نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)6%

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ) مؤلف:
: علامہ السید ذیشان حیدر جوادی قدس سرہ
زمرہ جات: متن احادیث
صفحے: 863

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 863 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 656835 / ڈاؤنلوڈ: 15924
سائز سائز سائز
نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417

418

419

420

421

422

423

424

425

426

427

428

429

430

431

432

433

434

435

436

437

438

439

440

441

442

443

444

445

446

447

448

449

450

451

452

453

454

455

456

457

458

459

460

461

462

463

464

465

466

467

468

469

470

471

472

473

474

475

476

477

478

479

480

481

482

483

484

485

486

487

488

489

490

491

492

493

494

495

496

497

498

499

500

501

502

503

504

505

506

507

508

509

510

511

512

513

514

515

516

517

518

519

520

والشَّفَقَةِ مِنْ سُخْطِه فَإِنَّه لَمْ يَأْمُرْكَ إِلَّا بِحَسَنٍ - ولَمْ يَنْهَكَ إِلَّا عَنْ قَبِيحٍ.

يَا بُنَيَّ إِنِّي قَدْ أَنْبَأْتُكَ عَنِ الدُّنْيَا وحَالِهَا - وزَوَالِهَا وانْتِقَالِهَا - وأَنْبَأْتُكَ عَنِ الآخِرَةِ ومَا أُعِدَّ لأَهْلِهَا فِيهَا - وضَرَبْتُ لَكَ فِيهِمَاالأَمْثَالَ - لِتَعْتَبِرَ بِهَا وتَحْذُوَ عَلَيْهَا - إِنَّمَا مَثَلُ مَنْ خَبَرَ الدُّنْيَا كَمَثَلِ قَوْمٍ سَفْرٍ - نَبَا بِهِمْ مَنْزِلٌ جَدِيبٌ - فَأَمُّوا مَنْزِلًا خَصِيباً وجَنَاباً مَرِيعاً - فَاحْتَمَلُوا وَعْثَاءَ الطَّرِيقِ وفِرَاقَ الصَّدِيقِ - وخُشُونَةَ السَّفَرِ وجُشُوبَةَ المَطْعَمِ - لِيَأْتُوا سَعَةَ دَارِهِمْ ومَنْزِلَ قَرَارِهِمْ - فَلَيْسَ يَجِدُونَ لِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ أَلَماً - ولَا يَرَوْنَ نَفَقَةً فِيه مَغْرَماً - ولَا شَيْءَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِمَّا قَرَّبَهُمْ مِنْ مَنْزِلِهِمْ - وأَدْنَاهُمْ مِنْ مَحَلَّتِهِمْ.

ومَثَلُ مَنِ اغْتَرَّ بِهَا كَمَثَلِ قَوْمٍ كَانُوا بِمَنْزِلٍ خَصِيبٍ - فَنَبَا بِهِمْ إِلَى مَنْزِلٍ جَدِيبٍ

کے خوف اورناراضگی کے اندیشہ میں حاجت رکھنے والے کیا کرتے ہیں۔اس نے جس چیز کاحکم اطاعت کی طلب ' عتاب کے خوفاور ناراضگی کے اندیشہ میں حاجت رکھنے والے کیا کرتے ہیں۔اس نے جس چیزکا حکم دیا ہیوہ بہترین ہے اورجس سے منع کیا ہے وہ بد ترین ہے۔

فرزند! میں تمہیں دنیا۔اس کے حالات ۔ تصرفات ، زوال اور انتقال سب کے بارے میں با خبر کردیا ہے اورآخرت اور ا س میں صاحبان ایمان کے لئے مہیا نعمتوں کا بھی پتہ بتادیاہے اور دونوں کے لئے مثالیں بیان کردی ہیںتاکہ تم عبرت حاصل کرس کو اور اس سے ہوشیار رہو۔

یاد رکھو کہ جس نے دنیا کو بخوبی پہچان لیا ہے اس کی مثال اس مسافر قوم جیسی ہے۔جس کاحقط زدہ منزل سے دل اچاٹ ہوجائے اوروہ کسی سرسبز و شاداب علاقہ کا ارادہ کرے اورزحمت راہ۔فراق احباب ' دشواری سفر ' بدمزگی اطعام وغیرہ جیسی تمام مصیبتیں برداشت کرلے تاکہ وسیع گھر اور قرار کی منزل تک پہنچ جائے کہ ایسے لوگ ان تمام باتوں میں کسی تکلیف کا احساس نہیں کرتے اور نہ اس راہ میں خرچ کو نقصان تصور کرتے ہیں اور ان کی نظر میں اس سے زیادہ محبوب کوئی شے نہیں ہ جو انہیں منزل سے قریب تر کردے اور اپنے مرکز تک پہنچادے ۔

اوراس دنیا سے دھوکہ کھاجانے والوں کی مثال اس قوم کی ہے جو سرسبز و شاداب مقام پر رہے اور وہاں سے دلاچٹ جائے تو قحط زدہ علاقہ کی طرف چلی جائے

۵۲۱

- فَلَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَه إِلَيْهِمْ ولَا أَفْظَعَ عِنْدَهُمْ - مِنْ مُفَارَقَةِ مَا كَانُوا فِيه - إِلَى مَا يَهْجُمُونَ عَلَيْه ويَصِيرُونَ إِلَيْه.

يَا بُنَيَّ اجْعَلْ نَفْسَكَ مِيزَاناً فِيمَا بَيْنَكَ وبَيْنَ غَيْرِكَ - فَأَحْبِبْ لِغَيْرِكَ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ - واكْرَه لَه مَا تَكْرَه لَهَا - ولَا تَظْلِمْ كَمَا لَا تُحِبُّ أَنْ تُظْلَمَ - وأَحْسِنْ كَمَا تُحِبُّ أَنْ يُحْسَنَ إِلَيْكَ - واسْتَقْبِحْ مِنْ نَفْسِكَ مَا تَسْتَقْبِحُه مِنْ غَيْرِكَ - وارْضَ مِنَ النَّاسِ بِمَا تَرْضَاه لَهُمْ مِنْ نَفْسِكَ - ولَا تَقُلْ مَا لَا تَعْلَمُ وإِنْ قَلَّ مَا تَعْلَمُ - ولَا تَقُلْ مَا لَا تُحِبُّ أَنْ يُقَالَ لَكَ.

واعْلَمْ أَنَّ الإِعْجَابَ ضِدُّ الصَّوَابِ وآفَةُ الأَلْبَابِ - فَاسْعَ فِي كَدْحِكَ ولَا تَكُنْ خَازِناً لِغَيْرِكَ - وإِذَا أَنْتَ هُدِيتَ لِقَصْدِكَ فَكُنْ أَخْشَعَ مَا تَكُونُ لِرَبِّكَ.

واعْلَمْ أَنَّ أَمَامَكَ طَرِيقاً ذَا مَسَافَةٍ بَعِيدَةٍ - ومَشَقَّةٍ شَدِيدَةٍ - وأَنَّه لَا غِنَى بِكَ فِيه عَنْ حُسْنِ الِارْتِيَادِ - وقَدْرِ بَلَاغِكَ مِنَ الزَّادِ

کہ اس کی نظرمیں قدیم حالات کے چھٹ جانے سے زیادہ نا گوار اوردشوار گذار کوئی شے نہیں ہے کہ اب جس منزل پروارد ہوئے ہیں اور جہاں تک پہنچے ہیں وہ کسی قیمت پر اختیار کرنے کے قابل نہیں ہے۔

بیٹا! دیکھو اپنے اورغیرکے درمیان میزان اپنے نفس کو قرار دو اور دوسرے کے لئے وہی پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرسکتے ہو اور اس کے لئے بھی وہ بات نا پسند کرو جو اپنے لئے پسند نہیں کرتے ہو۔کسی پر ظلم نہ کرناکہ اپنے اوپر ظلم پسند نہیں کرتے ہو اور ہرایک کے ساتھ نیکی کرنا جس طرح چاہتے ہو کہ سب تمہارے ساتھ نیک برتائو کریں اور جس چیز کو دوسرے سے برا سمجھتے ہواسے اپنے لئے بھی برا ہی تصور کرنا۔لوگوں کی اس بات سے راضی ہو جانا جس سے اپنی بات سے لوگوں کو راضی کرنا چاہتے ہو۔بلا علم کوئی بات زبان سے نہ نکالنا اگرچہ تمہارا علم بہت کم ہے اور کسی کے بارے میں وہ بات نہ کہنا جو اپنے بارے میں پسند نہ کرتے ہو۔

یاد رکھو کہ خود پسندی راہ صواب کے خلاف اورعقلوں کی بیماری ہے لہٰذا اپنی کوشش تیز تر کرواور اپنے مال کودوسروں کے لئے ذخیرہ نہ بنائو اور اگر درمیانی راستہ کی ہدایت مل جائے تو اپنے رب کے سامنے سب سے زیادہ خضو ع و خشوع سے پیش آنا۔

اور یاد رکھو کہ تمہارے سامنے وہ راستہ ہے جس کی مسافت بعید اورمشقت شدید ہے اس میں تم بہترین زاد راہ کی تلاش اوربقدر ضرورت زاد راہ کی فراہمی سے

۵۲۲

مَعَ خِفَّةِ الظَّهْرِ - فَلَا تَحْمِلَنَّ عَلَى ظَهْرِكَ فَوْقَ طَاقَتِكَ - فَيَكُونَ ثِقْلُ ذَلِكَ وَبَالًا عَلَيْكَ - وإِذَا وَجَدْتَ مِنْ أَهْلِ الْفَاقَةِ مَنْ يَحْمِلُ لَكَ زَادَكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ - فَيُوَافِيكَ بِه غَداً حَيْثُ تَحْتَاجُ إِلَيْه - فَاغْتَنِمْه وحَمِّلْه إِيَّاه - وأَكْثِرْ مِنْ تَزْوِيدِه وأَنْتَ قَادِرٌ عَلَيْه - فَلَعَلَّكَ تَطْلُبُه فَلَا تَجِدُه - واغْتَنِمْ مَنِ اسْتَقْرَضَكَ فِي حَالِ غِنَاكَ - لِيَجْعَلَ قَضَاءَه لَكَ فِي يَوْمِ عُسْرَتِكَ.

واعْلَمْ أَنَّ أَمَامَكَ عَقَبَةً كَئُوداً - الْمُخِفُّ فِيهَا أَحْسَنُ حَالًا مِنَ - والْمُبْطِئُ عَلَيْهَا أَقْبَحُ حَالًا مِنَ الْمُسْرِعِ - وأَنَّ مَهْبِطَكَ بِهَا لَا مَحَالَةَ - إِمَّا عَلَى جَنَّةٍ أَوْ عَلَى نَارٍ - فَارْتَدْ لِنَفْسِكَ قَبْلَ نُزُولِكَ ووَطِّئِ الْمَنْزِلَ قَبْلَ حُلُولِكَ - فَلَيْسَ بَعْدَ الْمَوْتِ مُسْتَعْتَبٌ ولَا إِلَى الدُّنْيَا مُنْصَرَفٌ

واعْلَمْ أَنَّ الَّذِي بِيَدِه خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ والأَرْضِ - قَدْ أَذِنَ لَكَ فِي الدُّعَاءِ - وتَكَفَّلَ لَكَ بِالإِجَابَةِ وأَمَرَكَ أَنْ تَسْأَلَه لِيُعْطِيَكَ - وتَسْتَرْحِمَه لِيَرْحَمَكَ،ولَمْ يَجْعَلْ بَيْنَكَ وبَيْنَه مَنْ يَحْجُبُكَ عَنْه - ولَمْ يُلْجِئْكَ إِلَى مَنْ يَشْفَعُ لَكَ إِلَيْه

بے نیاز ہو سکتے ہو۔البتہ بوجھ ہلکا رکھو اور اپنی طاقت سے زیادہ اپنی پشت پر بوجھ مت لادو کہ یہ گراں باری ایک و بال بن جائے ۔اور پھر جب کوئی فقیر مل جائے اور تمہارے زاد راہ کو قیامت تک پہنچا سکتا ہو اور کل وقت ضرورت مکمل طریقہ سے تمہارے حوالے کر سکتا ہو تو اسے غنیمت سمجھو اورمال اسی کے حوالے کردو اور زیادہ سے زیادہ اس کو دے دو کہ شائد بعد میں تلاش کرو اور وہ نہ مل سکے اور اسے بھی غنیمت سمجھو جو تمہاری دولت مندی کے دورمیں تم سے قرض مانگے تاکہ اس دن ادا کردے جب تمہاری غربت کا دن ہو۔

اور یاد رکھو کہ تمہارے سامنے بڑی دشوار گزار منزل ہے جس میں ہلکے بوجھ والا سنگین بار والے سے کہیں زیادہ بہتر ہوگا اوردھیرے چلنے والا تیزرفتار سے کہیں زیادہ بدحال ہوگا اور تمہاری منزل بہرحال جنت یا جہنم ہے لہٰذا اپنے نفس کے لئے منزل سے پہلے جگہ تلاش کرلو اور ورود سے پہلے اسے ہموار کرلو کہ موت کے بعد نہ خوشنودی حاصل کرنے کا کوئی امکان ہوگا اور نہ دنیا میں واپس آنے کا۔

یاد رکھو کہ جس کے ہاتھوں میں زمین و آسمان کے تمام خزانے ہیں اسنے تم کو دعا کرنے کا حکم دیا ہے اورقبولیت کی ضمانت دی ہے اور تمہیں مامور کیا ہے کہ تم سوال کرو تاکہ وہ عطا کرے اور تم طلب رحمت کرو تاکہوہ تم پر رحم کرے اس نے تمہارے اور اپنے درمیان کوئی حاجب نہیں رکھا ہے اور نہ تمہیں کسی سفارش

۵۲۳

ولَمْ يَمْنَعْكَ إِنْ أَسَأْتَ مِنَ التَّوْبَةِ - ولَمْ يُعَاجِلْكَ بِالنِّقْمَةِ - ولَمْ يُعَيِّرْكَ بِالإِنَابَةِ ولَمْ يَفْضَحْكَ حَيْثُ الْفَضِيحَةُ بِكَ أَوْلَى - ولَمْ يُشَدِّدْ عَلَيْكَ فِي قَبُولِ الإِنَابَةِ - ولَمْ يُنَاقِشْكَ بِالْجَرِيمَةِ - ولَمْ يُؤْيِسْكَ مِنَ الرَّحْمَةِ - بَلْ جَعَلَ نُزُوعَكَ عَنِ الذَّنْبِ حَسَنَةً - وحَسَبَ سَيِّئَتَكَ وَاحِدَةً - وحَسَبَ حَسَنَتَكَ عَشْراً - وفَتَحَ لَكَ بَابَ الْمَتَابِ وبَابَ الِاسْتِعْتَابِ - فَإِذَا نَادَيْتَه سَمِعَ نِدَاكَ - وإِذَا نَاجَيْتَه عَلِمَ نَجْوَاكَ - فَأَفْضَيْتَ إِلَيْه بِحَاجَتِكَ - وأَبْثَثْتَه ذَاتَ نَفْسِكَ وشَكَوْتَ إِلَيْه هُمُومَكَ - واسْتَكْشَفْتَه كُرُوبَكَ واسْتَعَنْتَه عَلَى أُمُورِكَ - وسَأَلْتَه مِنْ خَزَائِنِ رَحْمَتِه مَا لَا يَقْدِرُ عَلَى إِعْطَائِه غَيْرُه - مِنْ زِيَادَةِ الأَعْمَارِ وصِحَّةِ الأَبْدَانِ - وسَعَةِ الأَرْزَاقِ - ثُمَّ جَعَلَ فِي يَدَيْكَ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِه - بِمَا أَذِنَ لَكَ فِيه مِنْ مَسْأَلَتِه - فَمَتَى شِئْتَ اسْتَفْتَحْتَ بِالدُّعَاءِ أَبْوَابَ نِعْمَتِه - واسْتَمْطَرْتَ شَآبِيبَ رَحْمَتِه - فَلَا يُقَنِّطَنَّكَ إِبْطَاءُ إِجَابَتِه - فَإِنَّ الْعَطِيَّةَ عَلَى قَدْرِ النِّيَّةِ - ورُبَّمَا أُخِّرَتْ عَنْكَ الإِجَابَةُ لِيَكُونَ ذَلِكَ أَعْظَمَ لأَجْرِ السَّائِلِ -

کرنے والے کا محتاج بنایا ہے ۔گناہ کرنے کی صورت میں توبہ سے بھی نہیں روکا ہے اور عذاب میں جلدی بھی نہیں کی ہے اور توبہ کرنے پر طعنے بھی نہیں دیتا ہے اور تمہیں رسوابھی نہیں کرتا ہے اگر تم اس کے حقدار ہو۔اس نے توبہ قبول کرنے میں بھی کسی سختی سے کام نہیں لیا ہے اور جرائم پر سخت محاسبہ کرکے رحمت سے مایوس بھی نہیں کیا ہے بلکہ گناہوں سے علیحدگی کو بھی ایک حسنہ بنادیا ہے اور پھرب رائی میں ایککو ایک شمار کیا ہے اورنیکیوں میں ایک کو دس بنادا ہے۔توبہ اور طلب رضا کا دروازہ کھول دیا ہے کہ جب بھی آواز دو فوراً سن لیتا ہے اور جب مناجات کرو تو اس سے بھی با خبر رہتا ہے تم اپنی حاجتیں اس کے حوالے کر سکتے ہو۔اسے اپنے حالات بتا سکتے ہو ۔اپنے رنج و غم کی شکایت کر سکتے ہو۔ اپنے حزن و الم کے زوال کا مطالبہ کرس کتے ہو۔انپے امور میں مدد مانگ سکتے ہو اور اس کے خزانہ رحمت سے اتنا سوال کر سکتے ہو جتنا کوئی دوسرا بہرحال نہیں دے سکتا ہے چاہے وہ عمر میں اضافہ ہو یا بدن کی صحت یا رزق کی وسعت۔اس کے بعد اس نے دعا کی اجازت دے کر گویا خزائن رحمت کی کنجیاں تمہارے ہاتھ میں دے دی ہیں کہ جب چاہو ان کنجیوں سے نعمت کے دروازے کھول سکتے ہواور رحمت کی بارشوں کو برسا سکتے ہو۔لہٰذا خبردار قبولیت کی تاخیرتمہیں مایوس نہ کردے کہ عطیہ ہمیشہ بقدر نیت ہوا کرتا ہے اور کبھی کبھی قبولیت میں اس لئے تاخیر کردی جاتی ہے کہ اس میں سائل کے اجرمیں اضافہ

۵۲۴

وأَجْزَلَ لِعَطَاءِ الآمِلِ - ورُبَّمَا سَأَلْتَ الشَّيْءَ فَلَا تُؤْتَاه - وأُوتِيتَ خَيْراً مِنْه عَاجِلًا أَوْ آجِلًا - أَوْ صُرِفَ عَنْكَ لِمَا هُوَ خَيْرٌ لَكَ - فَلَرُبَّ أَمْرٍ قَدْ طَلَبْتَه فِيه هَلَاكُ دِينِكَ لَوْ أُوتِيتَه - فَلْتَكُنْ مَسْأَلَتُكَ فِيمَا يَبْقَ لَكَ جَمَالُه - ويُنْفَى عَنْكَ وَبَالُه - فَالْمَالُ لَا يَبْقَى لَكَ ولَا تَبْقَى لَه.

واعْلَمْ يَا بُنَيَّ أَنَّكَ إِنَّمَا خُلِقْتَ لِلآخِرَةِ لَا لِلدُّنْيَا - ولِلْفَنَاءِ لَا لِلْبَقَاءِ ولِلْمَوْتِ لَا لِلْحَيَاةِ - وأَنَّكَ فِي قُلْعَةٍ ودَارِ بُلْغَةٍ - وطَرِيقٍ إِلَى الآخِرَةِ - وأَنَّكَ طَرِيدُ الْمَوْتِ الَّذِي لَا يَنْجُو مِنْه هَارِبُه - ولَا يَفُوتُه طَالِبُه ولَا بُدَّ أَنَّه مُدْرِكُه فَكُنْ مِنْه عَلَى حَذَرِ أَنْ يُدْرِكَكَ وأَنْتَ عَلَى حَالٍ سَيِّئَةٍ - قَدْ كُنْتَ تُحَدِّثُ نَفْسَكَ مِنْهَا بِالتَّوْبَةِ - فَيَحُولَ بَيْنَكَ وبَيْنَ ذَلِكَ - فَإِذَا أَنْتَ قَدْ أَهْلَكْتَ نَفْسَكَ.

