نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)6%

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ) مؤلف:
: علامہ السید ذیشان حیدر جوادی قدس سرہ
زمرہ جات: متن احادیث
صفحے: 863

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 863 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 656810 / ڈاؤنلوڈ: 15924
سائز سائز سائز
نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

پہنچيں گے اس وقت قبيلہ اوس كے تمام افراد ہمارى طرفدارى كے لئے اُٹھ كھڑے ہوںگے_

لشكر قريش كى مدينہ روانگي

مكمل تيارى كے بعد قريش نے لشكر كو كوچ كا حكم ديا ، يہ لشكر تين ہزار افراد پر مشتمل تھا جس ميں سات سو زرہ پوش ، دو سو گھڑ سوار ، تين ہزار اونٹ اور بے پناہ اسلحہ كے علاوہ دوران جنگ گا بجا كر سپاہيوں كو تازہ دم كرنے كے ليے ۱۵ عورتيں بھى شريك تھيں_

مشركين كے لشكر كا سپہ سالار ابوسفيان تھا ، سواروں كى كمان خالد بن وليد كے ہاتھ ميں تھى اور ''عكرمہ بن ابى جہل ''خالد كے نائب كى حيثيت سے شريك تھا اس بار لشكر مشركين ہر ايسے اختلاف سے اجتناب كر رہا تھا جو ان كو دو گروہوں ميں بانٹ ديتا_

عبّاس كى خبر رساني

جب لشكر نے كوچ كا ارادہ كيا تو پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے چچا عبّاس بن عبدالمطلب نے '' جو مخفى طور پر مسلمان ہوچكے تھے اور بہت قريب سے قريش كى تياريوں اور كوچ پر نظر ركھے ہوئے تھے'' پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو مشركين كے لشكر كى جنگى صورتحال كى اطلاع دينے كے ليے ايك خط تحرير كيا_

اور قبيلہ بنى غفار كے ايك قابل اعتماد شخص كے ذريعہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں بھيجا_ يہ فرستادہ اتنى تيزى سے روانہ ہوا كہ مكّہ اور مدينہ كا درميانى فاصلہ صرف تين دن ميں طے كر ليا_

۲۱

جب يہ سوار مدينہ پہنچا تو اس وقت پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ' ' قُبا'' ميں تھے _ وہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس پہنچا اور خط ديا_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خط ايك شخص كو دياتا كہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو سُنائے پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس سے فرمايا كہ اس كا مضمون كسى كو نہ بتانا_

مدينہ كے يہودى اور منافقين نامہ بَر كے آنے سے آگاہ ہوچكے تھے _ اور انھوں نے مشہور كرديا كہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس بُرى خبر پہنچى ہے_ تھوڑى ہى دير ميں لوگ قريش كى لشكركشى سے باخبر ہوگئے_(۱۵)

سپاہ قريش راستہ ميں

راستہ ميں جہاں كہيں پڑاؤ ہوتا لشكر كے ہمراہ موجود عورتيں گانا بجانا شروع كرديتيں اور مقتولين قريش كى ياد دلاكر سپاہيوں كو بھڑكاتى قريش كے سپاہى جہاں كہيں پانى كے كنارے رُكتے اونٹوں كو ذبح كركے اُن كا گوشت كھاتے_(۱۶)

عمروبن سالم خزاعى نے مكّہ اور مدينہ كے درميان مقام ''ذى طوى '' ميں قريش كو خيمہ زن ديكھا تو مدينہ آئے اور جو كچھ ديكھا تھا اس كى خبر پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو دي(۱۷) _

معلومات كى فراہمي

پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جمعرات كى رات ۵ شوال ۳ ھ ق، بمطابق ۲۴ مارچ ۶۲۵كو فضالہ كے سراغ رساں بيٹوں ''انس اور مونس ''كو دشمن كى نقل و حركت كے بارے ميں معلومات اكھٹى كرنے كے لئے بھيجا_ انھوں نے قريش كو ''عقيق '' كے مقام پر ديكھا اور ان كے پيچھے ہولئے جب لشكر نے ''وطاء '' كے مقام پر پڑاؤ ڈالا تو وہاں سے پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں

۲۲

رپورٹ پيش كرنے كے لئے واپس آگئے_(۱۸)

لشكر ٹھہرنے كى خبر

جيسے ہى سپاہ مشركين نے احد كے نزديك وطاء كے مقام پر پڑاؤ ڈالا تو پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ''حُباب بن مُنذر ''كو پوشيدہ طور پر مامور فرمايا كہ دشمن كى قوّت كا اندازہ كريں اور ضرورى معلومات جمع كركے اس كى رپورٹ ديں_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس بات كى تاكيد كى كہ اپنى رپورٹ دوسروں كى موجودگى ميں پيش نہ كريں مگر يہ كہ دشمن كى تعداد كم ہو ( تو اس وقت كوئي حرج نہيں ہے)_

''حُباب ''دشمن كے لشكر كے قريب پہنچے اور نہايت دقت نظر سے جائزہ لے كر واپس آئے اور پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے تنہائي ميں ملاقات كى اور كہا كہ ''اے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ميں نے ايك بڑا لشكر ديكھاہے ميرا اندازہ ہے كہ كم و بيش تين ہزار افراد ، دو سو گھوڑے اور زرہ پوش سپاہيوں كى تعداد تقريباً سات سو كے قريب ہوگى ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پوچھا كہ تم نے عورتوں كو بھى ديكھا؟ حباب نے كہا كہ ايسى عورتيں ديكھى ہيں جن كے پاس گانے بجانے كا سامان ہے_ پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ '' يہ عورتيں مردوں كو لڑائي پر اُكسانا اور مقتولين بدر كى ياد دلانا چاہتى ہيں، اس سلسلہ ميںتم كسى سے كوئي بات نہ كرنا خدا ہمارى مدد كے لئے كافى اور بہترين حفاظت كرنے والا ہے اے خدا ہمارى روانگى اور حملہ تيرى مدد سے ہوگا_(۱۹)

۲۳

مدينہ ميں ہنگامى حالت

شب جمعہ ۶ شوال ۳ ھ ق، بمطابق ۲۵ مارچ ۶۲۵ئ _ اوس و خزرج كے برجستہ افراد سعد بن معاذ ، اُسَيد بن حُضَير اور سعد بن عُبَادة چند مسلح افراد كے ہمراہ مسجد اور پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كے گھر كے دروازہ پر حفاظت كے لئے كھڑے ہوگئے_

مشركين كے شب خون مارنے كے خوف سے صبح تك شہر مدينہ كى نگرانى كى جاتى رہي_(۲۰)

فوجى شورى كى تشكيل

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس فكر ميں تھے كہ اگر مسلمان مدينہ ميں رہ كر شہر كا دفاع كريں گے تو مسلمانوں كى فوجى شان و شوكت كمزور پڑ جائے گى اور دشمن جرى ہوجائے گا اور ممكن ہے دشمن كے شہر كے قريب ہوتے ہى منافقين و يہود اندرونى سازش ( يا بغاوت) كے ذريعہ دشمن كى كاميابى كى راہ ہموار كريں دوسرى طرف شہر ميں رہنے كا فائدہ يہ ہے كہ قريش مجبور ہوں گے كہ شہر پر حملہ كريں اور اس صورت ميں دست بدست لڑائي كے حربوں كو بروئے كار لاكر دشمن پر ميدان تنگ اور شكست سے دوچار كيا جاسكتا ہے اور شہر ميں رہنا سپاہيوں ميں دفاع كے لئے زيادہ سے زيادہ جوش پيدا كرے گا_

قريش بھى اسى فكر ميں تھے كہ اگر مسلمان مدينہ ميں رہے تو درختوں كو كاٹ كر اور نخلستان ميں آگ لگا كر ناقابل تلافى اقتصادى نقصان پہنچايا جائے گا_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دفاعى حكمت عملى كى تعيين كے لئے اجلاس بلايا اور اصحاب سے مشورہ طلب كيا اجلاس ميں حضوراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اعلان كيا كہ اگر آپ لوگ مصلحت سمجھيں تو ہم مدينہ

۲۴

ميں رہيں اور دشمنوں كو اسى جگہ چھوڑديا جائے جہاں وہ اُترے ہيں تا كہ اگر وہ وہيں رہيں تو زحمت ميں مبتلا رہيں اور اگر مدينہ پر حملہ كريں تو ہم ان كے ساتھ جنگ كريں_

عبداللہ بن اُبى نے اُٹھ كر كہا كہ '' يا رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ابھى تك كوئي دشمن اس شہر پر فتحياب نہيں ہوسكا ماضى ميں ہم نے دشمن كے ساتھ جب بھى ميدان ميں لڑائي كى شكست سے دوچار ہوئے اور جب بھى دشمن نے چاہا ہمارے شہر ميں آئے تو ہم نے شكست دى لہذا آپ انھيں ان كے حال پر چھوڑ ديجئے _ اس لئے كہ اگر وہ وہيں رہے تو بدترين قيد ميں ہيں اور اگر حملہ آور ہوئے تو ہمارے بہادر ان سے لڑيں گے ، ہمارى عورتيں اور بچّے چھتوں سے ان پر پتھراؤ كريں گے اور اگر پلٹ گئے توشرمندہ رسوا ، نااُميد اور بغير كسى كاميابى كے واپس جائيں گے '' مہاجر ين و انصار كے بزرگ افراد حسن نيّت كے ساتھ اسى خيال كے حامى تھے ليكن شہادت كے شوقين نوجوانوں كى بڑى تعداد خصوصاً وہ لوگ جو جنگ بدر ميں شريك نہيں ہوسكے تھے دشمن سے روبرو لڑنے كے لئے بے قرار تھے اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے يہ خواہش ظاہر كر رہے تھے كہ دشمن كے مقابل ميدان كار زار ميں لے چليں_

اس اكثريت ميں لشكر اسلام كے دلير سردار حضرت حمزہ (ع) بھى تھے انھوں نے فرمايا: اس خدا كى قسم جس نے قرآن كو نازل فرمايا ہم اس وقت تك كھانا نہيں كھائيں گے جب تك شہر سے باہر دشمنوں سے نبرد آزمائي نہ كرليں_

جواں سال افراد كچھ اس طرح كا استدلال پيش كر رہے تھے كہ : اے خدا كے پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہم اس بات سے ڈر رہے ہيں كہ كہيں دشمن يہ خيال نہ كر بيٹھيں كہ ہم ان كے سامنے آنے سے ڈرتے ہيںاور شہر سے باہر نكلنا نہيں چاہتے _ ہميں اچھا نہيں لگتا قريش اپنے رشتہ داروں كى طرف واپس جاكر كہيں كہ ہم نے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو يثرب ميں محصور كرديا ; اور ( اس طرح) اعراب

۲۵

كو ہمارے مقابلے ميں دلير بناديں_(۲۱)

آخرى فيصلہ

جوانوں كے اصرار پر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اكثريت كى رائے كو قبول فرمايا اور مسلمانوں كے ساتھ نماز جمعہ ادا كى ،خطبہ ميں انہيں جانفشانى اور جہاد كى دعوت دى اور حكم ديا كہ دشمن سے جنگ كرنے كے لئے تيار ہوجائيں ، پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے نماز عصر جماعت كے ساتھ پڑھائي ، اس كے بعد فوراً گھر كے اندر تشريف لے گئے ، جنگى لباس زيب تن فرمايا ''خود ''سرپر ركھى تلوار حمائل كى اور جب اس حليہ ميں گھر سے باہر تشريف لائے تو وہ لوگ جو باہر نكلنے كے سلسلہ ميں اصرار كر رہے تھے، شرمندہ ہوئے اور اپنے دل ميں كہنے لگے كہ '' جس بات كى طرف پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا ميلان نہيں تھا ہميں اس كے خلاف اصرار كرنے كا حق نہيں تھا''_ اس وجہ سے وہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے قريب آئے اور كہا كہ'' اگر آپ چاہيں تو مدينہ ميں رہيں '' رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے فرمايا '' يہ مناسب نہيں ہے كہ پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لباس جنگ پہن لے اور قبل اس كے كہ خدا دشمنوں كے ساتھ جنگ كى سرنوشت كو روشن كردے وہ لباس جنگ كو اُتار پھينكے _

اب ہم جو كہہ رہے ہيں وہ كرتے جائيں خدا كا نام لے كر راستہ پرگامزن ہوجاؤ اگر صبر كروگے تو كامياب رہوگے''_(۲۲)

۲۶

سوالات:

۱ _ غزوہ بنى قينقاع كب واقع ہوا اور اس كا نتيجہ كيا رہا؟

۲_ ''ذى قرد'' كے مقام پر سّريہ ''زيد بن حارثہ ''كس مقصد كے تحت انجام پايا؟

۳_ حضرت على (ع) و حضرت فاطمہ (ع) كا عقد مبارك كس سال ہوا؟

۴_ جنگ احدشروع ہونے كے اسباب كيا تھے؟

۵_ جنگ احد كا بجٹ كفّار نے كس طرح پورا كيا؟

۶_ راہ خدا سے روكنے كى خاطر مال خرچ كرنے كے سلسلہ ميں قرآن كيا كہتا ہے؟

۷_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قريش كى روانگى سے كيسے واقف ہوئے؟

۸_ دشمن كا مقابلہ كرنے كيلئے مسلمانوں نے آخرى فيصلہ كيا كيا ؟

۲۷

حوالہ جات

۱_ان شعراء كے نام حسب ذيل ہيں:

كعب بن اشرف يہودى ، ابى عفك يہودى اور مشركين ميں سے ايك عورت عصماء بنت مروان ، طبقات ابن سعد جلد ۲ ص ۲۷/۲۸_

۲_ ابن ہشام كى تحرير كے مطابق بشير بن عبدالمنذر ( ابولبابہ) اور ابن اسحاق كى تحرير كے مطابق عبادہ بن وليد بن عبادہ بن صامت_

۳_ مغازى واقعدى جلد ۱ ص ۱۷۶، سيرة ابن ہشام جلد ۳ ص ۴۷، تاريخ طبرى جلد ۲ ص ۴۹۷، طبقات ابن سعد جلد ۲ ص ۲۷_

۴_ ہر درہم ۱۲ نخود كے يعنى آدھا مثقال چاندى كے برابر ہے اس حساب سے آپ كا مہر ۲۵۰ مثقال چاندى ہے_

۵_ اللہم بارك لقوم: جُلّ انيتہم الخزف _ كشف الغمہ جلد ۱ ص ۳۵۹_

۶_مزيد معلومات كے لئے كشف الغمہ كى طرف رجوع كريں ج۱ ص ۳۷۴/۳۴۸، بحار الانوار ج ۴۳ ص ۱۴۵/۹۲ مطبوعہ بيروت ،سيرة المصطفى ص ۳۲۹_۳۲۶_

۷_ انشاء اللہ حضرت علي(ع) و فاطمہ (ع) كے عقد كا تفصيلى حال امامت كى تاريخ ميں بيان كيا جائے گا_

۸_ سويق ايك غذا ہے جو چاول اور جوكے آٹے، شہد اور دودھ سے يا پھر خرمے آٹے اور روغن سے بنتى ہے_ جيسے ستّو_

۹_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۱۸۱_ طبقات ابن سعد جلد ۲ ص ۱۳۰_ سيرة ابن ہشام جلد ۲ ص ۴۴، دلائل النبوة بيہقى جلد ۲ ص ۳۲۲_

۱۰_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۱۸۳_ طبقات ابن سعد جلد ۲ ص ۳۵_ سيرة ابن ہشام جلد ۴/۳ ص ۴۳_

۲۸

۱۱_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۱۹۷_طبقات جلد ۲ ص ۳۶ _ متاع الاسماع ص ۱۱۲_

