نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)6%

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ) مؤلف:
: علامہ السید ذیشان حیدر جوادی قدس سرہ
زمرہ جات: متن احادیث
صفحے: 863

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 863 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 656650 / ڈاؤنلوڈ: 15922
سائز سائز سائز
نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

میرا وہ سفر جو امریکہ کے چندجنوبی ممالک سے متعلّق تھا جیسا کہ مجھے یاد ہے ان میں ایک ملک شیلی بھی تھا اس ملک کے ذمہ داروں اور یونیورسٹی کے سر براہان نے مجھ سے کہا کہ ہم اپنے ملک کے جوان طبقہ اور انکے مستقبل کے سلسلے میں بہت فکر مند ہیں ہماری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کیا کریں؟ ہم ان نوجوانوں کو اس یونیورسٹی میں آپ کے حوالے کرتے ہیں آپ انکی تربیت اپنی روش کے مطابق انجام دیں ہم آپ کو تمام سہولیات دیتے ہیں آپ ایک پروگرام کے تحت انکی تربیت کریں اس لئے کہ ہم کو اطمینان ہے کہ دنیا میں تربیت کے جتنے ذرائع ہیں ان میں مسلمانوں کی روش سب سے بہتر ہے۔ اس یونیورسٹی کا نائب مختلف شعبوں کو پہچنوانے او ر اس کی راہنمائی کے لئے ہمارے ساتھ تھا جب ظہر کا وقت ہوا تو ہم نے کہا ہم ظہر کی نماز پڑ ھنا چاہتے ہیں چنانچہ ایک جگہ ہمارے لئے معےّن ہوئی اور ہم لوگ نماز پڑھنے میں مشغول ہو گئے یونیورسٹی کا نائب جو کہ عیسائی تھا اس نے بھی ہم لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی ہمیں بہت تعجّب ہوا اس نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم آپ لوگ نماز میں کیا پڑھتے اور کیا کہتے ہیں ؟ لیکن یہ سجدہ کی حالت مجھکو بہت اچھی لگی اور میرے اندر یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں بھی نماز پڑھوں ۔

۲۱

ہاوانا ]یہ ایک ایسے ملک کی راجدھانی ہے جو پچاس سال تک کمیونزم کے زیر تسلّط رہ چکا ہے اورآج بھی ہے [وہاں کے ایک بزرگ پروفیسر جو کہ پیدائشی طور پر اسپین کے رہنے والے ہیں اوروہاں تاریخ کے استاد ہیں وہا ں جتنے بھی اساتید ہماری میزبانی کر رہے تھے ان لوگوں کے درمیان یہ شخص بلند ہوا اور تقریر کرتے ہوئے اس نے کہا کہ میں جوانی کے عالم میں اس بات کی خواہش رکھتا تھا کہ میں دو شخصیات کے بارے میں مطالعہ کروں اور تحقیقات کر کے تفصیلی معلومات حاصل کروںایک پیغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ]جو کہ ایک عالمی شخصیت کے مالک تھے [دوسرے خےّام جوکہ ایک ایرانی دانشمند ہے لیکن آج کل کافی دنوں سے میرے اندر ایک نئی شخصیت کے بارے میں جستجو کرنے کی خواہش ہو گئی ہے جس خواہش نے ان دونوں پرانی خواہشوں کوبھلا دیا ہے آج میں چاہتا ہوں کہ ایک ایسی شخصیت کے بارے میں معلومات حاصل کروں جس نے دنیا میں انقلاب برپاکردیا ہے اور وہ ذات امام خمینی کی ہے یہاں پر وہہاواناکا ضعیف استاد جذباتی ہو گیا اس نے اپنے اندر عجیب کیفیت پیدا کر لی وہ دو بار میرے سامنے جھکا اور اس نے میرے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور خواہش کی کہ ایک اسپینی زبان میں ترجمہ شدہ قرآن اسکو دوں کہاں''ہاواناجہاں نصف صدی تک کمیونسٹ کی حکومت تھی وہاںایک یونیورسٹی کا استاد جو کہ سب سے ضعیف تھا اسکی یہ خواہش؟

۲۲

میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم یہ تصوّر نہ کریں کہ گمراہی کے وسائل بہت زیادہ ہو گئے ہیں اور گمراہی ہر طرف پھیل چکی ہے اب کچھ بھی ہونے والا نہیں ہے پانی سر سے اوپر ہو چکا ہے چاہے ایک بالشت ہو یا سو بالشت، ڈومنے کے لئے کافی ہے یہ تصّور بالکل غلط ہے مایوسی اور ناامےّدی کی حالت ہمارے اندر کبھی بھی نہیں ہونا چاہئے، خدا وند عالم نے اس دنیا کو انسان کی ترّقی اور کمال کے لئے پیدا کیا ہے اس کی ذات اس بات سے منزّہ ہے کہ دنیا کو چھوڑ دے اور کچھ شیطان نماانسانوں کے حوالے کر دے اور لا پرواہ ہو جائے ایسا ہر گز نہیں ہے، اگر گمراہی اور انحرافات کے وسائل زیادہ ہیں تو ہدایت و اصلاح کے راستے بھی نئے نئے سامنے آرہے ہیں جو کسی بھی پیغمبر اور امام کے زمانے میں موجود نہیں تھے ۔

وہ اجتماعی حالات جو آج سماج اور قوم کو بدلنے کے لئے ہیں وہ اس سے پہلے کبھی نہیں پائے جاتے تھے آپ اسکانمونہ ایرانی انقلاب اور آٹھ سالہ دفاع مقدّس کے تناظرمیں دیکھ سکتے ہیں ۔

یہی جوان جو کہ شاہ کے دور میں پلے بڑھے تھے انکے اندر ایسا انقلاب اور تحوّل آیا کہ وہ با ایمان اور صاحب عرفان ہو گئے کہ ان لوگوں نے ۸ سالہ جنگ کو بہت ہی افتخار اور سر بلندی کے ساتھ فتح کیا اسی دفاع مقدّس میں ایسی قربانی دیکھی گئی جسکی کوئی مثال نہیں ملتی ان لوگوں نے لاجواب اور بے نظیر قربانی پیش کی ، ان لوگوں نے انقلاب کو زندئہ جاویدکر دیا ۔اگر آپ اس زمانے میں اپنی کلاسوں میں ملاحظہ کریں گے تو آپ کو ایسے نوجوان مل جائیںگے جو عرفانی مطالب کو حاصل کرنے کے لئے اسی قدر والہانہ جذبہ رکھتے ہیں کہ گویاسو سال کی منزل کو ایک دن میں طے کر لیں اگر انکی ہدایت اور راہنمائی صحیح طریقے سے کی جائے تو ان میں صبرو ایثار،جذبہ و فدا کاری کی نیز دنیاوی لذّات سے اپنے کو بچانے کی قوت و صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے یہ سب ایسی چیزیں ہیں جن کا ہم نے انقلاب کے دوران اور جنگی محاذ پر مشاہدہ کیا ہے اور ایسی مثالوں کو دیکھا ہے اس نوجوان نسل کی ہدایت ]جو کہ بہترین صلاحیت رکھتے ہیں اور انکی فطرت پاک وپاکیزہ ہے[اور ان کی راہنمائی آج ہم اورآپ اساتیدکے کاندھوں پر ہے۔

۲۳

اکثر بڑے انقلابات صاحبان علم کی فکروں کا نتیجہ

ہماری بحث ذمہ داری اور مسئولیت کے بارے میں تھی جو مطالب میں نے پیش کئے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو اور زیادہ محسوس کریں، اگر آپ توّجہ کریں تو دیکھںگے کہ جولوگ مختلف شعبوں میں کامیاب ہوئے ہیں اور دنیا کے مختلف حصّوں میں انقلاب لانے کا سبب واقع ہوئے ہیں نوے فیصد سے زیادہ افراد صاحبان علم ہیں یہ الگ بات ہے کہ وہ یونیورسٹی سے تعلّق رکھتے ہوں یادینی مدارس سے، اقتصادی،اجتماعی،سیاسی اوردینی نیزاسی طرح کے اور دوسرے شعبوں میں آپ اکثر دیکھں گے کہ شروع میں ایک شخص کی کوشش اورپلاننگ ہوتی ہے پھردھیرے دھیرے اس میں وسعت پیدا ہوتی ہے اور آخر میں وہ بڑے انقلاب کی صورت اختیار کر لیتی ہے ۔

ایسا نہیں ہے کہ یہ انقلاب اور تحوّل ہمیشہ مثبت اور مفید ہی رہا ہو ان میں منفی اور مضر تحوّلات بھی پائے جاتے ہیں بہت سے ایسے تحوّلات بھی ہیں جو کہ اپنے اندر بہت ہی وسیع پیمانے پر فکری اوراخلاقی انحرافات کے حامل ہیں اور وہ انحرافات بہت ہی خطرناک حد تک پہونچے ہوئے ہیں ، انھیں میں سے ایک انحراف جس کی طرف اشارہ کیا جا سکتاہے مغرب کاجنسی اور اخلاقی انحراف ہے جس کے قائل خود مغربی ممالک کے افراد ہیں کہ اس انحراف کا سبب جرمنی کا مشہور ماہر نفسیات ]زیگمونڈ فرویڈ[نے نفسیاتی بیماریوں کے اسباب و علل کو دیکھ کر نتیجہ نکالا کہ اس جنسی اور اخلاقی انحراف کا سبب جنسی خواہش کا کچلا جانا اور غریزئہ جنسی کا دبایا جانا ہے اور اس پر پہرے کے سبب یہ انحراف ہو رہا ہے اس نے تحلیل و تجزیہ کیا اور اس بیماری کی وسعت کو کم کرنے اور اس سے بچنے کے لئے یہ رائے پیش کی کہ سماج اور معاشرے میں پوری طرح سے جنسی آزادی ہونی چاہئے۔

اگر چہ خود (فرویڈ) اس نظریہ کو ظاہر کرنے میں کوئی قصد و غرض نہیں رکھتا تھا لیکن پھر بھی بہر حال یہ نظریہ اس جنسی اور اخلاقی تنزّلی اورپستی کا باعث بنا جسکا ہم مغربی ممالک میں مشاہدہ کر رہے ہیں البتہ شہوت پرستی اور لوگوں کی ہوس رانی نیزغلط فائدہ اٹھانے والوں کی منفعت طلبی اور وقت سے فائدہ اٹھانے والوں کی کار فرمائیاں بھی اس چیز کے پھیلائو کا سبب بنی ہیں لیکن بہر حال پہلا قدم اسکے پھیلانے میں فرویڈ'' کا تھا، آج کل دنیا میں سب سے زیادہ فائدہ مند صنعت سیکس اور جنسی مسائل سے متعلّق ہے دنیا کی سب سے زیادہ بکنے والی فلمیں سیکسی فلمیں ہیں اور ٹی وی پر جو چینل سیکسی فلمیں نشر کرتے ہیں وہی چینل دنیا میں سب سے زیادہ دیکھے جاتے ہیں ان تمام انحرافات کی جڑ اسی ایک ماہر نفسیات کی فکر تھی۔

۲۴

فکری فسادو انحطاط کے متعلق بھی مارکس ازم کے تفکرّات اور اسکے غم انگیز نتیجوں کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے ستّر سال سے جو فلسفہ نصف کرئہ زمین پر حاکم تھا خود انھیں ملکوں اور جو لوگ ان ملکوں میں انکے پیرو تھے خود انھیں لوگوں کے اعتراف کے مطابق اسکے خطرناک نتائج سامنے آئے ،یہی مارکس ازم کانظریہ تھا جس نے لاکھوں بے دین اورر منکرین خدا کو پیدا کیا جو خدا اور دین سے شدّت جنگ کی ،نیز یہ نظریہ بھی ایک دوسرے جرمنی دانشور'' مارکسکا تھا یہ تو چند مضر اور نقصان دہ تحوّلات تھے،البتہ کچھہ مثبت اور فائدہ مند تحولات بھی علماء اور دانشوروں نے ایجاد کئے ہیں جن سے ہم کو غافل نہیں ہونا چاہئے انقلاب جمہوری اسلامی ایران بیسویں صدی کا مہم ترین تحوّل و انقلاب ہے جس کا دوست اور دشمن سبھی نے اعتراف کیا ہے یہ ایک مذہبی عالم آیت...امام خمینی کی فکروں کا نتیجہ تھا امام خمینی کی شخصیت ایک سے زیادہ نہیں تھی اور اسلحہ ،پیسہ وغیرہ کچھ بھی نہیں رکھتے تھے ان کے پاس صرف ایک بلند فکر تھی ایسی فکر کہ شروع میں تقریباً۹۹ فیصد خاص دوست ا ور احباب بھی یقین نہیں رکھتے تھے کہ یہ فکر عملی ہوجائے گی لیکن سبھی لوگ گواہ ہیں کہ اس شخص نے دنیا سے الگ ایک چھوٹے اور معمولی مکان میں بیٹھ کر مشرق و مغرب کی دو بڑی طاقتوں کو مبہوت کر دیا یہ ایسے عالم میں ہوا کہ امام نہ شہرت کے طالب تھے اور نہ ہی حکومت کے خواہاں، جبکہ یہ عام بات ہے کہ کوئی استاد درس پڑھا کر نکلتا ہے تو تمام شاگرد اسکے پیچھے پیچھے چلتے ہیں لیکن امام اس بات کی بھی اجازت نہیں دیتے تھے کہ کوئی انکے پیچھے چلے امام خمینی اگر کسی کو دیکھتے تھے تو اسکو منع کرتے تھے کہ وہ راستے میں انکے پیچھے پیچھے چلے، امام خمینی ایسے مرجع تھے کہ جنھوں نے بہت زمانے تک اپنے رسالہ عملیہ کو چھاپنے کی بھی اجازت نہیں دی اور جب اجازت دی تو اس شرط کے ساتھ کہ ایک پیسہ بھی سہم امام علیہم السلام کا اس میں خرچ نہ ہو میں خود اس بات کو جانتا ہوں کہ آپ کا رسالہ عملیہ کن لوگوں کے تعاون سے چھپا تھاآپ ایسی شخصیت تھے جو نہ قدرت کے طالب تھے اور نہ ہی شہرت کے خواہاں ،بلکہ ان دونوں چیز سے گریزاں تھے ۔

۲۵

آپ کے اندر ایک فکر تھی کہ جس پر بھروسہ کرکے آپ نے ایک بہت بڑا انقلاب برپا کر دیا ایسا تحوّل جس نے دنیا کے سیاسی حالات کو درہم برہم کر دیا یہ سب ایک مثبت فکر کا نتیجہ ہے۔

بہر حال میں اس بات کی تاکید کرنا چاہتا ہوں ایک آدمی،ایک استادخواہ وہ دینی مدرسے کا ہو یا یو نیورسٹی کا(چاہے وہ مثبت ہو یا منفی) عالمی انقلاب برپا کر سکتا ہے ۔ اگر ہم اس مسئلہ کی کی طرف توجّہ کریں تو ان ذمہ داریوں کے بوجھ اور اسکی اہمیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں پھر اس بات کے لئے آمادہ ہونگے کہ اس کے لئے وقت صرف کریں درس اور کلاس کو تعطیل کریں اور بیٹھ کر اس اہم مسئلہ کے بارے میں بحث اور گفتگو کریں اور ملک کے نوجوانوں کے بارے میں فکر کریں، اسلام اور اسلامی معاشرہ سے متعلّق جو کام انجام دینا ہے اسکو پہچانیںاور ان کے متعلق اپنا فریضہ انجام دیں ان تمام مطالب کی طرف توجّہ کرتے ہوئے بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس فریضہ اور ذمہ داری کو ادا کرنے کے لئے ہم کو کیا کرنا چاہئے اس کے جواب سے قبل ایک مقدمّہ بیان کرتا ہوں۔

تہذیبی انقلاب کی اہمیت

میں نہیں جانتا کہ آپ لوگوں کو کتنا یاد ہے لیکن انقلاب اسلامی کے شروع ہی میں مرحوم امام خمینی نے ثقافتی اورتہذیبی انقلاب کے مسئلہ کو پیش کیا اور بہت سے ملک کے تعلیمی ادارے بند ہوگئے تو مختلف ممالک سے لوگ آئے تاکہ اس بات کوملاحظہ کریں کہ امام خمینی نے جو ثقافتی انقلاب کی بات کو کہی ہے آخراس کاراز کیا ہے؟ کیونکہ اس سے پہلے بھی ثقافتی انقلاب فرہنگی کی بات آئی تھی جو کہ چین کے ثقافتی انقلاب سے متعلّق تھی جسکی بنیاد''مائو''نے رکھی تھی بہر حال ساری دنیا سے اہل فکر و نظر اور سیاسی لوگ ایران آئے تاکہ دیکھیں امام خمینی کیا کرنا چاہتے ہیں مجھکو خود یاد ہے کہ ایک یہودی استاد بھی آسٹریلیا سے قم آیا تھا میں نے خود جلسہ میں بیٹھ کر اس سے بحث و گفتگو کی وہ جاننا چاہتا تھا کہ آخر امام خمینی کا تہذیبی انقلاب کیا ہے؟ میں نے اس کو وضاحت کے ساتھ بتایا۔

