نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)4%

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ) مؤلف:
: علامہ السید ذیشان حیدر جوادی قدس سرہ
زمرہ جات: متن احادیث
صفحے: 863

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 863 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 657111 / ڈاؤنلوڈ: 15927
سائز سائز سائز
نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417

418

419

420

أَمْ أَيُّ قَسْمٍ اسْتَأْثَرْتُ عَلَيْكُمَا بِه - أَمْ أَيُّ حَقٍّ رَفَعَه إِلَيَّ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ - ضَعُفْتُ عَنْه أَمْ جَهِلْتُه أَمْ أَخْطَأْتُ بَابَه!

واللَّه مَا كَانَتْ لِي فِي الْخِلَافَةِ رَغْبَةٌ - ولَا فِي الْوِلَايَةِ إِرْبَةٌ - ولَكِنَّكُمْ دَعَوْتُمُونِي إِلَيْهَا وحَمَلْتُمُونِي عَلَيْهَا - فَلَمَّا أَفْضَتْ إِلَيَّ نَظَرْتُ إِلَى كِتَابِ اللَّه ومَا وَضَعَ لَنَا - وأَمَرَنَا بِالْحُكْمِ بِه فَاتَّبَعْتُه - ومَا اسْتَنَّ النَّبِيُّصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فَاقْتَدَيْتُه - فَلَمْ أَحْتَجْ فِي ذَلِكَ إِلَى رَأْيِكُمَا ولَا رَأْيِ غَيْرِكُمَا - ولَا وَقَعَ حُكْمٌ جَهِلْتُه فَأَسْتَشِيرَكُمَا وإِخْوَانِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ - ولَوْ كَانَ ذَلِكَ لَمْ أَرْغَبْ عَنْكُمَا ولَا عَنْ غَيْرِكُمَا -. وأَمَّا مَا ذَكَرْتُمَا مِنْ أَمْرِ الأُسْوَةِ - فَإِنَّ ذَلِكَ أَمْرٌ لَمْ أَحْكُمْ أَنَا فِيه بِرَأْيِي - ولَا وَلِيتُه هَوًى مِنِّي - بَلْ وَجَدْتُ أَنَا وأَنْتُمَا مَا جَاءَ بِه رَسُولُ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قَدْ فُرِغَ مِنْه - فَلَمْ أَحْتَجْ إِلَيْكُمَا فِيمَا قَدْ فَرَغَ اللَّه مِنْ قَسْمِه - وأَمْضَى فِيه حُكْمَه - فَلَيْسَ لَكُمَا واللَّه عِنْدِي ولَا لِغَيْرِكُمَا فِي هَذَا عُتْبَى -. أَخَذَ اللَّه بِقُلُوبِنَا وقُلُوبِكُمْ إِلَى الْحَقِّ - وأَلْهَمَنَا وإِيَّاكُمُ الصَّبْرَ.

کردیا ہے ؟ یا کونسا حصہ ایسا ہے جس پر میں نے قبضہ کرلیا ہے ؟ یا کسی مسلمان نے کوئی مقدمہ پیش کیا ہو اور میں اس کا فیصلہ نہ کر سکا ہوں یا اس سے ناواقف رہا ہوں یا اس میں کسی غلطی کا شکار ہوگیا ہوں۔ خدا گواہ ہے کہ مجھے نہ خلافت کی خواہش تھی اور نہ حکومت کی احتیاج۔تمہیں لوگوں نے مجھے اس امر کی دعوت دی اور اس پر آمادہ کیا۔اس کے بعد جب یہ میرے ہاتھ میں آگئی تو میں نے اس سلسلہ میں کتاب خدا اور اس کے دستور پر نگاہ کی اور جو اس نے حکم دیا تھا اس کا اتباع کیا اور اس طرح رسول اکرم (ص) کی سنت کی اقتدا کی۔جس کے بعد نہ مجھے تمہاری رائے کی کوئی ضرورت تھی اور نہ تمہارے علاوہ کسی کی رائے کی اور نہمیں کسی حکم سے جاہل تھا کہ تم سے مشورہ کرتا یا تمہارے علاوہ دیگر برادران اسلام سے۔اور اگر ایی کوئی ضرورت ہوتی تو میں نہ تمہیں نظر انداز کرتا اورنہ دیگر مسلمانوں کو۔رہ گیا یہ مسئلہ کہ میں نے بیت المال کی تقسیم میں برابری سے کاملیا ہے تو یہ نہمیری ذاتی رائے ہے اور نہاس پر میری خواہش کی حکمرانی ہے بلکہ میں نے دیکھا کہ اس سلسلہ میں رسول اکرم (ص) کی طرف سے ہم سے پہلے فیصلہ ہوچکا ہے تو خدا کے معین کئے ہوئے حق اور اس کے جاری کئے ہوئے حکم کے بعد کسی کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہ گئی ہے۔ خدا شاہد ہے کہ اس سلسلہ میں نہ تمہیں شکایت کا کوئی حق ہے اور نہ تمہارے علاوہ کسی اور کو۔اللہ ہم سب کے دلوں کو حق کی راہ پر لگا دے اور سب کو صبر و شکیبائی کی توفیق عطا فرمائے ۔

۴۲۱

ثم قالعليه‌السلام - رَحِمَ اللَّه رَجُلًا رَأَى حَقّاً فَأَعَانَ عَلَيْه - أَوْ رَأَى جَوْراً فَرَدَّه - وكَانَ عَوْناً بِالْحَقِّ عَلَى صَاحِبِه.

(۲۰۶)

ومن كلام لهعليه‌السلام

وقد سمع قوما من أصحابه يسبون أهل الشام أيام حربهم بصفين

إِنِّي أَكْرَه لَكُمْ أَنْ تَكُونُوا سَبَّابِينَ - ولَكِنَّكُمْ لَوْ وَصَفْتُمْ أَعْمَالَهُمْ وذَكَرْتُمْ حَالَهُمْ - كَانَ أَصْوَبَ فِي الْقَوْلِ وأَبْلَغَ فِي الْعُذْرِ - وقُلْتُمْ مَكَانَ سَبِّكُمْ إِيَّاهُمْ - اللَّهُمَّ احْقِنْ دِمَاءَنَا ودِمَاءَهُمْ - وأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا وبَيْنِهِمْ واهْدِهِمْ مِنْ ضَلَالَتِهِمْ - حَتَّى يَعْرِفَ الْحَقَّ مَنْ جَهِلَه - ويَرْعَوِيَ عَنِ الْغَيِّ والْعُدْوَانِ مَنْ لَهِجَ بِه

(۲۰۷)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في بعض أيام صفين - وقد رأى الحسن ابنهعليه‌السلام يتسرع إلى الحرب

امْلِكُوا عَنِّي هَذَا الْغُلَامَ لَا يَهُدَّنِي - فَإِنَّنِي أَنْفَسُ بِهَذَيْنِ يَعْنِي الْحَسَنَ والْحُسَيْنَعليه‌السلام - عَلَى الْمَوْتِ

خدا اس شخص پر رحمت نازل کرے جو حق کو دیکھ لے تو اس پرعمل کرے یا ظلم کو دیکھ لے تو اسے ٹھکرا دے اورصاحب حق میں اس کا ساتھ دے ۔

(۲۰۶)

آپ کا ارشاد گرامی

(جب آپ نے جنگ صفین کے زمانہ میں اپنے بعض اصحاب کے بارے میں سنا کہ وہ اہل شام کو برا بھلا کہہ رہے ہیں )

میں تمہارے لئے اس بات کو نا پسند کرتا ہوں کہ تم گالیاں دینے والے ہو جائو۔بہترین بات یہ ہے کہ تم ان کے اعمال اورحالات کاتذکرہ کرو تاکہ بات بھی صحیح رہے اورحجت بھی تمام ہو جائے اور پھر گالیاں دینے کے بجائے یہ دعا کرو کہ خدایا! ہم سب کے خونوں کومفحوظ کردے اور ہمارے معاملات کی اصلاح کردے اور انہیں گمراہی سے ہدایت کیراستہ پر لگادے تاکہ ناواقف لوگحق سے با خبر ہو جائیں اور حرف باطل کہنے والے اپنی گمراہی اور سرکشی سے بازآجائیں۔

(۲۰۷)

آپ کا ارشاد گرامی

(جنگ صفین کے دورا ن جب امام حسن کو میدان جنگ کی طرف سبقت کرتے ہوئے دیکھ لیا)

دیکھو! اس فرزند کو روک لو کہیں اس کاصدمہ مجھے بے حال نہکردے ۔میں ان دونوں ( حسن و حسین ) کو موت کے مقابلہ میں زیادہ عزیز رکھتا ہوں

۴۲۲

لِئَلَّا يَنْقَطِعَ بِهِمَا نَسْلُ رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم .

قال السيد الشريف - قولهعليه‌السلام املكوا عني هذا الغلام - من أعلى الكلام وأفصحه.

(۲۰۸)

ومن كلام لهعليه‌السلام

قاله لما اضطرب عليه أصحابه في أمر الحكومة

أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّه لَمْ يَزَلْ أَمْرِي مَعَكُمْ عَلَى مَا أُحِبُّ - حَتَّى نَهِكَتْكُمُ الْحَرْبُ - وقَدْ واللَّه أَخَذَتْ مِنْكُمْ وتَرَكَتْ - وهِيَ لِعَدُوِّكُمْ أَنْهَكُ.

لَقَدْ كُنْتُ أَمْسِ أَمِيراً فَأَصْبَحْتُ الْيَوْمَ مَأْمُوراً - وكُنْتُ أَمْسِ نَاهِياً فَأَصْبَحْتُ الْيَوْمَ مَنْهِيّاً - وقَدْ أَحْبَبْتُمُ الْبَقَاءَ ولَيْسَ لِي أَنْ أَحْمِلَكُمْ عَلَى مَا تَكْرَهُونَ!

(۲۰۹)

ومن كلام لهعليه‌السلام

بالبصرة - وقد دخل على العلاء بن زياد الحارثي وهو من أصحابه

يعوده، فلما رأى سعة داره قال:

کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے مرجانے سے نسل رسول (ص) منقطع ہو جائے۔

سید رضی : املکوا عنی ھذا الغلام:عرب کا بلند ترین کلام اور فصیح ترین محاورہ ہے۔

(۲۰۸)

آپ کا ارشاد گرامی

(جو اس وقت ارشاد فرمایا جب آپ کے اصحاب میں تحکیم کے بارے میں اختلاف ہوگیا تھا)

لوگو! یاد رکھو کہ میرے معاملات تمہارے ساتھ بالکل صحیح چل رہے تھے جب تک جنگ نے تمہیں خستہ حال نہیں کردیا تھا۔اس کے بعد معاملات بگڑ گئے حالانکہ خداگواہ ہے کہاگر جنگ نے تم سے کچھ کولے لیا اورکچھ کوچھوڑ دیا تو اس کی زد تمہارے دشمن پر زیادہ ہی پڑی ہے۔ افسو س کہ میں کل تمہارا حاکم تھا اور آج محکوم بنایا جا رہا ہوں۔کل تمہیں میں روکا کرتا تھااور آج تم مجھے روک رہے ہو۔بات صرف یہ ہے کہ تمہیں زندگی زیادہ پیاری ہے اورمیں تمہیں کسی ایسی چیز پرآمادہ نہیں کرسکتا ہوں جوتمہیں ناگوار اور ناپسند ہو۔

(۲۰۹)

آپ کا ارشاد گرامی

(جب بصرہ میں اپنے صحابی علاء بن زیاد حارثی کے گھر عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور ان کے گھر کی وسعت کا مشاہدہ فرمایا )

۴۲۳

مَا كُنْتَ تَصْنَعُ بِسِعَةِ هَذِه الدَّارِ فِي الدُّنْيَا - وأَنْتَ إِلَيْهَا فِي الآخِرَةِ كُنْتَ أَحْوَجَ - وبَلَى إِنْ شِئْتَ بَلَغْتَ بِهَا الآخِرَةَ - تَقْرِي فِيهَا الضَّيْفَ وتَصِلُ فِيهَا الرَّحِمَ - وتُطْلِعُ مِنْهَا الْحُقُوقَ مَطَالِعَهَا - فَإِذاً أَنْتَ قَدْ بَلَغْتَ بِهَا الآخِرَةَ.

فَقَالَ لَه الْعَلَاءُ - يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَشْكُو إِلَيْكَ أَخِي عَاصِمَ بْنَ زِيَادٍ - قَالَ ومَا لَه - قَالَ لَبِسَ الْعَبَاءَةَ وتَخَلَّى عَنِ الدُّنْيَا - قَالَ عَلَيَّ بِه فَلَمَّا جَاءَ قَالَ: يَا عُدَيَّ نَفْسِه لَقَدِ اسْتَهَامَ بِكَ الْخَبِيثُ - أَمَا رَحِمْتَ أَهْلَكَ ووَلَدَكَ - أَتَرَى اللَّه أَحَلَّ لَكَ الطَّيِّبَاتِ وهُوَ يَكْرَه أَنْ تَأْخُذَهَا - أَنْتَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّه مِنْ ذَلِكَ

قَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ - هَذَا أَنْتَ فِي خُشُونَةِ مَلْبَسِكَ وجُشُوبَةِ مَأْكَلِكَ!

قَالَ وَيْحَكَ إِنِّي لَسْتُ كَأَنْتَ - إِنَّ اللَّه تَعَالَى فَرَضَ عَلَى أَئِمَّةِ - الْعَدْلِ أَنْ يُقَدِّرُوا أَنْفُسَهُمْ بِضَعَفَةِ النَّاسِ - كَيْلَا يَتَبَيَّغَ بِالْفَقِيرِ فَقْرُه!

تم اس دنیا میں اس قدر وسیع مکان(۱) کو لے کر کیا کروگے جب کہ آخرت میں اس کی احتیاج زیادہ ہے۔تم اگرچاہو تو اس کے ذریعہ آخرت کا سامان کرسکتے ہو کہ اس میں مہمانوں کی ضیافت کرو۔قرابتداروں سے صلہ رحم کرو اورموقع و محل کے مطابق حقوق کوادا کرو کہ اس طرح آخرت کوحاصل کرسکتے ہو۔

یہ سن کرعلاء بن زیاد نے عرض کی کہ یا امیرالمومنین میں اپنے بھائی عاصم بن زیاد کی شکایت کرناچاہتا ہوں۔فرمایا کہ انہیں کیا ہوگیا ہے ؟ عرض کی کہ انہوں نے ایک عبا اوڑھ لی ہے اور دنیا کو یکسر ترک کردیا ہے۔فرمایا انہیں بلائو ۔عاصم حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ:

اے دشمن جان! تجھے شیطان خبیث نے گرویدہ بنا لیا ہے۔تجھے اپنے اہل و عیال پر کیوں رحم نہیں آتا ہے۔کیا تیراخیال یہ ہے کہ خدانے پاکیزہ چیزوں کو حلال تو کیا ہے لیکن وہ ان کے استعمال کو نا پسند کرتا ہے۔تو خدا کی بارگاہ میں اس سے زیادہ پست ہے۔

عاصم نے عرض کی کہ یا امیرالمومنین ! آپ بھی تو کھردرا لباس اور معمولی کھانے پر گذارا کر رہے ہیں۔

فرمایا : تم پر حیف ہے کہ تم نے میراقیاس اپنے اوپر کرلیا ہے جب کہ پروردگارنے ائمہ حق پرفرض کردیا ہے کہ اپنی زندگی کا پیمانہ کمزور ترین انسانوں کو قراردیںتاکہ فقیر اپنے فقر کی بنا پر کسی پیچ و تاب کا شکار ہو۔

(۱)یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ مکان کی وسعت ذاتی اغراض کے لئے ہو تو اس کا نام دنیا داری ہے۔لیکن اگر اس کامقصد مہمان نوازی صلہ ارحام ادائیگی حقوق حفظ آبرو۔اظہار عظمت علم و مذہب ہوتو اس کاکوئی تعلق دنیداری سے نہیں ہے اور یہ دین و مذہب ہی کا ایک شعبہ ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ یہ فیصلہ نیتوں سے ہوگا اورنتیوں کا جاننے والا صرف پروردگار ہے کوئی دوسرا نہیں ہے۔

۴۲۴

(۲۱۰)

ومن كلام لهعليه‌السلام

وقد سأله سائل عن أحاديث البدع - وعما في أيدي الناس من اختلاف الخبر فقالعليه‌السلام :

إِنَّ فِي أَيْدِي النَّاسِ حَقّاً وبَاطِلًا - وصِدْقاً وكَذِباً ونَاسِخاً ومَنْسُوخاً - وعَامّاً وخَاصّاً - ومُحْكَماً ومُتَشَابِهاً وحِفْظاً ووَهْماً - ولَقَدْ كُذِبَ عَلَى رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عَلَى عَهْدِه - حَتَّى قَامَ خَطِيباً فَقَالَ - مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّداً فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَه مِنَ النَّارِ».

وإِنَّمَا أَتَاكَ بِالْحَدِيثِ أَرْبَعَةُ رِجَالٍ لَيْسَ لَهُمْ خَامِسٌ:

المنافقون

رَجُلٌ مُنَافِقٌ مُظْهِرٌ لِلإِيمَانِ مُتَصَنِّعٌ بِالإِسْلَامِ - لَا يَتَأَثَّمُ ولَا يَتَحَرَّجُ - يَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مُتَعَمِّداً - فَلَوْ عَلِمَ النَّاسُ أَنَّه مُنَافِقٌ كَاذِبٌ لَمْ يَقْبَلُوا مِنْه - ولَمْ يُصَدِّقُوا قَوْلَه - ولَكِنَّهُمْ

(۲۱۰)

آپ کا ارشاد گرامی

(جب کسی شخص نے آپ سے بدعتی احادیث اورمتضاد روایات کے بارے میں سوال کیا )

لوگوں کے ہاتھوں میں حق و باطل(۱) صدق و کذب ' ناسخ ومنسوخ، عام وخاص ' محکم و متشابہ اور حقیقت و وہم سب کچھ ہے اور کذب و افترا کا سلسلہ رسول اکرم (ص) کی زندگی ہی سے شروع ہوگیا تھا جس کے بعد آپ نے منبر سے اعلان کیا تھا کہ '' جس شخص نے بھی میری طرف سے غلط بات بیان کی اسے اپنی جگہ جہنم میں بنا لینا چاہیے ۔''

یاد رکھو کہ حدیث کے بیان والے چار طرح کے افراد ہوتے ہیں جن کی پانچویں کوئی قسم نہیں ہے:

ایک وہ منافق ہے جو ایمان کا اظہار کرتا ہے۔اسلام کی وضع قطع اختیار کرتا ہے لیکن گناہ کرنے اور افتراء میں پڑنے سے پرہیز نہیں کرتا ہے اور رسول اکرم (ص) کے خلاف قصداً جھوٹی روایتیں تیار کرتا ہے۔ کہ اگر لوگوں کومعلوم ہو جائے کہ یہ منافق اورجھوٹا تو یقینا اس کے بیان کی تصدیق نہ کریں گے لیکن مشکل یہ ہے کہ

(۱)واضح رہے کہ اسلامی علوم میں علم رجال اور علم ورایت کا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ سارا عالم اسلام اس نقطہ پر متفق ہے کہ روایات قابل قبول بھی ہیں اورنا قابل قبول بھی۔اور راوی حضرات ثقہ اورمعتبر بھی ہیں اور غیر ثقہ اورغیر معتبر بھی۔اس کے بعد عدالت صحابہ اور اعتبار تمام علماء کا عقیدہ۔ایک مضحکہ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

۴۲۵

قَالُوا صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - رَآه وسَمِعَ مِنْه ولَقِفَ عَنْه فَيَأْخُذُونَ بِقَوْلِه - وقَدْ أَخْبَرَكَ اللَّه عَنِ الْمُنَافِقِينَ بِمَا أَخْبَرَكَ - ووَصَفَهُمْ بِمَا وَصَفَهُمْ بِه لَكَ ثُمَّ بَقُوا بَعْدَه - فَتَقَرَّبُوا إِلَى أَئِمَّةِ الضَّلَالَةِ - والدُّعَاةِ إِلَى النَّارِ بِالزُّورِ والْبُهْتَانِ - فَوَلَّوْهُمُ الأَعْمَالَ وجَعَلُوهُمْ حُكَّاماً عَلَى رِقَابِ النَّاسِ - فَأَكَلُوا بِهِمُ الدُّنْيَا وإِنَّمَا النَّاسُ مَعَ الْمُلُوكِ والدُّنْيَا - إِلَّا مَنْ عَصَمَ اللَّه فَهَذَا أَحَدُ الأَرْبَعَةِ.

الخاطئون

ورَجُلٌ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّه شَيْئاً لَمْ يَحْفَظْه عَلَى وَجْهِه - فَوَهِمَ فِيه ولَمْ يَتَعَمَّدْ كَذِباً فَهُوَ فِي يَدَيْه - ويَرْوِيه ويَعْمَلُ بِه - ويَقُولُ أَنَا سَمِعْتُه مِنْ رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - فَلَوْ عَلِمَ الْمُسْلِمُونَ أَنَّه وَهِمَ فِيه لَمْ يَقْبَلُوه مِنْه - ولَوْ عَلِمَ هُوَ أَنَّه كَذَلِكَ لَرَفَضَه!

