جاذبہ و دافعہ علی علیہ السلام

جاذبہ و دافعہ علی علیہ السلام0%

جاذبہ و دافعہ علی علیہ السلام مؤلف:
قسم: امیر المومنین(علیہ السلام)
صفحے: 159

جاذبہ و دافعہ علی علیہ السلام

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: استاد شہید مرتضیٰ مطہری
قسم: صفحے: 159
مشاہدے: 2982
ڈاؤن لوڈ، اتارنا: 490

تبصرے:

جاذبہ و دافعہ علی علیہ السلام
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • شروع
  • پچھلا
  • 159 /
  • آگے
  • آخر
  •  
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا HTML
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا Word
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا PDF
  • مشاہدے: 2982 / ڈاؤن لوڈ، اتارنا: 490
سائز سائز سائز
جاذبہ و دافعہ علی علیہ السلام

جاذبہ و دافعہ علی علیہ السلام

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

۲

نام کتاب: جاذبہ و دافعہ علی علیہ السلام

تالیف: استاد شہید مرتضیٰ مطہری

ترجمہ: غلام حسین سلیم

۳

بسم الله الرحمن الرحیم

پیش لفظ

امیر المومنین علی علیہ السلام کی عظیم اور ہمہ گیر شخصیت اس سے کہیں زیادہ وسیع اور پہلو دار ہے کہ کوئی اس کے تمام پہلوؤں کو مکمل طور پر سمجھ سکے اور فکر کے گھوڑے دوڑائے۔ ایک فرد زیادہ سے زیادہ جو کر سکتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک یاچند مخصوص اور محدود پہلوؤں کو مطالعہ اور غور و فکر کے لیے منتخب کرے اور اسی پر قانع ہو۔

اس عظیم شخصیت کے وجود کے مخٹلف پہلوؤں میں سے ایک مختلف انسانوں پراس کا مثبت یا منفی اثر ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کا وہ طاقتور ''جاذبہ'' اور '' دافعہ '' ہے، جو اب بھی اپنا بھرپور اثر دکھاتا ہے اوراس کتاب میںاسی پہلو پر گفتگو ہوئی ہے ۔

انسانی روح و جان میں رد عمل پیدا کرنے کے نقطہئ نظر سے افراد کی شخصیت یکساں نہیں ہے۔ جس نسبت سے شخصیت حقیر تر ہوتی ہے اتنا ہی کمتر خیالات کو وہ اپنی طرف کھینچتی اور دلوں میں جوش و ولولہ پیدا کرتی ہے اور جتنی شخصیت عظیم تر اور طاقت ور ہوتی ہے اتنی ہی فکر انگیز اور رد عمل پیدا کرنے والی ہوتی ہے خواہ رد عمل موافق ہو یا مخالف۔

فکر انگیز اور رد عمل پیدا کرنے والی شخصیات کا ذکر زبانوں پر زیادہ آتا ہے۔ بحث و مباحثہ اور اختلافات کا موضوع بنتی ہیں۔ شاعری، نقاشی اور دیگر فنون لطیفہ کا افتخار بنتی ہیں۔ داستانوں اور کہانیوں کاہیرو قرار پاتی ہیں۔ یہی تمام چیزیں ہیںجو علی علیہ السلام کے بارے میں بہ درجہئ اتم موجود ہیں۔ اس اعتبار سے ان کا کوئی رقیب ہی نہیں یا بہت کم ہیں۔ کہتے ہیں کہ محمد ابن شہر آشوب مازندرانی جو ساتویں صدی کے اکابر علمائے امامیہ میں سے ہیں، جب اپنی مشہور کتاب ''مناقب '' تالیف کر رہے تھے، اس وقت ان کے کتب خانے میں مناقب کے نام سے ایک ہزار کتابیں تھیں جو سب علی علیہ السلام کے بارے میں لکھی گئی تھیں۔

۴

اس ایک مثال سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مولا علی(ع) کی بلند شخصیت نے تاریخ کے دھارے میں کتنے ذہنوں کو مشغول رکھا!

علی علیہ السلام اور ان تمام لوگوں کا جو حق کی روشنی میں منور ہیں، بنیادی امتیاز یہ ہے کہ وہ ذہنوں کو مشغول رکھنے اور افکار کو سرگرم کر نے کے علاوہ دلوں اور روحوں کو روشنی، حرارت، عشق و مستی اور ایمان و استحکام بخشتے ہیں۔

سقراط، افلاطون، ارسطو، بوعلی سینا، ڈیکارٹ جیسے فلسفی بھی افکار کو تسخیر کرنے اور ذہنوں کو سرگرم کرنے والے سپوت ہیں۔

علاوہ ازیں سماجی انقلابات کے رہنماؤں نے خاص کر آخری دو صدیوں میں اپنے پیروکاروں میں ایک طرح کا تعصب پیدا کیا ہے۔ مشائخ عرفان اپنے پیروکاروں کو غالباً '' تسلیم '' کے اس مرحلے تک پہنچا دیتے ہیں کہ اگر پیر مغاں اشارہ کر دے تووہ جائے نماز کو مے سے رنگیں کر دیں۔ لیکن ان میں سے کسی میں بھی گرمی و حرارت کے ساتھ ساتھ وہ نرمی لطافت اور خلوص و رقت نہیں دیکھتے جس کا نشان تاریخ میں علی(ع) کے پیروکاروں میں ملتا ہے۔ اگر صفویوں نے درویشوں کا ایک لشکرجرار منظم کرکے مؤثر جنگیں لڑیں تو ایسا علی(ع) کے نام پر کیا نہ کہ اپنے نام پر۔

معنوی حسن اور خوبصورتی جو خلوص و محبت پیدا کرتی ہے اور بات ہے اور رہنمائی، مفاد اور زندگی کی مصلحتیں جو سماجی رہنماؤں کا اثاثہ ہےں یا عقل و فلسفہ جو فلسفیوں کا اثاثہ ہیں یا اقتدار و تسلط کا اثبات جو عارف کا اثاثہ ہے، بالکل دوسری بات ہے۔

