نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)6%

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ) مؤلف:
: علامہ السید ذیشان حیدر جوادی قدس سرہ
زمرہ جات: متن احادیث
صفحے: 863

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 863 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 656747 / ڈاؤنلوڈ: 15924
سائز سائز سائز
نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

کہ اسے حکومت کی نگرانی میں میرے پاس بھیج دیا جائے _جب عبداللہ بن مسعود مدینہ میں وارد ہوا تو خلیفہ منبر پر تھے جیسے ہی انکی نظر عبداللہ بن مسعود پر پڑی تو کہنے لگے بُرا جانورداخل ہوگیا ہے ( اور بہت سی گالیاں دیں قلم جنہیں لکھنے سے شرم محسوس کرتا ہے) عبداللہ بن مسعود کہنے لگے میں ایسا نہیں ہوں،میں رسولخدا(ص) کا صحابی ہوں_ جنگ بدر اور بیعت رضوان میں شریک تھا_

حضرت عائشےہ ،عبداللہ کی حمایت کے لیے اٹھیں لیکن حضرت عثمان کا غلام ،عبداللہ کو مسجد سے باہر لے گیا اور انہیں زمین پر پٹخا اور انکی پسلیاں توڑدیں(۱)

۳: بلاذری اپنی اُسی کتاب انساب الاشراف میں نقل کرتے ہیں کہ مدینہ کے بیت المال میں بعض جواہرات اور زیورات تھے حضرت عثمان نے ان میں سے کچھ زیورات اپنے گھروالوں کو بخش دیئےجب لوگوں نے دیکھا تو کھلے عام اعتراض شروغ کردیا اور انکے بارے میں سخت وگھٹیا باتیں کہیں حضرت عثمان کو غصہ آگیا اور وہ منبر پر گئے اور خطبہ کے دوران کہا ہم غنائم میں سے اپنی ضرورت کے مطابق اٹھائیں گے اگرچہ لوگوں کی ناک زمین پر رگڑی جائے

اس پر حضرت علی _ نے کہا کہ '' مسلمان خود تمہارا راستہ روک لیں گے''

جناب عمّار یاسر نے کہا: سب سے پہلے میری ناک زمین پر رگڑی جائے گی

( اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ میں تنقید سے باز نہیں آؤنگا)

حضرت عثمان کو غصہ آگیا اور کہنے لگے تو نے میری شان میں گستاخی کی ہے_ اس کو گرفتار

____________________

۱) انساب الاشراف، جلد ۶ ص ۱۴۷، تاریخ ابن کثیر، جلد ۷ ص ۱۶۳و ۱۸۳ حوادث سال ۳۲ ( خلاصہ)_

۶۱

کر لو_ لوگوں نے جناب عمّار کو پکڑ لیا اور عثمان کے گھر لے گئے وہاں انہیں اسقدر ماراگیا کہ وہ بے ہوش ہوگئے_ اس کے بعد انہیں جناب ام سلمہ ( زوجہ پیغمبر (ص) کے گھر لایا گیا وہ اس وقت بے ہوشی کے عالم میں تھے یہاںتک کہ انکی ظہر، عصر اور مغرب کی نماز قضاء ہوگئی_ جب انہیں ہوش آیا تو انہوں نے وضو کرکے نماز ادا کی اور کہنے لگے یہ پہلی بار نہیں ہے کہ ہمیں خدا کی خاطر اذیت و آزار پہنچائی جارہی ہے_(۱) ( ان واقعات کی طرف اشارہ تھا جنکا زمانہ جاہلیت میں کفار کیطرف سے انہیں سامنا کرنا پڑا تھا)_

ہم ہرگز مائل نہیں ہیں کہ تاریخ اسلام کے اس قسم کے ناگوار حوادث کو نقل کریں ( ترسم آزردہ شوی ورنہ سخن بسیار است) اگر ہمارے بھائی تمام صحابہ اور انکے تمام کاموں کے تقدّس پر اصرار نہ کرتے تو شاید اتنی مقدارکے نقل کرنے میں بھی مصلحت نہیں تھی_ اب سوال یہ ہے کہ اصحاب رسول(ص) میں سے تین پاکیزہ ترین افراد ( سعد بن معاذ ،عبداللہ ابن مسعود اور عمار یاسر) کو گالیاں دینے اور مارنے پٹینے کی کیا تو جیہ ہوسکتی ہے؟ ایک باعظمت صحابی کو اتنا مارا جائے کے اسکی پسلیاں ٹوٹ جائیں اور دوسرے کو اتنا مارا جائے کہ بے ہوش ہوجائے اور اس کی نمازیں قضاہوجائیں_

کیا یہ تاریخی شواہد کہ جنکے نمونے بہت زیادہ ہیں ہمیں اجازت دیتے ہیں کہ ہم حقائق سے چشم پوشی کریں اور کہیں کہ تمام اصحاب اچھے اور انکے تمام کام صحیح تھے_ اور ایک سپاہ ''سپاہ صحابہ '' کے نام سے بنادیں اور انکے تمام کاموں کا بلا مشروط دفاع کریں_

کیا کوئی بھی عقلمند اس قسم کے افکار کو پسند کرتا ہے؟

____________________

۱) انساب الاشراف جلد ۶ ص ۱۶۱_

۶۲

اس مقام پر پھر تکرار کرتے ہیں کہ رسولخدا(ص) کے اصحاب میں مؤمن ، صالح اور پارسا افراد بہت سے تھے لیکن کچھ ایسے افراد بھی تھے جنکے کاموں پر تنقید کرنا چاہیے اور انکی تحلیل کرتے ہوئے انہیں عقل کے ترازو پر تولنا چاہیے اور اس کے بعد انکے بارے میں حکم لگانا چاہیے_

۹_ پیغمبر(ص) کے زمانے میں یا اس کے بعد بعض صحابہ پر حدّ کا جاری ہونا

صحاح ستّہ یا برادران اہلسنت کی دیگر معروف کتابوں میں کچھ موارد ایسے دیکھنے کو ملتے ہیں جن میں بعض اصحاب، رسولخدا(ص) کے زمانے میں یا اس کے بعد ایسے گناہوں کے مرتکب ہوئے جن کی حد وسزا تھی_ لہذا اُن پر حد جاری کی گئی _

کیا اس کے باوجود آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ سب عادل تھے؟ اور ان سے کوئی غلطی نہیں ہوئی؟ یہ کیسی عدالت ہے کہ ایسا گناہ کیا جائے جس پر حد جاری ہوتی ہو اور ان پرحد جاری ہونے کے بعد بھی عدالت اپنی جگہ محکم باقی رہتی ہے؟

ہم ذیل میں نمونہ کے طور پر چند موارد کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

الف) ''نعیمان'' صحابی نے شراب پی، پیغمبر اکرم (ص) نے حکم صادر فرمایا اور اسے تازیانے مارے گئے(۱)

ب) ''بنی اسلم '' قبیلہ کے ایک مرد نے زنائے محصّن کیا تھا_ پیغمبر اکرم (ص) کے حکم پر اسے سنگسار کردیا گیا(۲)

____________________

۱)صحیح بخاری ، جلد ۸ ص ۱۳، حدیث نمبر ۶۷۷۵ ، کتاب الحدّ_

۲) صحیح بخاری ، جلد ۸ ص ۲۲ ، حدیث ۶۸۲۰_

۶۳

ج) واقعہ افک میں پیغمبر اکرم (ص) کے حکم پر چند افراد پر حدّ قذف جاری کی گئی تھی(۱)

د) پیغمبر اکرم (ص) کے بعد عبدالرحمن بن عمر اور عقبہ بن حارث بدری نے شراب پی او ر مصر کے امیر عمر ابن عاص نے ان پر حدّ شرعی جاری کی _ اس کے بعد عمر نے دوبارہ اپنے بیٹے کو بلایا اور دوبارہ اس پر حدّ جاری کی(۲)

ہ) ولید بن عقبہ کا واقعہ مشہور ہے کہ اس نے شراب پی اور مستی کے عالَم میں صبح کی نماز چار رکعت پڑھا دی _ اُسے مدینہ حاضر کرکے شراب کی حد اس پر جاری کی گئی_(۳)

ان کے علاوہ اور بہت سے موارد ہیں، مصلحت کی خاطر جن کے ذکر سے اجتناب کیا جا رہا ہے_ اس کے باوجود کیا اب بھی ہم حقائق کے سامنے آنکھیں اور کان بند کرلیں اور کہہ دیں کہ سب اصحاب عادل تھے؟

۱۰_ نادرست توجیہات

۱_ تنزیہ او رہر لحاظ سے تقدّس کے نظریہ کے طرفدار جب متضاد حالات کے انبوہ سے روبرو ہوتے ہیں تو اپنے آپ کو اس توجیہ کے ساتھ قانع کرتے ہیں کہ سب صحابہ ''مجتہد'' تھے اور ہر ایک نے اپنے اجتہاد کے مطابق عمل کیا_یقیناً یہ تو ضمیر اوروجدان کو فریب دینا ہے کہ یہ برادران اس قسم کے آشکار اختلافات میں اس بوگس توجیہہ کا سہارا لیں_

____________________

۱) المعجم الکبیر، جلد ۲۳ ص ۱۲۸ و کتب دیگر_

۲) السنن الکبری ، جلد ۸ ص ۳۱۲ اور بہت سی کتب _

۳) صحیح مسلم، جلد ۵ ، ص ۱۲۶ حدیث نمبر ۱۷۰۷_

۶۴

کیا بیت المال کو ہڑپ کرنے کے بارے میں ایک معمولی سی تنقید اور سادہ سے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے مقابلے میں ایک مؤمن صحابی کو اتنا مارنا کہ وہ بے ہوش اور اس کی نمازیں قضا ہوجائیں، اجتہاد ہے؟ کیا ایک اور مشہور صحابی کی پسلیاں توڑ دینا صرف اس اعتراض کی خاطر جو اس نے کیاکہ کیوں ایک شرابی ( ولید ) کو کوفہ کا حاکم تعیین کیا گیا ہے، اجتہاد شمار ہوتا ہے؟

اس سے بڑھ کر امام المسلمین کے مقابلے میں کہ جو مقامات الہی کے ساتھ ساتھ تمام مسلمانوں کے منتخب کردہ اتّفاقی خلیفہ تھے، صرف جاہ طلبی اور حکومت حاصل کرنے کی خاطر جنگ کی آگ بھڑ کانا جس میں ہزاروں مسلمانوں کا خون بہہ جائے، اجتہاد شمار ہوتا ہے؟

اگر یہ موارد اور ان کی مثل ، اجتہاد کی شاخیس شمار ہوتی ہیں تو پھر طول تاریخ میں ہونے والی تمام جنایات کی یہی توجیہ کی جاسکتی ہے_

اس کے علاوہ کیا اجتہاد صرف اصحاب میں منحصر تھا یا کم از کم چند صدیوں بعد بھی امت اسلامی میں کثرت کے ساتھ مجتہد موجود تھے بلکہ بعض علمائے اہلسنت کے اعتراف اور تمام علمائے شیعہ کے مطابق آج بھی تمام آگاہ علماء کے لئے اجتہاد کا دورازہ کھلا ہے؟

جو افراد اس قسم کے بھیانک افعال انجام دیں کیا آپ انکے افعال کی توجیہہ کرنے کو حاضر ہیں؟ یقیناًایسا نہیں ہے_

۲: کبھی کہا جاتا ہے کہ ہمارا فریضہ یہ ہے کہ انکے بارے میں سکوت اختیار کریں_

( '' تلک اُمةٌ قد خَلَت لَهَا ما كَسَبَت و لَكُم ما كَسَبتُم و لَا تُسأَلُونَ عَمّا كَانُوا يَعمَلُون'' ) (۱)

____________________

۱) سورة بقرہ آیت ۱۳۴_

۶۵

وہ ایک اُمّت ہیں جو گزرچکے انکے اعمال انکے لیئےیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیئےاور آپ سے انکے اعمال کے بارے میں نہیں پوچھا جائیگا_

لیکن سوال یہ ہے کہ اگر وہ ہماری سرنوشت میں مؤثر نہ ہوتے تو پھر یہ بات اچھی تھی _ لیکن ہم چاہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) کی روایات کو انکے توسط سے دریافت کریں اور انہیں اپنے لیئے نمونہ عمل قرار دیں_ تو کیا اس وقت یہ ہمارا حق نہیں ہے کہ ثقہ اور غیر ثقہ اسی طرح عادل اور فاسق کی شناخت کریں تا کہ اس آیت( '' إن جاء کم فاسقٌ بنبائ: فَتَبَيَّنُوا'' ) اگر فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو تحقیق کیجئے ''(۱) پر عمل کرسکیں_

۱۱_ مظلوميّت علی (ع)

جو بھی تاریخ اسلام کا مطالعہ کرے اس نکتہ کو با آسانی درک کرسکتا ہے کہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ حضرت علی _ جو علم و تقوی کا پہاڑ، پیغمبر اکرم (ص) کے نزدیک ترین ساتھی اور اسلام کے سب سے بڑے مدافع تھے، انہیں اسطرح ہتک حرمت، توہین اور سبّ و شتم کا نشانہ بنایاگیا_

انکے دوستوں کو اسطرح دردناک اذیتوں اور مظالم سے دوچار کیا گیا کہ تاریخ میں اسکی نظیر نہیں ملتی_ وہ بھی ان افراد کیطرف سے جو اپنے آپ کو پیغمبر اکرم (ص) کا صحابی شمار کرتے ہیں_

چند نمونے ملاحظہ فرمایئے

الف) لوگوں نے علی ابن جہم خراسانی کو دیکھا کہ اپنے باپ پر لعنت کر رہا ہے جب وجہ

____________________

۱) سورة حجرات آیة ۶_

۶۶

پوچھی گئی تو کہنے لگا: اس لئے لعنت کر رہاہوں کیونکہ اس نے میرا نام علی رکھا ہے_(۱)

