نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)6%

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ) مؤلف:
: علامہ السید ذیشان حیدر جوادی قدس سرہ
زمرہ جات: متن احادیث
صفحے: 863

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 863 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 656800 / ڈاؤنلوڈ: 15924
سائز سائز سائز
نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

اوراس کو آفتوں اور زہریلے گناہوں سے نہ بچایاجائے اور ان کو دل سے دور نہ کیا جائے ؛تو ایسا بگڑ جاتا ہے کہ خدا وند عالم اس بیزار ہو جاتا ہے قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے :( واذا ذکر الله وحده اشمازت قلوب الّذین لا یومنون با لآخرة'' ) ( ۱ ) اور جب ان کے سامنے خدائے یکتا کا ذکر آتا ہے تو جن کا ایمان آخرت پر نہیں ہے ان کے دل متنفر ہو جاتے ہیں ؛ اگر چہ خدا کو پہچاننا اور اس کی معرفت حاصل کرنا ہر انسان کی فطرت میں داخل ہے ؛اور انسان کی طبیعت اولیٰ اس طرح بنائی گئی ہے کہ وہ خدا کو دوست رکھتی ہے اور اس کو پہچانتی ہے لیکن برائیاں اور غلط کام اس کو اس طرح خراب کر دیتے ہیں کہ جب خدا کا نام آتا ہے تو وہ ناخوش ہو جاتے ہیں ۔ جس طرح انسان کی پہلی طبیعت اس طرح بنی ہے کہ جب دھواں اس کے حلق اور پھپھڑے میں جاتا ہے تو وہ تکلیف محسوس کرتا ہے اور فطری طور پر اس کی وجہ سے کھانسنے لگتا ہے لیکن جب سگریٹ پینے کا عادی ہو جاتا ہے اور اپنے جسم کو ایسا عادی بنا لیتا ہے کہ جب تک سگریٹ کا دھواں اپنے حلق میں نہیں ڈال لیتا اس کو آرام اور سکون نہیں ملتا ہے حتیٰ اگر سگریٹ پئے بھی رہتا ہے اور اس کا اس سے دل بھی بھرا رہتا ہے لیکن صرف اس وجہ سے کہ سگریٹ گھرمیں نہیں ہے تو اس کو نیند نہیں آتی ہے ؛وہی تلخ اور کڑوادھواںجو کہ پہلی فطرت کے خلاف تھا اوراس کوتکلیف دیتا تھا اب اس کی عادت کی وجہ سے اس کا مزاج ایسا بدل گیا ہے کہ وہی

____________________

(۱) سورہ زمر : آیہ ۴۵۔

۱۶۱

دھواں اس کی زندگی کا حصّہ بن گیا ہے اور اس سے ایسی وابستگی ہو گئی ہے کہ اس کے بغیر اس کو نیند نہیں آتی ہے۔

منجملہ ان چیزوں کے جو انسان کی معنوی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں خدا وند عالم کی محبت ، اس کے دوستوں کی محبت ،اس کے دوستوں کے دوستوں کی محبت ہے کہ جن کو اپنے اندر پیدا کرنے کے لئے انسان کو کوشش کرنا چاہئے؛ اس کے بر خلاف گناہ ،شیطان اور دشمنان خدا اور دشمنان دین کی محبت کو اپنے دل سے نکالنے کی سعی کرنی چاہئے۔ انسان کی معنوی زندگی کے لئے صرف گناہ ہی نہیں بلکہ گناہ کا تصّور بھی نقصان پہونچانے کا سبب بنتا ہے؛ اگر مومن یہ چاہتا ہے کہ اس کا ایمان مکمل ہو اور اس کی روح بلند سے بلند تر ہو تو اس کو اپنے ذہن میں گناہ کا خیال بھی نہیں لانا چاہئے؛ شاید یہ بات ہمارے زمانے اور دور میں ]کیونکہ ہمارا ماحول ایسا ہے[ افسانہ لگتی ہو اور اس کا تصور بھی کرنا ہمارے لئے مشکل ہو تصدیق تو بعد کی بات ہے ؛لیکن یہ بات واقعیت اور حقیقت رکھتی ہے ؛اگر چہ میں ان بعض داستانوں پر جو لوگ بیان کرتے ہیں ذاتی طور سے یقین نہیں رکھتا اور عام طور پرمیری عادت بھی نہیں ہے کہ میں بحث کو قصّہ اور کہانی سے ثابت کروں لیکن پھر بھی کبھی کبھی ذہن کو مطالب سے قریب کرنے کے لئے بعض داستانوں کا نقل کرنا مفید ہوتا ہے لہٰذامیں انھیں داستانوں میں سے ایک کو یہاں پر نقل کر رہا ہوں جو کہ اس سے (بحث ) مربوط ہے ۔

۱۶۲

روحی جذب و دفع کا ایک عالی نمونہ

یہ داستان سید رضی اور سید مرتضیٰ سے متعلق مشہور ہے یہ دونوں بھائی تھے سید رضی وہی ہیں جنھوں نے نھج البلاغہ کو جمع کیا ہے؛ سید مرتضیٰ بھی صف اول کے علماء سے ہیں اور بہت بڑی شخصیت کے مالک ہیں ،جب ان دونوں بھائیوں نے پہلی مرتبہ اپنے استاد شیخ مفید کے پاس جانا چاہا مرحوم مفید نے اس سے پہلے رات کو خواب میں دیکھا کہ جناب فاطمہ زہرا صلوات اللہ علیھا اپنے دونوں فرزند امام حسن اور امام حسین کا ہاتھ پکڑے ہوئے آئی ہیں اور فرماتی ہیں کہیا شیخ علّمهما الفقه یعنی اے شیخ ان کو فقہ کی تعلیم دو شیخ خواب دیکھ کر اٹھے تعجب کیا یہ کیا ماجرا ہے؟میری کیا حیثیت ہے کہ میں امام حسن اورامام حسین کو تعلیم دوں، صبح ہوئی اور درس کے لئے مسجد گئے ابھی درس دے ہی رہے تھے کہ ایک معظمہ خاتون کو دیکھا دو بچوں کا ہاتھ پکڑے ہوئے تشریف لائیں اور فرماتی ہیں یا شیخ علّمھما الفقہ اے شیخ! ان دونوں کو فقہ کی تعلیم دو یہ دونوں بچّے کوئی اور نہیں بلکہ وہی سید رضی اور سید مرتضیٰ تھے ۔بہر حالم میرا مقصد یہ واقعہ ہے جیسا کہ لوگوں کا بیان ہے: ایک دن ان دونوں بھائیوں نے سوچا جماعت سے نماز پڑھی جائے؛ مستحب ہے کہ امام جماعت ماموم سے افضل ہو اور یہ دونوں بھائی علم کے اس بلند درجے پر فائز تھے کہ نہ صرف واجبات بلکہ مستحبات پر بھی عمل کرتے اور محرمات کے ساتھ مکروہات سے بھی پرہیز کرتے تھے؛ سید مرتضیٰ چاہتے تھے کہ اس مستحب (جماعت سے نماز پڑھنے )پر بھی عمل کریں دوسری جانب واضح اور صریحی طور پر اپنے بھائی سے یہ کہہ نہیں سکتے تھے کہ اے بھائی !میں تم سے افضل ہوں لہذٰا مجھ کو امام جماعت ہونا چاہئے تا کہ جماعت کااور زیادہ ثواب ہم دونوں کو مل جائے،لہذا انھوں نے چاہا کہ اشارے میں اپنے بھائی کو اس مطلب کی جانب متوجہ کریں اور کہا کہ ہم میں سے وہ امامت کرے جس سے آج تک کوئی گناہ سرزدنہ ہوا ہو گویا سید مرتضیٰ اشارةًیہ بتاناچاہتے تھے کہ جس وقت سے میں حد بلوغ کو پہونچا ہوں، تب سے آج تک مجھ سے کوئی گناہ نہیں ہوا ہے؛ لہذا بہتر یہ ہے کہ میں امامت کے فرائض انجام دوں۔سید رضی نے فرمایا کہ بہتر ہے کہ ہم دونوں سے وہ امام ہو جس نے آج تک گناہ کا خیال بھی نہ کیا ہو، گویایہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب سے میں سن بلوغ کو پہونچا ہوں تب سے میں نے گناہ کا خیال بھی نہیں کیا بہر حال یہ واقعہ کتنی حقیقت رکھتا ہے یہ بات اہم نہیں ہے اہم یہ ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ایمان کا سب سے بہترین اور بلند درجہ یہ ہے کہ انسان کے ذہن میں گناہ کا تصور بھی نہ آئے۔ قرآن کریم میں خدا وندعالم ارشادفرماتا ہے:( یا ایهاالذین آمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم ) ( ۱ ) اے وہ لوگو !جو کہ ایمان

____________________

(۱)سورہ حجرات : آیہ ۱۲ ۔

۱۶۳

لائے ہو بہت سے گمانوں سے پرہیز کرو بیشک بعض گمان اور شک گناہ ہیں ، لہذٰا مومن کو چاہئے کہ برے گمان سے بھی دافعہ رکھتا ہو اور اس گمان کو اپنے سے دور رکھے؛ گنا ہ کا خیال رکھنا اور اس کے مناظر کو سوچنا اور اس کی فکر کرنا ممکن ہے انسان کے اندر دھیرے دھیرے وسوسہ کو جنم دے اور اس کو گناہ کی طرف کھینچ لے جائے مومن کو چاہئے کہ ہر حال میں خدا کو یاد رکھے قرآن مجید میں خدا وند عالم ارشاد فرماتا ہے:( الذین یذکرون الله قیاماً و قعوداً وعلیٰ جنوبهم ) ( ۱ ) وہ لوگ ہر حال میں چاہے کھڑے ہوں یا بیٹھے یا کروٹ کے بل ہوں خدا کو یاد رکھتے ہیں ؛اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلو کے بل لیٹے ہوں یا سونے کے لئے آنکھوں کو بند کرلئے ہوں ؛اس حال میں بھی خدا کو یاد رکھو؛ اوراس بات کی کو شش کرو کہ خدا کی یاد میں تم کو نیند آ ئے تاکہ تمہاری روح بھی سونے کے عالم میں خدا کے عرش اور ملکوت کی سیرکرے ؛بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جوسونے کے وقت دوسری فکروںکو اپنے ذہن میں لاتے ہیں اور اس سے اپنی فکر کو گندہ کرتے ہیں اورجس وقت سوتے ہیں توشیاطین کی دنیا کی سیر کرتے ہیں اور خواب بھی گناہ کا دیکھتے ہیں ۔

یہ وہ اثرات ہیں جو انسان کی معنوی زندگی میں پیش آتے ہیں ۔ جس طرح مادی اور دنیاوی زندگی میں انسان اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ اسکا جسم نشو ونما کرے

____________________

(۱)سورہ آل عمران: آیہ، ۱۲۵

۱۶۴

اور صحیح اورسالم رہے تو اسکوچاہئے کی اچھی غذا کھائے اور خراب وزہریلے کھانے سے جوکہ نقصان دہ ہے پرہیز کرے ،اسی طرح روحی زندگی کے شعبہ میں بھی جو چیز اسکی روح کے لئے فائدہ مندہے اسکو جذب یعنی حاصل کرے اور جو چیزنقصان دہ اور مضر ہے اسکو دفع یعنی دور کرے ۔

آیہ( فلینظرالانسان الیٰ طعامه ) ( ۱ ) کی تفسیر

یعنی انسان اپنی خوراک اور غذا کی طرف دیکھے ،البتہ اس سے پہلے اور بعد کی آیات کے قرینے سے یہ بات کی ظاہر ہوتی ہے کہ یہاں طعام، مادی اورجسمانی غذاسے مربوط ہے،کیوںکہ گفتگو اس اندازسے ہے کہ اے انسان دیکھ یہ غذا کہاں سے آرہی ہے؟ ہم نے پانی کو آسمان سے کیسے نازل کیا،اور کس طر ح پودوں اورسبزوں کو اگایا؛پھر یہ سبزے کس طرح جانوروں کی غذا بنے اور پھر تم کس طرح ان جانوروں کے گوشت سے فائدہ حاصل کرتے ہو؛ یہ سب نعمتیں ہیں جن کو خدا نے تمھارے لئے مہّیا کی ہے ؛خلاصہ یہ کہ آیہ اس بات کی نشان دہی کر رہی ہے کہ ظاہراًیہاں طعام سے مراد جسمانی غذا ہے؛ لیکن اس آیہ شریفہ کے ذیل میں ایک روایت بیان ہوئی ہے جو در حقیقت تاویل کی منزل میں ہے اس آیت کی باطنی تفسیر ہے کہ( 'فلینظر الانسان الیٰ علمه من یتّخذ'' ) انسان اپنے علم کو دیکھے کہ وہ کہاں سے حاصل کررہا ہے ؟کیونکہ علم روح کی غذا ہے اور اس کے مصرف میں انسان کو خاص توجہ دینی چاہئے ؛یعنی جس طرح انسان باہر سے غذا اور کھانا

____________________

(۱) سورہ عبس: آیہ ۲۴۔

۱۶۵

لاناچاہتا ہے تو وہ اس بات کی سعی کرتا ہے اور پوچھتا ہے کہ کون سا ہوٹل صفائی کا زیادہ خیال رکھتا ہے اور کس کا کھانا اچھا اور بہتر رہتا ہے،اس کے بعد وہاں سے غذا حاصل کرتا ہے اسی طرح علم بھی آپ کے روح کی غذا ہے یہ نہیں ہونا چاہئے کہ جب اور جس سے چاہا علم حاصل کر لیا ؛بلکہ آپ جس استاد سے علم حاصل کر رہے ہیں اس کو دیکھنا چاہئے کیا وہ معنوی اور روحی پاکیزگی رکھتے ہیں یا نہیں ؟ ہر وہ علم جو کسی بھی صورت میں پیش ہو چاہے کلا س میں ہو یا کتاب میں ، تقریر ہو یا تحریر یاکسی اور طریقہ سے اس پر بھروسہ نہ کریں ؛بلکہ دیکھیںکہ یہ علم کس طرح اور کہاں سے آرہا ہے؛ اس لئے کہ علم کا اثرروح پر،اس غذا کے اثرات سے جو کہ جسم و بدن پر ہوتا ہے کم نہیں ہے ؛جس طرح آپ اس بات کا خیال کرتے ہیں کہ آپ کی جسمانی غذا صاف اور پاک و پاکیزہ ہو؛ پھل، سبزی وغیرہ کو خود آپ دھو کر استعمال کرتے ہیں اور ان چیزوں کو اس کے بعد کھاتے ہیں ، علم بھی آپ کی روح کی غذا ہے اس سے بھی باخبر ر ہیں کہ جو علم حاصل کر رہے ہوں وہ خراب اور آلودہ تو نہیں ہے، اس مقام پر بھی جاذبہ اور دافعہ ضروری ہے۔