ذكر الموت

يَا بُنَيَّ أَكْثِرْ مِنْ ذِكْرِ الْمَوْتِ وذِكْرِ مَا تَهْجُمُ عَلَيْه - وتُفْضِي بَعْدَ الْمَوْتِ إِلَيْه - حَتَّى يَأْتِيَكَ

اور امیدوا ر کے عطیہ میں زیادتی کا امکان پایا جاتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ تم کسی شے کا سوال کرو اور وہ نہ ملے لیکن اس کے بعد جلد یا بدیر اس سے بہتر مل جائے یا اسے تمہاری بھلائی کے لئے روک دیا گیا ہو۔اس لئے کہ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس چیز کو تم نے طلب کیا ہے وہاگر مل جائے تو دین کی بربادی کاخطرہ ہے۔لہٰذا اسی چیز کا سوال کرو جس میں تمہارا حسن باقی رہے اور تم وبال سے محفوظ رہو۔مال نہ باقی رہنے والا ہے اور نہ تم اس کے لئے باقی رہنے والے ہو۔

فرزند ! یاد رکھو کہ تمہیں آخرت کے لئے پیدا کیا گیا ہے دنیا کے لئے نہیں اور فنا کے لئے بنایا گیا ہے دنیا میں باقی رہنے کے لئے نہیں ۔تمہاری تخلیق موت کے لئے ہوئی ہے زندگی کے لئے نہیں اورتم اس گھر میں ہو جہاں سے بہر حال اکھڑنا ہے اور صرف بقدر ضرورت سامان فراہم کرنا ہے۔اور تم آخرت کے راستہ پر ہو۔موت مہارا پیچھا کئے ہوئے ہے جس سے کوئی بھاگنے والا بچ نہیں سکتا ہے اور اس کے ہاتھ سے نکل نہیں سکتا ہے۔وہ بہر حال اسے پالے گی۔لہٰذا اس کی طرف سے ہوشیار رہو کہ وہ تمہیں کسی برے حال میں پکڑ لے اورتم خالی توبہ کے لئے سوچتے ہی رہ جائو اور وہ تمہارے اور توبہ کے درمیان حائل ہو جائے کہ اس طرح گویا تم نے اپنے نفس کو ہلاک کردیا۔

فرزند! موت کو برابر یاد کرتے رہو اور ان حالات کو یاد کرتے رہو جن پراچانک وارد ہونا ہے اور جہاں تک موت کے بعد جانا ہے تاکہ وہ تمہارے پاس آئے

۵۲۵

وقَدْ أَخَذْتَ مِنْه حِذْرَكَ - وشَدَدْتَ لَه أَزْرَكَ - ولَا يَأْتِيَكَ بَغْتَةً فَيَبْهَرَكَ - وإِيَّاكَ أَنْ تَغْتَرَّ بِمَا تَرَى مِنْ إِخْلَادِ أَهْلِ الدُّنْيَا إِلَيْهَا - وتَكَالُبِهِمْ عَلَيْهَا فَقَدْ نَبَّأَكَ اللَّه عَنْهَا - ونَعَتْ هِيَ لَكَ عَنْ نَفْسِهَا وتَكَشَّفَتْ لَكَ عَنْ مَسَاوِيهَا - فَإِنَّمَا أَهْلُهَا كِلَابٌ عَاوِيَةٌ وسِبَاعٌ ضَارِيَةٌ - يَهِرُّ بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍ ويَأْكُلُ عَزِيزُهَا ذَلِيلَهَا - ويَقْهَرُ كَبِيرُهَا صَغِيرَهَا - نَعَمٌ مُعَقَّلَةٌ وأُخْرَى مُهْمَلَةٌ - قَدْ أَضَلَّتْ عُقُولَهَا ورَكِبَتْ مَجْهُولَهَا - سُرُوحُ عَاهَةٍ بِوَادٍ وَعْثٍ ،لَيْسَ لَهَا رَاعٍ يُقِيمُهَا ولَا مُسِيمٌ يُسِيمُهَا - سَلَكَتْ بِهِمُ الدُّنْيَا طَرِيقَ الْعَمَى - وأَخَذَتْ بِأَبْصَارِهِمْ عَنْ مَنَارِ الْهُدَى - فَتَاهُوا فِي حَيْرَتِهَا وغَرِقُوا فِي نِعْمَتِهَا - واتَّخَذُوهَا رَبّاً فَلَعِبَتْ بِهِمْ ولَعِبُوا بِهَا - ونَسُوا مَا وَرَاءَهَا.

الترفق في الطلب

رُوَيْداً يُسْفِرُ الظَّلَامُ - كَأَنْ قَدْ وَرَدَتِ الأَظْعَانُ - يُوشِكُ مَنْ أَسْرَعَ أَنْ يَلْحَقَ

واعْلَمْ يَا بُنَيَّ - أَنَّ مَنْ كَانَتْ مَطِيَّتُه اللَّيْلَ والنَّهَارَ - فَإِنَّه يُسَارُ بِه وإِنْ كَانَ وَاقِفاً

تو تم احتیاطی سامان کرچکے ہو اور اپنی طاقت کو مضبوط بنا چکے ہو اور وہ اچانک آکر تم پرقبضہ نہ کرلے اور خبردار اہل دنیا کو دنیا کی طرف جھکتے اور اس پرمرتے دیکھ کرتم دھوکہ میں نہ آجانا کہ پروردگار تمہیں اس کے بارے میں بتا چکا ہے اور وہ خود بھی اپنے مصائب سنا چکی ہے اور اپنی برائیوں کو واضح کر چکی ہے۔دنیا دار افراد صرف بھونکنے والے کتے اورپھاڑ کھانے والے درندے ہیں جہاں ایک دوسرے پر بھونکتا ہے اور طاقت والا کمزور کو کھا جاتا ہے اور بڑا چھوٹے کو کچل ڈالتا ہے۔یہ سب جانور ہیں جن میں بعض بندھے ہوئے ہیں اور بعض وارہ جنہوں نے اپنی عقلیں گم کردی ہیں اور نا معلوم راستہ پر چل پڑے ہیں۔گویا دشوار گذار وادیوں میں مصیبتوں میں چرنے والے ہیں جہاں نہ کوئی چرواہا ہے جو سیدھے راستہ پر لگا سکے اور نہکوئی چرانے والا ہے جو انہیں چرا سکے۔دنیا نے انہیں گمراہی کے راستہ پر ڈال دیا ہے اور ان کی بصارت کو منارہ ٔ ہدایت کے مقابلہ میں سلب کرلیا ہے اوروہ حیرت کے عالم میں سر گرداں ہیں اورنعمتوں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔دنیا کو اپنا معبود بنالیا ہے اوروہ ان سے کھیل رہی ہے اوروہ اس سے کھیل روہے ہیں اور سب نے آخرت کو یکسر بھلا دیا ہے۔

ٹھہرو! اندھرے کو چھٹنے دو۔ایسا محسوس ہوگا جیسے قافلے آخرت کی منزل میں اتر چکے ہیں اور قریب ہے کہ تیز رفتار افراد اگلے لوگوں سے ملحق ہو جائیں۔

فرزند ! یاد رکھو کہ جو شب و روز کی سواری پر سوار ہے وہ گویا سر گرم سفر ہے چاہے ٹھہرا ہی کیوں ن ہ

۵۲۶

ويَقْطَعُ الْمَسَافَةَ وإِنْ كَانَ مُقِيماً وَادِعاً

واعْلَمْ يَقِيناً أَنَّكَ لَنْ تَبْلُغَ أَمَلَكَ ولَنْ تَعْدُوَ أَجَلَكَ - وأَنَّكَ فِي سَبِيلِ مَنْ كَانَ قَبْلَكَ - فَخَفِّضْ فِي الطَّلَبِ وأَجْمِلْ فِي الْمُكْتَسَبِ - فَإِنَّه رُبَّ طَلَبٍ قَدْ جَرَّ إِلَى حَرَبٍ - ولَيْسَ كُلُّ طَالِبٍ بِمَرْزُوقٍ - ولَا كُلُّ مُجْمِلٍ بِمَحْرُومٍ - وأَكْرِمْ نَفْسَكَ عَنْ كُلِّ دَنِيَّةٍ - وإِنْ سَاقَتْكَ إِلَى الرَّغَائِبِ - فَإِنَّكَ لَنْ تَعْتَاضَ بِمَا تَبْذُلُ مِنْ نَفْسِكَ عِوَضاً - ولَا تَكُنْ عَبْدَ غَيْرِكَ وقَدْ جَعَلَكَ اللَّه حُرّاً - ومَا خَيْرُ خَيْرٍ لَا يُنَالُ إِلَّا بِشَرٍّ - ويُسْرٍ لَا يُنَالُ إِلَّا بِعُسْرٍ

وإِيَّاكَ أَنْ تُوجِفَ بِكَ مَطَايَا الطَّمَعِ - فَتُورِدَكَ مَنَاهِلَ الْهَلَكَةِ - وإِنِ اسْتَطَعْتَ أَلَّا يَكُونَ بَيْنَكَ وبَيْنَ اللَّه ذُو نِعْمَةٍ فَافْعَلْ - فَإِنَّكَ مُدْرِكٌ قَسْمَكَ وآخِذٌ سَهْمَكَ - وإِنَّ الْيَسِيرَ مِنَ اللَّه سُبْحَانَه أَعْظَمُ وأَكْرَمُ مِنَ الْكَثِيرِ مِنْ خَلْقِه - وإِنْ كَانَ كُلٌّ مِنْه.

وصايا شتى

وتَلَافِيكَ مَا فَرَطَ مِنْ صَمْتِكَ

رہے اور مسافت قطع کررہا ہے چاہے اطمینان سے مقیم ہی کیوں نہ رہے۔یہ بات یقین کے ساتھ سمجھ لو کہ تم نہ ہر امید کو پا سکتے ہو اور نہ اجل سے آگے جاسکتے ہو تم اگلے لوگوں کے راستہ ہی پر چل رہے ہو لہٰذا طلب میں نرم رفتاری سے کام لو اور کسب معاش میں میانہ روی اختیار کرو۔ورنہ بہت سی طلب انسان کو مال کی محرومی تک پہنچا دیتی ہے اور ہر طلب کرنے والا کامیاب بھی نہیں ہوتا ہے اور نہ ہر اعتدال سے کام لینے والا محروم ہی ہوت ہے۔اپنے نفس کو ہر طرح کی پستی سے بلند تر رکھو چاہے وہ پستی پسندیدہ اشیاء تک پہنچا ہی کیوں نہ دے ۔اس لئے کہ جو عزت نفس دے دو گے اس کا کوئی بدل نہیں مل سکتا اورخبردار کسی کے غلام نہبن جانا جب کہ پروردگار نے تمہیں آزاد قرار دیا ہے۔دیکھو اس خیر میں کوئی خیر نہیں ہے جو شرکے ذریعہ حاصل ہو اوروہآسانی آسانی نہیں ہے جو دشواری کے راستہ سے ملے ۔

خبردار طمع کی سواریاں تیز رفتاری دکھلا کر تمہیں ہلاکت کے چشموں پرنہ وارد کردیں اور اگر ممکن ہو کہ تمہارے اور خدا کے درمیان کوئی صاحب نعمت نہ آنے پائے تو ایسا ہی کرو کہ تمہیں تمہارا حصہ بہر حال ملنے والا ہے۔اور اپنا نصیب بہر حال لینے والے ہو اوراللہ کی طرف سے تھوڑا بھی مخلوقات کے بہت سے زیادہ بہتر ہوتا ہے۔اگرچہ سب اللہ ہی کی طرف سے ہوتا ہے۔

خاموشی سے پیدا ہونے والی کوتاہی کی تلافی

۵۲۷

أَيْسَرُ مِنْ إِدْرَاكِكَ مَا فَاتَ مِنْ مَنْطِقِكَ - وحِفْظُ مَا فِي الْوِعَاءِ بِشَدِّ الْوِكَاءِ - وحِفْظُ مَا فِي يَدَيْكَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ طَلَبِ مَا فِي يَدَيْ غَيْرِكَ - ومَرَارَةُ الْيَأْسِ خَيْرٌ مِنَ الطَّلَبِ إِلَى النَّاسِ - والْحِرْفَةُ مَعَ الْعِفَّةِ خَيْرٌ مِنَ الْغِنَى مَعَ الْفُجُورِ - والْمَرْءُ أَحْفَظُ لِسِرِّه ورُبَّ سَاعٍ فِيمَا يَضُرُّه - مَنْ أَكْثَرَ أَهْجَرَ ومَنْ تَفَكَّرَ أَبْصَرَ - قَارِنْ أَهْلَ الْخَيْرِ تَكُنْ مِنْهُمْ - وبَايِنْ أَهْلَ الشَّرِّ تَبِنْ عَنْهُمْ - بِئْسَ الطَّعَامُ الْحَرَامُ - وظُلْمُ الضَّعِيفِ أَفْحَشُ الظُّلْمِ - إِذَا كَانَ الرِّفْقُ خُرْقاً كَانَ الْخُرْقُ رِفْقاً - رُبَّمَا كَانَ الدَّوَاءُ دَاءً والدَّاءُ دَوَاءً - ورُبَّمَا نَصَحَ غَيْرُ النَّاصِحِ وغَشَّ الْمُسْتَنْصَحُ - وإِيَّاكَ والِاتِّكَالَ عَلَى الْمُنَى فَإِنَّهَا بَضَائِعُ النَّوْكَى - والْعَقْلُ حِفْظُ التَّجَارِبِ - وخَيْرُ مَا جَرَّبْتَ مَا وَعَظَكَ - بَادِرِ الْفُرْصَةَ قَبْلَ أَنْ تَكُونَ غُصَّةً - لَيْسَ كُلُّ طَالِبٍ يُصِيبُ ولَا كُلُّ غَائِبٍ يَئُوبُ –

ومِنَ الْفَسَادِ إِضَاعَةُ الزَّادِ ومَفْسَدَةُ الْمَعَادِ -

کرلینا گفتگو سے ہونے والے نقصان کے تدارک سے آسان ترہے برتن کے اندر کا سامان منہ بند کرکے محفوظ کیا جاتا ہے اور اپنے ہاتھ کی دولت کا محفوظ کرلینا دوسرے کے ہاتھ کی نعمت کے طلب کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔مایوسی کی تلخی کوبرداشت کرنا لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے س بہتر ہے اور پاکدامانی کے ساتھ محنت مشقت کرنا فسق و فجور کے ساتھ مالداری سے بہتر ہے۔

ہر انسان اپنے راز کو دوسروں سے زیادہ محفوظ رکھ سکتا ہے اور بہت سے لوگ ہیں جو اس امر کے لئے دوڑ رہے ہیں جوان کے لئے نقصان دہ ہے ۔زیادہ بات کرنے والا بکواس کرنے لگتا ہے اور غوروفکر کرنے والا بصیر ہو جاتا ہے۔اہل خیرکے ساتھ رہو تاکہ انہیں میں شمار ہواوراہل شر سے الگ رہو تاکہ ان سے الگ حساب کئے جائو۔بدترین طعام مال حرام ہے اوربد ترین ظلم کمزورآدمی پر ظلم ہے۔نرمی نا مناسب ہو تو سختی ہی مناسب ہے۔کبھی کبھی دوا مرض بن جاتی ہے اورمرض دوا اور کبھی کبھی غیر مخلص بھی نصیحت کی بات کردیتا ہے اورکبھی کبھی مخلص بھی خیانت سے کام لے لیتا ہے۔دیکھو خبر دار خواہشات پر اعتماد نہکرنا کہ یہ احمقوں کا سرمایہ ہیں۔عقلمندی تجربات کے محفوظ رکھنے میں ہے اور بہترین تجربہ وہی ہے جس سے نصیحت حاصل ہو۔فرصت سے فائدہ اٹھائو قبل اس کے کہ رنج و اندوہ کا سامنا کرنا پڑے۔ہر طلب گار مطلوب کو حاصل بھی نہیں کرتا ہے اور ہر غائب پلٹ کربھی نہیں آتا ہے۔

فساد کی ایک قسم زاد راہ کاضائع کردینا اورعاقبت

۵۲۸

ولِكُلِّ أَمْرٍ عَاقِبَةٌ سَوْفَ يَأْتِيكَ مَا قُدِّرَ لَكَ - التَّاجِرُ مُخَاطِرٌ ورُبَّ يَسِيرٍ أَنْمَى مِنْ كَثِيرٍ لَا خَيْرَ فِي مُعِينٍ مَهِينٍ ولَا فِي صَدِيقٍ ظَنِينٍ - سَاهِلِ الدَّهْرَ مَا ذَلَّ لَكَ قَعُودُه - ولَا تُخَاطِرْ بِشَيْءٍ رَجَاءَ أَكْثَرَ مِنْه - وإِيَّاكَ أَنْ تَجْمَحَ بِكَ مَطِيَّةُ اللَّجَاجِ

احْمِلْ نَفْسَكَ مِنْ أَخِيكَ عِنْدَ صَرْمِه عَلَى الصِّلَةِ - وعِنْدَ صُدُودِه عَلَى اللَّطَفِ والْمُقَارَبَةِ - وعِنْدَ جُمُودِه عَلَى الْبَذْلِ - وعِنْدَ تَبَاعُدِه عَلَى الدُّنُوِّ - وعِنْدَ شِدَّتِه عَلَى اللِّينِ - وعِنْدَ جُرْمِه عَلَى الْعُذْرِ - حَتَّى كَأَنَّكَ لَه عَبْدٌ وكَأَنَّه ذُو نِعْمَةٍ عَلَيْكَ - وإِيَّاكَ أَنْ تَضَعَ ذَلِكَ فِي غَيْرِ مَوْضِعِه - أَوْ أَنْ تَفْعَلَه بِغَيْرِ أَهْلِه - لَا تَتَّخِذَنَّ عَدُوَّ صَدِيقِكَ صَدِيقاً فَتُعَادِيَ صَدِيقَكَ - وامْحَضْ أَخَاكَ النَّصِيحَةَ - حَسَنَةً كَانَتْ أَوْ قَبِيحَةً - وتَجَرَّعِ الْغَيْظَ فَإِنِّي لَمْ أَرَ جُرْعَةً أَحْلَى مِنْهَا عَاقِبَةً - ولَا أَلَذَّ مَغَبَّةً - ولِنْ لِمَنْ غَالَظَكَ فَإِنَّه يُوشِكُ أَنْ يَلِينَ لَكَ - وخُذْ عَلَى عَدُوِّكَ بِالْفَضْلِ فَإِنَّه أَحْلَى الظَّفَرَيْنِ -

کو برباد کر دینا بھی ہے۔ہر امر کی ایک عاقبت ہے اور عنقریب وہ تمہیں مل جائے گا جو تمہارے لئے مقدر ہوا ہے۔تجارتکرنے والا وہی ہوتا ہے جو مال کو خطرہ میں ڈال سکے ۔بسا اوقات تھوڑا مال زیادہ سے زیادہ با برکت ہوتا ہے۔اس مدد گار میں کوئی خیر نہیں ہے جو ذلیل ہو اور وہ دوست بیکار ہے جوبدنام ہو۔زمانہ ک ساتھ سہولت کا برتائو کرو جب تک اس کا اونٹ قابو میں رہے اور کسی چیز کو اس سے زیادہ کی امید میں خطرہ میں مت ڈالو۔خبر دار کہیں دشمنی اور عناد کی سواری تم سے منہ زوری نہ کرنے لگے۔

اپنے نفس کو اپنے بھائی کے بارے میں قطع تعلق کے مقابلہ میں تعلقات ' اعراض کے مقابلہ میں مہربانی بخل کے مقابلہ میں عطا ' دوری کے مقابلہ میں قربت ' شدت کے مقابل میں نرمی اورجرم کے موقع پر معذرت کے لئے آمادہ کرو گویا کہ تم اس کے بندے ہو اوراس نے تم پر کوئی احسان کیا ہے اور خبردار احسان کوبھی بے محل نہ قرار دینا اورنہ کسی نا اہل کے ساتھ احسان کرنا۔اپنے دشمن کے دوست کو اپنا دوست نہ بنانا کہ تم اپنے دوست کے دشمن ہو جائو اور اپنے بھائی کو مخلصانہ نصیحت کرتے رہنا چاہے اسے اچھی لگیں یا بری۔غصہ کو پی جائو کہ میں نے انجام کارکے اعتبارسے اس سے زیادہ یریں کوئی گھونٹ نہیں دیکھا ہے اورنہ عاقبت کے لحاظ سے لذیذ تر۔اور جو تمہارے ساتھ سختی کرے اس کے لئے نرم ہو جائو شاید کبھی وہ بھی نرم ہو جائے ۔اپنے دشمن کے ساتھ احسان کرو کہ اس میں دو میں سے ایک کامیابی اور شیریں

۵۲۹

وإِنْ أَرَدْتَ قَطِيعَةَ أَخِيكَ فَاسْتَبْقِ لَه مِنْ نَفْسِكَ - بَقِيَّةً يَرْجِعُ إِلَيْهَا إِنْ بَدَا لَه ذَلِكَ يَوْماً مَا - ومَنْ ظَنَّ بِكَ خَيْراً فَصَدِّقْ ظَنَّه - ولَا تُضِيعَنَّ حَقَّ أَخِيكَ اتِّكَالًا عَلَى مَا بَيْنَكَ وبَيْنَه - فَإِنَّه لَيْسَ لَكَ بِأَخٍ مَنْ أَضَعْتَ حَقَّه - ولَا يَكُنْ أَهْلُكَ أَشْقَى الْخَلْقِ بِكَ - ولَا تَرْغَبَنَّ فِيمَنْ زَهِدَ عَنْكَ - ولَا يَكُونَنَّ أَخُوكَ أَقْوَى عَلَى قَطِيعَتِكَ مِنْكَ عَلَى صِلَتِه - ولَا تَكُونَنَّ عَلَى الإِسَاءَةِ أَقْوَى مِنْكَ عَلَى الإِحْسَانِ - ولَا يَكْبُرَنَّ عَلَيْكَ ظُلْمُ مَنْ ظَلَمَكَ - فَإِنَّه يَسْعَى فِي مَضَرَّتِه ونَفْعِكَ - ولَيْسَ جَزَاءُ مَنْ سَرَّكَ أَنْ تَسُوءَه.