ب ) معاویہ نے اپنے تمام کارندوں کو آئین نامہ میں لکھا: جس نے بھی ابوتراب (علی _ ) اور انکے خاندان کی کوئی فضیلت نقل کی وہ ہماری امان سے خارج ہے (اس کی جان و مال مباح ہے ) اس آئین نامہ کے بعد سب خطباء پوری مملکت میں منبر سے علی الاعلان حضرت علی (ع) پر سبّ و شتم کرتے اور اُن سے اظہار بیزاری کرتے تھے_ اس طرح ناروا نسبتیں انکی اور انکے خاندان کی طرف دیتے تھے_(۲)

ج ) بنواميّہ جب بھی سُنتے کہ کسی نو مولود کا نام علی رکھا گیا ہے اسے فوراً قتل کردیتے_ یہ بات سلمة بن شبیب نے ابوعبدالرحمن عقری سے نقل کی ہے_(۳)

د) زمخشری اور سیوطی نقل کرتے ہیں کہ بنو اميّہ کے دور حکومت میں ستّر ہزار سے زیادہ منابر سے سبّ علی (ع) کیا جاتاتھا اور یہ بدعت معاویہ نے ایجاد کی تھی_(۴)

ہ) جس وقت عمر بن عبدالعزیز نے حکم دیا کہ اس بُری بدعت کو ختم کیا جائے اور نماز جمعہ کے خطبوں میں امیرالمؤمنین علی _ کو بُرا بھلانہ کہا جائے تو مسجد سے نالہ و فریاد بلند

ہوگئی اور سب عمربن عبدالعزیز کو کہنے لگے '' ترکتَ السُنّة ترکتَ السُنّة'' تونے سنت کو ترک کردیا ہے_ تونے سنّت کو ترک کردیا ہے_(۵)

____________________

۱) لسان المیزان ، جلد ۴ ص ۲۱۰_

۲) النصائح الکافیہ ص ۷۲_

۳) تہذیب الکمال ، جلد ۲۰، ص ۴۲۹ و سیر اعلام النبلاء ، جلد ۵، ص ۱۰۲_

۴) ربیع الابرار ، جلد ۲، ص ۱۸۶ و النصائح الکافیہ، ص ۷۹ عن السیوطی_

۵) النصائح الکافیہ ، ص ۱۱۶ و تہنئة الصدیق المحبوب، تالیف سقاف ص ۵۹_

۶۷

یہ سب اس صورت میں ہے کہ برادران اہلسنت کی معتبر اور صحیح کتب کی روایت کے مطابق پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا ہے کہ '' مَن سَبَّ عليّاً فَقد سَبّنی و مَن سبّنی فقد سبَّ الله '' جس نے علی (ع) کو گالی دی اس نے مجھے گالی دی اور جس نے مجھے گالی دی اس نے خدا کو گالی دی ''(۱)

۱۲: ایک دلچسپ داستان

حُسن اختتام کے طور پر شاید اس واقعہ کو نقل کرنے میں کوئی مضائقہ نہ ہو کہ جو خود ہمارے ساتھ مسجد الحرام میں پیش آیا ہے_

ایک دفعہ جب عمرہ پر جانے کا اتفاق ہوا تو ایک رات ہم مغرب و عشاء کی نماز کے درمیان مسجد الحرام میں بیٹھے تھے کہ کچھ علماء حجاز کے ساتھ تمام اصحاب کے تقدّس کے بارے میں ہماری بحث شروع ہوگئی، وہ معمول کے مطابق اعتقاد رکھتے تھے کہ اصحاب پر معمولی سی بھی تنقید نہیں کرنا چاہیے _یایوں کہہ دیجئے کہ پھول سے زیادہ نازک اعتراض بھی ان پر نہیں کرنا چاہئے _ ہم نے اُن کے ایک عالم کو مخاطب کرکے کہا : آپ فرض کیجیئے کہ اس وقت'' جنگ صفین '' کا میدان گرم ہے_ آپ دو صفوں میں سے کس کا انتخاب کریں گے؟ صف علی (ع) کا یا صف معاویہ کا؟

کہنے لگے: یقیناً صف علی (ع) کا انتخاب کروں گا_

میں نے کہا: اگر حضرت علی (ع) آپ کو حکم دیں کہ یہ تلوار لے کر کر معاویہ کو قتل کردیں تو آپ کیا کریں گے؟

____________________

۱)اخرجه الحاکم و صَحَّهُ و ا قرّه الذهبی ( مستدرک الصحیحین ، جلد ۳، ص ۱۲۱)_

۶۸

کچھ دیر سوچنے کے بعد کہنے لگے کہ معاویہ کو قتل کردوں گا لیکن اس پر کبھی بھی تنقید نہیں کرونگا

ہاں یہ ہے غیر منطقی عقائد پر اصرار کرنے کا نتیجہ کہ اس وقت دفاع بھی غیر منطقی ہوتا ہے اور انسان سنگلاخ میں پھنس جاتا ہے_

حق یہ ہے کہ یوں کہیں: قرآن مجید اور تاریخ اسلام کی شہادت کے مطابق، اصحاب پیغمبر اکرم (ص) ایک تقسیم کے مطابق چند گروہوں پر مشتمل تھے_ اصحاب کا ایک گروہ ایسا تھا جو شروع میں پاک، صادق اور صالح تھا اور آخر تک وہ اپنے تقوی پر ثابت قدم رہے_ ''عاشُوا سعداء و ماتوا السعدائ'' انہوں نے سعادت کی زندگی گذاری اور سعادت کی موت پائی_

ایک گروہ ایسا تھا جو آنحضرت(ص) کی زندگی میں تو صالح اور پاک افراد کی صف میں تھے لیکن بعد میں انہوں نے جاہ طلبی اور حبّ دنیا کی خاطر اپنا راستہ تبدیل کر لیا تھا_اور ان کا خاتمہ خیر و سعادت پر نہیں ہوا ( جیسے جمل و صفین کی آگ بھڑ کانے والے)

اور تیسرا گروہ شروع سے ہی منافقوں اور دنیا پرستوں کی صف میں تھا_ اپنے خاص مقاصد کی خاطر وہ مسلمانوں کی صفوں میں گھسے ہوئے تھے جیسے ابوسفیان و غیرہ یہاں پر پہلے گروہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہم یوں کہیں گے_

( '' ربّنا اغفر لنا و لإخواننا الّذین سَبَقُونَا بالإیمان و لا تجعَل فی قلوبنا غلّاً للّذین آمَنُوا رَبّنا إنّک رَء وفٌ رَّحیم'' ) (۱)

____________________

۱) سورہ حشرآیت ۱۰_

۶۹

۴

بزرگوں کی قبروں کا احترام

۷۰

اجمالی خاکہ

اس مسئلہ میں ہمارے مخاطب صرف شدت پسند وہابی ہیں_کیونکہ اسلام کے بزرگوں کی قبور کی زیارت کو مسلمانوں کے تمام فرقے (سوائے اس چھوٹے سے گروہ کے ) جائز سمجھتے ہیں_ بہرحال بعض وہابی ہم پر اعتراض کرتے ہیں کہ تم کیوں مذہبی رہنماؤں کی زیارت کے لیے جاتے ہو؟

اور ہمیں '' قبوريّون'' کہہ کر پکارتے ہیں_حالانکہ پوری دنیا میں لوگ اپنے گذشتہ بزرگوں کی آرام گاہوں کی اہمیت کے قائل ہیں اور انکی زیارت کے لیے جاتے ہیں_

مسلمان بھی ہمیشہ اپنے بزرگوں کے مزاروں کی اہمیت کے قائل تھے اور ہیں اور انکی زیارت کے لیے جاتے تھے اور جاتے ہیں_ صرف ایک چھوٹا سا شدت پسند وہابی ٹولہ انکی مخالفت کرتا ہے اور اپنے آپ کو پوری دنیا کے مسلمان ہونے کا دعویدار اور ٹھیکیدار سمجھتا ہے_

البتہ بعض مشہور وہابی علماء نے صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) کی قبر مبارک کی زیارت کرنا مستحب ہے، لیکن زیارت کی نيّت سے رخت سفر نہیں باندھنا چاہیے _ یعنی مسجد النبی (ص) کی زیارت کے قصد یا اس میں عبادت کی نيّت سے یا عمرہ کی نیت سے مدینہ آئیں اور ضمناً پیغمبر اکرم (ص) کی قبر کی زیارت بھی کرلیں_ لیکن خود زیارت کے قصد سے بار سفر نہیں باندھنا چاہیئے_

'' بن باز'' مشہور وہابی مفتی کہ جو کچھ عرصہ قبل ہی فوت ہوئے ہیں_ الجزیرہ اخبار کے مطابق وہ یہ کہتے تھے'' جو مسجد نبوی(ص) کی زیارت کرے اس کے لیے مستحب ہے کہ روضہ رسول(ص)

۷۱

میں دو رکعت نماز ادا کرے اور پھر آنحضرت(ص) پر سلام کہے اور نیز مستحب ہے کہ جنت البقیع میں جا کر وہاں مدفون شہداء پر سلام کہے''(۱)

اہلسنت کے چاروں ائمہ '' الفقہ علی المذاہب الاربعہ'' کی نقل کے مطابق پیغمبر اکرم (ص) کی قبر مبارک کی زیارت کو بغیر ان قیود اور شروط کے مستحب سمجھتے ہیں_

اس کتاب میں یوں نقل ہوا ہے'' پیغمبر اکرم (ص) کی قبر کی زیارت اہم ترین مستحبّات میں سے ہے اور اس بارے میں متعدّد احادیث نقل ہوئی ہیں'' اس کے بعد انہوں نے چھ احادیث نقل کی ہیں_(۲)

یہ وہابی ٹولہ اس مسئلہ میں مجموعی طور پر تین نکات میں دنیا کے باقی مسلمانوں کے ساتھ اختلاف رکھتا ہے_

۱_ قبروں پر تعمیر کرنا

۲_ قبور کی زیارت کے لیئے سفر کا سامان باندھنا ( شدّ رحال )

۳_ خواتین کا قبروں پر جانا

انہوں نے بعض روایات کے ذریعے ان تین موارد کی حرمت کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان روایات کی یا تو سند درست نہیں یا اس مطلب پر ان کی دلالت مردود ہے ( انشااللہ عنقریب ان روایات کی تشریح بیان کی جائے گئی) ہمارے خیال کے مطابق یہ لو گ اس غلط حرکت کے لیے کچھ اور مقصدرکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ یہ لوگ توحید و شرک والے مسئلہ میں وسوسے میں گرفتار ہیں_ شاید خیال کرتے ہیں کہ قبروں کی زیارت کرنا انکی پوجا کرنے کے مترادف ہے اس لیے انکے علاوہ پوری دنیا کے مسلمان انکے نزدیک مشرک اور ملحد ہیں

____________________

۱) الجزیرہ اخبار شمارہ ۶۸۲۶( ۲۲ ذی القعدہ ۱۴۱۱ ق)_

۲) الفقہ علی المذاہب الاربعہ، جلد ۱ ،ص ۵۹۰_

۷۲

زیارت قبول کی گذشتہ تاریخ:

گذشتہ لوگوں کی قبروں کا احترام ( بالخصوص بزرگ شخصيّات کی قبروں کا احترام ) بہت قدیم زمانے سے چلا آرہاہے_ ہزاروں سال پہلے سے لوگ اپنے مردوں کا احترام کرتے تھے اور انکی قبروں اور بالخصوص بزرگان کی قبروں کی تکریم کرتے تھے_ اس کام کا فلسفہ اور مثبت آثار بہت زیادہ ہیں_

۱_ گذشتہ لوگوں کی تکریم کا سب سے پہلا فائدہ، ان بزرگوں کی حرمت کی حفاظت ہے اور ان کی قدردانی انسانی عزت و شرافت کی علامت ہے_ اسی طرح جوانوںکے لیے ان کی سیرت پر عمل پیرا ہونے کے لیئےشویق کا باعث بنتی ہے_

۲_ دوسرا فائدہ ان کی خاموش مگر گویا قبروں سے درس عبرت حاصل کرنا اور آئینہ دل سے غفلت کے زنگ کو دور کرکے دنیاوی زرق و برق کے مقابلے میں ہوشیاری اور بیداری پیدا کرنا ہے اور ہوا و ہوس پر قابو پانا ہے_

جیسا کہ امیرالمؤمنین(ع) نے فرمایا کہ مُردے بہترین وعظ و نصیحت کرنے والے ہیں_

۳_ تیسرا فائدہ پسماندگان کی تسلی کا حصول ہے کیونکہ لوگ اپنے عزیزوں کی قبروں پر سکون کا احساس کرتے ہیں_ گویا وہ انکے ساتھ ہمنشین ہیں_ اسطرح قبروں پر جانے سے انکے غم کی شدت میں کمی آجاتی ہے شاید یہی وجہ ہے کہ جو جنازے مفقود الاثر ہوجاتے ہیں انکے وارث انکے لیے ایک قبر کی علامت اور شبیہ بنا لیتے ہیں اور وہاں پرانہیں یاد کرتے ہیں_

۴_ چوتھا فائدہ یہ کہ گذشتہ شخصیات کی قبروں کی تعظیم و تکریم ہر قوم و ملت کی ثقافتی میراث کو زندہ رکھنے کا ایک طریقہ شمار ہوتی ہے اور ہر قوم اپنی قدیمی ثقافت کے ساتھ زندہ رہتی ہے_ پوری دنیا کے مسلمان ایک عظیم اور بے نیاز ثقافت رکھتے ہیں جس کا ایک اہم حصہ

۷۳

شہدائ، علمائے سلف اور سابقہ دانشوروں کی آرامگاہوں کی صورت میں ہے اور بالخصوص بزرگان دین اور روحانی پیشواؤں کے مزاروں میں نہفتہ ہے_ ایسے بزرگوں کی قبور کی یادمنانا اور انکی حفاظت و تکریم اسلام اور سنّت پیغمبر(ص) کی حفاظت کا موجب بنتی ہے_

وہ لوگ کتنے بے سلیقہ ہیں جنہوں نے مکہ ، مدینہ اور بعض دوسرے شہروں میں بزرگان اسلام کے پر افتخار آثار کو محو کر کے اسلامی معاشرے کو عظیم خسارے سے دوچار کردیا ہے_

نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ نادان اور محدود فکر رکھنے والے سلفیوں نے غیر معقول بہانوں کی آڑ میں یہ کام کرکے پیکر اسلام کی ثقافتی میراث پر ایسی شدید ضربیں لگائی ہیں جنکی تلافی نا ممکن ہے_

کیا یہ عظیم تاریخی آثار صرف اس ٹولے کے ساتھ مخصوص ہیں کہ اسقدر بے رحمی کے ساتھ انہیں نابود کیا جارہا ہے_ کیا ان آثار کی حفاظت و پاسداری پوری دنیا کے اسلام سے آگاہ دانشوروں کی ایک کمیٹی کے ہاتھ میں نہیںہونی چاہیے؟

۵_ پانچواں فائدہ یہ کہ دین کے عظیم پیشواؤں کی قبروں کی زیارت اور بارگاہ الہی میں ان سے شفاعت کا تقاضا کرنا عند اللہ، توبہ اور انابہ کے ہمراہ ہوتا ہے_ اور یہ چیز نفوس کی تربيّت اور اخلاق و ایمان کی پرورش میں انتہائی مؤثر ہے بہت سے گناہوں میں آلودہ لوگ جب انکی بارگاہ ملکوتی میں حاضری دیتے ہیں تو توبہ کر لیتے ہیں اور ہمیشہ کے لیئے ان کی اصلاح ہوجاتی ہے_ اور جو نیک و صالح افراد ہوتے ہیں انکے روحانی ومعنوی مراتب میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے _

قبور کی زیارت کے سلسلہ میں شرک کا توہّم:

کبھی کمزور فکر لوگ ائمہ اطہار کی قبو ر کے زائرین پر '' شرک'' کا لیبل لگادیتے ہیں یقینا اگر

۷۴

وہ زیارت کے مفہوم اور زیارت ناموں میں موجود مواد سے آگاہی رکھتے تو اپنی ان باتوں پر شرمندہ ہوتے_

کوئی بھی عقلمند آدمی پیغمبر اکرم (ص) یا آئمہکی پرستش نہیں کرتا ہے_ بلکہ یہ بات تو انکے ذہن میں خطور بھی نہیں کرتی ہے_ تمام آگاہ مؤمنین احترام اور طلب شفاعت کے لیئےیارت کو جاتے ہیں_

ہم اکثر اوقات زیارت نامہ پڑھنے سے پہلے سو مرتبہ '' اللہ اکبر'' کہتے ہیں اور اسطرح سو مرتبہ توحید کی تاکید کرتے ہیں اورشرک کے ہر قسم کے شبہہ کو اپنے سے دور کرتے ہیں_

معروف زیارت نامہ '' امین اللہ '' میں ہم آئمہ کی قبروں پر جا کر یوں کہتے ہیں:

''أشہَدُ أنّک جَاہَدتَ فی الله حقَّ جہادہ و عَملتَ بکتابہ و اتَّبَعتَ سُنَنَ نبيّہ حتی دَعاک الله إلی جَوارہ''

'' ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے راہ خدا میں جہاد کیا اور جہاد کا حق ادا کردیا_ کتاب خدا پر عمل کیا اور سنت پیغمبر(ص) کی پیروی کی یہانتک کہ اللہ تعالی نے آپ کو اس جہان سے اپنی جوار رحمت میں بُلالیا_''

کیا اس سے بڑھ کر توحید ہوسکتی ہے؟

اسی طرح مشہور زیارت جامعہ کبیرہ میں ہم يُوں پڑھتے ہیں کہ:

'' الی الله تدعُون و علیه تَدُلُّون و به تؤمنوُن و لَه تُسلّمُونَ و بأمره تَعمَلُون و إلی سَبیله

۷۵

تَرشُدُونَ''

( ان چھ جملوں میں سب ضمیریں اللہ تبارک و تعالی کی طرف لوٹتی ہیں، زائرین یوں کہتے ہیں)'' کہ آپ آئمہ، اللہ تعالی کی طرف دعوت دیتے اور اس کی طرف راہنمائی کرتے ہیں_ اور آپ اللہ تعالی پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے سامنے تسلیم ہیں اور لوگوں کو اللہ کے راستے کی طرف ارشاد و ہدایت کرتے ہیں''

ان زیارت ناموں میں ہر جگہ اللہ تعالی اور دعوت توحید کی بات ہے کیا یہ شرک ہے یا ایمان؟ اسی زیارت نامہ میں ایک جگہ یوں کہتے ہیں:

'' مستشفعٌ إلی الله عزّوجل بکم'' میں آپ کے وسیلہ سے اللہ تعالی کی بارگاہ میں شفاعت کو طلب کرتا ہوں_

اور اگر بالفرض زیارت ناموں کی بعض تعبیروں میں ابہام بھی ہو تو ان محکمات کیوجہ سے کاملاً روشن ہوجاتا ہے_

کیا شفاعت طلب کرنا توحید ی نظریات کے ساتھ سازگار ہے؟

ایک اور بڑی خطا جس سے وہابی دوچار ہوئے ہیں یہ ہے کہ وہ بارگاہ ربّ العزت میں اولیاء الہی سے شفاعت طلب کرنے کو بتوں سے شفاعت طلب کرنے پر قیاس کرتے ہیں (وہی بُت جو بے جان اور بے عقل و شعور ہیں)

حالانکہ قرآن مجید نے کئی بار بیان کیا ہے کہ انبیاء الہی، اسکی بارگاہ میں گناہگاروں کی شفاعت کرتے تھے_ چند نمونے حاضر خدمت ہیں:

۱_ برادران یوسف نے حضرت یوسف(ع) کی عظمت اور اپنی غلطیوں کو سمجھنے کے بعد حضرت

۷۶

یعقوب(ع) سے شفاعت کا تقاضا کیا اور انہوں نے بھی انہیں مُثبت وعدہ دیا_

( '' قالُوا یا أبَانَا استغفر لنا ذُنوبَنا إنّا كُنّا خَاطئین، قال سَوفَ أستغفرُ لکم رَبّی إنَّه هُو الغفورُ الرّحیم'' ) (۱)

کیا ( معاذ اللہ ) یعقوب مشرک پیغمبر(ص) تھے؟

۲_ قرآن مجید گنہگاروں کو توبہ اور پیغمبر اکرم (ص) سے شفاعت طلب کرنے کی تشویق کرتے ہوئے یوں فرماتا ہے:

''و لَو انّهم إذ ظَّلَموا أنفسَهُم جَاء وک فاستغفروا الله و استغفر لَهُم الرَّسُولّ لَوَجَدُوا الله تَوّاباً رحیماً''

'' جب بھی وہ اگراپنے آپ پر ( گناہوں کی وجہ سے ) ظلم کرتے اور آپ (ص) کی خدمت میں آتے اور توبہ کرتے اور رسولخدا(ص) بھی انکے لیے استغفار کرتے_ تو وہ اللہ تعالی کو توبہ قبول کرنیوالا اور مہربان پاتے ''(۲)

کیا یہ آیت شرک کی طرف تشویق کر رہی ہے؟

۳_ قرآن مجید منافقین کی مذمّت میں یوں کہتا ہے:

( '' و إذا قیلَ لَهُم تَعَالَوا يَستَغفر لکم رَسُولُ الله لَوَّوا رُئُوسَهُم و رأیتَهُم يَصُدُّونَ وَ هُم مُستَکبرُون'' ) (۳)

____________________

۱) سورة یوسف آیات ۹۷ ، ۹۸_

۲) سورة نساء آیت ۶۴_

۳) سورة منافقون آیت ۵_

۷۷

جب انہیں کہا جاتا ہے کہ آؤ تا کہ رسولخدا(ص) تمہارے لیئے مغفرت طلب کریں تو وہ (طنزیہ ) سر ہلاتے ہیں اور آپ(ص) نے دیکھا کہ وہ آپکی باتوں سے بے پرواہی برتتے اور تکبّر کرتے ہیں''

کیا قرآن مجید، کفار اور منافقین کو شرک کی طرف دعوت دے رہا ہے؟

۴_ ہم جانتے ہیں کہ قوم لوط بدترین امت تھی لیکن اس کے باوجود حضرت ابراہیم _ شیخ الانبیاء نے انکے بارے میں شفاعت کی ( اور خداوند سے درخواست کی کہ انہیں مزید مہلت دی جائے شاید توبہ کرلیں ) لیکن یہ قوم چونکہ اپنی حد سے بڑھی ہوئی بد اعمالیوں کی وجہ سے شفاعت کی قابلیت کھوچکی تھی _ اس لیے حضرت ابراہیم (ع) کو کہاگیا کہ انکی شفاعت سے صرف نظر کیجئے _

( '' فلمَّا ذهَبَ عن إبراهیمَ الرّوعُ و جَاء تهُ البُشری يُجادلُنا فی قوم لُوط، إنّ إبراهیمَ لَحلیمٌ أواهٌ مُنیبٌ يَا إبراهیمُ أعرض عَن هذا إنَّه قد جَاء أمرُ رَبّک و أنهم آتیهم عذابٌ غَیرُ مَردُود'' ) (۱)

'' جس وقت ابراہیم کا خوف ( اجنبی فرشتوں کی وجہ سے ) ختم ہوگیا اور ( بیٹے کی ولادت کی ) بشارت انہیں مل گئی تو قوم لوط کے بارے میں ہم سے گفتگو کرنے لگے (اور شفاعت کرنے لگے) کیونکہ ابراہیم (ع) بردبار، دلسوز اور توبہ کرنے والے تھے (ہم نے ان سے کہا ) اے ابراہیم(ع) اس (درخواست ) سے صرف نظر کیجئے کیونکہ آپ کے پروردگار کا فرمان پہنچ چکا ہے اور یقینی طور پر ناقابل رفع عذاب انکی طرف آئیگا ''

____________________

۱) سورة ہود آیات ۷۴ تا ۷۶_

۷۸

دلچسب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اس شفاعت کے مقابلے میں حضرت ابراہیم (ع) کی عجیب تمجید فرمائی اور کہا '' إنّ ابراہیم لَحلیم اواہُ مُنیبٌ'' لیکن اس مقام پر انہیں تذکر دیا ہے کہ پانی سر سے گذر چکا ہے اور شفاعت کی گنجائشے باقی نہیں رہی ہے_

اولیا ء الہی کی شفاعت اُنکی ظاہری زندگی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے:

بہانہ تلاش کرنے والے جب ایسی آیات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ جن میں صراحت کے ساتھ انبیائے الہی کی شفاعت کی قبولیت کا تذکرہ ہے اور ان آیات کو قبول کرنے کے سواء کوئی چارہ بھی نہیں ہے تو پھر ایک اور بہانہ بناتے ہیں اور یوں کہتے ہیں کہ یہ آیات انبیاء کرام کی زندگی کے ساتھ مربوط ہیں_ ان کی وفات کے بعد شفاعت پر کوئی دلیل نہیں ہے اسطرح شرک والی شاخ کو چھوڑ کر دوسری شاخ کو پکڑ تے ہیں_

لیکن اس جگہ یہ سوال سامنے آئیگا کہ کیا پیغمبر اکرم(ص) اپنی رحلت کے بعد خاک میں تبدیل اور مکمل طور پر نابود ہوگئے ہیں یا حیات برزخی رکھتے ہیں؟ ( جسطرح بعض وہابی علماء نے ہمارے سامنے اس بات کا اقرار کیا ہے)

اگر حیات برزخی نہیں رکھتے تو اولاً کیا پیغمبر اکرم (ص) کا مقام شہداء سے کم ہے جنکے بارے میں قرآن مجید گواہی دیتا ہے کہ ''( بل أحیائٌ عند ربّهم يُرزَقُون ) ''(۱)

ثانیاً : تمام مسلمان نماز کے تشہدّمیں آنحضرت(ص) پر سلام بھیجتے ہیں اور یوں کہتے ہیں: ''السلام علیک ايّہا النبيّ ...'' اگر آنحضرت (ص) موجود نہیں ہیں تو کیا یہ کسی خیالی شے کو سلام کیا جاتا ہے؟

____________________

۱) سورہ آل عمران آیت ۱۶۹_

۷۹

ثالثاً: کیا آپ معتقد نہیں ہیں کہ مسجد نبوی میں پیغمبر اکرم (ص) کے مزار کے قریب آہستہ بولنا چاہیے کیونکہ قرآن مجید نے حکم دیا ہے کہ ''( یا ايّها الذین آمنوا لا ترفَعُوا أصواتکم فَوقَ صوت النّبی ) ...''(۱) اور اس آیت کو تحریر کر کے آپ لوگوں نے پیغمبر اکرم (ص) کی ضریح پر نصب کیا ہوا ہے؟

ہم ان متضاد باتوں کو کیسے قبول کریں

رابعاً: موت نہ فقط زندگی کا اختتام نہیں ہے بلکہ ایک نئی ولادت اور زندگی میں وسعت کا نام ہے_'' الناس نیامٌ فإذا ماتُوا إنتبهوا'' (۲) لوگ غفلت میں ہیں جب مریں گے تو بیدار ہونگے_

خامساً: ایک معتبر حدیث میں جسے اہلسنت کی معتبر کتب میں ذکر کیا گیا ہے_ عبداللہ بن عمر نے رسولخدا(ص) سے یوں نقل کیا ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا''من زارَ قبری وَجَبَت له شفاعتی'' (۳) جس نے میری قبر کی زیارت کی اسکے لیے میری شفاعت یقینی ہوگئی_

ایک اور حدیث میں یہی راوی پیغمبر اکرم (ص) سے نقل کرتا ہے'' مَن زَارنی بَعدَ مَوتی فَانّما زارنی فی حیاتی'' (۴) جس نے میری رحلت کے بعد میری زیارت کی وہ ایسا ہی

____________________

۱) سورة حجرات آیت ۲_ اے صاحبان ایمان ،اپنی آوازوں کو نبی کی آواز سے بلند نہ کیجئے_

۲) عوالی اللئالی، جلد ۴ ص ۷۳_

۳) دار قطنی مشہور محدث نے اس حدیث کو اپنی کتاب '' سنن'' میں نقل کیا ہے ( جلد ۲ ص ۲۷۸) دلچسپ یہ ہے کہ علامہ امینی نے اسی حدیث کو اہلسنت کی ۴۱ مشہور کتابوں سے نقل کیا ہے ملاحظہ فرمائیں الغدیر ج ۵ ص ۹۳