وہ سمجھتے ہیں کہ یہ صحابی ہے۔اس نے حضور کودیکھا ہے ۔ان کے ارشاد کو سنا ہے اور ان سے حاصل کیا ہے اور اس طرح اس کے بیان کو قبول کرلیتے ہیں جب کہخود پروردگار بھی منافقین کے بارے میں خبر دے چکا ہے اور ان کے اوصاف کاتذکرہ کرچکا ہے اور یہ رسول اکرم (ص) کے بعد بھی باقی رہ گئے تھے اور گمراہی کے پیشوائوں(۱) اور جہنم کے داعیوں کی طرف اسی غلط بیانی اور افترا پردازی سے تقرب حاصل کرتے تھے ۔وہ انہیں عہدے دیتے رہے اور لوگوں کی گردنوں پر حکمراں بناتے رہے اور انہیں کے ذریعہ دنیا کو کھاتے رہے اور لوگ تو بہر حال بادشاہوں اوردنیا داروں ہی کے ساتھ رہتے ہیں۔علاوہ ان کے جنہیں اللہ اس شر سے محفوظ کرلے۔یہ چار میں سے ایک قسم ہے۔

دوسرا شخص وہ ہے جس نے رسول اکرم (ص) سے کوئی بات سنی ہے لیکن اسے صحیح طریقہ سے محفوظ نہیں کرس کا ہے اوراس میں غلطی کا شکار ہوگیا ہے۔جان بوجھ کرجھوٹ نہیں بولتا ہے۔جوکچھ اس کے ہاتھ میں ہے اسی کی روایت کرتا ہے اوراسی پرعمل کرتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ یہ میں نے رسول اکرم (ص) سے سنا ہے حالانکہ اگر مسلمانوں کو معلوم ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے تو ہرگز اس کی بات قبول نہ کریں گے بلکہ اگر اسے خودبھی معلوم ہوجائے کہ یہ بات اس طرح نہیں ہے تو ترک کردے گا اور نقل نہیں کرے گا۔

(۱)حضرت نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ منافقین کا کاروبار ہمیشہ حکام کی نالائقی سے چلتا ہے ورنہ حکام دیانتدار ہوں اورایسی روایات کے خریدار نہ بنیں تو منافقین کا کاروبار ایک دن میں ختم ہو سکتا ہے۔

۴۲۶

أهل الشبهة

ورَجُلٌ ثَالِثٌ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم شَيْئاً - يَأْمُرُ بِه ثُمَّ إِنَّه نَهَى عَنْه وهُوَ لَا يَعْلَمُ - أَوْ سَمِعَه يَنْهَى عَنْ شَيْءٍ ثُمَّ أَمَرَ بِه وهُوَ لَا يَعْلَمُ - فَحَفِظَ الْمَنْسُوخَ ولَمْ يَحْفَظِ النَّاسِخَ - فَلَوْ عَلِمَ أَنَّه مَنْسُوخٌ لَرَفَضَه - ولَوْ عَلِمَ الْمُسْلِمُونَ إِذْ سَمِعُوه مِنْه أَنَّه مَنْسُوخٌ لَرَفَضُوه –

الصادقون الحافظون

وآخَرُ رَابِعٌ - لَمْ يَكْذِبْ عَلَى اللَّه ولَا عَلَى رَسُولِه - مُبْغِضٌ لِلْكَذِبِ خَوْفاً مِنَ اللَّه وتَعْظِيماً لِرَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - ولَمْ يَهِمْ بَلْ حَفِظَ مَا سَمِعَ عَلَى وَجْهِه - فَجَاءَ بِه عَلَى مَا سَمِعَه - لَمْ يَزِدْ فِيه ولَمْ يَنْقُصْ مِنْه - فَهُوَ حَفِظَ النَّاسِخَ فَعَمِلَ بِه - وحَفِظَ الْمَنْسُوخَ فَجَنَّبَ عَنْه - وعَرَفَ الْخَاصَّ والْعَامَّ والْمُحْكَمَ والْمُتَشَابِه - فَوَضَعَ كُلَّ شَيْءٍ مَوْضِعَه.

وقَدْ كَانَ يَكُونُ مِنْ رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الْكَلَامُ - لَه وَجْهَانِ فَكَلَامٌ  

يَسْمَعُوا - وكَانَ لَا يَمُرُّ بِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ إِلَّا سَأَلْتُه عَنْه وحَفِظْتُه - فَهَذِه وُجُوه مَا عَلَيْه النَّاسُ فِي اخْتِلَافِهِمْ وعِلَلِهِمْ فِي رِوَايَاتِهِمْ.

تیسری قسم اس شخص کی ہے جس نے رسول اکرم (ص) کو حکم دیتے سنا ہے لیکن حضرت نے جب منع کیا تو اسے اطلاع نہیں ہو سکی یا حضرت کو منع کرتے دیکھا ہے پھر جب آپ نے دوبارہ حکم دیا تو اطلاع نہ ہو سکی' اس شخص نے منسوخ کو محفوظ کرلیا ہے اور ناسخ کو محفوظ نہیں کر سکا ہے کہاگر اسے معلوم ہو جائے کہ یہ حکم منسوخ ہوگیا ہے تو اسے ترک کردے گا اور اگرمسلمانوں کو معلوم ہوجائے کہ اس نے منسوخ کی روایت کی ہے تو وہ بھی اسے نظر اندازکردیں گے۔

چوتھی قسم اس شخص کی ہے جس نے خدا اور رسول (ص) کے خلاف غلط بیانی سے کام نہیں لیا ہے اور وہ خوف خدا اورتعظیم رسول خدا کی بنیاد پر جھوٹ کا دشمن بھی ہے اور اس سے بھول چوک بھی نہیں ہوئی ہے بلکہ جیسے رسول اکرم (ص) نے فرمایا ہے ویسے ہی محفوظ کر رکھا ہے نہ اس میں کسی طرح کااضافہ کیا ہے اور نہ کمی کی ہے۔ناسخ ہی کو محفوظ کیا ہے اور اس پر عمل کیا ہے اور منسوخ کو یاد رکھا ہے۔لیکن اس سے اجتناب کیا ہے ۔خاص و عام اورمحکم و متشابہ کوبھی پہچانتا ہے اور اس کے مطابق عمل بھی کرتا ہےلیکن مشکل یہ ہےکہ کبھی کبھی رسول اکرم (ص) کے ارشادات کے دورخ(۱) ہوتے تھے ۔بعض کا تعلق

(۱)جس طرح ایک انسان کی زندگی کے مختلف رخ ہوتے ہیں اور بعض اوقات ایک رخ دوسرے سے بالکل اجنبی ہوتا ہے کہ بے خبر انسان اسے دو زندگیوں پر محمول کردیتا ہے۔اسی طرح معاشرہ اور روایات کے بھی مختلف رخ ہوتے ہیں اور بعض اوقات ایک رخ دوسرے سے بالکل اجنبی اور بیگانہ ہوتا ہے اور ہر رخ کے لئے الگ مفہوم ہوتا ہے اورہر رخ کے الگ احکام ہوتے ہیں۔اب اگر کوئی شخص اس حقیقت سے باخبر نہیں ہوتا ہے تو وہ ایک ہی رخ یا ایک ہی روایت کو لے اڑتا ہے اور وثوق و اعتبارکے ساتھ یہ بین کرتا ہے کہ میں نے خود رسول اکرم (ص) سے سنا ہے اوراسے یہ خبر نہیں ہوتی ہے کہ زندگی کا کوئی دوسرا رخ بھی ہے۔یا اس بیان کا کوئی اور بھی پہلو ہے جو قبل یا بعد دوسرے مناسب موقع پر بیان ہوچکا ہے یا بیان ہونے والا ہے اور اس طرح اشتباہات کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اورحقیقت روایات میں گم ہو جاتی ہے حالانکہ دیدہ و دانستہ کوئی گناہ یا اشتباہ نہیں ہوتا ہے ۔

۴۲۷

خَاصٌّ وكَلَامٌ عَامٌّ - فَيَسْمَعُه مَنْ لَا يَعْرِفُ مَا عَنَى اللَّه سُبْحَانَه بِه - ولَا مَا عَنَى رَسُولُ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - فَيَحْمِلُه السَّامِعُ ويُوَجِّهُه عَلَى غَيْرِ مَعْرِفَةٍ بِمَعْنَاه - ومَا قُصِدَ بِه ومَا خَرَجَ مِنْ أَجْلِه - ولَيْسَ كُلُّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مَنْ كَانَ يَسْأَلُه ويَسْتَفْهِمُه - حَتَّى إِنْ كَانُوا لَيُحِبُّونَ أَنْ يَجِيءَ الأَعْرَابِيُّ والطَّارِئُ - فَيَسْأَلَهعليه‌السلام حَتَّى

فَيَسْأَلَه عليه السلام حَتَّى يَسْمَعُوا - وكَانَ لَا يَمُرُّ بِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ إِلَّا سَأَلْتُه عَنْه وحَفِظْتُه - فَهَذِه وُجُوه مَا عَلَيْه النَّاسُ فِي اخْتِلَافِهِمْ وعِلَلِهِمْ فِي رِوَايَاتِهِمْ

(۲۱۱)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في عجيب صنعة الكون

وكَانَ مِنِ اقْتِدَارِ جَبَرُوتِه - وبَدِيعِ لَطَائِفِ صَنْعَتِه - أَنْ جَعَلَ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ الزَّاخِرِ - الْمُتَرَاكِمِ الْمُتَقَاصِفِ يَبَساً جَامِداً

خاص افراد سے ہوتاتھا اور بعض کلمات عام ہوتے تھے اور ان کلمات کو وہشخص بھی سن لیتا تھا جسے یہ نہیں معلوم تھا کہ خدا و رسول کا مقصد کیا ہے اور اسے سن کر اس کی ایک توجیہ کرلیتا تھا بغیر اس نکتہ کا ادراک کئے ہوئے۔کہ اس کلام کا مفہوم اور مقصد کیا ہے اوریہ کس بنیاد پر صادر ہوا ہے۔اور تمام اصحاب رسول اکرم (ص) میں یہ ہمت بھی نہیں تھی کہ آپ سے سوال کرسکیں اورباقاعدہ تحقیق کرسکیں بلکہ اس بات کا انتظار کیا کرتے تھے کہ کوئی صحرائی یا پردیسی آکر آپ سے سوال کرے تو وہ بھی سن لیں ۔یہ صرف میں تھا کہ میرے سامنے سے کوئی ایسی بات نہیں گزرتی تھی مگر یہ کہ میں دریافت بھی کرلیتا تھا اور محفوظ بھی کرلیتا تھا۔

یہ ہیں لوگوں کے درمیان اختلافات کے اسباب اور روایات میں تضاد کے عوامل و محرکات۔

(۲۱۱)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(حیرت انگیز تخلیق کائنات کے بارے میں )

یہ پروردگار کے اقتدار کی طاقت اور اس کی صناعی کی حیرت انگیز لطافت ہے کہ اس نے گہرے اور متلاطم سمندر(۱) میں ایک خشک اور ٹھوس زمین کو پیدا

(۱) کتنا حسین نظام کائنات ہے کہ متلاطم پانی پر زمین قائم ہے اور زمین کے اپور ہوا کا دبائو قائم ہے اور انسان اس تین منزلہ عمارت میں درمیانی طبقہ پر اس طرح سکونت پذیر ہے کہ اس کے زیر قدم زمین اور پانی ہے اوراس کے بالائے سر فضا اور ہوا ہے۔ہوا اس کی زندگی کے لئے سانسیں فراہم کر رہی ہے اور زمین اس کے سکون و قرار کا انتظام کرکے اسے باقی رکھے ہوئے ہیں۔پانی اس کی زندگی کا قوام ہے اور سمندراس کی تازگی کا ذریعہ کوئی ذرۂ کائنات اس کی خدمت سے غافل نہیں ہے اورکوئی عنصراپنے سے اشرف مخلوق کی اطاعت سے منحرف نہیں ہے۔تاکہ وہ بھی اپنی اشرفیت کی آبرو کاتحفظ کرے اور ساری کائنات سے بالاتر خالق ومالک کی اطاعت و عبادت میں ہمہ تن مصروف رہے۔

۴۲۸

ثُمَّ فَطَرَ مِنْه أَطْبَاقاً - فَفَتَقَهَا سَبْعَ سَمَاوَاتٍ بَعْدَ ارْتِتَاقِهَا فَاسْتَمْسَكَتْ بِأَمْرِه - وقَامَتْ عَلَى حَدِّه وأَرْسَى أَرْضاً يَحْمِلُهَا الأَخْضَرُ الْمُثْعَنْجِرُ - والْقَمْقَامُ الْمُسَخَّرُ - قَدْ ذَلَّ لأَمْرِه وأَذْعَنَ لِهَيْبَتِه - ووَقَفَ الْجَارِي مِنْه لِخَشْيَتِه - وجَبَلَ جَلَامِيدَهَا ونُشُوزَ مُتُونِهَا وأَطْوَادِهَا - فَأَرْسَاهَا فِي مَرَاسِيهَا - وأَلْزَمَهَا قَرَارَاتِهَا - فَمَضَتْ رُءُوسُهَا فِي الْهَوَاءِ - ورَسَتْ أُصُولُهَا فِي الْمَاءِ - فَأَنْهَدَ جِبَالَهَا عَنْ سُهُولِهَا - وأَسَاخَ قَوَاعِدَهَا فِي مُتُونِ أَقْطَارِهَا ومَوَاضِعِ أَنْصَابِهَا - فَأَشْهَقَ قِلَالَهَا وأَطَالَ أَنْشَازَهَا - وجَعَلَهَا لِلأَرْضِ عِمَاداً وأَرَّزَهَا فِيهَا أَوْتَاداً - فَسَكَنَتْ عَلَى حَرَكَتِهَا مِنْ أَنْ تَمِيدَ بِأَهْلِهَا أَوْ تَسِيخَ بِحِمْلِهَا أَوْ تَزُولَ عَنْ مَوَاضِعِهَا - فَسُبْحَانَ مَنْ أَمْسَكَهَا بَعْدَ مَوَجَانِ مِيَاهِهَا - وأَجْمَدَهَا بَعْدَ رُطُوبَةِ أَكْنَافِهَا - فَجَعَلَهَا لِخَلْقِه مِهَاداً - وبَسَطَهَا لَهُمْ فِرَاشاً - فَوْقَ بَحْرٍ لُجِّيٍّ رَاكِدٍ

کردیا۔ اور پھربخارات کے طبقات بنا کر انہیں شگافتہ کرکے سات آسمانوں کی شکل دے دی جواس کے امر سے ٹھہرے ہوئے ہیں اوراپنی حدوں پرقائم ہیں ۔پھر زمین کو یوں گاڑ دیا کہ اسے سبز رنگ کا گہرا سمندر اٹھائے ہوئے ہے جو قانون الٰہی کے آگے مسخر ہے۔اس کے امر کا تابع ہے اور اس کی ہیبت کے سامنے سر نگوں ہے اور اس کے خوف سے اس کا بہائو تھما ہوا ہے۔

پھر پتھروں۔ٹیلوں اورپہاڑوں کو خلق کرکے انہیں ان کی جگہوں پر گاڑ دیا اور ان کی منزلوں پر مستقر کردیا کہ اب ان کی بلندیاں فضائوں سے گزرگئی ہیں اور ان کی جڑیں پانی کے اندر راسخ ہیں۔ان کے پہاڑوں کو ہموار زمینوں سے اونچا کیا اور ان کے ستونوں کواطراف کے پھیلائو اورمراکز کے ٹھہرائو میں نصب کردیا۔اب ان کی چوٹیاں بلند ہیں اور ان کی بلندیاں طویل ترین ہیں۔انہیں پہاڑوں کو زمین کا ستون قرار دیا ہے اور انہیں کو کیل بنا کر گاڑ دیا ہے جن کی وجہس ے زمین حرکت کے بعد ساکن ہوگئی اور نہ اہل زمین کو لے کر کسی رف جھک سکی اور نہ ان کے بوجھ سے دھنس سکی اورنہ اپنی جگہ سے ہٹ سکی۔

پاک و بے نیاز ہے وہ مالک جس نے پانی کے تموج کے باوجود اسے روک رکھا ہے اور اطراف کی تری کے باوجود اسے خشک بنا رکھا ہے اور پھر اسے اپنی مخلوقات کے لئے گہوارہ اور فرش کی حیثیت دے دی ہے۔اس گہرے سمندر کے اوپر جوٹھہرا ہوا ہے اور بہتا نہیں ہے اور

۴۲۹

لَا يَجْرِي وقَائِمٍ لَا يَسْرِي - تُكَرْكِرُه الرِّيَاحُ الْعَوَاصِفُ - وتَمْخُضُه الْغَمَامُ الذَّوَارِفُ -( إِنَّ فِي ذلِكَ لَعِبْرَةً لِمَنْ يَخْشى ) .

(۲۱۲)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

كان يستنهض بها أصحابه إلى جهاد أهل الشام في زمانه

اللَّهُمَّ أَيُّمَا عَبْدٍ مِنْ عِبَادِكَ - سَمِعَ مَقَالَتَنَا الْعَادِلَةَ غَيْرَ الْجَائِرَةِ - والْمُصْلِحَةَ غَيْرَ الْمُفْسِدَةِ فِي الدِّينِ والدُّنْيَا - فَأَبَى بَعْدَ سَمْعِه لَهَا إِلَّا النُّكُوصَ عَنْ نُصْرَتِكَ - والإِبْطَاءَ عَنْ إِعْزَازِ دِينِكَ - فَإِنَّا نَسْتَشْهِدُكَ عَلَيْه يَا أَكْبَرَ الشَّاهِدِينَ شَهَادَةً - ونَسْتَشْهِدُ عَلَيْه جَمِيعَ مَا أَسْكَنْتَه أَرْضَكَ وسمَاوَاتِكَ - ثُمَّ أَنْتَ بَعْدُ الْمُغْنِي عَنْ نَصْرِه - والآخِذُ لَه بِذَنْبِه.

(۲۱۳)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في تمجيد اللَّه وتعظيمه

الْحَمْدُ لِلَّه الْعَلِيِّ عَنْ شَبَه الْمَخْلُوقِينَ - الْغَالِبِ لِمَقَالِ الْوَاصِفِينَ -

ایک مقام پر قائم ہے کسی طرف جاتا نہیں ہے حالانکہ اسے تیز و تند ہوائیں حرکت دے رہی ہیں اور برسنے والے بادل اسے متھ کراس سے پانی کھینچتے رہتے ہیں۔ ''ان تمام باتوں میں عبرت کا سامان ہے ان لوگوں کے لے جن کا اندر خوف خدا پایا جاتا ہے ۔''

(۲۱۲)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں اپنے اصحاب کو اہل شام سے جہاد کرنے پر آمادہ کیا ہے )

خدایا تیرے جس بندہ نے بھی میری عادلانہ گفتگو (جس میں کسی طرح کا ظلم نہیں ہے ) اورمصلحانہ نصیحت (جس میں کسی طرح کافساد نہیں ہے ) کو سننے کے بعد بھی تیرے دین کی نصرت سے انحراف کیا اور تیرے دین کے اعزاز میں کوتاہی کی ہے۔میں اس کے خلاف تجھے گواہ قرار دے رہا ہوں کہ تجھ سے بالاترکوئی گواہ نہیں ہے اور پھرتیرے تمام سکان ارض و سما کو گواہ قراردے رہا ہوں۔اس کے بعد تو ہر ایک کی مدد سے بے نیاز بھی ہے اور ہر ایک کے گناہ کا مواخذہ کرنے والا بھی ہے۔

(۲۱۳)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(پروردگار کی تمجید اوراس کی تعظیم کے بارے میں)

ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہے جو مخلوقات کی مشابہت سے بلند تر اور توصیف کرنے والوں کی

۴۳۰

الظَّاهِرِ بِعَجَائِبِ تَدْبِيرِه لِلنَّاظِرِينَ - والْبَاطِنِ بِجَلَالِ عِزَّتِه عَنْ فِكْرِ الْمُتَوَهِّمِينَ - الْعَالِمِ بِلَا اكْتِسَابٍ ولَا ازْدِيَادٍ - ولَا عِلْمٍ مُسْتَفَادٍ - الْمُقَدِّرِ لِجَمِيعِ الأُمُورِ بِلَا رَوِيَّةٍ ولَا ضَمِيرٍ - الَّذِي لَا تَغْشَاه الظُّلَمُ ولَا يَسْتَضِيءُ بِالأَنْوَارِ - ولَا يَرْهَقُه لَيْلٌ ولَا يَجْرِي عَلَيْه نَهَارٌ - لَيْسَ إِدْرَاكُه بِالإِبْصَارِ ولَا عِلْمُه بِالإِخْبَارِ.

ومنها في ذكر النبيصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

أَرْسَلَه بِالضِّيَاءِ وقَدَّمَه فِي الِاصْطِفَاءِ - فَرَتَقَ بِه الْمَفَاتِقَ وسَاوَرَ بِه الْمُغَالِبَ - وذَلَّلَ بِه الصُّعُوبَةَ وسَهَّلَ بِه الْحُزُونَةَ - حَتَّى سَرَّحَ الضَّلَالَ عَنْ يَمِينٍ وشِمَالٍ.

