نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)4%

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ) مؤلف:
: علامہ السید ذیشان حیدر جوادی قدس سرہ
زمرہ جات: متن احادیث
صفحے: 863

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 863 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 656834 / ڈاؤنلوڈ: 15924
سائز سائز سائز
نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417

418

419

420

421

422

423

424

425

426

427

428

429

430

431

432

433

434

435

436

437

438

439

440

441

442

443

444

445

446

447

448

449

450

451

452

453

454

455

456

457

458

459

460

461

462

463

464

465

466

467

468

469

470

471

472

473

474

475

476

477

478

479

480

481

482

483

484

485

486

487

488

489

490

491

492

493

494

495

496

497

498

499

500

501

502

503

504

505

506

507

508

509

510

511

512

513

514

515

516

517

518

519

520

521

522

523

524

525

526

527

528

529

530

531

532

533

534

535

536

537

538

539

540

541

542

543

544

545

546

547

548

549

550

551

552

553

554

555

556

557

558

559

560

561

562

563

564

565

566

567

568

569

570

571

572

573

574

575

576

577

578

579

580

581

582

583

584

585

586

587

588

589

590

591

592

593

594

595

596

597

598

599

600

601

602

603

604

605

606

607

608

609

610

611

612

613

614

615

616

617

618

619

620

۲ - وقَالَعليه‌السلام أَزْرَى بِنَفْسِه مَنِ اسْتَشْعَرَ الطَّمَعَ - ورَضِيَ بِالذُّلِّ مَنْ كَشَفَ عَنْ ضُرِّه - وهَانَتْ عَلَيْه نَفْسُه مَنْ أَمَّرَ عَلَيْهَا لِسَانَه.

۳ - وقَالَعليه‌السلام الْبُخْلُ عَارٌ والْجُبْنُ مَنْقَصَةٌ - والْفَقْرُ يُخْرِسُ الْفَطِنَ عَنْ حُجَّتِه - والْمُقِلُّ غَرِيبٌ فِي بَلْدَتِه

۴ - وقَالَعليه‌السلام الْعَجْزُ آفَةٌ والصَّبْرُ شَجَاعَةٌ - والزُّهْدُ ثَرْوَةٌ والْوَرَعُ جُنَّةٌ -

(۲)

جس نے طمع کو شعار بنالیا اس نے اپنے نفس کو رسوا کردیا اور جس نے اپنی پریشانی کا اظہار کردیا وہ اپنی ذلت پر راضی ہوگیا اور جس نے نفس پر زبان کوحاکم بنادیا اس نے نفس کوسبک تربنا دیا۔

انسان کا بنیادی فرض ی ہے کہ اپنے نفس کوب ے نیازی کی تربیت دے اور طمع کا شکار نہ ہو۔اس کے بعد کوئی پریشانی آجائے تو صبر کو شعاربنائے اور ہر ایک سے فریاد نہ کرے کہ اس کی نگاہ میں ذلیل ہو جائے ۔اور جب بولنے کا وقت آئے تو فکر کو زبان پر حاکم بنائے اور زبان کو نفس کا حاکم نہ بنادے کہ جو چاہے کہنا شروع کردے ۔

(۳)

بخل ننگ و عار ہے اور بزرگی منفقت ۔فقر ہوشمند کو بھی اس کی حجت کے لئے گونگا بنادیتا ہے اور مفلس آدمی اپنے وطن میں بھی غریب ہوتا ہے۔

یہ ایک اجتماعی حقیقت ہے کہ فقرو فاقہ انسان کو خاموش بنا دیتے ہیں اور کوئی شخص فقیر کی بات سننے کو تیار نہیں ہوتا ہے اس کے علاوہوہ غربت انسان کو اپنے ہی شہر میں ایسا اجنبی بنا دیتی ہے کہ لوگ پہچاننے سے انکار کردیتے ہیں۔

(۴)

عاجزی آفت ہے اور صبر شجاعت ، زہد ثروت ہے اور پرہیز گاری سپر

۶۲۱

ونِعْمَ الْقَرِينُ الرِّضَى.

۵ - وقَالَعليه‌السلام الْعِلْمُ وِرَاثَةٌ كَرِيمَةٌ والآدَابُ حُلَلٌ مُجَدَّدَةٌ - والْفِكْرُ مِرْآةٌ صَافِيَةٌ.

۶ - وقَالَعليه‌السلام صَدْرُ الْعَاقِلِ صُنْدُوقُ سِرِّه - والْبَشَاشَةُ حِبَالَةُ الْمَوَدَّةِ - والِاحْتِمَالُ قَبْرُ الْعُيُوبِ.

ورُوِيَ أَنَّه قَالَ فِي الْعِبَارَةِ عَنْ هَذَا الْمَعْنَى أَيْضاً: الْمَسْأَلَةُ خِبَاءُ الْعُيُوبِ ومَنْ رَضِيَ عَنْ نَفْسِه كَثُرَ السَّاخِطُ عَلَيْه.

۔انسان کا بہترین ساتھی رضائے الٰہی پر راضی رہنا ہے۔

یعنی عاجزی انسان کو بیکار بنا دیتی ہے اور صبر اس میں حوصلہ پیدا کراتا ہے۔دنیا سے بے نیازی خود ایک دولت ہے اور پرہیز گاری دنیا کی ذلت اور آخرت کے عذاب سے بچانے کی بہترین سپر ہے۔رضائے الٰہی سے بہتر کوئی ساتھی اور مصاحب نہیں ہے جو ہمیشہ ساتھ رہنے والا ہے ۔

(۵)

علم بہترین وراثت ہے اور آداب نوبہ نو لباس ہیں اورف کر بہترین شفاف آئینہ ہے۔

انسان علم سے بہتر کوئی تر کہ چھوڑ کر نہیں جاتا ہے اور آداب سے بہتر کوئی لباس نہیں ہے جو زمانہ کے حالات کے اعتبارسے بدلتا رہتا ہے ۔فکر انسان کے معلومات کا بہترین وسیلہ ہے جس طرح شفاف آئینہ میں شکل دیکھی جاتی ہے۔

(۶)

عاقل کا سینہ اسرار کا خزینہ ہے اور بشارت محبت کا جال ہے اور تحمل و بردباری عیوب کا مدفن ہے اور صلح و صفائی عیوب کے چھپانے کا ذریعہ ہے۔

۶۲۲

۷ - والصَّدَقَةُ دَوَاءٌ مُنْجِحٌ - وأَعْمَالُ الْعِبَادِ فِي عَاجِلِهِمْ نُصْبُ أَعْيُنِهِمْ فِي آجَالِهِمْ.

۸ - وقَالَعليه‌السلام اعْجَبُوا لِهَذَا الإِنْسَانِ يَنْظُرُ بِشَحْمٍ ويَتَكَلَّمُ بِلَحْمٍ - ويَسْمَعُ بِعَظْمٍ ويَتَنَفَّسُ مِنْ خَرْمٍ.

۹ - وقَالَعليه‌السلام إِذَا أَقْبَلَتِ الدُّنْيَا عَلَى أَحَدٍ أَعَارَتْه مَحَاسِنَ غَيْرِه وإِذَا أَدْبَرَتْ عَنْه سَلَبَتْه مَحَاسِنَ نَفْسِه.

۱۰ - وقَالَعليه‌السلام خَالِطُوا النَّاسَ مُخَالَطَةً إِنْ مِتُّمْ مَعَهَا بَكَوْا عَلَيْكُمْ - وإِنْ عِشْتُمْ حَنُّوا إِلَيْكُمْ.

(۷)

صدقہ بہترین کارآمد دوا ہے اور لوگوں کے دنیا کے اعمال آخرت میں ان کی نگاہوں کے سامنے ہوں گے ۔

(۸)

انسان کی ساخت(۱) پر تعجب کروکہ چربی کے ذریعہ دیکھتا ہے اورگوشت سے بولتا ہے اور ہڈی سے سنتا ہے اور سوراخ سے سانس لیتا ہے۔

(۹)

جب(۲) دنیاکسی کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے تو یہ دوسرے کے محاسن بھی اس کے حوالہ کردیتی ہے اور جب اس سے منہ پھراتی ہے تو اس کے محاسن بھی سلب کر لیتی ہے۔

(۱۰)

لوگوں کے ساتھ ایسا میل جول(۳) رکھوکہ مرجائو تو لوگ گریہ کریں اور زندہ رہو تو تمہارے مشتاق رہیں۔

(۱)حضرت کے بیان کا یہ حصہ علم الا عضاء سے تعلق رکھتا ہے۔جس کا مقصد طبی دوائوں کا بیان نہیں ہے بلکہ قدرت خدا کی طرف توجہ دلانا ہے کہ شائد انسان اس طرف شکر خالق کی طرف متوجہ ہو جائے ۔

(۲)یہ علم الا جتماع کا نکتہ ہے جہاں اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ زمانہ عیب دار کو عیب عیب بھی بنا دتا ہے اور بے عیب کو عیب دار بھی بنا دیتا ہے اوردونوں کا فرق دنیا کی توجہ ہے جس کا حصول بہر حال ضروری ہے ۔

(۳)یہ بھی بہترین اجتماعی نکتہ ہے جس کی طرف ہر انسان کو متوجہ رہنا چاہیے۔

۶۲۳

۱۱ - وقَالَعليه‌السلام إِذَا قَدَرْتَ عَلَى عَدُوِّكَ - فَاجْعَلِ الْعَفْوَ عَنْه شُكْراً لِلْقُدْرَةِ عَلَيْه.

۱۲ - وقَالَعليه‌السلام أَعْجَزُ النَّاسِ مَنْ عَجَزَ عَنِ اكْتِسَابِ الإِخْوَانِ - وأَعْجَزُ مِنْه مَنْ ضَيَّعَ مَنْ ظَفِرَ بِه مِنْهُمْ.

۱۳ - وقَالَعليه‌السلام إِذَا وَصَلَتْ إِلَيْكُمْ أَطْرَافُ النِّعَمِ - فَلَا تُنَفِّرُوا أَقْصَاهَا بِقِلَّةِ الشُّكْرِ.

۱۴ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ ضَيَّعَه الأَقْرَبُ أُتِيحَ لَه الأَبْعَدُ.

(۱۱)

جب دشمن پر قدرت(۱) حاصل ہو جائے تو معاف کردینے ہی کو اس قدرت کا شکریہ قرار دو۔

(۱۲)

عاجز(۲) ترین انسان وہ ہے جو دوست بنانے سے بھی عاجز ہو اور اس سے زیادہ عاجز وہ ہے جو رہے سہے دوستوں کوبھی برباد کردے ۔

(۱۳)

جب نعمتوں(۳) کا رخ تمہاری طرف ہو تو نا شکری کے ذریعہ انہیں اپنے تک پہنچنے سے بگھا نہ دو۔

(۱۴)

جسے قریب(۴) والے چھوڑ دیتے ہیں اسے دور والے مل جاتے ہیں۔

(۱)یہ اخلاقی تربیت ہے کہ انسان میں طاقت کا غرور نہیں ہونا چاہیے اور اسے ایک نعمت پروردگار سمجھ کر اس کا شکریہ ادا کرنا چاہیے اور شکریہ بھی غلطی کرنے والوں کی معافی کی شکل میں ظاہر ہونا چاہیے۔

(۲)یہ بھی ایک اجتماعی نکتہ ہے کہ انسان میں دوست بنانے کی صلاحیت انتہائی ضرورت ہے اور جس میں یہ صلاحیت نہ ہو اسے واقعاً انسان نہں کہا جا سکتا ہے اور اس سے بد تر گیا گذرا انسان وہ ہے جو پائے ہوئے دوستوں کوبھی گنوادے۔

(۳)پروردار عالم نے یہ اخلاقی نظام بنادیا ہے کہ نعمتوں کی تکمیل شکریہ ہی کے ذریعہ ہو سکتی ہے لہٰذا جسے بھی اس کی تکمیل درکار ہے اسے شکریہ کا پابند ہونا چاہیے۔

(۴)انسان کو اعزا و اقربا کی بے رخی سے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔پروردگار جس طرح قرابتدار پیدا کر سکتا ہے اسی طرح دور والے مخلص بھی پیدا کر سکتا ہے اور اس طرح اعزاو اقربا میں یہ غرورنہیں ہونا چاہیے کہ ہم ساتھ چھوڑ دیں گے تو انسان لاوارث ہو جائے گا۔لاوارث کا وارث پروردگار اور اس نے حیات پیغمبر اسلام (ص) میںاس کا بہترین نمونہ پیشکردیا ہے ۔

۶۲۴

۱۵ - وقَالَعليه‌السلام مَا كُلُّ مَفْتُونٍ يُعَاتَبُ.

۱۶ - وقَالَعليه‌السلام تَذِلُّ الأُمُورُ لِلْمَقَادِيرِ حَتَّى يَكُونَ الْحَتْفُ فِي التَّدْبِيرِ.

۱۷ - وسُئِلَعليه‌السلام عَنْ قَوْلِ الرَّسُولِصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - غَيِّرُوا الشَّيْبَ ولَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ - فَقَالَعليه‌السلام إِنَّمَا قَالَصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ذَلِكَ والدِّينُ قُلٌّ - فَأَمَّا الآنَ وقَدِ اتَّسَعَ نِطَاقُه وضَرَبَ بِجِرَانِه - فَامْرُؤٌ ومَا اخْتَارَ.

۱۸ - وقَالَعليه‌السلام فِي الَّذِينَ اعْتَزَلُوا الْقِتَالَ مَعَه -

.

(۱۵)

ہر فتنہ(۱) میں پڑ جانے والا قابل عتاب نہیں ہوتا ہے۔

(۱۶)

سارے معاملات(۲) تقدیر کے تابع ہوتے ہیں یہاں تک کہ کبھی کبھی تدبیر سے موت واقع ہو جاتی ہے۔

(۱۷)

آپ سے رسول اکرم (ص) کے اس ارشاد کے بارے میں سوال کیا گیا کہ '' ضعیفی کو خضاب کے ذریعہ بدل(۳) دو اورخبردار یہودیوں کی شبیہ نہ بنو''تو آپ (ص) نے فرمایا کہ یہ اس دور کے لئے ہے جب دیندار کم تھے لیکن آج اسلام کا دئارہ وسیع ہو چکا ہے اور وہ سینہ ٹیک کرجم چکا ہے لہٰذا ہر انسان کو اپنی پسند سے کام کرنا چاہیے ۔

(۱۸)

آپ نے میدان جنگ سے کنارہ کشی کرنے والوں کے بارے میں فرمایا کہ

(۱)انسان اپنے ارادہ اختیار سے فتنوں میں مبتلا ہو جائے تو یقینا قابل ملامت ہوتا ہے۔لیکن حالات کی مجبوری اسے اس اقدام پرآمادہ کردے تو پروردگار مجبوریوں کامحاسبہ نہیں کرتا ہے جس کی مثال یاسر کی زندگی میں دیکھی جا سکتی ہے ۔

(۲)انسان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کائنات ارادہ ٔ الٰہی کے مطابق چل رہی ہے۔اس میں محنت ' مشقت ایک فرض بشریت ہے لیکن اس سے مقدارات کو بدلا نہیں جا سکتا ہے ورنہ یہ تصور کبھی انسان کو ہلاکت سے بھی دو چار کر سکتا ہے جس کی مثال موسیٰ کی نجات اور فرعون کی غرقابی میں دیکھی جا سکتی ہے ۔

(۳)یہودیت میں خضاب ایک عیب تھا اوربعض مسلمان بھی اس نظریہ سے متاثر تھے اس لئے حضور نے چاہا کہ مسلمان خضاب لگا کر میدان جنگ میںقدم رکھیں تاکہ کفار کے دل جوانوں کے لشکر کو دیکھ کر دہل جائیں۔اس کے بعد جب اسلام کو قوت حاصل ہوگئی تو خضاب کی ضرورت نہیں رہ گئی لیکن پھر بھی عیب نہیں ہے۔

۶۲۵

خَذَلُوا الْحَقَّ ولَمْ يَنْصُرُوا الْبَاطِلَ.

۱۹ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ جَرَى فِي عِنَان أَمَلِه عَثَرَ بِأَجَلِه

۲۰ - وقَالَعليه‌السلام أَقِيلُوا ذَوِي الْمُرُوءَاتِ عَثَرَاتِهِمْ - فَمَا يَعْثُرُ مِنْهُمْ عَاثِرٌ إِلَّا ويَدُ اللَّه بِيَدِه يَرْفَعُه

۲۱ - وقَالَعليه‌السلام قُرِنَتِ الْهَيْبَةُ بِالْخَيْبَةِ والْحَيَاءُ بِالْحِرْمَانِ - والْفُرْصَةُ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ فَانْتَهِزُوا فُرَصَ الْخَيْرِ.

