نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)4%

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ) مؤلف:
: علامہ السید ذیشان حیدر جوادی قدس سرہ
زمرہ جات: متن احادیث
صفحے: 863

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 863 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 656833 / ڈاؤنلوڈ: 15924
سائز سائز سائز
نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

۱

۲

نھج البلاغہ

مکمل اردو ترجمہ

مترجم علامہ ذیشان حیدر جوادی

ای بک کمپوزنگ : الحسنین علیھما السلام نیٹ ورک

۳

نهج البلاغة

باب المختار من خطب مولانا امیر المومنین

علی بن ابی طالب علیه التحیة والسلام الخطب

(١)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

یذکر فیها ابتداء خلق السلماء والارض، وخلق آدم

وفیها ذکر الحج

وتحتوی علی حمد الله،خلق العالم، وخلق الملائکة، واختیار الانبیائ، ومبعث النبی، والقران، والاحکام الشرعیة

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ اَلَّذِي لاَ يَبْلُغُ مِدْحَتَهُ اَلْقَائِلُونَ وَ لاَ يُحْصِي نَعْمَاءَهُ اَلْعَادُّونَ وَ لاَ يُؤَدِّي حَقَّهُ اَلْمُجْتَهِدُونَ [ اَلْجَاهِدُونَ ] اَلَّذِي لاَ يُدْرِكُهُ بُعْدُ اَلْهِمَمِ وَ لاَ يَنَالُهُ غَوْصُ اَلْفِطَنِ اَلَّذِي لَيْسَ لِصِفَتِهِ حَدٌّ مَحْدُودٌ وَ لاَ نَعْتٌ مَوْجُودٌ وَ لاَ وَقْتٌ مَعْدُودٌ وَ لاَ أَجْلٌ مَمْدُودٌ فَطَرَ اَلْخَلاَئِقَ بِقُدْرَتِهِ وَ نَشَرَ اَلرِّيَاحَ بِرَحْمَتِهِ وَ وَتَّدَ بِالصُّخُورِ مَيَدَانَ أَرْضِهِ

امیر المومنین کے منتخب خطبات

اور احکام کا سلسلہ کلام

(۱)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں آسمان کی خلقت کی ابتدا اور خلقت آدم ۔ کے تذکرہ کے ساتھ حج بیت اللہ کی عظمت کا بھی ذکر کیا گیاہے)

یہ خطبہ حمدو ثنائے پرودگار۔خلقت عالم۔ تخلیق ملائکہ انتخاب انبیا بعثت سرکا ر دوعالم، عظمت قرآن اور مختلف احکام شرعیہ پرمشتمل ہے۔

ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس کی مدحت تک بولنے والوں کے تکلم کی رسائی نہیں ہے اور اس کی نعمتوں کوگننے والے شمار نہیں کر سکتے ہیں۔ اس کے حق کو کو ش ش کرنے والے بھی ادا نہیں کر سکتے ہیں۔ نہ ہمتوں کی بلندیوں اس کا ادراک کرسکتی ہیں اور نہ ذہانتوں کی گہرائیوں اس کی تہ تک جا سکتی ہیں۔ اس کی صفت ذات کے لئے نہ کوئی معین حد ہے نہ توصیفی کلمات۔نہ مقررہ وقت ہے اور نہ آخری مدت۔اس نے تمام مخلوقات کو صرف اپنی قدرت کا ملہ سے پیدا کیا ہے اور پھر اپنی رحمت ہی سے ہوائیں چلائی ہیں اور زمین کی حرکت کو پہاڑوں کی میخوں سے سنبھال کر رکھا ہے۔

حواشی-مصادر خطبہ۱عیون الحکم والمواعظ الواسطی،بخار۷۷،۳۰۰و۴۲۳۔ربیع الا برارزمحشری باب السماءوالکواکب،شرح نہج البلاغہ قطب راوندی تحف العقول حرانی۔اصول کافی۱۔۱۴۰احتجاج طبرسی۱۔۱۵۰،مطالب السئول محمد بن طلحہ الشافعی دستور معالم الحکم القاضی القاضعی ۱۵۔تفسیر فخررازی۲۔۱۲۴۔ارشادمفید ۱۰۵و۱۰۶ توحید صدوق عیون الا خبار صدوق امالی طوسی ۱۔۲۲مصادر خطبہ ۳ الجمل شیخ مفید ۶۲، فہرست بنی ۔۶۲ فہرست ابن ۔

۴

أَوَّلُ اَلدِّينِ مَعْرِفَتُهُ وَ كَمَالُ مَعْرِفَتِهِ اَلتَّصْدِيقُ بِهِ وَ كَمَالُ اَلتَّصْدِيقِ بِهِ تَوْحِيدُهُ وَ كَمَالُ تَوْحِيدِهِ اَلْإِخْلاَصُ لَهُ وَ كَمَالُ اَلْإِخْلاَصِ لَهُ نَفْيُ اَلصِّفَاتِ عَنْهُ لِشَهَادَةِ كُلِّ صِفَةٍ أَنَّهَا غَيْرُ اَلْمَوْصُوفِ وَ شَهَادَةِ كُلِّ مَوْصُوفٍ أَنَّهُ غَيْرُ اَلصِّفَةِ فَمَنْ وَصَفَ اَللَّهَ سُبْحَانَهُ فَقَدْ قَرَنَهُ وَ مَنْ قَرَنَهُ فَقَدْ ثَنَّاهُ وَ مَنْ ثَنَّاهُ فَقَدْ جَزَّأَهُ وَ مَنْ جَزَّأَهُ فَقَدْ جَهِلَهُ

وَ مَنْ جَهِلَهُ فَقَدْ أَشَارَ إِلَيْهِ وَ مَنْ أَشَارَ إِلَيْهِ فَقَدْ حَدَّهُ وَ مَنْ حَدَّهُ فَقَدْ عَدَّهُ وَ مَنْ قَالَ فِيمَ

دین کی ابتداء اس کی معرفت سے ہے اور معرفت کا کمال اس کی تصدیق ہے۔تصدیق کا کمال توحید کا اقرار ہے اور توحید کا کمال اخلاص عقیدہ ہے اور اخلاص کا کمال زائد بر ذات صفات کی نفی ہے' کہ صفت کا مفہوم خود ہی گواہ ہے کہ وہ موصوف سے الگ کوئی شے ہے اورموصوف کا مفہوم ہی یہ ہے کہ وہ صفت سے جدا گانہ کوئی ذات ہے۔اس کے لئے الگ سے صفات کا اثبات ایک شریک کا اثبات ہے اور اس کا لازمی نتیجہ ذات کا تعدد ہے اور تعدد کا مقصد اس کے لئے اجزاء کا عقیدہ ہے اوراجزاء کا عقیدہ صرف جہالت ہے معرفت نہیں ہے اور جو بے معرفت ہوگیا اس نے اشارہ کرنا شروع کردیا اور جس نے اس کیطرف اشارہ کیا اس نے اسے ایک سمت میں محدود کردیا اورجس نے محدود کردیا اس نے اسے گنتی کا ایک شمار کرلیا

( جو سراسر خلاف توحید ذات ہے)

جس نے یہ سوال اٹھایاکہ وہ کس چیز میں ہے

خطبہ کا پہلا حصہ ذات واجب کی عظمتوں سے متعلق ہے جس میں اس کی بلندیوں اور گہرائیوں کے تذکرہ کے ساتھ اس کے بے پایاں نعمتوں کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ اس کی ذات مقدس لا محدود ہے اور اس کی ابتداء وانتہا کا تصور بھی محال ہے۔البتہ اس کے احسانات کی فہرست میں سر فہرست تین چیزیں ہیں :

(۱) اسنے اپنی قدرت کاملہ سے مخلوقات کوپیدا کیا ہے۔(۲) اسنے اپنی رحمت شاملہ سے سانس لینے کے لئے ہوائیں چلائی ہیں۔(۳) انسان کے قرار و استقراء کے لئے زمین کی تھر تھراہٹ کو پہاڑوں کی میخوں کے ذریعہ روک دیا ہے ورنہ انسان کا ایک لمحہ بھی کھڑا رہنا محال ہوجاتا اور اس کے ہر لمحہ گر پڑنے اور الٹ جانے کا امکان بر قرا رہتا۔دوسرے حصہ میں دین و مذہب کا ذکر کیا گیا ہے کہ جس طرح کائنات کا آغاز ذات واجب سے ہے اسی طرح دین کا آغاز بھی اسی کی معرفت سے ہوتا ہے اور معرفت میں حسب ذیل امور کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔دل و جان سے اس کی تصدیق کی جائے۔فکرو نظر سے اس کی وحدانیت کا اقرار کیا جائے اور خالق و مخلوق کے امتیاز سے اس کے صنعاف کو عین ذات تصور کیا جائے۔

۵

فَقَدْ ضَمَّنَهُ وَ مَنْ قَالَ عَلاَمَ فَقَدْ أَخْلَى مِنْهُ كَائِنٌ لاَ عَنْ حَدَثٍ مَوْجُودٌ لاَ عَنْ عَدَمٍ مَعَ كُلِّ شَيْ‏ءٍ لاَ بِمُقَارَنَةٍ وَ غَيْرُ كُلِّ شَيْ‏ءٍ لاَ بِمُزَايَلَةٍ فَاعِلٌ لاَ بِمَعْنَى اَلْحَرَكَاتِ وَ اَلآْلَةِ بَصِيرٌ إِذْ لاَ مَنْظُورَ إِلَيْهِ مِنْ خَلْقِهِ مُتَوَحِّدٌ إِذْ لاَ سَكَنَ يَسْتَأْنِسُ بِهِ وَ لاَ يَسْتَوْحِشُ لِفَقْدِهِ

خلق العالم

أَنْشَأَ الْخَلْقَ إِنْشَاءً وابْتَدَأَه ابْتِدَاءً، بِلَا رَوِيَّةٍ أَجَالَهَا ولَا تَجْرِبَةٍ اسْتَفَادَهَا، ولَا حَرَكَةٍ أَحْدَثَهَا ولَا هَمَامَةِ نَفْسٍ اضْطَرَبَ فِيهَا، أَحَالَ الأَشْيَاءَ لأَوْقَاتِهَا

اس نے اسے کسی کے ضمن میں قرار دے دیا اور جس نے یہ کہا کہ وہ کس کے اوپر قائم ہے اسنے نیچے کا علاقہ خالی کرالیا۔ اس کی ہستی حادث نہیں ہے اور اس کا وجودعدم کی تاریکیوں سے نہیں نکلا ہے ۔وہ ہر شے کے ساتھ ہے لیکن مل کرنہیں ' اور ہر شے سے الگ ہے لیکن جدائی کی بنیادپر نہیں۔ وہ فاعل ہے لیکن حرکات و آلات کے ذریعہ نہیں اور وہ اس وقت بھی بصیر تھا جب دیکھی جانے والی مخلوق کا پتہ نہیں تھا۔وہ اپنی ذات میں بالکل اکیلا ہے اور اس کا کوئی ایسا ساتھی نہیں ہے جس کو پاکر انس محسوس کرے اور کھو کر پریشان ہو جانے کا احسان کرے۔

اس ن ے مخلوقات کو از غیب ایجاد کیا اور ان کی تخلیق کی ابدا کی بغیر کسی فکر کی جو لانی کے اور بغیر کسی تجربہ سے فائدہ اٹھائے ہوئے یا حرکت کی ایجاد کئے ہوئے یا نفس کے افکار کی الجھن میں پڑے ہوئے ۔

تما م اشیاء کو ان کے اوقات کے حوالے کردیا

ورنہ ہر غلط عقیدہ انسان کو ایک جہالت سے دوچار کردے گا اور ہر مہمل سوال کے نتیجہ میں معرفت سے شروع ہونے والا سلسلہ جہالت پر تمام ہوگا اور یہ بد بختی کی آخری منزل ہے۔ اس کی عظمت کے ساتھ اس نکتہ کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے کہ وہ جملہ اعمال کی نگرانی کر رہا ہے اور اپنی یکتائی میں کسی کے وہم و گمان کا محتاج نہیں ہے۔

تخلیق کائنات کے بارے میں اب تک جونظریات سامنے آئے ہیں' ان کا تعلق دو موضوعات سے ہے:

ایک موضوع یہ ہے کہ اس کائنات کا مادہ کیا ہے ؟ تمام عناصر اربعہ ہیں یا صرف آگ ہے یا صرف پانی سے یہ کائنات خلق ہوئی ہے یا کچھ دوسرے عناصر اربعہ بھی کارفرما تھے یا کسی گیس سے یہ کائنات پیدا ہوئی ہے یا کسی بھاپ اور کہرے نے اسے جنم دیا ہے؟ دوسرا موضوع یہ ہے کہ اس کی تخلیق دفعتاً ہوئی ہے یا یہ بتدریج عالم وجود میں آئی ہے اور اس کی عمردس ملین سال ہے یا ۶۰ ہزار ملین سال ہے؟

چنانچہ ہر شخص نے اپنے اندازہ کے مطابق ایک رائے قائم کی ہے اور اسی رائے کی بنا پراسے محقق کا درجہ دیا گیا ہے۔ حالانکہ حقیقت امر یہ ہے کہ اس قسم کے موضوعات میں تحقیق کا کوئیامکان نہیں ہے اور نہ کوئی حتمی رائے قائم کی جا سکتی ہے۔

۶

ولأَمَ بَيْنَ مُخْتَلِفَاتِهَا، وغَرَّزَ غَرَائِزَهَا وأَلْزَمَهَا أَشْبَاحَهَا، عَالِماً بِهَا قَبْلَ ابْتِدَائِهَا، مُحِيطاً بِحُدُودِهَا وانْتِهَائِهَا عَارِفاً بِقَرَائِنِهَا وأَحْنَائِهَا: ثُمَّ أَنْشَأَ سُبْحَانَه فَتْقَ الأَجْوَاءِ، وشَقَّ الأَرْجَاءِ وسَكَائِكَ الْهَوَاءِ، فَأَجْرَى فِيهَا مَاءً مُتَلَاطِماً تَيَّارُه ، مُتَرَاكِماً زَخَّارُه حَمَلَه عَلَى مَتْنِ الرِّيحِ الْعَاصِفَةِ، والزَّعْزَعِ الْقَاصِفَةِ فَأَمَرَهَا بِرَدِّه، وسَلَّطَهَا عَلَى شَدِّه وقَرَنَهَا إِلَى حَدِّه، الْهَوَاءُ مِنْ تَحْتِهَا فَتِيقٌ والْمَاءُ مِنْ فَوْقِهَا دَفِيقٌ ، ثُمَّ أَنْشَأَ سُبْحَانَه رِيحاً

اور پھر ان کے اختلاف میں تناسب پیدا کردیا سب کی طبیعتیں مقرر کردیں اور پھر انہیں شکلیں عطا کردیں۔اسے یہ تمام باتیں ایجاد کے پہلے سے معلوم تھیں اور وہ ان کے حدود اور ان کی انتہا کو خوب جانتا تھا۔اسے ہرشے کے ذاتی اطراف کا بھی علم تھا اوراس کے ساتھ شامل ہو جانے والی اشیاء کا بھی علم تھا۔

اس کے بعد اس نے فضا کی وسعتیں۔اس کے اطراف واکناف اورہوائوں کے طبقات ایجاد کئے اور ان کے درمیان وہ پانی بہا دیا جس کی لہروں میں تلاطم تھا اور جس کی موجیں تہ بہ تہ تھیں اور اسے ایک تیز و تند ہوا کے کاندھے پر لا د دیا اور پھر ہوا کو الٹنے پلٹنے اور روک کر رکھنے کا حکم دے دیا اور اس کی حدوں کو پانی کی حدوں سے یوں ملا دیا کے نیچے ہوا کی وستعیں تھیں اور اوپر پانی کا طلاطم۔

اس کے بعد ایک اور ہوا ایجاد کی جس

صرف اندازے میں جن پر ساراکاروبار چل رہا ہے اور ایسے ماحول میں ہر شخص کوایک نئی رائے قائم کرنے کاحق ہے اور کسی کو یہ چیلنج کرنے کا حق نہیں ہے کہ یہ رائے آلات اور وسائل سے پہلے کی ہے لہٰذا اس کی کوئی قیمت نہیں ہے امیر المومنین نے اصل کائنات پانی کو قرار دیا ہے اور اسی کی طرف قرآن مجید نے بھی اشارہ کیاہے اور آپ کی رائے دیگر آراء کے مقابلہ میں اس لئے بھی اہمیت رکھتی ہے کہ اس کی بنیاد تحقیق۔انکشاف 'تجربہ اور اندازہ پر نہیں ہے بلکہ یہ اس مالک کا دیا ہوا بے پناہ علم ہے جس نے اس کائنات کو بنایا ہے اورکھلی بات ہے کہ مالک سے زیادہ مخلوقات سے با خبر اور کون ہو سکتا ہے۔امیر المومنین نے اپنے بیان میں تین نکات کی طرف توجہ دلائی ہے:(۱) اصل کائنات پانی ہے اور پانی کو قابل استعمال ہوا نے بنایا ے۔(۲) اس فضائے بسیط کے تین رخ ہیں، بلندی جس کو اجواء کہا جاتا ہے اور اطراف جسے ارجاء سی تعبیر کیا جاتا ہے اور طبقات جنہیں سکائک کا نام دیا جاتا ہے۔عام طور سے علماء فلک کو اکب کے ہر مجموعہ کو سکہ کا نام دیتے ہیں جس می ایک ارب سے زیادہ ستارے پائے جاتے ہیں جس طرح کہ ہمارے اپنے نظام شمسی کا حال ہے کہ اس میں ایک ارب سے زیادہ ستاروں کا انکشاف کیا جا چکا ہے۔(۳) آسمانی مخلوقات میں ایک مزکزی شے ہے جسے اس کی حرکت کی بنا پرچراغ کہا جاتا ہے اورایک اس کے گرد حرکت کرنے والی زمین ہے اور ایک زمین کے گرد حرکت کرنے والا ستارہ ہے جسے قمر کہا جاتا ہے اورعلماء فلک اس تابع در تابع کو قمر کہتے ہیں کو کب نہیں کہتے ہیں

۷

اعْتَقَمَ مَهَبَّهَا ، وأَدَامَ مُرَبَّهَا وأَعْصَفَ مَجْرَاهَا، وأَبْعَدَ مَنْشَأَهَا فَأَمَرَهَا بِتَصْفِيقِ الْمَاءِ الزَّخَّارِ، وإِثَارَةِ مَوْجِ الْبِحَارِ فَمَخَضَتْه مَخْض السِّقَاءِ، وعَصَفَتْ بِه عَصْفَهَا بِالْفَضَاءِ، تَرُدُّ أَوَّلَه إِلَى آخِرِه وسَاجِيَه إِلَى مَائِرِه حَتَّى عَبَّ عُبَابُه ورَمَى بِالزَّبَدِ رُكَامُه ، فَرَفَعَه فِي هَوَاءٍ مُنْفَتِقٍ وجَوٍّ مُنْفَهِقٍ، فَسَوَّى مِنْه سَبْعَ سَمَوَاتٍ، جَعَلَ سُفْلَاهُنَّ مَوْجاً مَكْفُوفاً ، وعُلْيَاهُنَّ سَقْفاً مَحْفُوظاً وسَمْكاً مَرْفُوعاً، بِغَيْرِ عَمَدٍ يَدْعَمُهَا ولَا دِسَارٍ يَنْظِمُهَا ثُمَّ زَيَّنَهَا بِزِينَةِ الْكَوَاكِبِ وضِيَاءِ الثَّوَاقِبِ ، وأَجْرَى فِيهَا سِرَاجاً مُسْتَطِيراً وقَمَراً مُنِيراً، فِي فَلَكٍ دَائِرٍ وسَقْفٍ سَائِرٍ ورَقِيمٍ مَائِرٍ.