۴) (سابقہ مدرک) علامہ امینی نے اس حدیث کو ۱۳ کتابوں سے نقل کیا ہے_

۸۰

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417

418

419

420

421

422

423

424

425

426

427

428

429

430

431

432

433

434

435

436

437

438

439

440

441

442

443

444

445

446

447

448

449

450

451

452

453

454

455

456

457

458

459

460

461

462

463

464

465

466

467

468

469

470

471

472

473

474

475

476

477

478

479

480

481

482

483

484

485

486

487

488

489

490

491

492

493

494

495

496

497

498

499

500

501

502

503

504

505

506

507

508

509

510

511

512

513

514

515

516

517

518

519

520

521

522

523

524

525

526

527

528

529

530

531

532

533

534

535

536

537

538

539

540

541

542

543

544

545

546

547

548

549

550

551

552

553

554

555

556

557

558

559

560

561

562

563

564

565

566

567

568

569

570

571

572

573

574

575

576

577

578

579

580

581

582

583

584

585

586

587

588

589

590

591

592

593

594

595

596

597

598

599

600

601

602

603

604

605

606

607

608

609

610

611

612

613

614

615

616

617

618

619

620

621

622

623

624

625

626

627

628

629

630

631

632

633

634

635

636

637

638

639

640

641

642

643

644

645

646

647

648

649

650

651

652

653

654

655

656

657

658

659

660

661

662

663

664

665

666

667

668

669

670

671

672

673

674

675

676

677

678

679

680

681

682

683

684

685

686

687

688

689

690

691

692

693

694

695

696

697

698

699

700

701

702

703

704

705

706

707

708

709

710

711

712

713

714

715

716

717

718

719

720

۲۷۷ - وقَالَعليه‌السلام : لَا والَّذِي أَمْسَيْنَا مِنْه فِي غُبْرِ لَيْلَةٍ دَهْمَاءَ - تَكْشِرُ عَنْ يَوْمٍ أَغَرَّ مَا كَانَ كَذَا وكَذَا.

۲۷۸ - وقَالَعليه‌السلام قَلِيلٌ تَدُومُ عَلَيْه أَرْجَى مِنْ كَثِيرٍ مَمْلُولٍ مِنْه.

۲۷۹ - وقَالَعليه‌السلام إِذَا أَضَرَّتِ النَّوَافِلُ بِالْفَرَائِضِ فَارْفُضُوهَا.

۲۸۰ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ تَذَكَّرَ بُعْدَ السَّفَرِ اسْتَعَدَّ.

۲۸۱ - وقَالَعليه‌السلام لَيْسَتِ الرَّوِيَّةُ كَالْمُعَايَنَةِ مَعَ الإِبْصَارِ - فَقَدْ تَكْذِبُ الْعُيُونُ أَهْلَهَا -

(۲۷۷)

اس ذات کی قسم جس کی بدولت ہم نے شب تاریک کے اس باقی حصہ کوگزار دیا ہے جس کے چھٹتے ہی روز درخشاں ظاہر ہوگا ایسا اور ایسا نہیں ہو ہے ۔

(۲۷۸)

تھوڑا عمل جسے پابندی سے انجام دیاجائے اس کثیر عمل سے بہتر ہے جس سے آدمی اکتاجائے ۔

(۲۷۹)

جب(۱) نوافل فرائض کو نقصان پہنچانے لگیں توانہیں چھوڑ دو۔

(۲۸۰)

جو دوری سفرکو یادرکھتا ہے وہ تیاری بھی کرتا ہے۔

(۲۸۱)

آنکھوں کا دیکھنا حقیقت میں دیکھنا شمار نہیں ہوتا ہے کہ کبھی کبھی آنکھیں اپنے اشخاص کودھوکہ دے

(۱)تقدس مآب حضرا ت کے لئے یہ بہترین نسخہ ہدایت ہے جو اجتماعی اور عوامی فرائض سے غافل ہوکرمستحباب پر جان دئیے پڑے رہتے ہیں اور اپنی ذمہداریوں کا احساس نہیں کرتے ہیں اور اسی طرح یہ ان صاحبان ایمان کے لئے سامان تنبیہ ہے جو مستحباب کی کوئی حیثیت نہیں ہے جن سے واجبات متاثر ہوجائیں اور انسان فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کا شکار ہوجائے ۔

۷۲۱

ولَا يَغُشُّ الْعَقْلُ مَنِ اسْتَنْصَحَه.

۲۸۲ - وقَالَعليه‌السلام بَيْنَكُمْ وبَيْنَ الْمَوْعِظَةِ حِجَابٌ مِنَ الْغِرَّةِ

۲۸۳ - وقَالَعليه‌السلام جَاهِلُكُمْ مُزْدَادٌ وعَالِمُكُمْ مُسَوِّفٌ

۲۸۴ - وقَالَعليه‌السلام قَطَعَ الْعِلْمُ عُذْرَ الْمُتَعَلِّلِينَ.

۲۸۵ - وقَالَعليه‌السلام كُلُّ مُعَاجَلٍ يَسْأَلُ الإِنْظَارَ - وكُلُّ مُؤَجَّلٍ يَتَعَلَّلُ بِالتَّسْوِيفِ

۲۸۶ - وقَالَعليه‌السلام مَا قَالَ النَّاسُ لِشَيْءٍ طُوبَى لَه

دیتی ہیں لیکن عقل(۱) نصیحت حاصل کرنے والے کو فریب نہیں دیتی ہے۔

(۲۸۲)

تمہارے اور نصیحت کے درمیان غفلت کا ایک پردہ حائل رہتا ہے۔

(۲۸۳)

تمہارے جاہلوں کو دولت فراواں دے دی جاتی ہے اور عالم کو صرف مستقبل کی امید دلائی جاتی ہے۔

(۲۸۴)

علم ہمیشہ بہانہ بازوں(۲) کے عذر کو ختم کردیتا ہے۔

(۲۸۵)

جس کی موت جلدی آجاتی ہے وہ مہلت کا مطالبہ کرتا ہے اورجسے مہلت مل جاتی ہے وہ ٹال مٹول کرتا ہے۔

(۲۸۶)

جب بھی لوگ کسی چیز پر واہ واہ کرتے ہیں تو

(۱)انسانی علم کے تین وسائل ہیں ۔ایک اس کا ظاہری احساس و ادراک ہے اور ایک اس کی عقل ہے جس پر تمام عقلاء بشر کا اتفاق ہے اور تیسرا راستہ وحی الٰہی ہے جسپر صاحبان ایمان کا ایمان ہے اور بے ایمان اس وسیلہ ادراک سے محروم ہیں۔ان تینوں میں اگرچہ وحی کے بارے میں خطا کا کوئی امکان نہیں ہے اور اس اعتبارسے اس کا مرتبہ سب سے افضل ہے لیکن خود وحی کا ادراک بھی عقل کے بغیر ممکن نہیں ہے اوراس اعتبار سے عقل کامرتبہ ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ کتب احادیث میں کتاب العقل کو سب سے پہلے قراردیا گیا ہے اور اس طرح اس کی بنیادی حیثیت کا اعلان کیا گیا ہے ۔

(۲)اگر انسان واقعاً عالم ہے تو علم کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے مطاق عمل کرے اور کسی طرح کی بہانہ بازی سے کام نہ لے جس طرح کہ درباری اور سیاسی علماء دیدہ و دانستہ حقائق سے انحراف کرتے ہیں اور دنیاوی مفادات کی خاطر اپنے عل کا ذبیحہ کردیتے ہیں ۔ایسے لوگقاتل اور رہزن کہے جانے کے قابل ہوتے ہیں۔عالم اور فاضل کہے جانے کے لائق نہیں ہیں ۔

۷۲۲

إِلَّا وقَدْ خَبَأَ لَه الدَّهْرُ يَوْمَ سَوْءٍ.

۲۸۷ - وسُئِلَ عَنِ الْقَدَرِ - فَقَالَ طَرِيقٌ مُظْلِمٌ فَلَا تَسْلُكُوه - وبَحْرٌ عَمِيقٌ فَلَا تَلِجُوه - وسِرُّ اللَّه فَلَا تَتَكَلَّفُوه.

۲۸۸ - وقَالَعليه‌السلام : إِذَا أَرْذَلَ اللَّه عَبْداً حَظَرَ عَلَيْه الْعِلْمَ.

۲۸۹ - وقَالَعليه‌السلام : كَانَ لِي فِيمَا مَضَى أَخٌ فِي اللَّه - وكَانَ يُعْظِمُه فِي عَيْنِي صِغَرُ الدُّنْيَا فِي عَيْنِه - وكَانَ خَارِجاً مِنْ سُلْطَانِ بَطْنِه - فَلَا يَشْتَهِي مَا لَا يَجِدُ ولَا يُكْثِرُ إِذَا وَجَدَ -

زمانہ اس کے واسطے ایک برا دن چھپا کر رکھتا ہے۔

(۲۸۷)

آپ سے قضا و قدرکے بارے میں دریافت کیا گیا تو فرمایا کہ یہ ایک تاریک راستہ ہے اس پرمت چلو اورایک گہرا سمندر ہے اس میں داخل ہونے کی کوشش نہ کرو اورایک راز الٰہی ہے لہٰذا اسے(۱) معلوم کرنے کی زحمت نہ کرو۔

(۲۸۸)

جب پروردگار کسی بندہ کو ذلیل کرنا چاہتا ہے تو اسے علم و دانش سے محروم کردیتا ہے۔

(۲۸۹)

گذشتہ زمانہ میں میرا ایک بھائی تھا۔جس کی عظمت میری نگاہوں میں اس لئے تھی کہ دنیا اس کی نگاہوں(۲) میں حقیر تھی اور اس پر پیٹ کی حکومت نہیں تھی۔جو چیز نہیں ملتی تھی اس کی خواہش نہیں کرتا تھا اور جو مل جاتی تھی اسے زیادہ استعمال نہیں کرتاتھا۔اکثر

(۱)اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اسلام کسی بھی موضوع کے بارے میں جہالت کا طرفدار ہے اور نہ جاننے ہی کو افضلیت عطا کرتا ہے۔بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اکثر لوگ ان حقائق کے متحمل نہیں ہوتے ہیں۔لہٰذا انسان کو انہیں چیزوں کا علم حاصل کرنا چاہیے جواس کے لئے قابل تحمل و برداشت ہو۔ اس کے بعد اگر حدود تحمل سے باہر ہو تو پڑھ لکھ کر بہک جانے سے نا واقف رہنا ہی بہترہے۔

(۲)بعض حضرات کاخیال ہے کہ یہ واقعاً کسی شخصیت کی طرف اشارہ ہے جس کے حالات و کیفیات کا اندازہ نہیں ہو سکا ہے اوربعض حضرات کاخیال ہے کہ یہ ایک آئیڈیل اور مثالیہ کی نشاندہی ہے کہ صاحب ایمان کو اسی کردار کا حامل ہونا چاہیے اور اگر ایسا نہیں ہے تو اسی راستہ پر چلنے کی کوشش کرنا چاہیے تاکہ اس کاشمار واقعاً صاحبان ایمان و کردار میں ہو جائے ۔

۷۲۳

وكَانَ أَكْثَرَ دَهْرِه صَامِتاً - فَإِنْ قَالَ بَذَّ الْقَائِلِينَ ونَقَعَ غَلِيلَ السَّائِلِينَ - وكَانَ ضَعِيفاً مُسْتَضْعَفاً - فَإِنْ جَاءَ الْجِدُّ فَهُوَ لَيْثُ غَابٍ وصِلُّ وَادٍ - لَا يُدْلِي بِحُجَّةٍ حَتَّى يَأْتِيَ قَاضِياً - وكَانَ لَا يَلُومُ أَحَداً - عَلَى مَا يَجِدُ الْعُذْرَ فِي مِثْلِه حَتَّى يَسْمَعَ اعْتِذَارَه - وكَانَ لَا يَشْكُو وَجَعاً إِلَّا عِنْدَ بُرْئِه - وكَانَ يَقُولُ مَا يَفْعَلُ ولَا يَقُولُ مَا لَا يَفْعَلُ - وكَانَ إِذَا غُلِبَ عَلَى الْكَلَامِ لَمْ يُغْلَبْ عَلَى السُّكُوتِ - وكَانَ عَلَى مَا يَسْمَعُ أَحْرَصَ مِنْه عَلَى أَنْ يَتَكَلَّمَ - وكَانَ إِذَا بَدَهَه أَمْرَانِ - يَنْظُرُ أَيُّهُمَا أَقْرَبُ إِلَى الْهَوَى - فَيُخَالِفُه فَعَلَيْكُمْ بِهَذِه الْخَلَائِقِ فَالْزَمُوهَا وتَنَافَسُوا فِيهَا - فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِيعُوهَا - فَاعْلَمُوا أَنَّ أَخْذَ الْقَلِيلِ خَيْرٌ مِنْ تَرْكِ الْكَثِير.

۲۹۰ - وقَالَعليه‌السلام لَوْ لَمْ يَتَوَعَّدِ اللَّه عَلَى مَعْصِيَتِه - لَكَانَ يَجِبُ أَلَّا يُعْصَى شُكْراً لِنِعَمِه.

۲۹۱ - وقَالَعليه‌السلام وقَدْ عَزَّى الأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ عَنِ ابْنٍ لَه.