وہ چیزیں جو ایمان کو کمزور کرتی ہیں اور ہمارے عقیدہ ا ور یقین کو متزلزل کرتی ہیں یا ان کے خراب کرنے کا سبب ہیں ان سے ہم کو بچنا چاہئے اور ایسے علم کو حاصل کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے اور اس کو حاصل نہیں کرنا چاہئے، مگر صرف اس صورت میں کہ ہمارا علم اتنا مستحکم ہو کہ وہ غلط باتیں ہمارے اوپر اثر نہ ڈال سکیںاور ان کے اثرات سے محفوظ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔

۱۶۶

جس طرح ٹیکوں اور انجکشن کے ذریعہ ہم اپنے بدن کو بعض بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں اور انجکشن کا کام یہ ہوتا ہے کہ بیماریوں اوروبائوں کے جراثیم کو ہمارے جسم پر موثر ہونے نہیں دیتا؛ اسی طرح محکم اور متقن دلائل خاص کر اسلامی علوم کو حاصل کرکے ہم اپنی روحانی فکر کو بھی بعض غلط فکروں اور گمراہ کن شبہات سے محفوظ کر لیں تاکہ وہ غلط شبہے اور فاسد فکریں ہمارے اوپر اثر انداز نہ ہو سکیں ؛اگر کوئی شخص مصئونیت اور علمی کمال کے اس درجہ پر پہونچا ہو تو اس کے لئے غلط مطالب کا پڑھنا اور اس طرح کے شبہات کا مطالعہ کرناحرج نہیں رکھتاہے؛ لیکن جو شخص اس مرتبہ کمال پر نہیں پہونچا ہے اس کو چاہئے کہ ان مطالب سے اپنے کو دور رکھے ۔ خدا وند عالم قرآن کریم میں ارشاد فر ما رہا ہے :( اذا سمعتم آیات الله یکفر بها و یستهزابه فلا تقعدوامعهم حتیّ یخوضوا فی حدیث غیر ه انکم اذا مثلهم ) ( ۱ ) جس وقت تم دیکھو یا سنو کہ خدا کی آیتوں کا انکار کیا جا رہا ہے اوراس کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو انکے ساتھ نہ بیٹھو،یہاں تک کہ وہ لوگ اس کے علاوہ دوسری باتوں میں مصروف نہ ہو جائیں ورنہ تم بھی انھیں میں سے ہو جائوگے یہ نہ کہو کہ ہم مومن ہیں اور خدا و رسول کو

____________________

(۱) سورہ نساء : آیہ ۱۴۰۔

۱۶۷

مانتے ہیں لہذاان کافروںکی باتیں ہمارے اندر اثر نہیں کریں گی۔ جب تک تم ہر طرح سے محکم اورمحفوظ نہ ہو جائو اس وقت تک اس بات کا خوف ہے کہ اگر تم ان کے جلسوں میں جائو گے، تقریروں کو سنو گے تو یہ فکری جراثیم دھیرے دھیرے تمھارے اندر بھی سرایت کر جائیں گے اور تمھارے اعتقاد و ایمان کو خراب کر دیں گے اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:( اذا رایت الذین یخوضوا فی آیا تنا فا عرض عنهم حتیّٰ یخوضوا فی حد یث غیره ) ( ۱ ) اور جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری نشانیوں کے بارے میں بے ربط بحث کر رہے ہیں تو ان سے کنارہ کش ہو جائو یہاں تک کی وہ دوسری باتوں میں مصروف ہو جائیں ۔خدا کا دستور جو کہ ہماری اور آپ کی روح کا معالج ہے اور جو دوا تجویز کرتا ہے وہ یہ ہے کہ پہلے لازمی علم ومعرفت کے ٹیکے کے ذریعہ محفوظ ہونے سے پہلے ایسی محافل وجلسات میں کہ جہاں فکری شبہات اور باطل خیالات پیدا کئے جاتے ہیں شرکت نہ کرو، وہ اخبار، مقالہ اور ڈائجسٹ نیز ایسی کتابیں جو کہ مذہبی مقدسات کا مسخرہ کرتے ہیں اور ان کی توہین کرتے ہیں اور دین کے اصول اور احکام میں شک و شبہ کا سبب واقع ہوتے ہیں تو ان کو نہیں پڑھنا چاہئے۔ اگر ایسی جگہوں پر جائیں گے یا ایسی چیزوں کو پڑھیں گے تو کیا ہوگا ؟ قرآن میں اس کے جواب کے متعلق ارشاد ہوتا ہے:( انکم اذاًمثلهم انّ اللّه جامع الکافرین و المنافقین فی جهنم جمیعاً ) ( ۲ )

____________________

(۱) سورہ انعام : آیہ ۶۸۔

(۲)سورہ نساء :آیہ ۱۴۰۔

۱۶۸

اور اس صورت میں تم بھی انھیں کے مثل ہو جائو گے ،بیشک خدا کافروں اور منافقوں سب کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے۔'' اگر تم نے ہماری نصیحت کو قبول نہیں کیا اور اپنے کانوں سے سن کر اس پر عمل نہیں کیا اور ایسے لوگوں کے ساتھ اٹھے بیٹھے تو تم بھی دھیرے دھیرے مقدسات کی اہانت کرنے اور دینی عقائدو احکام کو کمزور کرنے والوں میں شمار کئے جائوگے اور آخر کار تم بھی جہنم میں جائوگے ۔

جس طرح کوئی پھیلنے والی بیماری میں مبتلا ہو تو آپ اس سے بچتے اور دور رہتے ہیں تا کہ اس کی بیماری کی زد میں آپ بھی نہ آجائیںاسی طرح آپ کو ان لوگوں کے جلسات اور خود ان لوگوں کے درمیان نہیں جانا چاہئے جو فکری بیماریوں کو اٹھائے پھرتے ہیں یا نقل کرتے ہیں ، لہذٰا ان سے پرہیز کرنا چاہئے مگر یہ کہ آپ محفوظ رہنے والے اسباب و وسائل سے مجہّز ہوں ،جو کہ پھیلنے والے جراثیم کو آپ کے اندر آنے سے روک سکیں، اس حالت میں صرف ان سے بچنا ہی نہیں چاہئے بلکہ ان کے علاج کی کوشش کرنی چاہئے، اور ان کو اس بیماری سے نجات دلانا چاہئے جس طرح ڈاکٹر اور نرس ،محافظ وسائل او ر سسٹموںکے ذریعہ جراثیم اور اس کے اثرات کے داخل ہونے سے ر وکتے ہیں نیز جسمانی بیماریوں سے مریضوں کا علاج کرتے ہیں ۔

اگرچہ ڈاکٹر کا فریضہ ہے کہ وہ بیمار کے قریب آئے اور اس سے ربط رکھے پھر بھی وہ یہ کام بہت احتیاط سے کرتا ہے اور تمام حفاظتی چیزوں کی رعایت کرتے ہوئے انجام دیتا ہے اور دوسرے لوگ علم و وسائل کے نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ وہ بیماری سے متعلق کچھ نہیں کر سکتے بلکہ بیمار کے قریب ہونے کی وجہ سے وہ خود بھی بیمار ہو جاتے ہیں ،انھیںکسی بھی صوورت سے ایسی حالت میں مریض سے قریب نہیں ہونا چاہئے۔ ممکن ہے کہ لوگوں کی روح اورفکر بھی پھیلنے والی خطرناک بیماریاں رکھتی ہوں اور لازمی احتیاط نہ کرنے کی وجہ سے ان کی بیماریاں ہمارے اندر سرایت کر جائیں۔

۱۶۹

روح کی بیماری اور سلامتی

روح کی مکمل سلامتی کی علامت اور نشانی یہ ہے کہ وہ خدا کو دوست رکھے، اس کے اندر خدا کی یاد، اس کے ذکر سے لذت اور خوشی کا احساس ہونیز ہر وہ چیز اور ہر وہ شخص جو اس کی سچی اطاعت اور اس کے حکم کی پیروی کرتا ہواس سے عشق اور والہانہ محبت کرتا ہو۔ روح کے بیمار ہونے کی نشانی یہ ہے کہ جب نماز ،دعااور دینی محافل و مجالس سے متعلق گفتگو ہو تو اس کے اندر کوئی جذبہ پیدا نہ ہو اور بہت ہی نا گواری اور بے توجہی کے ساتھ اس کے لئے آمادہ ہوتا ہو؛ اگر کوئی انسان کئی گھنٹوں سے کھانا نہ کھائے ہو اور اس کے بعد بھی اس کو بھوک نہ لگے اور بہترین اچھی غذا ئوںکو کھانے کے لئے تیار نہ ہو تو یہ بیماری اور مزاج کے خراب ہونے کی نشانی ہے ۔

ہم کو یہ جاننا چاہئے اور اس بات پر متوجہ ہونا چاہئے کہ دل بھی بیماریاں رکھتا ہے، خدا وند عالم فرماتا ہے :( فی قلوبهم مرض ) ( ۱ ) یعنی ان کے دلوں میں مرض ہے، اگر دل میں بیماری ہو اور اس کا علاج نہ ہو تو بیماری بڑھتی جاتی ہے ،( فزادهم الله مرضاً ) ( ۲ ) اور اللہ ان کی بیماری کو زیادہ کر دیتا ہے؛ اگرہم اس بیماری کو بڑھنے سے نہ

____________________

(۱۔۲) سورہ بقرہ :آیہ ۱۰۔

۱۷۰

روکیں اور وہ دل کے اندر جڑ پکڑ لے تو پھر کنٹرول سے باہر ہوجاتی ہے اور پھر اس کے اچھا ہونے کی امید باقی نہیں رہتی؛ اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ جیسے کوئی آدمی نہایت ڈھالو اور گہری کھائی میں جا پڑا ہو اور اپنے کو اس کی تہ تک گرنے سے نہ روک سکتا ہو۔قرآن مجیدمیں ارشاد ہوتا ہے( طبع الله علیٰ قلوبهم و سمعهم وابصارهم اولٰئک هم الغافلون ) ( ۱ ) خدا نے ان کے دلوں اور کانوں نیز ان کی آنکھوں پر مہر لگا دی ہے وہی لوگ غافل اور لا پروا ہ ہیں ۔

کبھی اس حال میں کہ ہماری بیماری کینسراور لاعلاج بیماری میں تبدیل ہو جاتی ہے، ہم اس سے غافل رہتے ہیں اورکبھی کبھی تو بہت خوش رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ دن بہ دن ترقی حاصل کر رہے ہیں اور منزل کمال سے نزدیک ہو رہے ہیں خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے :( قل هل ننبئکم بالاخسرین اعمالا الذین ضلّ سعیهم فی الحیوٰةالدّنیاوهم یحسبون انهم یحسنون صنعا ) ( ۲ ) اے پیغمبر! آپ کہ دیجئے کہ کیا ہم تم لوگوں کو ان لوگوںکے بارے میں اطلاع دیںجو اپنے اعمال میں بدترین خسارہ میں ہیں ؛یہ وہ لوگ ہیں جن کی کوشش زندگانی دنیا میں بہک گئی ہے اور یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ اچھے اعمال انجام دے رہے ہیں ۔

____________________

(۱) سورہ نحل : آیہ ۱۰۸۔

(۲) سورہ کہف : آیہ ۱۰۳ اور ۱۰۴۔

۱۷۱

ہماری روح جذب وودفع کی محتاج ہے اوراس با ت کا انتخاب کہ کون چیزدفع کریں؟ اورکون چیز جذب کریں ؟یہ ہمارے اوپر چھوڑدیا گیا ہے ۔ہمارے لئے یہ ممکن ہے کہ ہم سگریٹ نوشوں اور گانجا،بھنگاور چرس پینے والوں کے مانند دھوئیںاور زہریلی چیز کو اپنی روح میں داخل کریںاور یہ بھی ممکن ہے کھلاڑیوں ، کوہ نوردوں(پہاڑ پر سفر کرنے والوں )کی طرح پاک اور صاف وشفاف ہوا کو دل اور روح کے لئے انتخاب کریں ؛( من کان یر ید العاجلةعجّلنا له فیها ما نشاء لمن یرید ) ( ۱ ) جو شخص بھی دنیا کا طلبگار ہے ہم اسکے لئے جلد ہی جو چاہتے ہیں دیدیتے ہیں پھر اسکے بعد اسکے لئے جہنم ہے جسمیں وہ ذلت ورسوائی کے ساتھ داخل ہوگا اور جو شخص آخرت کا چاہنے والا ہے اور وہ اسکے لئے ویسی ہی کوشش بھی کرتا ہے اور صاحب ایمان بھی ہے تو اسکی سعی یقینا مقبول ہے ہم آپ کے پروردگار کی عطا وبخشش سے ان سب کی مدد کرتے ہیں اور پروردگار کی عطا کسی پر بند نہیں ہے۔ وہ لوگ جو کہ جلد ختم ہونے زندگی اوروالی لذتوں کے طلبگارہیں اور اسکے علاوہ کوئی غوروفکر نہیں کرتے اور طبعی طور سے اس تک پہنچنے کے لئے کوشش کرتے ہیں لیکن پھر بھی تمام توقعات ا و رخواہشات تک نہیں پہنچ پاتے کیونکہ انسان کی خواہشیں بے انتہاہیں جوکچھ اسکو عطا کیا جاتا ہے اسکے بعدبھی وہ اس سے زیادہ کی تلاش میں رہتا ہے، بہر حال خدا انکی اس طرح مددکرتا ہے کہ انکی بعض خواہشوں کو پورا کرتا ہے لیکن انجام اور نتیجہ میں

____________________

(۱) سورہ اسراء آیہ ۱۸ الیٰ ۲۰.