خلق الملائكة

ثُمَّ فَتَقَ مَا بَيْنَ السَّمَوَاتِ الْعُلَا،

کی حرکت میں کوئی تولیدی صلاحیت نہیں تھی اور اسے مرکز پر روک کراس کے جھونکوں کو تیز کردیا اور اس کے میدان کو وسیع تر بنادیا اور پھراسے حکم دیدیا کہ اس بحر زخار کو متھ ڈالے اور موجوں کو الٹ پلٹ کردے۔چنانچہ اس نے سارے پانی کو ایک مشکیزہ کی طف متھ ڈالا اوراسے فضائے بسیط میں اس طرح لے کرچلی کہ اول کو آخر پر الٹ دیا اور ساکن کو متحرک پر پلٹ دیا اور اسکے نتیجہ میں پانی کی ایک سطح بلند ہوگئی اور اس کے اوپر ایک جھاگ کی تہہ بن گئی۔پھر اس جھاگ کو پھیلی ہوئی ہوا اور کھلی ہوئی فضا میں بلند کردیا اوراس سے سات آسمان پیدا کردئیے جس کی نچلی سطح ایک ٹھہری ہوئی موج کی طرح تھی اور اوپر کا حصہ ایک محفوظ سقف اوربلند عمارت کے مانند تھا۔نہ اس کا کوئی ستون تھا جو سہارا دے سکے اور نہ کوئی بندھن تھا جو منظم کر سکے ۔پھر ان آسمانوں کو ستاروں کی زینت سے مزین کیا اور ان میں تا بندہ نجوم کی روشنی پھیلادی اور ان کے درمیان ایک ضوفگن چراغ اور ایک روشن ماہتاب رواں کردیا جس کی حرکت ایک گھومنے والے فلک اور ایک متحرک چھت اور جنبش کرنے والی تختی میں تھی۔

پھر اس نے بلند ترین آسمانوں کے درمیان شگاف پیدا کئے

۸

فَمَلأَهُنَّ أَطْوَاراً مِنْ مَلَائِكَتِه، مِنْهُمْ سُجُودٌ لَا يَرْكَعُونَ ورُكُوعٌ لَا يَنْتَصِبُونَ، وصَافُّونَ لَا يَتَزَايَلُونَ ومُسَبِّحُونَ لَا يَسْأَمُونَ، لَا يَغْشَاهُمْ نَوْمُ الْعُيُونِ ولَا سَهْوُ الْعُقُولِ، ولَا فَتْرَةُ الأَبْدَانِ ولَا غَفْلَةُ

النِّسْيَانِ، ومِنْهُمْ أُمَنَاءُ عَلَى وَحْيِه وأَلْسِنَةٌ إِلَى رُسُلِه، ومُخْتَلِفُونَ بِقَضَائِه وأَمْرِه، ومِنْهُمُ الْحَفَظَةُ لِعِبَادِه والسَّدَنَةُ لأَبْوَابِ جِنَانِه، ومِنْهُمُ الثَّابِتَةُ فِي الأَرَضِينَ السُّفْلَى أَقْدَامُهُمْ، والْمَارِقَةُ مِنَ السَّمَاءِ الْعُلْيَا أَعْنَاقُهُمْ، والْخَارِجَةُ مِنَ الأَقْطَارِ أَرْكَانُهُمْ، والْمُنَاسِبَةُ لِقَوَائِمِ الْعَرْشِ أَكْتَافُهُمْ،

اور انہیں طرح طرح کے فرشتوں سے بھر دیا

جن میں سے بعض سجدہ میں ہیں تو رکوع کی نوبت نہیں آتی ہے اور بعض رکوع میں ہیں تو سر نہیں اٹھاتے ہیں اور بعض صف باندھے ہوئے ہیں تو اپنی جگہ سے حرکت نہیں کرتے

ہیں بعض مشغول تسبیح ہیں تو خستہ حال نہیں ہوتے ہیں سب کے سب وہ ہیں کہ ان کی آنکھوں پر نیند کا غلبہ ہوتا ہے اورنہ عقلوں پر سہوو نسیان کا۔ نہ بدن میں سستی پیدا ہوتی ہے اور نہ دماغ میں نسیان کی غفلت۔

ان میں سے بعض کو وحی کا امین اور رسولوں کی طرف قدرت کی زبان بنایا گیا ہے جو اس کے فصیلوں اور احکام کو برابر لاتے رہتے ہیں اور کچھ اس کے بندوں کے محافظ اور جنت کے دروازوں کے دربان ہیں اور بعض وہ بھی ہیں جن کے قدم زمین کے آخری طبقہ میں ثابت ہیں اور گردنیں بلند ترین آسمانوں سے بھی باہرنکلی ہوئی ہیں۔ان کے اطراف بدن اقطار عالم سے وسیع تر ہیں اور ان کے کاندھے پایہ ہائے عرش کے اٹھانے کے قابل ہیں۔

۹

نَاكِسَةٌ دُونَه أَبْصَارُهُمْ مُتَلَفِّعُونَ تَحْتَه بِأَجْنِحَتِهِمْ، مَضْرُوبَةٌ بَيْنَهُمْ وبَيْنَ مَنْ دُونَهُمْ حُجُبُ الْعِزَّةِ، وأَسْتَارُ الْقُدْرَةِ، لَا يَتَوَهَّمُونَ رَبَّهُمْ بِالتَّصْوِيرِ،ولَا يُجْرُونَ عَلَيْه صِفَاتِ الْمَصْنُوعِينَ، ولَا يَحُدُّونَه بِالأَمَاكِنِ ولَا يُشِيرُونَ إِلَيْه بِالنَّظَائِرِ.

صفة خلق آدمعليه‌السلام

ثُمَّ جَمَعَ سُبْحَانَه مِنْ حَزْنِ الأَرْضِ وسَهْلِهَا، وعَذْبِهَا وسَبَخِهَا ، تُرْبَةً سَنَّهَا بِالْمَاءِ حَتَّى خَلَصَتْ، ولَاطَهَا بِالْبَلَّةِ حَتَّى لَزَبَتْ ، فَجَبَلَ مِنْهَا صُورَةً ذَاتَ أَحْنَاءٍ ووُصُولٍ وأَعْضَاءٍ، وفُصُولٍ أَجْمَدَهَا حَتَّى اسْتَمْسَكَتْ، وأَصْلَدَهَا حَتَّى صَلْصَلَتْ لِوَقْتٍ مَعْدُودٍ وأَمَدٍ مَعْلُومٍ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهَا مِنْ رُوحِه، فَمَثُلَتْ إِنْسَاناً

ان کی نگاہیں عرش الٰہی کے سامنے جھکی ہوئی ہیں اوروہ اس کے نیچے پروں کو سمیٹے ہوئے ہیں۔ان کے اور دیر مخلوقات کے درمیان عزت کے حجاب اور قدرت کے پردے حائل ہیں۔وہ اپنے پروردگار کے بارے میں شکل و صورت کا تص و ر بھی نہیں کرتے ہیں اور نہ اس کے حق میں مخلوقات کے صفات کو جاری کرتے ہیں۔وہ نہ اسے مکان میں محود کرتے ہیں اور نہ اس کی طرف اشباہ ونظائر سے اشارہ کرتے ہیں۔

تخلیق جناب آدم کی کیفیت

اس کے بعد پروردگار(۱) نے زمین کے سخت و نرم اور شورو شیریں حصوں سے خاک کو جمع کیا اور اسے پانی سے اس قدر بھگویا کہ بالکل خالص ہوگئی اور پھر تری میں اس قدر گوندھا کہ لسدار بن گئی اور اس سے ایک ایسی صورت بنائی جس میں موڑ بھی تھے اور جوڑ بھی۔اعضاء بھی تھے اور جوڑ بند بھی۔پھر اسے اس قدر سکھایا کہ مضبوط ہوگئیاور اس قدر سخت کیا کہ کنکھنانے لگی اور یہ صورت حال ایک وقت معین اور مدت خاص تک برقرار رہی جس کے بعد اس میں مالک نے اپنی روح کمال پھونک دی اور اسے ایسا انسان بنادیا

(۱) انسان کی کمزوری کے سلسلہ میں اتنا ہی کافی ہے کہ اسے اپنی اصل کے بارے میں اتنا بھی معلوم نہیں ہے جتنا دوسری مخلوقات کے بارے میں علم ہے۔وہ نہ اپنے مادہ کی اصل سے با خبر ہے اورنہ اپنی رو ح کی حقیقت سے۔مالک نے اسے متضاد عناصر سے ایسا جامع بنادیا ہے کہ جسم صغیرمیں عالم اکبر سما گیا ہے اور بقول شخصے اس میں جمادات جیسا کون و فساد، نباتات جیسا نمو حیوان جیسی حرکت اور ملائکہ جیسی اطاعت و حیات سے پائی جاتی ہے اوراوصاف کے اعتبار سے بھی اس میں کتے جیسی خوشامد' مکرڑی جیسے تانے بانے، قنفذ جیسے اسلحے، پرندوں جیسا تحفظ، حشر ات الارض جیسا تحفظ' ہرن جیسی اچھل کود، چوہے ،چوہے جیسی چوری، مور جیسا غرور'اونٹ جیسا کینہ، خچر جیسی شرارت'بلبل جیسا ترنم' بچھو جیسا ڈنگ سب کچھ پایا جاتا ہے

۱۰

ذَا أَذْهَانٍ يُجِيلُهَا، وفِكَرٍ يَتَصَرَّفُ بِهَا وجَوَارِحَ يَخْتَدِمُهَا ، وأَدَوَاتٍ يُقَلِّبُهَا ومَعْرِفَةٍ يَفْرُقُ بِهَا بَيْنَ الْحَقِّ والْبَاطِلِ، والأَذْوَاقِ والْمَشَامِّ والأَلْوَانِ والأَجْنَاسِ، مَعْجُوناً بِطِينَةِ الأَلْوَانِ الْمُخْتَلِفَةِ، والأَشْبَاه الْمُؤْتَلِفَةِ والأَضْدَادِ الْمُتَعَادِيَةِ، والأَخْلَاطِ الْمُتَبَايِنَةِ مِنَ الْحَرِّ والْبَرْدِ، والْبَلَّةِ والْجُمُودِ، واسْتَأْدَى اللَّه سُبْحَانَه الْمَلَائِكَةَ وَدِيعَتَه لَدَيْهِمْ، وعَهْدَ وَصِيَّتِه إِلَيْهِمْ فِي الإِذْعَانِ بِالسُّجُودِ لَه، والْخُنُوعِ لِتَكْرِمَتِه، فَقَالَ سُبْحَانَه:( اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ ) ، اعْتَرَتْه الْحَمِيَّةُ، وغَلَبَتْ عَلَيْه الشِّقْوَةُ، وتَعَزَّزَ بِخِلْقَةِ النَّارِ واسْتَوْهَنَ خَلْقَ الصَّلْصَالِ، فَأَعْطَاه اللَّه النَّظِرَةَ اسْتِحْقَاقاً لِلسُّخْطَةِ، واسْتِتْمَاماً لِلْبَلِيَّةِ وإِنْجَازاً لِلْعِدَةِ، فَقَالَ:( فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِينَ إِلى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ ) .

ثُمَّ أَسْكَنَ سُبْحَانَه آدَمَ دَاراً أَرْغَدَ فِيهَا، عَيْشَه وآمَنَ فِيهَا مَحَلَّتَه وحَذَّرَه إِبْلِيسَ وعَدَاوَتَه،

.

جس میں ذہن کی جولانیاں بھی تھیں اورفکر کے تصرفات بھی۔کام کرنے والے اعضاء و جوارح بھی تھے اور حرکت کرنے والے ادوات و آلات بھی حق و باطل میں فرق کرنے والی معرفت بھی تھی اورمختلف ذائقوں ' خوشبووں' رنگ و روغن میں تمیز کرنے کی صلاحیت بھی۔ اسے مختلف قسم کی مٹی سے بنایا گیا جس میں موافق اجزاء بھی پائے جاتے تھے اورمتضاد و عناصربھی اور گرمی ' سردی' تری خشکی جیسے کیفیات بھی۔ پھر پروردگار نے ملائکہ سے مطالبہ کیا کہ اس کی امانت کو واپس کریں اور اس کی معہودہ وصیت پرعمل کریں یعنی اس مخلوق کے سامنے سر جھکادیں اور اس کی کرامت کا اقرار کرلیں۔چنانچہ اس نے صاف صاف اعلان کردیا کہ آدم کو سجدہ کرو اور سب نے سجدہ بھی کرلیا سوائے ابلیس کے کہ اسے تعصب نے گھیر لیااور بد بختی غالب آگئی اور اس نے آگ کی خلقت کو وجہ عزت اور خاک کی خلقت کو وجہ ذلت قراردے دیا۔مگر پروردگار نے اسے غضب الٰہی کے مکمل استحقاق ،آزمائش کی تکمیل اور اپنے وعدہ کو پورا کرنے کے لئے یہ کہہ کر مہلت دے دی کہ'' تجھے روز وقت معلوم تک کے لئے مہلت دی جا رہی ہے''۔

اس کے بعد پروردگار نے آدم کو ایک ایسے گھرمیں ساکن کردیا جہاں کی زندگی خوش گوار اور مامون و محفوظ تھی اور پھر انہیں ابلیس اور اس کی عداوت سے بھی با خبر کردیا۔

۱۱

فَاغْتَرَّه عَدُوُّه نَفَاسَةً عَلَيْه بِدَارِ الْمُقَامِ، ومُرَافَقَةِ الأَبْرَارِ، فَبَاعَ الْيَقِينَ بِشَكِّه والْعَزِيمَةَ بِوَهْنِه، واسْتَبْدَلَ بِالْجَذَلِ وَجَلًا وبِالِاغْتِرَارِ نَدَماً، ثُمَّ بَسَطَ اللَّه سُبْحَانَه لَه فِي تَوْبَتِه، ولَقَّاه كَلِمَةَ رَحْمَتِه ووَعَدَه الْمَرَدَّ إِلَى جَنَّتِه، وأَهْبَطَه إِلَى دَارِ الْبَلِيَّةِ وتَنَاسُلِ الذُّرِّيَّةِ.