۲۲ - وقَالَعليه‌السلام لَنَا حَقٌّ فَإِنْ أُعْطِينَاه

'' ان لوگوں نے حق(۱) کو بھی چھوڑدیا اورباطل کی بھی مدد نہیں کی ۔

(۱۹)

جوامیدوں کی راہ میں دوڑتا ہی چلا جاتا ہے وہ آخرمیں موت(۲) سے ٹھوکر کھا جاتا ہے ۔

(۲۰)

با مروت(۳) لوگوں کی لغزشوں سے درگذر کرو۔کہ ایسا شخص جب بھی ٹھوکر کھاتا ہے تو قدرت کا ہاتھ اسے سنبھال کر اٹھا دیتا ہے ۔

(۲۱)

مرعوبیت(۴) کو ناکامی سے اور حیاء کو محرومی سے ملادیا گیا ہے۔فرصت کے مواقع بادلوں کی طرح گزر جاتے ہیں لہٰذا نیکیوں کی فرصت کو غنیمت خیال کرو۔

(۲۲)

ہمارا ایک حق ہے جو مل گیا توخیر ورنہ ہم اونٹ

(۱)اردو میں اس صورت حال کے بارے میں کہا جاتا ہے :''نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم۔نہادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے''

(۲)جب موت برحق ہے تو امیدوں سے لو لگانے کی کیا ضرورت ہے۔ایک دن تو ان کا سلسلہ بہر حال ختم ہونا ہے تو بلا وجہ ان کی راہ میں جان دینے کی کیا ضرورت ہے۔

(۳)ہر انسان معصوم نہیں ہوتا ہے تو غلطی کا امکان بہر حال رہتا ہے لہٰذا ہر شخص کا فرض ہے کہ کسی شریف آدمی سے غلطی ہو جائے تو اسے معاف کردے اور نالائقوں سے محاسب و مواخذہ کرے۔

(۴)جو بلا وجہ خوفزدہ ہو جائے گا وہ مقصد کو حاصل نہیں کر سکتا ہے اور جو بلا وجہ شرماتا رہے گا وہ ہمیشہ محروم رہے گا۔انسان ہرموقع پر شرماتا ہی رہتا تو نسل انسانی وجود میں نہ آتی۔

۶۲۶

وإِلَّا رَكِبْنَا أَعْجَازَ الإِبِلِ - وإِنْ طَالَ السُّرَى.

قال الرضي وهذا من لطيف الكلام وفصيحه - ومعناه أنا إن لم نعط حقنا كنا أذلاء - وذلك أن الرديف يركب عجز البعير - كالعبد والأسير ومن يجري مجراهما.

۲۳ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ أَبْطَأَ بِه عَمَلُه لَمْ يُسْرِعْ بِه نَسَبُه.

۲۴ - وقَالَعليه‌السلام مِنْ كَفَّارَاتِ الذُّنُوبِ الْعِظَامِ إِغَاثَةُ الْمَلْهُوفِ - والتَّنْفِيسُ عَنِ الْمَكْرُوبِ.

۲۵ - وقَالَعليه‌السلام يَا ابْنَ آدَمَ إِذَا رَأَيْتَ رَبَّكَ سُبْحَانَه يُتَابِعُ عَلَيْكَ نِعَمَه - وأَنْتَ تَعْصِيه فَاحْذَرْه.

پر(۱) پیچھے ہی بیٹھنا گوارا کرلیں گے چاہے سفر کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو۔

سید رضی : یہ بہترین لطیف اور فصیح کلام ے کہ اگر حق نہ ملا تو ہم کو ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا کہ ردیف میں بیٹھنے والے عام طور سے غلام اورقیدی وغیرہ ہواکرتے ہیں۔

(۲۳)

جسے اس کے اعمال کے پیچھے ہٹا دیں اسے نسب آگے نہیں بڑھا سکتا ہے۔

(۲۴)

بڑے بڑے گناہوں کا کفارہ یہ ہے کہ انسان ست رسیدہ کی فریاد(۲) رسیکرے اور رنج دیدہ انسان کے غم کو دور کرے۔

(۲۵)

فرزند آدم ! جب گناہوں کے باوجود پروردگار کی نعمتیں مسلسل تجھے ملتی رہیں تو ہوشیار(۳) ہو جانا۔

(۱)یعنی ہم حق سے دستبردار ہونے والے نہیں ہیں اور جہاں تک غاصبانہ دبائو کا سامانا کرنا پڑے گا کرتے رہیں گے ۔

(۲)ستم رسیدہوہ بھی ہے جس کے کھانے پینے کا سہارا نہ ہو اور وہ بھی ہے جس کے علاج کا پیسہ یا اسکول کی فیس کا انتظام نہ ہو

(۳)اکثر انسان نعمتوں کی بارش دیکھ کر مغرور ہو جاتا ہے کہ شائد پروردگار کچھ زیادہہی مہربان ہے اور یہ نہیں سوچتا ہے کہ اس طرح حجت تمام ہورہی ہے اورڈھیل دی جارہی ہے ورنہ گناہوں کے باوجود اس بارش رحمت کا کیا امکان ہے۔

۶۲۷

۲۶ - وقَالَعليه‌السلام مَا أَضْمَرَ أَحَدٌ شَيْئاً إِلَّا ظَهَرَ فِي فَلَتَاتِ لِسَانِه - وصَفَحَاتِ وَجْهِه.

۲۷ - وقَالَعليه‌السلام امْشِ بِدَائِكَ مَا مَشَى بِكَ

۲۸ - وقَالَعليه‌السلام أَفْضَلُ الزُّهْدِ إِخْفَاءُ الزُّهْدِ.

۲۹ - وقَالَعليه‌السلام إِذَا كُنْتَ فِي إِدْبَارٍ والْمَوْتُ فِي إِقْبَالٍ فَمَا أَسْرَعَ الْمُلْتَقَى.

۳۰ - وقَالَعليه‌السلام الْحَذَرَ الْحَذَرَ فَوَاللَّه لَقَدْ سَتَرَ حَتَّى كَأَنَّه قَدْ غَفَرَ.

(۲۶)

انسان جس بات کو د میں چھپانا چاہتا ہے وہ اس کی زبان کے بیساختہ کلمات(۱) اورجہرہ کے آثار سے نمایاں ہو جاتی ہے

(۲۷)

جہاں تک ممکن ہو مرض کے ساتھ چلتے رہو (اورفوراً علاج کی فکرمیں لگ جائو)

(۲۸)

بہترین زہد۔زہد کا مخفی رکھنا اور اظہار نہکرنا ہے ( کہ ریا کاری زہد نہیں ہے نفاق ہے )

(۲۹)

جب تمہاری زندگی جارہی ہے اور موت آرہی ہے تو ملاقات بہت جلدی ہو سکتی ہے۔

(۳۰)

ہوشیار ہوشیار! کہ پروردگار نے گناہوں کی اس قدر پردہ پوشی کی ہے کہ انسان کو یہ دھوکہ ہوگیا ہے کہ شائد معاف کردیا ہے ۔

(۱)زندگی کی بیشمار باتیں ہیں جن کا چھپانا اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک زبان کی حرکت جاری ہے اور چہرہ کی غمازی سلامت ہے اور چہرہ کی غمازی سلامت ہے۔ان دو چیزوں پر کوئی انسان قابو نہیںپا سکتا ہے اور ان سے حقائق کا بہر حال انکشاف ہوجاتا ہے۔

۶۲۸

۳۱ - وسُئِلَعليه‌السلام عَنِ الإِيمَانِ - فَقَالَ الإِيمَانُ عَلَى أَرْبَعِ دَعَائِمَ - عَلَى الصَّبْرِ والْيَقِينِ والْعَدْلِ والْجِهَادِ - والصَّبْرُ مِنْهَا عَلَى أَرْبَعِ شُعَبٍ - عَلَى الشَّوْقِ والشَّفَقِ والزُّهْدِ والتَّرَقُّبِ - فَمَنِ اشْتَاقَ إِلَى الْجَنَّةِ سَلَا عَنِ الشَّهَوَاتِ - ومَنْ أَشْفَقَ مِنَ النَّارِ اجْتَنَبَ الْمُحَرَّمَاتِ - ومَنْ زَهِدَ فِي الدُّنْيَا اسْتَهَانَ بِالْمُصِيبَاتِ - ومَنِ ارْتَقَبَ الْمَوْتَ سَارَعَ إِلَى الْخَيْرَاتِ - والْيَقِينُ مِنْهَا عَلَى أَرْبَعِ شُعَبٍ - عَلَى تَبْصِرَةِ الْفِطْنَةِ وتَأَوُّلِ الْحِكْمَةِ - ومَوْعِظَةِ الْعِبْرَةِ وسُنَّةِ الأَوَّلِينَ - فَمَنْ تَبَصَّرَ فِي الْفِطْنَةِ

(۳۱)

آپ سے ایمان کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ ایمان(۱) کے چا ستون ہیں : صبر ' یقین ' عدل اور جہاد۔

پھر صبرکے چار شعبے ہیں(۲) :شوق ' خوف ' زہد اور انتظارموت ۔پھر جس نے جنت کا اشتیاق پیدا کرلیا اسنے خواہشات کو بھلا دیا اورجسے جہنم کا خوف حاصل ہوگیا اس نے محرمات سے اجتناب کیا۔دنیا میں زہد اختیار کیا۔دنیا میں زہد اختیار کرنے والا مصیبتوں کو ہلکا تصورکرتا ہے اورموت کا انتظار کرنے والا نیکیوں کی طرف سبقت کرتا ہے۔

یقین کے بھی چار شعبے(۳) ہیں: ہوشیاری کی بصیرت ' حکمت کی حقیقت رسی ' عبرت کی نصیحت اور سابق بزرگوں کی سنت۔ہوشیاری میں بصیرت رکھنے

(۱)واضح رہے کہ اس ایمان سے مراد ایمان حقیقی ہے جس پر ثواب کا دارومدار ہے اور جس کاواقعی تعلق دل کی تصدیق اوراعضاء و جوارح کے عمل و کردارسے ہوتا ہے ورنہ وہ ایمان جس کاتذکرہ''یا ایھا الذن امنوا '' میں کیا گیا ہے اس سے مراد صرف زبانی اقرار اورادعائے ایمان ہے۔ورنہ ایسا نہ ہوتا تو تمام احکام کا تعلق صرف مومنین مخلصین سے ہوتا اور منافقین ان قوانین سے یکسر آزاد ہو جاتے ۔

(۲)صبر کا دارومدار چار اشیاء پر ہے۔انسان رحمت الٰہی کا اشتیاق رکھتا ہو اورعذاب الٰہی سے ڈرتا ہوتا کہ اس راہ میں زحمتیں برداشت کرے۔اس کے بعد دنیا کی طرف سے لا پرواہ ہو اور موت کی طرف سراپا توجہ ہوتا کہدنیا کے فراق کو برداشت کرلے اورموت کی سختی کے پیش نظر ہر سختی کو آسان سمجھ لے ۔

(۳)یقین کی بھی چار بنیادی ہیں۔اپنی ہر بات پر مکمل اعتماد رکھتا ہو۔حقاق کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔دیگر اقوام کے حالات سے عبرت حاصل کرے اورصالحین کے کردار پرعمل کرے۔ایسا نہیں ہے تو انسان جہل مرکب میں مبتلا ہے اور اس کا یقین فقط و ہم و گمان ہے یقین نہیں ہے۔

۶۲۹

تَبَيَّنَتْ لَه الْحِكْمَةُ - ومَنْ تَبَيَّنَتْ لَه الْحِكْمَةُ عَرَفَ الْعِبْرَةَ - ومَنْ عَرَفَ الْعِبْرَةَ فَكَأَنَّمَا كَانَ فِي الأَوَّلِينَ

- والْعَدْلُ مِنْهَا عَلَى أَرْبَعِ شُعَبٍ - عَلَى غَائِصِ الْفَهْمِ وغَوْرِ الْعِلْمِ - وزُهْرَةِ الْحُكْمِ ورَسَاخَةِ الْحِلْمِ - فَمَنْ فَهِمَ عَلِمَ غَوْرَ الْعِلْمِ - ومَنْ عَلِمَ غَوْرَ الْعِلْمِ صَدَرَ عَنْ شَرَائِعِ الْحُكْمِ - ومَنْ حَلُمَ لَمْ يُفَرِّطْ فِي أَمْرِه وعَاشَ فِي النَّاسِ حَمِيداً –

والْجِهَادُ مِنْهَا عَلَى أَرْبَعِ شُعَبٍ - عَلَى الأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ والنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ - والصِّدْقِ فِي الْمَوَاطِنِ وشَنَآنِ الْفَاسِقِينَ - فَمَنْ أَمَرَ بِالْمَعْرُوفِ شَدَّ ظُهُورَ الْمُؤْمِنِينَ - ومَنْ نَهَى عَنِ الْمُنْكَرِ أَرْغَمَ أُنُوفَ الْكَافِرِينَ - ومَنْ صَدَقَ فِي الْمَوَاطِنِ قَضَى مَا عَلَيْه - ومَنْ شَنِئَ الْفَاسِقِينَ وغَضِبَ لِلَّه غَضِبَ اللَّه لَه - وأَرْضَاه يَوْمَ الْقِيَامَةِ -

والے پر حکمت روشن ہو جاتی ہے اورحکمت کی روشنی عبرت کو واضح کر دیتی ہے اور عبرت کی معرفت گویا سابق اقوام سے ملا دیتی ہے۔

عدل کے بھی چار شعبے ہیں : تہ تک پہنچ جانے والی سمجھ' علم کی گہرائی فیصلہ کی وضاحت اور عقل کی پائیداری۔

جس نے فہم کی نعمت پالی وہ علم کی گہرائی تک پہنچ گیا اور جس نے علم کی گہرائی کو پالیا وہ فیصلہ کے گھاٹ سے سیراب ہو کرباہرآیا اور جس نے عقل استعمال کرلی اس نے اپنے امر میں کوئی کوتاہی نہیں کی اور لوگوں کے درمیان قابل تعریف زندگی گزاردی۔

جہاد کے بھی چار شعبے ہیں:امر(۱) بالمعروف' نہی عن المنکر' ہر مقام پر ثبات قدم اورفاسقوں سے نفرت و عداوت ۔لہٰذا جس نے امر بالمعروف کیا اس نے مومنین کی کمر کو مضبوط کردیا۔اور جس نے منکرات سے روکا اس نے کافروں کی ناک رگڑدی۔جس نے میدان قتال میں ثبات قدم کامظاہرہ کیا وہ اپنے راستہ پر آگے بڑھ گیا اور جسنے فاسقوں سے نفرت و عداوت کا برتائو کیا پروردگار اس کی خاطر اس کے دشمنوں سے غضب ناک ہوگا اور اسے روز قیامت خوش کردے گا۔

(۱)جہاد کا انحصار بھی چارمیدانوں پر ہے۔امر بالمعروف کامیدان۔نہی عن المنکرکا میدان ' قتال کامیدان اور فاسقوں سے نفرت و عداوت کا میدان۔ان چاروں میدانوں میں حوصلہ جہاد نہیں ہے تو تنہا امرو نہی سے کوئی کام چلنے والا نہیں ہے اور نہ ایسا انسان واقعی مجاہد کہے جانے کے قابل ہے ۔

۶۳۰

والْكُفْرُ عَلَى أَرْبَعِ دَعَائِمَ - عَلَى التَّعَمُّقِ ،والتَّنَازُعِ والزَّيْغِ والشِّقَاقِ - فَمَنْ تَعَمَّقَ لَمْ يُنِبْ إِلَى الْحَقِّ - ومَنْ كَثُرَ نِزَاعُه بِالْجَهْلِ دَامَ عَمَاه عَنِ الْحَقِّ - ومَنْ زَاغَ سَاءَتْ عِنْدَه الْحَسَنَةُ وحَسُنَتْ عِنْدَه السَّيِّئَةُ - وسَكِرَ سُكْرَ الضَّلَالَةِ - ومَنْ شَاقَّ وَعُرَتْ عَلَيْه طُرُقُه وأَعْضَلَ عَلَيْه أَمْرُه - وضَاقَ عَلَيْه مَخْرَجُه –

والشَّكُّ عَلَى أَرْبَعِ شُعَبٍ - عَلَى التَّمَارِي والْهَوْلِ والتَّرَدُّدِ والِاسْتِسْلَامِ - فَمَنْ جَعَلَ الْمِرَاءَ دَيْدَناً لَمْ يُصْبِحْ لَيْلُه - ومَنْ هَالَه مَا بَيْنَ يَدَيْه نَكَصَ عَلَى عَقِبَيْه - ومَنْ تَرَدَّدَ فِي الرَّيْبِ

اور کفر کے بھی چار ستون ہیں(۱) :بلاوجہ گہرائیوں میں جانا، آپس میں جھگڑا کرنا، کجی اور انحراف اوراختلاف اور عناد۔

جو بلا سبب گہرائی میں ڈوب جائے گا وہ پلٹ کرحق کی طرف نہیں آسکتا ہے اور جو جہالت کی بنا پرجھگڑا کرتا رہتا ہے وہ حق کی طرف سے اندھا ہو جاتا ہے جو کجی کاشکار ہو جاتا ہے اسے نیکی برائی'اور برائی نیکی نظر آنے لگتی ہے اوروہ گمراہی کے نشہ میں چورہو جاتا ہے اورجو جھگڑے اور عناد میں مبتلا ہو جاتا ہے اس کے راستے دشوار ' مسائل ناقابل حل اوربچ نکلنے کے طریقے تنگ ہو جاتے ہیں ۔