(۲۱۴)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يصف جوهر الرسول، ويصف العلماء، ويعظ بالتقوى

وأَشْهَدُ أَنَّه عَدْلٌ عَدَلَ وحَكَمٌ فَصَلَ - وأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً

گفتگو سے بالاتر ہے وہ اپنی تدبیر کے عجائب کے ذریعہ دیکھنے والوں کے سامنے بھی ہے اور اپنے جلال و عزت کی بناپر مفکرین کی فکر سے پوشیدہ بھی ہے بغیر کسی تحصیل اور اضافہ کے عالم ہے اور اس کاعلم کسی استفادہ کا نتیجہ بھی نہیں ہے۔تمام امور کاتقدیر ساز ہے اور اس سلسلہ میں کسی فکر اورسوچ بچار کامحتاج بھی نہیں ہے۔تاریکیاں اسے ڈھانپ نہیں سکتی ہیں اور روشنیوں سے وہ کسی طرح کا کسب نور نہیں کرتا ہے۔نہ رات اس پر غالب آسکتی ہے اور نہ دن اس کے اوپر سے گزر سکتا ہے ۔اس کا ادراک آنکھوں کا محتاج نہیں ہے اور اس کاعلم اطلاعات کا نتیجہ نہیں ہے۔

اس نے پیغمبر (ص) کوایک نوردے کربھیجا ہے اورانہیں سب سے پہلے منتخب قرار دیا ہے۔ان کے ذریعہ پراگندیوں کو جمع کیا ہے اور غلبہ حاصل کرنے والوں کو قابو میں رکھا ہے۔دشواریوں کوآسان کیا ہے اورنا ہمواریوں کو ہموار بنایا ہے۔یہاں تک کہ گمراہیوں کو داہنے بائیں ہر طرف سے دور کردیا ہے۔

(۲۱۴)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

( جس میں رسول اکرم (ص) کی تعریف علماء کی توصیف اور تقویٰ کی نصیحت کا ذکر کیا گیا ہے )

میں گواہی دیتا ہوںکہ وہ پروردگار ایسا عادل ہے جو عدل ہی سے کام لیتا ہے۔اور ایساحاکم ہے جو حق و باطل کو جدا کر دیتا ہے اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد (ص)

۴۳۱

عَبْدُه ورَسُولُه وسَيِّدُ عِبَادِه - كُلَّمَا نَسَخَ اللَّه الْخَلْقَ فِرْقَتَيْنِ جَعَلَه فِي خَيْرِهِمَا - لَمْ يُسْهِمْ فِيه عَاهِرٌ ولَا ضَرَبَ فِيه فَاجِرٌ.

أَلَا وإِنَّ اللَّه سُبْحَانَه قَدْ جَعَلَ لِلْخَيْرِ أَهْلًا - ولِلْحَقِّ دَعَائِمَ ولِلطَّاعَةِ - عِصَماً - وإِنَّ لَكُمْ عِنْدَ كُلِّ طَاعَةٍ عَوْناً مِنَ اللَّه سُبْحَانَه – يَقُولُ عَلَى الأَلْسِنَةِ ويُثَبِّتُ الأَفْئِدَةَ - فِيه كِفَاءٌ لِمُكْتَفٍ وشِفَاءٌ لِمُشْتَفٍ –

صفة العلماء

واعْلَمُوا أَنَّ عِبَادَ اللَّه الْمُسْتَحْفَظِينَ عِلْمَه - يَصُونُونَ مَصُونَه ويُفَجِّرُونَ عُيُونَه - يَتَوَاصَلُونَ بِالْوِلَايَةِ - ويَتَلَاقَوْنَ بِالْمَحَبَّةِ ويَتَسَاقَوْنَ بِكَأْسٍ رَوِيَّةٍ - ويَصْدُرُونَ بِرِيَّةٍ

اس کے بندہ اور رسول ہیں اور پھر تمام بندوں کے سرداربھی ہیں۔جب بھی پروردگار نے مخلوقات کا دو حصوں میں تقسیم کیا ہے انہیں(۱) بہترین حصہ ہی میں رکھا ہے۔ان کی تخلیق میں نہ کسی بد کار کا کوئی حصہ ہے اور نہ کسی فاسق و فاجر کا کوئی دخل ہے ۔

یاد رکھو کہ پروردگار نے ہ خیر کے لئے اہل قرار دئیے ہیں اور ہر حق کے لئے ستون اور ہر اطاعت کے لئے وسیلہ حفاظت قرار دیا ہے اور تمہاے لئے ہر اطاعت کے موقع پر خدا کی طرف سے ایک مدد گار کا انتظام رہتا ہے جو زبانوں پر بولتا ہے اوردلوں کو ثبا ت عنایت کرتا ہے۔اس کے وجود میں ہر اکتفا کرنے والے کے لئے کفایت ہے اور ہر طلب گار صحت کے لئے شفا و عافیت ہے۔

یاد رکھو اللہ کے وہ بندہ(۲) جنہیں اس نے اپنے عل کا محافظ بنایا ہے وہ اس کا تحفظ بھی کرتے ہیں اور اس کے چشموں کو جاری بھی کرتے رہتے ہیں۔آپس میں محبت سے ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور چاہت کے ساتھ ملاقات کرتے ہیں۔سیراب کرنے والے جاموں سے مل کر سیراب ہوتے ہیں اور پھر سیرو سیراب ہو کر ہی نکلتے

(۱)صحیح مسلم کتاب الفضائل میں سرکار دو عالم (ص) کا یہ ارشاد درج ہے کہ اللہ نے اولاد اسماعیل میں کنانہ کا انتخاب کی ہے اور پھر کنانہ میں قریش کو منتخب قراردیا ہے۔قریش میں بنی ہاشم منتخب ہیں اوربنی ہاشم میں میں ۔لہٰذا دنیاکی کسی شخصیت کا سرکار دوعالم (ص) اوراہل بیت پر قیاس نہیں کیاجاسکتا ہے۔

(۲)دنیا میں صاحبان علم و فضل بے شمار ہیں لیکن وہ اہل علم جنہیں مالک نے اپنے علم اور اپنے دین کامحافظ بنایا ہے وہ محدود ہی ہیں جن کی صفت یہ ہے کہ علم کاتحفظ بھی کرتے ہیں اوردوسروں کو سیراب بھی کرتے رہتے ہیں ۔خودبھی سیراب رہتے ہیں اور دوسروں کی تشنگی کابھی علاج کرتے رہتے ہیں ۔ان کے علم میں جہالت اور ''لاادری '' کا گزر نہیں ہے اور وہ کسی سائل کومحروم نہیں کرتے ہیں۔

۴۳۲

لَا تَشُوبُهُمُ الرِّيبَةُ - ولَا تُسْرِعُ فِيهِمُ الْغِيبَةُ - عَلَى ذَلِكَ عَقَدَ خَلْقَهُمْ وأَخْلَاقَهُمْ - فَعَلَيْه يَتَحَابُّونَ وبِه يَتَوَاصَلُونَ - فَكَانُوا كَتَفَاضُلِ الْبَذْرِ يُنْتَقَى فَيُؤْخَذُ مِنْه ويُلْقَى - قَدْ مَيَّزَه التَّخْلِيصُ وهَذَّبَه التَّمْحِيصُ -

العظة بالتقوى

فَلْيَقْبَلِ امْرُؤٌ كَرَامَةً بِقَبُولِهَا - ولْيَحْذَرْ قَارِعَةً قَبْلَ حُلُولِهَا - ولْيَنْظُرِ امْرُؤٌ فِي قَصِيرِ أَيَّامِه وقَلِيلِ مُقَامِه فِي مَنْزِلٍ - حَتَّى يَسْتَبْدِلَ بِه مَنْزِلًا - فَلْيَصْنَعْ لِمُتَحَوَّلِه ومَعَارِفِ مُنْتَقَلِه - فَطُوبَى لِذِي قَلْبٍ سَلِيمٍ - أَطَاعَ مَنْ يَهْدِيه وتَجَنَّبَ مَنْ يُرْدِيه - وأَصَابَ سَبِيلَ السَّلَامَةِ بِبَصَرِ مَنْ بَصَّرَه - وطَاعَةِ هَادٍ أَمَرَه وبَادَرَ الْهُدَى قَبْلَ أَنْ تُغْلَقَ أَبْوَابُه - وتُقْطَعَ أَسْبَابُه واسْتَفْتَحَ التَّوْبَةَ وأَمَاطَ الْحَوْبَةَ - فَقَدْ أُقِيمَ عَلَى الطَّرِيقِ وهُدِيَ نَهْجَ السَّبِيلِ.

ہیں۔ان کے اعمال میں ریب کی آمیزش نہیں ہے اور ان کے معاشرہ میں غیبت کا گزر نہیں ہے۔اسی انداز سے مالک نے ان کی تخلیق کی ہے اور ان کے اخلاق اقرار دئیے ہیں اور اسی بنیاد پر دہآپس میں محبت بھی کرتے ہیں اورملتے بھی رہتے ہیں۔ان کی مثال ان دانوں کی ہے جن کو اس طرح چنا جاتا ہے کہ اچھے دانوں کو لے لیا جاتا ہے اورخراب کو پھینک دیا جاتا ہے۔انہیں اسی صفائی نے ممتاز بنادیا ہے اور انہیں اسی پر کھ نے صاف ستھراقرار دے دیا ہے۔

اب ہر شخص کو چاہیے کہ انہیں صفات کوقبول کرکے کرامت کو قبول کرے اور قیامت کے آنے سے پہلے ہوشیار ہوجائے۔اپنے مختصر سے دنوں اورتھوڑے سے قیام کے بارے میں غور کرے کہ اس منزل کو دوسری منزل میں بہرحال بدل جانا ہے۔اب اس کا فرض ہے کہ منزل اور جانی پہچانی جائے باز گشت کے بارے میں عمل کرے۔

خوشا بحال ان قلب سلیم والوں کے لئے جو رہنمائی کی اطاعت کریں اور ہلاک ہونے والوں سے پرہیز کریں۔کوئی راستہ دکھادے تو دیکھ لیں اور واقعی راہنما امر کرے تو اس کی اطاعت کریں۔ہدایت کی طرف سبقت کریں قبل اس کے کہ اس کے دروازے بند ہو جائیں۔اور اس کے اسباب منقطع ہو جائیں۔توبہ کا دروازہ کھول لیں اور گناہوں کے داغوں کودھو ڈالیں یہی و ہ لوگ ہیں جنہیں سیدھے راستہ پر کھڑا کردیا گیا ہے اور انہیں واضح راستہ کی ہدایت مل گئی۔

۴۳۳

(۲۱۵)

ومن دعاء لهعليه‌السلام

كان يدعو به كثيرا

الْحَمْدُ لِلَّه الَّذِي لَمْ يُصْبِحْ بِي مَيِّتاً ولَا سَقِيماً - ولَا مَضْرُوباً عَلَى عُرُوقِي بِسُوءٍ - ولَا مَأْخُوذاً بِأَسْوَإِ عَمَلِي ولَا مَقْطُوعاً دَابِرِي - ولَا مُرْتَدّاً عَنْ دِينِي ولَا مُنْكِراً لِرَبِّي - ولَا مُسْتَوْحِشاً مِنْ إِيمَانِي ولَا مُلْتَبِساً عَقْلِي - ولَا مُعَذَّباً بِعَذَابِ الأُمَمِ مِنْ قَبْلِي - أَصْبَحْتُ عَبْداً مَمْلُوكاً ظَالِماً لِنَفْسِي - لَكَ الْحُجَّةُ عَلَيَّ ولَا حُجَّةَ لِي - ولَا أَسْتَطِيعُ أَنْ آخُذَ إِلَّا مَا أَعْطَيْتَنِي - ولَا أَتَّقِيَ إِلَّا مَا وَقَيْتَنِي!

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَفْتَقِرَ فِي غِنَاكَ - أَوْ أَضِلَّ فِي هُدَاكَ أَوْ أُضَامَ فِي سُلْطَانِكَ - أَوْ أُضْطَهَدَ والأَمْرُ لَكَ!

اللَّهُمَّ اجْعَلْ نَفْسِي أَوَّلَ كَرِيمَةٍ تَنْتَزِعُهَا مِنْ كَرَائِمِي - وأَوَّلَ وَدِيعَةٍ تَرْتَجِعُهَا مِنْ وَدَائِعِ نِعَمِكَ عِنْدِي!

اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ أَنْ نَذْهَبَ عَنْ قَوْلِكَ -

(۲۱۵)

آپ کی دعا کا ایک حصہ

( جس کی برابر تکرار فرمایا کرتے تھے )

خدا شکر ہے کہ اسنے صبح کے ہنگام نہ مردہ بنایا ہے اورنہ بیمار ۔نہ کسی رگ پرمرض کاحملہ ہوا ہے اورنہ کسی بد عملی کا مواخذہ کیا گیا ہے۔نہ میری نسل کو منقطع کیا گیا ہے اور نہ اپنے دین میں ارتداد کاشکار ہوا ہوں۔نہ اپنے دین سے مرتد ہوں اور نہ اپنے رب کامنکر۔نہ اپنے ایمان سے متوحش اور نہ اپنی عقل کا مخبوط اور نہ مجھ پر گذشتہ امتوں جیسا کوء عذاب ہوا ہے۔میں نے اس عالم میں صبح کی ہے کہ میں ایک بندۂ مملوک ہوں جس نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے۔خدایا! تیری حجت مجھ پر تمام ہے اور میری کوئی حجت نہیں ہے۔تو جو دیدے اس سے زیادہ لے نہیں سکتا اور جس چیز سے تونہ بچائے اس سے بچ نہیں سکتا ۔

خدا یا! میں اس امر سے پناہ چاہتا ہوں کہ تیریر دولت میں رہ کر فقیر ہوجائوں یا تیری ہدایت کے باوجود گمراہ ہو جائوں یا تیریر سلطنت کے باوجود ستایا جائوں یا تیرے ہاتھ میں سارے اختیارات ہونے کے باوجود مجھ پر دبائو ڈالا جائے ۔

خدایا! میری جن نفیس چیزوں کو مجھ سے واپس لینا اور اپنی جن امانتوں کو مجھ سے پلٹانا۔ان میں سب سے پہلی چیز میری روح کو قرار دینا۔

خدایا! میں اس امرسے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میں تیرے ارشادات سے بہک جائوں یا تیرے دین میں

۴۳۴

أَوْ أَنْ نُفْتَتَنَ عَنْ دِينِكَ - أَوْ تَتَابَعَ بِنَا أَهْوَاؤُنَا دُونَ الْهُدَى الَّذِي جَاءَ مِنْ عِنْدِكَ!

(۲۱۶)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

خطبها بصفين

أَمَّا بَعْدُ - فَقَدْ جَعَلَ اللَّه سُبْحَانَه لِي عَلَيْكُمْ حَقّاً بِوِلَايَةِ أَمْرِكُمْ - ولَكُمْ عَلَيَّ مِنَ الْحَقِّ مِثْلُ الَّذِي لِي عَلَيْكُمْ - فَالْحَقُّ أَوْسَعُ الأَشْيَاءِ فِي التَّوَاصُفِ - وأَضْيَقُهَا فِي التَّنَاصُفِ - لَا يَجْرِي لأَحَدٍ إِلَّا جَرَى عَلَيْه - ولَا يَجْرِي عَلَيْه إِلَّا جَرَى لَه - ولَوْ كَانَ لأَحَدٍ أَنْ يَجْرِيَ لَه ولَا يَجْرِيَ عَلَيْه - لَكَانَ ذَلِكَ خَالِصاً لِلَّه سُبْحَانَه دُونَ خَلْقِه - لِقُدْرَتِه عَلَى عِبَادِه - ولِعَدْلِه فِي كُلِّ مَا جَرَتْ عَلَيْه صُرُوفُ قَضَائِه - ولَكِنَّه سُبْحَانَه جَعَلَ حَقَّه عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يُطِيعُوه - وجَعَلَ جَزَاءَهُمْ عَلَيْه مُضَاعَفَةَ الثَّوَابِ - تَفَضُّلًا مِنْه وتَوَسُّعاً بِمَا هُوَ مِنَ الْمَزِيدِ أَهْلُه.

حق الوالي وحق الرعية

ثُمَّ جَعَلَ سُبْحَانَه مِنْ حُقُوقِه حُقُوقاً - افْتَرَضَهَا لِبَعْضِ النَّاسِ عَلَى بَعْضٍ - فَجَعَلَهَا تَتَكَافَأُ فِي وُجُوهِهَا - ويُوجِبُ بَعْضُهَا بَعْضاً - ولَا يُسْتَوْجَبُ بَعْضُهَا إِلَّا بِبَعْضٍ -.

کسی فتنہ میں مبتلا ہو جائوں یا تیریر آئی ہوئی ہدایتوں کے مقابلہ میں مجھ پرخواہشات کا غلبہ ہو جائے ۔

(۲۱۶)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جسے مقام صفین میں ارشاد فرمایا)

اما بعد ! پروردگار نے ولی امر ہونے کی بنا پر تم پر میرا ایک حق قرار دیا ہے اور تمہارا بھی میرے اوپر ایک طرح کا حق ہے اور حق مدح سرائی کے اعتبار سے تو بہت وسعت رکھتا ہے لیکن انصاف کے اعتبار سے بہت تنگ ہے۔یہ کسی کا اس وقت تک ساتھ نہیں دیتا ہے جب تک اس کے ذمہ کوئی حق ثابت نہ کردے اورکسی کے خلاف فیصلہ نہیں کرتا ہے جب تک اسے کوئی حق نہ دلوادے۔اگر کوئی ہستی ایسی ممکن ہے جس کا دوسروں پر حق ہو اوراس پر کسی کا حق نہ ہو تو وہ صرف پروردگار کی ہستی ہے کہ وہ ہر شے پر قادر ہے اوراس کے تمام فیصلے عدل و انصاف پرمبنی ہیں لیکن اس نے بھی جب بندوں پر اپنا حق اطاعت قراردیا ہے تو اپنے فضل و کرم اوراپنے اس احسان کی وسعت کی بنا پر جس کا وہ اہل ہے ان کا یہ حق قرار دے دیا ہے کہ انہیں زیادہ سے زیادہ ثواب دے دیا جا ئے۔

پروردگار کے مقرر کئے ہوئے حقوق میں سے وہ تمام حقوق ہیں جو اس نے ایک دوسرے پر قرار دئیے ہیں اور ان میں مساوات بھی قراردیہے کہ ایک حق سے دوسرا حق پیدا ہوتا ہے اور ایک حق نہیں پیدا ہوتا ہے جب تک دوسرا حق نہ پیدا ہو جائے ۔

۴۳۵

وأَعْظَمُ مَا افْتَرَضَ سُبْحَانَه مِنْ تِلْكَ الْحُقُوقِ - حَقُّ الْوَالِي عَلَى الرَّعِيَّةِ وحَقُّ الرَّعِيَّةِ عَلَى الْوَالِي - فَرِيضَةٌ فَرَضَهَا اللَّه سُبْحَانَه لِكُلٍّ عَلَى كُلٍّ - فَجَعَلَهَا نِظَاماً لأُلْفَتِهِمْ وعِزّاً لِدِينِهِمْ - فَلَيْسَتْ تَصْلُحُ الرَّعِيَّةُ إِلَّا بِصَلَاحِ الْوُلَاةِ - ولَا تَصْلُحُ الْوُلَاةُ إِلَّا بِاسْتِقَامَةِ الرَّعِيَّةِ - فَإِذَا أَدَّتْ الرَّعِيَّةُ إِلَى الْوَالِي حَقَّه - وأَدَّى الْوَالِي إِلَيْهَا حَقَّهَا - عَزَّ الْحَقُّ بَيْنَهُمْ وقَامَتْ مَنَاهِجُ الدِّينِ - واعْتَدَلَتْ مَعَالِمُ الْعَدْلِ وجَرَتْ عَلَى أَذْلَالِهَا السُّنَنُ - فَصَلَحَ بِذَلِكَ الزَّمَانُ - وطُمِعَ فِي بَقَاءِ الدَّوْلَةِ ويَئِسَتْ مَطَامِعُ الأَعْدَاءِ -. وإِذَا غَلَبَتِ الرَّعِيَّةُ وَالِيَهَا - أَوْ أَجْحَفَ الْوَالِي بِرَعِيَّتِه - اخْتَلَفَتْ هُنَالِكَ الْكَلِمَةُ - وظَهَرَتْ مَعَالِمُ الْجَوْرِ وكَثُرَ الإِدْغَالُ فِي الدِّينِ - وتُرِكَتْ مَحَاجُّ السُّنَنِ فَعُمِلَ بِالْهَوَى - وعُطِّلَتِ الأَحْكَامُ وكَثُرَتْ عِلَلُ النُّفُوسِ - فَلَا يُسْتَوْحَشُ لِعَظِيمِ حَقٍّ عُطِّلَ - ولَا لِعَظِيمِ بَاطِلٍ فُعِلَ - فَهُنَالِكَ تَذِلُّ الأَبْرَارُ وتَعِزُّ الأَشْرَارُ - وتَعْظُمُ تَبِعَاتُ اللَّه سُبْحَانَه عِنْدَ الْعِبَادِ -. فَعَلَيْكُمْ بِالتَّنَاصُحِ فِي ذَلِكَ وحُسْنِ التَّعَاوُنِ عَلَيْه - فَلَيْسَ أَحَدٌ وإِنِ اشْتَدَّ عَلَى رِضَا اللَّه حِرْصُه - وطَالَ فِي الْعَمَلِ اجْتِهَادُه  

