نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)6%

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ) مؤلف:
: علامہ السید ذیشان حیدر جوادی قدس سرہ
زمرہ جات: متن احادیث
صفحے: 863

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 863 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 656979 / ڈاؤنلوڈ: 15925
سائز سائز سائز
نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

بسم الله الرحمن الرحیم

فریقین کے عقائد کا تحلیلی جائزہ

(ترجمہ فی رحاب العقیدۃ)

مولف

آیت اللہ العظمی سید محمد سعید طباطبائی حکیم (مد ظلہ العالی)

ترجمہ : مولانا شاہ مظاہر حسین

دوسری جلد

ناشر : انتشارات مرکز جہانی علوم اسلامی (قم ایران)

پہلاایڈیشن سنہ 1428 ھ مطابق سنہ 2007 ء سہ 1326 ھ شمسی

۱

عرض ناشر

خدا وند متعال کی لامتناہی عنایتوں اور ائمہ معصومین کی لاتعداد توجہات کے سہارے آج ہم دنیا میں انقلاب تغیر مشاہدہ کررہے ہین وہ بھی ایسا بے نظیر انقلاب اور تغیر جو تمام آسمانی ادیان میں صرف دین " اسلام" میں پایا جاتا ہے

گویا عصر حاضر میں اسلام نے اپنا ایک نیا رخ پیش کیا ہے یعنی دنیا کے تمام مسلمان بیدار ہوکر اپنی اصل ،(اسلام)کی طرف واپس ہورہے ہیں اور اپنے اصول وفروع ی تلاش کررہے ہیں-

آخر ایسے انقلاب وتغیر کی وجہ کیا ہوسکتی ہے ؟ سب سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم اس بات پرغور کریں کہ اس وقت اس کے آثار تمام اسلامی ممالک حتی مغربی دنیا میں بھی رونما ہوچکی ہے ۔اور دنیا کے آزاد فکر انسان تیزی کے ساتھ اسلام کی طرف مائل ہورہے ہیناور اسلامی معارف اور اصول سے واقف اور آگاہ ہونے کے طالب ہیں اور یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اسلام دنیا والوں کو ہرروز کونسا جدید پیغام دے رہا ہے ؟

ایسے حساس اور نازک موقعوں پر ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسلام کوکسی قسم کی کمی اور زیادتی کے بغیر واضح الفاظ، قابل درک ، سادہ عبارتوں اورآسان انداز مین عوام بلکہ دنیا والوں کے سامنے پیش کریں اور جو حضرات اسلام اور دیگر مذاہب سے آشنا ہونا چاہتے ہیں ہم اسلام کی حقیقت بیانی سے ان کی صدیوں ی پیاس بجھادیں اور کسی کو اپنی جگہ کوئی بات کہنے یا فیصلہ لینے کا موقع نہ دیں۔

۲

لیکن اس فرق کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ان سے تال میل نہ رکھا جائے یا ان کا نزدیک سے تعاون نہ کیا جائے ہونا تو یہ چایئے کہ تمام مسلمان ایک ہوکر ایک دوسرے کی مدد کریں اور اپنے اس آپسی تعاون اور تال میل کے سہارے مغرب کی ثقافتی حملوں کا جواب دیں اور اپنی حیثیت اور وجود کا اظہار کریں نیز اپنے مخالفین کو ان کے منصوبوں مین بھی کامیاب ہونے نہ دیں

سچ تو یہ ہے کہ ایسی مفاہمت ، تال میل ،مضبوطی اور گہرائی اسی وقت آسکتی ہے جب ہم اصول وضوابط کی رعایت کریں اس سے بھی اہم یہ ہے کہ تمام اسلامی فرقے ایک دوسرے ک معرفت اور شناخت حاصل کریں تاکہ ہر ایک کی خصوصیت دوسرے پر واضح ہو ، کیونکہ صرف معرفت سے ہی سوئے تفاہم ،غلط فہمی اور بدگمانی دورہوجائے گی اور امداد ،تعاون کا راستہ بھی خودبخود کھل جائے گا۔

آپ کے سامنے موجودہ " فی رحاب العقیدہ: نامی کتاب حضرت آیت اللہ العظمی سید محمد سعید حکیم دام ظلہ کی انتھک اور بے لوث کوششوں کا نتیجہ ہے جیسے اپنی مصروفیتوں کے باوجود کافی عرق ریزی کے ساتھ ، حوزہ علمیہ کھجوا بہار کے افاضل جناب مولانا مظاہر حسین صاحب نے ترجمہ سے آراستہ کیا اور حوزہ علمیہ کے ہونہار طالب افاضل نے اپنی بے مثال کوششوں سے نوک پلک سنوارتے ہوئے اس کتاب کی نشر واشاعت میں تعاول کیا ہے لہذا ہم اپنے تمام معاونین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خداوند منان سے دعا گو ہیں کہ ہو ان تمام حضرات کو اپنے سایہ لطف وکرم میں رکھتے ہوئے روز افزوں ان کی توفیقات میں اضافہ کرے اور لغزشوں کو اپنی عفو وبخشش سے درگزر فرمائے ۔ آمین

مرکز جہانی علوم اسلامی

معاونت تحقیق

۳

فہرست

عرض ناشر 2

پیش لفظ 17

سوال نمبر 1 21

سوال نمبر۔ 2 22

سوال نمبر۔ 3 23

سوال نمبر۔ 4 23

سوال نمبر۔ 5 23

سوال نمبر۔ 6 24

سوال نمبر ۔ 7 24

سوال نمبر۔ 8 24

سوال نمبر ۔ 9 25

تلاش حقیقت کے وقت جستجو کے حق کو ادا کرنا ضروری ہے 28

سنّی اور شیعہ روایتوں میں ہاتھ میں ہاتھ دینے کے معنی میں بیعت کا تذکرہ 31

اقرار ولایت اور قبول ولایت کے معنی میں بیعت ثابت ہے 33

حدیث غدیر سے استدلال بیعت پر موقوف نہیں ہے 34

حدیث غدیر سے امامت و خلافت پر مزید تاکید کے لئے شیعہ بیعت پر زور دیتے ہیں 35

حدیث غدیر سے امامت پر دلالت کو بعض قرینے ثابت کرتے ہیں 36

۴

جو ولی ہے وہی امام ہے اور اس کی اطاعت واجب ہے 37

سوال نمبر ۔ 1 39

لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ رضائے پروردگار کسی کے مرنے تک باقی رہے یعنی خدا ان سے مرنے کے وقت تک راضی رہے! 41

جنت کے وعدے کی وجہ سے سابقون اوّلون کی نجات پر استدلال 41

مدعا کے دو رخ ممکن ہیں 41

ہر مہاجر اور انصار کے لئے کامیابی اور جنت کا وعدہ 42

ہر صالح مومن کے لئے کامیابی کا وعدہ ہے 44

ہر مومن سے جنت اور کامیابی کا وعدہ ہے 45

ہر گنہگار اور بےراہ کو خسران اور عذاب کی وعید ہے 45

الہی وعدے حُسن خاتمہ سے مشروط ہیں 47

صحابہ کو فتنہ اور پھر جانے سے بچنے کی ہدایت 48

پھر کامیابی کا وعدہ مطلق کیوں؟ 51

تھوڑی سی گفتگو تا بعین کے بارے میں بھی ہوجائے 52

سابقون اوّلون میں کچھ لوگ مرتد بھی ہوگئے 53

سابقین اوّلین کے حالات ایسے نہیں کہ سب کی کامیابی کا یقین کر لیا جائے! 54

سابقین اوّلین کو قطعی طور پر نجات یافتہ مان لینا انھیں برائیوں کی طرف ترغیب دینا ہے 55

سابق الایمان ہونے سے ذمّہ داریاں بڑھ جاتی ہیں 57

کیا سابقون اولون کے معاملے میں دخل دینا چاہئے 58

۵

سابقون اوّلون مشخص ہی نہیں ہیں! 60

سابقون اوّلون نقد و جرح سے بالاتر نہیں ہیں اس پر امت کا اجماع ہے 61

صحابہ کی لفظ کا صرف سابقون اوّلون پر محمول کرنا ہی قابل تامل ہے 62

حاطب ابن ابی بلتعہ کے قصہ سے استدلال 66

حاطب بن ابی بلتعہ کے قصے میں احتیاط 67

مقام تقدّس میں صحابہ کو اہل بیت ؑ کے مقابلے میں لانے کی کوشش 67

نبی پر درود پڑھتے وقت اہل بیتؑ کو شامل کرنے کے بارے میں اہل سنّت کا نظریہ 68

اہل سنت کے نظریہ کی توجیہ میں طحاوی کا بیان 69

حدیث نبوی میں اختلاف اور امیرالمومنینؑ کا مشورہ 71

حضرت امام محمد باقرؑ کے وضعی حدیثوں کے بارے میں ارشادات 75

جعلی حدیثوں کے بارے میں مدائنی اور نفطو یہ کی روایت 77

جعلی حدیثوں میں صحاحِ ستّہ کا حصّہ 79

اہل بدر کے بارے میں وارد حدیثوں کا متن 80

مذکورہ حدیث کا پس منظر 81

قرآن مجید حاطب کے فعل کو غلط ثابت کرتا ہے 82

حدیث،اہل بدر کی قطعی سلامتی اور نجات کی ضمانت نہیں لیتی 84

اہل بدر کی قطعی سلامتی کا اعلان انھیں گناہ پر ابھارےگا 85

اس طرح کی حدیثوں میں گناہ کبیرہ سے بچنے کی قید لگانا ضروری ہے 87

۶

قرآن مجید حاطب کی جس طرح تہدید کرتا ہے اس سے سلامت قطعی نہیں سمجھی جاسکتی 88

تھوڑی سی گفتگو حدیث حاطب جیسی حدیثوں کے بارے میں 90

حکمت اور عقل کا تقاضا یہ ہے کہ حدیث حاطب کی تاویل کی جائے 91

واقعہ بدر کے علاوہ بھی ایسی چیزیں ہیں جن کے بارے میں سلامت قطعی وارد ہوئی ہے 93

حدیث مذکورہ اہل بدر سے مخصوص ہے نہ کی باقی سابقون اوّلون سے 96

سوال نمبر ۔ 2 97

بیعت رضوان کے بارے میں گفتگو 98

آیہ کریمہ رضا کو مطلق نہیں کرتے بلکہ رضا کا سبب بیان کرتی ہے 98

بعض آیتیں بتاتی ہیں کہ اس بیعت کے عہد کو پورا کرنا سلامتی کی شرط ہے 98

خدا کی رضا صرف بیعت رضوان والوں سے مخصوص نہیں ہے 100

رضا بشرط استقامت ہے اور اس کی تائید باقی رہےگی 102

غطبہ اور حسد میں فرق ہے 103

حسد اعظم محرمات میں سے ہے 104

اپنے اماموں کے بارے میں شیعوں کا نظریہ سنیوں کے اماموں کے بارے میں سنیوں کا نظریہ ان دونوں میں بہت فرق ہے 105

سوال نمبر۔ 3 109

جو ہورہا ہے اس کو ہونے دینا 110

حالات حاضرہ کو جاری رکھنا اور شرعی شکل دینا 110

خلافت کا تعین خدا کرتا ہے خلیفہ کو حق(نہیں کہ وہ دوسرے کے حق میں دست بردار ہوجائے) 111

۷

منصب(امامت)کی اہلیت صرف اسی میں ہوتی ہے جس کو اللہ منصب کے لئے معین کرتا ہے 113

عثمان کی خلافت پر کوئی نص نہیں تھی مگر وہ معزول ہونے پر تیار نہیں تھے 117

دورخلافت کے جاری رکھنے سے معالم حق کی بربادی لازم آتی ہے 118

اسلام کی اعلی ظرفی اجازت نہیں دیتی کہ شریعت الٰہیہ کی پیروی قہر و غلبہ اور بزور کروائی جائے 122

خلیفہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ امت کے کاروبار کو چلانے کے لئے اپنا نائب بنائے 123

شیعہ اچھی طرح اس بات کو سمجھتے ہیں کہ اہل بیت ؑ اپنے حق سے دست بردا رنہیں ہوئے 123

یہ دعویٰ کرنا کہ شیعہ اپنے اماموں کے بارے میں جھوٹ بولتے ہیں کہاںتک حقیقت پر مبنی ہے؟ 124

مذکورہ دعوی کی تردید اور شیعوں کی صداقت کے شواہد 124

جھوٹ بولنے کی کوئی وجہ نہیں ہے جب کہ شیعہ انھیں عقیدوں کی وجہ سے ہمیشہ بلاؤں کا سامنا کرتے رہے 125

اگر شیعہ مفتری ہوتے تو ان کے امام ان سے الگ ہوجاتے 126

ائمہ اہل بیتؑ کی میراث کا تحفظ شیعوں ہی نے کیا ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شیعہ ان حضرات سے مخصوص تھے 127

شیعوں کے کردار میں اماموں کے اخلاق کی جھلک 129

اہل سنت کی ائمہ اہل بیت علیہم السلام سے کنارہ کشی 131

شیعیان اہل بیت ع اور دشمنان اہل بیت ع کے بارے میں سنیوں کا نظریہ 131

ائمہ اہل بیت ؑ کے بارے میں علما اہل سنت کے کچھ نظریے 132

ائمہ اہل بیتؑ کے بارے میں عام سنیوں کے کچھ نظریئے 137

ائمہ اہل بیتؑ نے امت کی ہدایت و ثقافت اور تہذیب اخلاق کو اہمیت دی 141

جب جمہور نے منھ موڑ لیا تو آپ حضرات نے اپنے شیعوں کو بہت اہمیت دی 143

۸

عالم اسلام میں ائمہ اہل بیتؑ کا بہرحال ایک مقام ہے 144

خلافت کے معاملے میں ائمہ اہل بیت(ہدیٰ)علیہم السلام اور ان کے خاص لوگوں کی تصریحات 145

امیرالمومنین علیہ السلام کا امر خلافت کے معاملے میں صریحی بیان 146

امیرالمومنین علیہ السلام کے شکوے کی بہت سی خبریں ہیں 159

امیرالمومنینؑ کے شکوے پر ابن ابی الحدید کا نوٹ 160

امیرالمومنین علیہ السلام کے کلام سے رضا ظاہر نہیں ہوتی 161

خلافت کے بارے میں صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کا موقف 162