اس کے بعد شک(۲) کے چار شعبے ہیں :کٹ حجتی ' خوف ' حیرانی اور باطل کے ہاتھوں سپردگی۔ظاہر ہے کہ جو کٹ حجتی کو شعار بنالے گا اس کی رات کی صبح کبھی نہ ہوگی اور جو ہمیشہ سامنے کی چیزوں سے ڈرتا رہے گا وہ الٹے پائوں پیچھے ہی ہٹتا رہے گا۔جو شک و شبہ میں حیران و

(۱)کفر انکارخدا کی شکل میں ہو یا انکار رسالت کی شکل میں۔اس کی اساس شرک پر ہو یا انکارحقائق و واضحاب مذہب پر ہر سم کے لئے چار میں سے کوئی نہ کوئی سبب ضرور ہوتا ہے یا انسان ان مسائل کی فکرمیں ڈوب جاتا ہے جو اس کے امکان سے باہر ہیں۔یا صرف جھگڑے کی بنیاد پرکسی عقیدہ کو اختیار کرلیتا ہے یا اس کی فکرمیں کجی پیدا ہو جاتای ہے یا وہ عناد اور ضد کا شکار ہو جاتا ہے۔اور کھلی ہوئی بات ہے کہ ان میں سے ہر بیماری وہ ہے جو انسان کو راہ راست پر آنے سے روک دیتی ہے اور انسان ساری زندگی کفر ہی میں مبتلا رہ جاتا ہے۔بیماری کی ہر قسم کے اثرات الگ الگ ہیں لیکن مجموعی طور پر سب کا اثر یہ ہے کہ انسان حق رسی سے محروم ہو جاتا ہے اور ایمان و یقین کی دولت سے بہرہ مند نہیں ہو پاتا ہے۔

(۲)شک ایمان و کفر کے درمیان کا راستہ ہے جہاں نہ انسان حق کا تیقن پیدا کر پاتا ہے اور نہ کفر ہی کا عقیدہ اختیار کرسکتا ہے اور درمیان میں ٹھوکریں کھاتا رہتا ہے اوراس ٹھوکر کے بھی چار اسباب یا مظاہر ہوتے ہیں یا انسان بلا سوچے سمجھے بحث شروع کر دیتا ہے یا غلطی کرنے کے خوف سے پرچھائیوں سے بھی ڈرنے لگتا ہے۔یا تردد اور حیرانی کا شکار ہو جاتا ہے یا ہر پکارنے والے کی آواز پر لبیک کہنے لگتا ہے :

''چلتا ہوں تھوڑی دور ہرایک راہ و کے ساتھ پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں ''

۶۳۱

وَطِئَتْه سَنَابِكُ الشَّيَاطِينِ - ومَنِ اسْتَسْلَمَ لِهَلَكَةِ الدُّنْيَا والآخِرَةِ هَلَكَ فِيهِمَا.

قال الرضي وبعد هذا كلام تركنا ذكره خوف الإطالة - والخروج عن الغرض المقصود في هذا الكتاب.

۳۲ - وقَالَعليه‌السلام فَاعِلُ الْخَيْرِ خَيْرٌ مِنْه وفَاعِلُ الشَّرِّ شَرٌّ مِنْه.

۳۳ - وقَالَعليه‌السلام كُنْ سَمْحاً ولَا تَكُنْ مُبَذِّراً - وكُنْ مُقَدِّراً ولَا تَكُنْ مُقَتِّراً

۳۴ - وقَالَعليه‌السلام أَشْرَفُ الْغِنَى تَرْكُ الْمُنَى

۳۵ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ أَسْرَعَ إِلَى النَّاسِ بِمَا يَكْرَهُونَ - قَالُوا فِيه بِمَا لَا يَعْلَمُونَ.

سرداں رہے گا اسے شیاطین اپنے پیروں تلے روند ڈالیں گے اور جو اپنے کو دنیا و آخرت کی ہلاکت کے سپرد کردے گا وہ واقعاً ہلاک ہو جائے گا۔

(۳۲)

خیر کا انجام دینے والا اصل خیر سے بہتر ہوتا ہے اور شر کا انجام دینے والا اصل شر سے بھی بدتر ہوتا ہے ۔

(۳۳)

سخاوت کرو لیکن فضول خرچی نہ کرو اور کفایت شعاری اختیار کرو۔لیکن بخیل مت بنو۔

(۳۴)

بہترین مالداری اوربے نیازی یہ ہے کہ انسان امیدوں کو ترک کردے ۔

(۳۵)

جو لوگوں کے بارے میں بلا سوچے سمجھے وہ باتیں کہہ دیتا ہے جنہیں وہ پسند نہیں کرتے ہیں۔لوگ اس کے بارے میں بھی وہ کہہ دیتے ہیں جسے جانتے بھی نہیں ہیں۔

۶۳۲

۳۶ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ أَطَالَ الأَمَلَ أَسَاءَ الْعَمَلَ.

۳۷ - وقَالَعليه‌السلام وقَدْ لَقِيَه عِنْدَ مَسِيرِه إِلَى الشَّامِ دَهَاقِينُ الأَنْبَارِ - فَتَرَجَّلُوا لَه واشْتَدُّوا بَيْنَ يَدَيْه - فَقَالَ:

مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمُوه فَقَالُوا خُلُقٌ مِنَّا نُعَظِّمُ بِه أُمَرَاءَنَا - فَقَالَ واللَّه مَا يَنْتَفِعُ بِهَذَا أُمَرَاؤُكُمْ - وإِنَّكُمْ لَتَشُقُّونَ عَلَى أَنْفُسِكُمْ فِي دُنْيَاكُمْ - وتَشْقَوْنَ بِه فِي آخِرَتِكُمْ - ومَا أَخْسَرَ الْمَشَقَّةَ وَرَاءَهَا الْعِقَابُ - وأَرْبَحَ الدَّعَةَ مَعَهَا الأَمَانُ مِنَ النَّارِ!

(۳۶)

جس نے امیدوں کو دراز(۱) کیا اس نے عمل کو برباد کردیا۔

(۳۷)

(شام کی طرف جاتے ہوئے آپ کا گذر ابنار کے زمینوں کے پاس سے ہوا تو وہ لوگ سواریوں سے اتر آئے اور آپ کے آگے دوڑنے لگے توآپ نے فرمایا ) یہ تم نے کیا طریقہ اختیار کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی کہ یہ ہمارا ایک ادب ہے جس سے ہم شخصیتوں کا احترام کرتے ہیں۔فرمایا کہخدا گواہ ہے اس سے حکام کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے اورتم اپنے نفس کو دنیا میں زحمت(۲) میں ڈالتے ہو اور آخرت میں بد بختی کا شکار ہو جائو گے اور کس قدرخسارہ کے باعث ہے وہ مشقت جس کے پیچھے عذاب ہو اورکس قدر فائدہ مند ہے وہ راحت جس کے ساتھ جہنم سے امان ہو۔

(۱)اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ دنیا امیدوں پر قائم ہے اور انسان کی زندگی سے امیدکا شعبہ ختم ہو جائے تو عمل کی ساری تحریک سرد پڑ جائے گی اور کوئی انسان کوئی کام نہ کرے گا لیکن اس کے بعد بھی اعتدال ایک بنیادی مسئلہ ہے اور امیدوں کی درازی بہر حال عمل کو برباد کر دیتی ہے کہ انسان آخرت سے غافل ہو جاتا ہے اورآخرت سے غافل ہو جانے والا عمل نہیں کر سکتا ہے ۔

(۲)اس ارشاد گرامی سے صاف واضح ہوتا ہے کہ اسلام ہر تہذیب کوگوارا کرتا ہے اور اس کے بارے میں یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ اس کی افادیت کیا ے اورآخرت میں اس کا نقصان کس قدر ہے۔ہماری ملکی تہذیب میں فرشی سلام کرنا' غیر خدا کے سامنے سجدرکوع جھکنا بھی ہے جو اسلام میں قطعاً جائز نہیں ہے۔کسی ضرورت سے جھکنا اور ہے اور تعظیم کے خیال سے جھکنا اور ہے۔سلام تعظیم کے لئے ہوتا ہے لہٰذا اس میں رکوع کی حدوں تک جانا صحیح نہیں ہے۔

۶۳۳

۳۸ - وقَالَعليه‌السلام لِابْنِه الْحَسَنِعليه‌السلام :

يَا بُنَيَّ احْفَظْ عَنِّي أَرْبَعاً وأَرْبَعاً - لَا يَضُرُّكَ مَا عَمِلْتَ مَعَهُنَّ - إِنَّ أَغْنَى الْغِنَى الْعَقْلُ وأَكْبَرَ الْفَقْرِ الْحُمْقُ - وأَوْحَشَ الْوَحْشَةِ الْعُجْبُ وأَكْرَمَ الْحَسَبِ حُسْنُ الْخُلُقِ.

يَا بُنَيَّ إِيَّاكَ ومُصَادَقَةَ الأَحْمَقِ - فَإِنَّه يُرِيدُ أَنْ يَنْفَعَكَ فَيَضُرَّكَ - وإِيَّاكَ ومُصَادَقَةَ الْبَخِيلِ - فَإِنَّه يَقْعُدُ عَنْكَ أَحْوَجَ مَا تَكُونُ إِلَيْه - وإِيَّاكَ ومُصَادَقَةَ الْفَاجِرِ فَإِنَّه يَبِيعُكَ بِالتَّافِه - وإِيَّاكَ ومُصَادَقَةَ الْكَذَّابِ - فَإِنَّه كَالسَّرَابِ يُقَرِّبُ عَلَيْكَ الْبَعِيدَ ويُبَعِّدُ عَلَيْكَ الْقَرِيبَ.

۳۹ - وقَالَعليه‌السلام لَا قُرْبَةَ بِالنَّوَافِلِ إِذَا أَضَرَّتْ بِالْفَرَائِضِ.

(۳۸)

آپ نے اپنے فرزند امام حسن سے فرمایا: بیٹا مجھ سے چار اور پھر چار(۱) باتیں محفوظ کرلو تو اس کے بعد کسی عمل سے کوئی نقصان نہ ہوگا۔

بہترین دولت و ثروت عقل ہے اوربد ترین فقیری حماقت ۔سب سے زیادہ وحشت ناک امرخود پسندی ہے اور سب سے شریف حسب خوش اخلاقی ۔بیٹا!خبردار کسی احمق کی دوستی اختیار نہ کرنا کہ تمہیں فائدہ بھی پہنچانا چاہے گا تو نقصان پہنچادے گا۔اور اسی طرح کسی بخیل سے دوستی نہ کرناکہ تم سے ایسے وقت میں دور بھاگے گا جب تمہیں اس کی شدید ضرورت ہوگی اور دیکھو کسی فاجر کا ساتھ بھی اختیار نہ کرنا کہ وہ تم کو حقیر چیز کے عوض بھی بیچ ڈالے گا اور کسی جھوٹے کی صحبت بھی اختیارنہ کرناکہ وہ مثل سراب ہے جو دور والے کو قریب کر دیتا ہے اورق ریب والے کو دور کردیتا ہے ۔

(۳۹)

مستحباب الٰہی میں کوئی قربت الٰہی نہیں ہے اگر ان سے واجبات کو نقصان پہنچ جائے ۔

(۱)چار اور چار کا مقصد شائد یہ ہے کہ پہلے چار کاتعلق انسان کے ذاتی اوصاف وخصوصیات سے ہے اور دوسرے چار کا تعلق اجتماعی معاملات سے ہے اور کمال سعادت مندی یہی ہے کہ انسان ذاتی زیور کردارسے بھی آراستہ رہے اور اجتماعی برتائو کوب ھی صحیح رکھے ۔

۶۳۴

۴۰ - وقَالَعليه‌السلام لِسَانُ الْعَاقِلِ وَرَاءَ قَلْبِه وقَلْبُ الأَحْمَقِ وَرَاءَ لِسَانِه قال الرضي - وهذا من المعاني العجيبة الشريفة - والمراد به أن العاقل لا يطلق لسانه.

إلا بعد مشاورة الروية ومؤامرة الفكرة - والأحمق تسبق حذفات لسانه وفلتات كلامه - مراجعة فكره ومماخضة رأيه - فكأن لسان العاقل تابع لقلبه - وكأن قلب الأحمق تابع للسانه.

۴۱ - وقد روي عنهعليه‌السلام هذا المعنى بلفظ آخر - وهو قوله:

قَلْبُ الأَحْمَقِ فِي فِيه - ولِسَانُ الْعَاقِلِ فِي قَلْبِه.

ومعناهما واحد:

(۴۰)

عقل مند(۱) کی زبان اس کے دل کے پیچھے رہتی ہے اور احمق کا دل اس کی زبان کے پیچھے رہتا ہے۔

سید رضی : یہ بڑی عجی و غریب اور لطیف حکمت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ عقلمند انسان غورو فکر کرنے کے بعد بولتا ہے اور احمق انسان بلا سوچے سمجھے کہہ ڈالتا ہے گویا کہعاقل کی زبان دل کی تابع ہے اور احمق کا دل اس کی زبان کا پابند ہے۔

(۴۱)

احمق کا دل اس کے منہ کے اندر رہتا ہے اور عقل مند کی زبان اس کے دل کے اندر۔

(۱)دوسرے مقام پر امام علیہ السلام نے اسی بات کو عاقل و احمق کے بجائے مومن اور منافق کے نام سے بیان فرمایا ہے اورحقیقت امر یہ ہے کہ اسلام کی نگاہ میں مومن ہی کو عاقل اور منافق ہی کو احمق کہا جاتا ہے۔ورنہ جو ابتد اسے بے خبر اور انتہا سے غافل ہو جاے نہ رحمان کی عبادت کرے اورنہ جنت کے حصول کا انتظام کرے اسے کس اعتبارسے عقل مند کہا جاسکتا ہے اور اسے احمق کے علاوہ دسرا کون سا نام دیا جا سکتا ہے۔

یہ اوربات ہے کہ دور حاضر میں ایسے ہی افراد کو دانش مند اور دانشور کہا جاتا ہے اور انہیں کے احترام کے طور پر دین و دانش کی اصلاح نکالی گئی ہے کہ گویا دیندار' دیندار ہوتا ہے اور دانشور نہیں۔اور دانشور ' دانشور ہوتا ہے چاہے دیندار نہ ہو اور بیدینی ہی میں زندگی گزارے ۔

۶۳۵

۴۲ - وقَالَعليه‌السلام لِبَعْضِ أَصْحَابِه فِي عِلَّةٍ اعْتَلَّهَا - جَعَلَ اللَّه مَا كَانَ مِنْ شَكْوَاكَ حَطَّاً لِسَيِّئَاتِكَ - فَإِنَّ الْمَرَضَ لَا أَجْرَ فِيه - ولَكِنَّه يَحُطُّ السَّيِّئَاتِ ويَحُتُّهَا حَتَّ الأَوْرَاقِ - وإِنَّمَا الأَجْرُ فِي الْقَوْلِ بِاللِّسَانِ - والْعَمَلِ بِالأَيْدِي والأَقْدَامِ - وإِنَّ اللَّه سُبْحَانَه يُدْخِلُ بِصِدْقِ النِّيَّةِ - والسَّرِيرَةِ الصَّالِحَةِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِه الْجَنَّةَ.

قال الرضي - وأقول صدقعليه‌السلام إن المرض لا أجر فيه - لأنه ليس من قبيل ما يستحق عليه العوض - لأن العوض يستحق على ما كان في مقابلة فعل الله تعالى بالعبد - من الآلام والأمراض وما يجري مجرى ذلك - والأجر والثواب يستحقان على ما كان في مقابلة فعل العبد - فبينهما فرق قد بينهعليه‌السلام - كما يقتضيه علمه الثاقب ورأيه الصائب.

۴۳ - وقَالَعليه‌السلام فِي ذِكْرِ خَبَّابِ بْنِ الأَرَتِّ - يَرْحَمُ اللَّه خَبَّابَ بْنَ الأَرَتِّ

(۴۲)

اپنے ایک صحابی سے اس کی بیماری کے موقع پر فرمایا ''اللہ نے تمہاری بیماری کو تمہارے گناہوں کے دور کرنے کا ذریعہ بنادیا ہے کہ خود بیماری میں کوئی اجر نہیں ہے لیکن یہ برائیوں کو مٹا دیتی ہے اوراس طرح جھاڑ دیتی ہے جیسے درخت سے پتے جھڑتے ہیں۔اجرو ثواب زبان سے کچھ کہنے اور ہاتھ پائوں سے کچھ کرنے میں حاصل ہوتا ہے اور پروردگار اپنے جن بندوں(۱) کوچاہتا ہے ان کی نیت کی صداقت اورباطن کی پاکیزگی کی بنا پرداخل جنت کردیتا ہے۔

سید رضی : حضرت نے بالکل سچ فرمایا ہے کہ بیماری میں کوء یاجر نہیں ہے کہ یہ کوئی استحقاقی اجروالا کام نہیں ہے۔عوض تو اس عمل پر بھی حاصل ہوتا ہے۔جو بیماریوں وغیرہ کی طرح خدا بندہ کے لئے انجام دیتا ہے لیکن اجرو ثواب صرف اسی عمل پر ہوتا ہے جو بندہ خود انجام دیتا ہے اور مولائے کائنات نے اس مقام پر عوض اور اجرو ثواب کے اسی فرق کو واضح فرمایا ہے جس کا ادراک آپ کے علم روشن اورف کر صائب کے ذریعہ ہوا ہے۔

(۴۳)

آپ نے خباب بن الارثکے بارے میں فرمایا کہ خدا خباب ابن الارت پر رحمت نازل کرے۔وہ

(۱)مقصد یہ ہے کہ پروردگار نے جس اجرو ثواب کا وعدہ کیا ہے اور جس کا انسان استحقاق پیدا کر لیتا ہے وہ کسی نہ کسی عمل میں پر پیدا ہوتا ہے اور مرض کوئی عمل نہیں ہے۔لیکن اس کے علاوہ فضل و کرم کا دروازہ کھلا ہوا ہے اوروہ کسی بھی وقت اور کسی بھی شخص کے شامل حال کیا جا سکتا ہے ۔اس میں کسی کا کوئی اجارہ نہیں ہے۔

۶۳۶

فَلَقَدْ أَسْلَمَ رَاغِباً وهَاجَرَ طَائِعاً وقَنِعَ بِالْكَفَافِ ورَضِيَ عَنِ اللَّه وعَاشَ مُجَاهِداً.

