نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)6%

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ) مؤلف:
: علامہ السید ذیشان حیدر جوادی قدس سرہ
زمرہ جات: متن احادیث
صفحے: 863

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 863 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 656761 / ڈاؤنلوڈ: 15924
سائز سائز سائز
نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

أَوْ نَهَيْتُ عَنْه لَكُنْتُ نَاصِراً - غَيْرَ أَنَّ مَنْ نَصَرَه لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقُولَ خَذَلَه مَنْ أَنَا خَيْرٌ مِنْه - ومَنْ خَذَلَه لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقُولَ نَصَرَه مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي وأَنَا جَامِعٌ لَكُمْ أَمْرَه اسْتَأْثَرَ فَأَسَاءَ الأَثَرَةَ وجَزِعْتُمْ فَأَسَأْتُمُ الْجَزَعَ ولِلَّه حُكْمٌ وَاقِعٌ فِي الْمُسْتَأْثِرِ والْجَازِعِ

(۳۱)

ومن كلام لهعليه‌السلام

لما أنفذ عبد الله بن عباس - إلى الزبير يستفيئه إلى طاعته قبل حرب الجمل

لَا تَلْقَيَنَّ طَلْحَةَ - فَإِنَّكَ إِنْ تَلْقَه تَجِدْه كَالثَّوْرِ عَاقِصاً قَرْنَه يَرْكَبُ الصَّعْبَ ويَقُولُ هُوَ الذَّلُولُ - ولَكِنِ الْقَ الزُّبَيْرَ فَإِنَّه أَلْيَنُ عَرِيكَةً فَقُلْ لَه يَقُولُ لَكَ ابْنُ خَالِكَ - عَرَفْتَنِي بِالْحِجَازِ وأَنْكَرْتَنِي بِالْعِرَاقِ - فَمَا عَدَا مِمَّا بَدَا.

قال السيد الشريف وهوعليه‌السلام أول من سمعت منه هذه الكلمة - أعني فما عدا مما بدا.

اور اگر میں نے منع کیا ہوتا تو یقینا میں مدد گار قرار پاتا۔لیکن بہر حال یہ بات طے شدہ ہے کہ جن بنی امیہ نے مدد کی ہے وہ اپنے کو ان سے بہتر نہیں کہہ سکتے ہیں جنہوں نے نظر انداز کردیا ہے اور جن لوگوں نے نظرانداز کردیا ہے وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ جس نے مدد کی ہے وہ ہم سے بہتر تھا۔اب میں اس قتل کا خلاصہ بتائے دیتا ہوں' ''عثمان نے خلافت کو اختیار کیا تو بد ترین طریقہ سے اختیار کیا اورتم گھبرا گئے تو بری طرح سے گھبرا گئے اوراب اللہ دونوں کے بارے میں فیصلہ کرنے والا ہے ''۔

(۳۱)

آپ کا ارشاد گرامی

جب آپ نے عبداللہ بن عباس کو زبیر کے پاس بھیجا کہ اسے جنگ سے پہلے اطاعت امام کی طرف واپس لے آئیں۔

خبردار طلحہ سے ملاقات نہ کرناکہ اس سے ملاقات کروگے تواسےاس بیل جیساپائوگےجس کے سینگ مڑے ہوئے ہوں۔وہ سرکش سواری پرسوار ہوتا ہے اوراسے رام کیا ہوا کہتا ہے۔تم صرف زبیر سے ملاقات کرنا کہ اس کی طبیعت قدرے نرم ہےاس سے کہناکہ تمہارے ماموں زاد بھائی نے فرمایا ہےکہ تم نے حجاز میں مجھے پہچانا تھا اور عراق میں آکربالکل بھول گئے ہوآخر یہ نیا سانحہ کیا ہوگیا ہے۔

سید رضی : ما عدا ما بدا '' یہ فقرہ پہلے پہل تاریخ عربیت میں امیر المومنین ہی سے سنا گیا ہے۔

۶۱

(۳۲)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وفيها يصف زمانه بالجور، ويقسم الناس فيه خمسة أصناف، ثم يزهد في الدنيا

معنى جور الزمان

أَيُّهَا النَّاسُ - إِنَّا قَدْ أَصْبَحْنَا فِي دَهْرٍ عَنُودٍ وزَمَنٍ كَنُودٍ يُعَدُّ فِيه الْمُحْسِنُ مُسِيئاً - ويَزْدَادُ الظَّالِمُ فِيه عُتُوّاً لَا نَنْتَفِعُ بِمَا عَلِمْنَا ولَا نَسْأَلُ عَمَّا جَهِلْنَا - ولَا نَتَخَوَّفُ قَارِعَةً حَتَّى تَحُلَّ بِنَا.

أصناف المسيئين

والنَّاسُ عَلَى أَرْبَعَةِ أَصْنَافٍ

مِنْهُمْ مَنْ لَا يَمْنَعُه الْفَسَادَ فِي الأَرْضِ - إِلَّا مَهَانَةُ نَفْسِه وكَلَالَةُ حَدِّه ونَضِيضُ وَفْرِه ومِنْهُمْ الْمُصْلِتُ لِسَيْفِه والْمُعْلِنُ بِشَرِّه - والْمُجْلِبُ بِخَيْلِه ورَجِلِه قَدْ أَشْرَطَ نَفْسَه وأَوْبَقَ دِينَه لِحُطَامٍ يَنْتَهِزُه أَوْ مِقْنَبٍ يَقُودُه أَوْ مِنْبَرٍ يَفْرَعُه - ولَبِئْسَ الْمَتْجَرُ أَنْ تَرَى الدُّنْيَا لِنَفْسِكَ ثَمَناً - ومِمَّا لَكَ عِنْدَ اللَّه عِوَضاً –

ومِنْهُمْ مَنْ يَطْلُبُ الدُّنْيَا بِعَمَلِ الآخِرَةِ ولَا يَطْلُبُ الآخِرَةَ بِعَمَلِ الدُّنْيَا - قَدْ طَامَنَ مِنْ شَخْصِه - وقَارَبَ مِنْ خَطْوِه وشَمَّرَ مِنْ ثَوْبِه - وزَخْرَفَ مِنْ نَفْسِه لِلأَمَانَةِ - واتَّخَذَ سِتْرَ اللَّه ذَرِيعَةً إِلَى الْمَعْصِيَةِ -

(۳۲)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

جس میں زمانہ کے ظلم کاتذکرہ ہے اورلوگوں کی پانچ قسموں کو بیان کیا گیا ہے اور اس کے بعد زہد کی دعوت دی گئی ہے۔

ایہا الناس! ہم ایک ایسے زمانہ میں پیدا ہوئے ہیں جو سرکش اور نا شکرا ہے یہاں نیک کردار برا سمجھا جاتا ہے اورظالم اپنے ظلم میں بڑھتا ہی جا رہا ہے۔نہ ہم علم سے کوئی فائدہ اٹھاتے ہیں اور نہ جن چیزوں سے نا واقف ہیں ان کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور نہ کسی مصیبت کا اس وقت تک احساس کرتے ہیں جب تک وہ نازل نہ ہو جائے۔بعض وہ ہیں جو تلوارکھینچے ہوئے اپنے شرکا اعلان کر رہے ہیں اور اپنے سوار و پیادہ کو جمع کر رہے ہیں۔اپنے نفس کو مال دنیا کے حصول اور لشکرکی قیادت یا منبر کی بلندی پر عروج کے لئے وقف کردیا ہے اور اپنے دین کو برباد کر دیا ہے اوریہ بد ترین تجارت ہے کہ تم دنیا کواپنے نفس کی قیمت بنا دو یا اجرآخرت کا بدل قراردے دو۔بعض وہ ہیں جو دنیا کو آخرت کے اعمال کے ذریعہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اورآخرت کو دنیا کے ذریعہ نہیں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے نگاہوں کونیچا بنالیا ہے۔قدم ناپ ناپ کر رکھتے ہیں۔دامن کو سمیٹ لیا ہے اوراپنے نفس کوگویا امانتداری کے لئے آراستہ کرلیا ہے اور پروردگار کی پردہ داری کومعصیت کا ذریعہ بنائے ہوئے ہیں۔

۶۲

ومِنْهُمْ مَنْ أَبْعَدَه عَنْ طَلَبِ الْمُلْكِ ضُئُولَةُ نَفْسِه وانْقِطَاعُ سَبَبِه فَقَصَرَتْه الْحَالُ عَلَى حَالِه - فَتَحَلَّى بِاسْمِ الْقَنَاعَةِ - وتَزَيَّنَ بِلِبَاسِ أَهْلِ الزَّهَادَةِ - ولَيْسَ مِنْ ذَلِكَ فِي مَرَاحٍ ولَا مَغْدًى

الراغبون في اللَّه

وبَقِيَ رِجَالٌ غَضَّ أَبْصَارَهُمْ ذِكْرُ الْمَرْجِعِ - وأَرَاقَ دُمُوعَهُمْ خَوْفُ الْمَحْشَرِ - فَهُمْ بَيْنَ شَرِيدٍ نَادٍّ وخَائِفٍ مَقْمُوعٍ وسَاكِتٍ مَكْعُومٍ ودَاعٍ مُخْلِصٍ وثَكْلَانَ مُوجَعٍ - قَدْ أَخْمَلَتْهُمُ التَّقِيَّةُ وشَمِلَتْهُمُ الذِّلَّةُ - فَهُمْ فِي بَحْرٍ أُجَاجٍ أَفْوَاهُهُمْ ضَامِزَةٌ وقُلُوبُهُمْ قَرِحَةٌ قَدْ وَعَظُوا حَتَّى مَلُّوا وقُهِرُوا حَتَّى ذَلُّوا وقُتِلُوا حَتَّى قَلُّوا.

التزهيد في الدنيا

فَلْتَكُنِ الدُّنْيَا فِي أَعْيُنِكُمْ - أَصْغَرَ مِنْ حُثَالَةِ الْقَرَظِ وقُرَاضَةِ الْجَلَمِ واتَّعِظُوا بِمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ - قَبْلَ أَنْ يَتَّعِظَ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ - وارْفُضُوهَا ذَمِيمَةً فَإِنَّهَا قَدْ رَفَضَتْ مَنْ كَانَ أَشْغَفَ بِهَا مِنْكُمْ.

بعض وہ ہیں جنہیں حصول اقتدارسے نفس کی کمزوری اوراسباب کی نابودی نے دور رکھا ہے اور جب حالات نے ساز گاری کا سہارا نہیں دیا تواس کا نام قناعت رکھ لیا ہے۔یہ لوگ اہل زہد کالباس زیب تن کئے ہوئے ہیں جب کہ نہ ان کی شام زاہدانہ ہے اورنہ صبح۔

(پانچویں قسم)

اس کے بعد کچھ لوگ باقی رہ گئے ہیں جن کی نگاہوں کو بازگشت کی یاد نے جھکا دیا ہے اوران کے آنسوئوں کو خوف محشر نے جاری کردیا ہے۔ان میں بعض آوارہ وطن اور دور افتادہ ہیں اور بعض خوفزدہ اورگوشہ نشین ہیں۔بعض کی زبانوں پر مہر لگی ہوئی ہے اور بعض اخلاص کے ساتھ محو دعا ہیں اور درد رسیدہ کی طرح رنجیدہ ہیں۔انہیں خوف حکام نے گمنامی کی منزل تک پہنچادیا ہے۔

اوربے چارگی نے انہیں گھیر لیا ہے۔گویا وہ ایک کھارے سمندر کے اندر زندگی گزار رہے ہیں جہاں منہ بند ہیں اور دل زخمی ہیں۔انہوں نے اس قدر موعظہ کیا ہے کہ تھک گئے ہیں اور وہ اسقدر دبائے گئے ہیں کہ بالآخر دب گئے ہیں اوراس قدر مارے گئے ہیں کہ ان کی تعداد بھی کم ہوگئی ہے

لہٰذا اب دنیا کو تمہاری نگاہوں میں کیکر کے چھلوں اور اون کے ریزوں سے بھی زیادہ پست ہونا چاہیے اور اپنے پہلے والوں سے عبرت حاصل کرنی چاہیے قبل اس کے کہ بعد والے تمہارے انجام سے عبرت حاصل کریں۔اس دنیا کو نظرانداز کردو۔یہ بہت ذلیل ہے یہ ان کے کام نہیں آئی ہے جو تم سے زیادہ اس سے دل لگانے والے تھے۔

۶۳

قال الشريفرضي‌الله‌عنه أقول وهذه الخطبة ربما نسبها من لا علم له إلى معاوية - وهي من كلام أمير المؤمنينعليه‌السلام الذي لا يشك فيه - وأين الذهب من الرغام وأين العذب من الأجاج - وقد دل على ذلك الدليل الخريت ونقده الناقد البصير - عمرو بن بحر الجاحظ - فإنه ذكر هذه الخطبة في كتاب البيان والتبيين - وذكر من نسبها إلى معاوية - ثم تكلم من بعدها بكلام في معناها - جملته أنه قال وهذا الكلام بكلام عليعليه‌السلام أشبه - وبمذهبه في تصنيف الناس - وفي الإخبار عما هم عليه من القهر والإذلال - ومن التقية والخوف أليق - قال ومتى وجدنا معاوية في حال من الأحوال - يسلك في كلامه مسلك الزهاد ومذاهب العباد!

(۳۳)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

عند خروجه لقتال أهل البصرة، وفيها حكمة مبعث الرسل،

ثم يذكر فضله ويذم الخارجين

قَالَ عَبْدُ اللَّه بْنُ عَبَّاسِرضي‌الله‌عنه - دَخَلْتُ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَعليه‌السلام بِذِي قَارٍ وهُوَ يَخْصِفُ نَعْلَه فَقَالَ لِي مَا قِيمَةُ هَذَا النَّعْلِ

سید رضی : بعض جاہلوں نے اس خطبہ کو معاویہ کی طرف منسوب کردیا ہے جب کہ بلا شک یہ امیرالمومنین کا کلام ہے اوربھلا کیاربطہ ہے سونے اورمٹی میں اور شیریں اور شور میں؟ اس حقیقت کی نشاندہی فن بلاغت کے ماہر اوربا بصیرت تنقیدی نظر رکھنے والے عالم عمرو بن بحر الجاحظ نے بھی کی ہے جب اس خطبہ کو'' البیان والتبیین'' میں نقل کرنے کے بعد یہ تبصرہ کیا ہے کہ بعض لوگوں نے اسے معاویہ کی طرف منسوب کردیا ہے حالانکہ یہ حضرت علی علیہ السلام کے انداز بیان سے زیادہ ملتا جلتا ہے کہ آپ ہی اس طرح لوگوں کے اقسام ' مذاہب اورقہر و ذلت اورتقیہ و خوف کا تذکر ہ کیا کرتے تھے ورنہ معاویہ کو کب اپنی گفتگومیں زاہدوں کا اندازیا عابدوں کا طریقہ اختیار کرتے دیکھا گیا ہے۔

(۳۲)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(اہل بصرہ سے جہاد کے لئے نکلتے وقت جس میں آپ نے رسولوں کی بعثت کی حکمت اورپھر اپنی فضیلت اورخوارج کی رذیلت کاذکر کیا ہے)

عبداللہ بن عباس کا بیان ہے کہ میں مقام ذی قار میں امیر المومنین کی خدمت میں حاضر ہوا جب آپ اپنی نعلین کی مرمت کر رہے تھے۔آپ نے فرمایا:ابن عباس !ان جوتیوں کی کیا قیمت ہے '؟

۶۴

فَقُلْتُ لَا قِيمَةَ لَهَا - فَقَالَعليه‌السلام واللَّه لَهِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ إِمْرَتِكُمْ - إِلَّا أَنْ أُقِيمَ حَقّاً أَوْ أَدْفَعَ بَاطِلًا - ثُمَّ خَرَجَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ:

حكمة بعثة النبي

إِنَّ اللَّه بَعَثَ مُحَمَّداًصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - ولَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْعَرَبِ يَقْرَأُ كِتَاباً ولَا يَدَّعِي نُبُوَّةً - فَسَاقَ النَّاسَ حَتَّى بَوَّأَهُمْ مَحَلَّتَهُمْ وبَلَّغَهُمْ مَنْجَاتَهُمْ فَاسْتَقَامَتْ قَنَاتُهُمْ واطْمَأَنَّتْ صَفَاتُهُمْ

فضل علي

أَمَا واللَّه إِنْ كُنْتُ لَفِي سَاقَتِهَاحَتَّى تَوَلَّتْ بِحَذَافِيرِهَا مَا عَجَزْتُ ولَا جَبُنْتُ وإِنَّ مَسِيرِي هَذَا لِمِثْلِهَا - فَلأَنْقُبَنَّ الْبَاطِلَ حَتَّى يَخْرُجَ الْحَقُّ مِنْ جَنْبِه.

میں نے عرض کی کچھ نہیں! فرمایاکہ خدا کی قسم یہ مجھے تمہاری حکومت سے زیادہ عزیز(۱) ہیں مگریہ کہ حکومت کے ذریعہ میں کسی حق کو قائم کر سکوں یا کسی باطل کو دفع کرسکوں۔اس کے بعد لوگوں کے درمیان آکر یہ خطبہ ارشاد فرمایا:۔

اللہ نے حضرت محمد (ص) کواس وقت مبعوث کیا جب عربوں میں کوئی نہ آسمانی کتاب پڑھنا جانتا تھا اور نہ نبوت کا دعویدار تھا۔آپ نے لوگوں کو کھینچ کران کے مقام تک پہنچایا اور انہیں منزل نجات سے آشنا بنادیا یہاں تک کہ ان کی کجی درست ہوگئی اوران کے حالات استوار ہوگئے۔

آگاہ ہو جائو کہ بخدا قسم میں اس صورت حال کے تبدیل کرنے والوں میں شامل تھا یہاں تک کہ حالات مکمل طور پرتبدیل ہوگئے اورمیں نہ کمزور ہوا اور نہ خوفزدہ ہوا اورآج بھی میرا یہ سفر ویسے ہی مقاصد کے لئے ہے۔میں باطل کے شکم کو چاک کرکے اس کے پہلو سے وہ حق نکال لوں گا جسے اس نے مظالم کی تہوں میں چھپادیا ہے۔

(۱)اس مقام پر یہ خیال نہ کیا جائے کہ ایسے انداز گفتگو سے عوام الناس میں مزید نخوت پیداہو جاتی ہے اور ان میں کام کرنے کا جذبہ بالکل مردہ ہو جاتا ہے۔اوراگر واقعاً امام علیہ السلام اسی قدر عاجزآگئے تھے تو پھر بارباردہرانے کی کیا ضرورت تھی۔انہیں ان کے حال پر چھوڑدیا ہوتا۔جو انجام ہونے والا تھا ہو جاتا اوربالآخر لوگ اپنے کیفر کردار کو پہنچ جاتے ؟

اس لئے کہ یہ ایک جذباتی مشورہ تو ہوسکتا ہے منطقی گفتگو نہیں ہو سکتی ہے۔اکتاہٹ اورناراضگی ایک فطری ردعمل ہے جوامربالمعروف کی منزل میں فریضہ بھی بن جاتا ہے۔لیکن اس کے بعد بھی اتمام حجت کا فریضہ بحرحال باقی رہ جاتاہے۔پھرامام کی نگاہیں اس مستقبل کوبھی دیکھ رہی تھیں جہاں مسلسل ہدایات کے پیش نظر چند افراد ضرورپیداہو جاتے ہیں اوراس وقت بھی پیدا ہو گئے تھے۔یہ اوربات ہے کہ قضا و قدر نے ساتھ نہیں دیا اور جہاد مکمل نہیں ہوسکا۔

اس کے علاوہ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ اگر امیر المومنین نے سکوت اختیار کرلیا ہوتا تو دشمن اسے رضا مندی اور بیعت کی علامت بنا لیتے اور مخلصین اپنی کوتاہی عمل کا بہانہ قرار دے لیتے اوراسلام کی روح عمل اورتحریک دینداری مردہوکر رہ جاتی۔

۶۵

توبيخ الخارجين عليه

مَا لِي ولِقُرَيْشٍ - واللَّه لَقَدْ قَاتَلْتُهُمْ كَافِرِينَ - ولأُقَاتِلَنَّهُمْ مَفْتُونِينَ - وإِنِّي لَصَاحِبُهُمْ بِالأَمْسِ كَمَا أَنَا صَاحِبُهُمُ الْيَوْمَ - واللَّه مَا تَنْقِمُ مِنَّا قُرَيْشٌ إِلَّا أَنَّ اللَّه اخْتَارَنَا عَلَيْهِمْ - فَأَدْخَلْنَاهُمْ فِي حَيِّزِنَا - فَكَانُوا كَمَا قَالَ الأَوَّلُ:

أَدَمْتَ لَعَمْرِي شُرْبَكَ الْمَحْضَ صَابِحاً

وأَكْلَكَ بِالزُّبْدِ الْمُقَشَّرَةَ الْبُجْرَا

ونَحْنُ وَهَبْنَاكَ الْعَلَاءَ ولَمْ تَكُنْ

عَلِيّاً وحُطْنَا حَوْلَكَ الْجُرْدَ والسُّمْرَا

( ۳۴)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في استنفار الناس إلى أهل الشام بعد فراغه من أمر الخوارج وفيها يتأفف بالناس، وينصح لهم بطريق السداد

أُفٍّ لَكُمْ لَقَدْ سَئِمْتُ عِتَابَكُمْ -

میرا قریش سے کیا تعلق ہے۔میں نے کل ان سے کفرکی بناپرجہاد کیا تھا اورآج فتنہ اور گمراہی کی بنا پر جہاد کروںگا۔میں ان کا پرانا مد مقابل ہوں اور آج بھی ان کے مقابلہ پرتیارہوں۔خدا کی قسم قریش کو ہم سے کوئی عداوت نہیں ہے مگر یہ کہ پروردگارنے ہمیں منتخب قراردیا ہے اور ہم نے ان کو اپنی جماعت میں داخل کرنا چاہا تو وہ ان اشعارکے مصداق ہوگئے:(ہماری جان کی قسم یہ شراب ناب صباح- یہ چرب چرب غذائیں ہمارا صدقہ ہیں)(ہمیں نے تم کو یہ ساری بلندیاں دی ہیں-وگرنہ تیغ و سناں بس ہمارا حصہ ہیں)

(۳۴)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں خوارج کےقصہ کےبعد لوگوں کو اہل شام سےجہادکےلئےآمادہ کیاگیا ہےاور انکے حالات پرافسوس کا اظہار کرتےہوئےانہیں نصیحت کی گئی ہے)

حیف ہےتمہارے حال پر۔میں تمہیں ملامت کرتے(۱) کرتے تھک گیا

(۱)اس مقام پر یہ خیال نہ کیا جائے کہ ایسے انداز گفتگو سے عوام الناس میں مزید نخوت پیدا ہو جاتی ہے اور ان میں کام کرنے کا جذبہ بالکل مردہ ہوجاتے ہے۔اوراگر واقعاً امام علیہ السلام اسی قدر عاجز آگئے تھے تو پھر بار بار دہرانے کی کیا ضرورت تھی۔انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا ہوتا۔جوانجام ہونے والا تھا ہو جاتا اور بالآخر لوگ اپنے کیفر کردار کو پہنچ جاتے ؟اس لئے کہ یہ ایک جذباتی مشورہ تو ہو سکتا ہے منطقی گفتگو نہیں ہو سکتی ہے۔اکتاہٹ اور ناراضگی ایک فطری رد عمل ہے جو امر بالمعروف کی منز ل میں فریضہ بھی بن جاتا ہے۔لیکن اس کے بعد بھی اتمام حجت کا فریضہ بہر حال باقی رہ جاتا ہے۔پھر امام کی نگاہیں اس مستقبل کو بھی دیکھ رہی تھیں جہاں مسلسل ہدایات کے پیش نظر چند افراد ضرور پیدا ہو جاتے ہیں اور اس وقت بھی پیداہوگئے تھے یہ اوربات ہے کہ قضا وق در نے ساتھ نہیں دیا اور جہاد مکمل نہیں ہو سکا۔ اس کے علاوہ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ اگر امیرالمومنین نے سکتو اختیارکرلیا ہوتا تو دشمن اسے رضامندی اوربیعت کی علامت بنالیتے اور مخلصین اپنی کوتاہی عمل کا بہانہ قراردے لیتے اور اسلام کی روح عمل اور تحریک دینداری مردہ ہو کر رہ جاتی ہے۔

۶۶

( أَرَضِيتُمْ بِالْحَياةِ الدُّنْيا مِنَ الآخِرَةِ ) عِوَضاً - وبِالذُّلِّ مِنَ الْعِزِّ خَلَفاً - إِذَا دَعَوْتُكُمْ إِلَى جِهَادِ عَدُوِّكُمْ دَارَتْ أَعْيُنُكُمْ كَأَنَّكُمْ مِنَ الْمَوْتِ فِي غَمْرَةٍ ومِنَ الذُّهُولِ فِي سَكْرَةٍ - يُرْتَجُ عَلَيْكُمْ حَوَارِي فَتَعْمَهُونَ وكَأَنَّ قُلُوبَكُمْ مَأْلُوسَةٌ فَأَنْتُمْ لَا تَعْقِلُونَ - مَا أَنْتُمْ لِي بِثِقَةٍ سَجِيسَ اللَّيَالِي ومَا أَنْتُمْ بِرُكْنٍ يُمَالُ بِكُمْ - ولَا زَوَافِرُ عِزٍّ يُفْتَقَرُ إِلَيْكُمْ - مَا أَنْتُمْ إِلَّا كَإِبِلٍ ضَلَّ رُعَاتُهَا - فَكُلَّمَا جُمِعَتْ مِنْ جَانِبٍ انْتَشَرَتْ مِنْ آخَرَ –

لَبِئْسَ لَعَمْرُ اللَّه سُعْرُ نَارِ الْحَرْبِ أَنْتُمْ - تُكَادُونَ ولَا تَكِيدُونَ - وتُنْتَقَصُ أَطْرَافُكُمْ فَلَا تَمْتَعِضُونَ لَا يُنَامُ عَنْكُمْ وأَنْتُمْ فِي غَفْلَةٍ سَاهُونَ - غُلِبَ واللَّه الْمُتَخَاذِلُونَ - وايْمُ اللَّه - إِنِّي لأَظُنُّ بِكُمْ أَنْ لَوْ حَمِسَ الْوَغَى واسْتَحَرَّ الْمَوْتُ قَدِ انْفَرَجْتُمْ عَنِ ابْنِ أَبِي طَالِبٍ انْفِرَاجَ الرَّأْسِ

کیا تم لوگ واقعا آخرت کے عوض زندگانی دنیا پر راضی ہوگئے ہو اورتم نے ذلت کوعزت کا بدل سمجھ لیا ہے ؟ کہ جب میں تمہیں دشمن سے جہاد کی دعوت دیتا ہوں تو تم آنکھیں پھرانے لگتے ہو جیسے موت کی بے ہوشی طاری ہو اور غفلت کے نشہ میں مبتلا ہو۔تم پر جیسے میری گفتگو کے دروازے بند ہوگئے ہیں کہ تم گمراہ ہوتے جا رہے ہو اورتمہارے دلوں پردیوانگی کا اثر ہوگیا ہے کہ تمہاری سمجھ ہی میں کچھ نہیں آرہا ہے۔تم کبھی میرے لئے قابل اعتماد نہیں ہوسکتے ہو اور نہ ایسا ستون ہو جس پر بھروسہ کیا جا سکے اور نہ عزت کے وسائل ہو جس کی ضرورت محسوس کی جا سکے تو تو ان اونٹوں جیسے ہو جن کے چرواہے گم ہو جائیں کہ جب ایک طرف سے جمع کئے جاتے ہیں تو دوسری طرف سے بھڑک جاتے ہیں۔

خداکی قسم۔تم بد ترین افراد ہوجن کے ذریعہ آتش جنگ کو بھڑکا یا جا سکے۔تمہارے ساتھ مکر کیا جاتا ہے اور تم کوئی تدبیر بھی نہیں کرتے ہو۔تمہارے علاقے کم ہو تے جا رہے ہیں اورتمہیں غصہ بھی نہیں آتا ہے۔دشمن تمہاری طرف سے غافل نہیں ہے مگر تم غفلت کی نیند سو رہے ہو۔خدا کی قسم سستی برتنے والے ہمیشہ مغلوب ہو جاتے ہیں اور بخدا میں تمہارے بارے میں یہی خیال رکھتا ہوں کہ اگرجنگ نے زور پکڑ لیا اور موت کا بازار گرم ہوگیا تو تم فرزند ابو طالب سے یوں ہی الگ ہو جائو گے جس طرح جسم سے سر الگ ہو جاتا ہے

۶۷

واللَّه إِنَّ امْرَأً يُمَكِّنُ عَدُوَّه مِنْ نَفْسِه - يَعْرُقُ لَحْمَه ويَهْشِمُ عَظْمَه - ويَفْرِي جِلْدَه لَعَظِيمٌ عَجْزُه - ضَعِيفٌ مَا ضُمَّتْ عَلَيْه جَوَانِحُ صَدْرِه أَنْتَ فَكُنْ ذَاكَ إِنْ شِئْتَ - فَأَمَّا أَنَا فَوَاللَّه دُونَ أَنْ أُعْطِيَ ذَلِكَ ضَرْبٌ بِالْمَشْرَفِيَّةِ تَطِيرُ مِنْه فَرَاشُ الْهَامِ وتَطِيحُ السَّوَاعِدُ والأَقْدَامُ -( ويَفْعَلُ الله ) بَعْدَ ذَلِكَ( مِمَّا يَشاءُ )

طريق السداد

أَيُّهَا النَّاسُ - إِنَّ لِي عَلَيْكُمْ حَقّاً ولَكُمْ عَلَيَّ حَقٌّ فَأَمَّا حَقُّكُمْ عَلَيَّ فَالنَّصِيحَةُ لَكُمْ - وتَوْفِيرُ فَيْئِكُمْ عَلَيْكُمْ - وتَعْلِيمُكُمْ كَيْلَا تَجْهَلُوا وتَأْدِيبُكُمْ كَيْمَا تَعْلَمُوا - وأَمَّا حَقِّي عَلَيْكُمْ فَالْوَفَاءُ بِالْبَيْعَةِ - والنَّصِيحَةُ فِي الْمَشْهَدِ والْمَغِيبِ - والإِجَابَةُ حِينَ أَدْعُوكُمْ والطَّاعَةُ حِينَ آمُرُكُمْ

خدا کی قسم اگر کوئی شخص اپنے دشمن کو قابو دے دیتا ہے کہ وہ اس کا گوشت اتارے اور ہڈی توڑ ڈالے اور کھال کے ٹکڑے ٹکڑے کردے تو ایسا شخص عاجزی کی آخری سرحد پر ہے اور اس کا وہ دل انتہائی کمزور ہے جو اس کے پہلوؤں کے درمیان ہے تم چاہو تو ایسے ہی ہوجاؤ لیکن خدا گواہ ہے کہ اس نوبت کے آنے سے پہلے تلوار چلاؤں گا کہ کھوپڑیاں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر اڑتی دکھائی دیں گے اور ہاتھ پیر کٹ کر گرتے نظرآئیں گے ۔ اس کے بعد خدا جو
چاہے گا وہ کرے گا ۔

ایہا الناس !یقینا ایک حق میرا تمہارے(۱) ذمہ ہے اورایک حق تمہارا میرے ذمہ ہے۔تمہارا حق میرے ذمہ یہ ہے کہ میں تمہیں نصیحت کروں اوربیت المال کا مال تمہارے حوالے کردوں اور تمہیں تعلیم دوں تاکہ تم جاہل نہ رہ جائو اورادب سکھائوں تاکہ با عمل ہو جائو۔اور میرا حق تمہارے اوپر یہ ہے کہ بیعت کا حق ادا کرو اور حاضر و غائب ہر حال میں خیر خواہ رہو۔جب پکاروں تو لبیک کہو اور جب حکم دوں تو اطاعت کرو۔

(۱)یہ دیانتداری اور ایمانداری کی عظیم ترین مثال ہے کہ کائنات کا امیر۔مسلمانوں کا حاکم۔اسلام کا ذمہ دار قوم کے سامنے کھڑے ہو کر اس حقیقت کا اعلان کر رہا ہے کہ جس طرح میرا حق تمہارے ذمہ ہے اسی طرح تمہارا حق میرے ذمہ بھی ہے۔اسلام میں حاکم حقوق العباد سے بلند ترنہیں ہوتا ہے اور نہ اسے قانون الٰہی کے مقابلہ میں مطلق العنان قرار دیا جا سکتا ہے۔

اس کے بعد دوسری احتیاط یہ ہے کہ پہلے عوام کے حقوق کوادا کرنے کا ذکرکیا۔اس کے بعد اپنے حقوق کا مطالبہ کیا اورحقوق کے بیان میں بھی عوام کے حقوق کو اپنے حق کے مقابلہ میں زیادہ اہمیت دی۔اپناحق صری یہ ہے کہ قوم مخلص رہے اور بیعت کا حق ادا کرتی رہے اور احکام کی اطاعت کرتی رہے جب کہ یہ کسی حاکم کے امتیازی حقوق نہیں ہیں بلکہ مذہب کے بنیادی فرائض ہیں۔اخلاص و نصیحت ہرشخص کابنیادی فریضہ ہے۔بیعت کی پابندی معاہدہ کی پابندی اورتقاضائے انسانیت ہے۔احکام کی اطاعت احکام الہیہ کی اطاعت ہے اوریہی عین تقاضائے اسلام ہے۔

اس کے برخلاف اپنے اوپر جن حقوق کاذکر کیا گیا ہے وہ اسلام کے بنیادی فرائض میں شامل نہیں ہیں بلکہ ایک حاکم کی ذمہ داری کے شعبہ ہیں کہ وہ لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی جہالت کا علاج کریاور انہیں مہذب بنا کر عمل کیدعوت دے اورپھر برابرنصیحت کرتا رہے اور کسی آن بھی ان کے مصالح و منافع سے غافل نہ ہونے پائے۔

۶۸

(۳۵)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

بعد التحكيم وما بلغه من أمر الحكمين

وفيها حمد اللَّه على بلائه، ثم بيان سبب البلوى

الحمد على البلاء

الْحَمْدُ لِلَّه وإِنْ أَتَى الدَّهْرُ بِالْخَطْبِ الْفَادِحِ والْحَدَثِ الْجَلِيلِوأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللَّه لَا شَرِيكَ لَه لَيْسَ مَعَه إِلَه غَيْرُه - وأَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُه ورَسُولُهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

سبب البلوى

أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ مَعْصِيَةَ النَّاصِحِ الشَّفِيقِ الْعَالِمِ الْمُجَرِّبِ - تُورِثُ الْحَسْرَةَ وتُعْقِبُ النَّدَامَةَ - وقَدْ كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ فِي هَذِه الْحُكُومَةِ أَمْرِي،

ونَخَلْتُ لَكُمْ مَخْزُونَ رَأْيِي لَوْ كَانَ يُطَاعُ لِقَصِيرٍ أَمْرٌ - فَأَبَيْتُمْ عَلَيَّ إِبَاءَ الْمُخَالِفِينَ الْجُفَاةِ والْمُنَابِذِينَ الْعُصَاةِ - حَتَّى ارْتَابَ النَّاصِحُ بِنُصْحِه وضَنَّ الزَّنْدُ بِقَدْحِه فَكُنْتُ أَنَا وإِيَّاكُمْ كَمَا قَالَ أَخُو هَوَازِنَ

أَمَرْتُكُمْ أَمْرِي بِمُنْعَرَجِ اللِّوَى

فَلَمْ تَسْتَبِينُوا النُّصْحَ إِلَّا ضُحَى الْغَدِ

(۳۵)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جب تحکیم کے بعد اس کے نتیجہ کی اطلاع دی گئی تو آپ نے حمدو ثنائے الٰہی کے بعد اس بلا کا سبب بیان فرمایا)

ہر حال میں خدا کاشکر ہے چاہے زمانہ کوئی بڑی مصیبت کیوں نہ لے آئے اورحادثات کتنے ہی عظیم کیوں نہ ہو جائیں ۔اور میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ خدا ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور اس کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہیں ہے اور حضرت محمد(ص) اس کے بندہ اور رسول ہیں ۔ (خدا کی رحمت ان پر اور ان کی آل پر)

اما بعد(یاد رکھو) کہ ناصح شفیق اور عالم تجربہ کار کی نا فرمانی ہمیشہ باعث حسرت اور موجب ندامت ہوا کرتی ہے۔میں نے تمہیں تحکیم کے بارے میں اپنی رائے سے با خبر کردیا تھا اور اپنی قیمتی رائے کا نچوڑ بیان کردیا تھا لیکن اے کاش ''قصیر''کے حاکم کی اطاعت کی جاتی۔تم نے تو میری اس طرح مخالفت کی جس طرح بد ترین مخالف اور عہد شکن نافرمان کیا کرتے ہیں یہاں تک کہ نصیحت کرنے والا خودبھی شبہ میں پڑ جائے کہ کس کو نصیحت کردی اور چقماق نے شعلہ بھڑکا نا بند کردئیے۔اب ہمارا اورتمہارا وہی حال ہوا ہے جو بنی ہوازن

کے شاعر نے کہا تھا:-" میں نے تم کو اپنی بات مقام منعرج اللوی میں بتادی تھی لیکن تم نے اس کی حقیقت کو دوسرے دن کی صبح ہی کو پہچانا"

۶۹

(۳۶)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في تخويف أهل النهروان

فَأَنَا نَذِيرٌ لَكُمْ أَنْ تُصْبِحُوا صَرْعَى بِأَثْنَاءِ هَذَا النَّهَرِ - وبِأَهْضَامِ هَذَا الْغَائِطِ عَلَى غَيْرِ بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ - ولَا سُلْطَانٍ مُبِينٍ مَعَكُمْ - قَدْ طَوَّحَتْ بِكُمُ الدَّارُ واحْتَبَلَكُمُ الْمِقْدَارُ وقَدْ كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ هَذِه الْحُكُومَةِ - فَأَبَيْتُمْ عَلَيَّ إِبَاءَ الْمُنَابِذِينَ - حَتَّى صَرَفْتُ رَأْيِي إِلَى هَوَاكُمْ - وأَنْتُمْ مَعَاشِرُ أَخِفَّاءُ الْهَامِ سُفَهَاءُ الأَحْلَامِ ولَمْ آتِ لَا أَبَا لَكُمْ بُجْراً ولَا أَرَدْتُ لَكُمْ ضُرّاً.

