نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)4%

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ) مؤلف:
: علامہ السید ذیشان حیدر جوادی قدس سرہ
زمرہ جات: متن احادیث
صفحے: 863

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 863 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 656760 / ڈاؤنلوڈ: 15924
سائز سائز سائز
نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

(۱۲۳)

ومن كلام لهعليه‌السلام

قاله لأصحابه في ساحة الحرب - بصفين

وأَيُّ امْرِئٍ مِنْكُمْ أَحَسَّ مِنْ نَفْسِه - رَبَاطَةَ جَأْشٍ عِنْدَ اللِّقَاءِ، ورَأَى مِنْ أَحَدٍ مِنْ إِخْوَانِه فَشَلًا - فَلْيَذُبَّ عَنْ أَخِيه بِفَضْلِ نَجْدَتِه - الَّتِي فُضِّلَ بِهَا عَلَيْه - كَمَا يَذُبُّ عَنْ نَفْسِه - فَلَوْ شَاءَ اللَّه لَجَعَلَه مِثْلَه - إِنَّ الْمَوْتَ طَالِبٌ حَثِيثٌ لَا يَفُوتُه الْمُقِيمُ - ولَا يُعْجِزُه الْهَارِبُ - إِنَّ أَكْرَمَ الْمَوْتِ الْقَتْلُ - والَّذِي نَفْسُ ابْنِ أَبِي طَالِبٍ بِيَدِه - لأَلْفُ ضَرْبَةٍ بِالسَّيْفِ أَهْوَنُ عَلَيَّ - مِنْ مِيتَةٍ عَلَى الْفِرَاشِ فِي غَيْرِ طَاعَةِ اللَّه وكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْكُمْ - تَكِشُّونَ كَشِيشَ الضِّبَابِ - لَا تَأْخُذُونَ حَقّاً ولَا تَمْنَعُونَ ضَيْماً - قَدْ خُلِّيتُمْ والطَّرِيقَ - فَالنَّجَاةُ لِلْمُقْتَحِمِ والْهَلَكَةُ لِلْمُتَلَوِّمِ

(۱۲۳)

آپ کا ارشاد گرامی

(جو صفین کے میدان میں اپنے اصحاب سے فرمایا تھا)

دیکھو ! اگر تم سے کوئی شخص بھی جنگ کے وقت اپنے اندر قوت قلب اور اپنے کسی بھائی میں کمزوری کا احساس کرے تو اس کا فرض ہے کہ اپنے بھائی سے اسی طرح دفاع کرے جس طرح اپنے نفس سے کرتا ہے کہ خدا چاہتا تو اسے بھی ویسا ہی بنا دیتا لیکن اس نے تمہیں ایک خاص فضیلت عطا فرمائی ہے۔

دیکھو!موت ایک تیز رفتار طلب گار ہے جس سے نہ کوئی ٹھہرا ہوا بچ سکتا ہے اور نہ بھاگنے والا بچ نکل سکتا ہے اور بہترین موت شہادت ہے۔قسم ہے اس پروردگار کی جس کے قبضہ قدرت میں فرزند ابو طالب کی جان ہے کہ میرے لئے تلوار کی ہزار ضربیں اطاعت خداسے الگ ہو کر بستر پرمرنے سے بہتر ہیں۔

گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ ویسی ہی آوازیں نکال رہے ہو جیسی سو سماروں کے جسموں کی رگڑ سے پیدا ہوتی ہیں کہ نہ اپناحق حاصل کر رہے ہو اورنہ ذلت کا دفاع کر رہے ہو جب کہ تمہیں راستہ پر کھلاچھوڑ دیا گیا ہے اور نجات اسی کے لئے ہے جو جنگ میں کود پڑے اورہلاکت اسی کے لئے ہے جودیکھتا ہی رہ جائے ۔

۲۲۱

(۱۲۴)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في حث أصحابه على القتال

فَقَدِّمُوا الدَّارِعَ وأَخِّرُوا الْحَاسِرَ - وعَضُّوا عَلَى الأَضْرَاسِ - فَإِنَّه أَنْبَى لِلسُّيُوفِ عَنِ الْهَامِ - والْتَوُوا فِي أَطْرَافِ الرِّمَاحِ فَإِنَّه أَمْوَرُ لِلأَسِنَّةِ - وغُضُّوا الأَبْصَارَ فَإِنَّه أَرْبَطُ لِلْجَأْشِ وأَسْكَنُ لِلْقُلُوبِ - وأَمِيتُوا الأَصْوَاتَ فَإِنَّه أَطْرَدُ لِلْفَشَلِ - ورَايَتَكُمْ فَلَا تُمِيلُوهَا ولَا تُخِلُّوهَا - ولَا تَجْعَلُوهَا إِلَّا بِأَيْدِي شُجْعَانِكُمْ - والْمَانِعِينَ الذِّمَارَ مِنْكُمْ - فَإِنَّ الصَّابِرِينَ عَلَى نُزُولِ الْحَقَائِقِ - هُمُ الَّذِينَ يَحُفُّونَ بِرَايَاتِهِمْ - ويَكْتَنِفُونَهَا حِفَافَيْهَا ووَرَاءَهَا، وأَمَامَهَا - لَا يَتَأَخَّرُونَ عَنْهَا فَيُسْلِمُوهَا - ولَا يَتَقَدَّمُونَ عَلَيْهَا فَيُفْرِدُوهَا أَجْزَأَ امْرُؤٌ قِرْنَه وآسَى أَخَاه بِنَفْسِه - ولَمْ يَكِلْ قِرْنَه إِلَى أَخِيه - فَيَجْتَمِعَ عَلَيْه قِرْنُه وقِرْنُ أَخِيه - وايْمُ اللَّه لَئِنْ فَرَرْتُمْ مِنْ سَيْفِ الْعَاجِلَةِ - لَا تَسْلَمُوا مِنْ سَيْفِ الآخِرَةِ - وأَنْتُمْ لَهَامِيمُ الْعَرَبِ والسَّنَامُ الأَعْظَمُ - إِنَّ فِي الْفِرَارِ مَوْجِدَةَ اللَّه

(۱۲۴)

آپ کا ارشاد گرامی

(اپنے اصحاب کو جنگ پرآمادہ کرتے ہوئے)

زرہ پوش افراد کو آگے بڑھائو اوربے زرہ لوگوں کو پیچھے رکھو۔دانتوں کو بھینچ لو کہ اس سے تلواریں سر سے اچٹ جاتی ہیں اورنیزوں کے اطراف سے پہلوئوں کو بچائے رکھو کہ اس سے نیزوں کے رخ پلٹ جاتے ہیں۔نگاہوں کو نیچا رکھو کہ اس سے قوت قلب میں اضافہ ہوتا ہے اورحوصلے بلند رہتے ہیں۔آوازیں دھیمی رکھو کہ اس سے کمزوری دور ہوتی ہے۔دیکھو اپنے پرچم کا خیال رکھنا۔وہ نہ جھکنے پائے اور نہ اکیلا رہنے پائے اسے صرف بہادر افراد اور عزت کے پاسبانوں کے ہاتھ میں رکھنا کہ مصائب پر صبر کرنے والے ہی پرچموں کے گرد جمع ہوتے ہیں اور داہنے بائیں آگے ' پیچھے ہرطرف سے گھیرا ڈال کر اس کا تحفظ کرتے ہیں۔نہ اس سے پیچھے رہ جاتے ہیں کہ اسے دشمنوں کے حوالے کردیں اورنہ آگے بڑھ جاتے ہیں کہ وہ تنہا رہ جائے۔

دیکھو۔ہرشخص اپنے مقابل کا خود مقابلہ کرے اور اپنے بھائی کابھی ساتھ دے اورخبردار اپنے مقابلہ کو اپنے ساتھی کے حوالہ نہ کردینا کہ اس پر یہ اور اس کا ساتھی دونوں مل کرحملہ کردیں۔

خداکی قسم اگر تم دنیا کی تلوار سے بچ کر بھاگ بھی نکلے تو آخرت کی تلوار سے بچ کر نہیں جاسکتے ہو۔پھر تم تو عرب کے جوانمردوں اور سربلند افراد ہو۔تمہیں معلوم ہے کہ فرار میں خدا کا غضب بھی ہے کو

۲۲۲

والذُّلَّ اللَّازِمَ والْعَارَ الْبَاقِيَ - وإِنَّ الْفَارَّ لَغَيْرُ مَزِيدٍ فِي عُمُرِه - ولَا مَحْجُوزٍ بَيْنَه وبَيْنَ يَوْمِه - مَنِ الرَّائِحُ إِلَى اللَّه كَالظَّمْآنِ يَرِدُ الْمَاءَ - الْجَنَّةُ تَحْتَ أَطْرَافِ الْعَوَالِي - الْيَوْمَ تُبْلَى الأَخْبَارُ - واللَّه لأَنَا أَشْوَقُ إِلَى لِقَائِهِمْ مِنْهُمْ إِلَى دِيَارِهِمْ - اللَّهُمَّ فَإِنْ رَدُّوا الْحَقَّ فَافْضُضْ جَمَاعَتَهُمْ - وشَتِّتْ كَلِمَتَهُمْ وأَبْسِلْهُمْ بِخَطَايَاهُمْ إِنَّهُمْ لَنْ يَزُولُوا عَنْ مَوَاقِفِهِمْ - دُونَ طَعْنٍ دِرَاكٍ يَخْرُجُ مِنْهُمُ النَّسِيمُ - وضَرْبٍ يَفْلِقُ الْهَامَ ويُطِيحُ الْعِظَامَ - ويُنْدِرُ السَّوَاعِدَ والأَقْدَامَ - وحَتَّى يُرْمَوْا بِالْمَنَاسِرِ تَتْبَعُهَا الْمَنَاسِرُ - ويُرْجَمُوا بِالْكَتَائِبِ تَقْفُوهَا الْحَلَائِبُ - وحَتَّى يُجَرَّ بِبِلَادِهِمُ الْخَمِيسُ يَتْلُوه الْخَمِيسُ - وحَتَّى تَدْعَقَ الْخُيُولُ فِي نَوَاحِرِ أَرْضِهِمْ - وبِأَعْنَانِ مَسَارِبِهِمْ ومَسَارِحِهِمْ.

قال السيد الشريف أقول - الدعق الدق أي تدق الخيول بحوافرها أرضهم - ونواحر أرضهم متقابلاتها - ويقال منازل بني فلان تتناحر أي تتقابل.

اور ہمیشہ کی ذلت بھی ہے۔فرار کرنے والا نہ اپنی عمر میں اضافہ کر سکتا ہے اور نہ اپنے وقت کے درمیان حائل ہو سکتا ہے۔کون ہے جو للہ کی طرف یوں جائے جس طرح پیاسا(۱) پانی کی طرف جاتا ہے۔جنت نیزوں کے اطراف کے سایہ میں ہے آج ہر ایک کے حالات کا امتحان ہو جائے گا۔خدا کی قسم مجھے دشمنوں سے جنگ کا اشتیاق اس سے زیادہ ہے جتنا انہیں اپنے گھروں کا اشتیاق ہے۔خدایا: یہ ظالم اگرحق کو رد کردیں توان کی جماعت کو پراگندہ کردے۔ان کے کلمہ کو متحد نہ ہونے دے۔ان کو ان کے کئے کی سزا دیدے کہ یہ اس وقت تک اپنے موقف سے نہ ہٹیں گے جب تک نیزے ان کے جسموں میں نسیم سحر کے راستے نہ بنا دیں اور تلواریں ان کے سروں کو شگافتہ ' ہڈیوں کو چور چور اور ہاتھ پیر کو شکستہ نہ بنادیں اور جب تک ان پر لشکر کے بعد لشکر اورسپاہ کے بعد سپاہ حملہ آور نہ ہو جائیں اور ان کے شہروں پر مسلسل فوجوں کی یلغار نہ ہو اور گھوڑے ان کی زمینوں کو آخرتک روند نہ ڈالیں اور ان کی چراگاہوں اورسبزہ زاروں کو پامال نہ کردیں۔

(۱)حقیقت امر یہ ہے کہ انسان کی زندگی کی ہر تشنگی کا علاج جنت کے علاوہ کہیں نہیں ہے۔یہ دنیا صرف ضروریات کی تکمیل کے لئے بنائی گئی ہے اور بڑے سے بڑے انسان کاحصہ بھی اس کے خواہشات سے کمتر ہے ورنہ سارے روئے زمین پر حکومت کرنے والا بھی اس سے بیشتر کاخواہش مندرہتا ہے اور دامان زمین میں اس سے زیادہ کی وسعت نہیں ہے۔یہ صرف جنت ہے جس کے بارے میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ وہاں ہرخواہش نفس اور لذت نگاہ کی تسکین کا سامان موجود ہے۔اب سوال صف یہ رہ جاتا ہے کہ وہاںتک جانے کاراستہ کیا ہے۔مولائے کائنات نے اپنے ساتھیوں کو اسینکتہ کی طرف متوجہ کیا ہے کہ جنت تلواروں کے سایہ کے نیچے ہے اور اس کا راستہ صرف میدان جہاد ہے لہٰذا میدان جہاد کی طرف اس طرح بڑھو جس طرح پیاسا پانی کی طرف بڑھتا ہے کہ اسی راہ میں ہر جذبہ دل کی تسکین کا سامان پایا جاتا ہے اور پھر دین خدا کی سر بلندی سے بالاتر کوئی شرف بھی نہیں ہے۔

۲۲۳

(۱۲۵)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في التحكيموذلك بعد سماعه لأمر الحكمين

إِنَّا لَمْ نُحَكِّمِ الرِّجَالَ - وإِنَّمَا حَكَّمْنَا الْقُرْآنَ هَذَا الْقُرْآنُ - إِنَّمَا هُوَ خَطٍّ مَسْطُورٌ بَيْنَ الدَّفَّتَيْنِ - لَا يَنْطِقُ بِلِسَانٍ ولَا بُدَّ لَه مِنْ تَرْجُمَانٍ - وإِنَّمَا يَنْطِقُ عَنْه الرِّجَالُ - ولَمَّا دَعَانَا الْقَوْمُ - إلَى أَنْ نُحَكِّمَ بَيْنَنَا الْقُرْآنَ - لَمْ نَكُنِ الْفَرِيقَ الْمُتَوَلِّيَ - عَنْ كِتَابِ اللَّه سُبْحَانَه وتَعَالَى - وقَدْ قَالَ اللَّه سُبْحَانَه -( فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوه إِلَى الله والرَّسُولِ ) - فَرَدُّه إِلَى اللَّه أَنْ نَحْكُمَ بِكِتَابِه - ورَدُّه إِلَى الرَّسُولِ أَنْ نَأْخُذَ بِسُنَّتِه - فَإِذَا حُكِمَ بِالصِّدْقِ فِي كِتَابِ اللَّه - فَنَحْنُ أَحَقُّ النَّاسِ بِه - وإِنْ حُكِمَ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - فَنَحْنُ أَحَقُّ النَّاسِ وأَوْلَاهُمْ بِهَا - وأَمَّا قَوْلُكُمْ - لِمَ جَعَلْتَ بَيْنَكَ وبَيْنَهُمْ أَجَلًا فِي التَّحْكِيمِ - فَإِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ لِيَتَبَيَّنَ الْجَاهِلُ -

(۱۲۵)

(آپ کا ارشاد گرامی)

(تحکیم کے بارے میں ۔حکمین کی داستان سننے کے بعد)

یاد رکھو! ہم نے افراد کوحکم نہیں بنایا تھا بلکہ قرآن کو حکم قراردیا تھا اور قرآن وہی کتاب ہے جو دو دفینوں کے درمیان موجود ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ یہ خود نہیں بولتاہے اور اسے ترجمان کی ضرورت ہوتی ہے اور ترجمان افراد ہی ہوتے ہیں ۔اس قوم نے ہمیں دعوت دی کہ ہم قرآن سے فیصلہ کرائیں تو ہم تو قرآن سے رو گردانی کرنے والے نہیں تھے جب کہ پروردگار نے فرمادیا ہے کہ اپنے اختلافات کوخدا اور رسول کی طرف موڑو دواورخدا کی طرف موڑنے کا مطلب اس کی کتاب سے فیصلہ کرانا ہے اور رسول (ص) کی طرف موڑنے کا مقصد بھی سنت کا اتباع کرنا ہے اور یہ طے ہے کہ اگر کتاب خدا سے سچائی کے ساتھ فیصلہ کیا جائے تو اس کے سب سے زیادہ ح قدار ہم ہی ہیں اور اسی طرح سنت پیغمبر کے لئے سب سے اولیٰ و اقرب ہم ہی ہیں۔اب تمہارا یہ کہنا کہ آپ نے تحکیم کی مہلت کیوں(۱) دی؟ تو اس کا راز یہ ہے کہ میں چاہتا تھا کہ بے خبر با خبر ہو جائے

(۱) حضرت نے تحکیم کا فیصلہ کرتے ہوئے دونوں افراد کو ایک سال کی مہلت دی تھی تاکہ اس دوران نا واقف افراد حق و باطل کی اطلاع حاصل کرلیں اور جو کسی مقدار میں حق سے آگاہ ہیں وہ مزید تحقیق کرلیں۔ایسا نہ ہو کربے خبر افراد پہلے ہی مرحلہ میں گمراہ ہو جائیں اور عمر و عاص کی مکاری کا شکار ہو جائیں۔مگر افسوس یہ ہے کہ ہر دور میں ایسے افراد ضرور رہتے ہیں جو اپنے عقل وفکر کو ہر ایک سے بالاتر تصور کرتے ہیں اور اپنے قاد کے فیصلوں کوبھی ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے ہیں اور کھلی ہوئی بات ہے کہ جب امام کے ساتھ ایسا برتائو کیا گیا ہے تونائب امام یا عالم دین کی کیا حیثیت ہے ؟

۲۲۴

ويَتَثَبَّتَ الْعَالِمُ - ولَعَلَّ اللَّه أَنْ يُصْلِحَ فِي هَذِه الْهُدْنَةِ - أَمْرَ هَذِه الأُمَّةِ - ولَا تُؤْخَذَ بِأَكْظَامِهَا - فَتَعْجَلَ عَنْ تَبَيُّنِ الْحَقِّ - وتَنْقَادَ لأَوَّلِ الْغَيِّ - إِنَّ أَفْضَلَ النَّاسِ عِنْدَ اللَّه - مَنْ كَانَ الْعَمَلُ بِالْحَقِّ أَحَبَّ إِلَيْه - وإِنْ نَقَصَه وكَرَثَه مِنَ الْبَاطِلِ - وإِنْ جَرَّ إِلَيْه فَائِدَةً وزَادَه - فَأَيْنَ يُتَاه بِكُمْ - ومِنْ أَيْنَ أُتِيتُمْ - اسْتَعِدُّوا لِلْمَسِيرِ إِلَى قَوْمٍ حَيَارَى - عَنِ الْحَقِّ لَا يُبْصِرُونَه - ومُوزَعِينَ بِالْجَوْرِ لَايَعْدِلُونَ بِه - جُفَاةٍ عَنِ الْكِتَابِ - نُكُبٍ عَنِ الطَّرِيقِ - مَا أَنْتُمْ بِوَثِيقَةٍ يُعْلَقُ بِهَا - ولَا زَوَافِرِ عِزٍّ يُعْتَصَمُ إِلَيْهَا - لَبِئْسَ حُشَّاشُ نَارِ الْحَرْبِ أَنْتُمْ - أُفٍّ لَكُمْ - لَقَدْ لَقِيتُ مِنْكُمْ بَرْحاً يَوْماً أُنَادِيكُمْ - ويَوْماً أُنَاجِيكُمْ - فَلَا أَحْرَارُ صِدْقٍ عِنْدَ النِّدَاءِ - ولَا إِخْوَانُ ثِقَةٍ عِنْدَ النَّجَاءِ

(۱۲۶)

ومن كلام لهعليه‌السلام

لما عوتب على التسوية في العطاء

أَتَأْمُرُونِّي أَنْ أَطْلُبَ النَّصْرَ بِالْجَوْرِ - فِيمَنْ وُلِّيتُ عَلَيْه -

اورباخبرتحقیق کرلے کہ شائد پروردگار اس وقفہ میں امت کے امور کی اصلاح کردے اور اس کا گلا نہ گھونٹا جائے کہ تحقیق حق سے پہلے گمراہی کے پہلے ہی مرحلہ میں بھٹک جائے۔اوریاد رکھو کہ پروردگار کے نزدیک بہترین انسان وہ ہے جسے حق پر عملدار آمد کرنا (چاہے اس میں نقصان ہی کیوں نہ ہو)باطل پر عمل کرنے سے زیادہ محبوب ہو( چاہے اس میں فائدہ ہی کیوں نہ ہو) تو آخر تمہیں کدھر لے جایا جا رہا ہے اور تمہارے پاس شیطان کدھر سے آگیا ہے۔دیکھو اس قوم سے جہاد کے لئے تیار ہو جائو جو حق کے معاملہ میں اس طرح سرگرداں ہے کہ اسے کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا ہے اورباطل پر اس طرح اتارو کردی گئی ہے کہ سیدھے راستہ پر آنا ہی نہیں چاہتی ہے۔یہ کتاب خداسے الگ اور راہ حق سے منحرف ہیں مگر تم بھی قابل اعتماد افراد اور لائق تمسک شرف کے پاسبان نہیں ہو۔تم آتش جنگ کے بھڑکانے کا بد ترین ذریعہ ہو۔تم پر حیف ہے میں نے تم سے بہت تکلیف اٹھائی ہے۔تمہیں علی الاعلان بھی پکارا ہے اورآہستہ بھی سمجھایا ہے لیکن تم نہ آواز جنگ پر سچے شریف ثابت ہوئے اور نہ راز داری پر قابل اعتماد ساتھی نکلے۔

(۱۲۶)

آپ کا ارشاد گرامی

(جب عطا یا کی برابری پر اعتراض کیا گیا)

کیاتم مجھے اس بات پرآمادہ کرنا چاہتے ہو کہ میں جن رعایا کا ذمہ دار بنایا گیا ہوں

۲۲۵

واللَّه لَا أَطُورُ بِه مَا سَمَرَ سَمِيرٌ - ومَا أَمَّ نَجْمٌ فِي السَّمَاءِ نَجْماً - لَوْ كَانَ الْمَالُ لِي لَسَوَّيْتُ بَيْنَهُمْ - فَكَيْفَ وإِنَّمَا الْمَالُ مَالُ اللَّه - أَلَا وإِنَّ إِعْطَاءَ الْمَالِ فِي غَيْرِ حَقِّه تَبْذِيرٌ وإِسْرَافٌ - وهُوَ يَرْفَعُ صَاحِبَه فِي الدُّنْيَا - ويَضَعُه فِي الآخِرَةِ - ويُكْرِمُه فِي النَّاسِ ويُهِينُه عِنْدَ اللَّه - ولَمْ يَضَعِ امْرُؤٌ مَالَه فِي غَيْرِ حَقِّه ولَا عِنْدَ غَيْرِ أَهْلِه - إِلَّا حَرَمَه اللَّه شُكْرَهُمْ - وكَانَ لِغَيْرِه وُدُّهُمْ - فَإِنْ زَلَّتْ بِه النَّعْلُ يَوْماً - فَاحْتَاجَ إِلَى مَعُونَتِهِمْ فَشَرُّ خَلِيلٍ - وأَلأَمُ خَدِينٍ !