۴۴ - وقَالَعليه‌السلام طُوبَى لِمَنْ ذَكَرَ الْمَعَادَ وعَمِلَ لِلْحِسَابِ - وقَنِعَ بِالْكَفَافِ ورَضِيَ عَنِ اللَّه.

۴۵ - وقَالَعليه‌السلام : لَوْ ضَرَبْتُ خَيْشُومَ الْمُؤْمِنِ بِسَيْفِي هَذَا - عَلَى أَنْ يُبْغِضَنِي مَا أَبْغَضَنِي - ولَوْ صَبَبْتُ الدُّنْيَا بِجَمَّاتِهَا عَلَى الْمُنَافِقِ - عَلَى أَنْ يُحِبَّنِي مَا أَحَبَّنِي - وذَلِكَ أَنَّه قُضِيَ فَانْقَضَى عَلَى لِسَانِ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ صلى‌الله‌عليه‌وآله - أَنَّه قَالَ يَا عَلِيُّ لَا يُبْغِضُكَ مُؤْمِنٌ ولَا يُحِبُّكَ مُنَافِقٌ.

۴۶ - وقَالَعليه‌السلام سَيِّئَةٌ تَسُوءُكَ خَيْرٌ عِنْدَ اللَّه مِنْ حَسَنَةٍ تُعْجِبُكَ.

اپنی رغبت سے اسلام لائے ۔اپنی خوشی سے ہجرت کی اور بقدر ضرورت سامان پر اکتفا کی۔اللہ کی مرضی(۱) سے راضی رہے اورمجاہدانہ زندگی گزاری۔

(۴۴)

خوشا بحال اس شخص کا جس نے آخرت کو یاد رکھا ' حساب کے لئے عمل کیا، بقدر ضرورت پرقانع رہا اور اللہ سے راضی رہا۔

(۴۵)

اگر میں اس تلوار سے مومن کی ناک بھی کاٹ دوں کہ مجھ سے دشمنی کرنے لگے تو ہرگز نہکرے گا اور اگر دنیا کی تمام نعمتیں منافق پر انڈیل دوں کہ مجھ سے محبت کرنے لگے تو ہرگز نہ کرے گا۔اس لئے کہ اس حقیقت کا فیصلہ نبی صادق کی زبان سے ہو چکا ہے کہ ''یاعلی ! کوئی مومن تم سے دشمنی نہیں کر سکتا ہے اور کوئی منافق تم سے محبت نہیں کرسکتا ہے ۔''

(۴۶)

وہ گناہ(۲) جس کا تمہیں رنج ہو۔اللہ کے نزدیک اس نیکی سے بہتر ہے جس سے تم میں غرور پیدا ہوجائے ۔

(۱)حقیقت امر یہ ہے کہ انسان زندگی کا کمال یہ نہیں ہے کہ اللہ اس سے راضی ہو جائے ۔یہ کام نسبتاً آسان ہے کہ وہ سریع الرضا ہے۔کبھی معمولی عمل سے بھی راضی ہو جاتا ہے اورکبھی بد ترین عمل کے بعد بھی توبہ سے راضی ہوجاتا ہے ۔سب سے مشکل کام بندہ کا خدا سے راضی ہو جانا ہے کہ وہ کسی حال میں خوش ہو تا ہے اور اقتدار فرعون و دولت قارون پانے کے بعد بھی یا مغرور ہو جاتا ہے یا زیادہ کامطالبہ کرنے لگتا ہے۔امیر المومنین نے خباب کے اسی کردار کی طرف اشارہ کیا ہے کہ وہ انتہائی مصائب کے باوجود خداسیراضی رہے اورایک حرف شکایت زبان پرنہیں لائے۔اور ایسا ہی انسان وہ ہوتا ہے جس کے حق میں طوبیٰ کی بشارت دی جا سکتی ہے اور وہ امیر المومنین کی طرف سے مبارک باد کامستحق ہوتا ہے۔

(۲)اگرچہ گناہ میں کوئی خوبی اور بہتری نہیں ہے۔لیکن کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ گناہ کے بعد انسان کا نفس ملامت کرنے لگتا ہے اور وہ توبہ پرآمادہ ہو جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ ایسا گناہ جس کے بعداحساس توبہ پیدا ہو جائے اس کا ر خیر سے یقینا بہتر ہے جس کے بعد غرور پیدا ہو جائے اور انسان اخوان الشیاطین کی فہرست میں شامل ہو جائے۔

۶۳۷

۴۷ - وقَالَعليه‌السلام قَدْرُ الرَّجُلِ عَلَى قَدْرِ هِمَّتِه وصِدْقُه عَلَى قَدْرِ مُرُوءَتِه - وشَجَاعَتُه عَلَى قَدْرِ أَنَفَتِه وعِفَّتُه عَلَى قَدْرِ غَيْرَتِه.

۴۸ - وقَالَعليه‌السلام الظَّفَرُ بِالْحَزْمِ والْحَزْمُ بِإِجَالَةِ الرَّأْيِ - والرَّأْيُ بِتَحْصِينِ الأَسْرَارِ.

۴۹ - وقَالَعليه‌السلام احْذَرُوا صَوْلَةَ الْكَرِيمِ إِذَا جَاعَ واللَّئِيمِ إِذَا شَبِعَ.

۵۰ - وقَالَعليه‌السلام قُلُوبُ الرِّجَالِ وَحْشِيَّةٌ فَمَنْ تَأَلَّفَهَا أَقْبَلَتْ عَلَيْه.

(۴۷)

انسان کی قدرو قیمت اس کی ہمت(۱) کے اعتبار سے ہوتی ہے اور اس کی صداقت اس کی مردانگی کے اعتبارسے ہوتی ہے شجاعت کا پیمانہ حمیت و خود داری ہے اورعفت کا پیمانہ غیرت و حیا۔

(۴۸)

کامیابی دوراندیشی سے حاصل ہوتی ہے اور دوراندیشی فکر و تدبر سے۔فکر و تدبر کا تعلق اسرار کی را ز داری سے ہے۔

(۴۹)

شریف انسان کے حملہ سے بچو جب وہ بھوکا ہو' اورکمینے کے حملہ سے بچو جب اس کا پیٹ بھرا ہو۔

(۵۰)

لوگوں کے دل صحرائی جانوروں جیسے ہیں جو انہیں سدھالے(۲) گا اس کی طرف جھک جائیں گے ۔

(۱)کیا کہنا اس شخص کی ہمت کا جو دعوت ذوالعشیرہ میں ساری قوم کے مقابلہ میں تن تنہا نصرت پیغمبر (ص) پرآمادہ ہوگیا اور پھر ہجرت کی رات تلواروں کے سایہ میں سو گیا اور مختلف معرکوں میں تلواروں کی زد پر رہا اور آخر کار تلوارکے سایہ ہی میں سجدہ آخر بھی ادا کردیا۔اس سے زیادہ قدر و قیمت کاحقدار دنیا کا کون سا انسان ہوسکتا ہے۔

(۲)مقصد یہ ہے کہ انسان دلوں کو اپنی طرف مائل کرنا چاہے تو اس کا بہترین راستہ یہ ہے کہ بہترین اخلاق وکردار کامظاہرہ کرے تاکہ یہ دل وحشی رام ہوجائے ورنہ بد اخلاقی اورب د سلوکی سے وحشی جانور کے مزید بھڑک جانے کاخطرہ ہوتا ہے اس کے رام ہو جانے کا کوئی تصورنہیں ہوتا ہے۔

۶۳۸

۵۱ - وقَالَعليه‌السلام عَيْبُكَ مَسْتُورٌ مَا أَسْعَدَكَ جَدُّكَ

۵۲ - وقَالَعليه‌السلام أَوْلَى النَّاسِ بِالْعَفْوِ أَقْدَرُهُمْ عَلَى الْعُقُوبَةِ.

۵۳ - وقَالَعليه‌السلام السَّخَاءُ مَا كَانَ ابْتِدَاءً - فَأَمَّا مَا كَانَ عَنْ مَسْأَلَةٍ فَحَيَاءٌ وتَذَمُّمٌ

۵۴ - وقَالَعليه‌السلام لَا غِنَى كَالْعَقْلِ ولَا فَقْرَ كَالْجَهْلِ - ولَا مِيرَاثَ كَالأَدَبِ ولَا ظَهِيرَ كَالْمُشَاوَرَةِ.

۵۵ - وقَالَعليه‌السلام الصَّبْرُ صَبْرَانِ صَبْرٌ عَلَى مَا تَكْرَه وصَبْرٌ عَمَّا تُحِبُّ.

(۵۱)

تمہارا عیب اسی وقت تک چھپا رہے گا جب تک تمہارا مقدر ساز گار ہے۔

(۵۲)

سب سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار وہ ہے جو سب سے زیادہ سزا دینے کی طاقت رکھتا ہو۔

(۵۳)

سخاوت(۱) جیسی کوئی دولت نہیں ہے اور جہالت جیسی کوئی فقیری نہیں ہے۔ادب جیسی کوئی میراث نہیں ہے اورمشورہ جیسا کوئی مدد گار نہیں ہے ۔

(۵۴)

عقل(۲) جیسی کوئی دولت نہیں ہے اور جہالت جیسی کوئی فقیری نہیں ہے۔ادب جیسی کوئی میراث نہیں ہے اور مشورہ جیسا کوئی مدد گار نہیں ہے۔

(۵۵)

صبر کی دو قسمیں ہیں : ایک ناگوار حالات پر صبر اور ایک محبوب اورپسندیدہ چیزوں کے مقابلہ میں صبر۔

(۱) مقصد یہ ہے کہ انسان سخاوت کرنا چاہے اور ا س کا اجرو ثواب حاصل کرنا چاہے تو اسے سائل کے سوال کا انتظار نہیں کرنا چاہیے کہ سوال کے بعد تو یہ شبہ بھی پیدا ہو جاتا ہے کہ اپنی آبروب چانے کے لئے دے دیا ہے اور اس طرح اخلاص نیت کا عمل مجروح ہوجاتا ہے اور ثواب اخلاص نیت پر ملتا ہے ' اپنی ذات کے تحفظ پر نہیں۔

(۲) آج مسلمان تمام اقوام عالم کا محتاج اسی لئے ہوگیا ہے کہ اس نے علم و فن کے میدان سے قدم ہٹا لیاہے اور صرف عیش و عشرت کی زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ورنہ اسلامی عقل سے کام لے کرباب مدینتہ العلم سے وابستگی اختیار کی ہوتی تو باعزت زندگی گزارتا اور بڑی بڑی طاقتیں بھی اس کے نام سے دہل جاتیں جیسا کہ دورحاضر میں باقاعدہ محسوس کیا جا رہا ہے۔

۶۳۹

۵۶ - وقَالَعليه‌السلام الْغِنَى فِي الْغُرْبَةِ وَطَنٌ والْفَقْرُ فِي الْوَطَنِ غُرْبَةٌ.

۵۷ - وقَالَ عليهلامت الْقَنَاعَةُ مَالٌ لَا يَنْفَدُ.

قال الرضي: وقد روي هذا الكلام عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم.

۵۸ - وقَالَعليه‌السلام الْمَالُ مَادَّةُ الشَّهَوَاتِ.

۵۹ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ حَذَّرَكَ كَمَنْ بَشَّرَكَ.

۶۰ - وقَالَعليه‌السلام اللِّسَانُ سَبُعٌ إِنْ خُلِّيَ عَنْه عَقَرَ

(۵۶)

مسافرت میں دولت مندی ہو تو وہ بھی وطن کادرجہ رکھتی ہے اور وطن میں غربت ہو تو وہ بھی پردیس کی حیثیت رکھتا ہے ۔

(۵۷)

قناعت(۱) وہ سرمایہ ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے۔

سید رضی : یہ فقرہ رسول اکرم (ص) سے بھی نقل کیا گیا ہے ( اور یہ کوئی حیرت انگیز بات نہیں ہے ۔علی بہر حال نفس رسول (ص) ہیں )

(۵۸)

مال خواہشات کا سر چشمہ ہے۔

(۵۹)

جو تمہیں برائیوں سے ڈرائے گویا اس نے نیکی کی بشارت دے دی۔

(۶۰)

زبان ایک درندہ(۲) ہے۔ذراآزاد کردیا جائے تو کاٹ کھائے گا۔

(۱) کہاجاتا ہے کہ ایک شخص نے سقراط کو صحرائی گھاس پر گذارہ کرتے دیکھا تو کہنے لگا کہ اگر تم نے بادشاہ کی خدمت میں حاضری دی ہوتی تو اس گھاس پر گذارہ کرنا پڑت تو سقراط نے فوراً جواب دیا کہ اگر تم نے گھاس سے گذارہ کرلیا ہوتا توبادشاہ کی خدمت کے محتاج نہ ہوتے۔گھاس پر گذارہ کرلینا عزت ہے اوربادشاہ کی خدمت میں حاضر رہناذلت ہے۔

(۲) اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ زبان انسانی زندگی میں جس قدرکارآمد ہے اسی قدر خطرناک بھی ہے۔یہ تو پرردگار کاکرمہے کہ اس نے اس درندہ کو پنجرہ کے اندر بند کردیا ہے اور اس پر ۳۲ پہرہ دار بٹھا دئیے ہیں لیکن یہ درندہ جب چاہتا ہے خواہشات سے ساز باز کرکے پنجرہ کا دروازہ کھول لیتا ہے اور پہرہ داروں کو دھوکہ دے کر اپنا کام شروع کر دیتا ہے اور کبھی کبھی '' ان الرجل لیھجر '' کہہ کر ساری قوم کو کھا جاتا ہے۔

۶۴۰

۶۱ - وقَالَعليه‌السلام الْمَرْأَةُ عَقْرَبٌ حُلْوَةُ اللَّسْبَةِ

۶۲ - وقَالَعليه‌السلام إِذَا حُيِّيتَ بِتَحِيَّةٍ فَحَيِّ بِأَحْسَنَ مِنْهَا وإِذَا أُسْدِيَتْ إِلَيْكَ يَدٌ فَكَافِئْهَا بِمَا يُرْبِي عَلَيْهَا - والْفَضْلُ مَعَ ذَلِكَ لِلْبَادِئِ.

۶۳ - وقَالَعليه‌السلام الشَّفِيعُ جَنَاحُ الطَّالِبِ.

۶۴ - وقَالَعليه‌السلام أَهْلُ الدُّنْيَا كَرَكْبٍ يُسَارُ بِهِمْ وهُمْ نِيَامٌ.

۶۵ - وقَالَعليه‌السلام فَقْدُ الأَحِبَّةِ غُرْبَةٌ.

۶۶ - وقَالَ عليهامسل فَوْتُ الْحَاجَةِ أَهْوَنُ مِنْ طَلَبِهَا إِلَى غَيْرِ أَهْلِهَا.

(۶۱)

عورت اس بچھو(۱) کے مانند ہے جس کا ڈسنا بھی مزیدار ہوتا ہے۔

(۶۲)

جب تمہیں کوئی تحفہ دیا جائے تو اس سے بہتر واپس کرو اور جب کوئی نعمت دی جائے تواس سے بڑھا کر اس کا بدلہ دو لیکن اس کے بعد بھی فضیلت اسی کی رہے گی جو پہلے کا ر خیر انجام دے ۔

(۶۳)

سفارش کرنے والا طلب گار کے بال و پر کے مانند ہوتا ہے ۔

(۶۴)

اہل دنیا اس سواروں کے مانند ہیں جو خود سو رہے ہیں اور ان کا سفر جاری ہے ۔

(۶۵)

احباب کا نہ ہونا بھی ایک غربت ہے۔

(۶۶)

حاجت(۲) کا پورا نہ ہونا نا اہل سے مانگنے سے بہتر ہے۔

(۱)اس فقرہ میں ایک طرف عورت کے مزاج کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس میں غیظ وغضب کا عنصر ہمیشہ غالب رہتا ہے اور دوسری طرف اس کی فطری نزاکت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جہاں اس کا ڈنک بھی مزیدار معلوم ہوتاہے۔

(۲)انسان کو چاہیے کہ دنیا سے محرومی پر صبرکرلے اور جہاں تک ممکن ہو کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائے کہ ہاتھ پھیلانا کسی ذلت سے کم نہیں ہے

۶۴۱

۶۷ - وقَالَعليه‌السلام لَا تَسْتَحِ مِنْ إِعْطَاءِ الْقَلِيلِ - فَإِنَّ الْحِرْمَانَ أَقَلُّ مِنْه.