(۳۶)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(اہل نہروان کو انجام کارسے ڈرانےکے سلسلہ میں)

میں تمہیں با خبر(۱) دیتا ہوںکہ اس نہر کے موڑوں پر اور اس نشیب کی ہموار زمینوں پر پڑ ے دکھائی دوگے اور تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے کوئی واضح دلیل اور روشن حجت نہ ہوگی۔تمہارے گھروں نے تمہیں نکال باہر کردیا اورقضا وقدرنے تمہیں گرفتار کرلیا ۔ میں تمہیں اس تحکیم سے منع کر رہا تھا لیکن تم نے عہد شکن دشمنوں کی طرح میری مخالفت کی یہاں تک کہ میں نے اپنی رائے کو چھوڑ کر مجبوراً تمہاری بات کو تسلیم کرلیا مگر تم دماغ کے ہلکے اور عقل کے احمق نکلے۔خدا تمہارا برا کرے۔میں نے تمہیں کسی مصیبت میں نہیں ڈالا ہے اور تمہارے لئے کوئی نقصان نہیں چاہاہے۔

(۱)صورت حال یہ ہے کہ جنگ صفین کے اختتام کے قریب جب عمرو عاص کے مشورہ سے معاویہ نے نیزوں پر قرآن بلند کردئیے اورقوم نے جنگ روکنے کا ارادہ کرلیا تو حضرت نے متنبہ کیا کہ یہ صرف مکاری ہے۔اس قوم کاقرآن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔لیکن قوم نے اس حد تک اصرار کیا کہ اگر آپ قرآن کے فیصلہ کو نہ مانیں گے تو ہم آپ کو قتل کردیں گے یا گرفتار کرکے معاویہ کے حوالے کردیں گے۔ظاہر ہے کہ اس کے نتائج انتہائی بدتر اورسنگین تھے لہٰذا آپ نے اپنی رائے سے قطع نظر کرکے اس بات کو تسلیم کرلیا مگر شرط یہی رکھی کہ فیصلہ کتاب و سنت ہی کے ذریعہ ہوگا۔

معاملہ رفع دفع ہوگیا لیکن فیصلہ کے وقت معاویہ کے نمائندہ عمروعاص نے حضرت علی کی طرف کے نمائندہ ابو موسیٰ اشعری کودھوکہ دیدیا اور اسنے حضرت علی کے معزول کرنے کا اعلان کردیا جس کے بعد عمروعاص نے معاویہ کو نا مزد کردیا اور اس کی حکومت مسلم ہوگئی۔

حضرت علی کے نام نہاد اصحاب کو اب اپنی حماقت کا اندازہ ہوا اور شرمندگی کو مٹانے کے لئے الٹا الزام لگانا شروع کردیا کہ آپ نے اس تحکیم کو کیوں منظور کیا تھا اور خدا کے علاوہ کسی کوحکم کیوں تسلیم کیاتھا۔آپ کافر ہوگئے ہیں اور آپ سے جنگ واجب ہے اور یہ کہہ کر مقام حر وراء پر لشکر جمع کرنا شروع کردیا۔ادھر حضرت شام کے مقابلہ کی تیاری کر رہے تھے لیکن جب ان ظالموں کی شرارت حد سے آگے بڑھ گئی تو آپ نے ابو ایوب انصاری کو فہمائش کے لئے بھیجا۔ان کی تقریر کا یہ اثر ہوا کہ بارہ ہزار میں سے اکثریت کوفہ چلی گئی یاغیر جانب دار ہوگئی یا حضرت کے ساتھ آگئی اور صرف دو تین ہزار خوارج رہ گئے جن سے مقابلہ ہوا تو اس قیامت کا ہوا کہ صرف نو آدمی بچے۔باقی سب فی النار ہوگئے اور حضرت کے لشکر سے صرف آٹھ افراد شہید ہوئے۔یہ واقعہ ۹ صفر ۳۸ھ کو پیش آیا۔

۷۰

(۳۷)

ومن كلام لهعليه‌السلام

يجري مجرى الخطبة وفيه يذكر فضائلهعليه‌السلام قاله بعد وقعة النهروان

فَقُمْتُ بِالأَمْرِ حِينَ فَشِلُوا وتَطَلَّعْتُ حِينَ تَقَبَّعُوا ونَطَقْتُ حِينَ تَعْتَعُوا ومَضَيْتُ بِنُورِ اللَّه حِينَ وَقَفُوا وكُنْتُ أَخْفَضَهُمْ صَوْتاً وأَعْلَاهُمْ فَوْتاً فَطِرْتُ بِعِنَانِهَا واسْتَبْدَدْتُ بِرِهَانِهَا كَالْجَبَلِ لَا تُحَرِّكُه الْقَوَاصِفُ - ولَا تُزِيلُه الْعَوَاصِفُ - لَمْ يَكُنْ لأَحَدٍ فِيَّ مَهْمَزٌ ولَا لِقَائِلٍ فِيَّ مَغْمَزٌ الذَّلِيلُ عِنْدِي عَزِيزٌ حَتَّى آخُذَ الْحَقَّ لَه - والْقَوِيُّ عِنْدِي ضَعِيفٌ حَتَّى آخُذَ الْحَقَّ مِنْه - رَضِينَا عَنِ اللَّه قَضَاءَه وسَلَّمْنَا لِلَّه أَمْرَه - أَتَرَانِي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم واللَّه لأَنَا أَوَّلُ مَنْ صَدَّقَه - فَلَا أَكُونُ أَوَّلَ مَنْ كَذَبَ عَلَيْه - فَنَظَرْتُ فِي أَمْرِي - فَإِذَا طَاعَتِي قَدْ سَبَقَتْ بَيْعَتِي - وإِذَا الْمِيثَاقُ فِي عُنُقِي لِغَيْرِي.

(۳۷)

آپ کا ارشاد گرامی(جو بمنزلہ' خطبہ ہے اور اس میں نہر وان کے واقعہ کےبعدآپ نےاپنے فضائل اورکارناموں کا تذکرہ کیا ہے)

میں نےاس وقت اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ قیام کیا جب سب ناکام ہوگئے تھےاور اس وقت سراٹھایاجب سب گوشوں میں چھپےہوئےتھے اوراس وقت بولاجب سب گونگے ہوگئے تھےاوراس وقت نورخداکےسہارےآگے بڑھاجب سب ٹھہرےہوئے تھےمیری آوازسب سے دھیمی تھی میں نے جب عنان حکومت سنبھالی تو اس میں قوت پرواز پیدا ہوگئی اور میں تنہااس میدان میں بازی لے گیامیرااثبات پہاڑوں جیسا تھا جنہیں نہ تیزہوائیں ہلا سکتی تھیں اورنہ آندھیاں ہٹا سکتی تھیں۔نہ کسی کے لئے میرےکردارمیں طعن و طنز کی گنجائش تھی اورنہ کوئی عیب لگا سکتاتھا۔یادرکھوکہ تمہارا ذلیل میری نگاہ میں عزیزہےیہاں تک کہ اس کا حق دلوادوں اور تمہارا عزیز میری نگاہ میں ذلیل ہےیہاں تک کہ اس سے حق لے لوں۔میں قضا الٰہی پر راضی ہوں اور اس کےحکم کےسامنے سراپا تسلیم ہوں۔کیا تمہارا خیال ہے کہ میں رسول اکرم (ص) کے بارے میں کوئی غلط بیانی کر سکتا ہوں جب کہ سب سےپہلے میں نےآپ کی تصدیق کی ہےتو اب سب سے پہلےجھوٹ بولنے والا نہیں ہوسکتا ہوں۔میں نے اپنےمعاملہ میں غورکیا تومیرے لئےاطاعت رسول (ص) کامرحلہ بیعت پرمقدم تھا اورمیری گردن میں حضرت کے عہد کا طوق پہلے سے پڑا ہوا تھا۔

۷۱

(۳۸)

ومن كلام لهعليه‌السلام

وفيها علة تسمية الشبهة شبهة ثم بيان حال الناس فيها

وإِنَّمَا سُمِّيَتِ الشُّبْهَةُ شُبْهَةً لأَنَّهَا تُشْبِه الْحَقَّ - فَأَمَّا أَوْلِيَاءُ اللَّه فَضِيَاؤُهُمْ فِيهَا الْيَقِينُ - ودَلِيلُهُمْ سَمْتُ الْهُدَى وأَمَّا أَعْدَاءُ اللَّه فَدُعَاؤُهُمْ فِيهَا الضَّلَالُ - ودَلِيلُهُمُ الْعَمَى - فَمَا يَنْجُو مِنَ الْمَوْتِ مَنْ خَافَه ولَا يُعْطَى الْبَقَاءَ مَنْ أَحَبَّه.

(۳۹)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

خطبها عند علمه بغزوة النعمان بن بشير صاحب معاوية لعين التمر،وفيها يبدي عذره، ويستنهض الناس لنصرته

(۳۸)

آپ کا ارشاد گرامی

(جس میں شبہ کی وجہ تسمیہ بیان کی گئی ہے اور لوگوں کے حالات کا ذکر کیا گیا ہے)

یقینا شبہ کو شبہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ حق سے مشابہ ہوتا ہے۔اس موقع پر اولیاء اللہ کے لئے یقین کی روشنی ہوتی ہے اور سمت ہدایت کی رہنمائی لیکن دشمنان خدا کی دعوت گمراہی اور رہنما بے بصیرتی ہوتی ہے۔یاد رکھو کہ موت سے ڈرنے والا موت سے بچ نہیں سکتا ہے اوربقاء کا طلب گار بقائے دوام پا نہیں سکتا ہے۔

(۳۹)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جو معاویہ کے سردار لشکر نعمان بن(۱) بشیرکے عین التمر پرحملہ کے وقت ارشاد فرمایا اور لوگوں کو اپنی نصرت پرآمادہ کیا )

(۱)معاویہ کی مفسدانہ کاروائیوں میں سے ایک عمل یہ بھی تھا کہ اس نے نعمان بن بشیر کی سر کردگی میں دو ہزار کالشکر عین التمر پرحملہ کرنے کے لئے بھیج دیا تھا جب کہ اس وقت امیر المومنین کی طرف سے مالک بن کعب ایک ہزار افراد کے ساتھ علاقہ کی نگرانی کر رہے تھے لیکن وہ سب موجود نہ تھے۔مالک نے حضرت کے پاس پیغام بھیجا۔آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا لیکن خاطر خواہ اثرنہ ہوا۔صرف عدی بن حاتم اپنے قبیلہ کے ساتھ تیار ہوئے لیکن آپ نے دوسرے قبائل کوبھی شامل کرنا چاہا اور جیسے ہی مخنف بن سلیم نے عبدالرحمن بن مخنف کے ہمراہ پچاس آدمی روانہ کردئیے لشکر معاویہ آتی ہوئی کمک کودیکھ فرار کرگیا لیکن قوم کے دامن پر نا فرمانی کادھبہ رہ گیا کہ عام افراد نے حضرت کے کلام پر کوئی توجہ نہیں دی۔

۷۲

مُنِيتُ بِمَنْ لَا يُطِيعُ إِذَا أَمَرْتُ ولَا يُجِيبُ إِذَا دَعَوْتُ لَا أَبَا لَكُمْ مَا تَنْتَظِرُونَ بِنَصْرِكُمْ رَبَّكُمْ - أَمَا دِينٌ يَجْمَعُكُمْ ولَا حَمِيَّةَ تُحْمِشُكُمْ أَقُومُ فِيكُمْ مُسْتَصْرِخاً وأُنَادِيكُمْ مُتَغَوِّثاً فَلَا تَسْمَعُونَ لِي قَوْلًا ولَا تُطِيعُونَ لِي أَمْراً - حَتَّى تَكَشَّفَ الأُمُورُ عَنْ عَوَاقِبِ الْمَسَاءَةِ - فَمَا يُدْرَكُ بِكُمْ ثَارٌ ولَا يُبْلَغُ بِكُمْ مَرَامٌ - دَعَوْتُكُمْ إِلَى نَصْرِ إِخْوَانِكُمْ - فَجَرْجَرْتُمْ جَرْجَرَةَ الْجَمَلِ الأَسَرِّ وتَثَاقَلْتُمْ تَثَاقُلَ النِّضْوِ الأَدْبَرِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيَّ مِنْكُمْ جُنَيْدٌ مُتَذَائِبٌ ضَعِيفٌ –( كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ وهُمْ يَنْظُرُونَ ) .

قال السيد الشريف - أقول قولهعليه‌السلام متذائب أي مضطرب - من قولهم تذاءبت الريح أي اضطرب هبوبها - ومنه سمي الذئب ذئبا لاضطراب مشيته.

میں ایسے افراد میں مبتلا ہوگیا ہوں جنہیں حکم دیتا ہوں تو اطاعت نہیں کرتے ہیں اور بلاتا ہوں تو لبیک نہیں کہتے ہیں۔خدا تمہارا برا کرے ' اپنے پروردگار کی مدد کرنے میں کس چیز کا انتظار کر رہے ہو۔کیا تمہیں جمع کرنے والا دین نہیں ہے اور کیا جوش دلانے والی غیرت نہیں ہے۔میں تم میں کھڑا ہو کر آواز دیتا ہوں اور تمہیں فریاد کے لئے بلاتا ہوں لیکن نہ میری بات سنتے ہو اور نہ میرے حکم کی اطاعت کرتے ہو۔یہاں تک کہ حالات کے بد ترین نتائج سامنے آجائیں ۔سچی بات یہ ہے کہ تمہارے ذریعہ نہ کسی خون نا حق کا بدلہ لیا جا سکتا ہے اور نہ کوئی مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔میں نے تم کو تمہارے ہی بھائیوں کی مدد کے لئے پکارا مگر تم اس اونٹ کی طرح بلبلا نے لگے جس کی ناف میں درد ہو اور اس کمزور شتر کی طرح سست پڑ گئے جس کی پشت زخمی ہو۔اس کے بعد تم سے ایک مختصر سی کمزور' پریشان حال سپاہ برآمد ہوئی اس طرح جیسے انہیں موت کی طرف ڈھکیلا جا رہا ہو اور یہ بے کسی سے موت دیکھ رہے ہوں۔

سیدرضی: حضرت کے کلام میں متذائب مضطرب کے معنی میں ہے کہ عرب اس لفظ کو اس ہوا کے بارے میں استعمال کرتے ہیں جس کا رخ معین نہیں ہوتا ہے اوربھیڑئیے کوبھی ذئب اسی لئے کہا جاتا ہے کہ اس کی چال بے ہنگم ہو تی ہے۔

۷۳

(۴۰)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في الخوارج لما سمع قولهم «لا حكم إلا لله»

قَالَعليه‌السلام : كَلِمَةُ حَقٍّ يُرَادُ بِهَا بَاطِلٌ - نَعَمْ إِنَّه لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّه - ولَكِنَّ هَؤُلَاءِ يَقُولُونَ لَا إِمْرَةَ إِلَّا لِلَّه وإِنَّه لَا بُدَّ لِلنَّاسِ مِنْ أَمِيرٍ بَرٍّ أَوْ فَاجِرٍ - يَعْمَلُ فِي إِمْرَتِه الْمُؤْمِنُ - ويَسْتَمْتِعُ فِيهَا الْكَافِرُ - ويُبَلِّغُ اللَّه فِيهَا الأَجَلَ ويُجْمَعُ بِه الْفَيْءُ - ويُقَاتَلُ بِه الْعَدُوُّ وتَأْمَنُ بِه السُّبُلُ - ويُؤْخَذُ بِه لِلضَّعِيفِ مِنَ الْقَوِيِّ - حَتَّى يَسْتَرِيحَ بَرٌّ ويُسْتَرَاحَ مِنْ فَاجِرٍ.

وفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى أَنَّهعليه‌السلام لَمَّا سَمِعَ تَحْكِيمَهُمْ قَالَ:

حُكْمَ اللَّه أَنْتَظِرُ فِيكُمْ.

.

(۴۰)

آپ کا ارشاد گرامی

(خوارج کے بارے میں ان کا یہ مقولہ سن کر کہ'' حکم اللہ کے علاوہ کسی کے لئے نہیں ہے)

یہ ایک کلمہ حق ہے جس سے باطل معنی مراد لئے گئے ہیں۔بیشک حکم صرف اللہ کے لئے ہے۔لیکن ان لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور امارت(۱) بھی صرف اللہ کے لئے ہے حالانکہ کھلی ہوئی بات ہے کہ نظام انسانیت کے لئے ایک حاکم کا ہونا بہر حال ضروری ہے چاہے نیک کردار ہو یا فاسق کہ حکومت کے زیرسایہ ہی مومن کو کام کرنے کا موقع مل سکتا ہے اور کافر بھی مزے اڑا سکتا ہے اور اللہ ہرچیز کو اس کی آخری حد تک پہنچا دیتا ہے اور مال غنیمت و خراج وغیرہ جمع کیا جاتا ہے اور دشمنوں سے جنگ کی جاتی ہے اور راستوں کا تحفظ کیا جاتا ہے اور طاقتور سے کمزور کا حق لیا جاتا ہے تاکہ نیک کردار انسان کو راحت ملے اوربد کردار انسان سے راحت ملے۔

(ایک روایت میں ہے کہ جب آپ کو تحکیم کی اطلاع ملی توفرمایا)'' میں تمہارے بارے میں حکم خدا کا انتظار کر رہا ہوں ''

(۱)سترہویں صدی میں ایک فلسفہ ایسا بھی پیداہوا تھا جس کا مقصد مزاج کی حمایت تھا اوراس کا دعوی یہ تھا کہ حکومت کا وجود سماج میں حاکم و محکوم کا امتیاز پیدا کرتا ہے۔حکومت سے ایک طبقہ کو اچھی اچھی تنخواہیں مل جاتی ہیں اور دوسرا محروم رہ جاتا ہے۔ایک طبقہ کو طاقت استعمال کرنے کا حق ہوتا ہے۔اوردوسرے کو یہ حق نہیں ہوتا ہے اور یہ ساری باتیں مزاج انسانیت کے خلاف ہیں لیکن حقیقت امر یہ ہے کہ یہ بیان لفظوں میں انتہائی حسین ہے اور حقیقت کے اعتبار سے انتہائی خطرناک ہے اوربیان کردہ مفاسد کا علاج یہ ہے کہ حاکم اعلیٰ کو معصوم اورعام حکام کو عدالت کا پابند تسلیم کرلیا جائے۔سارے فسادات کاخودبخود علاج ہو جائے گا۔

مذکورہ بالا فلسفہ کے خلاف فطرت کی روش بھی وہ تھی جس نے ۱۹۲۰ئ میں اس کا جنازہ نکال دیا اور پھر کوئی ایسا احمق فلسفی نہیں پیدا ہوا۔

۷۴

وقَالَ أَمَّا الإِمْرَةُ الْبَرَّةُ فَيَعْمَلُ فِيهَا التَّقِيُّ - وأَمَّا الإِمْرَةُ الْفَاجِرَةُ فَيَتَمَتَّعُ فِيهَا الشَّقِيُّ - إِلَى أَنْ تَنْقَطِعَ مُدَّتُه وتُدْرِكَه مَنِيَّتُه

(۴۱)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وفيها ينهى عن الغدر ويحذر منه

أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الْوَفَاءَ تَوْأَمُ الصِّدْقِ ولَا أَعْلَمُ جُنَّةً أَوْقَى مِنْه - ومَا يَغْدِرُ مَنْ عَلِمَ كَيْفَ الْمَرْجِعُ - ولَقَدْ أَصْبَحْنَا فِي زَمَانٍ قَدِ اتَّخَذَ أَكْثَرُ أَهْلِه الْغَدْرَ كَيْساً ونَسَبَهُمْ أَهْلُ الْجَهْلِ فِيه إِلَى حُسْنِ الْحِيلَةِ - مَا لَهُمْ قَاتَلَهُمُ اللَّه - قَدْ يَرَى الْحُوَّلُ الْقُلَّبُ وَجْه الْحِيلَةِ ودُونَهَا مَانِعٌ - مِنْ أَمْرِ اللَّه ونَهْيِه - فَيَدَعُهَا رَأْيَ عَيْنٍ بَعْدَ الْقُدْرَةِ عَلَيْهَا - ويَنْتَهِزُ فُرْصَتَهَا مَنْ لَا حَرِيجَةَ لَه فِي الدِّينِ.

پھر فرمایا:حکومت نیک ہوتی ہے تو متقی کو کام کرنے کا موقع ملتا ہے اورحاکم فاسق و فاجر ہوتا ہے تو بد بختوں کو مزہ اڑانے کا موقع ملتا ہے یہاں تک کہ اس کی مدت تمام ہو جائے اور موت اسے اپنی گرفت میں لے لے

(۴۱)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں غداری سے روکا گیا ہے اور اس کے نتائج سے ڈرایا گیا ہے)

ایہا الناس!یاد رکھو وفا ہمیشہ صداقت کے ساتھ رہتی ہے اور میں اس سے بہتر محافظ کوئی سپرنہیں جانتا ہوں اور جسے باز گشت کی کیفیت کا اندازہ ہوتا ہے وہ غداری نہیں کرتا ہے۔ہم ایک ایسے دورمیں واقع ہوئے ہیں جس کی اکثریت نے غداری اور مکاری کا نام ہوشیاری رکھ لیا ہے۔اور اہل جہالت نے اس کا نام حسن تدبیر رکھ لیا ہے۔آخر انہیں کیا ہوگیا ہے۔خدا انہیں غارت کرے۔وہ انسان جو حالات کے الٹ پھیر کو دیکھ چکا ہے وہ بھی حیلہ کے رخ کو جانتا ہے لیکن امرو نہی الٰہی اس کا راستہ روک لیتے ہیں اور وہ امکان رکھنے کے باوجود اس راستہ کو ترک کر دیتا ہے اور وہ شخص اس موقع سے فائدہ اٹھالیتا ہے جس کے لئے دین سد راہ نہیں ہوتا ہے۔

۷۵

(۴۲)

ومن كلام لهعليه‌السلام

وفيه يحذر من اتباع الهوى وطول الأمل في الدنيا

أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ - اثْنَانِ اتِّبَاعُ الْهَوَى وطُولُ الأَمَلِ فَأَمَّا اتِّبَاعُ الْهَوَى فَيَصُدُّ عَنِ الْحَقِّ - وأَمَّا طُولُ الأَمَلِ

فَيُنْسِي الآخِرَةَ - أَلَا وإِنَّ الدُّنْيَا قَدْ وَلَّتْ حَذَّاءَ فَلَمْ يَبْقَ مِنْهَا إِلَّا صُبَابَةٌ كَصُبَابَةِ الإِنَاءِ - اصْطَبَّهَا صَابُّهَا أَلَا وإِنَّ الآخِرَةَ قَدْ أَقْبَلَتْ ولِكُلٍّ مِنْهُمَا بَنُونَ - فَكُونُوا مِنْ أَبْنَاءِ الآخِرَةِ ولَا تَكُونُوا مِنْ أَبْنَاءِ الدُّنْيَا - فَإِنَّ كُلَّ وَلَدٍ سَيُلْحَقُ بِأَبِيه يَوْمَ الْقِيَامَةِ - وإِنَّ الْيَوْمَ عَمَلٌ ولَا حِسَابَ وغَداً حِسَابٌ ولَا عَمَلَ.