(۱۲۷)

ومن كلام لهعليه‌السلام

وفيه يبين بعض أحكام الدين ويكشف للخوارج الشبهة وينقض حكم الحكمين

فَإِنْ أَبَيْتُمْ إِلَّا أَنْ تَزْعُمُوا أَنِّي أَخْطَأْتُ وضَلَلْتُ - فَلِمَ تُضَلِّلُونَ عَامَّةَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بِضَلَالِي - وتَأْخُذُونَهُمْ بِخَطَئِي -

ان پر ظلم کرکے چند افراد کی کمک حاصل کرلوں ۔خدا کی قسم جب تک اس دنیا کا قصہ چلتا رہے گا اور ایک ستارہ دوسرے ستارہ کی طرف جھکتا رہے گا ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا ہے۔یہ مال اگر میرا ذاتی ہوتا جب بھی میں برابر سے تقسیم کرتا چہ جائیکہ یہ مال مال خداہے اور یادرکھو کہ مال کا نا حق عطا کردینا بھی اسراف اور فضول خرچی میں شمار ہوتا ہے اوریہ کام انسان کو دنیا میں بلند بھی کر دیتا ہے تو آخرت میں ذلیل کر دیتا ہے۔لوگوں میں محترم بھی بنادیتا ہے تو خدا کی نگاہ میں پست تر بنا دیتا ہے اور جب بھی کوئی شخص مال کو نا حق یا نا اہل پر صرف کرتا ہے تو پروردگار اس کے شکریہ سے بھی محروم کر دیتا ہے اور اس کی محبت کا رخ بھی دوسروں کی طرف مڑ جاتا ہے ۔پھر اگرکسی دن پیر پھسل گئے اور ان کی امداد کا بھی محتا ج ہوگیا تو وہ بد ترین دوست اور ذلیل ترین ساتھی ہی ثابت ہوتے ہیں۔

(۱۲۷)

آپ کا ارشاد گرامی

(جس میں بعض احکام دین کے بیان کے ساتھ خوارج کے شبہات کا ازالہ اورحکمین کے توڑ کا فیصلہ بیان کیا گیا ہے)

اگر تمہارااصرار اسی بات پرہےکہ مجھےخطاکاراور گمراہ قرار دو تو ساری امت پیغمبر (ص) کو کیوں خطا کار قراردےرہےہواور میری'' غلطی '' کا مواخذہ ان سے کیوں کر

۲۲۶

وتُكَفِّرُونَهُمْ بِذُنُوبِي - سُيُوفُكُمْ عَلَى عَوَاتِقِكُمْ - تَضَعُونَهَا مَوَاضِعَ الْبُرْءِ والسُّقْمِ - وتَخْلِطُونَ مَنْ أَذْنَبَ بِمَنْ لَمْ يُذْنِبْ - وقَدْ عَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم رَجَمَ الزَّانِيَ الْمُحْصَنَ - ثُمَّ صَلَّى عَلَيْه ثُمَّ وَرَّثَه أَهْلَه - وقَتَلَ الْقَاتِلَ ووَرَّثَ مِيرَاثَه أَهْلَه - وقَطَعَ السَّارِقَ وجَلَدَ الزَّانِيَ غَيْرَ الْمُحْصَنِ - ثُمَّ قَسَمَ عَلَيْهِمَا مِنَ الْفَيْءِ ونَكَحَا الْمُسْلِمَاتِ - فَأَخَذَهُمْ رَسُولُ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بِذُنُوبِهِمْ - وأَقَامَ حَقَّ اللَّه فِيهِمْ - ولَمْ يَمْنَعْهُمْ سَهْمَهُمْ مِنَ الإِسْلَامِ - ولَمْ يُخْرِجْ أَسْمَاءَهُمْ مِنْ بَيْنِ أَهْلِه - ثُمَّ أَنْتُمْ شِرَارُ النَّاسِ - ومَنْ رَمَى بِه الشَّيْطَانُ مَرَامِيَه وضَرَبَ بِه تِيهَه - وسَيَهْلِكُ فِيَّ صِنْفَانِ - مُحِبٌّ مُفْرِطٌ يَذْهَبُ بِه الْحُبُّ إِلَى غَيْرِ الْحَقِّ - ومُبْغِضٌ مُفْرِطٌ يَذْهَبُ بِه الْبُغْضُ إِلَى غَيْرِ الْحَقِّ - وخَيْرُ النَّاسِ فِيَّ حَالًا النَّمَطُ الأَوْسَطُ فَالْزَمُوه - والْزَمُوا السَّوَادَ الأَعْظَمَ - فَإِنَّ يَدَ اللَّه مَعَ الْجَمَاعَةِ - وإِيَّاكُمْ والْفُرْقَةَ!

رہے ہو اور میرے ''گناہ '' کی بناپر انہیں کیوں کافر قرار دے رہے ہو۔تمہاری تلواریں تمہارے کاندھوں پر رکھی ہیں جہاں چاہتے ہو خطا ' بے خطا چلادیتے ہو اور گناہ گار اوربے گناہ میں کوئی فرق نہیں کرتے ہو حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ رسول اکرم (ص) نے زنائے محضہ کے مجرم کو سنگسار کیا تواس کی نمازجنازہ بھی پڑھی تھی اور اس کے اہل کو وارث بھی قرار دیا تھا۔اور اسی طرح قاتل کو قتل کیا تو اس کی میراث بھی تقسیم کی اور چور کے ہاتھ کاٹے یا غیر شادی شدہ زنا کار کو کوڑے لگوائے تو انہیں مال غنیمت میں حصہ بھی دیا اور ان کا مسلمان عورتوں سے نکاح بھی کرایا گویا کہ آپ نے ان کے گناہوں کا مواخذہ کیا اور ان کے بارے میں حق خداکو قائم کیا لیکن اسلام میں ان کے حصہ کو نہیں روکا اور نہ ان کے نام کواہل اسلام کی فہرست سے خارج کیا۔مگر تم بد ترین افراد ہو کہ شیطان تمہارے ذریعہ اپنے مقاصد کو حاصل کرلیتا ہے اورتمہیں صحرائے ضلالت میں ڈال دیتا ہے اور عنقریب میرے بارے میں دو طرح کے افراد گمراہ ہوں گے۔محبت میں غلو کرنے والے جنہیں محبت غیرحق کی طرف لے جائے گی اور عداوت میں زیادتی کرنے والے جنہیں عداوت باطل کی طرف کھینچ لے جائے گی۔اوربہترین افراد وہ ہوں گے جو درمیانی منزل پر ہوں لہٰذا تم بھی اسی راستہ کو اختیار کرو اور اسی نظر یہ کی جماعت کے ساتھ ہو جائو کہ اللہ کاہاتھ اسی جماعت کے ساتھ ہے اورخبردارتفرقہ کی کوشش نہ کرنا کہ جو ایمانی جماعت سے کٹ جاتا ہے

۲۲۷

فَإِنَّ الشَّاذَّ مِنَ النَّاسِ لِلشَّيْطَانِ - كَمَا أَنَّ الشَّاذَّ مِنَ الْغَنَمِ لِلذِّئْبِ. أَلَا مَنْ دَعَا إِلَى هَذَا الشِّعَارِ فَاقْتُلُوه - ولَوْ كَانَ تَحْتَ عِمَامَتِي هَذِه - فَإِنَّمَا حُكِّمَ الْحَكَمَانِ لِيُحْيِيَا مَا أَحْيَا الْقُرْآنُ - ويُمِيتَا مَا أَمَاتَ الْقُرْآنُ - وإِحْيَاؤُه الِاجْتِمَاعُ عَلَيْه - وإِمَاتَتُه الِافْتِرَاقُ عَنْه - فَإِنْ جَرَّنَا الْقُرْآنُ إِلَيْهِمُ اتَّبَعْنَاهُمْ - وإِنْ جَرَّهُمْ إِلَيْنَا اتَّبَعُونَا - فَلَمْ آتِ لَا أَبَا لَكُمْ بُجْراً - ولَا خَتَلْتُكُمْ عَنْ أَمْرِكُمْ - ولَا لَبَّسْتُه عَلَيْكُمْ - إِنَّمَا اجْتَمَعَ رَأْيُ مَلَئِكُمْ عَلَى اخْتِيَارِ رَجُلَيْنِ - أَخَذْنَا عَلَيْهِمَا أَلَّا يَتَعَدَّيَا الْقُرْآنَ فَتَاهَا عَنْه - وتَرَكَا الْحَقَّ وهُمَا يُبْصِرَانِه - وكَانَ الْجَوْرُ هَوَاهُمَا فَمَضَيَا عَلَيْه - وقَدْ سَبَقَ اسْتِثْنَاؤُنَا عَلَيْهِمَا فِي الْحُكُومَةِ بِالْعَدْلِ - والصَّمْدِ لِلْحَقِّ سُوءَ رَأْيِهِمَا وجَوْرَ حُكْمِهِمَا.

(۱۲۸)

ومن كلام لهعليه‌السلام

فيما يخبر به عن الملاحم بالبصرة

وہ اسی طرح شیطان کا شکار ہو جاتا ہے جس طرح گلہ سے الگ ہوجانے والی بھیڑ بھیڑئیے کی نذر ہوجاتی ہے۔آگاہ ہو جائو کہ جو بھی اس انحراف کا نعرہ لگائے اسے قتل کردو چاہے وہ میرے ہی عمامہ کے نیچے کیوں نہ ہو۔ ان دونوں افراد کو حکم بنایا گیا تھا تاکہ ان امور کو زندہ کریں جنہیں قرآن نے زندہ کیا ہے اور ان امور کو مردہ بنادیں جنہیں قرآن نے مردہ بنا دیا ہے اور زندہکرنے کے معنی اس پر اتفاق کرنے اورمردہ بنانے کے معنی اس سے الگ ہو جانے کے ہیں۔ہم اس بات پر تیار تھے کہ اگر قرآن ہمیں دشمن کی طرف کھینچ لے جائے گا تو ہم ان کا اتباع کرلیں گے اور اگر انہیں ہماری طرف لے آئے گا تو انہیں آنا پڑے گا لیکن خدا تمہارا برا کرے۔اس بات میںمیں نے کوئی غلط کام تو نہیں کیا اور نہ تمہیں کوئی دھوکہ دیا ہے۔اور نہ کسی بات کو شبہ میں رکھا ہے۔لیکن تمہاری جماعت نے دوآدمیوں کے انتخاب پر اتفاق کرلیا اورمیں نے ان پر شرط لگا دی کہ قرآن کے حدود سے تجاوز نہیں کریں گے مگر وہ دونوں قرآن سے منحرف ہوگئے اورحق کو دیکھ بھال کر نظر انداز کردیا اور اصل بات یہ ہے کہ ان کا مقصد ہی ظلم تھا اوروہ اسی راستہ پرچلے گئے جب کہ میں نے ان کی غلط رائے اورظالمانہ فیصلہ سے پہلے ہی فیصلہ میں عدالت اور ارادہ حق کی شرط لگادی تھی۔

(۱۲۸)

آپ کا ارشادگرامی

(بصرہ کے حوادث کی خبر دیتے ہوئے )

۲۲۸

يَا أَحْنَفُ كَأَنِّي بِه وقَدْ سَارَ بِالْجَيْشِ - الَّذِي لَا يَكُونُ لَه غُبَارٌ ولَا لَجَبٌ - ولَا قَعْقَعَةُ لُجُمٍ ولَا حَمْحَمَةُ خَيْلٍ - يُثِيرُونَ الأَرْضَ بِأَقْدَامِهِمْ - كَأَنَّهَا أَقْدَامُ النَّعَامِ.

قال الشريف يومئ بذلك إلى صاحب الزنج.

ثُمَّ قَالَعليه‌السلام - وَيْلٌ لِسِكَكِكُمُ الْعَامِرَةِ والدُّورِ الْمُزَخْرَفَةِ - الَّتِي لَهَا أَجْنِحَةٌ كَأَجْنِحَةِ النُّسُورِ - وخَرَاطِيمُ كَخَرَاطِيمِ

الْفِيَلَةِ - مِنْ أُولَئِكَ الَّذِينَ لَا يُنْدَبُ قَتِيلُهُمْ - ولَا يُفْقَدُ غَائِبُهُمْ - أَنَا كَابُّ الدُّنْيَا لِوَجْهِهَا - وقَادِرُهَا بِقَدْرِهَا ونَاظِرُهَا بِعَيْنِهَا.

منه في وصف الأتراك

كَأَنِّي أَرَاهُمْ قَوْماً –( كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطَرَّقَةُ ) - يَلْبَسُونَ السَّرَقَ والدِّيبَاجَ - ويَعْتَقِبُونَ الْخَيْلَ الْعِتَاقَ - ويَكُونُ هُنَاكَ اسْتِحْرَارُ قَتْلٍ - حَتَّى يَمْشِيَ الْمَجْرُوحُ عَلَى الْمَقْتُولِ -

اے(۱) احنف ! گویا کہ میں اس شخص کو دیکھ رہا ہوں جو ایک ایسا لشکر لے کر آیا ہے جس میں نہ گردو غبار ہے اور نہ شورو غوغا ۔نہ لجاموں کی کھڑکھڑاہٹ ہے اور نہ گھوڑوں کی ہنہناہٹ ۔یہ زمین کو اسی طرح روند رہے ہیں جس طرح شتر مرغ کے پیر۔

سید رضی : حضرت نے اس خبر میں صاحب زنج کی طرف اشارہ کیا ہے( جس کا نام علی بن محمد تھااور اس نے۲۲۵ ھ میں بصرہ میں غلاموں کو مالکوں کے خلاف متحد کیا اور ہر غلام سے اس کے مالک کو۵۰۰ کوڑے لگوائے ۔

افسوس ہے تمہاری آباد گلیوں اور ان سجے سجائے مکانات کے حال پر جن کے چھجے گدوں کے پر اور ہاتھیوں کے سونڈ کے مانند ہے ان لوگوں کی طرف سے جن کے مقتول پر گریہ نہیں کیاجاتا ہے اور ان کے غائب کو تلاش نہیں کیا جاتا ہے۔میں دنیا کو منہ کے بھل اوندھا کر دینے والا اور اس کی صحیح اوقات کا جاننے والا اور اس کی حالت کو اس کے شایان شان نگاہ سے دیکھنے والا ہوں۔

(ترکوں کے بارے میں )

میں ایک ایسی قوم کو دیکھ رہا ہوں جن کے چہرہ چمڑے سے منڈھی ڈھال کے مانند ہیں۔ریشم و دیبا کے لباس پہنتے ہیں اور بہترین اصیل گھوڑوں سے محبت رکھتے ہیں۔ان کے درمیان عنقریب قتل کی گرم بازاری ہوگی جہاں زخمی مقتول کے اوپر سے گزریں گے

(۱)بنی تمیم کے سردار احنف بن قیس سے خطاب ہے جنہوں نے رسول اکرم (ص) کی زیارت نہیں کی مگر اسلام قبول کیا اورجنگ جمل کے موقع پر اپنے علاقہ میں ام المومنین کے فتنوں کا دفاع کرتے رہے اور پھر جنگ صفین میں مولائے کائنات کے ساتھ شریک ہوگئے اور جہاد راہ خداکا حق ادا کردیا

۲۲۹

ويَكُونَ الْمُفْلِتُ أَقَلَّ مِنَ الْمَأْسُورِ.

فَقَالَ لَه بَعْضُ أَصْحَابِه - لَقَدْ أُعْطِيتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عِلْمَ الْغَيْبِ - فَضَحِكَعليه‌السلام وقَالَ لِلرَّجُلِ وكَانَ كَلْبِيّاً.

