جاذبہ و دافعہ علی علیہ السلام

جاذبہ و دافعہ علی علیہ السلام25%

جاذبہ و دافعہ علی علیہ السلام مؤلف:
زمرہ جات: امیر المومنین(علیہ السلام)
صفحے: 159

جاذبہ و دافعہ علی علیہ السلام
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 159 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 39110 / ڈاؤنلوڈ: 4972
سائز سائز سائز

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

تھے عدالت و مساوات کے بارے میں ان کی بیشتر گفتگو انہی لوگوں کے بارے میں ہے۔

لیکن قاسطین کی ذہنیت و سیاست، دورنگی اور منافقت تھی۔ وہ زمام حکومت اپنے ہاتھ میں لے علی علیہ سلام کی حکومت اوران کے اختیارات کو درہم برہم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان میں سے بعض نے تجویز پیش کی ان کے قریب آجائیں اور کسی حد تک ان کے مفادات کی ضمانت دیں لیکن انہوں (علی علیہ سلام) اس لیے آئے تھے کہ ظلم کا مقابلہ کیا جائے نہ اس لیے کہ ظلم کی تائید کریں اور دوسری جانب معاویہ اور اسی قماش کے لوگ سرے سے علی علیہ سلام کی حکومت کے ہی مخالف تھے وہ چاہتے تھے کہ خلافت اسلامی کی مسند پر خود قبضہ کریں اور ان کے ساتھ علی علیہ سلام کی جنگ درحقیت نفاق اور دورنگی سے جنگ تھی۔

تیسرا گروہ جو مارقین کا ہے ان کی ذہنیت ناروا عصبیت، خشک تقدس اور خطرناک جہالت تھی۔ علی علیہ سلام ان تمام کی نسبت ایک طاقتور دافعہ اور غیر مصالحانہ رویّہ رکھتے تھے۔

علی علیہ سلام کی ہمہ گیری اور ان انسان کامل ہونے کا ایک مظہر یہ ہے کہ اپنے اختیار و عمل کی بناء پر ان کو گونا گوں فرقوں اور مختلف انحرافات کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے ان سب سے جنگ کی۔ ہم کبھی ان کو زر پرستوں اور شتر سوار دنیا پرستوں کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں کبھی رو و صد روسیاست پیشہ لوگوں کے ساتھ اورکبھی جاہل اور منحرف مقدس نما لوگوں کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔

۱۰۱

ہم اپنی بحث کو آخری گروہ یعنی خوارج کی طرف منعطف کریں گے۔ یہ اگرچہ اب ختم ہوچکے ہیں لیکن یہ ایک سبق آموز اور عبرت انگیز تاریخ رکھتے ہیں ان کے خیالات تمام مسلمانوں میں پھیل چکے ہیں۔ جس کے نتیجے میں چودہ سو سال کی طویل تاریخ میں اگرچہ وہ لوگ اور حتیّٰ کہ ان کے نام بھی ختم ہوچکے ہیں لیکن ان کی روح ''مقدس نما،، لوگوں کی شکل میں ہمیشہ باقی ہے اور اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی ہے۔

خوارج کا ظہور

خوارج یعنی شورشی، یہ لفظ ''خروج،،(۱) سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں سرکشی اور بغاوت۔ ان کاظہور ''حکمیت،، کے معاملے سے ہوا ہے۔ جنگ صفین میں آخری روز جبکہ

____________________

۱) کلمہئ ''خروج،، اگر متعدّی بہ ''علیٰ،، ہو تو اس کے دو معنی نکلتے ہیں جو ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ ایک جنگ اور لڑائی سے نکل آنا اور دوسرے سرکشی، نافرمانی اور شورش۔خرج فلان علیٰ فلان: برز لقتاله، و خرجت الرعیة علی الملک : تمردت (المنجد) لفظ ''خوارج،، جس کے لےے فارسی میں ''شورشیاں،، کا لفظ بولا جاتا ہے، وہ ''خروج،، سے دوسرے معنی میں لیا گیا ہے۔ اس گروہ کو خوارج اس لیے کہا گیا ہے کہ انہوں نے علی علیہ سلام کے حکم سے سرتابی کی اور ان کے خلاف شورش برپا کی اور چونکہ اپنی سرکشی کی بنیاد ایک عقیدہ اور مسلک پر رکھی لہذا اسی طرح نامزد ہوگئے اور یہ نام ان کے لیے مختص ہوگیا۔ اسی لیے وہ تمام لوگ جنہوں نے قیام کیا اور حاکم وقت سے بغاوت کی خارجی نہیں کہلائے۔ اگر یہ کوئی مذہب عقیدہ نہ رکھتے تو بعد کے بغاوت کرنے والوں کی طرح ہوتے لیکن یہ کچھ عقائد رکھتے تھے جن کو بعد میں مستقل حیثیت مل گئی۔ اگرچہ یہ کسی وقت بھی کوئی حکومت قائم کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے لیکن اپنے لیے ایک فقہ اور ادب تخلیق کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ (صخی الاسلام ج ۳، ص ۲۷۰،۲۴۷ طبع ششم کی طرف رجوع کیاجائے)

۱۰۲

یہ ایسے لوگ بھی تھے جن کو خروج کرنے کا موقعہ کبھی نہ ملا لیکن وہ خوارج کے عقیدہ پرایمان رکھتے تھے جیسا کہ عمرو بن عبید اور بعض اور معتزلیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے۔ معتزلہ کے کچھ لوگ امر بالمعروف نہی از منکر اور یا گناہ کبیرہ کا اتکاب کرنے والے کے لیے عذاب مخلّد (ہمیشہ کا عذاب) کے مسئلہ میں خوارج کے ہم فکر تھے اور ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ''و کا یری برأی الخوارج ،، یعنی ''خوارج کی طرح سوچتے ہیں۔،، حتی کہ چند عورتیں بھی تھیں۔ کامل مبّرد ج ۲، ص ۵۴ میں ایک ایسی عورت کی داستان نقل کی گئی ہے جس کا عقیدہ خارجیوں کا سا تھا۔ اس اعتبار سے اس لفظ کے لغوی اور اصطلاحی مفہوم میں ''عام خاص من وجہ،، کی نبست ہے۔

جنگ علی علیہ سلام کی فتح کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچ رہی تھی، معاویہ نے عمر وابن عاص کے مشورے سے ایک ماہرانہ چا چلی۔ اس نے دیکھا کہ اس کی تمام کوششیں اور زحمتیں بے کار گئیں اور یہ کہ شکست اور اس کے درمیان ایک قدم سے زیادہ فاصلہ نہیں رہا اس نے سوچا کہ فریب کے علاوہ نجات کا اور کوئی راستہ نہیں ہے اس نے حکم دیا کہ لوگ نیزوں پر قرآن کو بلند کریں اور کہیں کہ لوگو! ہم قبلہئ و قرآن کو ماننے واے ہیں آؤ ہم اس کو اپنے درمیان حکم قرار دیتے ہیں۔ یہ کوئی نئی باتنہ تھی جو انہوں نے نکالی ہو، یہی بات اس سے پہلے علی علیہ سلام نے کہی تھی اور جس کو انہوں نے تسلیم نہیں کیا تھا اور اب بھی وہ اس کو (دل سے) تسلیم نہیں کر رہے تھے، بلکہ ایک بہانہ تھی کہ نجات کا راستہ اور یقینی شکست سے چھٹکارا پائیں۔ علی علیہ سلام نے پکارا، مارو ان کو، یہ قرآن کے صفحہ اور کاغذ کو بہانہ بنا کر قرآن کے لفظ اور کتابت کی پنا میں اپنا بچاؤ کرنا چاہتے ہیں اور بعد میں قرآن کے خلاف اپنی روش پر باقی رہےں گے۔ قرآن کا کاغذ اور اس کی جلد کی حقیقت قرآن کے مقابلے میں کوئی قیمت و عزت نہیں رکھتی۔ قرآن حقیقت اور اس کا صحیح جلوہ ''میں،، ہوں۔ انہوں نے کاغذ اور خط کو ہاتھوں میں اٹھایا ہے تاکہ حقیقت اور معنی کو نابود کریں۔

۱۰۳

بعض جاہل اوربے معرفت مقدس نما لوتوں نے جن کی ایک بڑی تعداد تھی، ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر کہا کہ علی علیہ سلام کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے شور مچایا کہ ہم قرآن کے ساتھ جنگ کریں؟ ہماری جنگ تو قرآن کو زندہ رکھنے کے لیے ہے جب وہ بھی قرآن کو تسلیم کررہے ہیں تو پھر جنگ کس لیے؟ علی علیہ سلام نے کہا میں اب بھی کہتا ہوں کہ تم قرآن کی خاطر جنگ کرو۔ ان لوگوں کو قرآن سے کوئی سروکار نہیں ہے، انہوں نے قرآن کے الفاظ اور اس کی تحریر کو اپنی جان بچانے کا وسیلہ قرار دے رکھا ہے۔

اسلامی فقہ میں ''جہاد،، کے بار میں ''کفّار کا مسلمانوں کو ڈھال بنانا،، کے عنوان سے ایک مسئلہ ہے۔ وہ یہ ہے کہ اگر دشمنان اسلام مسلمانوں کے ساتھ حالت جنگ میں چند مسلمان قیدیوں کو اگلے محاذ پر اپنے لیے ڈھال قرار دیں اور خود محاذ کے پیچھے کارروائی اور پیش قدمی میں مشغول ہوں اور صورت حال ایسی ہو کہ اسلامی فوج کے لیے اپنا دفاع کرنے یا ان پرحملہ کرکے ان کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ ہو کہ ان مسلمان بھائیوں کو جو ڈھال بنا دیئے گئے ہیں حکم ضررت کے تحت ختم کردیا جائے، یعنی حملہ آور دشمن پر قابو پانا مسلمانوں کوقتل کئے بغیر ممکن نہ ہو تو یہاں اسلام کے بلند مقاصد اور باقی مسلمانوں کی جانوں کی حفاظت کے لیے مسلمان کا قتل، اسلامی قانون کے تحت جائز قرار دیا گیا ہے۔ وہ بھی اسلام کے سپیاہی ہیں اور راہ خدا میں شہید ہوئے ہیں۔ منتہا یہ ہے کہ ان کے پسماندگان کو مسلمانوں کے سرمایہ (بیت المال) سے ان کا خون بہا ادا کردیا جائے(۱) اور یہ صرف فقہ اسلامی کی خصوصیت نہیں ہے بلکہ دنیا بھر کے فوجی اور جنگی قوانین

____________________

۱) لمعہ ج ۱، کتاب الجہاد فصل اول۔ و شرائع الاسلام کتاب الجہاد

۱۰۴

میں ایک مسلم قانون ہے کہ اگر دشمن داخلی قوتوں سے فائدہ اٹھانا چاہے، تو ان قوتوں کو ختم کرتے ہیں تاکہ دشمن پر قابو پاسکیں اور اس کو پسپا کردیں۔

ایسی صورت میں جبکہ ایک زندہ مسلمان کے بارے میں اسلام کتا ہے کہ اس کو قتل کردو تاکہ اسلام کو فتح ملے تو کاغذ اور جلد کے بارے میں تو بحث کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ کاغذ اور تحریر کا احترام معنی اور مضمون کی وجہ سے ہوتا ہے، آج جنگ قرآن کے مضمون کی خاطر ہے انہوں نے کاغذ کو وسیلہ قرار دے دیا ہے تاکہ قرآن کے معنی اور مضمون کو مٹا دیں۔

لیکن نادانی اور جہالت نے سیاہ پردے کی طرح ان کی عقل کی آنکھوں پر قبضہ کر لیا اور ان کوحقیقت سے دور رکھنا۔ کہنے لگے کہ ہم نہ صرف یہ کہ قرآن کے ساتھ جنگ نہیں کریں گے بلکہ چونکہ قرآن کے ساتھ جنگ خود ایک منکر (برائی) ہے اس لیے اس سے نہی (روکنے) کی بھی کوشش کریں گے اور جو لوگ قرآن کے ساتھ جنگ کریں ان کے استھ جنگ کریں گے۔ آخری فتح میں لمحے سے زیادہ کی دیر نہ تھی کہ مالک اشتر جو ایک منجھا ہوا فدا کار اور اپنا سب کچھ قربان کردینے والا افسر تھا اسی طرح آگے بڑھتا جارہا تھا کہ تاکہ معاویہ کے خیمہ کو سرنگوں کیا جائے جہاں سے اس کی فوج کی کمان کی جارہی تھی اور اسلام کے راستے کو کانٹے سے پاک کرے اسی وقت اس گروہ نے علی علیہ سلام پر دباؤ ڈالا کہ پیچھے سے حملہ کردیں گے۔ علی علیہ سلام جتنا اصرار کرتے اتنا ہی ان کے انکار میں اضافہ ہوتا اور وہ پہلے سے زیادہ ضد کرتے۔ علی علیہ سلام نے مالک اشتر کو پیغام بھیجا کہ جنگ بند کردے اور خود میدان سے واپس آجائے۔