واعْلَمْ يَا بُنَيَّ أَنَّ الرِّزْقَ رِزْقَانِ - رِزْقٌ تَطْلُبُه ورِزْقٌ يَطْلُبُكَ - فَإِنْ أَنْتَ لَمْ تَأْتِه أَتَاكَ - مَا أَقْبَحَ الْخُضُوعَ عِنْدَ الْحَاجَةِ -

ترین کامیابی ہے اور اگراپنے بھائی سے قطع تعلق کرنا چاہو تو اپنے نفس میں اتنی گنجائش رکھو کہاگراسے کسی دن واپسی کاخیال پیدا ہو تو واپس آسکے ۔جو تمہارے بارے میں اچھا خیال رکھے اس کے خیال کو غلط نہ ہونے دینا۔باہمی روابط کی بناپر کسی بھائی کے حق کو ضائع نہ کرنا کہ جس کے حق کو ضائع کردیا پھروہ واقعاً بھائی نہیں ہے اور دیکھو تمہارے گھر والے تمہاری وجہ سے بد بخت نہ ہونے پائیں اورجو تم سے کنارہ کش ہونا چاہے اس کے پیچھے نہ لگے رہو۔تمہارا کوئی بھائی تم سےقطع تعلقات میں تم پربازی نہ لے جائے اورتم تعلقات مضبوط کرلو اورخبردار برائی کرنے میں نیکی کرنے سے زیادہ طاقت کا مظاہرہ نہ کرنا اور کسی ظالم کے ظلم کو بہت بڑا تصور نہ کرنا کہوہ اپنے کو نقصان پہنچا رہا ہے اور تمہیں فائدہ پہنچا رہا ہے اور جو تمہیں فائدہ پہنچائے(۱) اس کی جزا یہ نہیں ہے کہ تم اس کے ساتھ برائی کرو۔

اور فرزند ! یاد رکھو کہ رزق کی دو قسمیں ہیں۔ایک رزق وہ ہے جسے تم تلاش کررہے ہو اورایک رزق وہ ہے(۲) جوتم کو تلاش کر رہا ہے کہ اگر تم اس تک نہ جائو گے تو وہ خود تم تک آجائے گا۔ضرورت کے وقت خضوع وخشوع کا اظہار کس قدر ذلیل ترین بات ہے

(۱) اس مسئلہ کاتعلق دنیامیں اخلاقی برتائو سے ہے ۔جہاں ظالموں کو اسلامی اخلاقیات سے آگاہ کیا جاتا ہے اور کبھی لشکر معاویہ پر بندش آب کو روکدیا جاتا ہے اور کبھی ابن ملجم کو سیراب کردیا جاتا ہے۔ورنہ اگر دین و مذہب خطرہ میں پڑ جائے تو مذہب سے زیادہ عزیز تر کوئی شے نہیں ہے اور ظالموں سے جہاد بھی واجب ہو جاتا ہے۔

(۲) اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انسان کی زندگی میں بے شمار ایسے مواقع آتے ہیں جہاں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ جیسے انسان رزق کی تلاش میں نہیں ہے بلکہ رزق انسان کو تلاش کر رہاہے اور انسان جہاں جہاں جا رہا ہے اس کا رزق اس کے ساتھ جارہا ہے۔اور پروردگار نے ایسے واقعات کا انتظام اسی لئے کیا ہے کہ انسان کو اس کی رزاقیت اورایفائے وعدہ کا یقین ہو جائے اوروہ رزق کی راہ میں عزت نفس یادار آرت کو بیچے کے لئے تیار نہ ہو جائے ۔

۵۳۰

والْجَفَاءَ عِنْدَ الْغِنَى - إِنَّمَا لَكَ مِنْ دُنْيَاكَ مَا أَصْلَحْتَ بِه مَثْوَاكَ - وإِنْ كُنْتَ جَازِعاً عَلَى مَا تَفَلَّتَ مِنْ يَدَيْكَ - فَاجْزَعْ عَلَى كُلِّ مَا لَمْ يَصِلْ إِلَيْكَ - اسْتَدِلَّ عَلَى مَا لَمْ يَكُنْ بِمَا قَدْ كَانَ - فَإِنَّ الأُمُورَ أَشْبَاه - ولَا تَكُونَنَّ مِمَّنْ لَا تَنْفَعُه الْعِظَةُ إِلَّا إِذَا بَالَغْتَ فِي إِيلَامِه - فَإِنَّ الْعَاقِلَ يَتَّعِظُ بِالآدَابِ - والْبَهَائِمَ لَا تَتَّعِظُ إِلَّا بِالضَّرْبِ -. اطْرَحْ عَنْكَ وَارِدَاتِ الْهُمُومِ بِعَزَائِمِ الصَّبْرِ - وحُسْنِ الْيَقِينِ - مَنْ تَرَكَ الْقَصْدَ جَارَ - والصَّاحِبُ مُنَاسِبٌ - والصَّدِيقُ مَنْ صَدَقَ غَيْبُه - والْهَوَى شَرِيكُ الْعَمَى - ورُبَّ بَعِيدٍ أَقْرَبُ مِنْ قَرِيبٍ - وقَرِيبٍ أَبْعَدُ مِنْ بَعِيدٍ - والْغَرِيبُ مَنْ لَمْ يَكُنْ لَه حَبِيبٌ - مَنْ تَعَدَّى الْحَقَّ ضَاقَ مَذْهَبُه - ومَنِ اقْتَصَرَ عَلَى قَدْرِه كَانَ أَبْقَى لَه - وأَوْثَقُ سَبَبٍ أَخَذْتَ بِه - سَبَبٌ بَيْنَكَ وبَيْنَ اللَّه سُبْحَانَه - ومَنْ لَمْ يُبَالِكَ فَهُوَ عَدُوُّكَ

اور بے نیازی کے عالم میں بد سلوکی کس قدر قبیح حرکت ہے۔اس دنیامیں تمہارا حصہ اتنا ہی ہے جس سے اپنی عاقبت کا انتظام کرس کو۔اور کسی چیزکے ہاتھ سے نکل جانے پر پریشنی کا اظہار کرنا ہے تو ہر اس چیز پر بھی فریاد کرو جو تم تک نہیں پہنچی ہے۔جو کچھ ہو چکا ہے اس کے ذریعہ اس کاپتہ لگائو جو ہونے والا ہے کہ معاملات تمام کے تمام ایک ہی جیسے ہیں اور خبردار ان لوگوں میں نہ ہو جائو جن پر اس وقت تک نصیحت اثر انداز نہیں ہوتی ہے جب تک پوری طرح تکلیف نہ پہنچائی جائے اس لئے کہ انسان عاقل ادب سے نصیحت حاصل کرتا ہے اور جانور مار پیٹ سے سیدھا ہوتا ہے ۔دنیا میں وارد ہونے والے ہموم و آلام کو صبر کے عزائم اور یقین کے حسن کے ذریعہ کردو۔یاد رکھو کہ جس نے بھی اعتدال کو چھوڑاوہ منحرف ہوگیا۔ساتھی ایک طرح کا شریک نسب ہوتا ہے اور دوست وہ ہے جو غیبت میں بھی سچا دوست رہے۔خواہش اندھے پن کی شریک کار ہوتی ہے۔بہت سے دور والے ایسے ہوتے ہیں جو قریب والوں سے قریب تر ہوتے ہیں اور بہت سے قریب والے دور والوں سے زیادہ دور تر ہوتے ہیں ۔غریب وہ ہے جس کا کوئی دوست نہ ہو۔جو حق سے آگے بڑھ جائے اس کے راستے تنگ ہو جاتے ہیں اورجو اپنی حیثیت پر قائم رہتا ہے اس کی عزت باقی رہ جاتی ہے۔تمہارے ہاتھوں میں مضبوط ترین وسیلہ تمہارا اورخدا کا رشتہ ہے۔اورجو تمہاری پروانہ کرے وہی تمہارادشمن ہے

۵۳۱

- قَدْ يَكُونُ الْيَأْسُ إِدْرَاكاً إِذَا كَانَ الطَّمَعُ هَلَاكاً - لَيْسَ كُلُّ عَوْرَةٍ تَظْهَرُ ولَا كُلُّ فُرْصَةٍ تُصَابُ - ورُبَّمَا أَخْطَأَ الْبَصِيرُ قَصْدَه وأَصَابَ الأَعْمَى رُشْدَه - أَخِّرِ الشَّرَّ فَإِنَّكَ إِذَا شِئْتَ تَعَجَّلْتَه وقَطِيعَةُ الْجَاهِلِ تَعْدِلُ صِلَةَ الْعَاقِلِ - مَنْ أَمِنَ الزَّمَانَ خَانَه ومَنْ أَعْظَمَه أَهَانَه - لَيْسَ كُلُّ مَنْ رَمَى أَصَابَ - إِذَا تَغَيَّرَ السُّلْطَانُ تَغَيَّرَ الزَّمَانُ - سَلْ عَنِ الرَّفِيقِ قَبْلَ الطَّرِيقِ - وعَنِ الْجَارِ قَبْلَ الدَّارِ إِيَّاكَ أَنْ تَذْكُرَ مِنَ الْكَلَامِ مَا يَكُونُ مُضْحِكاً - وإِنْ حَكَيْتَ ذَلِكَ عَنْ غَيْرِكَ.

الرأي في المرأة

وإِيَّاكَ ومُشَاوَرَةَ النِّسَاءِ - فَإِنَّ رَأْيَهُنَّ إِلَى أَفْنٍ وعَزْمَهُنَّ إِلَى وَهْنٍ - واكْفُفْ عَلَيْهِنَّ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ بِحِجَابِكَ إِيَّاهُنَّ - فَإِنَّ شِدَّةَ الْحِجَابِ أَبْقَى عَلَيْهِنَّ

کبھی کبھی مایوسی بھی کامیابی بن جاتی ہے جب حرص و طمع موجب ہلاکت ہو۔ہر عیب ظاہرنہیں ہوا کرتا ہے اورنہ ہرفرصت کو موقع بار بار ملاکرتا ہے۔کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آنکھوں والا راستہ سے بھٹک جاتا ہے اور اندھا سیدھے راستہ کو پالیتاہے۔برائی کو پس پشت ڈالتے رہو کہ جب بھی چاہو اس کی طرف بڑھ سکتے ہو۔جاہل سے قطع تعلق عاقل سے تعلقات کے برابر ہے۔جو زمانہ کی طرف سے مطمئن ہوجات ہے زمانہ اس سے خیانت کرتا ہےاورجو اسے بڑا سمجھتا ہے اسے ذلیل کر دیتا ہے ہر تیر انداز کا تیر نشانہ پر نہیں بیٹھتا ہے جب حاکم بدل جاتا ہےتوزمانہ بد لجاتا ہےرفیق سفر کے بارے میں راستہ پر چلنے سے پہلے دریافت کرو اورہمسایہ کیبارے میں اپنے گھر سے پہلے خبر گیری کرو۔خبردار ایسی کوئی بات نہ کرنا جومضحکہ خیزہو چاہے دوسروں ہی کی طرفسے نقل کی جائے ۔

خبردار۔عورتوں(۱) سے مشورہ نہ کرنا کہ ان کی رائے کمزور اور ان کا ارادہ سست ہوتا ہے ۔انہیں پردہ میں رکھ کر ان کی نگاہوں کو تاک جھانک سے محفوظ رکھو کہ پردہ کی سختی ان کی عزت و آبرو کو باقی رکھنے والی ہے

(۱)اس کلام میں مختلف احتمالات پائے جاتے ہیں :۔

ایک احتمال یہ ہے کہ یہ اس دورکے حالات کی طرف اشارہ ہے جب عورتیں ۹۹ فیصد ی جاہل ہوا کرتی تھیں اور ظاہر ہے کہ پڑھے لکھے انسان کا کسی جاہل سے مشورہ کرنا نادانی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

دوسرا احتمال یہ ہے کہ اس میں عورت کی جذباتی فطرت کی طرف اشارہ ہے کہ اس کے مشورہ میں جذبات کی کارفرمائی کاخطرہ زیادہ ہے لہٰذا اگر کوئی عورت اس نقص سے بلند تر ہو جائے تو اس سے مشورہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

تیسرا احتمال یہ ہے کہ اس میں ان مخصوص عورتوں کی طرف اشارہ ہو جن کی رائے پرعمل کرنے سے عالم اسلام کا ایک بڑا حصہ تباہی کے گھاٹ اتر گیا ہے اورآج تک اس تباہی کے اثرات دیکھے جا رہے ہیں۔

۵۳۲

- ولَيْسَ خُرُوجُهُنَّ بِأَشَدَّ - مِنْ إِدْخَالِكَ مَنْ لَا يُوثَقُ بِه عَلَيْهِنَّ - وإِنِ اسْتَطَعْتَ أَلَّا يَعْرِفْنَ غَيْرَكَ فَافْعَلْ - ولَا تُمَلِّكِ الْمَرْأَةَ مِنْ أَمْرِهَا مَا جَاوَزَ نَفْسَهَا - فَإِنَّ الْمَرْأَةَ رَيْحَانَةٌ ولَيْسَتْ بِقَهْرَمَانَةٍ - ولَا تَعْدُ بِكَرَامَتِهَا نَفْسَهَا ولَا تُطْمِعْهَا فِي أَنْ تَشْفَعَ لِغَيْرِهَا - وإِيَّاكَ والتَّغَايُرَ فِي غَيْرِ مَوْضِعِ غَيْرَةٍ - فَإِنَّ ذَلِكَ يَدْعُو الصَّحِيحَةَ إِلَى السَّقَمِ - والْبَرِيئَةَ إِلَى الرِّيَبِ - واجْعَلْ لِكُلِّ إِنْسَانٍ مِنْ خَدَمِكَ عَمَلًا تَأْخُذُه بِه - فَإِنَّه أَحْرَى أَلَّا يَتَوَاكَلُوا فِي خِدْمَتِكَ - وأَكْرِمْ عَشِيرَتَكَ - فَإِنَّهُمْ جَنَاحُكَ الَّذِي بِه تَطِيرُ - وأَصْلُكَ الَّذِي إِلَيْه تَصِيرُ ويَدُكَ الَّتِي بِهَا تَصُولُ.

دعاء

اسْتَوْدِعِ اللَّه دِينَكَ ودُنْيَاكَ - واسْأَلْه خَيْرَ الْقَضَاءِ لَكَ فِي الْعَاجِلَةِ والآجِلَةِ - والدُّنْيَا والآخِرَةِ والسَّلَامُ.

(۳۲)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى معاوية

وأَرْدَيْتَ جِيلًا مِنَ النَّاسِ كَثِيراً

اور ان کا گھر سے نکل جانا غیر معتبر افراد کے اپنے گھرمیں داخل کرنے سے زیادہ خطرناک نہیں ہے۔اگر ممکن ہوکہ وہ تمہارے علاوہ کسی کو نہ پچانیں توایسا ہی کرو اورخبردار انہیں ان کے ذاتی مسائل سے زیادہ اختیارات نہ دواس لئے کہ عورت ایک پھول ہے اور حاکم و متصرف نہیں ہے۔اس کے پاس ولحاظ کو اس کی ذات سے آگے نہ بڑھائو اور اس میں دوسروں کی سفارش کا حوصلہ نہ پیدا ہونے دو۔دیکھو خبردار غیرت کے مواقع کے علاوہ غیرت کا اظہارمت کرنا کہ اس طرح اچھی عورت بھی برائی کے راستہ پرچلی جائے گی اور بے عیب بھی مشکوک ہوجاتی ہے۔

اپنے ہر خادم کے لئے ایک عمل مقرر کردو جس کا محاسبہ کرسکو کہ یہ بات ایک دوسرے کے حوالہ کرنے کہیں زیادہ بہتر ہے۔اپنے قبیلہ کا احترام کرو کہ یہی تمہارے لئے پرپرواز کر مرتبہ رکھتے ہیں اور یہی تمہاری اصل ہیں جن کی طرف تمہاری باز گشت ہے اور تمہارے ہاتھ ہیں جن کے ذریعہ حملہ کرسکتے ہو۔

اپنے دین و دنیا کو پروردگار کے حوالہ کردو اور اس سے دعا کرو کہ تمہارے حق میں دنیا و آخرت میں بہترین فیصلہ کرے ۔والسلام

(۳۲)

آپ کا مکتوب گرامی

(معاویہ کے نام )

تم نے لوگوں کی ایک بڑی جماعت کو ہلاک کردیا ہے کہ انہیں اپنی

۵۳۳

- خَدَعْتَهُمْ بِغَيِّكَ وأَلْقَيْتَهُمْ فِي مَوْجِ بَحْرِكَ - تَغْشَاهُمُ الظُّلُمَاتُ وتَتَلَاطَمُ بِهِمُ الشُّبُهَاتُ - فَجَازُوا عَنْ وِجْهَتِهِمْ ونَكَصُوا عَلَى أَعْقَابِهِمْ - وتَوَلَّوْا عَلَى أَدْبَارِهِمْ وعَوَّلُوا عَلَى أَحْسَابِهِمْ - إِلَّا مَنْ فَاءَ مِنْ أَهْلِ الْبَصَائِرِ - فَإِنَّهُمْ فَارَقُوكَ بَعْدَ مَعْرِفَتِكَ - وهَرَبُوا إِلَى اللَّه مِنْ مُوَازَرَتِكَ - إِذْ حَمَلْتَهُمْ عَلَى الصَّعْبِ وعَدَلْتَ بِهِمْ عَنِ الْقَصْدِ - فَاتَّقِ اللَّه يَا مُعَاوِيَةُ فِي نَفْسِكَ - وجَاذِبِ الشَّيْطَانَ قِيَادَكَ - فَإِنَّ الدُّنْيَا مُنْقَطِعَةٌ عَنْكَ والآخِرَةَ قَرِيبَةٌ مِنْكَ - والسَّلَامُ.