۱۲_ مغازى واقعدى جلد ۱ ص ۱۹۰_۱۹۳_ طبقات ابن سعد جلد ۲ ص ۳۴_

۱۳_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۲۰۰_

۱۴_ سورہ انفال آيت ۳۶_

۱۵_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۲۰_

۱۶_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۲۰۴_

۱۷_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۲۰۵،۲۰۶_

۱۸_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۲۰۵_

۱۹_ مغازى واقدى جلد ۱ ، ص ۲۰۶،۲۰۷_

۲۰_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۲۷۰،۲۰۸_

۲۱_ مغازى واقدى جلد ۱، ص ۲۰۸_

۲۲_ مغازى واقدى جلد ۱ ، ص ۲۱۹،۲۰۹_

۲۳_ مغازى واقدى جلد ۳، ص ۲۴۱،۲۱۳_

۲۹

دوسرا سبق

لشكر اسلام كى روانگي

لشكر توحيد كا پڑاؤ

منافقين كى خيانت

صف آرائي

دشمن اپنى صفوں كو منظم كرتاہے

جنگى توازن

جنگ كيسے شروع ہوئي؟

دشمن كے حوصلے بلند كرنے ميں موسيقى كا كردار

اجتماعى حملہ

فتح كے بعد شكست

پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا دفاع كرنيوالوں كى شجاعت

ام عمارہ شير دل خاتون

لشكر كى جمع آوري

سوالات

حوالہ جات

۳۰

لشكر اسلام كى روانگي

روانگى كے وقت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تين نيزے طلب فرمائے اور تين پرچم تيار كيئے لشكر كا عَلَم على بن طالب(ع) ، قبيلہ '' اوس'' كا پرچم '' اُسَيد بن حُضَير '' اور قبيلہ خزرج كا پرچم '' سعد بن عبادة'' كے سپُرد كيا_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جمعہ كے دن عصر كے وقت ايك ہزار افراد كے ساتھ مدينہ سے باہر نكلے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم گھوڑے پر سوار اور ہاتھ ميں نيزہ ليے ہوئے تھے _ مسلمانوں كے درميان صرف سو افراد كے جسم پر زرہ تھي_

لشكر اسلام مقام ''شيخان ''پر پہنچا تو ناگہاں ايك گروہ شور و غل كرتا ہوا پيچھے سے آن پہنچا رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پوچھا كہ يہ كون ہيں؟ لوگوں نے عرض كيا: اللہ كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم '' يہ عبيد اللہ بن اُبّى كے ہم پيمان يہودى ہيں''_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ '' ان تك يہ بات پہنچا دو كہ ہم ان كى مددسے بے نياز ہيں'' اس كے بعد فرمايا كہ '' مشركين سے جنگ كرنے كے لئے مشركين سے مدد نہ لى جائے''_(۱)

لشكر توحيد كا پڑاؤ

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے شيخان كے پاس پڑاؤ ڈالا اور محمد بن مسلمہ كو ۵۰ افراد كے ساتھ لشكر اسلام

۳۱

كے خيموں كى حفاظت پر مامور فرمايا_

اس مقام پر جنگ ميں شركت كے خواہشمند نوجوان آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس آئے اور جنگ ميں شركت كى اجازت چاہى ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انہيں جنگ ميں شركت كرنے كى اجازت نہ دى ،انہوں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے عرض كيا كہ رافع بن خَديج ايك ماہر تيرانداز ہے اور رافع نے بھى اونچى ايڑى والے جوتے پہن كر اپنے قد كى بلندى كا مظاہرہ كيا رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے رافع كو شركت كى اجازت دے دي_ سُمرَة بن جُندُب نے عرض كيا كہ ميں رافع سے زيادہ قوى ہوں ، ميں ان سے كشتى لڑنے كے لئے تيار ہوں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا ٹھيك ہے، كُشتى لڑو_ سمرہ نے رافع كو پٹخ ديا تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے بھى شركت كى اجازت ديدي_(۲)

عبداللہ بن حجش نے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے عرض كيا كہ : اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا دشمنوں نے وہاں ڈيرہ ڈال ركھا ہے_ ميں نے پہلے ہى خدا كى بارگاہ ميں دُعا كى ہے كہ كل جب دشمن سے مقابلہ ہوتو وہ مجھے قتل كرديں ،ميرا پيٹ پھاڑ ڈاليں ،ميرے جسم كو مثلہ كرديں تا كہ اسى حالت ميں خدا كا ديدار كروں اور جس وقت خدا مجھ سے پوچھے كہ كس راہ ميں تيرى يہ حالت كى گئي؟ تو ميں كہہ سكوں كہ اے خدا تيرى راہ ميں_(۳)

عمر و بن جموح ايك پاؤں سے اپاہج تھے جن كے چار بيٹے پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ہمراہ جنگوں ميں شير كى طرح لڑتے تھے، جب جنگ اُحد پيش آئي تو عزيز و اقارب نے عمرو بن جموح كو شركت سے منع كيا اور كہا كہ چونكہ تم پاؤں سے اپاہج ہو لہذا فريضہ جہاد كا بار تمہارے دوش پر نہيں ہے، اس كے علاوہ تمہارے بيٹے تو پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ہمراہ جنك كيلئے جارہے ہيں_ اس نے كہا كہ ''وہ لوگ تو جنّت ميں چلے جائيں_ اور ميں يہاں تمہارے پاس رہ جاؤں؟'' ان كى بيوى نے ديكھا كہ وہ ہتھياروں سے ليس ہوتے ہوئے زير لب يہ دعا كر

۳۲

رہے ہيں كہ '' خدايا مجھے گھر واپس نہ پلٹا_'' بيٹوں نے اصرار كيا كہ جنگ ميں شركت سے اجتناب كريں تو وہ پيغمبراكرم كى خدمت ميں پہنچے اور عرض كيا'' اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا ميرے بيٹے نہيں چاہتے كہ مجھے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ساتھ اس جنگ ميں شركت كرنے ديں، بخدا ميرى خواہش ہے كہ اس ناقص پاؤں كو بہشت كى سرزمين سے مَس كروں_''

پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا:

'' خدا نے تمہيںجنگ سے معاف ركھا ہے اور فريضہ جہاد تمہارے كندھوں سے اٹھاليا ہے_''

وہ نہيں مانے تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان كے بيٹوں سے فرمايا كہ '' اگر تم ان كو نہ رو كو تو تمہارے اوپر كوئي گناہ نہيں ہے_ شايد خدا ان كو شہادت نصيب كردے _(۴)

آفتاب غروب ہوا ،جناب بلال نے اذان دي، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجاہدين اسلام كے ساتھ نماز جماعت ادا كي_

دوسرى طرف دشمن كے لشكر ميں عكرمہ بن ابى جہل كو چند سواروں كے ساتھ خيموں كى حفاظت پر مامور كرديا گيا _(۵)

منافقين كى خيانت

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صبح سويرے شيخان سے احد (مدينہ سے ۶كلوميٹردور) كى طرف روانہ ہوئے _ مقام شوط پر منافقين كا سرغنہ عبداللہ بن ابى بن سلول اپنے تين سوساتھيوں سميت مدينہ واپس لوٹ گيا_ اس نے اپنے بہانہ كى توجيہ كے لئے كہا كہ '' محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جوانوں كى بات سنى ہمارى بات نہيں سنى اے لوگو ہميں نہيں معلوم كہ ہم كس لئے اپنے آپ كو قتل كئے

۳۳

جانے كے لئے پيش كرديں:؟ عبداللہ بن عمر و بن حرام ان كے پيچھے گئے اور كہا كہ '' اے قوم خدا سے ڈرو، ايسے موقع پر كہ جب دشمن نزديك ہے اپنے قبيلے اور پيغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو تنہا نہ چھوڑو'' منافقين نے جواب ديا '' اگر ہميں يقين ہوتا كہ جنگ ہوگى تو ہم تمہيں نہ چھوڑتے، ليكن ہميں معلوم ہے كہ كسى طرح كى جنگ نہيں ہوگي''_

عبداللہ بن عمرو جوكہ ان سے نا اميد ہوچكے تھے ان سے كہنے لگے، اے دشمنان خدا خدا تمہيں اپنى رحمت سے دور كرے اور بہت جلد خدا اپنے پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو تم سے بے نياز كردے گا_

ان تين سو افراد كے چلے جانے كے بعد قبيلہ بنى حارثہ اور قبيلہ بنى سلمہ كے افراد بھى سست پڑگئے اور واپس جانے كيلئے سوچنے لگے مگر خدا نے انھيں استوار ركھا_(۶)

صف آرائي

۷/ شوال ۳ ھ ق بمطابق ۲۶مارچ ۶۲۵ئبروز ہفتہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے احد ميں نماز صبح ادا كرنے كے بعد لشكر كى صف آرائي شروع كردي_ كوہ احد كو پيچھے اور مدينہ كو اپنے سامنے قرار ديا_ سپاہيوں كو مكمل طور پر ترتيب دينے كے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تقرير فرمائي اور كہا كہ ''تعريف اور جزاء اس شخص كے لئے ہے جو اپنے فريضے كو صبر و سكون اور متانت و يقين كے ساتھ انجام ديتا ہے ، اس لئے كہ جہاد انتہائي دشوار كام اور بہت سى مشكلات و پريشانيوں كا حامل ہے_ ايسے لوگ بہت كم ہيں جو اس ميں ثابت قدم ہيں، مگر وہ لوگ جن كو خدا ہدايت و پائيدارى عطا فرمائے ،خدا اس كا دوست ہے جو اس كا فرماں بردار ہے اور شيطان اس كا دوست ہے جو اس كى پيروى كرتا ہے ''_

''ہر چيز سے پہلے جہاد ميں ثابت قدم رہو اور اس وسيلے سے ان سعادتوں كو اپنے لئے

۳۴

فراہم كرو جن كا خدا نے وعدہ كيا ہے_ اختلاف، كشمكش اور ايك دوسرے كو كمزور بنانے كا ارادہ ترك كردو كيونكہ يہ باتيں حقارت و ناتوانى كا سبب ہيں''_

پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے '' عبداللہ بن جُبَير'' كو ۵۰ تيراندازوں كے ساتھ درّہ كوہ عينين كى نگرانى پر معين فرمايا اور درّہ كى حفاظت كے لئے جنگى حكمت عملى بتاتے ہوئے فرمايا: ہم فتحياب ہوں يا شكست كھائيں تم اپنى جگہ ڈٹے رہنا اور دشمن كے سواروں كو تيراندازى كے ذريعہ ہم سے دور كرتے رہنا_ تا كہ وہ پيچھے سے ہم پر حملہ نہ كريں اگر ہم قتل كرديئےائيں تو ہمارى مدد نہ كرنا اور اگر ہم فتحياب ہوجائيں اور مال غنيمت حاصل كرنے لگيں پھر بھى تم ہمارے پاس نہ آنا تم اپنى جگہ مضبوطى سے ڈٹے رہنا يہاں تك كہ ہمارا كوئي حكم تمہارے پاس آجائے_(۷)

دشمن اپنى صفوں كو منظم كرتاہے

ابوسفيان نے بھى اپنى فوج كى صفوں كو منظم كيا پيادہ زرہ پوش لشكر كو درميان ميں ''خالد بن وليد ''كى كمان ميں سواروں كا ايك دستہ دائيں جانب اوردوسرا دستہ ''عكرمہ بن ابى جہل'' كى سركرد گى ميں بائيں جانب ترتيب ديا، سياہ پرچم قبيلہ ''بنى عبدالدّار''كے افراد كے سپرد كيا اور شرك و الحاد كے وجود كى حفاظت كے لئے حكم ديتے ہوئے كہا كہ '' لشكر كى كاميابى پرچم داروں كى استقامت ميں پوشيدہ ہے ہم نے بدر كے دن اسى وجہ سے شكست كھائي تھى اب اگر اپنے آپ كو تم اس كے لائق ثابت نہيں كروگے تو پرچم دارى كا فخر كسى اور قبيلے كو نصيب ہوگا ، ان باتوں سے اس نے ''بنى عبدالدار ''كے جاہلى احساسات كو ابھارا يہاں تك كہ وہ آخرى دم تك جان كى بازى لگانے كيلئے آمادہ ہوگئے _(۸)

۳۵

جنگى توازن

اب ايك ہولناك جنگ كے دہانہ پر لشكر توحيد و شرك ايك دوسرے كے مقابل كھڑے ہيں اور ان دونوں لشكروں كا جنگى توازن مندرجہ ذيل ہے_(۹)

تفصيل لشكر اسلام لشكر مشركين باہمى نسبت

فوجي ۷۰۰ ۳۰۰۰ مسلمانوں كى نسبت ۷/۲:۴ زيادہ

زرہ پوش ۱۰۰ ۷۰۰ مشركين ۷ گنا زيادہ

نيزہ بردار ۱۰۰ ۷۰۰ مشركين ۷ گنا زيادہ

شہ سوار ۲ ۲۰۰ مشركين ۱۰۰گنا زيادہ

جنگ كيسے شروع ہوئي؟

دونوں لشكروں كے درميان ٹكراؤ كا باعث بننے والا پہلا شخص '' ابوعامر '' تھا_ احد كے دن آگے بڑھتا ہوا لشكر اسلام كے مقابل آيا اور آواز دے كر كہنے لگا، اے اوس ميں ابوعامر ہوں ،لوگوں نے كہا '' اے فاسق تيرى آنكھيں اندھى ہوجائيں '' ابوعامر اس غير متوقع جواب كے سننے سے اہل مكّہ كے درميان ذليل ہوگيا_ اس نے كہا كہ '' ميرى غير موجود گى ميں ميرا قبيلہ فتنہ و فساد ميں مبتلا ہوگيا ہے _ '' اسكے بعد اس نے مسلمانوں سے جنگ كا آغاز كرديا لشكر اسلام نے اس پر اور اس كے ساتھيوں پر سنگ بارى كى اس كے بيٹے'' حنظلہ ''جو كہ لشكر اسلام ميں تھے، انھوں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اجازت مانگى تا كہ اپنے باپ كو قتل كرديں ليكن رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اجازت نہيں دي_(۱۰)

''ابوعامر ''كى عقب نشينى كے بعد مشركوں كا پرچمدار '' طلحہ بن ابى طلحہ'' جسے لشكر كا مينڈھا كہا جاتا تھا، مغرورانہ انداز ميں آگے بڑھا اور چلّا كر كہا كہ ''تم كہتے ہوكہ ہمارے

۳۶

مقتولين دوزخ ميں اور تمہارے مقتولين بہشت ميں جائيں گے _ اس صورت ميں آيا كوئي ہے جسے ميں بہشت ميں بھيجوں يا وہ مجھے دوزخ ميں پہنچادے ؟'' حضرت على عليہ السلام مقابلے كے لئے آگے بڑھے_

جنگ شروع ہوئي اور تھوڑى ہى دير ميں مشركين كا پرچم دار شمشير على (ع) كى بدولت كيفر كردار كو پہنچا_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خوش ہوگئے اور مجاہدين اسلام نے صدائے تكبر بلند كى _

طلحہ كے بھائي نے پرچم اُٹھاليا اور آگے بڑھاجبكہ دوسرے چند افراد بھى پرچم سرنگوں ہوجانے كى صورت ميں شرك كا دفاع كرنے اور دوبارہ پرچم اٹھانے كے لئے تيار بيٹھے تھے_(۱۱)

دشمن كے حوصلے بلند كرنے ميں موسيقى كا كردار

اسلام كے مجاہد اپنے مقدّس دين كے دفاع كے لئے لڑرہے تھے اور اپنے دل و دماغ ميں شہادت كى آرزو كو پروان چڑھار ہے تھے ليكن مشركين كے سپاہيوں كا مقصد پست مادّى آرزوؤں كا حصول اور انتقام كے سوا كچھ نہ تھا _ مشركين كے نامور افراد جنگ كے دوران سپاہيو ںكے ان ہى جذبات كو بھڑ كار ہے تھے اور يہ ذمّہ دارى ان آوارہ عورتوں كى تھى جو آلات موسيقى بجاتيں اور مخصوص آواز ميں ترانے گاتى تھيں تا كہ ايك طرف لشكر كے جنسى جذبات بھڑكائيں اور دوسرى طرف انتقام كى آگ شعلہ ور كريں تا كہ وہ لوگ نفسياتى دباؤ كے تحت جنگ جارى ركھيں _

جو شعريہ بد قماش عورتيں پڑھ رہى تھيں ان كا مطلب كچھ اس طرح تھا'' ہم طارق كى بيٹياں ( وقت سحر طلوع ہو نے والا ستارہ) ہيں اور بہترين فرش پر قدم ركھتى ہيں_ اگر دشمن

۳۷

كى طرف بڑھوگے تو ہم تمہارے ساتھ بغل گير ہوگئيں، اگر دشمن كو پيٹھ دكھاؤ گے اور فرار كرو گے تو ہم تم سے جدا ہوجائے گئيں _(۱۲)