۲۶

لیکن افسوس کہ ایسے حالات سامنے آئے کہ امام خمینی اپنے ارمان کو صحیح طریقے سے بیان نہ کر سکے اور اس کو عملی جامہ نہ پہنا سکے چونکہ نیا نیا انقلاب آیا تھا مختلف مسائل اور مشکلات سامنے تھے ابھی کچھ ہی دن گذرے تھے کہ آٹھ سالہ جنگ ہم پر مسلّط کر دی گئی جو کہ ملک کا سب سے اہم مسئلہ بن گئی ہم کو اس پر بہت ہی امکانات اور قوت و طاقت صرف کرنی پڑی ،بہر حال ملک کے اندر اور باہر شیطان صفت افرادمتحد ہو گئے یہ بھی ایک سبب بنا کہ جو ثقافتی انقلاب امام خمینی کے ذہن میں تھا وہ حقیقی اور عملی صورت اختیار نہیں کر سکا لہٰذا اگر کوئی یہ نتیجہ نکالے کہ بیرونی دبائو اورفوجی محاصرہ اور اقتصادی پابندی اور طرح طرح کی مشکلات ہمارے لئے کھڑی کی گئیں وہ سب صرف اس لئے کیا گیاکہ امام خمینی کا ثقافتی انقلاب کامیاب نہ ہو سکے اس جملہ میں کچھ نہ کچھ ربط ضرور ہے اور اس کو بعید از امکان نہیں سمجھنا چاہیئے، آپ خود بو سینا میں دیکھیں کہ وہاں اتنے ظلم کیوں کئے گئے ؟اور بہت ہی بے رحمی اور پوری دشمنی کے ساتھ ہزاروں مردوں، عورتوں ،بوڑھوں جوانوںحتیّٰ بچوّں کو قتل کر کے انکے سر کیوں جدا کئے گئے؟اور جو لوگ حیوانات کی حفاظت کے لئے انجمن بناتے ہیں اور چند حیوانات کے لئے مظاہرہ کرتے ہیں وہ لوگ بھی انسانوں پر اتنے ظلم و ستم کے بعد بیٹھے دیکھتے رہے اور انکی زبان پر ذلّت و رسوائی کا تالا پڑا رہا اور ان سے کچھ نہ بولا گیا بلکہ اس کے بر خلاف ظالموں کی مالی اور جنگی مدد بھی کرتے رہے، کیا اس کا سبب ثقافتی اور تہذیبی مسئلہ کے علاوہ کچھ اور تھا ؟ کیا ان مسلمانوں کی تعداد دو تین ملین سے زیادہ تھی ؟ یہ نہ زمین رکھتے تھے اور نہ مکان نہ انکی تعداد زیادہ تھی نہ ہی انکے پاس دولت، ہتھیار ،ٹکنالوجی اور کوئی اہم چیز تھی تو ان لوگوں پر اتنا بھیانک حملہ اور ظلم و ستم کیوں ہوا ؟اس کا جواب صرف ایک چیز ہے وہ یہ کہ ان کے پاس صر ف ثقافت اور اسلام کا کلچر تھا وہ لوگ دیکھ رہے تھے کہ بیسویں صدی کے آخر میں یورپ کے مرکز میں ایک اسلامی ملک ظاہر ہو رہا ہے اور اپنے وجود کا بر ملااعلان کر رہاہے اس سے وہ لوگ خوف زدہ تھے کہ اسلامی فرہنگ اور کلچر دھیرے دھیرے پڑوسی ممالک اور پورے یورپ میں پھیل جائے گااور آگے چل کر پورے یورپ میں ہر چیز کو بدل دے گا لہٰذا ان لوگوں نے ارادہ کیا کہ آغاز میں ہی اس تحریک کو ختم کر دیا جائے اور یہی کام الجزائر، ترکیہ اور دوسرے اسلامی ممالک میں انجام دیا گیا، آخر کیوں ؟ یہ لوگ اسلام سے خوف زدہ ہیں اسلام کیا ہے؟ اسلام ایک فکر اور فرہنگ ثقافت کا نام ہے تو گویا یہ لوگ ایک فکر اور فرہنگ سے ڈرتے ہیں

۲۷

اس طولانی مقدّمہ کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم کو اس سوال کے جواب میں کہ کیا کرنا چاہئے؟ صرف یہی ہے کہ ہم کو ثقافتی کام کرنا ہے یہ ساری بحثیں اس بات کا سبب بنتی ہیں کہ ہم زیادہ سے زیادہ اپنی ذمہ داری کو انجام دیں اور اس بات کو اپنے ذہن سے نکال دیں کہ یہ فکری اور فرہنگی بحثیں بے فائدہ ہیں اور ملک میں جو کچھ بھی مشکل ہے اسکا تعلّق صرف اقتصاد اور خارجی سیاست وغیرہ جیسے مسائل سے ہے ۔

انقلاب کے ارتقاء میں ثقافتی تحریکوں کا کردار

اسلامی تہذیب وتمدن کو فروغ دینے کے لئے ہم کو اصول اور نظام کی ضرورت ہے ہم کو چاہئے کہ ہم اپنی تحریک کی راہ و روش کو معین کریں جو حالات ہمارے سامنے ہیں ان کو محسوس کریں اپنے طریقہ کار کو پہچانیں اسی طرح اس تحریک سے متعلّق راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو دیکھیں اور ان سے متعلّق جو لازمی تدابیر ہیں انکو اختیار کریں، اس راستے میں سب سے پہلا قدم یہ ہونا چاہئے کہ ہم فکروں کو نئے انداز سے پیش کریں، اپنے مطالعہ کو وسیع اور مضبوط کریں ،فکروں کے اصول کو قائم کریں اصولی اور بنیادی طور پر محکم انداز سے اپنے کام کو شروع کریں۔

۲۸

انقلاب کے شروع میں ہم لوگ ایک مختصر شناخت رکھتے تھے ہم کو ظالموں اور انکے پٹھّوئوں کے مقابلے میں پوری طاقت کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے اسی مختصرشناخت پر ہم نے حرکت کی اور انقلاب اسلامی کامیاب ہوا اور یہاں تک پہونچا ہے آج بھی لوگوں کی اکثریت اسی اصول اور قانون کی پابند ہے لیکن ہم کو اس بات پر توّجہ دینی ہوگی کہ اس انقلاب کو باقی رکھنے اور اس کے تحفظ کے لئے یہ تھوڑی سی شناخت کافی نہیں ہے اس حرکت کے آغاز اور انقلاب کی کامیابی کے لئے زیادہ تر احساسات اورجذبات پر بھروسہ تھا جو کہ اسی مختصر شناخت کے ساتھ تھا جس سے کچھ نتیجہ حاصل ہوا لیکن اس راستے کو جاری رکھنے کے لئے صرف اس پر عمل کرنا کافی نہیں ہے بلکہ ہم کو اب اصل میں احساس و عواطف سے ہٹ کر شناخت اوربصیرت کے اسباب پر زیادہ توجّہ دینی ہوگی۔ اب آج نوحہ و ماتم اور نعروں سے لوگوں کو جمع نہیں کیا جا سکتا البتہ یہ سب چیزیں اپنی جگہ پر باقی رہیں اور محفوظ رکھی جائیں ،لیکن گفتگو اس بات میں ہے کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ثقافتی اموراور تہذیبی مراکز میں کوئی رخنہ وارد نہ ہو اور ہم دشمن کے نفوذ سے محفوظ رہیں تو ہمیں چاہئے کہ ہم غورو فکر کے ساتھ فرہنگ و ثقافت کی طرف خاص توجّہ دیں ۔آج دشمن بھی چالاکی کے ساتھ اس نکتے کو پہچان گیا ہے اس نے اپنی قوی اور مستحکم حرکت کو اقتصادی اور فوج میدان سے ہٹاکر سارے امکانات کو ثقافتی مسائل میں صرف کر رہا ہے اور دشمن اس کوشش میں ہے کہ اس طرح سے انقلاب کے ثقافتی مراکز کو آلودہ اور خراب کرکے دھیرے دھیرے تمام میدان کو اپنے قبضہ و اختیار میں کر لے ،اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس ثقافتی شگاف کو روکیں اور دشمن کو اس طرف سے داخل نہ ہونے دیں تو ہمیں چاہئے کہ اس پرا گندگی اور بے نظمی سے اپنے کو نکالیں، اگر ہم یونیورسٹی کے استاد کی حیثیت سے چاہتے ہیں کہ ثقافتی کاموں کو انجام دیں اور اسلام کی قدرو قیمت اور اسکی اہمیت کو نو جوانوں کے ذہن تک پہونچائیں تو سب سے پہلے ہم اپنے کو فکری اور ثقافتی اسلحہ سے لیس کریں

۲۹

اور اسلامی فکر و ثقافت اور اسکے مبانی و اصول نیز مغربی فکر وثقافت اور وہ شبہات جو کہ وہ لوگ پیش کرتے ہیں اس کو جانیں اور پہچانیں تاکہ معاشرہ خاص طور سے نوجوان نسلوں کے مسائل اور مشکلات اور انکے فکری اور ثقافتی شبہات ومشکلات کو حل کر سکیں اور انکے سوالات کے جوابات دے سکیں ا لبتہ خدا وند عالم خود اپنے دین کا محافظ ہے قرآن کریم میں ارشاد ہو رہا ہے:( انّانحن نزّلناالذکر واناّ له لحافظون'' ) ( ۱ ) بیشک ہم نے قران کریم کو نازل کیا اور ہم ہی اسکے محافظ ہیں ۔ اور بیشک خدا وند عالم ان تمام ظلمتوں اور تاریکیوں کے باوجود اسلام اور دین کی کشتی کو ساحل نجات تک پہو نچائے گا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے( هوالذی ارسل رسوله بالهدیٰ ودین الحق ) ۔۔.''( ۲ ) وہ خدا ہے جس نے پیغمبر کو ہدایت اور د ین حق کے ساتھ بھتجا تاکہ اسکو تمام ادیان پرغالب کر دے ہر چند کہ مشرکین اس بات کو نا پسند کریں ۔لیکن اس دین کی حفاظت کیوں نہ ہمارے ذریعہ ہو اور کیوں نہ ہم اس گروہ سے ہوں جن کوخدا وندعالم نے کلمہ حق کی بلندی کے لئے اور اپنے دین کی حفاظت کے لئے چنا ہے۔ ؟

امید کرتا ہوں کہ خدا وند عالم ہم سبھی لوگوں کو یہ توفیق عنایت فرمائے اورآخر میں اس بات کی تاکید کرتا ہوں کہ آج ہم لوگ اپنی حسّاس اور تا ریخی ذمہ داری کو محسوس کریں اور اس ذمہ داری کو انجام دینے اور اپنی فکری اور فلسفی خامیوں کو دور کرنے کے لئے ضروری تےّاریاں کریں اور اس بات پر توّجہ دیں کہ اگر خدا نخواستہ اس عظیم کام اور اس ذمہ داری کو انجام دینے میں کوئی کمی یا کوتاہی کی تو خدا وند عالم ، پیغمبر اکر مصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، ائمہ معصومین علیہم السلام اور ان شہداء کی بارگاہ میں جنھوں نے اپنا خون نچھاور کر کے اس پاک و پاکیزہ شجر کو محفوظ رکھا ہم لوگ اس کے جواب دہ ہونگے اور آسانی سے اس سے بچ نہیں سکتے ۔

____________________

(۱)سورہ حجر : آیہ ۹۔

(۲) سورہ صف : آیہ ۹۔

۳۰

تہذیب و ثقافت کے سلسلے میں ہماری ذمہ داری-۲

خدا وند عالم کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے توفیق عطا فرمائی کہ دوبارہ یونیورسٹی کے معظّم اساتید کے درمیان گفتگو کرنے کا موقع ملا اس کے پہلے جلسے میں گفتگو اس بارے میں تھی کہ ہمارے اوپر کیا کیا ذمہ داریاں ہیں ؟ اس کو میں نے کچھ حد تک بیان کیا اور اس ضمن میں چند باتیں آپ کے سامنے پیش کیںاس جلسے میں میں نے بیان کیا تھا کہ تہذیب وثقافت سے متعلق امور کو انجام دینے کے لئے سب سے پہلے ہم کو کچھ بنیادی باتوں پر غورو فکر کرنی ہوگی منجملہ انکے موجودہ حالات کو جاننا اور انکی تجزیہ اور تحلیل شامل ہے ،اگر چہ ہم لوگ اجمالی اور مختصر طور پر اپنے اندر ایک ذمہ داری کو محسوس کرتے ہیں اور یہی احساس ہے جس نے ہم لوگوں کو ایک جگہ جمع ہونے پر مجبورکیا ہے اور ہم لوگ ایک اجتماعی تحریک کے لئے آمادہ ہیں لیکن اس ذمہ داری کو زیادہ سے زیادہ سمجھنے اور بہتر طریقے سے جاننے کے لئے انقلاب اجتماعی اور سیاسی حالات اور اس کی گذشتہ تاریخ کو جاننا ضروری ہوگا تاکہ موجودہ حالات کی تصویر کو زیادہ واضح طریقے سے سمجھ سکیں اور زیادہ معلومات کے ساتھ مطلوبہ حالت کی طرف قدم بڑھا سکیں ،البتہ اس بارے میں مزید تفصیلی بحث ہونی چاہئے لیکن وقت کی کمی اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ اس گفتگو کو زیادہ تفصیل کے ساتھ پیش کیا جائے مجبوراً اسی ایک جلسہ میں اس مسئلہ کو پیش کرکے ختم کیا جارہا ہے ۔

۳۱

بہمن ۵۷ ۱۳ھجری شمشی سے پہلے ایران کی ایک تصویر

ہم سب کو معلوم ہے کہ اصل میں یہ تحریک ، انقلاب اسلامی کی کامیابی سے پندرہ سال پہلے ۴۲ ہجری شمسی سے شروع ہو چکی تھی یہ پندرہ سال کاعرصہ ایرانی عوام پر بہت ہی سخت گذرا ہے افراتفری کی حالت پورے ملک میں پائی جاتی تھی۔ اقتصادی بحران، سرکاری خزانے کی غارت گری اور تمام شعبوںمیں گمراہی جو دربار شاہ سے وابستہ تھے ان میں اخلاقی برائیاں نیزسرکاری ملازمین میں غلط کاریاں ،بے انتہا رشوت خوری ،ہر جگہ نا قابل برداشت طبقاتی اختلاف نیز اسکے علاوہ اور بہت ساری خرابیاں جس نے لوگوں کو عاجز کر دیا تھا اس کے علاوہ اجتماعی معاملات میں غیروں ، خاص کر امریکا کا عمل دخل پوری طرح سے اتنا دکھائی دیتا تھا کہ بلند و بالا وزیر اور عہدہ دار بھی امریکی تسلّط کے زیر اثر تھے اور عملی طور سے امریکی سفارت خانہ تھا کہ جس کے ہاتھ میں ملک کی ساری حاکمیت تھی ، وہ لوگ ہماری عوام حتّی بزرگ شخصیتوں کی بے عزتی اور توہین کیا کرتے تھے اور بار بار کی حقارت و توہین سے ان لوگوںکے اندربہت حد تک احساس کمتری پیدا ہو گیا تھا اور عوام یہ تصّور کرنے پر مجبور ہو گئے تھے کہ امریکی ہی متمدّن اور ترقی یافتہ ہیں اور ہم لوگ ان کے مقابلے میں بے حیثیت اور پس ماندہ ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسراسب سے اہم مسئلہ یہ تھا کہ وہ لوگ دین سے مقابلہ و مبارزہ کی سیاست اپنائے ہوئے تھے اور یہ فکر دن بہ دن وسیع ہوتی جا رہی تھی اور ایک مضبوط صدا بن رہی تھی آخری دنوں میں بات یہاں تک پہونچ گئی تھی کہ ان لوگوں نے درمیان سے سارے پردوں کو ختم کر دیا تھا وہ لوگ عام طور سے دینی مقدّسات سے کھلواڑ کر رہے تھے ان تمام حالات کے ہوتے ہوئے ایک عام اور وسیع انقلاب کا ہونانا گزیر ہو گیا تھا ۔

۳۲

شہنشا ہی دور کی سب سے بڑی آفت

اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس وقت کے حالات کا تجزیہ کریں تو سب سے بڑی آفت میری نظر میں یہ تھی کہ پچھلی استعماری سیاست کے ذریعہ خاص طور سے پہلوی نظام کے پچاّس ساٹھ سالہ دور میں ان لوگوں نے جو کام کیا وہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے گروہ اور دیندار افراد کو سیاست سے با لکل خارج کر دیا تھا، اس زمانے کی بہت سی چیزیں مجھکو یاد ہیں لیکن جس نکتہ کی طرف میں نے اشارہ کیا اس کی طرف بہت کم دوستوں کی توّجہ ہوگی یا انکو یاد نہ ہوگا ،یہ ایک بلا تھی اور بہت ہی اہم مسئلہ تھا جو ان لوگوں نے اس ملّت کے لئے ایجاد کر دیا تھا ۔اس طرح کی ان لوگوں نے سیاست گذاری کی تھی کہ اس ملک کے سیاسی اور اجتماعی کاموں کو کچھ ایسے افراد کے حوالے کر دیا تھا کہ جو ان کے مطابق تھے ایسے منتخب افراد کہ جن میں اسّی فیصد سے زیادہ امریکہ میں تعلیم حاصل کئے ہوئے تھے یا ایران میں ایسی یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ تھے جو امریکہ کے زیر اثر تھیں منجملہ ان یو نیورسٹیوں میں تہران کا'' د انشکدئہ مدیریت''(جو آجکل امام صادق یونیورسٹی ) اور شیراز کی یو نیورسٹی تھی شیراز کی یونیورسٹی کا جو مالک ہوتا تھا وہ سفارت امریکہ سے معےّن ہوتا تھا اور دوسری یونیورسٹیوں کے نظام اور نصاب بھی امریکی ہی معےّن کرتے تھے ،بہر حال ملک کی سیاست گذاری عملی طور سے انھیں منتخب اور چنندہ دانشوروں کے ہاتھ میں تھی جنکی اکثریت امریکہ کی تربیت یافتہ تھی،البتہ یہ سیاست اصل میں انگریزوں کی ہے جو بہت ہی باضابطہ اور منظّم انداز میں تھی،امریکہ نے سیاست کے اس طریقے کو انگریزوں سے سیکھا ہے تا کہ اس ذریعہ سے ان ممالک میں بہت دنوں تک اپنا تسلّط برقرار رکھ سکیں لہٰذا وہ اس بات کی کوشش کرتے تھے کہ ایسے دانشوروں کی خود انھیں ملک میں تربیت کریں جو بلا واسطہ طریقے سے انکی فکروں کو پروان چڑھائے اوروہ ان کے مطابق ہر کام کرنے کے لئے تیارہوں ۔اس سیاست کا نتیجہ یہ نکلاکہ ملک کے عام مسلمانوں کا ملک کی سیاست اور سرکاری امور میں کوئی کردار نظر نہیں آرہا تھا صرف ایک پارلیمنٹ تھی جہاں عوام کی کسی حد تک دخالت نظر آرہی تھی وہ بھی اس طرح کہ ممبروں کی ایک لیسٹ اور فہرست دربار شاہ اور امریکی سفارت خانہ کے توسط سے پہلے ہی معےّن ہو جاتی تھی اور وہی نام انتخابات کے دن بکسوں سے باہر آتے تھے۔