قال الشريف - أقول الحذاء السريعة - ومن الناس من يرويه جذاء.

(۴۲)

آپ کا ارشاد گرامی

(جس میں اتباع خواہشات اور طول امل سے ڈرایا گیا ہے)

ایہاالناس! میں تمہارے بارے میں سب سے زیادہ دو چیزوں کا خوف رکھتا ہوں۔اتباع خواہشات اور درازی امید کہ اتباع خواہشات انسان کو راہ حق سے روک دیتا ہے اور طول امل آخرت کو بھلا دیتا ہے۔یاد رکھو دنیا منہ پھیر کر جا رہی ہے اور اس میں سے کچھ باقی نہیں رہ گیا ہے مگر اتنا جتنا برتن سے چیز کوانڈیل دینے کے بعد تہ میں باقی رہ جاتا ہے اور آخرت اب سامنے آرہی ہے۔

دنیا وآخرت دونوں کی اپنی اولاد ہیں۔لہٰذا تم آخرت کے فرزندوں میں شامل ہو جائو اور خبردار فرزندان دنیا میں شمار ہونا اس لئے کہ عنقریب ہر فرزند کو اس کے ماں کے(۱) ساتھ ملادیا جائے گا۔آج عمل کی منزل ہے اور کوئی حساب نہیں ہے اور کل حساب ہی حساب ہے اور کوئی عمل کی گنجائش نہیں ہے۔

سید رضی شریف نے فرمایا " میں کہتا ہوں کہ (الحذاء) یعنی جلدی اور بعض لوگوں نے جذاء بھی روایت کی ہے

(۱)انسان کی عاقبت کا دارومدارحقائق اورواقعات پر ہے اور وہاں ہرشخص کواس کی ماں کے نام سے پکارا جائے گا کہ ماں ہی ایک ثابت حقیقت ہے باپ کی تشخیص میں تو اختلاف ہو سکتا ہے لیکن ماں کی تشخیص میں کوئی اختلاف نہیں ہو سکتا ہے۔امام علیہ السلام کا مقصد یہ ہے کہ دنیا میں آخرت کی گود میں پرورش پائو تاکہ قیامت کے دن اسی سے ملادئیے جائو ورنہ ابناء دنیا اس دن وہیتیم ہوں گے جن کا کوئی باپ نہ ہوگا اور ماں کو بھی پیچھے چھوڑ کرآئے ہوں گے۔ایسا بے سہارا بننے سے بہتر یہ ہے کہ یہیں سے سہارے کا انتظام کرلو اور پورے انتظام کے ساتھ آخرت کا سفراختیار کرو۔

۷۶

(۴۳)

ومن كلام لهعليه‌السلام

وقد أشار عليه أصحابه بالاستعداد لحرب أهل الشام بعد إرساله جرير بن عبد الله

البجلي إلى معاوية ولم ينزل معاوية على بيعته

إِنَّ اسْتِعْدَادِي لِحَرْبِ أَهْلِ الشَّامِ وجَرِيرٌ عِنْدَهُمْ - إِغْلَاقٌ لِلشَّامِ وصَرْفٌ لأَهْلِه عَنْ خَيْرٍ إِنْ أَرَادُوه - ولَكِنْ قَدْ وَقَّتُّ لِجَرِيرٍ وَقْتاً لَا يُقِيمُ بَعْدَه - إِلَّا مَخْدُوعاً أَوْ عَاصِياً - والرَّأْيُ عِنْدِي مَعَ الأَنَاةِ فَأَرْوِدُوا ولَا أَكْرَه لَكُمُ الإِعْدَادَ

ولَقَدْ ضَرَبْتُ أَنْفَ هَذَا الأَمْرِ وعَيْنَه وقَلَّبْتُ ظَهْرَه وبَطْنَه - فَلَمْ أَرَ لِي فِيه إِلَّا الْقِتَالَ أَوِ الْكُفْرَ - بِمَا جَاءَ مُحَمَّدٌصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - إِنَّه قَدْ كَانَ عَلَى الأُمَّةِ وَالٍ أَحْدَثَ أَحْدَاثاً - وأَوْجَدَ النَّاسَ مَقَالًا فَقَالُوا ثُمَّ نَقَمُوا فَغَيَّرُوا.

(۴۳)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جب جریربن عبداللہ البجلی کو معاویہ کے پاس بھیجنے اور معاویہ کے انکار بیعت کے بعد اصحاب کو اہل شام سے جنگ پرآمادہ کرنا چاہا )

اس وقت میری اہل شام سے جنگ کی تیاری جب کہ جریر وہاں موجود ہیں شام پر تمام دروازے بند کردینا ہے اور انہیں خیرکے راستہ سے روک دینا ہے اگروہ خیر کا ارادہ بھی کرنا چاہیں۔میں نے جریر کے لئے ایک وقت مقرر کردیا ہے۔اس کے بعدوہ وہاں یا کسی دھوکہ کی بنا پر رک سکتے ہیں یا نا فرمانی کی بنا پر۔اور دونوں صورتوں میں میری رائے یہی ہے کہ انتظار کیا جائے لہٰذا ابھی پیشقدمی نہ کرو اور میں منع بھی نہیں کرتا ہوں اگر اندراندر تیاری(۱) کرتے رہو۔

میں نے اس مسئلہ پر مکمل غور و فکرکرلیا ہے اوراس کے ظاہر و باطن کو الٹ پلٹ کر دیکھ لیا ہے۔اب میر ے سامنے دو ہی راستے ہیں یا جنگ کروں یا بیانات پیغمبر السلام (ص) کا انکار کردوں۔مجھ سے پہلے اس قوم کا ایک حکمران تھا۔اس نے اسلام میں بدعتیں ایجاد کیں اور لوگوں کوبولنے کا موقع دیا تو لوگوں نے زبان کھولی۔پھراپنی ناراضگی کااظہار کیا اورآخر میں سماج کا ڈھانچہ بدل دیا۔

(۱) یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ عملی احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ دشمن کو کوئی بہانہ فراہم نہ کرو اور واقعی احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے مکرو فریب سے ہوشیار رہو اورہر وقت مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہو۔

۷۷

(۴۴)

ومن كلام لهعليه‌السلام

لما هرب مصقلة بن هبيرة الشيباني إلى معاوية، وكان قد ابتاع سبي بني ناجية من عامل أمير المؤمنينعليه‌السلام وأعتقهم، فلما طالبه بالمال خاس به وهرب إلى الشام

قَبَّحَ اللَّه مَصْقَلَةَ - فَعَلَ فِعْلَ السَّادَةِ وفَرَّ فِرَارَ الْعَبِيدِ - فَمَا أَنْطَقَ مَادِحَه حَتَّى أَسْكَتَه - ولَا صَدَّقَ وَاصِفَه حَتَّى بَكَّتَه ولَوْ أَقَامَ لأَخَذْنَا مَيْسُورَه وانْتَظَرْنَا بِمَالِه وُفُورَه

(۴۴)

حضرت کا ارشاد گرامی

(اس موقع پر جب مصقلہ(۱) بن ہیرہ شیبانی نے آپ کے عامل سبے بنی ناجیہ کے اسیرکو خرید کر آزاد کردیا اور جب حضرت نے اس سے قیمت کامطالبہ کیا تو بد دیانتی کرتے ہوئے شام کی طرف فرار کر گیا)

خدا برے کرے مصقلہ کاکہ اس نے کام شریفوں جیسا کیا لیکن فرار غلاموں کی طرح کیا۔ابھی اس کے مداح نے زبان کھولی بھی نہیں تھی کہ اسنے خود ہی خاموش کردیا اور اس کی تعریف میں کچھ کہنے والا کچھ کہنے بھی نہ پایا تھا کہ اس نے منہ بند کردیا۔اگر وہیں ٹھہرا رہتا تو میں جس قدر ممکن ہوتا اس سے لے لیتا اورباقی کے لئے اس کے مال کی زیادتی کا انتظار کرتا۔

(۱) اس واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ تحکیم کے بعد خوارج نے جن شورشوں کاآغاز کیا تھا ان میں ایک بنی ناجیہ کے ایک شخص خریت بن راشد کا اقدام تھا جس کودبانے کے لئے حضرت نے زیادہ بن حفصہ کو روانہ کیا تھا اور انہوں نے اس شورش کودبا دیا تھا لیکن خریت دوسرے علاقوں میں فتنے برپا کرنے لگا تو حضرت معقل بن قیس ریاحی کو دو ہزار کا لشکردے کر روانہ کردیا اور ادھر ابن عباس نے بصرہ کے لئے کمک بھیج دی اوربالآخر حضرت کے لشکر نے فتنہ کو دبا دیا اور بہت سے افراد کو قیدی بنالیا۔قیدیوں کو لے کر جا رہے تھے کہ راستہ میں مصقلہ کے شہر سے گزر ہوا۔اس نے قیدیوں کی فریاد پر انہیں خرید کرآزاد کردیا اور قیمت کی صرف ایک قسط ادا کردی۔اس کے بعد خاموش بیٹھ گیا۔حضرت نے بار ارمطالبہ کیا۔آخر میں کوفہ آکردو لاکھ درہم دےدئیے اور جان بچانے کے لئے شام بھاگ گیا۔حضرت نے فرمایا کہ کام شریفوں کا کیاتھا لیکن واقعاً ذلیل ہی ثابت ہوا۔

کاش اسے اسلام کے اس قانون کی اطلاع ہوتی کہ قرض کی ادائیگی میں جبر نہیں کیا جاتا ہے بلکہ حالات کا انتظار کیا جاتا ہے اورجب مقروض کے پاس امکانات فراہم ہو جاتے ہیں تب قرض کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔!

۷۸

(۴۵)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وهو بعض خطبة طويلة خطبها يوم الفطر وفيها يحمد الله ويذم الدنيا

حمد الله

الْحَمْدُ لِلَّه غَيْرَ مَقْنُوطٍ مِنْ رَحْمَتِه - ولَا مَخْلُوٍّ مِنْ نِعْمَتِه - ولَا مَأْيُوسٍ مِنْ مَغْفِرَتِه - ولَا مُسْتَنْكَفٍ عَنْ عِبَادَتِه - الَّذِي لَا تَبْرَحُ مِنْه رَحْمَةٌ - ولَا تُفْقَدُ لَه نِعْمَةٌ.

ذم الدنيا

والدُّنْيَا دَارٌ مُنِيَ لَهَا الْفَنَاءُ - ولأَهْلِهَا مِنْهَا الْجَلَاءُ وهِيَ حُلْوَةٌ خَضْرَاءُ - وقَدْ عَجِلَتْ لِلطَّالِبِ - والْتَبَسَتْ بِقَلْبِ النَّاظِرِ - فَارْتَحِلُوا مِنْهَا بِأَحْسَنِ مَا بِحَضْرَتِكُمْ مِنَ الزَّادِ - ولَا تَسْأَلُوا فِيهَا فَوْقَ الْكَفَافِ ولَا تَطْلُبُوا مِنْهَا أَكْثَرَ مِنَ الْبَلَاغِ

(۴۶)

ومن كلام لهعليه‌السلام

عند عزمه على المسير إلى الشام

وهو دعاء دعا به ربه عند وضع رجله في الركاب

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ

(۴۵)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(یہ عید الفطر کے موقع پرآپ کے طویل خطبہ کا ایک جز ہے جس میں حمد خدا اور مذمت دنیا کا ذکر کیا گیا ہے)

تمام تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس کی رحمت سے مایوس نہیں ہوا جاتا اور جس کی نعمت سے کسی کا دامن خالی نہیں ہے۔نہ کوئی شخص اس کی مغرفت سے مایوس ہو سکتا ہے اور نہ کسی میں اس کی عبادت سے اکڑنے کا امکان ہے۔نہ اس کی رحمت تمام ہوتی ہے اور نہ اس کی نعمت کا سلسلہ رکتا ہے۔

یہ دنیا ایک ایسا گھر ہے جس کے لئے فنا اور اس کے باشندوں کے لئے جلا وطنی مقدر ہے۔یہ دیکھنے میں شیریں اور سر سبز ہے جو اپنے طلب گار کی طرف تیزی سے بڑھتی ہے اور اس کے دل میں سما جاتی ہے۔لہٰذا خبردار اس سے کوچ کی تیاری کرو اور بہترین زاد راہ لے کر چلو۔اس دنیا میں ضرورت سے زیادہ کا سوال نہ کرنا اور جتنے سے کام چل جائے اس سے زیادہ کا مطالبہ نہ کرنا۔

(۴۶)

آپ کا ارشاد گرامی

(جب شام کی طرف جانے کا ارادہ فرمایا اور اس دعا کو رکاب میں پائوں رکھتے ہوئے درد زبان فرمایا)

خدایا:میں سفر کی مشقت اور واپسی کے اندوہ و غم

۷۹

وكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ وسُوءِ الْمَنْظَرِ - فِي الأَهْلِ والْمَالِ والْوَلَدِ - اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ - وأَنْتَ الْخَلِيفَةُ فِي الأَهْلِ - ولَا يَجْمَعُهُمَا غَيْرُكَ - لأَنَّ الْمُسْتَخْلَفَ لَا يَكُونُ مُسْتَصْحَباً - والْمُسْتَصْحَبُ لَا يَكُونُ مُسْتَخْلَفاً.

قال السيد الشريفرضي‌الله‌عنه - وابتداء هذا الكلام مروي عن رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - وقد قفاه أمير المؤمنينعليه‌السلام بأبلغ كلام وتممه بأحسن تمام - من قوله ولا يجمعهما غيرك - إلى آخر الفصل.

(۴۷)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في ذكر الكوفة

كَأَنِّي بِكِ يَا كُوفَةُ تُمَدِّينَ مَدَّ الأَدِيمِ الْعُكَاظِيِّ تُعْرَكِينَ بِالنَّوَازِلِ وتُرْكَبِينَ بِالزَّلَازِلِ - وإِنِّي لأَعْلَمُ أَنَّه مَا أَرَادَ بِكِ جَبَّارٌ سُوءاً - إِلَّا ابْتَلَاه اللَّه بِشَاغِلٍ ورَمَاه بِقَاتِلٍ!

اور اہل و مال و اولاد کی بد حالی سے تیرے پناہ چاہتا ہوں۔تو ہی سفرکا ساتھی ہے اور گھر کا نگراں ہے کہ یہ دونوں کام تیرے علاوہ کوئی دوسرا نہیں کر سکتا کہ جسے گھر میں چھوڑ دیا جائے وہ سفرمیں کام نہیں آتا ہے اور جسے سفرمیں ساتھ لے لیاجائے گا وہ گھر کی نگرانی نہیں کر سکتا ہے۔

سید رضی : اس دعا کا ابتدائی حصہ سرکار دوعالم (ص) سے نقل کیا گیا ہے اور آخری حصہ مولائے کائنات کی تضمین کا ہے جو سرکار (ص) کے کلمات کی بہترین توضیح اور تکمیل ہے ۔'' لا یجمعهما غیرک ''

(۴۷)

آپ کا ارشاد گرامی

(کوفہ کے بارے میں )

اے کوفہ! جیسے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ تجھے بازار عکاظ کے چمڑے کی طرح کھینچا جا رہا ہے۔تجھ پرحوادث کے حملے ہو رہے ہیں اور تجھے زلزلوں کا مرکب بنادیا گیا ہے اور مجھے یہ معلوم ہے کہ جو ظالم و جابر بھی تیرے ساتھ کوئی برائی کرنا چاہے گا پروردگار اسے کسی نہ کسی مصیبت میں مبتلا کردے گا اور اسے کسی قاتل کی زد پر لے آئے گا۔

۸۰

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

عَلَى مَدَاحِرِ الشَّيْطَانِ ومَزَاجِرِه - والِاعْتِصَامِ مِنْ حَبَائِلِه ومَخَاتِلِه وأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداًعَبْدُه ورَسُولُه ونَجِيبُه وصَفْوَتُه - لَا يُؤَازَى فَضْلُه ولَا يُجْبَرُ فَقْدُه - أَضَاءَتْ بِه الْبِلَادُ بَعْدَ الضَّلَالَةِ الْمُظْلِمَةِ - والْجَهَالَةِ الْغَالِبَةِ والْجَفْوَةِ الْجَافِيَةِ - والنَّاسُ يَسْتَحِلُّونَ الْحَرِيمَ - ويَسْتَذِلُّونَ الْحَكِيمَ - يَحْيَوْنَ عَلَى فَتْرَةٍ ويَمُوتُونَ عَلَى كَفْرَةٍ.!

التحذير من الفتن

ثُمَّ إِنَّكُمْ مَعْشَرَ الْعَرَبِ أَغْرَاضُ بَلَايَا قَدِ اقْتَرَبَتْ - فَاتَّقُوا سَكَرَاتِ النِّعْمَةِ واحْذَرُوا بَوَائِقَ النِّقْمَةِ - وتَثَبَّتُوا فِي قَتَامِ الْعِشْوَةِ واعْوِجَاجِ الْفِتْنَةِ - عِنْدَ طُلُوعِ جَنِينِهَا وظُهُورِ كَمِينِهَا - وانْتِصَابِ قُطْبِهَا ومَدَارِ رَحَاهَا - تَبْدَأُ فِي مَدَارِجَ خَفِيَّةٍ

ان چیزوں کے لئے جو شیاطین کو ہنکا سکیں۔بھگا سکیں اوراس کے پھندوں اور ہتھکنڈوں سے محفوظ رکھ سکیں اور میں اس امرک ی گواہی د یتا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔اور حضرت محمد (ص) اس کے بندہ اور رسول اس کے منتخب اور مصطفی ہیں ان کے فضل کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا ہے اور ان کے فقدان کی کوئی تلافی نہیں ہے۔ان کی وجہ سے تمام شہر ضلالت کی تاریکی ۔جہالت کے غلبہ اورب د سرشتی اوربداخلاقی کی شدت کے بعد جب لوگ حرام کو حلال بنائے ہوئے تھے اورصاحبان حکمت کو ذلیل سمجھ رہے تھے۔رسولوں سے خالی دورمیں زندگی گزار رہے تھے اور کفر کی حالت میں مر رہے تھے۔منور اور روشن ہوگئے۔

(فتنوں سے آگاہی)

اس کے بعدتم اے گروہ عرب ان بلائوں کا نشانہ پر ہو جو قریب آچکی ہیں لہٰذا نعمتوں کی مدہوشیوں سیب چو اور ہلاک کرنے والے عذاب سے ہوشیار رہو۔ اندھیروں کے دھندلکوں میں قدم جمائے رہواور(۱) فتنوں کی کجروی سے ہوشیار رہو جس وقت ان کا پوشیدہ خدشہ سامنے آرہا ہو اور مخفی اندیشہ ظاہر ہو رہا ہواور کھونٹا مضبوط ہو رہا ہو۔یہ فتنے ابتدا میں مخفی راستوں سے شروع ہوتے ہیں

(۱)انسانی بصیرت کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انسان فتنہ کو پہلے مرحلہ پر پہچان لے اور وہیں اس کا سدباب کردے ورنہجب اس کا رواج ہو جاتا ہے تو اس کا روکنا نا ممکن ہو جاتا ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ اس کا آغاز اتنے مخفی اور حسین انداز سے ہوتا ہے کہ اس کا پہچاننا ہر ایک کے بس کا کام نہیں ہے اور اس طرح عوام الناس اپنے مخصوص عقائد و نظریات یا عواطف و جذبات کی بنا پران فتنوں کاشکار ہوجاتے ہیں اورآخر میں ان کی مصیبت کا علاج نا ممکن ہو جاتا ہے ۔علماء اعلام اور مفکرین اسلام کی ضرورت اسی لئے ہوتی ہے کہ وہ فتنوں کو آغاز کار ہی سے پہچان سکتے ہیں اور ان کا سدباب کر سکتے ہیں بشرطیکہ عوام الناس ان کے اوپر اعتماد کریں اور ان کی بصیرت سے فائدہ اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔

۲۶۱

وتَئُولُ إِلَى فَظَاعَةٍ جَلِيَّةٍ - شِبَابُهَا كَشِبَابِ الْغُلَامِ وآثَارُهَا كَآثَارِ السِّلَامِ - يَتَوَارَثُهَا الظَّلَمَةُ بِالْعُهُودِ أَوَّلُهُمْ قَائِدٌ لِآخِرِهِمْ - وآخِرُهُمْ مُقْتَدٍ بِأَوَّلِهِمْ يَتَنَافَسُونَ فِي دُنْيَا دَنِيَّةٍ ويَتَكَالَبُونَ عَلَى جِيفَةٍ مُرِيحَةٍ - وعَنْ قَلِيلٍ يَتَبَرَّأُ التَّابِعُ مِنَ الْمَتْبُوعِ - والْقَائِدُ مِنَ الْمَقُودِ فَيَتَزَايَلُونَ بِالْبَغْضَاءِ - ويَتَلَاعَنُونَ عِنْدَ اللِّقَاءِ - ثُمَّ يَأْتِي بَعْدَ ذَلِكَ طَالِعُ الْفِتْنَةِ الرَّجُوفِ - والْقَاصِمَةِ الزَّحُوفِ فَتَزِيغُ قُلُوبٌ بَعْدَ اسْتِقَامَةٍ - وتَضِلُّ رِجَالٌ بَعْدَ سَلَامَةٍ - وتَخْتَلِفُ الأَهْوَاءُ عِنْدَ هُجُومِهَا - وتَلْتَبِسُ الآرَاءُ عِنْدَ نُجُومِهَا - مَنْ أَشْرَفَ لَهَا قَصَمَتْه ومَنْ سَعَى فِيهَا حَطَمَتْه - يَتَكَادَمُونَ فِيهَا تَكَادُمَ الْحُمُرِ فِي الْعَانَةِ - قَدِ اضْطَرَبَ مَعْقُودُ الْحَبْلِ وعَمِيَ وَجْه الأَمْرِ - تَغِيضُ فِيهَا الْحِكْمَةُ وتَنْطِقُ فِيهَا الظَّلَمَةُ - وتَدُقُّ أَهْلَ الْبَدْوِ بِمِسْحَلِهَا - وتَرُضُّهُمْ بِكَلْكَلِهَا يَضِيعُ فِي غُبَارِهَا الْوُحْدَانُ

اور ظالم باہمی عہدو پیمان کے ذریعہ ان کے وارث بنتے ہیں۔اول آخرکا قائد ہوتا ہے اورآخر اول کامقتدی ۔حقیر دنیا کے لئے ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں اور بدبو دار مردہ پر آپس میں جنگ کرتے ہیں۔جب کہ عنقریب مرید اپنے پیر اور پیراپنے مرید سے برائت کرے گا اور بغض و عداوت کےساتھ ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں گے اور وقت ملاقات ایک دوسرے پر لعنت کریں گے۔اس کے بعد وہ وقت آئے گا جب زلزلہ افگن فتنہ(۱) سر اٹھائے گا جو کمر توڑ ہوگا اور شدید طور پر حملہ آور ہوگا جس کے نتیجہ میں بہت سے دل استقامت کے بعد کجی کا شکار ہو جائیں گے اور بہت سے لوگ سلامتی کے بعد بہک جائیںگے۔اس کے ہجوم کے وقت خواہشات میں ٹکرائو ہوگا اوراس کے ظہورکے ہنگام اور افکار مشتبہ ہو جائیں گے۔جوادھر سر اٹھا کردیکھے گا اسکی کمر توڑدیں گے اورجواس میں دوڑ دھوپ کرے گا اسے تباہ کردیں گے۔لوگ یوں ایک دوسرے کو کاٹنے دوڑیں گے جس طرح بھیڑکے اندر گدھے ۔خدائی رسی کے بل کھل جائیں گے اور حقائق کے راستے مشتبہ ہوجائیں گے۔حکمت کا چشمہ خشک ہو جائے گا اور ظالم بولنے لگیں گے۔دیہاتوں کو ہتھوڑوں سے کوٹ دیاجائے گا اور اپنے سینہ سے دبا کر کچل دیا جائے گا۔اکیلے اکیلے افراد اس کے غبارمیں گم ہو جائیں گے

(۱)امیر المومنین جس قسم کے فتنوں کی طرف اشارہ کیا ہے ان کا سلسلہ اگرچہ آپ کے بعد ہی سے شروع ہوگیا تھا لیکن ابھی تک موقوف نہیں ہو ا اورنہ فی الحال موقوف ہونے کے امکانات ہیں۔جس طرف دیکھو وہی صورت حال نظرآرہی ہے جس کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے اور انہیں مظالم کی گرم بازاری ہے جن سے آپ نے ہوشیار کیاہے۔

ضرورت ہے کہ صاحبان ایمان ان ہدایات سے فائدہ اٹھائیں فتنوں سے محفوظ رہیں۔صاحبان بصیرت سے وابستہ رہیں اور کم سے کم اتنا خیال رکھیں کہ خدا کی بارگاہ میں مظلوم بن کرحاضرہونے میں کوئی ذلت نہیں ہے بلکہ اسی میں دائمی عزت اور ابدی شرافت ہے۔ذلت ظلم میں ہوتی ہے مظلومیت میں نہیں۔

۲۶۲

ويَهْلِكُ فِي طَرِيقِهَا الرُّكْبَانُ تَرِدُ بِمُرِّ الْقَضَاءِ - وتَحْلُبُ عَبِيطَ الدِّمَاءِ وتَثْلِمُ مَنَارَ الدِّينِ - وتَنْقُضُ عَقْدَ الْيَقِينِ - يَهْرُبُ مِنْهَا الأَكْيَاسُ ويُدَبِّرُهَا الأَرْجَاسُ - مِرْعَادٌ مِبْرَاقٌ كَاشِفَةٌ عَنْ سَاقٍ تُقْطَعُ فِيهَا الأَرْحَامُ - ويُفَارَقُ عَلَيْهَا الإِسْلَامُ بَرِيئُهَا سَقِيمٌ وظَاعِنُهَا مُقِيمٌ!

منها - بَيْنَ قَتِيلٍ مَطْلُولٍ وخَائِفٍ مُسْتَجِيرٍ - يَخْتِلُونَ بِعَقْدِ الأَيْمَانِ وبِغُرُورِ الإِيمَانِ - فَلَا تَكُونُوا أَنْصَابَ الْفِتَنِ وأَعْلَامَ الْبِدَعِ - والْزَمُوا مَا عُقِدَ عَلَيْه حَبْلُ الْجَمَاعَةِ - وبُنِيَتْ عَلَيْه أَرْكَانُ الطَّاعَةِ - واقْدَمُوا عَلَى اللَّه مَظْلُومِينَ ولَا تَقْدَمُوا عَلَيْه ظَالِمِينَ - واتَّقُوا مَدَارِجَ الشَّيْطَانِ ومَهَابِطَ الْعُدْوَانِ - ولَا تُدْخِلُوا بُطُونَكُمْ لُعَقَ الْحَرَامِ - فَإِنَّكُمْ بِعَيْنِ مَنْ حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَعْصِيَةَ - وسَهَّلَ لَكُمْ سُبُلَ الطَّاعَةِ.

اور اس کے راستہ میں سوار ہلاک ہو جائیں گے۔یہ فتنے قضاء الٰہی کی تلخی کے ساتھ وارد ہوںگے اور دودھ کے بدلے تازہ خون نکالیں گے۔دین کے منارے (علمائ) ہلاک ہو جائیں گے اور یقین کی گرہیں ٹوٹ جائیں گی۔صاحبان ہوش ان سے بھاگنے لگیں گے اور خبیث النفس افراد اس کے مدار الہام ہو جائیں گے۔یہ فتنے گرجنے والے ' چمکنے والے اور سراپا تیار ہوں گے۔ان میں رشتہ داروں سے تعلقات توڑ لئے جائیں گے اور اسلام سے جدائی اختیار کرلی جائے گی۔اس سے الگ رہنے والے بھی مریض ہوں گے ۔ان میں رشتہ داروں سے تعلقات توڑ لئے جائیں گے اور اسلام سے جدائی اختیار کرلی جائے گی۔اس سے الگ رہنے والے بھی مریض ہوں گے اور کوچ کر جانے والے بھی گویا مقیم ہی ہوں گے۔ اہل ایمان میں بغض ایسے مقتول ہوں گے جن کا خون بہا تک نہ لیا جا سکے گا اور بعض ایسے خوفزدہ ہوں گے کہ پناہ کی تلاش میںہوں گے۔انہیں پختہ قسموں اور ایمان کی فریب کاریوں میں مبتلا کیا جائے گا لہٰذا خبردار تم فتنوں کا نشانہ اوربدعتوں کا نشان مت بننا اور اسی راستہ کو پکڑے رہنا جس پر ایمانی جماعت قائم ہے اور جس پر اطاعت کے ارکان قائم کئے گئے ہیں۔خدا کی بارگاہ میں مظلوم بن کرجائو خبردار ظالم بن کر مت جانا۔شیطان کے راستوں پر ظلم کے مرکز سے محفوظ رہو اور اپنے شکم میں لقمہ حرام کو داخل مت کرو کہ تم اس کی نگاہ کے سامنے ہو جس نے تم پر معصیت کو حرام کیا ہے اور تمہارے لئے اطاعت کے راستوں کو آسان کردیا ہے۔

۲۶۳

(۱۵۲)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في صفات اللَّه جل جلاله، وصفات أئمة الدين

الْحَمْدُ لِلَّه الدَّالِّ عَلَى وُجُودِه بِخَلْقِه - وبِمُحْدَثِ خَلْقِه عَلَى أَزَلِيَّتِه؛وبِاشْتِبَاهِهِمْ عَلَى أَنْ لَا شَبَه لَه - لَا تَسْتَلِمُه الْمَشَاعِرُ ولَا تَحْجُبُه السَّوَاتِرُ - لِافْتِرَاقِ الصَّانِعِ والْمَصْنُوعِ والْحَادِّ والْمَحْدُودِ والرَّبِّ والْمَرْبُوبِ - الأَحَدِ بِلَا تَأْوِيلِ عَدَدٍ - والْخَالِقِ لَا بِمَعْنَى حَرَكَةٍ ونَصَبٍ - والسَّمِيعِ لَا بِأَدَاةٍ والْبَصِيرِ لَا بِتَفْرِيقِ آلَةٍ - والشَّاهِدِ لَا بِمُمَاسَّةٍ والْبَائِنِ لَا بِتَرَاخِي مَسَافَةٍ –

والظَّاهِرِ لَا بِرُؤْيَةٍ والْبَاطِنِ لَا بِلَطَافَةٍ - بَانَ مِنَ الأَشْيَاءِ بِالْقَهْرِ لَهَا والْقُدْرَةِ عَلَيْهَا - وبَانَتِ الأَشْيَاءُ مِنْه بِالْخُضُوعِ لَه والرُّجُوعِ إِلَيْه - مَنْ وَصَفَه فَقَدْ حَدَّه ومَنْ حَدَّه فَقَدْ عَدَّه - ومَنْ عَدَّه فَقَدْ أَبْطَلَ أَزَلَه

(۱۵۲)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں پروردگار کے صفات اور ائمہ طاہرین کے اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے )

ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے اپنی تخلیق سے اپنے وجود کا ' اپنی مخلوقات کے جادث ہونے سے اپنی ازلیت کا اور ان کی باہمی مشاہبت سے اپنے بے نظیر ہونے کا پتہ دیا ہے۔اس کی ذات تک حواس کی رسائی تک نہیں ہے اور پھر بھی پردے اسے پوشیدہ نہیں کر سکتے ہیں۔اس لئے کہ مصنوع صانع سے اور حد بندی کرنے والا محدود سے اور پرورش کرنے والا پرورش پانے والے سے بہر حال الگ ہوتا ہے۔وہ ایک ہے مگر عدد کے اعتبارسے نہیں۔وہ خالق ہے مگرحرکت و تعب کے ذریعہ نہیں۔وہ سمیع ہے لیکن کانوں کے ذریعہ نہیں اوروہ بصیر ہے لیکن آنکھیں کھولنے کاذریعہ نہیں۔

وہ حاضر ہے مگر چھوا نہیں جا سکتا اور وہ دور ہے لیکن مسافتوں کے اعتبار سے نہیں۔وہ ظاہر ہے لیکن دیکھا نہیں جا سکتا اور وہ باطن ہے لیکن جسم کی لطافت کی بناپ ر نہیں۔وہ اشیاء سے الگ ہے اپنے قہر غلبہ اور قدرت و اختیار کی بنا پر اور مخلوقات اس سے جدا گانہ ہے اپنے خضوع و خشوع اوراس کی بارگاہ میں باز گشت کی بنا پر۔جس نے اس کے لئے الگ سے اوصاف کا تصور کیا اس نے اسے اعداد کی صف میں لا کھڑا کردیا اور جس نے ایسا کیا اس نے اسے حادثات بنا کر اس کی ازلیت کاخاتمہ کردیا

۲۶۴

ومَنْ قَالَ كَيْفَ فَقَدِ اسْتَوْصَفَه - ومَنْ قَالَ أَيْنَ فَقَدْ حَيَّزَه - عَالِمٌ إِذْ لَا مَعْلُومٌ ورَبٌّ إِذْ لَا مَرْبُوبٌ - وقَادِرٌ إِذْ لَا مَقْدُورٌ.

أئمة الدين

منها: - قَدْ طَلَعَ طَالِعٌ ولَمَعَ لَامِعٌ ولَاحَ لَائِحٌ - واعْتَدَلَ مَائِلٌ واسْتَبْدَلَ اللَّه بِقَوْمٍ قَوْماً وبِيَوْمٍ يَوْماً - وانْتَظَرْنَا الْغِيَرَ انْتِظَارَ الْمُجْدِبِ الْمَطَرَ - وإِنَّمَا الأَئِمَّةُ قُوَّامُ اللَّه عَلَى خَلْقِه - وعُرَفَاؤُه عَلَى عِبَادِه - ولَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ عَرَفَهُمْ وعَرَفُوه - ولَا يَدْخُلُ النَّارَ إِلَّا مَنْ أَنْكَرَهُمْ وأَنْكَرُوه - إِنَّ اللَّه تَعَالَى خَصَّكُمْ بِالإِسْلَامِ واسْتَخْلَصَكُمْ لَه - وذَلِكَ لأَنَّه اسْمُ سَلَامَةٍ وجِمَاعُ كَرَامَةٍ - اصْطَفَى اللَّه تَعَالَى مَنْهَجَه وبَيَّنَ حُجَجَه

اور جس نے یہ سوال کیا کہ وہ کیسا ہے؟ اس نے الگ سے اوصاف کی جستجو کی اورجس نے یہ درایفت کیا کہ وہ کہاں ہے؟ اس نے اسے مکان میں محدود کردیا۔وہ اس وقت سے عالم ہے جب معلومات کا پتہ بھی نہیں تھا اور اس وقت سے مالک ہے جب مملوکات کا نشان بھی نہیں تھا اور اس وقت سے قادر ہے جب مقدورات پردہ ٔ عدم میں پڑے تھے۔

(ائمہ دین)

دیکھو طلوع کرنے والا طالع ہو چکا ہے اورچمکنے والا روشن ہو چکا ہے۔ظاہر ہونے والے کا ظہور سامنے آچکاہے ۔کجی سیدھی ہو چکی ہے۔اور اللہ ایک قوم کے بدلے دوسری قوم اور ایک دورکے بدلے دوسرا دور لے آیا ہے۔ہم نے حالات کی تبدیلی کا اسی طرح انتظار کیا ہے جس طرح قحط زدہ بارش کا انتظار کرتا ہے۔ائمہ درحقیقت اللہ کی طرف سے مخلوقات کے نگراں اور اس کے بندوں کو اس کی معرفت کا سبق دینے والے ہیں۔کوئی شخص جنت میںقدم نہیں رکھ سکتا ہے جب تک وہ انہیں نہ پہچان لے اور وہ حضرات اسے اپنا نہ کہہ دیں اورکوئی شخص جہنم میں جا نہیں سکتا ہے مگر یہ کہ وہ انحضرات کا انکار کردے اوروہ بھی اس نے پہچاننے سے انکار کردیں۔پروردگار نے تم لوگوں کو اسلام سے نوازا ہے اور تمہیں اس کے لئے منتخب کیا ہے۔اس لئے کہ اسلام سلامتی کا نشان اور کرامت کا سرمایہ ہے۔اللہ نے اس کے راستہ کا انتخاب کیا ہے۔اس کے دلائل کو واضح کیاہے۔

۲۶۵

مِنْ ظَاهِرِ عِلْمٍ وبَاطِنِ حُكْمٍ - لَا تَفْنَى غَرَائِبُه،ولَا تَنْقَضِي عَجَائِبُه - فِيه مَرَابِيعُ النِّعَمِ ومَصَابِيحُ الظُّلَمِ - لَا تُفْتَحُ الْخَيْرَاتُ إِلَّا بِمَفَاتِيحِه - ولَا تُكْشَفُ الظُّلُمَاتُ إِلَّا بِمَصَابِيحِه - قَدْ أَحْمَى حِمَاه وأَرْعَى مَرْعَاه - فِيه شِفَاءُ الْمُسْتَشْفِي وكِفَايَةُ الْمُكْتَفِي.

(۱۵۳)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

صفة الضال

وهُوَ فِي مُهْلَةٍ مِنَ اللَّه يَهْوِي مَعَ الْغَافِلِينَ - ويَغْدُو مَعَ الْمُذْنِبِينَ بِلَا سَبِيلٍ قَاصِدٍ ولَا إِمَامٍ قَائِدٍ.

صفات الغافلين

منها - حَتَّى إِذَا كَشَفَ لَهُمْ عَنْ جَزَاءِ مَعْصِيَتِهِمْ - واسْتَخْرَجَهُمْ مِنْ جَلَابِيبِ غَفْلَتِهِمُ - اسْتَقْبَلُوا مُدْبِراً واسْتَدْبَرُوا مُقْبِلًا - فَلَمْ يَنْتَفِعُوا بِمَا أَدْرَكُوا مِنْ طَلِبَتِهِمْ -

ظاہری علم اور باطنی حکمتوں کے ذریعہ اس کے غرائب فنا ہونے والے اور اس کے عجائب ختم ہونے والے نہیں ہے۔اس میں نعمتوں کی بہار اور ظلمتوں کے چرا غ ہیں نیکیوں کے دروازے اسی کی کنجیوں سے کھلتے ہیں اور تاریکیوں کا ازالہ اسی کے چراغوں سے ہوتا ہے ۔اس نے اپنے حدود کو محفوظ کرلیا ہے اور اپنی چراگاہ کو عام کردیا ہے۔اس میں طالب شفا کے لئے شفا اورامیدوار کفایت کے لئے بے نیازی کا سامان موجود ہے۔

(۱۵۳)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(گمراہوں اور غافلوں کے بارے میں)

(گمراہ)

یہ انسان اللہ کی طرف سے مہلت کی منزل میں ہے۔غافلوں کے ساتھ تباہیوں کے گڑھے میں گڑ پڑتا ہے اور گناہ گاروں کے ساتھ صبح کرتا ہے۔نہ اس کے سامنے سیدھا راستہ ہے اورنہ قیادت کرنے والا پیشوا۔

(غافلین)

یہاں تک کہ جب پروردگار نے ان کے گناہوں کی سزا کو واضح کردیا اورانہیں غفلت کے پردوں سے باہر نکال لیا تو جس سے منہ پھراتے تھے اسی کی طرف دوڑنے لگے اور جس کی طرف متوجہ تھے اس سے منہ پھرانے لگے۔جن مقاصد کو حاصل کرلیا تھا ان سے بھی کوئی فائدہ نہیں اٹھایا اور جن حاجتوں کو پوراکرلیا تھا

۲۶۶

ولَا بِمَا قَضَوْا مِنْ وَطَرِهِمْ. إِنِّي أُحَذِّرُكُمْ ونَفْسِي هَذِه الْمَنْزِلَةَ - فَلْيَنْتَفِعِ امْرُؤٌ بِنَفْسِه - فَإِنَّمَا الْبَصِيرُ مَنْ سَمِعَ فَتَفَكَّرَ ونَظَرَ فَأَبْصَرَ وانْتَفَعَ بِالْعِبَرِ - ثُمَّ سَلَكَ جَدَداً وَاضِحاً يَتَجَنَّبُ فِيه الصَّرْعَةَ فِي الْمَهَاوِي - والضَّلَالَ فِي الْمَغَاوِي - ولَا يُعِينُ عَلَى نَفْسِه الْغُوَاةَ بِتَعَسُّفٍ فِي حَقٍّ - أَوْ تَحْرِيفٍ فِي نُطْقٍ أَوْ تَخَوُّفٍ مِنْ صِدْقٍ.

