نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)6%

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ) مؤلف:
: علامہ السید ذیشان حیدر جوادی قدس سرہ
زمرہ جات: متن احادیث
صفحے: 863

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 863 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 656809 / ڈاؤنلوڈ: 15924
سائز سائز سائز
نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

پہنچيں گے اس وقت قبيلہ اوس كے تمام افراد ہمارى طرفدارى كے لئے اُٹھ كھڑے ہوںگے_

لشكر قريش كى مدينہ روانگي

مكمل تيارى كے بعد قريش نے لشكر كو كوچ كا حكم ديا ، يہ لشكر تين ہزار افراد پر مشتمل تھا جس ميں سات سو زرہ پوش ، دو سو گھڑ سوار ، تين ہزار اونٹ اور بے پناہ اسلحہ كے علاوہ دوران جنگ گا بجا كر سپاہيوں كو تازہ دم كرنے كے ليے ۱۵ عورتيں بھى شريك تھيں_

مشركين كے لشكر كا سپہ سالار ابوسفيان تھا ، سواروں كى كمان خالد بن وليد كے ہاتھ ميں تھى اور ''عكرمہ بن ابى جہل ''خالد كے نائب كى حيثيت سے شريك تھا اس بار لشكر مشركين ہر ايسے اختلاف سے اجتناب كر رہا تھا جو ان كو دو گروہوں ميں بانٹ ديتا_

عبّاس كى خبر رساني

جب لشكر نے كوچ كا ارادہ كيا تو پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے چچا عبّاس بن عبدالمطلب نے '' جو مخفى طور پر مسلمان ہوچكے تھے اور بہت قريب سے قريش كى تياريوں اور كوچ پر نظر ركھے ہوئے تھے'' پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو مشركين كے لشكر كى جنگى صورتحال كى اطلاع دينے كے ليے ايك خط تحرير كيا_

اور قبيلہ بنى غفار كے ايك قابل اعتماد شخص كے ذريعہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں بھيجا_ يہ فرستادہ اتنى تيزى سے روانہ ہوا كہ مكّہ اور مدينہ كا درميانى فاصلہ صرف تين دن ميں طے كر ليا_

۲۱

جب يہ سوار مدينہ پہنچا تو اس وقت پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ' ' قُبا'' ميں تھے _ وہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس پہنچا اور خط ديا_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خط ايك شخص كو دياتا كہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو سُنائے پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس سے فرمايا كہ اس كا مضمون كسى كو نہ بتانا_

مدينہ كے يہودى اور منافقين نامہ بَر كے آنے سے آگاہ ہوچكے تھے _ اور انھوں نے مشہور كرديا كہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس بُرى خبر پہنچى ہے_ تھوڑى ہى دير ميں لوگ قريش كى لشكركشى سے باخبر ہوگئے_(۱۵)

سپاہ قريش راستہ ميں

راستہ ميں جہاں كہيں پڑاؤ ہوتا لشكر كے ہمراہ موجود عورتيں گانا بجانا شروع كرديتيں اور مقتولين قريش كى ياد دلاكر سپاہيوں كو بھڑكاتى قريش كے سپاہى جہاں كہيں پانى كے كنارے رُكتے اونٹوں كو ذبح كركے اُن كا گوشت كھاتے_(۱۶)

عمروبن سالم خزاعى نے مكّہ اور مدينہ كے درميان مقام ''ذى طوى '' ميں قريش كو خيمہ زن ديكھا تو مدينہ آئے اور جو كچھ ديكھا تھا اس كى خبر پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو دي(۱۷) _

معلومات كى فراہمي

پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جمعرات كى رات ۵ شوال ۳ ھ ق، بمطابق ۲۴ مارچ ۶۲۵كو فضالہ كے سراغ رساں بيٹوں ''انس اور مونس ''كو دشمن كى نقل و حركت كے بارے ميں معلومات اكھٹى كرنے كے لئے بھيجا_ انھوں نے قريش كو ''عقيق '' كے مقام پر ديكھا اور ان كے پيچھے ہولئے جب لشكر نے ''وطاء '' كے مقام پر پڑاؤ ڈالا تو وہاں سے پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں

۲۲

رپورٹ پيش كرنے كے لئے واپس آگئے_(۱۸)

لشكر ٹھہرنے كى خبر

جيسے ہى سپاہ مشركين نے احد كے نزديك وطاء كے مقام پر پڑاؤ ڈالا تو پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ''حُباب بن مُنذر ''كو پوشيدہ طور پر مامور فرمايا كہ دشمن كى قوّت كا اندازہ كريں اور ضرورى معلومات جمع كركے اس كى رپورٹ ديں_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس بات كى تاكيد كى كہ اپنى رپورٹ دوسروں كى موجودگى ميں پيش نہ كريں مگر يہ كہ دشمن كى تعداد كم ہو ( تو اس وقت كوئي حرج نہيں ہے)_

''حُباب ''دشمن كے لشكر كے قريب پہنچے اور نہايت دقت نظر سے جائزہ لے كر واپس آئے اور پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے تنہائي ميں ملاقات كى اور كہا كہ ''اے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ميں نے ايك بڑا لشكر ديكھاہے ميرا اندازہ ہے كہ كم و بيش تين ہزار افراد ، دو سو گھوڑے اور زرہ پوش سپاہيوں كى تعداد تقريباً سات سو كے قريب ہوگى ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پوچھا كہ تم نے عورتوں كو بھى ديكھا؟ حباب نے كہا كہ ايسى عورتيں ديكھى ہيں جن كے پاس گانے بجانے كا سامان ہے_ پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ '' يہ عورتيں مردوں كو لڑائي پر اُكسانا اور مقتولين بدر كى ياد دلانا چاہتى ہيں، اس سلسلہ ميںتم كسى سے كوئي بات نہ كرنا خدا ہمارى مدد كے لئے كافى اور بہترين حفاظت كرنے والا ہے اے خدا ہمارى روانگى اور حملہ تيرى مدد سے ہوگا_(۱۹)

۲۳

مدينہ ميں ہنگامى حالت

شب جمعہ ۶ شوال ۳ ھ ق، بمطابق ۲۵ مارچ ۶۲۵ئ _ اوس و خزرج كے برجستہ افراد سعد بن معاذ ، اُسَيد بن حُضَير اور سعد بن عُبَادة چند مسلح افراد كے ہمراہ مسجد اور پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كے گھر كے دروازہ پر حفاظت كے لئے كھڑے ہوگئے_

مشركين كے شب خون مارنے كے خوف سے صبح تك شہر مدينہ كى نگرانى كى جاتى رہي_(۲۰)

فوجى شورى كى تشكيل

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس فكر ميں تھے كہ اگر مسلمان مدينہ ميں رہ كر شہر كا دفاع كريں گے تو مسلمانوں كى فوجى شان و شوكت كمزور پڑ جائے گى اور دشمن جرى ہوجائے گا اور ممكن ہے دشمن كے شہر كے قريب ہوتے ہى منافقين و يہود اندرونى سازش ( يا بغاوت) كے ذريعہ دشمن كى كاميابى كى راہ ہموار كريں دوسرى طرف شہر ميں رہنے كا فائدہ يہ ہے كہ قريش مجبور ہوں گے كہ شہر پر حملہ كريں اور اس صورت ميں دست بدست لڑائي كے حربوں كو بروئے كار لاكر دشمن پر ميدان تنگ اور شكست سے دوچار كيا جاسكتا ہے اور شہر ميں رہنا سپاہيوں ميں دفاع كے لئے زيادہ سے زيادہ جوش پيدا كرے گا_

قريش بھى اسى فكر ميں تھے كہ اگر مسلمان مدينہ ميں رہے تو درختوں كو كاٹ كر اور نخلستان ميں آگ لگا كر ناقابل تلافى اقتصادى نقصان پہنچايا جائے گا_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دفاعى حكمت عملى كى تعيين كے لئے اجلاس بلايا اور اصحاب سے مشورہ طلب كيا اجلاس ميں حضوراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اعلان كيا كہ اگر آپ لوگ مصلحت سمجھيں تو ہم مدينہ

۲۴

ميں رہيں اور دشمنوں كو اسى جگہ چھوڑديا جائے جہاں وہ اُترے ہيں تا كہ اگر وہ وہيں رہيں تو زحمت ميں مبتلا رہيں اور اگر مدينہ پر حملہ كريں تو ہم ان كے ساتھ جنگ كريں_

عبداللہ بن اُبى نے اُٹھ كر كہا كہ '' يا رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ابھى تك كوئي دشمن اس شہر پر فتحياب نہيں ہوسكا ماضى ميں ہم نے دشمن كے ساتھ جب بھى ميدان ميں لڑائي كى شكست سے دوچار ہوئے اور جب بھى دشمن نے چاہا ہمارے شہر ميں آئے تو ہم نے شكست دى لہذا آپ انھيں ان كے حال پر چھوڑ ديجئے _ اس لئے كہ اگر وہ وہيں رہے تو بدترين قيد ميں ہيں اور اگر حملہ آور ہوئے تو ہمارے بہادر ان سے لڑيں گے ، ہمارى عورتيں اور بچّے چھتوں سے ان پر پتھراؤ كريں گے اور اگر پلٹ گئے توشرمندہ رسوا ، نااُميد اور بغير كسى كاميابى كے واپس جائيں گے '' مہاجر ين و انصار كے بزرگ افراد حسن نيّت كے ساتھ اسى خيال كے حامى تھے ليكن شہادت كے شوقين نوجوانوں كى بڑى تعداد خصوصاً وہ لوگ جو جنگ بدر ميں شريك نہيں ہوسكے تھے دشمن سے روبرو لڑنے كے لئے بے قرار تھے اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے يہ خواہش ظاہر كر رہے تھے كہ دشمن كے مقابل ميدان كار زار ميں لے چليں_

اس اكثريت ميں لشكر اسلام كے دلير سردار حضرت حمزہ (ع) بھى تھے انھوں نے فرمايا: اس خدا كى قسم جس نے قرآن كو نازل فرمايا ہم اس وقت تك كھانا نہيں كھائيں گے جب تك شہر سے باہر دشمنوں سے نبرد آزمائي نہ كرليں_

جواں سال افراد كچھ اس طرح كا استدلال پيش كر رہے تھے كہ : اے خدا كے پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہم اس بات سے ڈر رہے ہيں كہ كہيں دشمن يہ خيال نہ كر بيٹھيں كہ ہم ان كے سامنے آنے سے ڈرتے ہيںاور شہر سے باہر نكلنا نہيں چاہتے _ ہميں اچھا نہيں لگتا قريش اپنے رشتہ داروں كى طرف واپس جاكر كہيں كہ ہم نے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو يثرب ميں محصور كرديا ; اور ( اس طرح) اعراب

۲۵

كو ہمارے مقابلے ميں دلير بناديں_(۲۱)

آخرى فيصلہ

جوانوں كے اصرار پر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اكثريت كى رائے كو قبول فرمايا اور مسلمانوں كے ساتھ نماز جمعہ ادا كى ،خطبہ ميں انہيں جانفشانى اور جہاد كى دعوت دى اور حكم ديا كہ دشمن سے جنگ كرنے كے لئے تيار ہوجائيں ، پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے نماز عصر جماعت كے ساتھ پڑھائي ، اس كے بعد فوراً گھر كے اندر تشريف لے گئے ، جنگى لباس زيب تن فرمايا ''خود ''سرپر ركھى تلوار حمائل كى اور جب اس حليہ ميں گھر سے باہر تشريف لائے تو وہ لوگ جو باہر نكلنے كے سلسلہ ميں اصرار كر رہے تھے، شرمندہ ہوئے اور اپنے دل ميں كہنے لگے كہ '' جس بات كى طرف پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا ميلان نہيں تھا ہميں اس كے خلاف اصرار كرنے كا حق نہيں تھا''_ اس وجہ سے وہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے قريب آئے اور كہا كہ'' اگر آپ چاہيں تو مدينہ ميں رہيں '' رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے فرمايا '' يہ مناسب نہيں ہے كہ پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لباس جنگ پہن لے اور قبل اس كے كہ خدا دشمنوں كے ساتھ جنگ كى سرنوشت كو روشن كردے وہ لباس جنگ كو اُتار پھينكے _

اب ہم جو كہہ رہے ہيں وہ كرتے جائيں خدا كا نام لے كر راستہ پرگامزن ہوجاؤ اگر صبر كروگے تو كامياب رہوگے''_(۲۲)

۲۶

سوالات:

۱ _ غزوہ بنى قينقاع كب واقع ہوا اور اس كا نتيجہ كيا رہا؟

۲_ ''ذى قرد'' كے مقام پر سّريہ ''زيد بن حارثہ ''كس مقصد كے تحت انجام پايا؟

۳_ حضرت على (ع) و حضرت فاطمہ (ع) كا عقد مبارك كس سال ہوا؟

۴_ جنگ احدشروع ہونے كے اسباب كيا تھے؟

۵_ جنگ احد كا بجٹ كفّار نے كس طرح پورا كيا؟

۶_ راہ خدا سے روكنے كى خاطر مال خرچ كرنے كے سلسلہ ميں قرآن كيا كہتا ہے؟

۷_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قريش كى روانگى سے كيسے واقف ہوئے؟

۸_ دشمن كا مقابلہ كرنے كيلئے مسلمانوں نے آخرى فيصلہ كيا كيا ؟

۲۷

حوالہ جات

۱_ان شعراء كے نام حسب ذيل ہيں:

كعب بن اشرف يہودى ، ابى عفك يہودى اور مشركين ميں سے ايك عورت عصماء بنت مروان ، طبقات ابن سعد جلد ۲ ص ۲۷/۲۸_

۲_ ابن ہشام كى تحرير كے مطابق بشير بن عبدالمنذر ( ابولبابہ) اور ابن اسحاق كى تحرير كے مطابق عبادہ بن وليد بن عبادہ بن صامت_

۳_ مغازى واقعدى جلد ۱ ص ۱۷۶، سيرة ابن ہشام جلد ۳ ص ۴۷، تاريخ طبرى جلد ۲ ص ۴۹۷، طبقات ابن سعد جلد ۲ ص ۲۷_

۴_ ہر درہم ۱۲ نخود كے يعنى آدھا مثقال چاندى كے برابر ہے اس حساب سے آپ كا مہر ۲۵۰ مثقال چاندى ہے_

۵_ اللہم بارك لقوم: جُلّ انيتہم الخزف _ كشف الغمہ جلد ۱ ص ۳۵۹_

۶_مزيد معلومات كے لئے كشف الغمہ كى طرف رجوع كريں ج۱ ص ۳۷۴/۳۴۸، بحار الانوار ج ۴۳ ص ۱۴۵/۹۲ مطبوعہ بيروت ،سيرة المصطفى ص ۳۲۹_۳۲۶_

۷_ انشاء اللہ حضرت علي(ع) و فاطمہ (ع) كے عقد كا تفصيلى حال امامت كى تاريخ ميں بيان كيا جائے گا_

۸_ سويق ايك غذا ہے جو چاول اور جوكے آٹے، شہد اور دودھ سے يا پھر خرمے آٹے اور روغن سے بنتى ہے_ جيسے ستّو_

۹_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۱۸۱_ طبقات ابن سعد جلد ۲ ص ۱۳۰_ سيرة ابن ہشام جلد ۲ ص ۴۴، دلائل النبوة بيہقى جلد ۲ ص ۳۲۲_

۱۰_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۱۸۳_ طبقات ابن سعد جلد ۲ ص ۳۵_ سيرة ابن ہشام جلد ۴/۳ ص ۴۳_

۲۸

۱۱_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۱۹۷_طبقات جلد ۲ ص ۳۶ _ متاع الاسماع ص ۱۱۲_