مشہور ہے کہ بوعلی سینا کے شاگردوں میں سے ایک اپنے استاد سے کہا کرتا تھا کہ اگر آپ اس غیر معمولی فہم و فراست کے ساتھ نبوت کا دعویٰ کر بیٹھیں تو لوگ آپ کے گرد جمع ہو جائیں گے اور بو علی سیناخاموش رہتے۔ یہاں تک کہ سردیوں کے موسم میں دونوں کسی سفر پر ساتھ تھے۔ صبح کے قریب بو علی سینا نیند سے بیدار ہوئے، شاگرد کو جگایا اور کہا کہ مجھے پیاس لگی ہے تھوڑا سا پانی لا دو۔ شاگرد نے سستی کی اور بہانے تراشنے لگا۔ ہر چند بو علی نے اصرار کیا لیکن شاگرد اس سردی میں گرم بستر چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوا۔ اسی وقت گلدستہ اذان سے موذن کی صدا بلند ہوئی۔ اللّٰہ اکبر اشہد ان لا الہ الا اللّٰہ۔ اشہد ان محمدا رسول اللّٰہ۔ بو علی نے اپنے شاگرد کو جواب دینے کے لیے موقعہ غنیمت جانا۔ کہا کہ تو جو کہتا تھا کہ اگر میں نبوت کا دعویٰ کر بیٹھوں تولوگ میرے اوپر ایمان لے آئیں گے۔

۵

اب دیکھ میری موجودگی میں میرا حکم تجھ پر نہیں چلتا جو سالہا سال تک میرا شاگرد رہا اور میرے درس سے فائدہ اٹھایا کہ تو ایک لحظہ کے لیے اپنا گرم بستر چھوڑے اورمجھے پانی پلائے، لےکن یہ مؤذن چار سو سال کے بعد بھی پیغمبر (ص) کے فرمان کی اطاعت کرتے ہوئے اپنا گرم بستر چھوڑ کر اس بلندی پر جا کر خدا کی وحدانیت اور آپ (ص) کی رسالت کی گواہی دے رہا ہے۔

ببین تفاوتِ رہ از کجا است تا بہ کجا

جی ہاں! فلسفی شاگرد پیدا کرتے ہیں نہ کہ پیروکار۔ سماجی رہنما متعصب پیروکار پیدا کرتے ہیں نہ کہ مہذب انسان۔ اقطاب و مشائخ عرفان ارباب تسلیم پیدا کرتے ہیں نہ کہ سرگرم مؤمن مجاہد۔

علی(ع) میں فلسفی، انقلابی رہنما، پیر طریقت اور پیغمبروں جیسی خصوصیات یکجا ہیں۔ علی(ع) کا مکتب، مکتبِ عقل و فکر بھی ہے اور مکتبِ انقلاب و ارتقاء بھی۔ مکتب تسیلم ہونے کے ساتھ نظم و ضبط بھی اور مکتب حسن و زیبائی اور جذبہ و حرکت بھی۔

علی علیہ السلام دوسروں کے لیے ایک امام عادل ہونے اور دوسروں کے بارے میں عدل و انصاف کا چلن رکھنے سے پہلے خود اپنی ذات میں ایک متعادل اور متوازن وجود تھے جن میں تمام انسانی کمالات یکجا تھے۔ وہ ایک گہری اور دور رس فکر بھی رکھتے تھے۔ ساتھ ہی انتہائی نرمی اور مہربانی کے جذبات بھی۔ یوں تمام روحانی اور جسمانی کمالات کے بہ یک وقت حامل تھے۔ راتوں کی عبادت کے دوران ماسوا اللہ دنیا سے ان کا رشتہ کٹ جاتا اور دن کو معاشرتی سرگرمیوں میں مصروف رہتے !

دن کو انسانی آنکھیں علی(ع) کی ہمدردیاں اورقربانیاں دیکھتیں اور انسانی کان ان (ع) کے وعظ و نصیحت اور حکیمانہ باتیں سنتے۔ رات کو چشم ستارگان ان کے ذوق بندگی میں بہنے والے آنسو دیکھتیں اور گوش فلک ان کی عشق میں ڈوبی ہوئی دعائیںاور مناجاتیں سنتا۔ وہ مفتی بھی تھے اور حکیم بھی۔ عارف بھی تھے اور اجتماعی رہبر بھی۔ زاہد بھی تھے اور سپاہی بھی۔ قاضی بھی تھے اور مزدور بھی۔ خطیب بھی تھے اور ادیب بھی۔ غرض ہر لحاظ سے تمام خوبیوں کے ساتھ ایک کامل انسان!

۶

زیر نظر کتاب ایسی چار تقریروں کا مجموعہ ہے جو ۱۸ تا ۲۱ ماہ رمضان المبارک ۱۳۸۸ھ حسینیہ ارشاد میں کی گئی تھیں۔ یہ کتاب ایک مقدمہ اور دو حصوں پر مشتمل ہے۔ مقدمہ میں عمومی طور پر جذب و دفع اور خصوصی طور پر انسانوں کے جاذبہ و دافعہ کے اصول کے بارے میں بحث کی گئی ہے۔ حصہ اول میں علی علیہ السلام کے اس ابدی جاذبہ جو دلوں کو اپنی طرف کھینچتا رہا ہے، کے فلسفہ، فائدہ اور اثر کو موضوع قرار دیا گیا ہے۔ دوسرے حصے میں حضرت(ع) کے اس طاقتور دافعہ کی کہ وہ کس قسم کے عناصر کو سختی سے رد کرتااور دور پھینکتا تھا توضیح و تشریح کی گئی ہے۔ یہ بات ثابت ہے کہ علی علیہ السلام دوہری طاقت رکھتے تھے اور جو بھی ان (ع) کے مکتب میں پروان چڑھنا چاہتا ہے، اس کے لیے بھی ضروری ہے کہ دوہری طاقت رکھتا ہو۔