اس نے علی علیہ سلام کے پیغام کو جواب دیا کہ آپ مجھے چند لمحوں کی اجازت دیں تو جنت ختم ہے اور دشمن بھی نیست و نابود ہو نے والا ہے۔

۱۰۵

انہوں (خارجیوں) نے تلواریں نکالیں اور کہا کہ یا تو ہم تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کردیں گے یا اس سے کہہ دو کہ واپس آجائے۔

آپ نے دوبارہ اس کو پیغام بھیجا کہ اگر تم علی علیہ سلام کو زندہ دیکھنا چاہتے ہو تو جنگ روک دو اور واپس آجاؤ ،وہ واپس آیا اور دشمن خوش ہوگیا کہ اس کا فریب خوب کارگر ہوا۔

جنگ روک دی گئی تاکہ قرآن کو حاکم قرار دیں، ثالثی کو نسل تشکیل دیں اور دونوں طرف کے حکم قرآن و سنت میں طرفین کا جن باتوں پراتفاق ہے ان کو رو سے فیصلہ کریں اور اختلافات کو ختم کریں یا ایک اور اختلاف کا اضافہ کریں اور حالات کو بد سے بد تر بنادیں۔

علی علیہ سلام نے کہا کہ وہ اپنے حکم کی تعیین کردیں تاکہ ہم بھی اپنا حکم معین کریں، انہوں نے تجویز پیش کی کہ عبد اللہ ابن عباس جیسے سیاست دان، یا مرد فدا کار و روشن بین با ایمان مالک اشتر یا اسی قبیل کے کسی شخص کو مقرر کیا جائے لیکن ان احمقوں کو اپنے جیسے کسی کی تلاش تھی، انہوں نے ابو موسیٰ جیسے کو جو ایک ناسجھ آدمی تھا اور جس کو علی علیہ السّلام سے کوئی خاص لگاء نہ تھا، منتخب کیا۔ ہر چند کہ علی علیہ سلام اور ان کے دوستوں نے ان لوگوں کو یہ واضح کرنا چاہا کہ یہ کام ابو موسیٰ کا نہیں ہے اور وہ اس مقام کا اہل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ہم کسی اور پر اتفاق نہیں کرتے۔ علی علیہ سلام نے کہا کہ اگر یہ بات ہے تو جو تم چاہو کرو۔

آخر کار انہوں نے اس کو علی علیہ سلام اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے حکم کی حیثیت سے ثالثی کونسل میں بھیجا۔ مہینوں کے مشورے کے بعد عمر و عاص نے ابو موسیٰ سے کہا کہ مسلمانوں کے مفاد میں بہتر یہی ہے کہ نہ علی علیہ سلام ہو اور نہ معاویہ اور ہم کسی تیسرے شخص کو منتخب کریں اور وہ تمہارے داماد عبد اللہ ابن عمر کے علاوہ کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ ابو موسیٰ نے کہا کہ تو نے سچ کہا ہے۔ اب کیا کرنا چاہیے؟ کہا کہ تو علی علیہ سلام کو خلافت سے معزول کرے گا اور میں معاویہ کو، بعد میں مسلمان جاھیں گے اور ایک مناسب آدمی کو جو لازما عبد اللہ ابن عمر ہی ہے، منتخب کریں گے اور یوں فتنے کی جڑ ختم کردی جائےگی۔ اس بات پر دونوں نے اتفاق کیا اور اعلان کردیا کہ لوگ حکمیت کا نتیجہ سننے کے لیے جمع ہو جائیں۔

۱۰۶

لوگ جمع ہوگئے، ابوموسیٰ نے عمر و عاص سے کہا کہ منبر پر جا کر اپنے فیصلے کا اعلان کرے، عمر و عاص سے کہا کہ میں؟ تم سفیر ریش اور پیغمبر کے محترم صحابی ہو میں ہر گز یہ جسارت نہیں کرسکتا کہ تم سے پہلے کوئی بات کروں۔ او موسیٰ اپنی جگہ سے اٹھا اور منبر پر جاکر بیٹھ گیا۔ لوگوں کے دل کی دھڑکنیں تیز ہونے لگیں، آنکھیں خیرہ ہونے اور سانسیں سینوں میں اٹکنے لگیں۔ سب کو یہ انتظار کہ کیا نتیجہ نکلے؟ اس نے بولنا شروع کیا کہ ہم نے مشورے کے بعد امت کا مفاد اس میں دیکھا کہ نہ علی علیہ سلام ہو اور نہ معاویہ اور مسلمان خو دجانتے ہیں وہ جس کو چاہیںمنتخب کریں اور اپنی انگوٹھی کو دائیں ہاتھ سے نکالتے ہوئے کہا کہ میں نے علی علیہ سلام کو خلافت سے معزول کردیا جس طرح میں نے اس انگوٹھی کو ہاتھ سے نکالا۔ یہ کہا اور منبر سے اتر آیا۔

عمر و عاص اٹھا اور منبرپر بیٹھ گیا اور کہا کہ تم لوگوں نے ابو موسیٰ کی باتیں سن لیں کہ اس نے علی علیہ سلام کو خلافت سے معزول کردیا ہے میں بھی ان کو خلافت سے معزول کرتا ہوں جس طرح کہ ابو موسیٰ نے کیا ہے اور اپنی انگوٹھی کو اپنے دائیں ہاتھ سے باہر نکالا اس کے بعد اپنی انگوٹھی کو اپنے بائیں ہاتھ میں ڈالتے ہوئے کہا کہ میں معاویہ کو اس طرح خلافت پر نصب کرتا ہوں جس طرح اپنی انگوٹھی کو اپنے ہاتھ میں ڈالا ہے۔ یہ کہا اور منبر سے نیچے اترا۔

مجلس میں کھلبلی مچ گئی لوگوں نے ابو موسیٰ پرحملہ کرنا شروع کیا اوربعض لوگ تازیانہ لے کراس کی طرف بڑھے، وہ مکہ کی طرف بھاگ گیا اور عمر و عاص بھی شام چلاگیا۔

خوارج نے جو اس معاملے کو پیدا کرنے کے ذمہ دار تھے حکمیت کی رسوائی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور ان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا لیکن وہ نہیں سمجھتے تھے کہ غلطی کہاں پر ہوئی ہے؟ وہ نہیں کہتے تھے کہ ہماری غلطی یہ تھی کہ ہم نے معاویہ اور عمر و عاص کی مکاری کو تسلیم کیا اور جنگ بند کرلی اور یہ بھی نہیں کہتے تھے کہ حکمیت کا فیصلہ ہو جانے کے بعد ''مصلح،، کے انتخاب میں ہم نے خطا کی کہ عمر و عاص کے مقابلے میں ابو موسیٰ کو مقرر کیا۔ بلکہ کہتے تھے کہ ہم نے دین خدا میں دو انسانوں کو حکم اور مصلح قرار دیا جو خلاف شرع اور کفر تھا۔ حاکم صرف خدا ہے نہ کہ انسان۔

۱۰۷

وہ علی علیہ سلام کے پاس آئے اور کہا کہ ہم نے نہیں سمجھا ارو حکمیت کو تسلیم کیا تو بھی کافر ہوگئے اور ہم بھی، ہم نے توبہ کرلی ہے تم بھی توبہ کرلوٍ۔ مصیبت تازہ ہوگئی اوربڑھ گئی۔

علی علیہ سلام نے کہا بہرحال توبہ کرنا اچھی بات ہے''استغفر الله من کل ذنب '' ہم ہمیشہ ہر گناہ سے استغفار کرتے ہیں،،۔ انہوں نے کہا یہ کافی نہیں ہے بلکہ تم کو اعتراف کرلینا چاہیے کہ ''حکمیت،، گناہ تھی اور اس گناہ سے توبہ کرو۔ کہا کہ آخر میں نے تحکیم کا مسئلہ پیدا کیا ہے اور اس کا نتیجہ بھی دیکھ لیا ہے اور دوسری طرف سے جو چیز شریعت میں جائز ہے میں کس طرح اس کو گناہ قرار دوں اور جس گناہ کا میں مرتکب نہیں ہوا ہوں اس کا اعتراف کرلوں۔ یہاں سے انہوں نے ایک مذہبی فرقہ کی حیثیت سے کام شروع کردیا۔ ابتداء میں ایک باغی اور سرکش گروہ تھا اسی لیے ان کا نام ''خوارج،، رکھ دیا گیا۔ لیکن آہستہ آہستہ انہوں نے اپنے لیے اصول عقائد منظم کرلیے اور وہ گروہ جو ابتداء میں سیاسی شکل کا تھا رفتہ رفتہ ایک مذہبی فرقہ کی صورت اور مذہبی رنگ اختیار کرگیا۔ بعد میں خوارج نے ایک مذہب کے حامیوں کی حیثیت سے تیز تبلیغی سرگرمیوں کا آغاز کیا اور آہستہ آہست جب انہوں نے سوچنا شروع کیا کہ اپنے خیال میں دنیائے اسلام کے مفاسد کی نشاندہی کریں، وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ عثمان، علی علیہ سلام اور معاویہ سب غلطی پر اور گناہگار ہیں اور ہمیں چاہیے کہ جو مفاسد پیدا ہوگئے ہیں ان کا مقابلہ کریں اور امر بہ معروف اور نہی از منکر کریں۔ اس طرح خوارج کامذہب امر بہ معروف اور نہی از منکر کے فریضے کے عنوان سے وجود میں آیا۔

۱۰۸

امر بہ معروف اورنہی از منکر کا فریضہ سب سے پہلے دو اساسی شرطیں رکھتا ہے: ایک دینی بصیرت اور دوسرے عمل میں بصیرت۔

دین کی بصیرت ___ جس طرح کہ روایت میں آیا ہے ___ اگر نہ ہو تو اس کام کا نقصان اس کے فائدے سے زیادہ ہے۔

جہاں تک عمل میں بصیرت کا تعلق ہے وہ ان دو شرطوں کا لازمہ ہے جن کوفقہ میں ''احتمال تاثیر،، اور ''عدم ترتب مفسدہ،، سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس کا فائدہ تب ہے جب ان دو فریضوں کے سلسلے میں عقل و منطق کو دخل ہو۔(۱) خوارج نہ بصیرت دینی رکھتے تھے اور نہ بصیرت عملی، وہ نادان اور بے بصیرت لوگ تھے۔ بلکہ

____________________

۱) یعنی امر بہ معروف اور نہی از منکر اس لیے ہے کہ ''معروف،، رائج ہوجائے اور ''منکر،، مٹ جائے۔ پس امر بہ معروف اور نہی از منکر وہاں کیا جانا چاہیے کہ جہاں اس نتیجے کے مترتب ہونے کا احتمال ہو، اگر ہمیں معلوم ہو کہ قطعا بے اثر ہے تو واجب کیونکر؟

اور دوسرے یہ کہ اس عمل کو شریعت نے اس لیے رکھا ہے کہ کوئی مصلحت انجام پائے اس لیے لازماً وہاں انجام پاناچاہیے کہ جہاں پہلے سے زیادہ خرابی پیدا نہ ہو۔ ان دو شرطوں کا لازمہ بصیرت در عمل ہے وہ شخص جس میں بصیرت در عمل مفقود ہے پیش بینی نہیں کرسکتا کہ اس کام کاکوئی نتیجہ نکلے گا یا نہیں اور یہ کہ کوئی پہلے سے زیادہ مفسدہ ہوگا یا نہیں؟ یہی وجہ ہے کہ جاہلانہ امر بہ معروف، جس طرح کہ حدیث میں ہے، اس کا نقصان فائدے سے زیادہ ہے۔