اختيار الأنبياء

واصْطَفَى سُبْحَانَه مِنْ وَلَدِه أَنْبِيَاءَ، أَخَذَ عَلَى الْوَحْيِ مِيثَاقَهُمْ وعَلَى تَبْلِيغِ الرِّسَالَةِ أَمَانَتَهُمْ، لَمَّا بَدَّلَ أَكْثَرُ خَلْقِه عَهْدَ اللَّه إِلَيْهِمْ، فَجَهِلُوا حَقَّه واتَّخَذُوا الأَنْدَادَ مَعَه، واجْتَالَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ عَنْ مَعْرِفَتِه، واقْتَطَعَتْهُمْ عَنْ عِبَادَتِه فَبَعَثَ فِيهِمْ رُسُلَه، ووَاتَرَ إِلَيْهِمْ أَنْبِيَاءَه لِيَسْتَأْدُوهُمْ مِيثَاقَ فِطْرَتِه، ويُذَكِّرُوهُمْ مَنْسِيَّ نِعْمَتِه، ويَحْتَجُّوا عَلَيْهِمْ بِالتَّبْلِيغِ، ويُثِيرُوا لَهُمْ دَفَائِنَ الْعُقُولِ، ويُرُوهُمْ آيَاتِ الْمَقْدِرَةِ،

مِنْ سَقْفٍ فَوْقَهُمْ مَرْفُوعٍ

لیکن دشمن نے ان کے جنت کے قیام اورنیک بندوں کی رفاقت سے جل کر انہیں دھوکہ دے دیا اور انہو ں نے بھی اپنے یقین محکم کو شک اور عزم مستحکم کو کمزوری کے ہاتھوں فروخت کردیا اور اس طرح مسرت کے بدلے خوف کو لے لیا اورابلیس کے کہنے میں آکر ندامت کا سامان فراہم کرلیا۔پھر پروردگار نے ان کے لئے توبہ کا سامان فراہم کردیا اور اپنے کلمات رحمت کی تلقن کردی اور ان سے جنت میں واپسی کاوعدہ کرکے انہیں آزمائش کی دنیامیں اتار دیا جہاں نسلوں کا سلسلہ قائم ہونے والا تھا۔

انبیاء کرام کا انتخاب

اس کے بعد اس نے ان کی اولاد میں سے ان انبیاء کا انتخاب کیا جن سے وحی کی حفاظت اور پیغام کی تبلیغ کی امانت کا عہد لیا اس لئے کہ اکثر مخلوقات نے عہد الٰہی کو تبدیل کر دیا تھا۔اس کے حق سے نا واقف ہوگئے تھے۔اس کے ساتھ دوسرے خدا بنالئے تھے اور شیطان نے انہیں معرفت کی راہ سے ہٹا کر عبادت سے یکسر جدا کردیا تھا۔ پروردگار نے ان کے درمیان رسول بھیجے۔ انبیاء کا تسلسل قائم کیا تاکہ وہ ان سے فطرت کی امانت کو واپس لیں اور انہیں بھولی ہوئی نعمت پروردگار کویاد دلائیں تبلیغ کے ذریعہ ان پر اتمام حجت کریں اور ان کی عقل کے دفینوں کوباہرلائیں اور انہیں قدرت الٰہی کی نشانیاں دکھلائیں۔ یہ سروں پر بلند ترین چھت۔

۱۲

ومِهَادٍ تَحْتَهُمْ مَوْضُوعٍ، ومَعَايِشَ تُحْيِيهِمْ وآجَالٍ تُفْنِيهِمْ وأَوْصَابٍ تُهْرِمُهُمْ، وأَحْدَاثٍ تَتَابَعُ عَلَيْهِمْ، ولَمْ يُخْلِ اللَّه سُبْحَانَه خَلْقَه مِنْ نَبِيٍّ مُرْسَلٍ، أَوْ كِتَابٍ مُنْزَلٍ أَوْ حُجَّةٍ لَازِمَةٍ أَوْ مَحَجَّةٍ قَائِمَةٍ، رُسُلٌ لَا تُقَصِّرُ بِهِمْ قِلَّةُ عَدَدِهِمْ، ولَا كَثْرَةُ الْمُكَذِّبِينَ لَهُمْ، مِنْ سَابِقٍ سُمِّيَ لَه مَنْ بَعْدَه،

أَوْ غَابِرٍ عَرَّفَه مَنْ قَبْلَه عَلَى ذَلِكَ نَسَلَتِ الْقُرُونُ ومَضَتِ الدُّهُورُ، وسَلَفَتِ الآبَاءُ وخَلَفَتِ الأَبْنَاءُ.

مبعث النبي

إِلَى أَنْ بَعَثَ اللَّه سُبْحَانَه مُحَمَّداً، رَسُولَ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله لإِنْجَازِ عِدَتِه وإِتْمَامِ نُبُوَّتِه، مَأْخُوذاً عَلَى النَّبِيِّينَ مِيثَاقُه، مَشْهُورَةً سِمَاتُه كَرِيماً مِيلَادُه، وأَهْلُ الأَرْضِ يَوْمَئِذٍ مِلَلٌ مُتَفَرِّقَةٌ، وأَهْوَاءٌ مُنْتَشِرَةٌ وطَرَائِقُ مُتَشَتِّتَةٌ، بَيْنَ مُشَبِّه لِلَّه بِخَلْقِه أَوْ مُلْحِدٍ فِي اسْمِه، أَوْ مُشِيرٍ إِلَى غَيْرِه، فَهَدَاهُمْ بِه مِنَ الضَّلَالَةِ وأَنْقَذَهُمْ بِمَكَانِه مِنَ الْجَهَالَةِ، ثُمَّ اخْتَارَ سُبْحَانَه لِمُحَمَّدٍصلى‌الله‌عليه‌وآله لِقَاءَه، ورَضِيَ لَه مَا عِنْدَه وأَكْرَمَه عَنْ دَارِ الدُّنْيَا،

یہ زیر قدم گہوارہ۔یہ زندگی کے اسباب۔یہ فنا کرنے والی اجل۔یہ بوڑھا بنا دینے والے امراض اور یہ پے پر دپے پیشآنے والے حادثات

اس نے کبھی اپنی مخلوقات کو بنی مرسل یا کتاب منزل یا حجت لازم یا طریق واضح سے محروم نہیں رکھا ہے۔ ایسے رسول بھیجے ہیں جنہیں نہ عدد کی قلت کام سے روک سکتی تھی اورنہ جھٹلانے والوں کی کثرت۔ان میں جو پہلے تھا اس بعد والے کا حال معلوم تھا اور جو بعد میں آیا اسے پہلے والے نے پہنچوادیا تھا اور یوں ہی صدیاں گزرتی رہیں اور زمانے بیتتے رہے۔آباء و اجداد جاتے رہے اور اولاد و احفاد آتے رہے۔

بعثت رسول اکرم (ص)

یہاں تک کہ مالک نے اپنے وعدہ کو پورا کرنے اور اپنے نبوت کو مکمل کرنے کے لئے حضرت محمد(ص) کو بھیج دیا جن کے بارے میں انبیاء سے عہد لیا جا چکا تھا اور جن کی علامتیں مشہور اور ولادت مسعود و مبارک تھی۔اس وقت اہل زمین متفرق مذاہب'منتشر خواہشات اورمختلف راستوں پر گامزن تھے۔کوئی خدا کو مخلوقات کی شبیہ بتا رہا تھا۔کوئی اس کے ناموں کوبگاڑ رہا تھا۔اور کوئی دوسرے خدا کا اشارہ دے رہا تھا۔مالک نے آپ کے ذریعہ سب کو گمراہی سے ہدایت دی اورجہالت سے باہر نکال لیا۔

اس کے بعد اس نے آپ کی ملاقات کو پسند کیا اور انعامات سے نوازنے کے لئے اس دار دنیا سے بلند کرلیا۔

۱۳

ورَغِبَ بِه عَنْ مَقَامِ الْبَلْوَى، فَقَبَضَه إِلَيْه كَرِيماً، وخَلَّفَ فِيكُمْ مَا خَلَّفَتِ الأَنْبِيَاءُ فِي أُمَمِهَا، إِذْ لَمْ يَتْرُكُوهُمْ هَمَلًا بِغَيْرِ طَرِيقٍ وَاضِحٍ ولَا عَلَمٍ قَائِمٍ

القرآن والأحكام الشرعية

كِتَابَ رَبِّكُمْ فِيكُمْ مُبَيِّناً حَلَالَه وحَرَامَه، وفَرَائِضَه وفَضَائِلَه ونَاسِخَه ومَنْسُوخَه ورُخَصَه وعَزَائِمَه وخَاصَّه وعَامَّه، وعِبَرَه وأَمْثَالَه ومُرْسَلَه ومَحْدُودَه ومُحْكَمَه ومُتَشَابِهَه مُفَسِّراً مُجْمَلَه ومُبَيِّناً غَوَامِضَه، بَيْنَ مَأْخُوذٍ مِيثَاقُ عِلْمِه ومُوَسَّعٍ

عَلَى الْعِبَادِ فِي جَهْلِه، وبَيْنَ مُثْبَتٍ فِي الْكِتَابِ فَرْضُه، ومَعْلُومٍ فِي السُّنَّةِ نَسْخُه، ووَاجِبٍ فِي السُّنَّةِ أَخْذُه، ومُرَخَّصٍ فِي الْكِتَابِ تَرْكُه، وبَيْنَ وَاجِبٍ بِوَقْتِه وزَائِلٍ فِي مُسْتَقْبَلِه، ومُبَايَنٌ بَيْنَ مَحَارِمِه مِنْ كَبِيرٍ أَوْعَدَ عَلَيْه نِيرَانَه، أَوْ صَغِيرٍ أَرْصَدَ لَه غُفْرَانَه، وبَيْنَ مَقْبُولٍ فِي أَدْنَاه مُوَسَّعٍ فِي أَقْصَاه.

آپ کو مصائب سے نجات دلادی اور نہایت احترام سے اپنی بارگاہ میں طلب کرلیا اور امت میں ویسا ہی انتظام کردیا جیسا کہ دیگر انبیاء نے کیا تھا کہ انہوں نے بھی قوم کو لاوارث نہیں چھوڑا تھا جس کے لئے کوئی واضح راستہ اورمستحکم نشان نہ ہو۔

قرآن اور احکام شرعیہ

انہوں نے تمہارے درمیان تمہارے پروردگار کی کتاب کو چھوڑا ہے جس کے حلال و حرام۔ فرائض و فضائل ناسخ و منسوخ۔رخصت و عزیمت۔خاص و عام۔عبرت و امثال ۔مطلق و مقید۔محکم و متشابہ سب کو واضح کردیا تھا۔مجمل کی تفسیرکردی تھی گتھیوں کو سلجھا دیاتھا۔اس میں بعض آیات ہیں جن کے علم کا عہد لیا گیا ہے اور بعض سے نا واقفیت کومعاف کردیا گیا ہے۔بعض احکام کے فرض کا کتاب میں ذکر کیا گیا ہے اور سنت سے ان کے منسوخ ہونے کا علم حاصل ہوا ہے یا سنت میں ان کے وجوب کا ذکرہوا ہے جب کہ کتاب میں ترک کرنے کی آزادی کا ذکرتھا۔بعض احکام ایک وقت میں واجب ہوئے ہیں اور مستقبل میں ختم کردئیے گئے ہیں۔اس کے محرمات میں بعض پر جہنم کی سزا سنائی گئی ہے اور بعض گناہ صغیرہ ہیں جن کی بخشش کی امید دلائی گئی ہے۔بعض احکام ہیں جن کا مختصر بھی قابل قبول ہے اور زیادہ کی بھی گنجائش پائی جاتی ہے۔

۱۴

ومنها في ذكر الحج

وفَرَضَ عَلَيْكُمْ حَجَّ بَيْتِه الْحَرَامِ، الَّذِي جَعَلَه قِبْلَةً لِلأَنَامِ، يَرِدُونَه وُرُودَ الأَنْعَامِ ويَأْلَهُونَ إِلَيْه وُلُوه الْحَمَامِ، وجَعَلَه سُبْحَانَه عَلَامَةً لِتَوَاضُعِهِمْ لِعَظَمَتِه، وإِذْعَانِهِمْ لِعِزَّتِه، واخْتَارَ مِنْ خَلْقِه سُمَّاعاً أَجَابُوا إِلَيْه دَعْوَتَه، وصَدَّقُوا كَلِمَتَه ووَقَفُوا مَوَاقِفَ أَنْبِيَائِه، وتَشَبَّهُوا بِمَلَائِكَتِه الْمُطِيفِينَ بِعَرْشِه، يُحْرِزُونَ الأَرْبَاحَ فِي مَتْجَرِ عِبَادَتِه، ويَتَبَادَرُونَ عِنْدَه مَوْعِدَ مَغْفِرَتِه، جَعَلَه سُبْحَانَه وتَعَالَى لِلإِسْلَامِ عَلَماً، ولِلْعَائِذِينَ حَرَماً فَرَضَ حَقَّه وأَوْجَبَ حَجَّه، وكَتَبَ عَلَيْكُمْ وِفَادَتَه ، فَقَالَ سُبْحَانَه:( ولِلَّه عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطاعَ إِلَيْه سَبِيلًا، ومَنْ كَفَرَ فَإِنَّ الله غَنِيٌّ عَنِ الْعالَمِينَ )

ذکر حج بیت اللہ

پروردگار نے تم لوگوں پر حج بیت الحرام کو واجب قرار دیا ہے جسے لوگوں کے لئے قبلہ بنایا ہے اور جہاں لوگ پیاسے جانوروں کی طرح بے تابانہ وارد ہوتے ہیں اورویسا انس رکھتے ہیں جیسے کبوتر اپنے آشیانہ سے رکھتا ہے۔ ح ج بییت اللہ کو مالک نے اپنی عظمت کے سامنے جھکنے کی علامت اور اپنی عزت کے ایقان کی نشانی قراردیا ہے۔اس نے مخلوقات میں سے ان بندوں کا انتخاب کیا ہے جواس کی آواز سن کرلبیک کہتے ہیں اوراس کے کلمات کی تصدیق کرتے ہیں۔انہوں نے انبیاء کے مواقف ہیں وقوف کیا ہے اور طواف عرش کرنے والے فرشتوں کا انداز اختیار کیا ہے۔یہ لوگ اپنی عبادت کے معاملہ میں برابر فائدے حاصل کر رہے ہیں اورمغفرت کی وعدہ گاہ کی طرف تیزی سے سبقت کر رہے ہیں۔

پروردگار نے کعبہ کو اسلام کی نشانی اور بے پناہ افراد کی پناہ گاہ قرار دیا ہے۔اس کے حج کو فرض کیا ہے اور اس کے حق کو واجب قرار دیا ہے۔تمہارے اوپر اس گھر کی حاضری کو لکھ دیا ہے اور صاف اعلان کردیا ہے کہ'' اللہ کے لئے لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ اس کے گھر کا حج کریں جس کے پاس بھی اس راہ کو طے کرنے کی استطاعت پائی جاتی ہو۔ اور جس نے انکار کیا تو اللہ تعالی عالمین سے بے نیاز ہے

۱۵

(۲)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

بعد انصرافه من صفين

وفيها حال الناس قبل البعثة وصفة آل النبي ثم صفة قوم آخرين

أَحْمَدُه اسْتِتْمَاماً لِنِعْمَتِه واسْتِسْلَاماً لِعِزَّتِه، واسْتِعْصَاماً مِنْ مَعْصِيَتِه، وأَسْتَعِينُه فَاقَةً إِلَى كِفَايَتِه، إِنَّه لَا يَضِلُّ مَنْ هَدَاه ولَا يَئِلُ مَنْ عَادَاه، ولَا يَفْتَقِرُ مَنْ كَفَاه، فَإِنَّه أَرْجَحُ مَا وُزِنَ وأَفْضَلُ مَا خُزِنَ، وأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَحْدَه لَا شَرِيكَ لَه، شَهَادَةً مُمْتَحَناً إِخْلَاصُهَا مُعْتَقَداً مُصَاصُهَا، نَتَمَسَّكُ بِهَا أَبَداً مَا أَبْقَانَا، ونَدَّخِرُهَا لأَهَاوِيلِ مَا يَلْقَانَا، فَإِنَّهَا عَزِيمَةُ الإِيمَانِ وفَاتِحَةُ الإِحْسَانِ، ومَرْضَاةُ الرَّحْمَنِ ومَدْحَرَةُ الشَّيْطَانِ

(۲)

صفیں سے واپسی پرآپ کے خطبہ کا ایک حصہ

جس میں بعثت پیغمبر(ص) کے وقت لوگوں کے حالات' آل رسول (ص) کے اوصاف اور دوسرے افراد کے کیفیات کاذکر کیا گیا ہے۔

میں پروردگار کی حمد کرتا ہوں اس کی نعمتوں کی تکمیل کے لئے اور اس کی عزت کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے۔ میں اس کی نا فرمانی سے تحفظ چاہتا ہوں اور اس سے مدد مانگتا ہوں کہ میں اسی کی کفایت و کفالت کا محتاج ہوں۔وہ جسے ہدایت دیدے وہ گمراہ نہیں ہو سکتا ہے اور جس کا وہ دشمن ہو جائے اسے کہیں پناہ نہیں مل سکتی ہے۔

جس کے لئے وہ کافی ہو جائے وہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔اس حمد کا پلہ ہر باوزن شے سے گراں تر ہے اور یہ سرمایہ ہرخزانہ سے زیادہ قیمتی ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے۔اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور یہ وہ گواہی ہے جس کے اخلاص کا امتحان ہو چکا ہے اور جس کا نچوڑ عقیدہ کا جزء بن چکا ہے۔میں اس گواہی سے تا حیات وابستہ رہوں گا اور اسی کو روز قیامت کے ہولناک مراحل کے لئے ذخیرہ بنائوں گا۔یہی ایمان کی مستحکم بنیاد ہے اوریہی نیکیوں کا آغاز ہے اور اسی میں رحمان کی مرضی اور شیطان کی تباہی کا راز مضمر ہے۔

۱۶

وأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُه ورَسُولُه، أَرْسَلَه بِالدِّينِ الْمَشْهُورِ والْعَلَمِ الْمَأْثُورِ، والْكِتَابِ الْمَسْطُورِ والنُّورِ السَّاطِعِ، والضِّيَاءِ اللَّامِعِ والأَمْرِ الصَّادِعِ، إِزَاحَةً لِلشُّبُهَاتِ واحْتِجَاجاً بِالْبَيِّنَاتِ، وتَحْذِيراً بِالآيَاتِ وتَخْوِيفاً بِالْمَثُلَاتِ ، والنَّاسُ فِي فِتَنٍ انْجَذَمَ فِيهَا حَبْلُ الدِّينِ، وتَزَعْزَعَتْ سَوَارِي الْيَقِينِ ، واخْتَلَفَ النَّجْرُ وتَشَتَّتَ الأَمْرُ، وضَاقَ الْمَخْرَجُ وعَمِيَ الْمَصْدَرُ، فَالْهُدَى خَامِلٌ والْعَمَى شَامِلٌ، عُصِيَ الرَّحْمَنُ ونُصِرَ الشَّيْطَانُ وخُذِلَ الإِيمَانُ، فَانْهَارَتْ دَعَائِمُه وتَنَكَّرَتْ مَعَالِمُه، ودَرَسَتْ

سُبُلُه وعَفَتْ شُرُكُه ، أَطَاعُوا الشَّيْطَانَ فَسَلَكُوا مَسَالِكَه ووَرَدُوا مَنَاهِلَه ، بِهِمْ سَارَتْ أَعْلَامُه وقَامَ لِوَاؤُه فِي فِتَنٍ دَاسَتْهُمْ بِأَخْفَافِهَا ووَطِئَتْهُمْ بِأَظْلَافِهَا ، وقَامَتْ عَلَى سَنَابِكِهَا فَهُمْ فِيهَا تَائِهُونَ حَائِرُونَ جَاهِلُونَ مَفْتُونُونَ، فِي خَيْرِ دَارٍ وشَرِّ جِيرَانٍ، نَوْمُهُمْ سُهُودٌ وكُحْلُهُمْ دُمُوعٌ، بِأَرْضٍ عَالِمُهَا مُلْجَمٌ وجَاهِلُهَا مُكْرَمٌ.

اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد(ص) اللہ کے بندہ اور اس کے رسول ہیں۔انہیں پروردگار نے مشہور دین' ماثور نشانی' روشن کتاب' ضیاء پاش نور' چمکدار روشنی اور واضح امر کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ شبہات زائل ہو جائیں اور دلائل کے ذریعہ حجت تمام کی جاسکے' آیات کے ذریعہ ہو شیار بنایا جا سکے اورمثالوں کے ذریعہ ڈرایا جا سکے۔

یہ بعثت اس وقت ہوئی ہے جب لوگ ایسے فتنوں میں مبتلا تھے جن سے ریسمان دین ٹوٹ چکی تھی۔یقین کے ستون ہل گئے تھے۔اصول میں شدید اختلاف تھا اور امور میں سخت انتشار۔مشکلات سے نکلنے کے راستے تنگ و تاریک ہوگئے تھے۔ہدایت گمنام تھی اور گمراہی برسر عام۔،رحمان کی معصیت ہو رہی تھی اور شیطان کی نصرت' ایمان یکسر نظر انداز ہوگیا تھا' اس کے ستون گر گئے تھے اورآثار ناقابل شناخت ہوگئے تھے' راستے مٹ گئے تھے اور شاہراہیں بے نشان ہوگئی تھیں۔لوگ شیطان کی اطاعت میں اس کے راستہ پر چل رہے تھے۔ یہ لوگ ایسے فتنوں میں مبتلا تھے جنہوں نے انہیں پیروں تلے روند دیا تھا اور سموں سے کچل دیا تھا اور خود اپنے پنجوں کے بل کھڑے ہوگئے تھے۔یہ لوگ فتنوں میں حیران و سر گرداں اور جاہل و فریب خوردہ تھے۔ پروردگار نے انہیں اس گھر ( مکہ) میں بھیجا جو بہترین مکان تھا لیکن بدترین ہمسائے۔جن کی نیند بیداری تھی اور جن کا سرمہ آنسو۔ وہ سر زمین جہاں عالم کو لگام لگی ہوئی تھی اور جاہل محترم تھا

۱۷

ومنها يعني آل النبي عليه الصلاة والسلام

هُمْ مَوْضِعُ سِرِّه ولَجَأُ أَمْرِه وعَيْبَةُ عِلْمِه ومَوْئِلُ حُكْمِه، وكُهُوفُ كُتُبِه وجِبَالُ دِينِه، بِهِمْ أَقَامَ انْحِنَاءَ ظَهْرِه وأَذْهَبَ ارْتِعَادَ فَرَائِصِه

ومِنْهَا يَعْنِي قَوْماً آخَرِينَ

زَرَعُوا الْفُجُورَ وسَقَوْه الْغُرُورَ وحَصَدُوا الثُّبُورَ، لَا يُقَاسُ بِآلِ مُحَمَّدٍصلى‌الله‌عليه‌وآله مِنْ هَذِه الأُمَّةِ أَحَدٌ، ولَا يُسَوَّى بِهِمْ مَنْ جَرَتْ نِعْمَتُهُمْ عَلَيْه أَبَداً، هُمْ أَسَاسُ الدِّينِ وعِمَادُ الْيَقِينِ، إِلَيْهِمْ يَفِيءُ الْغَالِي وبِهِمْ يُلْحَقُ التَّالِي، ولَهُمْ خَصَائِصُ حَقِّ الْوِلَايَةِ، وفِيهِمُ الْوَصِيَّةُ والْوِرَاثَةُ، الآنَ إِذْ رَجَعَ الْحَقُّ إِلَى أَهْلِه ونُقِلَ إِلَى مُنْتَقَلِه!

آل رسول اکرم (ص)

یہ لوگ راز الٰہی کی منزل اورامر دین کا ملجاء و ماویٰ ہیں۔یہی علم خداکے مرکز اورحکم خداکی پناہ گاہ ہیں۔کتابوں نے یہیں پناہ لی ہے اور دین کے یہی کوہ گراں ہیں۔انہیں کے ذریعہ پرورگار نے دین کی پشت کی کجی سیدھی کی ہے اور انہیں کےذریعہ اس کے جوڑ بند کے رعشہ کا علاج کیا ہے ۔

ایک دوسری قوم

ان لوگوں نے فجور کا بیج بویا ہے اور اسے غرور کے پانی سے سینچا ہے اور نتیجہ میں ہلاکت کو کاٹاہے۔یادرکھو کہ آل محمد(ص) پر اس امت میں کس کا قیاس نہیں کیا جا سکتا ہے اور نہ ان لوگوں کو ان کے بر قرار دیا جا سکتا ہے جن پر ہمیشہ ان کی نعمتوں کا سلسلہ جاری رہا ہے۔

آل محمد(ص) دین کی اساس اوریقین کا ستون ہیں۔ ان سے آگے بڑھ جانے والا پلٹ کرانہیں کی طرف آتا ہے اور پیچھے رہ جانے والا بھی انہیں سے آکر ملتا ہے۔ان کے پاس حق و لایت کے خصوصیات ہیں اور انہیں کے درمیان

پیغمبر(ص) کی وصیت اور ان کی وراثت ہے۔اب جب کہ حق اپنے اہل کے پاس واپس آگیا ہے اور اپنی منزل کی طرف منتقل ہوگیا ہے۔

۱۸

(۳)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وهي المعروفة بالشقشقية

وتشتمل على الشكوى من أمر الخلافة ثم ترجيح صبره عنها ثم مبايعة الناس له

أَمَا واللَّه لَقَدْ تَقَمَّصَهَا فُلَانٌ وإِنَّه لَيَعْلَمُ أَنَّ مَحَلِّي مِنْهَا مَحَلُّ الْقُطْبِ مِنَ الرَّحَى، يَنْحَدِرُ عَنِّي السَّيْلُ ولَا يَرْقَى إِلَيَّ الطَّيْرُ، فَسَدَلْتُ دُونَهَا ثَوْباً وطَوَيْتُ عَنْهَا كَشْحاً وطَفِقْتُ أَرْتَئِي بَيْنَ أَنْ أَصُولَ بِيَدٍ جَذَّاءَ أَوْ أَصْبِرَ عَلَى طَخْيَةٍ عَمْيَاءَ ، يَهْرَمُ فِيهَا الْكَبِيرُ ويَشِيبُ فِيهَا الصَّغِيرُ، ويَكْدَحُ فِيهَا مُؤْمِنٌ حَتَّى يَلْقَى رَبَّه،

ترجيح الصبر

فَرَأَيْتُ أَنَّ الصَّبْرَ عَلَى هَاتَا أَحْجَى فَصَبَرْتُ وفِي الْعَيْنِ قَذًى وفِي الْحَلْقِ شَجًا أَرَى تُرَاثِي نَهْباً حَتَّى مَضَى الأَوَّلُ لِسَبِيلِه، فَأَدْلَى بِهَا إِلَى فُلَانٍ بَعْدَه، ثُمَّ تَمَثَّلَ بِقَوْلِ الأَعْشَى:

شَتَّانَ مَا يَوْمِي عَلَى كُورِهَا

ويَوْمُ حَيَّانَ أَخِي جَابِرِ

فَيَا عَجَباً بَيْنَا هُوَ يَسْتَقِيلُهَا فِي حَيَاتِه، إِذْ عَقَدَهَا لِآخَرَ بَعْدَ وَفَاتِه

(۳)

آپ کے ایک خطبہ کا حصہ

جسے شقشقیہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے

آگاہ ہو جائو کہ خداکی قسم فلاں شخص ( ابن ابی قحافہ) نے قمیص خلافت کو کھینچ تان کر پہن لیا ہے حالانکہ اسے معلوم ہے کہ خلات کی چکی کے لئے میری حیثیت مرکزی کیل کی ہے۔علم کا سیلاب میری ذات سے گزر کرنیچے جاتا ہے اور میری بلندی تک کسی کا طائر فکر بھی پرواز نہیں کر سکتا ہے۔پھر بھی میں نے خلافت کے آگے پردہ ڈا ل دیا اور اس سے پہلے تہی کرلی اوریہ سوچنا شروع کردیا کہ کٹے ہوئے ہاتھوں سے حملہ کردوں یا اسی بھیانک اندھیرے پرصبر کرلوں جس میں سن رسیدہ بالکل ضعیف ہو جائے اوربچہ بوڑھا ہو جائے اور مومن محنت کرتے کرتے خدا کی بارگاہ تک پہنچ جائے۔

تو میں نے دیکھا کہ ان حالات میں صبر ہی قرین عقل ہے تو میں نے اس عالم میں صبر کرلیا کہ آنکھوں میں مصائب کی کھٹک تھی اورگلے میں رنج و غم کے پھندے تھے۔میں اپنی میراث کو لٹتے دیکھ رہا تھا ۔یہاں تک کہ پہلے خلیفہ نے اپنا راستہ لیا اور خلافت کو اپنے بعد فلاں کے حوالے کردیا بقول اعشی:''کہاں وہ دن جو گزرتا تھا میرا اونٹوں پر۔کہاں یہ دن کہ میں حیان کے جوار میں ہوں '' حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی میں استعفا دے رہا تھا اور مرنے کے بعد کے لئے دوسرے کے لئے طے کرگیا

۱۹

لَشَدَّ مَا تَشَطَّرَا ضَرْعَيْهَا ، فَصَيَّرَهَا فِي حَوْزَةٍ خَشْنَاءَ يَغْلُظُ كَلْمُهَا ، ويَخْشُنُ مَسُّهَا ويَكْثُرُ الْعِثَارُ فِيهَا والِاعْتِذَارُ مِنْهَا، فَصَاحِبُهَا كَرَاكِبِ الصَّعْبَةِ ، إِنْ أَشْنَقَ لَهَا خَرَمَ وإِنْ أَسْلَسَ

لَهَا تَقَحَّمَ ، فَمُنِيَ النَّاسُ لَعَمْرُ اللَّه بِخَبْطٍ وشِمَاسٍ وتَلَوُّنٍ واعْتِرَاضٍ ، فَصَبَرْتُ عَلَى طُولِ الْمُدَّةِ وشِدَّةِ الْمِحْنَةِ حَتَّى إِذَا مَضَى لِسَبِيلِه، جَعَلَهَا فِي جَمَاعَةٍ زَعَمَ أَنِّي أَحَدُهُمْ فَيَا لَلَّه ولِلشُّورَى ، مَتَى اعْتَرَضَ الرَّيْبُ فِيَّ مَعَ الأَوَّلِ مِنْهُمْ، حَتَّى صِرْتُ أُقْرَنُ إِلَى هَذِه النَّظَائِرِ ، لَكِنِّي أَسْفَفْتُ إِذْ أَسَفُّوا وطِرْتُ إِذْ طَارُوا، فَصَغَا رَجُلٌ مِنْهُمْ لِضِغْنِه ، ومَالَ الآخَرُ لِصِهْرِه مَعَ هَنٍ وهَنٍ إِلَى أَنْ قَامَ ثَالِثُ الْقَوْمِ نَافِجاً حِضْنَيْه ، بَيْنَ نَثِيلِه ومُعْتَلَفِه ، وقَامَ مَعَه بَنُو أَبِيه يَخْضَمُونَ مَالَ اللَّه،

بیشک دونوں نے مل کر شدت سے اس کے تھنوں کو دوہا ہے۔اور اب ایک ایسی درشت اور سخت منزل میں رکھ دیا ہے جس کے زخم کاری ہیں اورجس کو چھونے سے بھی درشتی کا احساس ہوتا ہے۔لغزشوں کی کثرت ہے اورمعذرتوں کی بہتات! اس کو برداشت کرنے والا ایس ہی ہے جیسے سر کش اونٹنی کا سوار کہ مہار کھنیچ لے تو ناک زخمی ہو جائے اور ڈھیل دیدے تو ہلاکتوں میں کود پڑے۔تو خدا کی قسم لوگ ایک کجروی' سر کشی' تلون مزاجی اور بے راہ روی میں مبتلا ہوگئے ہیں اور میں نے بھی سخت حالات میں طویل مدت تک صبر کیا یہاں تک کہ وہ بھی اپنے راستہ چلا گیا لیکن خلافت کو ایک جماعت میں قرار دے گیا جن میں ایک مجھے بھی شمار کرگیا جب کہ میرا اس شوریٰ سے کیا تعلق تھا؟مجھ میں پہلے دن کون سا عیب و ریب تھا کہ آج مجھے ایسے لوگوں کے ساتھ ملایا جا رہا ہے۔لیکن اس کے باوجود میں نے انہیں کی فضا میں پرواز کی اور یہ نزدیک فضا میں اڑے تو وہاں بھی ساتھ رہا اور اونچے اڑے تو وہاں بھی ساتھ رہا مگرپھر بھی ایک شخص اپنے کینہ کی بنا پرمجھ سے منحرف ہوگیا اور دوسری دامادی کی طرف جھک گیا اور کچھ اوربھی ناقابل ذکراسباب واشخاص تھے جس کے نتجیہ میں تیسرا شخص سرگین اورچارہ کے درمیان پیٹ پھلائے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا اور اس کے ساتھ اس کے اہل خاندان بھی کھڑے ہوئے جو مال خا کو اس طرح ہضم کر رہے تھے

۲۰

خِضْمَةَ الإِبِلِ نِبْتَةَ الرَّبِيعِ ، إِلَى أَنِ انْتَكَثَ عَلَيْه فَتْلُه وأَجْهَزَ عَلَيْه عَمَلُه، وكَبَتْ بِه بِطْنَتُه

مبايعة علي

فَمَا رَاعَنِي إِلَّا والنَّاسُ كَعُرْفِ الضَّبُعِ ، إِلَيَّ يَنْثَالُونَ عَلَيَّ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ، حَتَّى لَقَدْ وُطِئَ الْحَسَنَانِ وشُقَّ عِطْفَايَ مُجْتَمِعِينَ حَوْلِي كَرَبِيضَةِ الْغَنَمِ ، فَلَمَّا نَهَضْتُ بِالأَمْرِ نَكَثَتْ طَائِفَةٌ ومَرَقَتْ أُخْرَى وقَسَطَ آخَرُونَ كَأَنَّهُمْ لَمْ يَسْمَعُوا اللَّه سُبْحَانَه يَقُولُ:( تِلْكَ الدَّارُ الآخِرَةُ نَجْعَلُها لِلَّذِينَ، لا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الأَرْضِ ولا فَساداً، والْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ ) ،

جس طرح اونٹ بہار کی گھاس کو چرلیتا ہے یہاں تک کہ اس کی بٹی ہوئی رسی کے بل کھل گئے اور اس کے اعمال نے اس کا خاتمہ کردیا اور شکم پری نے منہ کے بل گرادیا

اس وقت مجھے جس چیزنے دہشت زدہ کردیا یہ تھی کہ لوگ بجوں کی گردن(۱) کے بال کی طرح میرے گرد جمع ہوگئے اور چاروں طرف سے میرے اوپر ٹوٹ پڑے یہاں تک کہ حسن و حسین کچل گئے اور میری ردا کے کنارے پھٹ گئے ۔یہ سب میرے گرد بکریوں کے گلہ کی طرح گھیرا ڈالے ہوئے تھے۔لیکن جب میں نے ذمہ داری سنبھالی اوراٹھ کھڑے ہوا تو ایک گروہ نے بیعت توڑ دی اوردوسرا دین سے باہرنکل گیا اور تیسرے نے فسق اختیار کرلیا جیسے کہ ان لوگوں نے یہ ارشاد الٰہی سنا ہی نہیں ہے کہ'' یہ دارآخرت ہم صرف ان لوگوں کے لئے قراردیتے ہیں جو دنیا میں بلندی اور فساد نہیں چاہتے ہیں اور عاقبت صرف اہل تقوی کے لئے ہیں ''۔

(۱)اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عثمان کے تصرفات نے تمام عالم اسلام کوناراض کردیا تھا۔حضرت عائشہ انہیں نعثل یہودی قراردے کر لوگوں کو قتل پرآمادہ کر رہی تھیں۔طلحہ انہیں واجب القتل قراردے رہا تھا۔زبیر در پردہ قاتلوں کی حمایت کر رہا تھا لیکن ان سب کا مقصد امت اسلامیہ کو نا اہل سے نجات دلانا نہیں تھا بلکہ آئندہ خلافت کی زمین کو ہموار کرنا تھا اورحضرت علی اس حقیقت سے مکمل طور پر باخبر تھے۔اس لئے جب انقلابی گروہ نے خلافت کی پیشکش تو آپنے انکار کردیا کہ قتل کا سارا الزام اپنی گردن پرآجائے گا اور اس وقت تک قبول نہیں کیا جب تک تمام انصار و مہاجرین نے اس امر کا اقرارنہیں کرلیا کہ آپ کے علاوہ امت کا مشکل کشاہ کوئی نہیں ہے اور اس کے بعد بھی منبر رسول (ص) پر بٹھ کر بیعت لی تاکہ جانشینی کاصحیح مفہوم واضح ہو جائے۔یہ اور بات ہے کہ اس وقت بھی سعد بن ابی وقاص اورعبداللہ بن عمر جیسے افراد نے بیعت نہیں کی اور حضرت عائشہ کو بھی جیسے ہی اس '' حادثہ'' کی اطلاع ملی انہوں نے عثمان کی مظلومیت کا اعلان شروع کردیا اور طلحہ و زبیر کی محرومی کا انتقام لینے کا ارادہ کرلیا۔آپ کے حضرت علی سے اختلاف کی ایک بنیاد یہ بھی تھی کہ حضور(ص) نے اولاد علی کواپنی اولاد قراردے دیا تھا اور قرآن مجید نے انہیں ابنائنا کالقب دے دیا تھا اورحضرت عائشہ مستقل طور پر محروم اولاد تھیں لہٰذا ان میں یہ جذبہ حسد پیدا ہونا ہی چاہتے تھا۔

۲۱

بَلَى واللَّه لَقَدْ سَمِعُوهَا ووَعَوْهَا، ولَكِنَّهُمْ حَلِيَتِ الدُّنْيَا فِي أَعْيُنِهِمْ ورَاقَهُمْ زِبْرِجُهَا

أَمَا والَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وبَرَأَ النَّسَمَةَ ، لَوْ لَا حُضُورُ الْحَاضِرِ وقِيَامُ الْحُجَّةِ بِوُجُودِ النَّاصِرِ، ومَا أَخَذَ اللَّه عَلَى الْعُلَمَاءِ، أَلَّا يُقَارُّوا عَلَى كِظَّةِ ظَالِمٍ ولَا سَغَبِ مَظْلُومٍ، لأَلْقَيْتُ حَبْلَهَا عَلَى غَارِبِهَا - ولَسَقَيْتُ آخِرَهَا بِكَأْسِ أَوَّلِهَا - ولأَلْفَيْتُمْ دُنْيَاكُمْ هَذِه أَزْهَدَ عِنْدِي مِنْ عَفْطَةِ عَنْزٍ

قَالُوا وقَامَ إِلَيْه رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ السَّوَادِ - عِنْدَ بُلُوغِه إِلَى هَذَا الْمَوْضِعِ مِنْ خُطْبَتِه - فَنَاوَلَه كِتَاباً قِيلَ إِنَّ فِيه مَسَائِلَ كَانَ يُرِيدُ الإِجَابَةَ عَنْهَا فَأَقْبَلَ يَنْظُرُ فِيه [فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَتِه] قَالَ لَه ابْنُ عَبَّاسٍ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ - لَوِ اطَّرَدَتْ خُطْبَتُكَ مِنْ حَيْثُ أَفْضَيْتَ!