۱۲_ مغازى واقعدى جلد ۱ ص ۱۹۰_۱۹۳_ طبقات ابن سعد جلد ۲ ص ۳۴_

۱۳_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۲۰۰_

۱۴_ سورہ انفال آيت ۳۶_

۱۵_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۲۰_

۱۶_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۲۰۴_

۱۷_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۲۰۵،۲۰۶_

۱۸_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۲۰۵_

۱۹_ مغازى واقدى جلد ۱ ، ص ۲۰۶،۲۰۷_

۲۰_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۲۷۰،۲۰۸_

۲۱_ مغازى واقدى جلد ۱، ص ۲۰۸_

۲۲_ مغازى واقدى جلد ۱ ، ص ۲۱۹،۲۰۹_

۲۳_ مغازى واقدى جلد ۳، ص ۲۴۱،۲۱۳_

۲۹

دوسرا سبق

لشكر اسلام كى روانگي

لشكر توحيد كا پڑاؤ

منافقين كى خيانت

صف آرائي

دشمن اپنى صفوں كو منظم كرتاہے

جنگى توازن

جنگ كيسے شروع ہوئي؟

دشمن كے حوصلے بلند كرنے ميں موسيقى كا كردار

اجتماعى حملہ

فتح كے بعد شكست

پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا دفاع كرنيوالوں كى شجاعت

ام عمارہ شير دل خاتون

لشكر كى جمع آوري

سوالات

حوالہ جات

۳۰

لشكر اسلام كى روانگي

روانگى كے وقت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تين نيزے طلب فرمائے اور تين پرچم تيار كيئے لشكر كا عَلَم على بن طالب(ع) ، قبيلہ '' اوس'' كا پرچم '' اُسَيد بن حُضَير '' اور قبيلہ خزرج كا پرچم '' سعد بن عبادة'' كے سپُرد كيا_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جمعہ كے دن عصر كے وقت ايك ہزار افراد كے ساتھ مدينہ سے باہر نكلے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم گھوڑے پر سوار اور ہاتھ ميں نيزہ ليے ہوئے تھے _ مسلمانوں كے درميان صرف سو افراد كے جسم پر زرہ تھي_

لشكر اسلام مقام ''شيخان ''پر پہنچا تو ناگہاں ايك گروہ شور و غل كرتا ہوا پيچھے سے آن پہنچا رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پوچھا كہ يہ كون ہيں؟ لوگوں نے عرض كيا: اللہ كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم '' يہ عبيد اللہ بن اُبّى كے ہم پيمان يہودى ہيں''_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ '' ان تك يہ بات پہنچا دو كہ ہم ان كى مددسے بے نياز ہيں'' اس كے بعد فرمايا كہ '' مشركين سے جنگ كرنے كے لئے مشركين سے مدد نہ لى جائے''_(۱)

لشكر توحيد كا پڑاؤ

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے شيخان كے پاس پڑاؤ ڈالا اور محمد بن مسلمہ كو ۵۰ افراد كے ساتھ لشكر اسلام

۳۱

كے خيموں كى حفاظت پر مامور فرمايا_

اس مقام پر جنگ ميں شركت كے خواہشمند نوجوان آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس آئے اور جنگ ميں شركت كى اجازت چاہى ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انہيں جنگ ميں شركت كرنے كى اجازت نہ دى ،انہوں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے عرض كيا كہ رافع بن خَديج ايك ماہر تيرانداز ہے اور رافع نے بھى اونچى ايڑى والے جوتے پہن كر اپنے قد كى بلندى كا مظاہرہ كيا رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے رافع كو شركت كى اجازت دے دي_ سُمرَة بن جُندُب نے عرض كيا كہ ميں رافع سے زيادہ قوى ہوں ، ميں ان سے كشتى لڑنے كے لئے تيار ہوں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا ٹھيك ہے، كُشتى لڑو_ سمرہ نے رافع كو پٹخ ديا تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے بھى شركت كى اجازت ديدي_(۲)

عبداللہ بن حجش نے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے عرض كيا كہ : اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا دشمنوں نے وہاں ڈيرہ ڈال ركھا ہے_ ميں نے پہلے ہى خدا كى بارگاہ ميں دُعا كى ہے كہ كل جب دشمن سے مقابلہ ہوتو وہ مجھے قتل كرديں ،ميرا پيٹ پھاڑ ڈاليں ،ميرے جسم كو مثلہ كرديں تا كہ اسى حالت ميں خدا كا ديدار كروں اور جس وقت خدا مجھ سے پوچھے كہ كس راہ ميں تيرى يہ حالت كى گئي؟ تو ميں كہہ سكوں كہ اے خدا تيرى راہ ميں_(۳)

عمر و بن جموح ايك پاؤں سے اپاہج تھے جن كے چار بيٹے پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ہمراہ جنگوں ميں شير كى طرح لڑتے تھے، جب جنگ اُحد پيش آئي تو عزيز و اقارب نے عمرو بن جموح كو شركت سے منع كيا اور كہا كہ چونكہ تم پاؤں سے اپاہج ہو لہذا فريضہ جہاد كا بار تمہارے دوش پر نہيں ہے، اس كے علاوہ تمہارے بيٹے تو پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ہمراہ جنك كيلئے جارہے ہيں_ اس نے كہا كہ ''وہ لوگ تو جنّت ميں چلے جائيں_ اور ميں يہاں تمہارے پاس رہ جاؤں؟'' ان كى بيوى نے ديكھا كہ وہ ہتھياروں سے ليس ہوتے ہوئے زير لب يہ دعا كر

۳۲

رہے ہيں كہ '' خدايا مجھے گھر واپس نہ پلٹا_'' بيٹوں نے اصرار كيا كہ جنگ ميں شركت سے اجتناب كريں تو وہ پيغمبراكرم كى خدمت ميں پہنچے اور عرض كيا'' اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا ميرے بيٹے نہيں چاہتے كہ مجھے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ساتھ اس جنگ ميں شركت كرنے ديں، بخدا ميرى خواہش ہے كہ اس ناقص پاؤں كو بہشت كى سرزمين سے مَس كروں_''

پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا:

'' خدا نے تمہيںجنگ سے معاف ركھا ہے اور فريضہ جہاد تمہارے كندھوں سے اٹھاليا ہے_''

وہ نہيں مانے تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان كے بيٹوں سے فرمايا كہ '' اگر تم ان كو نہ رو كو تو تمہارے اوپر كوئي گناہ نہيں ہے_ شايد خدا ان كو شہادت نصيب كردے _(۴)

آفتاب غروب ہوا ،جناب بلال نے اذان دي، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجاہدين اسلام كے ساتھ نماز جماعت ادا كي_

دوسرى طرف دشمن كے لشكر ميں عكرمہ بن ابى جہل كو چند سواروں كے ساتھ خيموں كى حفاظت پر مامور كرديا گيا _(۵)

منافقين كى خيانت

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صبح سويرے شيخان سے احد (مدينہ سے ۶كلوميٹردور) كى طرف روانہ ہوئے _ مقام شوط پر منافقين كا سرغنہ عبداللہ بن ابى بن سلول اپنے تين سوساتھيوں سميت مدينہ واپس لوٹ گيا_ اس نے اپنے بہانہ كى توجيہ كے لئے كہا كہ '' محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جوانوں كى بات سنى ہمارى بات نہيں سنى اے لوگو ہميں نہيں معلوم كہ ہم كس لئے اپنے آپ كو قتل كئے

۳۳

جانے كے لئے پيش كرديں:؟ عبداللہ بن عمر و بن حرام ان كے پيچھے گئے اور كہا كہ '' اے قوم خدا سے ڈرو، ايسے موقع پر كہ جب دشمن نزديك ہے اپنے قبيلے اور پيغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو تنہا نہ چھوڑو'' منافقين نے جواب ديا '' اگر ہميں يقين ہوتا كہ جنگ ہوگى تو ہم تمہيں نہ چھوڑتے، ليكن ہميں معلوم ہے كہ كسى طرح كى جنگ نہيں ہوگي''_

عبداللہ بن عمرو جوكہ ان سے نا اميد ہوچكے تھے ان سے كہنے لگے، اے دشمنان خدا خدا تمہيں اپنى رحمت سے دور كرے اور بہت جلد خدا اپنے پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو تم سے بے نياز كردے گا_

ان تين سو افراد كے چلے جانے كے بعد قبيلہ بنى حارثہ اور قبيلہ بنى سلمہ كے افراد بھى سست پڑگئے اور واپس جانے كيلئے سوچنے لگے مگر خدا نے انھيں استوار ركھا_(۶)

صف آرائي

۷/ شوال ۳ ھ ق بمطابق ۲۶مارچ ۶۲۵ئبروز ہفتہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے احد ميں نماز صبح ادا كرنے كے بعد لشكر كى صف آرائي شروع كردي_ كوہ احد كو پيچھے اور مدينہ كو اپنے سامنے قرار ديا_ سپاہيوں كو مكمل طور پر ترتيب دينے كے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تقرير فرمائي اور كہا كہ ''تعريف اور جزاء اس شخص كے لئے ہے جو اپنے فريضے كو صبر و سكون اور متانت و يقين كے ساتھ انجام ديتا ہے ، اس لئے كہ جہاد انتہائي دشوار كام اور بہت سى مشكلات و پريشانيوں كا حامل ہے_ ايسے لوگ بہت كم ہيں جو اس ميں ثابت قدم ہيں، مگر وہ لوگ جن كو خدا ہدايت و پائيدارى عطا فرمائے ،خدا اس كا دوست ہے جو اس كا فرماں بردار ہے اور شيطان اس كا دوست ہے جو اس كى پيروى كرتا ہے ''_

''ہر چيز سے پہلے جہاد ميں ثابت قدم رہو اور اس وسيلے سے ان سعادتوں كو اپنے لئے

۳۴

فراہم كرو جن كا خدا نے وعدہ كيا ہے_ اختلاف، كشمكش اور ايك دوسرے كو كمزور بنانے كا ارادہ ترك كردو كيونكہ يہ باتيں حقارت و ناتوانى كا سبب ہيں''_

پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے '' عبداللہ بن جُبَير'' كو ۵۰ تيراندازوں كے ساتھ درّہ كوہ عينين كى نگرانى پر معين فرمايا اور درّہ كى حفاظت كے لئے جنگى حكمت عملى بتاتے ہوئے فرمايا: ہم فتحياب ہوں يا شكست كھائيں تم اپنى جگہ ڈٹے رہنا اور دشمن كے سواروں كو تيراندازى كے ذريعہ ہم سے دور كرتے رہنا_ تا كہ وہ پيچھے سے ہم پر حملہ نہ كريں اگر ہم قتل كرديئےائيں تو ہمارى مدد نہ كرنا اور اگر ہم فتحياب ہوجائيں اور مال غنيمت حاصل كرنے لگيں پھر بھى تم ہمارے پاس نہ آنا تم اپنى جگہ مضبوطى سے ڈٹے رہنا يہاں تك كہ ہمارا كوئي حكم تمہارے پاس آجائے_(۷)

دشمن اپنى صفوں كو منظم كرتاہے

ابوسفيان نے بھى اپنى فوج كى صفوں كو منظم كيا پيادہ زرہ پوش لشكر كو درميان ميں ''خالد بن وليد ''كى كمان ميں سواروں كا ايك دستہ دائيں جانب اوردوسرا دستہ ''عكرمہ بن ابى جہل'' كى سركرد گى ميں بائيں جانب ترتيب ديا، سياہ پرچم قبيلہ ''بنى عبدالدّار''كے افراد كے سپرد كيا اور شرك و الحاد كے وجود كى حفاظت كے لئے حكم ديتے ہوئے كہا كہ '' لشكر كى كاميابى پرچم داروں كى استقامت ميں پوشيدہ ہے ہم نے بدر كے دن اسى وجہ سے شكست كھائي تھى اب اگر اپنے آپ كو تم اس كے لائق ثابت نہيں كروگے تو پرچم دارى كا فخر كسى اور قبيلے كو نصيب ہوگا ، ان باتوں سے اس نے ''بنى عبدالدار ''كے جاہلى احساسات كو ابھارا يہاں تك كہ وہ آخرى دم تك جان كى بازى لگانے كيلئے آمادہ ہوگئے _(۸)

۳۵

جنگى توازن

اب ايك ہولناك جنگ كے دہانہ پر لشكر توحيد و شرك ايك دوسرے كے مقابل كھڑے ہيں اور ان دونوں لشكروں كا جنگى توازن مندرجہ ذيل ہے_(۹)

تفصيل لشكر اسلام لشكر مشركين باہمى نسبت

فوجي ۷۰۰ ۳۰۰۰ مسلمانوں كى نسبت ۷/۲:۴ زيادہ

زرہ پوش ۱۰۰ ۷۰۰ مشركين ۷ گنا زيادہ

نيزہ بردار ۱۰۰ ۷۰۰ مشركين ۷ گنا زيادہ

شہ سوار ۲ ۲۰۰ مشركين ۱۰۰گنا زيادہ

جنگ كيسے شروع ہوئي؟

دونوں لشكروں كے درميان ٹكراؤ كا باعث بننے والا پہلا شخص '' ابوعامر '' تھا_ احد كے دن آگے بڑھتا ہوا لشكر اسلام كے مقابل آيا اور آواز دے كر كہنے لگا، اے اوس ميں ابوعامر ہوں ،لوگوں نے كہا '' اے فاسق تيرى آنكھيں اندھى ہوجائيں '' ابوعامر اس غير متوقع جواب كے سننے سے اہل مكّہ كے درميان ذليل ہوگيا_ اس نے كہا كہ '' ميرى غير موجود گى ميں ميرا قبيلہ فتنہ و فساد ميں مبتلا ہوگيا ہے _ '' اسكے بعد اس نے مسلمانوں سے جنگ كا آغاز كرديا لشكر اسلام نے اس پر اور اس كے ساتھيوں پر سنگ بارى كى اس كے بيٹے'' حنظلہ ''جو كہ لشكر اسلام ميں تھے، انھوں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اجازت مانگى تا كہ اپنے باپ كو قتل كرديں ليكن رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اجازت نہيں دي_(۱۰)

''ابوعامر ''كى عقب نشينى كے بعد مشركوں كا پرچمدار '' طلحہ بن ابى طلحہ'' جسے لشكر كا مينڈھا كہا جاتا تھا، مغرورانہ انداز ميں آگے بڑھا اور چلّا كر كہا كہ ''تم كہتے ہوكہ ہمارے

۳۶

مقتولين دوزخ ميں اور تمہارے مقتولين بہشت ميں جائيں گے _ اس صورت ميں آيا كوئي ہے جسے ميں بہشت ميں بھيجوں يا وہ مجھے دوزخ ميں پہنچادے ؟'' حضرت على عليہ السلام مقابلے كے لئے آگے بڑھے_

جنگ شروع ہوئي اور تھوڑى ہى دير ميں مشركين كا پرچم دار شمشير على (ع) كى بدولت كيفر كردار كو پہنچا_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خوش ہوگئے اور مجاہدين اسلام نے صدائے تكبر بلند كى _

طلحہ كے بھائي نے پرچم اُٹھاليا اور آگے بڑھاجبكہ دوسرے چند افراد بھى پرچم سرنگوں ہوجانے كى صورت ميں شرك كا دفاع كرنے اور دوبارہ پرچم اٹھانے كے لئے تيار بيٹھے تھے_(۱۱)