۱۰۹

تمام فرائض میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ احتمال ترتب فائدہ اس کی شرط ہے اوراگر فائدہ کا احتمال ہے تو انجام دیا جائے اور اگر فائدہ کااحتمال نہ ہو تو انجام دیا جائے حالانکہ ہر فریضہ میں کوئی فائدہ اور مصلحت پیش نظر ہے لیکن ان مصلحتوں کو پہچاننے کی ذمہ داری لوگوں پر نہیں ڈالی گئی ہے۔ نماز کے بارے میں نہیں کہا گیا ہے کہ اگر تم دیکھو کوئی فائدے کی صورت ہے تو پڑھو ورنہ نہ پڑھو، روزہ کے سلسلے میں بھی نہیں کہا گیا کہ اگر تمہیں فائدہ کا احتمال ہو تو رکھو ورنہ نہ رکھو۔ روزہ کے سلسے میں کہا گیا ہے کہ اگر تم دیکھ کہ نقصان یا ضرر کی صورت ہے تو نہ رکھو اسی طرح جج یا زکوٰۃ یا جہاد کے بارے میں اس طرح کی کوئی قید نہیں ہے لیکن امر بہ معروف اور نہی از منکر کے بارے میں یہ قید ہے کہ دیکھنا چاہیے کیا اثر اور کیا رد عمل رکھتا ہے اور یہ کہ کیا عہ عمل اسلام اور مسلمانوں کے مفاد میں ہے یا نہیں؟ یعنی مصلحت کو پہچاننے کی ذمہ داری خود عمل کرنے والوں پر ڈالی گئی ہے۔

اس فریضے میں ہر شخص کو یہ حق ہے بلکہ واجب ہے کہ منطق اور عقل و بصیرت در عمل اور توجہ بہ فائدہ کو دخل دینے کا راستہ دے کیونکہ یہ عمل محض تعبدی نہیں ہے (گفتار ماہ جلد اول میں امربہ معروف و نہی از منکر کے موضوع پر تقریر، کی طرف رجوع کیا جائے)

یہ شرط کہ امر بہ معروف اور نہی از منکر کے سلسلے میں عملی بصیرت سے کام لینا واجب ہے، اس پر خوارج کو چھوڑ کر باقی تمام اسلامی فرقوں کا اتفاق ہے۔ وہ اسی جمود، خشکی اور مخصوص تعصب کی بناء پر جو وہ رکھتے تھے، کہتے تھے کہ امربہ معروف و نہی از منکر ''تعبد محض،، ہے اس میں ''احتمال اثر،، اور ''عدم ترتب مفسدہ،، کی کوئی شرط نہیں ہے اس لیے کسی کو بیٹھ کر اس کے نتائج کا حساب نہیں لگانا چاہیے ۔ اپنے اسی عقیدے کی بناء پر یہ جانتے ہوئے کہ وہ مارے جائیں گے، ان کا خون بہایا جائے گا اور یہ جانتے ہوئے کہ ان کے قیام کا کوئی مفید نتیجہ مرتب نہیں ہوگا، وہ قیام کرتے تھے اور یا دوسروں پر حملہ کرتے تھے۔

۱۱۰

بنیادی طور پر وہ عملی بصیرت کے منکر تھے کیونکہ وہ اس فریضے کو ایک ''امر تعبدی،، جانتے تھے اور دعویٰ کرتے تھے کہ آنکھیں بند کرےے اس کو انجام دینا چاہیے۔

اصول عقائد خوارج

''خارجیت،، کی بنیاد پر چند چیزوں سے تشکیل پائی تھی:

۱ علی علیہ سلام، عثمان، معاویہ، اصحاب جمل اور اصحاب حکمیت اور ان تمام لوگوں جو حکمیت پر راضی ہوئے، کی تکفیر۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے حکمیت کا مشورہ دیا اور بعد میں توبہ کرلی۔

۲ ان لوگوں کی تکفیر جو علی علیہ سلام و عثمان اور دوسرے لوگوں کے کفر کے قائل نہ ہوں جن کا ہم نے ذکر کیا ہے۔

۳ صرف ایمان ولی عقیدہ نہیں ہے بلکہ اوامر پر عمل اور نواہی کو ترک کرنا بھی جزو ایمان ہے۔ ایمان، اعتقاد اور عمل سے مرکب ایک امر ہے۔

۴ ایک ظالم امام اور حکمران کے خلاف غیر مشروط بغاوت کا وجوب۔

وہ کہتے تھے کہ امر بہ معروف اور نہی از منکر کے لیے کسی چیز کی شرط نہیں ہے اور ہر جگہ بغیر کسی استثناء کے اس حکم الہی کو انجام دیا جانا چاہیے۔(۱)

ان عقائد کی وجہ سے انہوں نے ایسے عالم میں سحر کی کہ روئے زمین کے تمام لوگوں کو کافر، واجب القتل اور ابدی جہنمی سمجھتے تھے۔

____________________

١(۱)ضحی الاسلام ج ٣، ص ٣٣٠ منقول از کتاب الفرق بین الفرق

۱۱۱

خلافت کے بارے میں خوارج کا عقیدہ

خوارج کی واحد فکر جو آج کے تجدّد پسندوں کی نظر میں درخشاں ظاہر کی جاتی ہے وہ خلافت آزادانہ انتخاب کے ذریعہ ہونی چاہیے اور موزوں ترین شخص وہ ہے جو ایمان و تقویٰ کے لحاظ سے صلاحیت رکھتا ہو خواہ قریش سے ہو یا غیر قریش سے، ممتاز قبیلے سے ہو یا گمنام اور پسماندہ قبیلے سے۔ عرب ہو یا غیر عرب۔

انتخاب اور بیعت مکمل ہونے کے بعد خلیفہ اگر اسلامی معاشرے کے مفاد کے خلاف چلے تو وہ خلافت سے معرزول ہو جاتا ہے اور اگروہ (معزول ہونے سے ) انکار کر بیٹھے تو اس سے جنگ کرنا چاہیے یہاں تک کہ وہ مارا جائے ۔(۱)

یہ لوگ خلافت کے بارے میں شیعوں کے مخالف قرار پائے ہیں جو کہتے ہیں کہ خلافت ایک امر الہی ہے اور خلیفہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف خدا کی طرف سے معین کیا گیا ہو اور اسی طرح سنیوں کے بھی مخالف ہیں جو کہتے ہیں کہ خلافت صرف قریش کے لیے ہے اور''انما الائمة من القریش،، کے جملے سے وابستگی ڈھونڈھتے ہیں۔

ظاہر ہے کہ خلافت کے بارے میں ان کا یہ نظریہ ایسی چیز نہیں ہے کہ

____________________

۱) ضحی الاسلام ج ۳، ص ۳۳۲

۱۱۲

جس تک وہ اپنی پیدائش کے ساتھ ہی پہنچے ہوں۔ بلکہ جیسا کہ ان کا مشہور نعرہ ''لا حکم الا للہ،، حکایت کرتا ہے اور نہج البلاغہ(۱) سے معلوم ہوتا ہے کہ شروع میں وہ کہتے تھے کہ افراد اور معاشرے کو کسی امام یا حکومت کی ضرورت نہیں ہے اور لوگوں کو خود خدا کی کتاب پر عمل کرنا چاہیے۔

لیکن بعد میں وہ اس عقیدے سے پھر گئے اور خود عبد اللہ بن وہب راسبی کی بیعت کرلی۔(۲)

خلفاء کے بارے میں خوارج کاعقیدہ

وہ ابوبکر اور عمر کی خلافت کو صحیح سمجھتے تھے اس اعتبار سے کہ یہ دونوں ایک صحیح انتخاب کے ذریعے خلافت تک پہنچے تھے اور مصالح کی راہ سے بھی منحرف نہیں ہوئے اور اس کے خلاف کسی چیز کے مرتکب نہیں ہوئے۔ وہ عثمان اور علی علیہ سلام کے انتخاب کو بھی صحیح جانتے تھے۔ بالآخر کہتے تھے کہ عثمان اپنی خلافت کے چھٹے سال کے آخر میں راہ سے منحرف ہوگیا ہے اور مسلمانوں کے مفادات سے آنکھیں پھیر لی ہیں اس لیے وہ خلافت سے معزول تھا اور چونکہ مسئلہ تحکیم کو قبول کیا اور اس کے بعد توبہ نہیں کی ہے وہ بھی کافر ہوگیا اور واجب القتل تھا اور اس لیے ساتویں سال کے بعد عثمان کی خلافت اورتحکیم کے بعد علی علیہ سلام کی خلافت سے تبّریٰ (بیزاری کا اظہار) کرتے(۳) تھے۔ وہ سارے خلفاء سے بیزاری کااظہار کرتے تھے اور

____________________

۱) خطبہ ۴۰ و شرح ابن ابی الحدید ج ۲، ص۳۰۸

۲) کامل ابن اثیر ج ۳، ص ۳۳۶

۳) الملل و النحل شہرستانی

۱۱۳

ہمیشہ ان کے ساتھ برسرپیکار رہتے تھے۔

خوارج کا خاتمہ

یہ گروہ پہلی صدی ہجری کے چوتھے دہے کے اواخر میں ایک خطرناک فریب کے نتیجے میں وجود میں آیا اور ڈیڑھ صدی سے زیادہ نہ ٹھہر سکا۔ اپنے بے جا جوش اور جنون آمیز بے باکیوں کی وجہ سے وہ خلفاء کی سرزنش کا شکار بنے جنوہں نے ان کو اور ان کے مذہب کو تباہی و بربادی کی طرف دھکیلا اور عباسی سلطنت کے قیام کے اوائل میں سرے سے نابود ہوگئے۔ ان کی خشک اور بے روح منطق، ان کو وہ روش جو زندگی سے ناآہنگ تھی اور سب سے بڑھ کر ان کے بیجا جوش نے جس کی وجہ سے انہوں نے ''تقیّہ،، کے صحیح اور منطقی مفہوم تک سے کنارہ کشی اختیا رکی، ان کو نابود کردیا۔ خوارج کا مکتب کوئی ایسا مکتب نہ تھا جو واقعاً باقی رہ سکتا لیکن اس مکتب نے اپنا اثر باقی رکھا۔ خارجیت کے افکار و عقائد نے تمام اسلامی فرقوں میں نفوذ پیدا کیا اور اب بھی بہت سے ''نہروانی،، موجود ہیں اور علی علیہ سلام کے عہد و عصر کی طرح اسلام کے خطرناک ترین داخلی دشمن یہی لوگ ہیں۔ جس طرح کہ معاویہ اور عمر و عاص بھی ہر دور میں رہے ہیں اور ''نہرانیوں،، کے وجود سے جوان کے دشمن شمار ہوتے ہیں،موقعہ پر فائدہ اٹھاتے ہیں۔

۱۱۴

رُسوم یا روح

ایک مذہبی بحث کی حیثیت سے خارجیت یا خوارج کے اوپر بحث کرنا، کسی مورد کے بغیر بحث اوربے نتیجہ ہے کیونکہ آج دنیا میں ایسا کوئی مذہب وجود نہیں رکھتا لیکن اس کے ساتھ ہی خوارج اور ان کے کام کی نوعیت کے بارے میں بحث ہمارے اور ہمارے معاشرے کے لیے سبق آموز ہے کیونکہ ہر چند خوارج کا مذہب ختم ہوچکا ہے لیکن اس کی روح ابھی زندہ ہے۔ خارجیت کی روح ہم میں سے بہت سے لوگوں کے پیکر میں حلول کئے ہوئے ہے۔ لازم ہے کہ مقدمے کے طور پر کچھ کہوں:

یہ ممکن ہے کہ کچھ مذاہب رسوم کے اعتبار سے مرچکے ہوں لیکن اپنی روح کے اعتباد سے زندہ ہوںجیسا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے برعکس ہو کہ کوئی مسلک رسوم کے اعتبار سے زندہ ہو لیکن روح کے اعتبار سے کلی طورپر مرچکا ہو لہذا ممکن ہے کہ کوئی فرد یا کچھ افراد رسوم کے لحاظ سے ایک مذہب کے تابع اور پیرو شمار کئے جاتے ہوں اور روح کے اعتبار سے اس مذہب کے پیرو نہ ہوں اور اس کے برعکس ممکن ہے کہ بعض روح کے اعتبار سے کسی مذہب کے پیرو ہوں حالانکہ اس مذہب کے رسوم کو انہوں نے قبول نہ کیا ہو۔

مثلاً جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، کہ رسول اکرم کی رحلت کے بعد ابتداء ہی مسلمان دو فرقوں میں بٹ گئے:۔ سُنّی اور شیعہ۔ سُنّی ایک رسم اور عقیدے کے چوکھٹے کے اندر ہیں اور شیعہ دوسرے رسم اور عقیدے کی چار دیواری کے اندر۔