فَقَالَ هَيْهَاتَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ - تِلْكَ شِقْشِقَةٌ هَدَرَتْ ثُمَّ قَرَّتْ

ہاں ہاں خداکی قسم ان لوگوں نے یہ ارشاد سنا بھی ہے اور سمجھے بھی ہیں لیکن دنیا ان کی نگاہوں میں آراستہ ہوگئی اور اس کی چمک دمک نے انہیں نبھا لیا۔

آگاہ ہو جائو وہ خدا گواہ ہے جس نے دانہ کو شگافتہ کیا ہے اورذی روح کو پیدا کیا ہے کہ اگر حاضرین کی موجودگی اور انصار کے وجود سے حجت تمام نہ ہوگئی ہوتی اوراللہ کا اہل علم سے یہ عہد نہ ہوتا کہ خبردار ظالم کی شکم پری اور مظلوم کی گرسنگی پرچین سے نہ بیٹھنا تو میں آج بھی اس خلافت کی رسی کو اسی کی گردن پر ڈال کر ہنکا دیتا اور اس کی آخر کواول ہی کے کاسہ سے سیراب کرتا اور تم دیکھ لیتے کہ تمہاری دنیا میری نظرمیں بکری کی چھینک سے بھی زیادہ بے قیمت ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اس موقع پرایک عراقی باشندہ اٹھ کھڑا ہوا اوراس نے آپ کو ایک خط دیا جس ک بارے میں خیال ہے کہ اس میں کچھ فوری جواب طلب مسائل تھے۔چنانچہ آپ نے اس خط کو پڑھنا شروع کردیا اور جب فارغ ہوئے تو ابن عباس نے عرض کی کہ حضوربیان جاری رہے؟فرمایا کہ افسوس ابن عباس یہ توایک شقشقہ تھا جوابھر کر دب گیا۔

(شقشقہ اونٹ کے منہ میں وہ گوشت کا لوتھڑا ہے جو غصہ اور ہیجان کے وقت باہر نکل آتا ہے )

۲۲

قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَوَاللَّه مَا أَسَفْتُ عَلَى كَلَامٍ قَطُّ - كَأَسَفِي عَلَى هَذَا الْكَلَامِ - أَلَّا يَكُونَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَعليه‌السلام بَلَغَ مِنْه حَيْثُ أَرَادَ.

* *

قال الشريف رضيرضي‌الله‌عنه قولهعليه‌السلام كراكب الصعبة إن أشنق لها خرم - وإن أسلس لها تقحم - يريد أنه إذا شدد عليها في جذب الزمام - وهي تنازعه رأسها خرم أنفها - وإن أرخى لها شيئا مع صعوبتها - تقحمت به فلم يملكها - يقال أشنق الناقة إذا جذب رأسها بالزمام فرفعه - وشنقها أيضا ذكر ذلك ابن السكيت في إصلاح المنطق - وإنما قالعليه‌السلام أشنق لها ولم يقل أشنقها - لأنه جعله في مقابلة قوله أسلس لها - فكأنهعليه‌السلام قال إن رفع لها رأسها بمعنى أمسكه عليها بالزمام -

ابن عباس کہتے ہیں کہ بخدا قسم مجھے کسی کلام کے نا تمام رہ جانے کا اس قدر افسوس نہیں ہوا جتنا افسوس اس امر پرہوا کہ امیر المومنین اپنی بات پوری نہ فرما سکے اور آپ کا کلام نا تمام رہ گیا۔

سید شریف رضی فرماتے ہیں کہ امیر المومنین کے ارشاد''ان اشنقلها…… کا مفہوم یہ ہے کہ اگر ناقہ پر مہارکھینچنے میں سختی کی جائے گیاور وہ سر کشی پرآمادہ ہو جائے گا تو اس کی ناک زخمی ہو جائے گی اوراگر ڈھیلا چھوڑ دیا جائے تو اختیار سے باہر نکل جائے گا۔عرب''اشنق الناقة'' اس موقع پر استعمال کرتے ہیں جب اس کے سر کو مہار کے ذریعہ کھینچا جاتا ہے اور وہ سر اٹھالیتا ہے۔اس کیفیت کو''شنقها ''سے بھی تعبیر کرتے ہیں جیسا کہ ابن السکیت نے'' اصلاح المنطق'' میں بیان کیا ہے۔لیکن امیرالمومنین نے اس میں ایک لام کا اضافہ کردیا ہے ''اشنق لھا'' تاکہ بعد کے جملہ'' اسلس لها '' سے ہم آہنگ ہو جائے اور فصاحت کا نظام درہم برہم نہ ہونے پائے۔

۲۳

(۴)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وهي من أفصح كلامهعليه‌السلام وفيها يعظ الناس ويهديهم من ضلالتهم

ويقال: إنه خطبها بعد قتل طلحة والزبير

بِنَا اهْتَدَيْتُمْ فِي الظَّلْمَاءِ وتَسَنَّمْتُمْ ذُرْوَةَ - الْعَلْيَاءِ وبِنَا أَفْجَرْتُمْ عَنِ السِّرَارِ - وُقِرَ سَمْعٌ لَمْ يَفْقَه الْوَاعِيَةَ - وكَيْفَ يُرَاعِي النَّبْأَةَ مَنْ أَصَمَّتْه الصَّيْحَةُ - رُبِطَ جَنَانٌ لَمْ يُفَارِقْه الْخَفَقَانُ - مَا زِلْتُ أَنْتَظِرُ بِكُمْ عَوَاقِبَ الْغَدْرِ - وأَتَوَسَّمُكُمْ بِحِلْيَةِ الْمُغْتَرِّينَ - حَتَّى سَتَرَنِي عَنْكُمْ جِلْبَابُ الدِّينِ - وبَصَّرَنِيكُمْ صِدْقُ النِّيَّةِ - أَقَمْتُ لَكُمْ عَلَى سَنَنِ الْحَقِّ فِي جَوَادِّ الْمَضَلَّةِ - حَيْثُ تَلْتَقُونَ ولَا دَلِيلَ وتَحْتَفِرُونَ ولَا تُمِيهُونَ.

الْيَوْمَ أُنْطِقُ لَكُمُ الْعَجْمَاءَ ذَاتَ الْبَيَانِ

(۴)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

جوفصیح ترین کلمات میں شمار ہوتا ہے اور جس میں لوگوں کو نصیحت کی گئی ہے اور انہیں گمراہی سے ہدایت کے راستہ پرلایا گیا ہے۔(طلحہ و زبیر کی بغاوت اورقتل عثمان کے پس منظر میں فرمایا)

تم لوگوں نے ہماری ہی وجہ سے تاریکیوں میں ہدایت کا راستہ پایاہے اوربلندی کے کوہان پر قدم جمائے ہیں اور ہماری ہی وجہ سے اندھری راتوں سے اجالے کی طرف باہرآئے ہو۔ وہ کان بہرے ہو جائیں جو پکارنے والے کی آواز نہ سن سکیں اور وہ لوگ بھلا دھیمی آواز کو کیا سن سکیں گے جن کے کان بلند ترین آوازوں کے سامنے بھی بہرے ہی رہے ہوں۔مطمئن دل وہی ہوتا ہے جویاد الٰہی اورخوف خدا میں مسلسل دھڑکتا رہتا ہے۔میں روزاول سے تمہاری غداری کے انجام کا انتظار کر رہا ہوں اور تمہیں فریب خوردہ لوگوں کے انداز سے پہچان رہا ہوں۔مجھے تم سے دینداری کی چادر نے پوشیدہ کردیا ہے لیکن صدق نیت نے میرے لئے تمہارے حالات کو آئینہ کردیا ہے۔میں نے تمہارے لئے گمراہی کی منزلوں میں حق کے راستوں پر قیام کیا ہے جہاں تم ایک دوسرے سے ملتے تھے لیکن کوئی راہنما نہ تھا اور کنواں کھودتے تھے لیکن پانی نصیب نہ ہوتا تھا۔

آج میں تمہارے لئے اپنی اس زبان خاموش کو گویا بنا رہا ہوں جس میں بڑی قوت بیان ہے

۲۴

عَزَبَ رَأْيُ امْرِئٍ تَخَلَّفَ عَنِّي - مَا شَكَكْتُ فِي الْحَقِّ مُذْ أُرِيتُه - لَمْ يُوجِسْ مُوسَىعليه‌السلام خِيفَةً عَلَى نَفْسِه - بَلْ أَشْفَقَ مِنْ غَلَبَةِ الْجُهَّالِ ودُوَلِ الضَّلَالِ الْيَوْمَ تَوَاقَفْنَا عَلَى سَبِيلِ الْحَقِّ والْبَاطِلِ مَنْ وَثِقَ بِمَاءٍ لَمْ يَظْمَأْ!

(۵)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

لما قبض رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله

وخاطبه العباس وأبو سفيان بن حرب - في أن يبايعا له بالخلافة (وذلك بعد أن تمت البيعة لأبي بكرفي السقيفة، وفيها ينهى عن الفتنة ويبين عن خلقه وعلمه)

النهي عن الفتنة

أَيُّهَا النَّاسُ شُقُّوا أَمْوَاجَ الْفِتَنِ بِسُفُنِ النَّجَاةِ - وعَرِّجُوا عَنْ طَرِيقِ الْمُنَافَرَةِ - وضَعُوا تِيجَانَ الْمُفَاخَرَةِ - أَفْلَحَ مَنْ نَهَضَ بِجَنَاحٍ أَوِ اسْتَسْلَمَ فَأَرَاحَ - هَذَا مَاءٌ آجِنٌ

یاد رکھو کہ اس شخص کی رائے گم ہوگئی ہے جس نے مجھ سے رو گردانی کی ہے۔میں نے روز اول سے آج تک حق کے بارے میں کبھی شک نہیں کیا میرا سکوت مثل موسی ہے موسی کو اپنے نفس کے بارے میں خوف نہیں تھاانہیں دربار فرعون میں صرف یہ خوف تھا کہ کہیں جاہل جادوگر اورگمراہ حکام عوام کی عقلوں پر غالب نہ آجائیں۔آج ہم سے حق و باطل کے راستہ پرآمنے سامنے ہیں اوریاد رکھو جسے پانی پر اعتماد ہوتا ہے وہ پیاسا نہیں رہتا ہے۔

(۵)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

جو آپ کے وفات پیغمبراسلام(ص) کے موقع پر ارشاد فرمایا تھا جب عباس اورابو سفیان نے آپ سے بیعت لینے کا مطالبہ کیا تھا۔

ایہا الناس! فتنوں کی موجوں کو نجات کی کشتیوں سے چیر کرنکل جائو اور منافرت کے راستوں سے الگ رہو۔باہمی فخر و مباہات کے تاج اتار دو کہ کامیابی اسی کا حصہ ہے جو اٹھے تو بال و پر کے ساتھ اٹھے ورنہ کرسی کو دوسروں کے حوالے کرکے اپنے کوآزاد کرلے۔یہ پانی بڑا گندہ(۱) ہے۔

(۱) امیر المومنین نے حالات کی وہ بہترین تصویر کشی کی ہے جس کی طرف ابو سفیان جیسے افراد متوجہ نہیں تھے یا سازشوں کا پردہ ڈالنا چاہتے تھے آپ نے واضح لفظوں میں فرمادیا کہ مجھے اس مطالبہ بیعت اوروعدہ نصرت کا انجام معلوم ہے اور میں اس وقت قیام کونا وقت قیام تصور کرتا ہوں جس کا کوئی مثبت نتیجہ نکلنے والا نہیں ہے لہٰذا بہتر یہ ہے کہ انسان پہلے بال و پر تلاش کرلے اس کے بعد اڑنے کا ارادہ کرے ورنہ خاموش ہو کر بیٹھ جائے کہ اس میں عافیت ہے اور یہی تقاضائے عقل و منطق ہے۔میں اس طعن و طنز سے بھی با خبر ہوں جو میرے اقدامات کے بارے میں استعمال ہو رہے ہیں لیکن میں کوئی جذباتی انسان نہیں ہوں کہ ان جملوں سے گھبرا جائوں۔میں مشیت الٰہی کا پابند ہوں اور اس کے خلاف ایک قدم آگے نہیں بڑھا سکتا ہوں۔

۲۵

ولُقْمَةٌ يَغَصُّ بِهَا آكِلُهَا. ومُجْتَنِي الثَّمَرَةِ لِغَيْرِ وَقْتِ إِينَاعِهَا كَالزَّارِعِ بِغَيْرِ أَرْضِه.

خلقه وعلمه

فَإِنْ أَقُلْ يَقُولُوا حَرَصَ عَلَى الْمُلْكِ - وإِنْ أَسْكُتْ يَقُولُوا جَزِعَ مِنَ الْمَوْتِ - هَيْهَاتَ بَعْدَ اللَّتَيَّا والَّتِي واللَّه لَابْنُ أَبِي طَالِبٍ آنَسُ بِالْمَوْتِ - مِنَ الطِّفْلِ بِثَدْيِ أُمِّه - بَلِ انْدَمَجْتُ عَلَى مَكْنُونِ عِلْمٍ لَوْ بُحْتُ بِه لَاضْطَرَبْتُمْ - اضْطِرَابَ الأَرْشِيَةِ فِي الطَّوِيِّ الْبَعِيدَةِ!

(۶)

ومن كلام لهعليه‌السلام

لا أشير عليه بألا يتبع طلحة والزبير ولا يرصد لهما القتالوفيه يبين عن صفته بأنه عليه‌السلام لا يخدع

واللَّه لَا أَكُونُ كَالضَّبُعِ تَنَامُ عَلَى طُولِ اللَّدْمِ

اور اس لقمہ میں اچھو لگ جانے کاخطرہ ہے اور یاد رکھو کہ نا وقت پھل چننے والا ایسا ہی ہے جیسے نا مناسب زمین میں زراعت کرنے والا۔ (میری مشکل یہ ہے کہ) میں بولتا ہوں تو کہتے ہیں کہ اقتدار کی لالچ رکھتے ہیں اورخاموش ہو جاتا ہوں تو کہتے ہیں کہ موت سے ڈر گئے ہیں۔

افسوس اب یہ بات جب میں تمام مراحل دیکھ چکا ہوں۔خدا کی قسم ابو طالب کافرزند موت سے اس سے زیادہ مانوس ہے جتنا بچہ سر چشمہ حیات سے مانوس ہوتا ہے۔البتہ میرے سینہ کی تہوں میں ایک ایسا پوشیدہ علم ہے جو مجھے مجبور کئے ہوئے ہے ورنہ اسے ظاہر کردوں تو تم اسی طرح لرزنے لگو گے جس طرح گہرے کنویں میں رسی تھرتھراتی اور لرزتی ہے۔

(۶)

حضرت کا ارشاد گرامی

جب آپ کو مشورہ دیا گیا کہ طلحہ و زبیر کا پیچھا نہ کریں اور ان سے جنگ کا بندو بست نہ کریں

خدا کی قسم میں اس بجو(۱) کے مانند نہیں ہو سکتا جس کا شکاری مسلسل کھٹکھٹاتا رہتا ہے اور وہ آنکھ بند کئے پڑا رہتا ہے ،

(۱) بجو کو عربی میں ام عامر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔اس کے شکار کا طریقہ یہ ہے کہ شکاری اس کے گرد گھیرا ڈال کر زمین کو تھپتھپاتا ہے اور وہ اندر سوراخ میں گھس کر بیٹھ جاتا ہے۔پھر شکاری اعلان کرتا ہے کہ ام عامر نہیں ہے اور وہ اپنے کو سویا ہوا ظاہر کرنے کے لئے پیر پھیلا دیتا ہے اور شکاری پیر میں رسی باندھ کر کھینچ لیتا ہے ۔یہ انتہائی احمقانہ عمل ہوتا ہے جس کی بنا پر بجو کو حماقت کی مثال بنا کر پیش کیا جاتا ہے آپ(ص) کا ارشاد گرامی ہے کہ جہاد سے غافل ہو کر خانہ نشین ہو جانا اور شام کے لشکروں کو مدینہ کا راستہ بتا دینا ایک بجو کا عمل تو ہو سکتا ہے لیکن عقل کا اورباب مدینة العلم کا کردارنہیں ہوسکتا ہے۔

۲۶

حَتَّى يَصِلَ إِلَيْهَا طَالِبُهَا ويَخْتِلَهَا رَاصِدُهَاولَكِنِّي أَضْرِبُ بِالْمُقْبِلِ إِلَى الْحَقِّ الْمُدْبِرَ عَنْه - وبِالسَّامِعِ الْمُطِيعِ الْعَاصِيَ الْمُرِيبَ أَبَداً - حَتَّى يَأْتِيَ عَلَيَّ يَوْمِي - فَوَاللَّه مَا زِلْتُ مَدْفُوعاً عَنْ حَقِّي - مُسْتَأْثَراً عَلَيَّ مُنْذُ قَبَضَ اللَّه نَبِيَّه صوسلم حَتَّى يَوْمِ النَّاسِ هَذَا.