۱۷۲

انکے لئے ذلت اور عذاب جہنم ہے بعض دوسرے گروہ ہیں جو کہ آخرت کے طلبگار اور اسکی نعمتوں کی لذ ت چاہتے ہیں ؛ قرآن کی عبارت میں یہ گروہ توجہ کے لائق ہے ارشاد ہو رہا ہے :سب سے پہلے ارادالآخرة آخرت کے چاہنے والے ہیں ؛ لیکن ایسی چاہت نہیں کہ اسکو حاصل کرنے کیلئے کچھ خرچ نہیں کرتے ؛بلکہوسعیٰ لهاسعیها وہ اسکے لئے کوشش کرتے ہیں اور مناسب چیزوں کو اپنی اس خواہش پر صرف کرتے ہیں ؛ لیکن صرف اسی پر اکتفا ء نہیں کرتے بلکہ تیسری خصوصیت یہ ہے کہ و ھو مومن یعنی ایمان کے مزہ کو بھی اپنی کوشش اور عمل کے ساتھ شامل کرتے ہیں ،ایسے لوگ صرف اپنی خواہشوں کو ہی نہیں پہنچتے؛ بلکہ اسکے ساتھ ساتھ ہم (خدا) ایسے لوگوں کی محنت اور کوشش پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیںکان سیعهم مشکوراً ان کی کوششیں لائق شکرہیں البتہ خدا وند عالم کا شکر کیاہے؟ وہ خدا ہی بہتر جانتا ہے ۔

جو بات اس آیت میں اہم اور توجہ کے قابل ہے وہ یہ ہے :( کلاًنمد هٰولاء من عطا ء ربک ) ہم دونوں گروہ کو ان کی خواہشوں تک پہونچتے میں مدد کرتے ہیں اور دونوں کے لئے وسائل و اسباب کو مہےّا کرتے ہیں یعنی ان چیزوں کا انتخاب جو جذب و دفع سے متعلق ہے خود انسان کے اوپر ہے انسان کا انتخاب اچھا ہو یا برا ؛اس سے فرق نہیں پڑتا ہے ،ہماری طرف سے اس کو اپنی خواہش تک پہونچنے میں مدد ملتی ہے؛اس ضمن میں ایک دوسری الھٰی سنت بھی پائی جاتی ہے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :( من جاء با لحسنة فله عشر امثالها ومن جاء بالسّئية فلا یجزٰی الاّ مثلها ) ( ۱ ) جو کوئی اچھا کام کرتا ہے اس کو اس کا دس گنا ثواب ملتا ہے اور جو کوئی برا کام کرتا ہے اس کا بدلہ اس کو اتنا ہی ملتا ہے جوشخص غلط اور زہریلی چیزوں کا انتخاب کرتا ہے تو جتنی وہ چیز اور مادہ خراب کرنے کی قوت اورطاقت رکھتا ہے اتنا ہی ہم اس کو موثر بناتے ہیں ؛لیکن جب وہ اچھی چیز اور اچھے مادہ کا انتخاب کرتا ہے تو ہم اس کی تاثیر کو دس گنا بڑھا دیتے ہیں ۔

____________________

(۱)سورہ انعام آیہ ۱۶۰.

۱۷۳

بحث کا خلاصہ

اس جلسہ میں ہماری بحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ انسان جسمانی زندگی میں جس طرح جاذبہ اور دافعہ کی ضروت رکھتا ہے اسی طرح روحانی اور معنوی زندگی میں بھی جاذبہ اور دافعہ کی ضرورت رکھتا ہے یعنی اس کو ضرورت ایسی قوت و طاقت کی ہے جو اس کے ایمان ، خدا کی محبت اور مفید علم کی راہ میں اس کی مدد کرسکے جو کہ اس کے دل اور قلب کے لئے فائدہ مند ہو، اس کی انسایت کو بڑھائے اور اس کو مضبوط کرے اور اس کو ایسی قوت و طاقت کی بھی ضرورت ہے جس کے ذریعہ وہ شیطان ،گناہ اور دشمنان خدا کی محبت 'جو اس کے دین اور معنوی زندگی کے لئے نقصان دہ ہے 'کو اپنی روح سے دور کردے ۔

البتہ یہ بات فراموش نہیں ہونی چاہئے کہ ہماری اصل بحث جیسا کہ میں نے اس کو شروع میں بھی عرض کیا اسلام میں جاذبہ اور دافعہ سے متعلق تھی اور میں نے عرض بھی کیا کہ اس کو تین طرح سے پیش کیا جا سکتا ہے :

(۱) یہ کہ اسلام کے مجموعی عقائد واخلاق، احکام ا ور دستورات ایسے ہیں کہ انسان کو صرف کچھ چیزوں کے جذب کرنے پر مجبور کرتے ہیں یا فقط دفع کرنے پریا یہ دونوں قسمیں پائی جاتی ہیں ۔

(۲) اسلام کے احکام اور دستورات ایسے ہیں کہ انسان کے لئے صرف جاذبہ رکھتے ہیں یا صرف دافعہ یاپھر جاذبہ اور دافعہ دونوں رکھتے ہیں ۔

(۳) اسلام لوگوں کوجب اپنی طرف اور ان کی تربیت کی دعوت دیتا ہے تو صرف جذبی راستوں کا انتخاب کرتا ہے یا فقط دفعی راستوں اور طریقوں کو، یا دونوں راستوں کو اختیار کرتا ہے۔ ہم نے اس جلسے میں جو کچھ کہا اصل میں وہ اس بحث کا مقدمہ تھا اور تینوں سوالات ابھی بھی باقی ہیں جن کے بارے میں آئندہ جلسوں میں بحث اور گفتگو ہو گی۔

۱۷۴

سوال اور جواب

سوال :

جسم کے بارے میں یہ مسئلہ ہے کہ اس کے اندر معین مقدار میں غذا کو جذب کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے اگر اس سے زیادہ وہ کھانا کھائے گا تو اس کے لئے نقصان کا سبب بنے گا اور وہ دافعہ کی حالت کوپیدا کرے گا۔ کیا روح اور اس کی غذا کے بارے میں بھی یہی محدودیت اور حد بندی ہے ؟

جواب :

سوال بہت اہم ہے اور یہ سوال فلسفہ اخلاق کے مشہورمکتب فکرسے جس کا نام'' مکتب اعتدالہے تعلق رکھتا ہے اس مکتب فکر کے طرف دار لوگ اس بات کے معتقد ہیں کہ اخلاقی فضائل کے باب میں فضیلت کا معیار اعتدال ہے؛ زیادہ بڑھ جانا یا کم ہونا نقصان دہ ہے۔ فطری اور طبعی طور سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بعض چیزیں کوئی خاص حد نہیں رکھتی ہیں ؛ جتنی زیادہ ہو ںبہترہے جیسے خدا کی محبت ،عبادت ،علم اور بہت سی ایسی چیزیںہیں ان جیسی چیزوں میں اعتدال کے کیا معنی ہیں ؟؛جو سوال یہاں پر پیش ہوا ہے وہ بھی اسی جیسا ہے جس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات صحیح ہے کہ فضائل کا حاصل کرنا کوئی حد اور انتہا نہیں رکھتا لیکن مسئلہ یہاں پر یہ ہے کہ انسان دنیا میں محدود طاقت کا مالک ہے ۔اگر وہ صرف کسی ایک چیز کے لئے اپنی پوری طاقت کو صرف کر دے گا تو دوسری چیزوں سے محروم ہو جائے گا ؛اگر ہم صرف عبادت کرنے لگیں اور کھانے ، آرام اور اپنے بدن کی سلامتی کی فکرنہ کریں تو ہمارا جسم بیکار ہو جائے گا اور عبادت کی طاقت و ہمت بھی ہم سے چھن جائے گی ؛یعنی ہماری عبادت میں بھی خلل پڑے گا اور ہمارا جسم بھی بیمار پڑ جائے گا ۔

۱۷۵

یا یہ کہ خدا کا ارادہ انسان کی نسل کو باقی رکھناہے اور یہ مسئلہ بھی اس بات پر منحصر اورمتوقف ہے کہ ہم شادی بیاہ کریں ،ازدواجی رابطہ کو برقرار رکھیں ؛بچوں کی تربییت کریں خلاصہ یہ کہ ایک خاندان کو چلانے اور اس کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے یقینی طور پر بہت سی قوتوں اور اپنے وقت کو خرچ کرنا پڑے گا؛ اگر انسان صرف معنوی اور اخلاقی مرتبے کی بلندی کی فکر میں رہے گا اور کوئی بھی اہتمام خاندان اور بیوی بچے سے متعلق نہ کرے تو انسانی نسل ختم ہو جائے گی یا برباد ہو جائے گی ۔یا مثلاً اگر کوئی یہ چاہتا ہے کہ میدان جنگ میں حاضر رہے تو وہ زیادہ عبادات اور مستحبات کو انجام نہیں دے سکتا ۔لہذٰاچونکہ انسان دنیا میں کئی قسم کے وظائف اور ذمہ دااریوں کو رکھتا ہے اس کی قوت و طاقت بھی محدود ہے ؛لہذٰا اپنی طاقت و قوت کو ان کے درمیان تقسیم کرے اور ہر حصّہ میں ضرورت بھراس طرح صرف کرے کہ بعض دوسری چیزوں سے مزاحمت کا سبب نہ بنیں ان کے لئے خرچ کرے؛ البتہ یہ انسان کے لئے ممکن ہے کہ وہ ایسا کام کرے کہ اس کی پوری زندگی نماز و قرآن سے لیکر کھانے پینے اور روز انہ کے معمولی کاموںتک بھی لمحہ بہ لمحہ خدا وند عالم سے قریب ہونے کا باعث بنے اور وہ بلندی کے درجات کو حاصل کرتا جائے ۔

۱۷۶

اسلام میں جاذبہ اور دافعہ کے حدود-۳

پچھلی بحثوں پر سرسری نظر

پچھلے دو جلسوں میں اسلام میں جاذبہ اور دافعہ سے متعلق اور اس کے حدود کے بارے میں مطالب کو پیش کیا گیا اگر چہ وہ مطالب اصل بحث کے لئے مقدمہ کا جنبہ رکھتے تھے وہ اہم نکتہ جس کے متعلق پچھلے جلسے میں خاص تاکید ہوئی وہ یہ تھی کہ انسان تکامل حاصل کرنے والی ایک مخلوق کے عنوان سے تکامل کے راستے کی تکمیل میں دو طرح کے عوامل کا سامنا کرتا ہے:

(۱) ایک وہ عوامل و اسباب جو کہ فائدہ مند ہیں

(۲) دوسرے وہ عوامل جو کہ نقصان دہ ہیں ؛ انسان کو چاہئے کہ دوسرے زندہ موجودات کی طرح مفید عوامل کو جذب کرے اور مضر عوامل کو دفع کرے ؛اس کام کے لئے سب سے پہلا قدم اور مرحلہ یہ ہے کہ انسان ان دونوں طرح کے عوامل کو پہچانے اور ایک دوسرے کو علیحدہ اور جداکرے؛ لہذٰا پہلا قدم ان عوامل کی پہچان ہے چونکہ یہ جذب و دفع جبری اوور زبر دستی نہیں ہے بلکہ خود انسان کے ارادہ و اختیار سے متعلق ہے اور جس کو وہ انتخاب کرتا ہے وہی انجام پاتا ہے لہذادوسری منزل یہ ہے کہ انسان اپنے ارادہ کومضبوط کرے تاکہ اچھے کاموں کو انجام دے سکے اور برے کاموں کو ترک کر سکے کیونکہ ایسا نہیں ہے کہ ہر وہ چیز جو اچھی اور مفید ہے انسان اس سے لگائو رکھتا ہو اور اس سے لذت حاصل کرتا ہو یا ہر وہ چیز جو کہ اس کے لئے بری اور نقصان دہ ہے اسے نا پسندکرتا ہو اور اس میں رغبت نہ رکھتا ہو؛ بلکہ بہت سی جگہوں میں مسئلہ اس کے بر خلاف ہے مثلاً وہ سبب جو کہ بہت نقصان دہ ہے اسی چیز کو انسان خاص طور سے بہت ہی لگائو کے ساتھ اختیار کرتا ہے مثلاً بعض لوگ سگر یٹ اور شراب وغیرہ کو بہت دوست رکھتے ہیں ،پیش کی جا سکتی ہے لہذا جذب و دفع کے مسئلہ میں شناخت اور پہچان کے علاوہ انسان کے ارادہ کی طاقت بھی بنیادی کردارادا کرتی ہے ۔

۱۷۷

انسان کی روح کے کمال کے لئے مفید اور مضر ا سباب کی تشخیص کا مرجع

لیکن مفید اور مضر اسباب کے پہچاننے کے متعلق سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون سا مرجع اس بات کومشخص ومعےّن کرے اور کہے کہ فلاں سبب ہمارے معنوی کمال اور روح کے لئے فائدہ مند ہے اور اس کو جذب کرنا چاہئے اور کون سا عامل نقصان دہ ہے کہ اس کو دفع کرنا چاہئے ؟ اسی طرح ارادہ کی تقویت کے متعلق، کون سے عوامل ہیں جو اس ارادہ کو قوی بناتے ہیں ؟

ہم مسلمان اور دیندار لوگ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ مرجع خدا ہے اور اسی کو اس مشکل کو حل کرنا چاہئے کیوںکہ اسی نے انسان کو پیدا کیا اور وہی مکمل طور سے انسان کی روح وجسم کے خواص وقوانین نیز ان کے ایک دوسرے پر اثرات سے واقف ہے' اور وہی خدا یہ جانتا ہے کہ کون سی چیز انسان کے لئے مفید ہے اور کون سی چیز مضر ہے اور کون سے کام روحی و معنوی جذب اور دفع کا باعث ہے ؛خدا وند عالم نے اس کام کو پیغمبروں کے ذریعہ سے انجام دیا ہے انبیاء کے بھیجنے کا بنیادی فلسفہ یہی تھادین اور اس کے تمام دستورات اس کے علاوہ اورکچھ نہیں ہیں یعنی اگر انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ روحی و معنوی کمال اوربلندی پر پہونچے اور مفید و مضر اسباب جو کہ اس راستے میں ہیں ، ان کو پہچانے تو اس کودین و انبیاء کو تلاش کرنا چاہئے یعنی انبیاء اور دین سے متمسک ہونا چاہئے ۔