خلافت کے معاملے میں امام حسن علیہ السلام کا موقف 165

خلافت کے معاملے میں امام حسین علیہ السلام کا موقف 167

خلافت کے معاملے میں امام زین العابدین علیہ السلام کا موقف 170

خلافت کے معاملے میں امام محمد باقر علیہ السلام کا موقف 172

خلافت کے مسئلہ میں محمد بن حنفیہ کا موقف 173

خلافت کے بارے میں عباس بن عبدالمطلب کا موقف 174

امر خلافت میں فضل بن عباس کا نظریہ 174

امر خلافت میں عبداللہ بن عباس کا موقف 175

خطبہ شقشقیہ مقام تنقید میں 178

امیرالمومنین علی علیہ السلام کے خاص اصحاب اور امر خلافت 179

صادق اللہجہ ابوذر اور امر خلافت 179

۹

حذیفہ اور امر خلافت 180

شوریٰ کے متعلق بعض صحابہ کا موقف 180

بعض اعلام جمہور کی تصریحات 185

عمر بن خطاب کا اعتراف حق 185

خلافت کے بارے میں عثمان بن عفان کا نظریہ 188

معاویہ کا خط محمد بن ابی بکر کے نام 189

دوسری جگہوں پر معاویہ کا اعتراف حق 191

عمرو بن عاص کی بات بھی سنئے 192

عبداللہ بن زبیر کا نظریہ 192

علامہ علی بن فارقی کی باتیں 193

وہ واقعات جن سے اہل بیتؑ کا خلافت پر عدم اقرار ثابت ہوتا ہے 194

سقیفہ کی باتیں 194

سقیفہ کے بعد کیا ہوا 195

واقعات سقیفہ پر صدیقہ طاہرہ صلوات اللہ علیہا کا رد عمل 196

ابوبکر کی بیعت سے امیرالمومنینؑ کا باز رہنا 198

شوریٰ کے واقعات اور امیرالمومنینؑ اور آپؑ کے اصحاب کا نظریہ 198

امیرالمومنین ؑ اور آپ کے معاصرین کے کلام کا اثر یہ ہوا کہ شیعیت کے عقائد ظاہر ہوگئے 201

امیرالمومنین کا واضح موقف اور علما اہل سنت کا ادراک 207

۱۰

شیخین کے متعلق امیرالمومنین ؑ کے موقف کے بارے میں اسمٰعیل حنبلی کا واقعہ 207

یہ دعویٰ کہ ائمہ ؑ شیخین کی خلافت کا اقرار کرتے تھے اور ان سے راضی تھےمحتاج دلیل ہے 209

سوال نمبر ۔ 4 211

صحابہ کا نص سے تغافل یا نبی ؐ کا امر امت سے اہمال،کون بدتر ہے؟ 211

اس مفروضہ غفلت اور اہمال کا نتیجہ 216

اسلام کی پائیدار بلندی اور اس کا کمال رفعت 217

عدم نص کے نظریہ کی ناکامی وجود نص کی سب سے بڑی دلیل ہے 219

خود نبی ؐ کی حیات میں صحابہ کی نص سے مخالفت 219

حدیث حوض اور فتنوں سے ڈرانےوالی احادیث کی سنگینی کا پتہ دیتی ہیں 221

سابقہ امتوں کے واقعات 221

مخالفت تو ایسی نصوص کی بھی کی گئی جو امامت کے لئے دلیل نہیں تھی 222

انصار نے الائمۃ من قریش کی مخالفت کی 228

نبی نے صحابہ کو خبردار کردیا تھا کہ وہ امیرالمومنینؑ کے بارے میں نصوص کی مخالفت کریں گے 230

جن لوگوں نے نص کی مخالفت کی،ان کی تعداد بہت کم ہے 231

انسانی سماج کا مزاق وقت کے دھارے کے ساتھ مڑجاتا رہا ہے 232

ابوبکر کی بیعت پر اہل مدینہ کے اتفاق کا دعویٰ 233

مذکورہ دعویٰ کے بطلان کے شواہد 233

انصار کی کوشش کہ سعد بن عبادہ کی بیعت ہوجائے 235

۱۱

منافقین و طلقاء کی کارستانیاں 235

آنےوالےفتنوں کےبارےمیں رسول خدا ؐ کی پیشین گوئیاں 237

نبی اعظم ؐ اور مولائے کائنات ؑ منافقین کے ٹکراؤ سے بچتے تھے 239

انصار کے آرا اور ان کے نظریے 240

انصار و غیرہ نے خلافت کے لئے امیرالمومنین ؑ کا نام لیا 241

صحابہ کی جماعت کے نمایاں افراد علی ؑ کی طرف مائل تھے 243

انصار ابوبکر کی بیعت کرکے پچھتا رہے تھے 243

امیرالمومنین ؑ کو کمزور کرنے کی کوشش میں عباس کا استعمال 244

صدیقہ طاہرہ ؐ کا خطبہ اور آپ کا انصار کو خاص طور سے قیام کی دعوت دینا 246

خطبہ کی تاثیر توڑنے کے لئے ابوبکر کی چال 247

جب تک امیرالمومنین ؑ مسلمانوں سے الگ رہے لوگ جہاد کرنے کے لئے نہیں نکلے 249

بیرون مدینہ کے قبیلوں کا نظریہ اور مرتدین سے جنگ کی حقیقت 250

اہل بیتؑ کو خلافت سے الگ رکھنے اور بیعتِ ابوبکر سے بعض عرب قبیلوں کا انکار 251

کچھ عربوں کا اہل بیت ؑ کی خلافت کے لئے احتجاج 254

سابقہ بیان سے نتجہ کیا نکلا 255

ابوبکر کی بیعت کے بارے میں جدید الاسلام لوگوں کا موقف 256

حکومت کو مضبوط کرنے میں رنگروٹ مسلمانوں کا پیش پیش ہونا 256

عام صحابہ کی نصرتِ حق میں تقصیر 260

۱۲

امیرالمومنین ؑ کے اصولی موقوف پر بعض شواہد 261

نتیجہ چاہے تو ہو،امام منصوص کی آواز پر لبیک کہنا واجب ہے 262

امام منصوص کی نصرت نہ کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگوں نے نص کی اندیکھی کی 266

امامِ منصوص کی نصرت نہیں کرنا ایسا گناہ ہے جو قابلِ توبہ ہے 267

صحابہ کی امیرالمومنین ؑ کی طرف واپسی اور آپ کی مدد کرنا 268

قتل عثمان کے بعد صحابہ کا امیرالمومنین ؑ کی ہمراہی کرنا 268

امیر المومنین علیہ السلام کی طرف سے اصحابِ پیغمبر ؐ بڑے اور ذمہ دار عہدوں پر رکھے جاتے تھے 277

امیرالمومنینؑ کا اپنے خاص اصحاب کے لئے گریہ و اضطراب 277

معاویہ اصحاب امیرالمومنینؑ سے انتقام لیتا ہے 278

حجر بن عدی اور اصحاب حجر کی شہادت پر مسلمانوں کا اظہار نفرت 278

بنوامیہ،صحابہ کی اسلامی خدمات سے لوگوں کو بےخبر رکھنا چاہتے تھے 281

بنوامیہ اور حقیقتوں کو بدلنے کی کامیاب کوشش 284

معاویہ کی ہلاکت کے بعد اہل بیتؑ کے بارے میں صحابہ کا نظریہ 285

مناقب اہل بیتؑ بیان کرنے اور نص کی روایت کرنے میں صحابہ کی کوشش 286

امام حسینؑ نے صحابہ کو اہل بیتؑ کا حق ثابت کرنے کے لئے جمع کیا 286

آخر ابوبکر اور عمر نے سنت نبوی کی اشاعت پر پابندی کیوں لگادی تھی؟ 288

اکثر صحابہ کے حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ مولائے کاتناتؑ کی امامت کے حق ہونے کا اعتراف کرتے تھے 289

حضرت علیؑ کی بیعت ہوئی تو اکثر صحابہ نے یہ سمجھا کہ اب حق،حقدار تک پہنچا 289

۱۳

صحابہ کو پختہ یقین تھا کہ امیرالمومنینؑ ہی وصی پیغمبرؐ ہیں 294

اہل بیتؑ کو جو بھی شکایتیں ہیں قریش سے ہیں نہ کہ صحابہ سے 297

بہت سے صحابہ بلند مرتبہ پر فائز تھے 297

ائمہ ہدی علیہم الصلوٰۃ والسلام نے صحابہ کی بہت تعریف کی ہے 298

جو صحابہ حق پر ثابت قدم رہے ان کی محبت دینی فریضہ ہے 301

نتیجہ گفتگو 303

صحابہ کا یہ شرف تھا کہ وہ نص کا یقین رکھتے تھے 303

آیہ: کنتم خیر امة، پر گفتگو 305

سوال نمبر5 311

اس مشروع نظریہ کو عمل میں لانے کے لئے دور حاضر کے ماحول کا سازگار ہونا ضروری ہے 312

اس مشروع نظریہ کو نافذ نہ کرنے کی صورت میں دور حاضر میں مسلمانوں کی ذمہ داری 313

مذہبی اختلاف کی خلیج کو کم کرنا بہت ضروری ہے 314

یہ معلوم کرنا بہت ضروری ہے کہ مسلمانوں کے اختلاف اور سیاسی انحطاط کا سبب کیا ہے؟ 315

سوال نمبر۔ 6 319

ابوبکر کی نماز کے بارے میں شیعوں کی روایت 321

حادثہ صلوٰۃ کے سلسلے میں امیرالمومنینؑ کا عقیدہ سنیوں کی نظر میں 322

جب سرکار دو عالم ؐ نماز کے لئے نکلے تو آپ نے کیا کہا؟یہ بھی اختلافی مسئلہ ہے 326

روایت کی کچھ کمزوریاں،جو اس روایت کے لئے مصیبت بنی ہوئی ہیں 327

۱۴

نہ داستان نماز،ابوبکر کی خلافت پر نص ہے اور نہ ہی اصحاب نے اسے بیعت ابوبکر کے لئے لازم سمجھا 329

امام جماعت ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اس آدمی کے اندر امامت عامّہ کی بھی صلاحیت ہے 331

عمر نے خلافت کے بارے میں جب بھی گفتگو کی حادثہ صلوٰۃ کا ذکر بالکل نہیں کیا 335

ایک تقابلی مطالعہ 336

خلافت ایک اہم منصب ہے،اس کی طرف صرف اشار کرنا کافی نہیں ہے 345

حقیقت کا شبہات سے پاک ہونا ضروری ہے 345

دعوتِ اصلاح کے راستے میں رکاوٹیں 346

سب سے بڑی رکاوٹ خود اہل دعوت کا داخلی اختلافات ہوتا ہے 346

اختلاف و افتراق ہی کے درمیان آسمانی مذہب کی جانچ ہوجاتی ہے 346

قرآن مجید،اختلاف سے بچنے کی سخت ہدایت کرتا ہے 347

نبی کا اعلان کہ امت میں فرقے ہوں گے 347

مسلمانوں کو فتنوں سے ڈرایا گیا اور انہیں خوف دلایا گیا 348

اختلاف کے نتائج سے آگاہ کیا گیا اور اس کے خطروں سے خبردار کیا گیا 349

خطرناک اختلاف کے پیش نظر واضح و آشکار حجت کا ہونا لازم ہے 350

اختلاف کا سب سے بڑا سبب ریاست طلبی ہے 353

اسلام میں پہلا اختلاف سلطنت ہی کے لئے ہوا اور یہ سب سے خطرناک اختلاف تھا 354

اسلام،معرفتِ امام کو سختی سے واجب اور اس کی اطاعت فرض قرار دیتا ہے 355

حاکم برحق کی مادی کمزوری یہ ہے کہ وہ قانون شرع میں رعایت نہیں کرتا 355

۱۵

ناممکن ہے کہ نبیؐ نے امامت کی طرف صرف اشارے پر اکتفا کی ہو 356

اسلام کے پاس ایسے نظام کا ہونا ضروری ہے جو خلافت کی تکمیل کرتا ہو! 356

سوال نمبر ۔ 7 359

ائمہؑ کا علم دین سے اختصاص اکمال دین کے منافی نہیں ہے 359

اتنا ہی بتا دینا کافی ہے کہ احکام دین کا مرجع کون ہے؟ 360

جمہور اہل سنت کی روایتوں کے مطابق بھی بہت سے صحابہ علم میں ممتاز تھے 362

اہل سنت کو اہل بیتؑ کے ممتاز بالعلم ہونے کا اعتراف ہے 364

۱۶

پیش لفظ

الحمد لله علی رب العالمین و الصلاة و السلام علی اشرف الانبیاء و المرسلین وخاتم النبیین و علی آله المعصومین

بے شک خالق کائنات کی معرفت اور دین کی تبلیغ و ترویج انسان کا پہلا فریضہ ہے اور دین اسلام میں سب سے زیادہ اہمیت عقیدہ کی ہے جس پر انسان کی سعادت و کامیابی اور نجات کا انحصار ہے جیسا کہ قرآن کریم اور احادیث پیغمبر اعظمؐ سے صاف واضح ہے کہ جنت عقیدہ ہی کی بنیاد پر ملے گی عمل کے ذریعہ نہیں اور ویسے بھی خود عمل کا دار و مدار عقیدہ ہی پر ہے، اسی وجہ سے دین میں عقیدہ اور عمل کی مثال درخت کی جڑ اور شاخوں سے دی جاتی ہے اور یہ بات ہر ذی عقل و شعور پر واضح ہے کہ اگر جڑ میں خرابی آجائے تو شاخیں خودبخود خشک ہوجاتی ہیں اسی بنا پر جڑ کی اہمیت زیادہ ہے اور اس کا تحفظ اور خیال زیادہ رکھا جاتا ہے اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مرکز تحقیقات نشر علوم اسلامی امام حسن عسگری علیہ السلام نے جس کی بنیاد 16 جمادی الثانی 1425 ؁ بمطابق 2003 ؁کو رکھی گئی، خدمت دین اور انسانی عقیدہ کی صحت اور پختگی کے لئے عالم جلیل و فاضل و کامل بحرالشریعہ آیۃ اللہ فی العالمین عالم تشیع کے عظیم الشان مرجع حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ سید

۱۷

محمد سعید حکیم طباطبائی گراں بہا تالیف کا اردو ترجمہ کرایا جسے مرکز جہانی علوم اسلامی نے زیور طبع سے آراستہ کیا تا کہ ہر ایک کے لئے عقیدہ کی اصلاح و پختگی و تکمیل آسان ہوجائے،آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد سعید حکیم طباطبائی دنیائے عالم کے عظیم المرتبت مرجع تشیع سید محسن حکیم طاب ثراہ کے نواسے ہیں جن کی شخصیت محتاج تعارف نہیں ہے موصوف کی اس کے علاوہ بھی دیگر کتابیں زیر طبع ہیں جو انشااللہ عنقریب خدا کی توفیق و مدد اور آپ حضرات کی دعا سے منظر عام پر آجائیں گی،ادارہ بصد خلوص شکر گزار ہے آیۃ اللہ کا جنہوں نے اس گراں بہا تالیف کے ذریعہ سے قوم کی بے لوث خدمت کی اور ان محترم و مکرم علمائ و فضلائ مولانا مظاہر شاہ صاحب و مولانا کوثر مظہری صاحب مولانا سید نسیم رضا صاحب کا جنہوں نے اس کتاب کے ترجمہ و تصحیح کے ذریعہ ادارہ کا تعاون فرمایا ہم اس خدمت دین میں آپ حضرات کے نیک مشوروں کے خواہاں ہیں۔

آخر کلام میں خدائے مہربان سے دعاگو ہیں کہ ہمیں خلوص اور صدق نیت کے ساتھ خدمت دین کی زیادہ سے زیادہ توفیق عطا فرمائے۔

سید نسیم رضا زیدی

مرکز تحقیقات نشر علوم اسلامی امام حسن عسکریؑ قم المقدسہ ایران

۱۸

بسم الله الرحمن الرحیم

خدا کی تعریف اور اشرف انبیا ؐ اور آپ کی آل ؑ پاک اور اصحاب مکرمین پر درود و سلام کے بعد،علامہ عالی قدر جناب سید محمد سعید الحکیم صاحب خداوند عالم آپ کی حفاظت فرمائے اور آپ کی عمر طولانی فرمائے.