۱۱۵

شیعہ کہتے ہیں کہ پیغمبر کے خلیفہئ بلا فصل علی علیہ سلام ہیں اور آنحضرت نے علی علیہ سلام کو خدا کے حکم سے اپنی خلافت اور جانشینی کے لیے معین کیا ہے اور پیغمبر کے بعد یہ مقام ان کے لیے مخصوص ہے اور اہل سنت کہتے ہیں کہ اسلام نے اپنا قانون بناتے ہوئے خلافت و امامت کے موضوع میں کوئی مخصوص پیش بینی نہیں کی ہے بلکہ رہبر کے انتخاب کا معاملہ خود لوگوں پرچھوڑا ہے زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ قریش کے درمیان سے منتخب کیا جائے۔

شیعہ پیغمبر کے بہتسے ایسے صحابہ پر تنقید کرتے ہیں جن کا شمار اکابر اور مشہور شخصیتوں میں ہوتا ہے اور سنی اس معاملے شیعوں کے بالکل مخالف ہیں وہ ہر اس شخص کے بارے میں بہت زیادہ اور عجیب خوش بینی رکھتے ہیں ،جو ''صحابی،، کہلاتا ہو۔ کہتے ہیں کہ پیغمبر کے تمام صحابہ عادل اور صحیح کام کرنے والے ہیں۔ تشیع کی بنیاد تنقید ،تحقیق، ناخوش عقیدگی اور بال کی کھال اتارنا ہے اور تسنن کی بنیاد حمل بر صحت، توجیہ اور ''انشاء اللہ بلی ہوگی،، پر ہے۔

اس عصر اور زمانے میں جس میں ہم ہیں۔ کافی ہے کہ جو شخص کہد ے: علی علیہ سلام پیغمبر کے خلیفہئ بلا فصل ہیں ہم اس کو شیعہ سمجھیں اور اس سے کسی اور چیز کی توقع نہ رکھتے ہوں؟ وہ جسی روح اور جس نوعیت کے طرز فکر کا ہو، ہوا کرے؟

لیکن اگر ہم صدر اسلام کی طرف مڑ کر دیکھیں تو ہمیں ایک خاص قسم کا جذبہ نظر آتا ہے کہ وہ جذبہ تشیع کا جذبہ ہے اور وہی جذبات تھے جو علی علیہ سلام کے بارے میں پیغمبر کی وصیت کو سو فیصد قبول کرسکتے تھے اور کسی قسم کے شک اور تذبذب کا شکار نہ ہوتے تھے جس جذبہ اور اس طرز فکر کے مقابلے میں ایک اور جذبہ اور طرز فکرتھا کہ لوگ آنحضرت پجر مکمل ایمان رکھنے کے باوجود پیغمبر اکرم کی وصیتوں کی ایسی توجیہہ اور تفسیر اور تاویل کرتے تھے جو مطلوب نہ تھی اور درحقیقت اسلام میں انتشار یہاں سے پیدا ہوا کہ ایک گروہ جس کی یقیناً اکثریت تھی صرف ظاہر کو دیکھتا تھا اور ان کی نظر اتنی تیز اور گہری نہ تھی کہ ہر واقعہ کی حقیقت اور اس کے باطن کو بھی دیکھتی وہ ظاہر کو دیکھتا اور ہر جگہ حمل بر صحت کرتا تھا وہ لوگ کہتے کہ برزگ، بوڑھے اور اسلام میں پہل کرنے والے صحابہ ایک راہ پر چلے ہیں اور یہ نہیں کہا جاسکتا کہ انہوں نے غلطی کی ہے

۱۱۶

لیکن دوسرا گروہ جو اقلیت میں تھا وہ اسی وقت سے کہتارہا ہے کہ شخصیتیں اس وقت تک ہمارے نزدیک قابل احترام ہیں جب تک وہ حقیقت کا احترام کرتی رہیں لیکن جہاں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اسلام کے اصول انہی پہل کرنے والوں کے ہاتھوں پائمال ہو رہے ہیں، پھر ان کا کوئی احترام نہیں ہے۔ ہم اصول کے طرفدار ہیں نہ کہ شخصیتوں کے۔ اس روح کے ساتھ تشیع وجود میں آیا ہے۔

ہم جب تاریخ میں سلمان فارسی، ابوذر غفاری، مقداد کندی، عمار یاسر اور اسی طرح کے لوگوں کے بارے میں دیکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دیکھیں کہ ان لوگوں کو علی علیہ سلام کے گرد جمع ہونے اور اکثریت کو چھوڑ دینے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ تو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ ایسے لوگ تھے جو اصولی بھی تھے اور اصول شناس بھی، دیندار بھی تھے اور دین شناس بھی، وہ کہتے تھے کہ ہمیں اپنی فکر و ادراک کو دوسروں کے ہاتھ میں نہیں دیناچاہیے اور یہ کہ جب وہ غلطی کریں توہم بھی غلطی کریں اور در حقیقت ان کی روح ایسی روح تھی جن پر اصول اور حقائق کی حکمرانی تھی نہ کہ اشخاص اور شخصیتوں کی!

امیر المومنین کے صحابہ میں سے ایک شخص جنگ جمل کے معاملے میں سخت تردد کاشکار تھا۔ وہ دونوں طرف دیکھتا ایک طرف علی علیہ سلام کو دیکھتا تھا اور ان برزگ مسلمان شخصیتوںکو جو علی علیہ سلام کے ہمرکاب ہو کر تلواریں کھینچے ہوئے تھیں اور دوسری طرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیوی حضرت عائشہ کو دیکھتا کہ قرآن، آنحضرت کی بیویوں کے بارے میں کہتا ہے''و ازواجه مهاتهم،، (سورہئ احزاب آیت ۶) ''اس کی بیویاں امت کی مائیں ہیں،، اور عائشہ کے ہمرکاب طلحہ کو دیکھتا جو سابقین میںسے تھا ایک اچھا ماضی رکھنے والا، تیز انداز اور اسلامی جنگوں کا ماہر سپاہی، ایسا شخص جس نے اسلام کی بیش بہا خدمت کی ہے اور پھر زبیر کو دیکھتا جو طلحہ سے بھی اچھا ماضی رکھنے والا حتیٰ کہ وہ ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے سقیفہ کے روز علی علیہ سلام کے گھر پناہ لی تھی۔

۱۱۷

یہ شخص عجیب حیرت میں پڑا تھا کہ یہ سب کیا ہے؟ آخر علی علیہ سلام و طلحہ اور زبیراسلام میں پہل کرنے والوں اور اسلام کے سخت ترین فدا کاروں میں سے ہیں، اب وہ ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں؟! ان میں کون زیادہ حق کے قرب ہے؟ اس الجھن میں کیا کرنا چاہےے؟ یاد رکھیے! اس حیران شخص کی زیادہ ملامت نہیں کرنی چاہیے۔ شاید اگر ہم بھی ان حالات سے دوچار ہوتے جن میں وہ دو چار ہوا تو زبیر اور طلحہ کی شخصیت اور خدمات ہماری آنکھوں کو خیرہ کردیتیں۔

آج جب ہم علی علیہ سلام و عمار و اویس قرنی اور دوسرے لوگوں کو ۔۔۔ زبیر و طلحہ کے بالمقابل دیکھتے ہیں تو تردد کا شکار نہیں ہوتے کیونکہ ہم سمجہتے ہیں کہ دوسرے گروہ کے لوگوں کی پیشانی سے جنایت ٹپکتی ہے یعنی ان کے چہرے سے جرم اور خیانت کے آثار ظاہر ہیں اور ان کے قیافہ اور چہروں کو دیکھنے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ دوزخ والے ہیں لیکن اگرہم اس زمانے میں ہوتے اور ان کی خدمات کو نزدیک سے دیکھتے تو شاید تردد سے محفوظ نہ رہ سکتے۔

آج جب ہم پہلے گروہ کو برحق اور دوسرے گروہ کو باطل پر جانتے ہیں وہ اس اعتبار سے ہے کہ گذشتہ تاریخ کے نتیجے میں اور حقائق کے روشن ہونے کی وجہ سے ایک طرف علی علیہ سلام اور عمار اور دوسری طرف زبیر اور طلحہ کو ہم نے پہچان لیا ہے اور ہم اس قابل ہوئے ہیں کہ اس بارے میں صحیح فیصلہ کریں یا کم از کم اگر ہم خود تاریخ میں تحقیق اور مطالعہ کے اہل نہیں تو بچپنے سے ہمیں اسی طرح سمجھایا گیا ہے لےکن ان دنوں ان دو اسباب میں کوئی ایک بھی وجود نہیں رکھتا تھا۔

۱۱۸

بہرحال وہ شخص امیر المومنین کی خدمت میں پہنچا اور کہا:

''أیمکن ان یجتمع زبیر و طلحة و عائشة علی باطل،،

کیا ممکن ہے کہ طلحہ و زبیر اور عائشہ باطل پر اجماع کرلیں؟ ان جیسی شخصیتیں، رسول اللہ کے بزرگ صحابہ کس طرح غلطی کرسکتے اور باطل کی راہ پر چل سکتے ہیں کیا یہ ممکن ہے؟

علی علیہ سلام جواب میں ایسی بات کرتے ہیں کہ مصر کے دانشور اور ادیب ڈاکٹر طہٰ حسین کہتے ہیں: اس سے زیادہ محکم اور بالاتر بات نہیں ہوسکتی، وحی کے خاموش ہونے اور ندائے آسمانی کے منتقطع ہونے کے بعد اتنی عظیم بات نہیں سنی گئی ہے،(۱) فرمایا:

''انک لملبوس علیک، ان الحق و الباطل لا یعرفان باقدار الرجال، و اعرف الحق تعرف اهله، و اعرف الباطل تعرف اهله،،

''تمہیں دھوکہ ہوا اور حقیقت کی پہچان میں تم سے غلطی ہوئی ہے۔ ےق و بائل کو افراد کی شخصیت اور قدر قیمت کی کسوٹی پر نہیں پرکھا جاسکتا۔ یہ صحیح نہیں ہے کہ تم پہلے شخصیات کو پیمانہ قرار دو اور اس کے بعد حق و باطل کو ان پیمانوں سے پرکھو، فلاں چیز حق ہے کیونکہ فلاں اس کے ساتھ موافق ہےں اور فلاں چیز باطل کیونکہ فلاں فلاں

____________________

۱) علی و نبوہ ص ۴۰

۱۱۹

اس کے مخالف ہیں۔ نہیں، اشخاص کو حق و باطل کا پیمانہ نہیں بنایا جانا چاہیے بلکہ حق و باطل کو اشخاص اور ان کی شخصیت کا پیمانہ قرار دیا جانا چاہیے۔،،

یعنی تمہیں چاہیے کہ حق شناس اور باطل شناس بنو نہ کہ اشخاص و شخصیت شناس۔ افرا د کو خواہ بڑی شخصیات ہوں یا چھوٹی شخصیات حق کے معیار پر پرکھو اگر اس کے اوپر پورا اتریں تو ان کی شخصیت کو قبول کرو ورنہ نہیںٍ۔ یہ کوئی بات نہیں ہے کہ آیا طلحہ و زبیر و عائشہ کے لیے ممکن ہے کہ باطل پر ہوں؟

یہاں علی علیہ سلام نے خود حقیقت کو حقیقت کا معیار قرار دیا ہے اور روح تشیّع بھی اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے اور در حقیقت شیعہ فرقہ ایک مخصوص نظر کی پیداوار ہے جو اسلامی اصول کو اہمیت دینے سے عبارت ہے نہ کہ افراد اور اشخاص کو۔ یوں لازمی طور پر ابتداء شیعہ تنقید کرنے اور (شخصیت کے) بُت توڑنے والوں کی حیثیت سے ابھرے۔

پیغمبر کے بعد تینتیس (۳۳) سالہ جوان علی علیہ سلام کے ساتھ انگلیوں کی تعداد سے کمتر اقلیت تھی اور ان کے مقابلے میں ساٹھ سالہ بوڑھے جن کے ساتھ بہت زبردست اکثریت تھی۔ اکثریت کی منطق یہ تھی کہ بزرگوں او مشائخ کا راستہ یہ ہے اور بزرگ غلطی نہیں کرتے اور ہم ان کی راہ پر چلتے ہیں۔ اُس اقلیت کی منطق یہ تھی کہ صرف یہ حقیقت ہی ہے جو غلطی نہیں کرتی، بزرگوں کو چاہےے کہ خود کو حقیقت کے ساتھ تطبیق کریں۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے لوگ کتنے زیادہ ہیں جو رسوم کے اعتبار سے شیعہ ہیں لیکن ان میں شیعیت کی روح نہیں ہے۔