۱۷۸

دین کی تبلیغ کے سلسلہ میں اسلام کی کلی سیاست

اب یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ ہم کو کیا کرنا چاہئے تا کہ لوگ دین کی طرف متوجہ ہوں ؟صرف یہ کہ انبیاء نے روحی اور معنوی تکامل کا نسخہ انسان کے ہاتھوں میں تھما دیا ہے اور ان لوگوں کو صحیح راستے کی نشان دہی کر دی ہے ،یہی کافی ہے؟ بلکہ اس کے علاوہ ایسی تدبیر کرنی ہوگی کہ لوگ اس نسخہ کو قبول کرلیں اور اس پر عمل کریں ؛اب اس جگہ پر پھر جاذبہ اور دافعہ کی بحث آتی ہے ؛لیکن جاذبہ اور دافعہ اس معنی میں کہ انبیاء نے لوگوں کو دین کی طرف بلانے اور ان لوگوں کو اس کے قبول کرنے اور اس پر مطمئن کرنے کے لئے کس راستے اور طریقے کو اختیار کیا ہے؟یعنی اس کے لئے آیاقوت جاذبہ کے طریقے کو اپنایا اور نرمی و مہربانی کے ساتھ اس بات کی کوشش کی کہ لوگ دین کی طرف جذب ہو ں یا یہ کہ ان حضرات نے سختی اور جبری طور سے لوگوں سے چاہا کہ لوگ اس نسخہ پر عمل کریں ؟یا یہ کہ ان دونوں طریقوں کو استعمال کیا؟ خلاصہ یہ کہ کوئی خاص قانون او رقاعدہ اس کے متعلق پایا جاتا ہے یا نہیں ؟ ان تین سوالوں میں ایک سوال ہے جس کے لئے ہم نے پچھلے جلسے میں وعدہ کیا تھا کہ اس کے بارے میں بحث کریں گے البتہ اگر اس مسئلہ میں تفصیل اور جامع و مکمل طریقے سے بحث کی جائے تو کئی جلسوں کی ضرورت ہو گی جس کی گنجائش فی الحال ہمارے جلسے اور پروگرام میں نہیں ہے ، لہذٰا کوشش اس بات کی ہوگی کہ جو کچھ اس سے مربوط ہے اس کو مختصر طور سے یہاں بیان کردیا جائے۔

۱۷۹

(الف )موعظہ اور دلیل سے استفادہ

انبیاء کا سب سے پہلا کام لوگوں کو حق کی طرف دعوت دینا ہے؛ ان کو سب پہلا کام یہ کرنا تھا کہ لوگ ان کی باتوں کو سنیں اور اس بات کو محسوس کریں کہ انبیاء کیا کہتے ہیں اس کے بعد کا مرحلہ یہ تھا کہ لوگ اس پر عمل کرتے ہیں یا نہیں ؟

اس پہلے مرحلے یعنی دعوت تبلیغ اور پیغام پہونچانے میں کچھ بھی شک و شبہ نہیں ہے کیونکہ انبیاء لوگوں کے لئے منطق اور برہان و استدلال لیکر آئے تھے اور قرآن مجید کی آیہ اس پر دلالت کرتی ہے( ادع الیٰ سبیل ربّک با لحکمة والموعظة الحسنة ) ( ۱ ) یعنی لوگوں کو پرور دگار کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دو ؛دعوت تبلیغ ، حکمت اور منطق و دلیل کے ساتھ ہونی چاہئے تاکہ اس میں جاذبہ پیدا ہو؛ اس مرحلہ میں دافعہ کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے ۔

لیکن واقعیت اور حقیقت یہ ہے کہ تمام انسان ایک جیسے نہیں ہیں کہ حکمت ودلیل اچھی طرح سمجھ لیں؛ اگر ہم خود اپنے کو دیکھیں جس دن سے ہم نے اپنے کو پہچانا

____________________

(۱) سورہ نحل :آیہ۱۲۵۔

۱۸۰

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417

418

419

420

421

422

423

424

425

426

427

428

429

430

431

432

433

434

435

436

437

438

439

440

441

442

443

444

445

446

447

448

449

450

451

452

453

454

455

456

457

458

459

460

461

462

463

464

465

466

467

468

469

470

471

472

473

474

475

476

477

478

479

480

481

482

483

484

485

486

487

488

489

490

491

492

493

494

495

496

497

498

499

500

501

502

503

504

505

506

507

508

509

510

511

512

513

514

515

516

517

518

519

520

521

522

523

524

525

526

527

528

529

530

531

532

533

534

535

536

537

538

539

540

541

542

543

544

545

546

547

548

549

550

551

552

553

554

555

556

557

558

559

560

561

562

563

564

565

566

567

568

569

570

571

572

573

574

575

576

577

578

579

580

581

582

583

584

585

586

587

588

589

590

591

592

593

594

595

596

597

598

599

600

601

602

603

604

605

606

607

608

609

610

611

612

613

614

615

616

617

618

619

620

621

622

623

624

625

626

627

628

629

630

631

632

633

634

635

636

637

638

639

640

641

642

643

644

645

646

647

648

649

650

651

652

653

654

655

656

657

658

659

660

661

662

663

664

665

666

667

668

669

670

671

672

673

674

675

676

677

678

679

680

681

682

683

684

685

686

687

688

689

690

691

692

693

694

695

696

697

698

699

700

۲۴۴ - وقَالَعليه‌السلام إِنَّ لِلَّه فِي كُلِّ نِعْمَةٍ حَقّاً - فَمَنْ أَدَّاه زَادَه مِنْهَا - ومَنْ قَصَّرَ فِيه خَاطَرَ بِزَوَالِ نِعْمَتِه.

۲۴۵ - وقَالَعليه‌السلام إِذَا كَثُرَتِ الْمَقْدِرَةُ قَلَّتِ الشَّهْوَةُ.

۲۴۶ - وقَالَعليه‌السلام احْذَرُوا نِفَارَ النِّعَمِ فَمَا كُلُّ شَارِدٍ بِمَرْدُودٍ.

۲۴۷ - وقَالَعليه‌السلام الْكَرَمُ أَعْطَفُ مِنَ الرَّحِمِ

۲۴۸ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ ظَنَّ بِكَ خَيْراً فَصَدِّقْ ظَنَّه.

(۲۴۴)

اللہ کا ہر نعمت میں ایک حق ہے۔جو اسے ادا کردے گا۔اللہ اس کی نعمت کو بڑھادے گا اور جو کوتاہی کرے گا وہ موجودہ نعمت کو بھی خطرہ میں ڈال دے گا۔

(۲۴۵)

جب طاقت زیادہ(۱) ہو جاتی ہے توخواہش کم ہو جاتی ہے۔

(۲۴۶)

نعمتوں کے زوال سے ڈرتے رہو کہ ہر بے قابو ہوکر نکل جانے والی چیز واپس نہیں آیا کرتی ہے۔

(۲۴۷)

جذبہ کرم قرابت داری سے زیادہ مہربانی کا باعث ہوتا ہے۔

(۲۴۸)

جو تمہارے بارے میں اچھا خیال(۲) رکھتا ہو اس کے خیال کو سچا کرکے دکھلا دو۔

(۱)جب فطرت کا یہ نظام ہے کہ کمزور آدمی میں خواہش زیادہ ہوتی ہے اور طاقتور اس قدرخواہشات کاحامل نہیں ہوتا ہے تو سیاسی دنیا میں بھی انسان کا طرزعمل ویسا ہی ہونا چاہیے کہ جس قدر طاقت و قوت میںاضافہ ہوتا ہے اپنے کوخواہشات دنیا سے بے نیاز بناتا جائے اور اپنے کردار سے یہ ثابت کردے کہ اس کی زندگی نظام فطرت سے الگ اور جدا گانہ نہیں ہے۔

(۲)یہ انسانی زندگی کا انتہائی حساس نکتہ ہے کہ انسان عام طور سے لوگوں کو حسن ظن میں مبتلا پا کراس سے غلط فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے اوراسے یہ خیال پیداہو جاتا ہے کہ جب لوگ شراب خانہمیں دیکھ کر بھی یہی تصور کریںگے کہ تبلیغ مذہب کے لئے گئے تھے تو شراب خانہ سے فائدہ اٹھالینا چاہیے حالانکہ تقاضئاے عقل ودانش اورمقتضائے شرافت وانسانیت یہ ہے کہ لوگ جس قدر شریف تصورکرتے ہیں۔اتنی شرافت کا اثبات کرے اور ان کے حسن ظن کو سوظن میں تبدیل نہ ہونے دے ۔

۷۰۱

۲۴۹ - وقَالَعليه‌السلام أَفْضَلُ الأَعْمَالِ مَا أَكْرَهْتَ نَفْسَكَ عَلَيْه.

۲۵۰ - وقَالَعليه‌السلام عَرَفْتُ اللَّه سُبْحَانَه بِفَسْخِ الْعَزَائِمِ - وحَلِّ الْعُقُودِ ونَقْضِ الْهِمَمِ.

۲۵۱ - وقَالَعليه‌السلام مَرَارَةُ الدُّنْيَا حَلَاوَةُ الآخِرَةِ - وحَلَاوَةُ الدُّنْيَا مَرَارَةُ الآخِرَةِ.

۲۵۲ - وقَالَعليه‌السلام فَرَضَ اللَّه الإِيمَانَ تَطْهِيراً مِنَ الشِّرْكِ - والصَّلَاةَ تَنْزِيهاً عَنِ الْكِبْرِ - والزَّكَاةَ تَسْبِيباً لِلرِّزْقِ - والصِّيَامَ ابْتِلَاءً لإِخْلَاصِ الْخَلْقِ - والْحَجَّ تَقْرِبَةً لِلدِّينِ - والْجِهَادَ عِزّاً لِلإِسْلَامِ - والأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ مَصْلَحَةً لِلْعَوَامِّ - والنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ رَدْعاً لِلسُّفَهَاءِ - وصِلَةَ الرَّحِمِ مَنْمَاةً لِلْعَدَدِ - والْقِصَاصَ حَقْناً لِلدِّمَاءِ - وإِقَامَةَ الْحُدُودِ إِعْظَاماً لِلْمَحَارِمِ

(۲۴۹)

بہترین عمل وہ ہے جس پر تمہیں(۱) اپنے نفس کو مجبور کرنا پڑے ۔

(۲۵۰)

میں نے پروردگار کو ارادوں کے ٹوٹ جانے ' نیتوں کے بدل جانے اورہمتوں کے پست ہو جانے سے پہچانا ہے۔

(۲۵۱)

دنیا کی تلخی آخرت کی شیرینی ہے اور دنیا کی شیرینی آخرت کی تلخی ۔

(۲۵۲)

اللہ نے ایمان کو لازم قراردیا ہے شرک سے پاک کرنے کے لئے۔اور نماز کو واجب کیا ہے غرور سے باز رکھنے کے لئے۔زکوٰة کو رزق کا وسیلہ قرار دیاہے اور روزہ کوآزمائش اخلاص کاوسیلہ ۔جہاد کواسلام کی عزت کے لئے رکھا ہے اور امر بالمعروف کو عوام کی مصلحت کے لئے۔نہی عن المنکر کو بیوقوفوں کو برائیوں سے روکنے کے لئے واجب کیا ہے اور صلہ رحم عدد میں اضافہ کے لئے ۔قصاص خون کے تحفظ کا وسیلہ ہے اور حدود کا قیام محرمات کی اہمیت کے سمجھانے کا

(۱)انسان تمام اعمال کونفسکی خواہش کے مطابق انجام دے گا تو ایک دن نفس کاغلام ہو کر رہ جائے گا لہٰذا ضرورت ہے کہ ایسے اعمال انجام دیتا رہے جہاں نفس پر جبر کرنا پڑے اوراسے اس کی اوقات سے آشنا بناتا رہے تاکہ اس کے حوصلے اس قدربلند نہ ہوجائیںکہ انسان کو مکمل طور پراپنی گرفت میں لیلے اور پھرنجات کاکوئی راستہ نہ رہ جائے ۔

۷۰۲

وتَرْكَ شُرْبِ الْخَمْرِ تَحْصِيناً لِلْعَقْلِ - ومُجَانَبَةَ السَّرِقَةِ إِيجَاباً لِلْعِفَّةِ - وتَرْكَ الزِّنَى تَحْصِيناً لِلنَّسَبِ - وتَرْكَ اللِّوَاطِ تَكْثِيراً لِلنَّسْلِ - والشَّهَادَاتِ اسْتِظْهَاراً عَلَى الْمُجَاحَدَاتِ - وتَرْكَ الْكَذِبِ تَشْرِيفاً لِلصِّدْقِ - والسَّلَامَ أَمَاناً مِنَ الْمَخَاوِفِ - والأَمَانَةَ نِظَاماً لِلأُمَّةِ - والطَّاعَةَ تَعْظِيماً لِلإِمَامَةِ.

۲۵۳ - وكَانَعليه‌السلام يَقُولُ: أَحْلِفُوا الظَّالِمَ إِذَا أَرَدْتُمْ يَمِينَه - بِأَنَّه بَرِيءٌ

ذریعہ۔شراب خواری کو عقل کی حفاظت کے لئے حرام قراردیا ہے اورچوری سے اجتناب کو عفت کی حفاظت کے لئے لازم قرار دیا ہے۔ترک زنا کا لزوم نسب کی حفاظت کے لئے ہے اور ترک لواط(۱) کی ضرورت نسل کی بقا کے لئے ہے۔گواہیوں کو انکارکے مقابلہ میں ثبوت کا ذریعہ قراردیا گیا ہے اور ترک کذب کو صدق کی شرافت کا وسیلہ ٹھہرادیا گیا ہے۔قیام امن کو خطروں سے تحفظ کے لئے رکھا گیا ہے اور امامت کو ملت کی تنظیم کاوسیلہ قراردیا گیا ہے اور پھر اطاعت کو عظمت امامت کی نشانی قراردیا گیا ہے۔

(۲۵۳)

کسی ظالم سے قسم لینا ہو تو اس طح قسم لو کہ وہ پروردگار کی طاقت اور قوت سے بیزار ہے اگر اس کا

(۱)یہ اسلام کا عالم انسانیت پر عمومی احسان ہے کہ اس نے اپنے قوانین کے ذریعہ انسانی آبادی کو بڑھانے کا انتظام کیا ہے اور پھرحرام زادوں کی درآمد کو روک دیا ہے تاکہ عالم انسانیت میں شریف افراد پیداہوں اور یہ عالم ہر قسم کی بربادی اور تباہکاری سے محفوظ رہے۔اس کے بعد اس کا صنف نسواں پر خصوصی احسان یہ ہے کہ اس نے عورت کے علاوہ جنسی تسکین کے ہر راستہ کوبند کردیا ہے۔کھلی ہوئی بات ہے کہ انسان میں جب جنسی ہیجان پیدا ہوتا ہے تو اسے عورت کی ضرورت کا احساس پیدا ہوتا ہے اور کسی بھی طرقہ سے جب وہ ہیجانی مادہنکل جاتا ہے تو کسی مقدار میں سکون حاصل ہو جاتا ہے اور جذبات کا طوفان ک جاتا ہے۔اہل دنیا نے اس مادہ کے اخراج کے مختلف طریقے ایجاد کئے ہیں۔اپنی جنس کاکوئی مل جاتا ہے تو ہم جنسی سے تسکین حاصل کر لیتے ہیں اور اگر کوئی نہیں ملتا ہے تو خود کاری کا عمل انجام دے لیتے ہیں اور اس طرح عورت کی ضرورت سے بے نیاز ہو جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج آزاد معاشروں میں عورت عضو معطل ہوکر رہ گئی ہے اور ہزار وسائل اختیارکرنے کے بعد بھی اس کے طلب گاروں کی فہرست کم سے کمتر ہوتی جارہی ہے۔اسلام نے اس خطرناک صورت حال کامقابلہ کرنے کے لئے مجامعت کے علاوہ ہر وسیلہ تسکین کو حرام کردیا تاکہ مرد عورت کے وجودسے بے نیاز نہ ہونے پائے اورعورت کاوجود معاشرہ میں غیر ضروری نہ قرار پا جائے ۔

افسوس کہ اس آزادی اور عیاشی کی ماری ہوئی دنیامیں اس پاکیزہ تصورکا قدردان کوئی نہیں ہے اور سب اسلام پر عورت کی ناقدری ہی کا الزام لگاتے ہیں ۔گویا ان کی نظر میں اسے کھولنا بنالینا اور کھیلنے کے بعد پھینک دینا ہی سب سے بڑی قدردانی ہے۔

۷۰۳

مِنْ حَوْلِ اللَّه وقُوَّتِه فَإِنَّه إِذَا حَلَفَ بِهَا كَاذِباً عُوجِلَ - الْعُقُوبَةَ وإِذَا حَلَفَ بِاللَّه الَّذِي لَا إِلَه إِلَّا هُوَ لَمْ يُعَاجَلْ - لأَنَّه قَدْ وَحَّدَ اللَّه تَعَالَى.