اوران تمام حقوق میں سب سے عظیم ترین حق رعایا پروالی کا حق اور والی پر رعایا کا حق ہے جسے پروردگار نے ایک کو دوسرے کے لئے قراردیا ہے اور اسی سے ان کی باہمی الفتوں کو منظم کیاہے اور ان کے دین کو عزت دی ہے ۔رعایا کی اصلاح ممکن نہیں ہے جب تک والی صالح نہ ہو اور والی صالح نہیںرہ سکتے ہیں جب تک رعایا صالح نہ ہو۔اب اگر رعایا نے والی کو اس کا حق انصاف کے نشانات بر قرار رہیں گے اور پیغمبر اسلام (ص) کی سنتیں اپنے ڈھرے پرچل پڑیں گی اور زمانہ ایسا صالح ہو جائے گا کہ بقاء حکومت کی امید بھی کی جائے گی اور دشمنوں کی تمنائیںبھی ناکام ہو جائیں گی۔لیکن اگر رعایا حاکم پر غالب آگئی یا حاکم نے رعایا پر زیادتی کی تو کلمات میں اختلاف ہو جائے گا، ظلم کے نشانات ظاہر ہو جائیں گے۔دین میں مکاری بڑھ جائے گی۔سنتوں کے راستے نظر انداز ہو جائیں گے۔خواہشات پر عمل ہوگا۔احکام معطل ہو جائیں گے اور نفوس کی بیماریاں بڑھ جائیں گی۔نہ بڑے سے بڑے حق کے معطل ہوجانے سے کوئی وحشت ہوگی اور نہ بڑے سے بڑے باطل پر عملدرآمدسے کوئی پریشانی ہوگی۔

ایسے موقع پر نیک لوگ ذلیل کردئیے جائیں گے اورشریر لوگوں کی عزت ہوگی اورب ندوں پر خدا کی عقوبتیں عظیم تر ہو جائیں گی لہٰذا خدارا آپس میں ایک دوسرے سے مخلص رہو اور ایک دوسرے کی مدد کرتے رہو اس لئے کہ تم میں کوئی شخص بھی کتنا ہی رضائے خدا کی طمع رکھتا ہواور کسی قدر بھی زحمت عمل برداشت کرے

۴۳۶

- بِبَالِغٍ حَقِيقَةَ مَا اللَّه سُبْحَانَه أَهْلُه مِنَ الطَّاعَةِ لَه - ولَكِنْ مِنْ وَاجِبِ حُقُوقِ اللَّه عَلَى عِبَادِه - النَّصِيحَةُ بِمَبْلَغِ جُهْدِهِمْ - والتَّعَاوُنُ عَلَى إِقَامَةِ الْحَقِّ بَيْنَهُمْ - ولَيْسَ امْرُؤٌ وإِنْ عَظُمَتْ فِي الْحَقِّ مَنْزِلَتُه - وتَقَدَّمَتْ فِي الدِّينِ فَضِيلَتُه - بِفَوْقِ أَنْ يُعَانَ عَلَى مَا حَمَّلَه اللَّه مِنْ حَقِّه - ولَا امْرُؤٌ وإِنْ صَغَّرَتْه النُّفُوسُ - واقْتَحَمَتْه الْعُيُونُ - بِدُونِ أَنْ يُعِينَ عَلَى ذَلِكَ أَوْ يُعَانَ عَلَيْه.

فَأَجَابَهعليه‌السلام رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِه - بِكَلَامٍ طَوِيلٍ يُكْثِرُ فِيه الثَّنَاءَ عَلَيْه - ويَذْكُرُ سَمْعَه وطَاعَتَه لَه فَقَالَعليه‌السلام

إِنَّ مِنْ حَقِّ مَنْ عَظُمَ جَلَالُ اللَّه سُبْحَانَه فِي نَفْسِه - وجَلَّ مَوْضِعُه مِنْ قَلْبِه - أَنْ يَصْغُرَ عِنْدَه لِعِظَمِ ذَلِكَ كُلُّ مَا سِوَاه - وإِنَّ أَحَقَّ مَنْ كَانَ كَذَلِكَ لَمَنْ عَظُمَتْ نِعْمَةُ اللَّه عَلَيْه - ولَطُفَ إِحْسَانُه إِلَيْه فَإِنَّه لَمْ تَعْظُمْ نِعْمَةُ اللَّه عَلَى أَحَدٍ - إِلَّا ازْدَادَ حَقُّ اللَّه عَلَيْه عِظَماً - وإِنَّ مِنْ أَسْخَفِ حَالَاتِ الْوُلَاةِ عِنْدَ صَالِحِ النَّاسِ - أَنْ يُظَنَّ

اطاعت خدا کی اس منزل تک نہیں پہنچ سکتا ہے جس کا وہ اہل ہے لیکن پھربھی مالک کا یہحق واجب اس کے بندوں کے ذمہ ہے کہ انپے امکان بھر نصیحت کرتے رہیں اور حق کے قیام میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں اس لئے کہ کوئی شخص بھی حق کی ذمہ داری ادا کرنے میں دوسرے کی امداد سے بے نیاز نہیں ہو سکتا ہے چاہے حق میں اس کی منزلت کسی قدر عظیم کیوں نہ ہو اور دین میں اس کی فضیلت کو کسی قدر تقدم کیوں نہ حاصل ہو اور نہ کوئی شخص مدد کرنے یا مدد لینے کی ذمہ داری سے کمتر ہو سکتا ہے چاہے لوگوں کی نظر میں کسی قدر چھوٹا کیوں نہ ہو اور چاہے ان کی نگاہوں سے کسی قدر کیوں نہ گر جائے ۔ (اس گفتگو کے بعد آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص نے ایک طویل تقریرکی جس میں آپ کی مدح و ثنا کے ساتھ اطاعت کا وعدہ بھی کیا تو آپ نے فرمایا کہ )

یاد رکھو کہ جس کے دل میں جلال الٰہی کی عظمت اور جس کے نفس میں اس کے مقام الوہیت کی بلندی ہے اس کا حق یہ ہے کہ تمام کائنات اس کی نظرمیں چھوٹی ہوجائے اور ایسے لوگوں میں اس حقیقت کا سب سے بڑا اہل وہ ہے جس پر اس کی نعمتیں عظیم اور اس کے احسانات لطیف ہوں ۔اس لئے کہ کسی شخص پر اللہ کی نعمتیں عظیم نہیں ہوتیں مگر یہ کہ اس کا حق بھی عظیم تر ہو جاتا ہے اور احکام کے حالات میں اور مجھے یہ بات سخت نا گوار ہے کہ تم میں سے کسی کو یہ گمان پیدا ہو

۴۳۷

بِهِمْ حُبُّ الْفَخْرِ - ويُوضَعَ أَمْرُهُمْ عَلَى الْكِبْرِ - وقَدْ كَرِهْتُ أَنْ يَكُونَ جَالَ فِي ظَنِّكُمْ أَنِّي أُحِبُّ الإِطْرَاءَ - واسْتِمَاعَ الثَّنَاءِ ولَسْتُ بِحَمْدِ اللَّه كَذَلِكَ - ولَوْ كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ يُقَالَ ذَلِكَ - لَتَرَكْتُه انْحِطَاطاً لِلَّه سُبْحَانَه - عَنْ تَنَاوُلِ مَا هُوَ أَحَقُّ بِه مِنَ الْعَظَمَةِ والْكِبْرِيَاءِ - ورُبَّمَا اسْتَحْلَى النَّاسُ الثَّنَاءَ بَعْدَ الْبَلَاءِ - فَلَا تُثْنُوا عَلَيَّ بِجَمِيلِ ثَنَاءٍ - لإِخْرَاجِي نَفْسِي إِلَى اللَّه سُبْحَانَه وإِلَيْكُمْ مِنَ التَّقِيَّةِ - فِي حُقُوقٍ لَمْ أَفْرُغْ مِنْ أَدَائِهَا وفَرَائِضَ لَا بُدَّ مِنْ إِمْضَائِهَا - فَلَا تُكَلِّمُونِي بِمَا تُكَلَّمُ بِه الْجَبَابِرَةُ - ولَا تَتَحَفَّظُوا مِنِّي بِمَا يُتَحَفَّظُ بِه عِنْدَ أَهْلِ الْبَادِرَةِ - ولَا تُخَالِطُونِي بِالْمُصَانَعَةِ ولَا تَظُنُّوا بِي اسْتِثْقَالًا فِي حَقٍّ قِيلَ لِي - ولَا الْتِمَاسَ إِعْظَامٍ لِنَفْسِي - فَإِنَّه مَنِ اسْتَثْقَلَ الْحَقَّ أَنْ يُقَالَ لَه - أَوِ الْعَدْلَ أَنْ يُعْرَضَ عَلَيْه كَانَ الْعَمَلُ بِهِمَا أَثْقَلَ عَلَيْه - فَلَا تَكُفُّوا عَنْ مَقَالَةٍ بِحَقٍّ أَوْ مَشُورَةٍ بِعَدْلٍ - فَإِنِّي لَسْتُ فِي نَفْسِي بِفَوْقِ أَنْ أُخْطِئَ - ولَا آمَنُ ذَلِكَ مِنْ فِعْلِي - إِلَّا أَنْ يَكْفِيَ اللَّه مِنْ نَفْسِي مَا هُوَ أَمْلَكُ بِه مِنِّي -

جائے کہ میں روساء کو دوست رکھتا ہوں یا اپنی تعریف سننا چاہتا ہوں اور بحمد اللہ میں ایسا نہیں ہوں اور اگر میں ایی باتیں پسند بھی کرتا ہوتا تو بھی اسے نظرانداز کر دیتا کہ میں اپنے کواس سے کمتر سمجھتا ہوں کہ اس عظمت و کبریائی کا اہل بن جائوں جس کا پرودگار حقدار ہے۔یقینا بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اچھی کار کردگی پرتعریف کو دوست رکھتے ہیں لیکن خبردار تم لوگ میری اس بات پرتعریف نہ کرنا کہ میں نے تمہارے حقوق ادا کردئیے ہیں کہ ابھی بہت سے ایسے حقوق کاخوف باقی ہے جو ادا نہیں ہو سکے ہیں اوربہت سے فرائض ہیں جنہیں بہر حال نافذ کرنا ہے دیکھو مجھ سے اس لہجہ میں بات نہ کرنا جس لہجہ میں جابر بادشاہوں سے بات کی جاتی ہے اور نہ مجھ سے اس طرح بچنے کی کوشش کرنا جس طرح طیش میں آنے والوں سے بچا جاتا ہے۔نہ مجھ سے خوشامد کے ساتھ تعلقات رکھنا اور نہ میرے بارے میں یہ تصور کرنا کہ مجھے حرف حق گراں گزرے گا اور نہ میں اپنی تعظیم کا طلب گار ہوں۔اس لئے کہ جوشخص بھی حرف حق کہنے کو گراں سمجھتا ہے یا عدل کی پیشکش کو ناپسند کرتا ہے وہ حق و عدل پرعمل کو یقینا مشکل تر ہی تصور کرے گا۔لہٰذا خبردار حرف حق کہنے میں تکلف نہ کرنا اور منصفانہ مشورہ دینے سے گریز نہ کرنا۔ اس لء کہ میں ذاتی طور پر اپنے کو غلطی سے بالاتر نہیں تصور کرتا ہوں اورنہ اپنے افعال کو اس خطرہ سے محفوظ سمجھتا ہوں مگر یہ کہ میرا پروردگار میرے نفس کوب چالے کہ وہ اس کا مجھ سے زیادہ

۴۳۸

فَإِنَّمَا أَنَا وأَنْتُمْ عَبِيدٌ مَمْلُوكُونَ لِرَبٍّ لَا رَبَّ غَيْرُه - يَمْلِكُ مِنَّا مَا لَا نَمْلِكُ مِنْ أَنْفُسِنَا - وأَخْرَجَنَا مِمَّا كُنَّا فِيه إِلَى مَا صَلَحْنَا عَلَيْه - فَأَبْدَلَنَا بَعْدَ الضَّلَالَةِ بِالْهُدَى وأَعْطَانَا الْبَصِيرَةَ بَعْدَ الْعَمَى.

(۲۱۷)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في التظلم والتشكي من قريش

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَعْدِيكَ عَلَى قُرَيْشٍ ومَنْ أَعَانَهُمْ - فَإِنَّهُمْ قَدْ قَطَعُوا رَحِمِي وأَكْفَئُوا إِنَائِي - وأَجْمَعُوا عَلَى مُنَازَعَتِي حَقّاً كُنْتُ أَوْلَى بِه مِنْ غَيْرِي - وقَالُوا أَلَا إِنَّ فِي الْحَقِّ أَنْ تَأْخُذَه - وفِي الْحَقِّ أَنْ تُمْنَعَه فَاصْبِرْ مَغْمُوماً أَوْ مُتْ مُتَأَسِّفاً - فَنَظَرْتُ فَإِذَا لَيْسَ لِي رَافِدٌ ولَا ذَابٌّ ولَا مُسَاعِدٌ - إِلَّا أَهْلَ بَيْتِي فَضَنَنْتُ بِهِمْ عَنِ الْمَنِيَّةِ - فَأَغْضَيْتُ عَلَى الْقَذَى

صاحب اختیار ہے۔دیکھو ہم سب ایک خدا کے بندے اوراس کے مملوک ہیں اور اس کے علاوہ کوئی دوسرا خدا نہیں ہے۔وہ ہمارے نفوس کااتنا اختیار رکھتا ہے جتنا خود ہمیں بھی حاصل نہیں ہے اور اسی نے ہمیں سابقہ حالات سے نکال کراس اصلاح کے راستہ پر لگایا ہے کہ اب گمراہی ہدایت میں تبدیل ہوگئی ہے اور اندھے پن کے بعد بصیرت حاصل ہوگئی ہے۔

(۲۱۷)

آپ کا ارشاد گرامی

(قریش سے شکایت اورف ریاد کرتے ہوئے )

خدایا! میں قریش سے اور ان کے مدد گاروں سے تیری مدد چاہتا ہوں کہ ان لوگوں نے میری قرابت داری کاخیال نہیں کیا اور میرے ظرف عظمت کو الٹ دیا ہے اور مجھ سے اس حق کے بارے میں جھگڑا کرنے پر اتحاد کرلیا ہے جس کا میں سب سے زیادہ حقدار تھا اور پھر یہ کہنے لگے ہیں کہ آپ اس حق کو لے لیں تو یہ بھی صحیح ہے اور آپ کو اس سے روک دیا جائے تو یہ بھی صحیح ہے۔اب چاہیں ہم وغم کے ساتھ صبر کریں یا رنج والم کے ساتھ مرجائیں۔ ایسے حالات میں میں نے دیکھا کہ میرے پاس نہ کوئی مدد گار ہے اور نہ دفاع کرنے والا سوائے میرے گھر والوں کے تو میں نے انہیں موت کے منہ میں دینے سے گریز کیا اوربالآخر آنکھوں میں خس و خاشاک کے ہوتے ہوئے چشم پوشی کی اور گلے میں پھندہ کے ہوتے ہوئے

۴۳۹

وجَرِعْتُ رِيقِي عَلَى الشَّجَا - وصَبَرْتُ مِنْ كَظْمِ الْغَيْظِ عَلَى أَمَرَّ مِنَ الْعَلْقَمِ - وآلَمَ لِلْقَلْبِ مِنْ وَخْزِ الشِّفَارِ

قال الشريفرضي‌الله‌عنه - وقد مضى هذا الكلام في أثناء خطبة متقدمة - إلا أني ذكرته هاهنا لاختلاف الروايتين.

(۲۱۸)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في ذكر السائرين إلى البصرة لحربهعليه‌السلام

فَقَدِمُوا عَلَى عُمَّالِي وخُزَّانِ بَيْتِ الْمُسْلِمِينَ الَّذِي فِي يَدَيَّ - وعَلَى أَهْلِ مِصْرٍ كُلُّهُمْ فِي طَاعَتِي وعَلَى بَيْعَتِي - فَشَتَّتُوا كَلِمَتَهُمْ وأَفْسَدُوا عَلَيَّ جَمَاعَتَهُمْ - ووَثَبُوا عَلَى شِيعَتِي فَقَتَلُوا طَاِئفَةً منْهُمْ غَدْراً - وطَاِئفَةٌ عَضُّوا عَلَى أَسْيَافِهِمْ - فَضَارَبُوا بِهَا حَتَّى لَقُوا اللَّه صَادِقِينَ.

لعاب دہن نگل لیا اور غصہ کو پینے میں خنظل سے زیادہ تلخ ذائقہ پر صبر کیااورچھریوں کے زخموں سے زیادہ تکلیف دہ حالات پر خاموشی اختیار کرلی۔

(سید رضی : گذشتہ خطبہ میں یہ مضمون گذر چکا ہے لیکن روایتیں مختلف تھیں لہٰذا میں نے دوبارہ اسے نقل کردیا )

(۲۱۸)

آپ کا ارشادگرامی

(بصرہ کی طرف آپ سے جنگ کرنے کے لئے جانے والوں کے بارے میں

یہ لوگ میرے عاملوں ۔میرے زیر دست بیت المال کے خزانہ داروں اورتمام اہل شہر جو میری اطاعت و بیعت میں تھے سب کی طرف وارد ہوئے۔ان کے کلمات میں(۱) افتراق پیدا کیا۔ان کے اجتماع کو برباد کیا اورمیرے چاہنے والوں پرحملہ کردیا اور ان میں سے ایک جماعت کودھوکہ سے قتل بھی کردیا لیکن دوسری جماعت نے تلواریں اٹھا کر دانت بھنچ لئے اور باقاعدہ مقابلہ کیا یہاں تک کہ حق و صداقت کے ساتھ خدا کی بارگاہ میں حاضر ہوگئے۔

(۱) حیرت انگیز بات ہے کہ مسلمان ابھی تک ان دو گروہوں کے بارے میں حق و باطل کا فیصلہ نہیں کرسکا ہے جن میں ایک طرف نفس رسول (ص) علی بن ابی طالب جیسا انسان تھا جو اپنی تعریف کوبھی گوارا نہیں کرتا تھا اور ہر لمحہعظمت خالق کے پیش نظرانے اعمال کو حقیر و معمولی ہی تصور کرتا تھا اور ایک طرف طلحہ و زبیر جیسے وہدنیا پرست تھے جن کاکام فتنہ پردازی ۔ شرانگیزی ۔تفرقہ اندازی اورقتل وغارت کے علاوہ کچھ نہتھا اورجو دولت و اقتدار کی خاطر دنیا کی ہر برائی کر سکتے تھے اور ہر جرم کا ارتکاب کرسکتے تھے ۔

۴۴۰

(۲۱۹)

ومن كلام لهعليه‌السلام

لما مر بطلحة بن عبد الله وعبد الرحمن بن عتاب بن أسيد - وهما قتيلان يوم الجمل:

لَقَدْ أَصْبَحَ أَبُو مُحَمَّدٍ بِهَذَا الْمَكَانِ غَرِيباً - أَمَا واللَّه لَقَدْ كُنْتُ أَكْرَه أَنْ تَكُونَ قُرَيْشٌ قَتْلَى - تَحْتَ بُطُونِ الْكَوَاكِبِ - أَدْرَكْتُ وَتْرِي مِنْ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ - وأَفْلَتَتْنِي أَعْيَانُ بَنِي جُمَحَ - لَقَدْ أَتْلَعُوا أَعْنَاقَهُمْ إِلَى أَمْرٍ - لَمْ يَكُونُوا أَهْلَه فَوُقِصُوا دُونَه.

(۲۲۰)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في وصف السالك الطريق إلى اللَّه سبحانه

قَدْ أَحْيَا عَقْلَه وأَمَاتَ نَفْسَه حَتَّى دَقَّ جَلِيلُه - ولَطُفَ غَلِيظُه وبَرَقَ لَه لَامِعٌ كَثِيرُ الْبَرْقِ - فَأَبَانَ لَه الطَّرِيقَ وسَلَكَ بِه السَّبِيلَ - وتَدَافَعَتْه الأَبْوَابُ إِلَى بَابِ السَّلَامَةِ ودَارِ الإِقَامَةِ - وثَبَتَتْ رِجْلَاه بِطُمَأْنِينَةِ بَدَنِه فِي قَرَارِ الأَمْنِ والرَّاحَةِ - بِمَا اسْتَعْمَلَ قَلْبَه وأَرْضَى رَبَّه.