چونکہ علی علیہ السلام کے مکتب کی پہچان صرف یہی نہیں ہے کہ دوہری طاقت ہو، اس کتاب میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ علی علیہ السلام کا جاذبہ کس قسم کے لوگوں کو اپنی طرف جذب کرتا تھا اور ان کا دافعہ کس قماش کے لوگوں کو دور کرتا تھا۔ افسوس! ہم میں سے بعض جو ان (ع) کے مکتب کا پیروکار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن جن کو علی (ع) جذب کرتے تھے انہیں دفع کرتے ہیں۔ اور جن کو وہ دفع کرتے تھے انہیں جذب کرتے ہیں۔ دافعہ علی (ع) کے باب میں خوارج کے بارے میں بحث پر اکتفاء کی گئی ہے۔ حالانکہ اور بھی گروہ ہیں جو دافعہئ علی علیہ السلام میں شامل ہےں۔ شاید کسی اور موقعہ پر اور کم از کم کتاب کے دوسرے ایڈیشن میں کتاب کے دیگر نقائص کا بھی ازالہ کیا جائے.

تقریروں کی تکمیل اور اصلاح کی زحمت فاضل بلند و قدر جناب آقائے فتح اللہ امیدی نے برداشت کی ہے۔ نصف کتاب ان جناب کے قلم سے ہے جس کو ٹیپ شدہ کیسٹوں سے نقل کرکے از سرنو اپنے قلم سے تحریر کیا ہے اور کہیں اصلاح یا تکمیل کی ہے۔ دوسرا نصف دیگر میرے اپنے الفاظ ہیں یا ان جناب کی اصلاح کے بعدمیں نے خود بعض چیزوں کا اضافہ کیا ہے۔ امید ہے کہ مجموعی طور پر اس کا مفید اثر ہوگا۔ ہم خداوند متعال سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں علی علیہ السلام کے سچے پیروکاروں میں قرار دے ۔

مرتضیٰ مطہری

تہران۔ ۱۱، اسفند ۱۳۴۹ شمسی

مطابق ۴،محرم الحرام ۱۳۹۱ قمری

۷

مقدمہ

قانونِ جذب و دفع

''جذب و دفع'' کا قانون ایک عمومی قانون ہے جو پورے نظام آفرینش میں کار فرما ہے۔ تمام جدید انسانی علوم کے نزدیک یہ مسلم ہے کہ کائنات ہستی کا کوئی ذرّہ کشش کے عمومی قانون کی عملداری سے خارج نہیں ہے بلکہ اس کا پابند ہے۔ عالم کے بڑے سے بڑے اجرام و اجسام سے لے کر چھوٹے سے چھوٹے ذرات تک میں کشش (جاذبہ) کی پوشیدہ قوت موجود ہے اور کسی نہ کسی طرح اس سے متاثر بھی ہے۔

ذرّہ ذرّہ کاندرین ارض و سماست

جنسِ خود را ہمچو کاہ و کہرباست

اس زمین و آسمان کا ہر ذرّہ اپنی جنس کے لیے کاہ اور برق کی طرح ہے

اسے چھوڑیئے، اس کے علاوہ ہم دیکھتے ہیں کہ گو تمام جمادات کے سلسلے میں قوتِ جاذبہ کے بارے میں وہ کچھ نہیں کہتے تھے بلکہ صرف اس بات پر بحث کرتے تھے کہ زمین کیونکر افلاک کے درمیان ٹھہری ہوئی ہے۔ تاہم ان کا عقیدہ تھا کہ زمین آسمان کے وسط میں معلق ہے اور جاذبہ ہر طرف سے اس کو کھینچتا ہے اور چونکہ یہ کشش تمام اطراف سے ہے اس لیے قہراً درمیان میں کھڑی ہے اور کسی ایک طرف کو نہیں جھکتی۔ بعض کا عقیدہ تھا کہ آسمان زمین کو جذب نہیں کرتا بلکہ اس کو دفع کرتا ہے اور چونکہ زمین پریہ دباؤ تمام اطراف سے مساوی ہے نتیجتاً زمین ایک خاص نقطے پرٹھہری ہوئی ہے اور اپنی جگہ نہیں بدلتی۔

۸

نباتات اور حیوانات میں بھی سب جاذبہ و دافعہ کی قوت کے قائل تھے بہ این معنی کہ ان کے لیے تین بنیادی قوتوں جاذبہ (طلب غذا کی قوت) نامیہ (بڑھنے کی قوت) اور مولدہ (پیدا کرنے کی قوت) کو مانتے تھے اور قوہئ غاذیہ کے لیے چند فرعی قوتوں جاذبہ،دافعہ، ہاضمہ اور ماسکہ (روکنے کی قوت) کے قائل تھے اور کہتے تھے کہ معدہ کے اندر جذب کی ایک قوت ہے جو غذا کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور جہاں غذا کو مناسب نہیں پاتی اس کو دفع(۱) کرتی ہے۔ اسی طرح وہ کہتے تھے کہ جگر میں جذب کی ایک قوت ہے جو پانی کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔

معدہ نان را می کشد تا مستقر

می کشد مہ آب را تف جگر

معدہ کھانے کو اور جگر پانی کو ان کے ٹھکانوں تک کھینچ لے جاتا ہے۔

انسانی دنیا میں جاذبہ و دافعہ

جذب و دفع سے مراد یہاں جنسی جذب و دفع نہیں ہے، اگرچہ وہ بھی جذب و دفع کی ایک خاص قسم ہے لیکن ہماری بحث سے مربوط نہیں ہے اور اپنی جگہ ایک مستقل موضوع ہے، بلکہ وہ جذب و دفع مراد ہے جو معاشرتی زندگی میں افراد انسانی کے درمیان موجود ہے۔ انسانی معاشرے میں مشترکہ مفاد کی بنیاد پر باہمی تعاون کی چند صورتیں ہیں، وہ بھی ہماری بحث سے خارج ہیں۔