اجتماعى حملہ

حضرت علي(ع) نے نئے پرچم دار پر حملہ كيا اور وہ بھى اپنے گندے خون ميں لوٹنے لگا_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم سے اجتماعى حملہ شروع ہوا، مجاہدين اسلام ايسى شجاعت سے لڑرہے تھے جس كى تعريف بيان سے باہر ہے_ اس دوران على (ع) ، حمزہ(ع) اور ابودجانہ بے خوفى كى عظيم مثال تاريخ بشريت ميں ثبت كرتے ہوئے سپاہ دشمن پر بجلياں گرار ہے تھے ان كى تمام تر كوشش يہ تھى كہ پرچم داروں كے پير اُكھاڑديں اس ليے جنگ زيادہ تر اسى حصّہ ميں ہو رہى تھى _ چونكہ اس زمانے ميں پرچم كا سرنگوں ہوجانا شكست اور خاتمہ جنگ سمجھا جاتا تھا اسى وجہ سے مشركين كے پرچم دار انتہائي شجاعت كا مظاہرہ كر رہے تھے اور بنى عبدالدار كے قبيلہ كے افراد نہايت غيظ و غضب كے عالم ميںاپنے پرچم دار كے اردگرد جنگ كرتے جاتے تھے اور جب كوئي پرچم دار قتل ہوجاتا تو احتياطى فوجيں بلافاصلہ جلدى سے بڑھ كر پرچم كھول ديتى تھيں _ اس دوران دشمن كے شہ سواروں نے تين مرتبہ سپاہيان اسلام كے محاصرہ كو توڑنا چاہا اور ہر بار عبداللہ بن جبير كے دستے نے مردانہ وار، نہايت بہادرى كے ساتھ تيراندازى كے ذريعے ان كو پيچھے دھكيل ديا_

حضرت على (ع) كى تلوار، حمزہ (ع) كى دليرى اور عاصم بن ثابت كى تيراندازى سے'' بنى عبدالدار'' كے نو پرچم داريكے بعد ديگر ے ہوا ہوگئے اور رعب و وحشت نے مشركين كے سپاہيوں كو گھير ليا _ آخرى بار انہوں نے ''صئواب ''نامى غلام كو پرچم ديا_ صواب سياہ چہرے

۳۸

اور وحشت ناك حُليے كے ساتھ پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى طرف بڑھا، شدت غضب سے آنكھيں سرخ اور منہ سے كف جارى تھا_ ليكن على (ع) نے حملہ كيا اور تلوار كى ايسى ضربت اس كى كمر پر لگائي كہ وہ وہيں ڈھير ہوگيا_

مسلمانوں نے مشركين كى صفوف كود رہم بر ہم كرديا وہ عورتيں، جودف بجار ہى تھيں اور گانے گارہى تھيں ، دف پھينك كر پہاڑوں كى طرف بھاگيں، مشركين كے لشكر ميں فرار اور شكست شروع ہوئي اور تھوڑى ہى دير ميں زيادہ تر لوگ بھاگ گئے اور اس طرح جنگ كا پہلا مرحلہ مشركين كى شكست اور مجاہدين اسلام كى كاميابى پر ختم ہوا_

فتح كے بعد شكست

راہ خدا ميںجہاد، رضائے خدا كى طلب ، آئين اسلام كى نشر و اشاعت كے علاوہ مجاہدين اسلام كا كوئي اور مقصد نہ تھا وہ آخرى وقت تك بہادرى كے ساتھ جنگ كرتے رہے اور نتيجہ ميں فتحياب ہوئے_ ليكن فتح كے بعد بہت سے مسلمان مقصد سے ہٹ گئے اور ان كى نيت بدل گئي _ قريش نے جو مال غنيمت چھوڑا تھا اس نے بہت سے لوگوں كے اخلاص كى بنياديں ہلاديں انہوں نے فرمان رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور جنگ كے مقصد كو بُھلا ديا_ دشمنوں كے تعاقب سے چشم پوشى كركے مال غنيمت كى جمع آورى ميں مشغول ہوگئے_ انہوں نے اپنى جگہ يہ سوچ ليا تھا كہ دشمن كا كام تمام ہوگيا ہے_

درّہ كى پشت پر موجود محافظوں نے جب دشمن كو فرار اور مجاہدين كو مال غنيمت جمع كرتے ہوئے ديكھا تو جنگى حكمت عملى كے اعتبار سے اس اہم درّے كى حفاظت كى حساس ذمّہ دارى كو بُھلا ديا اور كہا كہ '' ہم يہاں كيوں رُكے رہيں؟ خدا نے دشمن كو شكست دى اور اب تمہارے بھائي مال غنيمت جمع كررہے ہيں_ چلو تا كہ ہم بھى ان كے ساتھ شركت

۳۹

كريں'' _ عبداللہ بن جبير نے ياد دلايا كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے يہ نہيں فرمايا تھا كہ '' اگر ہم قتل كرديئےائيں تو ہمارى مدد نہ كرنا اور اگر ہم كامياب ہوگئے اور مال غنيمت جمع كرنے لگے تب بھى ہمارے ساتھ شركت نہ كرنا بلكہ عقب سے ہمارى حفاظت كرتے رہنا؟'' عبداللہ نے بہت سمجھايا كہ كمانڈر كے حكم سے سرتابى نہ كرو، ليكن كوئي فائدہ نہيں ہوا_ انہوں نے غنيمت كے لالچ ميں اپنى جگہ كو چھوڑديا اوردرّے سے نكل آئے عبداللہ صرف دس ۱۰ افراد كے ساتھ وہاں باقى رہ گئے_

مشركين كى فوج كے شہ سواروں كے سردار ''خالد بن وليد ''نے جب درّے كو خالى ديكھا تو اپنے ما تحت فوجيوں كو ليكر وہاں حملہ كرديا اور چند بچے ہوئے تيراندازوں پر ٹوٹ پڑا ''عكرمہ بن ابى جہل ''نے اپنى ٹولى كے ساتھ خالد بن وليد كى پشت پناہى كى ، جن تيراندازوں نے درّہ نہيں چھوڑا تھا انھوں نے مردانہ وار مقابلہ كيا يہاں تك كہ ان كے تركش كے تمام تير خالى ہوگئے اس كے بعد انھوں نے نيزے اور پھر آخر ميں شمشير سے جنگ كى يہاں تك كہ سب شہيد ہوگئے_

سپاہيان اسلام اطمينان كے ساتھ مال غنيمت جمع كرنے ميں مشغول تھے كہ يكا يك خالد بن وليد لشكر اسلام كى پشت پر آپہنچااور جنگى حكمت عملى والے اہم حصّہ كو فتح كرليا_ دوسرى طرف سے مشركين اپنے فرار كو جارى ركھے ہوئے تھے جبكہ خالد بن وليد چلّا چلّاكر شكست خوردہ لشكر قريش كو مدد كے ليے پكار رہا تھا_ اسى دوران بھاگنے والوں ميں پيچھے رہ جانے والى ايك عورت نے كُفر كے سرنگوں پرچم كو لہرا ديا_ تھوڑى ہى دير ميں قريش كا بھاگا ہوا لشكر واپس آگيا اور شكست خوردہ لشكر پھر سے منظم ہوگيا_

سپاہ اسلام افرا تفرى اور بدنظمى كى وجہ سے تھوڑى ہى دير ميں سامنے اور پيچھے سے محاصرہ

۴۰

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417

418

419

420

421

422

423

424

425

426

427

428

429

430

431

432

433

434

435

436

437

438

439

440

441

442

443

444

445

446

447

448

449

450

451

452

453

454

455

456

457

458

459

460

461

462

463

464

465

466

467

468

469

470

471

472

473

474

475

476

477

478

479

480

481

482

483

484

485

486

487

488

489

490

491

492

493

494

495

496

497

498

499

500

ولْيَعْدِلْ بَيْنَ صَوَاحِبَاتِهَا فِي ذَلِكَ وبَيْنَهَا - ولْيُرَفِّه عَلَى اللَّاغِبِ - ولْيَسْتَأْنِ بِالنَّقِبِ والظَّالِعِ - ولْيُورِدْهَا مَا تَمُرُّ بِه مِنَ الْغُدُرِ - ولَا يَعْدِلْ بِهَا عَنْ نَبْتِ الأَرْضِ إِلَى جَوَادِّ الطُّرُقِ - ولْيُرَوِّحْهَا فِي السَّاعَاتِ - ولْيُمْهِلْهَا عِنْدَ النِّطَافِ والأَعْشَابِ - حَتَّى تَأْتِيَنَا بِإِذْنِ اللَّه بُدَّناً مُنْقِيَاتٍ - غَيْرَ مُتْعَبَاتٍ ولَا مَجْهُودَاتٍ - لِنَقْسِمَهَا عَلَى كِتَابِ اللَّه وسُنَّةِ نَبِيِّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - فَإِنَّ ذَلِكَ أَعْظَمُ لأَجْرِكَ - وأَقْرَبُ لِرُشْدِكَ إِنْ شَاءَ اللَّه

(۲۶)

ومن عهد لهعليه‌السلام

إلى بعض عماله - وقد بعثه على الصدقة

أَمَرَه بِتَقْوَى اللَّه فِي سَرَائِرِ أَمْرِه وخَفِيَّاتِ عَمَلِه - حَيْثُ لَا شَهِيدَ غَيْرُه ولَا وَكِيلَ دُونَه - وأَمَرَه أَلَّا يَعْمَلَ بِشَيْءٍ مِنْ طَاعَةِ اللَّه فِيمَا ظَهَرَ - فَيُخَالِفَ إِلَى غَيْرِه فِيمَا أَسَرَّ - ومَنْ لَمْ يَخْتَلِفْ سِرُّه وعَلَانِيَتُه وفِعْلُه ومَقَالَتُه - فَقَدْ أَدَّى الأَمَانَةَ وأَخْلَصَ الْعِبَادَةَ.

میں بھی شدت سے کام نہ لے اور اس کے اوردوسری اونٹنیوں کے درمیان عدل و مساوات سے کام لے۔تھکے ماندے اونٹ کو دم لینے کاموقع دے اورجس کے کھر گھس گئے ہوں یا پائوں شکستہ ہوں ان کے ساتھ نرمی کا برتائو کرے۔راستے میں تالاب پڑیں تو انہیں پانی پینے کے لئے لے جائے اور سر سبز راستوں کو چھوڑ کربے آب و گیاہ راستوں پر نہ لے جائے وقتا ً فوقتاً آرام دیتا رہے اور پانی اورسبزہ کے مقامات پر ٹھہرنے کی مہلت دے یہاں تک کہ ہمارے پاس اس عالم میں پہنچیں توحکم خدا سے تندرست و تگڑے ہوں۔تھکے ماندے اوردرماندہ نہ ہوں تاکہ ہم کتاب خدا اورسنت رسول (ص) کے مطابق انہیں تقسیم کرسکیں کہ یہ بات تمہارے لئے بھی اجر عظیم کا باعث اور ہدایت سے قریب تر ہے ۔انشاء اللہ

(۲۶)

آپ کا عہد نامہ

(بعض عمال کے لئے جنہیں صدقات کی جمع آوری کے لئے روانہ فرمایا تھا )

میں انہیں حکم دیتا ہوں کہ اپنے پوشیدہ اموراورمخفی اعمال میں بھی اللہ سے ڈرتے رہیں جہاں اس کے علاوہ کوئی دوسرا گواہ اورنگراں نہیں وتا ہے اورخبردار ایسا نہ ہو کہ ظاہری معاملات میں خدا کی اطاعت کریں اورمخفی مسائل میں اس کی مخالفت کریں۔اس لئے کہ جس کے ظاہر وباطن اور فعل و قول میں اختلاف نہیں ہوتا ہے وہی امانت الٰہی کا ادا کرنے والا اورعبادت الٰہی میں مخلص ہوتا ہے۔

۵۰۱

وأَمَرَه أَلَّا يَجْبَهَهُمْ ولَا يَعْضَهَهُمْ - ولَا يَرْغَبَ عَنْهُمْ تَفَضُّلًا بِالإِمَارَةِ عَلَيْهِمْ - فَإِنَّهُمُ الإِخْوَانُ فِي الدِّينِ - والأَعْوَانُ عَلَى اسْتِخْرَاجِ الْحُقُوقِ.

وإِنَّ لَكَ فِي هَذِه الصَّدَقَةِ نَصِيباً مَفْرُوضاً وحَقّاً مَعْلُوماً - وشُرَكَاءَ أَهْلَ مَسْكَنَةٍ وضُعَفَاءَ ذَوِي فَاقَةٍ - وإِنَّا مُوَفُّوكَ حَقَّكَ فَوَفِّهِمْ حُقُوقَهُمْ - وإِلَّا تَفْعَلْ فَإِنَّكَ مِنْ أَكْثَرِ النَّاسِ خُصُوماً يَوْمَ الْقِيَامَةِ،وبُؤْسَى لِمَنْ خَصْمُه عِنْدَ اللَّه الْفُقَرَاءُ والْمَسَاكِينُ - والسَّائِلُونَ والْمَدْفُوعُونَ والْغَارِمُونَ وابْنُ السَّبِيلِ - ومَنِ اسْتَهَانَ بِالأَمَانَةِ ورَتَعَ فِي الْخِيَانَةِ - ولَمْ يُنَزِّه نَفْسَه ودِينَه عَنْهَا - فَقَدْ أَحَلَّ بِنَفْسِه الذُّلَّ والْخِزْيَ فِي الدُّنْيَا - وهُوَ فِي الآخِرَةِ أَذَلُّ وأَخْزَى - وإِنَّ أَعْظَمَ الْخِيَانَةِ خِيَانَةُ الأُمَّةِ - وأَفْظَعَ الْغِشِّ غِشُّ الأَئِمَّةِ والسَّلَامُ.

اور پھر حکم دیتا ہوں کہ خبر دار لوگوں سے برے طریقہ سے پیش نہ آئیں۔اور انہیں پریشان نہ کریں اور نہ ان سے اظہار اقتدار کے لئے کنارہ کشی کریں کہ بہرحال یہ سب بھی دینی بھائی ہیں اورحقوق کی ادائیگی میں مدد کرنے والے ہیں۔

دیکھو ان صدقات میں تمہارا حصہ معین ہے اور تمہارا حق معلوم ہے ۔لیکن فقراء و مساکین اورفاقہ کش افراد بھی اس حق میںتمہارے شریک ہیں۔ہم تمہیں تمہارا پورا حق دینے والے ہیں ۔لہٰذا تمہیں بھی ان کا پورا حق دینا ہوگا کہ اگر ایسا نہیں کروگے تو قیامت کے دن سب سے زیادہ دشمن تمہارے ہوں گے اور سب سے زیادہ بد بختی اسی کے لئے ہے جس کے دشمن بارگاہ الٰہی میں فقرار مساکین(۱) ، سائلین،محرو مین، مقروض اور غربت زدہ مسافر ہوں اور جس شخص نے بھی امانت کو معمولی تصور کیا اورخیانت کی چراگاہ میں داخل ہوگیا اوراپنے نفس اور دین کی خیانت کاری سے نہیں بچایا۔اس نے دنیا میں بھی اپنے کوذلت اور رسوائی کی منزل میں اتار دیا اورآخرت میں تو ذلت و رسوائی اس سے بھی زیادہ ہے اور یاد رکھو کہ بد ترین خیانت امت کےساتھ خیانت ہے اوربد ترین فریب کاری سربراہ دین کے ساتھ فریب کاری کا برتائو ہے۔

(۱)کاش دنیا کے تمام حکام کو یہ احساس پیدا ہو جائے کہ فقراء و مساکین اس دنیا میں بے آسرا اوربے سہارا ہیں لیکن آخرت میں ان کا بھی والی و وارث موجود ہے اور وہاں کسی صاحب اقتدار کا اقتدار کامآنے والا نہیں ہے۔عدالت الہیہ میں شخصیات کا کوئی اثر نہیں ہے ہر شخص کو اپنے اعمال کاحساب دینا ہوگا اوراس کے مواخذہ اور محاسب کا سامنا کرنا ہوگا۔وہاں نہ کسی کی کرسی کام آسکتی ہے اور نہ کسی کا تخت وتاج۔ افراد کے ساتھ خیانت تو برداشت بھی کی جاسکتی ہے کہ وہ انفرادی معاملہ ہوتا ہے اور اسے افراد معاف کر سکتے ہیں لیکن قوم و ملت کے ساتھ خیانت ناقابل برداشت ہے کہ اس کی مدعی تمام امت ہوگی اوراتنے بڑے مقدمہ کاسامنا کرنا کسی انسان کے بس کا کام نہیں ہے ۔

۵۰۲

(۲۷)

ومن عهد لهعليه‌السلام

إلى محمد بن أبي بكررضي‌الله‌عنه - حين قلده مصر

فَاخْفِضْ لَهُمْ جَنَاحَكَ وأَلِنْ لَهُمْ جَانِبَكَ - وابْسُطْ لَهُمْ وَجْهَكَ وآسِ بَيْنَهُمْ فِي اللَّحْظَةِ والنَّظْرَةِ - حَتَّى لَا يَطْمَعَ الْعُظَمَاءُ فِي حَيْفِكَ لَهُمْ - ولَا يَيْأَسَ الضُّعَفَاءُ مِنْ عَدْلِكَ عَلَيْهِمْ - فَإِنَّ اللَّه تَعَالَى يُسَائِلُكُمْ مَعْشَرَ عِبَادِه - عَنِ الصَّغِيرَةِ مِنْ أَعْمَالِكُمْ والْكَبِيرَةِ والظَّاهِرَةِ والْمَسْتُورَةِ - فَإِنْ يُعَذِّبْ فَأَنْتُمْ أَظْلَمُ وإِنْ يَعْفُ فَهُوَ أَكْرَمُ.