۶۸ - وقَالَعليه‌السلام الْعَفَافُ زِينَةُ الْفَقْرِ والشُّكْرُ زِينَةُ الْغِنَى.

۶۹ - وقَالَعليه‌السلام إِذَا لَمْ يَكُنْ مَا تُرِيدُ فَلَا تُبَلْ مَا كُنْتَ.

۷۰ - وقَالَعليه‌السلام لَا تَرَى الْجَاهِلَ إِلَّا مُفْرِطاً أَوْ مُفَرِّطاً.

۷۱ - وقَالَعليه‌السلام إِذَا تَمَّ الْعَقْلُ نَقَصَ الْكَلَامُ.

(۶۷)

مختصر مال دینے میں بھی شرم نہ کرو کہ محروم کردینا اس سے زیادہ کمتر درجہ کا کام ہے۔

(۶۸)

پاکدامانی(۱) فقیری کی زینت ہے اورشکریہ مالداری کی زینت ہے۔

(۶۹)

اگرتمہارے حسب خواہش کام نہ ہو سکے تو جس حال میں رہو خوش رہو(۲) ( کہ افسوس کا کوئی فائدہ نہیں ہے )

(۷۰)

جاہل ہمیشہ افراط و تفریط کاشکار رہتا ہے یا حدسے آگے بڑھ جاتا ہے یا پیچھے ہی رہ جاتا ہے ( کہ اسے حدکا اندازہ ہی نہیں ہے )

(۷۱)

جب عقل مکمل ہوتی ہے تو باتیں کم ہو جاتی ہے ( کہ عاقل کو ہربات تول کر کہنا پڑتی ہے ۔

(۱)مقصد یہ ہے کہ انسان کو غربت میں عضیف اورغیرت دار ہونا چاہیے اور دولت مندی میں مالک کا شکرگذار ہوناچاہیے کہ اس کے علاوہ شرافت و کرامت کی کوئی نشانی نہیں ہے۔

(۲)بعض عرفاء نے اس حقیقت کو اس انداز سے بیان کیا ہے کہ '' میں اس دنیا کو لے کر کیا کروں جس کاحال یہ ہے کہ میں رہ گیا تو وہ نہ رہ جائے گی اور وہ رہ گئی تو میں نہ رہ جائوں گا۔

۶۴۲

۷۲ - وقَالَعليه‌السلام الدَّهْرُ يُخْلِقُ الأَبْدَانَ - ويُجَدِّدُ الآمَالَ ويُقَرِّبُ الْمَنِيَّةَ - ويُبَاعِدُ الأُمْنِيَّةَ مَنْ ظَفِرَ بِه نَصِبَ ومَنْ فَاتَه تَعِبَ.

۷۳ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ نَصَبَ نَفْسَه لِلنَّاسِ إِمَاماً - فَلْيَبْدَأْ بِتَعْلِيمِ نَفْسِه قَبْلَ تَعْلِيمِ غَيْرِه - ولْيَكُنْ تَأْدِيبُه بِسِيرَتِه قَبْلَ تَأْدِيبِه بِلِسَانِه - ومُعَلِّمُ نَفْسِه ومُؤَدِّبُهَا أَحَقُّ بِالإِجْلَالِ - مِنْ مُعَلِّمِ النَّاسِ ومُؤَدِّبِهِمْ.

۷۴ - وقَالَعليه‌السلام نَفَسُ الْمَرْءِ خُطَاه إِلَى أَجَلِه

۷۵ - وقَالَ عليهامسل كُلُّ مَعْدُودٍ مُنْقَضٍ وكُلُّ مُتَوَقَّعٍ آتٍ.

۷۶ - وقَالَعليه‌السلام إِنَّ الأُمُورَ إِذَا اشْتَبَهَتْ اعْتُبِرَ آخِرُهَا بِأَوَّلِهَا

(۷۲)

زمانہ بدن کو پرانا کر دیتا ہے اورخواہشات کونیا۔موت کو قریب بنا دیتا ہے اور تمنائوں کودور۔یہاں جو کامیاب ہو جاتا ہے وہ بھی خستہ(۱) حال رہتا ہے اورجواسے کھو بیٹھتا ہے وہ بھی تھکن کا شکار رہتا ہے۔

(۷۳)

جوشخص اپنے کو قائد ملت بنا کر پیش کرے اس کا فرض ہے کہ لوگوں کو نصیحت کرنے سے پہلے اپنے نفس کو تعلیم دے اور زبان سے تبلیغ کرنے سے پہلے اپنے عمل سے تبلیغ کرے اوریہ یاد رکھے کہ اپنے نفس کو تعلیم و تربیت دینے والا دوسروں کو تعلیم و تربیت دینے والے سے زیادہ قابل احترام ہوتا ہے۔

(۷۴)

انسان کی ایک ایک سانس موت کی طرف ایک قدم ہے ( روحی لہ الفدائ)

(۷۵)

ہرشمار ہونے والی چیز ختم ہونے والی ہے (سانسیں ) اور ہر آنے والا بہر حال آکر رہے گا (موت)

(۷۶)

جب مسائل میں شبہ پیدا ہو جائے تو ابتدا کو دیکھ کر انجام کار کا اندازہ کرلیانا چاہیے ۔

(۱)مال دنیا کا حال یہی ہے کہ آجاتا ہے تو انسان کا روبارمیں مبتلاہوجاتا ہے اور نہیں رہتا ہے تو اس کے حصول کی راہ میں پریشان رہتا ہے ۔

۶۴۳

۷۷ - ومِنْ خَبَرِ ضِرَارِ بْنِ حَمْزَةَ الضَّبَائِيِّ - عِنْدَ دُخُولِه عَلَى مُعَاوِيَةَ - ومَسْأَلَتِه لَه عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَعليه‌السلام وقَالَ فَأَشْهَدُ لَقَدْ رَأَيْتُه فِي بَعْضِ مَوَاقِفِه - وقَدْ أَرْخَى اللَّيْلُ سُدُولَه وهُوَ قَائِمٌ فِي مِحْرَابِه قَابِضٌ عَلَى لِحْيَتِه يَتَمَلْمَلُ تَمَلْمُلَ السَّلِيمِ - ويَبْكِي بُكَاءَ الْحَزِينِ ويَقُولُ:

يَا دُنْيَا يَا دُنْيَا إِلَيْكِ عَنِّي أَبِي تَعَرَّضْتِ أَمْ إِلَيَّ تَشَوَّقْتِ - لَا حَانَ حِينُكِ هَيْهَاتَ غُرِّي غَيْرِي لَا حَاجَةَ لِي فِيكِ - قَدْ طَلَّقْتُكِ ثَلَاثاً لَا رَجْعَةَ فِيهَا - فَعَيْشُكِ قَصِيرٌ وخَطَرُكِ يَسِيرٌ وأَمَلُكِ حَقِيرٌ –

آه مِنْ قِلَّةِ الزَّادِ وطُولِ الطَّرِيقِ - وبُعْدِ السَّفَرِ وعَظِيمِ الْمَوْرِدِ

(۷۷)

ضرار(۱) بن حمزہ الضبائی معاویہ کے دربار میں حاضر ہوئے تو اس نے امیر المومنین کے بارے میں دریافت کیا؟ ضرار نے کہا کہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ رات کی تاریکی میں محراب میں کھڑے ہوئے ریش مبارک کو ہاتھوں میں لئے ہوئے ۔یوں تڑپتے تھے جس طرح سانپ کا کاٹا ہوا تڑپتا ہے اور کوئی غم رسیدہ گریہ کرتا ہے۔اور فرمایا کرتے تھے:

''اے دنیا ۔اے دنیا!مجھ سے دور ہو جا۔تو میرے سامنے بن سنور کرآئی ہے یا میری واقعاً مشتاق بن کرآئی ہے ؟ خدا وہ وقت نہ لائے کہ تو مجھے دھوکہ دے سکے ۔جامیرے علاوہ کسیاور کودھوکہ دے مجھے تیری ضرورت نہیں ہے۔میں تجھے تین مرتبہ طلاق(۲) دے چکاہوں جس کے بعد رجوع کا کوئی امکان نہیں ہے۔تیری زندگی بہت تھوڑی ہے اور تیریرحیثیت بہت معمولی ہے اور تیری امید بہت حقیر شے ہے''

آہ زاد سفر کس قدر کم ہے۔راستہ کس قدر طولانی ہے منزل کس قدر دور ہے اوروارد ہونے کی جگہ کس قدرخطر ناک ہے۔

(۱)بعض حضرات نے ان کا نام ضرار بن ضمرہ لکھا ہے اوری ہ ان کا کمال کردار ہے کہ معاویہ جیسے دشمن علی کے دربار میں حقائق کا اعلان کردیا اوراسمشہورحدیث کے معانی کومجسم بنایدا کہ بہترین جہاد بادشاہ ظالم کے سامنے کلمہ حق کا اظہار و اعلان ہے۔

(۲)کھلی ہوئی بات ہے کہ جب کوئی شخص کسی عورت کو طلاق دے دیتا ہے تو وہ عورت بھی ناراض ہوتی ہے اور اسکے گھر واے بھی ناراض رہتے ہیں ۔امیر المومنین سے دنیا کا انحراف اور اہل دنیا کی دشمنی کا رازیہی ہے کہ آپ نے اسے تین مرتبہ طلاق دے دی تھی تو اس کا کوئی امکان نہیں تھاکہ اہل دنیا آپ سے کسی قیمت پرا ضی ہو جاتے اور یہی وجہ ہے کہ پہلے ابناء دنیا نے تین خلافتوں کے موقع پر اپنی بیزاری کا اظہارکیا اور اس کے بعد تین جنگوں کے موقع پر اپنی ناراضگی کا اظہارکیا لیکن آپ کسی قیمت پردنیا سے صلح کرنے پرآمادہ نہ ہوئے اور ہر مرحلہ پر دین الٰہی اوراسکی تعلیمات کو کلیجہ سے لگائے رہے۔

۶۴۴

۷۸ - ومِنْ كَلَامٍ لَهعليه‌السلام لِلسَّائِلِ الشَّامِيِّ لَمَّا سَأَلَه - أَكَانَ مَسِيرُنَا إِلَى الشَّامِ بِقَضَاءٍ مِنَ اللَّه وقَدَرٍ - بَعْدَ كَلَامٍ طَوِيلٍ هَذَا مُخْتَارُه.

وَيْحَكَ لَعَلَّكَ ظَنَنْتَ قَضَاءً لَازِماً وقَدَراً حَاتِماً - لَوْ كَانَ ذَلِكَ كَذَلِكَ لَبَطَلَ الثَّوَابُ والْعِقَابُ - وسَقَطَ الْوَعْدُ والْوَعِيدُ - إِنَّ اللَّه سُبْحَانَه أَمَرَ عِبَادَه تَخْيِيراً ونَهَاهُمْ تَحْذِيراً - وكَلَّفَ يَسِيراً ولَمْ يُكَلِّفْ عَسِيراً - وأَعْطَى عَلَى الْقَلِيلِ كَثِيراً ولَمْ يُعْصَ مَغْلُوباً - ولَمْ يُطَعْ مُكْرِهاً ولَمْ يُرْسِلِ الأَنْبِيَاءَ لَعِباً - ولَمْ يُنْزِلِ الْكُتُبَ لِلْعِبَادِ عَبَثاً - ولَا خَلَقَ السَّمَاوَاتِ والأَرْضَ ومَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا –

( ذلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ ) .

(۷۸)

ایک مرد شامی نے سوال کیا کہ کیا ہمارا شام کی طرف جانا قضا و قدارالٰہی کی بنا پر تھا ( اگر ایساتھا تو گویا کہ کوئی اجرو ثواب نہ ملا ) تو آپ نے فرمایا کہ شائد تیرا خیال یہ ہے کہ اس سے مراد قضاء لازم اورقدرحتمی ہے کہ جس کے بعد عذاب و ثواب بیکار ہو جاتا ہے اور وعدہ و وعید کا نظام معطل ہو جاتا ہے۔ایسا ہرگز نہیں ہے ۔پروردگار نے اپنے بندوں کوحکم دیا ہے تو ان کے اختیار کے ساتھ اورنہی کی ہے تو انہیں ڈراتے وئے۔اس نے آسان سی تکلیف دی ہے اور کسی زحمت میں مبتلا نہیں کیا ہے تھوڑے عمل پر بہت سااجر دیا ہے اوراس کی نا فرمانی اس لئے نہیں ہوتی ہے کہ وہ مغلوب ہو گیا ہے اور نہ اطاعت اس لئے ہوتی ہے کہ اس نے مجبور کردیا ہے۔اس نے نہ انبیاء کو کھیل کرنے کے لئے بھیجا ہے اور نہ کتاب کو عبث نازل کیا ہے اورنہ زمین وآسمان اور ان کی درمیانی مخلوقات کو بیکار پیدا کیا ہے۔یہ صری کافروں کا خیال ہے اورکافروں کے لئے جہنم میں ویل ہے ''

(آخر میں وضاحت فرمائی کہ قضاء امر کے معنی میں ہے اور ہم اس کے حکم سے گئے تھے نہ کہ جبر و اکراہ سے )

۶۴۵

۷۹ - وقَالَعليه‌السلام خُذِ الْحِكْمَةَ أَنَّى كَانَتْ - فَإِنَّ الْحِكْمَةَ تَكُونُ فِي صَدْرِ الْمُنَافِقِ فَتَلَجْلَجُ فِي صَدْرِه - حَتَّى تَخْرُجَ فَتَسْكُنَ إِلَى صَوَاحِبِهَا فِي صَدْرِ الْمُؤْمِنِ.

۸۰ - وقَالَعليه‌السلام الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ - فَخُذِ الْحِكْمَةَ ولَوْ مِنْ أَهْلِ النِّفَاقِ.

۸۱ - وقَالَعليه‌السلام قِيمَةُ كُلِّ امْرِئٍ مَا يُحْسِنُه.

قال الرضي - وهي الكلمة التي لا تصاب لها قيمة - ولا توزن بها حكمة ولا تقرن إليها كلمة.

(۷۹)

حرف حکمت جہاں بھی مل جائے لے لو کہ ایسی بات اگرمنافق کے سینہ میں دبی ہوتی ہے تو وہ اس وقت تک بے چین رہتا ہے جب تک وہ نکل نہ جائے ۔

(۸۰)

حکمت مومن کی گم شدہ دولت ہے لہٰذا جہاں ملے لے لیناچاہیے ۔چاہے وہ حقائق سے ہی کیوں نہ حاصل ہو۔

(۸۱)

ہر انسان کی قدرو قیمت وہی نیکیاں(۱) ہیں جو اس میں پائی جاتی ہیں۔

سید رضی : یہ وہ کلمہ قیمہ ہے جس کی کوئی قیمت نہیں لگائی جاسکتی ہے اوراس کے ہم پلہ کوء یدوسری حکمت بھی نہیں ہے اور کوئی کلمہ اس کے ہم پایہ بھی نہیں ہو سکتا ہے ۔

(۱)یہ امیر المومنین کا فلسفہ حیات ہے کہ انسان کی قدرو قیمت کا تعین نہ اس کے حسب و نسب سے ہوتا ہے اور نہ قوم و قبیلہ سے۔نہ ڈگریاں اس کے مرتبہ کربڑھا سکتی ہیں اور نہ خزانے اس کو شریف بنا سکتے ہیں۔نہ کرسی اس کے معیارحیات کوب لند کرس کتی ہے اور نہاقتدار اسکے کمالات کاتعین کر سکتا ہے۔انسانی کمال کا معیار صرف وہ کمال ہے جواس کے اندرپایا جاتا ہے۔اگر اس کے نفس میں پاکیزگی اورکردار میں حسن ہے تو یقینا عظیم مرتبہ کا حامل ہے ورنہ اس کی کوئی قدرو قیمت نہیں ہے۔

۶۴۶

۸۲ - وقَالَعليه‌السلام أُوصِيكُمْ بِخَمْسٍ - لَوْ ضَرَبْتُمْ إِلَيْهَا آبَاطَ الإِبِلِ لَكَانَتْ لِذَلِكَ أَهْلًا - لَا يَرْجُوَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَّا رَبَّه ولَا يَخَافَنَّ إِلَّا ذَنْبَه - ولَا يَسْتَحِيَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِذَا سُئِلَ عَمَّا لَا يَعْلَمُ - أَنْ يَقُولَ لَا أَعْلَمُ - ولَا يَسْتَحِيَنَّ أَحَدٌ إِذَا لَمْ يَعْلَمِ الشَّيْءَ أَنْ يَتَعَلَّمَه - وعَلَيْكُمْ بِالصَّبْرِ فَإِنَّ الصَّبْرَ مِنَ الإِيمَانِ كَالرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ - ولَا خَيْرَ فِي جَسَدٍ لَا رَأْسَ مَعَه - ولَا فِي إِيمَانٍ لَا صَبْرَ مَعَه.