(۳۳)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى قثم بن العباس - وهو عامله على مكة

أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ عَيْنِي بِالْمَغْرِبِ كَتَبَ إِلَيَّ يُعْلِمُنِي – أَنَّه وُجِّه إِلَى الْمَوْسِمِ أُنَاسٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ - الْعُمْيِ الْقُلُوبِ الصُّمِّ الأَسْمَاعِ الْكُمْه الأَبْصَارِ - الَّذِينَ يَلْبِسُونَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ - ويُطِيعُونَ الْمَخْلُوقَ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ

گمراہی(۱) سے دھوکے میں رکھا ہے اور اپنے سمندر کی موجوں کے حوالہ کردیا ہے جہاں تاریکیاں انہیں ڈھانپے ہوئے ہیں اورشبہات کے تھپیڑے انہیں تہ و بالا کر رہے ہیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ راہ حق سے ہٹ گئے اور الٹے پائوں پلٹ گئے اور پیٹھ پھیر کرچلتے بنے اوراپنے حسب و نسب پربھروسہ کر بیٹھے علاوہ ان چند اہل بصیرت کے جو واپس آگئے اور انہوں نے تمہیں پہچاننے کے بعد چھوڑ دیا اورتمہاری حمایت سے بھاگ کر اللہ کی طرف آگئے جب کہ تم نے انہیں دشواریوں میں مبتلا کردیا تھا اور راہ اعتدال سے ہٹا دیا تھا۔لہٰذا اسے معاویہ اپنے بارے میں خدا سے ڈرو اور شیطان سے جان چھڑائو کہ یہ دنیا بہر حال تم سے الگ ہونے والی ہے اور آخرت بہت قریب ہے ۔والسلام

(۳۳)

آپ کامکتوب گرامی

(مکہ کے عامل قثم(۲) بن عباس کے نام)

اما بعد! میرے مغربی علاقہ کے جاسوس نے مجھے لکھ کر اطلاع دی ہے کہ موسم حج کے لئے شام کی طرف سے کچھ ایسے لوگوں کو بھیجا گیا ہے جو دلوں کے اندھے ' کانوں کے بہرے اورآنکھوں کے محروم ضیاء ہیں۔یہ حق کو باطل سے مشتبہ کرنے والے ہیں اور خالق کی نافرمانی کرکے مخلوق کوخوش کرنے والے ہیں۔

(۱)طبری کا بیان ہے کہ حتات مجاشعی ایک جماعت کے ساتھ معاویہ کے دربار میں واردہوا معاویہ نے سب کو ایک ایک لاکھ انعام دیا اورحتات کو ستر ہزار۔تو اس نے اتعراض کیا معاویہ نے کہا کہ میں نے ان سے ان کا دین خریدا ہے۔حتات نے کہا تو مجھ سے بھی خرید لیجئے ؟ یہ سنناتھاکہ معاویہ نے ایک لاکھ پورا کردیا۔

(۲)قثم عبداللہ بن عباس کےبھائی تھےاورمکہ پر حضرت کےعامل تھےجوحضرت کی شہادت تک اپنے عہدہ پر فائز رہے اور اس کے بعد معاویہ کے دورمیں سمرقند میں قتل کر دئیے گئے

۵۳۴

ويَحْتَلِبُونَ الدُّنْيَا دَرَّهَا بِالدِّينِ - ويَشْتَرُونَ عَاجِلَهَا بِآجِلِ الأَبْرَارِ الْمُتَّقِينَ - ولَنْ يَفُوزَ بِالْخَيْرِ إِلَّا عَامِلُه - ولَا يُجْزَى جَزَاءَ الشَّرِّ إِلَّا فَاعِلُه - فَأَقِمْ عَلَى مَا فِي يَدَيْكَ قِيَامَ الْحَازِمِ الصَّلِيبِ - والنَّاصِحِ اللَّبِيبِ - التَّابِعِ لِسُلْطَانِه الْمُطِيعِ لإِمَامِه - وإِيَّاكَ ومَا يُعْتَذَرُ مِنْه - ولَا تَكُنْ عِنْدَ النَّعْمَاءِ بَطِراً - ولَا عِنْدَ الْبَأْسَاءِ فَشِلًا - والسَّلَامُ.

(۳۴)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى محمد بن أبي بكر لما بلغه توجده من عزله بالأشتر عن مصر،ثم توفي الأشتر في توجهه إلى هناك قبل وصوله إليها

أَمَّا بَعْدُ فَقَدْ بَلَغَنِي مَوْجِدَتُكَ مِنْ تَسْرِيحِ الأَشْتَرِ إِلَى عَمَلِكَ - وإِنِّي لَمْ أَفْعَلْ ذَلِكَ اسْتِبْطَاءً لَكَ فِي الْجَهْدَ - ولَا ازْدِيَاداً لَكَ فِي الْجِدِّ - ولَوْ نَزَعْتُ مَا تَحْتَ يَدِكَ مِنْ سُلْطَانِكَ - لَوَلَّيْتُكَ مَا هُوَ أَيْسَرُ عَلَيْكَ مَئُونَةً - وأَعْجَبُ إِلَيْكَ وِلَايَةً.

إِنَّ الرَّجُلَ الَّذِي كُنْتُ وَلَّيْتُه أَمْرَ مِصْرَ -

ان کا کام دین کے ذریعہ دنیا کو دو ہنا ہے اوریہ نیک کردار' پرہیز گار افراد کی آخرت کو دنیا کے ذریعہ خریدنے والے ہیں جب کہ خیر اس کا حصہ ہے جوخیر کا کام کرے اورشر اس کے حصہ میں آتا ہے جو شرکاعمل کرتا ہے۔دیکھو اپنے منصبی فرائض کے سلسلہ میں ایک تجربہ کار' پختہ کار' مخلص ' ہوشیار انسان کی طرح قیام کرنا جو اپنے حاکم کا تابع اوراپنے امام کا اطاعت گذار ہواور خبردار کوئی ایسا کام نہ کرنا جس کی معذرت کرنا پڑے اورراحت وآرام میں مغرور نہ ہو جانا اورنہ شدت کے مواقع پرکمزوری کا مظاہرہ کرنا۔والسلام

(۳۴)

آپ کامکتوب گرامی

(محمدبن ابی بکرکے نام جب یہ اطلاع ملی کہ وہ اپنی معزولی اورمالک اشترکےتقریر سے رنجیدہ ہیں اور پھرمالک اشتر مصر پہنچنے سےپہلےانتقال بھی کرگئے )

اما بعد!مجھے مالک اشتر کےمصر کی طرف بھیجنے کے بارے میں تمہاری بد دلی کی اطلاع ملی ہے۔حالانکہ میں نے یہ کام اس لئے نہیں کیا کہ تمہیں کام میں کمزور پایا تھا یا تم سے زیادہ محنت کامطالبہ کرناچاہا تھا بلکہ اگرمیں نے تم سے تمہارے زیر اثر اقتدار کولیا بھی تھا تو تمہیں ایسا کام دینا چاہتا تھا جو تمہارےلئےمشقت کے اعتبار سے آسان ہو اورتمہیں پسند بھی ہوجس شخص کو میں نے مصرکاعامل قراردیا تھا وہ

۵۳۵

كَانَ رَجُلًا لَنَا نَاصِحاً وعَلَى عَدُوِّنَا شَدِيداً نَاقِماً - فَرَحِمَه اللَّه فَلَقَدِ اسْتَكْمَلَ أَيَّامَه – ولَاقَى حِمَامَه ونَحْنُ عَنْه رَاضُونَ - أَوْلَاه اللَّه رِضْوَانَه وضَاعَفَ الثَّوَابَ لَه - فَأَصْحِرْ لِعَدُوِّكَ وامْضِ عَلَى بَصِيرَتِكَ - وشَمِّرْ لِحَرْبِ مَنْ حَارَبَكَ و( ادْعُ إِلى سَبِيلِ رَبِّكَ ) - وأَكْثِرِ الِاسْتِعَانَةَ بِاللَّه يَكْفِكَ مَا أَهَمَّكَ - ويُعِنْكَ عَلَى مَا يُنْزِلُ بِكَ إِنْ شَاءَ اللَّه.

(۳۵)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى عبد الله بن العباس بعد مقتل محمد بن أبي بكر

أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ مِصْرَ قَدِ افْتُتِحَتْ - ومُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ رحمهالله قَدِ اسْتُشْهِدَ - فَعِنْدَ اللَّه نَحْتَسِبُه وَلَداً نَاصِحاً وعَامِلًا كَادِحاً

میرا مردمخلص اورمیرےدشمن کے لئے سخت قسم کا دشمن تھا۔خدااس پر رحمت نازل کرےاس نے اپنے دن پورے کرلئے اوراپنی موت سے ملاقات کرلی۔ہم اس سے بہر حال راضی ہیں۔اللہ اسے اپنی رضا عنایت فرمائے اور اس کے ثواب کو مضاعف کردے اب تم دشمن کے مقابلہ میں نکل پڑو اوراپن بصیرت پرچل پڑو۔ جوتم سے جنگ کرے اس سے جنگ کرنے کے لئے کمر کو کس لو اوردشمن کو راہ خدا کی دعوت دے دو۔اس کے بعد اللہ سے مسلسل مدد مانگتے رہوکہ وہی تمہارےلئے ہر مہم میں کافی ہے اوروہی ہرنازل ہونے والی مصیبت میں مدد کرنے والا ہے۔انشاء اللہ

(۳۵)

آپ کامکتوب گرامی

(عبداللہ بن عباس کے نام۔محمد بن ابی بکر کی شہادت کے بعد )

امابعد! دیکھو مصر پر دشمن کا قبضہ ہوگیا ہے اور محمد(۱) بن ابی بکر شہید ہوگئے ہیں( خدا ان پر رحمت نازل کرے ) میں ان کی مصیبت کا اجر خدا سے چاہتا ہوں کہ وہ میرے مخلص فرزند اور محنت کش عامل تھے

(۱)مسعودی نے مروج الذیب میں ۳۵ھ کے حوادث میں اس واقعہ کو نقل کیا ہے کہ '' معاویہ نے عمرو ابن العاص کی سر کردگی میں ۴ ہزار کا لشکر مصر کی طرف روانہ کیا اور اس میں معاویہ بن خدیج اور ابو الا عور السلمی جیسے افراد کوبھی شامل کردیا۔مقام مسناة پرمحمد بن ابی بکرن اس لشکرکا مقابلہ کیا لیکن اصحاب کی بیوفائی کی بنا پرمیدان چھوڑنا پڑا۔اس کے بعد دوبارہ مصر کے علاقہ میں رن پڑا اور آخر کارمحمد بن ابی بکر کو گرفتار کرلیا گیا اور انہیں جیتے جی ایک گدھے کی کھال میں رکھ کرنذر آتش کردیا گیا '' جس کا حضرت کو بے حد صدمہ ہوا اور آپ نے اس واقعہ کی اطلاع بصرہ کے عامل عبداللہ بن عباس کو کی اور اپنے مکمل جذبات کا اظہار فرمادیا یہاں تک کہ اہل عراق کی بیوفائی کی بنیاد پر آرزئوئے موت تک کا تذکرہ فرمادیا کہ گویا ایسے افراد کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے ہیں جو راہ خدا میں جہاد کرنا نہ جانتے ہوں۔اور یہ مولائے کائنات کا درس عمل ہردور کے لئے ہے کہ جس قوم میں جذبہ قربانی نہیں ہے۔علی نہ انہیں دیکھنا پسند کرتے ہیں اور نہ انہیں اپنے شیعوں میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔

۵۳۶

وسَيْفاً قَاطِعاً ورُكْناً دَافِعاً - وقَدْ كُنْتُ حَثَثْتُ النَّاسَ عَلَى لَحَاقِه - وأَمَرْتُهُمْ بِغِيَاثِه قَبْلَ الْوَقْعَةِ - ودَعَوْتُهُمْ سِرّاً وجَهْراً وعَوْداً وبَدْءاً - فَمِنْهُمُ الآتِي كَارِهاً ومِنْهُمُ الْمُعْتَلُّ كَاذِباً - ومِنْهُمُ الْقَاعِدُ خَاذِلًا - أَسْأَلُ اللَّه تَعَالَى أَنْ يَجْعَلَ لِي مِنْهُمْ فَرَجاً عَاجِلًا - فَوَاللَّه لَوْ لَا طَمَعِي عِنْدَ لِقَائِي عَدُوِّي فِي الشَّهَادَةِ - وتَوْطِينِي نَفْسِي عَلَى الْمَنِيَّةِ - لأَحْبَبْتُ أَلَّا أَلْقَى مَعَ هَؤُلَاءِ يَوْماً وَاحِداً - ولَا أَلْتَقِيَ بِهِمْ أَبَداً.

(۳۶)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى أخيه عقيل بن أبي طالب - في ذكر جيش أنفذه إلى بعض الأعداء

وهو جواب كتاب كتبه إليه عقيل

فَسَرَّحْتُ إِلَيْه جَيْشاً كَثِيفاً مِنَ الْمُسْلِمِينَ - فَلَمَّا بَلَغَه ذَلِكَ شَمَّرَ هَارِباً ونَكَصَ نَادِماً - فَلَحِقُوه بِبَعْضِ الطَّرِيقِ - وقَدْ طَفَّلَتِ الشَّمْسُ لِلإِيَابِ

میری تیغ بران اورمیرے دفاعی ستون میں نے لوگوں کو ان سے ملحق ہو جانے پرآمادہ کیا تھا اور انہیں حکم دیا تھا کہ جنگ سے پہلے ان کی مدد کو پہنچ جائیں اور انہیں خفیہ اورعلانیہ ہر طرح دعوتعمل دی تھی اور بار بار آوازدی تھی لیکن بعض افراد بادل نا خواستہ آئے اور بعض نے جھوٹے بہانے کردئیے ۔کچھ تو میرے حکم کو نظرانداز کر کے گھر ہی میں بیٹھے رہ گئے ۔اب میں پروردگار سے دعاکرتا ہوں کہ مجھے ان کی طرف سے جلد کشائش امر عنایت فرمادے کہ خدا کی قسم اگر مجھے دشمن سے ملاقات کرکے وقت شہادت کی آرزو نہ ہوتی اور میں نے اپنے نفس کو موت کے لئے آمادہ نہ کرلیا ہوتا تو میں ہرگز یہ پسند نہ کرتا کہ ان لوگوں کے ساتھ ایک دن بھی دشمن سے مقابلہ کروں یا خود ان لوگوں سے ملاقات کروں۔

(۳۶)

آپ کامکتوب گرامی

(اپنے بھائی عقیل کے نام جس میں اپنے بعض لشکروں کا ذکر فرمایا ہے اور یہ درحقیقت عقیل کے مکتوب کا جواب دے )

پس میں نے اس کی طرف مسلمانوں کا ایک لشکر عظیم روانہ کردیا اورجب اسے اس امرکی اطلاع ملی تو اس نے دامن سمیٹ کر فرار اختیار کیا۔اور پشیمان ہو کر پیچھے ہٹ گیا تو ہمارے لشکرنے اسے راستہ میں جالیا جب کہ سورج ڈوبنے

۵۳۷

فَاقْتَتَلُوا شَيْئاً كَلَا ولَا - فَمَا كَانَ إِلَّا كَمَوْقِفِ سَاعَةٍ حَتَّى نَجَا جَرِيضاً - بَعْدَ مَا أُخِذَ مِنْه بِالْمُخَنَّقِ - ولَمْ يَبْقَ مِنْه غَيْرُ الرَّمَقِ - فَلأْياً بِلأْيٍ مَا نَجَا - فَدَعْ عَنْكَ قُرَيْشاً وتَرْكَاضَهُمْ فِي الضَّلَالِ - وتَجْوَالَهُمْ فِي الشِّقَاقِ وجِمَاحَهُمْ فِي التِّيه - فَإِنَّهُمْ قَدْ أَجْمَعُوا عَلَى حَرْبِي - كَإِجْمَاعِهِمْ عَلَى حَرْبِ رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قَبْلِي - فَجَزَتْ قُرَيْشاً عَنِّي الْجَوَازِي - فَقَدْ قَطَعُوا رَحِمِي وسَلَبُونِي سُلْطَانَ ابْنِ أُمِّي

وأَمَّا مَا سَأَلْتَ عَنْه مِنْ رَأْيِي فِي الْقِتَالِ - فَإِنَّ رَأْيِي قِتَالُ الْمُحِلِّينَ حَتَّى أَلْقَى اللَّه - لَا يَزِيدُنِي كَثْرَةُ النَّاسِ حَوْلِي عِزَّةً - ولَا تَفَرُّقُهُمْ عَنِّي وَحْشَةً - ولَا تَحْسَبَنَّ ابْنَ أَبِيكَ - ولَوْ أَسْلَمَه النَّاسُ مُتَضَرِّعاً مُتَخَشِّعاً - ولَا مُقِرّاً لِلضَّيْمِ وَاهِناً - ولَا سَلِسَ الزِّمَامِ لِلْقَائِدِ - ولَا وَطِيءَ الظَّهْرِ لِلرَّاكِبِ

کے قریب تھا نتیجہ یہ ہوا کہدونوں میں ایک مختصر جھڑپ ہوئی اورایک ساعت نہ گزرنے پائی تھی کہ اس نے بھاگ کر نجات حاصل کرلی جب کہ اسے گلے سے پکڑا جا چکا تھا اورچند سانسوں کے علاوہ کچھ باقی نہ رہ گیا تھا۔اس طرح بڑی مشکل سے اس نے جان بچائی لہٰذا اب قریش اور گمراہی میں ان کی تیز رفتاری اور تفرقہ میں ان کی گردش اور ضلالت میں ان کی منہ زوری کا ذکر چھوڑ دو کہ ان لوگوں نے مجھ سے جنگ پر ویسے ہی اتفاق کرلای ہے جس طرح رسول اکرم (ص) سے جنگ پر اتفاق کیا تھا ۔اب اللہ ہی قریش کو ان کے کئے کا بدلہدے کہ انہوں نے میر ی قرابت کا رشتہ توڑ دیا اور مجھ سے میرے ماں جائے(۱) کی حکومت سلب کرلی۔

اور یہ جو تم نے جنگ کے بارے میں میری رائے دریافت کی ہے تو میری رائے یہی ہے کہ جن لوگوں نے جنگ کو حلال بنا رکھا ہے ان سے جنگ کرتا رہوں یہاں تک کہ مالک کی بارگاہ میں حاضر ہو جائوں۔میرے گرد لوگوں کا اجتماع میری عزت میں اضافہ نہیں کر سکتا ہے اور نہ ان کا متفرق ہوجانا میری وحشت میں اضافہ کرسکتا ہے اور میرے برادر اگر تمام لوگ بھی میرا ساتھ چھوڑ دیں تو آپ مجھے کمزوراورخوفزدہ نہ پائیں گے اورظلم کا اقرارکرنے والا۔کمزور اور کسی قائد کے ہاتھ میں آسانی سے زمام پکڑا دینے والا اور کسی سوارکے لئے سواری کی

(۱) مولائے کائنات نے سرکار دوعالم (ص) کو '' ابن امی '' کے لفظ سے یاد فرمایا ہے اس لئے کہ سرکاردوعالم (ص) مسلسل آپ کی والدہ ماجدہ جناب فاطمہ بنت اسد کو اپنی ماں کے لفظ سے یاد فرمایا کرتے تھے '' ھی امی بعد امی ''

۵۳۸

الْمُتَقَعِّدِ - ولَكِنَّه كَمَا قَالَ أَخُو بَنِي سَلِيمٍ:

فَإِنْ تَسْأَلِينِي كَيْفَ أَنْتَ فَإِنَّنِي

صَبُورٌ عَلَى رَيْبِ الزَّمَانِ صَلِيبُ

يَعِزُّ عَلَيَّ أَنْ تُرَى بِي كَآبَةٌ

فَيَشْمَتَ عَادٍ أَوْ يُسَاءَ حَبِيبُ

(۳۷)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى معاوية

فَسُبْحَانَ اللَّه - مَا أَشَدَّ لُزُومَكَ لِلأَهْوَاءَ الْمُبْتَدَعَةِ والْحَيْرَةِ الْمُتَّبَعَةِ - مَعَ تَضْيِيعِ الْحَقَائِقِ واطِّرَاحِ الْوَثَائِقِ - الَّتِي هِيَ لِلَّه طِلْبَةٌ وعَلَى عِبَادِه حُجَّةٌ - فَأَمَّا إِكْثَارُكَ الْحِجَاجَ عَلَى عُثْمَانَ وقَتَلَتِه - فَإِنَّكَ إِنَّمَا نَصَرْتَ عُثْمَانَ حَيْثُ كَانَ النَّصْرُ لَكَ - وخَذَلْتَه حَيْثُ كَانَ النَّصْرُ لَه والسَّلَامُ.