دشمن كے حوصلے بلند كرنے ميں موسيقى كا كردار

اسلام كے مجاہد اپنے مقدّس دين كے دفاع كے لئے لڑرہے تھے اور اپنے دل و دماغ ميں شہادت كى آرزو كو پروان چڑھار ہے تھے ليكن مشركين كے سپاہيوں كا مقصد پست مادّى آرزوؤں كا حصول اور انتقام كے سوا كچھ نہ تھا _ مشركين كے نامور افراد جنگ كے دوران سپاہيو ںكے ان ہى جذبات كو بھڑ كار ہے تھے اور يہ ذمّہ دارى ان آوارہ عورتوں كى تھى جو آلات موسيقى بجاتيں اور مخصوص آواز ميں ترانے گاتى تھيں تا كہ ايك طرف لشكر كے جنسى جذبات بھڑكائيں اور دوسرى طرف انتقام كى آگ شعلہ ور كريں تا كہ وہ لوگ نفسياتى دباؤ كے تحت جنگ جارى ركھيں _

جو شعريہ بد قماش عورتيں پڑھ رہى تھيں ان كا مطلب كچھ اس طرح تھا'' ہم طارق كى بيٹياں ( وقت سحر طلوع ہو نے والا ستارہ) ہيں اور بہترين فرش پر قدم ركھتى ہيں_ اگر دشمن

۳۷

كى طرف بڑھوگے تو ہم تمہارے ساتھ بغل گير ہوگئيں، اگر دشمن كو پيٹھ دكھاؤ گے اور فرار كرو گے تو ہم تم سے جدا ہوجائے گئيں _(۱۲)

اجتماعى حملہ

حضرت علي(ع) نے نئے پرچم دار پر حملہ كيا اور وہ بھى اپنے گندے خون ميں لوٹنے لگا_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم سے اجتماعى حملہ شروع ہوا، مجاہدين اسلام ايسى شجاعت سے لڑرہے تھے جس كى تعريف بيان سے باہر ہے_ اس دوران على (ع) ، حمزہ(ع) اور ابودجانہ بے خوفى كى عظيم مثال تاريخ بشريت ميں ثبت كرتے ہوئے سپاہ دشمن پر بجلياں گرار ہے تھے ان كى تمام تر كوشش يہ تھى كہ پرچم داروں كے پير اُكھاڑديں اس ليے جنگ زيادہ تر اسى حصّہ ميں ہو رہى تھى _ چونكہ اس زمانے ميں پرچم كا سرنگوں ہوجانا شكست اور خاتمہ جنگ سمجھا جاتا تھا اسى وجہ سے مشركين كے پرچم دار انتہائي شجاعت كا مظاہرہ كر رہے تھے اور بنى عبدالدار كے قبيلہ كے افراد نہايت غيظ و غضب كے عالم ميںاپنے پرچم دار كے اردگرد جنگ كرتے جاتے تھے اور جب كوئي پرچم دار قتل ہوجاتا تو احتياطى فوجيں بلافاصلہ جلدى سے بڑھ كر پرچم كھول ديتى تھيں _ اس دوران دشمن كے شہ سواروں نے تين مرتبہ سپاہيان اسلام كے محاصرہ كو توڑنا چاہا اور ہر بار عبداللہ بن جبير كے دستے نے مردانہ وار، نہايت بہادرى كے ساتھ تيراندازى كے ذريعے ان كو پيچھے دھكيل ديا_

حضرت على (ع) كى تلوار، حمزہ (ع) كى دليرى اور عاصم بن ثابت كى تيراندازى سے'' بنى عبدالدار'' كے نو پرچم داريكے بعد ديگر ے ہوا ہوگئے اور رعب و وحشت نے مشركين كے سپاہيوں كو گھير ليا _ آخرى بار انہوں نے ''صئواب ''نامى غلام كو پرچم ديا_ صواب سياہ چہرے

۳۸

اور وحشت ناك حُليے كے ساتھ پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى طرف بڑھا، شدت غضب سے آنكھيں سرخ اور منہ سے كف جارى تھا_ ليكن على (ع) نے حملہ كيا اور تلوار كى ايسى ضربت اس كى كمر پر لگائي كہ وہ وہيں ڈھير ہوگيا_

مسلمانوں نے مشركين كى صفوف كود رہم بر ہم كرديا وہ عورتيں، جودف بجار ہى تھيں اور گانے گارہى تھيں ، دف پھينك كر پہاڑوں كى طرف بھاگيں، مشركين كے لشكر ميں فرار اور شكست شروع ہوئي اور تھوڑى ہى دير ميں زيادہ تر لوگ بھاگ گئے اور اس طرح جنگ كا پہلا مرحلہ مشركين كى شكست اور مجاہدين اسلام كى كاميابى پر ختم ہوا_

فتح كے بعد شكست

راہ خدا ميںجہاد، رضائے خدا كى طلب ، آئين اسلام كى نشر و اشاعت كے علاوہ مجاہدين اسلام كا كوئي اور مقصد نہ تھا وہ آخرى وقت تك بہادرى كے ساتھ جنگ كرتے رہے اور نتيجہ ميں فتحياب ہوئے_ ليكن فتح كے بعد بہت سے مسلمان مقصد سے ہٹ گئے اور ان كى نيت بدل گئي _ قريش نے جو مال غنيمت چھوڑا تھا اس نے بہت سے لوگوں كے اخلاص كى بنياديں ہلاديں انہوں نے فرمان رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور جنگ كے مقصد كو بُھلا ديا_ دشمنوں كے تعاقب سے چشم پوشى كركے مال غنيمت كى جمع آورى ميں مشغول ہوگئے_ انہوں نے اپنى جگہ يہ سوچ ليا تھا كہ دشمن كا كام تمام ہوگيا ہے_

درّہ كى پشت پر موجود محافظوں نے جب دشمن كو فرار اور مجاہدين كو مال غنيمت جمع كرتے ہوئے ديكھا تو جنگى حكمت عملى كے اعتبار سے اس اہم درّے كى حفاظت كى حساس ذمّہ دارى كو بُھلا ديا اور كہا كہ '' ہم يہاں كيوں رُكے رہيں؟ خدا نے دشمن كو شكست دى اور اب تمہارے بھائي مال غنيمت جمع كررہے ہيں_ چلو تا كہ ہم بھى ان كے ساتھ شركت

۳۹

كريں'' _ عبداللہ بن جبير نے ياد دلايا كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے يہ نہيں فرمايا تھا كہ '' اگر ہم قتل كرديئےائيں تو ہمارى مدد نہ كرنا اور اگر ہم كامياب ہوگئے اور مال غنيمت جمع كرنے لگے تب بھى ہمارے ساتھ شركت نہ كرنا بلكہ عقب سے ہمارى حفاظت كرتے رہنا؟'' عبداللہ نے بہت سمجھايا كہ كمانڈر كے حكم سے سرتابى نہ كرو، ليكن كوئي فائدہ نہيں ہوا_ انہوں نے غنيمت كے لالچ ميں اپنى جگہ كو چھوڑديا اوردرّے سے نكل آئے عبداللہ صرف دس ۱۰ افراد كے ساتھ وہاں باقى رہ گئے_

مشركين كى فوج كے شہ سواروں كے سردار ''خالد بن وليد ''نے جب درّے كو خالى ديكھا تو اپنے ما تحت فوجيوں كو ليكر وہاں حملہ كرديا اور چند بچے ہوئے تيراندازوں پر ٹوٹ پڑا ''عكرمہ بن ابى جہل ''نے اپنى ٹولى كے ساتھ خالد بن وليد كى پشت پناہى كى ، جن تيراندازوں نے درّہ نہيں چھوڑا تھا انھوں نے مردانہ وار مقابلہ كيا يہاں تك كہ ان كے تركش كے تمام تير خالى ہوگئے اس كے بعد انھوں نے نيزے اور پھر آخر ميں شمشير سے جنگ كى يہاں تك كہ سب شہيد ہوگئے_

سپاہيان اسلام اطمينان كے ساتھ مال غنيمت جمع كرنے ميں مشغول تھے كہ يكا يك خالد بن وليد لشكر اسلام كى پشت پر آپہنچااور جنگى حكمت عملى والے اہم حصّہ كو فتح كرليا_ دوسرى طرف سے مشركين اپنے فرار كو جارى ركھے ہوئے تھے جبكہ خالد بن وليد چلّا چلّاكر شكست خوردہ لشكر قريش كو مدد كے ليے پكار رہا تھا_ اسى دوران بھاگنے والوں ميں پيچھے رہ جانے والى ايك عورت نے كُفر كے سرنگوں پرچم كو لہرا ديا_ تھوڑى ہى دير ميں قريش كا بھاگا ہوا لشكر واپس آگيا اور شكست خوردہ لشكر پھر سے منظم ہوگيا_

سپاہ اسلام افرا تفرى اور بدنظمى كى وجہ سے تھوڑى ہى دير ميں سامنے اور پيچھے سے محاصرہ

۴۰

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417

418

419

420

421

422

423

424

425

426

427

428

429

430

431

432

433

434

435

436

437

438

439

440

441

442

443

444

445

446

447

448

449

450

451

452

453

454

455

456

457

458

459

460

461

462

463

464

465

466

467

468

469

470

471

472

473

474

475

476

477

478

479

480

481

482

483

484

485

486

487

488

489

490

491

492

493

494

495

496

497

498

499

500

501

502

503

504

505

506

507

508

509

510

511

512

513

514

515

516

517

518

519

520

521

522

523

524

525

526

527

528

529

530

531

532

533

534

535

536

537

538

539

540

541

542

543

544

545

546

547

548

549

550

551

552

553

554

555

556

557

558

559

560

561

562

563

564

565

566

567

568

569

570

571

572

573

574

575

576

577

578

579

580

والْمُبْتَاعِ فَمَنْ قَارَفَ حُكْرَةً بَعْدَ نَهْيِكَ إِيَّاه فَنَكِّلْ بِه وعَاقِبْه فِي غَيْرِ إِسْرَافٍ

ثُمَّ اللَّه اللَّه فِي الطَّبَقَةِ السُّفْلَى مِنَ الَّذِينَ لَا حِيلَةَ لَهُمْ - مِنَ الْمَسَاكِينِ والْمُحْتَاجِينَ وأَهْلِ الْبُؤْسَى والزَّمْنَى - فَإِنَّ فِي هَذِه الطَّبَقَةِ قَانِعاً ومُعْتَرّاً - واحْفَظِ لِلَّه مَا اسْتَحْفَظَكَ مِنْ حَقِّه فِيهِمْ - واجْعَلْ لَهُمْ قِسْماً مِنْ بَيْتِ مَالِكِ - وقِسْماً مِنْ غَلَّاتِ صَوَافِي الإِسْلَامِ فِي كُلِّ بَلَدٍ - فَإِنَّ لِلأَقْصَى مِنْهُمْ مِثْلَ الَّذِي لِلأَدْنَى – وكُلٌّ قَدِ اسْتُرْعِيتَ حَقَّه - ولَا يَشْغَلَنَّكَ عَنْهُمْ بَطَرٌ - فَإِنَّكَ لَا تُعْذَرُ بِتَضْيِيعِكَ التَّافِه لإِحْكَامِكَ الْكَثِيرَ الْمُهِمَّ - فَلَا تُشْخِصْ هَمَّكَ عَنْهُمْ ولَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لَهُمْ - وتَفَقَّدْ أُمُورَ مَنْ لَا يَصِلُ إِلَيْكَ مِنْهُمْ - مِمَّنْ تَقْتَحِمُه الْعُيُونُ وتَحْقِرُه الرِّجَالُ - فَفَرِّغْ لأُولَئِكَ ثِقَتَكَ مِنْ أَهْلِ الْخَشْيَةِ والتَّوَاضُعِ - فَلْيَرْفَعْ إِلَيْكَ أُمُورَهُمْ - ثُمَّ اعْمَلْ فِيهِمْ بِالإِعْذَارِ إِلَى اللَّه يَوْمَ تَلْقَاه - فَإِنَّ هَؤُلَاءِ مِنْ بَيْنِ الرَّعِيَّةِ أَحْوَجُ إِلَى الإِنْصَافِ مِنْ غَيْرِهِمْ - وكُلٌّ فَأَعْذِرْ إِلَى اللَّه فِي تَأْدِيَةِ حَقِّه إِلَيْه

ظلم نہ ہو۔اس کے بعد تمہارے منع کرنے کے باوجود اگر کوئی شخص ذخیرہ اندوزی کرے تو اسے سزا دو لیکن اس میں بھی حد سے تجاوز نہ ہونے پائے ۔

اس کے بعد اللہ سے ڈرو اس پسماندہ طبقہ کے بارے میں جو مساکین 'محتاج ' فقراء اورمعذور افراد کا طبقہ ہے جن کا کوئی سہارا نہیں ہے۔اس طبقہ میں مانگنے والے بھی ہیں اور غیرت داربھی ہیں جن کی صورت سوال ہے۔ انکے جس حق کا اللہ نے تمہیں محافظ بنایا ہے اس کی حفاظت کرو اور ان کے لئے بیت المال اورارض غنیمت کے غلات میں سے ایک حصہ مخصوص کردو کہ ان کے دور افتادہ کا بھی وہی حق ہے جو قریب والوں کا ہے اورتمہیں سبکا نگراں بنایا گیا ہے لہٰذا خبردارکہیں غرور و تکبر تمہیں ان کی طرف سے غافل نہ بنادے کہ تمہیں بڑے کاموں کے مستحکم کر دینے سے چھوٹے کاموں کی بربادی سے معاف نہ کیا جائے گا۔لہٰذا نہ اپنی توجہ کو ان کی طرف سے ہٹانا اور نہ غرور کی بناپر اپنا منہ موڑ لینا۔جن لوگوں کی رسائی تم تک نہیں ہے اور انہیں نگاہوں نے گرادیا ہے اور شخصیتوں نے حقیر بنادیا ہے ان کے حالات کی دیکھ بھال بھی تمہارا ہی فریضہ ہے لہٰذا ان کے لئے متواضع اور خوف خدا رکھنے والے معتبر افراد کو مخصوص کردو جو تم تک ان کے معاملات کو پہنچاتے رہیں اورتم ایسے اعمال انجام دیتے رہو جن کی بناپر روز قیامت پیش پروردگار معذور کہے جا سکو کہ یہی لوگ سب سے زیادہ انصاف کے محتاج ہیں اور پھر ہرایک کے حقوق کو ادا کرنے میں پیش پروردگار اپنے

۵۸۱

وتَعَهَّدْ أَهْلَ الْيُتْمِ وذَوِي الرِّقَّةِ فِي السِّنِّ مِمَّنْ لَا حِيلَةَ لَه ولَا يَنْصِبُ لِلْمَسْأَلَةِ نَفْسَه - وذَلِكَ عَلَى الْوُلَاةِ ثَقِيلٌ - والْحَقُّ كُلُّه ثَقِيلٌ وقَدْ يُخَفِّفُه اللَّه عَلَى أَقْوَامٍ - طَلَبُوا الْعَاقِبَةَ فَصَبَّرُوا أَنْفُسَهُمْ - ووَثِقُوا بِصِدْقِ مَوْعُودِ اللَّه لَهُمْ.