اوقات خاموش رہا کرتا تھا اور اگر بولتا تھا تو تمام بولنے والوں کو چپ کردیتا تھا۔سائلوں کی پیاس کو بجھادیتا تھا اوربظاہر عاجز اور کمزور تھا لیکن جب جہاد کاموقع آجاتاتھا توایک شیر بیشہ شجاعت اور اژدروادی ہو جایا کرتاتھا جب تک عذرسن نہ لے۔کسی درد کی شکایت نہیں کرتا تھا جب تک اس سے صحت نہ حاصل ہوجائے۔جو کرتا تھا وہی کہتا تھا اور جو نہیں کرسکتا تھا وہ کہتا بھی نہیں تھا۔اگر بولنے میں اس پرغلبہ حاصل بھی کرلیا جائے تو سکوت میں کوئی اس پر غالب نہیں آسکتاتھا۔وہ بولنے سے زیادہ سننے کاخواہشمند رہتا تھا۔جب اس کے سامنے دو طرح کی چیزیں آتی تھیں اورایک خواہش سے قریب تر ہوتی تھی تو اسی کی مخالفت کرتاتھا۔لہٰذا تم سب بھی انہیں اخلاق کو اختیار کرو اور انہیں کی فکر کرواوراگرنہیں کرس کتے ہو تو یاد رکھو کہ قلیل کا اختیارکرلیناکثیر کی ترک کردینے سے بہر حال بہتر ہوتا ہے۔

(۲۹۰)

اگر خدا نا فرمانی پر عذاب کی وعید(۱) نہ بھی کرتا جب بھی ضرورتھی کہ شکرنعمت کی بنیاد پر اس کی نا فرمانی نہ کی جائے ۔

(۲۹۱)

اشعث بن قیس کو اس کے فرزند کا پرسہ دیتے ہوئے فرمایا۔اشعث ! اگر تم اپنے فرزند کے غم میں محزون

(۱)ضرورت نہیں ہے کہ انسان صرف عذاب کے خوف سے محرمات سے پرہیز کرے بلکہ تقاضائے شرافت یہ ہے کہ نعمت پروردگار کا احساس پیداکرکے اس کی دی ہوئی نعمتوں کو حرام میں صرف کرنے سے اجتناب کرے۔

۷۲۴

يَا أَشْعَثُ إِنْ تَحْزَنْ عَلَى ابْنِكَ - فَقَدِ اسْتَحَقَّتْ مِنْكَ ذَلِكَ الرَّحِمُ - وإِنْ تَصْبِرْ فَفِي اللَّه مِنْ كُلِّ مُصِيبَةٍ خَلَفٌ - يَا أَشْعَثُ إِنْ صَبَرْتَ - جَرَى عَلَيْكَ الْقَدَرُ وأَنْتَ مَأْجُورٌ - وإِنْ جَزِعْتَ جَرَى عَلَيْكَ الْقَدَرُ وأَنْتَ مَأْزُورٌ - يَا أَشْعَثُ ابْنُكَ سَرَّكَ وهُوَ بَلَاءٌ وفِتْنَةٌ - وحَزَنَكَ وهُوَ ثَوَابٌ ورَحْمَةٌ.

۲۹۲ - وقَالَعليه‌السلام عَلَى قَبْرِ رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - سَاعَةَ دَفْنِه.

إِنَّ الصَّبْرَ لَجَمِيلٌ إِلَّا عَنْكَ - وإِنَّ الْجَزَعَ لَقَبِيحٌ إِلَّا عَلَيْكَ - وإِنَّ الْمُصَابَ بِكَ لَجَلِيلٌ وإِنَّه قَبْلَكَ وبَعْدَكَ لَجَلَلٌ

۲۹۳ - وقَالَعليه‌السلام لَا تَصْحَبِ الْمَائِقَ - فَإِنَّه

ہو تو یہ اس کی قرابت(۱) کاحق ہے لیکن اگر صبر کرلو تو اللہ کے یہاں ہرمصیبت کا ایک اجر ہے۔

اشعث ! اگر تم نے صبر کرلیا تو قضا و قدر الٰہی اس عالم میں جاری ہوگی کہ تم اجرکے حقدار ہوگے اور اگر تم نے فریاد کی تو قدر الٰہی اس عالم میں جاری ہوگی کہ تم پر گناہ کابوجھ ہوگا۔

اشعث ! تمہارے لئے بیٹا مسرت کا سبب تھا جب کہ وہ ایک آزمائش اور امتحان تھا اور حزن کا باعث ہوگیا ہے جب کہ اس میں ثواب اور رحمت ہے۔

(۲۹۲)

پیغمبر اسلام (ص) کے دفن کے وقت قبر کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا :

صبر عام طور سے بہترین چیز ہے(۲) مگر آپ کی مصیبت کے علاوہ ۔اور پریشانی و بے قراری بری چیز ہے لیکن آپ کی وفات کے علاوہ آپ کی مصیبت بڑی عظیم ہے اورآپ سے پہلے اور آپ کے بعد ہر مصیبت آسان ہے۔

(۲۹۳)

بیوقوف کی صحبت مت اختیار کرنا کہ وہ اپنے

(۱)یہ اس بات کی علامت ہے کہ بیٹے کے ملنے پر مسرت بھی ایک فطری امر ہے اور اس کے چلے جانے پرحزن و الم بھی ایک فطری تقاضا ہے لیکن انسان کی عقل کا تقاضا یہ ہے کہ مسرت میں امتحان کو نظر انداز نہ کرے اور غم کے ماحول میں اجرو ثواب سے غافل نہ ہو جائے ۔

(۲)اس کا مطب یہ نہیں کہ صبر یا جزع و فزع کی دو قسمیں ہیں اوروہ کبھی جمیل ہوت ہے اورکبھی غیر جمیل۔بلکہ یہ مصیبت پیغمبر اسلام (ص) کی عظمت کی طرف اشارہ ہے کہ اس موقع پر صبر کا امکان ہی نہیں ہے جس طرف دوسرے مصائب میں جزع و فزع کاکوئی جواز نہیں ہے اور انسان کواسے برداشت ہی کرلینا چاہیے۔

۷۲۵

يُزَيِّنُ لَكَ فِعْلَه ويَوَدُّ أَنْ تَكُونَ مِثْلَه.

۲۹۴ - وقَدْ سُئِلَ عَنْ مَسَافَةِ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ والْمَغْرِبِ - فَقَالَعليه‌السلام مَسِيرَةُ يَوْمٍ لِلشَّمْسِ.

۲۹۵ - وقَالَعليه‌السلام أَصْدِقَاؤُكَ ثَلَاثَةٌ وأَعْدَاؤُكَ ثَلَاثَةٌ.فَأَصْدِقَاؤُكَ صَدِيقُكَ - وصَدِيقُ صَدِيقِكَ وعَدُوُّ عَدُوِّكَ - وأَعْدَاؤُكَ عَدُوُّكَ - وعَدُوُّ صَدِيقِكَ وصَدِيقُ عَدُوِّكَ.

۲۹۶ - وقَالَعليه‌السلام لِرَجُلٍ رَآه يَسْعَى عَلَى عَدُوٍّ لَه - بِمَا فِيه إِضْرَارٌ بِنَفْسِه - إِنَّمَا أَنْتَ كَالطَّاعِنِ نَفْسَه لِيَقْتُلَ رِدْفَه

۲۹۷ - وقَالَعليه‌السلام مَا أَكْثَرَ الْعِبَرَ وأَقَلَّ الِاعْتِبَارَ.

عمل کو خوبصورت بناکر پیش کرے گا اور تم سے بھی ویسے ہی عمل کا تقاضا کرے گا۔

(۲۹۴)

آپ سے مشرق و مغرب کے فاصلہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ آفتاب کا ایک دن کا راستہ ۔

(۲۹۵)

تمہارے دوست بھی تین طرح کے ہیں اوردشمن بھی تین قسم کے ہیں۔دوستوں کی قسمیں یہ ہیں کہ تمہارا دوست ۔تمہارے دوست(۱) کا دوست اور تمہارے دشمن کا دشمن اور اسی طرح دشمنوں کی قسمیں یہ ہیں۔تمہارا دشمن ۔تمہارے دوست کادشمن اور تمہارے دشمن کا دوست۔

(۲۹۶)

آپ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اپنے دشمن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے مگر اس میں خود اس کا نقصان بھی ہے۔تو فرمایا کہ تیری مثال اس شخص کی ہے جو اپنے سینے میں نیزہ چبھولے تاکہ پیچھے بیٹھنے والا ہلاک ہوجائے ۔

(۲۹۷)

عبرتیں کتنی زیادہ ہیں اور اس کے حاصل کرنے والے کتنے کم ہیں۔

(۱)یہ اس موقع کے لئے کہا گیا ہے کہ دونوں کی دوستی کی بنیاد ایک ہوورنہ اگر ایک شخص ایک بنیاد پر دوستی کرتا ہے اور دوسرا دوسری بنیاد پرمحبت کرتا ہے تو دوست کا دوست ہرگز دوست شمارنہیں کیا جا سکتا ہے جس طرح کہ دشمن کے دشمن کے لئے بھی ضروری ہے کہ دشمنی کی بنیاد وہی ہو جس بنیاد پر یہ شخص دشمنی کرتا ہے ورنہ اپنے اپنے مفادات کے لئے کام کرنے والے کبھی ایک رشتہ محبت میں منسلک نہیں کئے جا سکتے ہیں۔

۷۲۶

۲۹۸ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ بَالَغَ فِي الْخُصُومَةِ أَثِمَ - ومَنْ قَصَّرَ فِيهَا ظُلِمَ - ولَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَتَّقِيَ اللَّه مَنْ خَاصَمَ.

۲۹۹ - وقَالَعليه‌السلام مَا أَهَمَّنِي ذَنْبٌ أُمْهِلْتُ بَعْدَه - حَتَّى أُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ وأَسْأَلَ اللَّه الْعَافِيَةَ.

۳۰۰ - وسُئِلَعليه‌السلام كَيْفَ يُحَاسِبُ اللَّه الْخَلْقَ عَلَى كَثْرَتِهِمْ - فَقَالَعليه‌السلام كَمَا يَرْزُقُهُمْ عَلَى كَثْرَتِهِمْ - فَقِيلَ كَيْفَ يُحَاسِبُهُمْ ولَا يَرَوْنَه - فَقَالَعليه‌السلام كَمَا يَرْزُقُهُمْ ولَا يَرَوْنَه.

۳۰۱ - وقَالَعليه‌السلام رَسُولُكَ تَرْجُمَانُ عَقْلِكَ - وكِتَابُكَ أَبْلَغُ مَا يَنْطِقُ عَنْكَ.

(۲۹۸)

جو لڑائی جھگڑے میں حد سے آگے بڑھ جائے وہ گناہ گار ہوتا ہے اور جو کوتاہی کرتا ہے وہ اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے اوراس طرح جھگڑا کرنے والا تقویٰ کے راستے پر نہیں چل سکتا ہے ( لہٰذا مناسب یہی ہے کہ جھگڑے سے پرہیز کرے )

(۲۹۹)

اس گناہ کی کوئی عمر نہیں ہے جس کے بعد اتنی مہلت مل جائے کہ انسان دو رکعت نمازادا کرکے خدا سے عافیت کا سوال کرکسے ( لیکن سوال یہ ہے کہ اس مہلت کی ضمانت کیا ہے )

(۳۰۰)

آپ سے دریافت کیا گیا کہ پروردگار اس قدر بے پناہ مخلوقات(۱) کاحساب کس طرح کرے گا؟ تو فرمایاکہ جس طرح ان سب کو رزق دیتا ہے دوبارہ سوال کیا گیا کہ جب وہ سامنے نہیں آئے گا تو حساب کس طرح لے گا ؟ فرمایا جس طرح سامنے نہیں آتا ہے اور روزی دے رہا ہے ۔

(۳۰۱)

تمہارا قاصد تمہاری عقل کاترجمان ہوتا ہے اور تمہارا بہترین ترجمان ہوتا ہے ۔

(۱)انسان کے ذہن میں یہ خیالات اور شبہات اسی لئے پیدا ہوتے ہیں کہ وہ اس کی رزاقیت سے غافل ہوگیا ہے ورنہ ایک مسئلہ رزق سمجھ میں آجائے تو مسئلہ موت بھی سمجھ میں آسکتاہے اور مسئلہ حسات و کتاب بھی جو موتدے سکتا ہے وہ روزی بھی دے سکتا ہے اور جو روزی کاحساب رکھ سکتا ہے وہ اعمال کاحساب بھی کرسکتا ہے۔

۷۲۷

۳۰۲ - وقَالَعليه‌السلام مَا الْمُبْتَلَى الَّذِي قَدِ اشْتَدَّ بِه الْبَلَاءُ - بِأَحْوَجَ إِلَى الدُّعَاءِ - الَّذِي لَا يَأْمَنُ الْبَلَاءَ.

۳۰۳ - وقَالَعليه‌السلام النَّاسُ أَبْنَاءُ الدُّنْيَا - ولَا يُلَامُ الرَّجُلُ عَلَى حُبِّ أُمِّه.

۳۰۴ - وقَالَعليه‌السلام إِنَّ الْمِسْكِينَ رَسُولُ اللَّه - فَمَنْ مَنَعَه فَقَدْ مَنَعَ اللَّه - ومَنْ أَعْطَاه فَقَدْ أَعْطَى اللَّه.

۳۰۵ - وقَالَعليه‌السلام مَا زَنَى غَيُورٌ قَطُّ.

(۳۰۲)

شدید ترین بلائوں میں مبتلا ہو جانے والا اس سے زیادہ محتاج(۱) دعا نہیں ہے جو فی الحال عافیت میں ہے لیکن نہیں معلوم ہے کہ کب مبتلا ہو جائے ۔

(۳۰۳)

لوگ دنیا کی اولاد ہیں اور ماں کی محبت پر(۲) اولاد کی ملامت نہیں کی جاسکتی ہے۔

(۳۰۴)

فقیرو مسکین درحقیت خدائی فرستادہ ہے لہٰذا جس نے اس کومنع کردیا گویا خا کو منع کردیا اور جس نے اسے عطا کردیا گویا قدرت کے ہاتھ میں دے دیا۔

(۳۰۵)

غیرت دار انسان کبھی زنا نہیں کر سکتا ہے ( کہ یہی مصیبت اس کے گھر بھی آسکتی ہے )

(۱)انسان کی فطرت ہے کہ جب مصیبت میں مبتلا ہو جاتا ہے تو دعائیں کرنے لگتا ہے اور دوسروں سے دعائوں کی التماس کرنے لگتا ہے اورجیسے ہی بلا ٹل جاتی ہے دعائوں سے غافل ہو جاتا ہے اور اس نکتہ کو یکسر نظر انداز کر دیتا ہے۔کہ اس عافیت کے پیچھے بھی کوئی بلا ہو سکتی ہے اور موجودہ بلا سے بالاتر ہو سکتی ہے۔لہٰذا تقاضائے دانش مندی یہی ہے کہ ہر حال میں دعاکرتا رہے اور کسی وقت بھی آنے والی مصیبتوں سے غافل نہ ہو کر اس کے نتیجہ میں یاد خداسے غافل ہو جائے ۔

(۲)انسان جس خاک سے بنتا ہے اس سے بہر حال محبت کرتا ہے اور جس ماحول میں زندگی گذارتا ہے اس سے بہر حال مانوس ہوتا ہے۔اس مسئلہ میں کسی انسان کی مذمت اورملامت نہیں کی جا سکتی ہے لیکن محبت جب حد سے گذر جاتی ہے اور اصول و قوانین پر غالب آجاتی ہے تو بہر حال قابل ملامت و مذمت ہو جاتی ہے اوراس کا لحاظ رکھنا ہر فرد بشر کا فریضہ ہے ورنہ اس کے بغیر انسان قابل معافی نہیں ہو سکتا ہے۔

۷۲۸

۳۰۶ - وقَالَعليه‌السلام كَفَى بِالأَجَلِ حَارِساً.