واعْلَمُوا عِبَادَ اللَّه - أَنَّ الْمُتَّقِينَ ذَهَبُوا بِعَاجِلِ الدُّنْيَا وآجِلِ الآخِرَةِ - فَشَارَكُوا أَهْلَ الدُّنْيَا فِي دُنْيَاهُمْ - ولَمْ يُشَارِكُوا أَهْلَ الدُّنْيَا فِي آخِرَتِهِمْ - سَكَنُوا الدُّنْيَا بِأَفْضَلِ مَا سُكِنَتْ وأَكَلُوهَا بِأَفْضَلِ مَا أُكِلَتْ - فَحَظُوا مِنَ الدُّنْيَا بِمَا حَظِيَ بِه الْمُتْرَفُونَ - وأَخَذُوا مِنْهَا مَا أَخَذَه الْجَبَابِرَةُ

(۲۷)

آپ کا عہد نامہ

(محمد بن ابی بکرکے نام ۔جب انہیں مصر کا حاکم بنایا گیا )

لوگوں کے سامنے اپنیشانوں کو جھکا دینا اور اپنے برتائوکونرم رکھنا۔کشادہ روئی سے پیش آنا اور نگاہ وہ نظر میں بھی سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرنا تاکہ بڑے آدمیوں کو یہ خیال نہ پیدا ہو جائے کہ تم ان کے مفاد میں ظلم کر سکتے ہو اور کمزوروں کو تمہارے انصاف کی طرف سے مایوسی نہ ہو جائے ۔پروردگار روز قیامت تمام بندوں سے ان کے تمام چھوٹے اور بڑے ظاہر اورمخفی اعمال کے بارے میں محاسبہ کرے گا۔اس کے بعد اگروہ عذاب کرے گا تو تمہارے ظلم کانتیجہ ہوگا اور اگر معاف کردے گا تو اس کے کرم کا نتیجہ ہوگا۔

بندگان خدا! یادرکھو کہ پرہیز گار افراد دنیا اورآخرت کے فوائد لے کرآگے بڑھ گئے ۔وہ اہل دنیا کے ساتھ ان کی دنیا میں شریک رہے لیکن اہل دنیا ان کی آخرت میں شریک نہ ہو سکے ۔وہ دنیا میں بہترین انداز(۱) سے زندگی گزارتے رہے۔جو سب نے کھایا اس سے اچھا پاکیزہ کھاناکھایا اور وہتمام لذتیں حاصل کرلیں جو عیش پرست حاصل کرتے ہیں اوروہ سب کچھ پالیا جو جابر

(۱)بہترین زندگی سے مراد قصر شاہی میں قیام اورلذیذ ترین غذائیں نہیں ہیں ۔بہترین زندگی سے مراد وہ تمام اسباب ہیں جن سے زندگی گزر جائے اور انسان کسی حرام اورناجائز کام میں مبتلا نہ ہو۔

۵۰۳

الْمُتَكَبِّرُونَ - ثُمَّ انْقَلَبُوا عَنْهَا بِالزَّادِ الْمُبَلِّغِ والْمَتْجَرِ الرَّابِحِ - أَصَابُوا لَذَّةَ زُهْدِ الدُّنْيَا فِي دُنْيَاهُمْ - وتَيَقَّنُوا أَنَّهُمْ جِيرَانُ اللَّه غَداً فِي آخِرَتِهِمْ - لَا تُرَدُّ لَهُمْ دَعْوَةٌ ولَا يَنْقُصُ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنْ لَذَّةٍ - فَاحْذَرُوا عِبَادَ اللَّه الْمَوْتَ وقُرْبَه - وأَعِدُّوا لَه عُدَّتَه - فَإِنَّه يَأْتِي بِأَمْرٍ عَظِيمٍ وخَطْبٍ جَلِيلٍ - بِخَيْرٍ لَا يَكُونُ مَعَه شَرٌّ أَبَداً - أَوْ شَرٍّ لَا يَكُونُ مَعَه خَيْرٌ أَبَداً - فَمَنْ أَقْرَبُ إِلَى الْجَنَّةِ مِنْ عَامِلِهَا - ومَنْ أَقْرَبُ إِلَى النَّارِ مِنْ عَامِلِهَا - وأَنْتُمْ طُرَدَاءُ الْمَوْتِ - إِنْ أَقَمْتُمْ لَه أَخَذَكُمْ وإِنْ فَرَرْتُمْ مِنْه أَدْرَكَكُمْ - وهُوَ أَلْزَمُ لَكُمْ مِنْ ظِلِّكُمْ - الْمَوْتُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِيكُمْ والدُّنْيَا تُطْوَى مِنْ خَلْفِكُمْ - فَاحْذَرُوا نَاراً قَعْرُهَا بَعِيدٌ وحَرُّهَا شَدِيدٌ وعَذَابُهَا جَدِيدٌ -

اورمتکبر افراد کے حصہ میں آتا ہے اس کے بعد وہ زاد راہ لے کر گئے جو منزل تک پہنچا دے اور وہ تجارتکرکے گئے جس میں فائدہ ہی فائدہ ہو۔دنیا میں رہ کر دنیا کی لذت حاصل کی اوریہ یقین رکھے رہے کہ آخرت میں پروردگار کے جوار رحمت میں ہوںگے ۔جہاں نہ ان کی آواز ٹھکرائی جائے گی اور نہ کسی لذت میں ان کے حصہ میں کوئی کمی ہوگی۔ بندگان خدا! موت اوراس کے قریب سے ڈرو اور اس کے لئے سرو سامان مہیا کرلو۔کہ وہ ایک عظیم امر اوربڑے حادثہ کے ساتھ آنے والی ہے ۔ایسے خیر کے ساتھ جس میں کوئی شر(۱) نہ ہویا ایسے شر کے ساتھ جس میں کوئی خیر نہ ہو۔جنت یا جہنم کی طرف ان کے لئے عمل کرنے والوں سے زیادہ قریب تر کون ہو سکتا ہے۔تم وہ ہو جس کا موت مسلسل پیچھا کئے ہوئے ہیں۔تم ٹھہرجائو گے تب بھی تمہیں پکڑ لے گی اور فرار کرو گے تب بھی اپنی گرفت میں لے لے گی ۔وہ تمہارے ساتھ تمہارے سایہ سے زیادہ چپکی ہوئی ہے۔اسے تمہاری پیشانیوں کے ساتھ باندھ دیا گیا ہے اور دنیا تمہارے پیچھے سے برابر لپیٹی جارہی ہے۔اس جہنم سے ڈرو جس کی گہرائی بہت دور تک ہے اوراس کی گرمی بے حد شدید ہے اور اس کا عذاب بھی برابر تازہ بہ تازہ ہوتا رہے گا۔

(۱)اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ آخرتمیں یا صرف خیر ہے یا صرف شراور مخلوط اعمال والوں کی کوئی جگہ نہیں ہے۔مقصد صرف یہ ہے کہ آخرت کے ثواب و عذاب کا فلسفہ یہی ہے کہ اس میں کسی طرح کا اختلاط و امتزاج نہیں ہے۔دنیا کے ہر آرام میں تکلیف شامل ہے اور ہر تکلیف میں آرام کا کوئی نہ کوئی پہلو ضرور ہے لیکن آخرت میں عذاب کا ایک لمحہ بھی وہ ہے جس میں کسی راحت کا تصور نہیں ہے اور ثواب کا ایک لمحہ بھی وہ ہے جس میں کسی تکلیف کا کوئی امکان نہیں ہے۔لہٰذا انسان کا فرض ہے کہ اس عذاب سے ڈرے اوراس ثواب کا انتظام کرے ۔

۵۰۴

دَارٌ لَيْسَ فِيهَا رَحْمَةٌ - ولَا تُسْمَعُ فِيهَا دَعْوَةٌ ولَا تُفَرَّجُ فِيهَا كُرْبَةٌ - وإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ يَشْتَدَّ خَوْفُكُمْ مِنَ اللَّه - وأَنْ يَحْسُنَ ظَنُّكُمْ بِه فَاجْمَعُوا بَيْنَهُمَا - فَإِنَّ الْعَبْدَ إِنَّمَا يَكُونُ حُسْنُ ظَنِّه بِرَبِّه - عَلَى قَدْرِ خَوْفِه مِنْ رَبِّه - وإِنَّ أَحْسَنَ النَّاسِ ظَنّاً بِاللَّه أَشَدُّهُمْ خَوْفاً لِلَّه.

واعْلَمْ يَا مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ - أَنِّي قَدْ وَلَّيْتُكَ أَعْظَمَ أَجْنَادِي فِي نَفْسِي أَهْلَ مِصْرَ - فَأَنْتَ مَحْقُوقٌ أَنْ تُخَالِفَ عَلَى نَفْسِكَ - وأَنْ تُنَافِحَ عَنْ دِينِكَ - ولَوْ لَمْ يَكُنْ لَكَ إِلَّا سَاعَةٌ مِنَ الدَّهْرِ - ولَا تُسْخِطِ اللَّه بِرِضَا أَحَدٍ مِنْ خَلْقِه - فَإِنَّ فِي اللَّه خَلَفاً مِنْ غَيْرِه - ولَيْسَ مِنَ اللَّه خَلَفٌ فِي غَيْرِه.

صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا الْمُؤَقَّتِ لَهَا - ولَا تُعَجِّلْ وَقْتَهَا لِفَرَاغٍ - ولَاتُؤَخِّرْهَا عَنْ وَقْتِهَا لِاشْتِغَالٍ - واعْلَمْ أَنَّ كُلَّ شَيْءٍ مِنْ عَمَلِكَ تَبَعٌ لِصَلَاتِكَ.

ومِنْه - فَإِنَّه لَا سَوَاءَ إِمَامُ الْهُدَى وإِمَامُ الرَّدَى - ووَلِيُّ النَّبِيِّ وعَدُوُّ النَّبِيِّ - ولَقَدْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم إِنِّي لَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي مُؤْمِناً

وہ گھر ایسا ہے جہاں نہ رحمت کا گذر ہے اور نہ وہاں کوئی فریاد سنی جاتی ہے اور نہ کسی رنج و غم کی کشائش کا کوئی امکان ہے اگر تم لوگ یہ کرس کتے ہو کہ تمہارے دل میں خوف خدا شدید ہو جائے اورتمہیں اس سے حسن ظن حاصل ہو جائے تو ان دونوں کوجمع کرلو کہ بندہ کا حسن ظن اتنا ہی ہوتا ہے جتناخوف خدا ہوتاہے اوربہترین حسن ظن رکھنے والا وہی ہے جس کے دل میں شدید ترین خوف خدا پایا جاتا ہو ۔

محمد بن ابی بکر ! یاد رکھو کہ میں نے تم کو اپنے بہترین لشکر۔اہل مصر پر حاکم قراردیاہے ۔اب تم سے مطالبہ یہ ہے کہ اپنے نفس کی مخالفت کرنااور اپنے دین کی حفاظت کرنا چاہے تمہارے لئے دنیا میں صرف ایک ہی ساعت باقی رہ جائے اور کسی مخلوق کو خوش کرکے خالق کوناراض نہ کرنا کہ خدا ہر ایک کے بدلے کام آسکتا ہے لیکن اس کے بدلے کوئی کام نہیں آسکتا ہے۔

نماز اس کے مقررہ اوقات میں ادا کرنا۔نہ ایسا ہو کہ فرصت حاصل کرنے کے لئے پہلے ادا کرلو اور نہ ایسا ہو کہ مشغولیت کی بنا پر تاخیر کردو۔یاد رکھو کہ تمہارے ہر عمل کو نماز کا پابند ہونا چاہیے ۔

یاد رکھو کہ امام ہدایت اور پیشوا ئے ہلاکت ایک جیسے نہیں ہو سکتے ہیں۔نبی کا دوست اور دشمن یکساں نہیں ہوتا ہے۔رسول اکرم (ص) نے خود مجھ سے فرمایا ہے کہ ''میں اپنی امت کے بارے میں نہ کسی مومن سے خوفزدہ

۵۰۵

ولَا مُشْرِكاً - أَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَمْنَعُه اللَّه بِإِيمَانِه - وأَمَّا الْمُشْرِكُ فَيَقْمَعُه اللَّه بِشِرْكِه - ولَكِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ كُلَّ مُنَافِقِ الْجَنَانِ - عَالِمِ اللِّسَانِ - يَقُولُ مَا تَعْرِفُونَ ويَفْعَلُ مَا تُنْكِرُونَ.

(۲۸)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى معاوية جوابا قال الشريف: وهو من محاسن الكتب

أَمَّا بَعْدُ فَقَدْ أَتَانِي كِتَابُكَ - تَذْكُرُ فِيه اصْطِفَاءَ اللَّه مُحَمَّداً صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لِدِينِه - وتَأْيِيدَه إِيَّاه لِمَنْ أَيَّدَه مِنْ أَصْحَابِه - فَلَقَدْ خَبَّأَ لَنَا الدَّهْرُ مِنْكَ عَجَباً - إِذْ طَفِقْتَ تُخْبِرُنَا بِبَلَاءِ اللَّه تَعَالَى عِنْدَنَا - ونِعْمَتِه عَلَيْنَا فِي نَبِيِّنَا - فَكُنْتَ فِي ذَلِكَ كَنَاقِلِ التَّمْرِ إِلَى هَجَرَ - أَوْ دَاعِي مُسَدِّدِه إِلَى النِّضَالِ - وزَعَمْتَ أَنَّ أَفْضَلَ النَّاسِ فِي الإِسْلَامِ فُلَانٌ وفُلَانٌ -

ہوں اورنہ مشرک سے۔مومن کو اللہ اس کے ایمان کی بنا پر برائی سے روک دے گا اورمشرک کو اس کے شرک کی بنا پرمغلوب کردے گا سارا خطرہ ان لوگوں سے ہے جو زبان کے عالم ہوں اوردل کے منافق کہتے وہی ہیں جو تم سب پہچانتے ہو اور کرتے وہ ہیں جسے تم برا سمجھتے ہو۔

(۲۸)

آپ کا مکتوب گرامی

(معاویہ کے خط کے جواب میں جو بقول سید رضی آپ کا بہترین خط)

امابعد!میرے پاس تمہارا خطآیا ہےجدجسےتم نےرسولاکرم کے دین خداکےلئےمنتخب ہونےاورآپکے پروردگارکی طرفسے اصحاب کےذریعہ مویدہونےکاذکرکیاہےلیکن یہ توایک بڑی عجیب و غریب بات ہےجو زمانےنےتمہارےطرف چھپا کررکھی تھی کہ تم ہم کو ان احسانات کی اطلاع دے رہے ہو جو پروردگارنےہمارےہی ساتھ کئے ہیں اوراس نعمت کی خبردےرہےہوجو ہمارےہی پیغمبر(ص) کوملی ہےگویاکہ تم مقام ہجرکی طرف خرمےبھیج رہےہویا استادکو تیراندازی کی دعوت دےرہےہواسکےبعدتمہاراخیال ہےکہ فلاں(۱)