تشیّع کی راہ اس کی روح کی طرح حقیقت کی تشخیص اور اس کی پیروی ہے اور اس کا سب سے بڑا اثر ''جذب،، اور ''دفع،، ہیں۔ لیکن ہر ''جذب،، اور ہر ''دفع،، نہیں جیسا کہ ہم نے پہلے کہا ہے کبھی جذب، باطل، ظلم اور ظالم کا جذب ہے اور دفع، حقیقت اور انسانی فضائل کا دفع، بلکہ وہ ''جذب،، اور ''دفع،، جو علی علیہ سلام کے جاذبہ و دافعہ کی قسم سے ہوں۔ شیعہ یعنی علی علیہ سلام کی سیرت کا نمونہ۔ شیعہ کے لیے بھی ضروری ہے کہ علی علیہ سلام کی طرح دوہری قوّت رکھتا ہے۔

۱۲۰

یہ مقدّمہ اس لیے تھا کہ ہم یہ جان لیں کہ ممکن ہے ایک مذہب مرچکاہو لیکن اس مذہب کی روح دوسرے لوگوں میں جو بظاہر اس مذہب کے پیرو نہ ہوں، بلکہ اپنے کو اُس مذہب کے مخالف سمجھتے ہوں، زندہ ہو۔ خوارج کا مذہب مرچکا ہے، یعنی آج روئے زمین پر کوئی قابل توجہ گروہ خوارج کے نام سے موجود نہیں ہے جو اسی نام سے اس کی پیروی کرتا ہو لیکن کیا مذہب خارجی کی روح بھی مرچکی ہے؟ کیا اس روح نے دوسرے مذاہب کے پیروکاروں میں حلول نہیں کیا ہے؟ آیا مثلاً خدانخواستہ ہمارے درمیان خاص کو اصطلاح میں ہمارے مقدس مآب طبقہ کے درمیان اس روح نے حلول نہیں کیا ہے؟

یہ ایسے موضوع ہیں جن پر علیٰحدہ غور و فکر کیا جانا چاہیے۔ اگر ہم مذہبِ خارجی کو صحیح طور پر پہچان لیں تو شاید اس سوال کا جواب دے سکیں۔ خوارج کے بارے میں بحث کی افادیت صرف اسی نقطہئ نظر سے ہے۔ ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ علی علیہ سلام نے ان کو کیوں ''دفع،، کیا یعنی علی علیہ سلام کے ''جاذبہ،، نے ان کو نہ کھینچا اور اس کے برعکس، اُن کے دافعہ نے ان کو ''دفع،، کردیا؟

یہ بات مسلّم ہے جیسا کہ ہم بعد میں دیکھیں گے کہ خوارج کی شخصیت اور ان کی جبلّت کی تشکیل میں اثر انداز ہونے والے تمام عناصر ایسے نہ تھے کہ علی علیہ سلام کے دافعہ کے دائرہئ اثر میں قرار پاتے۔ بلکہ ان کی جبلت میں ایسی خصوصیات اور روشن امتیازات بھی موجود تھے کہ اگران کے ساتھ تاریک پہلوؤں کا ایک سلسلہ نہ ہوتا تو وہ علی علیہ سلام کے جاذبہ کے زیر اثر قرار پاتے۔ لیکن ان کی جبلّت کے تاریک پہلو اتنے زیادہ تھے کہ جنہوں نے ان کو علی علیہ سلام کے دشمنوں کی صف میں لاکھڑا کیا۔

۱۲۱

علی علیہ سلام کی جمہوریت

امیر المومنین نے خوارج کے ساتھ انتہائی آزادی اور جمہوری رویہ روا رکھا۔ یہ خلیفہ تھے اور وہ ان کی رعایا، ہر قسم کا سیاسی ایکشن ان کے بس میں تھا لیکن انہوں نے ان کو قید نہیں کیا ان کو کوڑے نہیں مارے اور حتیّٰ کہ بیت المال سے ان کا وظیفہ بھی بند نہیں کیا اور ان کو باقی لوگوں کے ساتھ ایک نظر سے دیکھتے تھے۔ یہ مثال علی علیہ سلام کی زندگی کی تاریخ میں انوکھی نہیں ہے تاہم دنیا میں اس کی مثال بہت ہم ہے۔ وہ ہر جگہ اپنے عقیدے کے اظہار میں آزاد تھے حضرت خود اور ان کے اصحاب آزاد عقیدے کے ساتھ اُن کے روبرو ہوتے اور گفتگو کرتے تھے۔ طرفین استدلال کرتے تھے ایک دوسرے کے استدلال کا جواب دیتے تھے۔ شاید اس قدر آزادی کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ہے کہ ایک حکومت نے اپنے مخالفین کے ساتھ اس حد تک جمہوری روّیہ روا رکھا ہو۔ وہ مسجد میں آتے اور علی علیہ سلام کی تقریریوں اور ان کے خطبوں میں مداخلت کرتے۔ ایک دن امیر المومنین منبر پر تھے ایک شخص آیا اور کوئی سوال کیا، علی علیہ سلام نے فی البدیہہ جواب دیا۔ لوگوں کے درمیان سے ایک خارجی پکار اٹھا: ''قاتلہ اللہ ما افقھہ،، ''خاد اس کو ہلاک کرے کتنا عالم ہے،، اور لوگوں نے اس کے ساتھ نمٹنا چاہا لیکن علی علیہ سلام نے فرمایا اس کو چھوڑ دو اس نے صرف مجھے گالی دی ہے۔خارجی نمازِ جماعت میں علی علیہ سلام کی اقتداء نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ انہیں کافر سمجھتے تھے، مسجد میں آتے تھے اور علی علیہ سلام کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے تھے اور یوں ان کو آزار پہنچاتے تھے۔ ایک روز جبکہ علی علیہ سلام نے نماز میں کھڑے ہیں اور لوگ ان کی اقتداء کر رہے ہیں، ابن الکواء نامی ایک خارجی کی آواز بلند ہوئی اور علی علیہ سلام کی طرف کنایۃً ایک آیت زور سے پڑھی:

( ولقد اوحی الیک و والی الذیب من قبلک لئن اشرکت لیحبطن عملک و لتکونن من الخاسرین )

یہ آیت پیغمبر سے خطاب ہے کہ تم اور تم سے پہلے پیغمبروں پر وحی ہوئی کہ اگر مشرک ہو جاؤ تو تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں گے اور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگے۔ ابن الکواء اس آیت کو پڑھ کر علی علیہ سلام کو یہ جتانا چاہتا تھا کہ اسلام کے لیے تمہاری خدمات کو جانتے ہیں، تم سب سے پہلے مسلمان ہوئے ہو، پیغمبر نے تمہیں اپنی برادری کے لیے منتخب کیا ہے، شب ہجرت تم نے درخشاں فداکاری کی اور پیغمبر کے بستر پر سوئے، اپنے آپ کو تلواروں کے منہ میں دے دیا اور بالآخر اسلام کے لیے تمہاری خدمات سے انکارنہیں کیا جاسکتا، لیکن خدا نے اپنے پیغمبر سے یہ بھی کہا ہے کہ اگر تم مشرک ہو جاؤ تو تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں گے اورچونکہ اب تم کافر ہوگئے ہو اس لیے تم نے اپنے گذشتہ اعمال کو ضائع کردیا ہے۔

۱۲۲

علی علیہ سلام نے اس کے جواب میں کیا کیا؟ جب تک اسکے قرآن پڑھنے کی آواز بلدن رہی آپ خاموش رہے یہاں تک کہ اس نے آیت ختم کرلی جونہی اس نے آیت ختم کی علی علیہ سلام نے اپنی نماز جاری رکھی۔ ابن الکواء نے دوبارہ آیت کو دُھرایا اور علی علیہ سلام نے فوراً خاموشی اختیار کرلی۔ علی علیہ سلام سکوت اس لیے اختیار کرتے تھے چونکہ قرآن کا حکم یہ ہے کہ:''و اذا قریئ القراٰن فاستمعوا له و انصتوا،، (۱)

''جب قرآن پڑھا جائے تو غور سے سنو اور خاموش رہو۔،،

اور اسی لیے ہے کہ جب امام قرات میں مشغول ہو مامومین کو چاہےے کہ خاموش رہیں اور سنیں۔

جب وہ کئی بار اس آیت کو دُھرا چکا اور چاہا کہ نماز کی حالت کو برہم کرے اس کے بعدعلی علیہ سلام نے یہ آیت پڑھی:

( فاصبر ان وعد الله حق ولا یستخلفنک الذیب لا یؤمنون )

''صبر کرو خدا کا وعدہ سچا ہے اور پورا ہوگا یہ ایمان و یقین سے بے بہرہ لوگ تمہیں نہیں ڈرا سکتے اور نہ تمہارے عزم کو کمزور کرسکتے ہیں،،

پھر آپ نے کوئی پرواہ نہ کی اور نماز جاری رکھی۔

خوارج کی بغاوت اور سرکشی

ابتداء میں خارجی پرامن تھے اور صرف تنقید ار کھُلی بحث اپر اکتفا کرتے تھے، علی علیہ سلام کا رویہ بھی ان کے ساتھ ویسا ہی تھا جیسا کہ ہم نے پہلے کہا یعینی کسی لحاظ سے ان کی راہ نہ روکتے یہاں تک کہ بیت المال سے ان کے وظیفے بھی بند نہ کئے لیکن جوں جوں وہ علی علیہ سلام کے توبہ کرنے کی طرف سے مایوس ہوتے گئے، انہوں نے اپنا رویہ بدل ڈالا اور انقلاب برپا کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ وہ اپنے ایک ہم مسلک کے گھر میں جمع ہوگئے اور ان میں سے ایک نے پرجوش اور اشتعال انگیز تقریر کی اور اپنے دوستوں کو امر بہ معروف اور نہی از منُکر کے نام پر بغاوت اور سرکشی کی دعوت دی ان سے خطاب کرتے ہوئے اس نے کہا:

____________________

(ابن ابی الحدید ج ۲، ص ۳۱۱)

۱۲۳

''اما بعد فو الله ما ینبغی لقوم یومنون بالرحمٰن و ینیبون الی حکم القرآن ان تکون هذی الدنیا آثر عند هم من الامر بالعروف و النهی عن المنکر و القول بالحق و ان من و ضر فانه من یمن و یضر فی هذه الدنیا فانّ ثوابه یوم القیٰمة رضوان الله و الخلود فی جنانه فالخرجوا بنا أخواننا من هذه القریة الظالم اهلها الی کور الجبال اوالیٰ بعض هذه المدائن منکرین لهٰذه البدع المضلّة،، (۱)

''حمد و ثنا کے بعد! خدا کی قسم مناسب نہیں ہے کہ وہ گروہ جوبخشنے والے خدا پر ایمان رکھتا ہو اور قرآن کے حکم پر چلتا ہو، اس کی نظر میں امربہ معروف اور نہی از منکر اور سچّی بات سے زیادہ، دنیا محبوب ہو، اگرچہ یہ نقصان پہنچانے اور خطرہ پیدا کرنے والی چیزیں کیوں نہ ہوں کیونکہ اس دنیا میں جو بھی خطرہ اور نقصان میں رہا، اس کی جزا قیامت میں حق کی رضا مندی اور ہمیشہ کی بہشت ہے۔ بھائیو! ہم کو اس شہر سے باہر نکالو جس کے رہنے والے ظالم ہیں، پہاڑی مقامات کی طرف یا کسی اور شہر کی طرف تاکہ ان گمراہ کن بد غنوں کے خلاف ہم جہاد کرسکیں اور ان سے اپنا دامن بچائیں۔،،

ان باتوں سے ان کے مشتعل جذبات اور بھڑک اٹھے، وہاں سے اٹھے۔ سرکشی اور انقلاب شروع کردیا۔ راستوں کا امن و امان سلب کرلیا اور لوٹ مار اور دہشت کو اپنا پیشہ بنالیا۔(۲) وہ چاہتے تھے کہ اس طرح حکومت کو کمزور کریں اور حکومت وقت کا تختہ الٹ دیں۔

یہ درگذر اور آزاد چھوڑ دینے کا مقام نہ تھا اب یہ اظہار عقیدہ کا مسئلہ نہ تھا بلکہ امن عامہ میں رخنہ ڈالنے کی کوشش اور شرعی حکومت کے خلاف مسلّح بغاوت تھی، اس لیے علی علیہ سلام نے ان کا پیچھا کیا اور نہرو ان کے مقام پر ان کے ساتھ آمنا ہوا۔ خطبہ پڑھا، نصیحت کی اور اتمام حجت کیا۔ پھر امان کا پرچم ابو ایّوب انصاری کے ہاتھ میں دیا کہ جوبھی اس کے سائے میں آجائے اس کے لیے پناہ ہے۔ بارہ ہزار میں سے آٹھ ہزار واپس آئے۔ باقیوں نے مزاحمت کی اور بُری طرح شکست کھائی اور چند ایک کے سوا ان میں سے کوئی باقی نہ بچا۔