زیادہ تر دوستی و رفاقت یادشمنی اور عداوت سب انسانی جذب و دفع کے مظاہر ہیں۔ یہ جذب و دفع مطابقت و مشابہت ی ضدیت و منافرت کی بنیاد(۲) پر ہیں۔ درحقیقت جذب و دفع کی بنیادی علت کو مطابقت اور تضاد میں تلاش کرنا چاہے۔ جیساکہ فلسفیوں کی بحث میں مسلم ہے کہالسنخیة علّة الانضمام یعنی مطابقت یکجہتی کا سبب ہے۔

____________________

(۱) آج کل انسان کی جسمانی ساخت کو ایک مشین کی مانند سمجھا جاتا ہے اور دفع کے عمل کو نکاسی کی مانند۔

(۲)اس کے برعکس جو برقی رو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر دو ہمنام اجسام ( Positive ) میں داخل کی جائے تو وہ ایک دوسرے سے دفع کرتی اور ناہمنام اجسام Negetive Positive میں داخل کی جائے تو ایک دوسرے کو جذب کرتی ہے ۔

۹

کبھی دو انسان ایک دوسرے کو جذب کرتے ہیں اور ان کا دل چاہتا ہے کہ ایک دوسرے کو دوست اور رفیق بنائیں۔ اس میں ایک راز ہے اور وہ راز مطابقت کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے۔ ان دو افراد کے درمیان جب تک کوئی مشابہت نہ ہو ایک دوسرے کو جذب نہیں کرتے اور باہم دوستی کی طرف مائل نہیں ہوتے اور کلی طور پر ہر دو وجود کا ایک دوسرے کے قریب ہونا اس امری کی دلیل ہے کہ ان کے درمیان کسی طرح کی مطابقت و مشابہت موجود ہے۔

مثنوی دفتر دوم میں ایک دلچسپ حکایت بیان کی گئی ہے:

کسی حکیم نے ایک کوے کو دیکھا کہ وہ لک لک کے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھا کر اس کے ساتھ بیٹھتا ہے اور دونوں مل کر پرواز کرتے ہیں! دو مختلف نوع کے پرندے ۔ کوے اور لک لک کی شکل میں۔ کوا لک لک کے ساتھ کیونکر؟ وہ ان کے قریب گیا اور غور کیا۔ دیکھا کہ دونوں لنگڑے ہیں۔

آں حکیمی گفت دیدم ہم تکی

در بیابان زاغ را با لک لکی

در عجب ماندم بجستم حالشاں

تاچہ قدرِ مشترک یابم نشان

چون شدم نزدیک و من حیران و دنگ

خود بدیدم ہر دو آن بودند لنگ

لنگڑے پن نے دو اجنبی حیوانوں کو ایک دوسرے سے مانوس کر دیا۔ انسان بھی بلاوجہ ایک دوسرے کے دوست اور رفیق نہیں ہوتے جس طرح کہ کبھی بھی بلاوجہ ایک دوسرے کے دشمن نہیں ہوتے۔

۱۰

بعض لوگوں کے نزدیک اس جذب و دفع کی اصل وجہ ضرورت اور اس کا پورا کیا جانا ہے۔ انسان ایک ضرورت مند ہستی ہے جو پیدائشی طور پر محتاج ہے۔ وہ مسلسل محنت سے اپنی محرومیوں کو دور اور ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ ایک گروہ کے ساتھ پیوستہ نہ ہو اور دوسرے گروہ سے رشتہ پیوند منقطع نہ کرے تاکہ ایک گروہ سے فائدہ اٹھائے اور دوسرے کے ضرر سے اپنے آپ کو بچائے۔ ہم اس میں کوئی رجحان یا بغاوت نہیں دیکھتے مگر یہ کہ ذاتی تحفظ کے شعور نے اسے پختہ کیاہو۔ اس اعتبار سے زندگی کی مصلحتوں اور فطری ساخت نے انسان کو جاذب و دافع بنا دیا ہے کہ جہاں کوئی بہتری نظر آئے اس کے لیے تڑپے اور جہاں اپنے مقاصد کے منافی کوئی چیز دیکھے اسے اپنے سے دور کر دے اور ان کے علاوہ جو چیزیں نہ فائدے کی ہوں اور نہ نقصان دہ ہوں ان کے بارے میں کوئی احساس نہ ہو۔ درحقیقت جذب و دفع انسانی زندگی کے دو اساسی رکن ہیں۔ ان میں جتنی خامی ہوگی انسانی زندگی میں اتنا ہی خلل واقع ہوگا اور آخر میں جو خلاء کو پر کرنے کی قدرت رکھتا ہو وہ دوسروں کو اپنی طرف جذب کرتا ہے اور جو نہ صرف یہ کہ خلا کو پر نہیں کرتا بلکہ خلا میں مزید اضافہ کرتا ہے، وہ انسانو ںکو اپنے سے دور کر دیتا ہے اور جو ان دونوں میں نہ ہو وہ اس پتھر کی طرح ہے جو کنارے پر پڑا ہے۔

۱۱

جذب و دفع کے سلسلے میں لوگو ں کے درمیان فرق

جاذبہ و دافعہ کے اعتبار سے لوگ یکساں نہیں ہیں۔ بلکہ مختلف طبقات میں تقسیم کئے جا سکتے ہیں:

۱۔ وہ لوگ جو نہ جاذبہ رکھتے ہیں نہ دافعہ۔ نہ کوئی ان سے دوستی رکھتا ہے اور نہ ہی دشمنی ۔ نہ عشق و تعلق اور محبت پیدا کرتے ہیں نہ عداوت و حسد اور کینہ و نفرت۔ وہ بے پرواہ ہو کر لوگوں کے درمیان چلتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک پتھر ہے جو لوگوں کے درمیان چلتا پھرتا ہے۔