سہولت دینے والا پائیں گے ۔بلکہ میری وہی صورت حال ہوگی جس کے بارے میں قبیلہ بنی سلیم والے نے کہا ہے۔:

'' اگر تو میری حالت کے بارے میں دریافت کر رہی ہے تو سمجھ لے کرمیں زمانہ کے مشکلات میں صبر کرنے والا اورمستحکم ارادہ والا ہوں میرے لئے نا قابل برداشت ہے کہ مجھے پریشان حال دیکھا جائے اوردشمن طعنے دے یا دوست اس صورت حال سے رنجیدہ ہو جائے ''

(۳۷)

آپ کا مکتوب گرامی

(معاویہ کے نام)

اے سبحان اللہ۔تو نئی نئی خواہشات اورزحمت میں ڈالنے والی حیرت و سر گردانی سے کس قدر چپکا ہوا ہے جب کہ تونے حقائق کو برباد کردیا ہے اوردلائل کو ٹھکرادیا ہے جو الہ کو مطلوب اوربندوں پر اس کی حجت ہیں۔ رہ گیا تمہارا عثمان اور ان کے قالوں کے بارے میں جھگڑا بڑھانا تواس کامختصر جواب یہ ہے کہ تم نے عثمان کی مدد اس وقت کی ہے جب مدد میں تمہارا فائدہ تھا اور اس وقت لاوارث چھوڑ دیا تھا جب(۱) مددمیں ان کا فائدہ تھا۔ والسلام

(۱) ابن ابی الحدید نے بلا ذری کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ عثمان کے محاصرہ کے دورمیں معاویہ نے شام سے ایک فوج یزید بن اسد قسری کی سرکردگی میں روانہ کی اور اسے ہدایت دیدی کہ مدینہ کے باہر مقام ذی خشب میں مقیم رہیں اورکسی بھی صورت میں میرے حکم کے بغیر مدینہ میں داخل نہ ہوں۔چنانچہ فوج اسی مقام پر حالات کا جائزہ لیتی رہی اورقتل عثمان کے بعد واپس شام بلا لی گئی۔جس کا کھلا ہوا مفہوم یہ تھا کہ اگرانقلابی جماعت کامیاب نہ ہو سکے تواس فوج کی مدد سے عثمان کاخاتمہ کرادیا جائے اور اس کے بعد خون عثمان کاہنگامہ کھڑا کرکے علی سے خلافت سلب کرلی جائے ۔

۵۳۹

(۳۸)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى أهل مصر لما ولى عليهم الأشتر

مِنْ عَبْدِ اللَّه عَلِيٍّ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ - إِلَى الْقَوْمِ الَّذِينَ غَضِبُوا لِلَّه – حِينَ عُصِيَ فِي أَرْضِه وذُهِبَ بِحَقِّه - فَضَرَبَ الْجَوْرُ سُرَادِقَه عَلَى الْبَرِّ والْفَاجِرِ - والْمُقِيمِ والظَّاعِنِ - فَلَا مَعْرُوفٌ يُسْتَرَاحُ إِلَيْه - ولَا مُنْكَرٌ يُتَنَاهَى عَنْه.

أَمَّا بَعْدُ فَقَدْ بَعَثْتُ إِلَيْكُمْ عَبْداً مِنْ عِبَادِ اللَّه - لَا يَنَامُ أَيَّامَ الْخَوْفِ - ولَا يَنْكُلُ عَنِ الأَعْدَاءِ سَاعَاتِ الرَّوْعِ - أَشَدَّ عَلَى الْفُجَّارِ مِنْ حَرِيقِ النَّارِ - وهُوَ مَالِكُ بْنُ الْحَارِثِ أَخُو مَذْحِجٍ - فَاسْمَعُوا لَه وأَطِيعُوا أَمْرَه فِيمَا طَابَقَ الْحَقَّ - فَإِنَّه سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّه - لَا كَلِيلُ الظُّبَةِ ولَا نَابِي الضَّرِيبَةِ - فَإِنْ أَمَرَكُمْ أَنْ تَنْفِرُوا فَانْفِرُوا - وإِنْ أَمَرَكُمْ أَنْ تُقِيمُوا فَأَقِيمُوا -

(۳۸)

آپ کامکتوب گرامی

(مالک اشتر کی ولایت کےموقع پر اہل مصرکے نام )

بندۂ خدا ! امیر المومنین علی کی طرف سے۔ اس قوم کے نام جس نے خداکے لئے اپنے غضب کا اظہار کیا جب اس کی زمین میں اس کی معصیت کی گئی اور اس کے حق کو برباد کردیا گیا۔ظلم نے ہر نیک و بدکاراور مقیم و مسافر پراپنے شامیانے تان دئیے اور نہ کوئی نیکی رہ گئی جس کے زیر سایہ آرام لیا جا سکے اور نہ کوئی ایسی برائی رہگئی جس سے لوگ پرہیز کرتے ۔

امابعد! میں نے تمہاری طرف بندگان خدا میں سے ایک ایسے بندہ کو بھیجا ہے جو خوف کے دنوں میں سوتا نہیں ہے اوردہشت کے اوقات میں دشمنوں سے خوفزدہ نہیں ہوت ہے اور فاجروں کے لئے آگ کی گرمی سے زیادہ شدید تر ہے اور اس کا نام مالک بن اشتر مذحجی ہے لہٰذا تم لوگاس کی بات سنواوراس کے ان اوامرکی اطاعت کرو جو مطابق حق ہیں کہوہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے(۱) جس کی تلوار کند نہیں ہوتی ہے اور جس کا وار اچٹ نہیں سکتا ہے۔وہ اگرکوچ کرنے کاحکم دے تونکل کھڑے ہو اور اگر ٹھہرنے کے لئے کہے تو فوراً ٹھہر جائو اس لئے کہ

(۱) افسوس کہ عالم اسلام نے یہ لقب خالد بن الولید کو دے دیا ہے جس نے جناب مالک بن نویرہ کوبے گناہ قتل کرکے اسی رات کی زوجہ سے تعلقات قائم کرلئے اوراس پر حضرت عمر تک نے اپنی برہمی کا اظہار کیا لیکن حضرت ابو بکر نے سیاسی مصالح کے تحت انہیں ''سیف اللہ '' قرار دے کر اتنے سنگین جرم سے بری کردیا۔انا للہ

۵۴۰

541

542

543

544

545

546

547

548

549

550

551

552

553

554

555

556

557

558

559

560

561

562

563

564

565

566

567

568

569

570

571

572

573

574

575

576

577

578

579

580

581

582

583

584

585

586

587

588

589

590

591

592

593

594

595

596

597

598

599

600

601

602

603

604

605

606

607

608

609

610

611

612

613

614

615

616

617

618

619

620

621

622

623

624

625

626

627

628

629

630

631

632

633

634

635

636

637

638

639

640

641

642

643

644

645

646

647

648

649

650

651

652

653

654

655

656

657

658

659

660

۱۱۸ - وقَالَعليه‌السلام إِضَاعَةُ الْفُرْصَةِ غُصَّةٌ.

۱۱۹ - وقَالَ علالسلام مَثَلُ الدُّنْيَا كَمَثَلِ الْحَيَّةِ لَيِّنٌ مَسُّهَا - والسَّمُّ النَّاقِعُ فِي جَوْفِهَا - يَهْوِي إِلَيْهَا الْغِرُّ الْجَاهِلُ ويَحْذَرُهَا ذُو اللُّبِّ الْعَاقِلُ.

۱۲۰ - وسُئِلَعليه‌السلام عَنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ - أَمَّا بَنُو مَخْزُومٍ فَرَيْحَانَةُ قُرَيْشٍ - نُحِبُّ حَدِيثَ رِجَالِهِمْ والنِّكَاحَ فِي نِسَائِهِمْ - وأَمَّا بَنُو عَبْدِ شَمْسٍ فَأَبْعَدُهَا رَأْياً - وأَمْنَعُهَا لِمَا وَرَاءَ ظُهُورِهَا - وأَمَّا نَحْنُ فَأَبْذَلُ لِمَا فِي أَيْدِينَا - وأَسْمَحُ عِنْدَ الْمَوْتِ بِنُفُوسِنَا - وهُمْ أَكْثَرُ وأَمْكَرُ وأَنْكَرُ - ونَحْنُ أَفْصَحُ وأَنْصَحُ وأَصْبَحُ.

(۱۱۸)

فرصت(۱) کا ضائع کردینا رنج و اندوہ کاباعث ہوتا ہے۔

(۱۱۹)

دنیا کی مثال سانپ جیسی ہے جوچھونے میں انتہائی نرم ہوتا ہے اور اس کے اندر زہر قاتل ہوتا ہے ۔ فریب خوردہ جاہل اس کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور صاحب عقل(۲) و ہوش اس سے ہوشیار رہتا ہے۔

(۱۲۰)

آپ سے قریش کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ بنی محزوم قریش کامہکتا ہواپھول ہیں۔ان سے گفتگو بھی اچھی لگتی ہے اور ان کی عورتوں سے رشتہ داری بھی محبوب ہے اوربنی عبد شمس بہت دورت کسوچنے والے اور اپنے پیٹھ پیچھے کی باتوں کی روک تھام کرنے والے ہیں۔لیکن ہم بنی ہاشم اپنے ہاتھ کی دولت کے لٹانے اورموت کے میدان میں جان دینے والے ہیں۔وہ لوگ عدد میں زیادہ ۔مکرو فریب میں آگے اوربد صورت ہیں اور ہم لوگ فصیح و بلیغ ' مخلص اور روشن چہرہ ہیں۔

(۱)انسانی زندگی میں ایسے مقامات بہت کم آتے ہیں جب کسی کام کا مناسب موقع ہاتھ آجاتا ہے لہٰذا انسان کا فرض ہے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھالے اوراسے ضائع نہ ہونے دے کہ فرصت کا نکل جانا انتہائی رنج و اندوہ کاب اعث ہوتا ہے ۔

(۲)عقل کا کام یہ ہے کہ وہ اشیائکے باطن پرنگاہ رکھے اور صرف ظاہر کے فریب میں نہ آئے ورنہ سانپ کا ظاہر بھی انتہائی نرم و نازک ہوتا ہے جبکہ اس کے اندر کا زہر انتہائی قاتل اورتباہ کن ہوتا ہے ۔

۶۶۱

۱۲۱ - وقَالَعليه‌السلام شَتَّانَ مَا بَيْنَ عَمَلَيْنِ - عَمَلٍ تَذْهَبُ لَذَّتُه وتَبْقَى تَبِعَتُه - وعَمَلٍ تَذْهَبُ مَئُونَتُه ويَبْقَى أَجْرُه.

۱۲۲ - وتَبِعَ جِنَازَةً فَسَمِعَ رَجُلًا يَضْحَكُ فَقَالَ - كَأَنَّ الْمَوْتَ فِيهَا عَلَى غَيْرِنَا كُتِبَ - وكَأَنَّ الْحَقَّ فِيهَا عَلَى غَيْرِنَا وَجَبَ - وكَأَنَّ الَّذِي نَرَى مِنَ الأَمْوَاتِ سَفْرٌ عَمَّا قَلِيلٍ إِلَيْنَا رَاجِعُونَ - نُبَوِّئُهُمْ أَجْدَاثَهُمْ ونَأْكُلُ تُرَاثَهُمْ كَأَنَّا مُخَلَّدُونَ بَعْدَهُمْ - ثُمَّ قَدْ نَسِينَا كُلَّ وَاعِظٍ ووَاعِظَةٍ ورُمِينَا بِكُلِّ فَادِحٍ وجَائِحَةٍ

(۱۲۱)

ان دو طرح کے اعمال میں کس قدر فاصلہ پایا جاتا ہے۔وہ عمل(۱) جس کی لذت ختم ہو جائے اوراس کا وبال باقی رہ جائے اوروہ عمل جس کی زحمت ختم ہو جائے اور اجرباقی رہ جائے ۔

(۱۲۲)

آپ نے ایک جنازہ میں شرکت فرمائی اور ایک شخص کو ہنستے ہوئے دیکھ لیا تو فرمایا '' ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موت کسی اور کے لئے لکھی گئی ہے اور یہ حق کسی دوسرے پر لازم قراردیا گیا ہے اور گویا کہجن مرنے والوں کو ہم دیکھ رہے ہیں وہ ایسے مسافر ہیں جو عنقریب واپس آنے والے ہیں کہ ادھر ہم انہیں ٹھکانے لگاتے ہیں اور ادھر(۲) ان کا ترکہ کھانے لگتے ہیں جیسے ہم ہمیشہ رہنے والے ہیں۔اس کے بعد ہم نے ہر نصیحت کرنے والے مرد اورعورت کو بھلا دیا ہے اور ہر آفت و مصیبت کا نشانہ بن گئے ہیں۔

(۱)دنیا اورآخرت کے اعمال کا بنیادی فرق یہی ہے کہ دنیا کے اعمال کی لذت ختم ہو جاتی ہے اور آخرت میں اس کا حساب باقی رہ جاتا ہے اورآخرت کے اعمال کی زحمت ختم ہو جاتی ہے اوراس کا اجرو ثواب باقی رہ جاتا ہے۔

(۲)انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ کسی مرحلہ پر عبرت حاصل کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا ہے اور ہر منزل پراس قدر غافل ہو جاتا ہے جیسے نہ اس کے پاس دیکھنے والی آنکھ ہے اور نہ سمجھنے والی عقل ۔ورنہ اس کے معنی کیا ہیں کہ آگے آگے جنازہ جا رہاہے اور پیچھے لوگ ہنسی مذاق کر رہے ہیں یا سامنے میت کو قبر میں اتارا جا رہا ہے اورحاضرین کرام دنیا کے سیاسی مسائل حل کر رہے ہیں۔یہ صورت حال اس بات کی علامت ہے کہ انسان بالکل غافل ہو چکا ہے اور اسے کسی طرح کا ہوش نہیں رہ گیا ہے۔

۶۶۲

۱۲۳ - وقَالَعليه‌السلام طُوبَى لِمَنْ ذَلَّ فِي نَفْسِه وطَابَ كَسْبُه - وصَلَحَتْ سَرِيرَتُه وحَسُنَتْ خَلِيقَتُه - وأَنْفَقَ الْفَضْلَ مِنْ مَالِه وأَمْسَكَ الْفَضْلَ مِنْ لِسَانِه - وعَزَلَ عَنِ النَّاسِ شَرَّه ووَسِعَتْه السُّنَّةُ ولَمْ يُنْسَبْ إلَى الْبِدْعَةِ.

قال الرضي أقول ومن الناس من ينسب هذا الكلام إلى رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وكذلك الذي قبله.

۱۲۴ - وقَالَعليه‌السلام غَيْرَةُ الْمَرْأَةِ كُفْرٌ وغَيْرَةُ الرَّجُلِ إِيمَانٌ.

۱۲۵ - وقَالَعليه‌السلام لأَنْسُبَنَّ الإِسْلَامَ نِسْبَةً لَمْ يَنْسُبْهَا أَحَدٌ قَبْلِي - الإِسْلَامُ هُوَ التَّسْلِيمُ

(۱۲۳)

خوشا بحال اس کاجس نے اپنے اندر تواضع کی ادا پیدا کی ' اپنے کسب کو پاکیزہ بنالیا۔اپنے باطن کونیک کرلیا اپنے اخلاق کوحسین بنالیا۔اپنے مال کے زیادہ حصہ کو راہ خدا میں خرچ کردیا اور اپنی زبان درازی پر قابو پالیا۔اپنے شر کو لوگوں سے دور رکھا اورسنت کو اپنی زندگی میں جگہ دی اور بدعت سے کوئی نسبت نہیں رکھی۔

سید رضی: بعض لوگوں نے اس کلام کو رسول اکرم (ص) کے حوالہ سے بھی بیان کیا ہے جس طرح کہ اس سے پہلے والا کلام حکمت ہے ۔

(۱۲۴)

عورت کا غیرت(۱) کرنا کفر ہے اور مرد کا غیور ہونا عین ایمان ہے۔

(۱۲۵)

میں اسلام کی وہ تعریف کر رہا ہوں جو مجھ سے پہلے کوئی نہیں کر سکا ہے۔اسلام سپردگی ہے اور

(۱)اسلام نے اپنے مخوص مصالح کے تحت مرد کو چار شادیوں کی اجازت دی ہے اور اسی کو عالمی مسائل کا حل قرار دیا ہے لہٰذا کسی عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ وہمرد کی دوسری شادی پر اعتراض کرے یا دوسری عورت سے حسد اور بیزاری کا اظہار کرے کہ یہ بیزاری در حقیقت اس دوسری عورت سے نہیں ہے اسلام کے قانون ازدواج سے ہے اور قانون الٰہی سے بیزاری اور نفرت کا احساس کرنا کفر ہے اسلام نہیں ہے۔

اس کے بر خلاف عورت کو دوسری شادی کی اجازت نہیں دی گئی ہے لہٰذا شوہر کا حق ہے کہ اپنے ہوتے ہوئے دوسرے شوہر کے تصورسے بیزاری کا اظہارکرے اوریہی اس کے کمال حیا و غریت اور کمال اسلام و ایمان کی دلیل ہے لہٰذا عورت کا غیرت کرنا کفر ہے اور مرد کا غیرت کرنا اسلام و ایمان کے مرادف ہے۔

۶۶۳

والتَّسْلِيمُ هُوَ الْيَقِينُ - والْيَقِينُ هُوَ التَّصْدِيقُ والتَّصْدِيقُ هُوَ الإِقْرَارُ - والإِقْرَارُ هُوَ الأَدَاءُ والأَدَاءُ هُوَ الْعَمَلُ.

۱۲۶ - وقَالَعليه‌السلام عَجِبْتُ لِلْبَخِيلِ يَسْتَعْجِلُ الْفَقْرَ الَّذِي مِنْه هَرَبَ - ويَفُوتُه الْغِنَى الَّذِي إِيَّاه طَلَبَ - فَيَعِيشُ فِي الدُّنْيَا عَيْشَ الْفُقَرَاءِ - ويُحَاسَبُ فِي الآخِرَةِ حِسَابَ الأَغْنِيَاءِ - وعَجِبْتُ لِلْمُتَكَبِّرِ الَّذِي كَانَ بِالأَمْسِ نُطْفَةً - ويَكُونُ غَداً جِيفَةً - وعَجِبْتُ لِمَنْ شَكَّ فِي اللَّه وهُوَ يَرَى خَلْقَ اللَّه - وعَجِبْتُ لِمَنْ نَسِيَ الْمَوْتَ وهُوَ يَرَى الْمَوْتَى - وعَجِبْتُ لِمَنْ أَنْكَرَ النَّشْأَةَ الأُخْرَى - وهُوَ يَرَى النَّشْأَةَ الأُولَى - وعَجِبْتُ لِعَامِرٍ دَارَ الْفَنَاءِ وتَارِكٍ دَارَ الْبَقَاءِ.

۱۲۷ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ قَصَّرَ فِي الْعَمَلِ ابْتُلِيَ بِالْهَمِّ ولَا حَاجَةَ لِلَّه فِيمَنْ لَيْسَ لِلَّه فِي مَالِه ونَفْسِه نَصِيبٌ.