واجْعَلْ لِذَوِي الْحَاجَاتِ مِنْكَ قِسْماً تُفَرِّغُ لَهُمْ فِيه شَخْصَكَ - وتَجْلِسُ لَهُمْ مَجْلِساً عَامّاً - فَتَتَوَاضَعُ فِيه لِلَّه الَّذِي خَلَقَكَ - وتُقْعِدُ عَنْهُمْ جُنْدَكَ وأَعْوَانَكَ مِنْ أَحْرَاسِكَ وشُرَطِكَ - حَتَّى يُكَلِّمَكَ مُتَكَلِّمُهُمْ غَيْرَ مُتَتَعْتِعٍ - فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم يَقُولُ فِي غَيْرِ مَوْطِنٍ - لَنْ تُقَدَّسَ

کو معذور ثابت کرو۔

اوریتیموں اور کبیر السن بوڑھوں کے حالات کی بھی نگرانی کرتے رہنا کہ ان کا کوئی وسیلہ نہیں ہے اور یہ سوال کرنے کے لئے کھڑے بھی نہیں ہوتے ہیں ظاہر ہے کہ ان کا خیال رکھنا حکام کے لئے بڑا سنگین مسئلہ ہوتا ہے لیکن کیا کیا جائے حق تو سب کا سب ثقیل ہی ہے۔البتہ کبھی کبھی پروردگار اسے ہلکا قرار دے دیتا ہے ان اقوام کے لئے جو عاقبت کی طلب گار ہوتی ہیں اور اس راہمیں اپنے نفس کو صبر کاخوگر بناتی ہیں اورخدا کے وعدہ پر اعتماد کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

اور دیکھو صاحبان ضرورت کے لئے ایک وقت معین کردو جس میں اپنے کوان کے لئے خالی کرلو اور ایک عمومی مجلس میں بیٹھوں ۔اس خداکے سامنے متواضع رہو جس نے پیدا کیا ہے اور اپنے تمام نگہبان(۱) پولیس' فوج ' اعوان و انصار سب کو دوربٹھا دو تاکہ بولنے والا آزادی سے بول سکے اور کسی طرح کی لکنت کا شکارنہ ہو کہ میں نے رسول اکرم (ص) سے خود سنا ہے کہ آپ نے بار بار فرمایا ہے کہ ' 'وہ امت پاکیزہ کردار نہیں ہوسکتی ہے جس میں

(۱) مقصد یہ نہیں ہے کہ حاکم جلسہ عام میں لاوارث ہو کر بیٹھ جائے اور کوئی بھی مفسد ' ظالم فقیر کے بھیس میں آکر اس کا خاتمہ کردے ۔مقصد صرف یہ ہے کہ پولیس ' فوج ' محافظ ' دربان ' لوگوں کے ضروریات کی راہ میں حائل نہ ہونے پائیں کہ نہ انہیں تمہارے پاس آنے دیں اور نہ کھ لکر بات کرنے کاموقع دیں ۔چاہے اس سے پہلے بچاس مقامات پر تلاشی لی جائے کہ غرباء کی حاجت روائی کے نام پر حکام کی زندگیوں کو قربان نہیں کیا جا سکتا ہے اور نہ مفسدین کوبے لگام چھوڑا جاسکتا ہے۔حاکم کے لئے بنیادی مسئلہ اس کی شرافت ' دیانت ' امانت داری کا ہے اس کے بعد اس کا مرتبہ عام معاشرہ سے بہرحال بلند تر ہے اور اس کی زندگی عوام الناس سے یقینا زیادہ قیمتی ہے اور اس کا تحفظ عوام الناس پر اسی طرح واجب ہے جس طرح وہ خودان کے مفادات کاتحفظ کر رہا ہے۔

۵۸۲

أُمَّةٌ لَا يُؤْخَذُ لِلضَّعِيفِ فِيهَا حَقُّه مِنَ الْقَوِيِّ - غَيْرَ مُتَتَعْتِعٍ –

ثُمَّ احْتَمِلِ الْخُرْقَ مِنْهُمْ والْعِيَّ - ونَحِّ عَنْهُمُ الضِّيقَ والأَنَفَ - يَبْسُطِ اللَّه عَلَيْكَ بِذَلِكَ أَكْنَافَ رَحْمَتِه - ويُوجِبْ لَكَ ثَوَابَ طَاعَتِه - وأَعْطِ مَا أَعْطَيْتَ هَنِيئاً وامْنَعْ فِي إِجْمَالٍ وإِعْذَارٍ !

ثُمَّ أُمُورٌ مِنْ أُمُورِكَ لَا بُدَّ لَكَ مِنْ مُبَاشَرَتِهَا - مِنْهَا إِجَابَةُ عُمَّالِكَ بِمَا يَعْيَا عَنْه كُتَّابُكَ - ومِنْهَا إِصْدَارُ حَاجَاتِ النَّاسِ يَوْمَ وُرُودِهَا عَلَيْكَ - بِمَا تَحْرَجُ بِه صُدُورُ أَعْوَانِكَ - وأَمْضِ لِكُلِّ يَوْمٍ عَمَلَه فَإِنَّ لِكُلِّ يَوْمٍ مَا فِيه: واجْعَلْ لِنَفْسِكَ فِيمَا بَيْنَكَ وبَيْنَ اللَّه - أَفْضَلَ تِلْكَ الْمَوَاقِيتِ وأَجْزَلَ تِلْكَ الأَقْسَامِ - وإِنْ كَانَتْ كُلُّهَا لِلَّه إِذَا صَلَحَتْ فِيهَا النِّيَّةُ - وسَلِمَتْ مِنْهَا الرَّعِيَّةُ.

ولْيَكُنْ فِي خَاصَّةِ مَا تُخْلِصُ بِه لِلَّه دِينَكَ إِقَامَةُ فَرَائِضِه - الَّتِي هِيَ لَه خَاصَّةً - فَأَعْطِ اللَّه مِنْ بَدَنِكَ فِي لَيْلِكَ ونَهَارِكَ - ووَفِّ مَا تَقَرَّبْتَ بِه إِلَى اللَّه -

کمزور کو آزادی کے ساتھ طاقتور سے اپنا حق لینے کا موقع نہ دیا جائے ''

اس کے بعد ان سے بد کلامی یا عاجزی کلام کا مظاہرہ ہو تواسے برداشت کرو اور دل تنگی اور غرور کو دور رکھو کہ تاکہ خدا تمہارے لئے رحمت کے اطراف کشارہ کردے اور اطاعت کے ثواب کو لازم قرار دیدے جسے جو کچھ دو خوشگواری کے ساتھ دو اور جسے منع کرو اسے خوبصورتی کے ساتھ ٹال دو۔

اس کے بعد تمہارے معاملات میں بعض ایسے معاملات بھی ہیں جنہیںتمہیں خود براہ راست انجام دینا ہے۔جیسے حکام کے ان مسائل کے جوابات جن کے جوابات محرر افراد نہ دے سکیں یا لوگوں کے ان ضروریات کو پورا کرنا جن کے پورا کرنے سے تمہارے مدد گار افراد جی چراتے ہوں اوردیکھو ہر کام کو اسی کے دن مکمل کردینا کہ ہردن کا اپنا ایک کام ہوتا ہے۔اس کے بعد اپنے اور پروردگار کے روابط کے لئے بہترین وقت کا انتخاب کرنا جو تمام اوقات سے افضل اور بہتر ہو۔اگرچہ تمام ہی اوقات اللہ کے لئے شمار ہو سکتے ہیں اگر انسان کی نیت سالم رہے اور رعایا اس کے طفیل خوشحال ہو جائے ۔

اور تمہارے وہ اعمال جنہیں صرف اللہ کے لئے انجام دیتے ہو ان میں سے سب سے اہم کام ان فرائض کا قیام ہو جو صرف پروردگار کے لئے ہوتے ہیں۔اپنی جسمانی طاقت میں سے رات اور دن دونوں وقت ایک حصہ اللہ کے لئے قرار دینا اور جس کام کے ذریعہ اس کی قربت

۵۸۳

مِنْ ذَلِكَ كَامِلًا غَيْرَ مَثْلُومٍ ولَا مَنْقُوصٍ - بَالِغاً مِنْ بَدَنِكَ مَا بَلَغَ - وإِذَا قُمْتَ فِي صَلَاتِكَ لِلنَّاسِ - فَلَا تَكُونَنَّ مُنَفِّراً ولَا مُضَيِّعاً - فَإِنَّ فِي النَّاسِ مَنْ بِه الْعِلَّةُ ولَه الْحَاجَةُ - وقَدْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حِينَ وَجَّهَنِي إِلَى الْيَمَنِ - كَيْفَ أُصَلِّي بِهِمْ - فَقَالَ صَلِّ بِهِمْ كَصَلَاةِ أَضْعَفِهِمْ - وكُنْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيماً».

وأَمَّا بَعْدُ فَلَا تُطَوِّلَنَّ احْتِجَابَكَ عَنْ رَعِيَّتِكَ - فَإِنَّ احْتِجَابَ الْوُلَاةِ عَنِ الرَّعِيَّةِ شُعْبَةٌ مِنَ الضِّيقِ - وقِلَّةُ عِلْمٍ بِالأُمُورِ - والِاحْتِجَابُ مِنْهُمْ يَقْطَعُ عَنْهُمْ عِلْمَ مَا احْتَجَبُوا دُونَه - فَيَصْغُرُ عِنْدَهُمُ الْكَبِيرُ ويَعْظُمُ الصَّغِيرُ - ويَقْبُحُ الْحَسَنُ ويَحْسُنُ الْقَبِيحُ -

چاہتے ہو اسے مکمل طور سے انجام دینا نہ کوئی رخنہ پڑنے پائے اورنہ کوئی نقص پیدا ہو جائے بدن کو کسی قدرزحمت کیوں نہ ہو جائے۔اور جب لوگوں کے ساتھ جماعت کی نمازادا کرو تو نہ اس طرح پڑھو کہ لوگ بیزار ہو جائیں اور نہ اس طرح کہ نماز برباد ہو جائے اس لئے کہ لوگوں میں بیمار اور ضرورت مند افراد بھی ہوتے ہیں اور میں نے یمن کی مہم پر جاتے ہوئے حضور اکرم (ص) سے دریافت کیا تھا کہ نماز جماعت کا اندازہ کیا ہونا چاہیے تو آپ نے فرمایا تھا کہ کمزور ترین آدمی کے اعتبارسے نماز ادا کرنا اور مومنین کے حال پر مہربان رہنا۔

اس کے بعد یہ بھی خیال رہے کہ اپنی رعایا سے دیر تک(۱) الگ نہ رہنا کہ حکام کا رعایا سے پس پردہ رہنا ایک طرح کی تنگ دلی پیداکرتا ہے اور ان کے معاملات کی اطلاع نہیں ہو پاتی ہے اور یہ پردہ داری انہیں بھی ان چیزوں کے جاننے سے روک دیتی ہے جن کے سامنے یہ حجابات قائم ہوگئے ہیں اور اس طرح بڑی چیز چھوٹی ہو جاتی ہے اورچھوٹی چیز بڑی ہو جاتی ہے۔اچھا برا بن جاتا ہے اوربرا اچھاہوجاتا ہے

(۱)یہ شاید اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ سماج اور عوام سے الگ رہنا والی اورحاکم کے ضروریات زندگی میں شامل ہے ورنہ اس کی زندگی ۲۴گھنٹہ عوام الناس کی نذر ہوگئی تو نہ تنہائیوں می اپنے مالک سے مناجات کر سکتا ہے اور نہ خلوتوں میں اپنے اہل و عیال کے حقوق ادا کر سکتا ہے۔پردہ داری ایک انسانی ضرورت ہے جس سے کوئی انسان بے نیاز نہیں ہو سکتا ہے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس پردہ داری کو طول نہ ہونے پائے کہ عوام الناس حاکم کی زیارت سے محروم ہو جائیں اور اس کا دیدار صرف ٹیلیویژن کے پردہ پر نصیب ہو جس سے نہ کوئی فریاد کی جا سکتی ہے اور نہ کسی درد دل کا اظہار کیا جاسکتا ہے۔ایسے شخص کو حاکم بننے کا یکا حق ہے جو عوام کے دکھ درد میں شریک نہ ہو سکے اور ان کی زندگی کی تلخیوں کو محسوس نہ کرسکے۔ایسے شخص کو دربار حکومت میں بیٹھ کر'' انا ربکم الا علی '' کا نعرہ لگانا چاہیے اور آخر میں کسی دریا میں ڈوب مرنا چاہیے۔اسلامی حکومت اس طرح کی لا پرواہی کو برداشت نہیں کر سکتی ہے۔اس کے لئے کوفہ میں بیٹھ کرحجاز اور یمامہکے فقراء کو دیکھنا پڑتا ہے اور ان کی حالت کے پیشنظر سو کھی روٹی کھانا پڑتی ہے۔

۵۸۴

ويُشَابُ الْحَقُّ بِالْبَاطِلِ - وإِنَّمَا الْوَالِي بَشَرٌ - لَا يَعْرِفُ مَا تَوَارَى عَنْه النَّاسُ بِه مِنَ الأُمُورِ - ولَيْسَتْ عَلَى الْحَقِّ سِمَاتٌ - تُعْرَفُ بِهَا ضُرُوبُ الصِّدْقِ مِنَ الْكَذِبِ - وإِنَّمَا أَنْتَ أَحَدُ رَجُلَيْنِ - إِمَّا امْرُؤٌ سَخَتْ نَفْسُكَ بِالْبَذْلِ فِي الْحَقِّ - فَفِيمَ احْتِجَابُكَ مِنْ وَاجِبِ حَقٍّ تُعْطِيه - أَوْ فِعْلٍ كَرِيمٍ تُسْدِيه أَوْ مُبْتَلًى بِالْمَنْعِ - فَمَا أَسْرَعَ كَفَّ النَّاسِ عَنْ مَسْأَلَتِكَ - إِذَا أَيِسُوا مِنْ بَذْلِكَ - مَعَ أَنَّ أَكْثَرَ حَاجَاتِ النَّاسِ إِلَيْكَ - مِمَّا لَا مَئُونَةَ فِيه عَلَيْكَ - مِنْ شَكَاةِ مَظْلِمَةٍ أَوْ طَلَبِ إِنْصَافٍ فِي مُعَامَلَةٍ.

ثُمَّ إِنَّ لِلْوَالِي خَاصَّةً وبِطَانَةً - فِيهِمُ اسْتِئْثَارٌ وتَطَاوُلٌ وقِلَّةُ إِنْصَافٍ فِي مُعَامَلَةٍ فَاحْسِمْ مَادَّةَ أُولَئِكَ بِقَطْعِ أَسْبَابِ تِلْكَ الأَحْوَالِ - ولَا تُقْطِعَنَّ لأَحَدٍ مِنْ حَاشِيَتِكَ وحَامَّتِكَ قَطِيعَةً - ولَا يَطْمَعَنَّ مِنْكَ فِي اعْتِقَادِ عُقْدَةٍ - تَضُرُّ بِمَنْ يَلِيهَا مِنَ النَّاسِ - فِي شِرْبٍ أَوْ عَمَلٍ مُشْتَرَكٍ - يَحْمِلُونَ مَئُونَتَه عَلَى غَيْرِهِمْ

اورحق باطل سے مخلوط ہو جاتا ہے۔اور حاکم بھی بالآخر ایک بشر ہے وہ پس پردہ امور کی اطلاع نہیں رکھتا ہے اور نہ حق کی پیشانی پر ایسے نشانات ہوتے ہیں جن کے ذریعہ صداقت کے اقسام کو غلط بیانی سے الگ کرکے پہچانا جاسکے۔

اور پھر تم دو میں سے ایک قسم کے ضرور ہوگے۔یا وہ شخص ہوگے جس کا نفس حق کی راہمیں بذل و عطا پر مائل ہے تو پھرتمہیں واجب حق عطا کرنے کی راہ میں پر وہ حائل کرنے کی کیا ضرورت ہے۔اور کریموں جیسا عمل کیوں نہیں انجام دیتے ہو۔یا تم بخل کی بیماری میں مبتلا ہوگے تو بہت جلدی لوگ تم سے مایوس ہوکرخود ہی اپنے ہاتھ کھینچ لیں گے اور تمہیں پردہ ڈالنے کی ضرورت ہی نہ پڑے گی۔حالانکہ لوگوں کے اکثر ضروریات وہ ہیں جن میں تمہیں کسی طرح کی زحمت نہیں ہے جیسے ظلم کی فریاد یا کسی معاملہ میں انصاف کا مطالبہ ۔

اس کے بعد یہ بھی خیال رہے کہ ہر والی کے کچھ مخصوص اور راز دار قسم کے افراد ہوتے ہیں جن میں خودغرضی ، دست درازی اورمعاملات میں بے انصافی پاء جاتی ہے لہٰذا خبردار ایسے افراد کے فساد کا علاج ان اسباب کے خاتمہ سے کرنا جن سے یہ حالات پیدا ہوتے ہیں۔اپنے کسی بھی حاشیہ نشین اورقرابت دار کو کوئی جاگیر مت بخش دینا اوراسے تم سے کوئی ایسی توقع نہ ہونی چاہیے کہ تم کسی ایسی زمین پر قبضہ دیدو گے جس کے سبب آبپاشی یا کی مشترک معاملہ میں شرکت رکھنے والے افراد کو نقصان پہنچ جائیکہ اپنے مصارف بھی دوسرے کے سرڈال دے اور

۵۸۵

فَيَكُونَ مَهْنَأُ ذَلِكَ لَهُمْ دُونَكَ - وعَيْبُه عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا والآخِرَةِ.