السلام علیکم و رحمة الله و برکاته

آپ نے میرے سوالوں کے جواب بھیجے وہ مجھ تک پہنچے،آپ نے جواب دینے میں بڑی محنت کی ہے،ہم آپ کے بےحد شکرگذار ہیں کہ آپ نے جواب دینے کی ذمہ داری قبول فرمائی اور کشادہ دلی سے کام لیا ۔ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ سنّی اور شیعہ کے درمیان علمی گفتگو کا ایک دروازہ کھلا جو بہت اہم بات ہے،خاص طور سے شیعوں کے شرعی معاملات کو ان کے تصورات کے اعتبار سے سمجھنے کا موقعہ ملا جس کی وجہ سے تاریکی زائل ہوگئی اور اہل سنّت،شیعہ مذہب کی جو غلط تفسیریں کرتے ہیں وہ بات معلوم ہوگئی اب سنّی حضرات،شیعوں کے بارے میں نظر ثانی کرنے پر مجبور ہوگئے اور انھیں انصاف کی نظر سے دیکھنے لگے جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ موضوع کتنا اہم ہے

معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ آپ نے جو جوابات دئیے ہیں اس کی کچھ تعلیقات بھی ہیں لیکن جیسا کہ آپ جانتے ہیں ان کا جواب بھی بہت جگرکاوی چاہتا ہے،اس لئے کہ آپ کے دئیے ہوئے

۱۹

جوابوں کو بہت توجہ سے پڑھنے کی ضروت ہے،ہمارے شہر کے سنّی علما کی بھی یہی رائے ہے اور ان کا بھی نظریہ اس گفتگو اور جواب کے بارے میں یہی ہے،میں دوسرے خطوں سے آپ کے علم میں ان کے نظریات لانے کی کوشش کروں گا،البتہ اس وقت کچھ دوسرے سوالات جن کا لگاؤ نفس ہدف سے ہے آپ کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں اور امید کرتا ہوں کہ جناب عالی ان کا جواب مرحمت فرمائیں گے،جس سے آپ کا نقطہ نظر واضح ہوسکے.

آخر میں ایک ضروری بات کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ غدیر کے بارے میں جو سوال میں نے کیا تھا اس میں ایک بہت ضروری بات رہ گئی جو بیعت کی بات تھی

اس سوال کا مقصد یہ تھا کہ غدیر میں مولائے کائنات علی علیہ السلام کی بیعت واقع ہوئی تھی یا نہیں؟واقعۂ غدیر کے بارے میں تو مجھے معلوم ہے کہ اہل سنّت کی کتابیں خصوصی طور پر اس واقعہ کے ذکر سے بھری پڑی ہیں امید کرتا ہوں کہ اس موضوع پر بھی آئندہ خطوط میں آپ توجہ فرمائیں گے ۔

الحمداللہ آپ کے جوابات بےمقصد نہیں ہیں،بلکہ ان سے فائدہ جلیلہ حاصل ہورہا ہے آپ کے جواب دینے کا طریقہ بہت اچھا ہے اور ترتیب بےمثال ہے خصوصاً اس کے لئے جو ایسے سوالوں کا جواب دے رہا ہو،آخر میں التماس ہے کہ آپ اپنی دعاؤں میں مجھے یاد رکھیں گے میں خدا سے امید کرتا ہوں کہ وہ مجھے توفیق عطا فرمائے تا کہ میں اس کے محبوب و پسندیدہ راہ پر گامزن اور مسلمانوں کی بھلائی کے کام کرسکوں.

و آخر دعوانا ان الحمد الله ربّ العالمین

۲۰

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417

418

419

420

421

422

423

424

425

426

427

428

429

430

431

432

433

434

435

436

437

438

439

440

(۲۱۹)

ومن كلام لهعليه‌السلام

لما مر بطلحة بن عبد الله وعبد الرحمن بن عتاب بن أسيد - وهما قتيلان يوم الجمل:

لَقَدْ أَصْبَحَ أَبُو مُحَمَّدٍ بِهَذَا الْمَكَانِ غَرِيباً - أَمَا واللَّه لَقَدْ كُنْتُ أَكْرَه أَنْ تَكُونَ قُرَيْشٌ قَتْلَى - تَحْتَ بُطُونِ الْكَوَاكِبِ - أَدْرَكْتُ وَتْرِي مِنْ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ - وأَفْلَتَتْنِي أَعْيَانُ بَنِي جُمَحَ - لَقَدْ أَتْلَعُوا أَعْنَاقَهُمْ إِلَى أَمْرٍ - لَمْ يَكُونُوا أَهْلَه فَوُقِصُوا دُونَه.

(۲۲۰)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في وصف السالك الطريق إلى اللَّه سبحانه

قَدْ أَحْيَا عَقْلَه وأَمَاتَ نَفْسَه حَتَّى دَقَّ جَلِيلُه - ولَطُفَ غَلِيظُه وبَرَقَ لَه لَامِعٌ كَثِيرُ الْبَرْقِ - فَأَبَانَ لَه الطَّرِيقَ وسَلَكَ بِه السَّبِيلَ - وتَدَافَعَتْه الأَبْوَابُ إِلَى بَابِ السَّلَامَةِ ودَارِ الإِقَامَةِ - وثَبَتَتْ رِجْلَاه بِطُمَأْنِينَةِ بَدَنِه فِي قَرَارِ الأَمْنِ والرَّاحَةِ - بِمَا اسْتَعْمَلَ قَلْبَه وأَرْضَى رَبَّه.

(۲۱۹)

آپ کا ارشاد گرامی

(جب روزجمل طلحہ بن عبداللہ اورعبدالرحمن بن عتاب بن اسید کی لاشوں کے قریب سے گزر ہوا )

ابومحمد (طلحہ) نے اس میدان میں عالم غربت میں صبح کی ہے۔خدا گواہ ہے کہ مجھے یہ بات ہر گز پسند نہیں تھی کہ قریش کے لاشے ستاروں کے نیچے زیرآسمان پڑے رہیں لیکن کیا کروں۔بہر حال میں نے عبد مناف کی اولاد سے ان کے کئے کا بدلہ لیلیا مگرافسوس کہ بنی جمج بچ کر نکل گئے ان سب نے اپنی گردنیں اس امر کی طرف اٹھائی تھیں جس کے یہ ہرگز اہل نہیں تھے۔اس لئے اس تک پہنچنے سے پہلے ہی ان کی گردنیں توڑ دی گئیں۔

(۲۲۰)

آپ کا ارشاد گرامی

( خدا کی راہ میں چلنے والے انسانوں کےبارے میں)

ایسےشخص نےاپنی عقل کوزندہ رکھا ہے اوراپنے نفس کو مردہ بنا دیا ہےاس کاجسم باریک ہوگیا ہےاوراس کا بھاری بھرکم جسد ہلکا ہوگیا ہے اس کےلئے بہترین ضوپاش نور ہدایت چمک اٹھا ہےاوراس نےراستہ کوواضح کرکے اسی پرچلا دیا ہے۔تمام دروازوں نے اسے سلامتی کے دروازرہ اورہمیشگی کے گھرتک پہنچا دیا ہے اوراس کےقدم طمانیت بدن کے ساتھ امن وراحت کی منزل میں ثابت ہوگئے ہیں کہ اس نےاپنےدل کواستعمال کیا ہے اوراپنے رب کو راضی کرلیا ہے

۴۴۱

(۲۲۱)

ومن كلام لهعليه‌السلام

قاله بعد تلاوته( أَلْهاكُمُ التَّكاثُرُ حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقابِرَ )

يَا لَه مَرَاماً مَا أَبْعَدَه وزَوْراً مَا أَغْفَلَه - وخَطَراً مَا أَفْظَعَه - لَقَدِ اسْتَخْلَوْا مِنْهُمْ أَيَّ مُدَّكِرٍ وتَنَاوَشُوهُمْ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ - أَفَبِمَصَارِعِ آبَائِهِمْ يَفْخَرُونَ - أَمْ بِعَدِيدِ الْهَلْكَى يَتَكَاثَرُونَ يَرْتَجِعُونَ مِنْهُمْ أَجْسَاداً خَوَتْ وحَرَكَاتٍ سَكَنَتْ - ولأَنْ يَكُونُوا عِبَراً أَحَقُّ مِنْ أَنْ يَكُونُوا مُفْتَخَراً - ولأَنْ يَهْبِطُوا بِهِمْ جَنَابَ ذِلَّةٍ - أَحْجَى مِنْ أَنْ يَقُومُوا بِهِمْ مَقَامَ عِزَّةٍ - لَقَدْ نَظَرُوا إِلَيْهِمْ بِأَبْصَارِ الْعَشْوَةِ - وضَرَبُوا مِنْهُمْ فِي غَمْرَةِ جَهَالَةٍ - ولَوِ اسْتَنْطَقُوا عَنْهُمْ عَرَصَاتِ تِلْكَ الدِّيَارِ الْخَاوِيَةِ - والرُّبُوعِ الْخَالِيَةِ لَقَالَتْ - ذَهَبُوا فِي الأَرْضِ ضُلَّالًا

(۲۲۱)

آپ کا ارشاد گرامی

(جسے الھکم التکاثرکی تلاوت کے موقع پر ارشاد فرمایا)

ذرا دیکھو تو ان آباء و اجداد پر فخر کرنے والوں کا مقصد کس قدربعیداز عقل ہے اور یہ زیارت کرنے والے کس قدر غافل ہیں اورخطرہ بھی کس قدر عظیم ہے۔یہ لوگ تمام عبرتوں سے خالی ہوگئے ہیں اور انہوںنے مردوں کو بہت دورسے لے لیا ہے۔آخر یہ کیا اپنے آباء واجداد کے لاشوں(۱) پر فخر کر رہے ہیں؟یا مردوں کی تعداد سے اپنی کثرت میں اضافہ کر رہے ہیں؟ یا ان جسموں کو واپس لانا چاہتے ہیںجو روحوں سے خالی ہو چکے ہیں بجائے ذلت کی منزل میں اترنا چاہیے تھا مگر افسوس کہ ان لوگوں نے ان مردوں کو چندھیائی ہوئی آنکھوں سے دیکھا اور ان کی طرف سے جہالت کے گڑھے میں گر گئے ہیں۔ اور گمان کے بارے میں گرے پڑے مکانوں اور خالی گھروں سے دریافت کیا جائے تو یہی جواب ملے گا کہ لوگ گمراہی کے عالم میں زیر زمین چلے گئے اورتم جہالت

(۱)یہ سلسلہ تفاخر ہر دور میں رہا ہے اور آج بھی برقرار ہے کہ انسان سامان عبرت کو وجہ فضیلت قرار دے رہا ہے اور اس طرح مسلسلوادی غفلت میں منزل دور تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔کاش اسے اس قدر شعور ہوتا کہ آباء واجاد کی بوسیدہ لاشیں یا قبریں باعث افتخار نہیں ہیں۔بعث افتخار انسان کا اپنا کردار ہے اور درحقیقت کردار بھی اس قابل نہیں ہے کہ اسے سرمایہ افتخار قرار دیا جا سکے۔انسان کے لئے وجہ افتخار صرف ایک چیز ہے کہ اس کامالک پروردگار ہے جو ساری کائنات سے بالا تر ہے جیسا کہ خود مولائے کائنات نے اپنی مناجات میں اشارہ کیا ہے کہ ''خدایا! میری عزت کے لئے یہ کافی ہے کہ میں تیرا بندہ ہوں اورمیرے فخر کے لئے یہ کافی ہے کہ تو میرا رب ہے۔اب اس کے بعد میرے لئے کسی شے کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔صرف التجا یہہے کہ جس طرح تو میری مرضی کا خدا ہے۔اسی طرح مجھے اپنی مرضی کاب ندہ بنالے۔

۴۴۲

وذَهَبْتُمْ فِي أَعْقَابِهِمْ جُهَّالًا - تَطَئُونَ فِي هَامِهِمْ وتَسْتَنْبِتُونَ فِي أَجْسَادِهِمْ - وتَرْتَعُونَ فِيمَا لَفَظُوا وتَسْكُنُونَ فِيمَا خَرَّبُوا - وإِنَّمَا الأَيَّامُ بَيْنَكُمْ وبَيْنَهُمْ بَوَاكٍ ونَوَائِحُ عَلَيْكُمْ.

أُولَئِكُمْ سَلَفُ غَايَتِكُمْ وفُرَّاطُ مَنَاهِلِكُمْ - الَّذِينَ كَانَتْ لَهُمْ مَقَاوِمُ الْعِزِّ - وحَلَبَاتُ الْفَخْرِ مُلُوكاً وسُوَقاً سَلَكُوا فِي بُطُونِ الْبَرْزَخِ سَبِيلًا سُلِّطَتِ الأَرْضُ عَلَيْهِمْ فِيه - فَأَكَلَتْ مِنْ لُحُومِهِمْ وشَرِبَتْ مِنْ دِمَائِهِمْ - فَأَصْبَحُوا فِي فَجَوَاتِ قُبُورِهِمْ جَمَاداً لَا يَنْمُونَ - وضِمَاراً لَا يُوجَدُونَ - لَا يُفْزِعُهُمْ وُرُودُ الأَهْوَالِ - ولَا يَحْزُنُهُمْ تَنَكُّرُ الأَحْوَالِ - ولَا يَحْفِلُونَ بِالرَّوَاجِفِ ولَا يَأْذَنُونَ لِلْقَوَاصِفِ - غُيَّباً

کے عالم میں ان کے پیچھے جا رہے ہو۔ان کی کھوپڑیوں کو روند رہے ہو۔اور ان کے جسموں پرعمارتیں کھڑی کر رہے ہو ۔جووہ چھوڑ گئے ہیں اسی کو چر رہے ہو اور جو وہ برباد کرگئے ہیں اسی میں سکونت پذیر ہو۔تہارے ور ان کے درمیان کے دن تمہارے حال پر رو رہے ہیں اور تمہاری بربادی کا نوحہ پڑھ رہے ہیں۔

یہ ہیں تمہاری منزل پر پہلے پہنچ جانے والے اور تمہارے چشموں پر پہلے وارد ہو جانے والے۔جن کے لئے عزت کی منزلیں تھیں اور فخرو مباہات کی فراوانیاں تھیں۔کچھ سلاطین وقت تھے اورکچھ دوسرے درجہ کے منصب دار۔لیکن سب برزخ کی گہرائیوں میں راہ پیمانی کر رہے ہیں ۔زمین ان کے اوپر مسلط کردی گئی ہے۔اس نے ان کا گوشت کھالیا ہے اورخون پی لیا ہے۔اب وہقبر کی گہرائیوں میں ایسے جماد ہوگئے ہیں جنمیں نمو نہیں ہے اور ایسے گم ہوگئے ہیں کہ ڈھونڈے نہیں مل رہے ہیں۔نہ ہولناک مصائب(۱) کا ورود انہیں خوف زدہ بنا سکتا ہے اور نہ بدلتے حالات انہیں رنجیدہ کر سکتے ہیں نہ انہیں زلزلوں کی پرواہ ہے اورنہ گرج اور کڑک کی اطلاع۔ایسے