يَا أَخَا كَلْبٍ لَيْسَ هُوَ بِعِلْمِ غَيْبٍ - وإِنَّمَا هُوَ تَعَلُّمٌ مِنْ ذِي عِلْمٍ - وإِنَّمَا عِلْمُ الْغَيْبِ عِلْمُ السَّاعَةِ - ومَا عَدَّدَه اللَّه سُبْحَانَه بِقَوْلِه –( إِنَّ الله عِنْدَه عِلْمُ السَّاعَةِ - ويُنَزِّلُ الْغَيْثَ ويَعْلَمُ ما فِي الأَرْحامِ - وما تَدْرِي نَفْسٌ ما ذا تَكْسِبُ غَداً - وما تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ) الآيَةَ - فَيَعْلَمُ اللَّه سُبْحَانَه مَا فِي الأَرْحَامِ - مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وقَبِيحٍ أَوْ جَمِيلٍ - وسَخِيٍّ أَوْ بَخِيلٍ - وشَقِيٍّ أَوْ سَعِيدٍ - ومَنْ يَكُونُ فِي النَّارِ حَطَباً - أَوْ فِي الْجِنَانِ لِلنَّبِيِّينَ مُرَافِقاً - فَهَذَا عِلْمُ الْغَيْبِ الَّذِي لَا يَعْلَمُه أَحَدٌ إِلَّا اللَّه - ومَا سِوَى ذَلِكَ فَعِلْمٌ - عَلَّمَه اللَّه نَبِيَّه فَعَلَّمَنِيه - ودَعَا لِي بِأَنْ يَعِيَه صَدْرِي - وتَضْطَمَّ عَلَيْه جَوَانِحِي

اوراب بھاگنے والے قیدیوں سے کم ہوں گے ( یہ تاتاریوں کے فتنہ کی طرف اشارہ ہے جہاں چنگیز خاں اور اس کی قوم نے تمام اسلامی ملکوں کو تباہ و برباد کردیا اور کتے' سور کو اپنی غذا بنا کر ایسے حملے کئے کہ شہروں کو خاک میں ملا دیا) یہ سن کر ایک شخص نے کہا کہ آپ تو علم غیب کی باتیں کر رہے ہیں تو آپ نے مسکرا کر اس کلبی شخص سے فرمایا اے برادر کلبی! یہ علم غیب نہیں ہے بلکہ صاحب علم سے تعلم ہے۔علم غیب قیامت کا اور ان چیزوں کا علم ہے جن کو خدانے قرآن مجید میں شمار کردیا ہے کہ اللہ کے پاس قیامت کا علم ہے اور بارش کابرسانے والا وہی ہے اور پیٹ میں پلنے والے بچہ کا مقدر وہی جانتا ہے۔اس کے علاوہ کسی کو نہیں معلوم ہے کہ کل کیا کمائے گا اور کس سر زمین پرموت آئے گی۔ پروردگار جانتا ہے کہ رحم کا بچہ لڑکا ہے یا لڑکی حسین ہے یا قبیح' سخی ہے یا بخیل' شقی ہے یا سعید' کون جہنم کا کندہ بن جائے گا اور کون جنت میں ابنیاء کرام کا ہمنشین ہوگا۔یہ وہ علم غیب ہے جسے خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ہے۔اس کے علاوہ جو بھی علم ہے وہ ایسا علم ہے جسے اللہ نے پیغمبر (ص) کو تعلیم دیا ہے اور انہوں نے مجھے اس کی تعلیم دی ہے اورمیرے حق میں دعا کی ہے کہ میرا سینہ اسے محفوظ کرلے اور اس دل میں اسے محفوظ کردے جومیرے پہلو میں ہے۔

۲۳۰

(۱۲۹)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في ذكر المكاييل والموازين

عِبَادَ اللَّه إِنَّكُمْ ومَا تَأْمُلُونَ - مِنْ هَذِه الدُّنْيَا أَثْوِيَاءُ مُؤَجَّلُونَ - ومَدِينُونَ مُقْتَضَوْنَ أَجَلٌ مَنْقُوصٌ - وعَمَلٌ مَحْفُوظٌ - فَرُبَّ دَائِبٍ مُضَيَّعٌ ورُبَّ كَادِحٍ خَاسِرٌ - وقَدْ أَصْبَحْتُمْ فِي زَمَنٍ لَا يَزْدَادُ الْخَيْرُ فِيه إِلَّا إِدْبَاراً - ولَا الشَّرُّ فِيه إِلَّا إِقْبَالًا - ولَا الشَّيْطَانُ فِي هَلَاكِ النَّاسِ إِلَّا طَمَعاً - فَهَذَا أَوَانٌ قَوِيَتْ عُدَّتُه - وعَمَّتْ مَكِيدَتُه وأَمْكَنَتْ فَرِيسَتُه - اضْرِبْ بِطَرْفِكَ حَيْثُ شِئْتَ مِنَ النَّاسِ - فَهَلْ تُبْصِرُ إِلَّا فَقِيراً يُكَابِدُ فَقْراً - أَوْ غَنِيّاً بَدَّلَ نِعْمَةَ اللَّه كُفْراً - أَوْ بَخِيلًا اتَّخَذَ الْبُخْلَ بِحَقِّ اللَّه وَفْراً - أَوْ مُتَمَرِّداً كَأَنَّ بِأُذُنِه عَنْ سَمْعِ الْمَوَاعِظِ وَقْراً - أَيْنَ أَخْيَارُكُمْ وصُلَحَاؤُكُمْ - وأَيْنَ أَحْرَارُكُمْ وسُمَحَاؤُكُمْ - وأَيْنَ الْمُتَوَرِّعُونَ فِي مَكَاسِبِهِمْ - والْمُتَنَزِّهُونَ فِي مَذَاهِبِهِمْ - أَلَيْسَ قَدْ ظَعَنُوا جَمِيعاً - عَنْ هَذِه الدُّنْيَا الدَّنِيَّةِ -

(۱۲۹)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(ناپ تول کے بارے میں )

اللہ کے بندو! تم اور جو کچھ اس دنیا سے توقع رکھتے ہو سب ایک مقررہ مدت کے مہمان ہیں اور ایسے قرضدار ہیں جن سے قرضہ کامطالبہ ہو رہا ہو۔عمریں گھٹ رہی ہیں اور اعمال محفوظ کئے جا رہے ہیں۔کتنے دوڑ دھوپ کرنے والے ہیں جن کی محنت برباد ہو رہی ہے اور کتنے کوشش کرنے والے ہیں جو مسلسل گھاٹے کاشکار ہیں تم ایسے زمانے میں زندگی گزار رہے ہو جس میں نیکی مسلسل منہ پھیر کر جا رہی ہے اور برائی برابر سامنے آرہی ہے۔شیطان لوگوں کو تباہ کرنے کی ہوس میں لگا ہوا ہے۔اس کا سازو سامان مستحکم ہو چکا ہے۔اس کی سازشیں عام ہو چکی ہیں اور اس کے شکار اس کے قابو میں ہیں۔تم جدھر چاہو نگاہ اٹھا کر دیکھ لو سوائے اس فقیر کے جو فقر کی مصیبتیں جھیل رہا ہے اور اس امیر کے جس نے نعمت خدا کی نا شکری کی ہے اور اس بخیل کے جس نے حق خدا میں بخل ہی کو مال کے اضافہ کا ذریعہ بنا لیا ہے اور اس سرکش کے جس کے کان نصیحتوں کے لئے بہترے ہوگئے ہیں اور کچھ نظرنہیں آئے گا۔کہاں چلے گئے وہ نیک اور صالح بندے اور کدھر ہیں وہ شریف اور کریم النفس لوگ ۔کہاں ہیں وہ افراد جو کسب معاش میں احتیاط برتنے والے تھے اور راستوں میں پاکیزہ راستہ اختیار کرنے والے تھے کیا سب کے سب اس پست اور زندگی کو مکدربنا دینے والی دنیا سے نہیں چلے گئے

۲۳۱

والْعَاجِلَةِ الْمُنَغِّصَةِ - وهَلْ خُلِقْتُمْ إِلَّا فِي حُثَالَةٍ - لَا تَلْتَقِي إِلَّا بِذَمِّهِمُ الشَّفَتَانِ - اسْتِصْغَاراً لِقَدْرِهِمْ وذَهَاباً عَنْ ذِكْرِهِمْ - فَ «إِنَّا لِلَّه وإِنَّا إِلَيْه راجِعُونَ» - ظَهَرَ الْفَسَادُ فَلَا مُنْكِرٌ مُغَيِّرٌ - ولَا زَاجِرٌ مُزْدَجِرٌ - أَفَبِهَذَا تُرِيدُونَ أَنْ تُجَاوِرُوا اللَّه فِي دَارِ قُدْسِه - وتَكُونُوا أَعَزَّ أَوْلِيَائِه عِنْدَه - هَيْهَاتَ لَا يُخْدَعُ اللَّه عَنْ جَنَّتِه - ولَا تُنَالُ مَرْضَاتُه إِلَّا بِطَاعَتِه - لَعَنَ اللَّه الآمِرِينَ بِالْمَعْرُوفِ التَّارِكِينَ لَه - والنَّاهِينَ عَنِ الْمُنْكَرِ الْعَامِلِينَ بِه.

(۱۳۰)

ومن كلام لهعليه‌السلام

لأبي ذر رحمهالله - لما أخرج إلى الربذة

يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّكَ غَضِبْتَ لِلَّه فَارْجُ مَنْ غَضِبْتَ لَه - إِنَّ الْقَوْمَ خَافُوكَ عَلَى دُنْيَاهُمْ وخِفْتَهُمْ عَلَى دِينِكَ - فَاتْرُكْ فِي أَيْدِيهِمْ مَا خَافُوكَ عَلَيْه - واهْرُبْ مِنْهُمْ بِمَا خِفْتَهُمْ عَلَيْه - فَمَا أَحْوَجَهُمْ إِلَى مَا مَنَعْتَهُمْ -

اور کیا تمہیں ایسے افراد میں نہیں چھوڑ گئے جن کی حقارت اور جن کے ذکر سے اعراض کی بنا پر ہونٹ سوائے ان کی مذمت کے کسی بات کے لئے آپس میں نہیں ملتے ہیں۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔فساد اس قدر پھیل چکا ہے کہ نہ کوئی حالات کا بدلنے والاہے اور نہ کوئی منع کرنے والا اور نہخود پر پرہیز کرنے والا ہے۔تو کیا تم انہیں حالات کے ذریعہ خدا کے مقدس جوارمیں رہنا چاہیے ہو اوراس کے عزیز ترین دوست بننا چاہتے ہو۔افسوس ! اللہ کو جنت کے بارے میں دھوکہ نہیں دیا جا سکتا ہے اور نہ اس کی مرضی کو اطاعت کے بغیر حاصل کیا جا سکتا ہے۔اللہ لعنت کرے ان لوگوں پر جو دوسروں کو نیکیوں کا حکم دیتے ہیں اور خود عمل نہیں کرتے ہیں ۔سماج کو برائیوں سے روکتے ہیں اور خود انہیں میں مبتلا ہیں۔

(۱۳۰)

آپ کا ارشاد گرامی

(جو آپ نے ابو ذر غفاری سے فرمایا جب انہیں ربذہ کی طرف شہر بدر کردیا گیا )

ابو ذر تمہارا غیظ و غضب اللہ کے لئے ہے لہٰذا اس سے امید وابستہ رکھو جس کے لئے یہ غیظ و غضب اختیار کیا ہے۔قوم کو تم سے اپنی دنیاکے بارے میں خطرہ تھا اور تمہیں ان سے اپنے دین کے بارے میں خوف تھا لہٰذا جس کا انہیں خطرہ تھا وہ ان کے لئے چھوڑ دو اور جس کے لئے تمہیں خوف تھا اسے بچاکرنکل جائو۔یہ لوگ بہر حال اس کے محتاج ہیں جس کو تم نے ان سے روکا ہے

۲۳۲

ومَا أَغْنَاكَ عَمَّا مَنَعُوكَ - وسَتَعْلَمُ مَنِ الرَّابِحُ غَداً والأَكْثَرُ حُسَّداً - ولَوْ أَنَّ السَّمَاوَاتِ والأَرَضِينَ كَانَتَا عَلَى عَبْدٍ رَتْقاً - ثُمَّ اتَّقَى اللَّه لَجَعَلَ اللَّه لَه مِنْهُمَا مَخْرَجاً - لَا يُؤْنِسَنَّكَ إِلَّا الْحَقُّ - ولَا يُوحِشَنَّكَ إِلَّا الْبَاطِلُ - فَلَوْ قَبِلْتَ دُنْيَاهُمْ لأَحَبُّوكَ - ولَوْ قَرَضْتَ مِنْهَا لأَمَّنُوكَ.

(۱۳۱)

ومن كلام لهعليه‌السلام

وفيه يبين سبب طلبه الحكم ويصف الإمام الحق

أَيَّتُهَا النُّفُوسُ الْمُخْتَلِفَةُ والْقُلُوبُ الْمُتَشَتِّتَةُ - الشَّاهِدَةُ أَبْدَانُهُمْ والْغَائِبَةُ عَنْهُمْ عُقُولُهُمْ - أَظْأَرُكُمْ عَلَى الْحَقِّ - وأَنْتُمْ تَنْفِرُونَ عَنْه نُفُورَ الْمِعْزَى مِنْ وَعْوَعَةِ الأَسَدِ - هَيْهَاتَ أَنْ أَطْلَعَ بِكُمْ سَرَارَ الْعَدْلِ - أَوْ أُقِيمَ اعْوِجَاجَ الْحَقِّ - اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ - أَنَّه لَمْ يَكُنِ الَّذِي كَانَ مِنَّا مُنَافَسَةً فِي سُلْطَانٍ - ولَا الْتِمَاسَ شَيْءٍ مِنْ فُضُولِ الْحُطَامِ - ولَكِنْ لِنَرِدَ الْمَعَالِمَ مِنْ دِينِكَ -

اورتم اس سے بہرحال بے نیاز ہو جس سے ان لوگوں نے تمہیں محروم کیا ہے عنقریب یہ معلوم ہو جائے گا کہ فائدہ میں کون رہا اور کس سے حسد کرنے والے زیادہ ہیں۔یاد رکھو کہ کسی بندہ خدا پر اگر زمین وآسمان دونوں کے راستے بند ہوجائیں اور وہ تقوائے الٰہی اختیار کرلے تو اللہ اس کے لئے کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکال دے گا۔دیکھو تمہیں صرف حق سے انس اور باطل سے وحشت ہونی چاہیے تم اگر ان کی دنیا کو قبول کر لیتے تو یہ تم سے محبت کرتے اور اگردنیا میں سے اپنا حصہ لے لیتے تو تمہاری طرف سے مطمئن ہو جاتے ۔

(۱۳۱)

آپ کا ارشاد گرامی

(جس میں اپنی حکومت طلبی کا سبب بیان فرمایا ہے اور امام بر حق کے اوصاف کا تذکرہ کیا ہے )

اے وہ لوگو جن کے نفس مختلف ہیں اوردل متفرق۔بدن حاضر ہیں اور عقلیں غائب ۔میں تمہیں مہرانی کے ساتھ حق کی دعوت دیتا ہوں اور تم اس طرح فرار کر تے ہو جیسے شیر کی ڈرکار سے بکریاں۔افسوس تمہارے ذریعہ عدل کی تاریکیوں کو کیسے روشن کیا جا سکتا ہے اور حق میں پیداہو جانے والی کجی کو کس طرح سیدھا کیا جا سکتا ہے۔خدایا تو جانتا ہے کہ میں نے حکومت کے بارے میں جو اقدام کیا ہے اس میں نہ سلطنت کی لالچ تھی اور نہمالی دنیا کی تلاش۔میرا مقصد صرف یہ تھا کہ دین کے آثارکو ان کی منزل تک پہنچائوں

۲۳۳

ونُظْهِرَ الإِصْلَاحَ فِي بِلَادِكَ - فَيَأْمَنَ الْمَظْلُومُونَ مِنْ عِبَادِكَ - وتُقَامَ الْمُعَطَّلَةُ مِنْ حُدُودِكَ - اللَّهُمَّ إِنِّي أَوَّلُ مَنْ أَنَابَ - وسَمِعَ وأَجَابَ - لَمْ يَسْبِقْنِي إِلَّا رَسُولُ اللَّه بِالصَّلَاةِ.

وقَدْ عَلِمْتُمْ أَنَّه لَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ الْوَالِي عَلَى الْفُرُوجِ - والدِّمَاءِ والْمَغَانِمِ والأَحْكَامِ - وإِمَامَةِ الْمُسْلِمِينَ الْبَخِيلُ - فَتَكُونَ فِي أَمْوَالِهِمْ نَهْمَتُه - ولَا الْجَاهِلُ فَيُضِلَّهُمْ بِجَهْلِه - ولَا الْجَافِي فَيَقْطَعَهُمْ بِجَفَائِه - ولَا الْحَائِفُ لِلدُّوَلِ فَيَتَّخِذَ قَوْماً دُونَ قَوْمٍ - ولَا الْمُرْتَشِي فِي الْحُكْمِ - فَيَذْهَبَ بِالْحُقُوقِ - ويَقِفَ بِهَا دُونَ الْمَقَاطِعِ - ولَا الْمُعَطِّلُ لِلسُّنَّةِ فَيُهْلِكَ الأُمَّةَ.

(۱۳۲)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يعظ فيها ويزهد في الدنيا

حمد اللَّه

نَحْمَدُه عَلَى مَا أَخَذَ وأَعْطَى -

اور شہروں میں اصلاح پیدا کردوں تاکہ مظلوم بندے محفوظ ہو جائیں اور معطل حدود قائم ہو جائیں۔خدایا تجھے معلوم ہے کہ میں نے سب سے پہلے تیریر طرف رخ کیا ہے۔تیری آواز سنی ہے اوراسے قبول کیا ہے اور تیری بندگی میں رسول اکرم (ص) کے علاوہ کسی نے بھی مجھ پرسبقت نہیں کی ہے۔

تم لوگوں کو معلوم ہے کہ لوگوں کی آبرو۔ ان کی جان۔ان کے منافع۔الٰہی احکام اور امامت مسلمین کاذمہ دار نہ کوئی بخیل ہو سکتا ہے کہ وہ اموال مسلمین پر ہمیشہ دانت لگائے رہے گا۔اور نہ کوئی جاہل ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی جہالت سے لوگوں کو گمراہ کردے گا اور نہ کوئی بد اخلاق ہو سکتا ہے کہ وہ بد اخلاقی کے چر کے لگاتا رہے گا اور نہ کوئی مالیات کابددیانت ہوسکتا ہے کہوہ ایک کو مال دے گا اور ایک کومحروم کردے گا اورنہ کوئی فیصلہ میں رشوت لینے والا ہو سکتا ہے کہ وہ حقوق کو برباد کردے گا اور انہیں ان کی منزل تک نہ پہنچنے دے گا اور نہ کوئی سنت کو معطل کرنے والا ہوسکتا ہے کہ وہ امت کو ہلاک و برباد کردے گا۔

(۱۳۲)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں لوگوں کو نصیحت فرمائی ہے اور زہد کی ترغیب دی ہے )

شکر ہے خدا کا اس پر بھی جو دیا ہے اور اس پر بھی جولے لیا ہے ۔اس کے انعام پر بھی

۲۳۴

وعَلَى مَا أَبْلَى وابْتَلَى – الْبَاطِنُ لِكُلِّ خَفِيَّةٍ - والْحَاضِرُ لِكُلِّ سَرِيرَةٍ - الْعَالِمُ بِمَا تُكِنُّ الصُّدُورُ - ومَا تَخُونُ الْعُيُونُ - ونَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَه غَيْرُه - وأَنَّ مُحَمَّداً نَجِيبُه وبَعِيثُه - شَهَادَةً يُوَافِقُ فِيهَا السِّرُّ الإِعْلَانَ والْقَلْبُ اللِّسَانَ.

عظة الناس

ومنها: فَإِنَّه واللَّه الْجِدُّ لَا اللَّعِبُ - والْحَقُّ لَا الْكَذِبُ - ومَا هُوَ إِلَّا الْمَوْتُ أَسْمَعَ دَاعِيه - وأَعْجَلَ حَادِيه - فَلَا يَغُرَّنَّكَ سَوَادُ النَّاسِ مِنْ نَفْسِكَ - وقَدْ رَأَيْتَ مَنْ كَانَ قَبْلَكَ - مِمَّنْ جَمَعَ الْمَالَ وحَذِرَ الإِقْلَالَ - وأَمِنَ الْعَوَاقِبَ طُولَ أَمَلٍ واسْتِبْعَادَ أَجَلٍ - كَيْفَ نَزَلَ بِه الْمَوْتُ فَأَزْعَجَه عَنْ وَطَنِه - وأَخَذَه مِنْ مَأْمَنِه - مَحْمُولًا عَلَى أَعْوَادِ الْمَنَايَا - يَتَعَاطَى بِه الرِّجَالُ الرِّجَالَ - حَمْلًا عَلَى الْمَنَاكِبِ - وإِمْسَاكاً بِالأَنَامِلِ - أَمَا رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يَأْمُلُونَ بَعِيداً - ويَبْنُونَ مَشِيداً ويَجْمَعُونَ كَثِيراً - كَيْفَ أَصْبَحَتْ بُيُوتُهُمْ قُبُوراً - ومَا جَمَعُوا بُوراً - وصَارَتْ أَمْوَالُهُمْ لِلْوَارِثِينَ - وأَزْوَاجُهُمْ لِقَوْمٍ آخَرِينَ - لَا فِي حَسَنَةٍ يَزِيدُونَ

اور اس کے امتحان پربھی۔وہ ہر مخفی چیز کے اندر کابھی علم رکھتا ہے اور ہر پوشیدہ امر کے لئے حاضر بھی ہے۔دلوں کے اندر چھپے ہوئے اسرار اورآنکھوں کی خیانت سب کو بخوبی جانتا ہے اورمیں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور حضرت محمد (ص)اس کے بھیجے ہوئے رسول ہیں اور اس گواہی میں باطن ظاہر سے اور دل زبان سے ہم آہنگ ہے۔

خدا کی قسم وہ شے جو حقیقت ہے اورکھیل تماشہ نہیں ہے۔حق ہے اور جھوٹ نہیں ہے وہ صرف موت ہے جس کے داعی نے اپنی آواز سب کو سنا دی ہے اورجس کا ہنکانے والا جلدی مچائے ہوئے ہے لہٰذا خبردار لوگوں کی کثرت تمہارے نفس کو دھوکہ میں نہ ڈال دے۔تم دیکھ چکے ہو کہ تم سے پہلے والوں نے مالک جمع کیا۔افلاس سے خوفزدہ رہے۔انجام سے بے خبر رہے۔صرف لمبی لمبی امیدوں اور موت کی تاخیر کے خیال میں رہے اورایک مرتبہ موت نازل ہوگئی اور اس نے انہیں وطن سے بے وطن کردیا ۔محفوظ مقامات سے گرفتار کرلیا اور تابوت پر اٹھوادیا جہاں لوگ کاندھوں پر اٹھائے ہوئے۔انگلیوں کاسہارا دئیے ہوئے ایک دوسرے کے حوالے کر رہے تھے۔کیاتم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دور دراز امیدیں رکھتے تھے اورمستحکم مکانات بناتے تھے اوربے تحاشہ مال جمع کرتے تھے کہ کس طرح ان کے گھر قبروں میں تبدیل ہوگئے اورسب کیا دھرا تباہ ہوگیا۔اب اموال ورثہ کے لئے ہیں اور ازواج دوسرے لوگوں کے لئے نہ نیکیوں میں اضافہ کر سکتے ہیں

۲۳۵

ولَا مِنْ سَيِّئَةٍ يَسْتَعْتِبُونَ - فَمَنْ أَشْعَرَ التَّقْوَى قَلْبَه بَرَّزَ مَهَلُه - وفَازَ عَمَلُه فَاهْتَبِلُوا هَبَلَهَا - واعْمَلُوا لِلْجَنَّةِ عَمَلَهَا - فَإِنَّ الدُّنْيَا لَمْ تُخْلَقْ لَكُمْ دَارَ مُقَامٍ - بَلْ خُلِقَتْ لَكُمْ مَجَازاً - لِتَزَوَّدُوا مِنْهَا الأَعْمَالَ إِلَى دَارِ الْقَرَارِ - فَكُونُوا مِنْهَا عَلَى أَوْفَازٍ - وقَرِّبُوا الظُّهُورَ لِلزِّيَالِ

(۱۳۳)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يعظم اللَّه سبحانه ويذكر القرآن والنبي ويعظ الناس

عظمة اللَّه تعالى

وانْقَادَتْ لَه الدُّنْيَا والآخِرَةُ بِأَزِمَّتِهَا - وقَذَفَتْ إِلَيْه السَّمَاوَاتُ والأَرَضُونَ مَقَالِيدَهَا - وسَجَدَتْ لَه بِالْغُدُوِّ والآصَالِ الأَشْجَارُ النَّاضِرَةُ - وقَدَحَتْ لَه مِنْ قُضْبَانِهَا النِّيرَانَ الْمُضِيئَةَ - وآتَتْ أُكُلَهَا بِكَلِمَاتِه الثِّمَارُ الْيَانِعَةُ.