سپردگی یقین ۔یقین تصدیق ہے اورتصدیق اقرار۔اقرار ادائے فرض ہے اور ادائے فرض عمل۔

(۱۲۶)

مجھے بخیل کے حال پر تعجب ہوتا ہے کہ اسی فقر میں مبتلا ہو جاتا ہے جس سے بھا گ رہا ہے اور پھر اس دولت مندی سے محروم ہو جاتا ہے جس کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔دنیا میں فقیروں جیسی زندگی گزارتا ہے اورآخرت میں مالداروں جیسا حساب دینا پتا ہے۔اسی طرح مجھے مغرورآدمی پر تعجب ہوتا ہے کہ جو کل نطفہ تھا اور کل مردار ہو جائے گا اورپھراکڑ رہا ہے۔مجھے اس شخص کے بارے میں بھی حیرت ہوتی ہے جو وجودخدامیں شک کرتا ہے حالانکہ مخلوقات خدا کو دیکھ رہا ہے اور اس کاحال بھی حیرت انگیز ہے جو موت کو بھولا ہوا ہے حالانکہ مرنے والوں کو برابر دیکھ رہا ہے۔مجھے اس کے حال پر بھی تعجب ہوتا ہے جو آخرت کے امکان کا انکار کردیتا ہے حالانکہ پہلے وجود کامشاہدہ کر رہا ہے۔اور اس کے حال پر بھی حیرت ہے جو فنا ہو جانے والے گھر کو آباد کر رہا ہے اورباقی رہ جانے والے گھر کوچھوڑے ہوئے ہے۔

(۱۲۷)

جس نے عمل میں کوتاہی کی وہ رنج و اندوہمیں بہر حال مبتلا ہوگا اور اللہ کو ایسے بندہ کی کوئی پرواہ نہیں ہے جس کے جان(۱) و مال میں اللہ کا کوئی حصہ نہ ہو۔

(۱)بخل اوربزدلی اس بات کی علامت ہے کہ انسان اپنے جان و مال میں سے کوئی حصہ اپنے پروردگار کو نہیں دینا چاہتا ہے اور کھلی ہوئی بات ہے کہ جب بندہ محتاج ہو کر مالک سے بے نیاز ہو نا چاہتا ہے تو مالک کو اس کی کیا غرض ہے۔وہ بھی قطع تعلق کرل یتا ہے۔

۶۶۴

۱۲۸ - وقَالَعليه‌السلام تَوَقَّوُا الْبَرْدَ فِي أَوَّلِه وتَلَقَّوْه فِي آخِرِه - فَإِنَّه يَفْعَلُ فِي الأَبْدَانِ كَفِعْلِه فِي الأَشْجَارِ - أَوَّلُه يُحْرِقُ وآخِرُه يُورِقُ

۱۲۹ - وقَالَعليه‌السلام عِظَمُ الْخَالِقِ عِنْدَكَ يُصَغِّرُ الْمَخْلُوقَ فِي عَيْنِكَ.

۱۳۰ - وقَالَعليه‌السلام : وقَدْ رَجَعَ مِنْ صِفِّينَ فَأَشْرَفَ عَلَى الْقُبُورِ بِظَاهِرِ الْكُوفَةِ

يَا أَهْلَ الدِّيَارِ الْمُوحِشَةِ - والْمَحَالِّ الْمُقْفِرَةِ والْقُبُورِ الْمُظْلِمَةِ - يَا أَهْلَ التُّرْبَةِ يَا أَهْلَ الْغُرْبَةِ - يَا أَهْلَ الْوَحْدَةِ يَا أَهْلَ الْوَحْشَةِ - أَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ سَابِقٌ ونَحْنُ لَكُمْ تَبَعٌ لَاحِقٌ - أَمَّا الدُّورُ فَقَدْ سُكِنَتْ وأَمَّا الأَزْوَاجُ فَقَدْ نُكِحَتْ - وأَمَّا الأَمْوَالُ فَقَدْ قُسِمَتْ - هَذَا خَبَرُ مَا عِنْدَنَا فَمَا خَبَرُ مَا عِنْدَكُمْ؟

ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِه فَقَالَ -

(۱۲۸)

سردی کے موسم سے ابتدا میں احتیاط کرو اور آخرمیں اس کا خیرمقدم کرو کہ اس کا اثر بدن پر درختوں کے پتوں جیسا ہوتا ہے کہ یہموسم ابتدا میں پتوں کو جھلسا دیتا ہے اور آخر میں شاداب بنا دیتا ہے ۔

(۱۲۹)

اگر خالق کی عظمت کا احساس پیدا ہو جائے گا تو مخلوقات خود بخود نگاہوں سے گر جائے گی۔

(۱۳۰)

صفین سے واپسی پر کوفہسے باہر قبرستان پرنظر پڑ گئی تو فرمایا۔اے وحشت ناک گھروں کے رہنے والو! اے ویران مکانات کے باشندو! اور تاریک قبروں میں بسنے والو۔ اے خاک نشینو۔اے غربت ' وحدت اور وحشت والو! تم ہم سے آگے چلے گئے ہو اور ہم تمہارے نقش قدم پرچل کر تم سے ملحق ہونے والے ہیں ۔دیکھو تمہارے مکانات آباد ہوچکے ہیں ۔تمہاری بیویوں کادوسرا عقد ہو چکا ہے اور تمہارے اموال تقسیم ہو چکے ہیں۔یہ تو ہمارے یہاں کی خبر ہے۔اب تم بتائو کہ تمہارے یہاں کی خبر کیا ہے ؟

اس کے بعد اصحاب کی طرف رخ کرکے فرمایا کہ

۶۶۵

أَمَا لَوْ أُذِنَ لَهُمْ فِي الْكَلَامِ - لأَخْبَرُوكُمْ أَنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى.

۱۳۱ - وقَالَعليه‌السلام وقَدْ سَمِعَ رَجُلًا يَذُمُّ الدُّنْيَا - أَيُّهَا الذَّامُّ لِلدُّنْيَا الْمُغْتَرُّ بِغُرُورِهَا - الْمَخْدُوعُ بِأَبَاطِيلِهَا أَتَغْتَرُّ بِالدُّنْيَا ثُمَّ تَذُمُّهَا - أَنْتَ الْمُتَجَرِّمُ عَلَيْهَا أَمْ هِيَ الْمُتَجَرِّمَةُ عَلَيْكَ - مَتَى اسْتَهْوَتْكَ أَمْ مَتَى غَرَّتْكَ - أَبِمَصَارِعِ آبَائِكَ مِنَ الْبِلَى - أَمْ بِمَضَاجِعِ أُمَّهَاتِكَ تَحْتَ الثَّرَى - كَمْ عَلَّلْتَ بِكَفَّيْكَ وكَمْ مَرَّضْتَ بِيَدَيْكَ - تَبْتَغِي لَهُمُ الشِّفَاءَ وتَسْتَوْصِفُ لَهُمُ الأَطِبَّاءَ - غَدَاةَ لَا يُغْنِي عَنْهُمْ دَوَاؤُكَ ولَا يُجْدِي عَلَيْهِمْ بُكَاؤُكَ - لَمْ يَنْفَعْ أَحَدَهُمْ إِشْفَاقُكَ ولَمْ تُسْعَفْ فِيه بِطَلِبَتِكَ - ولَمْ تَدْفَعْ عَنْه بِقُوَّتِكَ

''اگر انہیں بولنے کی اجازت(۱) مل جاتی تو تمہیں صرف یہ پیغام دیتے کہ بہترین زاد راہ تقویٰ الٰہی ہے۔

(۱۳۱)

ایک شخص کو دنیا کی مذمت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا۔اے دنیا کی مذمت کرنے والے اور اس کے فریب میں مبتلا ہو کراس کے مہملات سے دھوکہ کھا جانے والے ! تو اسی سے دھوکہ بھی کھاتا ہے اور اسی کی مذمت بھی کرتا ہے۔یہ بتا کہ تجھے اس پر الزام لگانے کاحق ہے یا اسے تجھ پرالزام لگانے کاحق ہے۔آخر اس نے کب تجھ سے تیری عقل کو چھین لیا تھا اور کب تجھ کو دھوکہ دیا تھا؟ کیا تیرے آباء واجداد کی کہنگی کی بنا پرگرنے سے دھوکہ دیا ہے یا تمہاری مائوں کی زیرخاک خواب گاہ سے دھوکہ دیا ہے ؟ کتنے بیمار ہیں جن کی تم نے تیمارداری کی ہے اور اپنے ہاتھوں سے ان کا علاج کیا ہے اورچاہا ہے کہ وہ شفایاب ہوجائیں اور اطباء سے رجوع بھی کیا ہے۔اس صبح کے ہنگام جب نہ کوئی دوا کام آرہی تھی اور نہ رونا دھونافائدہ پہنچا رہا تھا۔ نہ تمہاری ہدردی کسی کو فائدہ پہنچا سکی اور نہ تمہارا مقصد حاصل ہو سکا اور نہ تم موت کو دفع کر سکے

(۱)انسانی زندگی کے دو جزء ہیں ایک کا نام ہے جسم اور ایک کا نام ہے روح اور انہیں دونوں کے اتحاد و اتصال کا نام ہے زندگی اور انہیں دونوں کی جدائی کا نام ہے موت۔اب چونکہ جسم کی بقا روح کے وسیلہ سے لہٰذا روح کے جدا ہو جانے کے بعد وہ مردہ بھی ہو جاتا ہے اور سڑ گل بھی جاتا ہے اور اس کے اجزاء منتشر ہو کرخاک میں مل جاتے ہیں۔لیکن روح غیر مادی ہونے کی بنیاد پراپنے عالم سے ملحق ہہو جاتی ہے اور زندگی رہتی ہے یہ اوربات ہے کہ اس کے تصرفات اذن الٰہی کے پابندہوتے ہیں اور اس کی اجازت کے بغیر کوئی تصرف نہیں کر سکتی ہے۔اوریہی وجہ ہے کہ مردہ زندوں کی آواز سن لیتا ہے لیکن جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے۔

امیر المومنین نے اسی راز زندگی کی نقاب کشائی فرمائی ہے کہ یہ مرنے والے جواب دینے کے لائق نہیں ہیں لیکن پروردگار نے مجھے وہ علم عنایت فرمایا ہے جس کے ذریعہ میں یہ احساس کرسکتا ہوں کہ ان مرنے والوں کے لا شعور میں کیا ہے اور یہ جواب دینے کے قابل ہوتے تو کیا جواب دیتے اور تم بھی ان کی صورت حال کومحسوس کر لو تو اس امر کا اندازہ کرسکتے ہو کہ ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی جواب اور کوئی پیغام نہیں ہے کہ بہترین زاد راہ تقویٰ ہے۔

۶۶۶

وقَدْ مَثَّلَتْ لَكَ بِه الدُّنْيَا نَفْسَكَ وبِمَصْرَعِه مَصْرَعَكَ - إِنَّ الدُّنْيَا دَارُ صِدْقٍ لِمَنْ صَدَقَهَا - ودَارُ عَافِيَةٍ لِمَنْ فَهِمَ عَنْهَا - ودَارُ غِنًى لِمَنْ تَزَوَّدَ مِنْهَا - ودَارُ مَوْعِظَةٍ لِمَنِ اتَّعَظَ بِهَا - مَسْجِدُ أَحِبَّاءِ اللَّه ومُصَلَّى مَلَائِكَةِ اللَّه - ومَهْبِطُ وَحْيِ اللَّه ومَتْجَرُ أَوْلِيَاءِ اللَّه - اكْتَسَبُوا فِيهَا الرَّحْمَةَ ورَبِحُوا فِيهَا الْجَنَّةَ - فَمَنْ ذَا يَذُمُّهَا وقَدْ آذَنَتْ بِبَيْنِهَا ونَادَتْ بِفِرَاقِهَا - ونَعَتْ نَفْسَهَا وأَهْلَهَا فَمَثَّلَتْ لَهُمْ بِبَلَائِهَا الْبَلَاءَ - وشَوَّقَتْهُمْ بِسُرُورِهَا إِلَى السُّرُورِ - رَاحَتْ بِعَافِيَةٍ وابْتَكَرَتْ بِفَجِيعَةٍ - تَرْغِيباً وتَرْهِيباً وتَخْوِيفاً وتَحْذِيراً - فَذَمَّهَا رِجَالٌ غَدَاةَ النَّدَامَةِ - وحَمِدَهَا آخَرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ - ذَكَّرَتْهُمُ الدُّنْيَا فَتَذَكَّرُوا وحَدَّثَتْهُمْ فَصَدَّقُوا - ووَعَظَتْهُمْ فَاتَّعَظُوا.

اس صورت حال میں دنیا نے تم کو اپنی حقیقت دکھلادی تھی اور تمہیں تمہاری ہلاکت سے آگاہ کردیا تھا(لیکن تمہیں ہوش نہ آیا) یاد رکھو کہ دنیا باورکرنے والے کے لئے سچائی کا گھر ہے اورسمجھ دار کے لئے امن و عافیت کی منزل ہے اور نصیحت حاصل کرنے والے کے لئے نصیحت کامقام ہے۔یہ دوستان(۱) خدا کے سجود کی منزل اور ملائکہ آسمان کا مصلیٰ ہے یہیں وحی الٰہی کا نزول ہوتا ہے اور یہیں اولیاء خداآخرت کا سودا کرتے ہیں جس کے ذریعہ رحمت کو حاصل کر لیتے ہیں اور جنت کو فائدہ میں لے لیتے ہیں۔کسے حق ہے کہ اس کی مذمت کرے جب کہ اس نے اپنی جداء یکا اعلان کردیا ہے اور اپنے فراق کی آواز لگادی ہے اور اپنے رہنے والوں کی سنانی سنادی ہے اپنی بلاء سے ان کے ابتاء کا نقشہ پیش کیا ہے اور اپنے سرورسے آخرت کے سرور کی دعوت دی ہے۔اس کی شام عافیت میں ہوتی ہے تو صبح مصیبت میں ہوتی ہے تاکہ انسان میں رغبت بھی پیدا ہو اورخوف بھی۔اسے آگاہ بھی کردے اور ہوشیار بھی بنادے۔کچھ لوگندامت کی صبح اس کی مذمت کرتے ہیں اور کچھ لوگ قیامت کے روز اس کی تعریف کریں گے جنہیں دنیا نے نصیحت کی تو انہوںنے اسے قبول کرلیا۔اسنے حقائق بیان کئے تو اس کی تصدیق کردی اورموعظہ کیا تواس کے موعظہ سے اثر لیا۔

(۱)بھلا اس سر زمین کو کون برا کہہ سکتا ہے جس پر ملائکہ کا نزول ہوتا ہے۔اولیاء خدا سجدہ کرتے ہیںخاصان خدا زندگی گزارتے ہیں اورنیک بندے اپنی عاقبت بنانے کا سامان کرتے ہیں۔یہ سر زمین بہترین سرزمین ہے اور یہ علاقہ مفید ترین علاقہ ہے مگر صرف ان لوگوں کے لئے جو اس کا وہی مصرف قرار دیں جوخاصان خدا قرار دیتے ہیں اور اس سے اسی طرح عاقبت سنوارنے کا کام لیں جس طرح اورلیاء خدا کام لیتے ہیں۔ورنہ اس کے بغیر یہ دنیا بلاء ہے بلائ۔اوراس کا انجام تباہی اور بربادی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

۶۶۷

۱۳۲ - وقَالَعليه‌السلام إِنَّ لِلَّه مَلَكاً يُنَادِي فِي كُلِّ يَوْمٍ - لِدُوا لِلْمَوْتِ واجْمَعُوا لِلْفَنَاءِ وابْنُوا لِلْخَرَابِ.

۱۳۳ - وقَالَعليه‌السلام الدُّنْيَا دَارُ مَمَرٍّ لَا دَارُ مَقَرٍّ والنَّاسُ فِيهَا رَجُلَانِ - رَجُلٌ بَاعَ فِيهَا نَفْسَه فَأَوْبَقَهَا ورَجُلٌ ابْتَاعَ نَفْسَه فَأَعْتَقَهَا.

۱۳۴ - وقَالَعليه‌السلام لَا يَكُونُ الصَّدِيقُ صَدِيقاً حَتَّى يَحْفَظَ أَخَاه فِي ثَلَاثٍ - فِي نَكْبَتِه وغَيْبَتِه ووَفَاتِه.

(۱۳۲)

پروردگار کی طرف سے ایک ملک معین ہے جو ہر روز آواز دیتا ہے کہ ایہا لناس ! پیدا کرو تو مرنے کے لئے جمع کرو تو فنا ہونے کے لئے اور تعمیر کرو تو خراب ہونے کے لئے ( یعنی آخری انجام کو نگاہ میں رکھو)

(۱۳۳)

دنیا ایک گزر گاہ ہے ۔منزل نہیں ہے اس میں لوگ دو طرح کے ہیں ۔ایک وہ شخص ہے جس نے اپنے نفس کو بیچ ڈالا اور ہلاک کردیا اورایک وہ ہے جس نے خرید لیا اورآزاد کردیا۔

(۱۳۴)

دوست اس وقت تک دوست نہیں ہو سکتا ہے جب تک اپنے دوست کے تین مواقع پر کام نہ آئے ۔

مصیبت کے موقع پر۔اس کی غیبت میں۔اور مرنے کے بعد۔

۶۶۸

۱۳۵ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ أُعْطِيَ أَرْبَعاً لَمْ يُحْرَمْ أَرْبَعاً - مَنْ أُعْطِيَ الدُّعَاءَ لَمْ يُحْرَمِ الإِجَابَةَ - ومَنْ أُعْطِيَ التَّوْبَةَ لَمْ يُحْرَمِ الْقَبُولَ - ومَنْ أُعْطِيَ الِاسْتِغْفَارَ لَمْ يُحْرَمِ الْمَغْفِرَةَ - ومَنْ أُعْطِيَ الشُّكْرَ لَمْ يُحْرَمِ الزِّيَادَةَ.

قال الرضي - وتصديق ذلك كتاب الله - قال الله في الدعاء( ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ) - وقال في الاستغفار( ومَنْ يَعْمَلْ سُوءاً أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَه - ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ الله يَجِدِ الله غَفُوراً رَحِيماً ) - وقال في الشكر( لَئِنْ شَكَرْتُمْ لأَزِيدَنَّكُمْ ) - وقال في التوبة -( إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى الله لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهالَةٍ - ثُمَّ يَتُوبُونَ مِنْ قَرِيبٍ فَأُولئِكَ يَتُوبُ الله عَلَيْهِمْ - وكانَ الله عَلِيماً حَكِيماً ) .

۱۳۶ - وقَالَعليه‌السلام الصَّلَاةُ قُرْبَانُ كُلِّ تَقِيٍّ - والْحَجُّ جِهَادُ كُلِّ ضَعِيفٍ - ولِكُلِّ شَيْءٍ زَكَاةٌ

(۱۳۵)

جسے چار چیزیں دیدی گئیں وہ چار سے محروم نہیں رہ سکتا ہے۔جسے دعا کی توفیق مل گئی وہ قبولیت سے محروم نہ ہوگا اور جسے توبہ کی توفیق حاصل ہوگئی وہ قبولیت سے محروم نہ ہوگا۔استغفار حاصل کرنے والا مغفرت سے محروم نہ ہوگا اور شکر کرنے والا اضافہ سے محروم نہ ہوگا۔

سید رضی : اس ارشاد گرامی کی تصدیق آیات قرآنی سے ہوتی ہے کہ پروردگار نے دعا کے بارے میں فرمایا '' مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔اور استغفار کے بارے میں فرمایا ہے '' جو برائی کرنے کے بعد یا اپنے نفس پر ظلم کرنے کے بعد خداسے توبہ کرلے گا وہ اسے غفورورحیم پائے گا ''

شکر کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے '' اگر تم شکریہ ادا کرو گے تو ہم نعمتوں میں اضافہ کردیں گے '' اورتوبہ کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے '' توبہ ان لوگوں کے لئے جو جہالت کی بناپرگناہ کرتے ہیں اور پھر فوراً توبہ کر لیتے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جن کی توبہ کو اللہ قبول کرلیتا ہے اوروہ ہر ایک کی نیت سے با خبر بھی ہے اور صاحب حکمت بھی ہے ''

(۱۳۶)

نماز متقی کے لئے وسیلہ تقرب ہے اورحج ہر کمزور کے لئے جہاد ہے۔ہر شے کی ایک زکوٰة ہوتی ہے

۶۶۹

وزَكَاةُ الْبَدَنِ الصِّيَامُ - وجِهَادُ الْمَرْأَةِ حُسْنُ التَّبَعُّلِ

۱۳۷ - وقَالَعليه‌السلام اسْتَنْزِلُوا الرِّزْقَ بِالصَّدَقَةِ.

۱۳۸ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ أَيْقَنَ بِالْخَلَفِ جَادَ بِالْعَطِيَّةِ.

۱۳۹ - وقَالَعليه‌السلام تَنْزِلُ الْمَعُونَةُ عَلَى قَدْرِ الْمَئُونَةِ.

۱۴۰ - وقَالَعليه‌السلام مَا عَالَ مَنِ اقْتَصَدَ.

۱۴۱ - وقَالَعليه‌السلام قِلَّةُ الْعِيَالِ أَحَدُ الْيَسَارَيْنِ.