(۱)یہ صورت حال کسی سکون اور اطمینان کا اشارہ نہیں ہے بلکہ دراصل انسان کی مد ہوشی اور بد حواسی کا اظہار ہے کہ صاحب عقل و شعور بھ جمادات کی شکل اختیار کر گیا ہے اور صورت حال یہ ہوگئی ہے کہ ادھر کے جملہ حالات سے بے خبر ہوگیا ہے لیکن ادھر کے حالات سے بے خیر نہیں ہے۔صبح و شام ارواح کے سامنے جہنم پیش نظر کیا جاتا ہے اور بے عمل اور بد کردار انسان ایک نئی مصیبت سے دوچار ہو جاتا ہے۔

درحقیقت مولائے کائنات نے ان فقرات میں مرنے والوں کے حالات کا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ زندہ افراد کو اس صورت حال سے بچانے کا انتظام کیا ہے کہ انسان اس انجام سے با خبر رہے اور چند روزہ دنیا کے بجائے ابدی عاقبت اورآخرت کا انتظام کرے جس سے بہرحال دو چار ہونا ہے اور اس سے فرار کا کوئی امکان نہیں ہے۔

۴۴۳

لَا يُنْتَظَرُونَ وشُهُوداً لَا يَحْضُرُونَ - وإِنَّمَا كَانُوا جَمِيعاً فَتَشَتَّتُوا وآلَافاً فَافْتَرَقُوا - ومَا عَنْ طُولِ عَهْدِهِمْ ولَا بُعْدِ مَحَلِّهِمْ - عَمِيَتْ أَخْبَارُهُمْ وصَمَّتْ دِيَارُهُمْ - ولَكِنَّهُمْ سُقُوا كَأْساً بَدَّلَتْهُمْ بِالنُّطْقِ خَرَساً - وبِالسَّمْعِ صَمَماً وبِالْحَرَكَاتِ سُكُوناً - فَكَأَنَّهُمْ فِي ارْتِجَالِ الصِّفَةِ صَرْعَى سُبَاتٍ - جِيرَانٌ لَا يَتَأَنَّسُونَ وأَحِبَّاءُ لَا يَتَزَاوَرُونَ - بَلِيَتْ بَيْنَهُمْ عُرَا التَّعَارُفِ - وانْقَطَعَتْ مِنْهُمْ أَسْبَابُ الإِخَاءِ - فَكُلُّهُمْ وَحِيدٌ وهُمْ جَمِيعٌ - وبِجَانِبِ الْهَجْرِ وهُمْ أَخِلَّاءُ - لَا يَتَعَارَفُونَ لِلَيْلٍ صَبَاحاً ولَا لِنَهَارٍ مَسَاءً. أَيُّ الْجَدِيدَيْنِ ظَعَنُوا فِيه كَانَ عَلَيْهِمْ سَرْمَداً - شَاهَدُوا مِنْ أَخْطَارِ دَارِهِمْ أَفْظَعَ مِمَّا خَافُوا - ورَأَوْا مِنْ آيَاتِهَا أَعْظَمَ مِمَّا قَدَّرُوا - فَكِلْتَا الْغَايَتَيْنِ مُدَّتْ لَهُمْ - إِلَى مَبَاءَةٍ فَاتَتْ مَبَالِغَ الْخَوْفِ والرَّجَاءِ - فَلَوْ كَانُوا يَنْطِقُونَ بِهَا - لَعَيُّوا بِصِفَةِ

غائب ہوئے ہیں کہ ان کا انتظار نہیں کیا جا رہا ہے اور ایسے حاضر ہیں کہ سامنے نہیں آتے ہیں۔کل سب یکجا تھے اب منتشر ہوگئے ہیں اور سب ایک دوسرے کے قریب تھے اور اب جدا ہوگئے ہیں۔ان کے حالات کے بے خبری اور ان کے دیار کی خاموشی طول زمان اور بعد مکان کی بنا پر نہیں ہے بلکہ انہیں موت کا وہ جام پلادیا گیا ہے جس نے ان کی گویائی کو گونگے پن میں اور ان کی سماعت کو بہرے پن میں اور ان کی حرکات کو سکون میں تبدیل کردیا ہے۔ان کی سرسری تعریف یہ ہوسکتی ہے کہ جیسے نیند میں بے خبر پڑے ہوں کہ ہمسائے ہیں لیکن ایک دوسرے سے مانوس نہیں ہیں اور احباب ہیں لیکن ملاقات نہیں کرتے ہیں۔ان کے درمیان باہمی تعارف کے رشتے بوسیدہ ہوگئے ہیں اوربرادری کے اسباب منقطع ہوگئے ہیں۔اب سب مجتمع ہونے کے باوجود اکیلے ہیں اور دوست ہونے کے باوجود ایک دوسرے کو چھوڑے ہوئے ہیں۔نہ کسی رات کو صبح سے آشنا ہیں اورنہ کسی صبح کی شام پہچانتے ہیں۔

دن و رات میں جس ساعت میں بھی دنیا سے گئے ہیں وہی ان کی ابدی ساعت ہے اوردار آخرت کے خطرات کو اس سے زیادہ دیکھ لیا ہے۔جس کا اس دنیا میں اندیشہ تھا اوراس کی نشانیوں کو اس سے زیادہ مشاہدہ کرلیا ہے جس کا انداہ کیا تھا۔اب اچھے برے دونوں طرح کے انجام کو کھینچ کرآخری منزل تک پہنچا دیا گیا ہے جہاں آخر درجہ کاخف بھی ہے اورویسی ہی امید بھی ہے۔یہ لوگ اگر بولنے کے لائق بھی ہوتے تو ان حالات کی توصیف

۴۴۴

مَا شَاهَدُوا ومَا عَايَنُوا.ولَئِنْ عَمِيَتْ آثَارُهُمْ وانْقَطَعَتْ أَخْبَارُهُمْ - لَقَدْ رَجَعَتْ فِيهِمْ أَبْصَارُ الْعِبَرِ - وسَمِعَتْ عَنْهُمْ آذَانُ الْعُقُولِ - وتَكَلَّمُوا مِنْ غَيْرِ جِهَاتِ النُّطْقِ - فَقَالُوا كَلَحَتِ الْوُجُوه النَّوَاضِرُ وخَوَتِ الأَجْسَامُ النَّوَاعِمُ - ولَبِسْنَا أَهْدَامَ الْبِلَى وتَكَاءَدَنَا ضِيقُ الْمَضْجَعِ - وتَوَارَثْنَا الْوَحْشَةَ وتَهَكَّمَتْ عَلَيْنَا الرُّبُوعُ الصُّمُوتُ - فَانْمَحَتْ مَحَاسِنُ أَجْسَادِنَا وتَنَكَّرَتْ مَعَارِفُ صُوَرِنَا - وطَالَتْ فِي مَسَاكِنِ الْوَحْشَةِ إِقَامَتُنَا - ولَمْ نَجِدْ مِنْ كَرْبٍ فَرَجاً ولَا مِنْ ضِيقٍ مُتَّسَعاً - فَلَوْ مَثَّلْتَهُمْ بِعَقْلِكَ - أَوْ كُشِفَ عَنْهُمْ مَحْجُوبُ الْغِطَاءِ لَكَ - وقَدِ ارْتَسَخَتْ أَسْمَاعُهُمْ بِالْهَوَامِّ فَاسْتَكَّتْ - واكْتَحَلَتْ أَبْصَارُهُمْ بِالتُّرَاب فَخَسَفَتْ - وتَقَطَّعَتِ الأَلْسِنَةُ فِي أَفْوَاهِهِمْ بَعْدَ ذَلَاقَتِهَا - وهَمَدَتِ الْقُلُوبُ فِي صُدُورِهِمْ بَعْدَ يَقَظَتِهَا - وعَاثَ فِي كُلِّ جَارِحَةٍ مِنْهُمْ جَدِيدُ بِلًى سَمَّجَهَا - وسَهَّلَ طُرُقَ الآفَةِ إِلَيْهَا -

نہیں کر سکتے تھے جن کا مشاہدہ کرلیا ہے اوراپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے۔ اب اگران کے آثار گم بھی ہو گئے ہیں اور ان کی خبریں منقطع بھی ہوگئی ہیں تو عبرت کی نگاہیں بہر حال انہیں دیکھ رہی ہیں اور عقل کے کان بہرحال ان کی داستان غم سن رہے ہیں اور وہ زبان کے بغیر بھی بول رہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ شاداب چہرے سیاہ ہو چکے ہیں اور نرم و نازک اجسام مٹی میں مل گئے ہیں۔بوسیدگی کا لباس زیب تن ہے اورتنگی مرقد نے تھکاڈالا ہے ۔وحشت ایک دوسرے کی وراثت ہے اور خاموش منزلیں ویران ہوچکی ہیں۔جسم کے محاسن محو ہو چکے ہیں ۔اور جانی پہچانی صورت بھی انجان ہوگئی ہے۔منزل وحشت میں قیام طویل ہوگیا ہے اور کسی کرب سے راحت کی امید نہیں ہے اور نہ کسی تنگی میں وسعت کا کوئی امکان ہے۔

اب اگر تم اپنی عقلوں سے ان کی تصویر کشی کرو یا تم سے غیب کے پردے اٹھا دئیے جائیں اور تم انہیں اس عالم میں دیکھ لو کہ کیڑوں(۱) کی وجہ سے ان کی قوت سماعت ختم ہ چکی ہے اور وہ بہرے ہو چکے ہیں اور ان کی آنکھوں میں مٹی کا سرمہ لگا دیا گیا ہے اور وہ ہنس چکی ہیں اور زبانیں دہن کے اندر روانی کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہو چکی ہیں اور دل سینوں کے اندر بیداری کے بعد سوچکے ہیں اور ہر عضو کوایک نئی بوسیدگی نے تباہ کرکے بدہئیت بنادیا ہے اورآفتوں کے راستوں

(۱)امیر المومنین کی تصویر کشی پر ایک لفظ کے بھی اضافہ کی گنجائش نہیں ہے اورابو تراب سے بہتر زیر زمین کا نقشہ کون کھینچ سکتا ہے۔بات صرف یہ ہے کہ انسان اس سنگین صورت حال کا اندازہ کرے اور اس تصویر کو اپنی نگاہ عقل و بصیرت میں مجسم بنائے تاکہ اسے اندازہ ہو کہ اس دنیا کی حیثیت اوراوقات کیا ہے اور اس کا انجام کیا ہونے والا ہے۔

۴۴۵

مُسْتَسْلِمَاتٍ فَلَا أَيْدٍ تَدْفَعُ ولَا قُلُوبٌ تَجْزَعُ - لَرَأَيْتَ أَشْجَانَ قُلُوبٍ وأَقْذَاءَ عُيُونٍ - لَهُمْ فِي كُلِّ فَظَاعَةٍ صِفَةُ حَالٍ لَا تَنْتَقِلُ - وغَمْرَةٌ لَا تَنْجَلِي - فَكَمْ أَكَلَتِ الأَرْضُ مِنْ عَزِيزِ جَسَدٍ وأَنِيقِ لَوْنٍ - كَانَ فِي الدُّنْيَا غَذِيَّ تَرَفٍ ورَبِيبَ شَرَفٍ - يَتَعَلَّلُ بِالسُّرُورِ فِي سَاعَةِ حُزْنِه - ويَفْزَعُ إِلَى السَّلْوَةِ إِنْ مُصِيبَةٌ نَزَلَتْ بِه - ضَنّاً بِغَضَارَةِ عَيْشِه، وشَحَاحَةً بِلَهْوِه ولَعِبِه فَبَيْنَا هُوَ يَضْحَكُ إِلَى الدُّنْيَا وتَضْحَكُ إِلَيْه - فِي ظِلِّ عَيْشٍ غَفُولٍ إِذْ وَطِئَ الدَّهْرُ بِه حَسَكَه - ونَقَضَتِ الأَيَّامُ قُوَاه - ونَظَرَتْ إِلَيْه الْحُتُوفُ مِنْ كَثَبٍ - فَخَالَطَه بَثٌّ لَا يَعْرِفُه ونَجِيُّ هَمٍّ مَا كَانَ يَجِدُه - وتَوَلَّدَتْ فِيه فَتَرَاتُ عِلَلٍ آنَسَ مَا كَانَ بِصِحَّتِه - فَفَزِعَ إِلَى.

کو ہموار کردیا ہے کہ اب سب مصائب کے لئے سراپا تسلیم ہیں نہ کوئی ہاتھ دفاع کرنے واا ہے اور نہ کوئی دل بے چین ہونے والا ہے۔تو یقینا وہمناظر دیکھوگے جو دل کو رنجیدہ بنادیں گے اورآنکھوں میں خس و خاشاک ڈال دیں گے۔ان غریبوں کے لئے مصیبت میں وہ کیفیت ہے جو بدلتی نہیں ہے اور وہ سختی ہے جو ختم نہیں ہوتی ہے۔

اف یہ زمین کتنے عزیز ترین(۱) بدن اور حسین ترین رنگ کھا گئی جن کو دولت و راحت کی غذا مل رہی تھی اور جنہیں شرف کی آغوش میں پالا گیا تھا۔جو حزن کے اوقات میں بھی مسرت کا سامان کرلیا کرتے تھے اور اگر کوئی مصیبت آن پڑتی تھی تو اپنے عیش کی تازگیوںپر للچائے رہنے اور اپنے لہو و لعب پر فریفتہ ہونے کی بنا پر تسلی کا سامان فراہم کرلیا کرتے تھے ۔یہ ابھی غفلت میں ڈال دینے والے عیش کے زیر سایہ دنیا کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے اور دنیا انہیں دیکھ کر ہنس رہی تھی کہ اچانک زمانے نے انہیں کانٹوں کی طرح روند دیا اور روز گار نے ان کا سارا زور توڑ دیا۔موت کی نظریں قریب سے ان پر پڑنے لگیں اورانہیں ایسے رنج میں مبتلا کردیا جس کا اندازہ بھی نہ تھا اور ایسے قلق کا شکار ہوگئے جس کا کوئی سابقہ بھی نہ تھا ابھی وہ صحت سے مانوس تھے کہ ان میں مرض کی کمزوریاں پیدا ہوگئی اور انہوں نے ان اسباب کی پناہ ڈھونڈنا شروع کردی

(۱)حقیقت امر یہ ہے کہ زیر زمین خاک کاڈھیر بن جانے والے کیسی کیسی زندگیاں گذار گئے ہیں اور کس کس طر کی راحت پسندیوں سے گزر چک ہیں لیکن آج موت ان کی حیثیت کا اقرار کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔اور قبر ان کے کسی احترام کی قائل نہیں ہے۔یہ توصرف ایمان و کردار یا صاحب قبر و بارگاہ کے جوار کا اثر ہے کہ انسان فشار قبر اور بوسیدگی جسم سے محفوظ رہ جائے۔ورنہ زمین اپنے ٹکڑوں کو اصل سے ملادینے میں کسی طرح کے تکلف سے کام نہیں لیتی ہے۔