اور نہ برائیوں کے سلسلہ میں رضائے الٰہی کا سامان فراہم کر سکتے ہیں۔یاد رکھو جس نے تقویٰ کو شعار بنالیا وہی آگے نکل گیا اور اسی کا عمل کامیاب ہوگیا۔لہٰذا تقوی کے موقع کو غنیمت سمجھ اور جنت کے لئے اس کے اعمال انجام دے لو۔یہ دنیا تمہارے قیام(۱) کی جگہ نہیں ہے۔یہ فقط ایک گزر گاہ ہے کہ یہاں سے ہمیشگی کے مکان کے لئے سامان فراہم کرلو لہٰذا جلدی تیاری کرو اور سواریوں کو کوچ کے لئے اپنے سے قریب تر کرلو۔

(۱۳۳)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں اللہ کی عظمت اور قرآن کی جلالت کا ذکر ہے اور پھر لوگوں کو نصیحت بھی کی گئی ہے )

(پروردگار ) دنیا و آخرت دونوں نے اپنی باگ ڈور اسی کے حوالہ کر رکھی ہے اور زمین و آسمان نے اپنی کنجیاں اسی کی خدمت میں پیش کردی ہیں۔اس کی بارگاہ میں صبح و شام سر سبز شاداب درخت سجدہ ریز رہتے ہیں اور اپنی لکڑی سے چمکدار آگ نکالتے رہتے ہیں اور اسی کے حکم کے مطابق پکے ہوئے پھل پیش کر تے رہتے ہیں۔

(۱)انسانی زندگی میں کامیابی کا راز یہی ایک نکتہ ہے کہ یہ دنیا انسان کی منزل نہیں ہے بلکہ ایک گذر گاہ ہے جس سے گزر کر ایک عظیم منزل کی طرف جانا ہے اور یہ مالک کا کرم ہے کہ اس نے یہاں سے سامان فراہم کرنے کی اجازت دیدی ہے اور یہاں کے سامان کو وہاں کے لئے کارآمد بنادیا ہے۔یہ اوربات ہے کہ دونوں جگہ کا فرق یہ ہے کہ یہاں کے لئے سامان رکھاجاتا ہے تو کام آتا ہے اور وہاں کے لئے راہ خدا میں دے دیا جاتا ہے تو کام آتا ہے۔غنی اورمالداردنیا سجا سکتے ہیں لیکن آخرت نہیں بنا سکتے ہیں ۔وہ صرف کریم اور صاحب خیر افراد کے لئے ہے جن کاشعار تقویٰ ہے اور جن کا اعتماد وعدہ ٔ الٰہی پر ہے۔

۲۳۶

القرآن

منها: وكِتَابُ اللَّه بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ - نَاطِقٌ لَا يَعْيَا لِسَانُه - وبَيْتٌ لَا تُهْدَمُ أَرْكَانُه - وعِزٌّ لَا تُهْزَمُ أَعْوَانُه.

رسول اللَّه

منها: أَرْسَلَه عَلَى حِينِ فَتْرَةٍ مِنَ الرُّسُلِ - وتَنَازُعٍ مِنَ الأَلْسُنِ - فَقَفَّى بِه الرُّسُلَ وخَتَمَ بِه الْوَحْيَ - فَجَاهَدَ فِي اللَّه الْمُدْبِرِينَ عَنْه والْعَادِلِينَ بِه.

الدنيا

منها: وإِنَّمَا الدُّنْيَا مُنْتَهَى بَصَرِ الأَعْمَى - لَا يُبْصِرُ مِمَّا وَرَاءَهَا شَيْئاً - والْبَصِيرُ يَنْفُذُهَا بَصَرُه - ويَعْلَمُ أَنَّ الدَّارَ وَرَاءَهَا - فَالْبَصِيرُ مِنْهَا

شَاخِصٌ - والأَعْمَى إِلَيْهَا شَاخِصٌ - والْبَصِيرُ مِنْهَا مُتَزَوِّدٌ - والأَعْمَى لَهَا مُتَزَوِّدٌ.

عظة الناس

منها: واعْلَمُوا أَنَّه لَيْسَ مِنْ شَيْءٍ - إِلَّا ويَكَادُ صَاحِبُه يَشْبَعُ مِنْه - ويَمَلُّه إِلَّا الْحَيَاةَ فَإِنَّه لَا يَجِدُ فِي الْمَوْتِ رَاحَةً -

(قرآن حکیم)

کتاب خدا نگاہ کے سامنے ہے۔یہ وہ ناطق ہے جس کی زبان عاجز نہیں ہوتی ہے اور یہ وہ گھر ہے جس کے ارکان منہدم نہیں ہوتے ہیں۔یہی وہ عزت ہے جس کے اعوان و انصار شکست خوردہ نہیں ہوتے ہیں۔

(رسول اکرم (ص))

اللہ نے آپ کو اس وقت بھیجا جب رسولوں کا سلسلہ رکا ہوا تھا اور زبانیں آپس میں ٹکرا رہی تھیں۔آپ کے ذریعہ رسولوں کے سلسلہ کو تمام کیا اور وحی کے سلسلہ کو موقوف کیا تو آپ نے بھی اس سے انحراف کرنے والوں اور اس کاہمسرٹھہرانے والوں سے جم کر جہاد کیا۔

(دنیا)

یہ دنیا اندھے کی بصارت کی آخری منزل ہے جو اس کے ماوراء کچھ نہیں دیکھتا ہے جب کہ صاحب بصیرت کی نگاہ اس پار نکل جاتی ہے اور وہ جانتا ہے کہ منزل اس کے ماورا ہے۔صاحب بصیرت اس سے کوچ کرنے والا ہے اور اندھا اس کی طرف کوچ کرنے والا ہے۔بصیرا اس سے زاد راہ فراہم کرنے والا ہے اور اندھا اس کے لئے زاد راہ اکٹھا کرنے والا ہے ۔

(موعظہ)

یاد رکھو کہ دنیا میں جو شے بھی ہے اس کامالک سیر ہوجاتا ہے اور اکتا جاتا ہے علاوہ زندگی کے کہ کوئی شخص موت میں راحت نہیں محسوس کرتا ہے

۲۳۷

وإِنَّمَا ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ الْحِكْمَةِ - الَّتِي هِيَ حَيَاةٌ لِلْقَلْبِ الْمَيِّتِ - وبَصَرٌ لِلْعَيْنِ الْعَمْيَاءِ - وسَمْعٌ لِلأُذُنِ الصَّمَّاءِ - ورِيٌّ لِلظَّمْآنِ وفِيهَا الْغِنَى كُلُّه والسَّلَامَةُ - كِتَابُ اللَّه تُبْصِرُونَ بِه - وتَنْطِقُونَ بِه وتَسْمَعُونَ بِه - ويَنْطِقُ بَعْضُه بِبَعْضٍ - ويَشْهَدُ بَعْضُه عَلَى بَعْضٍ - ولَا يَخْتَلِفُ فِي اللَّه - ولَا يُخَالِفُ بِصَاحِبِه عَنِ اللَّه - قَدِ اصْطَلَحْتُمْ عَلَى الْغِلِّ فِيمَا بَيْنَكُمْ - ونَبَتَ الْمَرْعَى عَلَى دِمَنِكُمْ - وتَصَافَيْتُمْ عَلَى حُبِّ الآمَالِ - وتَعَادَيْتُمْ فِي كَسْبِ الأَمْوَالِ - لَقَدِ اسْتَهَامَ بِكُمُ الْخَبِيثُ وتَاه بِكُمُ الْغُرُورُ - واللَّه الْمُسْتَعَانُ عَلَى نَفْسِي وأَنْفُسِكُمْ.

(۱۳۴)

ومن كلام لهعليه‌السلام

وقد شاوره عمر بن الخطاب في الخروج إلى غزو الروم

وقَدْ تَوَكَّلَ اللَّه - لأَهْلِ هَذَا الدِّينِ بِإِعْزَازِ الْحَوْزَةِ

اور یہ بات اس حکمت(۱) کی طرح ہے جس میں مردہ دلوں کیزندگی ، اندھی آنکھوں کی بصارت ' بہرے کانوں کی سماعت اور پیاسے کی سیرابی کا سامان ہے اور اسی میں ساری مالداری ہے اور مکمل سلامتی ہے۔ یہ کتاب خدا ہے جس میں تمہاری بصارت اور سماعت کا سارا سامان موجود ہے۔اس میں ایک حصہ دوسرے کی وضاحت کرتا ہے اور ایک دوسرے کی گواہی دیتا ہے۔یہ خدا کے بارے میں اختلاف نہیں رکھتا ہے اور اپنے ساتھی کو خدا سے الگ نہیں کرتا ہے۔مگر تم نے آپس میں کینہ و حسد پر اتفاق کرلیا ہے اور اسی گھورےپر پر سبزہ اگ آیا ہے۔امیدوں کی محبت میں ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوا اور مال جمع کرنے میں یک دوسرے کے دشمن ہو۔شیطان نے تمہیں سر گرداں کردیا ہے اورفریب نے تم کو بہکا دیا ہے۔اب اللہ ہی میرے اور تمہارے نفسوں کے مقابلہ میں ایک سہارا ہے۔

(۱۳۴)

آپ کا ارشاد گرامی

(جب عمر نے روم کی جنگ کے بارے میں آپ سے مشورہ کیا)

اللہ نے صاحبا ن دین کے لئے یہ ذمہ داری لے لی ہے کہ وہ ان کے حدود کو تقویت دے گا

(۱)اگرچہ دنیامیں زندہ رہنے کی خواہش عام طور سے آخرت کے خوف سے پیدا ہوتی ہے کہ انسان اپنے اعمال اور انجام کی طرف سے مطمئن نہیں ہوتا ہے اور اسی لئے موت کے تصور سے لرز جاتا ہے لیکن اس کے باوجود یہ خواہش عیب نہیں ہے بلکہ یہی جذبہ ہے جو انسان کو عمل کرنے پر آمادہ کرتا ہے اور اسی کے لئے انسان دن اور رات کوایک کردیتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اس خواہش حیات کو حکمت کے ساتھ استعمال کرے اور اس سے ویسا ہی کام لے جو حکمت صحیح اورف کر سلیم سے لیا جاتا ہے ورنہ یہی خواہش و بال جان بھی بن سکتی ہے۔

۲۳۸

وسَتْرِ الْعَوْرَةِ. والَّذِي نَصَرَهُمْ - وهُمْ قَلِيلٌ لَا يَنْتَصِرُونَ - ومَنَعَهُمْ وهُمْ قَلِيلٌ لَا يَمْتَنِعُونَ - حَيٌّ لَا يَمُوتُ.

إِنَّكَ مَتَى تَسِرْ إِلَى هَذَا الْعَدُوِّ بِنَفْسِكَ - فَتَلْقَهُمْ فَتُنْكَبْ - لَا تَكُنْ لِلْمُسْلِمِينَ كَانِفَةٌ دُونَ أَقْصَى بِلَادِهِمْ - لَيْسَ بَعْدَكَ مَرْجِعٌ يَرْجِعُونَ إِلَيْه - فَابْعَثْ إِلَيْهِمْ رَجُلًا مِحْرَباً - واحْفِزْ مَعَه أَهْلَ الْبَلَاءِ والنَّصِيحَةِ - فَإِنْ أَظْهَرَ اللَّه فَذَاكَ مَا تُحِبُّ - وإِنْ تَكُنِ الأُخْرَى - كُنْتَ رِدْءاً لِلنَّاسِ ومَثَابَةً لِلْمُسْلِمِينَ.

(۱۳۵)

ومن كلام لهعليه‌السلام

وقد وقعت مشاجرة بينه وبين عثمان فقال المغيرة بن الأخنس لعثمان: أنا أكفيكه، فقال عليعليه‌السلام للمغيرة:

اور ان کے محفوظ مقامات کی حفاظت کرے گا۔اور جس نے ان کی اس وقت مدد کی ہے جب وہ قلت کی بنا پر انتقام کے قابل بھی نہ تے اور اپنی حفاظت کا انتظام بھی نہ کر سکتے تھے وہ ابھی بھی زندہ ہے اور اس کے لئے موت نہیں ہے۔تم اگر خود دشمن کی طرف جائو گے اور ان کا سامنا کروگے اور نکبت(۱) میں مبتلا ہوگئے تو مسلمانوں کے لئے آخری شہرکے علاوہ کوئی پناہ گاہ نہ رہ جائے گی اور تمہارے بعد میدان میں کوئی مرکز بھی نہ رہ جائے گا جس کی طرف رجوع کرسکیں لہٰذا مناسب یہی ہے کہ کسی تجربہ کارآدمی کو بھیج دو اور اس کے ساتھ صاحبان خیرو مہارت کی ایک جماعت کو کردو۔اس کے بعداگر خدا نے غلبہ دے دیا تویہی تمہارامقصد ہے اور اگر اس کے خلاف ہوگیا تو تم لوگوں کا سہارااورمسلمانوں کےلئے ایک پلٹنےکا مرکز رہو گے۔

(۱۳۵)

آپ کا ارشاد گرامی

(جب آپ کااورعثمان کے درمیان اختلافات پیداہوا اورمغیرہ بن اخنس نے عثمان سے کہا کہ میں ان کا کام تمام کرسکتا ہوں توآپ نےفرمایا )

(۱)میدان جنگ میں نکبت و رسوائی کے احتمال کے ساتھ کسی مرد میدان کے بھیجنے کا مشورہ اس نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ میدان جہاد میں ثبات قدم تمہاری تاریخ نہیں ہے اور نہ یہ تمہارے بس کاکام ہے لہٰذا مناسب یہی ہے کہکسی تجربہ کارشخص کو ماہرین کی ایک جماعت کے ساتھ روانہ کردو تاکہ اسلام کی رسوائی نہ ہوسکے اورمذہب کا وقار بر قرار رہے۔اس کے بعد تمہیں ''فاتح اعظم '' کا لقب تو بہر حال مل ہی جائے گا جس کے دورمیں علاقہ فتح ہوتا ہے تاریخ اسی کو فاتح کا لقب دیتی ہے اورمجاہدین کویکسر نظر انداز کر دیتی ہے۔

یہ بھی امیر المومنین کا ایک حوصلہ تھا کہ شدید اختلافات اور بے پناہ مصائب کے باوجود مشورہ سے دریغ نہیں کیا اور وہی مشورہ دیا جو اسلام اور مسلمانوں کے حق میں تھا۔اس لئے کہ آپ اس حقیقت سے بہر حال با خبرتھے کہافراد سے اختلاف مقصد اور مذہب کی حفاظت کو ذمہ داری سے بے نیاز نہیں بنا سکتا ہے اور اسلام کے تحفظ کی ذمہ داری ہر مسلمان پر عائد ہوتی ہے چاہے وہ بر سراقتدار ہو یا نہ ہو۔

۲۳۹

يَا ابْنَ اللَّعِينِ الأَبْتَرِ - والشَّجَرَةِ الَّتِي لَا أَصْلَ لَهَا ولَا فَرْعَ - أَنْتَ تَكْفِينِي - فَوَ اللَّه مَا أَعَزَّ اللَّه مَنْ أَنْتَ نَاصِرُه - ولَا قَامَ مَنْ أَنْتَ مُنْهِضُه - اخْرُجْ عَنَّا أَبْعَدَ اللَّه نَوَاكَ ثُمَّ ابْلُغْ جَهْدَكَ - فَلَا أَبْقَى اللَّه عَلَيْكَ إِنْ أَبْقَيْتَ!

(۱۳۶)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في أمر البيعة

لَمْ تَكُنْ بَيْعَتُكُمْ إِيَّايَ فَلْتَةً - ولَيْسَ أَمْرِي وأَمْرُكُمْ وَاحِداً - إِنِّي أُرِيدُكُمْ لِلَّه وأَنْتُمْ تُرِيدُونَنِي لأَنْفُسِكُمْ.

أَيُّهَا النَّاسُ أَعِينُونِي عَلَى أَنْفُسِكُمْ وايْمُ اللَّه لأُنْصِفَنَّ الْمَظْلُومَ مِنْ ظَالِمِه ولأَقُودَنَّ الظَّالِمَ بِخِزَامَتِه - حَتَّى أُورِدَه مَنْهَلَ الْحَقِّ وإِنْ كَانَ كَارِهاً.

(۱۳۷)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في شأن طلحة والزبير وفي البيعة له

طلحة والزبير

واللَّه مَا أَنْكَرُوا عَلَيَّ مُنْكَراً - ولَا جَعَلُوا بَيْنِي وبَيْنَهُمْ

اے بد نسل ملعون کے بچے ! اور اس درخت کے پھل جس کی نہ کوئی اصل ہے اور نہ فرع۔تو میرے لئے کافی ہو جائے گا؟ خدا کی قسم جس کا تومدد گار ہوگا اسکے لئے عزت نہیں ہے اور جسے تو اٹھائے گا وہ کھڑے ہونے کے قابل نہ ہوگا۔نکل جا۔اللہ تیری منزل کو دور کردے۔جا اپنی کوششیں تمام کرلے۔خدا تجھ پر رحم نہ کرے گا اگر تو مجھ پرترس بھی کھائے۔

(۱۳۶)

آپ کا ارشاد گرامی

(بیعت کے بارے میں )

میرے ہاتھوں پر تمہاری بیعت کوئی نا گہانی حادثہ نہیں ہے۔اور میرا اور تمہارا معاملہ ایک جیسا بھی نہیں ہے۔میں تمہیں اللہ کے لئے چاہتا ہوں اور تم مجھے اپنے فائدہ کے لئے چاہتے ہو۔

لوگو! اپنی نفسانی خواہشات کے مقابلہ میں میری مدد کرو۔خدا کی قسم میں مظلوم کوظالم سے اس کاحق دلوائوں گا اور ظالم کو اس کی ناک میں نکیل ڈال کرکھینچوں گا تاکہ اسے چشمہ حق پر وارد کردوں چاہے وہ کسی قدرناراض کیوں نہ ہو۔

(۱۳۷)

آپ کا ارشاد گرامی

(طلحہ و زبیر اور ان کی بیعت کے بارے میں )

خدا کی قسم ان لوگوں نے نہ میری کسی واقعی برائی کی گرفت کی ہے اورنہ میرے اور اپنے

۲۴۰

نِصْفاً - وإِنَّهُمْ لَيَطْلُبُونَ حَقّاً هُمْ تَرَكُوه ودَماً هُمْ سَفَكُوه - فَإِنْ كُنْتُ شَرِيكَهُمْ فِيه فَإِنَّ لَهُمْ نَصِيبَهُمْ مِنْه - وإِنْ كَانُوا وَلُوه دُونِي فَمَا الطَّلِبَةُ إِلَّا قِبَلَهُمْ - وإِنَّ أَوَّلَ عَدْلِهِمْ لَلْحُكْمُ عَلَى أَنْفُسِهِمْ –

وإِنَّ مَعِي لَبَصِيرَتِي مَا لَبَسْتُ ولَا لُبِسَ عَلَيَّ - وإِنَّهَا لَلْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ فِيهَا الْحَمَأُ والْحُمَّةُ - والشُّبْهَةُ الْمُغْدِفَةُ وإِنَّ الأَمْرَ لَوَاضِحٌ - وقَدْ زَاحَ الْبَاطِلُ عَنْ نِصَابِه - وانْقَطَعَ لِسَانُه عَنْ شَغْبِه -

وايْمُ اللَّه لأُفْرِطَنَّ لَهُمْ حَوْضاً أَنَا مَاتِحُه - لَا يَصْدُرُونَ عَنْه بِرِيٍّ - ولَا يَعُبُّونَ بَعْدَه فِي حَسْيٍ !