اور بدن کی زکوٰة روزہ ہے۔عورت کا جہاد شوہر کے ساتھ بہترین برتائو(۱) ہے۔

(۱۳۷)

روزی کے نزول کا انتظام صدقہ کے ذریعہ سے کرو۔

(۱۳۸)

جسے معاوضہ کا یقین ہوتاہے وہ عطاء میں دریا دلی سے کام لیتا ہے ۔

(۱۳۹)

خدا ئی امداد کا نزول بقدرخرچ ہوتا ہے ( ذخیرہ انوزی اورفضول خرچی کے لئے نہیں )

(۱۴۰)

جو میانہ روی سے کام لے گاہ وہ محتاج نہ ہوگا۔

(۱۴۱)

متعلقین کی کمی(۲) بھی ایک طرح کی آسودگی ہے۔

(۱)اس بہترین برتائو میں اطاعت 'عفت 'تدبیرمنزل ' قناعت ' عدم مطالبات ' غیرتو حیا اور طلب رضا جیسی تمام چیزیں شامل ہیں جن کے بغیر ازدواجی زندگی خوشگوار نہیں ہو سکتی ہے۔اور دن بھر زحمت برداشت کرکینقہ فراہم کرنے والا شوہر آسودہ مطمئن نہیں ہو سکتا ہے۔

(۲)اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تنظیم حیات ایک عقلی فریضہ ہے اور ہر مسئلہ کوصرف توکل بخدا کے حوالہ نہیںکیا جا سکتا ہے۔اسلام نے ازدواجی ' کثرت نسل پر زور دیا ہے۔لیکن دامن دیکھ کر پیر پھیلانے کا شعور بھیدیا ہے لہٰذا انسان کیذمہ داری ہے کہ ان دونوں کے درمیان سے راستہ نکالے اور اس امر کے لئے آمادہ رہے کہ کثرت متعلقین سے پریشانی ضرور پیدا ہوگی اور پھرپریشانی کی شکایت اورفریاد نہ کرے ۔

۶۷۰

۱۴۲ - وقَالَعليه‌السلام التَّوَدُّدُ نِصْفُ الْعَقْلِ.

۱۴۳ - وقَالَعليه‌السلام الْهَمُّ نِصْفُ الْهَرَمِ.

۱۴۴ - وقَالَعليه‌السلام يَنْزِلُ الصَّبْرُ عَلَى قَدْرِ الْمُصِيبَةِ - ومَنْ ضَرَبَ يَدَه عَلَى فَخِذِه عِنْدَ مُصِيبَتِه حَبِطَ عَمَلُه.

۱۴۵ - وقَالَعليه‌السلام كَمْ مِنْ صَائِمٍ لَيْسَ لَه مِنْ صِيَامِه إِلَّا الْجُوعُ والظَّمَأُ - وكَمْ مِنْ قَائِمٍ لَيْسَ لَه مِنْ قِيَامِه إِلَّا السَّهَرُ والْعَنَاءُ - حَبَّذَا نَوْمُ الأَكْيَاسِ وإِفْطَارُهُمْ.

۱۴۶ - وقَالَعليه‌السلام سُوسُوا إِيمَانَكُمْ بِالصَّدَقَةِ وحَصِّنُوا أَمْوَالَكُمْ بِالزَّكَاةِ - وادْفَعُوا أَمْوَاجَ الْبَلَاءِ بِالدُّعَاءِ.

(۱۴۲)

میل محبت پیدا کرنا عقل کا نصف حصہ ہے۔

(۱۴۳)

ہم و غم خودبھی آدھا بڑھاپا ہے۔

(۱۴۴)

صبر بقدر مصیبت نازل ہوتا ہے اور جس نے مصیبت کے موقع پر ران پر ہاتھ مارا۔گویا کہ اپنے عمل اور اجر کو برباد کردیا (ہنر صبر ہے ہنگامہ نہیں ہے۔لیکن یہ سب اپنی ذاتی مصیبت کے لئے ہے )

(۱۴۵)

کتنے روزہ دار ہیں جنہیں روزہ سے بھوک اورپیاس کے علاوہ کچھ نہیں حاصل ہوتا ہے اور کتنے عابد شب زندہ دار ہیں جنہیں اپنے قیام سے شب بیداری اورمشقت کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ ہوشمند(۱) ا نسان کا سونا اور کھانابھی قابل تعریف ہوتا ہے۔

(۱۴۶)

اپنے ایمان کی نگہداشت(۲) صدقہ سے کرو اور اپنے اموال کی حفاظت زکوٰة سے کرو۔بلائوں کے تلاطم کودعائوں سے ٹال دو۔

(۱)مقصد یہ ہے کہ انسان عبادت کو بطور رسم و عادت انجام نہ دے بلکہ جذبہ اطاعت و بندگی کے تحت انجام دے تاکہ واقعاً بندۂ پروردگار کہے جانے کے قابل ہو جائے ورنہ شعور بندگی سے الگ ہو جانے کے بعد بندگی بے ارزش ہو کر رہ جاتی ہے۔

(۲)صدقہ اس بات کی علامت ہے کہ انسان کو وعدہ ٔ الٰہی پراعتبار ہے اوروہ یہ یقین رکھتا ہے کہ جو کچھ اس کی راہ میں دے دیا ہے وہ ضائع ہونے والا نہیں ہے بلکہ دس گنا ۔سو گناہ ۔ہزار گنا ہوکر واپس آنے والا ہے اور یہی کمال ایمان کی علامت ہے ۔

۶۷۱

۱۴۷ - ومِنْ كَلَامٍ لَهعليه‌السلام

لِكُمَيْلِ بْنِ زِيَادٍ النَّخَعِيِّ قَالَ كُمَيْلُ بْنُ زِيَادٍ - أَخَذَ بِيَدِي أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍعليه‌السلام - فَأَخْرَجَنِي إِلَى الْجَبَّانِ فَلَمَّا أَصْحَرَ تَنَفَّسَ الصُّعَدَاءَ - ثُمَّ قَالَ:

يَا كُمَيْلَ بْنَ زِيَادٍ - إِنَّ هَذِه الْقُلُوبَ أَوْعِيَةٌ فَخَيْرُهَا أَوْعَاهَا - فَاحْفَظْ عَنِّي مَا أَقُولُ لَكَ: النَّاسُ ثَلَاثَةٌ - فَعَالِمٌ رَبَّانِيٌّ ومُتَعَلِّمٌ عَلَى سَبِيلِ نَجَاةٍ - وهَمَجٌ رَعَاعٌ أَتْبَاعُ كُلِّ نَاعِقٍ يَمِيلُونَ مَعَ كُلِّ رِيحٍ - لَمْ يَسْتَضِيئُوا بِنُورِ الْعِلْمِ ولَمْ يَلْجَئُوا إِلَى رُكْنٍ وَثِيقٍ.

يَا كُمَيْلُ الْعِلْمُ خَيْرٌ مِنَ الْمَالِ - الْعِلْمُ يَحْرُسُكَ وأَنْتَ تَحْرُسُ الْمَالَ - والْمَالُ تَنْقُصُه النَّفَقَةُ والْعِلْمُ يَزْكُوا عَلَى الإِنْفَاقِ - وصَنِيعُ الْمَالِ يَزُولُ بِزَوَالِه.

يَا كُمَيْلَ بْنَ زِيَادٍ مَعْرِفَةُ الْعِلْمِ دِينٌ يُدَانُ بِه - بِه يَكْسِبُ الإِنْسَانُ الطَّاعَةَ فِي حَيَاتِه - وجَمِيلَ الأُحْدُوثَةِ بَعْدَ وَفَاتِه - والْعِلْمُ حَاكِمٌ والْمَالُ مَحْكُومٌ عَلَيْه.

يَا كُمَيْلُ هَلَكَ خُزَّانُ الأَمْوَالِ وهُمْ أَحْيَاءٌ -

(۱۴۷)

آپ کا ارشاد گرامی جناب کمیل بن زیاد نخعی سے کمیل کہتے ہیں کہ امیر المومنین میرا ہاتھ پکڑ کر قبرستان کی طرف لے گئے اور جب آبادی سے باہرنکل گئے تو ایک لمبی آہ کھینچ کرفرمایا: ۔ اے کمیل بن زیاد!دیکھو یہ دل ایک طرح کے ظرف ہیں لہٰذا سب سے بہتر وہ دل ہے جو سب سے زیادہ حکمتوں کو محفوظکرسکے اب تم مجھ سے ان باتوں کو محفوظ کرلو۔لوگ تین طرح کے ہوتے ہیں : خدا رسیدہ عالم۔راہ نجات پر چلنے والا طالب علم اورعوام الناس کا وہ گروہ جو ہر آوازکے پیچھے چل پڑتا ہے اور ہر ہوا ک ساتھ لہرانے لگتا ہے۔اسنے نہ نور کی روشنی حاصل کی ہے اور نہ کسی مستحکم ستون کاس ہارا لیا ہے۔

اے کمیل !دیکھو علم مال(۱) سے بہرحال بہتر ہوتا ہے کہ علم خود تمہاری حفاظت کرتا ہے اورمال کی حفاظت تمہیں کرنا پڑتی ہے مال خرچ کرنے سے کم ہو جاتا ہے اور علم خرچ کرنے سے بڑھ جاتا ہے۔پھر مال کے نتائج و اثرات بھی اس کے فناہونے کے ساتھ ہی فنا ہو جاتے ہیں۔

اے کمیل بن زیاد! علم کی معرفت ایک دین ہے جس کی اقتدا کی جاتی ہے اور اسی کے ذریعہ انسان زندگی میں اطاعت حاصل کرتا ہے اور مرنے کے بعد ذکرجمیل فراہم کرتا ہے۔علم حاکم ہوتا ہے اورمال محکوم ہوتا ہے۔ کمیل دیکھو مال کاذخیرہ کرنے والے جیتے جی ہلاک ہوگئے اور صاحبان علم

(۱)علم و مال کے مراتب کے بارے میں یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ مال کی پیداوار بھی علم کا نتیجہ ہوتی ہے ورنہ ریگستانی علاقوں میں ہزاروں سال سے پٹرول کے خزانے موجود تھے اور انسان سے بالکل بے خبر تھا۔اس کے بعد جیسے ہی علم نے میدان انکشافات میں قدم رکھا' برسوں کے فقیر امیر ہوگئے اورصدیوں کے فاقہ کش صاحب مال و دولت شمار ہونے لگے۔

۶۷۲

والْعُلَمَاءُ بَاقُونَ مَا بَقِيَ الدَّهْرُ - أَعْيَانُهُمْ مَفْقُودَةٌ وأَمْثَالُهُمْ فِي الْقُلُوبِ مَوْجُودَةٌ - هَا إِنَّ هَاهُنَا لَعِلْماً جَمّاً وأَشَارَ بِيَدِه إِلَى صَدْرِه لَوْ أَصَبْتُ لَه حَمَلَةً - بَلَى أَصَبْتُ لَقِناً غَيْرَ مَأْمُونٍ عَلَيْه - مُسْتَعْمِلًا آلَةَ الدِّينِ لِلدُّنْيَا - ومُسْتَظْهِراً بِنِعَمِ اللَّه عَلَى عِبَادِه وبِحُجَجِه عَلَى أَوْلِيَائِه - أَوْ مُنْقَاداً لِحَمَلَةِ الْحَقِّ لَا بَصِيرَةَ لَه فِي أَحْنَائِه - يَنْقَدِحُ الشَّكُّ فِي قَلْبِه لأَوَّلِ عَارِضٍ مِنْ شُبْهَةٍ - أَلَا لَا ذَا ولَا ذَاكَ - أَوْ مَنْهُوماً بِاللَّذَّةِ سَلِسَ الْقِيَادِ لِلشَّهْوَةِ - أَوْ مُغْرَماً بِالْجَمْعِ والِادِّخَارِ ،- لَيْسَا مِنْ رُعَاةِ الدِّينِ فِي شَيْءٍ - أَقْرَبُ شَيْءٍ شَبَهاً بِهِمَا الأَنْعَامُ السَّائِمَةُ - كَذَلِكَ يَمُوتُ الْعِلْمُ بِمَوْتِ حَامِلِيه.

اللَّهُمَّ بَلَى لَا تَخْلُو الأَرْضُ مِنْ قَائِمٍ لِلَّه بِحُجَّةٍ - إِمَّا ظَاهِراً مَشْهُوراً وإِمَّا خَائِفاً مَغْمُوراً - لِئَلَّا تَبْطُلَ حُجَجُ اللَّه وبَيِّنَاتُه - وكَمْ ذَا وأَيْنَ أُولَئِكَ

زمانہ کی بقا کے ساتھ رہنے والے ہیں۔ان کے اجسام نظروں سے اوجھل ہوگئے ہیں لیکن ان کی صورتیں دلوں پر نقش ہیں۔دیکھو اس سینہ میں علم کا ایک خزانہ ہے۔کاش مجھے اس کے اٹھانے والے مل جاتے ۔ہاںملے بھی تو بعض ایسے ذہین جو قابل اعتبار نہیں ہیں اور دین کو دنیا کا آلہ کاربناکراستعمال کرنے والے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کے ذریعہ اس کے بندوں اور اس کی محبتوں کے ذریعہ اس کے اولیاء پر برتری جتلانے والے ہیں یا حاملان حق کے اطاعت گذار تو ہیں لیکن ان کے پہلو میں بصیرت نہیں ہے اور ادنیٰ شبہ میں بھی شک کاشکار ہو جاتے ہیں۔یاد رکھو کہ یہ یہ کام آنے والے ہیں اور نہ وہ۔اس کے بعد ایک قسم ان لوگوں کی ہے جو لذتوں کے دلدادہ اورخواہشات کے لئے اپنی لگام ڈھلی کر دینے والے ہیں یا صری مال جمع کرنے اور ذخیرہ اندوزی کرنے کے دلدادہ ہیں۔یہ دونوں بھی دین کے قطعاً محافظ نہیں ہیں اور ان سے قریب ترین شباہت رکھنے والے چرنے والے جانور ہوتے ہیں اور اس طرح علم حاملان علم کے ساتھ مرجاتا ہے۔لیکن۔اس کے بعد بھی زمین ایسے شخص سے خالی نہیں ہوتی ہے جو حجت(۱) خدا کے ساتھ قیام کرتا ہے چاہے وہ ظاہر اور مشہور ہو یا خائف اور پوشیدہ۔تاکہ پروردگار کی دلیلیں اور اس کی نشانیاں مٹنے نہ پائیں۔لیکن یہ ہیں ہی کتنے اور کہاں ہیں ؟

(۱)یہ صحیح ہے کہ ہر صفت اس کے حامل کے فوت ہو جانے سے ختم ہو جاتی ہے اور علم بھی حاملان علم کی موت سے مر جاتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اس دنیا میں کوئی دور ایسا بھی آتا ہے جب تمام اہل علم مر جائیں اور علم کا فقدان ہو جائے۔اس لئے کہ ایسا ہوگیا تواتمام حجت کاکوئی راستہ نہ رہ جائے گا اور اتمام حجت بہر حال ایک اہم اور ضروری مسئلہ ہے لہٰذا ہر دور میں ایک حجت خدا کا رہنا ضروری ہے چاہے ظاہر بظاہر منظر عام پر ہو یا پردہ ٔ غیبت میں ہو کہ اتمام حجت کے لئے اس کاوجود ہی کافی ہے۔اس کے ظہورکی شرط نہیں ہے

۶۷۳

أُولَئِكَ واللَّه الأَقَلُّونَ عَدَداً - والأَعْظَمُونَ عِنْدَ اللَّه قَدْراً - يَحْفَظُ اللَّه بِهِمْ حُجَجَه وبَيِّنَاتِه حَتَّى يُودِعُوهَا نُظَرَاءَهُمْ - ويَزْرَعُوهَا فِي قُلُوبِ أَشْبَاهِهِمْ - هَجَمَ بِهِمُ الْعِلْمُ عَلَى حَقِيقَةِ الْبَصِيرَةِ - وبَاشَرُوا رُوحَ الْيَقِينِ واسْتَلَانُوا مَا اسْتَوْعَرَه الْمُتْرَفُونَ - وأَنِسُوا بِمَا اسْتَوْحَشَ مِنْه الْجَاهِلُونَ - وصَحِبُوا الدُّنْيَا بِأَبْدَانٍ أَرْوَاحُهَا مُعَلَّقَةٌ بِالْمَحَلِّ الأَعْلَى - أُولَئِكَ خُلَفَاءُ اللَّه فِي أَرْضِه والدُّعَاةُ إِلَى دِينِه - آه آه شَوْقاً إِلَى رُؤْيَتِهِمْ - انْصَرِفْ يَا كُمَيْلُ إِذَا شِئْتَ.

۱۴۸ - وقَالَعليه‌السلام الْمَرْءُ مَخْبُوءٌ تَحْتَ لِسَانِه.

۱۴۹ - وقَالَعليه‌السلام هَلَكَ امْرُؤٌ لَمْ يَعْرِفْ قَدْرَه.

۱۵۰ - وقَالَعليه‌السلام لِرَجُلٍ سَأَلَه أَنْ يَعِظَه:

لَا تَكُنْ مِمَّنْ يَرْجُو الآخِرَةَ

واللہ ان کے عدد بہت کم ہیں لیکن ان کی قدرو منزلت بہت عظیم ہے۔اللہ انہیں کے ذریعہ اپنے دلائل و بینات کی حفاظت کرتا ہے تاکہ وہ اپنے ہی جیسے افراد کے حوالے کردیں اور اپنے امثال کے دلوں میں بودیں۔انہیں علم نے بصیرت کی حقیقت تک پہنچا دیا ہے اور یہ یقین کی روح کے ساتھ گھل مل گئے ہیں۔انہوں نے ان چیزوں کو آسان بنالیا ہے جنہیں راحت پسندوں نے مشکل بنا رکھاتھا اوران چیزوں سے انس حاصل کیا ہے جن سے جاہل وحشت زدہ تھے اور اس دنیا میں ان اجسام کے ساتھ رہے ہیں جن کے روحیں ملاء اعلیٰ سے وابستہ ہیں۔یہی روئے زمین پر اللہ کے خلیفہ اور اس کے دین کے داعی ہیں۔ہائے مجھے ان کے دیدار کا کس قدر اشتیاق ہے۔

کمیل (میری بات تمام ہوچکی ) اب تم جا سکتے ہو۔

(۱۴۸)

انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا رہتا ہے۔

(۱۴۹)

جس شخص نے اپنی قدرو منزلت کو نہیں پہچانا وہ ہلاک ہوگیا۔

(۱۵۰)

ایک شخص نےآپ سےموعظہ کا تقاضا کیا تو فرمایا '' ان لوگوں میں نہ ہوجانا جو عمل(۱) کے بغیرآخرت کی

(۱)مولائے کائنات کے اس ارشاد گرامی کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد اگر دورحاضر کے مومنین کرام ' واعظین محترم ' خطباء شعلہ نوا۔شعراء طوفان افزا۔سربراہان ملت قائدین قوم کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہمارے دور کے حالات کا نقشہ کھینچ رہے ہیں اور ہمارے سامنے کردار کا ایک آئینہ رکھ رہے ہیں جس میں ہرشخص اپنی شکل دیکھ سکتا ہے اور اپنے حال زار سے عبرت حاصل کرسکتا ہے۔

۶۷۴

بِغَيْرِ عَمَلٍ - ويُرَجِّي التَّوْبَةَ بِطُولِ الأَمَلِ - يَقُولُ فِي الدُّنْيَا بِقَوْلِ الزَّاهِدِينَ - ويَعْمَلُ فِيهَا بِعَمَلِ الرَّاغِبِينَ،إِنْ أُعْطِيَ مِنْهَا لَمْ يَشْبَعْ وإِنْ مُنِعَ مِنْهَا لَمْ يَقْنَعْ - يَعْجِزُ عَنْ شُكْرِ مَا أُوتِيَ ويَبْتَغِي الزِّيَادَةَ فِيمَا بَقِيَ - يَنْهَى ولَا يَنْتَهِي ويَأْمُرُ بِمَا لَا يَأْتِي - يُحِبُّ الصَّالِحِينَ ولَا يَعْمَلُ عَمَلَهُمْ - ويُبْغِضُ الْمُذْنِبِينَ وهُوَ أَحَدُهُمْ - يَكْرَه الْمَوْتَ لِكَثْرَةِ ذُنُوبِه - ويُقِيمُ عَلَى مَا يَكْرَه الْمَوْتَ مِنْ أَجْلِه - إِنْ سَقِمَ ظَلَّ نَادِماً وإِنْ صَحَّ أَمِنَ لَاهِياً - يُعْجَبُ بِنَفْسِه إِذَا عُوفِيَ ويَقْنَطُ إِذَا ابْتُلِيَ - إِنْ أَصَابَه بَلَاءٌ دَعَا مُضْطَرّاً وإِنْ نَالَه رَخَاءٌ أَعْرَضَ مُغْتَرّاً - تَغْلِبُه نَفْسُه عَلَى مَا يَظُنُّ ولَا يَغْلِبُهَا عَلَى مَا يَسْتَيْقِنُ - يَخَافُ عَلَى غَيْرِه بِأَدْنَى مِنْ ذَنْبِه - ويَرْجُو لِنَفْسِه بِأَكْثَرَ مِنْ عَمَلِه - إِنِ اسْتَغْنَى بَطِرَ وفُتِنَ وإِنِ افْتَقَرَ قَنِطَ