۴۴۶

مَا كَانَ عَوَّدَه الأَطِبَّاءُ - مِنْ تَسْكِينِ الْحَارِّ بِالْقَارِّ وتَحْرِيكِ الْبَارِدِ بِالْحَارِّ - فَلَمْ يُطْفِئْ بِبَارِدٍ إِلَّا ثَوَّرَ حَرَارَةً - ولَا حَرَّكَ بِحَارٍّ إِلَّا هَيَّجَ بُرُودَةً - ولَا اعْتَدَلَ بِمُمَازِجٍ لِتِلْكَ الطَّبَائِعِ - إِلَّا أَمَدَّ مِنْهَا كُلَّ ذَاتِ دَاءٍ - حَتَّى فَتَرَ مُعَلِّلُه وذَهَلَ مُمَرِّضُه - وتَعَايَا أَهْلُه بِصِفَةِ دَائِه - وخَرِسُوا عَنْ جَوَابِ السَّاِئِلينَ عَنْه - وتَنَازَعُوا دُونَه شَجِيَّ خَبَرٍ يَكْتُمُونَه - فَقَائِلٌ يَقُولُ هُوَ لِمَا بِه ومُمَنٍّ لَهُمْ إِيَابَ عَافِيَتِه - ومُصَبِّرٌ لَهُمْ عَلَى فَقْدِه - يُذَكِّرُهُمْ أُسَى الْمَاضِينَ مِنْ قَبْلِه - فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ عَلَى جَنَاحٍ مِنْ فِرَاقِ الدُّنْيَا - وتَرْكِ الأَحِبَّةِ - إِذْ عَرَضَ لَه عَارِضٌ مِنْ غُصَصِه - فَتَحَيَّرَتْ نَوَافِذُ فِطْنَتِه ويَبِسَتْ رُطُوبَةُ لِسَانِه - فَكَمْ مِنْ مُهِمٍّ مِنْ جَوَابِه عَرَفَه فَعَيَّ عَنْ رَدِّه - ودُعَاءٍ مُؤْلِمٍ بِقَلْبِه سَمِعَه فَتَصَامَّ عَنْه - مِنْ كَبِيرٍ

جن کا اطباء نے عادی بنادیا تھا کہ گرم کا سرد سے علاج کریں اورسردی میں گرم دوا کی تحریک پیداکریں لیکن سرد دوائوں نے حرارت کو اوربھڑکا دیا اور گرم دوانے حرکت کے بجائے برودت میں اور ہیجان پیدا کردیا اور کسی مناسب طبیعت دواسے اعتدال نہیں پیدا ہو ا بلکہ اس نے مرض کو اور طاقت بخش دی۔یہاں تک کہ تیمار دار سست ہوگئے اور علاج کرنے والے غفلت برتنے لگے۔گھروالے مرض کی حالت بیان کرنے سے عاجزآگئے اور مزاج پرسی کرنے والوں کے جواب سے خاموشی اختیارکرلی اور درد ناک خبرکو چھپانے کے لئے آپس میں اختلاف کرنے لگے۔ایک کہنے لگا کر جو ہے وہ ہے۔دوسرے نے امید دلائی کہ صحت پلٹ آئے گی۔تیسرے نے موت پر صبر کی تلقین شروع کردی اورگذشتہ لوگوں کے مصائب یاد دلانے لگا۔

ابھی وہ اسی عالم میں دنیا کے فراق اوراحباب کی جدائی کے لئے پر تول رہا تھا کہ اس کے گلے میں ایک پھندہ پڑ گیا(۱) جس سے اس کی ذہانت و ہوشیاری پریشانی کاش کار ہوگئی اور زبان کی رطوبت خشکی میں تبدیل ہوگئی ۔کتنے ہی مبہم سوالات تھے جن کے جوابات اسے معلوم تھے لیکن بیان سے عاجز تھا اور کتنی ہی درد ناک آوازیں ان کے کان سے ٹکرا رہی تھی جن کے سننے سے بہرہ ہوگیا تھا وہ آوازیں کسی بزرگ کی تھیں

(۱)ہائے وہ بے کسی کاعالم کہ نہ مرنے والا درد دل کی ترجمانی کر سکتا ہے اور نہ رہ جانے والے اس کے کسی درد کا علاج کرسکتے ہیں۔جب کہ دونوں آمنے سامنے زندہ موجود ہیں تو اسی کے بعد کسی سے کیا توقع رکھی جائے جب ایک موت کی آغوش میں سو جائے گا اوردوسرا کنج لحد کے حالات سے بھی بے خبر ہو جائے گا اوراسے مرنے والے کے حالات کی بھی اطلاع نہ ہوگی۔ کیا یہ صورت حال اس امرکی دعوت نہیں دیتی ہے کہ انسان اس دنیا سے عبرت حاصل کرے اوراہل دنیا پر اعتماد کرنے کے بجائے اپنے ایمان کردار اور اولیاء الٰہی کی نصرت وحمایت حاصل کرنے پر توجہ دے کہ اس کے علاوہ کوئی سہارا نہیں ہے۔

۴۴۷

كَانَ يُعَظِّمُه أَوْ صَغِيرٍ كَانَ يَرْحَمُه - وإِنَّ لِلْمَوْتِ لَغَمَرَاتٍ هِيَ أَفْظَعُ مِنْ أَنْ تُسْتَغْرَقَ بِصِفَةٍ - أَوْ تَعْتَدِلَ عَلَى عُقُولِ أَهْلِ الدُّنْيَا

(۲۲۲)

ومن كلام لهعليه‌السلام

قاله عند تلاوته:( يُسَبِّحُ لَه فِيها بِالْغُدُوِّ والآصالِ رِجالٌ - لا تُلْهِيهِمْ تِجارَةٌ ولا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ الله).

إِنَّ اللَّه سُبْحَانَه وتَعَالَى جَعَلَ الذِّكْرَ جِلاءً لِلْقُلُوبِ - تَسْمَعُ بِه بَعْدَ الْوَقْرَةِ وتُبْصِرُ بِه بَعْدَ الْعَشْوَةِ - وتَنْقَادُ بِه بَعْدَ الْمُعَانَدَةِ - ومَا بَرِحَ لِلَّه عَزَّتْ آلَاؤُه فِي الْبُرْهَةِ بَعْدَ الْبُرْهَةِ - وفِي أَزْمَانِ الْفَتَرَاتِ عِبَادٌ نَاجَاهُمْ فِي فِكْرِهِمْ - وكَلَّمَهُمْ فِي ذَاتِ عُقُولِهِمْ - فَاسْتَصْبَحُوا بِنُورِ يَقَظَةٍ فِي الأَبْصَارِ والأَسْمَاعِ والأَفْئِدَةِ - يُذَكِّرُونَ بِأَيَّامِ اللَّه ويُخَوِّفُونَ مَقَامَه - بِمَنْزِلَةِ الأَدِلَّةِ فِي الْفَلَوَاتِ

جنکا احترام کیا کرتا تھا یا ان بچوں کی تھیں جن پر رحم کیا کرتا تھا۔لیکن موت کی سختیاں ایسی ہی ہیں جو اپنی شدت میں بیان کی حدوں میں نہیں آسکتی ہیں اور اہل دنیا کی عقلوں کے اندازوں پرپوری نہیں اتر سکتی ہیں۔

(۲۲۲)

آپ کا اشاد گرامی

(جسے آیت کریمہ '' یسبح لہ فیھا بالغدوو الاصال رجال'' ان گھروں میں صبح و شام تسبیح پروردگار کرنے والے وہ افراد ہیں جنہیں تجارت اورکاروبار یاد خداس ے غافل نہیں بنا سکتا ہے۔کی تلاوت کے موقع پر ارشاد فرمایا :)

پروردگار نے اپنے ذکر کو دلوں کے لئے صیقل قراردیا ہے جس کی بنا پر وہ بہرے پن کے بعد سننے لگتے ہیں اور اندھے پن کے بعد دیکھنے لگتے ہیں اور رعنا و اور ضد کے بعد مطیع و فرمانبردار ہو جاتے ہیں اور خدائے عزوجل ( جس کی نعمتیں عظیم و جلیل ہیں ) کے لئے ہردور میں اور ہر عہد فترت میں ایسے بندے رہے ہیں جن سے اس نے ان کا افکار کے ذریعہ راز دارانہ گفتگو کی ہے اور ان کی عقلوں کے وسیلہ سے ان سے کلام کیا ے اور انہوں نے اپنی بصارت ' سماعت اورفکر کی بیداری کے نور سے روشنی حاصل کی ہے۔انہیں اللہ کے مخصوص دنوں کی یاد عطا کی گئی ہے اور وہ اس کی عظمت سے خوف زدہ رہتے ہیں۔ان کی مثال بیابانوں کے راہنمائوں جیسی ہے

۴۴۸

مَنْ أَخَذَ الْقَصْدَ حَمِدُوا إِلَيْه طَرِيقَه وبَشَّرُوه بِالنَّجَاةِ ومَنْ أَخَذَ يَمِيناً وشِمَالًا ذَمُّوا إِلَيْه الطَّرِيقَ - وحَذَّرُوه مِنَ الْهَلَكَةِ - وكَانُوا كَذَلِكَ مَصَابِيحَ تِلْكَ الظُّلُمَاتِ - وأَدِلَّةَ تِلْكَ الشُّبُهَاتِ - وإِنَّ لِلذِّكْرِ لأَهْلًا أَخَذُوه مِنَ الدُّنْيَا بَدَلًا - فَلَمْ تَشْغَلْهُمْ تِجَارَةٌ ولَا بَيْعٌ عَنْه - يَقْطَعُونَ بِه أَيَّامَ الْحَيَاةِ - ويَهْتِفُونَ بِالزَّوَاجِرِ عَنْ مَحَارِمِ اللَّه فِي أَسْمَاعِ الْغَافِلِينَ - ويَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ ويَأْتَمِرُونَ بِه - ويَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ويَتَنَاهَوْنَ عَنْه - فَكَأَنَّمَا قَطَعُوا الدُّنْيَا إِلَى الآخِرَةِ وهُمْ فِيهَا - فَشَاهَدُوا مَا وَرَاءَ ذَلِكَ - فَكَأَنَّمَا اطَّلَعُوا غُيُوبَ أَهْلِ الْبَرْزَخِ فِي طُولِ الإِقَامَةِ فِيه - وحَقَّقَتِ الْقِيَامَةُ عَلَيْهِمْ عِدَاتِهَا - فَكَشَفُوا غِطَاءَ ذَلِكَ لأَهْلِ الدُّنْيَا - حَتَّى كَأَنَّهُمْ يَرَوْنَ مَا لَا يَرَى النَّاسُ ويَسْمَعُونَ مَا لَا يَسْمَعُونَ - فَلَوْ مَثَّلْتَهُمْ لِعَقْلِكَ  

کہ جو صحیح راستہ پر چلتا ہے اس کی روش کی تعریف کرتے ہیں اوراسے نجات کی بشارت دیتے ہیں اور جوداہنے بائیں چلا جاتا ہے اس کے راستہ کی مذمت کرتے ہیں اور اسے ہلاکت سے ڈراتے ہیں اور اسی اندازس ے یہ ظلمتوں کے چراغ اور شبہات کے رہنما ہیں۔

بیشک ذکرخدا کے بھی کچھ اہل ہیں جنہوں نے اسے ساری دنیا کا بدل قراردیا ہے اور اب انہیں تجارت یا خریدو فروخت اس ذکر سے غافل نہیں کرسکتی ہے ۔ یہ اس کے سہارے زندگی کے دن کاٹتے ہیں اور غافلوں کے کانوں میں محرمات کے روکنے والی آوازیں داخل کر دیتے ہیں۔لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیتے ہیں اور خود بھی اسی پر عمل کرتے ہیں۔برائیوں سے روکتے ہیں اور خودبھی باز رہتے ہیں۔گویا انہوں نے دنیا میں رہ کرآخرت تک کا فاصلہ طے کرلیا ہے اور پس پردۂ دنیا جو کچھ ہے سب دیکھ لیا ہے اور گویاکہ انہوں نے برزخ کے طویل و عریض زمانہ کے مخفی حالات پر اطلاع حاصل کرلی ہے اورگویا کہ قیامت نے ان کے لئے اپنے وعدوں کو پورا کردیا ہے اور انہوں نے اہل دنیا کے لئے اس پردہ(۱) کواٹھا دیا ہے۔کہ اب وہ ان چیزوں کو دیکھ رہے ہیں جنہیں عام لوگن ہیں دیکھ سکتے ہیں اور ان آوازوں کو سن رہے ہیں جنہیں دوسرے لوگ نہیں سن سکتے ہیں اگر تم اپنی عقل سے ان کی اس تصویر کو تیار کرو

(۱)ان حقائق کا صحیح اظہر وہی انسان کر سکتا ہے جو یقین کی اس آخری منزل پر فائز ہو جس کے بعد خود یہ اعلان کرتا ہو کہ اب اگر پردے ہٹا بھی دئیے جائیں تو یقین میں کسی طرح کا اضافہ نہیں ہو سکتا ہے۔اور حقیقت امر یہ ہے کہ اسلام میں اہل ذکر صرف صاحبان علم و فضل کا نام نہیں ہے بلکہ ذکر الٰہی کا اہل ان افراد کو قرا دیا گیا ہے جو تقویٰ اور پرہیز گاری کی آخری منزل پر ہوں اورآخرت کو اپنی نگاہوں سے دیکھ کر ساری دنیا کو راہ و وچاہ سے آگاہ کر رہے ہوں ملائکہ مقربین ان کے گرد گھیرے ڈالے ہوں لیکن اس کیب عد بھی عظمت جلال الٰہی کے تصورس ے اپنے اعمال کو بے قیمت سمجھ کر لرز رہے ہوں اور مسلسل اپنی کوتاہیوں کا اقرار کر رہے ہوں۔

۴۴۹

فِي مَقَاوِمِهِمُ الْمَحْمُودَةِ - ومَجَالِسِهِمُ الْمَشْهُودَةِ - وقَدْ نَشَرُوا دَوَاوِينَ أَعْمَالِهِمْ - وفَرَغُوا لِمُحَاسَبَةِ أَنْفُسِهِمْ عَلَى كُلِّ صَغِيرَةٍ وكَبِيرَةٍ - أُمِرُوا بِهَا فَقَصَّرُوا عَنْهَا أَوْ نُهُوا عَنْهَا فَفَرَّطُوا فيهَا - وحَمَّلُوا ثِقَلَ أَوْزَاِرِهمْ ظُهُورَهُمْ - فَضَعُفُوا عَنِ الِاسْتِقْلَالِ بِهَا - فَنَشَجُوا نَشِيجاً وتَجَاوَبُوا نَحِيباً - يَعِجُّونَ إِلَى رَبِّهِمْ مِنْ مَقَامِ نَدَمٍ واعْتِرَافٍ - لَرَأَيْتَ أَعْلَامَ هُدًى ومَصَابِيحَ دُجًى - قَدْ حَفَّتْ بِهِمُ الْمَلَائِكَةُ - وتَنَزَّلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ - وفُتِحَتْ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وأُعِدَّتْ لَهُمْ مَقَاعِدُ الْكَرَامَاتِ - فِي مَقْعَدٍ اطَّلَعَ اللَّه عَلَيْهِمْ فِيه - فَرَضِيَ سَعْيَهُمْ وحَمِدَ مَقَامَهُمْ - يَتَنَسَّمُونَ بِدُعَائِه رَوْحَ التَّجَاوُزِ - رَهَائِنُ فَاقَةٍ إِلَى فَضْلِه وأُسَارَى ذِلَّةٍ لِعَظَمَتِه - جَرَحَ طُولُ الأَسَى قُلُوبَهُمْ وطُولُ الْبُكَاءِ عُيُونَهُمْ - لِكُلِّ بَابِ رَغْبَةٍ إِلَى اللَّه مِنْهُمْ يَدٌ قَارِعَةٌ - يَسْأَلُونَ مَنْ لَا تَضِيقُ لَدَيْه الْمَنَادِحُ -