یہ ایک مہمل اور بے اثر وجود ہے۔ وہ انسان جو فضیلت یا رذالت کے اعتبار سے کوئی مثبت نقطہ نہ رکھتا ہو (مثبت سے مراد یہاں صرف فضیلت کا پہلو نہیں ہے بلکہ شقاوت بھی مرادہے) وہ ایک ایسا جانور ہے جو غذا کھاتا، سوتا اور انسانوں کے درمیان چلتا پھرتا ہے۔ یہ اس گوسفند کی طرح ہے جو نہ کسی کا دوست ہے اور نہ کسی کا دشمن اور اگر لوگ اس کی خبر لیتے ہیں اور اسے پانی اور چارہ دیتے ہیں تو صرف اس لیے کہ کسی وقت اس کے گوشت سے فائدہ اٹھائیں۔ وہ نہ دوستانہ جذبات پیدا کر سکتا ہے نہ مخالفانہ۔ یہ ایک گروہ ہے جو بے قیمت اور بیہودہ و محروم لوگوں کا ہے۔ کیونکہ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ دوست رکھتا ہو اور لوگ اس کو دوست رکھتے ہوں۔ بلکہ ہم یہ بھی کہ سکتے ہیں کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ دشمن رکھتا ہو اور لوگ اسے دشمن رکھتے ہوں۔

۲۔وہ لوگ جو جاذبہ تو رکھتے ہیں لیکن دافعہ نہیں رکھتے بلکہ ہر ایک کے لیے گرم جوشی رکھتے ہیں اور تمام طبقات کے تمام لوگوں کو اپنا مرید بناتے ہیں۔ زندگی میں سب لوگ انہیں دوست رکھتے ہیں اور کوئی ان کا انکار نہیں کرتا۔ جب مرتے ہیں تب بھی مسلمان ان کو آب زمزم سے غسل دیتے ہیں اور ہندو ان کے جسم کو جلاتے ہیں۔

چنان بانیک و بد خو کن کہ بعد از مردنت عرفی

مسلمانت بہ زمزم شوید و ہندو بسوزاند

عرفی! نیک و بد سب کے ساتھ اس طرح زندگی گزار کہ تیرے مرنے کے بعد مسلمان تجھے زمزم سے غسل دیں اور ہندو جلا دیں.

۱۲

اس شاعر کے اصول کے مطابق ایسے معاشرے میں جہاں آدھے لوگ مسلمان ہیں اور جنازے کااحترام کرتے ہیں اور اسے غسل دیتے ہیں اور کبھی زیادہ احترام کرتے ہوئے مقدس آب زمزم سے غسل دیتے ہیں، اور آدھے ہندو ہیں جو مردے کو جلاتے ہیں اور اس کی رکھ اڑا دیتے ہیں،اس طرح زندگی گزار کہ مسلمان تجھے اپنا سمجھیں اور مرنے کے بعد تجھے آب زمزم سے غسل دینا چاہیں اور ہندو بھی تجھے اپنا جانیں اور مرنے کے بعد تجھے جلا دینا چاہیں۔

غالباً لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ حسن خلق، بہترین میل جول اور جدید اصطلاح میں سوشل ہونے کا مطلب یہی ہے کہ انسان سب کو دوست بنائے لیکن ایسا کرنا ایک ہدف اور مسلک رکھنے والے انسان کے لیے جو ذاتی مفاد کے بارے میں نہیں سوچتا بلکہ معاشرے میں ایک فکر اور نظریے کے لیے کام کرتا ہے، آسان نہیں ہے۔ ایسا انسان چار و ناچار یک رو، صاف گو اور کٹر ہوتا ہے مگر یہ کہ وہ منافق اور دوغلا ہو۔ چونکہ تمام لوگ ایک طرح نہیں سوچتے، ایک طرح کا احساس نہیں رکھتے اور سب کی پسند ایک جیسی نہیں ہوتی لوگوں میں انصاف کرنے والے بھی ہیں اور ستم کرنے والے بھی۔ اچھے بھی ہیں اور برے بھی۔

معاشرے میں انصاف پسند، ظلم کرنے والے، عادل اور فاسق سب لوگ ہیں۔ وہ سب کسی ایسے انسان کو دوست نہیں رکھ سکتے جو ایک ہدف کے لیے صحیح معنوں میں کام کرتا ہو اور خواہ مخواہ ان میں سے بعض کے مفاد سے متصادم ہو۔ مختلف طبقات اور مختلف نظریات کے لوگوں کو اپنی طرف جلب کرنے میں صرف وہی شخص کامیاب ہوسکتا ہے جو ریا کار اور جھوٹا ہو اور ہر کسی سے اس کی پسند کے مطابق بات کرے اور ریا سے کام لے۔ لیکن اگر انسان یک رو اور پختہ عقیدہ رکھتا ہو تو قہری طور پرکچھ لوگ اس کے دوست ہوں گے اور کچھ لوگ اس کے دسمن بھی۔ وہ لوگ جن کی راہ اس سے ملتی ہے اس کی طرف کھچے چلے آئیں گے اور جو لوگ اس کی راہ کے مخالف جا رہے ہیں وہ اسے اپنے سے دور پھینکیں گے اور اس کی مخالفت کریں گے۔

بعض مسیحی جو اپنے آپ اور اپنے وطیرے کو محبت کا پیامی سمجھتے ہیںان کا دعویٰ ہے کہ انسان کامل فقط محبت رکھتا ہے اور بس۔ یوں صرف جاذبہ رکھتا ہے اور شاید بعض ہندو بھی اس طرح کا دعویٰ کرتے ہیں۔

۱۳

مسیحی اور ہندی فلسفوں میں زیادہ نمایاں تعلیم محبت ہی نظر آتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہر چیز سے تعلق رکھنا چاہیے اور محبت کا اظہار کرنا چاہیے اور جب ہم سب کو دوست رکھتے ہیں تو اس میں کوئی چیز مانع نہیں ہوسکتی کہ وہ بھی ہمیں دوست رکھیں۔ برے بھی ہم کو دوست رکھیں گے کیونکہ انہوں نے ہم سے صرف محبت ہی دیکھی ہے۔