وأَلْزِمِ الْحَقَّ مَنْ لَزِمَه مِنَ الْقَرِيبِ والْبَعِيدِ - وكُنْ فِي ذَلِكَ صَابِراً مُحْتَسِباً - وَاقِعاً ذَلِكَ مِنْ قَرَابَتِكَ وخَاصَّتِكَ حَيْثُ وَقَعَ - وابْتَغِ عَاقِبَتَه بِمَا يَثْقُلُ عَلَيْكَ مِنْه - فَإِنَّ مَغَبَّةَ ذَلِكَ مَحْمُودَةٌ.

وإِنْ ظَنَّتِ الرَّعِيَّةُ بِكَ حَيْفاً فَأَصْحِرْ لَهُمْ بِعُذْرِكَ - واعْدِلْ عَنْكَ ظُنُونَهُمْ بِإِصْحَارِكَ - فَإِنَّ فِي ذَلِكَ رِيَاضَةً مِنْكَ لِنَفْسِكَ ورِفْقاً بِرَعِيَّتِكَ وإِعْذَاراً - تَبْلُغُ بِه حَاجَتَكَ مِنْ تَقْوِيمِهِمْ عَلَى الْحَقِّ.

ولَا تَدْفَعَنَّ صُلْحاً دَعَاكَ إِلَيْه عَدُوُّكَ ولِلَّه فِيه رِضًا فَإِنَّ فِي الصُّلْحِ دَعَةً لِجُنُودِكَ -

اس طرح اس معاملہ کا مزہ اس کے حصہ میں آئے اور اس کی ذمہ داری دنیا اور آخرت میں تمہارے ذمہ رہے۔

اور جس پر کوئی حق عائد ہو اس پر اس کے نافذ کرنے کی ذمہ داری ڈالو چاہے وہ تم سے نزدیک ہویا دور اوراس مسئلہ میں اللہ کی راہ میں صبرو تحمل سے کام لینا چاہے اس کی زد تمہاریقرابتداروں اورخاص افراد ہی پرکیوں نہ پڑتی ہواور اس سلسلہ میں تمہارے مزاج پر جو بار ہو اسے آخرت کی امید میں برداشت کرلینا کہ اس کا انجام بہتر ہوگا۔

اور اگر کبھی رعایا کو یہ خیال ہو جائے کہ تم نے ان پر ظلم کیا ہے توان کے لئے اپنے عذر کا اظہار کرواور اسی ذریعہ سے ان کی بد گمانی کاعلاج کرو کہ اس میں تمہارے نفس کی تربیت بھی ہے اور رعایا پر نرمی کا اظہار بھی ہے اوروہ عذر خواہی بھی وہے جس کے ذریعہ تمرعایا کو راہ حق پر چلانے کا مقصد بھی حاصل کرسکتے ہو۔

اور خبردار کسی ایسی دعوت صلح کا انکارنہ کرنا جس کی تحریک دشن کی طرف سے ہو اور جس میں مالک کی رضا مندی(۱) پائی جاتی ہو کہ صلح کے ذریعہ فوجوں کو

(۱)اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ صلح ایک بہترین طریقہ کار ہے اور قرآن نے اسے ''خیر '' سے تعبیر کیاہے لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ جو شخص جن حالات میں جس طرح کی صلح کیدعوت دے تم قبول کرلو اور اس کے بعد مطمئن ہو کر بیٹھ جائو کہ ایسے نظام میں ہر ظالم اپنی ظالمانہ حرکتوں ہی پر صلح کرنا چاہیے گا اور تمہیں اسے تلیم کرنا ہوگا۔صلح کی بنیادی شرط یہ ہے کہاسے رضائے الٰہی کے مطابق ہونا چاہیے اور اس کی کسی دفعہ کو بھی مرضی پروردگار کے خلاف نہیں ہونا چاہیے جس طرح کہ سرکار دو عالم (ص) کی صلح میں دیکھا گیا ہے کہ آپ نے جس جس لفظ اور جس جس دفعہ پر صلح کی ہے سب کی سب مطابق حقیقت اور عین مرضی پروردگار تھیں اور کوئی حرف غلط درمیان میں نہیں تھا ''بسمک اللھم '' بھی ایک کلمہ صحیح تھا۔محمد بن عبداللہ بھی ایک حرف حق تھا اوردشمن کے افراد کاواپس کردینا بھی کوئیغلط اقدام نہیں تھا۔امام حسن مجتبیٰ کی صلح میں بھی یہی تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں جن کا مشاہدہ سرکار دو عالم (ص) کی صلح میں کیا جا چکا ہے۔اوریہ مولائے کائنات کی بنیادی تعلیم اور اسلام کاواقعی ہدف اور مقصد ہے۔

۵۸۶

ورَاحَةً مِنْ هُمُومِكَ وأَمْناً لِبِلَادِكَ - ولَكِنِ الْحَذَرَ كُلَّ الْحَذَرِ مِنْ عَدُوِّكَ بَعْدَ صُلْحِه - فَإِنَّ الْعَدُوَّ رُبَّمَا قَارَبَ لِيَتَغَفَّلَ - فَخُذْ بِالْحَزْمِ واتَّهِمْ فِي ذَلِكَ حُسْنَ الظَّنِّ - وإِنْ عَقَدْتَ بَيْنَكَ وبَيْنَ عَدُوِّكَ عُقْدَةً - أَوْ أَلْبَسْتَه مِنْكَ ذِمَّةً - فَحُطْ عَهْدَكَ بِالْوَفَاءِ وارْعَ ذِمَّتَكَ بِالأَمَانَةِ - واجْعَلْ نَفْسَكَ جُنَّةً دُونَ مَا أَعْطَيْتَ - فَإِنَّه لَيْسَ مِنْ فَرَائِضِ اللَّه شَيْءٌ - النَّاسُ أَشَدُّ عَلَيْه اجْتِمَاعاً مَعَ تَفَرُّقِ أَهْوَائِهِمْ - وتَشَتُّتِ آرَائِهِمْ - مِنْ تَعْظِيمِ الْوَفَاءِ بِالْعُهُودِ - وقَدْ لَزِمَ ذَلِكَ الْمُشْرِكُونَ فِيمَا بَيْنَهُمْ دُونَ الْمُسْلِمِينَ - لِمَا اسْتَوْبَلُوا مِنْ عَوَاقِبِ الْغَدْرِ - فَلَا تَغْدِرَنَّ بِذِمَّتِكَ ولَا تَخِيسَنَّ بِعَهْدِكَ ولَا تَخْتِلَنَّ عَدُوَّكَ - فَإِنَّه لَا يَجْتَرِئُ عَلَى اللَّه إِلَّا جَاهِلٌ شَقِيٌّ - وقَدْ جَعَلَ اللَّه عَهْدَه وذِمَّتَه أَمْناً أَفْضَاه بَيْنَ الْعِبَادِ بِرَحْمَتِه وحَرِيماً يَسْكُنُونَ إِلَى مَنَعَتِه ويَسْتَفِيضُونَ إِلَى جِوَارِه فَلَا إِدْغَالَ ولَا مُدَالَسَةَ ولَا خِدَاعَ فِيه -

قدرے سکون مل جاتا ہے اور تمہارے نفس کو بھی افکار سے نجات مل جائے گی اور شہروں میں بھی امن وامان ک فضا قائم ہو جائے گی۔البتہ صلح کے بعد دشمن کی طرف سے مکمل طور پر ہوشیار رہنا کہ کبھی کبھی وہ تمہیں غافل بنانے کے لئے تم سے قربت اختیار کرنا چاہتا ہے لہٰذا اس مسئلہ میں مکمل ہو شیاری سے کام لینا اور کسی حسن ظن سے کام نہ لینا اوراگر اپنے اور اس کیدرمیان کوئی معاہدہ کرنایا اسے کسی طرح کی پناہ دینا تو اپنے عہد کی پاسداری و وفاداری کے ذریعہ کرنا اور اپنے ذمہ کو امانت داری کے ذریعہ محفوظ بنانا اور اپنے قول و قرارکی راہ میں اپنے نفس کو سپر بنادینا کہ اللہ کے فرائض میں ایفائے عہد جیسا کوئی فریضہ نہیں ہے جس پر تمام لوگ خواہشات کے اختلاف اورافکار کے تضاد کے باوجودمتحد ہیں اور اس کا مشرکین نے بھی اپنے معاملات میں لحاظ رکھا ہے کہ عہد شکنی کے نتیجہ میں تباہیوں کا انداہ کرلیا ہے۔تو خبردار تم اپنے عہدو پیمان سے غداری نہ کرنا اور اپنے قول و قرار میں خیانت سے کام نہ لینا اور اپنے دشمن پر اچانک حملہ نہ کردینا۔اس لئے کہ اللہ کے مقابلہ میں جاہل و بد بخت کے علاوہ کوئی جرأت نہیں کرتا ہے اور اللہ نے عہدو پیمان کو امن وامان کا وسیلہ قراردیا ہے جسے اپنی رحمت سے تمام بندو ں کے درمیان عام کردیا ہے اور ایسی پناہ گاہ بنادیا ہے جس کے دامن حفاظت میں پناہ لینے والے پناہ لیتے ہیں اور اسکے جوار میں منزل کرنے کے لئے تیز سے قدم آگے بڑھاتے ہیں لہٰذا اس میں کوئی جعل سازی ' فریب کاری اور مکاری نہ

۵۸۷

ولَا تَعْقِدْ عَقْداً تُجَوِّزُ فِيه الْعِلَلَ ولَا تُعَوِّلَنَّ عَلَى لَحْنِ قَوْلٍ بَعْدَ التَّأْكِيدِ والتَّوْثِقَةِ ولَا يَدْعُوَنَّكَ ضِيقُ أَمْرٍ لَزِمَكَ فِيه عَهْدُ اللَّه إِلَى طَلَبِ انْفِسَاخِه بِغَيْرِ الْحَقِّ - فَإِنَّ صَبْرَكَ عَلَى ضِيقِ أَمْرٍ تَرْجُو انْفِرَاجَه وفَضْلَ عَاقِبَتِه خَيْرٌ مِنْ غَدْرٍ تَخَافُ تَبِعَتَه - وأَنْ تُحِيطَ بِكَ مِنَ اللَّه فِيه طِلْبَةٌ - لَا تَسْتَقْبِلُ فِيهَا دُنْيَاكَ ولَا آخِرَتَكَ.

إِيَّاكَ والدِّمَاءَ وسَفْكَهَا بِغَيْرِ حِلِّهَا - فَإِنَّه لَيْسَ شَيْءٌ أَدْعَى لِنِقْمَةٍ ولَا أَعْظَمَ لِتَبِعَةٍ - ولَا أَحْرَى بِزَوَالِ نِعْمَةٍ وانْقِطَاعِ مُدَّةٍ - مِنْ سَفْكِ الدِّمَاءِ بِغَيْرِ حَقِّهَا - واللَّه سُبْحَانَه مُبْتَدِئٌ بِالْحُكْمِ بَيْنَ الْعِبَادِ - فِيمَا تَسَافَكُوا مِنَ الدِّمَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ - فَلَا تُقَوِّيَنَّ سُلْطَانَكَ بِسَفْكِ دَمٍ حَرَامٍ -

ہونی چاہیے اورکوئی ایسا معاہدہ نہ کرنا جس میں تاویل کی ضرورت پڑے اور معاہدہ کے پختہ ہو جانے کے بعد اس کے کسی مبہم لفظ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرنا اور عہد الٰہی میںتنگی کا احساس غیر حق کے ساتھ وسعت کی جستجو پرآمادہ نہ کردے کہ کسی امر کی تنگی پر صبر کرلینا اور کشائش حال اور بہترین عاقبت کا انتظار کرنا اس غداری سے بہتر ہے جس کے اثرات خطرناک ہوں اور تمہیں اللہ کی طرف سے جواب دہی کی مصیبت گھیر لے اور دنیا و آخرت دونوں تباہ ہو جائیں ۔

دیکھو خبردار۔ناحق خون بہانے سے پرہیز کرنا کہ اس سے زیادہ عذاب الٰہی سے قریب تر اور پاداش کے اعتبارسے شدید تر اورنعمتوں کے زوال۔زندگی کے خاتمہ کے لئے مناسب تر کوئی سبب نہیں ہے اور پروردگار روز قیامت اپنے فیصلہ کاآغاز خونریزیوں کے معاملہ سے کرے گا۔لہٰذا خبردار اپنی حکومت کا استحکام(۱) ناحق خون ریزی کے ذریعہ نہ پیدا کرنا کہ یہ بات حکومت کو کمزوراور بے جان بنا دیتی ہے بلکہ تباہ کرکے دوسروں کی طرف منتقل کر دیتی ہے اور تمہارے پاس نہ خدا کے سامنے اور نہ میرے سامنے عمداً قتل کرنے کا کوئی عذرنہیں ہے اور اس میں

(۱) واضح رہے کہ دنیا میں حکومتوں کا قیام تو وراثت ' جمہوریت ' عسکری انقلاب اور ذہانت وفراست تمام اسباب سے ہو سکتا ہے لیکن حکومتوں میں استحکام عوام کی خوشی اور ملک کی خوشحالی کے بغیر ممکن نہیں ہے اور جن افراد نے یہ خیال کیا کہ وہ اپنی حکومتوں کو خونریزی کے ذریعہ مستحکم بنا سکتے ہیں انہوں نے جیتے جی اپنی غلط فہمی کا انجام دیکھ لیا اوہ ہٹلر جیسے شخص کو بھی خود کشی پر آمادہ ہونا پڑا۔اسی لئے کہا گیا ہے کہملک کفر کے ساتھ تو باقی رہ سکتا ہے لیکن ظلم کے ساتھب اقی نہیں رہ سکتا ہے اور انسانیت کاخون بہانے سے بڑا کوئی جرم قابل تصور نہیں ہے لہٰذا اس سے پرہیز ہر صاحب اقتداراور صاحب عقل و ہوش کا فریضہ ہے اور زمانہ کی گردش کے پلٹتے دیر نہیں لگتی ہے ۔

۵۸۸

فَإِنَّ ذَلِكَ مِمَّا يُضْعِفُه ويُوهِنُه بَلْ يُزِيلُه ويَنْقُلُه - ولَا عُذْرَ لَكَ عِنْدَ اللَّه ولَا عِنْدِي فِي قَتْلِ الْعَمْدِ - لأَنَّ فِيه قَوَدَ الْبَدَنِ - وإِنِ ابْتُلِيتَ بِخَطَإٍ - وأَفْرَطَ عَلَيْكَ سَوْطُكَ أَوْ سَيْفُكَ أَوْ يَدُكَ بِالْعُقُوبَةِ - فَإِنَّ فِي الْوَكْزَةِ فَمَا فَوْقَهَا مَقْتَلَةً - فَلَا تَطْمَحَنَّ بِكَ نَخْوَةُ سُلْطَانِكَ - عَنْ أَنْ تُؤَدِّيَ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْمَقْتُولِ حَقَّهُمْ.