۲۵۴ - وقَالَعليه‌السلام يَا ابْنَ آدَمَ كُنْ وَصِيَّ نَفْسِكَ - فِي مَالِكَ واعْمَلْ فِيه مَا تُؤْثِرُ أَنْ يُعْمَلَ فِيه مِنْ بَعْدِكَ.

۲۵۵ - وقَالَعليه‌السلام الْحِدَّةُ ضَرْبٌ مِنَ الْجُنُونِ - لأَنَّ صَاحِبَهَا يَنْدَمُ - فَإِنْ لَمْ يَنْدَمْ فَجُنُونُه مُسْتَحْكِمٌ.

۲۵۶ - وقَالَعليه‌السلام صِحَّةُ الْجَسَدِ مِنْ قِلَّةِ الْحَسَدِ.

۲۵۷ - وقَالَعليه‌السلام لِكُمَيْلِ بْنِ زِيَادٍ النَّخَعِيِّ - يَا كُمَيْلُ مُرْ أَهْلَكَ أَنْ يَرُوحُوا فِي كَسْبِ الْمَكَارِمِ - ويُدْلِجُوا فِي حَاجَةِ مَنْ هُوَ نَائِمٌ - فَوَالَّذِي وَسِعَ سَمْعُه الأَصْوَاتَ -

بیان صحیح نہ ہو۔کہ اگ اس طرح جھوٹی قسم کھائے گا تو فوراً مبتلائے عذاب ہو جائے گا اور اگر خدائے وحدہ لا شریک کے نام کی قسم کھائی تو عذاب میں عجلت نہ ہوگی کہ بہرحال تو حید پروردگار کا اقرار کرلیا ہے۔

(۲۵۴)

فرزند آدم ! اپنے مال میں اپناوصی خود بن اور وہ کام خود انجام دے جس کے بارے میں امید رکھتا ہے کہ لوگ تیرے بعدانجام دے دیں گے ۔

(۲۵۵)

غصہ جنون کی ایک قسم ہے کہ غصہ ورکو بعد میں پشیمان ہونا پڑتا ہے اور پشیمان نہ ہو تو واقعاً اس کا جنون مستحکم ہے۔

(۲۵۶)

بدن کی صحت کا ایک ذریعہ حسد کی قلت بھی ہے۔

(۲۵۷)

اے کمیل! اپنے گھر والوں کو حکم دو کہ اچھی خصلتوں کو تلاش کرنے کے لئے دن میں نکلیں اور سوجانے والوں کی حاجت روائی کے لئے رات میں قیام کریں۔قسم ہے اس ذات کی جو ہر آواز کی سننے والی ہے کہ

۷۰۴

مَا مِنْ أَحَدٍ أَوْدَعَ قَلْباً سُرُوراً - إِلَّا وخَلَقَ اللَّه لَه مِنْ ذَلِكَ السُّرُورِ لُطْفاً - فَإِذَا نَزَلَتْ بِه نَائِبَةٌ جَرَى إِلَيْهَا كَالْمَاءِ فِي انْحِدَارِه - حَتَّى يَطْرُدَهَا عَنْه كَمَا تُطْرَدُ غَرِيبَةُ الإِبِلِ.

۲۵۸ - وقَالَعليه‌السلام إِذَا أَمْلَقْتُمْ فَتَاجِرُوا اللَّه بِالصَّدَقَةِ.

۲۵۹ - وقَالَعليه‌السلام الْوَفَاءُ لأَهْلِ الْغَدْرِ غَدْرٌ عِنْدَ اللَّه - والْغَدْرُ بِأَهْلِ الْغَدْرِ وَفَاءٌ عِنْدَ اللَّه.

کوئی شخص کسی دل میں سرور وارد نہیں کرتا ہے مگر یہ کہ پروردگار اس کے لئے اس سرور سے ایک لطف پیداکر دیتا ہے۔کہ اس کے بعد اگر اس پر کوئی مصیبت نازل ہوتی ہے ۔تو وہ لطف(۱) اس کی طرف نشیب کی جانب بہنے والے پانی کی طرح تیزی سے بڑھتا ہے اور اس مصیبت کو یوں ہنکا دیتا ہے جس طرح اجنبی اونٹ ہنکائے جاتے ہیں۔

(۲۵۸)

جب غربت کا شکار ہوجائو تو اللہ سے صدقہ کے ذریعہ تجارت(۲) کرلو(صدقہ صرف دولت مندوں کے لئے نہیں ہے )

(۲۵۹)

غداروں سے وفاداری بھی اللہ کے نزدیک ایک قسم کی غداری ہے اور غداروں سے بیوفائی ایک طرح کی وفاداری ہے۔

(۱)لطف پروردگار کا بہترین وسیلہ مومنین کے دلوں میں سرور کا داخل کرنا ہے اور ادخال سرور کا بہترین ذریعہ یہ ہے کہ ان کی جاجت برآری کے لئے اس وقت کا انتخاب کیا جائے جب ساری دنیا خواب غفلت میں ہو کہ اس طرح کا رخیر کرنے والے کے اخلاص میں اضافہ ہوتا ہے اور غریب وفقر انسان کی عزت وآبرو کاتحفظ ہوتا ہے اوراسے اس کارخیرسے فرحت بھی زیادہ حاصل ہوتی ہے کہ وہ دن بھر کی تگ و دو سے عاجز اور مایوس ہوکر بستر خواب کی طرف آیا ہے اور کھلی ہوئی بات ہے کہ ایسے اوقات میں کار خیرکی لذت ہی کچھ اور ہوتی ہے۔

(۲)عام طور سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ صدقہ اورکارخیر صرف بڑے لوگوں کے لئے ہے اورغریبوں کاکام صرف صدقات و خیرات کا گزارا کرنا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔دنیا میں جس طرح ہر امیر سے بڑا امیر پڑا ہوا ہے اسی طرح ہر فقیر سے بڑا فقیر بھی پایا جاتا ہے۔لہٰذا کوئی بھی انسان اگر کسی امیر کے اعتبارسے فقیر اورمحتاج خیرات ہے تو ہو سکتا ہے کہ دوسرے فقیر کے اعتبارسے دولت مند اور مطمئن تصور کیاجاتا ہولہٰذا اس کا فرض ہے کہ اپنے سے کمتر افراد پر رحم کرے تاکہ پروردگار اس کی غربت پر مزیدرحم کرے کہ غربت کے عالم میں کارخیر دولت مندوں کے کارخیر سے یقینا زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔

۷۰۵

۲۶۰ - وقَالَعليه‌السلام كَمْ مِنْ مُسْتَدْرَجٍ بِالإِحْسَانِ إِلَيْه - ومَغْرُورٍ بِالسَّتْرِ عَلَيْه - ومَفْتُونٍ بِحُسْنِ الْقَوْلِ فِيه - ومَا ابْتَلَى اللَّه سُبْحَانَه أَحَداً بِمِثْلِ الإِمْلَاءِ لَه.

قال الرضي - وقد مضى هذا الكلام فيما تقدم - إلا أن فيه هاهنا زيادة جيدة مفيدة

(۲۶۰)

کتنے ہی لوگ ہیں جنہیں احسان کے ذریعہ عذاب کی لپیٹ میں لے لیا جاتا ہے اور وہ پردہ پوشی(۱) کی بنا پر دھوکہ میں پڑے ہوئے ہیں اورلوگوں کے اچھے الفاظ سن کرف ریب خوردہ ہوگئے ہیں۔اللہ نے کسی بھی شخص کا امتحان مہلت سے زیادہ بہتر کسی ذریعہ سے نہیں لیا ہے ۔

سید رضی : یہ بات پہلے گذر چکی تھی لیکن اس میں قدرے مفید اضافہ تھا اس لئے دوبارہ نقل کردی گئی ہے۔

(۱)خدا جانتا ہے کہ مالک کائنات اگرجبر کے ذریعہ انسان کو راہ راست پرلانا چاہتا تواسے طاقت استعمال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی اور کسی کے سر پر جلادوں کے مسلط کرنے کا کوئی کام نہیں تھا۔وہ صرف عیوب کی پردہ پوشی کا سلسلہ ختم کردیتا اور ایک نظام بنادیتا کہ جو انسان بھی خلوت اور تنہائی میں کوئی غلط کام انجام دے گا یا اپنے دل و دماغ میں کسی غلط تصور کوجگہ دے گا۔اس کے اس عیب کا فوری اعلان کردیا جائے گا۔اور اسے اس کی پیشانی پر لکھ دیا جائے گا۔تو سارے انسان ایک لمحہ میں شریف ہو جاتے ہیں اور نہ کسی میں غداری اورمکاری کی ہمت ہوتی اورنہ کوئی منافقت اور ریاکاری سے کام لینے کی جرأت کرتا۔ہر انسان شریف ہوتا اور معاشرہ پاکیزہ کرداروں کا معاشرہ ہوتا لیکن وہ کسی طرح کے جبرو اکراہ کو استعمال نہیں کرنا چاہتا ہے اور انسان سے اسی کی شرافت کے راستہ سے کام لینا چاہتا ہے۔ورنہ جبرو اکراہ کو استعمال کرنا ہوتا تو شیطان سے بھی سجدہ کرایا جاتا تھا اور اسے اس قدر مہلت دینے کی کوئی گنجائش نہ تھی۔

۷۰۶

فصل

نذكر فيه شيئا من غريب كلامه المحتاج إلى التفسير

۱ - وفي حديثهعليه‌السلام

فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ ضَرَبَ يَعْسُوبُ الدِّينِ بِذَنَبِه - فَيَجْتَمِعُونَ إِلَيْه كَمَا يَجْتَمِعُ قَزَعُ الْخَرِيفِ.

قال الرضي - يعسوب الدين اليعسوب - السيد العظيم المالك لأمور الناس يومئذ - والقزع قطع الغيم التي لا ماء فيها.

۲ - وفي حديثهعليه‌السلام

هَذَا الْخَطِيبُ الشَّحْشَحُ.

يريد الماهر بالخطبة الماضي فيها - وكل ماض في كلام أو سير فهو شحشح - والشحشح في غير هذا الموضع البخيل الممسك

۳ - وفي حديثهعليه‌السلام

إِنَّ لِلْخُصُومَةِ قُحَماً.

يريد بالقحم المهالك -

فصل

اس فصل میں حضرت کے ان کلمات کو نقل کیا گیا ہے جو محتاج تفسیر تھے اور پھر ان کی تفسیر و توضیح بھی نقل کیا گیا ہے۔

(۱)

جب وہ وقت آئے گا تو دین کا یعسوب اپنی جگہ پر قرار پائے گا اور لوگ اس کے پاس اس طرح جمع ہوں گے جس طرح موسم خریف کے قزع۔

سید رضی : یعسوب اس سردار کو کہا جاتا ہے جوت مام امور کا ذمہ دار ہوتا ہے۔اور قزع بادلوں کے ان ٹکڑوں کا نام ہے جن میں پانی نہ ہو۔

(۲)

یہ خطیب شحشح ( صعصعہ بن صوحان عبدی)

شحشح اس خطیب کو کہتے ہیں جوخطابت میں ماہر ہوتا ہے اور زبان آوری یا رفتار میں تیزی سے آگے بڑھتا ہے۔اس کے علاوہ دوسرے مقامات پر شحشح بخیل اور کنجوس کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔

(۳)

لڑائی جھگڑے کے نتیجہ میں قحم ہوتے ہیں۔

قحم سے مراد تباہیاں ہیں۔کہ یہ لوگوں کی

۷۰۷

لأنها تقحم أصحابها في المهالك والمتالف في الأكثر - فمن ذلك قحمة الأعراب - وهو أن تصيبهم السنة فتتعرق أموالهم - فذلك تقحمها فيهم - وقيل فيه وجه آخر وهو أنها تقحمهم بلاد الريف - أي تحوجهم إلى دخول الحضر عند محول البدو.

۴ - وفي حديثهعليه‌السلام

إِذَا بَلَغَ النِّسَاءُ نَصَّ الْحِقَاقِ فَالْعَصَبَةُ أَوْلَى.