(۱)معاویہ نے یہ خط ابو امامہ باہلی کے ذریعہ بھیجا تھا اور اس میں متعدد مسائل کی طرف اشارہ کیا تھا۔سب سے بڑا مسئلہ حضرات شیخین کے فضائل کا تھا کہ حضرت علی کے ساتھ اکثریت انہیں افراد کی تھی جو آپ کو سلسلہ سے چوتھا خلیفہ تسلیم کرتے تھے۔اب اگر آپ ان کے باے میں اپنی صحیح رائے کا اظہار کردیں تو قوم بد ظن ہو جائے گی اور معاشرہ میں ایک نیا فتنہ کھڑا ہو جائے گا اوراگر ان کے فضائل کا اقرار کرلیں تو گویا ان تمام کلمات کی تکذیب کردی جو کل تک اپنی فضیلت یا مظلومیت کے بارے میں بیان کرتے تھے حضرت نے اس حساس صورت حالکا بخوبی اندازہ کرلیا اورواضح جواب دینے کے بجائے معاویہ کو اس مسئلہ سے الگ رہنے کی تلقین فرمائی اور سے اس کی اوقات سے بھی با خبر کردیا کہ یہ مسئلہ صدر اسلام کا ہے اور اس وقت تو تمہارا باپ بھی مسلمان نہیں تھا تمہارا کیا ذکر ہے؟ لہٰذا ایسے مسائل میں تمہیں رائے دینے کا کوئی حق نہیں ہے۔البتہ یہ بہر حال ثابت ہو جاتا ہے کہ ان فضائل میں تمہارے خاندان کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

۵۰۶

فَذَكَرْتَ أَمْراً إِنْ تَمَّ اعْتَزَلَكَ كُلُّه - وإِنْ نَقَصَ لَمْ يَلْحَقْكَ ثَلْمُه - ومَا أَنْتَ والْفَاضِلَ والْمَفْضُولَ والسَّائِسَ والْمَسُوسَ - ومَا لِلطُّلَقَاءِ وأَبْنَاءِ الطُّلَقَاءِ - والتَّمْيِيزَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ الأَوَّلِينَ - وتَرْتِيبَ دَرَجَاتِهِمْ وتَعْرِيفَ طَبَقَاتِهِمْ - هَيْهَاتَ لَقَدْ حَنَّ قِدْحٌ لَيْسَ مِنْهَا - وطَفِقَ يَحْكُمُ فِيهَا مَنْ عَلَيْه الْحُكْمُ لَهَا - أَلَا تَرْبَعُ أَيُّهَا الإِنْسَانُ عَلَى ظَلْعِكَ - وتَعْرِفُ قُصُورَ ذَرْعِكَ - وتَتَأَخَّرُ حَيْثُ أَخَّرَكَ الْقَدَرُ - فَمَا عَلَيْكَ غَلَبَةُ الْمَغْلُوبِ ولَا ظَفَرُ الظَّافِرِ.

وإِنَّكَ لَذَهَّابٌ فِي التِّيه رَوَّاغٌ عَنِ الْقَصْدِ - أَلَا تَرَى غَيْرَ مُخْبِرٍ لَكَ - ولَكِنْ بِنِعْمَةِ اللَّه أُحَدِّثُ - أَنَّ قَوْماً اسْتُشْهِدُوا فِي سَبِيلِ اللَّه تَعَالَى مِنَ الْمُهَاجِرِينَ والأَنْصَارِ - ولِكُلٍّ فَضْلٌ - حَتَّى إِذَا اسْتُشْهِدَ شَهِيدُنَا قِيلَ سَيِّدُ الشُّهَدَاءِ - وخَصَّه رَسُولُ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بِسَبْعِينَ تَكْبِيرَةً عِنْدَ صَلَاتِه عَلَيْه - أَولَا تَرَى أَنَّ قَوْماً قُطِّعَتْ أَيْدِيهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّه - ولِكُلٍّ

اورفلاں افراد سے بہتر تھے تو یہ تو ایسی بات ہے کہ اگر ایسی بات ہے کہ اگر صیح بھی ہو تو اس کا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اگر غلط بھی ہو تو تمہارا کوئی نقصان نہیں ہے۔تمہارا اس فاضل و مفضول، حاکم و رعایا کے مسئلہ سے کیاتعلق ہے۔بھلا آزاد کردہ اور ان کی اولاد کومہاجرین اولین کے درمیان امتیاز قائم کرنے۔ان کے درجات کا تعین کرنے اور ان کے طبقات کے پہنچوانے کا حق کیا ہے(یہ تو اس وقت مسلمان بھی نہیں تھے ) افسوس کہ جوئے کے تیروں کے ساتھ باہر کے تیر بھی آواز نکالنے لگے اور مسائل میں و لوگ بھی کرنے لگے جن کے خلاف خود ہی فیصلہ ہونے والا ہے۔اے شخص تو اپنے لنگڑے پن کو دیکھ کر اپنی حد پرٹھہرتاکیوں نہیں ہے اور اپنی کوتاہ دستی کو سمجھتا کیوں نہیں ہے اور جہاں قضا و قدر نے تجھے رکھ دیا ہے وہیں پیچھے ہٹ کرجاتا کیوں نہیں ہے۔تجھے کسی مغلوب کی شکست یا غالب کی فتح سے کیا تعلق ہے۔

تو تو ہمیشہ گمراہیوں میں ہاتھ پائوں مارنے والا اوردرمیانی راہسے انحراف کرنے والا ہے۔میں تجھے با خبر نہیں کررہا ہوں بلکہ نعمتخدا کا تذکرہ کر رہا ہوں ورنہ کیا تجھے نہیں معلوم ہے کہ مہاجرین وانصار کی ایک بڑی جماعت نے راہ خدا میں جانیں دی ہیں اور سب صاحبان فضل ہیں لیکن جب ہمارا کوئی شہید ہوا ہے تو اسے سید الشہدا کہا گیا ہے اور رسول اکرم (ص) نے اس کے جنازہ کی نمازمیں ستر تکبیریں کہی ہیں۔اسی طرح تجھے معلوم ہے کہ راہ خدا میں بہت سوں کے ہاتھ کٹے ہیں اورصاحبان

۵۰۷

فَضْلٌ - حَتَّى إِذَا فُعِلَ بِوَاحِدِنَا مَا فُعِلَ بِوَاحِدِهِمْ - قِيلَ الطَّيَّارُ فِي الْجَنَّةِ وذُو الْجَنَاحَيْنِ - ولَوْ لَا مَا نَهَى اللَّه عَنْه مِنْ تَزْكِيَةِ الْمَرْءِ نَفْسَه - لَذَكَرَ ذَاكِرٌ فَضَائِلَ جَمَّةً تَعْرِفُهَا قُلُوبُ الْمُؤْمِنِينَ - ولَا تَمُجُّهَا آذَانُ السَّامِعِينَ - فَدَعْ عَنْكَ مَنْ مَالَتْ بِه الرَّمِيَّةُ - فَإِنَّا صَنَائِعُ رَبِّنَا والنَّاسُ بَعْدُ صَنَائِعُ لَنَا - لَمْ يَمْنَعْنَا قَدِيمُ عِزِّنَا - ولَا عَادِيُّ طَوْلِنَا عَلَى قَوْمِكَ أَنْ خَلَطْنَاكُمْ بِأَنْفُسِنَا - فَنَكَحْنَا وأَنْكَحْنَا - فِعْلَ الأَكْفَاءِ ولَسْتُمْ هُنَاكَ - وأَنَّى يَكُونُ ذَلِكَ ومِنَّا النَّبِيُّ ومِنْكُمُ الْمُكَذِّبُ - ومِنَّا أَسَدُ اللَّه ومِنْكُمْ أَسَدُ الأَحْلَافِ - ومِنَّا سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ومِنْكُمْ صِبْيَةُ النَّارِ - ومِنَّا خَيْرُ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ ومِنْكُمْ حَمَّالَةُ الْحَطَبِ - فِي كَثِيرٍ مِمَّا لَنَا وعَلَيْكُمْ.

فَإِسْلَامُنَا قَدْ سُمِعَ وجَاهِلِيَّتُنَا لَا تُدْفَعُ - وكِتَابُ اللَّه يَجْمَعُ لَنَا مَا شَذَّ عَنَّا -

شرف ہیں لیکن جب ہمارے آدمی کے ہاتھ کاٹے گئے تواسے جنت میں طیار اورذوالجناحین بنادیا گیا اور اگر پروردگار نے اپنے منہ سے اپنی تعریف سے منع نہ کیا ہو تو بیان کرنے والا بے شمار فضائل بیان کرتا جنہیں صاحبان ایمان کے دل پہچانتے ہیں اور سننے والوں کے کان بھی الگ نہیں کرنا چاہتے چھوڑو ان کاذکر جن کا تیرنشانہسے خطا کرنے والا ہے۔ہمیں دیکھو جو پروردگار کے براہ راست ساختہ پر داختہ ہیں اورباقی لوگ ہمارے احسانات کا نتیجہ ہیں ہماری قدیمی عزت اور تمہاری قوم پر برتری ہمارے لئے اس امر سے مانع نہیں ہوئی کہ ہم نے تم کو اپنے ساتھ شامل کرلیا تو تم سے رشتے(۱) لئے اور تمہیں رشتے دئیے جو عام سے برابر کے لوگوں میں کیا جاتا ہے اور تم ہمارے برابر کے نہیں ہو اور ہو بھی کس طرح سکتے ہو جب کہ ہم میں سے رسول اکرم (ص) ہیں اور تم میں سے ان کی تکذیب کرنے والا۔ہم میں اسد اللہ ہیں اور تم میں اسد الاحلاف۔ہم میں سرداران جوانان جنت ہیں اورتم میں جہنمی لڑکے۔ہم میں سیدة نساء العالمین ہیں اور تم میں حمالتہ الحطب اور ایسی بے شمار چیزیں ہی جوہمارے حق میں ہیں اور تمہارے خلاف۔ ہمارا اسلام بھی مشہور ہے اور ہمارا قبل اسلام کاشرف بھی نا قابل انکار ہے اور کتاب خدا نے ہمارے منتشر اوصاف کو جمع کردیا ہے۔یہ کہہ کر کہ

(۱)یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ رسول اکرم (ص) نے اپنے ہاتھ کی پروردہ لڑکیوں کا عقد بنی امیہ میں کردیا اور ابو سفیان کی بیٹی ام حبیبہ سے خود عقد کرلیا حالانکہ عام طور سے لوگ رشتوں کے لئے برابری تلاش کرتے ہیں۔مگر چونکہ اسلام نے ظاہری کلمہ کو کافی قراردیا ہے لہٰذا ہم نے بھی رشتہ داری قائم کرلی او ر تمہاری اوقات کا خیال نہیں کیا تاکہ مذہب سماج پر حاکم رہے اور سماج مذہب پرحکومت نہ کرنے پائے ۔

۵۰۸

وهُوَ قَوْلُه سُبْحَانَه وتَعَالَى -( وأُولُوا الأَرْحامِ بَعْضُهُمْ أَوْلى بِبَعْضٍ فِي كِتابِ الله ) - وقَوْلُه تَعَالَى:( إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْراهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوه - وهذَا النَّبِيُّ والَّذِينَ آمَنُوا - والله وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ ) - فَنَحْنُ مَرَّةً أَوْلَى بِالْقَرَابَةِ وتَارَةً أَوْلَى بِالطَّاعَةِ - ولَمَّا احْتَجَّ الْمُهَاجِرُونَ عَلَى الأَنْصَارِ - يَوْمَ السَّقِيفَةِ بِرَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فَلَجُوا عَلَيْهِمْ - فَإِنْ يَكُنِ الْفَلَجُ بِه فَالْحَقُّ لَنَا دُونَكُمْ - وإِنْ يَكُنْ بِغَيْرِه فَالأَنْصَارُ عَلَى دَعْوَاهُمْ. وزَعَمْتَ أَنِّي لِكُلِّ الْخُلَفَاءِ حَسَدْتُ وعَلَى كُلِّهِمْ بَغَيْتُ - فَإِنْ يَكُنْ ذَلِكَ كَذَلِكَ فَلَيْسَتِ الْجِنَايَةُ عَلَيْكَ - فَيَكُونَ الْعُذْرُ إِلَيْكَ. وتِلْكَ شَكَاةٌ ظَاهِرٌ عَنْكَ عَارُهَا

وقُلْتَ إِنِّي كُنْتُ أُقَادُ - كَمَا يُقَادُ الْجَمَلُ الْمَخْشُوشُ حَتَّى أُبَايِعَ؛ ولَعَمْرُ اللَّه لَقَدْ أَرَدْتَ أَنْ تَذُمَّ فَمَدَحْتَ - وأَنْ تَفْضَحَ فَافْتَضَحْتَ - ومَا عَلَى الْمُسْلِمِ مِنْ غَضَاضَةٍ فِي أَنْ يَكُونَ مَظْلُوماً - مَا لَمْ يَكُنْ شَاكَّاً فِي دِينِه

''قرابت دار بعض بعض کے لئے اولیٰ ہیں '' اور یہ کہہ کر کہ '' ابراہیم کے لئے زیادہ قریب تر وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کا اتباع کیا ہے اور پیغمبر (ص) اور صاحبان ایمان اور اللہ صاحبان ایمان کاولی ہے '' یعنی ہم قرابت کے اعتبارسے بھی اولیٰ ہیں اوراطاعت و اتباع کے اعتبار سے بھی اس کے بعد جب مہاجرین نے انصار کے خلاف روز سقیفہ قرابت پیغمبر(ص) سے استدلال کیا اور کامیاب بھی ہوگئے ۔تواگر کامیابی کا راز یہی ہے تو حق ہمارے ساتھ ہے نہ کہ تمہارے ساتھ اوراگر کوئی اور دلیل ہے تو انصار کا دعویٰ باقی ہے۔

تمہارا خیال ہے کہ میں تمام خلفاء سے حسد رکھتا ہوں اورمیں نے سب کے خلاف بغاوت کی ہے تو اگر یہ صحیح بھی ہے تو اس کاظلم تم پر نہیں ہے کہ تم سے معذرت کی جائے ( یہ وہ غلطی ہے جس سے تم پر کوئی حرف نہیں آتا) بقول شاعر

اورتمہارا یہ کہنا کہ میں اس طرح کھینچا جا رہا تھا جس طرح نکیل ڈال کر اونٹ کو کھینچا جاتا ہے تاکہ مجھ سے بیعت لی جائے تو خدا کی قس تم نے میری مذمت کرنا چاہی اور نا دانستہ طور پر تعریف کر بیٹھے اور مجھے رسوا کرنا چاہا تھا مگرخودرسوا ہوگئے ۔

مسلمان کے لئے اس بات میں کوئی عیب نہیں ہے کہ وہ مظلوم ہو جائے جب تک کہ وہ دین کے معاملہ میں شک میں مبتلا نہ ہو اور اس کا یقین شبہ میں نہ پڑ

۵۰۹

ولَا مُرْتَاباً بِيَقِينِه - وهَذِه حُجَّتِي إِلَى غَيْرِكَ قَصْدُهَا - ولَكِنِّي أَطْلَقْتُ لَكَ مِنْهَا بِقَدْرِ مَا سَنَحَ مِنْ ذِكْرِهَا.

ثُمَّ ذَكَرْتَ مَا كَانَ مِنْ أَمْرِي وأَمْرِ عُثْمَانَ - فَلَكَ أَنْ تُجَابَ عَنْ هَذِه لِرَحِمِكَ مِنْه - فَأَيُّنَا كَانَ أَعْدَى لَه وأَهْدَى إِلَى مَقَاتِلِه أَمَنْ بَذَلَ لَه نُصْرَتَه فَاسْتَقْعَدَه واسْتَكَفَّه - أَمْ مَنِ اسْتَنْصَرَه فَتَرَاخَى عَنْه وبَثَّ الْمَنُونَ إِلَيْه - حَتَّى أَتَى قَدَرُه عَلَيْه - كَلَّا واللَّه لَاَّه( قَدْ يَعْلَمُ الله الْمُعَوِّقِينَ مِنْكُمْ - والْقائِلِينَ لإِخْوانِهِمْ هَلُمَّ إِلَيْنا - ولا يَأْتُونَ الْبَأْسَ إِلَّا قَلِيلًا ) -.