درمیان انصاف سے کام لیا ہے۔یہ ایک ایسے حق کا مطالبہ(۱) کر رہے ہیں جس کو خود انہوں نے نظر انداز کیا ہے اورایسے خون کابدلہ چاہتے ہیں جس کو خود انہوں نے بہایا ہے۔اگرمیں اس معاملہ میں شریک تھا تو ایک حصہ ان کا بھی ہوگا اور اگر یہ تنہا ذمہدار تھے تو مطالبہ خود انہیں سے ہونا چاہیے اور سب سے پہلے انہیں اپنے خلاف فیصلہ کرنا چاہیے۔

(الحمد للہ )میرے ساتھ میری بصیرت ہے نہ میں نے اپنے کو دھوکہ میں رکھا ہے اور نہ مجھے دھوکہ دیا جا سکا ہے۔یہ لوگ ایک باغی گروہ ہیں جن میں میرے قرابتدار بھی ہیں اور بچھو کا ڈنک بھی ہے اور پھرحقائق کی پردہ پوشی کرنے والے شبہ بھی ہے۔حالانکہ مسئلہ بالکل واضح ہے اور باطل اپنے مرکز سے ہٹ چکا ہے اور اس کی زبان شور و شغب کے سلسلہ میں کٹ چکی ہے۔

خدا کی قسم میں ان کے لئے ایسا حوض چھلکائوں گا جس سے پانی نکالنے والا بھی میں ہی ہوں گا۔یہ نہ اس سے سیراب ہو کر جا سکیں گے اور نہ اس کے بعد کسی تالاب سے پانی پینے کے لائق رہ سکیں گے ۔

(۱)یہ کاروبار زلیخا کے دور سے نسوانی فطرت میں داخل ہوگیا ہے کہ جب دنیا کی نگاہیں اپنی غلطی کی طرف اٹھنے لگیں تو فوراً دوسرے کی غلطی کا نعرہ لگادیا جائے تاکہمسئلہ مشتبہ ہو جائے اورلوگ حقائق کا صحیح ادراک نہ کر سکیں ۔قتل عثمان کے بعد یہی کام حضرت عائشہ نے کیا کہ پہلے لوگوں کو قتل عثمان پرآمادہ کیا۔اس کے بعد خود ہی خون عثمان کی دعویدار بن گئیں اور پھر ان کے ساتھ مل کر یہی زنانہ اقدام طلحہ و زبیر نے بھی کیا۔اسی لئے امیر المومنین نے آخر کلام میں اپنے مرد میدان ہونے کا اشارہ دیا ہے کہ مردان جنگ اس طرح کینسوانی حرکات نہیں کیا کرتے ہیں۔بلکہ شریف عورتیں بھی اپنے کو ایسے کردار سے ہمیشہ الگ رکھتی ہیں اور حق کا ساتھ دیتی ہیں یا حق پر قائم رہ جاتی ہے۔ان کے کردار میں دورنگی نہیں ہوتی ہے۔

۲۴۱

أمر البيعة

منه: - فَأَقْبَلْتُمْ إِلَيَّ إِقْبَالَ الْعُوذِ الْمَطَافِيلِ عَلَى أَوْلَادِهَا - تَقُولُونَ الْبَيْعَةَ الْبَيْعَةَ - قَبَضْتُ كَفِّي فَبَسَطْتُمُوهَا - ونَازَعَتْكُمْ يَدِي فَجَاذَبْتُمُوهَا - اللَّهُمَّ إِنَّهُمَا قَطَعَانِي وظَلَمَانِي - ونَكَثَا بَيْعَتِي وأَلَّبَا النَّاسَ عَلَيَّ - فَاحْلُلْ مَا عَقَدَا ولَا تُحْكِمْ لَهُمَا مَا أَبْرَمَا - وأَرِهِمَا الْمَسَاءَةَ فِيمَا أَمَّلَا وعَمِلَا - ولَقَدِ اسْتَثَبْتُهُمَا قَبْلَ الْقِتَالِ - واسْتَأْنَيْتُ بِهِمَا أَمَامَ الْوِقَاعِ - فَغَمَطَا النِّعْمَةَ ورَدَّا الْعَافِيَةَ.

(۱۳۸)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يومئ فيها إلى ذكر الملاحم

يَعْطِفُ الْهَوَى عَلَى الْهُدَى - إِذَا عَطَفُوا الْهُدَى عَلَى الْهَوَى - ويَعْطِفُ الرَّأْيَ عَلَى الْقُرْآنِ - إِذَا عَطَفُوا الْقُرْآنَ عَلَى الرَّأْيِ.

ومنها - حَتَّى تَقُومَ الْحَرْبُ بِكُمْ عَلَى سَاقٍ بَادِياً نَوَاجِذُهَا - مَمْلُوءَةً أَخْلَافُهَا

مسئلہ بیعت

تم لوگ'' کل '' بیعت بیعت کا شور مچاتے ہوئے میری طرف اس طرح آئے تھے جس طرح نبی جننے والی اونٹنی اپنے بچوں کی طرف دوڑتی ہے۔میں نے اپنی مٹھی بند کرلی مگر تم نے کھول دی۔میں نے اپنا ہاتھ روک لیا مگر تم نے کھینچ لیا۔خدایا تو گواہ رہنا کہ ان دونوں نے مجھ سے قطع تعلق کرکے مجھ پر ظلم کیا ہے اور میری بیعت توڑ کرل وگوں کو میرے خلاف اکسایا ہے ۔ اب تو ان کی گرہوں کو کھول دے اور جورسی انہوں نے بٹی ہے اس میں استحکام نہ پیدا ہونے دے اور انہیں ان کی امیدوں اور ان کے اعمال کے بد ترین نتائج کو دکھلادے۔میں نے جنگ سے پہلے انہیں بہت روکنا چاہا اور میدان جہاد میں اترنے سے پہلے بہت کچھ مہلت دی۔ لیکن ان دونوں نے نعمت کا انکار کردیا اور عافیت کو رد کردیا۔

(۱۳۸)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں مستقبل کے حوادث کا اشارہ ہے)

وہ بندہ ٔ خدا خواہشات کو ہدایت کی طرف موڑدے گا جب لوگ ہدایت کو خواہشات کی طرف موڑ رہے ہوں گے اوروہ رائے کو قرآن کی طرف جھکا دے گا جب لوگ قرآن کو رائے کی طرف جھکا رہے ہوں گے۔

(دوسرا حصہ) یہاں تک کہ جنگ اپنے پیروں پر کھڑی ہو جائے گی دانت نکالے ہوئے اورتھنوں کوپر کئے ہوئے۔لیکن

۲۴۲

حُلْواً رَضَاعُهَا عَلْقَماً عَاقِبَتُهَا - أَلَا وفِي غَدٍ وسَيَأْتِي غَدٌ بِمَا لَا تَعْرِفُونَ - يَأْخُذُ الْوَالِي مِنْ غَيْرِهَا عُمَّالَهَا عَلَى مَسَاوِئِ أَعْمَالِهَا - وتُخْرِجُ لَه الأَرْضُ أَفَالِيذَ كَبِدِهَا - وتُلْقِي إِلَيْه سِلْماً مَقَالِيدَهَا - فَيُرِيكُمْ كَيْفَ عَدْلُ السِّيرَةِ - ويُحْيِي مَيِّتَ الْكِتَابِ والسُّنَّةِ.

منها - كَأَنِّي بِه قَدْ نَعَقَ بِالشَّامِ - وفَحَصَ بِرَايَاتِه فِي ضَوَاحِي كُوفَانَ - فَعَطَفَ عَلَيْهَا عَطْفَ الضَّرُوسِ - وفَرَشَ الأَرْضَ بِالرُّءُوسِ - قَدْ فَغَرَتْ فَاغِرَتُه وثَقُلَتْ فِي الأَرْضِ وَطْأَتُه بَعِيدَ الْجَوْلَةِ عَظِيمَ الصَّوْلَةِ - واللَّه لَيُشَرِّدَنَّكُمْ فِي أَطْرَافِ الأَرْضِ - حَتَّى لَا يَبْقَى مِنْكُمْ إِلَّا قَلِيلٌ كَالْكُحْلِ فِي الْعَيْنِ - فَلَا تَزَالُونَ كَذَلِكَ - حَتَّى تَئُوبَ إِلَى الْعَرَبِ عَوَازِبُ أَحْلَامِهَا - فَالْزَمُوا السُّنَنَ الْقَائِمَةَ والآثَارَ الْبَيِّنَةَ - والْعَهْدَ الْقَرِيبَ الَّذِي عَلَيْه بَاقِي النُّبُوَّةِ - واعْلَمُوا أَنَّ الشَّيْطَانَ - إِنَّمَا يُسَنِّي لَكُمْ طُرُقَه لِتَتَّبِعُوا عَقِبَه.

اس طرح کہ اس کا دودھ پینے میں شیریں معلوم ہوگا اور اسکا انجام بہت برا ہوگا۔یاد رکھو کہ کل اور کل بہت(۱) جلد وہ حالات لے کر آنے والا ہے جس کاتمہیں اندازہ نہیں ہےاس جماعت سے باہر کا والی تمام عمال کی بد اعمالیوں کا محاسبہ کرے گا اورزمین تمام جگرکے ٹکڑوں کو نکال دےگی اور نہایت آسانی کےساتھ اپنی کنجیاں اسکے حوالہ کردے گی اور پھروہ تمہیں دکھلائے گا کہ عادلانہ سیرت کیا ہوتی ہےاورمردہ کتاب و سنت کوکس طرح زندہ کیا جاتا ہے۔

(تیسرا حصہ)میں یہ منظر دیکھ رہا ہوں کہ ایک شخص شام میں للکار رہاہے اورکوفہ کے گرد اس کے جھنڈے لہرا رہے ہیں وہ اس کی طرف کاٹنے والی اونٹنی کی طرح متوجہ ہے اور زمین پر سروں کا فرش بچھا رہا ہے۔اس کا منہ کھلا ہوا ہے اور زمین پراس کی دھمک محسوس ہو رہی ہے۔وہ دور دورتک جولانیاں دکھلانے والا ہے اورشدید ترین حملے کرنے والا ہےخداکی قسم وہ تمہیں اطراف زمین میں اس طرح منتشر کردےگا کہ صرف اتنے ہی آدمی باقی رہ جائیںگے جیسے آنکھ میں سرمہ۔اورپھرتمہارا یہی حشررہےگا۔یہاں تک کہ عربوں کی گم شدہ عقل پلٹ کرآجائے لہٰذا ابھی غنیمت ہےمضبوط طریقہ' واضح آثار اوراس قریبی عہدسے وابستہ رہوجس میں نبوت کےپائیدار آثار ہیں اوری ہ یاد رکھوکہ شیطان اپنےراستوں کو ہموار رکھتا ہے تاکہ تم اسکےنقش قدم پربرابرچلتے رہو۔

(۱)انسانیت اس عہد زریں کے لئے سراپا انتظار ہے جب خدائی نمائندہ دنیا کے تمام حکام کا محاسبہ کرکے عدل وانصاف کا نظام قائم کردے اور زمین اپنے تمام خزانے اگل دے۔دنیا میں راحت و اطمینان کا دور دورہ ہو اور دین خدا اقتدار کلی کا مالک ہو جائے

۲۴۳

(۱۳۹)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في وقت الشورى

لَنْ يُسْرِعَ أَحَدٌ قَبْلِي إِلَى دَعْوَةِ حَقٍّ - وصِلَةِ رَحِمٍ وعَائِدَةِ كَرَمٍ - فَاسْمَعُوا قَوْلِي وعُوا مَنْطِقِي - عَسَى أَنْ تَرَوْا هَذَا الأَمْرَ مِنْ بَعْدِ هَذَا الْيَوْمِ - تُنْتَضَى فِيه السُّيُوفُ وتُخَانُ فِيه الْعُهُودُ - حَتَّى يَكُونَ بَعْضُكُمْ أَئِمَّةً لأَهْلِ الضَّلَالَةِ - وشِيعَةً لأَهْلِ الْجَهَالَةِ.

(۱۴۰)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في النهي عن غيبة الناس

وإِنَّمَا يَنْبَغِي لأَهْلِ الْعِصْمَةِ والْمَصْنُوعِ إِلَيْهِمْ فِي السَّلَامَةِ - أَنْ يَرْحَمُوا أَهْلَ الذُّنُوبِ والْمَعْصِيَةِ - ويَكُونَ الشُّكْرُ هُوَ الْغَالِبَ عَلَيْهِمْ - والْحَاجِزَ لَهُمْ عَنْهُمْ - فَكَيْفَ بِالْعَائِبِ الَّذِي عَابَ أَخَاه وعَيَّرَه بِبَلْوَاه - أَمَا ذَكَرَ مَوْضِعَ سَتْرِ اللَّه عَلَيْه مِنْ ذُنُوبِه - مِمَّا هُوَ أَعْظَمُ مِنَ الذَّنْبِ الَّذِي عَابَه بِه - وكَيْفَ يَذُمُّه بِذَنْبٍ قَدْ رَكِبَ مِثْلَه

(۱۳۹)

آپ کا ارشاد گرامی

(شوریٰ کے موقع پر)

(یاد رکھو )کہ مجھ سے پہلے حق کی دعوتدت نے والا صلہ رحم کرنے والا اور جود و کرم کا مظاہرہ کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔لہٰذا میرے قول پر کان دھرو اورمیری گفتگو کو سمجھو کہ عنقریب تم دیکھوگے کہ اس مسئلہ پر تلواریں نکل رہی ہیں ۔عہد و پیمان توڑے جا رہے ہیں اورتم میں سے بعض گمراہوں کے پیشوا ہوئے جا رہے ہیں اوربعض جاہلوں کے پیرو کار۔

(۱۴۰)

آپ کا ارشادگرامی

(لوگوں کو برائی سے روکتے ہوئے )

دیکھو جو لوگ گناہوں سے محفوظ ہیں اور خدانے ان پر اس سلامتی کا احسان کیا ہے ان کے شایان شان یہی ہے کہ گناہ گاروں اورخطا کاروں پر رحم کریں اور اپنی سلامتی کاشکریہ ہی ان پرغالب رہے اور انہیں ان حرکات سے روکتا رہے۔چہ مائیکہ انسان خودعیب دار ہواور اپنے بھائی کا عیب بیان کرے اور اس کے عیب کی بنا پراس کی سرزنش بھی کرے۔یہ شخص یہ کیوں نہیں یاد کرتاہے کہ پروردگارنے اس کے جن عیوب کوچھپا کر رکھا ہے وہ اس سے بڑے ہیں جن پر یہسرزنش کر رہا ہے اوراس عیب پر کس طرح مذمت کر رہاہے جس کاخود مرتکب ہوتاہے

۲۴۴

فَإِنْ لَمْ يَكُنْ رَكِبَ ذَلِكَ الذَّنْبَ بِعَيْنِه - فَقَدْ عَصَى اللَّه فِيمَا سِوَاه مِمَّا هُوَ أَعْظَمُ مِنْه - وايْمُ اللَّه لَئِنْ لَمْ يَكُنْ عَصَاه فِي الْكَبِيرِ - وعَصَاه فِي الصَّغِيرِ لَجَرَاءَتُه عَلَى عَيْبِ النَّاسِ أَكْبَرُ.

يَا عَبْدَ اللَّه لَا تَعْجَلْ فِي عَيْبِ أَحَدٍ بِذَنْبِه - فَلَعَلَّه مَغْفُورٌ لَه ولَا تَأْمَنْ عَلَى نَفْسِكَ صَغِيرَ مَعْصِيَةٍ - فَلَعَلَّكَ مُعَذَّبٌ عَلَيْه - فَلْيَكْفُفْ مَنْ عَلِمَ مِنْكُمْ عَيْبَ غَيْرِه لِمَا يَعْلَمُ مِنْ عَيْبِ نَفْسِه - ولْيَكُنِ الشُّكْرُ شَاغِلًا لَه عَلَى مُعَافَاتِه مِمَّا ابْتُلِيَ بِه غَيْرُه.

(۱۴۱)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في النهي عن سماع الغيبة وفي الفرق بين الحق والباطل

أَيُّهَا النَّاسُ - مَنْ عَرَفَ مِنْ أَخِيه وَثِيقَةَ دِينٍ وسَدَادَ طَرِيقٍ - فَلَايَسْمَعَنَّ فِيه أَقَاوِيلَ الرِّجَالِ - أَمَا إِنَّه قَدْ يَرْمِي الرَّامِي - وتُخْطِئُ السِّهَامُ ويُحِيلُ الْكَلَامُ - وبَاطِلُ ذَلِكَ يَبُورُ واللَّه سَمِيعٌ وشَهِيدٌ - أَمَا إِنَّه لَيْسَ بَيْنَ الْحَقِّ والْبَاطِلِ إِلَّا أَرْبَعُ أَصَابِعَ.

فسئلعليه‌السلام عن معنى قوله هذا -

اور اگر بعینہ اس کامرتکب نہیں ہوتا ہے تو اس کے علاوہ دوسرے گناہ کرتا ہے جو اس سے بھی عظیم تر ہیں اورخدا کی قسم اگر اس سے عظیم تر نہیں بھی ہیں تو کمتر تو ضرور ہی ہیں اور ایسی صورت میں برائی کرنے اور سرزنش کرنے کی جرأت بہر حال اس سے بھی عظیم تر ہے۔ بندہ خدا:دوسرے کے عیب بیان کرنے میں جلدی نہ کر شائد خدانے اسے معاف کردیا ہو اوراپنے نفس معمولی گناہکے بارے میں محفوظ تصور نہ کر۔شائد کہ خدا اسی پر عذاب کردے۔ہر شخص کو چاہیے کہ دوسرے کے عیب بیان کرنے سے پرہیز کرے کہ اسے اپنا عیب بھی معلومہے اور اگر عیب سے محفوظ ہے تو اس سلامتی کے شکریہ ہی میں مشغول رہے ۔

(۱۴۱)

آپ کا ارشاد گرامی

(جس میں غیبت کے سننے سے روکا گیاہے اورحق و باطل کے فرق کو واضح کیا گیا ہے )

لوگو! جو شخص بھی اپنے بھائی کے دین کی پختگی اور طریقہ کار کی درستگی کا علم رکھتا ہے اسے اس کے بارے میں دوسروں کے اقوال پر کان نہیں دھرنا چاہیے کہ کبھی کبھی انسان تیر اندازی کرتا ہے اوراس کا تیرخطاکرجاتا ہے اورباتیں بناتا ہے اور حرف باطل بہر حال فنا ہو جاتا ہے اوراللہ سب کا سننے والا بھی ہے اور گواہ بھی ہے۔یاد رکھو کہ حق و باطل میں صرف چار انگلیوں کا فاصلہ ہوتاہے۔

لوگوں نے عرض کی حضور اس کا کیا مطلب ہے ؟

۲۴۵

فجمع أصابعه ووضعها بين أذنه وعينه ثم قال الْبَاطِلُ أَنْ تَقُولَ سَمِعْتُ - والْحَقُّ أَنْ تَقُولَ رَأَيْتُ!

(۱۴۲)

ومن كلام لهعليه‌السلام

المعروف في غير أهله

ولَيْسَ لِوَاضِعِ الْمَعْرُوفِ فِي غَيْرِ حَقِّه - وعِنْدَ غَيْرِ أَهْلِه مِنَ الْحَظِّ فِيمَا أَتَى إِلَّا مَحْمَدَةُ اللِّئَامِ - وثَنَاءُ الأَشْرَارِ ومَقَالَةُ الْجُهَّالَ - مَا دَامَ مُنْعِماً عَلَيْهِمْ مَا أَجْوَدَ يَدَه - وهُوَ عَنْ ذَاتِ اللَّه بِخَيْلٌ!

مواضع المعروف

فَمَنْ آتَاه اللَّه مَالًا فَلْيَصِلْ بِه الْقَرَابَةَ - ولْيُحْسِنْ مِنْه الضِّيَافَةَ ولْيَفُكَّ بِه الأَسِيرَ والْعَانِيَ - ولْيُعْطِ مِنْه الْفَقِيرَ والْغَارِمَ - ولْيَصْبِرْ نَفْسَه عَلَى الْحُقُوقِ والنَّوَائِبِ ابْتِغَاءَ الثَّوَابِ - فَإِنَّ فَوْزاً بِهَذِه الْخِصَالِ شَرَفُ مَكَارِمِ الدُّنْيَا - ودَرْكُ فَضَائِلِ الآخِرَةِ إِنْ شَاءَ اللَّه.