والنص منتهى الأشياء ومبلغ أقصاها - كالنص في السير لأنه أقصى ما تقدر عليه الدابة - وتقول نصصت الرجل عن الأمر - إذا استقصيت مسألته عنه لتستخرج ما عنده فيه - فنص الحقاق يريد به الإدراك لأنه منتهى الصغر - والوقت الذي يخرج منه الصغير إلى حد الكبير - وهو من أفصح الكنايات عن هذا الأمر وأغربها - يقول فإذا بلغ النساء ذلك - فالعصبة أولى بالمرأة من أمها - إذا كانوا محرما مثل الإخوة والأعمام - وبتزويجها إن أرادوا ذلك -. والحقاق محاقة الأم للعصبة في المرأة - وهو الجدال والخصومة - وقول كل واحد منهما للآخر أنا أحق منك بهذا - يقال منه حاققته حقاقا مثل جادلته جدالا –

وقد قيل إن نص الحقاق بلوغ العقل وهو الإدراك - لأنهعليه‌السلام إنما أراد منتهى الأمر - الذي تجب فيه الحقوق والأحكام

ہلاکتوں میں گرادیتی ہیں اور اسی سے لفظ '' قحمتہ الاعراب '' نکلا ہے جب ایسا قحط پڑ جاتا ہے کہ جانور صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ رہجاتے ہیں اور گویا یہاس بلا میں ڈھکیل دئیے جاتے ہیں ۔یادوسرے اعتبارسے قحط سالی ان کی صحرائوں سے نکال کر شہروں کی طرف ڈھکیل دیتی ہے۔

(۴)

جب لڑکیاں نص الحقاق تکپ ہنچ جائیں تو ددھیالی قرابتدار زیادہ اولویت رکھتے ہیں۔

نص : آخری منزل کو کہا جاتا ہے۔

نصصت الرجل: یعنی جہاں تک ممکن تھا اس سے سوال کرلیا۔نص الحقاق سے مراد منزل ادراک ہے جو بچپنے کی آخری حد ہے اور یہاس سلسلہ کا بہترین کنایہ ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ جب لڑکیاں حد بلوغ تک پہنچ جاتیں ہیں تو ددھیالی رشتہ دار جو محرم بھی ہوں جیسے بھائی اورچچا وغیرہ وہ اس کا رشتہ کرنے کے لئے ماں کے مقابلہ میں زیادہ اولویت رکھتے ہیں۔اور حقاق سے ماں کا ان رشتہ داروں سے جھگڑا کرنا اور ہرایک کا اپنے کو زیادہ حقدار ثابت کرنا مراد ہے جس کے لئے کہا جاتا ہے '' حاققتہ حقاقا'' جادلتہ جدالا''

اوربعض لوگوں کا کہنا ہے کہ نص الحقاق کمال عقل ہے جب لڑکی ادراک کی اس منزل پر ہوتی ہے جہاں اس کے ذمہ فرائض واحکام ثابت ہو جاتے ہیں اور

۷۰۸

ومن رواه نص الحقائق - فإنما أراد جمع حقيقة.

هذا معنى ما ذكره أبو عبيد القاسم بن سلام -. والذي عندي أن المراد بنص الحقاق هاهنا - بلوغ المرأة إلى الحد الذي يجوز فيه تزويجها - وتصرفها في حقوقها - تشبيها بالحقاق من الإبل وهي جمع حقة وحق - وهو الذي استكمل ثلاث سنين ودخل في الرابعة - وعند ذلك يبلغ إلى الحد الذي يتمكن فيه - من ركوب ظهره ونصه في السير - والحقائق أيضا جمع حقة - فالروايتان جميعا ترجعان إلى معنى واحد - وهذا أشبه بطريقة العرب من المعنى المذكور أولا.

۵ - وفي حديثهعليه‌السلام

إِنَّ الإِيمَانَ يَبْدُو لُمْظَةً فِي الْقَلْبِ - كُلَّمَا ازْدَادَ الإِيمَانُ ازْدَادَتِ اللُّمْظَةُ.

واللمظة مثل النكتة أو نحوها من البياض - ومنه قيل فرس ألمظ - إذا كان بجحفلته شيء من البياض. 

جن لوگوں نے نص الحقائق نقل کیا ہے۔ان کے یہاں حقائق حقیقت کی جمع ہے۔یہ ساری باتیں ابو عبیدہ القاسم بن سلام نے بیان کی ہیں لیکن میرے نزدیک عورت کا قابل شادی اور قابل تصرف ہو جانا مراد ہے کہ حقاق حقہ کی جمع ہے اورحقہ وہ اونٹنی ہے جو چوتھے سال میں داخل ہو جائے اور اس وت سواری کے قابل ہو جاتی ہے ۔اور حقائق بھی حقہ ہی کے جمع کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور یہ مفہوم عرب کے اسلوب سے زیادہ ہم آہنگ ہے۔

(۵)

ایمان ایک لمظہ کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے اور پھر ایمان کے ساتھ یہ لمظہ بھی بڑھتا رہتا ہے ( لمظہ سفید نقطہ ہوتا ہے جو گھوڑے کے ہونٹ پر ظاہر ہوتا ہے )

۷۰۹

۶ - وفي حديثهعليه‌السلام

إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا كَانَ لَه الدَّيْنُ الظَّنُونُ - يَجِبُ عَلَيْه أَنْ يُزَكِّيَه لِمَا مَضَى إِذَا قَبَضَه.

فالظنون الذي لا يعلم صاحبه - أيقبضه من الذي هو عليه أم لا - فكأنه الذي يظن به - فمرة يرجوه ومرة لا يرجوه - وهذا من أفصح الكلام - وكذلك كل أمر تطلبه - ولا تدري على أي شيء أنت منه فهو ظنون - وعلى ذلك قول الأعشى:

ما يجعل الجد الظنون الذي

جنب صوب اللجب الماطر

مثل الفراتي إذا ما طما

يقذف بالبوصي والماهر

والجد البئر العادية في الصحراء - والظنون التي لا يعلم هل فيها ماء أم لا.

۷ - وفي حديثهعليه‌السلام

أنَّه شَيَّعَ جَيْشاً بِغَزْيَةٍ فَقَالَ - اعْذِبُوا عَنِ النِّسَاءِ مَا اسْتَطَعْتُمْ.

(۶)

جب کسی شخص کو دین ظنون مل جائے تو جتنے سال گزرے گئے ہوں ان کی زکوٰة واجب ہے۔

ظنون اس قرض کا نام ہے جس کے قرضدار کو یہ نہ معلوم ہو کہ وہ وصول بھی ہو سکے گا یا نہیں اور اس طرح ' طرح طرح کے خیالات پیدا ہو تے رہتے ہیں اور اسی بنیاد پر ہر ایسے امر کو ظنون کہا جاتا ہے 'جیسا کہ اعشیٰ نے کہا ہے۔

''وہ جدظنون جو گرج کربرسنے والے ابر کی بارش سے بھی محروم ہو۔اسے دریائے فرات کے مانند نہیں قرار دیا جا سکتا ے جب کہ وہ ٹھاٹھیں مار رہا ہو اور کشتی اور تیراک دونوں کوڈھکیل کر باہر پھینک رہا ہو۔''

جد۔صحراکے پرانے کنویں کوکہاجاتا ہے اور ظنون اس کوکہا جاتا ہے جس کے بارے میں یہ نہ معلوم ہو کہ اس میں پانی ہے یا نہیں ۔

(۷)

آپ نے ایک لشکر کومیدان جنگ میں بھیجتے ہوئے فرمایا : جہاں تک ممکن ہو عورتوں سے عاذبرہو یعنی ان کی یاد سے دور رہو

۷۱۰

ومعناه اصدفوا عن ذكر النساء وشغل القلب بهن - وامتنعوا من المقاربة لهن - لأن ذلك يفت في عضد الحمية - ويقدح في معاقد العزيمة ويكسر عن العدو - ويلفت عن الإبعاد في الغزو - فكل من امتنع من شيء فقد عذب عنه - والعاذب والعذوب الممتنع من الأكل والشرب.

۸ - وفي حديثهعليه‌السلام

كَالْيَاسِرِ الْفَالِجِ يَنْتَظِرُ أَوَّلَ فَوْزَةٍ مِنْ قِدَاحِه. الياسرون - هم الذين يتضاربون بالقداح على الجزور - والفالج القاهر والغالب - يقال فلج عليهم وفلجهم - وقال الراجز.

لما رأيت فالجا قد فلجا

۹ - وفي حديثهعليه‌السلام

كُنَّا إِذَا احْمَرَّ الْبَأْسُ اتَّقَيْنَا بِرَسُولِ اللَّه -صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنَّا أَقْرَبَ إِلَى الْعَدُوِّ مِنْه.

۔ان میں دل مت لگائو اور ان سے مقاربت مت کرو کہ یہ طریقہ کار بازوئے حمیت میں کمزوری اور عزم کی پختگی میں سستی پیدا کردیتا ہے اور دشمن کے مقابلہ میں کمزور بنا دیتا ہے اور جنگ میں کوشش و سعی سے رو گردان کر دیتا ہے اورجوان تمام چیزوں سے الگ رہتا ہے اسے عاذب کہا جاتا ہے۔عاذب یا عذوب کھانے پینے سے دور رہنے والے کوبھی کہا جاتا ہے۔

(۸)

وہ اس یاسر فالج کے مانند ہے جو جوئے کے تیروں کا پانسہ پھینک کر پہلے ہی مرحلہ پر کامیابی کی امید لگا لیتا ہے '' یا سرون '' وہ لوگ ہیں جونحرکی ہوئی اونٹنی پر جوئے کے تیروں کا پانسہ پھینکتے ہیں اورفالج ان میں کامیاب ہو جانے والے کو کہا جاتا ہے '' فلج علیھم '' یا '' فلجھم'' اس موقع پر استعمال ہوتا ہے جب کوئی غالب آجاتا ہے 'جیسا کہ رجز خواں شاعر نے کہا ہے :

'' جب میں نے کسی فالج کو دیکھا کہ وہ کامیاب ہوگیا''

(۹)

جب احمرار باس ہوتا تھا تو ہم لوگ رسول اکرم(ص) کی(۱) پناہ میں رہا کرتے تھے اور کوئی شخص بھی آپ سے زیادہ دشمن سے قریب نہیں ہوتا تھا ''

(۱)پیغمبر اسلام (ص) کاکمال احترام ہے کہ حضرت علی جسے اشجع عرب نے آپ کے بارے میں یہ بیان دیا ہے اورآپ کی عظمت و ہیبت وشجاعت کااعلان کیا ہے ۔دوسراکوئی ہوتا تو اس کے برعکس بیان کرتا کہ میدان جنگ میں سرکار ہماری پناہ میں رہا کرتے تھے اورہم نہ ہوتے توآپ کاخاتمہ ہو جاتا لیکن امیرالمومنین جیسا صاحب کرداراس انداز کا بیان نہیں دے سکتا ہے اور نہ یہ سوچ سکتا ہے ۔آپ کی نظرمیں انسان کتنا ہی بلند کردار اورصاحب طاقت و ہمت کیوں نہ ہو جائے سرکار دو عالم (ص) کا امتی ہی شمار ہوگا اور امتی کا مرتبہ پیغمبر (ص) سے بلند تر نہیں ہو سکتا ہے۔

۷۱۱

ومعنى ذلك أنه إذا عظم الخوف من العدو - واشتد عضاض الحرب - فزع المسلمون إلى قتال رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بنفسه - فينزل الله عليهم النصر به - ويأمنون مما كانوا يخافونه بمكانه.

وقوله إذا احمر البأس - كناية عن اشتداد الأمر - وقد قيل في ذلك أقوال - أحسنها أنه شبه حمي الحرب - بالنار التي تجمع الحرارة والحمرة بفعلها ولونها - ومما يقوي ذلك - قول رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وقد رأى مجتلد الناس - يوم حنين وهي حرب هوازن - الآن حمي الوطيس - فالوطيس مستوقد النار - فشبه رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ما استحر من جلاد القوم - باحتدام النار وشدة التهابها.

انقضى هذا الفصل ورجعنا إلى سنن الغرض الأول في هذا الباب.

۲۶۱ - وقَالَعليه‌السلام لَمَّا بَلَغَه إِغَارَةُ أَصْحَابِ مُعَاوِيَةَ عَلَى الأَنْبَارِ - فَخَرَجَ بِنَفْسِه مَاشِياً حَتَّى أَتَى النُّخَيْلَةَ - وأَدْرَكَه النَّاسُ

اس کا مطلب یہ ہے کہ جب دشمن کاخطرہ بڑھ جاتا تھا اور جنگ کی کاٹ شدید ہو جاتی تھی تو مسلمان میدان میں رسول اکرم (ص) کی پناہ تلاش کیا کرتے تھے اور آپ پر نصرت الٰہی کا نزول ہو جاتا تھا اور مسلمانوں کو امن و امان حاصل ہوجاتا تھا۔

احمر الباس درحقیقت سختی کا کنایہ ہے۔جس کے بارے میں مختلف اقوال پائے جاتے ہیں اور سب سے بہتر قول یہ ہے کہ جنگ کی تیزی اور گرمی کو آگیس تشبیہ دی گئی ہے جس میں گرمی اور سرخی دونوں ہوتی ہیں اوراس کا موید سرکار دو عالم (ص) کا یہ ارشاد ہے کہ آپ نے حنین کے دن قبیلہ بنی ہوازن کی جنگ میں لوگوں کوجنگ کرتے دیکھا تو فرمایا کہ اب وطیس گرم ہوگیا ہے یعنی آپ نے میدان کا رزار کی گرم بازاری کو آگ کے بھڑکنے اور اس کے شعلوں سے تشبیہ دی ہے۔کہ وطیس اس جگہ کوکہتے ہیں جہاں آگ بھڑکائی جاتی ہے۔

یہ فصل تمام ہوگئی اورپھر گذشتہ باب کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے ۔

(۲۶۱)

جب آپ کو اطلاع دی گئی کہ معاویہ کے اصحاب نے انبار پر حملہ کردیا ہے تو آپ بہ نفس نفیس نکل کر نخیلہ تک تشریف لے گئے اور کچھ لوگ بھی آپ کے

۷۱۲

وقَالُوا - يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ نَحْنُ نَكْفِيكَهُمْ - فَقَالَ:

مَا تَكْفُونَنِي أَنْفُسَكُمْ - فَكَيْفَ تَكْفُونَنِي غَيْرَكُمْ - إِنْ كَانَتِ الرَّعَايَا قَبْلِي لَتَشْكُو حَيْفَ رُعَاتِهَا - وإِنَّنِي الْيَوْمَ لأَشْكُو حَيْفَ رَعِيَّتِي - كَأَنَّنِي الْمَقُودُ وهُمُ الْقَادَةُ - أَوِ الْمَوْزُوعُ وهُمُ الْوَزَعَةُ !