ومَا كُنْتُ لأَعْتَذِرَ مِنْ أَنِّي كُنْتُ أَنْقِمُ عَلَيْه أَحْدَاثاً - فَإِنْ كَانَ الذَّنْبُ إِلَيْه إِرْشَادِي وهِدَايَتِي لَه - فَرُبَّ مَلُومٍ لَا ذَنْبَ لَه -

وقَدْ يَسْتَفِيدُ الظِّنَّةَ الْمُتَنَصِّحُ

ومَا أَرَدْتُ( إِلَّا الإِصْلاحَ مَا اسْتَطَعْتُ - وما تَوْفِيقِي إِلَّا بِالله عَلَيْه تَوَكَّلْتُ وإِلَيْه أُنِيبُ )

وذَكَرْتَ أَنَّه لَيْسَ لِي ولأَصْحَابِي عِنْدَكَ

جائے۔میری دلیل اصل میں دوسروں کے مقابلہ میں ہے لیکن جس قدر مناسب تھا میں نے تم سے بھی بیان کردیا۔

اس کے بعد تم نے میرے اور عثمان کے معاملہ کا ذکرکیا ہے تو اس میں تمہارا حق ہے کہ تمہیں جواب دیا جائے اس لئے کہ تم ان کے قرابت دار ہو لیکن یہ سچ سچ بتائو کہ ہم دونوں میں ان کا زیادہ دشمن کون تھا اورکس نے ان کے قتل کا سامان فراہم کیا تھا۔اسنے جس نے نصرت کی پیشکش کی اوراسے بٹھا دیا گیا اور روکدیا گیا یا اسنے جس سے نصرت کا مطالبہ کیاگیا اور اس نے سستی برتی اورموت کا رخ ان کی طرف موڑ دیا۔یہاں تک کہ قضا و قدرنے اپنا کام پورا کردیا۔خدا کی قسم میں ہرگز اس کا مجرم نہیں ہوں اور اللہ ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو روکنے والے تھے اور اپنے بھائیوں سے کہہ رہے تھے کہ ہماری طرف چلے آئو اور جنگ میں بہت کم حصہ لینے والے تھے۔

میں اس بات کی معذرت نہیں کر سکتا کہ میں ان کی بدعتوں پر برابر اعتراض کر رہا تھا کہ اگر یہ ارشاد اور ہدایت بھی کوئی گناہ تھا تو بہت سے ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کی بے گناہ بھی ملامت کی جاتی ہے اور ''کبھی کبھی واقعی نصیحت کرنے والے بھی بد نام ہو جاتے ہیں ' ' میں نے اپنے امکان بھر اصلاح کی کوشش کی اور میری توفیق صرف اللہ کے سہارے ہے۔اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی کی طرف میری توجہ ہے ''

تم نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ تمہارے پاس

۵۱۰

إِلَّا السَّيْفُ - فَلَقَدْ أَضْحَكْتَ بَعْدَ اسْتِعْبَارٍ مَتَى أَلْفَيْتَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَنِ الأَعْدَاءِ نَاكِلِينَ - وبِالسَّيْفِ مُخَوَّفِينَ؟! فَلَبِّثْ قَلِيلًا يَلْحَقِ الْهَيْجَا حَمَلْ

فَسَيَطْلُبُكَ مَنْ تَطْلُبُ - ويَقْرُبُ مِنْكَ مَا تَسْتَبْعِدُ - وأَنَا مُرْقِلٌ نَحْوَكَ فِي جَحْفَلٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ والأَنْصَارِ - والتَّابِعِينَ لَهُمْ بِإِحْسَانٍ - شَدِيدٍ زِحَامُهُمْ سَاطِعٍ قَتَامُهُمْ - مُتَسَرْبِلِينَ سَرَابِيلَ الْمَوْتِ - أَحَبُّ اللِّقَاءِ إِلَيْهِمْ لِقَاءُ رَبِّهِمْ - وقَدْ صَحِبَتْهُمْ ذُرِّيَّةٌ بَدْرِيَّةٌ وسُيُوفٌ هَاشِمِيَّةٌ - قَدْ عَرَفْتَ مَوَاقِعَ نِصَالِهَا - فِي أَخِيكَ وخَالِكَ وجَدِّكَ وأَهْلِكَ -( وما هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ )

(۲۹)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى أهل البصرة

میرے اور میرے اصحاب کے لئے(۱) تلوار کے علاوہ کچھ نہیں ہے تو یہ کہہ کر تم نے روتے کو ہنسا دیا ہے بھلا تم نے اولاد عبدالمطلب کو کب دشمنوں سے پیچھے ہٹتے یا تلوار سے خوفزدہ ہوتے دیکھا ہے ؟

''ذرا ٹھہر جائو کہ حمل میدان جنگ تک پہنچ جائے ''

عنقریب جسے تم ڈھونڈ رہے ہو وہ تمہیں خود ہی تلاش کرلے گا اور جس چیز کو بعید خیال کر رہے ہو اسے قریب کردے گا۔اب میں تمہاری طرف مہاجرین و انصار کے لشکر کے ساتھ بہت جلد آرہا ہوں اور میرے ساتھ وہ بھی ہیں جو ان کے نقش قدم پر ٹھیک طریقہ سے چلنے والے ہیں۔ان کا حملہ شدید ہوگااور غبار جنگ ساری فضا میں منتشر ہوگا۔یہ موت کا لباس پہنے ہوں گے اور ان کی نظر میں بہترین ملاقات پروردگار کی ملاقات ہوگی۔ان کے ساتھ اصحاب بدر کی ذریت اوربنی ہاشم کی تلواریں ہوں گی۔تم نے ان کی تلواروں کی کاٹ اپنے بھائی ماموں ،نانا اور خاندان والوں میں دیکھ لی ہے اور وہ ظالموں سے اب بھی دور نہیں ہے ''

(۲۹)

آپ کا مکتوب گرامی

(اہل بصرہ کے نام)

(۱)قیامت کی بات ہے کہ معاویہ تلوار کی دھمکی صاحب ذوالفقار کو دے رہا ہے جب کہ اسے معلوم ہے کہ علی اس بہادر کا نام ہے جس نے دس برس کی عمرمیں تمام کفارو مشرکین سے رسول اکرم (ص) کو بچانے کاوعدہ کیاتھا اور ہجرت کی رات تلوار کی چھائوں میں نہایت سکون و اطمینان سے سویا ہے اور بدرکے میدان میں تمام روسا ء کفار و مشرکین اور زعماء بنی امیہ کا تن تنہاخاتمہ کردیا ہے۔ایں چہ بوالعجی است

۵۱۱

وقَدْ كَانَ مِنِ انْتِشَارِ حَبْلِكُمْ وشِقَاقِكُمْ - مَا لَمْ تَغْبَوْا عَنْه - فَعَفَوْتُ عَنْ مُجْرِمِكُمْ ورَفَعْتُ السَّيْفَ عَنْ مُدْبِرِكُمْ - وقَبِلْتُ مِنْ مُقْبِلِكُمْ - فَإِنْ خَطَتْ بِكُمُ الأُمُورُ الْمُرْدِيَةُ - وسَفَه الآرَاءِ الْجَائِرَةِ إِلَى مُنَابَذَتِي وخِلَافِي - فَهَا أَنَا ذَا قَدْ قَرَّبْتُ جِيَادِي ورَحَلْتُ رِكَابِي - ولَئِنْ أَلْجَأْتُمُونِي إِلَى الْمَسِيرِ إِلَيْكُمْ - لأُوقِعَنَّ بِكُمْ وَقْعَةً - لَا يَكُونُ يَوْمُ الْجَمَلِ إِلَيْهَا إِلَّا كَلَعْقَةِ لَاعِقٍ - مَعَ أَنِّي عَارِفٌ لِذِي الطَّاعَةِ مِنْكُمْ فَضْلَه - ولِذِي النَّصِيحَةِ حَقَّه - غَيْرُ مُتَجَاوِزٍ مُتَّهَماً إِلَى بَرِيٍّ ولَا نَاكِثاً إِلَى وَفِيٍّ.

(۳۰)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى معاوية

فَاتَّقِ اللَّه فِيمَا لَدَيْكَ - وانْظُرْ فِي حَقِّه عَلَيْكَ - وارْجِعْ إِلَى مَعْرِفَةِ مَا

تمہاری تفرقہ(۲) پردازی اورمخالفت کا جو عالم تھا وہ تم سے مخفی نہیں ہے لیکن میں نے تمہارے مجرموں کو معاف کردیا۔بھاگنے والوں سے تلوار اٹھالی۔آنے والوں کو بڑھ کرگلے لگالیا۔اب اس کے بعد بھی اگر تمہاری تباہ کن راء اور تمہارے ظالمانہ افکار کی حماقت تمہیں میری مخالفت اورعہد شکنی پر آمادہ کر رہی ہے تو یاد رکھو کہمیں نے گھوڑوں کو قریب کرلیا ہے۔اونٹوں پر سامان بار کرلیا ہے اوراگر تم نے گھرسے نکلنے پر مجبور کردیا تو ایسی معرکہ آرائی کروں گا کہ جنگ جمل فقط زبان کی چاٹ رہ جائے گی۔

میں تمہارے اطاعت گذاروں کے شرف کو پہچانتا ہوں اورمخلصین کے حق کو جانتا ہوں ۔میرے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ مجرم سے آگے بڑھ کربے خطا پر حملہ کردوں یا عہد شکن سے تجاوز کرکے وفادار سے بھی تعرض کروں۔

(۳۰)

آپ کا مکتوب گرامی

(معاویہ کے نام )

جو کچھ سازو سامان تمہارے پاس ہے اس میں اللہ سے ڈرو اور جواس کاحق تمہارے اوپر ہے اس پر نگاہ رکھو۔ اس حق کی معرفت کی طرف پلٹ آئو جس سے نا

(۱) پہلے اہل بصرہنے وفاداری کا اعلان کیا تو حضرت نے عثمان بن حنیف کو عامل بنا کربھیج دیا ۔اس کے بعد عائشہ وارد ہوئیں تواکثریت منحرف ہوگئی اور جنگ جمل کی نوبت آگئی لیکن آپ نے عام طور سے سب کو معاف کردیا اور عائشہ بھی مدینہ واپس چلی گئیں۔لیکن معاویہ نے پھر دوبارہ ورغلانا شروع کردیا تو آپ نے یہ تنبیہی خط روانہ فرمایا کہ جنگ جمل تو صرف مزہ چکھانے کے لئے تھی جنگ تو اب ہونے والی ہے۔لہٰذا ہوش میںآجائو اورمعاویہ کے بہکانے پر راہ حق سے انحراف نہ کرو۔

۵۱۲

لَا تُعْذَرُ بِجَهَالَتِه - فَإِنَّ لِلطَّاعَةِ أَعْلَاماً وَاضِحَةً - وسُبُلًا نَيِّرَةً ومَحَجَّةً نَهْجَةً وغَايَةً مُطَّلَبَةً - يَرِدُهَا الأَكْيَاسُ ويُخَالِفُهَا الأَنْكَاسُ - مَنْ نَكَبَ عَنْهَا جَارَ عَنِ الْحَقِّ وخَبَطَ فِي التِّيه - وغَيَّرَ اللَّه نِعْمَتَه وأَحَلَّ بِه نِقْمَتَه - فَنَفْسَكَ نَفْسَكَ فَقَدْ بَيَّنَ اللَّه لَكَ سَبِيلَكَ - وحَيْثُ تَنَاهَتْ بِكَ أُمُورُكَ - فَقَدْ أَجْرَيْتَ إِلَى غَايَةِ خُسْرٍ ومَحَلَّةِ كُفْرٍ - فَإِنَّ نَفْسَكَ قَدْ أَوْلَجَتْكَ شَرّاً وأَقْحَمَتْكَ غَيّاً - وأَوْرَدَتْكَ الْمَهَالِكَ وأَوْعَرَتْ عَلَيْكَ الْمَسَالِكَ.

(۳۱)

ومن وصية لهعليه‌السلام

للحسن بن عليعليه‌السلام - كتبها إليه بحاضرين عند انصرافه من صفين:

مِنَ الْوَالِدِ الْفَانِ الْمُقِرِّ لِلزَّمَانِ الْمُدْبِرِ الْعُمُرِ - الْمُسْتَسْلِمِ لِلدُّنْيَا

واقفیت قابل معافی نہیں ہے۔دیکھو اطاعت کے نشانات واضح، راستے روشن ، شاہراہیں سیدھی ہیں اور منزل مقصود سامنے ہے جس پر تمام عقل والے وارد ہوتے ہیں۔اور پست فطرت اس کی مخالفت کرتے ہیں۔جو اس ہدف سے منحرف ہوگیا وہ راہ حق سے ہٹ گیا اور گمراہی میںٹھوکر کھانے لگا۔اللہ نے اس کی نعمتوں کو سلب کرلیا اور اپناعذاب اس پروارد کردیا۔لہٰذا اپنے نفس کاخیال رکھو اوراسے ہلاکت سے بچائو کہ پروردگار نے تمہارے لئے راستہ کو واضح کردیا ہے اور وہ منزل بتادی ہے جہاں تک امور کو جانا ہے۔تم نہایت تیزی سے بدترین خسارہ اور کفر کی منزل کی طرف بھاگے جا رہے ہو۔تمہارے نفس نے تمہیں بدبختی میں ڈال دیا ہے اور گمراہی میں جھونک دیا ہے۔ہلاکت کی منزلوں میں وارد کردیا ہے اور صحیح راستوں کودشوار گزار بنادیاہے۔

(۳۱)

آپ کا وصیت نامہ

( جسے امام حسن کے نام صفین سے واپسی پر مقام حاضرین میں تحریر فرمایا ہے )

یہ وصیت ایک ایسے باپ(۱) کی ہے۔جو فنا ہونے والا اور زمانہ کے تصرفات کا اقرار کرنے والا ہے۔جس کی عمرخاتمہ کے قریب ہے اور وہ دنیا کے مصائب کے سامنے

(۱)بعض شارحین کا خیال ہے کہ یہ وصیت نامہ جناب محمد حنیفہ کے نام ہے اور سید رضی علیہ الرحمہ نے اسے امام حسن کے نام بتایا ہے۔بہرحال یہ ایک عام وصیت نامہ ہے جس سے ہر باپ کو استفادہ کرنا چاہیے اور اپنی اولاد کو انہیں خطوط پر وصیت و نصیحت کرنا چاہیے ورنہ اس کا مکمل مضمون مولائے کائنات پرمنطبق ہوتا ہے اور نہ امام حسن پر۔ اورنہ ایسے وصیت نامے کسی ایک فرد سے مخصوص ہواکرتے ہیں۔یہ انسانیت کا عظیم ترین منشور ہے جس میں عظیم ترین باپ نے عظیم ترین بیٹے کو مخاطب قرار دیا ہے تاکہ دیگر افراد ملت اس سے استفادہ کریں بلکہ عبرت حاصل کریں ۔

۵۱۳

السَّاكِنِ مَسَاكِنَ الْمَوْتَى والظَّاعِنِ عَنْهَا غَداً - إِلَى الْمَوْلُودِ الْمُؤَمِّلِ مَا لَا يُدْرِكُ - السَّالِكِ سَبِيلَ مَنْ قَدْ هَلَكَ - غَرَضِ الأَسْقَامِ ورَهِينَةِ الأَيَّامِ - ورَمِيَّةِ الْمَصَائِبِ وعَبْدِ الدُّنْيَا وتَاجِرِ الْغُرُورِ - وغَرِيمِ الْمَنَايَا وأَسِيرِ الْمَوْتِ - وحَلِيفِ الْهُمُومِ وقَرِينِ الأَحْزَانِ - ونُصُبِ الآفَاتِ وصَرِيعِ الشَّهَوَاتِ وخَلِيفَةِ الأَمْوَاتِ.