۳۳

اگر چہ ملک کے دانشوروں میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو ملک کی موجودہ سیاست سے متّفق نہیں تھے اور کسی بھی طرح ان کے ساتھ رہنے کو آمادہ نہیں تھے بلکہ ان سے مقابلہ کے لئے تےّار تھے اس سلسلے میں ان لوگوں نے کئی جماعتیں تشکیل دی تھیں ان میں سے ایک حزب تودہ (تودہ پارٹی )تھی اگرچہ یہ لوگ بھی کسی حدتک مشرقی استعمار کا آلہ کار تھے اور کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو روس کی طرف جھکائو رکھتے تھے اور وہ لوگ چاہتے تھے کہ ایران ایک سو سلشٹ اور روسی فکر میں تبدیل ہو جائے ،بہر حال پھر بھی اس گروہ میں کچھ مخلص اور سچّے لوگ بھی پائے جاتے تھے جوحقیقت میں انگریزوں اور امریکہ کے تسلّط اور استعمار کے چنگل سے بچنے کے لئے اسکے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں سمجھتے تھے تھا کہ اپنے کو روسیوںکے حوالہ کر دیں یعنی انکے ذہن میں یہ بات ڈال دی گئی تھی کہ تیسری دنیا کے ممالک مثلاً ایران وغیرہ کے سامنے صرف دو ہی راستہ ہے یا وہ امریکی پرچم کے نیچے آجائیں یا روسی پرچم کے زیر سایہ تا کہ انکے لئے دوسرے لوگوں سے مقابلہ کرنا ممکن اورآسان ہو جائے اگر چہ یہ دوسرے گروہ والے زیادہ نہیں تھے لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ اس خیال کے حامی ضرور تھے بہر حال ان دنوں دانشوروں کی ایک جماعت حزب تودہ کی شکل میں جمع ہو گئی تھی اور رسمی کاموں کو انجام دیتی تھی آج بھی ہم کو اس طرح کی تنظیم سے غافل نہیں ہونا چاہئے چونکہ یہ لوگ دوبارہ موقع کو غنیمت جان کر چوری چھپے اپنے کو پھر سے آمادہ کر رہے ہیں ۔اوراس بائیںبازو میں تودہ پارٹی کے علاوہ دوسرے گروہ جیسے فدائی خلق، کارگرپارٹی، رستگار پارٹی ، اور مختلف قسم کے مقامی گروہ مختلف علاقوںجیسے کردستان، آذربائیجان، ترکمنستان اور خوزستان وغیرہ میں موجود تھے ان تمام پارٹیوں کا مارکس ازم کی طرف جھکائو تھا ۔اس بات کا تذکرہ مناسب ہے کہ بہت سے گروہ جو کسی نام سے پائے جاتے تھے حقیقت میں اس کے اندر ممبران کی تعداد دس بیس افراد سے زیادہ نہیں تھی۔ ان بائیں بازو کی پارٹیوں کے مقابلہ میں اور دوسری پارٹیاں بھی پائی جاتی تھیں جن کا شمار داہنے بازو کی پارٹیوں میں ہوتا تھا جو کہ حکومت کی طرفدار اور اس پہلوی نظام کی موافق تھیں کہ مغربی بلاک سے تعلق رکھتی تھیں۔

۳۴

اس درمیان جس بات کی کمی تھی وہ دیندار افراد کی فعّالیت اور ان کا متحرک نہ ہونا تھا مختلف چالوں اور حربوں سے ان لوگوں کو سیاست کے میدان سے جدا کردیا گیا تھااور اس طرح سے تبلیغ کی گئی تھی کہ اصلاًکوئی دینداراورمتدےّن سیاسی امور میں دخالت نہیں کرتا تھا۔

یہ بات مجھکو خود یاد ہے کہ جب کسی موقع پر کسی عالم دین کو بدنام کرنا چاہتے تھے تو کہتے تھے کہ یہ ملاّسیاسی ہے گویا ایسا دور آ گیا تھا کہ سیاسی مولوی ہونا ایک گالی تصوّر کیاجاتاتھا اسی وجہ سے دیندارافراد خاص طور سے عالم دین حضرات سیاست کے میدان میں اترنے سے پرہیز کرتے تھے۔ یہاں تک کہ آہستہ آہستہ بعض اسلامی ممالک کی پیروی اور کچھ دوسرے اسباب کی بنا پر دینداروں کے درمیان بھی بعض سیاسی گروہ پیدا ہو گئے تھے مشہور تنظیمفدائیان خلقانھیں گروہوںمیں سے ایک تھی اگر چہ یہ ایک چھوٹی سی تنظیم تھی لیکن اپنی جگہ بہت ہی مصممّ اور مستحکم پارٹی تھی، ایک دوسرا گروہحزب ملل اسلامی'' تھا جو کہ ۲۸ مردادکے بعد عالم وجود میں آیا تھا یہ لوگ بھی معدودے چندافرادسے زیادہ نہیں تھے اور آخر کار گوشئہ گمنامی میں چلے گئے اسی دوران (جو کہ مرحوم آیت۔۔ کاشانی کے سیاسی کارناموں کی بلندی کا دور تھا )ایک دوسرا گروہمجاہدین اسلامبھی تھا جس کے بانی شمس قنات آبادی تھےسازمان مجاہدین خلقجس کو آجکل ہم گروہ منافقین کے نام سے جانتے ہیں حقیقت میں اسی گروہ کا ایک حصّہ تھا جس کے بانی یہی شمس تھے جیسا کہ آپ جانتے ہیں بعد میں چل کر اس گروہ نے مارکسی رجحان پیدا کر لیا اور آخر کار امریکہ اورمغرب کے دامن میں چلا گیابہر حال ملک کے سیاسی حالات کی یہ تصویر او ر یہ متحّرک تنظیمیں انقلاب کی کامیابی سے پہلے تھیں جو انھیںمذکورہ چند گروہوں میں منحصر تھیں اور ملک کے مخلص اورمعتقدمسلمانوں کی اکثریت ، جو کہ نوّے فیصدتھے اس میدان سے پوری طرح دور تھے سیاست میں آنے کے لئے انکے پاس کوئی ذریعہ اور راستہ نہیں تھا ان نوّے فیصد لوگوں میں حالات اور واقعات کی حقیقت سے آگاہی رکھنے والے افراد کم نہ تھے یہ لوگ حقیقت میں ملک کے حالات سے ناراض تھے اور خون دل پیتے تھے لیکن عملی طور سے کچھ نہیں کر سکتے تھے انکو کچھ امید بھی نہیں تھی اس زمانے میں چند اسلامی گروہوں کے درمیان جو کہ واقعا ًاسلام سے لگائو رکھتے تھ

۳۵

ے اوروہ شاہ کی حکومت کو قبول نہیں کرتے تھے نیز بائیں بازو اور مارکس ازم کی طرف بھی ان کا رجحان نہیں تھا ایک گروہنہضت آزادیبھی تھااس گروہ میں چند نوجوان لڑکے تھے جنھوں نے اکٹھاہو کر ایک تنظیم بنا لی تھی اور دھیرے دھیرے اس تنظیم نے تحریک آزادی کی شکل اختیار کر لی تھی اس تنطیم کی بنیاد ڈالنے والے لوگوں میں انجینئر بازرگان اور ڈاکٹر ید ا... سحابی کا نام لیا جا سکتا ہے ،تہران یونیورسٹی کے شعبہ فنّی کی مسجد کی بنیاد ڈالنے والے یہی مہندس بازرگان تھے، اسی طرح آپ کئی رسالوں کو مختلف شکل میں چھاپتے تھے ان میں ایک رسالہ''گنج شایگاں''تھا ،تحریک آزادی والے بھی مجاہدین خلق کی طرح اسلام سے ربط رکھتے تھے نمازی اور روزہ دار بلکہ بعض عابدشب زندہ دار بھی تھے، اگرچہ تحریک آزادی والے بھی مجاہدین خلق کی طرح راستے سے بھٹک گئے اورخود کو سیاسی حیثیت سے محفوظ رکھنے کے لئے محاذملّی کے ان ممبران کے عنوان سے پیش کیا جو کہ سیاسی دانشوروں کے درمیان دوسروں سے بہتر تصوّر کئے جاتے تھے، اور ویسا ہی کام کرنے لگے سیاسی اعتبار سے ملک کی یہ حالت اس وقت، انقلاب کی کامیابی سے پہلے تھی ۔

سیاسی تغیراورانقلاب کے لئے امام خمینی کی حکمت عملی

ان حالات میں امام خمینی نے فہم و فراست اور سیاسی بصیرت کے ساتھ جو کہ شروع سے آپ رکھتے تھے یہ محسوس کیا کہ یہ سیاسی کارنامے جو دانشوروں کے مختلف گروہوں کی طرف سے انجام دئیے جارہے ہیں اگرنتیجہ کو پہونچ جائیں تو بھی اس سے اسلام کو کوئی فائدہ پہونچنے والا نہیں ہے حتیّٰ جو لوگ اسلام کے نام پر جو کچھ کررہے ہیں اس سے بھی کچھ فائدہ ہونے والانہیں ہے، صرف ایک راستہ جو امام خمینی کی نظر میں فائدہ مند تھا اور اس کا ہونا ضروری تھا وہ یہ کہ عام مسلمانوں کو میدان میں لایا جائے امام خمینی کا یہ عقیدہ تھا کہ یہ جماعتیں اور تنظیمیں ایک اسلامی انقلاب( جو کہ مضبوطی کے ساتھ تمام شعبوں میں حاکم ہو اور حکومت اسلامی کی شکل میں ہو ) نہیں لاسکتی ہیں ، اگرچہ امام خمینی کی تھیوری اس زمانے میں قابل قبول نہیں تھی اور آج بھی نہیں ہے وہ لوگ اس بات کے معتقد تھے کہ جہاں بھی جس صورت میں سیاسی تحریک اور فعّالیت انجام پائے، اس کا نتیجہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ کسی گروہ یا تنظیم کی شکل میں کسی خاص رابطہ اور قاعدہ کے ساتھ انجام پائے اسکے بر خلاف ایسی تحریک جو عمومی طور سے ہو اور اس میں سب کے سب لوگ دخالت رکھتے ہوں

۳۶

اور سب کے سب اپنے کو ذمہ دار محسوس کرتے ہوں اور وہ تمام لوگ متحد ہو کر حرکت کرتے ہوں تو علوم سیاسی کے کلاسکی نظریات میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اگر امام خمینی یہ چاہتے کہ اپنے نظریات اور افکار کو علمی نظریہ کی شکل میں پیش کریں اور اس کے بارے میں بحث وگفتگو کریں تو کوئی بھی اس کو قبو ل نہیں کرتا امام خمینی نے اس سیاسی مطلب کو علمی نظریہ میں پیش کرنے کے بجائے اس کام کو عملی طور سے پیش کرنا شروع کیا اور آپ نے مصّمم ارادہ کر لیا کہ عام لوگو ںکو میدان میں لیکر آئیں اور اس احساس ذمہ دارری کو عام لوگوں کے ذہن میں ڈال دیا کہ مسلمان ہونے کے ناطے تمام لوگوں کا یہ فریضہ بنتا ہے کہ وہ ملک کے سیاسی امور میں حصّہ لیں، امام خمینی کی یہ فکر دوسری اور فکروں کی طرح ایک نئی فکر تھی اگر امام خمینی س راستے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ اختیار کرتے تو کوئی خاطرخواہ انقلاب پیدا نہیں کر سکتے تھے امام خمینی نے عوامی طاقت اور ان کی حمایت سے اتنی بڑی کامیابی حاصل کر لی اور اس تحریک کو جو کہ اس کے پہلے ہمیں نظر نہیں آتی تھی وجود بخشا ، اس کام کو کوئی بھی سیاسی گروہ چاہے بائیں بازو کی پارٹی ہو یا تنظیم ملّی ہو یا کوئی اور مذہبی گروہ ہو انجام دینے پر قادر نہیں تھا ،اس بات کادوست دشمن سب نے اعتراف کیا ہے ۔ یہ صرف امام خمینی کی ذات تھی جس نے عظیم ملّت کے گروہوں میں چھپی ہوئی طاقت کو مشخّص کرکے ان کے دینی اور اسلامی جذبات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نتیجہ خیز کام کو شروع کیا ۔ہم کویہ بات اچھی طرح یاد ہے اور میں خود اس بات کا قریب سے گواہ ہوں کہ وہ آوارہ اوربیکار جوان جو کہ سڑکوں اور گلیوں میں پھرا کرتے تھے امام خمینی نے ان کو ایسا بدل دیا اور ایسا بنا دیا کہ وہ انقلاب کے وقت دشمنوں کے مقابلہ میں اپنے سینوں کو ڈھال بنا کر پیش کرتے تھے اورحکومت شاہ کے سپاہیوںسے کہتے تھے مارو جتنا مارنا ہے مار لو! امام خمینی نے لوگوں کے اندر ان کی دینی ذمہ داری کے احساس کو زندہ کر دیا آپ نے اپنی خالص نےّت سے ایسا کام کر دیا جس سے لوگوں میں محدود اور خشک گروہی رابطوں کے بجائے ایک گہرا اور صمیمانہ رابطہ پیدا ہوگیا لوگ امام خمینی سے محبّت کرتے تھے اور پروانہ کی طرح ارد گرد گھومتے تھے ۔یہ امام خمینی کی بے مثل اور بے نظیر رہبری اور قیادت تھی ہم آج بھی محبّت کے اس گہرے رشتے کو دیکھ رہے ہیں یہاں تک کہ آپکے انتقال کے سالوں بعد بھی آپ کا نام خاص احترا م کے ساتھ لیا جاتا ہے۔

۳۷

بہر حال امام خمینی کی یہ تحریک اس روز کے رائج فارمولے اور سیاست سے جدا تھی، اس وقت جب ۱۳۵۶ہجری شمسی میں لوگوں نے سڑکوں پر مظاہرہ شروع کیا تو اچھے اچھے لوگوں نے بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ بیس سال سے کم کی مدّت میں اس حرکت اور قیام کا کوئی نتیجہ نکل سکتا ہے اور کامیابی حاصل ہوگی ایسے افراد سے میری مراد ڈاکٹر بہشتی وغیرہ جیسے لوگ ہیں یہ لوگ کوئی معمولی شخصیت کے مالک نہیں تھے بلکہ بلند سیاسی درجہ رکھتے تھے ان جیسے لوگوں کا بھی ( انقلاب اسلامی کی کامیابی سے پہلے اور آزادی کے آخری دنوں میں ) یہی نظریہ تھا کہ ابھی بیس سال اور انتظار کریں لیکن سبھی لوگوں نے دیکھا کہ امام خمینی کی تحریک نے ایک سال اور چند دنوں میں ہی نتیجہ دینا شروع کر دیا اور انقلاب کامیاب ہو گیا ،ایسی چیز جس پر میں خود ذاتی طور پر بھی یقین نہیں کرتا تھا اگر کوئی کہتا تھاتو مجھے خواب و خیال سا لگتا تھا میں تو ایک معمولی آدمی ہوں مجھ سے بڑے بڑے لوگوں کا بھی تصّور اور خیال یہی تھا ،بہر حال اگر یہ کہیں کہ ۱۳۵۷ میں انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی ایک خدائی معجزہ تھی تو میرے نزدیک یہ کوئی مبالغہ کی بات نہیں ہوگی۔

انقلاب کی کامیابی کے بعد بعض ایسے مفسد گروہ کہ جنکی لوگوں کے درمیان کوئی وقعت نہیں تھی اور ان کی بیہودہ حرکتیں، فریب کاریاںاور قتل و غارت گری ہی خود ان کے خاتمہ کا سبب بنی اور وہ ملک سے بھاگ گئے ان کے علاوہ کچھ دوسرے گروہ باقی رہ گئے جیسے تودہ پارٹی،دہشت گرد فدائی خلق ،پان ایرانیسٹ ،محاذملّی اورتحریک آزادی یہ لوگ پہلے کی طرح کام کرتے رہے انکے لئے کوئی چیز مانع بھی نہیں تھی اور انکے جان ومال محفوظ تھے ۔

یہاں تک تقریباًوہ مطالب تھے جن کو آپ سبھی لوگ جانتے تھے اور کوئی نئی بات نہیں تھی صرف ان مسائل اور واقعات پر جو انقلاب کی کامیابی سے پہلے تھے ایک سرسری نظر ڈالی گئی اور اکثر مطالب مقدّمہ کے عنوان سے تھے اصل بحث جس پر میری خاص تاکید ہے اس کے بعد ہے جس پر میں چاہتا ہوں کہ آپ خاص توجّہ دیں ۔

۳۸

حقیقی اسلام کے افکار و اقدا ر سے متعلق اسلامی نظام کے کے ذمہ داروںکا اعتقاد

انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد طبعی طور سے ملک کی سرپرستی اور حکومت بنانے سے متعلق بحث ہوئی؛ سب سے پہلی حکومت انجینئر بازرگان کی صدارت میں بنی؛ اسکے بعد بہت سے حکومتیں کئی لوگوں کی سر براہی میں بنیں؛بہت سی کمیاں اور فطری اشکالات جو کم تجربگی اور نئے ہونے کی وجہ سے لازمی تھے وہ سب پائے جاتے تھے جیسا کہ ہر انقلاب اور ہر نئی حکومت کی خصوصیت ہے لیکن اس کے علاوہ اس جگہ جو چیز قابل سوال ہے وہ یہ کہ کیا ارکان حکومت کے تمام لوگ امام خمینی کی طرح فکر رکھتے تھے اور کیا سبھی لوگ معاشرہ میں دین کے اثر کے متعلق وہی چیز سمجھتے تھے جومرحوم امام سمجھتے تھے ۔