عظة الناس

فَأَفِقْ أَيُّهَا السَّامِعُ مِنْ سَكْرَتِكَ - واسْتَيْقِظْ مِنْ غَفْلَتِكَ واخْتَصِرْ مِنْ عَجَلَتِكَ - وأَنْعِمِ الْفِكْرَ فِيمَا جَاءَكَ - عَلَى لِسَانِ النَّبِيِّ الأُمِّيِّصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مِمَّا لَا بُدَّ مِنْه - ولَا مَحِيصَ عَنْه - وخَالِفْ مَنْ خَالَفَ ذَلِكَ إِلَى غَيْرِه - ودَعْه ومَا رَضِيَ لِنَفْسِه وضَعْ فَخْرَكَ - واحْطُطْ كِبْرَكَ واذْكُرْ قَبْرَكَ فَإِنَّ عَلَيْه مَمَرَّكَ - وكَمَا تَدِينُ تُدَانُ وكَمَا تَزْرَعُ تَحْصُدُ - ومَا قَدَّمْتَ الْيَوْمَ تَقْدَمُ عَلَيْه غَداً - فَامْهَدْ لِقَدَمِكَ وقَدِّمْ لِيَوْمِكَ - فَالْحَذَرَ الْحَذَرَ أَيُّهَا الْمُسْتَمِعُ

ان سے بھی کوئی نتیجہ نہیں حاصل ہوا۔ دیکھو میں تمہیں اور خود اپنے نفس کوبھی اس صورت حال سے ہوشیار کر رہاہوں۔ہر شخص کو چاہیے کہ اپنے نفس سے فائدہ اٹھائے۔اس لئے کہ صاحب بصیرت وہی ہے جو سنے تو غور بھی کرے اور دیکھے تو نگاہ بھی کرے اور پھر عبرتوں سے فائدہ حاصل کرکے اس سیدھے اور روشن راستہ پر چل پڑے جس میںگمراہی کے گڑھے میں گرنے سے پرہیز کرے اور شبہات میں پڑ کر گمراہ نہ ہو جائے ایسے نفس کے خلاف گمراہوں کی اس طرح مدد کرے کہ حق کی راہ سے انحراف کرلے یا گفتگو میں تحریف سے کام لے یا سچ بولنے میں خوف کا شکار ہو جائے۔

(موعظہ)

میری بات سننے والو! اپنی مدہوشی سے ہوش میں آجائو اوراپنی غفلت سے بیدار ہوجائو۔سامان دنیا مختصر کرلو اور ان باتوں میںغورو فکر کرو جو تمہارے پاس پیغمبر امی (ص) کی زبان مبارکسے آئی ہیں اور جن کا اختیارکرنا ضروری ہے اور ان سے کوئی چھٹکارا بھی نہیں ہے۔جو اس بات کی مخالفت کرے اس سے اختلاف کرکے دوسرے راستہ پرچل پڑو اوراسے اس کی مرضی پرچھوڑ دو۔فخر و مباہات کو چھوڑ دو۔تکبر کو ختم کردو اورقبر کو یاد کرو کہ اسی راستہ سے گزرنا ہے اور جیسا کرو گے ویسا ہی نتیجہ بھی ملے گا اورجیسا بوئو گے ویسا ہی کاٹنا ہے اور جوآج بھیج دیا ہے کل اسی کا سامانا کرنا ہے۔اپنے قدموں کے لئے زمین ہموار کرلو اور اسدن کے لئے سامان پہلے سے بھیج دو۔ہوشیار' ہوشیار اے سننے والو

۲۶۷

والْجِدَّ الْجِدَّ أَيُّهَا الْغَافِلُ –( ولا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ ) .

إِنَّ مِنْ عَزَائِمِ اللَّه فِي الذِّكْرِ الْحَكِيمِ - الَّتِي عَلَيْهَا يُثِيبُ ويُعَاقِبُ ولَهَا يَرْضَى ويَسْخَطُ - أَنَّه لَا يَنْفَعُ عَبْداً - وإِنْ أَجْهَدَ نَفْسَه وأَخْلَصَ فِعْلَه - أَنْ يَخْرُجَ مِنَ الدُّنْيَا لَاقِياً رَبَّه - بِخَصْلَةٍ مِنْ هَذِه الْخِصَالِ لَمْ يَتُبْ مِنْهَا - أَنْ يُشْرِكَ بِاللَّه فِيمَا افْتَرَضَ عَلَيْه مِنْ عِبَادَتِه - أَوْ يَشْفِيَ غَيْظَه بِهَلَاكِ نَفْسٍ - أَوْ يَعُرَّ بِأَمْرٍ فَعَلَه غَيْرُه - أَوْ يَسْتَنْجِحَ حَاجَةً إِلَى النَّاسِ بِإِظْهَارِ بِدْعَةٍ فِي دِينِه - أَوْ يَلْقَى النَّاسَ بِوَجْهَيْنِ أَوْ يَمْشِيَ فِيهِمْ بِلِسَانَيْنِ - اعْقِلْ ذَلِكَ فَإِنَّ الْمِثْلَ دَلِيلٌ عَلَى شِبْهِه.

إِنَّ الْبَهَائِمَ هَمُّهَا بُطُونُهَا - وإِنَّ السِّبَاعَ هَمُّهَا الْعُدْوَانُ عَلَى غَيْرِهَا - وإِنَّ النِّسَاءَ هَمُّهُنَّ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا والْفَسَادُ فِيهَا - إِنَّ الْمُؤْمِنِينَ مُسْتَكِينُونَ - إِنَّ الْمُؤْمِنِينَ مُشْفِقُونَ إِنَّ الْمُؤْمِنِينَ خَائِفُونَ.

(۱۵۴)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يذكر فيها فضائل أهل البيت

اور محنت ' محنت اے غفلت والو! ''یہ باتیں مجھ جیسے با خبر کی طرح کوئی نہ بتائے گا۔ دیکھو! قرآن مجید میں پروردگار کے مستحکم اصولوں میں جس پر ثواب وعذاب اور رضا و ناراضگی کا دارومدا ہے۔یہ بات بھی ہے کہ انسان اس دنیا میں کسی قدرمحنت کیوں نہ کرے اور کتنا ہی مخلص کیوں نہ ہو جائے اگردنیا سے نکل کر اللہ کی بارگاہمیں جانا چاہے اوردرج ذیل خصلتوں سے توبہ نہ کرے تو اسے یہ جدو جہد اوراخلاص عمل کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا ہے۔

عبادت الٰہی میں کسی کو شریک قرار دیدے۔اپنے نفس کی تسکین کے لئے کسی کو ہلاک کردے۔ایک کے کام پردوسروں کو عیب لگادے۔دین میں کوئی بدعت ایجاد کرکے اس کے ذریعہ لوگوں سے فائدہ حاصل کرے۔لوگوں کے سامنے دوزخی پالیسی اختیار کرے۔یا دو زبانوں کے ساتھ زندگی گزارے۔اس حقیقت کو سمجھ لو کہ ہر شخص اپنی نظیر کی دلیل ہوا کرتا ہے۔

یقینا چوپایوں کا ساراہدفان کا پٹ ہوتا ہے اور درندوں کا سارا نشانہ دوسروں پر ظلم ہوتا ہے اور رعورتوں کا سارا زور رندگانی دنیا کی زینت اور فساد پر ہوتا ہے۔لیکن صاحبان ایمان خضوع و خشوع رکھنے والے ' خوف خدا رکھنے والے اور اس کی بارگاہ میں ترساں اور لرزاں رہتے ہیں۔

(۱۵۴)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں فضائل اہل بیت کاذکر کیا گیا ہے)

۲۶۸

ونَاظِرُ قَلْبِ اللَّبِيبِ بِه يُبْصِرُ أَمَدَه - ويَعْرِفُ غَوْرَه ونَجْدَه - دَاعٍ دَعَا ورَاعٍ رَعَى - فَاسْتَجِيبُوا لِلدَّاعِي واتَّبِعُوا الرَّاعِيَ.

قَدْ خَاضُوا بِحَارَ الْفِتَنِ - وأَخَذُوا بِالْبِدَعِ دُونَ السُّنَنِ - وأَرَزَ الْمُؤْمِنُونَ ونَطَقَ الضَّالُّونَ الْمُكَذِّبُونَ - نَحْنُ الشِّعَارُ والأَصْحَابُ والْخَزَنَةُ والأَبْوَابُ - ولَا تُؤْتَى الْبُيُوتُ إِلَّا مِنْ أَبْوَابِهَا - فَمَنْ أَتَاهَا مِنْ غَيْرِ أَبْوَابِهَا سُمِّيَ سَارِقاً.

منها: فِيهِمْ كَرَائِمُ الْقُرْآنِ وهُمْ كُنُوزُ الرَّحْمَنِ - إِنْ نَطَقُوا صَدَقُوا وإِنْ صَمَتُوا لَمْ يُسْبَقُوا - فَلْيَصْدُقْ رَائِدٌ أَهْلَه ولْيُحْضِرْ عَقْلَه - ولْيَكُنْ مِنْ أَبْنَاءِ الآخِرَةِ - فَإِنَّه مِنْهَا قَدِمَ وإِلَيْهَا يَنْقَلِبُ.فَالنَّاظِرُ بِالْقَلْبِ الْعَامِلُ بِالْبَصَرِ - يَكُونُ مُبْتَدَأُ عَمَلِه أَنْ يَعْلَمَ أَعَمَلُه عَلَيْه أَمْ لَه - فَإِنْ كَانَ لَه مَضَى فِيه وإِنْ كَانَ عَلَيْه وَقَفَ عَنْه - فَإِنَّ الْعَامِلَ بِغَيْرِ عِلْمٍ كَالسَّائِرِ عَلَى غَيْرِ طَرِيقٍ

عقل مند وہ ہے جو دل کی آنکھوں سے اپنے انجام کار کودیکھ لیتا ہے اور اس کے نشیب و فراز کو پہچان لیتاہے دعوت دینے والا دعوت دے چکا ہے اور نگرانی کا فرض ادا کرچکاہے۔اب تمہارا فریضہ ہے کہ دعوت دینے والے کی آوازپرلبیک کہو اور نگران کے نقش قدم پر چل پڑو۔

یہ لوگ فتنوں کے دریائوں میں ڈوب گئے ہیں اورسنت کو چھوڑ کر بدعتوں کو اختیار کرلیا ہے۔مومنین گوشہ و کنار میں دبے ہوئے ہیں اور گمراہ اور افتراء پر داز مصروف کلام ہیں۔

درحقیقت ہم اہل بیت ہی دین کے نشان اور اس کے ساتھی ' اس کے احکام کے خزانہ دار اور اس کے دروازے ہیں اور ظاہر ہے کہ گھروں میں داخلہ دروازوں کے بغیر نہیں ہو سکتا ہے ورنہ انسان چور کہاجائے گا۔ انہیں اہل بیت کے بارے میں قرآن کریم کی عظیم آیات ہیں اور یہی رحمان کے خزانہ دار ہیں۔یہ جب بولتے ہیں تو سچ کہتے ہیں اور جب قدم آگے بڑھاتے ہیں تو کوئی ان پر سبقت نہیں لے جاسکتا ہے۔ہرذمہ دار قوم کا فرض ہے کہ اپنے قوم سے سچ بولے اور اپنی عقل کو گم نہ ہونے دے اور فرزندان آخرت میں شاملہو جائے کہ ادھر ہی سے آیا ہے اور ادھر ہی پلٹ کرجانا ہے۔یقینا دل کی آنکھوں سے دیکھنے والے اور دیکھ کر عمل کرنے والے کے عمل کی ابتدا اس علم سے ہوتی ہے کہ اس کاعمل اس کے لئے مفید ہے یا اس کے خلاف ہے۔اگر مفید ہے تو اسی راستہ پر چلتا رہے اور اگر مضر ہے تو ٹھہر جائے کہ علم کے بغیر عمل کرنے والاغلط پر راستہ پر چلنے والی کے مانند ہے

۲۶۹

فَلَا يَزِيدُه بُعْدُه عَنِ الطَّرِيقِ الْوَاضِحِ إِلَّا بُعْداً مِنْ حَاجَتِه - والْعَامِلُ بِالْعِلْمِ كَالسَّائِرِ عَلَى الطَّرِيقِ الْوَاضِحِ - فَلْيَنْظُرْ نَاظِرٌ أَسَائِرٌ هُوَ أَمْ رَاجِعٌ.

واعْلَمْ أَنَّ لِكُلِّ ظَاهِرٍ بَاطِناً عَلَى مِثَالِه - فَمَا طَابَ ظَاهِرُه طَابَ بَاطِنُه - ومَا خَبُثَ ظَاهِرُه خَبُثَ بَاطِنُه وقَدْ قَالَ الرَّسُولُ الصَّادِقُصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - إِنَّ اللَّه يُحِبُّ الْعَبْدَ ويُبْغِضُ عَمَلَه - ويُحِبُّ الْعَمَلَ ويُبْغِضُ بَدَنَه.

واعْلَمْ أَنَّ لِكُلِّ عَمَلٍ نَبَاتاً - وكُلُّ نَبَاتٍ لَا غِنَى بِه عَنِ الْمَاءِ - والْمِيَاه مُخْتَلِفَةٌ فَمَا طَابَ سَقْيُه طَابَ غَرْسُه وحَلَتْ ثَمَرَتُه - ومَا خَبُثَ سَقْيُه خَبُثَ غَرْسُه وأَمَرَّتْ ثَمَرَتُه.

(۱۵۵)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يذكر فيها بديع خلقة الخفاش

حمد اللَّه وتنزيهه

الْحَمْدُ لِلَّه الَّذِي انْحَسَرَتِ الأَوْصَافُ عَنْ كُنْه مَعْرِفَتِه – ورَدَعَتْ عَظَمَتُه الْعُقُولَ - فَلَمْ تَجِدْ مَسَاغاً إِلَى بُلُوغِ غَايَةِ مَلَكُوتِه!

کہ جس قدر راستہ طے کرتا جائے گا منزل سے دور تر ہوتا جائے گا اور علم کے ساتھ عمل کرنے والا واضح راستہ پر چلنے کے مانندہے۔لہٰذا ہرآنکھ والے کو یہ دیکھ لینا چاہیے کہ وہ آگے بڑھ رہا ہے یا پیچھے ہٹ رہا ہے اوریادرکھو کہ ہر ظاہرکے لئے اسیکا جیسا باطن بھی ہوتا ہے۔لہٰذا اگر ظاہر پاکیزہ ہوگاتو باطن بھی پاکیزہ ہوگا اوراگر ظاہر خبیث ہوگیا تو باطن بھی خبیث ہو جائے گا۔رسول صادق نے سچ فرمایا ہے کہ'' اللہ کبھی کبھی کسی بندہ کو دوست رکھتا ہے لیکن اس کے عمل سے بیزار ہوتا ہے اور کبھی عل کو دوست رکھتا ہے اورخود اسی سے بیزار رہتا ہے۔

یاد رکھو کہ ہر عمل سبزہ کی طرح گرنے والا ہوتا ہے اورسبزہ پانی سے بے نیا ز نہیں ہو سکتا ہے اور پاین بھی طرح طرح کے ہوتے ہیں لہٰذا اگر سینچائی پاکیزہ پانی سے ہوگی تو پیداوار بھی پاکیزہ ہوگی اور پھل بھی شیریں ہوگا اور اگر سینچائی ہی غلط ہوگئی تو پیداوار بھی خبیث ہوگی اور پھل بھی کڑوے ہوں گے۔

(۱۵۵)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں چمگادر کی عجیب وغریب خلقت کا ذکر کیا گیا ہے )

ساری تعریفاس اللہ کے لئے ہے جس کی معرفت کی گہرائیوں سے اوصاف عاجز ہیں اورجس کی عظمتوں نے عقلوں کو آگے بڑھنے سے روک دیا ہے تو اب اسکی سلطنتوں کی حدود تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں رہ گیا ہے۔

۲۷۰

هُوَ اللَّه( الْحَقُّ الْمُبِينُ ) - أَحَقُّ وأَبْيَنُ مِمَّا تَرَى الْعُيُونُ - لَمْ تَبْلُغْه الْعُقُولُ بِتَحْدِيدٍ فَيَكُونَ مُشَبَّهاً - ولَمْ تَقَعْ عَلَيْه الأَوْهَامُ بِتَقْدِيرٍ فَيَكُونَ مُمَثَّلًا - خَلَقَ الْخَلْقَ عَلَى غَيْرِ تَمْثِيلٍ ولَا مَشُورَةِ مُشِيرٍ - ولَا مَعُونَةِ مُعِينٍ فَتَمَّ خَلْقُه بِأَمْرِه وأَذْعَنَ لِطَاعَتِه - فَأَجَابَ ولَمْ يُدَافِعْ وانْقَادَ ولَمْ يُنَازِعْ.

خلقة الخفاش

ومِنْ لَطَائِفِ صَنْعَتِه وعَجَائِبِ خِلْقَتِه - مَا أَرَانَا مِنْ غَوَامِضِ الْحِكْمَةِ فِي هَذِه الْخَفَافِيشِ - الَّتِي يَقْبِضُهَا الضِّيَاءُ الْبَاسِطُ لِكُلِّ شَيْءٍ - ويَبْسُطُهَا الظَّلَامُ الْقَابِضُ لِكُلِّ حَيٍّ - وكَيْفَ عَشِيَتْ أَعْيُنُهَا عَنْ أَنْ تَسْتَمِدَّ - مِنَ الشَّمْسِ الْمُضِيئَةِ نُوراً تَهْتَدِي بِه فِي مَذَاهِبِهَا - وتَتَّصِلُ بِعَلَانِيَةِ بُرْهَانِ الشَّمْسِ إِلَى مَعَارِفِهَا - ورَدَعَهَا بِتَلأْلُؤِ ضِيَائِهَا عَنِ الْمُضِيِّ فِي سُبُحَاتِ إِشْرَاقِهَا - وأَكَنَّهَا فِي مَكَامِنِهَا عَنِ الذَّهَابِ فِي بُلَجِ ائْتِلَاقِهَا - فَهِيَ مُسْدَلَةُ الْجُفُونِ بِالنَّهَارِ عَلَى حِدَاقِهَا - وجَاعِلَةُ اللَّيْلِ سِرَاجاً تَسْتَدِلُّ بِه فِي الْتِمَاسِ أَرْزَاقِهَا - فَلَا يَرُدُّ أَبْصَارَهَا إِسْدَافُ ظُلْمَتِه

وہ خدائے برحق و آشکار ہے۔اس سے زیادہ ثابت اور واضح ہے جو آنکھوں کے مشاہدہ میں آجاتا ہے۔ عقلیں اس کی حد بندی نہیں کر سکتی ہیں کہوہ کسی کی شبیہ قراردے دیا جائے اورخیالات اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے ہیں کہ وہ کسی کی مثال بنا دیاجائے۔اس نے مخلوقات کوبغیر کسی نمونہ اور کسی مشیرکے مشورہ یا مددگار کی مدد کے بنایا ہے۔اس کی تخلیق اس کے امر سے تکمیل ہوئی ہے اور پھر اسی کی اطاعت کے لئے سربسجود ہے۔بلا توقف اس کی آواز پرلبیک کہتی ہے اوربغیر کسی اختلاف کے اس کے سامنے سرنگوں ہوتی ہے۔ اس کی لطیف ترین صنعت اور عجیب ترین خلقت کا ایک نمونہ وہ ہے جو اس نے اپنی دقیق ترین حکمت سے چمگادڑ کی تخلیق میں پیش کیا ہے کہ جسے ہرشے کو وسعت دینے والی روشنی سکیڑ دیتی ہے اور ہر زندہ کو سکیڑ دینے والی تاریکی وسعت عطا کر دیتی ہے۔کس طرح اس کی آنکھیں چکا چود ہو جاتی ہیں کہ روشنی آفتاب کی شعاعوں سے مدد حاصل کرکے اپنے راستے طے کر سکے اور کھلی ہوئی آفتاب کی روشنی کے ذریعہ اپنی جانی منزلوں تک پہنچ سکے۔نور آفتاب نے اپنی چمک دمک کے ذریعہ اسے روشنی کے طبقات میں آگے بڑھنے سے روک دیا ہے اور روشنی کے اجالے میں آنے سے روک کرمخفی مقامات پر چھپا دیا ہے۔دن میں اس کی پلکیں آنکھوں پر لٹک آتی ہیں اور رات کو چراغ بنا کروہ تلاش رزق میں نکل پرتی ہے۔اس کی نگاہوں کو رات کو رات کی تاریکی نہیں پلٹا سکتی ہے

۲۷۱

ولَا تَمْتَنِعُ مِنَ الْمُضِيِّ فِيه لِغَسَقِ دُجُنَّتِه - فَإِذَا أَلْقَتِ الشَّمْسُ قِنَاعَهَا وبَدَتْ أَوْضَاحُ نَهَارِهَا - ودَخَلَ مِنْ إِشْرَاقِ نُورِهَا عَلَى الضِّبَابِ فِي وِجَارِهَا - أَطْبَقَتِ الأَجْفَانَ عَلَى مَآقِيهَا ،وتَبَلَّغَتْ بِمَا اكْتَسَبَتْه مِنَ الْمَعَاشِ فِي ظُلَمِ لَيَالِيهَا - فَسُبْحَانَ مَنْ جَعَلَ اللَّيْلَ لَهَا نَهَاراً ومَعَاشاً - والنَّهَارَ سَكَناً وقَرَاراً - وجَعَلَ لَهَا أَجْنِحَةً مِنْ لَحْمِهَا - تَعْرُجُ بِهَا عِنْدَ الْحَاجَةِ إِلَى الطَّيَرَانِ - كَأَنَّهَا شَظَايَا الآذَانِ غَيْرَ ذَوَاتِ رِيشٍ ولَا قَصَبٍ - إِلَّا أَنَّكَ تَرَى مَوَاضِعَ الْعُرُوقِ بَيِّنَةً أَعْلَاماً - لَهَا جَنَاحَانِ لَمَّا يَرِقَّا فَيَنْشَقَّا ولَمْ يَغْلُظَا فَيَثْقُلَا - تَطِيرُ ووَلَدُهَا لَاصِقٌ بِهَا لَاجِئٌ إِلَيْهَا - يَقَعُ إِذَا وَقَعَتْ ويَرْتَفِعُ إِذَا ارْتَفَعَتْ - لَا يُفَارِقُهَا حَتَّى تَشْتَدَّ أَرْكَانُه - ويَحْمِلَه لِلنُّهُوضِ جَنَاحُه - ويَعْرِفَ مَذَاهِبَ عَيْشِه ومَصَالِحَ نَفْسِه - فَسُبْحَانَ الْبَارِئِ لِكُلِّ شَيْءٍ عَلَى غَيْرِ مِثَالٍ خَلَا مِنْ غَيْرِه !