لیکن ان حضرات کو جان لیناچاہیے کہ صرف اہل محبت ہونا کافی نہیں ہے بلکہ اہل مسلک (عقیدہ) ہونا بھی ضروری ہے اور کتاب بنام ''یہ ہے میرا مذہب'' میں گاندھی کے بقول محبت کو حقیقت کاجڑواں ہونا چاہےے اور حقیقت کے ساتھ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی مسلک بھی ہے اور مسلک خواہ مخواہ دشمن پیدا کرتا ہے۔ وہ ایک ایسا واقعہ ہے جو بعض کے ساتھ مقابلہ کی کیفیت پیدا کرتا ہے اور بعض کو رد کردیتا ہے۔

اسلام بھی قانون محبت ہے۔ قرآن رسول اکرم(ص) کی پہچان رحمۃ للعالمین کی حیثیت سے کراتا ہے۔

( وَ مَآ اَرْسَلْنٰاکَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ ) ۔(۱)

ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر عالمین کے لیے رحمت بنا کر۔

یعنی اپنے سخت ترین دشمنوں کے لیے بھی رحمت بنو اور ان سے بھی محبت کرو۔(۲) لیکن قرآن جس محبت کا حکم دیتا ہے وہ یہ نہیں ہے کہ ہم ہر شخص کی پسند

____________________

(۱) ۲۱ سورہئ انبیاء آیت نمبر ۱۰۷

(۲)بلکہ آپ (ص) ہر چیز سے محبت کرتے تھے یہاں تک کہ حیوانات اور جمادات کے ساتھ بھی ۔اسی لیے ہم آپ (ص)کی زندگی میں دیکھتے ہیں کہ آپ (ص) کے تمام ہتھیاروں اور روزمرہ زندگی میں استعمال کی چیزوں کے خاص نام تھے۔ آپ (ص) کے گھوڑوں، تلواروں اور عماموں کے خاص نام تھے۔ ایسا صرف اس لیے تھا کہ تمام موجودات سے آپ (ص) کو محبت تھی۔ گویا آپ (ص) ہر چیز کے تشخص کے قائل تھے۔ ان کے علاوہ تاریخ میں اس طرح کا رویہ کسی اور انسان کے بارے میں نہیں ملتا۔ یہ روش بتاتی ہے کہ در حقیقت آپ (ص) انسانی عشق و محبت کی مثال تھے۔ جب کہ آپ (ص) احد کے دامن سے گزرتے تو چمکتی آنکھوں اور محبت سے لبریز نگاہوں سے احد کو مخاطب کرکے کہتے:جَبَلٌ یُحِبُّنَا وَ نحبه ۔ یعنی یہ ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ آپ (ص) ایسے انسان تھے کہ پہاڑ اور پتھر بھی آپ (ص) کی محبت سے بہرہ مند تھے۔

۱۴

اور خواہش کے مطابق عمل کریں اور اس کے ساتھ اس طرح کا چلن اختیار کریں کہ وہ ہم سے خوش ہو اور نتیجتاً وہ ہماری طرف کشاں کشاں چلا آئے۔ محبت یہ نہیں ہے کہ ہر شخص کو اس کی خواہشات میں آزاد چھوڑ دیں یاان خواہشات کی تائید کریں۔ محبت وہ ہے جو حقیقت سے مربوط ہو۔ محبت خیر خواہی ہے اور خیر خواہی کرتے ہوئے غالباً ایسی صورت بھی پیدا ہو جاتی ہے کہ دوسرے فریق کی محبت جلب نہ کی جاسکے۔ اس راہ میں بسااوقات ایسا ہوتا ہے کہ انسان جن سے تعلق خاطر رکھتا ہے وہ چونکہ اس محبت کو اپنی خواہشات کے خلاف پاتے ہیں، وہ قدر دانی کی بجائے دشمنی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ منطقی اور معقول محبت وہ ہے جس میں انسانی معاشرے کی بہتری اور مصلحت ہو، نہ کہ ایک خاص فرد یا گروہ کی۔ بسااوقات افراد کے ساتھ خیرخواہی اورمحبت کرنا معاشرے کے ساتھ سراسر بدخواہی اور دشمنی کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔

بڑے بڑے مصلحین کی تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ وہ انسانی معاشرے کی اصلاح کے لیے کوشش کرتے تھے اور اپنے لیے تکلیفوں کا راستہ ہموار کرتے تھے لیکن لوگوں کی طرف سے دشمنی اور تکلیف کے علاوہ کوئی صلہ نہیں پاتے تھے۔ پس ایسا ہرگز نہی ہے کہ محبت ہر جگہ جاذبہ رکھتی ہو بلکہ کبھی کبھار محبت اس قدر شدید دافعہ کا جلوہ بھی دکھاتی ہے کہ انسان کی مخالفت میں جماعتیں تشکیل کی جاتی ہیں۔

۱۵

عبد الرحمن ابن ملجم مرادی، علی علیہ السلام کے سخت ترین دشمنوں میں سے تھا۔ علی (ع) خوب جانتے تھے کہ یہ شخص ان کا ایک خطرناک دشمن ہے۔ دوسرے لوگ بھی کبھی کبھی کہتے تھے کہ یہ شخص خطرناک ہے، اس کی بیخ کنی کیجئے۔ مگر علی علیہ السلام کہتے: کیا ہے میں جرم سے پہلے قصاص لوں؟ اگر وہ میرا قاتل ہے تو میں اپنے قاتل کو نہیں مارسکتا۔ وہ میرا قاتل ہے، نہ کہ میں اس کاقاتل اور اسی کے بارے میں علی علیہ السلام نے کہا: ارید حیاتہ و یرید قتلی(۱) یعنی میں چاہتا ہوں وہ زندہ رہے اور اس کی سعادت چاہتا ہوں اور وہ چاہتا ہے کہ مجھے قتل کر دے۔ میں اس سے محبت و تعلق رکھتا ہوں لیکن وہ میرے ساتھ دشمنی اور کینہ رکھتا ہے۔