جو ان کے قابل تعریف مقامات اور قابل حضور مجالس کی ہے۔جہاں انہوں نے اپنے اعمال کے دفتر پھیلائے ہوئے ہیں اور اپنے ہرچھوٹے بڑے عمل کاحساب دینے کے لئے تیار ہیں جن کا حکمدیا گیا تھا اور ان میں کوتاہی ہوگئی ہے یا جن سے روکا گیاتھا اور تفصیر ہوگئی ہے اور اپنی پشت پر تمام اعمال کابوجھ اٹھائے ہوئے ہیں لیکن اٹھانے کے قابل نہیں ہیں اور اب روتے روتے ہچکیاں بندھ گئی ہیں اور ایک دوسرے کو رو رو کر اس کے سوال کا جوابدے رہے ہیں اور ندامت اوراعتراف گناہ کے ساتھ پروردگار کی بارگاہ میں فریاد کر رہے ہیں۔تو وہ تمہیں ہدایت کے نشان اور تاریکی کے چراغ نظر آئیں گے جن کے گرد ملائکہ کا گھیرا ہوگا اور ان پر پروردگار کی طرف سے سکون و اطمینان کا مسلسل نزول ہوگا اور ان کے لئے آسمان کے دروازے کھول دئیے گئے ہوں گے اورکرامتوں کی منزلیں مہیا کردی گئی ہوں گی۔ایسے مقام پرجہاں مالک کی نگاہ کرم ان کی طرف ہو اور وہ ان کی سعی سے راضی ہو اور ان کی منزل کی تعریف کر رہا ہو۔ وہ مالک کو پکارنے کی فرحت سے بخشش کی ہوائوں میں سانس لیتے ہوں۔اس کے فضل و کرم کی احتیاج کے ہاتھوں رہن ہوں اوراس کی عظمت کے سامنے ذلت کے اسیر ہوں۔غم و اندوہ کے طول زمان نے ان کے دلوں کومجروح کردیا ہو اور مسلسل گریہ نے ان کی آنکھوں کو زخمی کردیا ہو۔مالک کی طرف رغبت کے ہر دروازہ کو کھٹکھٹارہے ہوں اور اس سے سوال کر رہے ہوں جس کے جودو کرم کی وسعتوں میں تنگی نہیں آتی ہے اور جس کی

۴۵۰

ولَا يَخِيبُ عَلَيْه الرَّاغِبُونَ. فَحَاسِبْ نَفْسَكَ لِنَفْسِكَ فَإِنَّ غَيْرَهَا مِنَ الأَنْفُسِ لَهَا حَسِيبٌ غَيْرُكَ.

(۲۲۳)

ومن كلام لهعليه‌السلام

قاله عند تلاوته:( يا أَيُّهَا الإِنْسانُ ما غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ ) .

أَدْحَضُ مَسْئُولٍ حُجَّةً وأَقْطَعُ مُغْتَرٍّ مَعْذِرَةً - لَقَدْ أَبْرَحَ جَهَالَةً بِنَفْسِه.

يَا أَيُّهَا الإِنْسَانُ مَا جَرَّأَكَ عَلَى ذَنْبِكَ - ومَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ ومَا أَنَّسَكَ بِهَلَكَةِ نَفْسِكَ - أَمَا مِنْ دَائِكَ بُلُولٌ أَمْ لَيْسَ مِنْ نَوْمَتِكَ يَقَظَةٌ - أَمَا تَرْحَمُ مِنْ نَفْسِكَ مَا تَرْحَمُ مِنْ غَيْرِكَ - فَلَرُبَّمَا تَرَى الضَّاحِيَ مِنْ حَرِّ الشَّمْسِ فَتُظِلُّه

طرف رغبت کرنے والے کبھی مایوس نہیں ہوتے ہیں دیکھو اپنی بھلائی کے لئے خود اپنے نفس کا حساب کرو کہ دوسروں کے نفس کاحساب کرنے والا کوئی اور ہے۔

(۲۲۳)

آپ کا ارشاد گرامی

(جسے آیت شریفہ'' ما غرک بربک الکریم' ' (اے انسان تجھے خدائے کریم کے بارے میں کس شے نے دھوکہ میں ڈال دیا ہے ؟)کے ذیل میں ارشاد فرمایا ہے :)

دیکھو یہ انسان جس سے یہ سوال کیا گیا ہے وہ اپنی دلیل کے اعتبار سے کس قدر کمزور ہے اور اپنے فریب خوردہ ہونے کے اعتبار سے کس قدرناقص معذرت کا حامل ہے ۔یقینا اس نے اپنے نفس کو جہالت کی سختیوں میں مبتلا کردیا ہے۔ اے انسان! سچ بتا۔تجھے کس شے نے گناہوں کی جرأت دلائی ہے اور کس چیزنے پروردگار کے بارے میں دھوکہ میں رکھا ہے اور کس امرنے نفس کی ہلاکت پر بھی مطمئن بنادیا ہے۔کیا تیرے اس مرض کا کوی علاج اور تیرے اس خواب کی کوئی بیداری نہیں ہے اور کیا انپے نفس(۱) پر اتنا بھی رحم نہیں کرتا ہے جتنا دوسروں پرکرتا ہے کہ جب کبھی آفتاب کی حرارت میں کسی کو تپتا دیکھتا ہے تو سایہ کردیتا ہے

(۱)حقیقت امری ہ ہے کہ انسان آخرت کی طرف سے بالکل غفلت کا مجسمہ بن گیا ہے کہ دنیا میں کسی کو تکلیف میں نہیں دیکھ پاتا ہے اوراس کی داد رسی کے لئے تیار ہو جاتا ہے اورآخرت میں پیش آنے والے خود اپنے مصائب کی طرف سے بھی یکسر غافل ے اورایک لمحہ کے لئے بھی آفتاب محشر کے سایہ اور گرمی قیامت کی خشکی کا انتظام نہیں کرتا ہے۔بلکہ بعض اوقات اس کا مذاق بھی اڑاتا ہے۔انا للہ وانا الیہ راجعون

۴۵۱

أَوْ تَرَى الْمُبْتَلَى بِأَلَمٍ يُمِضُّ جَسَدَه فَتَبْكِي رَحْمَةً لَه - فَمَا صَبَّرَكَ عَلَى دَائِكَ وجَلَّدَكَ عَلَى مُصَابِكَ - وعَزَّاكَ عَنِ الْبُكَاءِ عَلَى نَفْسِكَ - وهِيَ أَعَزُّ الأَنْفُسِ عَلَيْكَ - وكَيْفَ لَا يُوقِظُكَ خَوْفُ بَيَاتِ نِقْمَةٍ - وقَدْ تَوَرَّطْتَ بِمَعَاصِيه مَدَارِجَ سَطَوَاتِه - فَتَدَاوَ مِنْ دَاءِ الْفَتْرَةِ فِي قَلْبِكَ بِعَزِيمَةٍ - ومِنْ كَرَى الْغَفْلَةِ فِي نَاظِرِكَ بِيَقَظَةٍ - وكُنْ لِلَّه مُطِيعاً وبِذِكْرِه آنِساً - وتَمَثَّلْ فِي حَالِ تَوَلِّيكَ عَنْه - إِقْبَالَه عَلَيْكَ يَدْعُوكَ إِلَى عَفْوِه - ويَتَغَمَّدُكَ بِفَضْلِه وأَنْتَ مُتَوَلٍّ عَنْه إِلَى غَيْرِه فَتَعَالَى مِنْ قَوِيٍّ مَا أَكْرَمَه - وتَوَاضَعْتَ مِنْ ضَعِيفٍ مَا أَجْرَأَكَ عَلَى مَعْصِيَتِه - وأَنْتَ فِي كَنَفِ سِتْرِه مُقِيمٌ - وفِي سَعَةِ فَضْلِه مُتَقَلِّبٌ - فَلَمْ يَمْنَعْكَ فَضْلَه ولَمْ يَهْتِكْ عَنْكَ سِتْرَه - بَلْ لَمْ تَخْلُ مِنْ لُطْفِه مَطْرَفَ عَيْنٍ - فِي نِعْمَةٍ يُحْدِثُهَا لَكَ أَوْ سَيِّئَةٍ يَسْتُرُهَا عَلَيْكَ - أَوْ بَلِيَّةٍ يَصْرِفُهَا عَنْكَ فَمَا

یا کسی کو درد و رنج میں مبتلا دیکھتا ہے تو اس کے حال پررونے لگتا ہے توخرکس شے نے تجھے خود اپنے مرض پر صبر دلادیا ہے اور اپنی مصیبت پرسامان سکون فراہم کردیا ہے اوراپنے نفس پر رونے سے روک دیا ہے جب کہ وہ تجھے سب سے زیادہ عزیز ہے۔اور کیوں راتوں رات عذاب الٰہی کے نازل ہو جانے کا تصور تجھے بیدار نہیں رکھتا ہے جب کہ تو اس کی نا فرمانیوں کی بنا پر اس کے قہرو غلبہ کی راہ میں پڑا ہوا ہے۔ ابھی غنیمت ہے کہ اپنے دل کی سستی کاعزمراسخ سے علاج کرلے اور اپنی آنکھوں میں غفلت کی نیند کابیدردی سے مداوا کرلے اللہ کی اطاعت گذار بن جا۔اس کی یاد سے انس حاصل کراور اس امر کاتصور کرکہ کس طرح وہ تیرے دوسروں کی طرف منہ موڑ لینے کے باوجود وہ تیری طرف متوجہ رہتا ہے۔تجھے معافی کی دعوت دیتاہے۔اپنے فضل و کرم میں ڈھانپ لیتا ہے حالانکہ تو دوسروں کی طرف رخ کئے ہوئے ہے۔بلند وبالا ہے وہ صاحب قوت جو اس قدر کرم کرتا ہے اور ضعیف و ناتواں ہے تو انسان جو اس کی معصیت کی اس قدر جرأت رکھتا ہے جب کہ اسی کے عیب پوشی کے ہمسایہ میں مقیم ہے اور اسی کے فضل و کرم کی وسعتوں میں کروٹیں بدل رہا ہے وہ نہ اپنے فضل وکرم کوتجھ سے روکتا ہے اورنہ تیرے پردہ ٔ راز کوفاش کرتا ہے۔بلکہ تو پلک جھپکنے کے برابر بھی اس کی مہربانیوں سے خالی نہیں ہے۔کبھی نئی نئی نعمتیںعطا کرتا ہے۔کبھی برائیوں کی پردہ پوشی کرتا ہے اور کبھی بلائوں کو رد کردیتا ہے جب کہ تو اس کی

۴۵۲

ظَنُّكَ بِه لَوْ أَطَعْتَه - وايْمُ اللَّه لَوْ أَنَّ هَذِه الصِّفَةَ كَانَتْ فِي مُتَّفِقَيْنِ فِي الْقُوَّةِ - مُتَوَازِيَيْنِ فِي الْقُدْرَةِ - لَكُنْتَ أَوَّلَ حَاكِمٍ عَلَى نَفْسِكَ بِذَمِيمِ الأَخْلَاقِ - ومَسَاوِئِ الأَعْمَالِ - وحَقّاً أَقُولُ مَا الدُّنْيَا غَرَّتْكَ ولَكِنْ بِهَا اغْتَرَرْتَ - ولَقَدْ كَاشَفَتْكَ الْعِظَاتِ وآذَنَتْكَ عَلَى سَوَاءٍ - ولَهِيَ بِمَا تَعِدُكَ مِنْ نُزُولِ الْبَلَاءِ بِجِسْمِكَ - والنَّقْصِ فِي قُوَّتِكَ أَصْدَقُ وأَوْفَى مِنْ أَنْ تَكْذِبَكَ أَوْ تَغُرَّكَ - ولَرُبَّ نَاصِحٍ لَهَا عِنْدَكَ مُتَّهَمٌ - وصَادِقٍ مِنْ خَبَرِهَا مُكَذَّبٌ - ولَئِنْ تَعَرَّفْتَهَا فِي الدِّيَارِ الْخَاوِيَةِ والرُّبُوعِ الْخَالِيَةِ - لَتَجِدَنَّهَا مِنْ حُسْنِ تَذْكِيرِكَ - وبَلَاغِ مَوْعِظَتِكَ - بِمَحَلَّةِ الشَّفِيقِ عَلَيْكَ والشَّحِيحِ بِكَ - ولَنِعْمَ دَارُ مَنْ لَمْ يَرْضَ بِهَا دَاراً - ومَحَلُّ مَنْ لَمْ يُوَطِّنْهَا مَحَلاًّ - وإِنَّ السُّعَدَاءَ بِالدُّنْيَا غَداً هُمُ الْهَارِبُونَ مِنْهَا الْيَوْمَ. إِذَا رَجَفَتِ الرَّاجِفَةُ

معصیت کر رہا ہے تو سوچ اگر تو اطاعت کرتا تو کیا ہوتا ؟

خدا گواہ ہے کہ اگریہ برتائو دو برابر کی قوتو قدرت والوں کے درمیان ہوتا اور تو دوسرے کے ساتھ ایسا ہی برتائو کرتا تو تو خود ہی سب سے پہلے اپنے نفس کے بد اخلاق اور بد عمل ہونے کا فیصلہ کردیتا ہے لیکن افسوس۔

میں سچ کہتا ہوں کہ دنیا نے تجھے دھوکہ نہیں دیا ہے تونے دنیا سے دھوکہ کھایا ہے۔اس نے تو نصیحتوں کوکھول کر سامنے رکھ دیا ہے اور تجھے ہر چیز سے برابر سے آگاہ کیا ہے۔اس نے جسم پر جن نازل ہونے والی بلائوں کا وعدہ کیا ہے اور قوت میں جس کمزوری کی خبردی ہے۔اس میں وہ بالکل سچی اور وفائے عہد کرنے والی ہے۔نہ جھوٹ بولنے والی ہے اور نہ دھکہ دینے والی۔بلکہ بہت سے اس کے بارے میں نصیحت کرنے والے ہیں جو تیرے نزدیک ناقابل اعتبار ہیں اورسچ سچ بولنے والے ہیں جو تیریر نگاہ میں جھوٹے ہیں۔

اگر تونے اسے گرے پڑے مکانات اور غیر آباد منزلوں میں پہچان لیا ہوتا تو دیکھتا کہ وہ اپنی یاد دہانی اوربلیغ ترین نصیحت میں تجھ پر کس قدر مہربان ہے اور تیری تباہی کے بارے میں کس قدر بخل سے کام لیتی ہے۔

یہ دنیا اس کے لئے بہترین گھر ہے جو اسکو گھر بنانے سے راضی نہ ہو۔اور اس کے لئے بہترین وطن ہے جو اسے وطن بنانے پرآمادہ نہ ہو۔اس دنیا کے رہنے والوں میں کل کے دن نیک بخت وہی ہوں گے جوآج اس سے گریز کرنے پرآمادہ ہوں۔ دیکھو جب زمین کو زلزلہ آجائے گا