اس وقت ملک کے بڑے لوگ جن کا شمار سیاسی طور پر بزرگوں اور فیصلہ کن لوگوں میں ہوتا تھا جیسے شہید بہشتی؛شہید مطّہری؛شہد باہنر اور ان جیسے دوسرے لوگ جو سالوں امام خمینی کے زیر سایہ تربیت پاچکے تھے یہ لوگ مکمل طور سے امام خمینی کی فکروں اور نظریوں سے واقف تھے اس کے علاوہ یہ لوگ خود بھی اچھّی صلاحیت کے مالک تھے اسلام کے معارف اور اصول کا وسیع اور گہرا مطالعہ رکھتے تھے اور اسلام کے اصول و احکام اور معارف کا بخوبی علم رکھتے تھے، ایسے لوگ امام خمینی کے راستوں کو پہچانتے تھے اور اس پر اعتماد اور یقین رکھتے تھے اور حقیقت میں وہی چاہتے تھے جس کی فکراور جستجو میں امام خمینی تھے؛ لیکن ذرا آپ غور کریں یہ لوگ کتنے سال زندہ رہے؟ انقلاب کے ایک دو سال کے شروع میں ہی اکثر کو شہید کر دیا گیا سب سے پہلے مرتضیٰ مطّہری کو شہید کیا گیا اس کے بعد ۷ تیر اور ۸شہریور کا واقعہ ہوا ؛جس میں بہشتی؛ باہنر وغیرہ شہید ہوگئے نیز اور دوسرے بہت سارے واقعات جس میں بہت سے ایسے لوگ جو امام خمینی کے افکار اور اصول سے اچھی طرح واقف تھے اور اسی اصول پر یقین رکھتے تھے ملک کے سیاسی عہدوں پر متمکّن تھے اور ملک کے قوانین بنانے میں اہم رول رکھتے تھے وہ لوگ ہمارے درمیان سے رخصت ہو گئے، دشمن جو کہ سارے حالا ت سے باخبر تھا اس سے پہلے کہ ہم ان شخصیات کو اچھی طرح پہچانیں اس نے ان تمام لوگوں کو ہم سے چھین لیا ؛وہ بعض افراد کہ جن کا نام ہم نے لیا اور دوسرے چند لوگوں کو چھوڑ کر وہ تمام لوگ جو کہ ۸شہریور کے واقعہ اور مرحوم باہنر کی حکومت کے بعد حکومت کے لئے آئے اور ملک کے ا ہم سرکاری عہدوں اور وزارتوں پر فائز ہوئے وہ لوگ نہ اس حد تک امام خمینی کو پہچانتے تھے

۳۹

اورنہ انکی روحی اور معنوی نظر اس قابل تھی کہ وہ امام خمینی کے افکار کو پہچان سکیں ؛مختلف لوگ کم و بیش مغربی ثقافت اور تعلیمات سے متا ثر تھے وہ لوگ اسلامی معارف و ثقافت سے دور تھے یہ فاصلہ دن بہ دن ہر حکومت میں پچھلی حکومت اور اس کے مسئولین کی نسبت بڑھتا چلا گیا ؛لیکن جب تک امام خمینی زندہ تھے آپ کی روحانی عظمت اور الٰہی و معنوی شخصیت جس کا سایہ سارے ملک پر تھا بہت کم لوگ اپنی دلی خواہش کا اظہار کرتے تھے حتیٰ جو لوگ امام خمینی کی فکروں اور اصول کی مخالفت کرتے تھے وہ لوگ بھی مخالفت کے لئے راستے کو ہموار نہیں دیکھتے تھے اور پھر وہ عملی طور سے کوئی بات پیش نہیں کر سکتے تھے ۔بہر حال امام خمینی کے انتقال کے بعد آپ کے راستے اور افکار سے دوری کا راستہ ہموار ہوتا چلا گیا کیونکہ اب وہ مربی نہیں رہا اور وہ معنوی شخصیت ہمارے درمیان نہیں رہی ؛امام خمینی ایسی شخصیت تھے جنھوں نے ۸۰سال تک سیاسی اور اجتماعی تلخ وشیریں حادثوں کو ملاحظہ کیا نفسانی اور روحانی طور سے اپنے کو آمادہ کیا اورآپ دشمن سے مقابلہ کا ۳۰ سالہ گرانبہاتجربہ رکھتے تھے لہٰذا امام خمینی کے بعد کوئی کتنی ہی خود سازی کرے اور کتنا ہی با تجربہ اور با لائق ہو وہ امام خمینی جیسا نہیں ہو سکتا ،یہ خود ایک وجہ ہے جو دوسری مختلف وجہوں کے ساتھ فطری طور سے موجود ہے اور اس وقت ان کے بیان کی گنجائش نہیں ہیاور یہ سب وجہیں ایک ساتھ مل کر اس بات کا سبب بن گئی ہیں کہ اسلامی افکارو اقدار دن بہ دن کم سے کمتر ہوتے جا رہے ہیں اس وقت ہم یہ ذمہ داری رکھتے ہیں کہ حالات کو سمجھیں اور مناسب طریقہ کار اور حکمت عملی کے ذریعہ ا س چیزکو آگے بڑھنے سے روکیں ۔

۴۰

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

والزَّالُّونَ الْمُزِلُّونَ - يَتَلَوَّنُونَ أَلْوَاناً ويَفْتَنُّونَ افْتِنَاناً - ويَعْمِدُونَكُمْ بِكُلِّ عِمَادٍ ويَرْصُدُونَكُمْ بِكُلِّ مِرْصَادٍ - قُلُوبُهُمْ دَوِيَّةٌ وصِفَاحُهُمْ نَقِيَّةٌ - يَمْشُونَ الْخَفَاءَ ويَدِبُّونَ الضَّرَاءَ - وَصْفُهُمْ دَوَاءٌ وقَوْلُهُمْ شِفَاءٌ وفِعْلُهُمُ الدَّاءُ الْعَيَاءُ - حَسَدَةُ الرَّخَاءِ ومُؤَكِّدُو الْبَلَاءِ ومُقْنِطُو الرَّجَاءِ - لَهُمْ بِكُلِّ طَرِيقٍ صَرِيعٌ - وإِلَى كُلِّ قَلْبٍ شَفِيعٌ ولِكُلِّ شَجْوٍ دُمُوعٌ - يَتَقَارَضُونَ الثَّنَاءَ ويَتَرَاقَبُونَ الْجَزَاءَ - إِنْ سَأَلُوا أَلْحَفُوا وإِنْ عَذَلُوا كَشَفُوا، وإِنْ حَكَمُوا أَسْرَفُوا - قَدْ أَعَدُّوا لِكُلِّ حَقٍّ بَاطِلًا ولِكُلِّ قَائِمٍ مَائِلًا - ولِكُلِّ حَيٍّ قَاتِلًا ولِكُلِّ بَابٍ مِفْتَاحاً -

اورمنرف سازبھی یہ مسلسل رنگ بدلتے رہتے ہیں اور طرح طرح کے فتنے اٹھاتے رہتے ہیں۔ہرمکرو فریب کے ذریعہ تمہارا ہی قصدکرتے ہیں اور ہر گھات میں تمہاری ہی تاک میں بیٹھتے ہیں۔انکے دل بیمار ہیں اور ان کے چہرے پاک و صاف ۔اندر ہیاندر چال چلتے ہیں اور نقصانات کی خاطر رینگتے ہوئے قدم بڑھاتے ہیں۔ان کا طریقہ دوا جیسا اور ان کا کلام شفا جیسا ہے لیکن ان کا کردار نا قابل علاج مرض ہے ۔یہ راحتوں میں حسد کرنے والے مصیبتوں میں مبتلا کردینے والے اور امیدوں کو نا امید بنا دینے والے ہیں۔جس راہ پر دیکھو ان کامارا ہوا پڑا ہے۔اور جس دل کو دیکھو وہاں تک پہنچنے کا ایک سفارشی ڈھونڈ رکھا ہے۔ اور ہر رنج و غم کے لئے آنسو(۱) تیاررکھے ہوئے ہیں۔ایک دوسرے کی تعریف میں حصہ لیتے ہیں اور اس کے بدلہ کے منتظر رہتے ہیں سوال کرتے ہیں تو چپک جاتے ہیں اور برائی کرتے ہیں تو رسوا کرکے ہی چھوڑتے ہیں اور فیصلہ کرتے ہیں تو حد سے بڑھ جاتے ہیں۔ہر حق کے لئے ایک باطل تیار کر رکھا ہے اور ہر سیدھے کے لئے ایک کجی کا انتظام کر رکھا ہے۔ہر زندہ کے لئے ایک قاتل موجود ہے اور ہر دروازہ کیلئے ایک کنجی بنا رکھی ہے

(۱)حقیقت امر یہ ہے کہ منافقین کا کوئی عمل قابل اعتبار نہیں ہوتا ہے اور ان کی زندگی سراپا غلط بیانی ہوتی ہے۔تعریف کرنے پر آجاتے ہیں تو زمین وآسمان کو قلابے ملادیتے ہیں اوربرائی کرنے پر تل جاتے ہیں توآدمی کو عالمی سطح پرذلیل کرکے چھوڑتے ہیں۔اس لئے کہان کا نہ کوئی ضمیر ہوتاہے اور نہ کوئی معیار۔انہیں صرف موقع پرستی سے کام لینا ہے اور اسی کے اعتبار سیزبان کھولنا ہے۔خطبہ کے عنوان سے یہ اندازہ ہوتا تھا کہی ہ سماج کے چند افراد کا ایک گروہ ہے جس کے کردار کو واضح کیا جا رہا ہے تاکہ لوگ اس کردار سے ہوشیار ہیں اور اپنی زندگی کو نفاق سے بچا کر ایمان اور تقویٰ کے راستہ پر لگا دیں۔لیکن تفصیلات ک دیکھنے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ یہ پورے سماج کا نقشہ ہے اور ساراعالم انسانیت اسی رنگ پر رنگا ہوا ہے۔زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جس میں نفاق کی حکمرانی نہ ہو اور انسان کے کردار کا کوئی رخ ایسا نہیں ہے جسے میں واقعیت اورحقیقت پائی جاتی ہو اورجس نفاق سے پاک و پاکیزہ قرار دیاجاسکے۔

۴۰۱

ولِكُلِّ لَيْلٍ مِصْبَاحاً - يَتَوَصَّلُونَ إِلَى الطَّمَعِ بِالْيَأْسِ لِيُقِيمُوا بِه أَسْوَاقَهُمْ - ويُنْفِقُوا بِه أَعْلَاقَهُمْ يَقُولُونَ فَيُشَبِّهُونَ - ويَصِفُونَ فَيُمَوِّهُونَ قَدْ هَوَّنُوا الطَّرِيقَ - وأَضْلَعُوا الْمَضِيقَ فَهُمْ لُمَةُ الشَّيْطَانِ وحُمَةُ النِّيرَانِ -( أُولئِكَ حِزْبُ الشَّيْطانِ - أَلا إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطانِ هُمُ الْخاسِرُونَ ) .

(۱۹۵)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يحمد اللَّه ويثني على نبيه ويعظ

حمد اللَّه

الْحَمْدُ لِلَّه الَّذِي أَظْهَرَ مِنْ آثَارِ سُلْطَانِه وجَلَالِ كِبْرِيَائِه - مَا حَيَّرَ مُقَلَ الْعُقُولِ مِنْ عَجَائِبِ قُدْرَتِه - ورَدَعَ خَطَرَاتِ هَمَاهِمِ النُّفُوسِ عَنْ عِرْفَانِ كُنْه صِفَتِه -

الشهادتان

وأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللَّه - شَهَادَةَ إِيمَانٍ وإِيقَانٍ وإِخْلَاصٍ وإِذْعَانٍ - وأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُه ورَسُولُه - أَرْسَلَه وأَعْلَامُ الْهُدَى دَارِسَةٌ - ومَنَاهِجُ الدِّينِ طَامِسَةٌ فَصَدَعَ بِالْحَقِّ - ونَصَحَ لِلْخَلْقِ، وهَدَى إِلَى الرُّشْدِ

اور ہر رات کے لئے ایک چراغ مہیا کر رکھا ہے۔طع کے لئے ناموس کو ذریعہ بناتے ہیں تاکہ اپنے بازار کو رواج دے سکیں اور اپنے مال کو رائج کر سکیں۔جب بات کرتے ہیں تو مشتبہ قسم کی اور جب تعریف کرتے ہیں تو باطل کو حق کا رنگ دے کر۔انہوں نے اپنے لئے راستہ کو آسان بنالیا ہے اور دوسروں کے لئے تنگی پیدا کردی ہے۔یہ شیطان کے گروہ ہیں اور جہنم کے شعلے ' یہی حزب الشیطان کے مصداق ہیں اور حزب الشیطان کا مقدر سوائے خسارہ کے کچھ نہیں ہے ۔

(۱۹۵)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے اپنی سلطنت کے آثار اور کبریائی کے جلال کو اس طرح نمایاں کیا ہے کہ عقلوں کی نگاہیں عجائب قدرت سے حیران ہوگئی ہیں اورنفوس کے تصورات و افکار اس کے صفات کی حقیقت کے عرفان سے رک گئے ہیں۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور یہ گواہی صرف ایمان و یقین ۔اخلاص و اعتقاد کی بناپر ہے اور پھر میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ص) اس کے بندہ اور رسول ہیں۔اس نے انہیں اس وقت بھیجا ہے جب ہدایت کے نشانات مٹ چکے تھے۔اور دین کے راستے بے نشان ہوچکے تھے۔انہوں نے حق کاواشگاف انداز سے اظہار کیا۔

۴۰۲

وأَمَرَ بِالْقَصْدِ -صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم -

العظة

واعْلَمُوا عِبَادَ اللَّه - أَنَّه لَمْ يَخْلُقْكُمْ عَبَثاً ولَمْ يُرْسِلْكُمْ هَمَلًا - عَلِمَ مَبْلَغَ نِعَمِه عَلَيْكُمْ وأَحْصَى إِحْسَانَه إِلَيْكُمْ - فَاسْتَفْتِحُوه واسْتَنْجِحُوه واطْلُبُوا إِلَيْه واسْتَمْنِحُوه - فَمَا قَطَعَكُمْ عَنْه حِجَابٌ ولَا أُغْلِقَ عَنْكُمْ دُونَه بَابٌ - وإِنَّه لَبِكُلِّ مَكَانٍ وفِي كُلِّ حِينٍ وأَوَانٍ - ومَعَ كُلِّ إِنْسٍ وجَانٍّ - لَا يَثْلِمُه الْعَطَاءُ ولَا يَنْقُصُه الْحِبَاءُ - ولَا يَسْتَنْفِدُه سَائِلٌ ولَا يَسْتَقْصِيه نَائِلٌ - ولَا يَلْوِيه شَخْصٌ عَنْ شَخْصٍ ولَا يُلْهِيه صَوْتٌ عَنْ صَوْتٍ - ولَا تَحْجُزُه هِبَةٌ عَنْ سَلْبٍ ولَا يَشْغَلُه غَضَبٌ عَنْ رَحْمَةٍ - ولَا تُولِهُه رَحْمَةٌ عَنْ عِقَابٍ

لوگوں کو ہدایت دی اورسیدھے راستہ پر لگا کرمیانہ روی کا قانون بتادیا۔ بند گان خدا ! یاد رکھو پروردگار نے تم کو بیکارنہیں پیداکیا ہے اور نہ تم کو بے لگا چھوڑ دیا ہے۔وہ تم کو دی جانے والی نعمتوںکے حدود کو جانتا ہے اورتم پر کئے جانے والے احسانات کا شمار رکھتا ہے لہٰذا اس سے کامرانی اور کامیابی کا تقاضا کرو۔اس کی طرف دست طلب بڑھائو اور اس سے عطایا کا مطالبہ کرو۔کوئی حجاب تمہیں اس سے جدا نہیں کر سکتا ہے اور کوئی دروازہ اس کا تم پر بند نہیں ہو سکتا ہے۔وہ ہرجگہ اور ہر آن موجود ہے۔ہر انسان اور ہرجن کے ساتھ ہے۔نہ عطاء اس کے کرم میں رخنہ ڈال سکتی ہے اور نہ ہدایا اس کے خزانہ میں کمی پیدا کر سکتے ہیں۔ کوئی سائل اس کے خزانہ کو خالی نہیں کر سکتا ہے اور کوئی عطیہ اس کے کرم کی انتہا ء کو نہیں پہنچ سکتا ہے۔ایک شخص کی طرف توجہ دوسرے کی طرف سے رخ موڑ نہیں سکتی ہے اورایک آوازدوسری آوازسے غافل نہیں بنا سکتی ہے۔اس کاعطیہ(۱) چھین لینے سے مانع نہیں ہوتا ہے اور اس کا غضب رحمت سے مغشول نہیں کرتا ہے۔رحمت عتاب سے غفلت میں نہیں ڈال دیتی ہے

(۱) جن لوگوں کے صفات و کمالات پر مزاج یا عادات کی حکمرانی ہوتی ہے۔ان کے کمالات میں اس طرح کی یکسانیت پائی جاتی ہے کہ مہربان ہو تے ہیں تو مہربان ہی ہوتے ہیں اور غصہ ور ہوتے ہیں تو غصہ ور ہی ہوتے ہیں۔لیکن مالک کائنات کے اوصاف و کمالات اس سے بالکل مختلف ہیں اس کے اوصاف و کمالات کا سرچشمہ اس کا مزاج یا اس کی طبیعت نہیں ہے۔بلکہ ان کا واقعی سر چشمہ اس کی حکمت اور مصلحت ہے۔لہٰذا اس کے بارے میں عین ممکن ہے کہ ایک ہی وقت میں مہربان بھی ہو اورغضب ناک بھی نعمتیں عطا بھی کر رہا ہواور سلب بھی کر رہا ہو۔اس کے کمال کا ظہور بھی ہو اور پردہ بھی۔وہ دور بھی نظرآئے اور قریب بھی۔اس لئے کہ مصالح کا تقاضا ہمیشہ افراد کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے۔ایک شخص کاکردار رحمت چاہتا ہے اور دوسرے کا غضب ایک کے حق میں مصلحت عطا کر دینا ہے اوردوسرے کے حق میں چھین لیا۔ایک جزا و انعام کا سزاوار ہے اوردوسرا سزا واعتاب کا حقدار ۔تو حکیم علی الاطلاق کا فرض ہے کہ ایک ہی وقت میں ہرشخص کے ساتھ ویسا ہی برتائو کرے جس کا وہ اہل ہے اورایک برتائو اسے دورسے برتائو سے غافل نہ بناسکے۔

۴۰۳

ولَا يُجِنُّه الْبُطُونُ عَنِ الظُّهُورِ - ولَا يَقْطَعُه الظُّهُورُ عَنِ الْبُطُونِ - قَرُبَ فَنَأَى وعَلَا فَدَنَا وظَهَرَ فَبَطَنَ - وبَطَنَ فَعَلَنَ ودَانَ ولَمْ يُدَنْ - لَمْ يَذْرَأِ الْخَلْقَ بِاحْتِيَالٍ ولَا اسْتَعَانَ بِهِمْ لِكَلَالٍ.