اور تیسری بات یہ ہے کہ محبت ہی تنہا انسانی امراض کاعلاج نہیں ہے بلکہ بعض طبقوں اورمزاجوں کے لیے سختی کی بھی ضرورت پڑتی ہے اور مقابلہ، دفع اور رد کر دینا لازم ہوجاتا ہے۔ اسلام جذب و محبت کا دین ہے۔ ساتھ ہی دفع اور غضب(۲) کا دین بھی۔

____________________

(۱) بحار الانوار جدید ایڈیشن۔ ج ۴۲، ص ۱۹۳ ۔ ۱۹۶

(۲) ہم یہ بھی کہ سکتے ہیں کہ نفرت بھی لطف و محبت کا ایک پہلو ہے۔ ہم دعا میں پڑھتے ہیں یا من سبقت رحمتہ غضبہ۔ اے وہ ذات جس کی رحمت نے اس کے غضب سے پہل کی اور چونکہ رحمت کرنا چاہتا تھا اس لیے غضب نازل کیا اور تو ناراض ہوا اور اگر محبت اور رحمت نہ ہوتی تو غضب بھی نہ ہوتا۔

۱۶

جس طرح ایک با پ اپنے بیٹے پر اس لیے ناراض ہوتا ہے کہ اس سے محبت ہے اور اس کے مستقبل کی فکر ہے۔ اگر کوئی غلط کام کرے تو ناخوش ہوجاتا ہے اور کبھی اسے مارتا بھی ہے۔ حالانکہ دوسروں کی اس سے زیادہ نامعقول روش دیکھتا ہے لیکن وہ محسوس نہیں کرتا۔ مگر چونکہ اپنے بچے سے تعلق خاطر رکھتا تھا اس لیے ناراض ہوا اور دوسروں کے بچوں سے کوئی تعلق نہ تھا اس لیے ناراض بھی نہیں ہوا۔

اور دوسری طرف تعلق خاطر کبھی غلط بھی ہوتا ہے۔ یعنی محض ایک جذبہ ہے جو حکم عقل کے تابع نہیں ہے جیسا کہ قرآن کہتا ہے:( وَ لَا تَاْخُذْکُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ ) (۲۴نور : ۲)یعنی قانون الہی کے اجراء میں تمہاری محبت و نرمی مجرم کو ڈھیل نہ دے۔ کیونکہ اسلام جس طرح افراد کے ساتھ تعلق خاطررکھتا ہے اسی طرح معاشرے کے ساتھ بھی تعلق خاطر رکھتا ہے۔ سب سے بڑا گناہ وہ ہے جو انسان کی نظر میں چھوٹا ہو اور وہ اسے حقیر سمجھے امیر المومنینؑ فرماتے ہیں: اشدّ الذنوب ما استھان صاحبہ۔(نہج البلاغہ حکمت : ۲۴۰) ''سب سے شدید گناہ وہ ہے جسے گناہگار آسان اور ناچیز سمجھے'' گناہ کی اشاعت ہی وہ چیز ہے جس سے گناہ کی شدت نظروں سے کم ہو جاتی ہے اور فرد کی نظر میں اسے حقیر ظاہر کرتی ہے۔اس لیے اسلام کہتا ہے کہ اگر کوئی گناہ سرزد ہو جائے اور وہ گناہ مکمل طور پر پردے میں نہ ہو اور لوگ اس سے باخبر ہوجائیں تو گناہ گار کو ہر صورت میں مورد سیاست قرار پانا چاہےے یا حد کی سزا کھائے یا تعزیر کی۔ اسلامی فقہ میں کلی طور پر کہا گیا ہے کہ ہر واجب کے ترک اور ہر حرام کی بجاآوری پر اگر حد کا تعین نہ کیا گیا ہو تو اس کے لیے تعزیر ہے۔ ''تعزیر'' ''حد'' سے کمتر سزا ہے جس کا حاکم (شرع) اپنی صوابدید کے مطابق تعین کرتا ہے۔ ایک فرد کے گناہ اور اس کی اشاعت پر معاشرہ ایک قدم گناہ کے نزدیک ہوا اور یہ اس (معاشرہ) کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ پس گناہگار کو اس کے گناہ کی اہمیت کے مناسب سزا دی جانی چاہیے تاکہ معاشرہ اپنی راہ پر واپس آجائے اور گناہ کی شدت نظروں سے کم نہ ہو۔

اس بناء پر سزا اور عذاب ایک ایسی ححبت ہے جو معاشرے کے لیے فراہم کی جاتی ہے۔

۱۷

۳۔وہ لوگ جو دافعہ رکھتے ہیں لیکن جاذبہ نہیں رکھتے۔جو صرف دشمن بناتے ہیں لیکن دوست نہیں بناتے۔ یہ بھی ناقص لوگ ہیںاوریہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان میں مثبت انسانی خصلتیں مفقود ہیں۔ کیونکہ اگر وہ انسانی خصائل کے حامل ہوتے تو ہر چند تھوڑی تعداد میں ہی سہی، ایک گروہ ایسا ضرور رکھتے جو ان کا طرفدار اور ان سے تعلق خاطر رکھنے والا ہو۔ کیونکہ لوگوں کے درمیان اچھے لوگ ہمیشہ موجود ہوتے ہیں اگرچہ ان کی تعداد کم ہو، لیکن کبھی سب لوگ برے نہیں ہوتے۔ جس طرح کہ کسی زمانے میں بھی سارے لوگ اچھے نہیں ہوتے۔ اس لیے لازمی طورپر کسی سے اگر سب کو دشمنی ہو توخرابی اس کی اپنی ہے۔ ورنہ یہ کیونکر ممکن ہے کہ ایک انسان کی روح میں خوبیاں ہوں اور وہ کوئی دوست نہ رکھتا ہو۔ اس قسم کے لوگ اپنے وجود میں کوئی مثبت پہلو نہیں رکھتے حتیٰ کہ شقاوت کا پہلو بھی۔ ان کا وجود سراسر تلخ ہے اور سب کے لیے تلخ ہے اور کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو کم از کم بعض کے لیے شیریں ہو۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