امید رکھتے ہیں اور طولانی امیدوں کی بنا پر توبہ کو ٹال دیتے ہیں۔دنیا میں باتیں زاہدوں جیسی کرتے ہیں اور کام راغبوں جیسا انجام دیتے ہیں۔کچھ مل جاتا ہے توسیر نہیں ہوتے ہیں اورنہیں ملتا ہے توقناعت نہیں کرتے ہیں۔جودے دیا گیا ہے اس کے شکریہ سے عاجز ہیں لیکن مستقبل میں زیادہ کے طلب گار ضرور ہیں۔لوگوں کو منع کرتے ہیں لیکن خود نہیں رکتے ہیں۔اور ان چیزوں کا حکم دیتے ہیں جو خود نہیں کرتے ہیں۔نیک کرداروں سے محبت کرتے ہیں لیکن ان کا جیسا عمل نہیں کرتے ہیں اور گناہگاروں سے بیزار رہتے ہیں لیکن خود بھی انہیں میں سے ہوتے ہیں۔گناہوں کی کثرت کی بنا پر موت کو نا پسند کرتے ہیں اور پھر ایسے ہی اعمال پر قائم بھی رہتے ہیں جن سے موت نا گوار ہو جات یہے۔بیمار ہوتے ہیں تو گناہوں پر پشیمان ہو جاتے ہیں اور صحت مند ہوتے ہیں تو پھر لہوولعب میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔بیماریوں سے نجات مل جاتی ہے تو اکڑ نے لگتے ہیں اور آزمائش میں پڑ جاتے ہیں تو مایوس ہو جاتے ہیں۔کوئی بلا نازل ہو جاتی ہے تو بشکل مضطر دعاکرتے ہیں اور سہولت وآسانی فراہم ہو جاتی ہے تو فریب خوردہ ہو کر منہ پھیر لیتے ہیں ۔ان کا نفس انہیں خیالی باتوں پرآمادہ کر لیتا ہے لیکن وہ یقینی باتوں میں اس پر قابو نہیں پا سکتے ہیں۔دوسروں کے بارے میں اپنے سے چھوٹے گناہ سے بھی خوفزدہ رہتے ہیں اور اپنے لئے اعمال سے زیادہ جزا کے امیدوار رہتے ہیں۔مالدار ہو جاتے ہیں تو مغرور و مبتلائے فتنہ ہو جاتے ہیں اور غربت زدہ ہو جتے ہیں تو مایوس

۶۷۵

ووَهَنَ - يُقَصِّرُ إِذَا عَمِلَ ويُبَالِغُ إِذَا سَأَلَ - إِنْ عَرَضَتْ لَه شَهْوَةٌ أَسْلَفَ الْمَعْصِيَةَ وسَوَّفَ التَّوْبَةَ - وإِنْ عَرَتْه مِحْنَةٌ انْفَرَجَ عَنْ شَرَائِطِ الْمِلَّةِ - يَصِفُ الْعِبْرَةَ ولَا يَعْتَبِرُ - ويُبَالِغُ فِي الْمَوْعِظَةِ ولَا يَتَّعِظُ - فَهُوَ بِالْقَوْلِ مُدِلٌّ ومِنَ الْعَمَلِ مُقِلٌّ - يُنَافِسُ فِيمَا يَفْنَى ويُسَامِحُ فِيمَا يَبْقَى - يَرَى الْغُنْمَ مَغْرَماً والْغُرْمَ مَغْنَماً - يَخْشَى الْمَوْتَ ولَا يُبَادِرُ الْفَوْتَ - يَسْتَعْظِمُ مِنْ مَعْصِيَةِ غَيْرِه مَا يَسْتَقِلُّ أَكْثَرَ مِنْه مِنْ نَفْسِه - ويَسْتَكْثِرُ مِنْ طَاعَتِه مَا يَحْقِرُه مِنْ طَاعَةِ غَيْرِه - فَهُوَ عَلَى النَّاسِ طَاعِنٌ ولِنَفْسِه مُدَاهِنٌ - اللَّهْوُ مَعَ الأَغْنِيَاءِ أَحَبُّ إِلَيْه مِنَ الذِّكْرِ مَعَ الْفُقَرَاءِ

اور سست ہو جاتے ہیں ۔عمل میں کوتاہی کرتے ہیں اور سوال میں مبالغہ کرتے ہیں خواہش نفس سامنے آجاتی ہے تو معصیت فوراً کر لیتے ہیں اور توبہ کو ٹال دیتے ہیں ۔کوئی مصیبت لاحق ہو جاتی ہے تواسلامی جماعت سے الگ ہو جاتے ہیں ۔عبرت ناک واقعات بیان کرتے ہیں لیکن خود عبرت حاصل نہیں کرتے ہیں ۔موعظہ میں مبالغہ سے کام لیتے ہیں لیکن خود نصیحت نہیں حاصل کرتے ہیں ۔قول میں ہمیشہ اونچے رہتے ہیں اور عمل میں ہمیشہ کمزور رہتے ہیں فنا ہونے والی چیزوں میں مقابلہ کرتے ہیں اور باقی رہ جانے والی چیزوں میں سہل انگاری سے کام لیتے ہیں۔واقعی فائدہ کو نقصان سمجھتے ہیں اور حقیقی نقصان کوف ائدہ تصور کرتے ہیں۔موت سے ڈرتے ہیں لیکن وقت نک جانے سے پہلے عمل کی طرف سبقت نہیں کرتے ہیں۔دوسروں کی اس معصیت کوبھی عظیم تصور کرتے ہیں جس سے بڑی معصیت کو اپنے لئے معمولی تصور کرتے ہیں اور اپنی معمولی اطاعت کو بھی کثیر شمار کرتے ہیں جب کہ دوسرے کی کثیر اطاعت کو بھی حقیر ہی سمجھتے ہیں ۔ لوگوں پر طعنہ زن رہتے ہیں اور اپنے معاملہ میں نرم و نازک رہتے ہیں۔مالداروں کے ساتھ لہوولعب(۱) کو فقیروں کے ساتھ بیٹھ کر ذکر خداسے زیادہ دوست رکھتے

(۱)دورحاضر کا عظیم ترین عیار زندگی یہی ہے اور ہرشخص ایسی ہی زندگی کے لئے بے چین نظر آتا ہے۔کافی ہائوس ' نائٹ کلب اوردیگر لغویات کے مقامات پر سرمایہ داروں کی مصاحبت کے لئے ہر متوسط طبقہ کاآدمی مرا جارہا ہے اور کسی کو یہ شوق نہیں پیدا ہوتا ہے کہ چند لمحہ خانہ خدا میں بیٹھ کر فقیروں کے ساتھ مالک کی بارگاہ میں مناجات کرکے اور یہ احساس کرے کہ اس کی بارگاہ میں سب فقیر ہیں اور یہ دولت و امارت صرف چند روزہ تماشہ ے ورنہ انسان خالی ہاتھ آیا ہے اورخالی ہاتھ ہی جانے والا ہے۔دولت عاقبت بنانے کاذریعہ تھی اگر اسے بھی عاقبت کی بربادی کی اہ پر لگادیا تو آخرت میں حسرت و فاسوس کے علاوہ کچھ ہاتھ آنے والا نہیں ہے۔

۶۷۶

يَحْكُمُ عَلَى غَيْرِه لِنَفْسِه،ولَا يَحْكُمُ عَلَيْهَا لِغَيْرِه - يُرْشِدُ غَيْرَه ويُغْوِي نَفْسَه - فَهُوَ يُطَاعُ ويَعْصِي ويَسْتَوْفِي ولَا يُوفِي - ويَخْشَى الْخَلْقَ. فِي غَيْرِ رَبِّه ولَا يَخْشَى رَبَّه فِي خَلْقِه.

قال الرضي - ولو لم يكن في هذا الكتاب إلا هذا الكلام - لكفى به موعظة ناجعة وحكمة بالغة - وبصيرة لمبصر وعبرة لناظر مفكر.

۱۵۱ - وقَالَعليه‌السلام لِكُلِّ امْرِئٍ عَاقِبَةٌ حُلْوَةٌ أَوْ مُرَّةٌ.

۱۵۲ - وقَالَعليه‌السلام لِكُلِّ مُقْبِلٍ إِدْبَارٌ ومَا أَدْبَرَ كَأَنْ لَمْ يَكُنْ.

۱۵۳ - وقَالَعليه‌السلام لَا يَعْدَمُ الصَّبُورُ الظَّفَرَ وإِنْ طَالَ بِه الزَّمَانُ.

ہیں۔اپنے حق میں دوسروں کے خلاف فیصلہ کردیتے ہیں اور دوسروں کے حق میں اپنے خلاف فیصلہ نہیں کر سکتے ہیں۔دوسروں کو ہدایت دیتے ہیں اور اپنے نفس کو گمراہ کرتے ہیں۔خود ان کی اطاعت کی جاتی ہے اور یہخود معصیت کرتے رہتے ہیں اپنے حق کو پورا پورا لے لیتے ہیں اور دوسروں کے حق کوادا نہیں کرتے ہیں۔پروردگار کوچھوڑ کر مخلوقات سے خوف کھاتے ہیں اور مخلوقات کے بارے میں پروردگار سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔

سید رضی : اگر اس کتاب میں اس کلام کے علاوہ کوئی دوسری نصیحت نہ بھی ہوتی تو یہی کلام کامیاب موعظت ' بلیغ حکمت اور صاحبان بصیرت کی بصیرت اور صاحبان فکرو نظر کی عبرت کے لئے کافی تھا۔

(۱۵۱)

ہرشخص کا ایک انجام بہر حال ہونے والا ہے چاہے شیریں ہو یاتلخ۔

(۱۵۲)

ہرآنے والا پٹنے والا ہے اور جوپلٹ جاتا ہے وہ ایسا ہوجاتا ے جیسے تھا ہی نہیں۔

(۱۵۳)

صبرکرنے والا کامیابی سے محروم نہیں ہو سکتا ہے چاہے کتنا ہی زمانہ کیوں نہ لگے جائے ۔

۶۷۷

۱۵۴ - وقَالَعليه‌السلام الرَّاضِي بِفِعْلِ قَوْمٍ كَالدَّاخِلِ فِيه مَعَهُمْ - وعَلَى كُلِّ دَاخِلٍ فِي بَاطِلٍ إِثْمَانِ - إِثْمُ الْعَمَلِ بِه وإِثْمُ الرِّضَى بِه.

۱۵۵ - وقَالَعليه‌السلام اعْتَصِمُوا بِالذِّمَمِ فِي أَوْتَادِهَا

۱۵۶ - وقَالَعليه‌السلام عَلَيْكُمْ بِطَاعَةِ مَنْ لَا تُعْذَرُونَ بِجَهَالَتِه

۱۵۷ - وقَالَعليه‌السلام قَدْ بُصِّرْتُمْ إِنْ أَبْصَرْتُمْ وقَدْ هُدِيتُمْ إِنِ اهْتَدَيْتُمْ وأُسْمِعْتُمْ إِنِ اسْتَمَعْتُمْ.

۱۵۸ - وقَالَعليه‌السلام عَاتِبْ أَخَاكَ بِالإِحْسَانِ إِلَيْه وارْدُدْ شَرَّه بِالإِنْعَامِ عَلَيْه.

(۱۵۴)

کسی قوم کے عمل سے راضی ہو جانے والا بھی اسی کے ساتھ شمار کیا جائے گا اورجو کسی باطل میں داخل ہوجائے گا اس پر دہرا گناہ ہوگا عمل کابھی گناہ اور راضی ہونے کابھی گناہ۔

(۱۵۵)

عہدوپیمان کی ذمہداری ان کے حوالہ کرو جو میخوں کی طرح مستحکم اورمضبوط ہوں۔

(۱۵۶)

اس کی اطاعت ضرر کرو جس سے نا واقفیت قابل معافی نہیں ہے۔(یعنی خدائی منصب دار)

(۱۵۷)

اگر تم بصیرت رکھتے ہو تو تمہیں حقائق دکھلائے جا چکے ہیں اور اگر ہدایت حاصل کرنا چاہتے ہوتو تمہیں ہدایت دی جا چکی ہے اور اگر سننا چاہتے ہو تو تمہیں پیغام سنایا جا چکا ہے۔

(۱۵۸)

اپنے بھائی کو تنبیہ کرو تو احسان(۱) کرنے کے بعد اور اس کے شر کا جواب دو تولطف و کرم کے ذریعہ۔

(۱)کھلی ہوئی بات ہے کہ انسان اگر صرف تنبیہ کرتا ہے اور کام نہیں کرتا ہے تواس کی تنبیہ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ہے کہ دوسرا شخص پہلے ہی بد ظن ہو جاتا ہے تو کوئی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہوتا ہے اور نصیحت بیکارچلی جاتی ہے ۔اس کے برخلاف اگر پہلے احسان کرکے دل میں جگہ بنالے اوراس کے بعد نصیحت کرے تو یقینا نصیحت کا اثر ہوگا اوربات ضائع و برباد نہ ہوگی۔

۶۷۸

۱۵۹ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ وَضَعَ نَفْسَه مَوَاضِعَ التُّهَمَةِ - فَلَا يَلُومَنَّ مَنْ أَسَاءَ بِه الظَّنَّ.

۱۶۰ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ مَلَكَ اسْتَأْثَرَ

۱۶۱ - وقَالَعليه‌السلام مَنِ اسْتَبَدَّ بِرَأْيِه هَلَكَ - ومَنْ شَاوَرَ الرِّجَالَ شَارَكَهَا فِي عُقُولِهَا.

۱۶۲ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ كَتَمَ سِرَّه كَانَتِ الْخِيَرَةُ بِيَدِه.

۱۶۳ - وقَالَعليه‌السلام الْفَقْرُ الْمَوْتُ الأَكْبَرُ.

۱۶۴ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ قَضَى حَقَّ مَنْ لَا يَقْضِي حَقَّه فَقَدْ عَبَدَه.

(۱۵۹)

جس نے اپنے نفس کو تہمت کے مواقع(۱) پر رکھ دیا۔اسے کسی بد ظنی کرنے والے کو ملامت کرنے کا حق نہیں ہے۔

(۱۶۰)

جو اقتدار حاصل کر لیتا ہے وہ جانبداری کرنے لگتا ہے ۔

(۱۶۱)

جو خود رائی سے کام لے گا وہ ہلاک ہوجائے گا اور جو لوگوں سے مشورہ کرے گا وہ ان کی عقلوں میں شریک ہو جائے گا۔

(۱۶۲)

جو اپنے راز کو پوشیدہ رکھے گا اس کا اختیار اس کے ہاتھ میں رہے گا۔

(۱۶۳)

فقیری سب سے بڑی موت ہے ۔

(۱۶۴)

جو کسی ایسے شخص کا حق ادا کردے جو اس کا حق(۲) ادا نہ کرتا ہو تو گویا اس نے اس کی پرستش کرلی ہے۔

(۱)عجیب و غریب بات ہے کہ انسان ان لوگوں سے فوراً بیزار ہو جاتا ہے جواس سے بدگمانی رکھتے ہیں لیکن ان الات سے بیزاری کا اظہار نہیں کرتا ہے جن کی بناپربدگمانی پیدا ہوتی ہے جب کہ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ پہلے بد ظنی کے مقامات سے اجتناب کرے اور اس کے بعد ان لوگوں سے ناراضگی کا اظہار کرے جو بلا سبب بد ظنی کا شکار ہوجاتے ہیں۔

(۲)مقصد یہ ہے کہ انسان کے عمل کی کوئی بنیاد ہونی چاہیے اور میزان و معیار کے بغیر کسی عمل کو انجام نہیں دینا چاہیے۔اب اگر کوئی شخص کسی کے حق کی پرواہ نہیں کرتا ہے اوروہ اس کے حقوق کوادا کئیے جارہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے کو اس کابندہ ٔ بے دام تصور کرتا ہے اوراس کی پرستش کئے چلا جا رہا ہے۔

۶۷۹

۱۶۵ - وقَالَعليه‌السلام لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ.

۱۶۶ - وقَالَعليه‌السلام لَا يُعَابُ الْمَرْءُ بِتَأْخِيرِ حَقِّه إِنَّمَا يُعَابُ مَنْ أَخَذَ مَا لَيْسَ لَه.

۱۶۷ - وقَالَعليه‌السلام الإِعْجَابُ يَمْنَعُ الِازْدِيَادَ

۱۶۸ - وقَالَعليه‌السلام الأَمْرُ قَرِيبٌ والِاصْطِحَابُ قَلِيلٌ . 

۱۶۹ - وقَالَعليه‌السلام قَدْ أَضَاءَ الصُّبْحُ لِذِي عَيْنَيْنِ.

(۱۶۵)

خالق کی معصیت کے ذریعہ مخلوق کی اطاعت نہیں کی جا سکتی ہے۔

(۱۶۶)

اپناحق لینے میں تاخیرکردینا عیب نہیں ہے۔ دوسرے کے حق(۱) پرقبضہ کرلینا عیب ہے۔

(۱۶۷)

خود پسندی(۲) زیادہ عمل سے روک دیتی ہے۔

(۱۶۸)

آخرت قریب ہے اور دنیاکی صحبت بہت مختصر ہے۔

(۱۶۹)

آنکھوں والوں کے لئے صبح روشن ہوچکی ہے۔

(۱)انسان کی ذمہ داری ہے کہ زندگی میں حقوق حاصل کرنے سے زیادہ حقوق کی ادائیگی پرتوجہ دے کہ اپنے حقوق کو نظر انداز کردینا نہ دنیا میں باعث ملامت ہے اور نہ آخرت میں وجہ عذاب ہے لیکن دوسروں کے حقوق پر قبضہ کرلینا یقینا باعث مذمت بھی ہے اور وجہ عذاب و عقاب بھی ہے۔

(۲)کھلی ہوئی بات ہے کہ جب تک مریض کو مرض کا احساس رہتا ہے وہ علاج کی فکر بھی کرتا ہ لیکن جس دن ورم کو صحت تصور کر لیتا ہے ' اس دن سے علاج چھوڑ دیتا ہے یہی حال خود پسندی کا ہے کہ خود پسندی کردار کا ورم ہے جس کے بعد انسان اپنی کمزوریوں سے غافل ہو جاتا ہے اوراس کے نتیجہ میں عمل ختم کر دیتا ہے یا رفتار عمل کو سست بنادیتا ہے اور یہی چیز اس کے کردارکی کمزوری کے لئے کافی ہے۔

۶۸۰

681

682

683

684

685

686

687

688

689

690

691

692

693

694

695

696

697

698

699

700

701

702

703

704

705

706

707

708

709

710

711

712

713

714

715

716

717

718

719

720

721

722

723

724

725

726

727

728

729

730

731

732

733

734

735

736

737

738

739

740

741

742

743

744

745

746

747

748

749

750

751

752

753

754

755

756

757

758

759

760

761

762

763

764

765

766

767

768

769

770

771

772

773

774

775

776

777

778

779

780

781

782

783

784

785

786

787

788

789

790

791

792

793

794

795

796

797

798

799

800

801

802

803

804

805

806

807

808

809

810

811

812

813

814

815

816

817

818

819

820

821

822

823

824

825

826

827

828

829

830

831

832

833

834

835

836

837

838

839

840

841

842

843

844

845

846

847

848

849

850

851

852

853

854

855

856

857

858

859

860

861

862

863