(۷)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يذم فيها أتباع الشيطان

اتَّخَذُوا الشَّيْطَانَ لأَمْرِهِمْ مِلَاكاً واتَّخَذَهُمْ لَه أَشْرَاكاً فَبَاضَ وفَرَّخَ فِي صُدُورِهِمْ ودَبَّ ودَرَجَ فِي حُجُورِهِمْ - فَنَظَرَ بِأَعْيُنِهِمْ ونَطَقَ بِأَلْسِنَتِهِمْ - فَرَكِبَ بِهِمُ الزَّلَلَ وزَيَّنَ لَهُمُ الْخَطَلَ فِعْلَ مَنْ قَدْ شَرِكَه الشَّيْطَانُ فِي سُلْطَانِه ونَطَقَ بِالْبَاطِلِ عَلَى لِسَانِه!

یہاں تک کہ گھات لگانے والا اسے پکڑ لیتا ہے۔میں حق کی طرف آنے والوں کے ذریعہ انحراف کرنے والوں پر اوراطاعت کرنے والوں کے سہارے معصیت کا ر تشکیک کرنے والوں پر مسلسل ضرب لگاتا رہوں گا یہاں تک کہ میرا آخری دن آجائے۔خدا گواہ ہے کہ میں ہمیشہ اپنے حق سے محروم رکھا گیا ہوں اور دوسروں کو مجھ پرمقدم کیا گیا ہے جب سے سرکار دو عالم(ص) کا انتقال ہوا ہے اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے۔

(۷)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

جس میں شیطان کے پیروکاروں کی مذمت کی گئی ہے

ان لوگوں نے شیطان کو اپنے امور کا مالک و مختار بنالیا ہے اور اس نے انہیں اپناآلہ کا ر قرار دے لیا ہے اور انہیں کی سینوں میں(۱) انڈے بچے د ئی ے ہیں اور وہ انہیں کی آغوش میں پلے بڑھے ہیں۔اب شیطان انہیں کی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور انہیں کی زبان سے بولتا ہے۔انہیں لغزش کی راہ پر لگا دیا ہے اوران کے لئے غلط باتوں کو آراستہ کردیا ہے جیسے کہ اس نے انہیں اپنے کاروبارمیں شریک بنالیا ہو اور اپنے حرف باطل کو انہیں کی زبان سے ظاہر کرتا ہو۔

(۱)شیطانوں کی تخلیق میں انڈے بچے ہوتے ہیں یا نہیں۔یہ مسئلہ اپنی جگہ پرقابل تحقیق ہے لیکن حضرت کی مراد یہ ہے کہ شیاطین اپنے معنوی بچوں کو انسانی معاشرہ سے الگ کسی ماحول میں نہیں رکھتے ہیں بلکہ ان کی پرورش اسی ماحول میں کرتے ہیں اور پھر انہیں کے ذریعہ اپنے مقاصد کی تکمیل کرتے ہیں۔

زمانہ کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو انداز ہو گا کہ شیاطین زمانہ اپنی اولاد کو مسلمانوں کی آغوش میں پالتے ہیں اور مسلمانوں کی اولاد کو اپنی گود میں پالتے ہیں تاکہ مستقبل میں انہیں مکمل طور پر استعمال کیا جا سکے اور اسلام کو اسلام کے ذریعہ فنا کیا جا سکے جس کا سلسلہ کل کے شام سے شروع ہوا تھا اور آج کے عالم اسلام تک جاری و ساری ہے۔

۲۷

(۸)

ومن كلام لهعليه‌السلام

يعني به الزبير في حال اقتضت ذلك ويدعوه للدخول في البيعة ثانية

يَزْعُمُ أَنَّه قَدْ بَايَعَ بِيَدِه ولَمْ يُبَايِعْ بِقَلْبِه - فَقَدْ أَقَرَّ بِالْبَيْعَةِ وادَّعَى الْوَلِيجَةَ - فَلْيَأْتِ عَلَيْهَا بِأَمْرٍ يُعْرَفُ - وإِلَّا فَلْيَدْخُلْ فِيمَا خَرَجَ مِنْه.

(۹)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في صفته وصفة خصومه ويقال إنها في أصحاب الجمل

وقَدْ أَرْعَدُوا وأَبْرَقُوا ومَعَ هَذَيْنِ الأَمْرَيْنِ الْفَشَلُ ولَسْنَا نُرْعِدُ حَتَّى نُوقِعَ ولَا نُسِيلُ حَتَّى نُمْطِرَ.

(۸)

آپ کا ارشاد گرامی

زبیر کے بارے میں

جب ایسے حالات پیدا ہوگئے اور اسے دوبارہ بیعت کے دائرہ میں داخل ہونا پڑے گا جس سے نکل گیا ہے

زبیر کا خیال یہ ہے کہ اس نے صرف ہاتھ سے میری بیعت کی ہے اور دل سے بیعت نہیں کی ہے۔تو بیعت کا تو بہر حال اقرار کرلیا ہے۔اب صرف دل کے کھوٹ کا ادعا کرتا ہے تو اسے اس کا واضح ثبوت فراہم کرناپڑے گاورنہ اسی بیعت میں دوبارہ داخل ہوناپڑے گا جس سے نکل گیا ہے۔

(۹)

آپ کے کلام کا ایک حصہ

جس میں اپنے اوربعض مخالفین کے اوصاف کا تذکرہ فرمایا ہے اور شاید اس سے مراد اہل جمل ہیں۔

یہ لوگ بہت گرجے اوربہت چمکے لیکن آخر میں ناکام ہی رہے جب کہ اس وقت تک گرجتے نہیں ہیں جب تک دشمن پر ٹوٹ نہ پڑیں اور اس وقت تک لفظوں کی روانی نہیں دکھلاتے جب تک کہ برس نہ پڑیں۔

۲۸

(۱۰)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يريد الشيطان أو يكني به عن قوم

أَلَا وإِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ جَمَعَ حِزْبَه - واسْتَجْلَبَ خَيْلَه ورَجِلَه وإِنَّ مَعِي لَبَصِيرَتِي مَا لَبَّسْتُ عَلَى نَفْسِي ولَا لُبِّسَ عَلَيَّ - وايْمُ اللَّه لأُفْرِطَنَّ لَهُمْ حَوْضاً أَنَا مَاتِحُه لَا يَصْدُرُونَ عَنْه ولَا يَعُودُونَ إِلَيْه.

(۱۱)

ومن كلام لهعليه‌السلام

لابنه محمد ابن الحنفية - لما أعطاه الراية يوم الجمل

تَزُولُ الْجِبَالُ ولَا تَزُلْ -.

(۱۰)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

جس کا مقصد شیطان ہے یا شیطان صفت کوئی گروہ

آگاہ ہو جائو کہ شیطان نے اپنے گروہ کوجمع کرلیا ہے اور اپنے پیادہ و سوار سمیٹ لئے ہیں۔لیکن پھربھی میرے ساتھ میری بصیرت ہے۔نہ میں نے کسی کو دھوکہ دیا ہے اور نہ واقعا دھوکہ کھایا ہے اور خدا کی قسم میں ان کے لئے ایسے حوض کو چھلکائوں گا جس کا پانی نکالنے والا بھی میں ہی ہوں گا کہ یہ نہ نکل سکیں گے اور نہ پلٹ کرآسکیں گے

(۱۱)

آپ کا ارشاد گرامی

اپنے فرزند محمد بن الخفیہ سے

( میدان جمل میں علم لشکر دیتے ہوئے)

خبردار(۱) پہاڑاپنی جگہ سے ہٹ جائے۔ تم نہ ہٹنا۔

(۱) حیرت کی بات ہے کہ جو انسان فنون جنگ کی تعلیم دیتا ہو اسے موت سے خوف زدہ ہونے کا الزام دیدیا جائے۔امیر المومنین کی مکمل تاریخ حیات گواہ ہے کہ آپ سے بڑا شجاع و بہادرکائنات میں نہیں پیدا ہوا ہے۔آپ موت کو سر چشمہ حیات تصور کرتے تھے جس کی طرف بچہ فطری طورپر ہمکتا ہے اور اسے اپنی زندگی کا راز تصور کرتا ہے۔آپ نے صفیں کے میدان میں وہ تیغ کے جوہر دکھلائے ہیں جس نے ایک مرتبہ پھر بدر واحد و خندق و خیبر کی یاد تازہ کردی تھی اور یہ ثابت کردیا تھا کہ یہ بازد ۲۵ سال کے سکوت کے بعد بھی شل نہیں ہوئے ہیں اور یہ فن حرب کسی مشق و مہارت کا نتیجہ نہیں ہے۔ محمد حنفیہ سے خطاب کرکے یہ فرمانا کہ'' پہاڑ ہٹ جائے تم نہ ہٹنا'' اس امر کی دلیل ہے کہ آپ کی استقامت اس سے کہیں زیادہ پائیدار اور استوار ہے دانتوں کو بھینچ لینے میں اشارہ ہے کہ اس طرح رگوں کے تنائو پرتلوار کا وار اثر نہیں کرتا ہے۔کاسہ سر کو عاریت دیدینے کا مطلب یہ ہے کہ مالک زندہ رکھنا چاہے گا تو دوبارہ یہ سر واپس لیا جا سکتا ہے ورنہ بندہ نے تو اس کی بارگاہ میں پیش کردیا ہے۔آنکھوں کو بند رکھنے اور آخر قوم پر نگاہ رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ سامنے کے لشکر کو مت دیکھنا۔بس یہ دیکھنا کہ کہاں تک جانا ہے اور کس طرح صفوں کو پامال کردینا ہے۔ آخری فقرہ جنگ اور جہاد کے فرق کو نمایاں کرتا ہے کہ جنگ جو اپنی طاقت پر بھروسہ کرتا ہے اور مجاہد نصرت الٰہی کے اعتماد پرمیدان میں قدم جماتا ہے اور جس کی خدا مدد کردے وہ کبھی مغلوب نہیں ہو سکتا ہے۔

۲۹

عَضَّ عَلَى نَاجِذِكَ أَعِرِ اللَّه جُمْجُمَتَكَ - تِدْ فِي الأَرْضِ قَدَمَكَ ارْمِ بِبَصَرِكَ أَقْصَى الْقَوْمِ وغُضَّ بَصَرَكَ واعْلَمْ أَنَّ النَّصْرَ مِنْ عِنْدِ اللَّه سُبْحَانَه

(۱۲)

ومن كلام لهعليه‌السلام

لما أظفره الله بأصحاب الجمل وقَدْ قَالَ لَهعليه‌السلام بَعْضُ أَصْحَابِه - وَدِدْتُ أَنَّ أَخِي فُلَاناً كَانَ شَاهِدَنَا - لِيَرَى مَا نَصَرَكَ اللَّه بِه عَلَى أَعْدَائِكَ

فَقَالَ لَهعليه‌السلام أَهَوَى أَخِيكَ مَعَنَا فَقَالَ نَعَمْ قَالَ فَقَدْ شَهِدَنَا - ولَقَدْ شَهِدَنَا فِي عَسْكَرِنَا هَذَا أَقْوَامٌ فِي أَصْلَابِ الرِّجَالِ - وأَرْحَامِ النِّسَاءِ - سَيَرْعَفُ بِهِمُ الزَّمَانُ ويَقْوَى بِهِمُ الإِيمَانُ.

اپنے دانتوں کو بھینچ لینا۔ اپنا کاسہ سر اللہ کے حوالے کردینا۔زمین میں قدم گاڑ دینا ۔نگاہ آخر قوم پر رکھنا۔آنکھوں کو بند رکھنا اور یہ یاد رکھنا کہ مدد اللہ ہی کی طرف سے آنے والی ہے۔

(۱۲)

آپ کا ارشاد گرامی

جب پروردگار نے آپ کو اصحاب جمل پر کامیابی عطا فرمائی اور آپ کے بعض اصحاب نے کہا کہ کاش ہمارا فلاں بھائی بھی ہمارے ساتھ ہوتا تو وہ بھی دیکھتا کہ پروردگار نے کس طرح آپ کو دشمن پر فتح عنایت فرمائی ہے تو آپ نے فرمایا، کیا تیرے(۱) بھائی کی محبت بھی ہمارے ساتھ ہے ؟ اس نے عرض کی بیشک! فرمایا تو وہ ہمارے ساتھ تھا اور ہمارے اس لشکرمیں وہ تمام لوگ ہمارے ساتھ تھے جو ابھی مردوں کے صلب اور عورتوں کے رحم میں ہیں اور عنقریب زمانہ انہیں منظر عام پرلے آئے گا اور ان کے ذریعہ ایمان کو تقویت حاصل ہوگی۔

(۱) یہ دین اسلام کا ایک مخصوص امتیاز ہے کہ یہاں عذاب بد عملی کے بغیر نازل نہیں ہوتا ہے اور ثواب کا استحقاق عمل کے بغیر بھی حاصل ہو جاتا ہے اور عمل خیر کا دارومدار صرف نیت پر رکھا گیا ہے بلکہ بعض اوقات تو نیت مومن کو اس کے عمل سے بھی بہتر قرار دیا گیا ہے کہ عمل میں ریا کاری کے امکانات پائے جاتے ہیں اور نیت میں کسی طرح کی ریاکاری نہیں ہوتی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ پروردگارنے روزہ کو صرف اپنے لئے قرار دیا ہے اور اس کے اجرو ثواب کی مخصوص ذمہ داری اپنے اوپر رکھی ہے کہ روزہ میں نیت کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا ہے اوراخلاص نیت کا فیصلہ کرنے والا پروردگار کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔

۳۰

(۱۳)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في ذم أهل البصرة بعد وقعة الجمل

كُنْتُمْ جُنْدَ الْمَرْأَةِ وأَتْبَاعَ الْبَهِيمَةِ رَغَا فَأَجَبْتُمْ وعُقِرَ فَهَرَبْتُمْ أَخْلَاقُكُمْ دِقَاقٌ وعَهْدُكُمْ شِقَاقٌ ودِينُكُمْ نِفَاقٌ ومَاؤُكُمْ زُعَاقٌ والْمُقِيمُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ مُرْتَهَنٌ بِذَنْبِه والشَّاخِصُ عَنْكُمْ مُتَدَارَكٌ بِرَحْمَةٍ مِنْ رَبِّه - كَأَنِّي بِمَسْجِدِكُمْ كَجُؤْجُؤِ

سَفِينَةٍ قَدْ بَعَثَ اللَّه عَلَيْهَا الْعَذَابَ مِنْ فَوْقِهَا ومِنْ تَحْتِهَا - وغَرِقَ مَنْ فِي ضِمْنِهَا.

وفِي رِوَايَةٍ وايْمُ اللَّه لَتَغْرَقَنَّ بَلْدَتُكُمْ حَتَّى كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مَسْجِدِهَا كَجُؤْجُؤِ سَفِينَةٍ - أَوْ نَعَامَةٍ جَاثِمَةٍ.

وفِي رِوَايَةٍ كَجُؤْجُؤِ طَيْرٍ فِي لُجَّةِ بَحْرٍ.

(۱۳)

آپ کا ارشاد گرامی

جس میں جنگ جمل کے بعد اہل بصرہ کی مذمت فرمائی ہے

افسوس تم لوگ ایک عورت کے سپاہی اور ایک جانورکے پیچھے چلنے والے تھے جس نے بلبلانا شروع کیا تو تم لبیک(۱) کہنے لگے اور وہ زخمی ہوگیا تو تم بھاگ کھڑے ہوئے۔تمہارے اخلاقیات پست۔تمہارا عہد نا قابل اعتبار۔تمہارا دین نفاق اور تمہارا پانی شور ہے۔تمہارے درمیان قیام کرنے والا گویا گناہوں کے ہاتھوں رہن ہے اور تم سے نکل جانے والا گویا رحمت پروردگار کو حاصل کر لینے والا ہے۔میں تمہاری اس مسجد کو اس عالم میں دیکھ رہا ہوں جیسے کشتی کا سینہ۔جب خدا تمہاری زمین پر اوپر اور نیچے ہر طرف سے عذاب بھیجے گا اور سارے اہل شہر غرق ہو جائیں گے۔

(دوسری روایت میں ہے)

خدا کی قسم تمہارا شہر غرق ہونے والا ہے۔یہاں تک کہ گویا میں اس کی مسجد کو ایک کشتی کے سینہ کی طرح یا ایک بیٹھے ہوئے شتر مرغ کی شکل میں دیکھ رہا ہوں

(تیسری روایت میں )

جیسے پرندہ کا سینہ سمندر کی گہرائیوں میں۔

(۱)اہل بصرہ کا برتائو امیر المومنین کے ساتھ تاریخ کا ہر طالب علم جانتا ہے اور جنگ جمل اس کا بہترین ثبوت ہے لیکن امیر المومنین کے برتائو کے بارے میں ڈاکٹر طہ حسین کا بیان ہے کہ'' آپ نے ایک کریم انسان کا برتائو کیا اور بیت المال دوست اور دشمن دونوں کے مستحقین میں تقسیم کردیا ۔اور زخمیوں پرحملہ نہیں کیا'' اور حد یہ ہے کہ قیدیوں کو کنیز نہیں بنایا بلکہ نہایت احترام کے ساتھ مدینہ واپس کردیا۔

۳۱

وفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى بِلَادُكُمْ أَنْتَنُ بِلَادِ اللَّه تُرْبَةً - أَقْرَبُهَا مِنَ الْمَاءِ وأَبْعَدُهَا مِنَ السَّمَاءِ - وبِهَا تِسْعَةُ أَعْشَارِ الشَّرِّ - الْمُحْتَبَسُ فِيهَا بِذَنْبِه والْخَارِجُ بِعَفْوِ اللَّه - كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى قَرْيَتِكُمْ هَذِه قَدْ طَبَّقَهَا الْمَاءُ حَتَّى مَا يُرَى مِنْهَا إِلَّا شُرَفُ الْمَسْجِدِ كَأَنَّه جُؤْجُؤُ طَيْرٍ فِي لُجَّةِ بَحْرٍ!