۸۳ - وقَالَعليه‌السلام لِرَجُلٍ أَفْرَطَ فِي الثَّنَاءِ عَلَيْه وكَانَ لَه مُتَّهِماً - أَنَا دُونَ مَا تَقُولُ وفَوْقَ مَا فِي نَفْسِكَ.

(۸۲)

میں تمہیں ایسی پانچ باتوں کی نصیحت کررہا ہوں کہ جن کے حصول کے لئے اونٹوں کو ایڑ لگا کردوڑا یا جائے تو بھی وہاس کی اہل ہیں۔

خبردار! تم میں سے کوئی شخص اللہ کے علاوہ کسی سے امید نہ رکھے اور اپنے گناہوں کے علاوہ کسی سے نہ ڈرے اور جب کسی چیز کے بارے میں سوال کیا جائے اور نہ جانتا ہو تو لا علمی کے اعتراف میں نہ شرمائے اور جب نہیں جانتا ہے تو سیکھنے میں نہ شرمائے اور صبر و شکیبائی اختیار کرے کہ صبر(۱) ایمان کے لئے ویسا ہی ہے جیسا بدن کے لئے سر اور ظاہر ہے کہ اس بدن میں کوئی خیر نہیں ہوتا ہے جسے میں سر نہ ہو اور اسایمان میں کوء ی خیرنہیں ہے جس میں صبر نہ ہو۔

(۸۳)

آپ نے اس شخص سے فرمایا جوآپ کا عقیدت مند تو نہ تھا لیکن آپ کی بے حد تعریف کر رہاتھا۔''میں تمہارے بیان سے کمتر ہوں لیکن تمہارے خیال سے بالاتر ہوں '' (یعنی جو تم نے میرے بارے میں کہا ہے وہ مبالہ ہے لیکن جو میرے بارے میں عقیدہ رکھتے ہو وہ میری حیثیت سے بہت کم ہے )

(۱)صبرانسانی زندگی کا وہ جوہر ہے جس کی واقعی عظمت کا ادراک بھی مشکل ہے۔تاریخ بشریت میں ا س کے مظاہر کاہرقدم پرمشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔حضرت آدم جنت میںتھے۔پروردگارنے ہر طرح کا آرام دے رکھا تھا۔صرف ایک درخت سے روک دیا تھا۔لیکن انہوں نے مکمل قوت صبرکامظاہرہ نہکیا جس کا نتیجہ یہ ہواکہجنت سے باہرآگئے۔اور حضرت یوسف قید خانہمیں تھے لیکن انہوں نے مکمل قوت صبرکامظاہرہ کیا تو اس کا نتیجہ یہ ہواکہ عزیز مصر کے عہدہ پر فائز ہوگئے اور لمحوں میں ''غلامی '' سے '' شاہی'' کافصلہ طے کرلیا۔

صبر اور جنت کے اسی رشتہ کی طرف قرآن مجید نے سورہ ٔ دہر میں اشارہ کیا ہے '' جزاھم بما صبروا جنتة و حریرا'' اللہ ے ان کے صبرکے بدلہ میں انہیں جنت اورحیریر جنت سے نوازدیا ۔

۶۴۷

۸۴ - وقَالَعليه‌السلام بَقِيَّةُ السَّيْفِ أَبْقَى عَدَداً وأَكْثَرُ وَلَداً.

۸۵ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ تَرَكَ قَوْلَ لَا أَدْرِي أُصِيبَتْ مَقَاتِلُه

۸۶ - وقَالَعليه‌السلام رَأْيُ الشَّيْخِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ جَلَدِ الْغُلَامِ - ورُوِيَ مِنْ مَشْهَدِ الْغُلَامِ.

۸۷ - وقَالَعليه‌السلام عَجِبْتُ لِمَنْ يَقْنَطُ ومَعَه الِاسْتِغْفَارُ.

(۸۴)

تلوار کے بچے ہوئے لوگ زیادہ باقی رہتے ہیں اور ان کی اولاد بھی زیادہ ہوتی ہے۔

(۸۵)

جس نے نا واقفیت کا اقرار چھوڑ دیا وہ کہیں نہ کہیں ضرور مارا(۱) جائے گا۔

(۸۶)

بوڑھے کی رائے جوان کی ہمت(۲) سے زیادہ محبوب ہوتی ہے۔یا بوڑھے کی رائے جوان کے خطرہ میں ڈٹے رہنے سے زیادہ پسندیدہ ہوتی ہے ۔

(۸۷)

مجھے اس شخص کے حال پر تعجب ہوتا ہے جو استغفار کی طاقت رکھتا ہے اور پھر بھی رحمت خداسے مایوس ہو جاتا ہے۔

(۱)یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم (ص) کے بعد مولائے کائنات کے علاوہ جس نے بھی ''سلونی '' کا دعویٰ کیا اسے ذلت سے دوچار ہونا پڑا اور ساری عزت خاک میں مل گئی۔

(۲)اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ زندگی کے ہرمرحلہ عمل پر جوان کی ہمت ہی کام آتی ہے ۔کاشتکاری ' صنعت کاری سے لے کر ہلکی دفاع تک سارا کام جوان ہی انجام دیتے ہیں اور چمنستان زندگی کی ساری بہار جوانوں کی ہمت ہی سے وابستہ ہے۔لیکن اس کے باوجود نشاط عمل کے لئے صحیح خطوطکا تعین بہرحال ضروری ہے اور یہکام بزرگوں کے تجربات ہی سے انجام پاسکتا ہے۔لہٰذا بنیادی حیثیت بزرگوں کے تجربات کی ہے اور ثانوی حیثیت نوجوانوں کی ہمت مردانہ کی ہے۔اگرچہ زندگی کی گاڑی کو آگے بڑھانے کے لئے یہ دونوں پہئیے ضروری ہیں۔

۶۴۸

۸۸ - وحَكَى عَنْه أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْبَاقِرُعليه‌السلام أَنَّه قَالَ:

كَانَ فِي الأَرْضِ أَمَانَانِ مِنْ عَذَابِ اللَّه - وقَدْ رُفِعَ أَحَدُهُمَا فَدُونَكُمُ الآخَرَ فَتَمَسَّكُوا بِه - أَمَّا الأَمَانُ الَّذِي رُفِعَ فَهُوَ رَسُولُ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وأَمَّا الأَمَانُ الْبَاقِي فَالِاسْتِغْفَارُ قَالَ اللَّه تَعَالَى -( وما كانَ الله لِيُعَذِّبَهُمْ وأَنْتَ فِيهِمْ - وما كانَ الله مُعَذِّبَهُمْ وهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ ) .

قال الرضي - وهذا من محاسن الاستخراج ولطائف الاستنباط.

۸۹ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ أَصْلَحَ مَا بَيْنَه وبَيْنَ اللَّه - أَصْلَحَ اللَّه مَا بَيْنَه وبَيْنَ النَّاسِ - ومَنْ أَصْلَحَ أَمْرَ آخِرَتِه أَصْلَحَ اللَّه لَه أَمْرَ دُنْيَاه - ومَنْ كَانَ لَه مِنْ نَفْسِه وَاعِظٌ - كَانَ عَلَيْه مِنَ اللَّه حَافِظٌ.

(۸۸)

امام محمد باقر نے آپ کا یہ ارشاد گرامی نقل کیا ہے کہ '' روئے زمین پر عذاب الٰہی سے بچانے کے دوذرائع تھے۔ایک کو پروردگار نے اٹھالیا ہے ( پیغمبر اسلام (ص) ) لہٰذا دوسرے سے تمسک اختیار کرو۔یعنی استغفار کہ مالک کائنات نے فرمایا ہے کہ '' خدا اس وقت تک ان پر عذاب نہیں کر سکتا ہے جب تک آپ موجود ہیں۔اوراس وقت تک عذاب کرنے والا نہیں ہے جب تک یہ استغفار کر رہے ہیں۔

سید رضی : یہ آیت کریمہ سے بہترین استخراج اورلطیف ترین استباط ہے۔

(۸۹)

جس نے اپنے اور اللہ کے درمیان کے معاملات کی اصلاح کرلی۔اللہ اس کے اور لوگوں کے درمیان کے معاملات کی اصلاح کردے گا اورجو آخرت کے امور(۱) کی اصلاح کرلے گا اللہ اس کی دنیا کے امور کی اصلاح کردے گا۔اور جو اپنے نفس کو نصیحت کرلے گا اللہ اس کی حفاظت کا انتظام کردے گا۔

(۱)امور آخرت کی اصلاح کادئارہ صرف عبادات وریاضات میں محدود نہیں ہے بلکہ اس میں وہ تمام امور دنیا شامل ہیں جوآخرت کے لئے انجام دئیے جاتے ہیں کہ دنیاآخرت کی کھیتی ہے اور آخرت کی اصلاح دنیا کی اصلاح کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ آخرت والے دنیا کو برائے آخرت اختیار کرتے ہیں اوردنیا داراسی کو اپناہدف اور مقصد قرار دے لیتے ہیں اور اس طرح آخرت سے یکسر غافل ہو جاتے ہیں۔

۶۴۹

۹۰ - وقَالَعليه‌السلام الْفَقِيه كُلُّ الْفَقِيه مَنْ لَمْ يُقَنِّطِ النَّاسَ مِنْ رَحْمَةِ اللَّه - ولَمْ يُؤْيِسْهُمْ مِنْ رَوْحِ اللَّه ولَمْ يُؤْمِنْهُمْ مِنْ مَكْرِ اللَّه.

۹۱ - وقَالَعليه‌السلام إِنَّ هَذِه الْقُلُوبَ تَمَلُّ كَمَا تَمَلُّ الأَبْدَانُ - فَابْتَغُوا لَهَا طَرَائِفَ الْحِكَمِ

۹۲ - وقَالَعليه‌السلام أَوْضَعُ الْعِلْمِ مَا وُقِفَ عَلَى اللِّسَانِ - وأَرْفَعُه مَا ظَهَرَ فِي الْجَوَارِحِ والأَرْكَانِ

۹۳ - وقَالَعليه‌السلام لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفِتْنَةِ - لأَنَّه لَيْسَ أَحَدٌ إِلَّا وهُوَ مُشْتَمِلٌ عَلَى فِتْنَةٍ - ولَكِنْ مَنِ اسْتَعَاذَ فَلْيَسْتَعِذْ مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ - فَإِنَّ اللَّه سُبْحَانَه يَقُولُ -( واعْلَمُوا أَنَّما أَمْوالُكُمْ وأَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ ) - ومَعْنَى ذَلِكَ أَنَّه يَخْتَبِرُهُمْ - بِالأَمْوَالِ والأَوْلَادِ لِيَتَبَيَّنَ السَّاخِطَ لِرِزْقِه - والرَّاضِيَ بِقِسْمِه -

(۹۰)

مکمل عالم دین وہی ہے جو لوگوں کو رحمت خدا سے مایوس نہ بنائے اور اس کی مہربانیوں سے نا امید نہ کرے اور اس کے عذاب کی طرف مطمئن نہ بنادے۔

(۹۱)

یہ دل اسی طرح اکتا جاتے ہیں جس طرح بدن اکتاجاتے ہیں لہٰذا ان کے لئے نئی نئی لطیف حکمتیں تلاش کرو۔

(۹۲)

سب سے حقیر علم وہ ہے جو صرف زبان(۱) پر رہ جائے اور سب سے زیادہ قیمتی علم وہ ہے جس کا اظہار اعضاء و جوارح سے ہو جائے ۔

(۹۳)

خبردار تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ خدایا میں فتنہ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔کہ کوئی شخص بھی فتنہ سے الگ نہیں ہوسکتا ہے۔اگر پناہ مانگنا ہے تو فتنوں کی گمراہیوں سے پناہ مانگو اس لئے کہ پروردگارنے اموال اور اولاد کوبھی فتنہ قراردیا ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ اموال اور اولاد کے ذریعہ امتحان لینا چاہتا ہے تاکہ اس طرح روزی سے ناراض ہونے والا قسمت پرراضی رہنے

(۱)افسوس کہ دورحاضر میں علم کا چر چا صرف زبانوں پر رہ گیا ہے اور قوت گویائی ہی کو کمال علم کو تصور کرلیا گیا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ عمل و کردار کا فقدان ہوتا جا رہا ہے اور عوام الناس اپنی ذاتی جہالت سے زیادہ دانشور کی دانشوری اوراہل علم کے علم کی بدولت تباہ وبرباد ہو رہے ہیں۔

۶۵۰

وإِنْ كَانَ سُبْحَانَه أَعْلَمَ بِهِمْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ - ولَكِنْ لِتَظْهَرَ الأَفْعَالُ الَّتِي بِهَا يُسْتَحَقُّ الثَّوَابُ والْعِقَابُ - لأَنَّ بَعْضَهُمْ يُحِبُّ الذُّكُورَ ويَكْرَه الإِنَاثَ - وبَعْضَهُمْ يُحِبُّ تَثْمِيرَ الْمَالِ ويَكْرَه انْثِلَامَ الْحَالِ

قال الرضي - وهذا من غريب ما سمع منه في التفسير.

۹۴ - وسُئِلَ عَنِ الْخَيْرِ مَا هُوَ - فَقَالَ لَيْسَ الْخَيْرُ أَنْ يَكْثُرَ مَالُكَ ووَلَدُكَ - ولَكِنَّ الْخَيْرَ أَنْ يَكْثُرَ عِلْمُكَ - وأَنْ يَعْظُمَ حِلْمُكَ وأَنْ تُبَاهِيَ النَّاسَ بِعِبَادَةِ رَبِّكَ - فَإِنْ أَحْسَنْتَ حَمِدْتَ اللَّه وإِنْ أَسَأْتَ اسْتَغْفَرْتَ اللَّه - ولَا خَيْرَ فِي الدُّنْيَا إِلَّا لِرَجُلَيْنِ - رَجُلٍ أَذْنَبَ ذُنُوباً فَهُوَ يَتَدَارَكُهَا بِالتَّوْبَةِ - ورَجُلٍ يُسَارِعُ فِي الْخَيْرَاتِ.

۹۵ - وقَالَعليه‌السلام لَا يَقِلُّ عَمَلٌ مَعَ التَّقْوَى وكَيْفَ يَقِلُّ مَا يُتَقَبَّلُ؟

والے سے الگ ہو جائے ۔جب کہ وہ ان کے بارے میں خود ان سے بہتر جانتا ہے لیکن چاہتا ہے کہ ان اعمال کا اظہار ہو جائے جن سے انسان ثواب یا عذاب کاحقدار ہوتا ہے کہ بعض لوگ لڑکا چاہتے ہیں لڑکی نہیں چاہتے ہیں اور بعض مال کے بڑھانے کو دوست رکھتے ہیں اورشکستہ حالی کو برا سمجھتے ہیں ۔

سید رضی : یہ وہ نادر بات ہے جو آیت '' ان ما امرالکم '' کی تفسیر میں آپ سے نقل کی گئی ہے۔

(۹۴)

آپ سے خیر کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ تو فرمایا کہ خیر مال اور اولاد کی کثرت نہیں ہے۔خیر علم کی کثرت اورحلم کی عظمت ہے اور یہ ہے کہ لوگوں پر عبادت پروردگارنے ناز کرو لہٰذا اگر نیک کام کرو تو اللہ کا شکربجا لائو اورب راکام کرو تو استغفار کرو۔ اوریاد رکھو کہ دنیامیں خیر صرف دو طرح کے لوگوں کے لئے ہے۔وہ انسان جوگناہ کرے تو توبہ سے اس کی تلافی کرلے اور وہ انسان جو نیکیوں میں آگے بڑھتا جائے ۔

(۹۵)

تقویٰ کے ساتھ کوئی عمل قلیل نہیں کہا جا سکتا ہے۔کہ جوعمل بھی قبول(۱) ہو جائے اسے قلیل کس طرح کہاجاسکتا ہے۔

(۱)یہ اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ ہے کہ پروردگار صرف متقین کے اعمال کو قبول کرتا ہے۔اوراس کا مقصد یہ ہے کہ اگر انسان تقویٰ کے بغیر اعمال انجام دے تو یہ اعمال دیکھنے میں بہت نظر آئیں گے لیکن واقعاً کثیر کہے جانے کے قابل نہیں ہیں۔اور اس کے بر خلاف اگرتقویٰ کے ساتھ عمل انجام دے تودیکھنے میں شائد وہ عمل قلیل دکھائی دے لیکن واقعاً قلیل نہ ہوگا کہ درجہ قبولیت پر فائز ہو جانے والا عمل کسی قیمت پر قلیل نہیں کہا جا سکتا ہے۔

۶۵۱

۹۶ - وقَالَعليه‌السلام إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِالأَنْبِيَاءِ أَعْلَمُهُمْ بِمَا جَاءُوا بِه - ثُمَّ تَلَا( إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْراهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوه - وهذَا النَّبِيُّ والَّذِينَ آمَنُوا ) الآيَةَ - ثُمَّ قَالَ إِنَّ وَلِيَّ مُحَمَّدٍ مَنْ أَطَاعَ اللَّه وإِنْ بَعُدَتْ لُحْمَتُه - وإِنَّ عَدُوَّ مُحَمَّدٍ مَنْ عَصَى اللَّه وإِنْ قَرُبَتْ قَرَابَتُه!