(۲۱۹)

آپ کا ارشاد گرامی

(جب روزجمل طلحہ بن عبداللہ اورعبدالرحمن بن عتاب بن اسید کی لاشوں کے قریب سے گزر ہوا )

ابومحمد (طلحہ) نے اس میدان میں عالم غربت میں صبح کی ہے۔خدا گواہ ہے کہ مجھے یہ بات ہر گز پسند نہیں تھی کہ قریش کے لاشے ستاروں کے نیچے زیرآسمان پڑے رہیں لیکن کیا کروں۔بہر حال میں نے عبد مناف کی اولاد سے ان کے کئے کا بدلہ لیلیا مگرافسوس کہ بنی جمج بچ کر نکل گئے ان سب نے اپنی گردنیں اس امر کی طرف اٹھائی تھیں جس کے یہ ہرگز اہل نہیں تھے۔اس لئے اس تک پہنچنے سے پہلے ہی ان کی گردنیں توڑ دی گئیں۔

(۲۲۰)

آپ کا ارشاد گرامی

( خدا کی راہ میں چلنے والے انسانوں کےبارے میں)

ایسےشخص نےاپنی عقل کوزندہ رکھا ہے اوراپنے نفس کو مردہ بنا دیا ہےاس کاجسم باریک ہوگیا ہےاوراس کا بھاری بھرکم جسد ہلکا ہوگیا ہے اس کےلئے بہترین ضوپاش نور ہدایت چمک اٹھا ہےاوراس نےراستہ کوواضح کرکے اسی پرچلا دیا ہے۔تمام دروازوں نے اسے سلامتی کے دروازرہ اورہمیشگی کے گھرتک پہنچا دیا ہے اوراس کےقدم طمانیت بدن کے ساتھ امن وراحت کی منزل میں ثابت ہوگئے ہیں کہ اس نےاپنےدل کواستعمال کیا ہے اوراپنے رب کو راضی کرلیا ہے

۴۴۱

(۲۲۱)

ومن كلام لهعليه‌السلام

قاله بعد تلاوته( أَلْهاكُمُ التَّكاثُرُ حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقابِرَ )

يَا لَه مَرَاماً مَا أَبْعَدَه وزَوْراً مَا أَغْفَلَه - وخَطَراً مَا أَفْظَعَه - لَقَدِ اسْتَخْلَوْا مِنْهُمْ أَيَّ مُدَّكِرٍ وتَنَاوَشُوهُمْ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ - أَفَبِمَصَارِعِ آبَائِهِمْ يَفْخَرُونَ - أَمْ بِعَدِيدِ الْهَلْكَى يَتَكَاثَرُونَ يَرْتَجِعُونَ مِنْهُمْ أَجْسَاداً خَوَتْ وحَرَكَاتٍ سَكَنَتْ - ولأَنْ يَكُونُوا عِبَراً أَحَقُّ مِنْ أَنْ يَكُونُوا مُفْتَخَراً - ولأَنْ يَهْبِطُوا بِهِمْ جَنَابَ ذِلَّةٍ - أَحْجَى مِنْ أَنْ يَقُومُوا بِهِمْ مَقَامَ عِزَّةٍ - لَقَدْ نَظَرُوا إِلَيْهِمْ بِأَبْصَارِ الْعَشْوَةِ - وضَرَبُوا مِنْهُمْ فِي غَمْرَةِ جَهَالَةٍ - ولَوِ اسْتَنْطَقُوا عَنْهُمْ عَرَصَاتِ تِلْكَ الدِّيَارِ الْخَاوِيَةِ - والرُّبُوعِ الْخَالِيَةِ لَقَالَتْ - ذَهَبُوا فِي الأَرْضِ ضُلَّالًا

(۲۲۱)

آپ کا ارشاد گرامی

(جسے الھکم التکاثرکی تلاوت کے موقع پر ارشاد فرمایا)

ذرا دیکھو تو ان آباء و اجداد پر فخر کرنے والوں کا مقصد کس قدربعیداز عقل ہے اور یہ زیارت کرنے والے کس قدر غافل ہیں اورخطرہ بھی کس قدر عظیم ہے۔یہ لوگ تمام عبرتوں سے خالی ہوگئے ہیں اور انہوںنے مردوں کو بہت دورسے لے لیا ہے۔آخر یہ کیا اپنے آباء واجداد کے لاشوں(۱) پر فخر کر رہے ہیں؟یا مردوں کی تعداد سے اپنی کثرت میں اضافہ کر رہے ہیں؟ یا ان جسموں کو واپس لانا چاہتے ہیںجو روحوں سے خالی ہو چکے ہیں بجائے ذلت کی منزل میں اترنا چاہیے تھا مگر افسوس کہ ان لوگوں نے ان مردوں کو چندھیائی ہوئی آنکھوں سے دیکھا اور ان کی طرف سے جہالت کے گڑھے میں گر گئے ہیں۔ اور گمان کے بارے میں گرے پڑے مکانوں اور خالی گھروں سے دریافت کیا جائے تو یہی جواب ملے گا کہ لوگ گمراہی کے عالم میں زیر زمین چلے گئے اورتم جہالت

(۱)یہ سلسلہ تفاخر ہر دور میں رہا ہے اور آج بھی برقرار ہے کہ انسان سامان عبرت کو وجہ فضیلت قرار دے رہا ہے اور اس طرح مسلسلوادی غفلت میں منزل دور تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔کاش اسے اس قدر شعور ہوتا کہ آباء واجاد کی بوسیدہ لاشیں یا قبریں باعث افتخار نہیں ہیں۔بعث افتخار انسان کا اپنا کردار ہے اور درحقیقت کردار بھی اس قابل نہیں ہے کہ اسے سرمایہ افتخار قرار دیا جا سکے۔انسان کے لئے وجہ افتخار صرف ایک چیز ہے کہ اس کامالک پروردگار ہے جو ساری کائنات سے بالا تر ہے جیسا کہ خود مولائے کائنات نے اپنی مناجات میں اشارہ کیا ہے کہ ''خدایا! میری عزت کے لئے یہ کافی ہے کہ میں تیرا بندہ ہوں اورمیرے فخر کے لئے یہ کافی ہے کہ تو میرا رب ہے۔اب اس کے بعد میرے لئے کسی شے کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔صرف التجا یہہے کہ جس طرح تو میری مرضی کا خدا ہے۔اسی طرح مجھے اپنی مرضی کاب ندہ بنالے۔

۴۴۲

وذَهَبْتُمْ فِي أَعْقَابِهِمْ جُهَّالًا - تَطَئُونَ فِي هَامِهِمْ وتَسْتَنْبِتُونَ فِي أَجْسَادِهِمْ - وتَرْتَعُونَ فِيمَا لَفَظُوا وتَسْكُنُونَ فِيمَا خَرَّبُوا - وإِنَّمَا الأَيَّامُ بَيْنَكُمْ وبَيْنَهُمْ بَوَاكٍ ونَوَائِحُ عَلَيْكُمْ.

أُولَئِكُمْ سَلَفُ غَايَتِكُمْ وفُرَّاطُ مَنَاهِلِكُمْ - الَّذِينَ كَانَتْ لَهُمْ مَقَاوِمُ الْعِزِّ - وحَلَبَاتُ الْفَخْرِ مُلُوكاً وسُوَقاً سَلَكُوا فِي بُطُونِ الْبَرْزَخِ سَبِيلًا سُلِّطَتِ الأَرْضُ عَلَيْهِمْ فِيه - فَأَكَلَتْ مِنْ لُحُومِهِمْ وشَرِبَتْ مِنْ دِمَائِهِمْ - فَأَصْبَحُوا فِي فَجَوَاتِ قُبُورِهِمْ جَمَاداً لَا يَنْمُونَ - وضِمَاراً لَا يُوجَدُونَ - لَا يُفْزِعُهُمْ وُرُودُ الأَهْوَالِ - ولَا يَحْزُنُهُمْ تَنَكُّرُ الأَحْوَالِ - ولَا يَحْفِلُونَ بِالرَّوَاجِفِ ولَا يَأْذَنُونَ لِلْقَوَاصِفِ - غُيَّباً

کے عالم میں ان کے پیچھے جا رہے ہو۔ان کی کھوپڑیوں کو روند رہے ہو۔اور ان کے جسموں پرعمارتیں کھڑی کر رہے ہو ۔جووہ چھوڑ گئے ہیں اسی کو چر رہے ہو اور جو وہ برباد کرگئے ہیں اسی میں سکونت پذیر ہو۔تہارے ور ان کے درمیان کے دن تمہارے حال پر رو رہے ہیں اور تمہاری بربادی کا نوحہ پڑھ رہے ہیں۔

یہ ہیں تمہاری منزل پر پہلے پہنچ جانے والے اور تمہارے چشموں پر پہلے وارد ہو جانے والے۔جن کے لئے عزت کی منزلیں تھیں اور فخرو مباہات کی فراوانیاں تھیں۔کچھ سلاطین وقت تھے اورکچھ دوسرے درجہ کے منصب دار۔لیکن سب برزخ کی گہرائیوں میں راہ پیمانی کر رہے ہیں ۔زمین ان کے اوپر مسلط کردی گئی ہے۔اس نے ان کا گوشت کھالیا ہے اورخون پی لیا ہے۔اب وہقبر کی گہرائیوں میں ایسے جماد ہوگئے ہیں جنمیں نمو نہیں ہے اور ایسے گم ہوگئے ہیں کہ ڈھونڈے نہیں مل رہے ہیں۔نہ ہولناک مصائب(۱) کا ورود انہیں خوف زدہ بنا سکتا ہے اور نہ بدلتے حالات انہیں رنجیدہ کر سکتے ہیں نہ انہیں زلزلوں کی پرواہ ہے اورنہ گرج اور کڑک کی اطلاع۔ایسے

(۱)یہ صورت حال کسی سکون اور اطمینان کا اشارہ نہیں ہے بلکہ دراصل انسان کی مد ہوشی اور بد حواسی کا اظہار ہے کہ صاحب عقل و شعور بھ جمادات کی شکل اختیار کر گیا ہے اور صورت حال یہ ہوگئی ہے کہ ادھر کے جملہ حالات سے بے خبر ہوگیا ہے لیکن ادھر کے حالات سے بے خیر نہیں ہے۔صبح و شام ارواح کے سامنے جہنم پیش نظر کیا جاتا ہے اور بے عمل اور بد کردار انسان ایک نئی مصیبت سے دوچار ہو جاتا ہے۔

درحقیقت مولائے کائنات نے ان فقرات میں مرنے والوں کے حالات کا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ زندہ افراد کو اس صورت حال سے بچانے کا انتظام کیا ہے کہ انسان اس انجام سے با خبر رہے اور چند روزہ دنیا کے بجائے ابدی عاقبت اورآخرت کا انتظام کرے جس سے بہرحال دو چار ہونا ہے اور اس سے فرار کا کوئی امکان نہیں ہے۔

۴۴۳

لَا يُنْتَظَرُونَ وشُهُوداً لَا يَحْضُرُونَ - وإِنَّمَا كَانُوا جَمِيعاً فَتَشَتَّتُوا وآلَافاً فَافْتَرَقُوا - ومَا عَنْ طُولِ عَهْدِهِمْ ولَا بُعْدِ مَحَلِّهِمْ - عَمِيَتْ أَخْبَارُهُمْ وصَمَّتْ دِيَارُهُمْ - ولَكِنَّهُمْ سُقُوا كَأْساً بَدَّلَتْهُمْ بِالنُّطْقِ خَرَساً - وبِالسَّمْعِ صَمَماً وبِالْحَرَكَاتِ سُكُوناً - فَكَأَنَّهُمْ فِي ارْتِجَالِ الصِّفَةِ صَرْعَى سُبَاتٍ - جِيرَانٌ لَا يَتَأَنَّسُونَ وأَحِبَّاءُ لَا يَتَزَاوَرُونَ - بَلِيَتْ بَيْنَهُمْ عُرَا التَّعَارُفِ - وانْقَطَعَتْ مِنْهُمْ أَسْبَابُ الإِخَاءِ - فَكُلُّهُمْ وَحِيدٌ وهُمْ جَمِيعٌ - وبِجَانِبِ الْهَجْرِ وهُمْ أَخِلَّاءُ - لَا يَتَعَارَفُونَ لِلَيْلٍ صَبَاحاً ولَا لِنَهَارٍ مَسَاءً. أَيُّ الْجَدِيدَيْنِ ظَعَنُوا فِيه كَانَ عَلَيْهِمْ سَرْمَداً - شَاهَدُوا مِنْ أَخْطَارِ دَارِهِمْ أَفْظَعَ مِمَّا خَافُوا - ورَأَوْا مِنْ آيَاتِهَا أَعْظَمَ مِمَّا قَدَّرُوا - فَكِلْتَا الْغَايَتَيْنِ مُدَّتْ لَهُمْ - إِلَى مَبَاءَةٍ فَاتَتْ مَبَالِغَ الْخَوْفِ والرَّجَاءِ - فَلَوْ كَانُوا يَنْطِقُونَ بِهَا - لَعَيُّوا بِصِفَةِ

غائب ہوئے ہیں کہ ان کا انتظار نہیں کیا جا رہا ہے اور ایسے حاضر ہیں کہ سامنے نہیں آتے ہیں۔کل سب یکجا تھے اب منتشر ہوگئے ہیں اور سب ایک دوسرے کے قریب تھے اور اب جدا ہوگئے ہیں۔ان کے حالات کے بے خبری اور ان کے دیار کی خاموشی طول زمان اور بعد مکان کی بنا پر نہیں ہے بلکہ انہیں موت کا وہ جام پلادیا گیا ہے جس نے ان کی گویائی کو گونگے پن میں اور ان کی سماعت کو بہرے پن میں اور ان کی حرکات کو سکون میں تبدیل کردیا ہے۔ان کی سرسری تعریف یہ ہوسکتی ہے کہ جیسے نیند میں بے خبر پڑے ہوں کہ ہمسائے ہیں لیکن ایک دوسرے سے مانوس نہیں ہیں اور احباب ہیں لیکن ملاقات نہیں کرتے ہیں۔ان کے درمیان باہمی تعارف کے رشتے بوسیدہ ہوگئے ہیں اوربرادری کے اسباب منقطع ہوگئے ہیں۔اب سب مجتمع ہونے کے باوجود اکیلے ہیں اور دوست ہونے کے باوجود ایک دوسرے کو چھوڑے ہوئے ہیں۔نہ کسی رات کو صبح سے آشنا ہیں اورنہ کسی صبح کی شام پہچانتے ہیں۔

دن و رات میں جس ساعت میں بھی دنیا سے گئے ہیں وہی ان کی ابدی ساعت ہے اوردار آخرت کے خطرات کو اس سے زیادہ دیکھ لیا ہے۔جس کا اس دنیا میں اندیشہ تھا اوراس کی نشانیوں کو اس سے زیادہ مشاہدہ کرلیا ہے جس کا انداہ کیا تھا۔اب اچھے برے دونوں طرح کے انجام کو کھینچ کرآخری منزل تک پہنچا دیا گیا ہے جہاں آخر درجہ کاخف بھی ہے اورویسی ہی امید بھی ہے۔یہ لوگ اگر بولنے کے لائق بھی ہوتے تو ان حالات کی توصیف

۴۴۴

مَا شَاهَدُوا ومَا عَايَنُوا.ولَئِنْ عَمِيَتْ آثَارُهُمْ وانْقَطَعَتْ أَخْبَارُهُمْ - لَقَدْ رَجَعَتْ فِيهِمْ أَبْصَارُ الْعِبَرِ - وسَمِعَتْ عَنْهُمْ آذَانُ الْعُقُولِ - وتَكَلَّمُوا مِنْ غَيْرِ جِهَاتِ النُّطْقِ - فَقَالُوا كَلَحَتِ الْوُجُوه النَّوَاضِرُ وخَوَتِ الأَجْسَامُ النَّوَاعِمُ - ولَبِسْنَا أَهْدَامَ الْبِلَى وتَكَاءَدَنَا ضِيقُ الْمَضْجَعِ - وتَوَارَثْنَا الْوَحْشَةَ وتَهَكَّمَتْ عَلَيْنَا الرُّبُوعُ الصُّمُوتُ - فَانْمَحَتْ مَحَاسِنُ أَجْسَادِنَا وتَنَكَّرَتْ مَعَارِفُ صُوَرِنَا - وطَالَتْ فِي مَسَاكِنِ الْوَحْشَةِ إِقَامَتُنَا - ولَمْ نَجِدْ مِنْ كَرْبٍ فَرَجاً ولَا مِنْ ضِيقٍ مُتَّسَعاً - فَلَوْ مَثَّلْتَهُمْ بِعَقْلِكَ - أَوْ كُشِفَ عَنْهُمْ مَحْجُوبُ الْغِطَاءِ لَكَ - وقَدِ ارْتَسَخَتْ أَسْمَاعُهُمْ بِالْهَوَامِّ فَاسْتَكَّتْ - واكْتَحَلَتْ أَبْصَارُهُمْ بِالتُّرَاب فَخَسَفَتْ - وتَقَطَّعَتِ الأَلْسِنَةُ فِي أَفْوَاهِهِمْ بَعْدَ ذَلَاقَتِهَا - وهَمَدَتِ الْقُلُوبُ فِي صُدُورِهِمْ بَعْدَ يَقَظَتِهَا - وعَاثَ فِي كُلِّ جَارِحَةٍ مِنْهُمْ جَدِيدُ بِلًى سَمَّجَهَا - وسَهَّلَ طُرُقَ الآفَةِ إِلَيْهَا -

نہیں کر سکتے تھے جن کا مشاہدہ کرلیا ہے اوراپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے۔ اب اگران کے آثار گم بھی ہو گئے ہیں اور ان کی خبریں منقطع بھی ہوگئی ہیں تو عبرت کی نگاہیں بہر حال انہیں دیکھ رہی ہیں اور عقل کے کان بہرحال ان کی داستان غم سن رہے ہیں اور وہ زبان کے بغیر بھی بول رہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ شاداب چہرے سیاہ ہو چکے ہیں اور نرم و نازک اجسام مٹی میں مل گئے ہیں۔بوسیدگی کا لباس زیب تن ہے اورتنگی مرقد نے تھکاڈالا ہے ۔وحشت ایک دوسرے کی وراثت ہے اور خاموش منزلیں ویران ہوچکی ہیں۔جسم کے محاسن محو ہو چکے ہیں ۔اور جانی پہچانی صورت بھی انجان ہوگئی ہے۔منزل وحشت میں قیام طویل ہوگیا ہے اور کسی کرب سے راحت کی امید نہیں ہے اور نہ کسی تنگی میں وسعت کا کوئی امکان ہے۔

اب اگر تم اپنی عقلوں سے ان کی تصویر کشی کرو یا تم سے غیب کے پردے اٹھا دئیے جائیں اور تم انہیں اس عالم میں دیکھ لو کہ کیڑوں(۱) کی وجہ سے ان کی قوت سماعت ختم ہ چکی ہے اور وہ بہرے ہو چکے ہیں اور ان کی آنکھوں میں مٹی کا سرمہ لگا دیا گیا ہے اور وہ ہنس چکی ہیں اور زبانیں دہن کے اندر روانی کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہو چکی ہیں اور دل سینوں کے اندر بیداری کے بعد سوچکے ہیں اور ہر عضو کوایک نئی بوسیدگی نے تباہ کرکے بدہئیت بنادیا ہے اورآفتوں کے راستوں

(۱)امیر المومنین کی تصویر کشی پر ایک لفظ کے بھی اضافہ کی گنجائش نہیں ہے اورابو تراب سے بہتر زیر زمین کا نقشہ کون کھینچ سکتا ہے۔بات صرف یہ ہے کہ انسان اس سنگین صورت حال کا اندازہ کرے اور اس تصویر کو اپنی نگاہ عقل و بصیرت میں مجسم بنائے تاکہ اسے اندازہ ہو کہ اس دنیا کی حیثیت اوراوقات کیا ہے اور اس کا انجام کیا ہونے والا ہے۔

۴۴۵

مُسْتَسْلِمَاتٍ فَلَا أَيْدٍ تَدْفَعُ ولَا قُلُوبٌ تَجْزَعُ - لَرَأَيْتَ أَشْجَانَ قُلُوبٍ وأَقْذَاءَ عُيُونٍ - لَهُمْ فِي كُلِّ فَظَاعَةٍ صِفَةُ حَالٍ لَا تَنْتَقِلُ - وغَمْرَةٌ لَا تَنْجَلِي - فَكَمْ أَكَلَتِ الأَرْضُ مِنْ عَزِيزِ جَسَدٍ وأَنِيقِ لَوْنٍ - كَانَ فِي الدُّنْيَا غَذِيَّ تَرَفٍ ورَبِيبَ شَرَفٍ - يَتَعَلَّلُ بِالسُّرُورِ فِي سَاعَةِ حُزْنِه - ويَفْزَعُ إِلَى السَّلْوَةِ إِنْ مُصِيبَةٌ نَزَلَتْ بِه - ضَنّاً بِغَضَارَةِ عَيْشِه، وشَحَاحَةً بِلَهْوِه ولَعِبِه فَبَيْنَا هُوَ يَضْحَكُ إِلَى الدُّنْيَا وتَضْحَكُ إِلَيْه - فِي ظِلِّ عَيْشٍ غَفُولٍ إِذْ وَطِئَ الدَّهْرُ بِه حَسَكَه - ونَقَضَتِ الأَيَّامُ قُوَاه - ونَظَرَتْ إِلَيْه الْحُتُوفُ مِنْ كَثَبٍ - فَخَالَطَه بَثٌّ لَا يَعْرِفُه ونَجِيُّ هَمٍّ مَا كَانَ يَجِدُه - وتَوَلَّدَتْ فِيه فَتَرَاتُ عِلَلٍ آنَسَ مَا كَانَ بِصِحَّتِه - فَفَزِعَ إِلَى.