فلما قالعليه‌السلام هذا القول في كلام طويل - قد ذكرنا مختاره في جملة الخطب - تقدم إليه رجلان من أصحابه - فقال أحدهما إني لا أملك إلا نفسي وأخي - فمر بأمرك يا أمير المؤمنين ننقد له - فقالعليه‌السلام

وأَيْنَ تَقَعَانِ مِمَّا أُرِيدُ

۲۶۲ - وقِيلَ إِنَّ الْحَارِثَ بْنَ حَوْطٍ أَتَاه فَقَالَ - أَتَرَانِي أَظُنُّ أَصْحَابَ الْجَمَلِ كَانُوا عَلَى ضَلَالَةٍ ؟

فَقَالَعليه‌السلام يَا حَارِثُ إِنَّكَ نَظَرْتَ تَحْتَكَ ولَمْ تَنْظُرْ فَوْقَكَ

ساتھ پہنچ گئے اورکہنے لگے کہ آپ تشریف رکھیں۔ہم لوگ ان دشمنوں کے لئے کافی ہیں ۔تو آپ نے فرمایا کہ تم لوگ اپنے لئے کافی نہیں ہو تو دشمن کے لئے کیا کافی ہو سکتے ہو۔تم سے پہلے رعایا حکام کے ظلم سے فریادی تھی اورآج میں رعایا کے ظلم سے فریاد کر رہا ہوں۔جیسے کہ یہی لوگ قائد ہیں اور میں رعیت ہوں۔میں حلقہ بگوش ہوں اوریہ فرمانروا۔

جس وقت آپ نے یہ کلام ارشاد فرمایا جس کا ایک حصہ خطبوں کے ذیل میں نقل کیا جا چکا ہے تو آپکے اصحاب میں سے دو افراد آگے بڑھے جن میں سے ایک نے کہا کہ میں اپنا اور اپنے بھائی کا ذمہ دار ہوں۔آپ حکم دیں ہم تعمیل کے لئے تیار ہیں آپ نے فرمایا کہ میں جو کچھ چاہتا ہوں تمہارا اس سے کیا تعلق ہے۔

(۲۶۲)

کہا جاتا ہے کہ حارث بن جوط نے آپ کے پاس آکر یہ کہا کہ کیا آپ کا یہ خیال ہے کہ میں اصحاب جمل کو گمراہ مان لوں گا ؟ تو آپ نے فرمایا کہ اے حارث! تم نے اپنے نیچے(۱) کی طرف دیکھاہے اوراوپر نہیں دیکھا ہے

(۱)یہ بات اس شخص سے کہی جاتی ہے جس کی نگاہ انتہائی محدود ہوتی ہے اورانپے زیر قدم اشیاء سے زیادہ دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے ورنہ انسان کی نگاہ بلندہو جائے تو بہت سے حقاق کا ادراک کر سکتی ہے۔حارث کا سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ اس نے صرف ام المومنین کی زوجیت پر نگاہ کی ہے اور طلحہ و زبیر کی صحابیت پر۔اورایسی محدود نگاہ رکھنے والا انسان حقاق کا ادراک نہیں کر سکتا ہے۔حقائق کا معیار قرآن و سنت ہے جس میں زوجہ کو گھرمیں بیٹھنے کی تلقین کی گئی ہے اور انسان کو بیعت شکنی سے منع کیا گیا ہے۔حقائق کامعیار کسی کی زوجیت یا صحابیت نہیں ہے ' ورنہ زوجہ نوح اور زوجہ لوط کو قابل مذمت نہ قراردیا جاتا اور اصحاب موسیٰ کی صریحی مذمت نہ کی جاتی ۔

۷۱۳

فَحِرْتَ - إِنَّكَ لَمْ تَعْرِفِ الْحَقَّ فَتَعْرِفَ مَنْ أَتَاه ولَمْ تَعْرِفِ الْبَاطِلَ فَتَعْرِفَ مَنْ أَتَاه.

فَقَالَ الْحَارِثُ فَإِنِّي أَعْتَزِلُ مَعَ سَعِيدِ بْنِ مَالِكٍ وعَبْدِ اللَّه بْنِ عُمَرَ - فَقَالَعليه‌السلام

إِنَّ سَعِيداً وعَبْدَ اللَّه بْنَ عُمَرَ لَمْ يَنْصُرَا الْحَقَّ - ولَمْ يَخْذُلَا الْبَاطِلَ.

۲۶۳ - وقَالَ عليهلسلام صَاحِبُ السُّلْطَانِ كَرَاكِبِ الأَسَدِ - يُغْبَطُ بِمَوْقِعِه وهُوَ أَعْلَمُ بِمَوْضِعِه.

۲۶۴ - وقَالَعليه‌السلام أَحْسِنُوا فِي عَقِبِ غَيْرِكُمْ تُحْفَظُوا فِي عَقِبِكُمْ

۲۶۵ - وقَالَعليه‌السلام إِنَّ كَلَامَ الْحُكَمَاءِ إِذَا كَانَ صَوَاباً كَانَ دَوَاءً - وإِذَا كَانَ خَطَأً كَانَ دَاءً.

۲۶۶ - وسَأَلَه رَجُلٌ أَنْ يُعَرِّفَه الإِيمَانَ

اسی لئے حیران ہوگئے ہو۔تم حق ہی کو نہیں پہچانتے ہو تو کیا جانو کہ حقدار کون ہے اور باطل ہی کو نہیں جانتے ہو تو کیا جانو کہ باطل پرست کون ہے ۔

حارث نے کہا کہ میں سعید بن مالک اورعبداللہ بن عمر کے ساتھ گوشہ نشین ہوجائوں گا توآپنے فرمایاکہ سعید اورعبداللہ بن عمرنے نہ حق کی مدد کی ہے اورنہ ابطل کو نظر انداز کیا ہے (نہ ادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے )

(۲۶۳)

بادشاہ کا مصاحب(۱) شیرکاسوار ہوتا ہے کہ لوگ اس کے حالات پر رشک کرتے ہیں اور وہ خود اپنی حالت کو بہتر پہچانتا ہے۔

(۲۶۴)

دوسروں کے پسماندگان سے اچھا برتائو کرو تاکہ لوگ تمہارے پسماندگان کے ساتھ بھی اچھا برتائو کریں ۔

(۲۶۵)

حکماء کا کلام درست ہوتا ہے تو دوا بن جاتا ہے اور غلط ہوتا ہے تو بیماری بن جاتا ہے ۔

(۲۶۶)

ایک شخص نے آپ سے مطالبہ کیا کہ ایمان کی تعریف فرمائیں

(۱)حقیقت امر یہ ہے کہ مصاحبتکی زندگی دیکھنے میں انتہائی حسین دکھائی دیتی ہے کہ سارا امرو نہی کا نظام بظاہرمصاحب کے ہاتھ میں ہوتا ہے لیکن اسکاواقعی حیثیت کیا ہوتی ہے یہ اسی کادل جانتا ہے کہ نہ صاحب اقتدار کے مزاج کا کوئی بھروسہ ہوتاہے اور نہ مصاحبت کے عہدہ اقتدارکا۔

رب کریم ہر انسان کوایسی بلائوں سے محفوظ رکھے جن کا ظاہر انتہائی حسین ہوتا ہے اور واقع انتہائی سنگین اور خطر ناک۔

۷۱۴

فَقَالَعليه‌السلام إِذَا كَانَ الْغَدُ - فَأْتِنِي حَتَّى أُخْبِرَكَ عَلَى أَسْمَاعِ النَّاسِ - فَإِنْ نَسِيتَ مَقَالَتِي حَفِظَهَا عَلَيْكَ غَيْرُكَ - فَإِنَّ الْكَلَامَ كَالشَّارِدَةِ يَنْقُفُهَا هَذَا ويُخْطِئُهَا هَذَا.

وقد ذكرنا ما أجابه به - فيما تقدم من هذا الباب وهو قوله - الإيمان على أربع شعب.

۲۶۷ - وقَالَعليه‌السلام يَا ابْنَ آدَمَ لَا تَحْمِلْ هَمَّ يَوْمِكَ الَّذِي لَمْ يَأْتِكَ - عَلَى يَوْمِكَ الَّذِي قَدْ أَتَاكَ - فَإِنَّه إِنْ يَكُ مِنْ عُمُرِكَ يَأْتِ اللَّه فِيه بِرِزْقِكَ.

۲۶۸ - وقَالَعليه‌السلام أَحْبِبْ حَبِيبَكَ هَوْناً مَا - عَسَى أَنْ يَكُونَ بَغِيضَكَ يَوْماً مَا - وأَبْغِضْ بَغِيضَكَ هَوْناً مَا - عَسَى أَنْ يَكُونَ حَبِيبَكَ يَوْماً مَا.

توفرمایا کہ کل آنا تومیں مجمع عام میں بیان کروں گا تاکہ تم بھول جائو تو دوسرے لوگ محفوظ رکھ سکیں۔ اس لئے کہ کلام بھڑکے ہوئے شکار کے مانند ہوتا ہے کہ ایک پکڑ لیتا ہے اورایک کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے ( مفصل جواب اس سے پہلے ایمان کے شعبوں کے ذیل میں نقل کیا جا چکا ہے )

(۲۶۷)

فرزند آدم ! اس دن کاغم جو ابھی نہیں آیا ہے اس دن پر مٹ ڈالو جوآچکا ہے۔کہ اگر وہ تمہاری عمرمیں شامل ہوگا تو اس کا رزق بھی اس کے ساتھ ہی آئے گا۔

(۲۶۸)

اپنے دوست سے ایک محدود حد تک دوستی کرو کہیں ایسا(۱) نہ کہ ایک دن دشمن ہو جائے اوردشمن سے بھی ایک حد تک دشمنی کرو شائد ایک دن دوست بن جائے ( تو شرمندگی نہ ہو)

(۱)یہ ایک انتہائی عظیم معاشرتی نکتہ ہے جس کا اندازہ ہراس انسان کو ہے جس نے معاشرہ میں آنکھ کھول کر زندگی گذاری ہے اوراندھوں جیسی زندگی نہیں گذاری ہے۔اس دنیاکے سردو گرم کا تقاضا یہی ہے کہ یہاں افراد سے ملنا بھی پڑتا ہے اور کبھی الگ بھی ہونا پڑتا ہے۔لہٰذا تقاضائے عقل مندی یہی ہے کہ زندگی میں ایسا اعتدال رکھے کہاگر الگ ہونا پڑے تو سارے اسرار دوسرے کے قبضہ میں نہ ہوں کہ اس کا غلام بن کر رہ جائے اوراگرملنا پڑے تو ایسے حالات نہ ہوں کہ شرمندگی کے علاوہ اورکچھ ہاتھ نہ آئے ۔

۷۱۵

۲۶۹ - وقَالَعليه‌السلام النَّاسُ فِي الدُّنْيَا عَامِلَانِ - عَامِلٌ عَمِلَ فِي الدُّنْيَا لِلدُّنْيَا - قَدْ شَغَلَتْه دُنْيَاه عَنْ آخِرَتِه - يَخْشَى عَلَى مَنْ يَخْلُفُه الْفَقْرَ ويَأْمَنُه عَلَى نَفْسِه - فَيُفْنِي عُمُرَه فِي مَنْفَعَةِ غَيْرِه - وعَامِلٌ عَمِلَ فِي الدُّنْيَا لِمَا بَعْدَهَا - فَجَاءَه الَّذِي لَه مِنَ الدُّنْيَا بِغَيْرِ عَمَلٍ - فَأَحْرَزَ الْحَظَّيْنِ مَعاً ومَلَكَ الدَّارَيْنِ جَمِيعاً - فَأَصْبَحَ وَجِيهاً عِنْدَ اللَّه - لَا يَسْأَلُ اللَّه حَاجَةً فَيَمْنَعُه.

۲۷۰ - ورُوِيَ أَنَّه ذُكِرَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي أَيَّامِه - حَلْيُ الْكَعْبَةِ وكَثْرَتُه فَقَالَ قَوْمٌ:لَوْ أَخَذْتَه فَجَهَّزْتَ بِه جُيُوشَ الْمُسْلِمِينَ - كَانَ أَعْظَمَ لِلأَجْرِ ومَا تَصْنَعُ الْكَعْبَةُ بِالْحَلْيِ - فَهَمَّ عُمَرُ بِذَلِكَ وسَأَلَ عَنْه أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَعليه‌السلام - فَقَالَعليه‌السلام :

(۲۶۹)

دنیا میں دو طرح کے عمل کرنے والے پائے جاتے ہیں۔ایک وہ ہے جو دنیا میں دنیا ہی کے لئے کام کرتا ہے اوراسے دنیا نے آخرت سے غافل بنادیا ہے وہ اپنے بعد والوں(۱) کے فقرسے خوفزدہ رہتا ہے اور اپنے بارے میں بالکل مطمئن رہتا ہے ۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ساری زندگی دوسروں کے فائدہ کے لئے فنا کر دیتا ہے۔اور ایک شخص وہ ہوتا ہے جو دنیا میں اس کے بعد کے لئے عمل کرتا ہے اوراسے دنیا بغیر عمل کے مل جاتی ہے۔وہ دنیا و آخرت دونوں کو پالیتا ہے اوردونوں گھروں کامالک ہو جاتا ہے ۔ خدا کی بارگاہ میں سر خرو ہوجاتا ہے اور کسی بھی حاجت کاسوال کرتا ہ تو پروردگار اسے پورا کردیتا ہے۔

(۲۷۰)

روایت میں وارد ہوا ہے کہ عمر بن الخطاب کے سامنے ان کے دور حکومت میں خانۂ کعبہ کے زیورات اوران کی کثرت کا ذکر کیا گیا اور ایک قوم نے یہ تقاضا کیا کہ اگر آپ ان زیورات کو مسلمانوں کے لشکر پرصرف کردیں تو بہت بڑا اجرو ثواب ملے گا،کعبہ کو ان زیورات کی کیا ضرورت ہے؟تو انہوں نے اس رائے کو پسند کرتے ہوئے حضرت امیر سے دریافت کرلیا۔آپ نے فرمایا

(۱)دور قدیم میں اس کا نام دور اندیشی رکھا جاتاتھا جہاں انسان صبح و شام محنت کرنے کے باوجود نہ مال اپنی دنیا پر صرف کرتا تھا اور نہ آخرت پر۔بلکہ اپنے وارثوں کے لئے ذخیرہ بنا کر چلا جاتا تھا اس غریب کو یہ احساس بھی نہیں تھاکہ جب اسے خود اپنی عاقبت بنانے کی فکر نہیں ہے تو ورثاء کو اس کی عاقبت سے کیادلچسپی ہوسکتی ہے۔وہ تو ای کمال غنیمت کے مالک ہوگئے ہیں اور جس طرح چاہیں گے اسی طرح صرف کریں گے ۔

۷۱۶

إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - والأَمْوَالُ أَرْبَعَةٌ أَمْوَالُ الْمُسْلِمِينَ - فَقَسَّمَهَا بَيْنَ الْوَرَثَةِ فِي الْفَرَائِضِ - والْفَيْءُ فَقَسَّمَه عَلَى مُسْتَحِقِّيه - والْخُمُسُ فَوَضَعَه اللَّه حَيْثُ وَضَعَه - والصَّدَقَاتُ فَجَعَلَهَا اللَّه حَيْثُ جَعَلَهَا - وكَانَ حَلْيُ الْكَعْبَةِ فِيهَا يَوْمَئِذٍ - فَتَرَكَه اللَّه عَلَى حَالِه - ولَمْ يَتْرُكْه نِسْيَاناً ولَمْ يَخْفَ عَلَيْه مَكَاناً - فَأَقِرَّه حَيْثُ أَقَرَّه اللَّه ورَسُولُه - فَقَالَ لَه عُمَرُ لَوْلَاكَ لَافْتَضَحْنَا - وتَرَكَ الْحَلْيَ بِحَالِه.