۴۵۳

وحَقَّتْ بِجَلَائِلِهَا الْقِيَامَةُ - ولَحِقَ بِكُلِّ مَنْسَكٍ أَهْلُه وبِكُلِّ مَعْبُودٍ عَبَدَتُه - وبِكُلِّ مُطَاعٍ أَهْلُ طَاعَتِه - فَلَمْ يُجْزَ فِي عَدْلِه وقِسْطِه يَوْمَئِذٍ خَرْقُ بَصَرٍ فِي الْهَوَاءِ - ولَا هَمْسُ قَدَمٍ فِي الأَرْضِ إِلَّا بِحَقِّه - فَكَمْ حُجَّةٍ يَوْمَ ذَاكَ دَاحِضَةٌ - وعَلَائِقِ عُذْرٍ مُنْقَطِعَةٌ! فَتَحَرَّ مِنْ أَمْرِكَ مَا يَقُومُ بِه عُذْرُكَ وتَثْبُتُ بِه حُجَّتُكَ - وخُذْ مَا يَبْقَى لَكَ مِمَّا لَا تَبْقَى لَه - وتَيَسَّرْ لِسَفَرِكَ وشِمْ بَرْقَ النَّجَاةِ وارْحَلْ مَطَايَا التَّشْمِيرِ

(۲۲۴)

ومن كلام لهعليه‌السلام

يتبرأ من الظلم

واللَّه لأَنْ أَبِيتَ عَلَى حَسَكِ السَّعْدَانِ مُسَهَّداً - أَوْ أُجَرَّ فِي الأَغْلَالِ مُصَفَّداً - أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَلْقَى اللَّه ورَسُولَه يَوْمَ الْقِيَامَةِ ظَالِماً - لِبَعْضِ الْعِبَادِ وغَاصِباً لِشَيْءٍ مِنَ الْحُطَامِ - وكَيْفَ أَظْلِمُ أَحَداً

اور قیامت اپنی عظیم مصیبتوں کے ساتھ کھڑی ہو جائے گی اور ہر عبادت گاہ کے ساتھ اس کے عبادت گزار ۔ہر معبود کے ساتھ اس کے بندے اور ہر قابل اطاعت کے ساتھ اس کے مطیع و فرمانبردار ملحق کردئیے جائیں گے تو کوئی ہوا میں شگاف کرنے والی نگاہ اور زمین پر پڑنے والے قدم کی آہٹ ایسی نہ ہوگی جس کا عدل و انصاف کے ساتھ پورا بدلہ نہ دے دیا جائے۔اس دن کتنی ہی دلیلیں ہوں گی جو بیکار ہو جائیں گی اور کتنے ہی معذرت کے رشتے ہوں گے جو کٹ کے رہ جائیں گے۔ لہٰذا مناسب ہے کہ ابھی سے ان چیزوں کو تلاش کرلو جن سے عذر قائم ہو سکے اور دلیل ثابت ہو سکے جن دنیا میں تم کونہیں رہنا ہے اس میں سے وہ لے لو جس کو تمہارے ساتھ رہنا ہے۔سفر کے لئے آمادہ ہو جائو۔نجات کی روشنی کی چمک دیکھ لو اور آمادگی کی سواریوں پر سامان بار کرلو۔

(۲۲۴)

آپ کا ارشاد گرامی

(جس میں ظلم سے برائت و بیزاری کا اظہار فرمایا گیا ہے)

خدا گواہ ہے کہ میرے لئے سعد ان کی خار دار جھاڑی پر جگ کر رات گزارلینایا زنجیروں میں قید ہو کر کھینچا جانا اس امر سے زیادہ عزیز ہے۔کہ میں روز قیامت پروردگار سے اس عالم میں ملاقات کروں کہ کسی بندہ پر ظلم کرچکا ہوں یا دنیاکے کسی معمولی مال کو غصب کیا ہو بھلا میں کسی شخص پر بھی اس نفس کے لئے کس طرح ظلم

۴۵۴

لِنَفْسٍ يُسْرِعُ إِلَى الْبِلَى قُفُولُهَا ويَطُولُ فِي الثَّرَى حُلُولُهَا؟!

واللَّه لَقَدْ رَأَيْتُ عَقِيلًا وقَدْ أَمْلَقَ - حَتَّى اسْتَمَاحَنِي مِنْ بُرِّكُمْ صَاعاً - ورَأَيْتُ صِبْيَانَه شُعْثَ الشُّعُورِ غُبْرَ الأَلْوَانِ مِنْ فَقْرِهِمْ - كَأَنَّمَا سُوِّدَتْ وُجُوهُهُمْ بِالْعِظْلِمِ - وعَاوَدَنِي مُؤَكِّداً وكَرَّرَ عَلَيَّ الْقَوْلَ مُرَدِّداً - فَأَصْغَيْتُ إِلَيْه سَمْعِي فَظَنَّ أَنِّي أَبِيعُه دِينِي - وأَتَّبِعُ قِيَادَه مُفَارِقاً طَرِيقَتِي – فَأَحْمَيْتُ لَه حَدِيدَةً ثُمَّ أَدْنَيْتُهَا مِنْ جِسْمِه لِيَعْتَبِرَ بِهَا - فَضَجَّ ضَجِيجَ ذِي دَنَفٍ مِنْ أَلَمِهَا - وكَادَ أَنْ يَحْتَرِقَ مِنْ مِيسَمِهَا - فَقُلْتُ لَه ثَكِلَتْكَ الثَّوَاكِلُ يَا عَقِيلُ - أَتَئِنُّ مِنْ حَدِيدَةٍ أَحْمَاهَا إِنْسَانُهَا لِلَعِبِه - وتَجُرُّنِي إِلَى نَارٍ سَجَرَهَا جَبَّارُهَا لِغَضَبِه - أَتَئِنُّ مِنَ الأَذَى ولَا أَئِنُّ مِنْ لَظَى

کروں گا جو فنا کی طرف بہت جلد پلٹنے والا ہے اورزمین کے اندر بہت دنوں رہنے والا ہے۔

خداکی قسم میں نے عقیل(۱) کوخود دیکھا ہے کہ انہوں نے فقر وفاقہ کی بنا پر تمہارے حصہ گندم میں سے تین کیلو کامطالبہ کیا تھا جب کہ ان کے بچغوں کے بال غربت کی بناپر پراگندہ ہو چکے تھے اور ان کے چہروں کے رنگ یوں بدل چکے تھے جیسے انہیں تیل چھڑ ک کر سیاہ بنایا گیا ہوا اورانہوںنے مجھ سے باربارتقاضا کیا اور مکرر اپنے مطالبہ کودہرایا تو میں نے ان کی طرف کان دھردئیے اور وہ یہ سمجھے کہ شاید میں دین بیچنے اور اپنے راستہ کو چھوڑ کران کے مطالبہ پرچلنے کے لئے تیار ہوگیا ہوں۔لیکن میں نے ان کے لئے لوہا گرم کرایا اور پھر ان کے جسم کے قریب لے گیا تاکہ اس سے عبرت حاصل کریں۔انہوںنے لوہا دیکھ کری وں فریاد شروع کردی جیسے کوئی بیمار اپنے درد و الم سے فریاد کرتا ہو اور قریب تھا کہ ان کا جسم اس کے داغ دینے سے جل جائے۔تو میں نے کہا رونے والیاں آپ کے غم میں روئیں اپنے عقیل ! آپ اس لوہے سے فریاد کر رہے ہیں جس ایک انسان نے فقط ہنسی مذاق میں تپایا ہے اور مجھے اسآگ کی طرف کھینچ رہے ہیں جسے خدائے جبارنے اپنے غضب کی بنیاد پربھڑکایا ہے۔آپ اذیت سے فریاد کریں اور میں جہنم سے فریاد نہ کروں۔

(۱) جناب عقیل آپ کے بڑے بھائی او حقیقی بھائی تھے لیکن اس کے باوجود آپ نے یہ عادلانہ برتائو کرکے واضح کردیا کہ دین الٰہی میں رشت و قرابت کا گذر نہیں ہے۔دین کا ذمہ دار وہی شخص ہو سکتا ہے جو مال خدا کو مال خدا تصور کرے اور اس مسئلہمیں کسی طرح کی رشتہ داری اور تعلق کو شامل نہ کرے۔یہ امیر المومنین کے کردار کا وہ نمایاں امتیاز ہے جس کا اندازہ دوست اوردشمن دونوں کو تھا اور کوئی بھی اس معرفت سے بیگانہ نہ تھا۔

۴۵۵

وأَعْجَبُ مِنْ ذَلِكَ طَارِقٌ طَرَقَنَا بِمَلْفُوفَةٍ فِي وِعَائِهَا - ومَعْجُونَةٍ شَنِئْتُهَا - كَأَنَّمَا عُجِنَتْ بِرِيقِ حَيَّةٍ أَوْ قَيْئِهَا - فَقُلْتُ أَصِلَةٌ أَمْ زَكَاةٌ أَمْ صَدَقَةٌ - فَذَلِكَ مُحَرَّمٌ عَلَيْنَا أَهْلَ الْبَيْتِ - فَقَالَ لَا ذَا ولَا ذَاكَ ولَكِنَّهَا هَدِيَّةٌ - فَقُلْتُ هَبِلَتْكَ الْهَبُولُ أَعَنْ دِينِ اللَّه أَتَيْتَنِي لِتَخْدَعَنِي - أَمُخْتَبِطٌ أَنْتَ أَمْ ذُو جِنَّةٍ أَمْ تَهْجُرُ -

واللَّه لَوْ أُعْطِيتُ الأَقَالِيمَ السَّبْعَةَ بِمَا تَحْتَ أَفْلَاكِهَا - عَلَى أَنْ أَعْصِيَ اللَّه فِي نَمْلَةٍ أَسْلُبُهَا جُلْبَ شَعِيرَةٍ مَا فَعَلْتُه - وإِنَّ دُنْيَاكُمْ عِنْدِي لأَهْوَنُ مِنْ وَرَقَةٍ فِي فَمِ جَرَادَةٍ تَقْضَمُهَا - مَا لِعَلِيٍّ ولِنَعِيمٍ يَفْنَى ولَذَّةٍ لَا تَبْقَى - نَعُوذُ بِاللَّه مِنْ سُبَاتِ الْعَقْلِ وقُبْحِ الزَّلَلِ وبِه نَسْتَعِينُ.

اس سے زیادہ تعجب خیز باتیہ ہے کہ ایک رات ایک شخص (اشعث بن قیس) میرے پاس شہد میں گندھا ہوا حلوہ برتن میں رکھ کر لایا جو مجھے اس قدر ناگوارتھا جیسے سانپ کے تھوک یا قے سے گوندھا ہو۔میں نے پوچھا کہ یہ کوئی انعام ہے یا زکوٰة یا صدقہ جو ہم اہل بیت پر حرام ہے ؟ اس نے کہاکہ یہ کچھ نہیں ہے۔یہ فقط ایک ہدیہ ہے ! میں نے کہاکہ پسر مردہ عورتیں تجھ کو روئیں ۔تو دین خداکے راستہ سے آکر مجھے دھوکہ دینا چاہتا ہے تیرا دماغ خراب ہوگیا ہے یا تو پاگل ہوگیا ہے یا ہذیان بک رہا ہے۔ آخر ہے کیا ؟

خدا گواہ ہے کہ اگر مجھے ہفت اقلیم کی حکومت تمام زیر آسمان دولتوں کے ساتھ دے دی جائے اور مجھ سے یہ مطالبہ کیاجائے کہ میں کسی چیونٹی پر صرف اس قدر ظلم کروں کہ اس کے منہ سے اس چھلکے کو چھین لوں جو وہ چبا رہی ہے تو ہرگز ایسا نہیں کرسکتا ہوں۔یہ تمہاری دنیا میری نظر میں اس پتی سے زیادہ بے قیمت ہے جو کسی ٹڈی کے منہ میں ہواور وہ اسے چبا رہی ہو۔

بھلا علی کو ان نعمتوں سے کیاواسطہ جو فنا ہو جانے والی ہیں اور اس لذت سے کیا تعلق جوب اقی رہنے والی ہیں ہے۔میں خدا کی پناہ چاہتا ہوں عقل کے خواب غفلت میں پڑ جانے اورلغزشوں کی برائیوں سے اوراسی سے مدد کا طلب گار ہوں۔

۴۵۶

( ۲۲۵ )

ومن دعاء لهعليه‌السلام

يلتجئ إلى اللَّه أن يغنيه

اللَّهُمَّ صُنْ وَجْهِي بِالْيَسَارِ ولَا تَبْذُلْ جَاهِيَ

بِالإِقْتَارِ - فَأَسْتَرْزِقَ طَالِبِي رِزْقِكَ وأَسْتَعْطِفَ شِرَارَ خَلْقِكَ - وأُبْتَلَى بِحَمْدِ مَنْ أَعْطَانِي وأُفْتَتَنَ بِذَمِّ مَنْ مَنَعَنِي - وأَنْتَ مِنْ وَرَاءِ ذَلِكَ كُلِّه وَلِيُّ الإِعْطَاءِ والْمَنْعِ -( إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ) .