(۱۴)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في مثل ذلك

أَرْضُكُمْ قَرِيبَةٌ مِنَ الْمَاءِ بَعِيدَةٌ مِنَ السَّمَاءِ - خَفَّتْ عُقُولُكُمْ وسَفِهَتْ حُلُومُكُمْ فَأَنْتُمْ غَرَضٌ لِنَابِلٍ وأُكْلَةٌ لِآكِلٍ وفَرِيسَةٌ لِصَائِلٍ.

ایک روایت میں آپ کا یہ ارشاد وارد ہوا ہے۔ تمہاراشہر خاک کے اعتبارسے سب سے زیادہ بدبودار ہے کہ پانی سے سب سے زیادہ قریب ہے اور آسمان سے سب سے زیادہ دور ہے۔اس میں شر کے دس حصوں میں سے نو حصے پائے جاتے ہیں۔اس میں مقیم گناہوں کے ہاتھ گرفتار ہے۔اوراس سے نکل جانے والا عفو الٰہی میں داخل ہوگیا۔گویا میں تمہاری اس بستی کو دیکھ رہا ہوں کہ پانی نے اسے اس طرح ڈھانپ لیا ہے کہ مسجد کے کنگروں کے علاوہ کچھ نظرنہیں آرہا ہے اوروہ کنگرے بھی جس طرح پانی کی گہرائی میں پرندہ کاسینہ۔

(۱۴)

آپ کا ارشاد گرامی

(ایسے ہی ایک موقع پر)

تمہاری زمین پانی سے قریب تر اور آسمان سے دور ہے۔تمہاری عقلیں ہلکی اورتمہاری دانائی احمقانہ(۱) ہے تم ہر تیر انداز کا نشانہ' ہر بھوکے کا لقمہ اور ہر شکاری کا شکار ہو۔

(۱) اس سے زیادہ حماقت کیا ہو سکتی ہے کہ کل جس زبان سے قتل عثمان کا فتویٰ سنا تھاآج اسی سے انتقام خون عثمان کی فریاد سن رہے ہیں اور پھربھی اعتبار کر رہے ہیں۔اس کے بعد ایک اونٹ کی حفاظت پر ہزاروں جانیں قربان کر رہے ہیں اور سرکار دو عالم (ص) کے اس ارشاد گرامی کا احساس تک نہیں ہے کہ میری ازواج میں سے کسی ایک کی سواری کو دیکھ کرحواب کے کتے بھونکیں گے اور وہ عائشہ ہی ہو سکتی ہیں۔

۳۲

(۱۵)

ومن كلام لهعليه‌السلام

فيما رده على المسلمين من قطائع عثمان

واللَّه لَوْ وَجَدْتُه قَدْ تُزُوِّجَ بِه النِّسَاءُ ومُلِكَ بِه الإِمَاءُ لَرَدَدْتُه - فَإِنَّ فِي الْعَدْلِ سَعَةً - ومَنْ ضَاقَ عَلَيْه الْعَدْلُ فَالْجَوْرُ عَلَيْه أَضْيَقُ!

(۱۶)

ومن كلام لهعليه‌السلام

لما بويع في المدينة وفيها يخبر الناس بعلمه بما تئول إليه أحوالهم وفيها يقسمهم إلى أقسام

(۱۵)

آپ کے کلام کا ایک حصہ

اس موضوع سے متعلق کہ آپ نے عثمان کی جاگیروں کو مسلمانوں کو واپس دے دیا

خدا کی قسم اگر میں کسی(۱) مال کو اس حالت میں پاتا کہ اسے عورت کا مہر بنادیا گیا ہے یا کنیز کی قیمت کے طور پر دیدیا گیا ہے تو بھی اسے واپس کرادیتا اس لئے کہ انصاف میں بڑی وسعت پائی جاتی ہے اور جس کے لئے انصاف میں تنگی ہو اس کے لئے ظلم میں تو اوربھی تنگی ہوگی۔

(۱۶)

آپ کے کلام کا ایک حصہ

(اس وقت جب آپ کی مدینہ میں بیعت کی گئی اور آپ نے لوگوں کو بیعت کے مستقبل سے آگاہ کرتے ہوئے ان کی قسمیں بیان فرمائی)

(۱) تاریخ کا مسلمہ ہے کہ امیر المومنین جب بیت المال میں داخل ہوتے تھے تو سوئی دھاگہ اور روٹی کے ٹکڑے تک تقسیم کردیا کرتے تھے اور اس کے بعد جھاڑو دے کردورکعت نمازادا کرتے تھے تاکہ یہ زمین روز قیامت علی کے عدل و انصاف کی گواہی دے اور اس بنیاد پرآپ نے عثمان کی عطا کردہ جاگیروں کو واپسی کا حکم دیدیا اور صدقہ کے اونٹ عثمان کے گھر سے واپس منگوالئے کہ عثمان کسی قیمت پرزکوٰة کے مستحق نہیں تھے۔

اگرچہ بعض ہوا خواہان بنی امیہ نے یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ یہ انتہائی بے رحمانہ برتائو تھا جہاں یتیموں پررحم نہیں کیا گیا اور ان کے قبضہ سے مال لے لیا گیا۔لیکن اس کا جواب بالکل واضح ہے کہ ظلم اور شقاوت کا مظاہرہ اس نے کیا ہے جس نے غرباء و مساکین کا حق اپنے گھر میں جمع کرلیا ہے اور مال مسلمین پر قبضہ کرلیا ہے۔پھر یہ کوئی نیا حادثہ بھی نہیں ہے۔کل پہلی خلافت میں یتیمہ رسول اکرم (ص) پر کب رحم کیا گیا تھا جو واقعاً فدک کی حقدار تھی اور اس کے بابا نے اسے یہ جاگیر حکم خدا سے عطا کردی تھی۔اولاد عثمان تو حقدار بھی نہیں ہے اور کیا اولاد عثمان کامرتبہ اولاد رسول (ص) سے بلند تر ہے یا ہر دور کے لئے ایک نئی شریعت مرتب کی جاتی ہے اور اس کا محور سرکاری مصالح اورجماعتی فوائد ہی ہوتے ہیں ؟

۳۳

ذِمَّتِي بِمَا أَقُولُ رَهِينَةٌ( وأَنَا بِه زَعِيمٌ ) إِنَّ مَنْ صَرَّحَتْ لَه الْعِبَرُ عَمَّا بَيْنَ يَدَيْه مِنَ الْمَثُلَاتِ حَجَزَتْه التَّقْوَى عَنْ تَقَحُّمِ الشُّبُهَاتِ أَلَا وإِنَّ بَلِيَّتَكُمْ قَدْ عَادَتْ كَهَيْئَتِهَا يَوْمَ بَعَثَ اللَّه نَبِيَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله والَّذِي بَعَثَه بِالْحَقِّ لَتُبَلْبَلُنَّ بَلْبَلَةً ولَتُغَرْبَلُنَّ غَرْبَلَةً ولَتُسَاطُنَّ سَوْطَ الْقِدْرِ حَتَّى يَعُودَ أَسْفَلُكُمْ أَعْلَاكُمْ وأَعْلَاكُمْ أَسْفَلَكُمْ - ولَيَسْبِقَنَّ سَابِقُونَ كَانُوا قَصَّرُوا - ولَيُقَصِّرَنَّ سَبَّاقُونَ كَانُوا سَبَقُوا - واللَّه مَا كَتَمْتُ وَشْمَةً ولَا كَذَبْتُ كِذْبَةً - ولَقَدْ نُبِّئْتُ بِهَذَا الْمَقَامِ وهَذَا الْيَوْمِ - أَلَا وإِنَّ الْخَطَايَا خَيْلٌ شُمُسٌ حُمِلَ عَلَيْهَا أَهْلُهَا - وخُلِعَتْ لُجُمُهَا فَتَقَحَّمَتْ بِهِمْ فِي النَّارِ - أَلَا وإِنَّ التَّقْوَى مَطَايَا ذُلُلٌ حُمِلَ عَلَيْهَا أَهْلُهَا،

وأُعْطُوا أَزِمَّتَهَا فَأَوْرَدَتْهُمُ الْجَنَّةَ - حَقٌّ وبَاطِلٌ ولِكُلٍّ أَهْلٌ - فَلَئِنْ أَمِرَ الْبَاطِلُ لَقَدِيماً فَعَلَ - ولَئِنْ قَلَّ الْحَقُّ فَلَرُبَّمَا

میں اپنے قول کا خود ذمہ دار اور اس کی صحت کا ضامن ہوں اور جس شخص پر گذشتہ اقوام کی سزائوں نے عبرتوں کو واضح کردیا ہو اسے تقوی شبہات میں داخل ہونے سے یقینا روک دے گا۔ آگاہ ہو جائو آج تمہارے لئے وہ آزمائشی دور پلٹ آیا ہے جو اس وقت تھا جب پروردگار نے اپنے رسول (ص) کوبھیجا تھا۔قسم ہے اس پروردگار کی جس نے آپ(ص) کو حق کے ساتھ مبعوث کیا تھا کہ تم سختی کے ساتھ تہ و بالا کئے جائو گے تمہیں باقاعدہ چھانا جائے گا اور دیگ کی طرح چمچے الٹ پلٹ کیا جائے گا یہاں تک کہ اسفل اعلیٰ ہو جائے اوراعلیٰ اسفل بن جائے اور جو پیچھے رہ گئے ہیں وہ آگے بڑھ جائیں اور جوآگے بڑھ گئے ہیں وہ پیچھے آجائیں۔خدا گواہ ہے کہ میں نے نہ کسی کلمہ کو چھپایا ہے اورنہ کوئی غلط بیانی کی ہے اور مجھے اس منزل اور اس دن کی پہلے ہی خبردے دی گئی تھی۔

یاد رکھو کہ خطائیں وہ سر کش سواریاں ہیں جن پر اہل خطا کو سوار کردیا جائے اور ان کی لگام کو ڈھیلا چھوڑ دیا جائے اور وہ سوار کو لے کرجہنم میں پھاند پڑیں اورتقوی ان رام کی ہوئی سواریوں کے مانند ہے جن پر لوگ سوار کیے جائیں اور ان کی لگام ان کے ہاتھوں میں دے دی جائے تو وہ اپنے سواروں کو جنت تک پہنچادیں۔

دنیا میں حق و باطل دونوں ہیں اور دونوں کے اہل بھی ہیں۔اب اگر باطل زیادہ ہوگیا ہے تو یہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے اور اگر حق کم ہوگیا ہے تو یہ بھی ہوتا رہا ہے

۳۴

ولَعَلَّ ولَقَلَّمَا أَدْبَرَ شَيْءٌ فَأَقْبَلَ!

قال السيد الشريف وأقول إن في هذا الكلام الأدنى من مواقع الإحسان ما لا تبلغه مواقع الاستحسان وإن حظ العجب منه أكثر من حظ العجب به وفيه مع الحال التي وصفنا زوائد من الفصاحة لا يقوم بها لسان ولا يطلع فجها إنسان ولا يعرف ما أقول إلا من ضرب في هذه الصناعة بحق وجرى فيها على عرق( وما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ ) .

ومن هذه الخطبة وفيها يقسم الناس إلى ثلاثة أصناف

شُغِلَ مَنِ الْجَنَّةُ والنَّارُ أَمَامَه - سَاعٍ سَرِيعٌ نَجَا وطَالِبٌ بَطِيءٌ رَجَا ومُقَصِّرٌ فِي النَّارِ هَوَى الْيَمِينُ والشِّمَالُ مَضَلَّةٌ والطَّرِيقُ الْوُسْطَى هِيَ الْجَادَّةُ عَلَيْهَا بَاقِي الْكِتَابِ وآثَارُ النُّبُوَّةِ - ومِنْهَا مَنْفَذُ السُّنَّةِ

اور اس کے خلاف بھی ہو سکتا ہے۔اگرچہ ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ کوئی شے پیچھے ہٹ جانے کے بعد دوبارہ منظر عام پرآجائے ۔

سیدرضی : اس مختصر سے کلام میں اس قدر خوبیاں پائی جاتی ہیں جہاں تک کسی کی داد و تعریف نہیں پہنچ سکتی ہے اور اس میں حیرت و استعجاب کا حصہ پسندیدگی کی مقدار سے کہیں زیادہ ہے۔اس میں فصاحت کے وہ پہلو بھی ہیں جن کو کوئی زبان بیان نہیں کر سکتی ہے اور ان کی گہرائیوں کا کوئی انسان ادراک نہیں کر سکتا ہے۔اور اس حقیقت کو وہی انسان سمجھ سکتا ہے جس نے فن بلاغت کا حق ادا کیا ہو اور اس کے رگ و ریشہ سے با خبر ہو۔ اور ان حقائق کو اہل علم کے علاوہ کوئی نہیں سمجھ سکتا ہے۔

اسی خطبہ کا ایک حصہ جس میں لوگوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے

وہ شخص کسی طرف دیکھنے کی فرصت نہیں رکھتا جس کی نگاہ میں جنت و جہنم کا نقشہ ہو۔ تیز رفتاری سے کام کرنے والا نجات پا لیتا ہے اور سست رفتاری سے کام کرکے جنت کی طلب گاری کرنے والا بھی امید وار رہتا ہے لیکن کوتاہی کرنے والا جہنم میں گر پڑتا ہے۔دائیں بائیں گمراہیوں کی منزلیں ہیں اور سیدھا راستہ صرف درمیانی راستہ ہے۔ای راستہ پر رہ جانے والی کتاب خدا اور نبوت کے آثار ہیں اور اسی سے شریعت کا نفاذ ہوتا ہے

۳۵

وإِلَيْهَا مَصِيرُ الْعَاقِبَةِ هَلَكَ مَنِ ادَّعَى و( خابَ مَنِ افْتَرى ) مَنْ أَبْدَى صَفْحَتَه لِلْحَقِّ هَلَكَ وكَفَى بِالْمَرْءِ جَهْلًا أَلَّا يَعْرِفَ قَدْرَه لَا يَهْلِكُ عَلَى التَّقْوَى سِنْخُ أَصْلٍ ولَا يَظْمَأُ عَلَيْهَا زَرْعُ قَوْمٍ - فَاسْتَتِرُوا فِي بُيُوتِكُمْ( وأَصْلِحُوا ذاتَ بَيْنِكُمْ ) - والتَّوْبَةُ مِنْ وَرَائِكُمْ ولَا يَحْمَدْ حَامِدٌ إِلَّا رَبَّه ولَا يَلُمْ لَائِمٌ إِلَّا نَفْسَه.

اور اسی کی طرف عاقبت کی بازگشت ہے۔غلط ادعا کرنے والا ہلاک ہوا اور افترا کرنے والا ناکام ونامرادہوا۔جس نے حق کے مقابلہ میں سر نکالا وہ ہلاک ہوگیا اور انسان کی جہالت(۱) کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اسے اپنی ذات کا بھی عرفان نہ ہو۔ جو بنیاد تقوی پرقائم ہوتی ہے اس میں ہلاکت نہیں ہوتی ہے اوراس کے ہوتے ہوئے کسی قوم کی کھیتی پیاس سے برباد نہیں ہوتی ہے۔اب تم اپنے گھروں میں چھپ کر بیٹھ جائو اور اپنے باہمی امور کی اصلاح کرو۔توبہ تمہارے سامنے ہے۔ تعریف کرنے والے کافرض ہے کہ اپنے رب کی تعریف کرے اور ملامت کرنے والے کو چاہیے کہ اپنے نفس کی ملامت کرے۔

(۱)مالک کائنات نے انسان کو بے پناہ صلاحیتوں کا مالک بنایا ہے اور اس کی فطرت میں خیروشر کا سارا عرفان ودیعت کردیا ہے لیکن انسان کی بد قسمتی یہ ہے کہ وہ ان صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھاتا ہے اور ہمیشہ اپنے کو بیچارہ ہی سمجھتا ہے جو جہالت کی بد ترین منزل ہے کہ انسان کو اپنی ہی قدرو قیمت کا اندازہ نہ ہوسکے۔ کسی شاعرنے کیا خوب کہا ہے:

اپنی ہی ذات کا انسان کو عرفان نہ ہوا

خاک پھر خاک تھی اوقات سے آگے نہ بڑھی

۳۶

(۱۷)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في صفة من يتصدى للحكم بين الأمة وليس لذلك بأهل وفيها: أبغض الخلائق إلى اللَّه صنفان

الصنف الأول: إنَّ أَبْغَضَ الْخَلَائِقِ إِلَى اللَّه رَجُلَانِ - رَجُلٌ وَكَلَه اللَّه إِلَى نَفْسِه فَهُوَ جَائِرٌ عَنْ قَصْدِ السَّبِيلِ مَشْغُوفٌ بِكَلَامِ بِدْعَةٍ ودُعَاءِ ضَلَالَةٍ - فَهُوَ فِتْنَةٌ لِمَنِ افْتَتَنَ بِه ضَالٌّ عَنْ هَدْيِ مَنْ كَانَ قَبْلَه - مُضِلٌّ لِمَنِ اقْتَدَى بِه فِي حَيَاتِه وبَعْدَ وَفَاتِه - حَمَّالٌ خَطَايَا غَيْرِه رَهْنٌ بِخَطِيئَتِه.