وإِيَّاكَ والإِعْجَابَ بِنَفْسِكَ - والثِّقَةَ بِمَا يُعْجِبُكَ مِنْهَا وحُبَّ الإِطْرَاءِ - فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ أَوْثَقِ فُرَصِ الشَّيْطَانِ فِي نَفْسِه - لِيَمْحَقَ مَا يَكُونُ مِنْ إِحْسَانِ الْمُحْسِنِينَ.

وإِيَّاكَ والْمَنَّ عَلَى رَعِيَّتِكَ بِإِحْسَانِكَ - أَوِ التَّزَيُّدَ فِيمَا كَانَ مِنْ فِعْلِكَ - أَوْ أَنْ تَعِدَهُمْ فَتُتْبِعَ مَوْعِدَكَ بِخُلْفِكَ - فَإِنَّ الْمَنَّ يُبْطِلُ الإِحْسَانَ والتَّزَيُّدَ يَذْهَبُ بِنُورِ الْحَقِّ - والْخُلْفَ يُوجِبُ الْمَقْتَ عِنْدَ اللَّه والنَّاسِ - قَالَ اللَّه تَعَالَى -( كَبُرَ مَقْتاً عِنْدَ الله أَنْ تَقُولُوا ما لا تَفْعَلُونَ ) .

وإِيَّاكَ والْعَجَلَةَ بِالأُمُورِ قَبْلَ أَوَانِهَا - أَوِ التَّسَقُّطَ فِيهَا عِنْدَ إِمْكَانِهَا - أَوِ اللَّجَاجَةَ فِيهَا إِذَا تَنَكَّرَتْ - أَوِ الْوَهْنَ عَنْهَا إِذَا اسْتَوْضَحَتْ - فَضَعْ كُلَّ أَمْرٍ مَوْضِعَه

زندگی کا قصاص بھی ثابت ہے۔البتہ اگر دھوکہ سے اس غلطی میں مبتلا ہو جائو اور تمہارا تازیانہ ' تلوار یا ہاتھ سزا دینے میں اپنی حد سے آگے بڑھ جائے کہ کبھی کبھی گھونسہ وغیرہ بھی قتل کا سبب بن جاتا ہے۔تو خبر دار تمہیں سلطنت کاغرور اتنا اونچا نہ بنادے کہ تم خون کے وارثوں کو ان کا حق خون بہا بھی ادا نہ کرو۔

اور دیکھو اپنے نفس کو خود پسندی سے بھی محفوظ رکھنا اور اپنی پسند پر بھروسہ بھی نہ کرنا اور زیادہ تعریف کا شوق بھی نہ پیداہوجائے کہ یہ سب باتیں شیطان کی فرصت کے بہترین وسائل ہیں جن کے ذریعہ وہ نیک کرداروں کے عمل کو ضائع اور برباد کردیا کرتا ہے۔

اور خبردار رعایا پراحسان بھی نہ جتانا اور جو سلوک کیا ہے اسے زیادہ سمجھنے کی کوشش بھی نہ کرنا یا ان سے کوئی وعدہ کرکے اس کے بعد وعدہ خلافی بھی نہ کرنا کہ یہ طرز عمل احسان کو برباد کر دیتا ہے اور زیادتی عمل کاغرور حق کی نورانیت کو فنا کردیتا ہے اور وعدہ خلافی خدا اوربندگان خدا دونوں کینزدیک ناراضگی کاباعث ہوت یہ جیسا کہ اس نے ارشادفرمایا ہے کہ '' اللہ کے نزدیک یہ بڑی ناراضگی کی بات ہے کہ تم کوئی بات کہو اور پھراس کے مطابق عمل نہ کرو ''

اورخبردار وقت سے پہلے کاموں میں جلدی نہ کرنا اور وقت آجانے کے بعد سستی کا مظاہرہ نہ کرنا اور بات سمجھ میں نہ آئے تو جھگڑا نہ کرنا اورواضح ہو جائے تو کمزوری کا اظہار نہ کرنا۔ہربات کو اس کی جگہ رکھواور

۵۸۹

وأَوْقِعْ كُلَّ أَمْرٍ مَوْقِعَه.

وإِيَّاكَ والِاسْتِئْثَارَ بِمَا النَّاسُ فِيه أُسْوَةٌ - والتَّغَابِيَ عَمَّا تُعْنَى بِه مِمَّا قَدْ وَضَحَ لِلْعُيُونِ - فَإِنَّه مَأْخُوذٌ مِنْكَ لِغَيْرِكَ - وعَمَّا قَلِيلٍ تَنْكَشِفُ عَنْكَ أَغْطِيَةُ الأُمُورِ - ويُنْتَصَفُ مِنْكَ لِلْمَظْلُومِ - امْلِكْ حَمِيَّةَ أَنْفِكَ وسَوْرَةَ حَدِّكَ - وسَطْوَةَ يَدِكَ وغَرْبَ لِسَانِكَ - واحْتَرِسْ مِنْ كُلِّ ذَلِكَ بِكَفِّ الْبَادِرَةِ وتَأْخِيرِ السَّطْوَةِ - حَتَّى يَسْكُنَ غَضَبُكَ فَتَمْلِكَ الِاخْتِيَارَ - ولَنْ تَحْكُمَ ذَلِكَ مِنْ نَفْسِكَ - حَتَّى تُكْثِرَ هُمُومَكَ بِذِكْرِ الْمَعَادِ إِلَى رَبِّكَ والْوَاجِبُ عَلَيْكَ أَنْ تَتَذَكَّرَ مَا مَضَى لِمَنْ تَقَدَّمَكَ - مِنْ حُكُومَةٍ عَادِلَةٍ أَوْ سُنَّةٍ فَاضِلَةٍ - أَوْ أَثَرٍ عَنْ نَبِيِّنَاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم أَوْ فَرِيضَةٍ فِي كِتَابِ اللَّه - فَتَقْتَدِيَ بِمَا شَاهَدْتَ مِمَّا عَمِلْنَا بِه فِيهَا - وتَجْتَهِدَ لِنَفْسِكَ فِي اتِّبَاعِ مَا عَهِدْتُ إِلَيْكَ فِي عَهْدِي هَذَا - واسْتَوْثَقْتُ بِه مِنَ الْحُجَّةِ لِنَفْسِي عَلَيْكَ - لِكَيْلَا تَكُونَ لَكَ عِلَّةٌ عِنْدَ تَسَرُّعِ نَفْسِكَ إِلَى هَوَاهَا: وأَنَا أَسْأَلُ

ہر امر کواس کے محل پر قرار دو۔

دیکھو جس چیز میںتمام لوگ برابر کے شریک ہیں اسے اپنے ساتھ مخصوص نہ کرلینا اورجوحق نگاہوں کے سامنے واضح ہوجائے اس سے غفلت نہ برتنا کہ دوسروں کے لئے یہی تمہاری ذمہ داری ہے اورعنقریب تمام امورسے پردے اٹھ جائیں گے اورتم سے مظلوم کاب دلہ لے لیا جائے گا۔اپے غضب کی تیزی 'اپنی سر کشی کے جوش ' اپنے ہاتھ کی جنبش اور اپنی زبان کی کاٹ پر قابو رکھنا اور ان تمام چیزوں سے اپنے کو اس طرح محفوظ رکھنا کہ جلدبازی سے کام نہ لینا اور سزا دینے میں جلدی نہ کرنا یہاں تک کہ غصہ ٹھہر جائے اور اپنے اوپر قابو حاصل ہو جائے۔اوراس امرپ ربھی اختیار اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا ہے جب تک پروردگار کی بارگاہ میں واپسی کا خیال زیادہ سے زیادہ نہ ہوجائے ۔

تمہارا فریضہ ہے کہ ماضی میں گزر جانے والی عادلانہ حکومت اور فاضلانہ سیرت کو یاد رکھو' رسول اکرم(ص) کے آثار اور کتاب خدا کے احکام کو نگاہ میں رکھواور جس طرح ہمیں عمل کرتے دیکھا ہے اسی طرح ہمارے نقش قدم پر چلو اور جو کچھ اس عہد نامہ میں ہم نے بتایا ہے اس پرعمل کرنے کی کوشش کرو کہ میں تمہارے اوپر اپنی حجت کو مستحکم کردیا ہے تاکہ جب تمہارا نفس خواہشات کی طرف تیزی سے بڑھے تو تمہارے پاس کوء یعذرنہ رہے۔ور میں پروردگار کی وسیع رحمت اور ہر مقصد کے عطا کرنے کی عظیم قدرت کے وسیلہ سے یہ سوال

۵۹۰

اللَّه بِسَعَةِ رَحْمَتِه - وعَظِيمِ قُدْرَتِه عَلَى إِعْطَاءِ كُلِّ رَغْبَةٍ - أَنْ يُوَفِّقَنِي وإِيَّاكَ لِمَا فِيه رِضَاه - مِنَ الإِقَامَةِ عَلَى الْعُذْرِ الْوَاضِحِ إِلَيْه وإِلَى خَلْقِه - مَعَ حُسْنِ الثَّنَاءِ فِي الْعِبَادِ وجَمِيلِ الأَثَرِ فِي الْبِلَادِ - وتَمَامِ النِّعْمَةِ وتَضْعِيفِ الْكَرَامَةِ - وأَنْ يَخْتِمَ لِي ولَكَ بِالسَّعَادَةِ والشَّهَادَةِ -( إِنَّا إِلَيْه راجِعُونَ ) - والسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّه -صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الطَّيِّبِينَ الطَّاهِرِينَ وسَلَّمَ تَسْلِيماً كَثِيراً والسَّلَامُ

(۵۴)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى طلحة والزبير (مع عمران بن الحصين الخزاعي) ذكره أبو جعفر الإسكافي في كتاب المقامات في مناقب أمير المؤمنينعليه‌السلام

أَمَّا بَعْدُ فَقَدْ عَلِمْتُمَا وإِنْ كَتَمْتُمَا - أَنِّي لَمْ أُرِدِ النَّاسَ حَتَّى أَرَادُونِي - ولَمْ أُبَايِعْهُمْ حَتَّى بَايَعُونِي - وإِنَّكُمَا مِمَّنْ أَرَادَنِي وبَايَعَنِي -

کرتا ہوں کہ مجھے اور تمہیںان کاموں کی توفیق دے جن می اس کی مرضی ہو اور ہم دونوں اس کی بارگاہ میں اوربندوں کے سامنے عذر پیش کرنے کے قابل ہو جائیں۔بندوں کی بہترین تعریف کے حقدار ہوں اور علاقوں میں بہترین آثار چھو ڑ کرجائیں۔نعمت کی فراوانی اور عزت کے روز افزوں اضافہ کوبرقرار رکھ سکیں اور ہم دونوں کا خاتمہ سعادت اور شہادت پر ہو کہ ہم سب اللہ کے لئے ہیں اور اسی کی بارگاہ میں پلٹ کرجانے والے ہیں۔سلام ہو رسول خدا (ص) پر اور ان کی طیب وطاہر آل پر اور سب پر سلام بے حساب۔والسلام

(۵۴)

آپ کا مکتوب گرامی

(طلحہ و زبیر کے نام جسے عمران بن الحصین الخزاعی کے ذریعہ بھیجا تھا اور جس کا ذکر ابو جعفر اسکافی ۱نے کتاب المقامات میں کیا ہے )

امابعد! اگرچہ تم دونوں چھپا رہے ہو لیکن تمہیں بہر حال معلوم ہے کہ میں نے خلافت کی خواہش نہیں کی۔لوگوں نے مجھ سے خواہش کی ہے اور میں نے بیعت کے لئے اقدام نہیں کیا ہے جب تک انہوں نے بیعت کرنے کا ارادہ ظاہر نہیں کیا ہے۔تم دونوں بھی انہیں افراد میں شامل ہو جنہوں نے مجھے چاہا تھا اورمیری بیعت کی تھی

(۱)ابو جعفر اس کافی معتزلہ کے شیوخ میں شمار ہوتے تھے اور ان کے ستر ۷۰ تصنیفات تھیں جن میں ایک '' کتاب المقامات'' بھی تھی ۔اسی کتاب میں امیر المومنین کے اس مکتوب گرامی کا تذکرہ کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ حضرت نے اسے عمران کے ذریعہ بھیجا تھا جوفقہا صحابہ میں شمار ہوتیت ھے اورجنگ خیبر کے سال اسلام لائے تھے اور عہد معاویہ میں انتقال کیا تھا۔اسکافی جاحظ کے معاصروں میں تھے اور انہیں اسکاف کی نسبت سے اسکافی کہاجاتا ہے جونہروان اوربصرہ کے درمیان ایک شہر ہے۔

۵۹۱

وإِنَّ الْعَامَّةَ لَمْ تُبَايِعْنِي لِسُلْطَانٍ غَالِبٍ ولَا لِعَرَضٍ حَاضِرٍ – فَإِنْ كُنْتُمَا بَايَعْتُمَانِي طَائِعَيْنِ - فَارْجِعَا وتُوبَا إِلَى اللَّه مِنْ قَرِيبٍ - وإِنْ كُنْتُمَا بَايَعْتُمَانِي كَارِهَيْنِ - فَقَدْ جَعَلْتُمَا لِي عَلَيْكُمَا السَّبِيلَ بِإِظْهَارِكُمَا الطَّاعَةَ - وإِسْرَارِكُمَا الْمَعْصِيَةَ - ولَعَمْرِي مَا كُنْتُمَا بِأَحَقِّ الْمُهَاجِرِينَ - بِالتَّقِيَّةِ والْكِتْمَانِ - وإِنَّ دَفْعَكُمَا هَذَا الأَمْرَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَدْخُلَا فِيه - كَانَ أَوْسَعَ عَلَيْكُمَا مِنْ خُرُوجِكُمَا مِنْه - بَعْدَ إِقْرَارِكُمَا بِه.

وقَدْ زَعَمْتُمَا أَنِّي قَتَلْتُ عُثْمَانَ - فَبَيْنِي وبَيْنَكُمَا مَنْ تَخَلَّفَ عَنِّي وعَنْكُمَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ - ثُمَّ يُلْزَمُ كُلُّ امْرِئٍ بِقَدْرِ مَا احْتَمَلَ - فَارْجِعَا أَيُّهَا الشَّيْخَانِ عَنْ رَأْيِكُمَا - فَإِنَّ الآنَ أَعْظَمَ أَمْرِكُمَا الْعَارُ - مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَجَمَّعَ الْعَارُ والنَّارُ - والسَّلَامُ.