تو آپ نے آنکھ اور کان کے درمیان چار انگلیاں رکھ کر فرمایا کہ باطل وہ ہے جو صرف سنا سنایاہوتا ہے اورحق وہ ہے جو اپنی آنکھ کا دیکھا ہوا ہوتا ہے۔

(۱۴۲)

آپ کا ارشاد گرامی

(نا اہل کے ساتھ احسان کرنے کے بارے میں )

یاد رکھو غیر مستحق کے ساتھ احسان کرنے والے اورنا اہل کے ساتھ نیکی کرنے والے کے حصہ میں کمینے لوگوں کی تعریف اوربدترین افراد کی مدح و ثنا ہی آتی ہے اوروہ جب تک کرم کرتا رہتا ہے جہال کہتے رہتے ہیں کہ کس قدر کریم اورسخی ہے یہ شخص۔حالانکہ اللہ کے معاملہ میں یہی شخص بخیل بھی ہوتا ہے۔

(دیکھو اگر خدا کسی شخص کو مال دے تو اس کا فرض ہے کہ قرابتداروں(۱) کاخیال رکھے۔مہمانوں کی مہمان نوازی کرے۔قیدیوں اورخستہ حالوں کو آزاد کرائے۔فقیروں اور قرض داروں کی امداد کرے۔اپنے نفس کو حقوق کی ادائیگی اور مصائب پر آمادہ کرے کہ اس میں ثواب کی امید پائی جاتی ہے اور ان تمام خصلتوں کے حاصل کرنے ہی میں دنیا کی شرافتیں اور کرامتیں ہیں اور انہیں سے آخرت کے فضائل بھی حاصل ہوتے ہیں۔انشاء اللہ۔

(۱)اگر یہ بات صحیح ہے اور یقینا صحیح ہے کہ مال وہی بہتر ہوتا ہے جس کا مال اور انجام بہتر ہوتا ہے تو ہر شخص کا فرض ہے کہ اپنے مال کو انہیں موارد میں صرف کرے جن کی طرف اس خطبہ میں اشارہ کیا گیا ہے ورنہ بے محل صرف سے جاہلوں اور بد کرداروں کی تعریف کے علاوہ کچھ ہاتھ آنے والا نہیں ہے اور اس میں نہ خیر دنیا ہے اور نہ خیر آخرت۔بلکہ یہ دنیا اور آخرت دونوں کی تباہی اور بربادی کا سبب ہے۔پروردگار ہر شخص کو اس جہالت اور ریا کاری سے محفوظ رکھے ۔

۲۴۶

(۱۴۳)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في الاستسقاء

وفيه تنبيه العباد وجوب استغاثة رحمة اللَّه إذا حبس عنهم رحمة المطر

أَلَا وإِنَّ الأَرْضَ الَّتِي تُقِلُّكُمْ - والسَّمَاءَ الَّتِي تُظِلُّكُمْ مُطِيعَتَانِ لِرَبِّكُمْ - ومَا أَصْبَحَتَا تَجُودَانِ لَكُمْ بِبَرَكَتِهِمَا تَوَجُّعاً لَكُمْ - ولَا زُلْفَةً إِلَيْكُمْ ولَا لِخَيْرٍ تَرْجُوَانِه مِنْكُمْ - ولَكِنْ أُمِرَتَا بِمَنَافِعِكُمْ فَأَطَاعَتَا - وأُقِيمَتَا عَلَى حُدُودِ مَصَالِحِكُمْ فَقَامَتَا.

إِنَّ اللَّه يَبْتَلِي عِبَادَه عِنْدَ الأَعْمَالِ السَّيِّئَةِ - بِنَقْصِ الثَّمَرَاتِ وحَبْسِ الْبَرَكَاتِ - وإِغْلَاقِ خَزَائِنِ الْخَيْرَاتِ لِيَتُوبَ تَائِبٌ - ويُقْلِعَ مُقْلِعٌ ويَتَذَكَّرَ مُتَذَكِّرٌ ويَزْدَجِرَ مُزْدَجِرٌ - وقَدْ جَعَلَ اللَّه سُبْحَانَه الِاسْتِغْفَارَ سَبَباً - لِدُرُورِ الرِّزْقِ ورَحْمَةِ الْخَلْقِ فَقَالَ سُبْحَانَه -( اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّه كانَ غَفَّاراً - يُرْسِلِ السَّماءَ عَلَيْكُمْ مِدْراراً - ويُمْدِدْكُمْ بِأَمْوالٍ وبَنِينَ - ويَجْعَلْ لَكُمْ جَنَّاتٍ ويَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهاراً ) - فَرَحِمَ اللَّه امْرَأً

(۱۴۳)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(طلب بارش کے سلسلہ میں )

یاد رکھو کہ جو زمین تمہارا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے اور جو آسمان تمہارے سر پر سایہ فگن ہے دونوں تمہارے رب کے اطاعت گذار ہیں اور یہ جو اپنی برکتیں تمہیں عطا کر رہے ہیں تو ان کا دل تمہارے حال پر نہیں کڑھ رہا ہے۔اور نہ یہ تم سے تقرب چاہتے ہیں اورنہکسی خیر کے امیدوار ہیں۔بات صرف یہ ہے کہ انہیں تمہارے فائدوں کے بارے میں حکم دے دیا گیا ہے تو یہ اطاعت پروردگار کر رہے ہیں اور انہیں تمہارے مصالح کے حدود پرکھڑا کردیا گیا ہے تو کھڑے ہوئے ہیں۔

یاد رکھو کہ اللہ بد اعمالیوں کے موقع پر اپنے بندوں کو ان مصائب میں مبتلا کردیتا ہے کہ پھل گم ہو جاتے ہیں ۔برکتیں رک جاتی ہیں۔خیرات کے خزانوں کے منہ بند ہو جاتے ہیں تاکہ توبہ کرنے والا توبہ کرلے اور بازآجانے والا بازآجائے۔نصیحت حاصل کرنے والا نصیحت حاصل کرلے اور گناہوں سے رکنے والا رک جائے ۔ پروردگارنے استغفار کو رزق کے نزول اور مخلوقات پررحمت کے ورود کاذریعہ قرار دے دیا ہے۔اس کا ارشاد گرامی ہے کہ '' اپنے رب سے استغفار کرو کہ وہ بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔وہ استغفار کے نتیجہ میں تم پرموسلا دھار پانی برسائے گا۔تمہاری اموال اور اولاد کے ذریعہ مدد کرے گا۔تمہارے لئے باغات اورنہریں قراردے گا'' اللہ اس بندہ پر رحم کرے

۲۴۷

اسْتَقْبَلَ تَوْبَتَه - واسْتَقَالَ خَطِيئَتَه وبَادَرَ مَنِيَّتَه.

اللَّهُمَّ إِنَّا خَرَجْنَا إِلَيْكَ مِنْ تَحْتِ الأَسْتَارِ والأَكْنَانِ - وبَعْدَ عَجِيجِ الْبَهَائِمِ والْوِلْدَانِ - رَاغِبِينَ فِي رَحْمَتِكَ ورَاجِينَ فَضْلَ نِعْمَتِكَ - وخَائِفِينَ مِنْ عَذَابِكَ ونِقْمَتِكَ - اللَّهُمَّ فَاسْقِنَا غَيْثَكَ ولَا تَجْعَلْنَا مِنَ الْقَانِطِينَ - ولَا تُهْلِكْنَا بِالسِّنِينَ - ولَا تُؤَاخِذْنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَاءُ مِنَّا يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ - اللَّهُمَّ إِنَّا خَرَجْنَا إِلَيْكَ - نَشْكُو إِلَيْكَ مَا لَا يَخْفَى عَلَيْكَ - حِينَ أَلْجَأَتْنَا الْمَضَايِقُ الْوَعْرَةُ وأَجَاءَتْنَا الْمَقَاحِطُ الْمُجْدِبَةُ - وأَعْيَتْنَا الْمَطَالِبُ الْمُتَعَسِّرَةُ - وتَلَاحَمَتْ عَلَيْنَا الْفِتَنُ الْمُسْتَصْعِبَةُ - اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ أَلَّا تَرُدَّنَا خَائِبِينَ - ولَا تَقْلِبَنَا وَاجِمِينَ ولَا تُخَاطِبَنَا بِذُنُوبِنَا - ولَا تُقَايِسَنَا بِأَعْمَالِنَا - اللَّهُمَّ انْشُرْ عَلَيْنَا غَيْثَكَ وبَرَكَتَكَ - ورِزْقَكَ ورَحْمَتَكَ واسْقِنَا سُقْيَا نَاقِعَةً مُرْوِيَةً مُعْشِبَةً

جو توبہ کی طرف متوجہ ہوجائے خطائوں سے معافی مانگے اور موت سے پہلے نیک اعمال کرلے۔

خدایا ہم پردوں کے پیچھے اور مکانات کے گوشوں سے تیری طرف نکل پڑے ہیں۔ہمارے بچے اور جانور سب فریادی ہیں۔ہم تیریر رحمت کی خواہش رکھتے ہیں۔تیری نعمت کے امیدوار ہیں اور تیرے عذاب اور غضب سے خوفزدہ ہیں۔خدایا ہمیں باران رحمت سے سیراب کردے اور ہمیں مایوس بندوں میں قرارنہدینا اور نہ قحط سے ہلاک کر دینا اور نہ ہم سے ان اعمال کا محاسبہ کرنا جوہمارے جاہلوں نے انجام دئیے ہیں۔اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

خدایا: ہم تیری طرف ان حالات کی فریاد لے کر آئے ہیں جو تجھ سے مخفی نہیں ہیں اور اس وقت نکلے ہیں جب ہمیں سخت تنگیوں نے مجبور کردیا ہے اور قحط سالیوں نے بے بس بنا دیا ہے اورشدید حاجت مندیوں نے لا چار کردیا ہے اور دشوار ترین فتنوں نے تابڑ توڑ حملے کر رکھے ہیں۔خدایا ہماری التماس یہ ہے کہ ہمیں محروم واپس نہ کرنا اور ہمیں نا مراد نہ پلٹانا ۔ہم سے ہمارے گناہوں کی بات نہکرنا اور ہمارے اعمال کا محاسبہ نہ کرنا بلکہ ہم پر اپنی بارش رحمت ' اپنی برکت ' اپنے رزق اور کرم کا دامن پھیلا دے اور ہمیں ایسی سیرابی عطا فرما جوتشنگی کو مٹانے والی۔سیرو سیراب کرنے والی اورسبزہ اگانے والی ہو۔تاکہ جو کھیتیاں گئی گذری ہوگئی ہیں دوبارہ اگ آئیں اور جو زمینیں مردہ ہوگئی ہیں وہ زندہ ہو جائیں۔یہ سیرابی فائدہ مند اور بے پناہ پھلوں والی ہو جس سے ہموار زمینیں سیراب ہو جائیں

۲۴۸

تُنْبِتُ بِهَا مَا قَدْ فَاتَ وتُحْيِي بِهَا مَا قَدْ مَاتَ - نَافِعَةَ الْحَيَا كَثِيرَةَ الْمُجْتَنَى تُرْوِي بِهَا الْقِيعَانَ - وتُسِيلُ الْبُطْنَانَ وتَسْتَوْرِقُ الأَشْجَارَ وتُرْخِصُ الأَسْعَارَ إِنَّكَ عَلَى مَا تَشَاءُ قَدِيرٌ.

(۱۴۴)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

مبعث الرسل

بَعَثَ اللَّه رُسُلَه بِمَا خَصَّهُمْ بِه مِنْ وَحْيِه - وجَعَلَهُمْ حُجَّةً لَه عَلَى خَلْقِه - لِئَلَّا تَجِبَ الْحُجَّةُ لَهُمْ بِتَرْكِ الإِعْذَارِ إِلَيْهِمْ - فَدَعَاهُمْ بِلِسَانِ الصِّدْقِ إِلَى سَبِيلِ الْحَقِّ - أَلَا إِنَّ اللَّه تَعَالَى قَدْ كَشَفَ الْخَلْقَ كَشْفَةً - لَا أَنَّه جَهِلَ مَا أَخْفَوْه مِنْ مَصُونِ أَسْرَارِهِمْ - ومَكْنُونِ ضَمَائِرِهِمْ – ولَكِنْ لِيَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا - فَيَكُونَ الثَّوَابُ جَزَاءً والْعِقَابُ بَوَاءً

فضل أهل البيت

أَيْنَ الَّذِينَ زَعَمُوا أَنَّهُمُ الرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ دُونَنَا - كَذِباً وبَغْياً عَلَيْنَا أَنْ رَفَعَنَا اللَّه ووَضَعَهُمْ - وأَعْطَانَا وحَرَمَهُمْ وأَدْخَلَنَا وأَخْرَجَهُمْ - بِنَا يُسْتَعْطَى الْهُدَى

اور وادیاں بہہ نکلیں۔درختوں میں پتے نکل آئیں اور بازار کی قیمتیں نیچے آجائیں کہ تو ہرشے پر قادر ہے۔

(۱۴۴)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں بعثت انبیاء کاتذکرہ کیا گیا ہے)

پروردگار نے مرسلین کرام کو مخصوص وحی سے نواز کر بھیجاہے اور انہیں اپنے بندوں پر اپنی حجت بنادیا ہے تاکہ بندوں کی یہ حجت تمام نہ ہونے پائے کہ ان کے عذر کاخاتمہ نہیں کیا گیا ہے۔پروردگار نے ان لوگوں کو اسی لسان صدق کے ذریعہ راہ حق کی طرف دعوت دی ہے۔اسے مخلوقات کاحال مکمل طور سے معلوم ہے وہ نہ ان کے چھپے ہوئے اسرارسے بے خبر ہے اورنہ ان پوشیدہ باتوں سے نا واقف ہے جو ان کے دلوں کے اندر مخفی ہے۔ وہ اپنے احکام کے ذریعہ ان کا امتحان لینا چاہتا ہے کہ حسن عمل کے اعتبارسے کون سب سے بہتر ہے تاکہ جزاء میں ثواب عطا کرے اور پاداش میں مبتلائے عذاب کردے۔

(اہل بیت علیہم السلام)

کہاں ہیں وہ لوگ جن کاخیال یہ ہے کہ ہمارے بجائے وہی راسخون فی العلم ہیں اوریہ خیال صرف جھوٹ اور ہمارے خلاف بغاوت سے پیدا ہوا ہےکہ خدانے ہمیں بلند بنادیا ے اورانہیں پست رکھا ہےہمیں کمالات عنایت فرما دئیے ہیں اور انہیں محروم رکھاہےہمیں اپنی رحمت میں داخل کرلیاہےاورانہیں باہررکھا ہے ہمارے ہی ذریعہ سے ہدایت

۲۴۹

ويُسْتَجْلَى الْعَمَى - إِنَّ الأَئِمَّةَ مِنْ قُرَيْشٍ - غُرِسُوا فِي هَذَا الْبَطْنِ مِنْ هَاشِمٍ لَا تَصْلُحُ عَلَى سِوَاهُمْ - ولَا تَصْلُحُ الْوُلَاةُ مِنْ غَيْرِهِمْ.

أهل الضلال

منها: - آثَرُوا عَاجِلًا وأَخَّرُوا آجِلًا - وتَرَكُوا صَافِياً وشَرِبُوا آجِناً - كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى فَاسِقِهِمْ وقَدْ صَحِبَ الْمُنْكَرَ فَأَلِفَه - وبَسِئَ بِه ووَافَقَه حَتَّى شَابَتْ عَلَيْه مَفَارِقُه - وصُبِغَتْ بِه خَلَائِقُه - ثُمَّ أَقْبَلَ مُزْبِداً كَالتَّيَّارِ لَا يُبَالِي مَا غَرَّقَ - أَوْ كَوَقْعِ النَّارِ فِي الْهَشِيمِ لَا يَحْفِلُ مَا حَرَّقَ!

أَيْنَ الْعُقُولُ الْمُسْتَصْبِحَةُ بِمَصَابِيحِ الْهُدَى - والأَبْصَارُ اللَّامِحَةُ إِلَى مَنَارِ التَّقْوَى - أَيْنَ الْقُلُوبُ الَّتِي وُهِبَتْ لِلَّه وعُوقِدَتْ عَلَى طَاعَةِ اللَّه - ازْدَحَمُوا عَلَى الْحُطَامِ وتَشَاحُّوا عَلَى الْحَرَامِ - ورُفِعَ لَهُمْ عَلَمُ الْجَنَّةِ والنَّارِ - فَصَرَفُوا عَنِ الْجَنَّةِ وُجُوهَهُمْ - وأَقْبَلُوا إِلَى النَّارِ بِأَعْمَالِهِمْ - ودَعَاهُمْ رَبُّهُمْ فَنَفَرُوا ووَلَّوْا - ودَعَاهُمُ الشَّيْطَانُ فَاسْتَجَابُوا وأَقْبَلُوا!

طلب کی جاتی ہےاوراندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے۔یاد رکھو قریش کےسارے امام جناب ہاشم کی اسی کشت زار میں قرار دئیے گئے ہیں اوریہ امامت نہ انکے علاوہ کسی کوزیب دیتی ہےاورنہ ان سے باہرکوئی اسکااہل ہوسکتا ہے۔

(گمراہ لوگ)

ان لوگوں نے حاضر دنیا کو اختیار کرلیا ہے اور دیرمیں آنے والی آخرت کو پیچھے ہٹا دیا ہے ۔صاف پانی کو نظر انداز کردیا ہے اور گندہ پانی کو پی لیا ہے۔گویا کہ میں ان کے فاسق کو دیکھ رہا ہوں جو منکرات سے مانوس ہے اور برئیوں سے ہم رنگ وہم آہنگ ہوگیا ہے۔یہاں تک کہ اسی ماحول میں اس کے سر کے بال سفید ہوگئے ہیں۔اور اسی رنگ میں اس کے اخلاقیات رنگ گئے ہیں۔اس کے بعد ایک سیلاب کی طرح اٹھا ہے جسے اس کی فکر نہیں ہے کہ کس کو ڈیو دیا ہے اور بھوسہ کی ایک آگ ہے جسے اس کی پرواہ نہیں ہے کہ کیا کیا جلا دیا ہے۔ کہاں ہیں وہ عقلیں جو ہدایت کے چراغوں سے روشنی حاصل کرنے والی ہیں اور کہاں ہیں وہ نگاہیں جو منارۂ تقویٰ کی طرف نظر کرنے وال یہیں۔کہاں ہیں وہ دل جو اللہ کے لئے دئیے گئے ہیں اور اطاعت خدا پر جم گئے ہیں۔لوگ تو مال دنیا پر ٹوٹ پڑے ہیں اور حرام پر باقاعدہ جھگڑا کر رہے ہیں اور جب جنت و جہنم کا پرچم بلند کیا گیا تو جنت کی طرف سے منہ کو موڑ لیا اور اپنے اعمال کے ساتھ جہنم کی طرف متوجہ ہوگئے۔ان کے پروردگار نے انہیں بلایا تو منہ پھیر کر بھاگ نکلے اور شیطان نے دعوت دی تو لبیک کہتے ہوئے آگئے۔

۲۵۰

(۱۴۵)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

فناء الدنيا

أَيُّهَا النَّاسُ - إِنَّمَا أَنْتُمْ فِي هَذِه الدُّنْيَا غَرَضٌ تَنْتَضِلُ فِيه الْمَنَايَا - مَعَ كُلِّ جَرْعَةٍ شَرَقٌ وفِي كُلِّ أَكْلَةٍ غَصَصٌ - لَا تَنَالُونَ مِنْهَا نِعْمَةً إِلَّا بِفِرَاقِ أُخْرَى - ولَا يُعَمَّرُ مُعَمَّرٌ مِنْكُمْ يَوْماً مِنْ عُمُرِه - إِلَّا بِهَدْمِ آخَرَ مِنْ أَجَلِه - ولَا تُجَدَّدُ لَه زِيَادَةٌ فِي أَكْلِه إِلَّا بِنَفَادِ مَا قَبْلَهَا مِنْ رِزْقِه - ولَا يَحْيَا لَه أَثَرٌ إِلَّا مَاتَ لَه أَثَرٌ - ولَا يَتَجَدَّدُ لَه جَدِيدٌ إِلَّا بَعْدَ أَنْ يَخْلَقَ لَه جَدِيدٌ - ولَا تَقُومُ لَه نَابِتَةٌ إِلَّا وتَسْقُطُ مِنْه مَحْصُودَةٌ - وقَدْ مَضَتْ أُصُولٌ نَحْنُ فُرُوعُهَا - فَمَا بَقَاءُ فَرْعٍ بَعْدَ ذَهَابِ أَصْلِه!

ذم البدعة

منها - ومَا أُحْدِثَتْ بِدْعَةٌ إِلَّا تُرِكَ بِهَا سُنَّةٌ - فَاتَّقُوا الْبِدَعَ والْزَمُوا الْمَهْيَعَ - إِنَّ عَوَازِمَ الأُمُورِ أَفْضَلُهَا - وإِنَّ مُحْدِثَاتِهَا شِرَارُهَا.