کو ہموار کردیا ہے کہ اب سب مصائب کے لئے سراپا تسلیم ہیں نہ کوئی ہاتھ دفاع کرنے واا ہے اور نہ کوئی دل بے چین ہونے والا ہے۔تو یقینا وہمناظر دیکھوگے جو دل کو رنجیدہ بنادیں گے اورآنکھوں میں خس و خاشاک ڈال دیں گے۔ان غریبوں کے لئے مصیبت میں وہ کیفیت ہے جو بدلتی نہیں ہے اور وہ سختی ہے جو ختم نہیں ہوتی ہے۔

اف یہ زمین کتنے عزیز ترین(۱) بدن اور حسین ترین رنگ کھا گئی جن کو دولت و راحت کی غذا مل رہی تھی اور جنہیں شرف کی آغوش میں پالا گیا تھا۔جو حزن کے اوقات میں بھی مسرت کا سامان کرلیا کرتے تھے اور اگر کوئی مصیبت آن پڑتی تھی تو اپنے عیش کی تازگیوںپر للچائے رہنے اور اپنے لہو و لعب پر فریفتہ ہونے کی بنا پر تسلی کا سامان فراہم کرلیا کرتے تھے ۔یہ ابھی غفلت میں ڈال دینے والے عیش کے زیر سایہ دنیا کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے اور دنیا انہیں دیکھ کر ہنس رہی تھی کہ اچانک زمانے نے انہیں کانٹوں کی طرح روند دیا اور روز گار نے ان کا سارا زور توڑ دیا۔موت کی نظریں قریب سے ان پر پڑنے لگیں اورانہیں ایسے رنج میں مبتلا کردیا جس کا اندازہ بھی نہ تھا اور ایسے قلق کا شکار ہوگئے جس کا کوئی سابقہ بھی نہ تھا ابھی وہ صحت سے مانوس تھے کہ ان میں مرض کی کمزوریاں پیدا ہوگئی اور انہوں نے ان اسباب کی پناہ ڈھونڈنا شروع کردی

(۱)حقیقت امر یہ ہے کہ زیر زمین خاک کاڈھیر بن جانے والے کیسی کیسی زندگیاں گذار گئے ہیں اور کس کس طر کی راحت پسندیوں سے گزر چک ہیں لیکن آج موت ان کی حیثیت کا اقرار کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔اور قبر ان کے کسی احترام کی قائل نہیں ہے۔یہ توصرف ایمان و کردار یا صاحب قبر و بارگاہ کے جوار کا اثر ہے کہ انسان فشار قبر اور بوسیدگی جسم سے محفوظ رہ جائے۔ورنہ زمین اپنے ٹکڑوں کو اصل سے ملادینے میں کسی طرح کے تکلف سے کام نہیں لیتی ہے۔

۴۴۶

مَا كَانَ عَوَّدَه الأَطِبَّاءُ - مِنْ تَسْكِينِ الْحَارِّ بِالْقَارِّ وتَحْرِيكِ الْبَارِدِ بِالْحَارِّ - فَلَمْ يُطْفِئْ بِبَارِدٍ إِلَّا ثَوَّرَ حَرَارَةً - ولَا حَرَّكَ بِحَارٍّ إِلَّا هَيَّجَ بُرُودَةً - ولَا اعْتَدَلَ بِمُمَازِجٍ لِتِلْكَ الطَّبَائِعِ - إِلَّا أَمَدَّ مِنْهَا كُلَّ ذَاتِ دَاءٍ - حَتَّى فَتَرَ مُعَلِّلُه وذَهَلَ مُمَرِّضُه - وتَعَايَا أَهْلُه بِصِفَةِ دَائِه - وخَرِسُوا عَنْ جَوَابِ السَّاِئِلينَ عَنْه - وتَنَازَعُوا دُونَه شَجِيَّ خَبَرٍ يَكْتُمُونَه - فَقَائِلٌ يَقُولُ هُوَ لِمَا بِه ومُمَنٍّ لَهُمْ إِيَابَ عَافِيَتِه - ومُصَبِّرٌ لَهُمْ عَلَى فَقْدِه - يُذَكِّرُهُمْ أُسَى الْمَاضِينَ مِنْ قَبْلِه - فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ عَلَى جَنَاحٍ مِنْ فِرَاقِ الدُّنْيَا - وتَرْكِ الأَحِبَّةِ - إِذْ عَرَضَ لَه عَارِضٌ مِنْ غُصَصِه - فَتَحَيَّرَتْ نَوَافِذُ فِطْنَتِه ويَبِسَتْ رُطُوبَةُ لِسَانِه - فَكَمْ مِنْ مُهِمٍّ مِنْ جَوَابِه عَرَفَه فَعَيَّ عَنْ رَدِّه - ودُعَاءٍ مُؤْلِمٍ بِقَلْبِه سَمِعَه فَتَصَامَّ عَنْه - مِنْ كَبِيرٍ

جن کا اطباء نے عادی بنادیا تھا کہ گرم کا سرد سے علاج کریں اورسردی میں گرم دوا کی تحریک پیداکریں لیکن سرد دوائوں نے حرارت کو اوربھڑکا دیا اور گرم دوانے حرکت کے بجائے برودت میں اور ہیجان پیدا کردیا اور کسی مناسب طبیعت دواسے اعتدال نہیں پیدا ہو ا بلکہ اس نے مرض کو اور طاقت بخش دی۔یہاں تک کہ تیمار دار سست ہوگئے اور علاج کرنے والے غفلت برتنے لگے۔گھروالے مرض کی حالت بیان کرنے سے عاجزآگئے اور مزاج پرسی کرنے والوں کے جواب سے خاموشی اختیارکرلی اور درد ناک خبرکو چھپانے کے لئے آپس میں اختلاف کرنے لگے۔ایک کہنے لگا کر جو ہے وہ ہے۔دوسرے نے امید دلائی کہ صحت پلٹ آئے گی۔تیسرے نے موت پر صبر کی تلقین شروع کردی اورگذشتہ لوگوں کے مصائب یاد دلانے لگا۔

ابھی وہ اسی عالم میں دنیا کے فراق اوراحباب کی جدائی کے لئے پر تول رہا تھا کہ اس کے گلے میں ایک پھندہ پڑ گیا(۱) جس سے اس کی ذہانت و ہوشیاری پریشانی کاش کار ہوگئی اور زبان کی رطوبت خشکی میں تبدیل ہوگئی ۔کتنے ہی مبہم سوالات تھے جن کے جوابات اسے معلوم تھے لیکن بیان سے عاجز تھا اور کتنی ہی درد ناک آوازیں ان کے کان سے ٹکرا رہی تھی جن کے سننے سے بہرہ ہوگیا تھا وہ آوازیں کسی بزرگ کی تھیں

(۱)ہائے وہ بے کسی کاعالم کہ نہ مرنے والا درد دل کی ترجمانی کر سکتا ہے اور نہ رہ جانے والے اس کے کسی درد کا علاج کرسکتے ہیں۔جب کہ دونوں آمنے سامنے زندہ موجود ہیں تو اسی کے بعد کسی سے کیا توقع رکھی جائے جب ایک موت کی آغوش میں سو جائے گا اوردوسرا کنج لحد کے حالات سے بھی بے خبر ہو جائے گا اوراسے مرنے والے کے حالات کی بھی اطلاع نہ ہوگی۔ کیا یہ صورت حال اس امرکی دعوت نہیں دیتی ہے کہ انسان اس دنیا سے عبرت حاصل کرے اوراہل دنیا پر اعتماد کرنے کے بجائے اپنے ایمان کردار اور اولیاء الٰہی کی نصرت وحمایت حاصل کرنے پر توجہ دے کہ اس کے علاوہ کوئی سہارا نہیں ہے۔

۴۴۷

كَانَ يُعَظِّمُه أَوْ صَغِيرٍ كَانَ يَرْحَمُه - وإِنَّ لِلْمَوْتِ لَغَمَرَاتٍ هِيَ أَفْظَعُ مِنْ أَنْ تُسْتَغْرَقَ بِصِفَةٍ - أَوْ تَعْتَدِلَ عَلَى عُقُولِ أَهْلِ الدُّنْيَا

(۲۲۲)

ومن كلام لهعليه‌السلام

قاله عند تلاوته:( يُسَبِّحُ لَه فِيها بِالْغُدُوِّ والآصالِ رِجالٌ - لا تُلْهِيهِمْ تِجارَةٌ ولا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ الله).

إِنَّ اللَّه سُبْحَانَه وتَعَالَى جَعَلَ الذِّكْرَ جِلاءً لِلْقُلُوبِ - تَسْمَعُ بِه بَعْدَ الْوَقْرَةِ وتُبْصِرُ بِه بَعْدَ الْعَشْوَةِ - وتَنْقَادُ بِه بَعْدَ الْمُعَانَدَةِ - ومَا بَرِحَ لِلَّه عَزَّتْ آلَاؤُه فِي الْبُرْهَةِ بَعْدَ الْبُرْهَةِ - وفِي أَزْمَانِ الْفَتَرَاتِ عِبَادٌ نَاجَاهُمْ فِي فِكْرِهِمْ - وكَلَّمَهُمْ فِي ذَاتِ عُقُولِهِمْ - فَاسْتَصْبَحُوا بِنُورِ يَقَظَةٍ فِي الأَبْصَارِ والأَسْمَاعِ والأَفْئِدَةِ - يُذَكِّرُونَ بِأَيَّامِ اللَّه ويُخَوِّفُونَ مَقَامَه - بِمَنْزِلَةِ الأَدِلَّةِ فِي الْفَلَوَاتِ

جنکا احترام کیا کرتا تھا یا ان بچوں کی تھیں جن پر رحم کیا کرتا تھا۔لیکن موت کی سختیاں ایسی ہی ہیں جو اپنی شدت میں بیان کی حدوں میں نہیں آسکتی ہیں اور اہل دنیا کی عقلوں کے اندازوں پرپوری نہیں اتر سکتی ہیں۔

(۲۲۲)

آپ کا اشاد گرامی

(جسے آیت کریمہ '' یسبح لہ فیھا بالغدوو الاصال رجال'' ان گھروں میں صبح و شام تسبیح پروردگار کرنے والے وہ افراد ہیں جنہیں تجارت اورکاروبار یاد خداس ے غافل نہیں بنا سکتا ہے۔کی تلاوت کے موقع پر ارشاد فرمایا :)

پروردگار نے اپنے ذکر کو دلوں کے لئے صیقل قراردیا ہے جس کی بنا پر وہ بہرے پن کے بعد سننے لگتے ہیں اور اندھے پن کے بعد دیکھنے لگتے ہیں اور رعنا و اور ضد کے بعد مطیع و فرمانبردار ہو جاتے ہیں اور خدائے عزوجل ( جس کی نعمتیں عظیم و جلیل ہیں ) کے لئے ہردور میں اور ہر عہد فترت میں ایسے بندے رہے ہیں جن سے اس نے ان کا افکار کے ذریعہ راز دارانہ گفتگو کی ہے اور ان کی عقلوں کے وسیلہ سے ان سے کلام کیا ے اور انہوں نے اپنی بصارت ' سماعت اورفکر کی بیداری کے نور سے روشنی حاصل کی ہے۔انہیں اللہ کے مخصوص دنوں کی یاد عطا کی گئی ہے اور وہ اس کی عظمت سے خوف زدہ رہتے ہیں۔ان کی مثال بیابانوں کے راہنمائوں جیسی ہے

۴۴۸

مَنْ أَخَذَ الْقَصْدَ حَمِدُوا إِلَيْه طَرِيقَه وبَشَّرُوه بِالنَّجَاةِ ومَنْ أَخَذَ يَمِيناً وشِمَالًا ذَمُّوا إِلَيْه الطَّرِيقَ - وحَذَّرُوه مِنَ الْهَلَكَةِ - وكَانُوا كَذَلِكَ مَصَابِيحَ تِلْكَ الظُّلُمَاتِ - وأَدِلَّةَ تِلْكَ الشُّبُهَاتِ - وإِنَّ لِلذِّكْرِ لأَهْلًا أَخَذُوه مِنَ الدُّنْيَا بَدَلًا - فَلَمْ تَشْغَلْهُمْ تِجَارَةٌ ولَا بَيْعٌ عَنْه - يَقْطَعُونَ بِه أَيَّامَ الْحَيَاةِ - ويَهْتِفُونَ بِالزَّوَاجِرِ عَنْ مَحَارِمِ اللَّه فِي أَسْمَاعِ الْغَافِلِينَ - ويَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ ويَأْتَمِرُونَ بِه - ويَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ويَتَنَاهَوْنَ عَنْه - فَكَأَنَّمَا قَطَعُوا الدُّنْيَا إِلَى الآخِرَةِ وهُمْ فِيهَا - فَشَاهَدُوا مَا وَرَاءَ ذَلِكَ - فَكَأَنَّمَا اطَّلَعُوا غُيُوبَ أَهْلِ الْبَرْزَخِ فِي طُولِ الإِقَامَةِ فِيه - وحَقَّقَتِ الْقِيَامَةُ عَلَيْهِمْ عِدَاتِهَا - فَكَشَفُوا غِطَاءَ ذَلِكَ لأَهْلِ الدُّنْيَا - حَتَّى كَأَنَّهُمْ يَرَوْنَ مَا لَا يَرَى النَّاسُ ويَسْمَعُونَ مَا لَا يَسْمَعُونَ - فَلَوْ مَثَّلْتَهُمْ لِعَقْلِكَ  

کہ جو صحیح راستہ پر چلتا ہے اس کی روش کی تعریف کرتے ہیں اوراسے نجات کی بشارت دیتے ہیں اور جوداہنے بائیں چلا جاتا ہے اس کے راستہ کی مذمت کرتے ہیں اور اسے ہلاکت سے ڈراتے ہیں اور اسی اندازس ے یہ ظلمتوں کے چراغ اور شبہات کے رہنما ہیں۔

بیشک ذکرخدا کے بھی کچھ اہل ہیں جنہوں نے اسے ساری دنیا کا بدل قراردیا ہے اور اب انہیں تجارت یا خریدو فروخت اس ذکر سے غافل نہیں کرسکتی ہے ۔ یہ اس کے سہارے زندگی کے دن کاٹتے ہیں اور غافلوں کے کانوں میں محرمات کے روکنے والی آوازیں داخل کر دیتے ہیں۔لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیتے ہیں اور خود بھی اسی پر عمل کرتے ہیں۔برائیوں سے روکتے ہیں اور خودبھی باز رہتے ہیں۔گویا انہوں نے دنیا میں رہ کرآخرت تک کا فاصلہ طے کرلیا ہے اور پس پردۂ دنیا جو کچھ ہے سب دیکھ لیا ہے اور گویاکہ انہوں نے برزخ کے طویل و عریض زمانہ کے مخفی حالات پر اطلاع حاصل کرلی ہے اورگویا کہ قیامت نے ان کے لئے اپنے وعدوں کو پورا کردیا ہے اور انہوں نے اہل دنیا کے لئے اس پردہ(۱) کواٹھا دیا ہے۔کہ اب وہ ان چیزوں کو دیکھ رہے ہیں جنہیں عام لوگن ہیں دیکھ سکتے ہیں اور ان آوازوں کو سن رہے ہیں جنہیں دوسرے لوگ نہیں سن سکتے ہیں اگر تم اپنی عقل سے ان کی اس تصویر کو تیار کرو

(۱)ان حقائق کا صحیح اظہر وہی انسان کر سکتا ہے جو یقین کی اس آخری منزل پر فائز ہو جس کے بعد خود یہ اعلان کرتا ہو کہ اب اگر پردے ہٹا بھی دئیے جائیں تو یقین میں کسی طرح کا اضافہ نہیں ہو سکتا ہے۔اور حقیقت امر یہ ہے کہ اسلام میں اہل ذکر صرف صاحبان علم و فضل کا نام نہیں ہے بلکہ ذکر الٰہی کا اہل ان افراد کو قرا دیا گیا ہے جو تقویٰ اور پرہیز گاری کی آخری منزل پر ہوں اورآخرت کو اپنی نگاہوں سے دیکھ کر ساری دنیا کو راہ و وچاہ سے آگاہ کر رہے ہوں ملائکہ مقربین ان کے گرد گھیرے ڈالے ہوں لیکن اس کیب عد بھی عظمت جلال الٰہی کے تصورس ے اپنے اعمال کو بے قیمت سمجھ کر لرز رہے ہوں اور مسلسل اپنی کوتاہیوں کا اقرار کر رہے ہوں۔

۴۴۹

فِي مَقَاوِمِهِمُ الْمَحْمُودَةِ - ومَجَالِسِهِمُ الْمَشْهُودَةِ - وقَدْ نَشَرُوا دَوَاوِينَ أَعْمَالِهِمْ - وفَرَغُوا لِمُحَاسَبَةِ أَنْفُسِهِمْ عَلَى كُلِّ صَغِيرَةٍ وكَبِيرَةٍ - أُمِرُوا بِهَا فَقَصَّرُوا عَنْهَا أَوْ نُهُوا عَنْهَا فَفَرَّطُوا فيهَا - وحَمَّلُوا ثِقَلَ أَوْزَاِرِهمْ ظُهُورَهُمْ - فَضَعُفُوا عَنِ الِاسْتِقْلَالِ بِهَا - فَنَشَجُوا نَشِيجاً وتَجَاوَبُوا نَحِيباً - يَعِجُّونَ إِلَى رَبِّهِمْ مِنْ مَقَامِ نَدَمٍ واعْتِرَافٍ - لَرَأَيْتَ أَعْلَامَ هُدًى ومَصَابِيحَ دُجًى - قَدْ حَفَّتْ بِهِمُ الْمَلَائِكَةُ - وتَنَزَّلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ - وفُتِحَتْ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وأُعِدَّتْ لَهُمْ مَقَاعِدُ الْكَرَامَاتِ - فِي مَقْعَدٍ اطَّلَعَ اللَّه عَلَيْهِمْ فِيه - فَرَضِيَ سَعْيَهُمْ وحَمِدَ مَقَامَهُمْ - يَتَنَسَّمُونَ بِدُعَائِه رَوْحَ التَّجَاوُزِ - رَهَائِنُ فَاقَةٍ إِلَى فَضْلِه وأُسَارَى ذِلَّةٍ لِعَظَمَتِه - جَرَحَ طُولُ الأَسَى قُلُوبَهُمْ وطُولُ الْبُكَاءِ عُيُونَهُمْ - لِكُلِّ بَابِ رَغْبَةٍ إِلَى اللَّه مِنْهُمْ يَدٌ قَارِعَةٌ - يَسْأَلُونَ مَنْ لَا تَضِيقُ لَدَيْه الْمَنَادِحُ -

جو ان کے قابل تعریف مقامات اور قابل حضور مجالس کی ہے۔جہاں انہوں نے اپنے اعمال کے دفتر پھیلائے ہوئے ہیں اور اپنے ہرچھوٹے بڑے عمل کاحساب دینے کے لئے تیار ہیں جن کا حکمدیا گیا تھا اور ان میں کوتاہی ہوگئی ہے یا جن سے روکا گیاتھا اور تفصیر ہوگئی ہے اور اپنی پشت پر تمام اعمال کابوجھ اٹھائے ہوئے ہیں لیکن اٹھانے کے قابل نہیں ہیں اور اب روتے روتے ہچکیاں بندھ گئی ہیں اور ایک دوسرے کو رو رو کر اس کے سوال کا جوابدے رہے ہیں اور ندامت اوراعتراف گناہ کے ساتھ پروردگار کی بارگاہ میں فریاد کر رہے ہیں۔تو وہ تمہیں ہدایت کے نشان اور تاریکی کے چراغ نظر آئیں گے جن کے گرد ملائکہ کا گھیرا ہوگا اور ان پر پروردگار کی طرف سے سکون و اطمینان کا مسلسل نزول ہوگا اور ان کے لئے آسمان کے دروازے کھول دئیے گئے ہوں گے اورکرامتوں کی منزلیں مہیا کردی گئی ہوں گی۔ایسے مقام پرجہاں مالک کی نگاہ کرم ان کی طرف ہو اور وہ ان کی سعی سے راضی ہو اور ان کی منزل کی تعریف کر رہا ہو۔ وہ مالک کو پکارنے کی فرحت سے بخشش کی ہوائوں میں سانس لیتے ہوں۔اس کے فضل و کرم کی احتیاج کے ہاتھوں رہن ہوں اوراس کی عظمت کے سامنے ذلت کے اسیر ہوں۔غم و اندوہ کے طول زمان نے ان کے دلوں کومجروح کردیا ہو اور مسلسل گریہ نے ان کی آنکھوں کو زخمی کردیا ہو۔مالک کی طرف رغبت کے ہر دروازہ کو کھٹکھٹارہے ہوں اور اس سے سوال کر رہے ہوں جس کے جودو کرم کی وسعتوں میں تنگی نہیں آتی ہے اور جس کی

۴۵۰

ولَا يَخِيبُ عَلَيْه الرَّاغِبُونَ. فَحَاسِبْ نَفْسَكَ لِنَفْسِكَ فَإِنَّ غَيْرَهَا مِنَ الأَنْفُسِ لَهَا حَسِيبٌ غَيْرُكَ.

(۲۲۳)

ومن كلام لهعليه‌السلام

قاله عند تلاوته:( يا أَيُّهَا الإِنْسانُ ما غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ ) .