۳۰۷ - وقَالَعليه‌السلام يَنَامُ الرَّجُلُ عَلَى الثُّكْلِ ولَا يَنَامُ عَلَى الْحَرَبِ

قال الرضي - ومعنى ذلك أنه يصبر على قتل الأولاد - ولا يصبر على سلب الأموال.

۳۰۸ - وقَالَعليه‌السلام مَوَدَّةُ الآبَاءِ قَرَابَةٌ بَيْنَ الأَبْنَاءِ - والْقَرَابَةُ إِلَى الْمَوَدَّةِ أَحْوَجُ مِنَ الْمَوَدَّةِ إِلَى الْقَرَابَةِ.

۳۰۹ - وقَالَعليه‌السلام اتَّقُوا ظُنُونَ الْمُؤْمِنِينَ - فَإِنَّ اللَّه تَعَالَى جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى أَلْسِنَتِهِمْ.

(۳۰۶)

موت سے بہتر محافظ کوئی نہیں ہے۔

(۳۰۷)

انسان اولاد کے مرنے پر سو جاتاہے لیکن مال کے لٹ جانے پر نہیں سوتا(۱) ہے۔

سید رضی :مقصد یہ ہے کہ اولاد کے مرنے پر صبر کرلیتا ہے لیکن مال کے چھننے پرصبر نہیں کرتاہے۔

(۳۰۸)

بزرگوں کی محبت بھی اولاد کے لئے قرابت کا درجہرکھتی ہے اور محبت قرابت کی اتنی محتاج نہیں جتنی قرابت محبت کی محتاج ہوتی ہے۔

(مقصد یہ ہے کہ تم لوگ آپس میں محبت اورالفت رکھو تاکہ تمہاری اولاد تمہارے دوستوں کو اپنا قرابتدار تصور کرے )

(۳۰۹)

مومنین کے گمان سے ڈرتے رہو کہ پروردگار حق کو صاحبان ایمان ہی کی زبان پر جاری کرتا رہتا ہے۔

(۱)اس کا مقصد طعن و طنز نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ موت کا تعلق قضا و قدر الٰہی سے ہے لہٰذا اس پر صبر کرنا انسان کافریضہ ہے۔لیکن مال کاچھن جاناظلم و ستم اورغضب و نہب کا نتیجہ ہوتا ہے لہٰذا اس پرسکوت اختیار کرنا اور سکون سے سو جانا کسی قیمت پر مناسب نہیں ہے اوریہ انسانی غیرت و شرافت کے خلاف ہے لہٰذا انسان کو اسنکتہ کی طرف متوجہ رہناچاہیے ۔

۷۲۹

۳۱۰ - وقَالَعليه‌السلام لَا يَصْدُقُ إِيمَانُ عَبْدٍ - حَتَّى يَكُونَ بِمَا فِي يَدِ اللَّه - أَوْثَقَ مِنْه بِمَا فِي يَدِه.

۳۱۱ - وقَالَعليه‌السلام لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - وقَدْ كَانَ بَعَثَه إِلَى طَلْحَةَ والزُّبَيْرِ لَمَّا جَاءَ إِلَى الْبَصْرَةِ - يُذَكِّرُهُمَا شَيْئاً مِمَّا سَمِعَه مِنْ رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فِي مَعْنَاهُمَا - فَلَوَى عَنْ ذَلِكَ فَرَجَعَ إِلَيْه - فَقَالَ:

إِنِّي أُنْسِيتُ ذَلِكَ الأَمْرَ - فَقَالَعليه‌السلام إِنْ كُنْتَ كَاذِباً - فَضَرَبَكَ اللَّه بِهَا بَيْضَاءَ لَامِعَةً لَا تُوَارِيهَا الْعِمَامَةُ.

قال الرضي يعني البرص - فأصاب أنسا هذا الداء فيما بعد في وجهه - فكان لا يرى إلا مبرقعا.

۳۱۲ - وقَالَعليه‌السلام إِنَّ لِلْقُلُوبِ إِقْبَالًا وإِدْبَاراً - فَإِذَا أَقْبَلَتْ فَاحْمِلُوهَا عَلَى النَّوَافِلِ -

(۳۱۰)

کسی بندہ کا ایمان اس وقت تک سچا نہیں ہو سکتا ہے جب تک خدائی خزانہ پر اپنے ہاتھ کی دولت سے زیادہ اعتبار نہ کرے۔

(۳۱۱)

حضرت نے بصرہ پہنچنے کے بعد انس بن مالک سے کہاکہ جاکر طلحہ و زبیر کو وہ ارشادات رسول(۱) اکرم (ص) بتائو جو حضرت نے میرے بارے میں فرمائے ہیں۔تو انہوں نے پہلو تہی کی اور پھرآکر یہ عذر کردیا کہ مجھے وہ ارشادات یاد نہیں رہے ! تو حضرت نے فرمایا اگر تم جھوٹے ہو تو پروردگار تمہیں ایسے چمکدار داغ کی مار مارے گا کہ اسے دستار بھی نہیں چھپا سکے گی۔

سیدرضی : اس داغ سے مراد برص ہے جس میں انس مبتلا ہوگئے اور تا حیات چہرہ نقاب ڈالے ہے۔

(۳۱۲)

دل بھی کبھی مائل ہوتے ہیں اور کبھی اچاٹ ہوجاتے ہیں۔لہٰذا جب مائل ہوں تو انہیں مستحباب پرآمادہ

(۱)جناب شیخ محمد عبدہ کا بیان ہے کہ اس سے اس ارشاد پیغمبر (ص) کی طرف اشارہ تھا جس میں آپ نے براہ راست طلحہ وزبیر سے خطاب کرکے ارشاد فرمایا تھا کہ تم لوگ علی سے جنگ کرو گے اور ان کے حق میں ظالم ہوگے۔ اور ابن ابی الحدید کاکہنا ہے کہ یہ اس موقع کی طرف اشارہ ہے جب پیغمبر (ص) سے میدان عذیر میں علی کی مولائیت کا اعلانکیا تھا اورانس اس موقع پر موجود تھے لیکن جب حضرت نے گواہی طلب کی تو اپنی ضعیفی اور قلت حافظہ کا بہانہ کردیا جس پر حضرت نے یہ بد دعا دے دی اور انس اس مرض برص میں مبتلا ہوگئے جیسا کہ ابن قتیبہ نے معارف میں نقل کیا ہے۔

۷۳۰

وإِذَا أَدْبَرَتْ فَاقْتَصِرُوا بِهَا عَلَى الْفَرَائِضِ.

۳۱۳ - وقَالَعليه‌السلام وفِي الْقُرْآنِ نَبَأُ مَا قَبْلَكُمْ - وخَبَرُ مَا بَعْدَكُمْ وحُكْمُ مَا بَيْنَكُمْ

۳۱۴ - وقَالَعليه‌السلام رُدُّوا الْحَجَرَ مِنْ حَيْثُ جَاءَ - فَإِنَّ الشَّرَّ لَا يَدْفَعُه إِلَّا الشَّرُّ.

۳۱۵ - وقَالَعليه‌السلام لِكَاتِبِه عُبَيْدِ اللَّه بْنِ أَبِي رَافِعٍ - أَلِقْ دَوَاتَكَ وأَطِلْ جِلْفَةَ قَلَمِكَ - وفَرِّجْ بَيْنَ السُّطُورِ وقَرْمِطْ بَيْنَ الْحُرُوفِ - فَإِنَّ ذَلِكَ أَجْدَرُ بِصَبَاحَةِ الْخَطِّ.

۳۱۶ - وقَالَعليه‌السلام أَنَا يَعْسُوبُ الْمُؤْمِنِينَ والْمَالُ يَعْسُوبُ الْفُجَّارِ.

کرو ورنہ صرف واجبات(۱) پراکتفا کرلو( کہ زبر دستی عمل سے کوئی فائدہ نہیں ہے جب تک اخلاص عمل نہ ہو)

(۳۱۳)

قرآن میں تمہارے پہلے کی خبر' تمہارے بعد کی پیشگوئی اور تمہارے درمیانی حالات کے احکام سب پائے جاتے ہیں۔

(۳۱۴)

جدھر سے پتھرآئے ادھر ہی پھینک دو کہ شرکا جواب شرہی ہوتا ہے ۔

(۳۱۵)

آپ نے اپنے کاتب عبید اللہ بن ابی رافع سے فرمایا۔اپنی دوات میں صوف ڈالا کرو اور اپنے قلم کی زبان لمبی رکھا کر و' سطروں کے درمیان فاصلہ رکھو اور حروف کو ساتھ ملا کر لکھا کرو۔کہ اس طرح خط زیادہ دیدہ زیب ہو جاتا ہے۔

(۳۱۶)

میں مومنین کا سردار ہوں اورمال فاجروں کا سردار ہوتا ہے ۔

(۱)انسانی اعمال کے دودرجات ہیں۔پہلا درجہ وہ ہوتا ہے جب عمل صحیح ہو جاتا ہے اور تکلیف رعی ادا ہو جاتی ہے لیکن نگاہ قدرت میں قابل قبول نہیں ہوتا ہے۔یہ وہ عمل ہے جس پر جملہ شرائط و واجبات جمع ہو جاتے ہیں لیکن اخلاص نیت اوراقبال نفس نہیں ہوتا ہے لیکن دوسرادرجہوہ ہوتا ہے جس میں اقبال نفس بھی ہوتا ہے اورعمل قابل قبول بھی ہوجاتاہے۔

حضرت نے اسی نکتہ کی طرف اشارہ کیا ہے کہ فریضہ بہر حال ادا کرنا ہے لیکن مستحباب کاواقعی ماحول اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اقبال نفس کی دولت سے مالا مال ہو جاتا ہے اور واقعی عبادت الٰہی کی رغبت پیدا کرلیتا ہے۔

۷۳۱

قال الرضي ومعنى ذلك أن المؤمنين يتبعونني - والفجار يتبعون المال - كما تتبع النحل يعسوبها وهو رئيسها.

۳۱۷ - وقَالَ لَه بَعْضُ الْيَهُودِ - مَا دَفَنْتُمْ نَبِيَّكُمْ حَتَّى اخْتَلَفْتُمْ فِيه - فَقَالَعليه‌السلام لَه إِنَّمَا اخْتَلَفْنَا عَنْه لَا فِيه - ولَكِنَّكُمْ مَا جَفَّتْ أَرْجُلُكُمْ مِنَ الْبَحْرِ - حَتَّى قُلْتُمْ لِنَبِيِّكُمْ -( اجْعَلْ لَنا إِلهاً كَما لَهُمْ آلِهَةٌ - قالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ ) .

۳۱۸ - وقِيلَ لَه بِأَيِّ شَيْءٍ غَلَبْتَ الأَقْرَانَ - فَقَالَعليه‌السلام مَا لَقِيتُ رَجُلًا إِلَّا أَعَانَنِي عَلَى نَفْسِه.

قال الرضي - يومئ بذلك إلى تمكن هيبته في القلوب.

سید رضی : یعنی صاحبان ایمان میرا اتباع کرتے ہیں اورفاسق و فاجر مال کے اشاروں پر چلا کرتے ہیں جس طرح شہد کی مکھیاں اپنے یعسوب ( سردار) کا اتباع کرتی ہیں۔

(۳۱۷)

ایک یہودی نے آپ پر طنز کردیا کہ آپ مسلمانوں(۱) نے اپنے پیغمبر (ص) کے دفن کے بعد ہی جھگڑا شروع کردیا۔تو آپنے فرمایا کہ ہم نے ان کی جانشینی میں اختلاف کیا ہے ۔ان سے اختلاف نہیں کیا ہے۔لیکن تم یہودیوں کے تو پیر نیل کے پانی سے خشک نہیں ہونے پائے تھے کہ تم نے اپنے پیغمبر (ص) ہی سے کہہ دیا کہ '' ہمیں بھی ویسا ہی خدا چاہیے جیسا ان لوگوں کے پاس ہے '' جس پر پیغمبر نے کہا کہ تم لوگ جاہل قوم ہو۔

(۳۱۸)

آپ سے دریافت کیا گیا کہ آپ بہادروں پر کس طرح غلبہ پالیتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ میں جس شخص کا بھی سامنا کرتا ہوں وہ خود ہی اپنے خلاف(۲) میری مدد کرتا ہے۔

سید رضی : یعنی اس کے دل میں میری ہیبت بیٹھ جاتی ہے۔

(۱)یہ امیر المومنین کی بلندی کردار ہے کہ آپ نے یہودیوں کے مقابلہ میں عزت اسلام و مسلمین کا تحفظ کرلیا اور فوراً جواب دے دیا ورنہ کوئی دوسرا شخص ہوتا تو اس کی اس طرح توجیہ کردیتا کہ جن لوگوں نے پیغمبر (ص) کی خلافت میں اختلاف کیا ہے وہ خود بھی مسلمان نہیں تھے بلکہ تمہاری برادری کے یہودی تھے جو اپنے مخصوص مفادات کے تحت اسلامی برادری میں شامل ہوگئے تھے ۔

(۲)یہ پروردگار کی وہ امداد ہے جو آج تک علی والوں کے ساتھ ہے کہ وہ طاقت ' کثرت اور اسلحہ میں کوئی خاص حیثیت نہیں رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی دہشت تمام عالم کفرو شرک کے دلوں میں بیٹھی ہوئی ہے اورہر ایک کو ہر انقلاب و اقدام میں انہیں کا ہاتھ نظر آتا ہے۔

۷۳۲

۳۱۹ - وقَالَعليه‌السلام لِابْنِه مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكَ الْفَقْرَ - فَاسْتَعِذْ بِاللَّه مِنْه - فَإِنَّ الْفَقْرَ مَنْقَصَةٌ لِلدِّينِ - مَدْهَشَةٌ لِلْعَقْلِ دَاعِيَةٌ لِلْمَقْتِ.