اورعام لوگوں نے بھی میری بیعت نہ کسی سلطنت کے رعب داب سے کی ہے اور نہ کی مال دنیا کی لالچ میں کی ہے۔پس اگر تم دونوں نے میر ی بیعت اپنی خوشی سے کی تھی تو اب خدا کی طرف رجوع کرو اور فوراً توبہ کرلو۔اور اگرمجبوراً کی تھی تو تم نے اپنے اوپر میرا حق ثابت کردیا کہ تم نے اطاعت کا اظہار کیا تھا اورناف رمانی کودل میں چھپا کر رکھا تھا۔اورمیری جان کی قسم تم دونوں اس راز داری اوردل کی باتوں کے چھپانے میں مہاجرین سیزیادہ سزا وار نہیں تھے اور تمہارے لئے بعت سے نکلنے اور اس کے اقرار کے بعد انکار کردینے سے زیادہ آسان روز اول ہی اس کا انکار کردیناتھا۔تم لوگوں کا ایک خیال یہ بھی ہے کہ میں نے عثمان کوقتل کیا ہے تو میرے اور تمہارے درمیان وہ اہل مدینہ موجود ہیں جنہوں نے ہم دونوں سے علیحدگی اختیار کرلی ہے۔اس کے بعد ہرشخص اسی کاذمہدار ہے جو اس نے ذمہداری قبول کی ہے۔ بزرگوارو! موقع غنیمت ہے اپنی رائے سے بازآجائو کہ آج تو صرف ننگ وعارکاخطرہ ہے لیکن اس کے بعد عارونار دونوں جمع ہو جائیں گے۔والسلام۔

۵۹۲

(۵۵)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى معاوية

أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّه سُبْحَانَه قَدْ جَعَلَ الدُّنْيَا لِمَا بَعْدَهَا - وابْتَلَى فِيهَا أَهْلَهَا لِيَعْلَمَ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا - ولَسْنَا لِلدُّنْيَا خُلِقْنَا ولَا بِالسَّعْيِ فِيهَا أُمِرْنَا - وإِنَّمَا وُضِعْنَا فِيهَا لِنُبْتَلَي بِهَا - وقَدِ ابْتَلَانِي اللَّه بِكَ وابْتَلَاكَ بِي - فَجَعَلَ أَحَدَنَا حُجَّةً عَلَى الآخَرِ - فَعَدَوْتَ عَلَى الدُّنْيَا بِتَأْوِيلِ الْقُرْآنِ - فَطَلَبْتَنِي بِمَا لَمْ تَجْنِ يَدِي ولَا لِسَانِي - وعَصَيْتَه أَنْتَ وأَهْلُ الشَّامِ بِي - وأَلَّبَ عَالِمُكُمْ جَاهِلَكُمْ وقَائِمُكُمْ قَاعِدَكُمْ؛ فَاتَّقِ اللَّه فِي نَفْسِكَ ونَازِعِ الشَّيْطَانَ قِيَادَكَ - واصْرِفْ إِلَى الآخِرَةِ وَجْهَكَ - فَهِيَ طَرِيقُنَا وطَرِيقُكَ - واحْذَرْ أَنْ يُصِيبَكَ اللَّه مِنْه بِعَاجِلِ قَارِعَةٍ - تَمَسُّ الأَصْلَ وتَقْطَعُ الدَّابِرَ - فَإِنِّي أُولِي لَكَ بِاللَّه أَلِيَّةً غَيْرَ فَاجِرَةٍ - لَئِنْ جَمَعَتْنِي وإِيَّاكَ جَوَامِعُ الأَقْدَارِ لَا أَزَالُ بِبَاحَتِكَ -

(۵۵)

آپ کامکتوب گرامی

(معاویہ کے نام)

اما بعد!خدائے بزرگ وبرتر نے دنیا کو آخرت کا مقدمہ قراردیا ہے اوراسے آزمائش کاذریعہ بنایا ہے تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ بہترین عمل کرنے والا کون ہے۔ہم نہ اس دنیاکے لئے پیداکئے گئے ہیں اور نہ ہمیں اس کے لئے دوڑ دھوپ کا حکم دیا گیا ہے۔ہم یہاں فقط اس لئے رکھے گئے ہیں کہ ہمارا امتحان لیاجائے اوراللہ نے تمہارے ذریعہ ہمارا ' اور ہماریذریعہ تمہارا امتحان لے لیا ہے اورایک کو دوسرے پرحجت قرا دے دیا ہے لیکن تم نے تاویل قرآن کاسہارا لے کردنیا پردھاوا بول دیا اور مجھ سے ایسے جرم کا محاسبہ کردیا جس کا نہ میرے ہاتھ سے کوئی تعلق تھا اورنہ زبان سے۔صرف اہل شام نے میرے سرڈال دیا تھا اور تمہارے جاننے والوں نے جاہلوں کو اور قیام کرنے والوں نے خانہ نشینوںکو اکسا دیا تھا لہٰذا اب بھی غنیمت ہے کہ اپنے نفس کے بارے میں اللہ سے ڈرو اور شیطان سے اپنی زمام چھڑالو اورآخرت کی طرف رخ کرلو کہ وہی ہماری اورتمہاریآخری منزل ہے۔اس وقت سے ڈرو کہ اس دنیا میں پروردگار کوئی ایسی مصیبت نازل کردے کہ اصل بھی ختم ہو جائے اورنسل کابھی خاتمہ ہو جائے۔میں پروردگار کی ایسی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے غلط ہونے کا امکان نہیں ہے کہ اگرمقدر نے مجھے اور تمہیں ایک میدان میں جمع کردیا تو میں اس وقت تک میدان نہ

۵۹۳

( حَتَّى يَحْكُمَ الله بَيْنَنا وهُوَ خَيْرُ الْحاكِمِينَ ) .

(۵۶)

ومن وصية لهعليه‌السلام

وصى بها شريح بن هانئ - لما جعله على مقدمته إلى الشام

اتَّقِ اللَّه فِي كُلِّ صَبَاحٍ ومَسَاءٍ - وخَفْ عَلَى نَفْسِكَ الدُّنْيَا الْغَرُورَ - ولَا تَأْمَنْهَا عَلَى حَالٍ - واعْلَمْ أَنَّكَ إِنْ لَمْ تَرْدَعْ نَفْسَكَ عَنْ كَثِيرٍ مِمَّا تُحِبُّ - مَخَافَةَ مَكْرُوه - سَمَتْ بِكَ الأَهْوَاءُ إِلَى كَثِيرٍ مِنَ الضَّرَرِ - فَكُنْ لِنَفْسِكَ مَانِعاً رَادِعاً - ولِنَزْوَتِكَ عِنْدَ الْحَفِيظَةِ وَاقِماً قَامِعاً

(۵۷)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى أهل الكوفة - عند مسيره من المدينة إلى البصرة

أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي خَرَجْتُ مِنْ حَيِّي هَذَا - إِمَّا ظَالِماً وإِمَّا مَظْلُوماً وإِمَّا بَاغِياً وإِمَّا مَبْغِيّاً عَلَيْه - وإِنِّي أُذَكِّرُ اللَّه مَنْ بَلَغَه كِتَابِي هَذَا لَمَّا نَفَرَ إِلَيَّ - فَإِنْ كُنْتُ مُحْسِناً أَعَانَنِي -.

چھوڑوں گا جب تک میرے اور تمہارے دمیان فیصلہ نہ ہوجائے ۔

(۵۶)

آپ کی وصیت

(جو شریح ۱بن ہانی کو اس وقت فرمائی جب انہیں شام جانے والے ہر اول دستہ کا سردار مقرر فرمایا)

صبح و شاماللہ سے ڈرتے رہو اوراپنے نفس کو اس دھوکہ باز دنیا سے بچائے رہو اور اس پر کسی حال میں اعتبارنہ کرنااور یہ یاد رکھنا کہ اگر تم نے کسی ناگواری کے خوف سے اپنے نفس کوب ہت سی پسندیدہ چیزوں سے نہ روکا۔تو خواہشات تم کوب ہت سے نقصان وہ امور تک پہنچادیں گی لہٰذا ہمیشہ اپنے نفس کو روکتے ٹوکتے رہو اورغصہ میں اپنے غیظ و غضب کو دباتے اورکچلتے رہو۔

(۵۷)

آپ کا مکتوب گرامی

(اہل کوفہ کےنام۔مدینہ سے بصرہ روانہ ہوتے وقت)

امابعد! میں اپنے قبیلہ سے نکل رہا ہوں یا ظلم کی حیثیت سے یا مظلوم کی حیثیت سے۔یامیں نے بغاوت کی ہے یا میرے خلاف بغاوت ہوئی ہے۔میں تمہیں خدا کاواسطہ دے کر کہتا ہوں کہ جہاں تک میرا یہ خط پہنچ جائے تم سب نکل کرآجائو۔اس کے بعد مجھے نیکی پرپائو تومیری امداد کرو

(۱)یہ امیرالمومنین کے جلیل الدقر صحابی تھے ۔ابو مقداد کنیت تھی اور آپ کے ساتھ تمام معرکوں میں شریک رہے۔یہاں تک کہ حجاج کے زمانہ میں سجستان میں شہید ہوئے۔حضرت نے انہیں شام جانے والے ہر اول دستہ کا امیر مقرر کیا تو مذکورہ ہدایات سے سرفراز فرمایا تاکہ کوئی شخص اسلامی پابندی سے آزادی کا تصورنہ کرسکے ۔

۵۹۴

وإِنْ كُنْتُ مُسِيئاً اسْتَعْتَبَنِي

(۵۸)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

كتبه إلى أهل الأمصار - يقص فيه ما جرى بينه وبين أهل صفين

وكَانَ بَدْءُ أَمْرِنَا أَنَّا الْتَقَيْنَا والْقَوْمُ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ - والظَّاهِرُ أَنَّ رَبَّنَا وَاحِدٌ ونَبِيَّنَا وَاحِدٌ - ودَعْوَتَنَا فِي الإِسْلَامِ وَاحِدَةٌ - ولَا نَسْتَزِيدُهُمْ فِي الإِيمَانِ بِاللَّه والتَّصْدِيقِ بِرَسُولِه - ولَا يَسْتَزِيدُونَنَا - الأَمْرُ وَاحِدٌ إِلَّا مَا اخْتَلَفْنَا فِيه مِنْ دَمِ عُثْمَانَ - ونَحْنُ مِنْه بَرَاءٌ - فَقُلْنَا تَعَالَوْا نُدَاوِ مَا لَا يُدْرَكُ الْيَوْمَ - بِإِطْفَاءِ النَّائِرَةِ وتَسْكِينِ الْعَامَّةِ - حَتَّى يَشْتَدَّ الأَمْرُ ويَسْتَجْمِعَ - فَنَقْوَى عَلَى وَضْعِ الْحَقِّ مَوَاضِعَه - فَقَالُوا بَلْ نُدَاوِيه بِالْمُكَابَرَةِ - فَأَبَوْا حَتَّى جَنَحَتِ الْحَرْبُ ورَكَدَتْ - ووَقَدَتْ نِيرَانُهَا وحَمِشَتْ -

اورغلطی پر دیکھو تو مجھے رضا کے راستہ پر لگا دو(۶۳) ۔

(۵۸)

آپ کامکتوب گرامی

(تمام شہروں کے نام۔جس میں صفین کی حقیقت کااظہار کیا گیا ہے )

ہمارے معاملہ کی ابتدا یہ ہے کہ ہم شام کے لشکر کے ساتھ ایک میدان میں جمع ہوئے جب بظاہر(۱) دونو ں کاخدا ایک تھا۔رسول ایک تھا۔پیغام ایک تھا۔نہ ہم اپنے ایمان و تصدیق میں اضافہ کے طلب گار تھے ۔نہ وہ اپنے ایمان کوبڑھانا چاہتے تھے۔معاملہ بالکل ایک تھا صرف اختلاف خون عثمان کے بارے میں تھا جس سے ہم بالکل بری تھے اورہم نے یہ حل پیش کیا کہ جو مقصد آج نہیں حاصل ہوسکتا ہے ' اس کاوقتی علاج یہ کیا جائے ہ آتش جنگ کو خاموش کردیاجائے اور لوگوں کے جذبات کوپرسکون بنادیا جائے۔اس کے بعد جب حکومت کو استحکام ہوجائے گا اورحالات ساز گار ہوجائیںگے تو ہم حق کو اس کی منزل تک لانے کی طاقت پیدا کرلیں گے۔لیکن قوم کا اصرار(۲) تھا۔کہ اس کا علاج صرف جنگ و جدال ہے۔جس کانتیجہ یہ ہواکہ جنگ نے اپنے پائوںپھیلادئیے اورجم کر کھڑی ہوگئی۔شعلے بھڑک اٹھے اورٹھہرگئے اور قوم نے دیکھاکہ

(۱)یہ اس امرکی طرف اشارہ ہے کہ حضرت نے معاویہ اور اس کے ساتھیوں کے اسلام و ایمان کا اقرارنہیں کیا ہے بلکہ صورت حال کا تذکرہ کیا ہے۔

(۲)حقیقت امری ہ ہے کہ معاویہ کوخون عثمان سے کوئی دلچسپی نہیںتھی۔وہ شام کی حکومت اور عالم اسلام کی خلافت کا طماع تھا لہٰذا کوئی سنجیدہ گفتگو قبول نہیں کر سکتا تھا۔حضرت نے بھی اتمام حجت کا حقادا کردیا اور اس کے بعد میدان جہاد میں قدم جمادئیے تاکہ دنیا پرواضح ہو جائے کہ جہاد راہ خدا فرزند ابو طالب کا کام ہے۔ابو سفیان کے بیٹے کانہیں ہے۔

۵۹۵

فَلَمَّا ضَرَّسَتْنَا وإِيَّاهُمْ - ووَضَعَتْ مَخَالِبَهَا فِينَا وفِيهِمْ - أَجَابُوا عِنْدَ ذَلِكَ إِلَى الَّذِي دَعَوْنَاهُمْ إِلَيْه - فَأَجَبْنَاهُمْ إِلَى مَا دَعَوْا وسَارَعْنَاهُمْ إِلَى مَا طَلَبُوا - حَتَّى اسْتَبَانَتْ عَلَيْهِمُ الْحُجَّةُ - وانْقَطَعَتْ مِنْهُمُ الْمَعْذِرَةُ - فَمَنْ تَمَّ عَلَى ذَلِكَ مِنْهُمْ - فَهُوَ الَّذِي أَنْقَذَه اللَّه مِنَ الْهَلَكَةِ - ومَنْ لَجَّ وتَمَادَى فَهُوَ الرَّاكِسُ - الَّذِي رَانَ اللَّه عَلَى قَلْبِه - وصَارَتْ دَائِرَةُ السَّوْءِ عَلَى رَأْسِه

جنگ نے دونوں کودانت کاٹنا شروع کردیا اور فریقین میں اپنے پنجے گاڑ دئیے ہیں تو وہ میری بات ماننے پرآمادہ ہوگئے اورمیں نے بھی ان کیبات کو مان لیا اورتیزی سے بڑھ کران کے مطالبہ صلح کو قبول کرلیا یہاں تک کہ ان پرحجت واضح ہوگئی اور ہر طرح کا عذر ختم ہوگیا۔اب اس کے بعد کوئی اس حق پر قائم رہ گیا توگویا اپنے نفس کو ہلاکت سے نکال لیا ورنہ اس گمراہی میں پڑا رہ گیا تو ایسا عہد شکن ہوگا جس کے دل پر اللہ نے مہر لگادی ہے اور زمانہ کے حوادث اس کے سر پر منڈلا رہے ہیں۔

۵۹۶

(۵۹)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى الأسود بن قطبة صاحب جند حلوان

أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الْوَالِيَ إِذَا اخْتَلَفَ هَوَاه - مَنَعَه ذَلِكَ كَثِيراً مِنَ الْعَدْلِ - فَلْيَكُنْ أَمْرُ النَّاسِ عِنْدَكَ فِي الْحَقِّ سَوَاءً - فَإِنَّه لَيْسَ فِي الْجَوْرِ عِوَضٌ مِنَ الْعَدْلِ - فَاجْتَنِبْ مَا تُنْكِرُ أَمْثَالَه - وابْتَذِلْ نَفْسَكَ فِيمَا افْتَرَضَ اللَّه عَلَيْكَ - رَاجِياً ثَوَابَه ومُتَخَوِّفاً عِقَابَه.

واعْلَمْ أَنَّ الدُّنْيَا دَارُ بَلِيَّةٍ - لَمْ يَفْرُغْ صَاحِبُهَا فِيهَا قَطُّ سَاعَةً - إِلَّا كَانَتْ فَرْغَتُه عَلَيْه حَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ - وأَنَّه لَنْ يُغْنِيَكَ عَنِ الْحَقِّ شَيْءٌ أَبَداً - ومِنَ الْحَقِّ عَلَيْكَ حِفْظُ نَفْسِكَ - والِاحْتِسَابُ عَلَى الرَّعِيَّةِ بِجُهْدِكَ - فَإِنَّ الَّذِي يَصِلُ إِلَيْكَ مِنْ ذَلِكَ - أَفْضَلُ مِنَ الَّذِي يَصِلُ بِكَ والسَّلَامُ.