أَدْحَضُ مَسْئُولٍ حُجَّةً وأَقْطَعُ مُغْتَرٍّ مَعْذِرَةً - لَقَدْ أَبْرَحَ جَهَالَةً بِنَفْسِه.

يَا أَيُّهَا الإِنْسَانُ مَا جَرَّأَكَ عَلَى ذَنْبِكَ - ومَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ ومَا أَنَّسَكَ بِهَلَكَةِ نَفْسِكَ - أَمَا مِنْ دَائِكَ بُلُولٌ أَمْ لَيْسَ مِنْ نَوْمَتِكَ يَقَظَةٌ - أَمَا تَرْحَمُ مِنْ نَفْسِكَ مَا تَرْحَمُ مِنْ غَيْرِكَ - فَلَرُبَّمَا تَرَى الضَّاحِيَ مِنْ حَرِّ الشَّمْسِ فَتُظِلُّه

طرف رغبت کرنے والے کبھی مایوس نہیں ہوتے ہیں دیکھو اپنی بھلائی کے لئے خود اپنے نفس کا حساب کرو کہ دوسروں کے نفس کاحساب کرنے والا کوئی اور ہے۔

(۲۲۳)

آپ کا ارشاد گرامی

(جسے آیت شریفہ'' ما غرک بربک الکریم' ' (اے انسان تجھے خدائے کریم کے بارے میں کس شے نے دھوکہ میں ڈال دیا ہے ؟)کے ذیل میں ارشاد فرمایا ہے :)

دیکھو یہ انسان جس سے یہ سوال کیا گیا ہے وہ اپنی دلیل کے اعتبار سے کس قدر کمزور ہے اور اپنے فریب خوردہ ہونے کے اعتبار سے کس قدرناقص معذرت کا حامل ہے ۔یقینا اس نے اپنے نفس کو جہالت کی سختیوں میں مبتلا کردیا ہے۔ اے انسان! سچ بتا۔تجھے کس شے نے گناہوں کی جرأت دلائی ہے اور کس چیزنے پروردگار کے بارے میں دھوکہ میں رکھا ہے اور کس امرنے نفس کی ہلاکت پر بھی مطمئن بنادیا ہے۔کیا تیرے اس مرض کا کوی علاج اور تیرے اس خواب کی کوئی بیداری نہیں ہے اور کیا انپے نفس(۱) پر اتنا بھی رحم نہیں کرتا ہے جتنا دوسروں پرکرتا ہے کہ جب کبھی آفتاب کی حرارت میں کسی کو تپتا دیکھتا ہے تو سایہ کردیتا ہے

(۱)حقیقت امری ہ ہے کہ انسان آخرت کی طرف سے بالکل غفلت کا مجسمہ بن گیا ہے کہ دنیا میں کسی کو تکلیف میں نہیں دیکھ پاتا ہے اوراس کی داد رسی کے لئے تیار ہو جاتا ہے اورآخرت میں پیش آنے والے خود اپنے مصائب کی طرف سے بھی یکسر غافل ے اورایک لمحہ کے لئے بھی آفتاب محشر کے سایہ اور گرمی قیامت کی خشکی کا انتظام نہیں کرتا ہے۔بلکہ بعض اوقات اس کا مذاق بھی اڑاتا ہے۔انا للہ وانا الیہ راجعون

۴۵۱

أَوْ تَرَى الْمُبْتَلَى بِأَلَمٍ يُمِضُّ جَسَدَه فَتَبْكِي رَحْمَةً لَه - فَمَا صَبَّرَكَ عَلَى دَائِكَ وجَلَّدَكَ عَلَى مُصَابِكَ - وعَزَّاكَ عَنِ الْبُكَاءِ عَلَى نَفْسِكَ - وهِيَ أَعَزُّ الأَنْفُسِ عَلَيْكَ - وكَيْفَ لَا يُوقِظُكَ خَوْفُ بَيَاتِ نِقْمَةٍ - وقَدْ تَوَرَّطْتَ بِمَعَاصِيه مَدَارِجَ سَطَوَاتِه - فَتَدَاوَ مِنْ دَاءِ الْفَتْرَةِ فِي قَلْبِكَ بِعَزِيمَةٍ - ومِنْ كَرَى الْغَفْلَةِ فِي نَاظِرِكَ بِيَقَظَةٍ - وكُنْ لِلَّه مُطِيعاً وبِذِكْرِه آنِساً - وتَمَثَّلْ فِي حَالِ تَوَلِّيكَ عَنْه - إِقْبَالَه عَلَيْكَ يَدْعُوكَ إِلَى عَفْوِه - ويَتَغَمَّدُكَ بِفَضْلِه وأَنْتَ مُتَوَلٍّ عَنْه إِلَى غَيْرِه فَتَعَالَى مِنْ قَوِيٍّ مَا أَكْرَمَه - وتَوَاضَعْتَ مِنْ ضَعِيفٍ مَا أَجْرَأَكَ عَلَى مَعْصِيَتِه - وأَنْتَ فِي كَنَفِ سِتْرِه مُقِيمٌ - وفِي سَعَةِ فَضْلِه مُتَقَلِّبٌ - فَلَمْ يَمْنَعْكَ فَضْلَه ولَمْ يَهْتِكْ عَنْكَ سِتْرَه - بَلْ لَمْ تَخْلُ مِنْ لُطْفِه مَطْرَفَ عَيْنٍ - فِي نِعْمَةٍ يُحْدِثُهَا لَكَ أَوْ سَيِّئَةٍ يَسْتُرُهَا عَلَيْكَ - أَوْ بَلِيَّةٍ يَصْرِفُهَا عَنْكَ فَمَا

یا کسی کو درد و رنج میں مبتلا دیکھتا ہے تو اس کے حال پررونے لگتا ہے توخرکس شے نے تجھے خود اپنے مرض پر صبر دلادیا ہے اور اپنی مصیبت پرسامان سکون فراہم کردیا ہے اوراپنے نفس پر رونے سے روک دیا ہے جب کہ وہ تجھے سب سے زیادہ عزیز ہے۔اور کیوں راتوں رات عذاب الٰہی کے نازل ہو جانے کا تصور تجھے بیدار نہیں رکھتا ہے جب کہ تو اس کی نا فرمانیوں کی بنا پر اس کے قہرو غلبہ کی راہ میں پڑا ہوا ہے۔ ابھی غنیمت ہے کہ اپنے دل کی سستی کاعزمراسخ سے علاج کرلے اور اپنی آنکھوں میں غفلت کی نیند کابیدردی سے مداوا کرلے اللہ کی اطاعت گذار بن جا۔اس کی یاد سے انس حاصل کراور اس امر کاتصور کرکہ کس طرح وہ تیرے دوسروں کی طرف منہ موڑ لینے کے باوجود وہ تیری طرف متوجہ رہتا ہے۔تجھے معافی کی دعوت دیتاہے۔اپنے فضل و کرم میں ڈھانپ لیتا ہے حالانکہ تو دوسروں کی طرف رخ کئے ہوئے ہے۔بلند وبالا ہے وہ صاحب قوت جو اس قدر کرم کرتا ہے اور ضعیف و ناتواں ہے تو انسان جو اس کی معصیت کی اس قدر جرأت رکھتا ہے جب کہ اسی کے عیب پوشی کے ہمسایہ میں مقیم ہے اور اسی کے فضل و کرم کی وسعتوں میں کروٹیں بدل رہا ہے وہ نہ اپنے فضل وکرم کوتجھ سے روکتا ہے اورنہ تیرے پردہ ٔ راز کوفاش کرتا ہے۔بلکہ تو پلک جھپکنے کے برابر بھی اس کی مہربانیوں سے خالی نہیں ہے۔کبھی نئی نئی نعمتیںعطا کرتا ہے۔کبھی برائیوں کی پردہ پوشی کرتا ہے اور کبھی بلائوں کو رد کردیتا ہے جب کہ تو اس کی

۴۵۲

ظَنُّكَ بِه لَوْ أَطَعْتَه - وايْمُ اللَّه لَوْ أَنَّ هَذِه الصِّفَةَ كَانَتْ فِي مُتَّفِقَيْنِ فِي الْقُوَّةِ - مُتَوَازِيَيْنِ فِي الْقُدْرَةِ - لَكُنْتَ أَوَّلَ حَاكِمٍ عَلَى نَفْسِكَ بِذَمِيمِ الأَخْلَاقِ - ومَسَاوِئِ الأَعْمَالِ - وحَقّاً أَقُولُ مَا الدُّنْيَا غَرَّتْكَ ولَكِنْ بِهَا اغْتَرَرْتَ - ولَقَدْ كَاشَفَتْكَ الْعِظَاتِ وآذَنَتْكَ عَلَى سَوَاءٍ - ولَهِيَ بِمَا تَعِدُكَ مِنْ نُزُولِ الْبَلَاءِ بِجِسْمِكَ - والنَّقْصِ فِي قُوَّتِكَ أَصْدَقُ وأَوْفَى مِنْ أَنْ تَكْذِبَكَ أَوْ تَغُرَّكَ - ولَرُبَّ نَاصِحٍ لَهَا عِنْدَكَ مُتَّهَمٌ - وصَادِقٍ مِنْ خَبَرِهَا مُكَذَّبٌ - ولَئِنْ تَعَرَّفْتَهَا فِي الدِّيَارِ الْخَاوِيَةِ والرُّبُوعِ الْخَالِيَةِ - لَتَجِدَنَّهَا مِنْ حُسْنِ تَذْكِيرِكَ - وبَلَاغِ مَوْعِظَتِكَ - بِمَحَلَّةِ الشَّفِيقِ عَلَيْكَ والشَّحِيحِ بِكَ - ولَنِعْمَ دَارُ مَنْ لَمْ يَرْضَ بِهَا دَاراً - ومَحَلُّ مَنْ لَمْ يُوَطِّنْهَا مَحَلاًّ - وإِنَّ السُّعَدَاءَ بِالدُّنْيَا غَداً هُمُ الْهَارِبُونَ مِنْهَا الْيَوْمَ. إِذَا رَجَفَتِ الرَّاجِفَةُ

معصیت کر رہا ہے تو سوچ اگر تو اطاعت کرتا تو کیا ہوتا ؟

خدا گواہ ہے کہ اگریہ برتائو دو برابر کی قوتو قدرت والوں کے درمیان ہوتا اور تو دوسرے کے ساتھ ایسا ہی برتائو کرتا تو تو خود ہی سب سے پہلے اپنے نفس کے بد اخلاق اور بد عمل ہونے کا فیصلہ کردیتا ہے لیکن افسوس۔

میں سچ کہتا ہوں کہ دنیا نے تجھے دھوکہ نہیں دیا ہے تونے دنیا سے دھوکہ کھایا ہے۔اس نے تو نصیحتوں کوکھول کر سامنے رکھ دیا ہے اور تجھے ہر چیز سے برابر سے آگاہ کیا ہے۔اس نے جسم پر جن نازل ہونے والی بلائوں کا وعدہ کیا ہے اور قوت میں جس کمزوری کی خبردی ہے۔اس میں وہ بالکل سچی اور وفائے عہد کرنے والی ہے۔نہ جھوٹ بولنے والی ہے اور نہ دھکہ دینے والی۔بلکہ بہت سے اس کے بارے میں نصیحت کرنے والے ہیں جو تیرے نزدیک ناقابل اعتبار ہیں اورسچ سچ بولنے والے ہیں جو تیریر نگاہ میں جھوٹے ہیں۔

اگر تونے اسے گرے پڑے مکانات اور غیر آباد منزلوں میں پہچان لیا ہوتا تو دیکھتا کہ وہ اپنی یاد دہانی اوربلیغ ترین نصیحت میں تجھ پر کس قدر مہربان ہے اور تیری تباہی کے بارے میں کس قدر بخل سے کام لیتی ہے۔

یہ دنیا اس کے لئے بہترین گھر ہے جو اسکو گھر بنانے سے راضی نہ ہو۔اور اس کے لئے بہترین وطن ہے جو اسے وطن بنانے پرآمادہ نہ ہو۔اس دنیا کے رہنے والوں میں کل کے دن نیک بخت وہی ہوں گے جوآج اس سے گریز کرنے پرآمادہ ہوں۔ دیکھو جب زمین کو زلزلہ آجائے گا

۴۵۳

وحَقَّتْ بِجَلَائِلِهَا الْقِيَامَةُ - ولَحِقَ بِكُلِّ مَنْسَكٍ أَهْلُه وبِكُلِّ مَعْبُودٍ عَبَدَتُه - وبِكُلِّ مُطَاعٍ أَهْلُ طَاعَتِه - فَلَمْ يُجْزَ فِي عَدْلِه وقِسْطِه يَوْمَئِذٍ خَرْقُ بَصَرٍ فِي الْهَوَاءِ - ولَا هَمْسُ قَدَمٍ فِي الأَرْضِ إِلَّا بِحَقِّه - فَكَمْ حُجَّةٍ يَوْمَ ذَاكَ دَاحِضَةٌ - وعَلَائِقِ عُذْرٍ مُنْقَطِعَةٌ! فَتَحَرَّ مِنْ أَمْرِكَ مَا يَقُومُ بِه عُذْرُكَ وتَثْبُتُ بِه حُجَّتُكَ - وخُذْ مَا يَبْقَى لَكَ مِمَّا لَا تَبْقَى لَه - وتَيَسَّرْ لِسَفَرِكَ وشِمْ بَرْقَ النَّجَاةِ وارْحَلْ مَطَايَا التَّشْمِيرِ

(۲۲۴)

ومن كلام لهعليه‌السلام

يتبرأ من الظلم

واللَّه لأَنْ أَبِيتَ عَلَى حَسَكِ السَّعْدَانِ مُسَهَّداً - أَوْ أُجَرَّ فِي الأَغْلَالِ مُصَفَّداً - أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَلْقَى اللَّه ورَسُولَه يَوْمَ الْقِيَامَةِ ظَالِماً - لِبَعْضِ الْعِبَادِ وغَاصِباً لِشَيْءٍ مِنَ الْحُطَامِ - وكَيْفَ أَظْلِمُ أَحَداً

اور قیامت اپنی عظیم مصیبتوں کے ساتھ کھڑی ہو جائے گی اور ہر عبادت گاہ کے ساتھ اس کے عبادت گزار ۔ہر معبود کے ساتھ اس کے بندے اور ہر قابل اطاعت کے ساتھ اس کے مطیع و فرمانبردار ملحق کردئیے جائیں گے تو کوئی ہوا میں شگاف کرنے والی نگاہ اور زمین پر پڑنے والے قدم کی آہٹ ایسی نہ ہوگی جس کا عدل و انصاف کے ساتھ پورا بدلہ نہ دے دیا جائے۔اس دن کتنی ہی دلیلیں ہوں گی جو بیکار ہو جائیں گی اور کتنے ہی معذرت کے رشتے ہوں گے جو کٹ کے رہ جائیں گے۔ لہٰذا مناسب ہے کہ ابھی سے ان چیزوں کو تلاش کرلو جن سے عذر قائم ہو سکے اور دلیل ثابت ہو سکے جن دنیا میں تم کونہیں رہنا ہے اس میں سے وہ لے لو جس کو تمہارے ساتھ رہنا ہے۔سفر کے لئے آمادہ ہو جائو۔نجات کی روشنی کی چمک دیکھ لو اور آمادگی کی سواریوں پر سامان بار کرلو۔

(۲۲۴)

آپ کا ارشاد گرامی

(جس میں ظلم سے برائت و بیزاری کا اظہار فرمایا گیا ہے)

خدا گواہ ہے کہ میرے لئے سعد ان کی خار دار جھاڑی پر جگ کر رات گزارلینایا زنجیروں میں قید ہو کر کھینچا جانا اس امر سے زیادہ عزیز ہے۔کہ میں روز قیامت پروردگار سے اس عالم میں ملاقات کروں کہ کسی بندہ پر ظلم کرچکا ہوں یا دنیاکے کسی معمولی مال کو غصب کیا ہو بھلا میں کسی شخص پر بھی اس نفس کے لئے کس طرح ظلم

۴۵۴

لِنَفْسٍ يُسْرِعُ إِلَى الْبِلَى قُفُولُهَا ويَطُولُ فِي الثَّرَى حُلُولُهَا؟!

واللَّه لَقَدْ رَأَيْتُ عَقِيلًا وقَدْ أَمْلَقَ - حَتَّى اسْتَمَاحَنِي مِنْ بُرِّكُمْ صَاعاً - ورَأَيْتُ صِبْيَانَه شُعْثَ الشُّعُورِ غُبْرَ الأَلْوَانِ مِنْ فَقْرِهِمْ - كَأَنَّمَا سُوِّدَتْ وُجُوهُهُمْ بِالْعِظْلِمِ - وعَاوَدَنِي مُؤَكِّداً وكَرَّرَ عَلَيَّ الْقَوْلَ مُرَدِّداً - فَأَصْغَيْتُ إِلَيْه سَمْعِي فَظَنَّ أَنِّي أَبِيعُه دِينِي - وأَتَّبِعُ قِيَادَه مُفَارِقاً طَرِيقَتِي – فَأَحْمَيْتُ لَه حَدِيدَةً ثُمَّ أَدْنَيْتُهَا مِنْ جِسْمِه لِيَعْتَبِرَ بِهَا - فَضَجَّ ضَجِيجَ ذِي دَنَفٍ مِنْ أَلَمِهَا - وكَادَ أَنْ يَحْتَرِقَ مِنْ مِيسَمِهَا - فَقُلْتُ لَه ثَكِلَتْكَ الثَّوَاكِلُ يَا عَقِيلُ - أَتَئِنُّ مِنْ حَدِيدَةٍ أَحْمَاهَا إِنْسَانُهَا لِلَعِبِه - وتَجُرُّنِي إِلَى نَارٍ سَجَرَهَا جَبَّارُهَا لِغَضَبِه - أَتَئِنُّ مِنَ الأَذَى ولَا أَئِنُّ مِنْ لَظَى

کروں گا جو فنا کی طرف بہت جلد پلٹنے والا ہے اورزمین کے اندر بہت دنوں رہنے والا ہے۔

خداکی قسم میں نے عقیل(۱) کوخود دیکھا ہے کہ انہوں نے فقر وفاقہ کی بنا پر تمہارے حصہ گندم میں سے تین کیلو کامطالبہ کیا تھا جب کہ ان کے بچغوں کے بال غربت کی بناپر پراگندہ ہو چکے تھے اور ان کے چہروں کے رنگ یوں بدل چکے تھے جیسے انہیں تیل چھڑ ک کر سیاہ بنایا گیا ہوا اورانہوںنے مجھ سے باربارتقاضا کیا اور مکرر اپنے مطالبہ کودہرایا تو میں نے ان کی طرف کان دھردئیے اور وہ یہ سمجھے کہ شاید میں دین بیچنے اور اپنے راستہ کو چھوڑ کران کے مطالبہ پرچلنے کے لئے تیار ہوگیا ہوں۔لیکن میں نے ان کے لئے لوہا گرم کرایا اور پھر ان کے جسم کے قریب لے گیا تاکہ اس سے عبرت حاصل کریں۔انہوںنے لوہا دیکھ کری وں فریاد شروع کردی جیسے کوئی بیمار اپنے درد و الم سے فریاد کرتا ہو اور قریب تھا کہ ان کا جسم اس کے داغ دینے سے جل جائے۔تو میں نے کہا رونے والیاں آپ کے غم میں روئیں اپنے عقیل ! آپ اس لوہے سے فریاد کر رہے ہیں جس ایک انسان نے فقط ہنسی مذاق میں تپایا ہے اور مجھے اسآگ کی طرف کھینچ رہے ہیں جسے خدائے جبارنے اپنے غضب کی بنیاد پربھڑکایا ہے۔آپ اذیت سے فریاد کریں اور میں جہنم سے فریاد نہ کروں۔

(۱) جناب عقیل آپ کے بڑے بھائی او حقیقی بھائی تھے لیکن اس کے باوجود آپ نے یہ عادلانہ برتائو کرکے واضح کردیا کہ دین الٰہی میں رشت و قرابت کا گذر نہیں ہے۔دین کا ذمہ دار وہی شخص ہو سکتا ہے جو مال خدا کو مال خدا تصور کرے اور اس مسئلہمیں کسی طرح کی رشتہ داری اور تعلق کو شامل نہ کرے۔یہ امیر المومنین کے کردار کا وہ نمایاں امتیاز ہے جس کا اندازہ دوست اوردشمن دونوں کو تھا اور کوئی بھی اس معرفت سے بیگانہ نہ تھا۔

۴۵۵

وأَعْجَبُ مِنْ ذَلِكَ طَارِقٌ طَرَقَنَا بِمَلْفُوفَةٍ فِي وِعَائِهَا - ومَعْجُونَةٍ شَنِئْتُهَا - كَأَنَّمَا عُجِنَتْ بِرِيقِ حَيَّةٍ أَوْ قَيْئِهَا - فَقُلْتُ أَصِلَةٌ أَمْ زَكَاةٌ أَمْ صَدَقَةٌ - فَذَلِكَ مُحَرَّمٌ عَلَيْنَا أَهْلَ الْبَيْتِ - فَقَالَ لَا ذَا ولَا ذَاكَ ولَكِنَّهَا هَدِيَّةٌ - فَقُلْتُ هَبِلَتْكَ الْهَبُولُ أَعَنْ دِينِ اللَّه أَتَيْتَنِي لِتَخْدَعَنِي - أَمُخْتَبِطٌ أَنْتَ أَمْ ذُو جِنَّةٍ أَمْ تَهْجُرُ -

واللَّه لَوْ أُعْطِيتُ الأَقَالِيمَ السَّبْعَةَ بِمَا تَحْتَ أَفْلَاكِهَا - عَلَى أَنْ أَعْصِيَ اللَّه فِي نَمْلَةٍ أَسْلُبُهَا جُلْبَ شَعِيرَةٍ مَا فَعَلْتُه - وإِنَّ دُنْيَاكُمْ عِنْدِي لأَهْوَنُ مِنْ وَرَقَةٍ فِي فَمِ جَرَادَةٍ تَقْضَمُهَا - مَا لِعَلِيٍّ ولِنَعِيمٍ يَفْنَى ولَذَّةٍ لَا تَبْقَى - نَعُوذُ بِاللَّه مِنْ سُبَاتِ الْعَقْلِ وقُبْحِ الزَّلَلِ وبِه نَسْتَعِينُ.