۹۷ - وسَمِعَعليه‌السلام رَجُلًا مِنَ الْحَرُورِيَّةِ يَتَهَجَّدُ ويَقْرَأُ - فَقَالَ:

نَوْمٌ عَلَى يَقِينٍ خَيْرٌ مِنْ صَلَاةٍ فِي شَكٍّ.

(۹۶)

لوگوں میں انبیاء سے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہوتے ہیں جو سب سے زیادہ ان کے تعلیمات سے باخبر ہوں۔یہ کہہ کر آپ نے آیت شریفہ کی تلاوت فرمائی ''ابراہیم سے قریب تر وہ لوگ ہیں جو ان کی پیروی کریں۔اور یہ پیغمبر ہے اورصاحبان ایمان ہیں '' اس کے بعد فرمایا کہ پیغمبر (ص) کادوست وہی ہے جو ان کی اطاعت کرے ' چاہے نسب کے اعتبار سے کسی قدر دور کیوں نہ ہو اورآپ کا دشمن وہی ہے جوآپ کی نا فرمانی کرے چاہے قرابت کے اعتبارسے کتنا ہی قریب کیوں نہ ہو۔

(۹۷)

آپ نے سنا کہ ایک خارجی شخص نماز شب پڑھ رہا ے اور تلاوت قرآن کر رہا ے تو فرمایا کہ یقین(۱) کے ساتھ سوجانا شک کے ساتھ نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔

(۱)یہ اصلاح عقیدہ کی طرف اشارہ ہے کہ جس شخص کو حقائق کا یقین نہیں ہے اور وہ شک کی زندگی گذار رہا ہے اس کے اعمال کی قدروقیمت ہی کیا ہے۔اعمال کی قدرو قیمت کا تعین انسان کے علم ویقین اوراس کی معرفت سے ہوتا ہے۔لیکن اس کایہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ جتنے اہل یقین ہیں سبکو سوجانا چاہیے اور نماز شبکا پابند نہیں ہونا چاہیے کہ یقین کی نیند شک کے عمل سے بہتر ہے۔

ایساممکن ہوتا تو سب سے پہلے معصومین ان اعمال کو نظرانداز کر دیتے جن کے یقی کی شان یہ تھی کہ اگر پردے اٹھا دئیے جاتے جب بھی یقین میں کسی اضافہ کی گنجائش نہیں تھی۔

۶۵۲

۹۸ - وقَالَعليه‌السلام اعْقِلُوا الْخَبَرَ إِذَا سَمِعْتُمُوه عَقْلَ رِعَايَةٍ لَا عَقْلَ رِوَايَةٍ - فَإِنَّ رُوَاةَ الْعِلْمِ كَثِيرٌ ورُعَاتَه قَلِيلٌ.

۹۹ -وسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ -( إِنَّا لِلَّه وإِنَّا إِلَيْه راجِعُونَ ) - فَقَالَ عليه السلام:

إِنَّ قَوْلَنَا( إِنَّا لِلَّه ) إِقْرَارٌ عَلَى أَنْفُسِنَا بِالْمُلْكِ - وقَوْلَنَا( وإِنَّا إِلَيْه راجِعُونَ ) - إِقْرَارٌ عَلَى أَنْفُسِنَا بِالْهُلْكِ

۱۰۰ - وقَالَعليه‌السلام ومَدَحَه قَوْمٌ فِي وَجْهِه - فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّكَ أَعْلَمُ بِي مِنْ نَفْسِي - وأَنَا أَعْلَمُ بِنَفْسِي مِنْهُمْ - اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا خَيْراً مِمَّا يَظُنُّونَ واغْفِرْ لَنَا مَا لَا يَعْلَمُونَ.

(۹۸)

جب کسی خبر کو سنو تو عقل کے معیار(۱) پر پرکھ لو اورصرف نقل پربھروسہ نہ کرو کہ علم کے نقل کرنے والے بہت ہوتے ہیں اور سمجھنے والے بہت کم ہوتے ہیں۔

(۹۹)

آپ نے ایک شخص کو کلمہ انا للہ زبان پر جاری کرتے ہوئے سنا تو فرمایا : انا للہ اقرار ہے کہ ہم کسی کی ملکیت ہیں اور انا للہ راجعون اعتراف ہے کہ ایک دن فنا ہو جانے والے ہیں۔

(۱۰۰)

ایک قوم نے آپ کے سامنے آپ کی تعریف کردی توآپنے دعا کے لئے ہاتھ اٹھادئیے ۔خدایا تو مجھے ' مجھ سے بہتر جانتا ہے اورمیں اپنے کو ان سے بہتر پہچانتا ہوں لہٰذا مجھے ان کے خیال سے(۲) بہتر قرار دے دینا اور یہ جن کوتاہیوں کونہیں جانتے ہیں انہیں معاف کردینا۔

(۱)عالم اسلام کی ایک کمزوری یہ بھی ہے کہ مسلمان روایات کے مضامین سے یکسر غافل ہے اور صرف راویں کے اعتماد پر روایات پر عمل کررہا ہے جب کے بے شمار روایات کے مضامین خلاف عقل و منطق اورمخالف اصول و عقائد ہیں اورمسلمان کو اس گمراہی کا احساس بھی نہیں ہے۔

(۲)اے کاش ہر انسان اس کردار کو اپنا لیتا اورتعریفوں سے دھوکہ کھانے کے بجائے اپنے امور کی اصلاح کی فکر کرت اور مالک کی بارگاہمیں اسیطرح عرض مدعاکرتا جس طرح مولائے کائنات نے سکھایا ہے مگرافسوس کہ ایسا کچھ نہیں ہے اور جہالت اس منزل پرآگئی ہے کہ صاحبان علم عوام الناس کیتعریف سے دھوکہ کھا جاتے ہیں اور اپنے کو با کمال تصورکرنے لگتے ہیں جس کا مشاہدہ خطباء کی زندگی میں بھی ہو سکتا ہے اور شعراء کی مخفلوں میں بھی جہاں اظہار علم کرنے والے با کمال ہوتے ہیں اور تعریف کرنے والوں کی اکثریت ان کے مقابلہ میں بے کمال۔مگراس کے بعد بھی انسان تعریف سے خوش ہوتا ہے اورمغرور ہو جاتا ہے۔

۶۵۳

۱۰۱ - وقَالَعليه‌السلام لَا يَسْتَقِيمُ قَضَاءُ الْحَوَائِجِ إِلَّا بِثَلَاثٍ - بِاسْتِصْغَارِهَا لِتَعْظُمَ وبِاسْتِكْتَامِهَا لِتَظْهَرَ - وبِتَعْجِيلِهَا لِتَهْنُؤَ

۱۰۲ - وقَالَعليه‌السلام يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يُقَرَّبُ فِيه إِلَّا الْمَاحِلُ - ولَا يُظَرَّفُ فِيه إِلَّا الْفَاجِرُ - ولَا يُضَعَّفُ فِيه إِلَّا الْمُنْصِفُ - يَعُدُّونَ الصَّدَقَةَ فِيه غُرْماً وصِلَةَ الرَّحِمِ مَنّاً - والْعِبَادَةَ اسْتِطَالَةً عَلَى النَّاسِ - فَعِنْدَ ذَلِكَ يَكُونُ السُّلْطَانُ بِمَشُورَةِ النِّسَاءِ - وإِمَارَةِ الصِّبْيَانِ وتَدْبِيرِ الْخِصْيَانِ.

۱۰۳ - ورُئِيَ عَلَيْه إِزَارٌ خَلَقٌ مَرْقُوعٌ فَقِيلَ لَه فِي ذَلِكَ

(۱۰۱)

حاجب روائی تین چیزوں کے بغیر مکمل نہیں ہوتی ہے :((۱) عمل کوچھوٹا سمجھے تاکہ وہ بڑا اقرار پا جائے ۔(۲) اسے پوشیدہ سور پر انجام دے تاکہ وہ خود اپنا اظہار کرے(۳) اسے جلدی پورا کردے تاکہ خوشگوار معلوم ہو(۱) ۔

(۱۰۲)

لوگوں پر ایک زمانہ آنے والا ہے جب صرف لوگوں کے عیوب بیان کرنے والا مقرب بارگاہ ہواکرے گا اور صرف فاجر کو خوش مزاج سمجھا جائے گا اور صرف منصف کو کمزور قراردیاجائے گا۔لوگ صدقہ کو خسارہ صلہ رحم کو احسان اور عبادت کو لوگوں پر برتری کا(۲) ذریعہ قرار دیں گے ۔ایسے وقت(۱۴) میں حکومت عورتوں کے مشورہ ' بچوں کے اقتدار اورخواجہ سرائوں(۳) کی تدبیر کے سہارے رہ جائے گی۔

(۱۰۳)

لوگوں نے آپ کی چادر کو بوسیدہ دیکھ کر گزارش کردی

(۱)ظاہر ہے کہ حاجت برآری کا عمل جلد ہو جاتا ہے تو انسان کو بے پناہمسرت ہوتی ہے ورنہ اسکے بعد کام تو ہو جاتا ہے لیکن مسرت کا فقدان رہتا ہے اور وہ روحانی انبساط حاصل نہیں ہوتا ہے جو مدعا پیش کرنے کے فوراً بعد پورا ہو جانے میں حاصل ہوتا ہے۔

(۲)افسوس کہ اہل دنیا نے اس عبادت کوبھی اپنی برتری کا ذریعہ بنالیا ہے جس کی تشریع انسان کے خضوع و خشوع اورجذبہ ٔ بندگی کے اظہار کے لئے ہوئی تھی اور جس کامقصد یہ تھا کہ انسان کی زندگی سے غرور اور شیطنت نکل جائے اور تواضع و انکسار اس پرمسلط ہو جائے ۔

(۳)بظاہر کسی دور میں بھی خواجہ سرائوں کومشیر مملکت کی حیثیت حاصل نہیں رہی ہے اور نہ ان کے کسی مخصوص تدبر کی نشاندہی کی گئی ہے۔اس لئے بہت ممکن ہے کہ اس لفظ سے مراد وہ تمام افراد ہوں جن میں ان لوگوں کی خصلتیں پائی جاتی ہیں اورجو حکام کی ہر ہاں میں ہاں ملا دیتے ہیں اور ان کی ہر رغبت وخواہش کے سامنے سر تسلیم خم کردیتے ہیں اورانہیں زندگی کے اندر و باہر ہر شعبہ میں برابر کا دخل رہتا ہے ۔

۶۵۴

فَقَالَ: يَخْشَعُ لَه الْقَلْبُ وتَذِلُّ بِه النَّفْسُ - ويَقْتَدِي بِه الْمُؤْمِنُونَ إِنَّ الدُّنْيَا والآخِرَةَ عَدُوَّانِ مُتَفَاوِتَانِ - وسَبِيلَانِ مُخْتَلِفَانِ - فَمَنْ أَحَبَّ الدُّنْيَا وتَوَلَّاهَا أَبْغَضَ الآخِرَةَ وعَادَاهَا - وهُمَا بِمَنْزِلَةِ الْمَشْرِقِ والْمَغْرِبِ ومَاشٍ بَيْنَهُمَا - كُلَّمَا قَرُبَ مِنْ وَاحِدٍ بَعُدَ مِنَ الآخَرِ - وهُمَا بَعْدُ ضَرَّتَانِ.

۱۰۴ - وعَنْ نَوْفٍ الْبَكَالِيِّ قَالَ: رَأَيْتُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَعليه‌السلام ذَاتَ لَيْلَةٍ - وقَدْ خَرَجَ مِنْ فِرَاشِه فَنَظَرَ فِي النُّجُومِ - فَقَالَ لِي يَا نَوْفُ أَرَاقِدٌ أَنْتَ أَمْ رَامِقٌ - فَقُلْتُ بَلْ رَامِقٌ قَالَ:

يَا نَوْفُ طُوبَى لِلزَّاهِدِينَ فِي الدُّنْيَا - الرَّاغِبِينَ فِي الآخِرَةِ - أُولَئِكَ قَوْمٌ اتَّخَذُوا الأَرْضَ بِسَاطاً - وتُرَابَهَا فِرَاشاً ومَاءَهَا طِيباً - والْقُرْآنَ شِعَاراً والدُّعَاءَ دِثَاراً - ثُمَّ قَرَضُوا الدُّنْيَا قَرْضاً عَلَى مِنْهَاجِ الْمَسِيحِ.

يَا نَوْفُ إِنَّ دَاوُدَعليه‌السلام قَامَ فِي مِثْلِ هَذِه السَّاعَةِ مِنَ اللَّيْلِ - فَقَالَ إِنَّهَا لَسَاعَةٌ لَا يَدْعُو فِيهَا عَبْدٌ إِلَّا اسْتُجِيبَ لَه -

تو آپ نے فرمایا کہ اس سے دل میں خشوع اورنفس میں احساس کمتری پیدا ہوتا ہے اور مومنین اس کی اقتدا بھی کرسکتے ہیں۔یاد رکھودنیا اورآخرت آپس میں دوناساز گار دشمن ہیں اور دو مختلف راستے ۔لہٰذا جو دنیا سے محبت اورتعلق خاطر رکھتا ہے وہ آخرت کادشمن ہو جاتا ہے اور جو راہر و ایک سے قریب تر ہوتا ہے وہ دوسرے سے دور ترہوجاتا ہے۔پھریہ دونوں آپس میں ایک دوسرے کی سوت جیسی ہیں ۔

(۱۰۴)

نوف بکالی کہتے ہیں کہ میں نے ایک شب امیرالمومنین کو دیکھا کہ آپ نے بستر سے اٹھ کرستاروں پر نگاہ کی اور فرمایا کہ نوف! سو رہے ہو یا بیدار ہو؟ میں نے عرض کی کہ حضورجاگ رہا ہوں۔فرمایا کہ نوف ! خوشا بحال ان کے جو دنیا سے کنارہ کش ہوں توآخرت کی طرف رغبت رکھتے ہوں۔یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے زمین کو بستر بنایا ہے اورخاک کو فرش ' پانی کو شربت قراردیاہے اور قرآن و دعا کو اپنے ظاہرو باطن کامحافظ اس کے بعد دنیا سے یوں الگ(۱) ہوگئے جس طرح حضرت مسیح ۔

نوف! دیکھودائود رات کے وقت ایسے ہی موقع پر قیام کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ وہ ساعت ہے جس میں جو بندہ بھی دعاکرتا ہے پروردگار اس کی دعا

(۱)اس مقام پر لفظ قرض اشارہ ہے کہ نہایت مختصر حصہ حاصل کیا ہے جس طرح دانت سے روٹی کاٹ لی جاتی ہے اور ساری روٹی کو منہمیں نہیں بھر لیا جاتا ہے کہ اس کیفیت کوخضم کہتے ہیں۔قرض نہیں کہتے ہیں۔

۶۵۵

إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَشَّاراً أَوْ عَرِيفاً أَوْ شُرْطِيّاً - أَوْ صَاحِبَ عَرْطَبَةٍ وهِيَ الطُّنْبُورُ أَوْ صَاحِبَ كَوْبَةٍ وهِيَ الطَّبْلُ –

وقَدْ قِيلَ أَيْضاً إِنَّ الْعَرْطَبَةَ الطَّبْلُ - والْكَوْبَةَ الطُّنْبُورُ.

۱۰۵ - وقَالَعليه‌السلام إِنَّ اللَّه افْتَرَضَ عَلَيْكُمْ فَرَائِضَ فَلَا تُضَيِّعُوهَا - وحَدَّ لَكُمْ حُدُوداً فَلَا تَعْتَدُوهَا - ونَهَاكُمْ عَنْ أَشْيَاءَ فَلَا تَنْتَهِكُوهَا - وسَكَتَ لَكُمْ عَنْ أَشْيَاءَ ولَمْ يَدَعْهَا نِسْيَاناً فَلَا تَتَكَلَّفُوهَا

۱۰۶ - وقَالَعليه‌السلام لَا يَتْرُكُ النَّاسُ شَيْئاً مِنْ أَمْرِ دِينِهِمْ لِاسْتِصْلَاحِ دُنْيَاهُمْ - إِلَّا فَتَحَ اللَّه عَلَيْهِمْ مَا هُوَ أَضَرُّ مِنْه.