(۲۲۶)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في التنفير من الدنيا

دَارٌ بِالْبَلَاءِ مَحْفُوفَةٌ وبِالْغَدْرِ مَعْرُوفَةٌ - لَا تَدُومُ أَحْوَالُهَا ولَا يَسْلَمُ نُزَّالُهَا

أَحْوَالٌ مُخْتَلِفَةٌ وتَارَاتٌ مُتَصَرِّفَةٌ

(۲۲۵)

آپ کی دعا کا ایک حصہ

(جس میں پروردگار سے ے نیازی کا مطالبہ کیا گیا ہے )

خدایا! میری آبرو(۱) کومالداری کے ذریعہ محفوظ فرما اورمیری منزلت کو غربت کی بنا پر نگاہوں سے نہ گرنے دینا کہ مجھے تجھ سے روزی مانگنے والوں سے مانگنا پڑے یا تیری بد ترین مخلوقات سے رحم کی درخواست کرنا پڑے اوراس کے بعد میں ہر عطا کرنے والے کی تعریف کروں اور ہرانکار کرنے والے کی مذمت میں مبتلا ہو جائوںجب کہان سب کے پس پردہ عطاء و انکار دونوں کا اختیار تیرے ہی ہاتھ میں ہے اور تو ہی ہر شے پرقدرت رکھنے والا ہے۔

(۲۲۶)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں دنیا سے نفرت دلائی گئی ہے )

یہ ایک ایسا گھرہے جو بلائوں میں گھرا ہوا ہے اور اپنی غداری میں مشہور ہے۔نہ اس کے حالات کو دوام ہے اور نہ اس میں نازل ہونے والوں کے لئے سلامتی ہے۔

اس کے حالات مختلف اوراس کے اطوار بدلنے

(۱) یہ فقرات بعینہ اسی طرح امام زین العابدین کی مکارم اخلاق میں بھی پائے جاتے ہیں جواس بات کی علامت ہے کہ اہل بیت کاکردار اور ان کا بیان ہمیشہ ایک انداز کا ہوتا ہے اوراسمیں کسی طرح کا اختلاف و انتشار نہیں ہوتا ہے۔

۲۔ اس خطبہ میں دنیا کے حسب ذیل خصوصیات کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔۱۔یہ مکان بلائوں میں گھرا ہواہے۔۲۔اس کی غداری معروف ہے ۔۳۔اس کے حالات ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں ۔۴۔اس کی زندگی کا انجام موت ہے۔۵۔اس کی زندگی قابل مذمت ہے ۔۶۔اس میں امن و امان نہیں ہے۔۷۔اس کے باشندے بلائوں اورمصیبتوں کا ہدف ہیں۔

۴۵۷

الْعَيْشُ فِيهَا مَذْمُومٌ والأَمَانُ مِنْهَا مَعْدُومٌ - وإِنَّمَا أَهْلُهَا فِيهَا أَغْرَاضٌ مُسْتَهْدَفَةٌ - تَرْمِيهِمْ بِسِهَامِهَا وتُفْنِيهِمْ بِحِمَامِهَا

واعْلَمُوا عِبَادَ اللَّه أَنَّكُمْ ومَا أَنْتُمْ فِيه مِنْ هَذِه الدُّنْيَا - عَلَى سَبِيلِ مَنْ قَدْ مَضَى قَبْلَكُمْ - مِمَّنْ كَانَ أَطْوَلَ مِنْكُمْ أَعْمَاراً وأَعْمَرَ دِيَاراً وأَبْعَدَ آثَاراً - أَصْبَحَتْ أَصْوَاتُهُمْ هَامِدَةً ورِيَاحُهُمْ رَاكِدَةً - وأَجْسَادُهُمْ بَالِيَةً ودِيَارُهُمْ خَالِيَةً وآثَارُهُمْ عَافِيَةً - فَاسْتَبْدَلُوا بِالْقُصُورِ الْمَشَيَّدَةِ والنَّمَارِقِ الْمُمَهَّدَةِ - الصُّخُورَ والأَحْجَارَ الْمُسَنَّدَةَ والْقُبُورَ اللَّاطِئَةَ الْمُلْحَدَةَ - الَّتِي قَدْ بُنِيَ عَلَى الْخَرَابِ فِنَاؤُهَا - وشُيِّدَ بِالتُّرَابِ بِنَاؤُهَا فَمَحَلُّهَا مُقْتَرِبٌ وسَاكِنُهَا مُغْتَرِبٌ - بَيْنَ أَهْلِ مَحَلَّةٍ مُوحِشِينَ وأَهْلِ فَرَاغٍ مُتَشَاغِلِينَ - لَا يَسْتَأْنِسُونَ بِالأَوْطَانِ ولَا يَتَوَاصَلُونَ تَوَاصُلَ الْجِيرَانِ - عَلَى مَا بَيْنَهُمْ مِنْ قُرْبِ الْجِوَارِ ودُنُوِّ الدَّارِ - وكَيْفَ يَكُونُ بَيْنَهُمْ تَزَاوُرٌ وقَدْ طَحَنَهُمْ بِكَلْكَلِه الْبِلَى

والے ہیں۔اس میں پرکیف زندگی قابل مذمت ہے اور اس میں امن و امان کا دور دورہ پتہ نہیں ہے۔اس کے باشندے وہ نشانے ہیں جن پر دنیا اپنے تیر چلاتی رہتی ہے اور اپنی مدت کے سہارے انہیں فنا کے گھاٹ اتارتی رہتی ہے۔

بندگان خدا! یادرکھو اس دنیا میں تم اورجو کچھ تمہارے پاس ہے سب کا وہی راستہ ہے جس پرپہلے والے چل چکے ہیں جن کی عمریں تم سے زیادہ طویل اور جن کے علاقے تم سے زیادہ آباد تھے ۔ان کے آثار بھی دور دورتک پھیلے ہوئے تھے ۔لیکن اب ان کی آوازیں دب گئی ہیں ان کی ہوائیں اکھڑ گئی ہیں۔ان کے جسم بوسیدہ ہوگئے ہیں۔ان کے مکانات خالی ہوگئے ہیں اور ان کے آثارمٹ چکے ہیں ۔وہ مستحکم قلعوں اور بچھی ہوئی مسندوں کو پتھروں اورچنی ہوئی سلوں اور زمین کے اندرلحد والی قبروں میں تبدیل کر چکے ہیں جن کے صحتوں کی بنیاد تباہی پر قائم ہے اورجن کی عمارت مٹی سے مضبوط کی گئی ہے۔ان قبروں کی جگہیں تو قریب قریب ہیں لیکن ان کے رہنے والے سب ایک دوسرے سے غریب اور اجنبی ہیں۔ایسے لوگوں کے درمیان ہیں جو بوکھلائے ہوئے ہیں اور یہاں کے کاموں سے فارغ ہو کر وہاں کی فکر میں مشغول ہوگئے ہیں۔نہ اپنے وطن سے کوئی انس رکھتے ہیں اور نہ اپنے ہمسایوں سے کوئی ربط رکھتے ہیں۔حالانکہ بالکل قرب وجوار اورنزدیک ترین دیار میں ہیں۔اور ظاہر ہے کہ اب ملاقات کا کیا امکان ہے جب کہ بوسیدگی نے انہیں اپنے سینہ سے دباکر پیش ڈالا ہے اور پتھروں اورمٹی نے انہیں

۴۵۸

وأَكَلَتْهُمُ الْجَنَادِلُ والثَّرَى !وكَأَنْ قَدْ صِرْتُمْ إِلَى مَا صَارُوا إِلَيْه - وارْتَهَنَكُمْ ذَلِكَ الْمَضْجَعُ وضَمَّكُمْ ذَلِكَ الْمُسْتَوْدَعُ - فَكَيْفَ بِكُمْ لَوْ تَنَاهَتْ بِكُمُ الأُمُورُ - وبُعْثِرَتِ الْقُبُورُ :( هُنالِكَ تَبْلُوا كُلُّ نَفْسٍ ما أَسْلَفَتْ - ورُدُّوا إِلَى الله مَوْلاهُمُ الْحَقِّ - وضَلَّ عَنْهُمْ ما كانُوا يَفْتَرُونَ ) .

(۲۲۷)

ومن دعاء لهعليه‌السلام

يلجأ فيه إلى اللَّه ليهديه إلى الرشاد

اللَّهُمَّ إِنَّكَ آنَسُ الآنِسِينَ لأَوْلِيَائِكَ - وأَحْضَرُهُمْ بِالْكِفَايَةِ لِلْمُتَوَكِّلِينَ عَلَيْكَ - تُشَاهِدُهُمْ فِي سَرَائِرِهِمْ وتَطَّلِعُ عَلَيْهِمْ فِي ضَمَائِرِهِمْ - وتَعْلَمُ مَبْلَغَ بَصَائِرِهِمْ - فَأَسْرَارُهُمْ لَكَ مَكْشُوفَةٌ وقُلُوبُهُمْ إِلَيْكَ مَلْهُوفَةٌ - إِنْ أَوْحَشَتْهُمُ الْغُرْبَةُ آنَسَهُمْ ذِكْرُكَ - وإِنْ صُبَّتْ عَلَيْهِمُ الْمَصَائِبُ لَجَئُوا إِلَى الِاسْتِجَارَةِ بِكَ - عِلْماً بِأَنَّ أَزِمَّةَ الأُمُورِ بِيَدِكَ - ومَصَادِرَهَا عَنْ قَضَائِكَ.

اللَّهُمَّ إِنْ فَهِهْتُ عَنْ مَسْأَلَتِي

کھا کر برابر کر دیا ہے اورگویا کہ اب تم بھی وہیں پہنچ گئے ہوجہاں وہ پہنچ چکے ہیں اور تمہیں بھی اسی قبر نے گرو رکھ لیا ہے اور اسی امانت گاہ نے جکڑ لیا ہے۔

سوچو اس وقت کیا ہوگا جب تمہارے تمام معاملات آخری حد کو پہنچ جائیں گے اور دوبارہ قبروں سے نکال لیا جائے گا اس وقت ہرنفس اپنے اعمال کا خود محاسبہ کرے گا اور سب کو مالک برحق کی طرف پلٹا دیاجائے گا اور کسی کی کوئی افتر پردازی کام آنے والی نہ ہوگی

(۲۲۷)

آپ کی دعا کا ایک حصہ

(جس میں نیک راستہ کی ہدایت کا مطالبہ کیاگیا ہے)

پروردگار تو اپنے دوستوں کے لئے تمام انس فراہم کرنے والوں سے زیادہ سبب انس اور تمام اپنے اوپر بھروسہ کرنے والوں کے لئے سب سے زیادہ حاجت روائی کے لئے حاضر ہے۔توان کے پوشیدہ امور پر نگاہ رکھتا ہے۔ان کے اسرار پر اطلاع رکھتا ہے اور ان کی بصیرتوں کی آخری حدوں کوبھی جانتا ہے۔ان کے اسرار تیرے لئے روشن اور ان کے قلوب تیری بارگاہ میں فریادی ہیں۔جب غربت انہیں متوحش کرتی ہے تو تیری یاد انس کا سامان فراہم کر دیتی ہے اور جب مصائب ان پر انڈیل دئیے جاتے ہیں تو وہ تیریر پناہ تلاش کرلیتے ہیں اس لئے کہ انہیں اس بات کا علم ہے کہ تمام معاملات کی زمام تیرے ہاتھ میں ہے اور تمام امور کا فیصلہ تیری ذات سے صادر ہوتا ہے۔

خدایا ! اگرمیں اپنے سوالات کو پیش کرنے

۴۵۹

أَوْ عَمِيتُ عَنْ طِلْبَتِي - فَدُلَّنِي عَلَى مَصَالِحِي - وخُذْ بِقَلْبِي إِلَى مَرَاشِدِي - فَلَيْسَ ذَلِكَ بِنُكْرٍ مِنْ هِدَايَاتِكَ - ولَا بِبِدْعٍ مِنْ كِفَايَاتِكَ

اللَّهُمَّ احْمِلْنِي عَلَى عَفْوِكَ ولَا تَحْمِلْنِي عَلَى عَدْلِكَ.

(۲۲۸)

ومن كلام لهعليه‌السلام

يريد به بعض أصحابه

لِلَّه بَلَاءُ فُلَانٍ فَلَقَدْ قَوَّمَ الأَوَدَ ودَاوَى الْعَمَدَ - وأَقَامَ السُّنَّةَ وخَلَّفَ الْفِتْنَةَ - ذَهَبَ نَقِيَّ الثَّوْبِ قَلِيلَ الْعَيْبِ - أَصَابَ خَيْرَهَا وسَبَقَ شَرَّهَا - أَدَّى إِلَى اللَّه طَاعَتَه واتَّقَاه بِحَقِّه - رَحَلَ وتَرَكَهُمْ فِي طُرُقٍ مُتَشَعِّبَةٍ - لَا يَهْتَدِي بِهَا الضَّالُّ ولَا يَسْتَيْقِنُ الْمُهْتَدِي.

سے عاجز ہوں اور مجھے اپنے مطالبات کی راہ نظرنہیں آتی ہے تو تو میرے مصالح کی رہنمائی فرما اورمیرے دل کو ہدایت کی منزلوں تک پہنچا دے کہ یہ بات تیری ہدایتوں کے لئے کوئی انوکھی نہیں ہے اور تیریر حاجت روائیوں کے سلسلہ میں کوئی نرالی نہیں ہے۔

خدایا میرے معاملات کواپنے عفوو کرم پر محمول کرنا اورعدل و انصاف پر محمول نہ کرنا۔

(۲۲۸)

آپ کا ارشاد گرامی

(جس میں اپنے بعض اصحاب کا تذکرہ فرمایاہے )

اللہ فلاں شخص(۱) کا بھلا کرے کہ اس نے کجی کو سیدھا کیا اور مرض کا علاج کیا۔سنت کوقائم کیا اور فتنوں کو چھوڑ کر چلا گیا۔دنیا سے اس عالم میںگیا کہ اس کا لباس حیات پاکیزہ تھا اور اس کے عیب بہت کم تھے ۔ اس نے دنیا کے خیر کو حاصل کرلیا اور اس کے شر سے آگے بڑھ گیا۔اللہ کی اطاعت کاحق ادا کردیا اوراس سے مکمل طور پر خوفزدہ رہا۔وہ دنیا سے اس عالم میں رخصت ہوا کہ لوگ متفرق راستوں پرتھے جہاں نہ گمراہ ہدایت پا سکتا تھا اورنہ ہدایت یافتہ منزل یقین تک جا سکتا تھا۔

(۱)ابن ابی الحدید نے ساتویں صدی ہجری میں یہ انکشاف کیا کہ ان فقرات میں فلاں سے مراد حضرت عمر ہیں اور پھر اس کی وضاحت میں ۸۷ صفحے سیاہ کر ڈالے حالانکہ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ سید رضی کے دور کے نسخوں میں اس کاکوئی تذکرہ ہے اور پھر اسلامی دنیا کے سر براہ کی تعریف کے لئے لفظ فلاں کے کوئی معنی نہیں ہیں خطبہ شقشقیہ میں لفظ فلاں کا امکان ہے لیکن مدح میں لفظ فلاں عجیب و غریب معلوم ہوتا ہے۔اس لفظ سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کسی ایسے صحابی کا تذکرہ ہے جسے عام لوگ بردات نہیں کرس کتے ہیں اور امیرالمومنین اس کی تعریف ضروری تصور فرماتے ہیں۔

۴۶۰

461

462

463

464

465

466

467

468

469

470

471

472

473

474

475

476

477

478

479

480

481

482

483

484

485

486

487

488

489

490

491

492

493

494

495

496

497

498

499

500

501

502

503

504

505

506

507

508

509

510

511

512

513

514

515

516

517

518

519

520

521

522

523

524

525

526

527

528

529

530

531

532

533

534

535

536

537

538

539

540

541

542

543

544

545

546

547

548

549

550

551

552

553

554

555

556

557

558

559

560

561

562

563

564

565

566

567

568

569

570

571

572

573

574

575

576

577

578

579

580

581

582

583

584

585

586

587

588

589

590

591

592

593

594

595

596

597

598

599

600

601

602

603

604

605

606

607

608

609

610

611

612

613

614

615

616

617

618

619

620

621

622

623

624

625

626

627

628

629

630

631

632

633

634

635

636

637

638

639

640

641

642

643

644

645

646

647

648

649

650

651

652

653

654

655

656

657

658

659

660

661

662

663

664

665

666

667

668

669

670

671

672

673

674

675

676

677

678

679

680

681

682

683

684

685

686

687

688

689

690

691

692

693

694

695

696

697

698

699

700

701

702

703

704

705

706

707

708

709

710

711

712

713

714

715

716

717

718

719

720

721

722

723

724

725

726

727

728

729

730

731

732

733

734

735

736

737

738

739

740

741

742

743

744

745

746

747

748

749

750

751

752

753

754

755

756

757

758

759

760

761

762

763

764

765

766

767

768

769

770

771

772

773

774

775

776

777

778

779

780

781

782

783

784

785

786

787

788

789

790

791

792

793

794

795

796

797

798

799

800

801

802

803

804

805

806

807

808

809

810

811

812

813

814

815

816

817

818

819

820

821

822

823

824

825

826

827

828

829

830

831

832

833

834

835

836

837

838

839

840

841

842

843

844

845

846

847

848

849

850

851

852

853

854

855

856

857

858

859

860

861

862

863