(۱۴۵)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(دنیا کی فنا کے بارے میں )

لوگو! تم اس دنیا میں زندگی گذار رہے ہو جہاں موت کے تیروں کے مستقل ہدف ہو۔یہاں ہر گھونٹ کے ساتھ اچھو ہے اور ہر لقمہ کے ساتھ گلے کا پھندہ۔یہاں کوئی نعمت اس وقت تک نہیں ملتی ہے جب تک دوسری ہاتھ سے نکل نہ جائے اور یہاں کی زندگی میں ایک دن کابھی اضافہ نہیں ہوتا ہے جب تک ایک دن کم نہ ہو جائے یہاں کے کھانے میں زیادتی بھی پہلے رزق کے خاتمہ کے بعد ہاتھ آتی ہے اور کوئی اثر بھی پہلے نشان کے مٹ جانے کے بعد ہی زندہ ہوتا ہے۔ہر جدید کے لئے ایک جدید کو قدیم بننا پڑتا ہے اور ہر گھاس کے اگنے کے لئے ایک کھیت کو کاٹنا پڑتا ہے۔پرانے بزرگ جو ہماری اصل تھے گزر گئے اب ہم ان کی شاخیں ہیں اور کھلی ہوئی بات ہے کہ اصل کے چلے جانے کے بعد فرع کی بقا ہی کیا ہوتی ہے۔

(مذمت بدعت)

کوئی بدعت اس وقت تک ایجاد نہیں ہوتی ہے جب تک کوئی سنت مرنہ جائے۔لہٰذا بدعتوں سے ڈرو اور سیدھے راستہ پر قائم رہو کہ مستحکم ترین معاملات ہی بہتر ہوتے ہیں اور دین میں جدید ایجادات ہی بد ترین شے ہوتی ہے۔

۲۵۱

(۱۴۶)

ومن كلام لهعليه‌السلام

وقد استشاره عمر بن الخطاب في الشخوص لقتال الفرس بنفسه

إِنَّ هَذَا الأَمْرَ لَمْ يَكُنْ نَصْرُه - ولَا خِذْلَانُه بِكَثْرَةٍ ولَا بِقِلَّةٍ - وهُوَ دِينُ اللَّه الَّذِي أَظْهَرَه - وجُنْدُه الَّذِي أَعَدَّه وأَمَدَّه - حَتَّى بَلَغَ مَا بَلَغَ وطَلَعَ حَيْثُ طَلَعَ - ونَحْنُ عَلَى مَوْعُودٍ مِنَ اللَّه - واللَّه مُنْجِزٌ وَعْدَه ونَاصِرٌ جُنْدَه - ومَكَانُ الْقَيِّمِ بِالأَمْرِ مَكَانُ النِّظَامِ مِنَ الْخَرَزِ - يَجْمَعُه ويَضُمُّه - فَإِنِ انْقَطَعَ النِّظَامُ تَفَرَّقَ الْخَرَزُ وذَهَبَ - ثُمَّ لَمْ يَجْتَمِعْ بِحَذَافِيرِه أَبَداً - والْعَرَبُ الْيَوْمَ وإِنْ كَانُوا قَلِيلًا - فَهُمْ كَثِيرُونَ بِالإِسْلَامِ - عَزِيزُونَ بِالِاجْتِمَاعِ - فَكُنْ قُطْباً واسْتَدِرِ الرَّحَى بِالْعَرَبِ - وأَصْلِهِمْ دُونَكَ نَارَ الْحَرْبِ - فَإِنَّكَ إِنْ شَخَصْتَ مِنْ هَذِه الأَرْضِ - انْتَقَضَتْ عَلَيْكَ الْعَرَبُ مِنْ أَطْرَافِهَا وأَقْطَارِهَا - حَتَّى يَكُونَ مَا تَدَعُ وَرَاءَكَ مِنَ الْعَوْرَاتِ - أَهَمَّ إِلَيْكَ مِمَّا بَيْنَ يَدَيْكَ

(۱۴۶)

آپ کا ارشاد گرامی

(جب عمر بن الخطاب نے فارس کی جنگ میں جانے کے بارے میں مشورہ طلب کیا)

یاد رکھو کہ اسلام کی کامیابی اورناکامیابی کادارو مدار قلت و کثرت پر نہیں ہے بلکہ یہ دین ' دین خدا ہے جسے اسی نے غالب بنایا ہے اور یہ اسی کا لشکر ہے جسے اسی نے تیار کیا ہے اوراسی نے اس کی امداد کی ہے یہاں تک کہ اس منزل تک پہنچ گیا ہے اور اس قدر پھیلائو حاصل کرلیا ہے۔ہم پروردگار کی طرف سے ایک وعدہ پر ہیں اوروہ اپنے وعدہ کو بہر حال پورا کرنے والا ہے اور اپنے لشکر کی بہر حال مدد کرے گا۔

ملک میں نگراں کی منزل مہروں کے اجتماع میں دھاگے کی ہوتی ہے کہ وہی سب کو جمع کئے رہتا ہے اور وہ اگر ٹوٹ جائے تو سارا سلسلہ بکھر جاتا ہے اور پھر کبھی جمع نہیں ہو سکتا ہے۔آج عرب اگرچہ قلیل ہیں لیکن اسلام کی بنا پر کثیر ہیں اور اپنے اتحادو اتفاق کی بنا پر غالبآنے والے ہیں۔لہٰذا آپ مرکز میں رہیں اوراس چکی کو انہیں کے ذریعہ گردش دیں اور جنگ کی آگ کامقابلہ انہیں کو کرنے دیں آپ زحمت نہ کریں کہ اگر آپ نے اس سر زمین کو چھوڑ دیا تو عرب چاروں طرف سے ٹوٹ پڑیں گے اور سب اس طرح شریک جنگ ہوجائیں گے کہ جن محفوظ مقامات کو آپ چھوڑ کرگئے ہیں ان کا مسئلہ جنگ سے زیادہ اہم ہو جائے گا۔

۲۵۲

إِنَّ الأَعَاجِمَ إِنْ يَنْظُرُوا إِلَيْكَ غَداً يَقُولُوا - هَذَا أَصْلُ الْعَرَبِ فَإِذَا اقْتَطَعْتُمُوه اسْتَرَحْتُمْ - فَيَكُونُ ذَلِكَ أَشَدَّ لِكَلَبِهِمْ عَلَيْكَ وطَمَعِهِمْ فِيكَ - فَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ مَسِيرِ الْقَوْمِ إِلَى قِتَالِ الْمُسْلِمِينَ - فَإِنَّ اللَّه سُبْحَانَه هُوَ أَكْرَه لِمَسِيرِهِمْ مِنْكَ - وهُوَ أَقْدَرُ عَلَى تَغْيِيرِ مَا يَكْرَه.وأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ عَدَدِهِمْ - فَإِنَّا لَمْ نَكُنْ نُقَاتِلُ فِيمَا مَضَى بِالْكَثْرَةِ - وإِنَّمَا كُنَّا نُقَاتِلُ بِالنَّصْرِ والْمَعُونَةِ!

(۱۴۷)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

الغاية من البعثة

فَبَعَثَ اللَّه مُحَمَّداًصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بِالْحَقِّ - لِيُخْرِجَ عِبَادَه مِنْ عِبَادَةِ الأَوْثَانِ إِلَى عِبَادَتِه - ومِنْ طَاعَةِ الشَّيْطَانِ إِلَى طَاعَتِه - بِقُرْآنٍ قَدْ بَيَّنَه وأَحْكَمَه - لِيَعْلَمَ الْعِبَادُ رَبَّهُمْ إِذْ جَهِلُوه - ولِيُقِرُّوا بِه بَعْدَ إِذْ جَحَدُوه - ولِيُثْبِتُوه بَعْدَ إِذْ أَنْكَرُوه - فَتَجَلَّى لَهُمْ سُبْحَانَه فِي كِتَابِه - مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونُوا رَأَوْه بِمَا أَرَاهُمْ مِنْ قُدْرَتِه - وخَوَّفَهُمْ مِنْ سَطْوَتِه -

ان عجموں نے اگر آپ کو میدان جنگ میں دیکھ لیا تو کہیں گے کہ عربیت کی جان یہی ہے اس جڑ کو کاٹ دیا تو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے راحت مل جائے گی۔اور اس طرح ان کے حملے شدید تر ہو جائیں گے اور وہ آپ میں زیادہ ہی طمع کریں گے۔اور یہ جو آپ نے ذکر کیا ہے کہ لوگ مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لئے آرہے ہیں تو یہ بات خدا کو آپ سے زیادہ نا گوار ہے اور وہ جس چیز کوناگوار سمجھتا ہے اس کے بد ل دینے پر قادر بھی ہے۔اور یہ جو آپ نے دشمن کے عدد کا ذکر کیا ہے تو یاد رکھئے کہ ہم لوگ ماضی میں بھی کثرت کی بنا پرجنگ نہیں کرتے تھے بلکہ پروردگار کی نصرت اور اعانت کی بنیاد پر جنگ کرتے تھے۔

(۱۴۷)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

پروردگار عالم نے حضرت محمد (ص) کو حق کے ساتھ مبعوث کیا تاکہ آپ لوگوں کو بت پرستی سے نکال کر عبادت الٰہی کی منزل کی طرف لے آئیں اور شیطان کی اطاعت سے نکال کر رحمان کی اطاعت کرائیں اس قرآن کے ذریعہ جسے اس نے واضح اور محکم قرار دیاہے تاکہ بندے خدا کو نہیں پہچانتے ہیں تو پہچان لیں اور اس کے منکر ہیں تو اقرار کرلیں اور ہٹ دھرمی کے بعد اسے مان لیں۔پروردگار اپنی قدرت کاملہ کی نشانیوں کے ذریعہ بغیر دیکھے جلوہ نما ہے اور اپنی سطوت کے ذریعہ انہیں خوف ذدہ بنائے ہوئے ہے کہ کس طرح اس نے عقو بتوں کے ذریعہ

۲۵۳

وكَيْفَ مَحَقَ مَنْ مَحَقَ بِالْمَثُلَاتِ - واحْتَصَدَ مَنِ احْتَصَدَ بِالنَّقِمَاتِ!

الزمان المقبل

وإِنَّه سَيَأْتِي عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِي زَمَانٌ - لَيْسَ فِيه شَيْءٌ أَخْفَى مِنَ الْحَقِّ - ولَا أَظْهَرَ مِنَ الْبَاطِلِ - ولَا أَكْثَرَ مِنَ الْكَذِبِ عَلَى اللَّه ورَسُولِه - ولَيْسَ عِنْدَ أَهْلِ ذَلِكَ الزَّمَانِ سِلْعَةٌ أَبْوَرَ مِنَ الْكِتَابِ - إِذَا تُلِيَ حَقَّ تِلَاوَتِه - ولَا أَنْفَقَ مِنْه إِذَا حُرِّفَ عَنْ مَوَاضِعِه - ولَا فِي الْبِلَادِ شَيْءٌ أَنْكَرَ مِنَ الْمَعْرُوفِ - ولَا أَعْرَفَ مِنَ الْمُنْكَرِ - فَقَدْ نَبَذَ الْكِتَابَ حَمَلَتُه وتَنَاسَاه حَفَظَتُه - فَالْكِتَابُ يَوْمَئِذٍ وأَهْلُه طَرِيدَانِ مَنْفِيَّانِ - وصَاحِبَانِ مُصْطَحِبَانِ فِي طَرِيقٍ وَاحِدٍ لَا يُؤْوِيهِمَا مُؤْوٍ - فَالْكِتَابُ وأَهْلُه فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ فِي النَّاسِ ولَيْسَا فِيهِمْ - ومَعَهُمْ ولَيْسَا مَعَهُمْ - لأَنَّ الضَّلَالَةَ لَا تُوَافِقُ الْهُدَى وإِنِ اجْتَمَعَا - فَاجْتَمَعَ الْقَوْمُ عَلَى الْفُرْقَةِ - وافْتَرَقُوا عَلَى الْجَمَاعَةِ كَأَنَّهُمْ أَئِمَّةُ الْكِتَابِ - ولَيْسَ الْكِتَابُ إِمَامَهُمْ - فَلَمْ يَبْقَ عِنْدَهُمْ مِنْه إِلَّا اسْمُه - ولَا يَعْرِفُونَ إِلَّا خَطَّه وزَبْرَه - ومِنْ قَبْلُ مَا مَثَّلُوا بِالصَّالِحِينَ كُلَّ مُثْلَةٍ

اس کے مستحقین کو تباہ و برباد کردیا ہے اور عذاب کے ذریعہ انہیں تہس نہس کردیا ہے۔

یادرکھو میرے بعد تمہارے سامنے وہ زمانہ آنے والا ہے جس میں کوئی شے حق سے زیادہ پوشیدہ اور باطل سے زیادہ نمایاں نہ ہوگی۔سب سے زیادہ رواج خدا اوررسول (ص) پر افتاکا ہوگا اور اس زمانہ والوں کے نزدیک کتاب خدا سے زیادہ بے قیمت کوئی متاع نہ ہوگی اگر اس کی واقعی تلاوت کی جائے اور اس سے زیادہ کوئی فائدہ مند بضاعت نہ ہوگی اگر اس کے مفاہیم کو ان کی جگہ سے ہٹا دیا جائے ۔شہروں میں ''منکر '' سے زیادہ معروف اور ''معروف ''سے زیادہ منکر کچھ نہ ہوگا۔حاملان کتاب کتاب کوچھوڑ دیں گے اور حافظان قرآن قرآن کو بھلا دیں گے۔کتاب اور اس کے واقعی اہل شہر بدر کر دئیے جائیں گے اور دونوں ایک ہی راستہ پر اس طرح چلیں گے کہ کوئی پناہ دینے والا نہ ہوگا۔کتاب اور اہل کتاب اس دور میں لوگوں کے درمیان رہیں گے لیکن واقعاً نہ رہیں گے۔انہیں کے ساتھ رہیں گے لیکن حقیقتاً الگ رہیں گے۔ اس لئے کہ گمراہی ہدایت کے ساتھ نہیں چل سکتی ہے چاہے ایک ہی مقامپر رہے۔لوگوں نے افتراق پر اتحاد اور اتحاد پر افتراق کر لیا ہے جیسے یہی قرآن کے پیشوا ہیں اور قرآن ان کا پیشوا نہیں ہے۔اب ان کے پاس صرف قرآن کا نم باقی رہ گیا ہے اور وہ صرف اس کی کتاب و عبارت کو پہچانتے ہیں اور بس ! اس کے پہلے بھی یہ نیک کرداروں کو بے حد اذیت کر چکے ہیں

۲۵۴

وسَمَّوْا صِدْقَهُمْ عَلَى اللَّه فِرْيَةً وجَعَلُوا فِي الْحَسَنَةِ عُقُوبَةَ السَّيِّئَةِ.وإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِطُولِ آمَالِهِمْ وتَغَيُّبِ آجَالِهِمْ - حَتَّى نَزَلَ بِهِمُ الْمَوْعُودُ الَّذِي تُرَدُّ عَنْه الْمَعْذِرَةُ - وتُرْفَعُ عَنْه التَّوْبَةُ وتَحُلُّ مَعَه الْقَارِعَةُ والنِّقْمَةُ.

عظة الناس

أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّه مَنِ اسْتَنْصَحَ اللَّه وُفِّقَ - ومَنِ اتَّخَذَ قَوْلَه دَلِيلًا هُدِيَ لِلَّتِي هِيَ أَقُومُ - فَإِنَّ جَارَ اللَّه آمِنٌ وعَدُوَّه خَائِفٌ - وإِنَّه لَا يَنْبَغِي لِمَنْ عَرَفَ عَظَمَةَ اللَّه أَنْ يَتَعَظَّمَ - فَإِنَّ رِفْعَةَ الَّذِينَ يَعْلَمُونَ مَا عَظَمَتُه أَنْ يَتَوَاضَعُوا لَه - وسَلَامَةَ الَّذِينَ يَعْلَمُونَ مَا قُدْرَتُه أَنْ يَسْتَسْلِمُوا لَه - فَلَا تَنْفِرُوا مِنَ الْحَقِّ نِفَارَ الصَّحِيحِ مِنَ الأَجْرَبِ - والْبَارِئِ مِنْ ذِي السَّقَمِ - واعْلَمُوا أَنَّكُمْ لَنْ تَعْرِفُوا الرُّشْدَ - حَتَّى تَعْرِفُوا الَّذِي تَرَكَه - ولَنْ تَأْخُذُوا بِمِيثَاقِ الْكِتَابِ حَتَّى تَعْرِفُوا الَّذِي نَقَضَه - ولَنْ تَمَسَّكُوا بِه حَتَّى تَعْرِفُوا الَّذِي نَبَذَه

اور ان کی صداقت کو افترا کا نام دے چکے ہیں اور انہیں نیکیوں پربرائیوں کی سزا دے چکے ہیں۔

تمہارے پہلے والے صرف اس لئے ہلاک ہوگئے کہ ان کی امیدیں دراز تھیں اور موت ان کی نگاہوں سے اوجھل تھی۔یہاں تک کہ وہ موت نازل ہوگئی جس کے بعد معذرت واپس کردی جاتی ہے اور توبہ کی مہلت اٹھالی جاتی ہے اورمصیبت و عذاب کا ورود ہو جاتا ہے۔

ایہاالناس !جو پروردگار سے واقعاً نصیحت حاصل کرنا چاہتا ہے اس توفیق نصیب ہو جاتی ہے اورجو اس کے قول کو واقعاً راہنما بنانا چاہتا ہے اسے سیدھے راستہ کی ہدایت مل جاتی ہے۔اس لئے کہ پروردگار کا ہمسایہ ہمیشہ امن و امان میں رہتا ہے اور اس کا دشمن ہمیشہ خوف زدہ رہتا ہے۔یاد رکھو جس نے عظمت خدا کو پہچان لیا ہے اسے بڑائی زیب نہیں دیتی ہے کہ ایسے لوگوں کی رفعت و بلندی تواضع اورخاکساری ہی میں ہے اور اس کی قدرت کے پہچاننے والوں کی سلامتی اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دینے ہی میں ہے۔خبردار حق سے اس طرح نہ بھاگو جس طرح صحیح و سالم خارش زدہ سے' یا صحت یافتہ بیمار سے فرار کرتا ہے۔یاد کھو تم ہدایت کو اس وقت تک نہیں پہ چان سکتے ہو جب تک اسے چھوڑ نے والوں کو ہ پہچان لو اور کتاب خدا کے عہدوپیمان کو اس وقت تک اختیار نہیں کر سکتے ہو جب تک اس کے توڑنے والوں کی معرفت حاصل نہ کرلو اور اس سے تمسک اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک اسے نظر انداز کرنے والوں کا عرفان نہ ہو جائے گا

۲۵۵

- فَالْتَمِسُوا ذَلِكَ مِنْ عِنْدِ أَهْلِه - فَإِنَّهُمْ عَيْشُ الْعِلْمِ ومَوْتُ الْجَهْلِ - هُمُ الَّذِينَ يُخْبِرُكُمْ حُكْمُهُمْ عَنْ عِلْمِهِمْ - وصَمْتُهُمْ عَنْ مَنْطِقِهِمْ وظَاهِرُهُمْ عَنْ بَاطِنِهِمْ - لَا يُخَالِفُونَ الدِّينَ ولَا يَخْتَلِفُونَ فِيه - فَهُوَ بَيْنَهُمْ شَاهِدٌ صَادِقٌ وصَامِتٌ نَاطِقٌ.

(۱۴۸)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في ذكر أهل البصرة

كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يَرْجُو الأَمْرَ لَه - ويَعْطِفُه عَلَيْه دُونَ صَاحِبِه - لَا يَمُتَّانِ إِلَى اللَّه بِحَبْلٍ - ولَا يَمُدَّانِ إِلَيْه بِسَبَبٍ - كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَامِلُ ضَبٍّ لِصَاحِبِه - وعَمَّا قَلِيلٍ يُكْشَفُ قِنَاعُه بِه - واللَّه لَئِنْ أَصَابُوا الَّذِي يُرِيدُونَ - لَيَنْتَزِعَنَّ هَذَا نَفْسَ هَذَا - ولَيَأْتِيَنَّ هَذَا عَلَى هَذَا - قَدْ قَامَتِ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ فَأَيْنَ الْمُحْتَسِبُونَ - فَقَدْ سُنَّتْ لَهُمُ السُّنَنُ وقُدِّمَ لَهُمُ الْخَبَرُ

حق کو اس کے اہل کے پاس تلاش کرو کہ یہی لوگ علم کی زندگی اور جہالت کی موت ہیں۔یہی لوگ وہ ہیں جن کا حکم ان کے علم کا اور ان کی خاموشی ان کے تکلم کا اور ان کا ظاہران کے باطن کا پتہ دیتا ہے۔یہ لوگ دین کی مخالفت نہیں کرتے ہیں اور نہ اس کے بارے میں آپس میں اختلاف کرتے ہیں۔دین ان کے درمیان بہترین سچا گواہ اورخاموش بولنے والا ہے۔

(۱۴۸)

آپ کا ارشاد گرامی

(اہل بصرہ( طلحہ و زبیر ) کے بارے میں)

یہ دونوں امر خلافت(۱) کے اپنیہی ذات کے لئے امید وار ہیں اور اسے اپنی ہی طرف موڑنا چاہتے ہیں۔ان کا اللہ کے کسی وسیلہ سے رابطہ اور کسی ذریعہ سے تعلق نہیں ہے۔ہر ایک دوسرے کے حق میں کینہ رکھتا ہے اورعنقریب اس کا پردہ اٹھ جائے گا۔خدا کی قسم اگر انہوں نے اپنے مدعا کو حاصل کرلیا تو ایک دوسرے کی جان لے کرچھوڑیں گے اور اس کی زندگی کا خاتمہ کردیں گے۔دیکھو باغی گروہ اٹھ کھڑا ہوا ہے تو راہخدا میں کام کرنے والے کہاں چلے گئے جب کہ ان کے لئے راستے مقرر کردئیے گئے ہیں اور انہیں اس کی اطلاع دی جا چکی ہے؟

(۱)اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مسلمانوں نے خلافت کا جھگڑا دفن پیغمبر (ص) سے پہلے ہی شروع کردیا تھا اور پھر اسے مسلسل جاری رکھا اورمختلف انداز سے جوڑ توڑ کے ذریعہ خلافتوں کا فیصلہ ہوتا رہا لیکن کسی دورمیں بھی خلافت کے فیصلہ کے لئے تلوار اور جنگ کاسہارا نہیں لیا گیا۔یہ بدعت صرف حضرت ام المومنین کی ایجاد ہے کہ انہوں نے طلحہ و زبیر کی خلافت کے لئے تلوار کابھی سہارا لے لیا اور پھر معاویہ کے لئے زمین ہموار کردی اور اس کے نتیجہ میں خلافت کا فیصلہ جنگ و جدال سے شروع ہوگیا اور اس راہ میں بے شمار جانیں ضائع ہوتی رہیں۔

۲۵۶

ولِكُلِّ ضَلَّةٍ عِلَّةٌ ولِكُلِّ نَاكِثٍ شُبْهَةٌ - واللَّه لَا أَكُونُ كَمُسْتَمِعِ اللَّدْمِ - يَسْمَعُ النَّاعِيَ ويَحْضُرُ الْبَاكِيَ ثُمَّ لَا يَعْتَبِرُ!