أَمَّا بَعْدُ - فَإِنَّ فِيمَا تَبَيَّنْتُ مِنْ إِدْبَارِ الدُّنْيَا عَنِّي - وجُمُوحِ الدَّهْرِ عَلَيَّ وإِقْبَالِ الآخِرَةِ إِلَيَّ - مَا يَزَعُنِي عَنْ ذِكْرِ مَنْ سِوَايَ - والِاهْتِمَامِ بِمَا وَرَائِي - غَيْرَ أَنِّي حَيْثُ تَفَرَّدَ بِي دُونَ هُمُومِ النَّاسِ هَمُّ نَفْسِي - فَصَدَفَنِي رَأْيِي وصَرَفَنِي عَنْ هَوَايَ - وصَرَّحَ لِي مَحْضُ أَمْرِي - فَأَفْضَى بِي إِلَى جِدٍّ لَا يَكُونُ فِيه لَعِبٌ - وصِدْقٍ لَا يَشُوبُه كَذِبٌ ووَجَدْتُكَ بَعْضِي - بَلْ وَجَدْتُكَ كُلِّي - حَتَّى كَأَنَّ شَيْئاً لَوْ أَصَابَكَ أَصَابَنِي - وكَأَنَّ الْمَوْتَ لَوْ أَتَاكَ أَتَانِي – فَعَنَانِي مِنْ أَمْرِكَ مَا يَعْنِينِي مِنْ أَمْرِ نَفْسِي - فَكَتَبْتُ إِلَيْكَ كِتَابِي - مُسْتَظْهِراً بِه

سپرانداختہ ہے۔مرنے والوں کی بستی میں مقیم ہے اور کل یہاں سے کوچ کرنے والا ہے ۔ اس فرزند کے نام جو دنیا میں وہ امیدیں رکھے ہوئے ہے جو حاصل ہونے والی نہیں ہیں اورہلاک ہوجانے والوں کے راستے پر گامزن ہے ' بیماریوں کا نشانہ اور روز گار کے ہاتھوں گوی ہے۔مصائب زمانہ کا ہدف اور دنیا کا پابند ہے۔اس کا فریب کاریوں کا تاجر اوروت کا قرضدار ہے۔اجل کا قیدی اور رنج و غم کا ساتھی مصیبتوں کاہمنشیں ہے اورآفتوں کا نشانہ ' خواہشات کامارا ہوا ہے اورمرنے والوں کا جانشین۔

اما بعد! میرے لئے دنیا کے منہ پھیر لینے ۔زمانہ کے ظلم و زیادتی کرنے اورآخرت کے میری طرف آنے کی وجہ سے جن باتوں کا انکشاف ہوگیا ہے انہوں نے مجھے دوسروں کے ذکر اوراغیار کے اندیشہ سے روک دیا ہے۔مگر جب میں تمام لوگوں کی فکرسے الگ ہو کر اپنی فکر میں پڑا تو میریرائے نے مجھے خواہشات سے روک دیا اور مجھ پرواقعی حقیقت منکشف ہوگئی جس نے مجھے اس محنت و مشقت تک پہنچا دیا جس میں کسی طرح کا کیل نہیں ہے اور اس صداقت تک پہنچا دیا جس میں کسی طرح کی غلط بیانی نہیں ہے۔میں نے تم کو اپنا ہی ایک حصہ پایا بلکہ تم کو اپنا سراپا وجود سمجھا کہ تمہاری تکلیف میری تکلیف ہے اور تمہاری موت میری موت ہے اس لئے مجھے تمہارے معاملات کی اتنی ہی فکر ہے جتنی اپنے معاملات کی ہوتی ہے اور اسی لئے میں نے یہ تحریر لکھی دی ہے جس کے ذریعہ تمہاری امداد کرنا چاہتا ہوں

۵۱۴

إِنْ أَنَا بَقِيتُ لَكَ أَوْ فَنِيتُ.

فَإِنِّي أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّه أَيْ بُنَيَّ ولُزُومِ أَمْرِه - وعِمَارَةِ قَلْبِكَ بِذِكْرِه والِاعْتِصَامِ بِحَبْلِه - وأَيُّ سَبَبٍ أَوْثَقُ مِنْ سَبَبٍ بَيْنَكَ وبَيْنَ اللَّه - إِنْ أَنْتَ أَخَذْتَ بِه.

أَحْيِ قَلْبَكَ بِالْمَوْعِظَةِ وأَمِتْه بِالزَّهَادَةِ - وقَوِّه بِالْيَقِينِ ونَوِّرْه بِالْحِكْمَةِ - وذَلِّلْه بِذِكْرِ الْمَوْتِ وقَرِّرْه بِالْفَنَاءِ - وبَصِّرْه فَجَائِعَ الدُّنْيَا - وحَذِّرْه صَوْلَةَ الدَّهْرِ وفُحْشَ تَقَلُّبِ اللَّيَالِي والأَيَّامِ - واعْرِضْ عَلَيْه أَخْبَارَ الْمَاضِينَ - وذَكِّرْه بِمَا أَصَابَ مَنْ كَانَ قَبْلَكَ مِنَ الأَوَّلِينَ - وسِرْ فِي دِيَارِهِمْ وآثَارِهِمْ - فَانْظُرْ فِيمَا فَعَلُوا وعَمَّا انْتَقَلُوا وأَيْنَ حَلُّوا ونَزَلُوا - فَإِنَّكَ تَجِدُهُمْ قَدِ انْتَقَلُوا عَنِ الأَحِبَّةِ - وحَلُّوا دِيَارَ الْغُرْبَةِ - وكَأَنَّكَ عَنْ قَلِيلٍ قَدْ صِرْتَ كَأَحَدِهِمْ - فَأَصْلِحْ مَثْوَاكَ ولَا تَبِعْ آخِرَتَكَ بِدُنْيَاكَ - ودَعِ الْقَوْلَ فِيمَا لَا تَعْرِفُ والْخِطَابَ فِيمَا لَمْ تُكَلَّفْ - وأَمْسِكْ عَنْ طَرِيقٍ إِذَا خِفْتَ ضَلَالَتَه - فَإِنَّ الْكَفَّ عِنْدَ حَيْرَةِ الضَّلَالِ خَيْرٌ مِنْ رُكُوبِ الأَهْوَالِ وأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ تَكُنْ

چاہیے میں زندہ رہوں یا مرجائوں۔

فرزند! میں تم کو خوف خدا اور اس کے احکام کی پابندی کی وصیت کرتا ہوں۔اپنے دل کواس کی یاد سے آباد رکھنا اوراس کی ریسمان ہدایت سے وابستہ رہنا کہ اس سے زیادہ مستحکم کوئی رشتہ تمہارے اور خداا کے درمیان نہیں ہے۔

اپنے دل کو موعظہ سے زندہ رکھنا اور اس کے خواہشات کو زہد سے مردہ بنادینا۔اسے یقین کے ذریعہ قوی رکھنا اورحکمت کے ذریعہ نورانی رکھنا۔ذکر موت کے ذریعہ رام کرنااورفناکے ذریعہ قابو میں رکھنا۔دنیا کے حوادث سے آگاہ رکھنا اور زمانہ کے حملہ اور لیل ونہار کے تصرفات سے ہوشیار رکھنا۔اس پر گذشتہ لوگوں کے اخبار کو پیش کرتے رہنا اور پہلے والوں پر پڑنے والے مصائبکویاد دلاتے رہنا۔ان کے دیار و آثار میں سر گرم سفر رہنا اور دیکھتے رہنا کہ انہوں نے کیا کیا ہے اور کہاں سے کہاں چل گئے ہیں۔کہاں واردہوئے ہیں اورکہاں ڈیرہ ڈالا ہے۔پھر تم دیکھو گے کہ وہ احباب کی دنیا سے منتقل ہوگئے ہیں اور دیار غربت میں وارد ہوگئے ہیں اور گویا کہ عنقریت تم بھی انہیں میں شامل ہو جائو گے لہٰذا اپنی منزل کو ٹھیک کرلو اورخبردارآخرت کو دنیا کے عوض فروخت نہ کرنا ۔جن باتوں کو نہیں جانتے ہو ان کے بارے میں بات نہ کرنا اور جن کے مکلف نہیں ہوان کے بارے میں گفتگو نہکرنا جس راستہ میں گمراہی کا خوف ہو ادھر قدم آگینہ بڑھانا کہ گمراہی کے تحیر سے پہلے ٹھہر جانا ہولناک مرحلوں میں وارد ہو جانے سے بہترہے۔نیکیوں کا حکم دیتے رہنا تاکہ اس کے

۵۱۵

مِنْ أَهْلِه - وأَنْكِرِ الْمُنْكَرَ بِيَدِكَ ولِسَانِكَ - وبَايِنْ مَنْ فَعَلَه بِجُهْدِكَ - وجَاهِدْ فِي اللَّه حَقَّ جِهَادِه - ولَا تَأْخُذْكَ فِي اللَّه لَوْمَةُ لَائِمٍ - وخُضِ الْغَمَرَاتِ لِلْحَقِّ حَيْثُ كَانَ وتَفَقَّه فِي الدِّينِ - وعَوِّدْ نَفْسَكَ التَّصَبُّرَ عَلَى الْمَكْرُوه - ونِعْمَ الْخُلُقُ التَّصَبُرُ فِي الْحَقِّ - وأَلْجِئْ نَفْسَكَ فِي أُمُورِكَ كُلِّهَا إِلَى إِلَهِكَ - فَإِنَّكَ تُلْجِئُهَا إِلَى كَهْفٍ حَرِيزٍ ومَانِعٍ عَزِيزٍ - وأَخْلِصْ فِي الْمَسْأَلَةِ لِرَبِّكَ - فَإِنَّ بِيَدِه الْعَطَاءَ والْحِرْمَانَ - وأَكْثِرِ الِاسْتِخَارَةَ وتَفَهَّمْ وَصِيَّتِي - ولَا تَذْهَبَنَّ عَنْكَ صَفْحاً - فَإِنَّ خَيْرَ الْقَوْلِ مَا نَفَعَ - واعْلَمْ أَنَّه لَا خَيْرَ فِي عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ - ولَا يُنْتَفَعُ بِعِلْمٍ لَا يَحِقُّ تَعَلُّمُه.

أَيْ بُنَيَّ إِنِّي لَمَّا رَأَيْتُنِي قَدْ بَلَغْتُ سِنّاً - ورَأَيْتُنِي أَزْدَادُ وَهْناً - بَادَرْتُ بِوَصِيَّتِي إِلَيْكَ - وأَوْرَدْتُ خِصَالًا مِنْهَا قَبْلَ أَنْ يَعْجَلَ بِي أَجَلِي - دُونَ أَنْ أُفْضِيَ إِلَيْكَ بِمَا فِي نَفْسِي - أَوْ أَنْ أُنْقَصَ فِي رَأْيِي كَمَا نُقِصْتُ فِي جِسْمِي - أَوْ يَسْبِقَنِي إِلَيْكَ بَعْضُ غَلَبَاتِ الْهَوَى وفِتَنِ الدُّنْيَا - فَتَكُونَ

اہل میں شمار ہو اور برائیوں سے اپنے ہاتھ اور زبان کی طاقت سے منع کرتے رہنا اور برائی کرنے والوں سے اپنے امکان بھر دور رہنا۔راہ خدا میں جہاد کا حق ادا کردینا اور خبردار اس راہ میں کسی ملامت گر کی ملامت کی پرواہ نہ کرنا۔حق کی خاطر جہاد بھی ہو سختیوں میں کود پڑنا۔اور دین کا علم حاصل کرنا اپنے نفس کو نا خوشگوار حالات میں صبر کا عادی بادینا اوریاد رکھنا کہ بہترین اخلاق حق کی راہ میں صبر کرنا ہے۔اپنے تمام امورمیں پروردگار کی طرف رجوع کرنا کہ اس طرح ایک محفوظ ترین پناہ گاہ کاسہارا لو گے اور بہترین محافظ کی پناہ میں رہوگے۔پروردگار سے سوال کرنے میں مخلص رہنا کہ عطا کرنا اور محروم کردینا اسی کے ہاتھ میں ہے مالک سے مسلسل طلب خیرکرتے رہنا اور میری وصیت پر غور کرتے رہنا۔اس سے پہلو بچا کر گذر نہ جانا کہ بہترین کلام وہی ہے جو فائدہ مند ہواور یاد رکھو کہ جس علم میں فائدہ نہ ہو اس میں کوئی خیر نہیں ہے اور جو علم سیکھنے کے لائق نہ ہو اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔

فرزند! میں نے دیکھا کہ اب میرا سن بہت زیادہ ہو چکا ہے اور مسلسل کمزور ہوتا جا رہا ہوں لہٰذا میں نے فوراً یہ وصیت لکھ دی اور ان مضامین کو درج کردیا کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے دل کی بات تمہارے حوالہ کرنے سے پہلے مجھے موت آجائے یا جسم کے نقص کی طرح رائے کو کمزور تصور کیا جانے لگے یا وصیت سے پہلے ہی خواہشات کے غلبے اوردنیا کے فتنے تم تک نہ پہنچ جائیں۔ اور تمہارا حال

۵۱۶

كَالصَّعْبِ النَّفُورِ - وإِنَّمَا قَلْبُ الْحَدَثِ كَالأَرْضِ الْخَالِيَةِ - مَا أُلْقِيَ فِيهَا مِنْ شَيْءٍ قَبِلَتْه - فَبَادَرْتُكَ بِالأَدَبِ قَبْلَ أَنْ يَقْسُوَ قَلْبُكَ - ويَشْتَغِلَ لُبُّكَ لِتَسْتَقْبِلَ بِجِدِّ رَأْيِكَ مِنَ الأَمْرِ - مَا قَدْ كَفَاكَ أَهْلُ التَّجَارِبِ بُغْيَتَه وتَجْرِبَتَه - فَتَكُونَ قَدْ كُفِيتَ مَئُونَةَ الطَّلَبِ - وعُوفِيتَ مِنْ عِلَاجِ التَّجْرِبَةِ - فَأَتَاكَ مِنْ ذَلِكَ مَا قَدْ كُنَّا نَأْتِيه - واسْتَبَانَ لَكَ مَا رُبَّمَا أَظْلَمَ عَلَيْنَا مِنْه أَيْ بُنَيَّ إِنِّي وإِنْ لَمْ أَكُنْ عُمِّرْتُ عُمُرَ مَنْ كَانَ قَبْلِي - فَقَدْ نَظَرْتُ فِي أَعْمَالِهِمْ وفَكَّرْتُ فِي أَخْبَارِهِمْ - وسِرْتُ فِي آثَارِهِمْ حَتَّى عُدْتُ كَأَحَدِهِمْ - بَلْ كَأَنِّي بِمَا انْتَهَى إِلَيَّ مِنْ أُمُورِهِمْ - قَدْ عُمِّرْتُ مَعَ أَوَّلِهِمْ إِلَى آخِرِهِمْ - فَعَرَفْتُ صَفْوَ ذَلِكَ مِنْ كَدَرِه ونَفْعَه مِنْ ضَرَرِه - فَاسْتَخْلَصْتُ لَكَ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ نَخِيلَه - وتَوَخَّيْتُ لَكَ جَمِيلَه وصَرَفْتُ عَنْكَ مَجْهُولَه - ورَأَيْتُ حَيْثُ عَنَانِي مِنْ أَمْرِكَ مَا يَعْنِي الْوَالِدَ الشَّفِيقَ -

بھڑک اٹھنے والے اونٹ جیسا ہو جائے۔ یقینا نوجوان کادل ایک خالی زمین کی طرح ہوتا ہے کہ جو چیز اس میں ڈال دی جائے اسے قبول کرلیتا ہے لہٰذا میں نے چاہا کہ تمہیں دل کے سخت ہونے اور عقل کے مشغول ہو جانے سے پہلے وصیت کردوں تاکہ تم سنجیدہ فکر کے ساتھ اس امر کو قبول کرلو جس کی تلاش اور جس کے تجربہ کی زحمت سے تمہیں تجربہ کار لوگوں نے بچا لیا ہے۔اب تمہاری طلب کی زحمت ختم ہوچکی ہے اورتمہیں تجربہ کی مشکل سے نجات مل چکی ہے۔تمہارے پاس وہ حقائق ازخود آگئے ہیں جن کو ہم تلاش کیا کرتے تھے اور تمہارے لئے وہ تمام باتیں واضح ہوچکی ہیں جو ہمارے لئے مبہم تھیں۔

فرزند! اگرچہ میں نے اتنی عمرنہیں پائی جتنی اگلے لوگوں کی ہواکرتی تھی لیکن میں نے ان کے اعمال میں غور کیا ہے اور ان کے اخبارمیں فکر کی ہے اور ان کے آثار میںسیرو سیاحت کی ہے اور میں صاف اور گندہ کی خوب پہچانتا ہوں۔نفع و ضرر میں امتیاز رکھتا ہوں۔میں نے ہر امر کی چھان پھٹک کر اس کا خالص نکال لیا ہے۔اور بہترین تلاش کرلیا ہے اور بے معنی چیزوں کو تم سے دور کردیا ہے اوری ہ چاہا ہے کہ تمہیں اسی وقت ادب کی تعلیم دے دوں جب کہ تم عمر کے ابتدائی حصہ میں ہو اور زمانہ کے حالات کا سامنا کر رہے ہو۔تمہاری نیت سالم ہے اورنفس صاف و پاکیزہ ہے اس لئے کہ مجھے تمہارے بارے میں اتنی ہی فکر ہے جتنی ایک مہربان باپ کو اپنی اولاد کی ہوتی ہے۔

۵۱۷

وأَجْمَعْتُ عَلَيْه مِنْ أَدَبِكَ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ - وأَنْتَ مُقْبِلُ الْعُمُرِ ومُقْتَبَلُ الدَّهْرِ - ذُو نِيَّةٍ سَلِيمَةٍ ونَفْسٍ صَافِيَةٍ - وأَنْ أَبْتَدِئَكَ بِتَعْلِيمِ كِتَابِ اللَّه عَزَّ وجَلَّ - وتَأْوِيلِه وشَرَائِعِ الإِسْلَامِ وأَحْكَامِه وحَلَالِه وحَرَامِه - لَا أُجَاوِزُ ذَلِكَ بِكَ إِلَى غَيْرِه - ثُمَّ أَشْفَقْتُ أَنْ يَلْتَبِسَ عَلَيْكَ - مَا اخْتَلَفَ النَّاسُ فِيه مِنْ أَهْوَائِهِمْ وآرَائِهِمْ - مِثْلَ الَّذِي الْتَبَسَ عَلَيْهِمْ - فَكَانَ إِحْكَامُ ذَلِكَ عَلَى مَا كَرِهْتُ مِنْ تَنْبِيهِكَ لَه أَحَبَّ إِلَيَّ - مِنْ إِسْلَامِكَ إِلَى أَمْرٍ لَا آمَنُ عَلَيْكَ بِه الْهَلَكَةَ - ورَجَوْتُ أَنْ يُوَفِّقَكَ اللَّه فِيه لِرُشْدِكَ - وأَنْ يَهْدِيَكَ لِقَصْدِكَ فَعَهِدْتُ إِلَيْكَ وَصِيَّتِي هَذِه.