____________________

۱)۲) الامامۃ والسیّاستہ ص ۱۴۱،۱۴۳ و کامل مبّرد ج ۲

۱۲۴

خوارج کی نمایاں خصوصیّات

خوارج کی ذہنیت ایک مخصوص ذہنیت ہے وہ لوگ اچھائی اور برائی کا مرکّب تھے اور مجموعی طور پر ا س طرح کے لوگ تھے کہ بالآخر علی علیہ سلام کے دشمنوں کی صف میں قرار پائے اور علی علیہ سلام کی شخصیت نے ان کو ''دفع،، کیا ''جذب،، نہیں۔ ہم ان کی ذہنیت کے مثبت اور خوشگوار اور منفی و ناخوشگوار دونوں پہلوؤں اور مجموعی طور پر ان کی خطرناک بلکہ وحشت ناک فطرت کا ذکرکرتے ہیں:

۱ وہ مجاہدانہ اور فدا کارانہ ذہنیت رکھتے تھے اور اپنے عقیدہ اور نظریے کی راہ میں جان توڑ کوشش کرتے تھے۔ خوارج کی تاریخ میں ہم ایسی فداکاریاں دیکھتے ہیں جن کی نظیر انسانی زندگی کی تاریخ میں کم ہے اور اس فداکاری اور جذبہئ قربانی نے کو دلیر اور طاقتور بنا دیا تھا۔ ابن عبدربّہ ان کے بارے میں کہتا ہے:

''و لیس فی الافراق کلها اشد بصائر من الخوارج، و لا اشدا جتهاداً، ولا أوطن انفسا علی الموت منهم الّذی طعن فانقده الرمح فجعل یسعیٰ الی قاتله و یقول: و رب لترضیٰ،، (۱)

____________________

۱) فجر الاسلام ص ۲۶۳ بہ نقل از العقد الفرید

۱۲۵

''تمام فرقوں میں خوارج سے زیادہ عقیدہ میں پختہ اور کوشش کرنے والا کوئی نہ تھا اور ان سے زیادہ موت کے لیے آمادہ کوئی پایا نہیں جاتا تھا۔ ان میں سے ایک کے نیزہ لگا تھا اور نیزہ سخت کاری لگا تھا، پھر بھی وہ اپنے قاتل کی طرف بڑھتا تھا اور کہتا تھا خدایا! میں تیری طرف بڑھ رہا ہوں تاکہ تو خوش ہو۔،،

معاویہ نے ایک شخص کو اس کے بیٹے کے پیچھے بھیجا جو خارجی تھا، تاکہ اسے واپس لائے۔ لیکن باپ اپنے بیٹے کو اس کے فیصلے سے نہیں پلٹا سکا۔ آخر اس نے کہا میرے بیٹے! میں جاکر تیرے نو عمر بچے کو لاؤں گا تاکہ تو اسے دیکھے اور تیری محبت پدری بیدا ر ہو اور تو دست بردار ہو۔ اس نے کہا خدا کی قسم میں اپنے بیٹے سے زیادہ ایک کاری زخم کا مشتاق ہوں۔(۱)

۲ وہ عبادت گذار اور پرہیز گار لوگ تھے۔ راتیں عبادت میں گزارتے تھے۔ دنیا اور اس کی زیب و زینت سے کوئی رغبت نہ تھی۔ جب علی علیہ سلام نے ابن عباس کو اصحاب نہرو ان کی طرف بھیجا کہ وہ پند و نصیحت کرے۔ ابن عبّاس نے واپس آکر ان کی اس طرح توصیف کی:

''لهم جباه قرحة لطول السجود واید کثفنات الابل علیهم قمص مرحضة و هم مشمرون،، (۲)

''بارہ ہزار آدمی جن کی پیشانیاں کثرت عبادت کی وجہ سے داغدار ہیں خدا کے حضور سجدہ کرتے ہوئے اس کثرت سے ان کے ہاتھ تپتی ہوئی

____________________

۱) فجر الاسلام ص ۲۴۳

۲) العقدالفرید ج ۲، ص ۳۸۹

۱۲۶

خشک ریت کے اوپر رکھے گئے ہیں کہ وہ اونٹ کے پیرون کی طرح سخت ہوگئے ہیں۔ ان کا لباس کہنہ اور کھردرا ہے لیکن وہ سخت اور کٹر لوگ ہیں۔،،

خوارج اسلام کے احکام اور رسوم کے سخت پابند تھے۔ جس چیز کو وہ گناہ سمجھتے اس کو ہاتھ نہ لگاتے تھے۔ ان کے اپنے معیار تھے اور ان معیاروں کے خلاف کسی چیز کا ارتکاب نہیں کرتے تھے اور جس کے ہاتھ سے کوئی گناہ سرزد ہوتا اس سے دور رہتے تھے۔ زیاد بن ابیہ نے ان کے کسی آدمی کو قتل کردیا اور اس کے غلام کو طلب کرکے اس سے اس کے حالات پوچھے۔ اس نے کہا کہ نہ میں نے دن کو اسے کھانا پہنچایا اور نہ رات کو اس کے لیے بستر بچھایا دن کو وہ روزہ رکھتا اور رات عبادت میں گذار دیتا۔(۱)

وہ جوبھی قدم اٹھاتے اپنے عقیدے کی راہ میں اٹھاتے اور اپنے تمام افعال میں اپنے مسلک کے پابند تھے اور اپنے عقائد کو پھیلانے کی راہ میں کوشش کرتے تھے۔ علی علیہ السّلام ان کے بارے میں فرماتے ہیں:

''لا تقتلوا الخوارج بعدی فلیس من طلب الحق فأخطاه کمن طلب الباطل فادرکه،،

(نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۶۰)

''میرے بعد خوارج کو قتل نہ کرو کیونکہ جو حق کو تلاش کرتے اور خطا کو پائے وہ اس شخص کی طرح نہیں ہے جو باطل کو طلب کرے اور اسے پالے۔،،

____________________

۱) کامل مبّرد ج ۲

۱۲۷

یعنی ان میں اور اصحاب معاویہ م یں فرق ہے، یہ حق کو چاہتے ہیں لیکن غلطی میں جا پڑے ہیں لیکن وہ شروع سے ہی دھوکہ باز رہے ہیں اور ان کا راستہ ہی باطل کا راستہ رہا ہے۔ اس کے بعد ار تم ان کو قتل کروگے تو اس کا فائدہ معاویہ کو پہنچے گا جو ان سے بد تر اور زیادہ خطرناک ہے۔

قبل اس کے خوارج کی تمام خصوصیات کو بیان ںکریں لازم ہے کہ یہاں ایک نکتے کا ذکر کریں جو خوارج کے تقدس و تقویٰ اور ان کی زاہد مآبی کے بارے میں ہے اور وہ یہ ہے کہ علی علیہ سلام کی زندگی کی شگفتہ، ممتاز اور غیر معمولی خصوصیات میں سے ایک جس کی مثال نہیں مل سکتی، وہ آپ کا دلیرانہ اور پرجوش اقدام ہے ان تنگ نظر اور مغرور زادہ ان خشک کے مقابلے میں کیا۔ علی علیہ سلام نے ایسے ظاہر الصّلاح اور آراستہ، قیافے سے حق بجانب نظرآنے والے، بوسیدہ لباس اور عبادت پیشہ لوگوں پر تلوار کھینچی اور سب کو موت کے گھاٹ اتارا۔

ہم اگر ان کے اصحاب کی جگہ پر ہوتے اور اس طرح کے قیافے دیکھتے تو یقیناً ہمارے جذبات برانگیختہ ہوتے اور علی علیہ سلام پراعتراض کرتے کہ ایسے لوگوں پر تلوار اٹھائی؟!

ان خوارج کی داستان تاریخ اسلام کی عموماً اور تاریخ تشیع کی خصوصاً ایک انتہائی سبق آموز داستان ہے۔ علی علیہ سلام اپنے اس کام کی اہمیت اور غیر معمولی حیثیت سے واقف ہیں اور اس کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

''فانا فقأت عین الفتنة و لم یکن لیجترء علیها احد غیری بعد ان ماج غیهبها و اشتد کلبها،،

(نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۹۲)

''اس فتنے کی آنکھ میں نے نکال کی۔ میرے علاوہ کسی میں ایسے کام کی جرات نہ تھی جبکہ اس کے تاریکی اور شک پیدا کرنے والے دریا کی لہرین اوپر اٹھ چکی تھیں اور اس کی دیوانگی میں اضافہ ہوچکا تھا۔،،

امیر المومنین علیہ السّلام یہاں دو خوبصورت تعبیریں کرتے ہیں:

ایک اس معاملے کا شک اور تردد پیدا کرنا۔ خوارج کے ظاہری تقدس اور تقویٰ کی حالت ایسی تھی کہ راسخ الایمان مؤمن کو تردد میں مبتلا کردیتی۔ اس اعتبار سے ایک تاریک اور مبہم اور شک سے بھرپور فضا اور دو دلی پیدا ہو گئی تھی۔

۱۲۸

دوسری تعبیر یہ ہے کہ آپ ان زاہد ان خشک کی حالت کو کَلَب (کاف اور لام پر زبر) سے تشبیہہ دیتے ہیں۔ کلب یعنی باؤلاپن۔ باؤلاپن دو دیوانگی ہے جو کُتّے میں پیدا ہوتی ہے اور وہ ہر ایک کو کاٹتا ہے اور اتفاق سے وہ (کتا) ایک پوشیدہ بیماری ( MICROBIC ) کاحامل ہوتا ہے، کتے کے دانت جس انسان یا حیوان کو کاٹیں اس کے لعاب دھن کے ساتھ وہ چیز انسان یا حویان کے جسم میں داخل ہوجاتی ہیں، وہ بھی دیوانہ ہو جاتا ہے اور کاٹنے لگتا ہے اور دوسروں کو بھی دیوانہ بنا دیتا ہے۔ اگر یہ صورت حال جاری رہے تو غیر معمولی طورپر خطرناک ہوجاتی ہے یہی وجہ ہے کہ عقلمند لوگ ایسے کتوں کو ختم کردیتے ہیں تاکہ کم از کم دوسرے لوگ دیوانگی کے خطرے سے نجات پائیں۔

علی علیہ سلام فرماتے ہیں کہ یہ لوگ باؤلے کتوں کی طرح ہوچکے تھے اور قابل علاج نہ تھے۔ یہ اوروں کو کاٹتے تھے اور مبتلا کردیتے تھے اور باقاعدہ باؤلوں کی تعداد میں اضافہ کر رہے تھے۔

افسوس! اس وقت کے مسلمانوں کی حالت پر۔ زاہدان خشک کا ایک گروہ،مٹھی بھر جاہل، بے خبر اور ضدی لوگ سب پر حملہ آور تھے۔

وہ کونسی قدرت ہے جو ان بہرے سانپوں کے مقابلے میں کھڑی ہو؟ وہ کونسی قوی اور طاقتور روح ہے جو ان زاہدانہ قیافوں اور تقویٰ کے مقابلے میں ٹھہر سکے؟ وہ کونسا ہاتھ ہے جو ان کے سروں پر وار کرنے کے لیے اٹھے اور نہ کانپے؟

یہی وجہ ہے کہ علی علیہ سلام فرماتے ہیں:

''و لم یکن لیجترء علیها احد غیری،،

یعنی ''میرے علاوہ کوئی ایسا اقدام کرنے کی جرات نہیں کرسکتا تھا۔،،

علی علیہ سلام، علی علیہ سلام کی بصیرت اور علی علیہ سلام کے راسخ ایمان کے علاوہ، خدا اور رسول اور قیامت پر ایمان رکھنے والا کوئی مسلمان اپنے اندر یہ جرات نہیں پاسکتا کہ وہ ان لوگوں پر تلوار اٹھائے۔ ایسے لوگوں کو قتل کرنے کی جرات صرف وہ کرسکتے ہیں جو اور اسلام پر اعتقاد نہ رکھتے ہوں نہ کہ معمولی مؤمن اور معتقد افراد۔

۱۲۹

یہی بات جس کو علی علیہ سلام اپنے لیے ایک عظیم فخر سمجھتے ہوئے کہتے ہیں:

''یہ میں تھا اور صرف میں کہ جس نے اس بڑے خطرے کا ادرا ک کیا جو ان زاہدان خشک کی طرف سے اسلام کو لاحق تھا۔ ان کی داغدار پیشانیاں، ان کا زاہدانہ لباس، ان کی ہمیشہ ذکر خدا میں مشغول زبانیں حتّی کہ ان کا محکم عقیدہ اور ثابت قدمی (ان میں سے کوئی چیز) مریی بصیرت میں مانع نہ ہوسکی۔ وہ میں تھا جس نے سمجھ ل یا کہ اگر ان کے پاؤں جم گئے تو سب کو اپنی بیماری میں مبتلا کردیں گے اور دنیائے اسلام کو جمود، ظاہر پرستی، سطح پسندی اور تنگ نظری کی طرف لے جائیں گے جس سے اسلام کی کمر جھک جائے گی۔ کیا پیغمبر نے نہیں فرمایا: دو گروہوں نے میری کمر توڑ دی، غیر ذمہ دار عالم اور مقدس مآب جاہل۔،،

علی علیہ سلام نے کہنا چاہتے ہیں کہ اگر میں نے عالم اسلام میں خارجیت کا مقابلہ نہ کیا ہوتا اور کوئی ایسا نہ ہوتا جو اس طرح کے مقابلے کی جرات کرتا۔ میرے سوا کوئی نہ تھا جو یہ دیکھتا کہ وہ گروہ جن کی پیشانیاں کثرت عبادت سے داغدار ہوں، دینی اور مسلکی لوگ ہوں___ مگر در حقیقت اسلام کی راہ میں رکاوٹ ہوں، ایسے لوگ جو اپنے خیال میں اسلام کے مفاد میں کام کرتے ہوں لیکن حقیقت میں اسلام کے حقیقی دشمن ہوں، اور ان کے ساتھ جنگ کرسکتا اور ان کا خون بہا سکتا، مگر میں نے یہ کام کردکھایا۔

علی علیہ سلام کے عمل نے خلفاء اور بعد کے حکام کے لیے راستہ ہموار کیا کہ وہ خوارج سے جنگ کریں اور ان کا خون بہائیں۔ اسلام کے سپاہی بھی بلا چون و چرا ان کی پیروی کرتے تھے کہ علی علیہ سلام نے ان کے ساتھ جنگ کی تھی اور در حقیقت علی علیہ سلام کی سیرت اور دوسروں کے لیے یہ راستہ بھی کھولا کہ بغیر کسی پرواہ کے وہ کسی بھی ظاہر الصلاح، مقدس مآب اور دیندار لیکن احمق گروہ کے ساتھ جنگ کریں۔

۳ خوارج جاہل اور نادان لوگ تھے۔ وہ جہالت اور نادانی کی وجہ سے حقائق کو نہیں سمجھتے تھے اور ان کی غلط تفسیر کرتے تھے اور یہی کج فہمیاں آہستہ آہستہ ان کے لیے ایک مذہب اور آئین کی شکل اختیار کرگئیںکہ وہ اس راہ میں بڑی سے بڑی فداکاری کا مظاہرہ کرتے تھے۔ شروع میں نہی از منکر کے اسلامی فریضے نے ان کو ایک گروہ کی شکل دی جن کا واحد ہدف ایک اسلامی سنت کا احیاء تھا۔

یہاں ہمیں توقف کرنا چاہیے اور تاریخ ا سلام کے ایک نکتے پر دقت سے سوچنا چاہیے۔

۱۳۰

جب ہم سیرت نبوی کی طرف رجوع کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ آنحضرت نے پورے تیرہ سالہ مکی دور میں کسی کو جہاد حتی کہ دفاع کی اجازت نہ دی یہاںتک کہ مسلمان واقتی تنگ آگئے اور ایک گروہ نے آنحضرت کی اجازت سے حبشہ کی طرف ہجرت کی لیکن جو باقی رہ گئے انہوں نے تکلیفیں اٹھائیں۔ یہ ہجرت مدینہ کا دوسرا سال تھا جب جہاد کی اجازت دے دی گئی۔ مکی دور میں مسلمانوں نے تعلیمات دیکھیں، اسلام کی روح سے آشنا ہوگئے اور اسلامی ثقافت روح کی گہرایوں میں رچ بس گئی، نتیجہ یہ ہوا کہ مدینہ پہنچنے کے بعد ان میں سے ہر ایک کا حقیقی مبلغ بن گیا تھا اور رسول اکرم ان کو جب اطراف و اکناف میں بھیجتے تو وہ اپنی ذمہ داریوں سے اچھی طرح عہدہ برآہوتے ۔ جب وہ جہاد کے لیے روانہ ہوتے تو انہیں اچھی طرح معلوم ہوتا کہ وہ کس ہدف اور کس نظریئے کے لےے جنگ کر رہے ہیں۔ امیر المؤمنین علیہ السّلام کے الفاظ میں:

''و حصلوا بصائر هم علی اسیافهم،،

''وہ اپنی بصیرتوں اور روشن اور منظم افکار کو اپنی تلواروں پر اٹھائے ہوئے ہوتے۔،،

ایسی صیقل شدہ تلواریں ہی تھیں اور ایسے ہی تعلیم یافتہ انسان تھے جو اسلام کے سلسلے میں اپنے مشن کو آگے بڑھانے میں کامیا ہوسکے۔ جب ہم تاریخ کو پڑھتے ہیں اور ان لوگوں کی گفتگو کو دیکھتے ہیں جن چند سال پیشتر تلوار اور اونٹ کے علاوہ کسی اور چیز کو نہیں پہچانتے تھے، تو ان کے بلند افکار اور ان کی اسلامی ثقافت کو دیکھ کر حیرت میں ڈوب جاتے ہیں۔

نہایت افسوس ہے کہ خلفاء کے دور میں زیادہ تر توجہ فتوحات کی طرف مبذول کی گئی اور دوسرے لوگوں کے لیے متوازی طورپر اسلام کے دروازے کھولنے اور

____________________

۱) نہج البلاغہ خطبہ ۱۴۸

۱۳۱

ان کو اسلام کی طرف لے آنے سے غافل رہے کیونکہ اسلام کے نظریہئ توحید اور اسلام کے نظام عدل و مساوات کی کشش عرب و عجم کو اپنی طرف کھینچتی تھی لہٰذا ضرورت اس بات کی تھی کہ اسلام کی تہذیب و ثقافت کی تعلیم بھی دی جاتی اور لوگ مکمل طور پر اسلام کی روح سے آشنا ہوجاتے۔

زیادہ تر خوارج عرب تھے اور کم و بیش کچھ غیر عرب بھی ان کے درمیان تھے، لیکن سب کے سب بلا امتیاز عرب و غیر عرب مسلک سے جاہل اور اسلامی ثقافت سے نا آشنا تھے وہ اپنی تمام تر خامیوں کو طویل رکوع و سجود کے زور سے پر کرنا چاہتے تھے علی علیہ السّلام ان کی فطرت کی تعریف اسی طرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔

''جفاة طغام و عبید اقزام، جمعوا من کل اوب و تلقطوا من کل شوب، ممن ینبغی ان یفقه و یودب و یعلم و یدرب و یولیّٰ علیه و یؤخذ علیٰ یدیه لیسوا من المهاجرین و الانصار الذین تبوؤا الدار و الایمان،،

''وہ گستاخ، بلندافکار اور لطیف احساسات سے عاری، پست، غلامانہ ذہنیت رکھنے والے، اوباش لوگ ہیں جوہر کونے سے اکٹھے ہوئے اور ہر کھدرے سے چلے آئے ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہیں کہ جن کو پہلے تعلیم دی جانی چاہیے، ان کو اسلامی آداب سکھا دیا جانا چاہیے اور اسلامی تہذیب و ثقافت سے باخبر بنا دیا جانا چاہیے۔ ان کی نگرانی کی جانی چاہیے اور ان کے بازؤں کو گرفت میں رکھا جانا چاہیے نہ یہ کہ ان کو آزاد چھوڑ دیا جائے کہ وہ ہاتھ میں تلوار اٹھائے اسلام کے بارے میں اپنے نظریات کا اظہار کرتے پھریں۔ یہ نہ ان مہاجرین میں شامل ہیں جنہوں نے اسلام کی خاطر ہجرت کی اور نہ انصار میں جنہوں نے مہاجرین کو اپنے جوار میں قبول کیا۔،،

مسلک سے بے خبر مقدس مآب طبقے کی پیدائش کہ خوارج بھی اس کا ایک جزو ہیں، اسلام کے لیے انتہائی گراں ثابت ہوئی خوارج سے گزر کر، جو تمام عیوب کے باوجود شجاعت اور فداکاری کی خوبیوں سے بہرہ مند تھے، اس قبیل کا ایک اور ظاہر پرست گروہ بھی وجود میں آگیا جن میں یہ خوبیاں بھی نہیں تھیں۔ یہ لوگ اسلام کی رہبانیت اور خلوت پسندی کی طرف لے گئے اور ظاہر داری اور ریا کا بازار گرم کیا۔ چونکہ یہ طاقتور لوگوں پر آہنی تلواریں کھینچنے کی وہ صلاحیت نہیں رکھتے تھے اس لیے صاحبان فضیلت کے خلاف زبان کی تلوار کھینچی اور ہر صاحب فضیلت کی تکفیران کو فاسق کہنے اور ان کی طرف بے دینی کی نسبت دینے کا بازار گرم کیا۔

۱۳۲

بہرحال خوارج کی ایک ممتاز ترین خصوصیت ان کی جہالت اور نادانی تھی۔ ظاہر یعنی قرآن کے خط اور جلد اور معنی کے درمیان فرق نہ کرسکنا ان کی جہالت کا ایک مظہر ہے۔ اسی لیے انہوں نے معاویہ اور عمر و عاص کی سادہ چال سے دکھوکہ کھایا۔

ان لوگوں میں جہالت اور عبادت جڑواں تھیں۔ علی علیہ سلام چاہتے تھے کہ ان کی جہالت کے خلاف جنگ کریں لیکن یہ کیونکر ممکن تھا کہ ان کے زہدو تقویٰ اور عبادت کے پہلو کو ان کی جہالت کے پہلو سے الگ کردیا جائے بلکہ ان کی عبادت ہی عین جہالت تھی، جہالت سے جڑی ہوئی عبادت کی علی علیہ سلام کی نظر میں جو اوّل درجے کے اسلام شناس ہیں، کوئی قیمت نہ تھی لہذا انہوں نے ان کی سرکوبی کی اور ان کے زہد و تقویٰ اور عبادت کا پہلو علی علیہ سلام کے مقابلے میں کوئی ڈھال قرار نہ پاسکا۔

ایسے لوگوں اور گرہوں کی جہالت کا سب سے زیادہ خطرناک پہلو یہ ہے کہ وہ موقعہ پرست لوگوں کا آلہئ کار بن جاتے ہیں اور اسلام کے بلند مقاصد کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ بے دین منافق لوگ ہمیشہ بیوقوف مقدس لوگوں کو اسلام کے مقاصد کے خللاف بھڑکاتے رہے ہیں اور یہ ان کے ہاتھوں کی تلوار اور ان کے کمان کا تیر بنتے رہے ہیں۔ علی علیہ السّلام کس قدر بلند اور لطیف پیرائے میں ان کی اس حالت کو بیان کرتے ہیں: فرماتے ہیں:

''ثم انتم شراء الناس و من رمی به الشیطان مرامیه و ضرب به تیهه،،

''پھر تمبدترین لوگ ہو تم شیطان کے ہاتھ میں اک تیر ہو کہ وہ اپنے نشانے پر مانے کے لیے تمہارے نجس وجود سے استفادہ کرتا ہے اور تمہارے ذریعے سے لوگوں کوشک و تردد اور گمراہی میں ڈالتا ہے۔،،

۱۳۳

جیسا کہ ہم نے پہلے کہا ہے: شروع میں خوارج کا گروہ ایک اسلامی سنت کے احیاء کے لیے وجود میں آیا لیکن بے بصیرتی اور نادانی نے ان کو اس مقام تک پنچا دیا کہ وہ قرآنی آیات کی غلط تفسیر کریں اور یہیں سے انہوں نے ایک مذہبی ریشہ پیدا کیا اور مذہب اور طریقہ ئ زندگی کی حیثیت سے جڑ پکڑی۔ قرآن کی ایک آیت ہے۔ جس میں خدا نے فرمایا:

( ان الحکم الا لله یقص الحق وهو خیر الفاصلین )

(سورہئ انعام آیت نمبر ۵۷)

اس آیت میں ''حکم،، کو ذات حق کے لیے مختص بتایا گیا ہے لیکن دیکھنا چاہیے کہ حکم سے مراد کیا ہے؟