اوراس کو راستہ میں آگے بڑھنے سے شدید ظلمت بھی نہیں روک سکتی ہے۔اس کے بعد جب آفتاب اپنے نقاب کو الٹ دیتا ہے اور دن کا روشن چہرہ سامنے آجاتا ہے اور آفتاب کی کرنیں بجو کے سوراخ تک پہنچ جاتی ہیں تو اس کی پلکیں آنکھں پرلٹک آتی ہیں اور جوکچھ رات کی تاریکیوں میں حاصل کرلیا ہے اسی پر گزارا شروع کردیتی ہے۔کیاکہنا اس معبود کا جس نے اس کے لئے رات کو دن اور وسیلہ معاش بنادیا ہے اوردن کو وجہ سکون و قرار مقرر کردیا ہے اور پھر اس کے لئے ایسے گوشت کے پر بنادئیے ہیں جس کے ذریعہ وقت ضرورت پرواز بھی کر سکتی ہے۔ویا کہ یہ کان کی لویں ہیں جن میں نہ پر ہیں اور نہ کریاں مگر اس کے بوجود تم دیکھو گے کہ رگوں کی جگہوں کے نشانات بالکل واضح ہیں اور اس کے ایسے دو پ بن گئے ہیں جو نہ اتنے باریک ہیں کہ پھٹ جائیں اور نہ اتنے غلیظ ہیں کہ پروازمیں زحمت ہو۔اس کی پرواز کی شان یہ ہے کہ اپنے بچہ کو ساتھ لے کر سینہ سے لگا کر پرواز کرتی ہے جب اس کے اعضاء مضبوط نہ ہو جائیں اور اس کے پر اس کا بوجھ اٹھانے کیقابل نہ ہو جائیں اور وہ اپنے رزق کے راستوں اور مصلحتوں کوخود پہچان نہلے۔پاک و بے نیازہے وہ ہر شے کا پیداکرنے والا جس نے کسی ایسی مثال کاسہارا نہیں لیا جو کسی دوسرے سے حاصل کی گئی ہو۔

۲۷۲

(۱۵۶)

ومن كلام لهعليه‌السلام

خاطب به أهل البصرة على جهة اقتصاص الملاحم

فَمَنِ اسْتَطَاعَ عِنْدَ ذَلِكَ - أَنْ يَعْتَقِلَ نَفْسَه عَلَى اللَّه عَزَّ وجَلَّ فَلْيَفْعَلْ - فَإِنْ أَطَعْتُمُونِي - فَإِنِّي حَامِلُكُمْ إِنْ شَاءَ اللَّه عَلَى سَبِيلِ الْجَنَّةِ - وإِنْ كَانَ ذَا مَشَقَّةٍ شَدِيدَةٍ ومَذَاقَةٍ مَرِيرَةٍ.

وأَمَّا فُلَانَةُ فَأَدْرَكَهَا رَأْيُ النِّسَاءِ - وضِغْنٌ غَلَا فِي صَدْرِهَا كَمِرْجَلِ الْقَيْنِ - ولَوْ دُعِيَتْ لِتَنَالَ مِنْ غَيْرِي مَا أَتَتْ إِلَيَّ لَمْ تَفْعَلْ - ولَهَا بَعْدُ حُرْمَتُهَا الأُولَى والْحِسَابُ عَلَى اللَّه تَعَالَى.

وصف الإيمان

منه - سَبِيلٌ أَبْلَجُ الْمِنْهَاجِ أَنْوَرُ السِّرَاجِ - فَبِالإِيمَانِ يُسْتَدَلُّ عَلَى الصَّالِحَاتِ - وبِالصَّالِحَاتِ يُسْتَدَلُّ عَلَى الإِيمَانِ وبِالإِيمَانِ يُعْمَرُ الْعِلْمُ - وبِالْعِلْمِ يُرْهَبُ الْمَوْتُ وبِالْمَوْتِ تُخْتَمُ الدُّنْيَا - وبِالدُّنْيَا تُحْرَزُ الآخِرَةُ - وبِالْقِيَامَةِ تُزْلَفُ الْجَنَّةُ وتُبَرَّزُ الْجَحِيمُ

(۱۵۶)

آپ کا ارشاد گرامی

(جس میں اہل بصرہ سے خطاب کرکے انہیں حوادث سے با خبر کیا گیا ہے)

ایسے وقت میں اگر کوئی شخص اپنے نفس کو صرف خدا تک محدود رکھنے کی طاقت رکھتا ہے تو اسے ایسا ہی کرنا چاہیے پھر اگر تم میری اطاعت کرو گے تو میں تمہیں انشاء اللہ جنت کے راستہ پرچلائوں گا چاہے اس میں کتنی ہی زحمت اور تلخی کیوں نہ ہو۔ رہ گئی فلاں خاتون(۱) کی بات تو ان پر عورتوں کی جذباتی رائے کا اثر ہوگیا ہے اور اس کینہ نے اثر کردیا ہے جو ان کے سینہ میں لوہار کے کڑھائو کی طرح کھول رہا ہے۔ انہیں اگر میرے علاوہ کسی اور کے سات اس برتائو کی دعوتدی جاتی تو کبھی نہ آتیں لیکن اس کے بعد بھی مجھے ان کی سابقہ حرمت کا خیال ہے اور ان کا حساب بہر حال پروردگار کے ذمہ ہے ۔

ایمان کا راستہ بالکل واضح اوراس کا چراغ مکمل طورپر نورافشاں ہے۔ایمان(۱) ہی کے ذریعہ نیکیوں کا راستہ حاصل کیا جاتا ہے اورنیکیوں ہی کے وسیلہ سے ایمان کی پہچان ہوتی ہے۔ایمان(۲) سے علم کی دنیا آباد ہوتی ہے اورعلم سے موت کاخوف حاصل ہوتا ہے اور موت ہی پر دنیا کا خاتمہ ہوتا ہے اور دنیا ہی کے ذریعہ آخرت حاصل کی جاتی ہے اورآخرت ہی میں جنت کو قریب کردیا جائے گا اورجہنم

(۱)اس فقرہ کودیکھنے کے بعد کوئی شخص ایمان و عمل کے رابطہ کونظانداز نہیں کرسکتا ہے اور نہ ایمان کو عمل سے بے نیاز بنا سکتا ہے۔

(۲)ایمان سے لے کر آخرت تک اتنا حسین تسلسل کسی دوسرے انسان کے کلام میں نظر نہیں آسکتا ہے اوریہمولائے کائنات کی اعجاز بیانی کا ایک بہترین نمونہ ہے۔

۲۷۳

لِلْغَاوِينَ - وإِنَّ الْخَلْقَ لَا مَقْصَرَ لَهُمْ عَنِ الْقِيَامَةِ - مُرْقِلِينَ فِي مِضْمَارِهَا إِلَى الْغَايَةِ الْقُصْوَى.

حال أهل القبور في القيامة

منه: قَدْ شَخَصُوا مِنْ مُسْتَقَرِّ الأَجْدَاثِ - وصَارُوا إِلَى مَصَايِرِ الْغَايَاتِ لِكُلِّ دَارٍ أَهْلُهَا - لَا يَسْتَبْدِلُونَ بِهَا ولَا يُنْقَلُونَ عَنْهَا.

وإِنَّ الأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ والنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ - لَخُلُقَانِ مِنْ خُلُقِ اللَّه سُبْحَانَه - وإِنَّهُمَا لَا يُقَرِّبَانِ مِنْ أَجَلٍ - ولَا يَنْقُصَانِ مِنْ رِزْقٍ - وعَلَيْكُمْ بِكِتَابِ اللَّه - فَإِنَّه الْحَبْلُ الْمَتِينُ والنُّورُ الْمُبِينُ - والشِّفَاءُ النَّافِعُ والرِّيُّ النَّاقِعُ - والْعِصْمَةُ لِلْمُتَمَسِّكِ والنَّجَاةُ لِلْمُتَعَلِّقِ - لَا يَعْوَجُّ فَيُقَامَ ولَا يَزِيغُ فَيُسْتَعْتَبَ - ولَا تُخْلِقُه كَثْرَةُ الرَّدِّ ووُلُوجُ السَّمْعِ - مَنْ قَالَ بِه صَدَقَ ومَنْ عَمِلَ بِه سَبَقَ». وقام إليه رجل فقال: يا أمير المؤمنين، أخبرنا عن الفتنة،

کوگمراہوں کے لئے بالکل نمایاں کردیا جائے گا۔مخلوقات کے لئے قیامت سے پہلے کوئی منزل نہیں ہے۔انہیں اس میدان میں آخری منزل کی طرف بہر حال دوڑ لگانا ہے۔

(ایک دوسرا حصہ)

وہ اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنی آخری منزل کی طرف چل پڑے۔ ہر گھر کے اپنے ابل ہوتے ہیں جو نہ گھر بدل سکتے ہیں اور نہ اس سے منتقل ہو سکتے ہیں۔ یقینا امر بالمعروف اورنہی عن المنکر یہ دوخدائی اخلاق ہیں اور یہ نہ کسی کی موت(۱) کو قریب بناتے ہیں اور نہ کسی کی روزی کو کم کرتے ہیں تمہارا فریضہ ہے کہ کتاب خدا سے وابستہ رہو کہ وہی مضبوط ریسمان ہدایت اور روشن نور الٰہی ہے۔اس میں منفعت بخش شفا ہے اوراسی میں پیاس بجھا دینے والی سیرابی ہے۔وہی تمسک کرنے والوں کے لئے وسیلہ عصمت کردار ہے اوروہی رابطہ رکھنے والوں کے لئے ذریعہ نجات ہے۔اسی میں کوئی کجی نہیں ہے جسے سیدھا کیا جائے اور اسی میں کوئی انحراف نہیں ہے جسے درست کیا جائے ۔مسلسل تکرار اسے پرانا نہیں کر سکتی ہے اور برابر سننے سے اس کی تازگی میں فرق نہیں آتا ہے۔جو اس کے ذریعہ کلام کرے گا وہ سچا ہوگا اور جواس کے مطابق عمل کریگا وہ سبقت لے جائے گا ۔اس درمیان ایک شخص کھڑا ہوگیا اور اس نے کہا یا امیر المومنین ذرا فتنہ کے بارے میں بتلائیے ؟ کیا آپ نے اس سلسلہ میں

(۱) امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کے بارے میں پیدا ہونے والے ہر شیطانی وسوسہ کا جواب ان کلمات میں موجود ہے اور ان دونوں کی عظمت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ان کاموں میں مالک بھی بندوں کے ساتھ شریک ہے بلکہ اسنے پہلے امرونہی کیا ہے۔اس کے بعد بندوں کو امرونہی کا حکم دیا ہے۔

۲۷۴

وهل سألت

رسول اللَّه -صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - عنها فقالعليه‌السلام : إِنَّه لَمَّا أَنْزَلَ اللَّه سُبْحَانَه قَوْلَه –( ألم أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا - أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وهُمْ لا يُفْتَنُونَ ) - عَلِمْتُ أَنَّ الْفِتْنَةَ لَا تَنْزِلُ بِنَا - ورَسُولُ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بَيْنَ أَظْهُرِنَا - فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّه مَا هَذِه الْفِتْنَةُ الَّتِي أَخْبَرَكَ اللَّه تَعَالَى بِهَا - فَقَالَ يَا عَلِيُّ إِنَّ أُمَّتِي سَيُفْتَنُونَ بَعْدِي - فَقُلْتُ يَا رَسُولُ اللَّه - أَولَيْسَ قَدْ قُلْتَ لِي يَوْمَ أُحُدٍ - حَيْثُ اسْتُشْهِدَ مَنِ اسْتُشْهِدَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ - وحِيزَتْ عَنِّي الشَّهَادَةُ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيَّ - فَقُلْتَ لِي أَبْشِرْ فَإِنَّ الشَّهَادَةَ مِنْ وَرَائِكَ - فَقَالَ لِي إِنَّ ذَلِكَ لَكَذَلِكَ فَكَيْفَ صَبْرُكَ إِذاً - فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّه لَيْسَ هَذَا مِنْ مَوَاطِنِ الصَّبْرِ - ولَكِنْ مِنْ مَوَاطِنِ الْبُشْرَى والشُّكْرِ - وقَالَ يَا عَلِيُّ إِنَّ الْقَوْمَ سَيُفْتَنُونَ بِأَمْوَالِهِمْ - ويَمُنُّونَ بِدِينِهِمْ عَلَى رَبِّهِمْ - ويَتَمَنَّوْنَ رَحْمَتَه ويَأْمَنُونَ سَطْوَتَه - ويَسْتَحِلُّونَ حَرَامَه بِالشُّبُهَاتِ الْكَاذِبَةِ - والأَهْوَاءِ السَّاهِيَةِ فَيَسْتَحِلُّونَ الْخَمْرَ بِالنَّبِيذِ - والسُّحْتَ بِالْهَدِيَّةِ والرِّبَا بِالْبَيْعِ - قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّه - فَبِأَيِّ الْمَنَازِلِ أُنْزِلُهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ - أَبِمَنْزِلَةِ رِدَّةٍ أَمْ بِمَنْزِلَةِ فِتْنَةٍ فَقَالَ بِمَنْزِلَةِ فِتْنَةٍ

رسول اکرم (ص) سے کچھ دریافت کیاہے ؟فرمایا: جس وقت آیت شریفہ نازل ہوئی '' کیا لوگوں کا خیال یہ ہے کہ انہیں ایمان کے دعویٰ ہی پر چھوڑ دیا جائے گا اور انہیں فتنہ میں مبتلا نہیں کیا جائے گا'' تو ہمیں اندازہ ہوگیا کہ جب تک رسول اکرم (ص) موجود ہیں فتنہ کا کوئی اندیشہ نہیں ہے لہٰذا میں نے سوال کیا کہ یارسول اللہ یہ فتنہ کیا ہے جس کی پروردگارنے آپ کو اطلاع دی ہے؟ فرمایا یاعلی ! یہ امت میرے بعدفتنہ میں مبتلا ہوگی میں نے عرض کی کیا آپنے احد کے دن جب کچھ مسلمان راہ خدا میں شہید ہوگئے اور مجھے شہادت کا موقع نصیب نہیں ہوا اور مجھے یہ بات سخت تکلیف دہ محسوس ہوئی۔تو کیا یہ نہیں فرمایا تھا کہ یا علی ! بشارت ہو۔شہادت تمہار ے پیچھے آرہی ہے ؟ فرمایا بے شک ! لیکن اس وقت تمہارا صبر کیسا ہوگا؟ میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ یہ تو صبر کا موقع نہیں ہے بلکہ مسرت اور(۱) شکر کا موقع ہے۔پھر فرمایا : یا علی !لوگ عنقریب اپنے اموال کے فتنہ میں مبتلا کئے جائیں گے اور اپنے دین کا احسان اپنے پروردگار پر رکھیں گے اور پھر اس کی رحمت کے امید وار بھی ہوں گے اور اپنے کو اس کے غضب سے محفوظ بھی تصور کریں گے جھوٹے شبہات اورغافل کرنے والی خواہشات سے حرام کو حلالا کرلیں گے شراب کو نبید بنا کر حرام کو ہدیہ قرار دے کراور سود کوتجارت کا نام دے کر اس سے استفادہ کریں گے۔

(۱)یہ ہے اس کل ایمان کا کردار جو زندگی کو ہدف اورمقصد نہیں بلکہ وسیلہ خیرات تصور کرتا ہے اور جب یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ زندگی کی قربان یہی تمام خیرات و برکات کا مصد ر ہے تو اس قربانی کے نام پرسجدۂ شکر کرتا ہے اور لفظ صبرو تحمل کو برداشت نہیں کرتا ہے۔

۲۷۵

(۱۵۷)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يحث الناس على التقوى

الْحَمْدُ لِلَّه الَّذِي جَعَلَ الْحَمْدَ مِفْتَاحاً لِذِكْرِه - وسَبَباً لِلْمَزِيدِ مِنْ فَضْلِه - ودَلِيلًا عَلَى آلَائِه وعَظَمَتِه.

عِبَادَ اللَّه - إِنَّ الدَّهْرَ يَجْرِي بِالْبَاقِينَ كَجَرْيِه بِالْمَاضِينَ - لَا يَعُودُ مَا قَدْ وَلَّى مِنْه - ولَا يَبْقَى سَرْمَداً مَا فِيه - آخِرُ فَعَالِه كَأَوَّلِه مُتَشَابِهَةٌ أُمُورُه - مُتَظَاهِرَةٌ أَعْلَامُه - فَكَأَنَّكُمْ بِالسَّاعَةِ تَحْدُوكُمْ حَدْوَ الزَّاجِرِ بِشَوْلِه - فَمَنْ شَغَلَ نَفْسَه بِغَيْرِ نَفْسِه تَحَيَّرَ فِي الظُّلُمَاتِ - وارْتَبَكَ فِي الْهَلَكَاتِ - ومَدَّتْ بِه شَيَاطِينُه فِي طُغْيَانِه - وزَيَّنَتْ لَه سَيِّئَ أَعْمَالِه - فَالْجَنَّةُ غَايَةُ السَّابِقِينَ والنَّارُ غَايَةُ الْمُفَرِّطِينَ.