۳۲۰ - وقَالَعليه‌السلام لِسَائِلٍ سَأَلَه عَنْ مُعْضِلَةٍ - سَلْ تَفَقُّهاً ولَا تَسْأَلْ تَعَنُّتاً - فَإِنَّ الْجَاهِلَ الْمُتَعَلِّمَ شَبِيه بِالْعَالِمِ - وإِنَّ الْعَالِمَ الْمُتَعَسِّفَ شَبِيه بِالْجَاهِلِ الْمُتَعَنِّتِ.

۳۲۱ - وقَالَعليه‌السلام لِعَبْدِ اللَّه بْنِ الْعَبَّاسِ - وقَدْ أَشَارَ إِلَيْه فِي شَيْءٍ لَمْ يُوَافِقْ رَأْيَه:

لَكَ أَنْ تُشِيرَ عَلَيَّ وأَرَى فَإِنْ عَصَيْتُكَ فَأَطِعْنِي.

۳۲۲ - ورُوِيَ: أَنَّهعليه‌السلام لَمَّا وَرَدَ الْكُوفَةَ - قَادِماً مِنْ صِفِّينَ مَرَّ بِالشِّبَامِيِّينَ - فَسَمِعَ بُكَاءَ النِّسَاءِ عَلَى قَتْلَى صِفِّينَ - وخَرَجَ إِلَيْه حَرْبُ بْنُ شُرَحْبِيلَ الشِّبَامِيِّ - وكَانَ مِنْ وُجُوه قَوْمِه فَقَالَعليه‌السلام لَه.

(۳۱۹)

آپ نے اپنے فرزند محمد حنفیہ سے فرمایا: فرزند! میں تمہارے بارے میں فقرو تنگدستی سے ڈرتا ہوں لہٰذا اس سے تم اللہ کی پناہ مانگو کہ فقر دین کی کمزوری ' عقل کی پریشانی اور لوگوں کی نفرت کا سبب بن جاتا ہے۔

(۳۲۰)

ایک شخص نے ایک مشکل مسئلہ دریافت کرلیا توآپ نے فرمایا سمجھنے کے لئے دریافت کرو الجھنے کے لئے نہیں کہ جاہل بھی اگرسیکھنا چاہے تو وہ عالم جیسا ہے اورعالم بھی اگر صرف الجھنا چاہے تو وہ جاہل جیسا ہے۔

(۳۲۱)

عبداللہ بن عباس نے آپ کے نظریہ کے خلاف آپ کومشورہ دے دیا تو فرمایا کہ تمہارا کام مشورہ دینا ہے۔اس کے بعد رائے میری ہے لہٰذا اگر میں تمہارے خلاف بھی رائے قائم کرلوں تو تمہارا فرض ہے کہ میری اطاعت کرو۔

(۳۲۲)

روایت میں وارد ہوا ہے کہ جب آپ صفین سے واپسی پرکوفہ وارد ہوئے تو آپ کا گذر قبیلہ شام کے پاس سے ہوا جہاں عورتیں صفین کے مقتولین پر گریہ کررہی تھیں۔اوراتنے میں حرب بن شرجیل شبامی جو سردار قبیلہ تھے حضرت کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔توآپ نے فرمایا کہ

۷۳۳

أَتَغْلِبُكُمْ نِسَاؤُكُمْ عَلَى مَا أَسْمَعُ - أَلَا تَنْهَوْنَهُنَّ عَنْ هَذَا الرَّنِينِ ؟

وأَقْبَلَ حَرْبٌ يَمْشِي مَعَه وهُوَعليه‌السلام رَاكِبٌ - فَقَالَعليه‌السلام :

ارْجِعْ فَإِنَّ مَشْيَ مِثْلِكَ مَعَ مِثْلِي - فِتْنَةٌ لِلْوَالِي ومَذَلَّةٌ لِلْمُؤْمِنِ.

۳۲۳ - وقَالَعليه‌السلام وقَدْ مَرَّ بِقَتْلَى الْخَوَارِجِ يَوْمَ النَّهْرَوَانِ - بُؤْساً لَكُمْ لَقَدْ ضَرَّكُمْ مَنْ غَرَّكُمْ - فَقِيلَ لَه مَنْ غَرَّهُمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ - فَقَالَ الشَّيْطَانُ الْمُضِلُّ والأَنْفُسُ الأَمَّارَةُ بِالسُّوءِ - غَرَّتْهُمْ بِالأَمَانِيِّ وفَسَحَتْ لَهُمْ بِالْمَعَاصِي - ووَعَدَتْهُمُ الإِظْهَارَ فَاقْتَحَمَتْ بِهِمُ النَّارَ.

تمہاری عورتوں پرتمہارا بس نہیں چلتا ہے جو میں یہ آواز یں سن رہا ہوں اورتم انہیں اسی طرح کی فریاد(۱) سے منع کیوں نہیں کرتے ہو۔یہ کہہ کر حضرت آگے بڑھ گئے تو حرب بھی آپ کی رکاب میں ساتھ ہولئے۔آپ نے فرمایا کہ جائو واپس جائو۔حاکم کے ساتھ اس طرح پیدل چلنا حاکم کے حق میں فتنہ(۲) ہے اور مومن کے حق میں باعث ذلت ہے۔

(۳۲۳)

نہروان کے موقع پر آپ کا گزر خوارج کے مقتولین کے پاس سے ہوا تو فرمایا کہ تمہارے مقدرمیں صرف تباہی اوربربادی ہے جس نے تمہیں ورغلایا تھا اسنے دھوکہ ہی دیا تھا۔

لوگوں نے دریافت کیا کہ یہ دھوکہ انہیں کس نے دیا ہے ؟ فرمایا گمراہ کن شیطان اورنفس امارہ نے ۔ اس نے انہیں تمنائوں میں الجھا دیا اور گناہوں کے راستے کھول دئیے اور ان سے غلبہ کاوعدہ کرلیا جس کے نتیجہ میں انہیں جہنم میں جھونک دیا۔

(۱)اسلامی روایات کی بناپر مردہ پر گریہ کرنایا بلند آوازسے گریہ کرناکوئی ممنوع اورحرام عمل نہیں ہے بلکہ گریہ سرکار دو عالم (ص) اورانبیاء کرام کی سیرت میں داخل ہے لہٰذا حضرت کی ممانعت کا مفہوم یہ ہو سکتا ہے کہ اس طرح گریہ نہیں ہونا چاہیے۔جس سے دشمن کو کمزوری اورپریشانی کا احساس ہو جائے اور اس کے حوصلے بلند ہو جائیں یا گریہ میں ایسے الفاظ اور اندازشامل ہو جائیں جو مرضی پروردگار کے خلاف ہوں اور جن کی بناپرانسان عذابآخرت کامستحق ہو جائے ۔

(۲)اس کامقصد یہ ہے کہ اگر حاکم کے مغرور و متکبر ہو جانے اورمحکوم کے مبتلائے ذلت ہوجانے کاخطرہ ہے تو یہ انداز یقینا صحیح نہیں ہے۔لیکن اگرحاکم اس طرح کے احمقانہ جذبات سے بالات ر ہے اور محکوم بھی صرف اس کے علم و تقویٰ کا احترام کرناچاہتا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے بلکہ عالم اور متقی انسان کا احرام عین اسلام اور عین دیانتداری ہے۔

۷۳۴

۳۲۴ - وقَالَعليه‌السلام اتَّقُوا مَعَاصِيَ اللَّه فِي الْخَلَوَاتِ - فَإِنَّ الشَّاهِدَ هُوَ الْحَاكِمُ.

۳۲۵ - وقَالَعليه‌السلام لَمَّا بَلَغَه قَتْلُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ:

إِنَّ حُزْنَنَا عَلَيْه عَلَى قَدْرِ سُرُورِهِمْ بِه - إِلَّا أَنَّهُمْ نَقَصُوا بَغِيضاً ونَقَصْنَا حَبِيباً.

۳۲۶ - وقَالَعليه‌السلام : الْعُمُرُ الَّذِي أَعْذَرَ اللَّه فِيه إِلَى ابْنِ آدَمَ سِتُّونَ سَنَةً.

۳۲۷ - وقَالَعليه‌السلام مَا ظَفِرَ مَنْ ظَفِرَ الإِثْمُ بِه - والْغَالِبُ بِالشَّرِّ مَغْلُوبٌ.

(۳۲۴)

تنہائی میں بھی خداکی نا فرمانی سے ڈرو کہ جو دیکھنے والا(۱) ہے وہی فیصلہ کرنے والا ہے۔

(۳۲۵)

جب آپ کو محمد بن ابی بکر کی شہادت کی خبر ملی تو فرمایا کہ میرا غم محمد پر اتناہی ہے جتنی دشمن کی خوشی ہے ۔فرق صرف یہ ہے کہ دشمن کا ایک دشمن کم ہوا ہے اور میرا ایک دوست کم ہوگیا ہے۔

(۳۲۶)

جس عمرکے بعد پروردگار اولاد آدم کے کسی عذر کو قبول نہیں کرتا ہے۔وہ ساٹھ سال ہے ۔

(۳۲۷)

جس پر گناہ غلبہ حاصل کرلے وہ غالب نہیں ہے کہ شر کے ذریعہ غلبہ پانے والابھی مغلوب ہی ہوتا ہے۔

(۱)جب یہ طے ہے کہ روز قیامت فیصلہ کرنے والا اورعذاب دینے والا پروردگار ہے تو مخلوقات کی نگاہوں سے چھپ کر گناہ کرنے کافائدہ ہی کیا ہے فائدہ تو اسی وقت ہو سکتا ہے جب خالقین گاہ سے چھپ سکے یا فیصلہ مالک کے علاوہ کسی اور کے اختیارمیں ہو جس کاکوئی امکان نہیں ہے۔لہٰذا عافیت اسی میں ہے کہ انسان ہرال میں گناہ سے پرہیز کرے اورعلی الاعلان یا خفیہ طریقہ سے گناہ کا ارادہ نہ کرے ۔

۷۳۵

۳۲۸ - وقَالَعليه‌السلام إِنَّ اللَّه سُبْحَانَه - فَرَضَ فِي أَمْوَالِ الأَغْنِيَاءِ أَقْوَاتَ الْفُقَرَاءِ - فَمَا جَاعَ فَقِيرٌ إِلَّا بِمَا مُتِّعَ بِه غَنِيٌّ - واللَّه تَعَالَى سَائِلُهُمْ عَنْ ذَلِكَ.

۳۲۹ - وقَالَعليه‌السلام الِاسْتِغْنَاءُ عَنِ الْعُذْرِ أَعَزُّ مِنَ الصِّدْقِ بِه.

۳۳۰ - وقَالَعليه‌السلام أَقَلُّ مَا يَلْزَمُكُمْ لِلَّه - أَلَّا تَسْتَعِينُوا بِنِعَمِه عَلَى مَعَاصِيه.

۳۳۱ - وقَالَعليه‌السلام إِنَّ اللَّه سُبْحَانَه جَعَلَ الطَّاعَةَ غَنِيمَةَ الأَكْيَاسِ - عِنْدَ تَفْرِيطِ الْعَجَزَةِ

(۳۲۸)

پروردگار نے مالداروں کے اموال میں غریبوں کا رزق قراردیاہے لہٰذا جب بھی کوئی فقیر بھوکا ہوگا تواس کا مطلب یہ ہے کہ غنی نے دولت کو سمیٹ لیا ہے اور پروردگار روز قیامت اس کا سوال ضرور کرنے والا ہے۔

(۳۲۹)

عذر و معذرت سے بے نیازی سچے عذرپیش کرنے سے بھی زیادہ عزیز(۱) تر ہے۔

(۳۳۰)

خدا کا سب سے مختصر حق یہ ہے کہ اس کی نعمت کو اس کی معصیت(۲) کاذریعہ نہ بنائو۔

(۳۳۱)

پروردگار نے ہوش مندوں کے لئے اطاعت کا وہ موقع بہترین قراردیا ہے جب کا اہل لوگ کوتاہی میں مبتلا ہو جاتے ہیں ( مثلاً نمازشب)

(۱)معذرت کرنے میں ایک طرح کی ندامت اور ذلت کا احساس بہرحال ہوتا ہے لہٰذا انسان کے لئے افضل اوربہتر یہی ہے کہ اپنے کو اس ندامت سے بے نیاز بنالے اور کوئی ایسا کام نہ کرے جس کے لئے بعد میں معذرت کرنا پڑے ۔

(۲)دنیامیں کوئی کریم سے کریم اور مہربان سے مہربان انسانبھی اس بات کوگوارہ نہیں کرسکتا ہے کہ وہ کسی کے ساتھ مہربانی کرے اور دوسرا انسان اسی مہربانی کو اس کی نا فرمانی کا ذریعہ بنالے اور جب مخلوقات کے بارے میں اس طرح کی احسان فراموشی روا نہیں ہے توخالق کا حق انسان پر یقینا مخلوقات سے زیادہ ہوتا ہے اور ہرشخص کو اس کرامت و شرافت کا خیالرکھنا چاہیے کہ جب اس کا ساراوجود نعمت پروردگار ہے تو اس وجود کا کوئی ایک حصہ بھی پروردگار کی معصیت اورمخالفت میں صرف نہیں کیا جاسکتا ہے۔

۷۳۶

۳۳۲ - وقَالَعليه‌السلام السُّلْطَانُ وَزَعَةُ اللَّه فِي أَرْضِه.