اس سے زیادہ تعجب خیز باتیہ ہے کہ ایک رات ایک شخص (اشعث بن قیس) میرے پاس شہد میں گندھا ہوا حلوہ برتن میں رکھ کر لایا جو مجھے اس قدر ناگوارتھا جیسے سانپ کے تھوک یا قے سے گوندھا ہو۔میں نے پوچھا کہ یہ کوئی انعام ہے یا زکوٰة یا صدقہ جو ہم اہل بیت پر حرام ہے ؟ اس نے کہاکہ یہ کچھ نہیں ہے۔یہ فقط ایک ہدیہ ہے ! میں نے کہاکہ پسر مردہ عورتیں تجھ کو روئیں ۔تو دین خداکے راستہ سے آکر مجھے دھوکہ دینا چاہتا ہے تیرا دماغ خراب ہوگیا ہے یا تو پاگل ہوگیا ہے یا ہذیان بک رہا ہے۔ آخر ہے کیا ؟

خدا گواہ ہے کہ اگر مجھے ہفت اقلیم کی حکومت تمام زیر آسمان دولتوں کے ساتھ دے دی جائے اور مجھ سے یہ مطالبہ کیاجائے کہ میں کسی چیونٹی پر صرف اس قدر ظلم کروں کہ اس کے منہ سے اس چھلکے کو چھین لوں جو وہ چبا رہی ہے تو ہرگز ایسا نہیں کرسکتا ہوں۔یہ تمہاری دنیا میری نظر میں اس پتی سے زیادہ بے قیمت ہے جو کسی ٹڈی کے منہ میں ہواور وہ اسے چبا رہی ہو۔

بھلا علی کو ان نعمتوں سے کیاواسطہ جو فنا ہو جانے والی ہیں اور اس لذت سے کیا تعلق جوب اقی رہنے والی ہیں ہے۔میں خدا کی پناہ چاہتا ہوں عقل کے خواب غفلت میں پڑ جانے اورلغزشوں کی برائیوں سے اوراسی سے مدد کا طلب گار ہوں۔

۴۵۶

( ۲۲۵ )

ومن دعاء لهعليه‌السلام

يلتجئ إلى اللَّه أن يغنيه

اللَّهُمَّ صُنْ وَجْهِي بِالْيَسَارِ ولَا تَبْذُلْ جَاهِيَ

بِالإِقْتَارِ - فَأَسْتَرْزِقَ طَالِبِي رِزْقِكَ وأَسْتَعْطِفَ شِرَارَ خَلْقِكَ - وأُبْتَلَى بِحَمْدِ مَنْ أَعْطَانِي وأُفْتَتَنَ بِذَمِّ مَنْ مَنَعَنِي - وأَنْتَ مِنْ وَرَاءِ ذَلِكَ كُلِّه وَلِيُّ الإِعْطَاءِ والْمَنْعِ -( إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ) .

(۲۲۶)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في التنفير من الدنيا

دَارٌ بِالْبَلَاءِ مَحْفُوفَةٌ وبِالْغَدْرِ مَعْرُوفَةٌ - لَا تَدُومُ أَحْوَالُهَا ولَا يَسْلَمُ نُزَّالُهَا

أَحْوَالٌ مُخْتَلِفَةٌ وتَارَاتٌ مُتَصَرِّفَةٌ

(۲۲۵)

آپ کی دعا کا ایک حصہ

(جس میں پروردگار سے ے نیازی کا مطالبہ کیا گیا ہے )

خدایا! میری آبرو(۱) کومالداری کے ذریعہ محفوظ فرما اورمیری منزلت کو غربت کی بنا پر نگاہوں سے نہ گرنے دینا کہ مجھے تجھ سے روزی مانگنے والوں سے مانگنا پڑے یا تیری بد ترین مخلوقات سے رحم کی درخواست کرنا پڑے اوراس کے بعد میں ہر عطا کرنے والے کی تعریف کروں اور ہرانکار کرنے والے کی مذمت میں مبتلا ہو جائوںجب کہان سب کے پس پردہ عطاء و انکار دونوں کا اختیار تیرے ہی ہاتھ میں ہے اور تو ہی ہر شے پرقدرت رکھنے والا ہے۔

(۲۲۶)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں دنیا سے نفرت دلائی گئی ہے )

یہ ایک ایسا گھرہے جو بلائوں میں گھرا ہوا ہے اور اپنی غداری میں مشہور ہے۔نہ اس کے حالات کو دوام ہے اور نہ اس میں نازل ہونے والوں کے لئے سلامتی ہے۔

اس کے حالات مختلف اوراس کے اطوار بدلنے

(۱) یہ فقرات بعینہ اسی طرح امام زین العابدین کی مکارم اخلاق میں بھی پائے جاتے ہیں جواس بات کی علامت ہے کہ اہل بیت کاکردار اور ان کا بیان ہمیشہ ایک انداز کا ہوتا ہے اوراسمیں کسی طرح کا اختلاف و انتشار نہیں ہوتا ہے۔

۲۔ اس خطبہ میں دنیا کے حسب ذیل خصوصیات کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔۱۔یہ مکان بلائوں میں گھرا ہواہے۔۲۔اس کی غداری معروف ہے ۔۳۔اس کے حالات ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں ۔۴۔اس کی زندگی کا انجام موت ہے۔۵۔اس کی زندگی قابل مذمت ہے ۔۶۔اس میں امن و امان نہیں ہے۔۷۔اس کے باشندے بلائوں اورمصیبتوں کا ہدف ہیں۔

۴۵۷

الْعَيْشُ فِيهَا مَذْمُومٌ والأَمَانُ مِنْهَا مَعْدُومٌ - وإِنَّمَا أَهْلُهَا فِيهَا أَغْرَاضٌ مُسْتَهْدَفَةٌ - تَرْمِيهِمْ بِسِهَامِهَا وتُفْنِيهِمْ بِحِمَامِهَا

واعْلَمُوا عِبَادَ اللَّه أَنَّكُمْ ومَا أَنْتُمْ فِيه مِنْ هَذِه الدُّنْيَا - عَلَى سَبِيلِ مَنْ قَدْ مَضَى قَبْلَكُمْ - مِمَّنْ كَانَ أَطْوَلَ مِنْكُمْ أَعْمَاراً وأَعْمَرَ دِيَاراً وأَبْعَدَ آثَاراً - أَصْبَحَتْ أَصْوَاتُهُمْ هَامِدَةً ورِيَاحُهُمْ رَاكِدَةً - وأَجْسَادُهُمْ بَالِيَةً ودِيَارُهُمْ خَالِيَةً وآثَارُهُمْ عَافِيَةً - فَاسْتَبْدَلُوا بِالْقُصُورِ الْمَشَيَّدَةِ والنَّمَارِقِ الْمُمَهَّدَةِ - الصُّخُورَ والأَحْجَارَ الْمُسَنَّدَةَ والْقُبُورَ اللَّاطِئَةَ الْمُلْحَدَةَ - الَّتِي قَدْ بُنِيَ عَلَى الْخَرَابِ فِنَاؤُهَا - وشُيِّدَ بِالتُّرَابِ بِنَاؤُهَا فَمَحَلُّهَا مُقْتَرِبٌ وسَاكِنُهَا مُغْتَرِبٌ - بَيْنَ أَهْلِ مَحَلَّةٍ مُوحِشِينَ وأَهْلِ فَرَاغٍ مُتَشَاغِلِينَ - لَا يَسْتَأْنِسُونَ بِالأَوْطَانِ ولَا يَتَوَاصَلُونَ تَوَاصُلَ الْجِيرَانِ - عَلَى مَا بَيْنَهُمْ مِنْ قُرْبِ الْجِوَارِ ودُنُوِّ الدَّارِ - وكَيْفَ يَكُونُ بَيْنَهُمْ تَزَاوُرٌ وقَدْ طَحَنَهُمْ بِكَلْكَلِه الْبِلَى

والے ہیں۔اس میں پرکیف زندگی قابل مذمت ہے اور اس میں امن و امان کا دور دورہ پتہ نہیں ہے۔اس کے باشندے وہ نشانے ہیں جن پر دنیا اپنے تیر چلاتی رہتی ہے اور اپنی مدت کے سہارے انہیں فنا کے گھاٹ اتارتی رہتی ہے۔

بندگان خدا! یادرکھو اس دنیا میں تم اورجو کچھ تمہارے پاس ہے سب کا وہی راستہ ہے جس پرپہلے والے چل چکے ہیں جن کی عمریں تم سے زیادہ طویل اور جن کے علاقے تم سے زیادہ آباد تھے ۔ان کے آثار بھی دور دورتک پھیلے ہوئے تھے ۔لیکن اب ان کی آوازیں دب گئی ہیں ان کی ہوائیں اکھڑ گئی ہیں۔ان کے جسم بوسیدہ ہوگئے ہیں۔ان کے مکانات خالی ہوگئے ہیں اور ان کے آثارمٹ چکے ہیں ۔وہ مستحکم قلعوں اور بچھی ہوئی مسندوں کو پتھروں اورچنی ہوئی سلوں اور زمین کے اندرلحد والی قبروں میں تبدیل کر چکے ہیں جن کے صحتوں کی بنیاد تباہی پر قائم ہے اورجن کی عمارت مٹی سے مضبوط کی گئی ہے۔ان قبروں کی جگہیں تو قریب قریب ہیں لیکن ان کے رہنے والے سب ایک دوسرے سے غریب اور اجنبی ہیں۔ایسے لوگوں کے درمیان ہیں جو بوکھلائے ہوئے ہیں اور یہاں کے کاموں سے فارغ ہو کر وہاں کی فکر میں مشغول ہوگئے ہیں۔نہ اپنے وطن سے کوئی انس رکھتے ہیں اور نہ اپنے ہمسایوں سے کوئی ربط رکھتے ہیں۔حالانکہ بالکل قرب وجوار اورنزدیک ترین دیار میں ہیں۔اور ظاہر ہے کہ اب ملاقات کا کیا امکان ہے جب کہ بوسیدگی نے انہیں اپنے سینہ سے دباکر پیش ڈالا ہے اور پتھروں اورمٹی نے انہیں

۴۵۸

وأَكَلَتْهُمُ الْجَنَادِلُ والثَّرَى !وكَأَنْ قَدْ صِرْتُمْ إِلَى مَا صَارُوا إِلَيْه - وارْتَهَنَكُمْ ذَلِكَ الْمَضْجَعُ وضَمَّكُمْ ذَلِكَ الْمُسْتَوْدَعُ - فَكَيْفَ بِكُمْ لَوْ تَنَاهَتْ بِكُمُ الأُمُورُ - وبُعْثِرَتِ الْقُبُورُ :( هُنالِكَ تَبْلُوا كُلُّ نَفْسٍ ما أَسْلَفَتْ - ورُدُّوا إِلَى الله مَوْلاهُمُ الْحَقِّ - وضَلَّ عَنْهُمْ ما كانُوا يَفْتَرُونَ ) .

(۲۲۷)

ومن دعاء لهعليه‌السلام

يلجأ فيه إلى اللَّه ليهديه إلى الرشاد

اللَّهُمَّ إِنَّكَ آنَسُ الآنِسِينَ لأَوْلِيَائِكَ - وأَحْضَرُهُمْ بِالْكِفَايَةِ لِلْمُتَوَكِّلِينَ عَلَيْكَ - تُشَاهِدُهُمْ فِي سَرَائِرِهِمْ وتَطَّلِعُ عَلَيْهِمْ فِي ضَمَائِرِهِمْ - وتَعْلَمُ مَبْلَغَ بَصَائِرِهِمْ - فَأَسْرَارُهُمْ لَكَ مَكْشُوفَةٌ وقُلُوبُهُمْ إِلَيْكَ مَلْهُوفَةٌ - إِنْ أَوْحَشَتْهُمُ الْغُرْبَةُ آنَسَهُمْ ذِكْرُكَ - وإِنْ صُبَّتْ عَلَيْهِمُ الْمَصَائِبُ لَجَئُوا إِلَى الِاسْتِجَارَةِ بِكَ - عِلْماً بِأَنَّ أَزِمَّةَ الأُمُورِ بِيَدِكَ - ومَصَادِرَهَا عَنْ قَضَائِكَ.

اللَّهُمَّ إِنْ فَهِهْتُ عَنْ مَسْأَلَتِي

کھا کر برابر کر دیا ہے اورگویا کہ اب تم بھی وہیں پہنچ گئے ہوجہاں وہ پہنچ چکے ہیں اور تمہیں بھی اسی قبر نے گرو رکھ لیا ہے اور اسی امانت گاہ نے جکڑ لیا ہے۔

سوچو اس وقت کیا ہوگا جب تمہارے تمام معاملات آخری حد کو پہنچ جائیں گے اور دوبارہ قبروں سے نکال لیا جائے گا اس وقت ہرنفس اپنے اعمال کا خود محاسبہ کرے گا اور سب کو مالک برحق کی طرف پلٹا دیاجائے گا اور کسی کی کوئی افتر پردازی کام آنے والی نہ ہوگی

(۲۲۷)

آپ کی دعا کا ایک حصہ

(جس میں نیک راستہ کی ہدایت کا مطالبہ کیاگیا ہے)

پروردگار تو اپنے دوستوں کے لئے تمام انس فراہم کرنے والوں سے زیادہ سبب انس اور تمام اپنے اوپر بھروسہ کرنے والوں کے لئے سب سے زیادہ حاجت روائی کے لئے حاضر ہے۔توان کے پوشیدہ امور پر نگاہ رکھتا ہے۔ان کے اسرار پر اطلاع رکھتا ہے اور ان کی بصیرتوں کی آخری حدوں کوبھی جانتا ہے۔ان کے اسرار تیرے لئے روشن اور ان کے قلوب تیری بارگاہ میں فریادی ہیں۔جب غربت انہیں متوحش کرتی ہے تو تیری یاد انس کا سامان فراہم کر دیتی ہے اور جب مصائب ان پر انڈیل دئیے جاتے ہیں تو وہ تیریر پناہ تلاش کرلیتے ہیں اس لئے کہ انہیں اس بات کا علم ہے کہ تمام معاملات کی زمام تیرے ہاتھ میں ہے اور تمام امور کا فیصلہ تیری ذات سے صادر ہوتا ہے۔

خدایا ! اگرمیں اپنے سوالات کو پیش کرنے

۴۵۹

أَوْ عَمِيتُ عَنْ طِلْبَتِي - فَدُلَّنِي عَلَى مَصَالِحِي - وخُذْ بِقَلْبِي إِلَى مَرَاشِدِي - فَلَيْسَ ذَلِكَ بِنُكْرٍ مِنْ هِدَايَاتِكَ - ولَا بِبِدْعٍ مِنْ كِفَايَاتِكَ

اللَّهُمَّ احْمِلْنِي عَلَى عَفْوِكَ ولَا تَحْمِلْنِي عَلَى عَدْلِكَ.

(۲۲۸)

ومن كلام لهعليه‌السلام

يريد به بعض أصحابه

لِلَّه بَلَاءُ فُلَانٍ فَلَقَدْ قَوَّمَ الأَوَدَ ودَاوَى الْعَمَدَ - وأَقَامَ السُّنَّةَ وخَلَّفَ الْفِتْنَةَ - ذَهَبَ نَقِيَّ الثَّوْبِ قَلِيلَ الْعَيْبِ - أَصَابَ خَيْرَهَا وسَبَقَ شَرَّهَا - أَدَّى إِلَى اللَّه طَاعَتَه واتَّقَاه بِحَقِّه - رَحَلَ وتَرَكَهُمْ فِي طُرُقٍ مُتَشَعِّبَةٍ - لَا يَهْتَدِي بِهَا الضَّالُّ ولَا يَسْتَيْقِنُ الْمُهْتَدِي.

سے عاجز ہوں اور مجھے اپنے مطالبات کی راہ نظرنہیں آتی ہے تو تو میرے مصالح کی رہنمائی فرما اورمیرے دل کو ہدایت کی منزلوں تک پہنچا دے کہ یہ بات تیری ہدایتوں کے لئے کوئی انوکھی نہیں ہے اور تیریر حاجت روائیوں کے سلسلہ میں کوئی نرالی نہیں ہے۔

خدایا میرے معاملات کواپنے عفوو کرم پر محمول کرنا اورعدل و انصاف پر محمول نہ کرنا۔

(۲۲۸)

آپ کا ارشاد گرامی

(جس میں اپنے بعض اصحاب کا تذکرہ فرمایاہے )

اللہ فلاں شخص(۱) کا بھلا کرے کہ اس نے کجی کو سیدھا کیا اور مرض کا علاج کیا۔سنت کوقائم کیا اور فتنوں کو چھوڑ کر چلا گیا۔دنیا سے اس عالم میںگیا کہ اس کا لباس حیات پاکیزہ تھا اور اس کے عیب بہت کم تھے ۔ اس نے دنیا کے خیر کو حاصل کرلیا اور اس کے شر سے آگے بڑھ گیا۔اللہ کی اطاعت کاحق ادا کردیا اوراس سے مکمل طور پر خوفزدہ رہا۔وہ دنیا سے اس عالم میں رخصت ہوا کہ لوگ متفرق راستوں پرتھے جہاں نہ گمراہ ہدایت پا سکتا تھا اورنہ ہدایت یافتہ منزل یقین تک جا سکتا تھا۔

(۱)ابن ابی الحدید نے ساتویں صدی ہجری میں یہ انکشاف کیا کہ ان فقرات میں فلاں سے مراد حضرت عمر ہیں اور پھر اس کی وضاحت میں ۸۷ صفحے سیاہ کر ڈالے حالانکہ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ سید رضی کے دور کے نسخوں میں اس کاکوئی تذکرہ ہے اور پھر اسلامی دنیا کے سر براہ کی تعریف کے لئے لفظ فلاں کے کوئی معنی نہیں ہیں خطبہ شقشقیہ میں لفظ فلاں کا امکان ہے لیکن مدح میں لفظ فلاں عجیب و غریب معلوم ہوتا ہے۔اس لفظ سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کسی ایسے صحابی کا تذکرہ ہے جسے عام لوگ بردات نہیں کرس کتے ہیں اور امیرالمومنین اس کی تعریف ضروری تصور فرماتے ہیں۔

۴۶۰

461

462

463

464

465

466

467

468

469

470

471

472

473

474

475

476

477

478

479

480

481

482

483

484

485

486

487

488

489

490

491

492

493

494

495

496

497

498

499

500

501

502

503

504

505

506

507

508

509

510

511

512

513

514

515

516

517

518

519

520

521

522

523

524

525

526

527

528

529

530

531

532

533

534

535

536

537

538

539

540

541

542

543

544

545

546

547

548

549

550

551

552

553

554

555

556

557

558

559

560

561

562

563

564

565

566

567

568

569

570

571

572

573

574

575

576

577

578

579

580

581

582

583

584

585

586

587

588

589

590

591

592

593

594

595

596

597

598

599

600

601

602

603

604

605

606

607

608

609

610

611

612

613

614

615

616

617

618

619

620

621

622

623

624

625

626

627

628

629

630

631

632

633

634

635

636

637

638

639

640

641

642

643

644

645

646

647

648

649

650

651

652

653

654

655

656

657

658

659

660

661

662

663

664

665

666

667

668

669

670

671

672

673

674

675

676

677

678

679

680

681

682

683

684

685

686

687

688

689

690

691

692

693

694

695

696

697

698

699

700

701

702

703

704

705

706

707

708

709

710

711

712

713

714

715

716

717

718

719

720

721

722

723

724

725

726

727

728

729

730

731

732

733

734

735

736

737

738

739

740

741

742

743

744

745

746

747

748

749

750

751

752

753

754

755

756

757

758

759

760

761

762

763

764

765

766

767

768

769

770

771

772

773

774

775

776

777

778

779

780

781

782

783

784

785

786

787

788

789

790

791

792

793

794

795

796

797

798

799

800

801

802

803

804

805

806

807

808

809

810

811

812

813

814

815

816

817

818

819

820

821

822

823

824

825

826

827

828

829

830

831

832

833

834

835

836

837

838

839

840

841

842

843

844

845

846

847

848

849

850

851

852

853

854

855

856

857

858

859

860

861

862

863