اعْلَمُوا عِبَادَ اللَّه - أَنَّ التَّقْوَى دَارُ حِصْنٍ عَزِيزٍ - والْفُجُورَ دَارُ حِصْنٍ ذَلِيلٍ - لَا يَمْنَعُ أَهْلَه ولَا يُحْرِزُ مَنْ لَجَأَ إِلَيْه

(۱۵۷)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں لوگوں کو تقویٰ پرآمادہ کیا گیا ہے)

شکر ہے اس خداکا جس نے اپنی حمد کو اپنی یاد کی کلید' اپنے فضل و کرم میں اضافہ کاذریعہ اور اپنی نعمت و عظمت کی دلیل قرار دیا ہے۔

بندگان خدا ! زمانہ رہ جانے والوں کے ساتھ وہی برتائو کرتا ہے جو جانے والوں کے ساتھ کر چکا ہے کہ نو چلے جانے والا واپس آتا ہے اور نہ رہ جانے والا دوام حاصل کر سکتا ہے۔اس کاآخری طریقہ بھی پہلے ہی جیس ہوتاہے۔اس کے تمام معاملات ایک جیسے اورتمام پرچم ایک دوسرے کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔گویا تم قیامت کی زد پر ہو اور وہ تم کو اسی طرح ہنکا کرلے جاریہ ہے جسطرح للکارنے والا اونٹنیوں کو لے جاتا ہے۔جو اپنے نفس کو اپنی اصلاح کے بجائے دیگر امور میں مشغول کردیتاہے وہ تاریکیوں میں سر گرداں رہ جاتا ہے اور ہلاکتوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔شیاطین اسے سر کشی میں کھینچ لے جاتے ہیں اور اس کے برے اعمال کو آراستہ بنا کر پیش کردیتے ہیں۔ یاد رکھو جنت سبقت کرنے والوں کی آخری منزل ہے اورجہنم کوتاہی کرنے والوں کا آخری ٹھکانا۔

بندگان خدا! یاد رکھوکہ تقویٰ عزت کا ایک محفوظ ترین قلعہ ہے اورفسق وفجور ذلت کا بد ترین ٹھکانا ہے جونہ اپنے اہل کوبچا سکتا ے اورنہ پناہ مانگنے والوں کو پناہ دے سکتا ہے۔

۲۷۶

أَلَا وبِالتَّقْوَى تُقْطَعُ حُمَةُ الْخَطَايَا - وبِالْيَقِينِ تُدْرَكُ الْغَايَةُ الْقُصْوَى.

عِبَادَ اللَّه اللَّه اللَّه فِي أَعَزِّ الأَنْفُسِ عَلَيْكُمْ وأَحَبِّهَا إِلَيْكُمْ - فَإِنَّ اللَّه قَدْ أَوْضَحَ لَكُمْ سَبِيلَ الْحَقِّ وأَنَارَ طُرُقَه - فَشِقْوَةٌ لَازِمَةٌ أَوْ سَعَادَةٌ دَائِمَةٌ - فَتَزَوَّدُوا فِي أَيَّامِ الْفَنَاءِ لأَيَّامِ الْبَقَاءِ - قَدْ دُلِلْتُمْ عَلَى الزَّادِ وأُمِرْتُمْ بِالظَّعْنِ - وحُثِثْتُمْ عَلَى الْمَسِيرِ - فَإِنَّمَا أَنْتُمْ كَرَكْبٍ وُقُوفٍ لَا يَدْرُونَ - مَتَى يُؤْمَرُونَ بِالسَّيْرِ - أَلَا فَمَا يَصْنَعُ بِالدُّنْيَا مَنْ خُلِقَ لِلآخِرَةِ - ومَا يَصْنَعُ بِالْمَالِ مَنْ عَمَّا قَلِيلٍ يُسْلَبُه - وتَبْقَى عَلَيْه تَبِعَتُه وحِسَابُه.

عِبَادَ اللَّه - إِنَّه لَيْسَ لِمَا وَعَدَ اللَّه مِنَ الْخَيْرِ مَتْرَكٌ - ولَا فِيمَا نَهَى عَنْه مِنَ الشَّرِّ مَرْغَبٌ.

عِبَادَ اللَّه - احْذَرُوا يَوْماً تُفْحَصُ فِيه الأَعْمَالُ - ويَكْثُرُ فِيه الزِّلْزَالُ وتَشِيبُ فِيه الأَطْفَالُ.

یاد رکھو تقویٰ ہی سے گناہوں کے ڈنک کاٹے جاتے(۱) ہیں۔اور یقین ہی سے بلند ترین منزل حاصل کی جاتی ہے۔

بندگان خدا! اپنے عزیز ترین نفس کے بارے میں اللہ کو ید رکھو کہ اس نے تمہارے لئے راہحق کو واضح کردیا ہے اوراس کے راستوں کو منور بنادیا ہے۔پھر یا دائمی شقاوت ہے یا ابدی سعادت۔مناسب یہ ہے کہ فناکے گھرسے بقا کے گھر کاسامان فراہم کرلو۔زاد راہ تمہیں بتا دیا گیا ہے اور کوچ کاحکم دیا جا چکا ہے اور سفر پرآمادہ کیا جا چکا ہے۔تم سر راہ ٹھہرے ہوئے قافلہ کے مانند ہو جسے یہ نہیں معلوم ہے کہ کب حکم سفردے دیا جائے گا۔

ہوشیار ہو جائو! جو آخرت کے لئے بنایا گیا ہے وہدنیا کو لے کر کیا کرے گا اور جس سے مال عنقریب چھن جانے والا ہے وہ مال سے دل لگا کرکیا کرے گا جب کہ اس کے اثرات اورحسابات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

بندگان خدا ! یاد رکھو خدانے جس بھلائی کاوعدہ کیا ہے اسے چھوڑا نہیں جا سکتا ہے اور جس برائی سے روکا ہے اس کی خواہش نہیں کی جا سکتی ہے۔

بندگان خدا! اس دن سے ڈرو جب اعمال کی جانچ پڑتا کی جائے گی اورزلزلوں کی بہتات ہوگی کہ بچے تک بوڑھے ہو جائیں گے۔

(۱) حقیقت امر یہ ہیکہ گناہوں میں ڈنک پائے جاتے ہیں جو انسان کے کردار کو مسلسل زخمی کرتے رہتے ہیں لیکن انسان اس قدر بے حس ہوگیا ہے کہاسے اس زخم کا احساس نہیں ہوتا ہے اوروہ اس ڈنک میں بھی لذت محسوس کرتا ہے۔امیر المومنین نے اس ڈنک کو کاٹ دینے کا بہترین ذریعہ تقویٰ کو قراردیاہے جس کے بعد گناہوں میں زخمی بنانے کی ہمت نہیں رہ جاتی ہے اور انسان کردار کی ہر طرح کی مجروجیت سے محفوظ ہوجاتا ہے۔

۲۷۷

اعْلَمُوا عِبَادَ اللَّه - أَنَّ عَلَيْكُمْ رَصَداً مِنْ أَنْفُسِكُمْ - وعُيُوناً مِنْ جَوَارِحِكُمْ - وحُفَّاظَ صِدْقٍ يَحْفَظُونَ أَعْمَالَكُمْ وعَدَدَ أَنْفَاسِكُمْ - لَا تَسْتُرُكُمْ مِنْهُمْ ظُلْمَةُ لَيْلٍ دَاجٍ - ولَا يُكِنُّكُمْ مِنْهُمْ بَابٌ ذُو رِتَاجٍ - وإِنَّ غَداً مِنَ الْيَوْمِ قَرِيبٌ.

يَذْهَبُ الْيَوْمُ بِمَا فِيه - ويَجِيءُ الْغَدُ لَاحِقاً بِه - فَكَأَنَّ كُلَّ امْرِئٍ مِنْكُمْ - قَدْ بَلَغَ مِنَ الأَرْضِ مَنْزِلَ وَحْدَتِه ومَخَطَّ حُفْرَتِه - فَيَا لَه مِنْ بَيْتِ وَحْدَةٍ - ومَنْزِلِ وَحْشَةٍ ومُفْرَدِ غُرْبَةٍ - وكَأَنَّ الصَّيْحَةَ قَدْ أَتَتْكُمْ - والسَّاعَةَ قَدْ غَشِيَتْكُمْ - وبَرَزْتُمْ لِفَصْلِ الْقَضَاءِ - قَدْ زَاحَتْ عَنْكُمُ الأَبَاطِيلُ - واضْمَحَلَّتْ عَنْكُمُ الْعِلَلُ – واسْتَحَقَّتْ بِكُمُ الْحَقَائِقُ - وصَدَرَتْ بِكُمُ الأُمُورُ مَصَادِرَهَا - فَاتَّعِظُوا بِالْعِبَرِ - واعْتَبِرُوا بِالْغِيَرِ وانْتَفِعُوا بِالنُّذُرِ.

یاد رکھو اے بند گان خدا!کہ تم پرتمہارے ہی نفس(۱) کونگراں بنایا گیا ہے اور تمہارے اعضاء و جوارح تمہارے لئے جاسوسوں کا کام کر رہے ہیں اور کچھ بہترین محافظ ہیں جو تمہارے اعمال اور تمہاری سانسوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔ان سے نہ کسیتاریک رات کی تاریکی چھپا سکتی ہے اور نہب ند دروازے ان سے اوجھل بنا سکتے ہیں۔اور کل آنے والا دن آج سے بہت قریب ہے۔

آج کا دن اپنا سازو سامان لے کرچلا جائے گا اور کل کادن اس کے پیچھے آرہا ہے ۔گویاہر شخص زمین میں اپنی تنہائی کی منزل اورگڑھے کے نشان تک پہنچ چکاہے۔ہائے وہ تنہائی کا گھر۔وحشت کی منزل اور غربت کامکان۔گویا کہ آوازتم تک پہنچ چکی ہے اور قیامت تمہیں اپنے گھیرے میں لے چکی ہے اور تمہیں آخری فیصلہ کے لئے قبروں سے نکالا جا چکا ہے۔جہاں تمام باطل باتیں ختم ہو چکی ہیں اور تمام حیلے بہانے کمزور پڑ چکے ہیں' حقائق ثابت ہو چکے ہیں اور امور پلٹ کر اپنی منزل پر آگئے ہیں۔ لہٰذا عبرتوں سے نصیحت حاصل کرو۔تغیرات زمانہ سے عبرت کا سامان فراہم کرو اور پھر ڈرانے والے کی نصیحت سے فائدہ اٹھائو۔

(۱) مالک کائنات نے انسان کی فطرت کے اندر ایک صلاحیت رکھی ہے جس کا کام ہے نیکیوں پر سکون و اطمینان کا سامان فراہم کرنا اور برائیوں پرتنبیہ اورسرزنش کرنا۔عرف عام میں اسے ضمیر سے تعبیر کیا جاتا ہے جو اس وقت بھی بیدار رہتا ہے جب آدمی غفلت کی نیند سو جاتا ہے اور اس وقت بھی مصروف تنبیہ رہتا ہے جب انسان مکمل طور پر گناہ میں ڈوب جاتا ہے۔یہ صلاحیت اپنے مقام پر ہر انسان میں ودیعت کی گئی ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ اچھائی اور برائی کا ادراک بھی کبھی فطری ہوتا ہے جیسے احسان کی اچھائی اورظلم کی برائی۔اورکبھی اس کا تعلق سماج' معاشرہ یا دین و مذہب سے ہوتا ہے تو جس چیز کومذہب یا سماج اچھا کہہدیتا ہے ضمیر اس سے مطمئن ہو جاتا ہے اور جس چیزکو برا قرار دے دیتا ہے اس پر مذمت کرنے لگتاہے اور اس مدح یاذم کا تعلق فطرت کے احکام سے نہیں ہوتا ہے بلکہ سماج یا قانون کے احکام سے ہوتا ہے۔

۲۷۸

(۱۵۸)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

ينبه فيها على فضل الرسول الأعظم، وفضل القرآن، ثم حال دولة بني أمية

النبي والقرآن

أَرْسَلَه عَلَى حِينِ فَتْرَةٍ مِنَ الرُّسُلِ - وطُولِ هَجْعَةٍ مِنَ الأُمَمِ وانْتِقَاضٍ مِنَ الْمُبْرَمِ - فَجَاءَهُمْ بِتَصْدِيقِ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْه - والنُّورِ الْمُقْتَدَى بِه ذَلِكَ الْقُرْآنُ فَاسْتَنْطِقُوه - ولَنْ يَنْطِقَ ولَكِنْ أُخْبِرُكُمْ عَنْه - أَلَا إِنَّ فِيه عِلْمَ مَا يَأْتِي - والْحَدِيثَ عَنِ الْمَاضِي - ودَوَاءَ دَائِكُمْ ونَظْمَ مَا بَيْنَكُمْ.

دولة بني أمية

ومنها - فَعِنْدَ ذَلِكَ لَا يَبْقَى بَيْتُ مَدَرٍ ولَا وَبَرٍ - إِلَّا وأَدْخَلَه الظَّلَمَةُ تَرْحَةً وأَوْلَجُوا فِيه نِقْمَةً - فَيَوْمَئِذٍ لَا يَبْقَى لَهُمْ فِي السَّمَاءِ عَاذِرٌ - ولَا فِي الأَرْضِ نَاصِرٌ - أَصْفَيْتُمْ بِالأَمْرِ غَيْرَ أَهْلِه وأَوْرَدْتُمُوه غَيْرَ مَوْرِدِه - وسَيَنْتَقِمُ اللَّه مِمَّنْ ظَلَمَ - مَأْكَلًا بِمَأْكَلٍ ومَشْرَباً بِمَشْرَبٍ - مِنْ مَطَاعِمِ الْعَلْقَمِ ومَشَارِبِ الصَّبِرِ والْمَقِرِ - ولِبَاسِ شِعَارِ الْخَوْفِ ودِثَارِ السَّيْفِ - وإِنَّمَا هُمْ مَطَايَا الْخَطِيئَاتِ

(۱۵۸)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں رسول اکرم (ص) کی بعثت اورقرآن کی فضیلت کے ساتھ بنی امیہ کی حکومت کاذکر کیاگیا ہے)

اللہ نے پیغمبر کو اس وقت بھیجا جب رسولوں کا سلسلہ رکاہوا تھا اور قومیں گہری نیند میں مبتلا تھیں۔اوردین کی مستحکم رسی کے بل کھل چکے تھے۔آپ نے آکر پہلے والوں کی تصدیق کی اوروہ نور پش کیا جس کی اقتداکی جائے ۔اور یہی قرآن ہے۔اسے بلوا کر دیکھو اور یہ خود نہیں بولے گا۔میں اس کی طرف سے ترجمانی کروں گا۔یاد رکھو کہ اس میں مستقبل کا علم ہے اورماضی کی داستان ہے تمہارے درد کی دوا ے اور تمہارے امورکی تنظیم کا سامان ہے

(اس کا دوسراحصہ) اس وقت کوئی شہری یا دیہاتی مکان ایسا نہ بچے گا جس میں ظالم غم و الم کوداخل نہ کردیں اور اس میں سختیوں کا گزر نہ ہو جائے ۔اس وقت ان کے لئے نہ آسمان میں کوئی عذرخواہی کرنے والا ہوگا اور نہ ز مین میں مدد گار۔تم نے اس امر کے لئے نا اہلوں کا انتخاب کیا ہے اور انہیں دوسرے کے گھاٹ پر اتار دیا ہے اور عنقریب خدا ظالموں سے انتقام لے لے گا۔کھانے کے بدلے میں کھانے سے اور پینے کے بدلے میں پینے سے ۔خنظل کاکھانا اور ایلوا کا اور زہرہلا ہل کا پینا۔خوف کا اندرونی لباس اور تلوارکا باہر کا لباس ہوگا۔یہ ظالم خطائوں

۲۷۹

وزَوَامِلُ الآثَامِ - فَأُقْسِمُ ثُمَّ أُقْسِمُ - لَتَنْخَمَنَّهَا أُمَيَّةُ مِنْ بَعْدِي كَمَا تُلْفَظُ النُّخَامَةُ - ثُمَّ لَا تَذُوقُهَا ولَا تَطْعَمُ بِطَعْمِهَا أَبَداً - مَا كَرَّ الْجَدِيدَانِ !

(۱۵۹)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يبين فيها حسن معاملته لرعيته

ولَقَدْ أَحْسَنْتُ جِوَارَكُمْ - وأَحَطْتُ بِجُهْدِي مِنْ وَرَائِكُمْ - وأَعْتَقْتُكُمْ مِنْ رِبَقِ الذُّلِّ وحَلَقِ الضَّيْمِ - شُكْراً مِنِّي لِلْبِرِّ الْقَلِيلِ - وإِطْرَاقاً عَمَّا أَدْرَكَه الْبَصَرُ - وشَهِدَه الْبَدَنُ مِنَ الْمُنْكَرِ الْكَثِيرِ.

(۱۶۰)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

عظمة اللَّه

أَمْرُه قَضَاءٌ وحِكْمَةٌ ورِضَاه أَمَانٌ ورَحْمَةُ - يَقْضِي بِعِلْمٍ ويَعْفُو بِحِلْمٍ.

حمد اللَّه

اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى مَا تَأْخُذُ

کی سواریاں اور گناہوں کے باربردار اونٹ ہیں۔لہٰذا میں باربار قسم کھاکر کہتا ہوں کہ بنی امیہ میرے بعد اس خلافت کو اس طرح تھوک دیں گے جس طرح بلغم کو تھوک دیا جاتا ہے اور پھر جب تک شب و روزباقی ہیں اس کامزہ چکھنا اور اس سے لذت حاصل کرنا نصیب نہ ہوگا

(۱۵۹)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں رعایا کے ساتھ اپنے حسن سلوک کا ذکر فرمایا ہے )

میں تمہارے ہمسایہ میں نہایت درجہ خوبصورتی کے ساتھ رہا اور جہاں تک ممکن ہواتمہاری حفاظت اورنگہداشت کرتا رہا اور تمہیں لذت کی رسی اور ظلم کے پھندوں سے آزاد کرایا کہ میں تمہاری مختصر نیکی کا شکریہ ادا کر رہا تھا اور تمہاری ان تمام برائیوں کو جنہیں آنکھوں نے دیکھ لیا تھا اس سے چشم پوشی کر رہا تھا۔

(۱۶۰)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(عظمت پروردگار)

(اس کا امر فیصلہ کن اور سراپا حکمت ہے اور اس کی رضا مکمل امان اور رحمت ہے وہ اپنے علم سے فیصلہ کرتا ہے اور اپنے حلم کی بنا پرمعاف کردیتا ہے )

(حمد خدا)

پروردگار تیرے لئے ان تمام چیزوں پرحمد ہے جنہیں تولے

۲۸۰

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417

418

419

420

421

422

423

424

425

426

427

428

429

430

431

432

433

434

435

436

437

438

439

440

441

442

443

444

445

446

447

448

449

450

451

452

453

454

455

456

457

458

459

460

461

462

463

464

465

466

467

468

469

470

471

472

473

474

475

476

477

478

479

480

481

482

483

484

485

486

487

488

489

490

491

492

493

494

495

496

497

498

499

500

501

502

503

504

505

506

507

508

509

510

511

512

513

514

515

516

517

518

519

520

521

522

523

524

525

526

527

528

529

530

531

532

533

534

535

536

537

538

539

540

541

542

543

544

545

546

547

548

549

550

551

552

553

554

555

556

557

558

559

560

561

562

563

564

565

566

567

568

569

570

571

572

573

574

575

576

577

578

579

580

581

582

583

584

585

586

587

588

589

590

591

592

593

594

595

596

597

598

599

600

601

602

603

604

605

606

607

608

609

610

611

612

613

614

615

616

617

618

619

620

621

622

623

624

625

626

627

628

629

630

631

632

633

634

635

636

637

638

639

640

641

642

643

644

645

646

647

648

649

650

651

652

653

654

655

656

657

658

659

660

661

662

663

664

665

666

667

668

669

670

671

672

673

674

675

676

677

678

679

680

681

682

683

684

685

686

687

688

689

690

691

692

693

694

695

696

697

698

699

700

701

702

703

704

705

706

707

708

709

710

711

712

713

714

715

716

717

718

719

720

721

722

723

724

725

726

727

728

729

730

731

732

733

734

735

736

737

738

739

740

741

742

743

744

745

746

747

748

749

750

751

752

753

754

755

756

757

758

759

760

761

762

763

764

765

766

767

768

769

770

771

772

773

774

775

776

777

778

779

780

781

782

783

784

785

786

787

788

789

790

791

792

793

794

795

796

797

798

799

800

801

802

803

804

805

806

807

808

809

810

811

812

813

814

815

816

817

818

819

820

821

822

823

824

825

826

827

828

829

830

831

832

833

834

835

836

837

838

839

840

841

842

843

844

845

846

847

848

849

850

851

852

853

854

855

856

857

858

859

860

861

862

863