(۶۰)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى العمال الذين يطأ الجيش عملهم

مِنْ عَبْدِ اللَّه عَلِيٍّ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ

(۵۹)

آپ کامکتوب گرامی

(اسود بن قطبہ والی حلوان کے نام)

اما بعد! دیکھواگر والی کے خواہشات مختلف قسم کے ہوں گے تویہ بات اسے اکثر اوقات انصاف سے روک دے گی لیکن تمہاری نگاہ میں تمام افراد کے معاملات کو ایک جیسا ہونا چاہیے کہ ظلم کبھی عدل کابدل نہیں ہوسکتا ہے۔ جس چیز کودوسروں کے لئے برا سمجھتے ہو اس سے خودبھی اجتناب کرو اور اپنے نفس کو ان کاموں میں لگادو جنہیں خدانے تم پرواجب کیا ہے اوراس کے ثواب کیامید رکھواورعذاب سے ڈرتے رہو۔ اوریاد رکھو کہ دنیا دار آزمائش ہے یہاں انسان کی ایک گھڑی بھی خالی نہیں جاتی ہے مگر یہ کہ یہ بیکاری روز قیامت حسرت کا سبب بن جاتی ہے اورتم کو کوئی شے حق سے بے نیاز نہیں بنا سکتی ہے اور تمہارے اوپر سب سے بڑا حق یہ ہے کہ اپنے نفس کومحفوظ رکھو اوراپنے ا مکان بھر رعایاکا احتساب کرتے رہوکہ اس طرح جوفائدہ تمہیں پہنچے گا وہ اس سے کہیں زیادہ بہتر ہوگا جوفائدہ لوگوں کوتم سے پہنچے گا۔والسلام۔

(۶۰)

آپ کا مکتوب گرامی

(ان اعمال کے نام جن کا علقہ فوج کے راستہ میں پڑتا تھا)

بندۂ خدا امیر المومنین علی کی طرف سے ان

۵۹۷

إِلَى مَنْ مَرَّ بِه الْجَيْشُ - مِنْ جُبَاةِ الْخَرَاجِ وعُمَّالِ الْبِلَادِ.

أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي قَدْ سَيَّرْتُ جُنُوداً - هِيَ مَارَّةٌ بِكُمْ إِنْ شَاءَ اللَّه - وقَدْ أَوْصَيْتُهُمْ بِمَا يَجِبُ لِلَّه عَلَيْهِمْ - مِنْ كَفِّ الأَذَى وصَرْفِ الشَّذَا - وأَنَا أَبْرَأُ إِلَيْكُمْ وإِلَى ذِمَّتِكُمْ مِنْ مَعَرَّةِ الْجَيْشِ - إِلَّا مِنْ جَوْعَةِ الْمُضْطَرِّ لَا يَجِدُ عَنْهَا مَذْهَباً إِلَى شِبَعِه - فَنَكِّلُوا مَنْ تَنَاوَلَ مِنْهُمْ شَيْئاً ظُلْماً عَنْ ظُلْمِهِمْ - وكُفُّوا أَيْدِيَ سُفَهَائِكُمْ عَنْ مُضَارَّتِهِمْ - والتَّعَرُّضِ لَهُمْ فِيمَا اسْتَثْنَيْنَاه مِنْهُمْ - وأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِ الْجَيْشِ - فَارْفَعُوا إِلَيَّ مَظَالِمَكُمْ - ومَا عَرَاكُمْ مِمَّا يَغْلِبُكُمْ مِنْ أَمْرِهِمْ - ومَا لَا تُطِيقُونَ دَفْعَه إِلَّا بِاللَّه وبِي فَأَنَا أُغَيِّرُه بِمَعُونَةِ اللَّه إِنْ شَاءَ اللَّه.

خراج جمع کرنے والوں اور علاقوں کے والیوں کے نام جن کے علاوہ سے لشکروں کا گزر ہوتا ہے۔

امابعد میں نے کچھ فوجیں روانہ کی ہیںجو عنقریب تمہارے علاقہ سے گزرنے والی ہیں اورمیں نے انہیں ان تمام باتوں کی نصیحت کردی ہے جوان پرواجب ہیں کہ کی کواذیت نہ دیں اور تکلیف کودور رکھیں اورمیںتمہیں اورتمہارے اہل ذمہ کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ فوج والے کوئی دست درازی کریں گے تو میں ان سے بیزار رہوں گا مگر یہ کوی شخص(۱) بھوک سے مضطر ہو اور اس کے پاس پیٹ بھرنے کا کوئی راستہ نہ ہو۔اس کے علاوہ کوئی ظالمانہ انداز سے ہاتھ لگائے تواس کو سزا دینا تمہارا فرض ہے۔لیکن اپنے سرپھروں کو سمجھا دینا کہ جن حالات کو میں نے مشتنیٰ قراردیا ہے ان میں کوئی شخص کسی چیز کو ہاتھ لگانا چاہے تو اس سے مقابلہ نہ کریں اورٹوکیں نہیں۔پھراس کے بعد میں لشکرکے اندر موجود ہوں اپنے اوپر ہونے والی زیادتیوں اور سختیوں کی فریاد مجھ سے کرو اگرتم دفع کرنے کے قابل نہیں ہو جب تک اللہ کی مدد اورمیری امداد شامل نہ ہو۔میں انشاء اللہ اللہ کی مدد سے حالات کوبدل دوںگا۔

(۱)اس خط میں حضرت نے دو طرح کے مسائل کاتذکرہ فرمایا ہے۔ایک کا تعلق لشکر سے ہے اوردوسرے کا اس علاقہ سے جہاں سے لشکر گزرنے والا ہے لشکروالوں کو توجہ دلائی ہے کہ خبردار رعایا پر کسی طرح کا ظلم نہ ہونے پائے کہ تمہارا کام ظلم و جور کا مقابلہ کرنا ہے۔ظلم کرنا نہیں ہے اورراستہ کے عوام کو متوجہ کیاہے کہ اگر لشکر میںکوئی شخص بربنائے اضطرار کسی چیز کو استعمال کرلے تو خبرداراسے منع نہ کرنا کہ یہ اس کا شرعی حق ہے اور اسلام میں کسی شخص کو اس کے حق سے محروم نہیںکیا جا سکتا ہے۔اس کے بعد لشکرکی ذمہداری ہے کہ اگر کوئی مسئلہ پیش آجائے تو میری طرف رجوع کرے اور عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ اپنے مسائل کی فریاد میرے پاس پیش کریں اورس ارے معاملات کو خود طے کرنے کی کوشش نہ کریں ۔

۵۹۸

(۶۱)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى كميل بن زياد النخعي وهو عامله على هيت، ينكر عليه تركه دفع من يجتاز به من جيش العدو طالبا الغارة.

أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ تَضْيِيعَ الْمَرْءِ مَا وُلِّيَ وتَكَلُّفَه مَا كُفِيَ - لَعَجْزٌ حَاضِرٌ ورَأْيٌ مُتَبَّرٌ - وإِنَّ تَعَاطِيَكَ الْغَارَةَ عَلَى أَهْلِ قِرْقِيسِيَا - وتَعْطِيلَكَ مَسَالِحَكَ الَّتِي وَلَّيْنَاكَ - لَيْسَ بِهَا مَنْ يَمْنَعُهَا ولَا يَرُدُّ الْجَيْشَ عَنْهَا - لَرَأْيٌ شَعَاعٌ - فَقَدْ صِرْتَ جِسْراً لِمَنْ أَرَادَ الْغَارَةَ - مِنْ أَعْدَائِكَ عَلَى أَوْلِيَائِكَ - غَيْرَ شَدِيدِ الْمَنْكِبِ ولَا مَهِيبِ الْجَانِبِ،ولَا سَادٍّ ثُغْرَةً ولَا كَاسِرٍ لِعَدُوٍّ شَوْكَةً -

(۶۱)

آپ کامکتوب گرامی

(کمیل بن زیاد۱النخعی کے نام جو بیت المال کے عامل تھے اورانہوں نے فوج دشمن کو لوٹ مارسے منع نہیں کیا )

امابعد! انسان کا اس کام کو نظرانداز کردینا جس کاذمہ داربنایا گیا ہے اور اس کام میں لگ جانا جواس کے فرائض میں شامل نہیں ہے ایک واضح کمزوری اور تباہ کن فکر ہے۔

اوردیکھو تمہارا اہل قبر قیسا پرحملہ کردینا اورخود اپنی سرحدوں کومعطل چھوڑدینا جن کا تم کوذمہ دار بنایا گا تھا۔اس عالم میں کہ انکا کوئی دفاع کرنے والا اور ان سے لشکروں کو ہٹانے والا نہیںتھا ایک انتہائی پراگندہ رائے ہے اور اس طرح تم دوستوں پرحملہ کرنے والے دشمنوں کے لئے ایک وسیلہ بن گئے جہاں نہ تمہارے کاندھے مضبوط تھے اور نہ تمہاری کوئی ہیبت تھی۔نہ تم نے دشمن

(۱)جناب کمیل مولائے کائنات کے مخصوص اصحاب میں تھے اوربڑے پایہ کے عالم و فاضل تھے لیکن بہر حال بشر تھے اور انہوںنے معاویہ کے مظالم کے جواب میں یہی مناسب سمجھا کہ جس طرح وہ ہمارے علاقہ میں فساد پھیلا رہا ہے ' ہم بھی اس کے علاقہ پر حملہ کردیں تاکہفوجوں کا رخ ادھرمڑ جائے مگری ہبات امامت کے مزاج کے خلاف تھی لہٰذا حضرت نے فوراً تنبیہ کردی اورمکیل نے بھی اپنے اقدام کے نا مناسب ہونے کا احساس کرلیا اور یہی انسان کا کمال کردار ہے کہ غلطی پراصرار نہ کرے ورنہ غلطی نہ کرنا شان عصمت ہے۔شان اسلام و ایمان نہیں ہے۔

جناب کمیل کی غیرت داری کایہ عالم تھا کہ جب حجاج نے انہیں تلاش کرنا شروع کیا اور گرفتارنہ کر سکا تو ان کی قوم پر دانہ پانی بند کردیا۔کمیل کو اس امر کی اطلاع ملی تو فوراً حجاج کے دربار میں پہنچ گئے اور فرمایا کہ میں اپنی ذات کی حفاظت کی خاطر ساری قوم کو خطرہ میں نہیں ڈال سکتا ہوں اورود محبت اہل بیت سے دستبردار بھی نہیں ہو سکتا ہوں لہٰذا مناسب یہ ہے کہ اپنی سزا خود برداشت کروں جس کے نتیجہ میں حجاج نے ان کی زندگی کاخاتمہ کرادیا۔

۵۹۹

ولَا مُغْنٍ عَنْ أَهْلِ مِصْرِه ولَا مُجْزٍ عَنْ أَمِيرِه.

(۶۲)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى أهل مصر مع مالك الأشتر - لما ولاه إمارتها

أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّه سُبْحَانَه بَعَثَ مُحَمَّداًصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - نَذِيراً لِلْعَالَمِينَ ومُهَيْمِناً عَلَى الْمُرْسَلِينَ - فَلَمَّا مَضَىعليه‌السلام تَنَازَعَ الْمُسْلِمُونَ الأَمْرَ مِنْ بَعْدِه - فَوَاللَّه مَا كَانَ يُلْقَى فِي رُوعِي - ولَا يَخْطُرُ بِبَالِي أَنَّ الْعَرَبَ تُزْعِجُ هَذَا الأَمْرَ - مِنْ بَعْدِهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عَنْ أَهْلِ بَيْتِه - ولَا أَنَّهُمْ مُنَحُّوه عَنِّي مِنْ بَعْدِه - فَمَا رَاعَنِي إِلَّا انْثِيَالُ النَّاسِ عَلَى فُلَانٍ يُبَايِعُونَه - فَأَمْسَكْتُ يَدِي حَتَّى رَأَيْتُ رَاجِعَةَ النَّاسِ - قَدْ رَجَعَتْ عَنِ الإِسْلَامِ - يَدْعُونَ إِلَى مَحْقِ دَيْنِ مُحَمَّدٍصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - فَخَشِيتُ إِنْ لَمْ أَنْصُرِ الإِسْلَامَ وأَهْلَه - أَنْ أَرَى فِيه ثَلْماً أَوْ هَدْماً - تَكُونُ الْمُصِيبَةُ بِه عَلَيَّ أَعْظَمَ مِنْ فَوْتِ وِلَايَتِكُمُ - الَّتِي إِنَّمَا هِيَ مَتَاعُ أَيَّامٍ قَلَائِلَ - يَزُولُ مِنْهَا مَا كَانَ كَمَا يَزُولُ السَّرَابُ -

کا راستہ روکا اورنہ اس کی شوکت کو تواڑ۔نہ اہل شہر کے کام آئے اور نہ اپنے امیر کے فرض کو انجام دیا۔

(۶۲)

آپ کامکتوب گرامی

(اہل مصرکے نام۔مالک اشترکے ذریعہ جب ان کو والی مصر بناکر روانہ کیا)

اما بعد!پروردگار نے حضرت محمد (ص) کو عالمین کے لئے عذاب الٰہی سے ڈرانے والا اورمرسلین کے لئے گواہ اورنگراں بناکربھیجا تھا لیکن ان کے جانے کے بعد ہی مسلمانوں نے ان کے خلاف میں جھگڑا شروع کردیا۔خدا گواہ ہے کہ یہ بات میرے خیال میںبھی نہ تھی اور نہ میرے دل سے گزری تھی کہ عرب اس منصب کو ان کے اہل بیت سے اس طرح موڑ دیں گے اور مجھ سے اس طرح دور کردیں گے کہمیں نے اچانک یہ دیکھا کہ لوگ فلاں شخص کی بیعت کے لئے ٹوٹے پڑ رہے ہیں تو میں نے اپنے ہاتھ کو روک لیا یہاں تک کہ یہ دیکھا کہ لوگ دین اسلام سے واپس جا رہے ہیں اور پیغمبر کے قانون کو برباد کردینا چاہتے ہیں تومجھے یہ خوف پیدا ہوگیا کہ اگر اس رخنہ اوربربادی کو دیکھنے کے بعد بھی میں نے اسلام اور مسلمانوں کی مدد نہ کی تو اس کی مصیبت روز قیامت اس سے زیادہ عظیم ہوگی جوآج اس حکومت کے چلے جانے سے سامنے آرہی ہے جو صرف چند دن رہنے والی ہے اورایک دن اسی طرح ختم ہوجائے گی جس طرح سراب کی چمک

۶۰۰

601

602

603

604

605

606

607

608

609

610

611

612

613

614

615

616

617

618

619

620

621

622

623

624

625

626

627

628

629

630

631

632

633

634

635

636

637

638

639

640

641

642

643

644

645

646

647

648

649

650

651

652

653

654

655

656

657

658

659

660

661

662

663

664

665

666

667

668

669

670

671

672

673

674

675

676

677

678

679

680

681

682

683

684

685

686

687

688

689

690

691

692

693

694

695

696

697

698

699

700

701

702

703

704

705

706

707

708

709

710

711

712

713

714

715

716

717

718

719

720

721

722

723

724

725

726

727

728

729

730

731

732

733

734

735

736

737

738

739

740

741

742

743

744

745

746

747

748

749

750

751

752

753

754

755

756

757

758

759

760

761

762

763

764

765

766

767

768

769

770

771

772

773

774

775

776

777

778

779

780

781

782

783

784

785

786

787

788

789

790

791

792

793

794

795

796

797

798

799

800

801

802

803

804

805

806

807

808

809

810

811

812

813

814

815

816

817

818

819

820

821

822

823

824

825

826

827

828

829

830

831

832

833

834

835

836

837

838

839

840

841

842

843

844

845

846

847

848

849

850

851

852

853

854

855

856

857

858

859

860

861

862

863