۲۷۱ - رُوِيَ أَنَّهعليه‌السلام رُفِعَ إِلَيْه رَجُلَانِ سَرَقَا مِنْ مَالِ اللَّه - أَحَدُهُمَا عَبْدٌ مِنْ مَالِ اللَّه - والآخَرُ مِنْ عُرُوضِ النَّاسِ.

فَقَالَعليه‌السلام أَمَّا هَذَا فَهُوَ مِنْ مَالِ اللَّه ولَا حَدَّ عَلَيْه - مَالُ اللَّه أَكَلَ بَعْضُه بَعْضاً -

کہ یہ قرآن پیغمبر اسلام (ص) پر نازل ہواہے اور آپ کے دورمیں اموال کی چار قسمیں تھیں۔ایک مسلمان کاذاتی مال تھا جسے حسب فرائض و رثاء میں تقسیم کردیا کرتے تھے ۔ایک بیت المال کامال تھاجسے مستحقین میں تقسیم کرتے تھے ۔ایک خمس تھا جسے اس کے حقداروں کے حوالہ کردیتے تھے ۔اور کچھ صدقات تھے جنہیں انہیں کے محل پر صرف کیاکرتے تھے ۔کعبہ کے زیورات اس وقت بھی موجود تھے اورپروردگار نے انہیں اسی حالت میں چھوڑ رکھا تھا۔نہ رسول اکرم (ص) انہیں بھولے تھے اور نہان کا وجود آپ سے پوشیدہ تھا۔لہٰذا انہیں اسی حالت پر رہنے دیں جس حالت پرخدا(۱) اور رسول(ص) نے رکھا ہے۔ یہ سننا تھا کہ عمر نے کہا آج اگر آپ نہ ہوتے تو میں رسوا ہوگیا ہوتا اور یہ کہہ کر زیورات کو ان کی جگہ چھوڑ دیا۔

(۲۷۱)

کہا جاتا ہے کہ آپ کے سامنے دو آدمیوں کوپیش کیا گیا جنہوں نے بیت المال سے مال چرایا تھا ایک ان میں سے غلام اور بیت المال کی ملکیت تھا اور دوسرا لوگوں میں سے کسی کی ملکیت تھا۔آپ نے فرمایا کہ جو بیت المال کی ملکیت ہے اس پر کوئی حد نہیں ہے کہ مال خداکے ایک حصہ نے دوسرے حصہ کو کھالیا ہے۔ لیکن

(۱)یہ صورت حال بظاہر خانہ کعبہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ تمام مقدس مقامات کایہی حال ہے کہ ان کے زینت و آرائش کے اسباب اگرضروری ہیں توان کا تحفظ بھی ضروری ہے۔لیکن اگر ان کی کوئی افادیت نہیں ہے توان کے بارے میں ذمہ دار ان شریعت سے رجوع کرکے صحیح مصرف میں لگا دینا چاہیے۔بقول شخصے بجلی کے دورمیں موم بتی اورخوشبو کے دورمیں اگر بتی کے تحفظ کی کوئی ضرورت نہیں ہے یہی پیسہ اسی مقدس مقام کے دیگر ضرورت پر صرف کیا جا سکتا ہے۔

۷۱۷

وأَمَّا الآخَرُ فَعَلَيْه الْحَدُّ الشَّدِيدُ فَقَطَعَ يَدَه.

۲۷۲ - وقَالَ عليهلامي لَوْ قَدِ اسْتَوَتْ قَدَمَايَ مِنْ هَذِه الْمَدَاحِضِ لَغَيَّرْتُ أَشْيَاءَ.

۲۷۳ - وقَالَعليه‌السلام اعْلَمُوا عِلْماً يَقِيناً أَنَّ اللَّه لَمْ يَجْعَلْ لِلْعَبْدِ - وإِنْ عَظُمَتْ حِيلَتُه واشْتَدَّتْ طَلِبَتُه - وقَوِيَتْ مَكِيدَتُه – أَكْثَرَ مِمَّا سُمِّيَ لَه فِي الذِّكْرِ الْحَكِيمِ - ولَمْ يَحُلْ بَيْنَ الْعَبْدِ فِي ضَعْفِه وقِلَّةِ حِيلَتِه - وبَيْنَ أَنْ يَبْلُغَ مَا سُمِّيَ لَه فِي الذِّكْرِ الْحَكِيمِ - والْعَارِفُ لِهَذَا الْعَامِلُ بِه - أَعْظَمُ النَّاسِ رَاحَةً فِي مَنْفَعَةٍ - والتَّارِكُ لَه الشَّاكُّ فِيه - أَعْظَمُ النَّاسِ شُغُلًا فِي مَضَرَّةٍ - ورُبَّ مُنْعَمٍ عَلَيْه مُسْتَدْرَجٌ بِالنُّعْمَى - ورُبَّ مُبْتَلًى مَصْنُوعٌ لَه بِالْبَلْوَى - فَزِدْ أَيُّهَا الْمُسْتَنْفِعُ فِي شُكْرِكَ -

دوسرے پر شدید حد جاری کی جائے گی۔جس کے بعد اس کے ہاتھ کاٹ دئیے گئے۔

(۲۷۲)

اگر ان پھسلنے والی جگہوں پر میرے قدم جم گئے تو میں بہت سی چیزوں کو بدل دوں گا(جنہیں پیشر و خلفاء نے ایجاد کیا ہے اور جن کا سنت پیغمبر (ص) سے کوئی تعلق نہیں ہے )

(۲۷۳)

یہ بات یقین کے ساتھ جان لو کہ پروردگار نے کسی بندہ کے لئے اس سے زیادہ نہیں قرار دیا ہے جتنا کتاب حکیم میں بیان کردیا گیا ہے چاہے اس کی تدبیر کتنی ہی عظیم ' اس کی جستجو کتنی ہی شدید اور اس کی ترکیبیں کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔اور اسی طرح وہ بندہ تک اس کامقسوم پہنچنے کی راہمیں کبھی حائل نہیں ہوتا ہے چاہے وہ کتنا ہی کمزور اور بیچارہ کیوں نہ ہو۔جو اس حقیقت کو جانتا ہے اوراس کے مطابق عمل کرتا ہے وہی سب سے زیادہ راحت اور فائدہ میں رہتا ہے اورجواس حقیقت کو نظرانداز کر دیتا ہے اور اس میں شک کرتا ہے ' وہی سب سے زیادہ نقصان میں مبتلا ہوتا ہے۔کتنے ہی افراد ہیں جنہیں نعمتیں دی جاتی ہیں اور انہیں کے ذریعہ عذاب کی لپیٹ میں لے لیا جاتا ہے۔اور کتنے ہی افراد ہیں جومبتلائے مصیبت ہوتے ہیں لیکن یہی ابتلاء ان کے حق میں باعث برکت بن جاتی ہے ۔لہٰذا اے فائدہ کے طلب گارو! اپنے لشکر میں اضافہ کرو

۷۱۸

وقَصِّرْ مِنْ عَجَلَتِكَ - وقِفْ عِنْدَ مُنْتَهَى رِزْقِكَ.

۲۷۴ - وقَالَعليه‌السلام لَا تَجْعَلُوا عِلْمَكُمْ جَهْلًا ويَقِينَكُمْ شَكَّاً - إِذَا عَلِمْتُمْ فَاعْمَلُوا وإِذَا تَيَقَّنْتُمْ فَأَقْدِمُوا.

اور اپنی جلدی کم کردو اور اپنے رزق کی حدوں پر ٹھہر جائو

(۲۷۴)

خبردار! اپنے علم کو جہل نہ بنائو اور اپنے یقین کو شک نہ قرار دو۔

جب جان لو تو عمل(۱) کرو اور جب یقین ہوجائے تو قدم آگے بڑھائو۔

(۱)امام علیہ السلام کی نظرمیں علم اور یقین کے ایک مخصوص معنی ہیں جن کااظہار انسان کے کردار سے ہوتا ہے ۔آپ کی نگاہ میں علم صرف جاننے کا نام نہیں ہے اور نہ یقین صرف اطمینان قلب کا نام ہے بلکہ دونوں کے وجود کا ایک فطری تقاضا ہے جس سے ان کی واقعیت اور اصالت کا اندازہ ہوتا ہے کہ انسان واقعاً جب علم ہے تو باعمل بھی ہوگا اور واقعاً صاحب یقین ہے تو قدم بھی آگے بڑھائے گا۔ایسا نہ ہوتو علم جہل کہے جانے کے قابل ہے اور یقین شک سے بالا تر نہیں ہے۔

۷۱۹

۲۷۵ - وقَالَعليه‌السلام إِنَّ الطَّمَعَ مُورِدٌ غَيْرُ مُصْدِرٍ وضَامِنٌ غَيْرُ وَفِيٍّ - ورُبَّمَا شَرِقَ شَارِبُ الْمَاءِ قَبْلَ رِيِّه - وكُلَّمَا عَظُمَ قَدْرُ الشَّيْءِ الْمُتَنَافَسِ فِيه - عَظُمَتِ الرَّزِيَّةُ لِفَقْدِه - والأَمَانِيُّ تُعْمِي أَعْيُنَ الْبَصَائِرِ - والْحَظُّ يَأْتِي مَنْ لَا يَأْتِيه.

۲۷۶ - وقَالَعليه‌السلام اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ - مِنْ أَنْ تُحَسِّنَ فِي لَامِعَةِ الْعُيُونِ عَلَانِيَتِي - وتُقَبِّحَ فِيمَا أُبْطِنُ لَكَ سَرِيرَتِي - مُحَافِظاً عَلَى رِثَاءِ النَّاسِ مِنْ نَفْسِي - بِجَمِيعِ مَا أَنْتَ مُطَّلِعٌ عَلَيْه مِنِّي - فَأُبْدِيَ لِلنَّاسِ حُسْنَ ظَاهِرِي - وأُفْضِيَ إِلَيْكَ بِسُوءِ عَمَلِي - تَقَرُّباً إِلَى عِبَادِكَ وتَبَاعُداً مِنْ مَرْضَاتِكَ.

(۲۷۵)

لالچ جہاں وارد کردیتی ہے وہاں سے نکلنے نہیں دیتی ہے اور یہ ایک ایسی ضمانت(۱) دار ہے جو وفادار نہیں ہے۔کہ کبھی کبھی تو پانی پینے والے کو سیرابی سے پہلے ہی اچھو لگ جاتا ہے اورجس قدر کسی مرغوب چیزکی قدر و منزلت زیادہ ہوتی ہے اس کے کھوجانے کا رنج زیادہ ہوتا ہے۔آرزوئیں دیدہ بصیرت کو اندھا بنا دیتی ہیں اور جوکچھ نصیب میں ہوتا ہے وہ بغیر کوشش کے بھی مل جاتا ہے۔

(۲۷۶)

خدایا(۲) میں اس بات سے پناہ چاہتا ہوں کہ لوگوں کی ظاہری نگاہ میں میرا ظاہرحسین ہو اور جو باطن تیرے لئے چھپائے ہوئے ہوں وہ قبیح ہو۔میں لوگوں کے دکھاوے کے لئے ان چیزوں کی نگہداشت کروں جن پر تو اطلاع رکھتا ہے کہ لوگوں پر حسن ظاہر کا مظاہرہ کروں اورتیری بارگاہ میں بدترین عمل کے ساتھ حاضری دوں۔تیرے بندوں سے قربت اختیار کروں اور تیری مرضی سے دورہو جائوں۔

(۱)لالچ انسان کو ہزاروں چیزوں کا یقین دلا دیتی ہے اور اس سے وعدہ بھی کرلیتی ہے لیکن وقت پر وفا نہیں کرتی ہے اور بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ سیراب ہونے سے پہلے ہی اچھو لگ جاتا ہے اور سیراب ہونے کی نوبت ہی نہیں آتی ہے۔لہٰذا تقاضائے عقل و دانش یہی ہے کہ انسان لالچ سے اجتناب کرے اور بقدر ضرورت پر اکتفا کرے جو بہرحال اسے حاصل ہونے والا ہے۔

(۲)عام طور سے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ عوام الناس کے سامنے آنے کے لئے اپنے ظاہر کو پاک و پاکیزہ اورحسین و جمیل بنا لیتے ہیں اور یہ خیال ہی نہیں رہ جاتا ہے کہ ایک دن اس کابھی سامنا کرنا ہے جو ظاہر کونہیں دیکھتا ہے بلکہ باطن پر نگاہ رکھتا ہے اور اسرار کابھی حساب کرنے والا ہے ۔

مولائے کائنات نے عالم انسانیت کواسی کمزوری کی طرف متوجہ کرنے کے لئے اس دعاکا لہجہ اختیار کیا ہے جہاں دوسروں پر براہ راست تنقید بھی نہ ہو اور اپنا پیغام بھی تمام افراد تک پہنچ جائے شائد انسانوں کو یہ احساس پیدا ہو جائے کہ عوام الناس کا سامناکرنے سے زیادہ اہمیت مالک کے سامنے جانے کی ہے اور اس کے لئے باطل کا پاک و صاف رکھنا بے حد ضروری ہے۔

۷۲۰

721

722

723

724

725

726

727

728

729

730

731

732

733

734

735

736

737

738

739

740

741

742

743

744

745

746

747

748

749

750

751

752

753

754

755

756

757

758

759

760

761

762

763

764

765

766

767

768

769

770

771

772

773

774

775

776

777

778

779

780

781

782

783

784

785

786

787

788

789

790

791

792

793

794

795

796

797

798

799

800

801

802

803

804

805

806

807

808

809

810

811

812

813

814

815

816

817

818

819

820

821

822

823

824

825

826

827

828

829

830

831

832

833

834

835

836

837

838

839

840

841

842

843

844

845

846

847

848

849

850

851

852

853

854

855

856

857

858

859

860

861

862

863