کوقبول کرلیتا ہے---مگر یہ کہ سرکاری ٹیکس وصول کرنے والا' لوگوں کی برائی کرنے والا: ظالم حکومت کی پولیس والا یا سارنگی اورڈھول(۱) تاشہ والاہو۔

سید رضی : عرطبة : سارنگی کو کہتے ہیں اور کوبة کے معنی ڈھول کے ہیں اور بعض حضرات کے نزدیک عرطبہ ڈھول ہے اور کوبہ سارنگی ۔

(۱۰۵)

پروردگارنے تمہارے ذمہ کچھ فرائض قرار دئیے ہیں لہٰذا خبردار انہیں ضائع نہ کرنا اور اسنے کچھ حدود بھی مقرر کردئیے ہیں لہٰذا ان سے تجاوز نہ کرنا۔اس نے جن چیزوں سے منع کیا ہے ان کی خلاف ورزی نہ کرنا اورجن چیزوں سے سکوت اختیار فرمایا ہے زبردستی انہیں جاننے کی کوش نہ کرناکہ وہ بھولا نہیں ہے۔

(۱۰۶)

جب بھی لوگ دنیا سنوارنے کے لئے دین کی کسی بات کو نظرانداز کردیتے ہیںتو پروردگار اس سے زیادہ نقصان دہ راستے کھول دیتا ہے۔

(۱)افسوس کی بات ہے کہ بعض علاقوں می بعض مومن اقوام کی پہچان ہی ڈھول تاشہ اورسارنگی بن گئی ہے جب کہ مولائے کائنات نے اس کاروبار کو اس قدر مذموم قراردیا ہے کہ اس عمل کے انجام دینے والوں کیدعابھی قبول نہیں ہوتی ہے۔

اس حکمت میں دیگر افراد کا تذکرہ ظالموں کے ذیل میں کیا گیا ہے اور کھلی ہوئی بات ہے کہ ظالم حکومت کے لئے کسی طح کا کام کرنے والا پیش پروردگار مستجاب الدعوات نہیں ہو سکتا ہے ۔جب وہ اپنے ضروریات حیات کوظالموں کی اعانت سیوابستہ کردیتا ہے تو پروردگار اپنا دست کرم اٹھالیتا ہے ۔

۶۵۶

۱۰۷ - وقَالَعليه‌السلام رُبَّ عَالِمٍ قَدْ قَتَلَه جَهْلُه وعِلْمُه مَعَه لَا يَنْفَعُه.

۱۰۸ - وقَالَعليه‌السلام لَقَدْ عُلِّقَ بِنِيَاطِ هَذَا الإِنْسَانِ بَضْعَةٌ - هِيَ أَعْجَبُ مَا فِيه وذَلِكَ الْقَلْبُ - وذَلِكَ أَنَّ لَه مَوَادَّ مِنَ الْحِكْمَةِ وأَضْدَاداً مِنْ خِلَافِهَا - فَإِنْ سَنَحَ لَه الرَّجَاءُ أَذَلَّه الطَّمَعُ - وإِنْ هَاجَ بِه الطَّمَعُ أَهْلَكَه الْحِرْصُ - وإِنْ مَلَكَه الْيَأْسُ قَتَلَه الأَسَفُ - وإِنْ عَرَضَ لَه الْغَضَبُ اشْتَدَّ بِه الْغَيْظُ - وإِنْ أَسْعَدَه الرِّضَى نَسِيَ التَّحَفُّظَ - وإِنْ غَالَه الْخَوْفُ شَغَلَه الْحَذَرُ - وإِنِ اتَّسَعَ لَه الأَمْرُ اسْتَلَبَتْه الْغِرَّةُ - وإِنْ أَفَادَ مَالًا أَطْغَاه الْغِنَى - وإِنْ أَصَابَتْه مُصِيبَةٌ فَضَحَه الْجَزَعُ - وإِنْ عَضَّتْه الْفَاقَةُ شَغَلَه الْبَلَاءُ - وإِنْ جَهَدَه الْجُوعُ قَعَدَ بِه الضَّعْفُ - وإِنْ أَفْرَطَ بِه الشِّبَعُ كَظَّتْه الْبِطْنَةُ -

(۱۰۷)

بہت سے عالم(۱) ہیں جنہیں دین سے نا واقفیت مارڈالاہے اور پھر ان کے علم نے بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچایا ہے۔

(۱۰۸)

اس انسان کے وجود میں سب سے زیادہ تعجب خیز وہ گوشت کا ٹکڑا ہے جو ایک رگ سے آویزاں کردیا گیا ہے اور جس کا نام قلب ہے کہ اس میں حکمت(۲) کے سر چشمے بھی ہیں اوراس کی ضدیں بھی ہیں کہ جب اسے امید کی جھلک نظر آتی ہے تو طمع ذلیل بنادتی ہے اور جب طمع میں ہیجان پیدا ہوتا ہے تو حرص برباد کردیتی ہے اورجب مایوسی کا قبضہ ہو جاتا ہے تو حسرت مار ڈالتی ہے اور جب غضب طاری ہوتا ہے ۔توغم و غصہ شدت اختیار کر لیتا ہے اور جب خوشحال ہو جاتا ہے تو حفظ ماتقدم کو بھول جاتا ہے اور جب خوف طاری ہوتا ہے تواحتیاط دوسری چیزوں سے غافل کردیتی ہے۔اور جب حالات وسعت پیدا ہوتی ہے تو غفلت قبضہ کرلیتی ہے -اورجب مال حاصل کر لیتا ہے تو بے نیازی سر کش بنا دیتی ہے اورجب کوئی مصیبت نازل ہو جاتی ہے توفریادرسواکر دیتی ہے اور جب فاقہ کاٹ کھاتا ہے تو بلاء گرفتار کر لیتی ہے اور جب بھوک تھکا دیتی ہے توکمزوری بٹھا دیتی ہےاورجب ضرورت سے زیادہ پیٹ بھر جاتا ہے

(۱)یہ دانشوران ملت ہیں جن کے پاس ڈگریوں کاغرورتو ہے لیکن دین کی بصیرت نہیں ہے۔ظاہر ہے کہ ایسے افراد کا علم تباہ کرسکتا ہے آباد نہیں کر سکتا ہے۔

(۲)انسانی قلب کو دو طرح کی صلاحیتوں سے نوازا گیا ہے۔اس میںایک پہلو عقل و منطق کا ہے اور دوسرا جذبات و عواطف کا۔اس ارشاد گرامی میں دوسرے پہلو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور اس کے متضاد خصوصیات کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔

۶۵۷

فَكُلُّ تَقْصِيرٍ بِه مُضِرٌّ وكُلُّ إِفْرَاطٍ لَه مُفْسِدٌ.

۱۰۹ - وقَالَعليه‌السلام نَحْنُ النُّمْرُقَةُ الْوُسْطَى بِهَا يَلْحَقُ التَّالِي - وإِلَيْهَا يَرْجِعُ الْغَالِي

۱۱۰ - وقَالَعليه‌السلام لَا يُقِيمُ أَمْرَ اللَّه سُبْحَانَه إِلَّا مَنْ لَا يُصَانِعُ - ولَا يُضَارِعُ ولَا يَتَّبِعُ الْمَطَامِعَ

۱۱۱ - وقَالَعليه‌السلام : وقَدْ تُوُفِّيَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ الأَنْصَارِيُّ بِالْكُوفَةِ - بَعْدَ مَرْجِعِه مَعَه مِنْ صِفِّينَ - وكَانَ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيْه.

لَوْ أَحَبَّنِي جَبَلٌ لَتَهَافَتَ

معنى ذلك أن المحنة تغلظ عليه - فتسرع المصائب إليه - ولا يفعل ذلك إلا بالأتقياء الأبرار - والمصطفين الأخيار: وهذا مثل قولهعليه‌السلام :

تو شکم پری کی اذیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔مختصر یہ ہے کہ ہر کوتا ہی نقصان دہ ہوتی ہے اور ہر زیادتی تباہ کن۔

(۱۰۹)

ہم اہل بیت ہی وہ نقطہ اعتدال(۱) ہیں جن سے پیچھے رہ جانے والا آگے بڑھ کر ان سے مل جاتا ہے اور آگے بڑھ جانے والا پلٹ کر ملحق ہو جاتا ہے۔

(۱۱۰)

حکم الٰہی کا نفاذ وہی کر سکتا ہے جو حق کے معاملہ میں مروت نہ کرتا ہو اورعاجزی و کمزوری کا اظہارنہ کرتا ہو اور لالچ کے پیچھے نہ دوڑتا ہو۔

(۱۱۱)

جب صفین سے واپسی پر سہل بن حنیف انصاری کاکوفہ میں انتقال ہوگیا جو حضرت کے محبوب صحابی تھے تو آپ نے فرمایا کہ''مجھ سے کوئی پہاڑ بھی محبت کرے گا تو ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا ۔

مقصد یہ ہے کہ میری محبت کی آزمائش سخت ہے اور اس میں مصائب کی یورش ہو جاتی ہے جوشرف صرف متقی اورنیک کردار لوگوں کوحاصل ہوتا ہے جیسا کہ آپنے دوسرے موقع پر ارشاد فرمایا ہے۔

(۱)شیخ محمد عبدہ نے اس فقرہ کی یہ تشریح کی ہے کہ اہل بیت اس مسند سے مشابہت رکھتے ہیں جس کے سہارے انسان کی پشت مضبوط ہوتی ہے اوراسے سکون زندگی حاصل ہوتا ہے ۔وسطی کے لفظ سے اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ تمام مسندیں اسی سے اتصال رکھتی ہیں اور سب کا سہارا وہی ہے۔اہل بیت اس صراط مستقیم پر ہیں جن سے آگے بڑھ جانے والوں کو بھی ان سے ملنا پڑتا ہے اور پیچھے رہ جانے والوںکوبھی ۔!

۶۵۸

۱۱۲ - مَنْ أَحَبَّنَا أَهْلَ الْبَيْتِ فَلْيَسْتَعِدَّ لِلْفَقْرِ جِلْبَاباً.

وقد يؤول ذلك على معنى آخر ليس هذا موضع ذكره.

۱۱۳ - وقَالَعليه‌السلام لَا مَالَ أَعْوَدُ مِنَ الْعَقْلِ ولَا وَحْدَةَ أَوْحَشُ مِنَ الْعُجْبِ - ولَا عَقْلَ كَالتَّدْبِيرِ ولَا كَرَمَ كَالتَّقْوَى - ولَا قَرِينَ كَحُسْنِ الْخُلُقِ ولَا مِيرَاثَ كَالأَدَبِ - ولَا قَائِدَ كَالتَّوْفِيقِ ولَا تِجَارَةَ كَالْعَمَلِ الصَّالِحِ - ولَا رِبْحَ كَالثَّوَابِ ولَا وَرَعَ كَالْوُقُوفِ عِنْدَ الشُّبْهَةِ - ولَا زُهْدَ كَالزُّهْدِ فِي الْحَرَامِ ولَا عِلْمَ كَالتَّفَكُّرِ - ولَا عِبَادَةَ كَأَدَاءِ الْفَرَائِضِ - ولَا إِيمَانَ كَالْحَيَاءِ والصَّبْرِ ولَا حَسَبَ كَالتَّوَاضُعِ - ولَا شَرَفَ كَالْعِلْمِ ولَا عِزَّ كَالْحِلْمِ - ولَا مُظَاهَرَةَ أَوْثَقُ مِنَ الْمُشَاوَرَةِ.

(۱۱۲)

جو ہم اہل بیت سے محبت کرے اسے جامہ(۱) فقر پہننے کے لئے تیار ہو جانا چاہیے ۔

سید رضی : بعض حضرات نے اس ارشاد کی ایک دوسری تفسیر کی ہے جس کے بیان کا یہ موقع نہیں ہے۔

(۱۱۳)

عقل سے زیادہ فائدہ مند کوئی دولت نہیں ہے اور خود پسندی سے زیادہ وحشت ناک کوئی تنہائی نہیں ہے۔تدبیر جیسی کوئی عقل نہیں ہے اورتقویٰ جیسی کوئی بزرگی نہیں ہے۔حسن اخلاق جیسا کوئیساتھی نہیں ہے اوراد ب جیسی کوئی میراث نہیں ہے ۔توفیق جیساکوئی پیشرو نہیں ہے اورعمل صالح جیسی کوئی تجارت نہیں ہے۔ثواب جیسا کوئی فائدہ نہیں ہے اور شبہات میں احتیاط جیسی کوئی پرہیز گاری نہیں ہے۔حرام کی طرف سے بے رغبتی جیساکوئی زہد نہیں ہے اورتفکر جیسا کوئی علم نہیں ہے۔ادائے فرائض جیسی کوئی عبادت نہیں ہے اورحیا و صبر جیسا کوئی ایمان نہیں ہے۔تواضع جیسا کوئی حسب نہیں ہے اور علم جیسا کوئی شرف نہیں ہے۔حلم جیسی کوئی عزت نہیں ہے اور مشورہ سے زیادہ مضبوط کوئی پشت پناہ نہیں ہے۔

(۱)مقصد یہ ہے کہ اہل بیت کاکل سرمایہ حیات دین و مذہب اور حق و حقانیت ہے اور اس کے برداشت کرنے والے ہمیشہ کم ہوتے ہیں لہٰذا اس راہ پر چلنے والوں کو ہمیشہ مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کے لئے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے۔

۶۵۹

۱۱۴ - وقَالَعليه‌السلام إِذَا اسْتَوْلَى الصَّلَاحُ عَلَى الزَّمَانِ وأَهْلِه - ثُمَّ أَسَاءَ رَجُلٌ الظَّنَّ بِرَجُلٍ لَمْ تَظْهَرْ مِنْه حَوْبَةٌ فَقَدْ ظَلَمَ - وإِذَا اسْتَوْلَى الْفَسَادُ عَلَى الزَّمَانِ وأَهْلِه - فَأَحْسَنَ رَجُلٌ الظَّنَّ بِرَجُلٍ فَقَدْ غَرَّرَ

۱۱۵ - وقِيلَ لَهعليه‌السلام كَيْفَ نَجِدُكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ - فَقَالَعليه‌السلام كَيْفَ يَكُونُ حَالُ مَنْ يَفْنَى بِبَقَائِه - ويَسْقَمُ بِصِحَّتِه ويُؤْتَى مِنْ مَأْمَنِه

۱۱۶ - وقَالَعليه‌السلام كَمْ مِنْ مُسْتَدْرَجٍ بِالإِحْسَانِ إِلَيْه - ومَغْرُورٍ بِالسَّتْرِ عَلَيْه ومَفْتُونٍ بِحُسْنِ الْقَوْلِ فِيه - ومَا ابْتَلَى اللَّه أَحَداً بِمِثْلِ الإِمْلَاءِ لَه

۱۱۷ - وقَالَعليه‌السلام هَلَكَ فِيَّ رَجُلَانِ مُحِبٌّ غَالٍ ومُبْغِضٌ قَالٍ

(۱۱۴)

جب زمانہ اور اہل زمانہ پر نیکیوں کا غلبہ ہوا اور کوئی شخص کسی شخص سے کوئی برائی دیکھے بغیر بد ظنی پیدا کرے تواس نے اس شخص پر ظلم کیا ہے اور جب زمانہ اور اہل زمانہ پر فساد کا غلبہ ہو اور کوئی شخص کسی سے حسن ظن قائم کرلے تو گویا اسنے اپنے ہی کودھوکہ دیا ہے ۔

(۱۱۵)

ایک شخص نے آپ سے مزاج پرسی کرلی تو فرمایا کہ اس کا حال کیا ہوگا جس کی بقاہی فناکی طرف لے جا رہی ہے اور صحت ہی بیماری کا پیش خیمہ ہے اور وہ اپنی پناہ گاہ ہی سے ایک دن گرفت میں لے لیاجائے گا۔

(۱۱۶)

کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جنہیں نیکیاں دے کر گرفت میں لیا جاتا ہے اور وہ پردہ(۱) پوشی ہی سے دھوکہ میں رہتے ہیں اوراپنے بارے میں اچھی بات سن کردھوکہ کھا جاتے ہیں ۔اور دیکھو اللہ نے مہلت سے بہتر کوئی آزمائش کاذریعہ نہیں قرار دیا ہے۔

(۱۱۷)

میرے بارے میں دو طرح کے لوگ ہلاک ہوگئے ہیں۔وہ دوست جو دوستی میںغلو سے کام لیتے ہیں اوروہ دشمن جو دشمنی میں مبالغہ کرتے ہیں۔

(۱)انسانوں میں جومختلف کمزوریاں پائی جاتی ہیں ان میں اہم ترین کمزوریاں یہ ہیں کہ وہ ہر تعریف کواپناحق سمجھتا ہے اور ہر مال کو اپنامقدر قراردے لیتا ہے اور پروردگار کی پردہ پوشی کو بھی اپنے تقدس کا نام دے دیتا ہے اوریہ احساس نہیں کرتا ہے کہ یہ فریب زندگی کسی وقت بھی دھوکہ دے سکتا ہے اوراس کا انجام یقینا برا ہو گا۔

۶۶۰

661

662

663

664

665

666

667

668

669

670

671

672

673

674

675

676

677

678

679

680

681

682

683

684

685

686

687

688

689

690

691

692

693

694

695

696

697

698

699

700

701

702

703

704

705

706

707

708

709

710

711

712

713

714

715

716

717

718

719

720

721

722

723

724

725

726

727

728

729

730

731

732

733

734

735

736

737

738

739

740

741

742

743

744

745

746

747

748

749

750

751

752

753

754

755

756

757

758

759

760

761

762

763

764

765

766

767

768

769

770

771

772

773

774

775

776

777

778

779

780

781

782

783

784

785

786

787

788

789

790

791

792

793

794

795

796

797

798

799

800

801

802

803

804

805

806

807

808

809

810

811

812

813

814

815

816

817

818

819

820

821

822

823

824

825

826

827

828

829

830

831

832

833

834

835

836

837

838

839

840

841

842

843

844

845

846

847

848

849

850

851

852

853

854

855

856

857

858

859

860

861

862

863