۳۳۳ - وقَالَعليه‌السلام فِي صِفَةِ الْمُؤْمِنِ - الْمُؤْمِنُ بِشْرُه فِي وَجْهِه وحُزْنُه فِي قَلْبِه - أَوْسَعُ شَيْءٍ صَدْراً وأَذَلُّ شَيْءٍ نَفْساً - يَكْرَه الرِّفْعَةَ ويَشْنَأُ السُّمْعَةَ - طَوِيلٌ غَمُّه بَعِيدٌ هَمُّه - كَثِيرٌ صَمْتُه مَشْغُولٌ وَقْتُه - شَكُورٌ صَبُورٌ - مَغْمُورٌ بِفِكْرَتِه ضَنِينٌ بِخَلَّتِه - سَهْلُ الْخَلِيقَةِ لَيِّنُ الْعَرِيكَةِ - نَفْسُه أَصْلَبُ مِنَ الصَّلْدِ - وهُوَ أَذَلُّ مِنَ الْعَبْدِ.

۳۳۴ - وقَالَعليه‌السلام لَوْ رَأَى الْعَبْدُ الأَجَلَ ومَصِيرَه - لأَبْغَضَ الأَمَلَ وغُرُورَه.

(۳۳۲)

بادشاہ روئے زمین پراللہ کا پاسبان ہوتا ہے۔

(۳۳۳)

مومن کے چہرہ(۱) پر بشاشت ہوتی ہے اور دل میں رنج و اندوہ اس کا سینہ کشادہ ہوتا ہے اور متواضع ۔بلندی کو ناپسندکرتا ہے اور شہرت سے نفرت کرتا ے۔اس کاغم طویل ہوتا ہے اور ہمت بڑی ہوتی ہے اورخاموشی زیادہ ہوتی ہے اوروقت مشغول ہوتا ہے۔وہ شکر کرنے والا۔صبر کرنے والا۔فکر میں ڈوبا ہوا۔دست طلب درازکرنے میں بخیل' خوش اخلاق اور نرم مزاج ہوتا ہے۔اس کا نفس پتھر سے زیادہ سخت ہوتا ہے اور وہخود غلام سے زیادہ متواضع ہوتا ہے۔

(۳۳۴)

اگر بندۂ خدا موت اوراس کے انجام کودیکھ لے تو امیدوار اس کے فریب سے نفرت کرنے لگے۔

(۱)اس مقام پرمومن کے چودہ صفات کاتذکرہ کردیا گیا ہے تاکہ ہر شخص اس آئینہ میں اپنا چہرہ دیکھ سکے اوراپنے ایمان کا فیصلہ کرسکے ۔

۱۔وہ ادر سے محزون ہوتا ہے لیکن باہرسے بہرحال ہشاش بشاش رہتا ہے ۔۲۔اس کا سینہ اور دل کشادہ ہوتا ہے ۔ ۳۔اس کے نفس میں غرور و تکبر نہیں ہوتا ہے ۔۴۔وہ بلندی کو نا پسند کرتا ہے اور شہرت سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتا ہے ۔۵۔ خوف خدا سے رنجیدہ رہتا ہے ۔۶۔ اس کی ہمت ہمیشہ بلند رہتی ہے ۔۷۔ہمیشہ خاموش رہتا ہے اور اپنے فرائض کے بارے میں سوچتا رہتا ہے ۔۸۔اپنے شب و روز کو فرائض کی ادائیگی میں مشغول رکھتا ہے ۔۹۔مصیبتوں میں صبراور نعمتوں پر شکر پروردگار کرتا ہے ۔۱۰۔فکر قیامت و حساب و کتاب میں غرق رہتا ہے ۔۱۱۔لوگوں پر اپنی ضرورت کے اظہار میں بخل کرتا ہے ۔۱۲۔مزاج اور طبیعت کے اعتبارسے بالکل نرم ہوت ہے ۔۱۳۔حق کے معاملہ میں پتھرسے زیادہ سخت ہوتا ہے ۔۱۴۔خضوع خشوع میں غلاموں جیسی کیفیت کا حامل ہوتاہے۔

۷۳۷

۳۳۵ - وقَالَعليه‌السلام لِكُلِّ امْرِئٍ فِي مَالِه شَرِيكَانِ - الْوَارِثُ والْحَوَادِثُ.

۳۳۶ - وقَالَعليه‌السلام الْمَسْئُولُ حُرٌّ حَتَّى يَعِدَ.

۳۳۷ - وقَالَعليه‌السلام الدَّاعِي بِلَا عَمَلٍ كَالرَّامِي بِلَا وَتَرٍ.

۳۳۸ - وقَالَعليه‌السلام الْعِلْمُ عِلْمَانِ مَطْبُوعٌ ومَسْمُوعٌ - ولَا يَنْفَعُ الْمَسْمُوعُ إِذَا لَمْ يَكُنِ الْمَطْبُوعُ.

(۳۳۵)

ہر شخص کے اس کے مال میں دو طرح(۱) کے شریک ہوتے ہیں۔ایک وارث اور ایک حوادث۔

(۳۳۶)

جس سے سوال کیا جاتا ہے وہ اس وقت تک آزاد رہتا ہے جب تک وعدہ نہ کرلے ۔

(۳۳۷)

بغیر عمل کے دوسروں کو دعوت دینے والا ایسا ہی ہوتا ہے جیسے بغیر چلئہ کمان کے تیر چلانے والا۔

(۳۳۸)

علم کی دو قسمیں ہیں : ایک وہ ہوتا ہے جو(۲) بات میں ڈھل جاتا ہے اور ایک وہ ہوتا ہے جو صرف سن لیا جاتا ہے اور سنا سنایا اس وقت تک کام نہیں آتا ہے جب تک مزاج کاجزء نہ بن جائے ۔

(۱)یہ اشارہ ہے کہ انسان کو ایک تیسرے شریک کی طرف سے غافل نہیں ہونا چاہیے اور وہ ہے فقیر اورمسکین کو مذکورہ دونوں شریک اپنا حق خود لے لیتے ہیں اورتیسرے شریک کو اس کا حق دینا پڑتا ہے جو امتحان نفس بھی ہے اوروسیلہ اجر و ثواب بھی ہے۔

(۲)دوسرا مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک علم انسان کی فطرت میں ودیعت کردیا گیا ہے اور ایک علم باہر سے حاصل ہوتا ہے اور کھلی ہوئی بات ہے کہ جب تک فطرت کے اندر وجدان سلیم اوراس کی صلاحیتیں نہ ہوں ' باہرکے علم کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے اوراس سے استفادہ اندر کی صلاحیت ہی پر موقوف ہے۔

۷۳۸

۳۳۹ - وقَالَعليه‌السلام صَوَابُ الرَّأْيِ بِالدُّوَلِ - يُقْبِلُ بِإِقْبَالِهَا ويَذْهَبُ بِذَهَابِهَا.

۳۴۰ - وقَالَعليه‌السلام الْعَفَافُ زِينَةُ الْفَقْرِ والشُّكْرُ زِينَةُ الْغِنَى.

۳۴۱ - وقَالَعليه‌السلام يَوْمُ الْعَدْلِ عَلَى الظَّالِمِ - أَشَدُّ مِنْ يَوْمِ الْجَوْرِ عَلَى الْمَظْلُومِ.

۳۴۲ - وقَالَعليه‌السلام الْغِنَى الأَكْبَرُ الْيَأْسُ عَمَّا فِي أَيْدِي النَّاسِ.

(۳۳۹)

رائے کی درستی دولت(۱) اقبال سے وابستہ ہے۔ اسی کے ساتھ آتی ہے اور ای کے ساتھ چلی جاتی ہے ( لیکن دولت بھی مفت نہیں آتی ہے اس کے لئے بھی صحیح رائے کی ضرورت ہوتی ہے)

(۳۴۰)

پاک(۲) دامانی فقیری کی زینت ہے اور شکر مالداری کی زینت ہے۔

(۳۴۱)

مظلوم کے حق میں ظلم کے دن سے زیادہ شدید ظالم کے حق میں انصاف کا دن ہوتا ہے۔

(۳۴۲)

لوگوں کے ہاتھ کی دولت سے مایوس(۳) ہوجانا ہی بہتر ین مالداری ہے ( کہ انسان صرف خدا سے لو لگاتا ہے)

(۱)یعنی دنیا کا معیار صواب و خطایہ ہے کہ جس کے پاس دولت کی فراوانی دیکھ لیتے ہیں سمجھتے ہیں کہ اس کے پاس یقینا فکر سلیم بھی ہے ورنہ اس قدر دولت کس طرح حاصل کر سکتا تھا ۔اس کے بعد جب دولت چلی جاتی ہے تو اندازہ کرتے ہیں کہ یقینا اس کی رائے میں کمزوری پیداہوگئی ہے ورنہ اس طرح کی غربت سے کس طرح دوچار ہوسکتا تھا۔

(۲)حقیقت امریہ ہے کہ نہ فقیری کوئی عیب ہے اور نہ مالداری کو ئی حسن اور ہنر۔عیب و ہنر کی دنیا اس سے ذراماوراء ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان فقیری میں عفت سے کام لے اور کسی کے سامنے دست سوال درازنہ کرے اور مالداری میں شکر پروردگار ادا کرے اور کسی طرح کے غرور و تکبر میں مبتلا نہ ہوجائے ۔

(۳)یہ عزت نفس کا بہترین مظاہرہ ہے جہاں انسان غربت کے باوجود دوسروں کی دولت کی طرف مڑ کر نہیں دیکھتا ہے اور ہمیشہ اس نکتہ کونگاہ میں رکھتا ہے کہ فقر و فاقہ سے صرف جسم کمزور ہوتا ہے لیکن ہاتھ پھیلا دینے سے نفس میں ذلت اورحقارت کا احساس پیدا ہوتا ہے جو جسم کے فاقہ سے یقینا بد تر اور شدید تر ہے ۔

۷۳۹

۳۴۳ - وقَالَعليه‌السلام الأَقَاوِيلُ مَحْفُوظَةٌ والسَّرَائِرُ مَبْلُوَّةٌ - و( كُلُّ نَفْسٍ بِما كَسَبَتْ رَهِينَةٌ ) - والنَّاسُ مَنْقُوصُونَ مَدْخُولُونَ إِلَّا مَنْ عَصَمَ اللَّه - سَائِلُهُمْ مُتَعَنِّتٌ ومُجِيبُهُمْ مُتَكَلِّفٌ - يَكَادُ أَفْضَلُهُمْ رَأْياً - يَرُدُّه عَنْ فَضْلِ رَأْيِه الرِّضَى والسُّخْطُ - ويَكَادُ أَصْلَبُهُمْ عُوداً تَنْكَؤُه اللَّحْظَةُ - وتَسْتَحِيلُه الْكَلِمَةُ الْوَاحِدَةُ.

۳۴۴ - وقَالَعليه‌السلام : مَعَاشِرَ النَّاسِ اتَّقُوا اللَّه - فَكَمْ مِنْ مُؤَمِّلٍ مَا لَا يَبْلُغُه وبَانٍ مَا لَا يَسْكُنُه - وجَامِعٍ مَا سَوْفَ يَتْرُكُه - ولَعَلَّه مِنْ بَاطِلٍ جَمَعَه ومِنْ حَقٍّ مَنَعَه - أَصَابَه حَرَاماً واحْتَمَلَ بِه آثَاماً - فَبَاءَ بِوِزْرِه وقَدِمَ عَلَى رَبِّه آسِفاً لَاهِفاً - قَدْ «خَسِرَ الدُّنْيا والآخِرَةَ ذلِكَ هُوَ الْخُسْرانُ الْمُبِينُ».

(۳۴۳)

باتیں سب محفوظ رہتی ہیں۔اور دلوں کے رازوں کا امتحان ہونے والا ہے۔ہر نفس اپنے اعمال کے ہاتھوں گرو ہے ۔اور لوگوں کے جسم میں نقص اورعقلوں میں کمزوری آنے والی ہے مگر یہ کہ اللہ یہ بچالے۔ان میں کے سائل الجھانے والے ہیں اور جوابدینے والے بلا وجہ زحمت کر رہے ہیں۔قریب ہے کہ ان کا بہترین رائے والا بھی صرف خوشنودی یا غضب کے تصور سے اپنی راے سے پلٹا دیاجائے اورجو انتہائی مضبوط عقل وارادہ والا ہے اس کو بھی ایک نظر متاثر کردے یا ایک کلمہ اس می انقلاب پیدا کردے ۔

(۳۴۴)

ایہاالناس ! اللہ سے ڈرو کہ کتنے ہی امیدوار ہیں جن کی امیدیں پوری نہیں ہوتی ہیں اور کتنے یہ گھر بنانے والے ہیں جنہیں رہنا نصیب نہیں ہوتا ہے کتنے مال جمع کرنے والے ہیں جوچھوڑ کرچلے جاتے ہیں۔اوربہت ممکن ہے کہ باطل سے جمع کیا ہو یا کسی حق سے انکار کردیا ہو یا حرام سے حاصل کیا ہواور گناہوں کا بوجھ لاد لیا ہو۔تو اس کا وبال لے کرواپس ہو اور اسی عالم میں پروردگار کے حضور حاضرہو جائے جہاں صرف رنج اور افسوس ہواور دنیا و آخرت دونوں کا خسارہ ہو جو درحقیقت کھلا ہواخسارہ ہے۔

۷۴۰

741

742

743

744

745

746

747

748

749

750

751

752

753

754

755

756

757

758

759

760

761

762

763

764

765

766

767

768

769

770

771

772

773

774

775

776

777

778

779

780

781

782

783

784

785

786

787

788

789

790

791

792

793

794

795

796

797

798

799

800

801

802

803

804

805

806

807

808

809

810

811

812

813

814

815

816

817

818

819

820

821

822

823

824

825

826

827

828

829

830

831

832

833

834

835

836

837

838

839

840

841

842

843

844

845

846

847

848

849

850

851

852

853

854

855

856

857

858

859

860

861

862

863