِيداً وبَشِيراً ونَذِيراً - خَيْرَ الْبَرِيَّةِ طِفْلًا - وأَنْجَبَهَا كَهْلًا - وأَطْهَرَ الْمُطَهَّرِينَ شِيمَةً - وأَجْوَدَ الْمُسْتَمْطَرِينَ دِيمَةً

بنو أمية

فَمَا احْلَوْلَتْ لَكُمُ الدُّنْيَا فِي لَذَّتِهَا - ولَا تَمَكَّنْتُمْ مِنْ رَضَاعِ أَخْلَافِهَا - إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا صَادَفْتُمُوهَا جَائِلًا خِطَامُهَا - قَلِقاً وَضِينُهَا - قَدْ صَارَ حَرَامُهَا عِنْدَ أَقْوَامٍ - بِمَنْزِلَةِ السِّدْرِ الْمَخْضُودِ - وحَلَالُهَا بَعِيداً غَيْرَ مَوْجُودٍ - وصَادَفْتُمُوهَا واللَّه ظِلاًّ مَمْدُوداً - إِلَى أَجْلٍ مَعْدُودٍ - فَالأَرْضُ لَكُمْ شَاغِرَةٌ - وأَيْدِيكُمْ فِيهَا مَبْسُوطَةٌ - وأَيْدِي الْقَادَةِ عَنْكُمْ مَكْفُوفَةٌ - وسُيُوفُكُمْ عَلَيْهِمْ مُسَلَّطَةٌ - وسُيُوفُهُمْ عَنْكُمْ مَقْبُوضَةٌ

!

(۱۰۵)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں رسول اکرم (ص) کے اوصاف ۔بنی امیہ کی تہدیداور لوگوں کی نصیحت کاتذکرہ کیا گیا ہے )

(رسول اکرم (ص))

یہاں تک کہ پروردگار نے حضرت محمد (ص) کو امت کے اعمال کا گواہ۔ثواب کا بشارت دینے والا۔عذاب سے ڈرانے والا بنا کربھیج دیا۔آپ بچپنے میں بہترین مخلوقات اور سن رسیدہ ہونے پر اشرف کائنات تھے۔عادات کے اعتبار سے تمام پاکیزہ افراد کے زیادہ پاکیزہ اورباران رحمت کے اعتبار سے ہر سحاب رحمت سے زیادہ کریم و جوارتھے۔

(بنو امیہ )

یہ دنیا تمہارےلئےاسی وقت اپنی لذتوں سمیت خوشگوار بنی ہے اورتم اس کے فوائد حاصل کرنے کے قابل بنے ہو جب تم نےدیکھ لیاکہ اس کی مہارجھول رہی ہےاوراس کا تنگ ڈھیلاہوگیاہےاس کا حرام ایک قوم کے نزدیک بغیر کاٹنےوالی بیرکی طرح مزہ دار ہوگیا ہے اور اس کاحلال بہت دورتک نا پید ہوگیا ہے اور خدا کی قسم تم اس دنیا کو ایک مدت تک پھیلے ہوئے سایہ کی طرح دیکھو گے کہ زمین ہر ٹوکنے والے سے خالی ہوگئی ہے اور تمہارے ہاتھ کھل گئے ہیں اورقائدین کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں تمہاری تلواریں ان کے سروں پرلٹک رہی ہیں اور ان کی تلواریں نیام میں ہیں

۱۸۰

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417

418

419

420

421

422

423

424

425

426

427

428

429

430

431

432

433

434

435

436

437

438

439

440

441

442

443

444

445

446

447

448

449

450

451

452

453

454

455

456

457

458

459

460

461

462

463

464

465

466

467

468

469

470

471

472

473

474

475

476

477

478

479

480

481

482

483

484

485

486

487

488

489

490

491

492

493

494

495

496

497

498

499

500

501

502

503

504

505

506

507

508

509

510

511

512

513

514

515

516

517

518

519

520

521

522

523

524

525

526

527

528

529

530

531

532

533

534

535

536

537

538

539

540

541

542

543

544

545

546

547

548

549

550

551

552

553

554

555

556

557

558

559

560

561

562

563

564

565

566

567

568

569

570

571

572

573

574

575

576

577

578

579

580

581

582

583

584

585

586

587

588

589

590

591

592

593

594

595

596

597

598

599

600

601

602

603

604

605

606

607

608

609

610

611

612

613

614

615

616

617

618

619

620

621

622

623

624

625

626

627

628

629

630

631

632

633

634

635

636

637

638

639

640

641

642

643

644

645

646

647

648

649

650

651

652

653

654

655

656

657

658

659

660

661

662

663

664

665

666

667

668

669

670

671

672

673

674

675

676

677

678

679

680

681

682

683

684

685

686

687

688

689

690

691

692

693

694

695

696

697

698

699

700

701

702

703

704

705

706

707

708

709

710

711

712

713

714

715

716

717

718

719

720

721

722

723

724

725

726

727

728

729

730

731

732

733

734

735

736

737

738

739

740

741

742

743

744

745

746

747

748

749

750

751

752

753

754

755

756

757

758

759

760

761

762

763

764

765

766

767

768

769

770

771

772

773

774

775

776

777

778

779

780

781

782

783

784

785

786

787

788

789

790

791

792

793

794

795

796

797

798

799

800

801

802

803

804

805

806

807

808

809

810

811

812

813

814

815

816

817

818

819

820

821

822

823

824

825

826

827

828

829

830

831

832

833

834

835

836

837

838

839

840

841

842

843

844

845

846

847

848

849

850

851

852

853

854

855

856

857

858

859

860

861

862

863