أُوصِيكُمْ عِبَادَ اللَّه بِتَقْوَى اللَّه - فَإِنَّهَا الزِّمَامُ والْقِوَامُ فَتَمَسَّكُوا بِوَثَائِقِهَا - واعْتَصِمُوا بِحَقَائِقِهَا تَؤُلْ بِكُمْ إِلَى أَكْنَانِ الدَّعَةِ - وأَوْطَانِ السَّعَةِ ومَعَاقِلِ الْحِرْزِ ومَنَازِلِ الْعِزِّ فِي يَوْمٍ تَشْخَصُ فِيه الأَبْصَارُ وتُظْلِمُ لَه الأَقْطَارُ - وتُعَطَّلُ فِيه صُرُومُ الْعِشَارِ ويُنْفَخُ فِي الصُّورِ - فَتَزْهَقُ كُلُّ مُهْجَةٍ وتَبْكَمُ كُلُّ لَهْجَةٍ - وتَذِلُّ الشُّمُّ الشَّوَامِخُ والصُّمُّ الرَّوَاسِخُ - فَيَصِيرُ صَلْدُهَا سَرَاباً رَقْرَقاً ومَعْهَدُهَا قَاعاً سَمْلَقاً - فَلَا شَفِيعٌ يَشْفَعُ ولَا حَمِيمٌ يَنْفَعُ ولَا مَعْذِرَةٌ تَدْفَعُ

اور ہستی کا پوشیدہ ہونا ظہور سے مانع نہیں ہوتا ہے اورآثار کا ظہور ہستی کی پردہ داری کو نہیں روک سکتا ہے۔وہ قریب ہوکر بھی دور ہے اور بلندہوکربھی نزدیک ہے۔وہ ظاہر ہوکر بھی پوشیدہ ہے اور پوشیدہ ہو کربھی ظاہر ہے وہ جزا دیتا ہے لیکن اسے جزا نہیں دی جاتی ہے۔اس نے مخلوقات کو سوچ بچار کرکے نہیں بنایا ہے اور نہ خستگی کی بنا پر ان سے مدد لی ہے۔

بندگان خدا! میں تمہیں تقویٰ الٰہی کی وصیت کرتا ہوں کہ یہی ہر خیر کی زمام اور ہر نیکی کی بنیاد ہے۔اس کے بندنوں سے وابستہ رہو اور اس کے حقائق سے متمسک رہو۔یہ تم کو راحت کی محفوظ منزلوں اور وسعت کے بہترین علاقوں تک پہنچا دے گا۔تمہارے لئے محفوظ مقامات ہوں گے اور باعزت منازل۔اس دن جس دن آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اوراطراف اندھیرا چھا جائے گا اونٹنیاں معطل کردی جائیں گی اور صور پھونک دیا جائے گا۔اس وقت سب کادم نکل جائے گا اور ہر زبان گونگی ہو جائے گی بلند ترین پہاڑ اورمضبوط ترین چٹانیں ریزہ ریزہ ہو جائیں گی۔پتھروں کی چٹانیں چمکدار سراب کی شکل میں تبدیل ہو جائیں گی اوہر ان کی منزل ایک صاف چٹیل میدان ہو جائے گی۔نہ کوئی شفیع شفاعت کرنے والا ہوگا اور نہ کوئی دوست کام آنے والا ہوگا۔اور نہ کوئی معذرت دفاع کرنے والی ہوگی۔

۴۰۴

(۱۹۶)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

بعثة النبي

بَعَثَه حِينَ لَا عَلَمٌ قَائِمٌ - ولَا مَنَارٌ سَاطِعٌ ولَا مَنْهَجٌ وَاضِحٌ –

العظة بالزهد

أُوصِيكُمْ عِبَادَ اللَّه بِتَقْوَى اللَّه - وأُحَذِّرُكُمُ الدُّنْيَا فَإِنَّهَا دَارُ شُخُوصٍ - ومَحَلَّةُ تَنْغِيصٍ سَاكِنُهَا ظَاعِنٌ وقَاطِنُهَا بَائِنٌ - تَمِيدُ بِأَهْلِهَا مَيَدَانَ السَّفِينَةِ - تَقْصِفُهَا الْعَوَاصِفُ فِي لُجَجِ الْبِحَارِ - فَمِنْهُمُ الْغَرِقُ الْوَبِقُ ومِنْهُمُ النَّاجِي عَلَى بُطُونِ الأَمْوَاجِ - تَحْفِزُه الرِّيَاحُ بِأَذْيَالِهَا وتَحْمِلُه عَلَى أَهْوَالِهَا - فَمَا غَرِقَ مِنْهَا فَلَيْسَ بِمُسْتَدْرَكٍ ومَا نَجَا مِنْهَا فَإِلَى مَهْلَكٍ!

عِبَادَ اللَّه الآنَ فَاعْلَمُوا والأَلْسُنُ مُطْلَقَةٌ - والأَبْدَانُ صَحِيحَةٌ والأَعْضَاءُ لَدْنَةٌ - والْمُنْقَلَبُ فَسِيحٌ والْمَجَالُ عَرِيضٌ - قَبْلَ إِرْهَاقِ الْفَوْتِ وحُلُولِ الْمَوْتِ - فَحَقِّقُوا عَلَيْكُمْ نُزُولَه ولَا تَنْتَظِرُوا قُدُومَه

(۱۹۶)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جسمیں سرکار دو عالم (ص) کی مدح کی گئی ہے )

(پروردگارنے آپ کو اس وقت مبعوث کیا جب نہ کوئی نشان ہدایت قائم رہ گیا تھا نہ کوئی منارۂ دین روشن تھا اور نہ کوئی راستہ واضح تھا)

بندگان خدا! میں تمہیں تقویٰ الٰہی کی وصیت کرتا ہوں اور دنیا سے ہوشیار کر رہا ہوں کہ یہ کوچ کا گھر اوربد مزگی کا علاقہ ہے۔اس کا باشندہ بہر حال سفر کرنے والا ہے اور اس کا مقیم بہرحال جدا ہونے والا ہے۔یہ اپنے اہل کو لے کر اس طرح لرزتی ہے جس طرح گہرے سمندر میں تندو تیز ہوائوں کی زد پر کشتیاں ۔کچھ لوگ غرق اور ہلاک ہو جاتے ہیں اور کچھ موجوں کے سہارے پر باقی رہ جاتے ہیں کہ ہوائیں انہیں اپنے دامن میں لئے پھرتی رہتی ہیں اور اپنی ہولناک منزلوں کی طرف لے جاتی رہتی ہیں۔جو غرق ہو گیا وہ دوبارہ نکالا نہیں جا سکتا اور جو بچ گیا ہے اس کا راستہ ہلاکت ہی کی طرف جا رہا ہے۔

بندگان خدا!ابھی بات کو سمجھ لو جب کہ زبانیں آزاد ہیں اور بدن صحیح و سالم ہیں۔اعضاء میں لچک باقی ہے اورآنے جانے کی جگہ وسیع اور کام کا میدان طویل و عریض ہے ۔قبل اس کے کہ موت نازل ہو جائے اور اجل کاپھندہ گلے میں پڑ جائے ۔اپنے لئے موت کی آمد کو یقینی سمجھ لو اور اس کے آنے کا انتظار نہ کرو ۔

۴۰۵

(۱۹۷)

ومن كلام لهعليه‌السلام

ينبه فيه على فضيلته لقبول قوله وأمره ونهيه

ولَقَدْ عَلِمَ الْمُسْتَحْفَظُونَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم أَنِّي لَمْ أَرُدَّ عَلَى اللَّه ولَا عَلَى رَسُولِه سَاعَةً قَطُّ ولَقَدْ وَاسَيْتُه بِنَفْسِي فِي الْمَوَاطِنِ - الَّتِي تَنْكُصُ فِيهَا الأَبْطَالُ - وتَتَأَخَّرُ فِيهَا الأَقْدَامُ نَجْدَةً أَكْرَمَنِي اللَّه بِهَا.

ولَقَدْ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وإِنَّ رَأْسَه لَعَلَى صَدْرِي - ولَقَدْ سَالَتْ نَفْسُه فِي كَفِّي فَأَمْرَرْتُهَا عَلَى وَجْهِي - ولَقَدْ وُلِّيتُ غُسْلَهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم والْمَلَائِكَةُ أَعْوَانِي - فَضَجَّتِ الدَّارُ والأَفْنِيَةُ - مَلأٌ يَهْبِطُ ومَلأٌ يَعْرُجُ - ومَا فَارَقَتْ سَمْعِي هَيْنَمَةٌ مِنْهُمْ - يُصَلُّونَ عَلَيْه حَتَّى وَارَيْنَاه فِي ضَرِيحِه -

(۱۹۷)

آپ کا ارشادگرامی

(جس میں پیغمبر اسلام (ص) کے امرونہی اورتعلیمات کوقبول کرنے کے ذیل میں فضیلت کاذکر کیا گیا ہے)

اصحاب پیغمبر (ص) میں شریعت کے امانتدار افراد اس حقیقت سے با خبر ہیں کہ میں نے ایک لمحہ کے لئے بھی خدا اور رسول (ص) کی بات کو رد نہیں کیا اورمیں نے پیغمبر اکرم(ص) پر اپنی(۱) جان ان مقامات پر قربان کی ہے جہاں بڑے بڑے بہادر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں اور ان کے قدم پیچھے ہٹ جاتے ہیں ۔صرف اس بہادری کی بنیاد پرجس سے پروردگارنے مجھے سرفراز فرمایا تھا۔

رسول اکرم(ص) اس وقت دنیا سے رخصت ہوئے ہیں جب ان کا سر میرے سینہ پرتھا اور ان کی روح اقدس میرے ہاتھوں پر جدا ہوئی ہے تو میں نے اپنے ہاتھوں کو چہرہ پرمل لیا۔میں نے ہی آپ کو غسل دیاہے جب ملائکہ میری امداد کر رہے تھے اور گھر کے اندر اورباہر ایک کہرام برپا تھا۔ایک گروہ نازل ہو رہا تھا اورایک واپس جا رہا تھا۔سب نماز جنازہ پڑھ رہے تھے اور میں مسلسل ان کی آوازیں سن رہا تھا۔

(۱)مولائے کائنات کی پوری حیات اس ارشاد گرامی کا بہترین مرقع ہے جہاں ہجرت کی رات سے لے کر فتح مکہ تک اور اس کے بعد تبلیغ برائت تک کوئی موقع ایسا نہیں تھا جہاں آپ نے سرکار دوعالم (ص) اور ان کے مقصد کی خاطر اپنی جان کو خطرہ میں نہ ڈال دیا ہو اور اس وحدت ذات و صفات کا ثبوت نہ دیا ہوجس کی طرف خود حضرت نے میدان احد میں اشارہ کیا تھا جب جبرائیل امین نے عر ض کی حضور علی کی مواساة کودیکھ رہے ہیں ؟ تو آپنے فرمایا کہ اس میں حیرت کی بات کیا ہے '' علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں ''۔اس کے بعد انتقال سے لے کردفن کے آخری مرحلہ تک ہر قدم پر حضور کے امورکے ذمہ دار رہے جب کہ مورخین کے بیان کی بنا پر بڑے بڑے صحابہ کرام دفن میں شرکت کی سعادت حاصل نہ کر سکے اورخلافت سازی کی مہم میں مصروف رہ گئے۔

۴۰۶

فَمَنْ ذَا أَحَقُّ بِه مِنِّي حَيّاً ومَيِّتاً - فَانْفُذُوا عَلَى بَصَائِرِكُمْ - ولْتَصْدُقْ نِيَّاتُكُمْ فِي جِهَادِ عَدُوِّكُمْ - فَوَالَّذِي لَا إِلَه إِلَّا هُوَ إِنِّي لَعَلَى جَادَّةِ الْحَقِّ - وإِنَّهُمْ لَعَلَى مَزَلَّةِ الْبَاطِلِ - أَقُولُ مَا تَسْمَعُونَ وأَسْتَغْفِرُ اللَّه لِي ولَكُمْ!

(۱۹۸)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

ينبه على إحاطة علم اللَّه بالجزئيات، ثم يحث على التقوى،

ويبين فضل الإسلام والقرآن

يَعْلَمُ عَجِيجَ الْوُحُوشِ فِي الْفَلَوَاتِ ومَعَاصِيَ الْعِبَادِ فِي الْخَلَوَاتِ - واخْتِلَافَ النِّينَانِ فِي الْبِحَارِ الْغَامِرَاتِ - وتَلَاطُمَ الْمَاءِ بِالرِّيَاحِ الْعَاصِفَاتِ - وأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً نَجِيبُ اللَّه - وسَفِيرُ وَحْيِه ورَسُولُ رَحْمَتِه –

الوصية بالتقوى

أَمَّا بَعْدُ - فَإِنِّي أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّه الَّذِي ابْتَدَأَ خَلْقَكُمْ - وإِلَيْه يَكُونُ مَعَادُكُمْ وبِه نَجَاحُ طَلِبَتِكُمْ - وإِلَيْه مُنْتَهَى رَغْبَتِكُمْ ونَحْوَه قَصْدُ سَبِيلِكُمْ -

یہاں تک کہ میں نے ہی حضرت کو سپرد لحد کیا ہے۔تو اب بتائو کہ زندگی اورموت میں مجھ سے زیادہ ان سے قریب تر کون ہے ؟ اپنی بصیر توں کے ساتھ اور صدق نیت کے اعتماد پر آگے بڑھو۔اور اپنے دشمن سے جہاد کرو قسم ہے اس پروردگار کی جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے کہ میں حق کے راستہ پر ہوں اور وہ لوگ باطل کی لغزشوں کی منزل میں ہیں۔میں جو کہہ رہا ہوں وہ تم سن رہے ہو اورمیں اپنے اور تمہارے دونوں کے لئے خدا کی بارگاہ میں استغفار کر رہا ہوں۔

(۱۹۸)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں خداکی عالم جزئیات ہونے پر تاکید کی گئی ہے اور پھر تقویٰ پرآمادہ کیا گیا ہے )

وہ پروردگار صحرائوں میں جانوروں کی فریاد کو بھی جانتا ہے اور تنہائیوں میں بندوں کے گناہوں کو بھی۔وہ گہرے سمندروں میں مچھلیوں کی رفت و آمد سے بھی با خبر ہے اور تیز و تند ہوائوں سے پیدا ہونے والے تلاطم سے بھی۔اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ص) خدا کے منتخب بندہ۔اس کی وحی کے سفیر اور اس کی رحمت کے رسول ہیں۔

اما بعد! میں تم سب کو اسی خدا سے ڈرنے کی نصیحت کر رہا ہوں جس نے تمہاری خلقت کی ابتداء کی ہے اور اسی کی بارگاہ میں تمہیں پلٹ کر جانا ہے۔اسیکے ذریع تمہارے مقاصد کو کامیابی ہے اوراسی کی طرف تمہارے رغبتوں کی انتہاء ہے۔اسی کی سمت تمہارا سیدھا راستہ ہے

۴۰۷

وإِلَيْه مَرَامِي مَفْزَعِكُمْ -

فَإِنَّ تَقْوَى اللَّه دَوَاءُ دَاءِ قُلُوبِكُمْ - وبَصَرُ عَمَى أَفْئِدَتِكُمْ وشِفَاءُ مَرَضِ أَجْسَادِكُمْ - وصَلَاحُ فَسَادِ صُدُورِكُمْ - وطُهُورُ دَنَسِ أَنْفُسِكُمْ وجِلَاءُ عَشَا أَبْصَارِكُمْ،وأَمْنُ فَزَعِ جَأْشِكُمْ وضِيَاءُ سَوَادِ ظُلْمَتِكُمْ فَاجْعَلُوا طَاعَةَ اللَّه شِعَاراً دُونَ دِثَارِكُمْ - ودَخِيلًا دُونَ شِعَارِكُمْ ولَطِيفاً بَيْنَ أَضْلَاعِكُمْ - وأَمِيراً فَوْقَ أُمُورِكُمْ ومَنْهَلًا لِحِينِ وُرُودِكُمْ - وشَفِيعاً لِدَرَكِ طَلِبَتِكُمْ وجُنَّةً لِيَوْمِ فَزَعِكُمْ - ومَصَابِيحَ لِبُطُونِ قُبُورِكُمْ - وسَكَناً لِطُولِ وَحْشَتِكُمْ ونَفَساً لِكَرْبِ مَوَاطِنِكُمْ - فَإِنَّ طَاعَةَ اللَّه حِرْزٌ مِنْ مَتَالِفَ مُكْتَنِفَةٍ - ومَخَاوِفَ مُتَوَقَّعَةٍ وأُوَارِ نِيرَانٍ مُوقَدَةٍ - فَمَنْ أَخَذَ بِالتَّقْوَى

اور اسی کی طرف تمہاری فریادوں کا نشانہ ہے ۔

یہ تقویٰ الٰہی تمہارے دلوں کی بیماری کی دوا ہے اور تمہارے قلوب کے اندھے پن کی بصارت۔یہ تمہارے جسموں کی بیماری کی شفا کا سامان ہے اور تمہارے سینوں کے فساد کی اصلاح۔یہی تمہارے نفوس کی گندگی کی طہارت ہے اور یہی تمہاری آنکھوں کے چندھیانے کی جلاء اسی میں تمہارے دل کے اضطراب کا سکون ہے اور یہی زندگی کی تاریکیوں کی ضیاء ہے۔اطاعت خدا کو اندر کا شعاربنائو صرف باہر کا نہیں اور اسے باطن میں داخل کرو صرف ظاہر میں نہیں۔اپنی پسلیوں کے درمیان سمولو اور اپنے جملہ امور کا حاکم قرار دے دو۔تشنگی میں ورود کے لئے چشمہ تصور کرو اور منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے وسیلہ قرار دو۔اپنے روز قزع کے لئے سپر بنائو اور اپنی تاریک قبروں کے لئے چراغ۔اپنی طولانی وحشت قبر کے لئے مونس بنائو اور اپنے رنج و غم کے مراحل کے لئے سہارا۔اطاعت الٰہی تمام گھیرنے والے بربادی کے اسباب آنے والے خوفناک مراحل اور بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلوں کے لئے حرزجان ہے۔جس نے تقویٰ(۱) کواختیار کرلیا

(۱)اس مقام پر مولائے کائنا ت نے اس نکتہ کی طرف متوجہ کرنا چاہا ہے کہ تقویٰ کاف ائدہ صرف آخرت تک محود نہیں ہے کہ تم یہاں گناہوں سے پرہیز کرو۔مالک وہاں تمہیں آتش جہنم سے محفوظ کردے گا بلکہ یہ تقویٰ آخرت کے ساتھ دنیا کے مرحلہ پرکامآنے والا ہے اور کسی مرحلہ پر انسان کو نظرانداز کرنے والا نہیں ہے ۔مشکلات سے نجات اسی تقویٰ کا کارنامہ ہے اور طوفانوں کا مقابلہ اسی تقویٰ کی طاقت سے ہوتا ہے۔رحمت کے چشمے اسی سے جاری ہوتے ہیں اورفضل و کرم کے بادل اسی کی برکت سے برستے ہیں اور شاید یہ اس نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ انسانی زندگی کی ساری پریشانیاں اس کے اعمال کی کمزوریوں سے پیدا ہوتی ہیں' جب انسان تقویٰ کے ذریعہ کردار کومضبوط کرلے گا تو ہر پریشانی سے مقابلہ آسان ہو جائے گا۔اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ متقین کی زندگی میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی ہے اور وہ چین اور سکون کی زندگی گزارتے ہیں۔ایسا ہوتا تو صبر کا کوئی مفہوم نہ ہوتا اورمتقین کا سلسلہ صابرین سے الگ ہو جاتا۔بلکہ اس کامطلب صرف یہ ہے کہ تقویٰ صبرکاحوصلہ پیداکرتا ہے اور تقویٰ کے ذریعہ مصائب سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ پیدا ہوجاتا ہے اور اس کی برکت سے رحمتوں کا نزول شروع ہو جاتا ہے۔

۴۰۸

عَزَبَتْ عَنْه الشَّدَائِدُ بَعْدَ دُنُوِّهَا - واحْلَوْلَتْ لَه الأُمُورُ بَعْدَ مَرَارَتِهَا - وانْفَرَجَتْ عَنْه الأَمْوَاجُ بَعْدَ تَرَاكُمِهَا - وأَسْهَلَتْ لَه الصِّعَابُ بَعْدَ إِنْصَابِهَا - وهَطَلَتْ عَلَيْه الْكَرَامَةُ بَعْدَ قُحُوطِهَا -. وتَحَدَّبَتْ عَلَيْه الرَّحْمَةُ بَعْدَ نُفُورِهَا - وتَفَجَّرَتْ عَلَيْه النِّعَمُ بَعْدَ نُضُوبِهَا - ووَبَلَتْ عَلَيْه الْبَرَكَةُ بَعْدَ إِرْذَاذِهَا

فَاتَّقُوا اللَّه الَّذِي نَفَعَكُمْ بِمَوْعِظَتِه - ووَعَظَكُمْ بِرِسَالَتِه وامْتَنَّ عَلَيْكُمْ بِنِعْمَتِه - فَعَبِّدُوا أَنْفُسَكُمْ لِعِبَادَتِه - واخْرُجُوا إِلَيْه مِنْ حَقِّ طَاعَتِه.