اعجز الناس من عجز عن اکتساب الاخوان، اعجز منه من ضیّع من ظفر به منهم ۔(۱)

لوگوں میں درماندہ وہ ہے جو اپنی عمر میں کچھ بھائی اپنے لیے حاصل نہ کر سکے اور اس سے بھی زیادہ درماندہ وہ ہے جو پا کر اسے کھو دے۔

____________________

(۱)نہج البلاغہ حکمت : ۱۱

۱۸

۴۔لوگ جو جاذبہ بھی رکھتے ہیں اور دافعہ بھی ۔ وہ باصول لوگ جو اپنے مسلک اور عقیدے کی راہ میں جدوجہد کرتے ہیں، چند گروہوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں، دلوں میں محبوب اور مقصود کی حیثیت سے گھر کر جاتے ہیں اور چند گروہوں کو اپنے سے دفع اور رد بھی کرتے ہیں۔ دوست بھی بناتے ہیں اور دشمن بھی۔ موافق پرور بھی ہیں اور مخالف پرور بھی۔

ان کی بھی چند قسمیں ہیں کیونکہ کبھی جاذبہ و دافعہ دونوں قومی ہیں، کبھی دونوں ضعیف اور کبھی ایک قوی اور دوسرا ضعیف۔ باوقار لوگ وہ ہیں جو جاذبہ و دافعہ ہر دو قوی رکھتے ہوں اور اس کاتعلق اس بات سے ہے کہ ان کی روح میں مثبت یا منفی (اقدار) کی بنیادیں کس قدر مضبوط ہیں۔ البتہ قوت کے بھی مراتب ہیں، یہاں تک کہ ایک مقام ایسا بھی آتا ہے کہ مجذوب دوست اپنی جان فدا کردیتے ہیں اور اس کی راہ میں اپنا سب کچھ لٹا دیتے ہیں اور دشمن بھی اس قدر سخت ہو جاتے ہیں کہ اس راہ (دشمنی) میں اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں اور یہ (صورت حال) اتنی قوی ہو جاتی ہے کہ ان کے مرنے کے بعد بھی صدیوں تک ان کے جذب و دفع (کی شدت) انسانی روحوں میں کار فرما ہوتی ہے اور ایک وسیع حلقے کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے اور یہ سہ پہلو جذب و دفع صرف اولیاء کے لیے مختص ہے، جس طرح کہ سہ پہلو دعوت (مشن) پیغمبروں کے لیے مختص ہے۔(۱)

____________________

(۱) مقدمہ جلد اول خاتم پیامبران، ص ۱۱ و ۱۲

۱۹

دوسری جانب یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کن عناصر کو جذب اور کن عناصر کو دفع کرتے ہیں۔ مثلاً کبھی ایسا ہتا ہے کہ دانا عنصر کو جذب اور نادان عنصر کو دفع کرتے ہیں اور کبھی معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ کبھی شریف اور نجیب عناصر کو جذب اور پلید اور خبیث عناصر کو دفع کرتے ہیں اور کبھی معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ لہذا دوست اور دشمن، جذب ہونے والے اور دور پھینکے جانے والے اس (جذب و دفع کرنے والے) کی ماہیت پر قطعی دلیلیں ہیں۔

کسی کی شخصیت کے قابل ستائش ہونے کے لیے صرف یہی کافی نہیں ہے کہ وہ جاذبہ و دافعہ رکھتی ہے یا یہ کہ قوی جاذبہ و دافعہ رکھتی ہے،بلکہ یہ تو اصل شخصیت کی دلیل ہے اور کسی کی محض شخصیت کسی کی خوبی کی دلیل نہیں ہے۔ دنیا کے تمام رہنما اور لیڈر حتیٰ کہ چنگیز خان، حجاج اور معاویہ جیسے جرائم پیشہ لوگ بھی جاذبہ اور دافعہ دونوں رکھتے تھے اور جب تک کسی کی روح میں مثبت نقطے موجود نہ ہوں، ممکن نہیں ہے کہ ہزاروں سپاہیوں کو وہ اپنامطیع اور اپنے ارادے کا تابع بنا لے۔ جب تک رہنمائی کی طاقت نہ رکھتا ہو، آدمی اتنے لوگوں کو اپنے گرد جمع نہیں کر سکتا۔

نادر شاہ ایسے ہی افراد میں سے ایک ہے۔ اس نے کتنے سرقلم کئے اور کتنی ہی آنکھیں حلقوں سے باہر نکال دیں لیکن اس کی شخصیت غیر معمولی طاقت کی حامل ہے۔ اس نے صفوی عہد کے آخری دنوں میں شکست خوردہ اور لٹے پٹے ایران سے ایک بھاری لشکر تیار کیا اور میدان جنگ کو اس طرح اپنے گرد اکٹھا کیا جس طرح مقناطیس فولادکے ذرّوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور یوں ایران کو نہ صرف غیروں کے تسلط سے نجات دلائی بلکہ ہندوستان کے آخری حصوں کو بھی فتح کرلیا اور نئی سرحدوں کو ایرانی سلطنت میں شامل کیا۔

بنابریں ہر شخصیت اپنے قبیل کے لوگوں کو اپنی طرف جذب کرتی ہے اور اس کے مخالف لوگوں کو اپنے سے دور کر دیتی ہے۔ انصاف پرور اور شریف شخصیت نیکی پسند اور عدالت کے طلبگار عناصر کو اپنی طرف جذب کرتی ہے اور ہوس پرستوں، زرپرستوں اور منافقوں کو اپنے سے دور پھینکتی ہے۔ جرائم پیشہ شخصیت مجرموں کو اپنے گرد جمع کرتی ہے اور نیک لوگوں کو اپنے سے دور پھینکتی ہے۔

۲۰