(۱۷)

(ان نا اہلوں کے بارے میں جوصلاحیت کے بغیر فیصلہ کا کام شروع کر دیتے ہیں اور اسی ذیل میں دوبد ترین اقسام مخلوقات کا ذکربھی ہے)

قسم اول: یاد رکھو کہ پروردگار کی نگاہ میں بد ترین خلائق دو طرح کے افراد ہیں۔وہ شخص جسے پروردگار نے اسی کے رحم و کرم(۱) پرچھوڑدیا ہے اور وہ درمیانی راستہ سے ہٹ گیا ہے۔صرف بدعت کا دلدادہ ہے اور گمراہی کی دعوت پر فریفتہ ہے۔یہ دوسرے افراد کے لئے ایک مستقل فتنہ ہے اور سابق افراد کی ہدایت سے بہکا ہوا ہے۔اپنے پیروکاروں کوگمراہ کرنے والا ہے زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی یہ دوسروں کی غلطیوں کا بھی بوجھ اٹھانے والا ہے اور ان کی خطائوں میں بھی گرفتار ہے۔

(۱)جاہل انسانوں کی ہمیشہ یہ خواہش ہوتی ہے کہ پروردگار انہیں ان کے حال پر چھوڑ دے اوروہ جو چاہیں کریں کسی طرح کی کوئی پابندی نہ ہو حالانکہ در حقیقت یہ بد ترین عذاب الٰہی ہے۔انسان کی فلاح و بہبود اسی میں ہے کہ مالک اسے اپنے رحم و کرم کے سایہ میں رکھے ورنہ گر اس سے توفیقات کوسلب کرکے اس کے حال پر چھوڑ دیا تو وہ لمحوں میں فرعون' قارون' نمرود' یزید' حجاج اور متوکل بن سکتا ہے۔اگرچہ اسے احساس یہی رہے گا کہ اس نے کائنات کا اقتدار حاصل کرلیا ہے اور پروردگار اس کے حال پر بہت زیادہ مہربان ہے۔

۳۷

الصنف الثاني: ورَجُلٌ قَمَشَ جَهْلًا مُوضِعٌ فِي جُهَّالِ الأُمَّةِ عَادٍ فِي أَغْبَاشِ الْفِتْنَةِ عَمٍ بِمَا فِي عَقْدِ الْهُدْنَةِ قَدْ سَمَّاه أَشْبَاه النَّاسِ عَالِماً ولَيْسَ بِه بَكَّرَ فَاسْتَكْثَرَ مِنْ جَمْعٍ مَا قَلَّ مِنْه خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ حَتَّى إِذَا ارْتَوَى مِنْ مَاءٍ آجِنٍ واكْتَثَرَ مِنْ غَيْرِ طَائِلٍجَلَسَ بَيْنَ النَّاسِ قَاضِياً ضَامِناً لِتَخْلِيصِ مَا الْتَبَسَ عَلَى غَيْرِه فَإِنْ نَزَلَتْ بِه إِحْدَى الْمُبْهَمَاتِ هَيَّأَ لَهَا حَشْواً رَثًّا مِنْ رَأْيِه ثُمَّ قَطَعَ بِه فَهُوَ مِنْ لَبْسِ الشُّبُهَاتِ فِي مِثْلِ نَسْجِ الْعَنْكَبُوتِ - لَا يَدْرِي أَصَابَ أَمْ أَخْطَأَ - فَإِنْ أَصَابَ خَافَ أَنْ يَكُونَ قَدْ أَخْطَأَ وإِنْ أَخْطَأَ رَجَا أَنْ يَكُونَ قَدْ أَصَابَ جَاهِلٌ خَبَّاطُ جَهَالَاتٍ عَاشٍ رَكَّابُ عَشَوَاتٍ لَمْ يَعَضَّ عَلَى الْعِلْمِ بِضِرْسٍ قَاطِعٍ -

قسم دوم: وہ شخص جس نے جہالتوں(۱) کو سمیٹ لیا ہے اور انہیں کے سہارے جاہلوں کے درمیان دوڑ لگا رہا ہے۔فتنوں کی تاریکیوں میں دوڑ رہا ہے اور امن و صلح کے فوائدسے یکسر غافل ہے۔انسان نما لوگوں نے اسکا نام عالم رکھ دیا ہے حالانکہ اس کا علم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔صبح سویرے ان باتوں کی تلاش میں نکل پڑتا ہے جن کا قلیل ان کے کثیر سے بہتر ہے۔یہاں تک کہ جب گندہ پانی سے سیراب ہو جاتا ہے اور مہمل اوربے فائدہ باتوں کو جمع کرلیتا ہے تو لوگوں کے درمیان قاضی بن کر بیٹھ جاتا ہے اوراس امر کی ذمہ داری لے لیتا ہے کہ جو امور دوسرے لوگوں پر مشتبہ ہیں وہ انہیں صاف کردیگا۔اس کے بعد جب کو ئی مبہم مسئلہ آجاتا ہے تو اس کے لئے بے سود اورفرسودہ دلائل کو اکٹھا کرتا ہے اور انہیں سے فیصلہ کر دیتا ہے۔یہ شبہات میں اسی طرح گرفتار ہے جس طرح مکڑی اپنے جالے میں پھنس جاتی ہے۔اسے یہ بھی نہیں معلوم ہے کہ صحیح فیصلہ کیا ہے یا غلط۔اگر صحیح کیا ہے تو بھی ڈرتا ہے کہ شائد غلط ہو۔اور اگر غلط کیا ہے تو بھی یہ امید رکھتا ہے کہ شائد صحیح ہو ۔ ایسا جاہل ہے جو جہالتوں میں بھٹک رہا ہے اور ایسا اندھا ہے جو اندھیروں کی سواری پر سوار ہو۔نہ علم میں کوئی حتمی بات سمجھا ہے

(۱) قاضیوں کی یہ قسم ہر دورمیں رہی ہے اور ہر علاقہ میں پائی جاتی ہے۔بعض لوگ گائوں یا شہر میں اسی بات کواپنا امتیاز تصورکرتے ہیںکہ انہیں فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے اگرچہ ان می کسی قسم کی صلاحیت نہیں ہے۔ یہی وہ قسم ہے جس نے دین خدا کو تباہ اورخلق خدا کو گمراہ کیا ہے اور یہی قسم شریح سے شروع ہو کر ان افراد تک پہنچ گئی ہے جو دوسروں کے مسائل کو باآسانی طے کردیتے ہیں اور اپنے مسئلہ میں کسی طرح کے فیصلہ سے راضی نہیں ہوتے ہیں اور نہ کسی کی رائے کو سننے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔

۳۸

يَذْرُو الرِّوَايَاتِ ذَرْوَ الرِّيحِ الْهَشِيمَ لَا مَلِيٌّ واللَّه بِإِصْدَارِ مَا وَرَدَ عَلَيْه - ولَا أَهْلٌ لِمَا قُرِّظَ بِه لَا يَحْسَبُ الْعِلْمَ فِي شَيْءٍ مِمَّا أَنْكَرَه - ولَا يَرَى أَنَّ مِنْ وَرَاءِ مَا بَلَغَ مَذْهَباً لِغَيْرِه - وإِنْ أَظْلَمَ عَلَيْه أَمْرٌ اكْتَتَمَ بِه لِمَا يَعْلَمُ مِنْ جَهْلِ نَفْسِه - تَصْرُخُ مِنْ جَوْرِ قَضَائِه الدِّمَاءُ - وتَعَجُّ مِنْه الْمَوَارِيثُ إِلَى اللَّه أَشْكُو - مِنْ مَعْشَرٍ يَعِيشُونَ جُهَّالًا ويَمُوتُونَ ضُلَّالًا - لَيْسَ فِيهِمْ سِلْعَةٌ أَبْوَرُ مِنَ الْكِتَابِ إِذَا تُلِيَ حَقَّ تِلَاوَتِه - ولَا سِلْعَةٌ أَنْفَقُ بَيْعاً - ولَا أَغْلَى ثَمَناً مِنَ الْكِتَابِ إِذَا حُرِّفَ عَنْ مَوَاضِعِه - ولَا عِنْدَهُمْ أَنْكَرُ مِنَ الْمَعْرُوفِ ولَا أَعْرَفُ مِنَ الْمُنْكَرِ!

(۱۸)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في ذم اختلاف العلماء في الفتيا

وفيه يذم أهل الرأي ويكل أمر الحكم في أمور الدين للقرآن

اورنہ کسی حققت کو پرکھا ہے۔روایات کو یوں اڑا دیتا ہے جس طرح تیز ہوا تنکوں کو اڑا دیتی ہے۔خدا گواہ ہے کہ یہ ان فیصلوں کے صادر کرنے کے قابل نہیں ہے جو اس پر وار د ہوتے ہیں اور اس کام کا اہل نہیں ہے جو اس کے حوالہ کیا گیا ہے۔جس چیز کوناقابل توجہ سمجھتا ہے اس میں علم کا احتمال بھی نہیں دیتاہے اوراپنی پہنچ کے ماوراء کسی اور رائے کا تر بھی نہیں کرتا ہے۔اگر کوئی مسئلہ واضح نہیں ہوتا ہے تواسے چھپا دیتا ہے کہ اسے اپنی جہالت کا علم ہے۔ناحق بہائے ہوئے خون اس کے فیصلوں کے ظلم سے فریادی اور غلط تقسیم کی ہوئی میراث چلا رہی ہے۔میں خدا کی بارگاہ میں فریاد کرتا ہوں ایسے گروہ کی جو زندہ رہتے ہیں تو جہالت کے ساتھ اور مر جاتے ہیں تو ضلالت کے ساتھ۔ان کے نزدیک کوئی متاع کتاب خدا سے زیادہ بے قیمت نہیں ہے اگر اس کی واقعی تلاوت کی جائے اور کوئی متاع اس کتاب سے زیادہ قیمتی اورفائدہ مند نہیں ہے اگر اس کے مفاہیم میں تحریف کردی جائے۔ ان کے لئے معروف سے زیادہ منکر کچھ نہیں ہے اور منکر سے زیادہ معروف کچھ نہیں ہے۔

(۱۸)

آپ کا ارشاد گرامی

(علماء کے درمیان اختلاف فتویٰ کے بارے میں اور اسی میں اہل رائے کی مذمت اور قرآن کی مرجعت کا ذکر کیا گیا ہے)

۳۹

ذم أهل الرأي

تَرِدُ عَلَى أَحَدِهِمُ الْقَضِيَّةُ فِي حُكْمٍ مِنَ الأَحْكَامِ فَيَحْكُمُ فِيهَا بِرَأْيِه ثُمَّ تَرِدُ تِلْكَ الْقَضِيَّةُ بِعَيْنِهَا عَلَى غَيْرِه فَيَحْكُمُ فِيهَا بِخِلَافِ قَوْلِه ثُمَّ يَجْتَمِعُ الْقُضَاةُ بِذَلِكَ عِنْدَ الإِمَامِ الَّذِي اسْتَقْضَاهُمْ فَيُصَوِّبُ آرَاءَهُمْ جَمِيعاً وإِلَهُهُمْ وَاحِدٌ ونَبِيُّهُمْ وَاحِدٌ وكِتَابُهُمْ وَاحِدٌ!

أَفَأَمَرَهُمُ اللَّه سُبْحَانَه بِالِاخْتِلَافِ فَأَطَاعُوه - أَمْ نَهَاهُمْ عَنْه فَعَصَوْه!

الحكم للقرآن

أَمْ أَنْزَلَ اللَّه سُبْحَانَه دِيناً نَاقِصاً - فَاسْتَعَانَ بِهِمْ عَلَى إِتْمَامِه أَمْ كَانُوا شُرَكَاءَ لَه فَلَهُمْ أَنْ يَقُولُوا وعَلَيْه أَنْ يَرْضَى أَمْ أَنْزَلَ اللَّه سُبْحَانَه دِيناً تَامّاً فَقَصَّرَ الرَّسُولُصلى‌الله‌عليه‌وآله عَنْ تَبْلِيغِه وأَدَائِه - واللَّه سُبْحَانَه يَقُولُ:( ما فَرَّطْنا فِي الْكِتابِ مِنْ شَيْءٍ ) وفِيه تِبْيَانٌ لِكُلِّ شَيْءٍ وذَكَرَ أَنَّ الْكِتَابَ يُصَدِّقُ بَعْضُه بَعْضاً وأَنَّه لَا اخْتِلَافَ فِيه فَقَالَ سُبْحَانَه:( ولَوْ كانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ الله لَوَجَدُوا فِيه اخْتِلافاً كَثِيراً ) وإِنَّ الْقُرْآنَ

مذمت اہل رائے:

ان لوگوں کا عالم یہ ہے کہ ایک شخص کے پاس کسی مسئلہ کا فیصلہ آتا ہے تو وہ اپنی رائے سے فیصلہ کر دیتا ہے اور پھر یہی قضیہ بعینہ دوسرے کے پاس جاتا ہے تو وہ اس کے خلاف فیصلہ کر دیتا ہے۔اس کے بعد تمام قضاة اس حاکم کے پاس جمع ہوتے ہیں جس نے انہیں قاضی بنایا ہے تو وہ سب کی رائے کی تائید کر دیتا ہے جب کہ سب کا خدا ایک' نبی ایک اور کتاب ایک ہے۔تو کیا خدا(۱) ہی نے انہیں اختلاف کا حکم دیا ہے اور یہ اس کی اطاعت کر رہے ہیں یا اس نے انہیں اختلاف سے منع کیا ہے مگر پھربھی اس کی مخالفت کر رہے ہیں ؟ یا خدا نے دین ناقص نازل کیا ہے اوران سے اس کی تکمیل کے لئے مدد مانگی ہے یا یہ سبخود اس کی خدائی ہی میں شریک ہیں اور انہیں یہ حق حاصل ہے کہ یہ بات کہیں اور خدا کا فرض ہے کہ وہ قبول کرے یاخدانے دین کامل نازل کیا تھا اور رسول اکرم (ص)نے اس کی تبلیغ اور ادائیگی میں کوتاہی کردی ہے جب کہ اس کا اعلان ہے کہ ہم نے کتاب میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کی ہے اور اس میں ہر شے کا بیان موجود ہے۔اور یہ بھی بتا دیا ہے کہ اس کا ایک حصہ دوسرے کی تصدیق کرت ہے اور اس میں کسی طرح کا اختلاف نہیں ہے۔ یہ قرآن غیر خدا کی طرف سے ہوتا تو اس میں بے پناہ اختلاف ہوتا۔ یہ قرآن وہ ہے ۔

(۱)یاد رہے کہ امیر المومنین نے مسئلہ کے تمام احتمالات کا سدباب کردیا ہے اور اب کسی رائے پرست انسان کے لئے فرار کرنے کا کوئیراستہ نہیں ہے اور اسے مذہب میں رائے اور قیاس کو استعمال کرنے کے لئے ایک نہایک مہمل بنیاد کواختیارکرناپڑے گا۔اس کے بغیر رائے اورقیاس کا کوئی جواز نہیں ہے۔

۴۰

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417

418

419

420

421

422

423

424

425

426

427

428

429

430

431

432

433

434

435

436

437

438

439

440

441

442

443

444

445

446

447

448

449

450

451

452

453

454

455

456

457

458

459

460

461

462

463

464

465

466

467

468

469

470

471

472

473

474

475

476

477

478

479

480

481

482

483

484

485

486

487

488

489

490

491

492

493

494

495

496

497

498

499

500

501

502

503

504

505

506

507

508

509

510

511

512

513

514

515

516

517

518

519

520

521

522

523

524

525

526

527

528

529

530

531

532

533

534

535

536

537

538

539

540

541

542

543

544

545

546

547

548

549

550

551

552

553

554

555

556

557

558

559

560

561

562

563

564

565

566

567

568

569

570

571

572

573

574

575

576

577

578

579

580

581

582

583

584

585

586

587

588

589

590

591

592

593

594

595

596

597

598

599

600

601

602

603

604

605

606

607

608

609

610

611

612

613

614

615

616

617

618

619

620

621

622

623

624

625

626

627

628

629

630

631

632

633

634

635

636

637

638

639

640

641

642

643

644

645

646

647

648

649

650

651

652

653

654

655

656

657

658

659

660

661

662

663

664

665

666

667

668

669

670

671

672

673

674

675

676

677

678

679

680

681

682

683

684

685

686

687

688

689

690

691

692

693

694

695

696

697

698

699

700

701

702

703

704

705

706

707

708

709

710

711

712

713

714

715

716

717

718

719

720

721

722

723

724

725

726

727

728

729

730

731

732

733

734

735

736

737

738

739

740

741

742

743

744

745

746

747

748

749

750

751

752

753

754

755

756

757

758

759

760

761

762

763

764

765

766

767

768

769

770

771

772

773

774

775

776

777

778

779

780

781

782

783

784

785

786

787

788

789

790

791

792

793

794

795

796

797

798

799

800

801

802

803

804

805

806

807

808

809

810

811

812

813

814

815

816

817

818

819

820

821

822

823

824

825

826

827

828

829

830

831

832

833

834

835

836

837

838

839

840

841

842

843

844

845

846

847

848

849

850

851

852

853

854

855

856

857

858

859

860

861

862

863