فضل الإسلام

ثُمَّ إِنَّ هَذَا الإِسْلَامَ دِينُ اللَّه الَّذِي اصْطَفَاه لِنَفْسِه - واصْطَنَعَه عَلَى عَيْنِه وأَصْفَاه خِيَرَةَ خَلْقِه - وأَقَامَ دَعَائِمَه عَلَى مَحَبَّتِه - أَذَلَّ الأَدْيَانَ بِعِزَّتِه

اس کے لئے سختیاں قریب آکر دور چلی جاتی ہیں اور امور زندگی تلخیوں کے بعد شیریں ہو جاتے ہیں۔موجیں تہ بہ تہ ہو جانے کے بعد بھی ہٹ جاتی ہیں اوردشواریاں مشقتوں میں مبتلا کر دینے کے بعد بھی آسان ہوجاتی ہیں ۔ قحط کے بعد کرامتوں کی بارش شروع ہو جاتی ہے اور سحاب رحمت ہٹ جانے کے بعد پھر برسنے لگتا ہے اور نعمتوں کے چشمے جاری ہو جاتے ہیں۔اور پھوار کی کمی کے بعد برکت کی برسات شروع ہو جاتی ہے۔

اللہ سے ڈرو جس نے تمہیں نصیحت سے فائدہ پہنچایا ہے اور اپنے پیغام کے ذریعہ نصیحت کی ہے اور اپنی نعمت سے تم پر احسان کیا ہے ۔اپنے نفس کو اس کی عبادت کے لئے ہموار کرواور اس کے حق کی اطاعت سے عہدہ برآہونے کی کوشش کرو۔

اس کے بعد یاد رکھو کہ یہ اسلام وہ دین(۱) ہے جسے مالک نے اپنے لئے پسند فرمایا ہے اور اپنی نگاہوں میں اس کی دیکھ بھال کی ہے اور اسے بہترین خلاق کے حوالہ کیا ہے اوراپنی محبت پراس کے ستونوں کو قائم کیا ہے۔اس کی عزت کے ذریعہ ادیان کو سرنگوں کیا ہے اور

(۱) دین اسلام کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ اس کے قوانین خالق کائنات نے بنائے ہیں اور ہر قانون کی فطرت بشر سے ہم آہنگ بنایا ہے۔اس نے مسئلہ تشریع میں اپنے محبوب ترین بندہ کو بھی دخیل نہیں کیا ہے اورنہ کسی کو اس کے قوانین میں ترمیم کرنے کا حق دیا ہے۔ظاہر ہے کہ جو قانون خالق و مالک کے علم و کمال کے نتیجہ میں منظر عام پرآئے گا اس کی بقا کی ضمانت اس کے دفعات کے اندر ہی ہوگی اور جب تک یہ کائنات باقی رہے گی اس کے دفعات میں تغیر و تبدیل کی ضرورت نہ ہوگی۔

اسلام کے دین پسندیدہ ہونے ہی کا اثر ہے کہ اس کے سامنے تمام ادیان عالم حقیر اور اس کے مقابلہ میں تمام دشمنان مذہب ذلیل ہیں۔مالک نے اس کی بنیاد محبت پر رکھی ہے اور اس کی اساس رحمت اور ربوبیت کو قراردیا ہے۔اس کا تسلسل نا قابل اختتام ہے اوراس کے حلقے نا قابل انصفام ۔

اسی میں انسانیت کی پیاس بجھا نے کاسامان ہے اور اسی میں طالبان ہدایت کے لئے بہترین وسیلہ رہنمائی ہے۔رضائے الٰہی کا سامان یہی ہے اور بندگی پروردگار کا بہترین مرقع یہی دین و مذہب ہے۔اس کے بغیر ہدایت کا تصور مہمل ہے اور اس کے علاوہ ہر دین نا قابل قبول ہے۔

۴۰۹

ووَضَعَ الْمِلَلَ بِرَفْعِه- وأَهَانَ أَعْدَاءَه بِكَرَامَتِه وخَذَلَ مُحَادِّيه بِنَصْرِه - وهَدَمَ أَرْكَانَ الضَّلَالَةِ بِرُكْنِه - وسَقَى مَنْ عَطِشَ مِنْ حِيَاضِه - وأَتْأَقَ الْحِيَاضَ بِمَوَاتِحِه - ثُمَّ جَعَلَه لَا انْفِصَامَ لِعُرْوَتِه ولَا فَكَّ لِحَلْقَتِه - ولَا انْهِدَامَ لأَسَاسِه ولَا زَوَالَ لِدَعَائِمِه - ولَا انْقِلَاعَ لِشَجَرَتِه ولَا انْقِطَاعَ لِمُدَّتِه - ولَا عَفَاءَ لِشَرَائِعِه ولَا جَذَّ لِفُرُوعِه ولَا ضَنْكَ لِطُرُقِه - ولَا وُعُوثَةَ لِسُهُولَتِه ولَا سَوَادَ لِوَضَحِه - ولَا عِوَجَ لِانْتِصَابِه ولَا عَصَلَ فِي عُودِه - ولَا وَعَثَ لِفَجِّه ولَا انْطِفَاءَ لِمَصَابِيحِه - ولَا مَرَارَةَ لِحَلَاوَتِه - فَهُوَ دَعَائِمُ أَسَاخَ فِي الْحَقِّ أَسْنَاخَهَا - وثَبَّتَ لَهَا آسَاسَهَا ويَنَابِيعُ غَزُرَتْ عُيُونُهَا - ومَصَابِيحُ شَبَّتْ نِيرَانُهَا - ومَنَارٌ اقْتَدَى بِهَا سُفَّارُهَا وأَعْلَامٌ قُصِدَ بِهَا فِجَاجُهَا - ومَنَاهِلُ رَوِيَ بِهَا وُرَّادُهَا جَعَلَ اللَّه فِيه مُنْتَهَى رِضْوَانِه - وذِرْوَةَ دَعَائِمِه وسَنَامَ طَاعَتِه.

اس کی بلندی کے ذریعہ ملتوں کی پستی کا اظہار کیا ہے اس کے دشمنوں کو اس کی کرامت کے ذریعہ ذلیل کیا ہے اوراس سے مقابلہ کرنے والوں کو اس کی نصرت کے ذریعہ رسوا کیا ہے۔اس کے رکن کے ذریعہ ضلالت کے ارکان کو منہدم کیا ہے اور اس کے حوض سے پیاسوں کو سیراب کیا ہے اور پھر پانی الچنے والوں کے ذریعہ ان حوضوں کو بھردیا ہے۔ اس کے بعد اس دین کو ایسا بنادیا ہے کہ اس کے بندھن ٹوٹ نہیں سکتے ہیں۔اس کی کڑیاں کھل نہیں سکتی ہیں ۔اس کی بنیاد منہدم نہیں ہو سکتی ہے۔اس کے ستون گر نہیں سکتے ہیں۔اس کا درخت اکھڑ نہیں سکتا ہے۔اس کی مدت تمام نہیں ہو سکتی ہے۔اس کے آثار مٹ نہیں سکتے ہیں۔اس کی شاخیں کٹ نہیں سکتی ہیں۔اس کے راستے تنگ نہیں ہو سکتے ہیں۔اس کی آسانیاں دشوار نہیں ہوسکتی ہیں۔اس کی سفیدی میں سیاہی نہیں ہے اور اس کی استقامت میں کجی نہیں ہے۔اس کی لکڑی ٹیڑھی نہیں ہے اور اس کی وسعت میں دشواری نہیں ہے۔اس کا چراغ بجھ نہیں سکتا ہے اور اس کی حلاوت میں تلخی نہیں آسکتی ہے۔اس کے ستون ایسے ہیں جن کے پائے حق کی زمین میں نصب کئے گئے ہیں اور پھر اس کی اساس کو پائیدار بنایا گیا ہے۔اس کے چشموں کا پانی کم نہیں ہوسکتا ہے اور اس کے چراغوں کی لو مدھم نہیں ہوسکتی ے۔اس کے مناروں سے راہ گیر ہدایت پاتے ہیں اور اس کے نشانات کو راہوں میں منزل اپنے بلندترین ارکان اور اپنی اطاعت کاعروج قرار دیا

۴۱۰

- فَهُوَ عِنْدَ اللَّه وَثِيقُ الأَرْكَانِ رَفِيعُ الْبُنْيَانِ - مُنِيرُ الْبُرْهَانِ مُضِيءُ النِّيرَانِ - عَزِيزُ السُّلْطَانِ مُشْرِفُ الْمَنَارِ مُعْوِذُ الْمَثَارِ - فَشَرِّفُوه واتَّبِعُوه وأَدُّوا إِلَيْه حَقَّه وضَعُوه مَوَاضِعَه.

الرسول الأعظم

ثُمَّ إِنَّ اللَّه سُبْحَانَه بَعَثَ مُحَمَّداًصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بِالْحَقِّ حِينَ دَنَا مِنَ الدُّنْيَا الِانْقِطَاعُ وأَقْبَلَ مِنَ الآخِرَةِ الِاطِّلَاعُ - وأَظْلَمَتْ بَهْجَتُهَا بَعْدَ إِشْرَاقٍ وقَامَتْ بِأَهْلِهَا عَلَى سَاقٍ - وخَشُنَ مِنْهَا مِهَادٌ وأَزِفَ مِنْهَا قِيَادٌ - فِي انْقِطَاعٍ مِنْ مُدَّتِهَا واقْتِرَابٍ مِنْ أَشْرَاطِهَا وتَصَرُّمٍ مِنْ أَهْلِهَا

ہے۔یہ دین اس کے نزدیک مستحکم ارکان والا ' بلند ترین بنیادوں والا واضح دلائل والا۔روشن ضیائوں والا۔غالب سلطنت والا۔بلند مینار والا اورنا ممکن تباہی والا ہے۔اس کے شرف کا تحفظ کرو۔اس کے احکام کا اتباع کرو۔اس کے حق کو ادا کرو اوراسے اس کی واقعی منزل پر قرار دو۔

اس کے بعد مالک نے حضرت محمد (ص) کو حق کے ساتھ مبعوث کیا جب دنیا فنا کی منزل سے قریب تر ہوگئی اورآخرت سر پر منڈلانے لگی دنیا کا اجالا اندھیروںمیں تبدیل ہونے لگا اوروہ اپنے چاہنے والوں کے لئے ایک مصیبت بن کر کھڑی ہوگئی۔اس کا فرش کھردرا ہوگیا اور وہ فنا کے ہاتھوں میں اپنی مہار دینے کے لئے تیار ہوگئی ۔ اس طرح کہ اس کی مدت خاتمہ کے قریب پہنچ گئی۔ اس کی فنا کے آثار قریب آگئے ۔اس کے اہل ختم ہونے

(۱) کتنا حسین دور تھا جب انبیاء کرام کا سلسلہ قائم تھا ۔کتابیں اور صحیفے نازل ہو رہے تھے۔مبلغین دین و مذہب اپنے کردار سے انسانیت کی رہنمائی کر رہے تھے اور زمین و آسمان کے رشتے جڑے ہوئے تھے پھر یکبارگی قرت کا زمانہ آگیا اوری ہ سارے سلسلے ٹوٹ گئے ۔دنیا پر جاہلیت کا اندھیرا چھا گیا اور انسانیت نے اپنی زمام قیادت جہل و جہالیت کے حوالہ کردی۔

ایسے حالات میں اگر سرکار دوعالم (ص) کا ورود نہ ہوتا تو یہ دنیا گھٹا ٹوپ اندھیروں کی نذر ہو جاتی اور انسانیت کو کوئی راستہ نظرنہ آتا لیکن یہ مالک کا کرم تھا کہ اس نے رحمةالعالمین کوبھیج دیا اور اندھیری دنیا کو پھر دوبارہ نور رسالت سے منور کردیا ہے۔اور آپ کے ساتھ ایک نور اور نازل کردیا جس کا نام قرآن مبین تھا اور جس کی روشنی ناقابل اختتام تھی۔یہ بیک وقت دستور بھی تھا اوراعجاز بھی ۔سمندر بھی تھا اورچراغ بھی۔حق و باطل کاف رقان بھی تھا اوردین و ایمان کا برہان بھی۔اس میں ہر مرض کا علاج بھی تھا اور ہر بیماری کا مداوا بھی۔

اسے مالک نے سیرابی کا ذریعہ بھی بنایا تھا اور دلوں کی بہار بھی ۔نشان راہبھی قرار دیات ھا اورمنزل مقصود بھی۔جوشخص جس نقطہ نگاہ سے دیکھے اس کی تسکین کا سامان قرآن حکیم میں موجود ہے اور ایک کتاب ساری کائنات جن و انس کی ہدایت کے لئے کافی ہے بشر طیکہ اس کے مطالب ان لوگوں سے اخذ کئے جائیں جنہیں راسخون فی العلم بنایا گیا ہے اور جن کے علم قرآن کی ذمہ داری مالک کائنات نے لی ہے۔

۴۱۱

وانْفِصَامٍ مِنْ حَلْقَتِهَا - وانْتِشَارٍ مِنْ سَبَبِهَا وعَفَاءٍ مِنْ أَعْلَامِهَا - وتَكَشُّفٍ مِنْ عَوْرَاتِهَا وقِصَرٍ مِنْ طُولِهَا.

جَعَلَه اللَّه بَلَاغاً لِرِسَالَتِه وكَرَامَةً لأُمَّتِه - ورَبِيعاً لأَهْلِ زَمَانِه ورِفْعَةً لأَعْوَانِه وشَرَفاً لأَنْصَارِه.