(۱۴۹)

ومن كلام لهعليه‌السلام

قبل موته

أَيُّهَا النَّاسُ - كُلُّ امْرِئٍ لَاقٍ مَا يَفِرُّ مِنْه فِي فِرَارِه - الأَجَلُ مَسَاقُ النَّفْسِ والْهَرَبُ مِنْه مُوَافَاتُه - كَمْ أَطْرَدْتُ الأَيَّامَ أَبْحَثُهَا عَنْ مَكْنُونِ هَذَا الأَمْرِ - فَأَبَى اللَّه إِلَّا إِخْفَاءَه هَيْهَاتَ عِلْمٌ مَخْزُونٌ - أَمَّا وَصِيَّتِي فَاللَّه لَا تُشْرِكُوا بِه شَيْئاً - ومُحَمَّداًصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فَلَا تُضَيِّعُوا سُنَّتَه - أَقِيمُوا هَذَيْنِ الْعَمُودَيْنِ - وأَوْقِدُوا هَذَيْنِ الْمِصْبَاحَيْنِ - وخَلَاكُمْ ذَمٌّ مَا لَمْ تَشْرُدُوا - حُمِّلَ كُلُّ امْرِئٍ مِنْكُمْ مَجْهُودَه - وخُفِّفَ عَنِ الْجَهَلَةِ - رَبٌّ رَحِيمٌ ودِينٌ قَوِيمٌ وإِمَامٌ عَلِيمٌ -

میں جانتا ہوں کہ ہر گمراہی کا ایک سبب ہوتا ہے اور ہر عہد شکن ایک شبہ(۲) ڈھونڈ لیتا ہے لیکن میں اس شخص کے مانند نہیں ہو سکتا ہوں جو ماتک کی آواز سنتا ہے۔موت کی سنانی کانوں تک آتی ہے۔لوگوں کا گریہ دیکھتا ہے اور پھر عبرت حاصل نہیں کرتا ہے۔

(۱۴۹)

آپ کا ارشاد گرامی

(اپنی شہادت سے قبل)

لوگو ! دیکھو ہر شخص جس وقت سے فرار کر رہا ہے اس سے بہرحال ملاقات کرنے والا ہے اور موت ہی ہر نفس کی آخری منزل ہے اور اس سے بھاگنا ہی اسے پالینا ہے۔زمانہ گزر گیا جب سے میں اس راز کی جستجو میں ہوں لیکن پروردگار موت کے اسرار کو پردۂ راز ہی میں رکھنا چاہتا ہے۔یہ ایک علم ہے جو خزانہ قدرت میں محفوظ ہے۔ البتہ میری وصیت یہ ہے کہ کسی کو الہ کا شریک نہ قرا دینا اور پیغمبر اکرم (ص) کی سنت کو ضائع نہ کر دینا کہ یہی دونوں دین کے ستون ہیں انہیں کو قائم کرو اور انہیں دونوں چراغوں کو روشن رکھو۔اس کے بعداگر تم منتشر نہیں ہوگے تو تم پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ہر شخصاپنی طاقت بھربوجھ کاذمہ دار بنایا گیا ہے اورجاہلوں کابوجھ ہلکا رکھا گیا ہے کہ پروردگار رحیم و کریم ہے اوردین مستحکم ہے اور راہنما بھی علیم و دانا ہے۔

(۲)افسوس کہ جنگ جمل اور صفین میں تو شبہ کی بھی کوئی گنجائش نہیں تھی۔حضرت عائشہ ' طلحہ ' زبیر ' معاویہ ' عمرو عاص کوئی ایسا نہیں تھا جو حضرت علی کی شخصیت اور ان کے بارے میں ارشادات پیغمبر (ص) سے باخبر نہ ہو۔اس کے بعد شبہ یا خطائے اجتہادی کا نام دے کر عوام الناس کو تو دھوکہ دیا جا سکتا ہے' داور محشر کودھوکہ نہیں دیا جا سکتا ہے۔

۲۵۷

أَنَا بِالأَمْسِ صَاحِبُكُمْ - وأَنَا الْيَوْمَ عِبْرَةٌ لَكُمْ وغَداً مُفَارِقُكُمْ - غَفَرَ اللَّه لِي ولَكُمْ!

إِنْ تَثْبُتِ الْوَطْأَةُ فِي هَذِه الْمَزَلَّةِ فَذَاكَ - وإِنْ تَدْحَضِ الْقَدَمُ فَإِنَّا كُنَّا فِي أَفْيَاءِ أَغْصَانٍ - ومَهَابِّ رِيَاحٍ وتَحْتَ ظِلِّ غَمَامٍ - اضْمَحَلَّ فِي الْجَوِّ مُتَلَفَّقُهَا وعَفَا فِي الأَرْضِ مَخَطُّهَا - وإِنَّمَا كُنْتُ جَاراً جَاوَرَكُمْ بَدَنِي أَيَّاماً - وسَتُعْقَبُونَ مِنِّي جُثَّةً خَلَاءً - سَاكِنَةً بَعْدَ حَرَاكٍ وصَامِتَةً بَعْدَ نُطْقٍ - لِيَعِظْكُمْ هُدُوِّي وخُفُوتُ إِطْرَاقِي وسُكُونُ أَطْرَافِي - فَإِنَّه أَوْعَظُ لِلْمُعْتَبِرِينَ مِنَ الْمَنْطِقِ الْبَلِيغِ - والْقَوْلِ الْمَسْمُوعِ - وَدَاعِي لَكُمْ وَدَاعُ امْرِئٍ مُرْصِدٍ لِلتَّلَاقِي - غَداً تَرَوْنَ أَيَّامِي ويُكْشَفُ لَكُمْ عَنْ سَرَائِرِي - وتَعْرِفُونَنِي بَعْدَ خُلُوِّ مَكَانِي وقِيَامِ غَيْرِي مَقَامِي.

(۱۵۰)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يومي فيها إلى الملاحم ويصف فئة من أهل الضلال

میں کل تمہارے ساتھ تھا اورآج تمہارے لئے منزل عبرت میں ہوں اور کل تم سے جداہو جائوں گا اور تمہیں اور مجھے دونوں کو معاف کردے۔

دیکھو! اس منزل لغزش میں اگر ثابت رہ گئے تو کیا کہنا۔ورنہ اگر قدم پھسل گئے تو یاد رکھنا کہ ہم بھی انہیں شاخوںکی چھائوں ۔انہیں ہوائوں کی گزر گاہ اور انہیںبادلوں کے سایہ میں تھے لیکن ان بالدوں کے ٹکڑے فضا میں منتشر ہوگئے اور ان ہوائوں کے نشانات زمین سے محو ہوگئے۔میں کل تمہارے ہمسایہ میں رہا۔میرا بدن ایک عرصہ تک تمہارے درمیان رہا اورعنقریب تم اسے جثہ بلا روح کی شکل میں دیکھوگے جو حرکت کے بعد ساکن ہو جائے گا اورتکلم کے بعد ساکت ہو جائے گا۔اب تو تمہیں اس خاموشی اس سکوت اور اس سکون سے نصیحت حاصل کرنی چاہیے کہ یہ صاحبان عبرت کے لئے بہترین مقرر اور قابل سماعت بیانات سے زیادہ بہتر نصیحت کرنے والے ہیں۔میری تم سے جدائی اس شخص کی جدائی ہے جو ملاقات کے انتظار میں ہے۔کل تم میرے زمانہ کو پہچانوگے اور تم پر میرے اسرار منکشف ہوں گے اورتم میری صحیح معرفت حاصل کروگے جب میری جگہ خالی ہو جائے گی اور دوسرے لوگاس منزل پرقابض ہو جائیں گے ۔

(۱۵۰)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں زمانہ کے حوادث کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اورگمراہوں کے ایک گروہ کا تذکرہ کیا گیا ہے )

۲۵۸

وأَخَذُوا يَمِيناً وشِمَالًا ظَعْناً فِي مَسَالِكِ الْغَيِّ - وتَرْكاً لِمَذَاهِبِ الرُّشْدِ - فَلَا تَسْتَعْجِلُوا مَا هُوَ كَائِنٌ مُرْصَدٌ - ولَا تَسْتَبْطِئُوا مَا يَجِيءُ بِه الْغَدُ - فَكَمْ مِنْ مُسْتَعْجِلٍ بِمَا إِنْ أَدْرَكَه وَدَّ أَنَّه لَمْ يُدْرِكْه - ومَا أَقْرَبَ الْيَوْمَ مِنْ تَبَاشِيرِ غَدٍ - يَا قَوْمِ هَذَا إِبَّانُ وُرُودِ كُلِّ مَوْعُودٍ - ودُنُوٍّ مِنْ طَلْعَةِ مَا لَا تَعْرِفُونَ - أَلَا وإِنَّ مَنْ أَدْرَكَهَا مِنَّا يَسْرِي فِيهَا بِسِرَاجٍ مُنِيرٍ - ويَحْذُو فِيهَا عَلَى مِثَالِ الصَّالِحِينَ - لِيَحُلَّ فِيهَا رِبْقاً - ويُعْتِقَ فِيهَا رِقّاً ويَصْدَعَ شَعْباً - ويَشْعَبَ صَدْعاً فِي سُتْرَةٍ عَنِ النَّاسِ - لَا يُبْصِرُ الْقَائِفُ أَثَرَه ولَوْ تَابَعَ نَظَرَه - ثُمَّ لَيُشْحَذَنَّ فِيهَا قَوْمٌ شَحْذَ الْقَيْنِ النَّصْلَ - تُجْلَى بِالتَّنْزِيلِ أَبْصَارُهُمْ - ويُرْمَى بِالتَّفْسِيرِ فِي مَسَامِعِهِمْ - ويُغْبَقُونَ كَأْسَ الْحِكْمَةِ بَعْدَ الصَّبُوحِ !

في الضلال

منها - وطَالَ الأَمَدُ بِهِمْ لِيَسْتَكْمِلُوا الْخِزْيَ ويَسْتَوْجِبُوا

ان لوگوں نے گمراہی کے راستوں پر چلنے اور ہدایت کے راستوں کوچھوڑنے کے لئے داہنے بائیں راستے اختیار کرلئے ہیں مگر تم اس امر میں جلدی نہ کرو جو بہر حال ہونے والا ہے اور جس کا انتظار کیاجا رہا ہے اور اسے دورنہ سمجھو جو کل سامنے والا ہے کہ کتنے ہی جلدی کے طلب گار جب مقصد کو پالیتے ہیں تو سوچتے ہیں کہ کاش اسے حاصل نہ کرتے۔آج کادن کل کے سویرے سے کس قدر قریب ہے۔لوگو! یہ ہر وعدہ کے ورود اور ہراس چیز کے ظہور کی قربت کا وقت ہے جسے تم نہیں پہچانتے ہو لہٰذا جو شخص بھی ان حالات تک باقی رہ جائے اس کا فرض ہے کہ روشن(۱) چراغ کے سہارے قدم آگے بڑھائے اورصالحین کے نقش قدم پرچلے تاکہ ہر گرہ کو کھول سکے اور ہر غلامی سے آزادی پیدا کر سکے ' ہر مجتمع کو بوقت ضرورت منتشر کر سکے اور ہر انتشار کومجتمع کر سکے اور لوگوں سے یوں مخفی رہے کہ قیافہ شناس بھی اس کے نقش قدم کو تاحد نظرنہ پاسکیں۔اس کے بعد ایک قوم پر اس طرح صیقل کی جائے گی جس طرح لوہا تلوار کی دھار پرصیقل کرتا ہے۔ان لوگوں کی آنکھوں کو قرآن کے ذریعہ روشن کیا جائے گا اور ان کے کانوں میں تفسیر کو مسلسل پہنچایا جائے گا اور انہیں صبح و شام حکمت کے جاموں سے سیرا ب کیا جائے گا۔

ان گمراہوں کو مہلت دی گئی تاکہ اپنی رسوائی کو مکمل کرلیں اور ہر تغیر کے حقدار ہو جائیں۔

(۱)امیرالمومنین نے اپنے بعد پیداہونے والے فتنوں کی طرف بھی اشارہ کیا ہے اوراس نکتہ کی طرف بھی متوجہ کیا ہے کہ زمانہ بہرحال حجت خدا سے خالی نہ رہے گا اور اس اندھیرے میں بھی کوئی نہ کوئی سراج منیر ضرور رہے گا لہٰذا تمہارے فرض ہے کہ اس کا سہارا لے کر آگے بڑھو اور بہترین نتائج حاصل کرلو۔

۲۵۹

الْغِيَرَ حَتَّى إِذَا اخْلَوْلَقَ الأَجَلُ - واسْتَرَاحَ قَوْمٌ إِلَى الْفِتَنِ - وأَشَالُوا عَنْ لَقَاحِ حَرْبِهِمْ - لَمْ يَمُنُّوا عَلَى اللَّه بِالصَّبْرِ - ولَمْ يَسْتَعْظِمُوا بَذْلَ أَنْفُسِهِمْ فِي الْحَقِّ - حَتَّى إِذَا وَافَقَ وَارِدُ الْقَضَاءِ انْقِطَاعَ مُدَّةِ الْبَلَاءِ - حَمَلُوا بَصَائِرَهُمْ عَلَى أَسْيَافِهِمْ - ودَانُوا لِرَبِّهِمْ بِأَمْرِ وَاعِظِهِمْ حَتَّى إِذَا قَبَضَ اللَّه رَسُولَهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم رَجَعَ قَوْمٌ عَلَى الأَعْقَابِ - وغَالَتْهُمُ السُّبُلُ واتَّكَلُوا عَلَى الْوَلَائِجِ - ووَصَلُوا غَيْرَ الرَّحِمِ - وهَجَرُوا السَّبَبَ الَّذِي أُمِرُوا بِمَوَدَّتِه - ونَقَلُوا الْبِنَاءَ عَنْ رَصِّ أَسَاسِه فَبَنَوْه فِي غَيْرِ مَوْضِعِه - مَعَادِنُ كُلِّ خَطِيئَةٍ وأَبْوَابُ كُلِّ ضَارِبٍ فِي غَمْرَةٍ - قَدْ مَارُوا فِي الْحَيْرَةِ وذَهَلُوا فِي السَّكْرَةِ - عَلَى سُنَّةٍ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ - مِنْ مُنْقَطِعٍ إِلَى الدُّنْيَا رَاكِنٍ - أَوْ مُفَارِقٍ لِلدِّينِ مُبَايِنٍ.

(۱۵۱)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يحذر من الفتن

اللَّه ورسوله

وأَحْمَدُ اللَّه وأَسْتَعِينُه

یہاں تک کہ جب زمانہ کافی گزرچکا اورایک قوم فتنوں سے مانوس ہوچکی اورجنگ کی تخم پاشیوں کے لئے کھڑی ہوگئی۔تو وہ لوگ بھی سامنے آگئے جواللہ پراپنے صبرکا احسان نہیں جتاتے اور راہ خدامیں جان دینے کو کوئی کارنامہ نہیں تصورکرتے۔یہاں تک کہ جب آنے والے حکم قضا نے آزمائش کی مدت کو تمام کردیا۔تو انہوں نے اپنی بصیرت کو اپنی تلواروں پر مسلط کردیا اور اپنے نصیحت کرنے والے کے حکم سے پروردگار کی بارگاہ میں جھک گئے۔مگراس کے بعد جب پروردگار نے پیغمبر اکرم (ص) کو اپنے پاس بلا لیا تو ایک قو م الٹے(۱) پائوںپلٹ گئی اوراسے مختلف راستوں نے تباہ کردیا ۔انہوں نے مہمل عقائد کا سہارا لیا اور غیر قرابت دار سے تعلقات پیدا کئے اور اس سبب کو نظر انداز کردیا جس سے مودت کا حکم دیا گیاتھا۔عمارت کو جڑ سے اکھاڑ کر دوسری جگہ پر قائم کردیا جو ہر غلطی کا معدن و مخزن اور ہرگمراہی کا دروازہ تھے۔حیرت میں سرگرداں اور آل فرعو ن کی طرح نشہ میں غافل تھے ان میں کوئی دنیا کی طرف مکمل کٹ کرآگیاتھا اور کوئی دین سے مستقل طریقہ پرالگ ہوگیا تھا۔

(۱۵۱)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں فتنوں سے ڈرایا گیاہے )

میں خدا کی حمدو ثنا کرتا ہوںاور اس کی مدد چاہتا ہوں

(۱)صحیح بخاری کے کتاب الفتن میں اسی صورت حال کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جب رسول اکرم (ص) حوض کوثر پربعض اصحاب کا حشر دیکھ کر کہ انہیں ہنکا یا جا رہا ہے ۔فریاد کریں گے کہ خدایا یہ میرے اصحاب ہیں توارشاد ہوگا کہ تمہیں نہیں معلوم کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا بدعتیںایجاد کی ہیں اور کس طرح دین خداسے منحرف ہوئے ہیں۔

۲۶۰

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417

418

419

420

421

422

423

424

425

426

427

428

429

430

431

432

433

434

435

436

437

438

439

440

441

442

443

444

445

446

447

448

449

450

451

452

453

454

455

456

457

458

459

460

461

462

463

464

465

466

467

468

469

470

471

472

473

474

475

476

477

478

479

480

481

482

483

484

485

486

487

488

489

490

491

492

493

494

495

496

497

498

499

500

501

502

503

504

505

506

507

508

509

510

511

512

513

514

515

516

517

518

519

520

521

522

523

524

525

526

527

528

529

530

531

532

533

534

535

536

537

538

539

540

541

542

543

544

545

546

547

548

549

550

551

552

553

554

555

556

557

558

559

560

561

562

563

564

565

566

567

568

569

570

571

572

573

574

575

576

577

578

579

580

581

582

583

584

585

586

587

588

589

590

591

592

593

594

595

596

597

598

599

600

601

602

603

604

605

606

607

608

609

610

611

612

613

614

615

616

617

618

619

620

621

622

623

624

625

626

627

628

629

630

631

632

633

634

635

636

637

638

639

640

641

642

643

644

645

646

647

648

649

650

651

652

653

654

655

656

657

658

659

660

661

662

663

664

665

666

667

668

669

670

671

672

673

674

675

676

677

678

679

680

681

682

683

684

685

686

687

688

689

690

691

692

693

694

695

696

697

698

699

700

701

702

703

704

705

706

707

708

709

710

711

712

713

714

715

716

717

718

719

720

721

722

723

724

725

726

727

728

729

730

731

732

733

734

735

736

737

738

739

740

741

742

743

744

745

746

747

748

749

750

751

752

753

754

755

756

757

758

759

760

761

762

763

764

765

766

767

768

769

770

771

772

773

774

775

776

777

778

779

780

781

782

783

784

785

786

787

788

789

790

791

792

793

794

795

796

797

798

799

800

801

802

803

804

805

806

807

808

809

810

811

812

813

814

815

816

817

818

819

820

821

822

823

824

825

826

827

828

829

830

831

832

833

834

835

836

837

838

839

840

841

842

843

844

845

846

847

848

849

850

851

852

853

854

855

856

857

858

859

860

861

862

863