واعْلَمْ يَا بُنَيَّ - أَنَّ أَحَبَّ مَا أَنْتَ آخِذٌ بِه إِلَيَّ مِنْ وَصِيَّتِي تَقْوَى اللَّه - والِاقْتِصَارُ عَلَى مَا فَرَضَه اللَّه عَلَيْكَ - والأَخْذُ بِمَا مَضَى عَلَيْه الأَوَّلُونَ مِنْ آبَائِكَ - والصَّالِحُونَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِكَ - فَإِنَّهُمْ لَمْ يَدَعُوا أَنْ نَظَرُوا لأَنْفُسِهِمْ كَمَا أَنْتَ نَاظِرٌ - وفَكَّرُوا كَمَا أَنْتَ مُفَكِّرٌ - ثُمَّ رَدَّهُمْ آخِرُ ذَلِكَ إِلَى الأَخْذِ بِمَا عَرَفُوا - والإِمْسَاكِ عَمَّا لَمْ يُكَلَّفُوا - فَإِنْ أَبَتْ نَفْسُكَ أَنْ تَقْبَلَ ذَلِكَ دُونَ أَنْ تَعْلَمَ كَمَا عَلِمُوا - فَلْيَكُنْ طَلَبُكَ ذَلِكَ بِتَفَهُّمٍ وتَعَلُّمٍ - لَا بِتَوَرُّطِ الشُّبُهَاتِ

اب میں اپنی تربیت کا آغاز کتاب خدا اور اس کی تاویل ۔قوانین اسلام اور اس کے احکام حلال و حرام سے کر رہا ہوں اور تمہیں چھوڑ کردوسرے کی طرف نہیں جانا۔پھر مجھے یہخوف بھی ہے کہ کہیں لوگوں کے عقائد و افکار و خواہشات کااختلاف تمہارے لئے اسی طرح مشتبہ نہ ہو جائے جس طرح ان لوگوں کے لئے ہوگیا ہے لہٰذا ان کا مستحکم کردینا میری نظرمیں ا سے زیادہ محبوب ہے کہ تمہیں ایسے حالات کے حوالے کردوں جن میں ہلاکت سے محفوظ رہنے کا اطمینان نہیں ہے۔اگرچہ مجھے یہ تعلیم دیتے ہوئے اچھا نہیں لگ رہا ہے۔لیکن مجھے امید ہے کہ پروردگار تمہیں نیکی کی توفیق دے گا اور سیدھے راستہ کی ہدایت عطا کرے گا۔اسی بنیاد پر یہ وصیت نامہ لکھ دیا ہے۔

فرزند! یاد رکھو کہ میری بہترین وصیت جسے تمہیں اخذ کرنا ہے وہ یہ ہے کہ تقویٰ الٰہی اختیار کرو اور اس کے فرائض پر اکتفا کرو اوروہ تمام طریقے جن پر تمہارے باپ دادا اور تمہارے گھرانے کے نیکج کردار افراد چلتے رہے ہیں انہیں پر چلتے رہو کہ انہوں نے اپنے بارے میں کسی ایسی فکر کونظرانداز نہیںکیا جو تمہاری نظر میں ہے اور کسی خیال کو فرو گذاشت نہیں کیا ہے اور اسی فکرونظر نے ہی انہیں اس نتیجہ تک پہنچا یا ہے کہ معروف چیزوں کوحاصل کرلیں اور لا یعنی چیزوں سے پرہیز کریں۔اب اگر تمہارا نفس ان چیزوں کو بغیر جانے پہچانے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے تو پھر اس کی تحقیق باقاعدہ علم و فہم کے ساتھ ہونی چاہیے اور شبہات میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے

۵۱۸

وعُلَقِ الْخُصُومَاتِ - وابْدَأْ قَبْلَ نَظَرِكَ فِي ذَلِكَ بِالِاسْتِعَانَةِ بِإِلَهِكَ - والرَّغْبَةِ إِلَيْه فِي تَوْفِيقِكَ - وتَرْكِ كُلِّ شَائِبَةٍ أَوْلَجَتْكَ فِي شُبْهَةٍ أَوْ أَسْلَمَتْكَ إِلَى ضَلَالَةٍ - فَإِنْ أَيْقَنْتَ أَنْ قَدْ صَفَا قَلْبُكَ فَخَشَعَ - وتَمَّ رَأْيُكَ فَاجْتَمَعَ - وكَانَ هَمُّكَ فِي ذَلِكَ هَمّاً وَاحِداً - فَانْظُرْ فِيمَا فَسَّرْتُ لَكَ - وإِنْ لَمْ يَجْتَمِعْ لَكَ مَا تُحِبُّ مِنْ نَفْسِكَ - وفَرَاغِ نَظَرِكَ وفِكْرِكَ - فَاعْلَمْ أَنَّكَ إِنَّمَا تَخْبِطُ الْعَشْوَاءَ وتَتَوَرَّطُ الظَّلْمَاءَ - ولَيْسَ طَالِبُ الدِّينِ مَنْ خَبَطَ أَوْ خَلَطَ - والإِمْسَاكُ عَنْ ذَلِكَ أَمْثَلُ

فَتَفَهَّمْ يَا بُنَيَّ وَصِيَّتِي - واعْلَمْ أَنَّ مَالِكَ الْمَوْتِ هُوَ مَالِكُ الْحَيَاةِ - وأَنَّ الْخَالِقَ هُوَ الْمُمِيتُ - وأَنَّ الْمُفْنِيَ هُوَ الْمُعِيدُ وأَنَّ الْمُبْتَلِيَ هُوَ الْمُعَافِي - وأَنَّ الدُّنْيَا لَمْ تَكُنْ لِتَسْتَقِرَّ - إِلَّا عَلَى مَا جَعَلَهَا اللَّه عَلَيْه مِنَ النَّعْمَاءِ والِابْتِلَاءِ - والْجَزَاءِ فِي الْمَعَادِ - أَوْ مَا شَاءَ مِمَّا لَا تَعْلَمُ - فَإِنْ أَشْكَلَ عَلَيْكَ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ فَاحْمِلْه عَلَى جَهَالَتِكَ - فَإِنَّكَ أَوَّلُ مَا خُلِقْتَ بِه جَاهِلًا ثُمَّ عُلِّمْتَ - ومَا أَكْثَرَ مَا تَجْهَلُ

اورنہ جھگڑوں کا شکار ہونا چاہیے اور ان مسائل میں نظر کرنے سے پہلے اپنے پروردگار سے مدد طلب کرو اور توفیق کے ئے اس کی طرف توجہ کرو اور ہر اس شائبہ کو چھوڑ دو جو کسی شبہ میں ڈال دے یا کسی گمراہی کے حوالے کردے ۔پھر اگر تمہیں اطمینان ہو جائے کہ تمہارا دل صاف اور خاشع ہوگیا ہے اور تمہاری رائے تام دکامل ہوگئی ہے اور تمہارے پاس صرف یہی ایک فکر رہ گئی ہے تو جن باتوں کو میں نے واضح کیا ہے ان میں غورو فکر کرنا ورنہ اگر حسب منشاء فکرونظر کا فراغ حاصل نہیں ہوا ہے تو یاد رکھو کہ اس طرف صرف شبکور اونٹنی کی طرح ہاتھ پیر مارتے رہو گے اور اندھیرے میں بھٹکتے رہوگے اور دین کا طلب گار وہ نہیں ہے جواندھیروں میں ہاتھ پائوں مارے اورباتوں کومخلوط کردے۔اس سے تو ٹھہرجانا ہی بہتر ہے۔

فرزند! میری وصیت کو سمجھو اور یہ جان لو کہ جو موت کا مالک ہے وہی زندگی کا مالک ہے اور جو خالق ہے وہی موت دینے والا ہے اور جوفناکرنے والا ے وہی دوبارہ واپس لانے والا ہے اور جو مبتلا کرنے والا ہے وہی عافیت دینے والا ہے اور یہ دنیا اسی حالت میں مستقررہ سکتی ہے جس میں مالک نے قراردیا ہے یعنی نعمت، آزمائش ، آخرت کی جزا یا وہ بات جو تم نہیں جانتے ہو۔اب اگر اس میں سے کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو اس اپنی جہالت پر محمول کرنا کہ تم ابتدا میں جب پیدا ہو ئے ہو تو جاہل ہی پیداہوئے ہو بعد میں علم حاصل کیا ہے اور اسی بنا پر مجہولات

۵۱۹

مِنَ الأَمْرِ ويَتَحَيَّرُ فِيه رَأْيُكَ - ويَضِلُّ فِيه بَصَرُكَ ثُمَّ تُبْصِرُه بَعْدَ ذَلِكَ فَاعْتَصِمْ بِالَّذِي خَلَقَكَ ورَزَقَكَ وسَوَّاكَ - ولْيَكُنْ لَه تَعَبُّدُكَ - وإِلَيْه رَغْبَتُكَ ومِنْه شَفَقَتُكَ

واعْلَمْ يَا بُنَيَّ أَنَّ أَحَداً لَمْ يُنْبِئْ عَنِ اللَّه سُبْحَانَه - كَمَا أَنْبَأَ عَنْه الرَّسُولُصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - فَارْضَ بِه رَائِداً وإِلَى النَّجَاةِ قَائِداً - فَإِنِّي لَمْ آلُكَ نَصِيحَةً - وإِنَّكَ لَنْ تَبْلُغَ فِي النَّظَرِ لِنَفْسِكَ - وإِنِ اجْتَهَدْتَ مَبْلَغَ نَظَرِي لَكَ.

واعْلَمْ يَا بُنَيَّ - أَنَّه لَوْ كَانَ لِرَبِّكَ شَرِيكٌ لأَتَتْكَ رُسُلُه - ولَرَأَيْتَ آثَارَ مُلْكِه وسُلْطَانِه - ولَعَرَفْتَ أَفْعَالَه وصِفَاتِه - ولَكِنَّه إِلَه وَاحِدٌ كَمَا وَصَفَ نَفْسَه - لَا يُضَادُّه فِي مُلْكِه أَحَدٌ ولَا يَزُولُ أَبَداً ولَمْ يَزَلْ - أَوَّلٌ قَبْلَ الأَشْيَاءِ بِلَا أَوَّلِيَّةٍ - وآخِرٌ بَعْدَ الأَشْيَاءِ بِلَا نِهَايَةٍ - عَظُمَ عَنْ أَنْ تَثْبُتَ رُبُوبِيَّتُه بِإِحَاطَةِ قَلْبٍ أَوْ بَصَرٍ - فَإِذَا عَرَفْتَ ذَلِكَ فَافْعَلْ - كَمَا يَنْبَغِي لِمِثْلِكَ أَنْ يَفْعَلَه فِي صِغَرِ خَطَرِه - وقِلَّةِ مَقْدِرَتِه وكَثْرَةِ عَجْزِه - وعَظِيمِ حَاجَتِه إِلَى رَبِّه فِي طَلَبِ طَاعَتِه - والْخَشْيَةِ مِنْ عُقُوبَتِه -

کی تعداد کثیر ہے جس میں انسانی رائے متحیر رہ جاتی ہے اورنگاہ بہک جاتی ہے اوربعد میں صحیح حقیقت نظر آتی ہے۔لہٰذا اس مالک سے وابستہ رہو جس نے پیدا کیا ہے۔روزی دی ہے اورمعتدل بنایا ہے۔اسی کی عبادت کرو' اسی کی طرف توجہ کرو اور اسی سے ڈرتے رہو۔

بیٹا! یہ یاد رکھو کہ تمہیں خدا ے بارے میں اس طرح کی خبریں کوئی نہیں دے سکتا ہے جس طرح رسول اکرم (ص) نے دی ہیں لہٰذا ان کو بخوشی اپنا پیشوا اور راہ نجات کا قائد تسلیم کرو۔میں نے تمہاری نصیحت میں کوئی کمی نہیں کی ہے اور نہ تم کوشش کے باوجود اپنے بارے میں اتنا سوچ سکتے ہو جتنا میں نے دیکھ لیا ہے۔

فرزند ! یاد رکھو اگر خدا کے لئے کوئی شریک بھی ہوتا تو اس کے بھی رسول آتے اور اس کی سلطنت اورحکومت کے بھی آثار دکھائی دیتے اور اس کے افعال وصفات کاب ھی کچھ پتہ ہوتا۔لیکن ایسا کچھ نہں ہے لہٰذا خدا ایک ہے جیسا کہاس نے خود بیان کیا ہے۔اس کے ملک میں اس سے کوئی ٹکرانے والا نہیں ہے اور نہاس کے لئے کسی طرح کا زوال ہے۔وہ اولیت کی حدوں کے بغیر سب سے اول ہے اور کسی انتہا کے بغیر سب سے آخرتک رہنے والا ہے وہ اس بات سے عظیم تر ہے کہ اس کی ربوبیت کا اثبات فکرو نظر کے احاطہ سے کیاجائے اگرتم نے اس حقیقت کو پہچان لیا ہے تو اس طرح عمل کرو جس طرحتم جیسے معمولی حیثیت ' قلیل طاقت ' کثیر عاجزی اور پروردگار کی طرف اطاعت کی طلب' عتاب

۵۲۰

521

522

523

524

525

526

527

528

529

530

531

532

533

534

535

536

537

538

539

540

541

542

543

544

545

546

547

548

549

550

551

552

553

554

555

556

557

558

559

560

561

562

563

564

565

566

567

568

569

570

571

572

573

574

575

576

577

578

579

580

581

582

583

584

585

586

587

588

589

590

591

592

593

594

595

596

597

598

599

600

601

602

603

604

605

606

607

608

609

610

611

612

613

614

615

616

617

618

619

620

621

622

623

624

625

626

627

628

629

630

631

632

633

634

635

636

637

638

639

640

641

642

643

644

645

646

647

648

649

650

651

652

653

654

655

656

657

658

659

660

661

662

663

664

665

666

667

668

669

670

671

672

673

674

675

676

677

678

679

680

681

682

683

684

685

686

687

688

689

690

691

692

693

694

695

696

697

698

699

700

701

702

703

704

705

706

707

708

709

710

711

712

713

714

715

716

717

718

719

720

721

722

723

724

725

726

727

728

729

730

731

732

733

734

735

736

737

738

739

740

741

742

743

744

745

746

747

748

749

750

751

752

753

754

755

756

757

758

759

760

761

762

763

764

765

766

767

768

769

770

771

772

773

774

775

776

777

778

779

780

781

782

783

784

785

786

787

788

789

790

791

792

793

794

795

796

797

798

799

800

801

802

803

804

805

806

807

808

809

810

811

812

813

814

815

816

817

818

819

820

821

822

823

824

825

826

827

828

829

830

831

832

833

834

835

836

837

838

839

840

841

842

843

844

845

846

847

848

849

850

851

852

853

854

855

856

857

858

859

860

861

862

863