القرآن الكريم

ثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْه الْكِتَابَ نُوراً لَا تُطْفَأُ مَصَابِيحُه - وسِرَاجاً لَا يَخْبُو تَوَقُّدُه وبَحْراً لَا يُدْرَكُ قَعْرُه - ومِنْهَاجاً لَا يُضِلُّ نَهْجُه وشُعَاعاً لَا يُظْلِمُ ضَوْءُه - وفُرْقَاناً لَا يُخْمَدُ بُرْهَانُه وتِبْيَاناً لَا تُهْدَمُ أَرْكَانُه - وشِفَاءً لَا تُخْشَى أَسْقَامُه - وعِزّاً لَا تُهْزَمُ أَنْصَارُه وحَقّاً لَا تُخْذَلُ أَعْوَانُه –

فَهُوَ مَعْدِنُ الإِيمَانِ وبُحْبُوحَتُه ويَنَابِيعُ الْعِلْمِ وبُحُورُه - ورِيَاضُ الْعَدْلِ وغُدْرَانُه وأَثَافِيُّ الإِسْلَامِ وبُنْيَانُه - وأَوْدِيَةُ الْحَقِّ وغِيطَانُه وبَحْرٌ لَا يَنْزِفُه الْمُسْتَنْزِفُونَ - وعُيُونٌ لَا يُنْضِبُهَا الْمَاتِحُونَ - ومَنَاهِلُ لَا يَغِيضُهَا الْوَارِدُونَ - ومَنَازِلُ لَا يَضِلُّ نَهْجَهَا الْمُسَافِرُونَ -

لگے۔اس کے حلقے ٹوٹنے لگے۔اس کے اسباب منتشر ہونے لگے۔اس کے نشانات مٹنے لگے' اس کے عیب کھلنے لگے اوراس کے دامن سمٹنے لگے۔

اللہ نے انہیں پیغام رسانی کا وسیلہ۔امت کی کرامت۔اہل زمانہ کی بہار' اعوان و انصارکی بلندی کا ذریعہ اور یارومددگار افراد کی شرافت کا واسطہ قرار دیا ہے۔

اس کے بعد ان پر اس کتاب کو ناز ل کیا جس کی قندیل بجھ نہیں سکتی ہے اور جس کے چراغ کی لو مدھم نہیں پڑ سکتی ہے وہ ایسا سمندر ہے جسے کی تھا ہ مل نہیں سکتی ہے اور ایسا راستہ ہے جس پر چلنے والا بھٹک نہیں سکتا ہے۔ایسی شعاع جس کی ضوتاریک نہیں ہو سکتی ہے اور ایسا حق و باطل کا امتیاز جس کا برہان کمزورنہیں ہوسکتا ہے۔ایسی وضاحت جس کے ارکان منہدم نہیں ہو سکتے ہیں اور ایسی شفا جس میں بیماری کا کوئی خوف نہیں ہے۔ایسی عزت جس کے انصار پسپا نہیں ہوسکتے ہیں اور ایسا حق جس کے اعوان بے یارو مدد گارنہیں چھوڑے جا سکتے ہیں۔

یہ ایمان کا معدن ومرکز۔علم کا چشمہ اور سمندر' عدالت کا باغ اور حوض ' اسلام کا سنگ بنیاد اور اساس ' حق کی وادی اور اس کاہموار میدان ہے۔یہ وہ سمندر ہے جسے پانی نکالنے والے ختم نہیں کر سکتے ہیں اور وہ چشمہ ہے جسے الچنے والے خشک نہیں کرس کتے ہیں۔وہ گھاٹ ہے جس پر وارد ہونے والے اس کا پانی کم نہیں کر سکتے ہیں اور وہ منزل ہے جس کی راہ پر چلنے والے مسافر

۴۱۲

وأَعْلَامٌ لَا يَعْمَى عَنْهَا السَّائِرُونَ - وآكَامٌ لَا يَجُوزُ عَنْهَا الْقَاصِدُونَ جَعَلَه اللَّه رِيّاً لِعَطَشِ الْعُلَمَاءِ ورَبِيعاً لِقُلُوبِ الْفُقَهَاءِ - ومَحَاجَّ لِطُرُقِ الصُّلَحَاءِ ودَوَاءً لَيْسَ بَعْدَه دَاءٌ - ونُوراً لَيْسَ مَعَه ظُلْمَةٌ وحَبْلًا وَثِيقاً عُرْوَتُه - ومَعْقِلًا مَنِيعاً ذِرْوَتُه وعِزّاً لِمَنْ تَوَلَّاه - وسِلْماً لِمَنْ دَخَلَه وهُدًى لِمَنِ ائْتَمَّ بِه - وعُذْراً لِمَنِ انْتَحَلَه وبُرْهَاناً لِمَنْ تَكَلَّمَ بِه - وشَاهِداً لِمَنْ خَاصَمَ بِه وفَلْجاً لِمَنْ حَاجَّ بِه - وحَامِلًا لِمَنْ حَمَلَه ومَطِيَّةً لِمَنْ أَعْمَلَه - وآيَةً لِمَنْ تَوَسَّمَ وجُنَّةً لِمَنِ اسْتَلأَمَ - وعِلْماً لِمَنْ وَعَى وحَدِيثاً لِمَنْ رَوَى وحُكْماً لِمَنْ قَضَى

(۱۹۹)

ومن كلام لهعليه‌السلام

كان يوصي به أصحابه

تَعَاهَدُوا أَمْرَ الصَّلَاةِ وحَافِظُوا عَلَيْهَا - واسْتَكْثِرُوا مِنْهَا وتَقَرَّبُوا بِهَا

بھٹک نہیں سکتے ہیں۔وہ نشان منزل ہے جو راہ گیروں کی نظروں سے اوجھل نہیں ہو سکتا ہے اوروہ ٹیلہ ہے جس کا تصور کرنے والے آگے نہیں جا سکتے ہیں۔

پروردگارنے اسے علماء کی سیرابی کا ذریعہ۔ فقہاء کے دلوں کی بہارصلحاء کے راستوں کے لئے شاہراہ قرار دیا ہے۔یہ وہ دواہے جس کے بعد کوئی مرض نہیں رہ سکتا اوروہنور ہے جس کے بعد کسی ظلمت کا امکان نہیں ہے۔وہ ریسمان ہے جس کے حلقے مستحکم ہیں۔اور پناہ گاہ ہے جس کی بلندی محفوظ ہے۔چاہنے والوں کے لئے عزت ' داخل ہونے والوں کے لئے سلامتی ۔اقتداء کرنے والوں کے لئیہدایت ' نسبت حاصل کرنے والوں کے لئے حجت ' بولنے والوں کے لئے برہان اور مناظرہ کرنے والوں کے لئے شاہد ہے۔بحث کرنے والوں کی کامیابی کاذریعہ اٹھانے والوں کے لئے بوجھ بٹانے والا عمل کرنے والوں کے لئے بہترین سواری ' حقیقت شاناسوں کے لئے بہترین نشانی اوراسلحہ سجنے والوں کے لئے بہترین سپر ہے۔فکرکرنے والوں کے لئے علم اور روایت کرنے والوں کے لئے حدیث اور قضاوت کرنے والوں کے لئے قطعی حکم اور فیصلہ ہے۔

(۱۹۹)

آپ کا ارشاد گرامی

(جس کی اصحاب کو وصیت فرمایا کرتے تھے )

دیکھو نمازکی پابندی اوراس کی نگہداشت کرو۔زیادہ سے زیادہ نمازیں پڑھو اور اسے تقرب الٰہی کاذریعہ قراردوکہ

۴۱۳

فَإِنَّهَا( كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً ) - أَلَا تَسْمَعُونَ إِلَى جَوَابِ أَهْلِ النَّارِ حِينَ سُئِلُوا -( ما سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ - قالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ ) - وإِنَّهَا لَتَحُتُّ الذُّنُوبَ حَتَّ الْوَرَقِ - وتُطْلِقُهَا إِطْلَاقَ الرِّبَقِ - وشَبَّهَهَا رَسُولُ اللَّه - صلى الله عليه وآله وسلم -بِالْحَمَّةِ تَكُونُ عَلَى بَابِ الرَّجُلِ - فَهُوَ يَغْتَسِلُ مِنْهَا فِي الْيَوْمِ واللَّيْلَةِ خَمْسَ مَرَّاتٍ - فَمَا عَسَى أَنْ يَبْقَى عَلَيْه مِنَ الدَّرَنِ وقَدْ عَرَفَ حَقَّهَا رِجَالٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ –

الَّذِينَ لَا تَشْغَلُهُمْ عَنْهَا زِينَةُ مَتَاعٍ ولَا قُرَّةُ عَيْنٍ - مِنْ وَلَدٍ ولَا مَالٍ - يَقُولُ اللَّه سُبْحَانَه -( رِجالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجارَةٌ ولا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ الله - وإِقامِ الصَّلاةِ وإِيتاءِ الزَّكاةِ ) - وكَانَ رَسُولُ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نَصِباً بِالصَّلَاةِ - بَعْدَ التَّبْشِيرِ لَه بِالْجَنَّةِ - لِقَوْلِ اللَّه سُبْحَانَه( وأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلاةِ واصْطَبِرْ عَلَيْها ) - فَكَانَ يَأْمُرُ بِهَا أَهْلَه ويَصْبِرُ عَلَيْهَا نَفْسَه.

یہ صاحبان ایمان کے لئے وقت کی پابندی کے ساتھ واجب کی گئی ہے۔کیا تم نے اہل جہنم کا جواب نہیں سنا کہ جب ان سے سوال کیا جائے گا کہ تمہیں کس چیزنے جہنم تک پہنچادیا ہے تو کہیں گے کہ ہم نمازی تھے ۔یہ نماز گناہوں کو اسی طرح جھاڑ دیتی ہے جس طرح درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں اوراسی طرح گناہوں سے آزادی دلا دیتی ہے جس طرح جانورآزاد کئے جاتے ہیں۔رسول اکرم (ص) نے اسے اس گرم چشمہ سے تشبیہ دی ہے جوانسان کے دروازہ پر ہو اوروہاس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرے۔ظاہر ہے کہ اس پر کسی کثافت کے باقی رہ جانے کا امکان نہیں رہ جاتا ہے۔

اس کے حق کو واقعاً ان صاحبان ایمان نے پہچانا ہے جنہیں زینت متاع دنیا یا تجارت اورکاروبار کوئی شے بھی یاد خدا اور نماز و زکوٰة سے غافل نہیں بناسکی ہے۔رسول اکرم (ص) اس نمازکے لئے اپنے کو زحمت میں ڈالتے تھے حالانکہ انہیں جنت کی بشارت دی جاچکی تھی اس لئے کہ پروردگار نے فرمادیا تھا کہ اپنے اہل کونماز کا حکم دو اورخودبھی اس کی پابندی کرو تو آپ اپنے اہل کوحکم بھی دیتے تھے اورخود زحمت(۱) بھی برداشت کرتے تھے۔

(۱) اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سرکار دو عالم (ص) نے نمازقائم کرنے کی راہمیں بے پناہ زحمتوں کاسامنا کیاہے۔ رات رات بھر مصلیٰ پرقایم کیا ہے اور طرح طرح کی دشمنوں کی اذیتیوں کو برداشت کیا ہے لیکن مالک کائنات نے اس کا اجر بھی بے حساب عنایت کیا ہے کہ نماز سرکار کی یاد کاب ہترین ذریعہ بنگئی ہے اوراس کے ذریعہ سرکار کی شخصیت اور رسالتکو ابدی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔نمازی اذان و اقامت ہی سے سرکار کا کلمہ پڑھنا شروع کردیتا ہے اور پھر تشہد و سلام تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے اور اس طرح تمام امتوں کا رشتہ ان کے پیغبمروں سے ٹوٹ چکا ہے لیکن امت اسلامیہ کا رشتہ سرکار دوعالم (ص) سے نہیں ٹوٹ سکتا ہے اور یہ نماز برابر آپ کی یاد کو زندہ رکھے گی اور مسلمانوں کو حسن کردار کی دعوت دیتی رہے گی۔

۴۱۴

الزكاة

ثُمَّ إِنَّ الزَّكَاةَ جُعِلَتْ مَعَ الصَّلَاةِ قُرْبَاناً لأَهْلِ الإِسْلَامِ - فَمَنْ أَعْطَاهَا طَيِّبَ النَّفْسِ بِهَا - فَإِنَّهَا تُجْعَلُ لَه كَفَّارَةً ومِنَ النَّارِ حِجَازاً ووِقَايَةً - فَلَا يُتْبِعَنَّهَا أَحَدٌ نَفْسَه ولَا يُكْثِرَنَّ عَلَيْهَا لَهَفَه - فَإِنَّ مَنْ أَعْطَاهَا غَيْرَ طَيِّبِ النَّفْسِ بِهَا - يَرْجُو بِهَا مَا هُوَ أَفْضَلُ مِنْهَا فَهُوَ جَاهِلٌ بِالسُّنَّةِ - مَغْبُونُ الأَجْرِ ضَالُّ الْعَمَلِ - طَوِيلُ النَّدَمِ.

الأمانة

ثُمَّ أَدَاءَ الأَمَانَةِ - فَقَدْ خَابَ مَنْ لَيْسَ مِنْ أَهْلِهَا - إِنَّهَا عُرِضَتْ عَلَى السَّمَاوَاتِ الْمَبْنِيَّةِ - والأَرَضِينَ الْمَدْحُوَّةِ والْجِبَالِ ذَاتِ الطُّولِ الْمَنْصُوبَةِ - فَلَا أَطْوَلَ ولَا أَعْرَضَ ولَا أَعْلَى ولَا أَعْظَمَ مِنْهَا - ولَوِ امْتَنَعَ شَيْءٌ بِطُولٍ أَوْ عَرْضٍ - أَوْ قُوَّةٍ أَوْ عِزٍّ لَامْتَنَعْنَ - ولَكِنْ أَشْفَقْنَ مِنَ الْعُقُوبَةِ - وعَقَلْنَ مَا جَهِلَ مَنْ هُوَ أَضْعَفُ مِنْهُنَّ وهُوَ الإِنْسَانُ -( إِنَّه كانَ ظَلُوماً جَهُولًا )

علم اللَّه تعالى

إِنَّ اللَّه سُبْحَانَه وتَعَالَى لَا يَخْفَى عَلَيْه - مَا الْعِبَادُ مُقْتَرِفُونَ فِي لَيْلِهِمْ ونَهَارِهِمْ - لَطُفَ بِه خُبْراً

اس کے بعد زکوٰة کو نماز کے(۱) ساتھ مسلمانوں کے لئے وسیلہ تقرب قرار دیاگیا ہے۔جو اسے طیب خاطر سے ادا کردے گا اس کے گناہوں کے لئے یہ کفارہ بن جائے گی اور اسے جہنم سے بچالے گی۔خبردار کوئی شخص اسے ادا کرنے کے بعد اس کے بارے میں فکرنہ کرے اور نہ اس کا افسوس کرے کہ طیب نفس کے بغیر ادا کرنے والا اور پھر اس سے بہتر اجرو ثواب کی امید کرنے والا سنت سے بے خبر اور اجرو ثواب کے اعتبار سے خسارہ میں ہے' اس کاعمل برباد اور اس کی ندامت دائمی ہے۔

اس کے بعد امانتوں کی ادائیگی کا خیال رکھو کہ امانت داری نہ کرنیوالا ناکام ہوتا ہے۔امانت کو بلند ترین آسمانوں ' فرش شدہ زینتوں اور بلند و بالا پہاڑوں کے سامنے پیش کیا گیا ہے جن سے بظاہر طویل و عریض اور اعلیٰ و ارفع کوئی شے نہیں ہے اور اگر کوئی شے اپنے طول و عرض یا قوت و طاقت کی بناپ راپنے کو بچا سکتی ہے تو یہی چیزیں ہیں۔لیکن یہ سب خیانت کے عذاب سے خوف زدہ ہوگئے اوراس نکتہ کو سمجھ لیا جس کو ان سے ضعیف تر انسان نے نہیں پہچانا کہ وہ اپنے نفس پر ظلم کرنے والا اور نا واقف تھا۔

پروردگار پر بندوں کے دن و رات کے اعمال میں سے کوئی شے مخفی نہیں ہے۔وہ لطافت کی بنا پرخبر رکھتا

(۱) زکوٰة کو نماز کے ساتھ بیان کرنے کا ظاہری فلسفہ یہ ہے کہ نماز عبدو معبود کے درمیان کا رشتہ ہے اور زکوٰة بندوں اور بندوں کے درمیان کا تعلق ہے اوراس طرح اسلام کا نصاب مکمل ہو جاتا ہے کہ مسلمان اپنے مالک کیاطاعت بھی کرتا ہے اوراپنے بنی نوع کے کمزور افراد کا خیال بھی رکھتا ہے اور ان کی شرکت کے بغیر زندہ نہیں رہنا چاہتا ہے۔

۴۱۵

وأَحَاطَ بِه عِلْماً أَعْضَاؤُكُمْ شُهُودُه - وجَوَارِحُكُمْ جُنُودُه وضَمَائِرُكُمْ عُيُونُه وخَلَوَاتُكُمْ عِيَانُه

(۲۰۰)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في معاوية

واللَّه مَا مُعَاوِيَةُ بِأَدْهَى مِنِّي ولَكِنَّه يَغْدِرُ ويَفْجُرُ - ولَوْ لَا كَرَاهِيَةُ الْغَدْرِ لَكُنْتُ مِنْ أَدْهَى النَّاسِ - ولَكِنْ كُلُّ غُدَرَةٍ فُجَرَةٌ وكُلُّ فُجَرَةٍ كُفَرَةٌ - ولِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يُعْرَفُ بِه يَوْمَ الْقِيَامَةِ».

واللَّه مَا أُسْتَغْفَلُ بِالْمَكِيدَةِ ولَا أُسْتَغْمَزُ بِالشَّدِيدَةِ

ہے اور علم کے اعتبار سے احاطہ رکھتا ے۔تمہارے اعضاء ہی اس کے گواہ ہیں اور تمہارے ہاتھ پائوں ہی اس کے لشکر ہیں۔تمہارے ضمیر اس کے جاسوس ہیں اور تمہار ی تنہائیاں بھی اس کی نگاہ کے سامنے ہیں۔

(۲۰۰)

آپ کا ارشاد گرامی

(معاویہ کے بارے میں )

خداکی قسم معاویہ مجھ سے زیادہ ہوشیار(۱) نہیں ہے لیکن کیاکروں کہ وہ مکرو فریب اور فسق و فجوربھی کر لیتا ہے اور اگر یہ چیز مجھے نا پسند نہ ہوتی تو مجھ سے زیادہ ہوشیار کوئی نہ ہوتا لیکن میرا نظریہ یہ ہے کہ ہر مکرو فریب گناہ ہے اور ہر گناہ پروردگار کے احکام کی نا فرمانی ہے ہر غدارکے ہاتھ میں قیامت کے دن ایک جھنڈا دے دیا جائے گا جس سے اسے عرصہ محشر میں پہچان لیا جائے گا۔

خدا کی قسم مجھے نہ ان مکاریوں سے غفلت میں ڈالا جا سکتا ہے اور نہ ان سختیوں سے دبایا جا سکتا ہے۔

(۱)کھلی ہوئی بات ہے کہ جسے پروردگار نے نفس رسول (ص) قراردیا ہو اورخود سرکار دو عالم (ص) نے باب مدینہ علم قرار دیاہو اس سے زیادہ ہوشیار ہوشمند اور صاحب علم و ہنر کون ہوسکتا ہے۔لیکن اس کے باوجود بعض نادان افراد کا خیال ہے کہ معایہ زیادہ ہوشیار اور زیرک تھا اور اسی لئے اس کی سیاست زیادہ کامیاب تھی۔حالانکہ اس کا راز ہوشیاری اورہوش مندی نہیں ہے۔بلکہ اس کا راز مکاری اور غداری ہے کہ معاویہ مقصد کے حصول کے لئے ہر وسیلہ کو جائز قرار دیتا تھا اور اس کا مقصد بھی صرف حصول اقتدار اورتحت حکومت تھا اور مولائے کائنات کی نگاہ میں نہمقصد وسیلہ کے جوازکا ذریعہ تھا اور نہ آپ کامقصد اقتدار دنی کا حصول تھا۔ آپ کا مقصد دین خدا کا قیام تھا اور اس راہمیں انسان کو ہر قدم پھونک پھونک کراٹھا ناپڑتا ہے اورہرسانس میں مرضی پر وردگار کاخیال رکھنا پڑتا ہے۔

۴۱۶

(۲۰۱)

ومن كلام لهعليه‌السلام

يعظ بسلوك الطريق الواضح

أَيُّهَا النَّاسُ - لَا تَسْتَوْحِشُوا فِي طَرِيقِ الْهُدَى لِقِلَّةِ أَهْلِه - فَإِنَّ النَّاسَ قَدِ اجْتَمَعُوا عَلَى مَائِدَةٍ شِبَعُهَا قَصِيرٌ - وجُوعُهَا طَوِيلٌ.

أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا يَجْمَعُ النَّاسَ الرِّضَا والسُّخْطُ - وإِنَّمَا عَقَرَ نَاقَةَ ثَمُودَ رَجُلٌ وَاحِدٌ - فَعَمَّهُمُ اللَّه بِالْعَذَابِ لَمَّا عَمُّوه بِالرِّضَا - فَقَالَ سُبْحَانَه( فَعَقَرُوها فَأَصْبَحُوا نادِمِينَ ) - فَمَا كَانَ إِلَّا أَنْ خَارَتْ أَرْضُهُمْ بِالْخَسْفَةِ - خُوَارَ السِّكَّةِ الْمُحْمَاةِ فِي الأَرْضِ الْخَوَّارَةِ

أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ سَلَكَ الطَّرِيقَ الْوَاضِحَ وَرَدَ الْمَاءَ - ومَنْ خَالَفَ وَقَعَ فِي التِّيه!

(۲۰۲)

ومِنْ كَلَامٍ لَهعليه‌السلام

روِيَ عَنْه أَنَّه قَالَه عِنْدَ دَفْنِ سَيِّدَةِ النِّسَاءِ فَاطِمَةَعليه‌السلام كَالْمُنَاجِي بِه رَسُولَ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عِنْدَ قَبْرِه.

(۲۰۱)

آپ کا ارشاد گرامی

(جس میں واضح راستوں پرچلنے کی نصیحت فرمائی گئی ہے )

ایہا الناس ! دیکھو ہدایت کے راستہ پرچلنے والوں کی قلت کی بنا پرچلنے سے مت گھبرائو کہ لوگوں نے ایک ایسے دستر خوان پر اجتماع کرلیا ہے جس میں سیر ہونے کی مدت بہت کم ہے اوربھوک کی مدت بہت طویل ہے۔

لوگو! یاد رکھو کہ رضا مندی اورناراضگی ہی سارے انسانوں کو ایک نقطہ پر جمع کر دیتی ہے۔ناقہ صالح کے پیرایک ہی انسان نے کاٹے تھے لیکن اللہ نے عذاب سب پر نازل کردیا کہ باقی لوگ اس کے عمل سے راضی تھے ۔اورفرمادیا کہ ان لوگوں نے ناقہ کے پیر کاٹ ڈالے اور آخر میں ندامت کا شکار ہوگئے۔ان کا عذاب یہ تھا کہ زمین جھٹکے سے گھڑگھڑانے لگی جس طرح کہ نرم زمین میں لوہے کی تپتی ہوئی پھالی چلائی جاتی ہے۔

لوگو!دیکھو جو روشن راستہ پرچلتا ہے وہ سر چشمہ تک پہنچ جاتا ہےاورجو اس کے خلاف کرتا ہےوہگمراہی میں پڑ جاتا ہے۔

(۲۰۲)

آپ کا ارشاد گرامی

(کہا جاتا ہے کہ یہ کلمات سیدة النساء فاطمہ زہراء کے دفن کے موقع پر پیغمبراسلام (ص) سے راز دارانہ گفتگو کے اندازسے کہے گئے ہیں ۔

۴۱۷

السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّه عَنِّي - وعَنِ ابْنَتِكَ النَّازِلَةِ فِي جِوَارِكَ - والسَّرِيعَةِ اللَّحَاقِ بِكَ - قَلَّ يَا رَسُولَ اللَّه عَنْ صَفِيَّتِكَ صَبْرِي ورَقَّ عَنْهَا تَجَلُّدِي - إِلَّا أَنَّ فِي التَّأَسِّي لِي بِعَظِيمِ فُرْقَتِكَ - وفَادِحِ مُصِيبَتِكَ مَوْضِعَ تَعَزٍّ - فَلَقَدْ وَسَّدْتُكَ فِي مَلْحُودَةِ قَبْرِكَ - وفَاضَتْ بَيْنَ نَحْرِي وصَدْرِي نَفْسُكَ - فَ( إِنَّا لِلَّه وإِنَّا إِلَيْه راجِعُونَ ) - فَلَقَدِ اسْتُرْجِعَتِ الْوَدِيعَةُ وأُخِذَتِ الرَّهِينَةُ - أَمَّا حُزْنِي فَسَرْمَدٌ وأَمَّا لَيْلِي فَمُسَهَّدٌ - إِلَى أَنْ يَخْتَارَ اللَّه لِي دَارَكَ الَّتِي أَنْتَ بِهَا مُقِيمٌ - وسَتُنَبِّئُكَ ابْنَتُكَ بِتَضَافُرِ أُمَّتِكَ عَلَى هَضْمِهَا - فَأَحْفِهَا السُّؤَالَ واسْتَخْبِرْهَا الْحَالَ - هَذَا ولَمْ يَطُلِ الْعَهْدُ ولَمْ يَخْلُ مِنْكَ الذِّكْرُ - والسَّلَامُ عَلَيْكُمَا سَلَامَ مُوَدِّعٍ لَا قَالٍ ولَا سَئِمٍ - فَإِنْ أَنْصَرِفْ فَلَا عَنْ مَلَالَةٍ - وإِنْ أُقِمْ فَلَا عَنْ سُوءِ ظَنٍّ

سلام ہو آپ پر اے خدا کے رسول (ص) ! میری طرف سے اور آپ کی اس دختر کی طرف سے جوآپ کے جوار میں نازل ہو رہی ہے اوربہت جلدی آپ سے ملحق ہو رہی ہے۔ یا رسول اللہ (ص) ! میری قوت صبر آپ کی منتخب روز گار دختر کے بارے میں ختم ہوئی جا رہی ہے اور میری ہمت ساتھ چھوڑے دے رہی ہے صرف سہارا یہ ہے کہ میں نے آپ کے فراق کے عظیم صدمہ اورجانکاہ حادثہ پر صبر کرلیا ہے تواب بھی صبر کروں گا کہ میں نے ہی آپ کو قبر میں اتارا تھا اور میرے ہی سینہ پر سر رکھ کر آپ نے انتقال فرمایا تھا بہر حال میں اللہ ہی کے لئے ہوں اور مجھے بھی اس کی بارگاہ میں واپس جانا ہے۔آج امانت واپس چلی گئی اور جوچیز میری تحویل میں تھی وہ مجھ سے چھڑالی گئی۔اب میرا رنج و غم دائمی ہے اورمیرے راتیں نذر بیداری ہیں جب تک مجھے بھی پروردگار اس گھرتک نہ پہنچا دے جہاں آپ کا قیام ہے۔عنقریب آپ کی دختر نیک اختران حالات کی اطالع دے گی کہ کس طرح آپ کی امت نے اس پر ظلم ڈھانے کے لئے اتفاق کرلیا تھا آپ اس سے مفصل سوال فرمائیں اورجملہ حالات دریافت کریں۔

افسوس کہ یہ سب اس وقت ہوا ہے جب آپ کا زمانہ گزرے دیر نہیں ہوئی ہے اور ابھی آپ کاتذکرہ باقی ہے۔

میرا سلام ہو آپ دونوں پر۔اس شخص کا سلام جو رخصت کرنے والا ہے اور دل تنگ و ملول نہیں ہے ۔ میں اگراس قبر سے واپس چلا جائوں تو یہ کسی دل تنگی کا نتیجہ نہیں ہے اور اگر یہیں ٹھہر جائوں تو یہ اس وعدہ کی ہے اعتبار ہ ی

۴۱۸

بِمَا وَعَدَ اللَّه الصَّابِرِينَ.

(۲۰۳)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في التزهيد من الدنيا والترغيب في الآخرة

أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا الدُّنْيَا دَارُ مَجَازٍ والآخِرَةُ دَارُ قَرَارٍ - فَخُذُوا مِنْ مَمَرِّكُمْ لِمَقَرِّكُمْ - ولَا تَهْتِكُوا أَسْتَارَكُمْ عِنْدَ مَنْ يَعْلَمُ أَسْرَارَكُمْ - وأَخْرِجُوا مِنَ الدُّنْيَا قُلُوبَكُمْ - مِنْ قَبْلِ أَنْ تَخْرُجَ مِنْهَا أَبْدَانُكُمْ - فَفِيهَا اخْتُبِرْتُمْ ولِغَيْرِهَا خُلِقْتُمْ - إِنَّ الْمَرْءَ إِذَا هَلَكَ قَالَ النَّاسُ مَا تَرَكَ؟ وقَالَتِ الْمَلَائِكَةُ مَا قَدَّمَ - لِلَّه آبَاؤُكُمْ فَقَدِّمُوا بَعْضاً يَكُنْ لَكُمْ قَرْضاً - ولَا تُخْلِفُوا كُلاًّ فَيَكُونَ فَرْضاً عَلَيْكُمْ.

(۲۰۴)

ومن كلام لهعليه‌السلام

كان كثيرا ما ينادي به أصحابه

تَجَهَّزُوا رَحِمَكُمُ اللَّه فَقَدْ نُودِيَ فِيكُمْ بِالرَّحِيلِ وأَقِلُّوا الْعُرْجَةَ عَلَى الدُّنْيَا

نہیں ہے جو پروردگار نے صبرکرنے والوں سے کیا ہے۔

(۲۰۳)

آپ کا ارشاد گرامی

(دنیا سے پرہیزاورآخرت کی ترغیب کے بارےمیں)

لوگو! یہ دنیا ایک گذر گاہ ہے ۔قرار کی منزل آخرت ہی ہے لہٰذا اس گزر گاہ سے وہاں کا سامان لے کرآگے بڑھو اور اس کے سامنے اپنے پردہ ٔ راز کو چاک مت کرو جو تمہارے اسرار سے با خبر ہے۔دنیا سے اپنے دلوں(۱) کو باہر نکال لو قبل اس کے کہ تمہارے بدنکو یہاں سے نکالا جائے۔یہاں صرف تمہارا امتحان لیا جا رہا ہے ورنہ تمہاری خلقت کسی اور جگہ کے لئے ہے۔کوئی بھی شخص جب مرتا ہے تو ادھر والے یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا چھوڑ کر گیا ہے اورادھرکے فرشتے یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا لے کرآیا ہے ؟ اللہ تمہارا بھلاکرے کچھ وہاں بھیج دو جو مالک کے پاس تمہارے قرضہ کے طورپ ر رہے گا۔اور سب یہیں چھوڑ کرمت جائو کہ تمہارے ذمہ ایک بوجھ بن جائے ۔

(۲۰۴)

آپ کا ارشاد گرامی

(جس کے ذریعہ اپنے اصحاب کوآوازدیاکرتے تھے )

خدا تم پر رحم کرے تیار ہوجائو کہ تمہیں کوچ کرنےکے لئے پکارا جا چکا ہے اور خبر دار دنیا کی طرف زیادہ

(۱)اسلام کا مدعا ترک دنیا تمہیں ہے اور نہ وہ یہ چاہتا ہے کہ انسان رہبانیت کی زندگی گزارے۔اسلام کا مقصد صرف یہ ہے کہ دنیا انسان کی زندگی کا وسیلہ رہے اور اس کے دل کا مکین نہ بننے پائے۔ورنہ حب دنیا انسان کو زندگی کے ہر خطرہ سے دوچار کرسکتی ہے اور اسے کسی بھی گڑھے میں گرا سکتی ہے۔

۴۱۹

- - وانْقَلِبُوا بِصَالِحِ مَا بِحَضْرَتِكُمْ مِنَ الزَّادِ - فَإِنَّ أَمَامَكُمْ عَقَبَةً كَئُوداً ومَنَازِلَ مَخُوفَةً مَهُولَةً - لَا بُدَّ مِنَ الْوُرُودِ عَلَيْهَا والْوُقُوفِ عِنْدَهَا -. واعْلَمُوا أَنَّ مَلَاحِظَ الْمَنِيَّةِ نَحْوَكُمْ دَانِيَةٌ - وكَأَنَّكُمْ بِمَخَالِبِهَا وقَدْ نَشِبَتْ فِيكُمْ - وقَدْ دَهَمَتْكُمْ فِيهَا مُفْظِعَاتُ الأُمُورِ ومُعْضِلَاتُ الْمَحْذُورِ -. فَقَطِّعُوا عَلَائِقَ الدُّنْيَا واسْتَظْهِرُوا بِزَادِ التَّقْوَى.

وقد مضى شيء من هذا الكلام فيما تقدم - بخلاف هذه الرواية

(۲۰۵)

ومن كلام لهعليه‌السلام

كلم به طلحة والزبير - بعد بيعته بالخلافة وقد عتبا عليه من ترك مشورتهما،

والاستعانة في الأمور بهما

لَقَدْ نَقَمْتُمَا يَسِيراً وأَرْجَأْتُمَا كَثِيراً - أَلَا تُخْبِرَانِي أَيُّ شَيْءٍ كَانَ لَكُمَا فِيه حَقٌّ دَفَعْتُكُمَا عَنْه

توجہ مت کرو ۔جو بہترین زاد راہ تمہارے سامنے ہے اسے لے کر مالک کی بارگاہ کی طف پلٹ جائو کہ تمہارے سامنے ایک بڑی دشوار گزار گھاٹی ہے۔اورچند خطرنک اورخوفناک منزلیں ہیں جن پر بہر حال وارد ہونا ہے اور وہیں ٹھہرنا بھی ہے۔اوریہ یاد رکھو کہموت کی نگاہیں تم سے قریب تر ہوچکی ہیں اورتم اس کے پنجوں میں آچکے ہو جو تمہارے اندر گڑا ئے جا چکے ہیں۔موت کے شدید ترین مسائلاوردشوار ترین مشکلات تم پر چھا چکے ہیں ۔اب دنیا کے تعلقات کوختم کرو اورآخرت کے زاد راہ تقویکے ذریعہ اپنی طاقت کا انتظام کرو۔(واضح رہےکہ اس سے پہلے بھی اسی قسم کاایک کلام دوسری روایت کے مطابق گزر چکا ہے)

(۲۰۵)

آپ کا ارشاد گرامی

( جس میں طلحہ و زبیر کو مخاطب بنایا گیا ہے جب ان دونوں نے بیعت کے باوجود مشورہ کرنے اورمدد نہ مانگنے پر آپ سے ناراضگی کا ظہار کیا )

تم نے معمولی سی بات پرتو غصہ کا اظہار کردیا لیکن بڑی باتوں کو پس پشت ڈال دیا۔کیا تم یہ بتا سکتے ہو کہ تمہارا کون ساحق(۱) ایسا ہے جس سے میں نے تم کو محروم

(۱)امیر المومنین نے ان تمام پہلوئوں کاتذکرہ اس لئے کیا ہے تاکہ طلحہ اور زبیر کی نیتوں کا محاسبہ کیا جاسکے اور ان کے عزائم کی حقیقتوں کوب ے نقاب کیا جاسکے کہ مجھ سے پہلے زمانوںمیں یہ تمام نقائص موجود تھے کبھی حقوق کی پامالی ہو رہی تھی ۔کبھی اسلامی سرمایہ کو اپنے گھرانے پر تقسیم کیا جا رہا تھا کبھی مقدمات میں فیصلہ سے عاجزی کا اعتراف تھا اور کبھی صریحی طور پر غلط فیصلہ کیا جارہا تھا۔لیکن اس کے باوجود تم لوگوں کی رگ حمیت و غیرت کو کوئی جنبش نہیں ہو ئی۔اورآج جب کہ ایسا کچھ نہیں ہے تو تم بغاوت پر آمادہ ہوگئے ہو۔اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارا تعلق دین اور مذہب سے نہیں ہے۔تمہیں صرف اپنے مفادات سے تعلق ہے۔جب تک یہ مفادات محفوظ تھے 'تم نے ہر غلطی پر سکوتاختیار کیا اور آج جب مفادات خطرہ میں پڑ گئے ہیں تو شورش اورہنگامہ پرآمادہ ہوگئے ہو۔

۴۲۰

421

422

423

424

425

426

427

428

429

430

431

432

433

434

435

436

437

438

439

440

441

442

443

444

445

446

447

448

449

450

451

452

453

454

455

456

457

458

459

460

461

462

463

464

465

466

467

468

469

470

471

472

473

474

475

476

477

478

479

480

481

482

483

484

485

486

487

488

489

490

491

492

493

494

495

496

497

498

499

500

501

502

503

504

505

506

507

508

509

510

511

512

513

514

515

516

517

518

519

520

521

522

523

524

525

526

527

528

529

530

531

532

533

534

535

536

537

538

539

540

541

542

543

544

545

546

547

548

549

550

551

552

553

554

555

556

557

558

559

560

561

562

563

564

565

566

567

568

569

570

571

572

573

574

575

576

577

578

579

580

581

582

583

584

585

586

587

588

589

590

591

592

593

594

595

596

597

598

599

600

601

602

603

604

605

606

607

608

609

610

611

612

613

614

615

616

617

618

619

620

621

622

623

624

625

626

627

628

629

630

631

632

633

634

635

636

637

638

639

640

641

642

643

644

645

646

647

648

649

650

651

652

653

654

655

656

657

658

659

660

661

662

663

664

665

666

667

668

669

670

671

672

673

674

675

676

677

678

679

680

681

682

683

684

685

686

687

688

689

690

691

692

693

694

695

696

697

698

699

700

701

702

703

704

705

706

707

708

709

710

711

712

713

714

715

716

717

718

719

720

721

722

723

724

725

726

727

728

729

730

731

732

733

734

735

736

737

738

739

740

741

742

743

744

745

746

747

748

749

750

751

752

753

754

755

756

757

758

759

760

761

762

763

764

765

766

767

768

769

770

771

772

773

774

775

776

777

778

779

780

781

782

783

784

785

786

787

788

789

790

791

792

793

794

795

796

797

798

799

800

801

802

803

804

805

806

807

808

809

810

811

812

813

814

815

816

817

818

819

820

821

822

823

824

825

826

827

828

829

830

831

832

833

834

835

836

837

838

839

840

841

842

843

844

845

846

847

848

849

850

851

852

853

854

855

856

857

858

859

860

861

862

863