بیشک یہاں حکم سے مراد انسانی زندگی کا آئین اور اس کے قوانین ہیں۔ اس آیت کی رو سے قانون وضع کرنے کا حق غیر خدا سے چھین لیا گیا ہے اور اس کو ذات حق (یا وہ شخص جس کو خدا اختیار دیدے) کا حق قرار دیا ہے لیکن خوارج نے ''حکم،، کو ، حکومت جس میں حکمیت بھی شامل ہے، کے معنی میں لیا ہے اور اپنے لیے ایک نعرہ تراش لیا اور کہتے تھے''لاحکم الا للہ،، ان کی مراد یہ تھی کہ وضع قانون کی طرح حکومت، حکمیت اور رہبری کرنے کا حق بھی صرف خدا کے لیے مخصوص ہے اور خدا کے علاوہ کسی کو حق نہیں ہے کہ کسی صورت میں لوگوں کے درمیان حکم یا حاکم ہو، جس طرح کہ قانون وضع کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

کبھی امیر المؤمنین نماز میں مشغول ہوتے یا منبر کے اوپر سے خطبہ دے رہے ہوتے،یہ لوگ پکار اٹھتے اور ان سے خطاب کرکے کہتے''لاحکم الا لله لالک و لا لاصحابک،، ''اے علی علیہ سلام! حاکمیت کا حق خدا کے سوا کسی کونہیں ہے۔ تمہیں یا تمہارے اصحاب کو حق نہیں ہے کہ حکومت یا حکمیت کریں۔،، تو وہ جواب میں کہتے:

''کلمة حق یراد بها الباطل، نعم انه لاحکم الا لله، و لکن هو لاء یقولون لاامرة الا لله و انه لا بد للناس من امیر بر او فاجر، یعمل فی امرته المؤمن و یستمتع فیها الکافر و یبلغ الله فیها الاجل ویجمع به الفییء و یقاتل به العدو، و تأمن به السبل و یؤخذ به للضّعیف من القوی حتی یستریح بر و یستراح من فاجر ،،(۱)

____________________

۱) نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۴۰

۱۳۴

''ان کی بات حق ہے لیکن اس سے ان کی مراد باطل ہے۔ یہ درست ہے کہ قانون وضع کرنا خدا کے لئے مختص ہے لیکن یہ لوگ کہنا چاہتے ہیں کہ خدا کے علاوہ کسی کو حکومت کرنا اور امیر نہیں ہونا چاہیے۔ لوگ حاکم کے محتاج ہیں خواہ وہ نیکو کار ہو یا بدکار (یعنی کم از کم نیکو کار نہ سمجھا جاسکے) اس کی حکومت کے سائے میں مؤمن اپنا کام (خدا کے لیے) انجام دیتا ہے اور کافرا اپنی دنیوی زندگی سے بہرمند ہوتا ہے یہاں تک کہ خداوند عالم اس کا وقت پورا کرتا ہے۔یہ حکومت ہی ہے جس کے ذریعے اور جس کے زیر سایہ مالیات جمع ہوتے ہیں، دشمن کے ساتھ جنگ لڑی جاتی ہے، راستے محفوظ اور پر امن ہوتے ہیں، کمزور اور ناتوان کا حق قوی اور ظالم سے دلایا جاتا ہے تاکہ نیکوکار آسائش پائیں اور بدکار کے شر سے محفوظ رہیں۔،،

خلاصہ یہ ہے کہ قانون خود بخود جاری نہیں ہوتا بلکہ ضروری ہے کہ کوئی فرد یا جماعت ہو جو اس کے اجراء کی کوشش کرے۔

۴ وہ تنگ نظر اور کوتاہ اندیش لوگ تھے۔ وہ انتہائی پست سطح پر سوچا کرتے انہوں نے اسلام اور مسلمانی کو اپنے محدود افکار کی چار دیواری میں محصور کردیاتھا دوسرے تمام کوتاہ نظروں کی طرح وہ بھی دعویٰ کرتے تھے کہ سب غلط سمجھتے ہیں یا سرے سے سمجھتے ہیں نہیں ہیں اور سب غلط راستے پر چلتے ہیں اور سب جہنمی ہیں۔ اس قسم کے کوتاہ نظر لوگ سب سے پہلا کام جو کرتے ہیں یہ ہے کہ اپنی تنگ نظری ایک دینی عقیدہ بنا لیتے ہیں، خدا کی رحمت کو محدود کردیتے ہیں ،خداوند عالم کو ہمیشہ غضب کی کرسی پر بٹھاتے ہیں اور اس بات کا منتظر قراردیتے ہیں کہ اس کے بندے سے کوئی لغزش ہو اور وہ دائمی عذاب کی طرف دھکیلا جائے۔ خوارج کے اصول عقائد میں سے ایک یہ تھا کا گناہ کبیرہ مثلاً جھوٹ یا غیبت یا شراب نوشی کاارتکاب کرنے والا کافر اور اسلام سے خارج ہے اور جہنم کی آگ کا ابدی طور پر مستحق ہے۔

۱۳۵

اس طرح چند ایک کے سوا تمام انسان جہنم کی آگ میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ مذہبی تنگ نظری خوارج کی خصوصیات میں سے ہے لیکن آج اس کو ہم دوبارہ اسلامی معاشرے میں دیکھتے ہیں یہ وہی بات ہے جو ہم نے پہلے کی ہے کہ خوارج کے رسوم فنا ہوچکے اور مر چکے ہیں لیکن ان کے مذہب کی روح کم و بیش بعض افراد اور طبقات میں اسی طرح زندہ اور باقی ہے۔ چند خشک دماغ لوگوں کو ہم دیکھتے ہیں کہ اپنے اور انتہائی گنے چنے اپنے جیسے لوگوں کے علاوہ، دنیا کے سب لوگوں کو کفر اور الحاد کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اسلام اور مسلمانی کے دائرے کو انتہائی محدود سمجھتے ہیں۔

سابقہ باب میں ہم نے کہا ہے کہ خوارج اسلامی ثقافت کی روح سے آشنا نہ تھے لیکن بہادر تھے۔ چونکہ جاہل تھے اس لیے تنگ نظر تھے اور چونکہ تنگ نظر تھے جلد کفر اور فسق کافتویٰ لگاتے تھے یہاں تک کہ اسلام اور مسلمانی کو صرف اپنے آپ میں منحصر سمجھتے تھے اور ان تمام مسلمانوں کو جو ان کے اصول عقائد کو قبول نہ کرتے ہوں، کافر کہتے تھے اور چونکہ بہادت تھے اس لیے صاحبان قدرت کے پیچھے پڑ جاتے تھے اور اپنے خیال میں ان کو امر بہ معروف اور نہی از منکر کرتے تھے اور خود مارے جاتے تھے اور جیساکہ ہم نے کہا ہے بعد کے ادوار میں ان کا جمود، ان کی جہالت، ظاہر پرستی، مقدق مآبی اور تنگ نظری دوسرے لوگوں میں باقی رہی لیکن شجاعت، بہادری اور فدا کاری ختم ہوگئی۔

بزدل خوارج یعنی ڈرپوک مقدس مآبوں نے آہنی شمشیریں تو کنارے پر رکھ دی ہیں اور قدرت مند لوگوں کو امر بمعروف و نہی از منکر سے، جوان کے لیے خطرہ پیدا کرتے ہیں، آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور زبان کی تلوار کے ساتھ صاحبان فضیلت کی جان کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ انہوں نے کچھ اس طرح اور ایسے طریقے سے متّہم کیا ہے کہ اسلام کی تاریخ میں بہت کم ایسے فضیلت والے پائے جاتے ہیں جو اس طبقے کی تہمت کے تیر کا نشانہ نہ بنے ہو ایک کو انہوں نے منکر خدا کہا، دوسرے کو منکر معاد کہا، تیسرے کو معراج جسمانی کا منکر کہا، چوتھے کو صوفی کہا۔ پانچویں کو کچھ اور ۔۔۔ اور اسی طرح ۔۔۔ اور اس طریقے سے کہ اگر ہم ان بیوقوفوں کے نظریئے کو معیار قرار دیں تو کسی وقت کوئی عالم مسلمان نظر نہ آئے۔ جب علی علیہ سلام کو کافر قرار دیا گیا تو اوروں کا حال واضح ہے۔ بو علی سینا، خواجہ نصیر الدین طوسی، صدر المتالہین شیرازی، فیض کاشانی، سید جمال الدین اسد آبادی اور آخر میں محمد اقبال پاکستانی ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اس جام کا ایک گھونٹ چکّھا ہے۔

۱۳۶

بوعلی اسی سلسلے میں کہتا ہے:

کفر چومنی گزاف و آسان نبود

محکم تر از ایمان من ایمان نہ بود

میری طرح کافر بننا بھی آسان نہیں ہے میرے ایمان سے زیادہ مضبوط کوئی ایمان نہیں ہے

دردھریکی چومن و آنہم کافر

پس درہمہ دھر یک مسلمان نبود

زمانے میں مجھ جیسا ایک آدمی ہو اور وہ بھی کافر پس سارے زمانے میں کوئی ایک بھی مسلمان نہیں ہے

خواجہ نصیر الدین طوسی ایک شخص مسّمی ''نظام العلمائ،، کی طرف سے تکفیر کا نشانہ بنا۔ وہ کہتا ہے:

نظام بے نظام ارکافر خواند

چراغ کذب رانبود فروغی

بے نظام، نظام نے اگر مجھے کافر کہا (تو کہا کرے) جھوٹ کا چراغ زیادہ نہیں جلتا

مسلمان خوانمش، زیرا کہ نبود

دروغی را جوابی جز دروغی

میں اس کو مسلمان کہتا ہوں کیونکہ وہ مسلمان نہ تھا جھوٹ کا جواب، جھوٹ کے علاوہ کسی اور چیز سے نہیں دیا جاسکتا

۱۳۷

بہرحال خوارج کو مشخص اور ممتاز کرنے والی چیزوں میں سے ایک ان کی تنگ نظری اور کوتاہ بینی تھی کہ سب کو بے دین لا مذہب کہتے تھے علی علیہ سلام نے ان کو اس کوتاہ نظری کے خلاف استدلال کیا کہ یہ کیسی غلط فکر ہے جس کے پیچھے تم چلتے ہو؟ آپ نے فرمایا:

''پیغمبر ایک مجرم کو سزا دیتے تھے اس کے بعد اس کی نماز جنازہ پڑھتے تھے حالانکہ اگر گناہ کبیرہ کا ارتکاب اگر کفر کا موجب ہوتا تو پیغمبر ان کے جنازے کی نماز کبھی نہ پڑھتے کیونکہ کافر کی نماز جنازہ جائز نہیں ہے اور قرآن نے اس سے منع کیا ہے۔(۱) ''حضور نے شراب خوار پر حد جاری کی، چور کے ہاتھ کاٹے اور غیر شادی شدہ زنا کار کو کوڑے لگائے پھر ان تمام کو مسلمانوں کی صف میں جگہ دی اور بیت المال سے ان کا وظیفہ بند نہ کیا اور انہوں نے دوسرے مسلمانوں کے ساتھ شادیاں کیں۔ پیغمبر نے ان کے حق میں اسلامی سزاؤں کو جاری کیا لیکن ان کے ناموں کو مسلمانوں کی فہرست سے خارج نہ کیا۔(۲)

آپ نے فرمایا:

''فرض کرو میں نے غلطی کی اور اس کے نتیجے میں کافر ہوگیا پھر تم دوسرے تمام مسلمانوں کی تکفیر کیوں کرتے ہو؟ کیا کسی کی گمراہی و ضلالت اس

____________________

۱) سورہئ توبہ آیت نمبر ۴

۲) نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۱۲۷

۱۳۸

بات کا موجب بنتی ہے کہ دوسرے لوگ بھی گمراہی اور خطا پر ہوں اور قابل مواخذہ ہوں؟! کیوں تم ہاتھوں میں تلوار لیے بے گناہ اور گناہ گار ۔۔۔ تمہاری اپنی نظر ۔۔۔ تمہاری اپنی نظر میں ۔۔۔ دونوں کو تلوار کے گھاٹ اتارتے ہو؟ !،،(۱)

یہاں امیر المؤمنین دو زاویوں سے ان کے عیوب کی نشاندہی کرتے ہیں اور ان کا دافعہ دونوں زاویوں سے ان کو دفع کرتا ہے، ایک اس زاویئے سے کہ انہوں نے بے گناہ کو گناہ گار قرار دیا ہے اور اس کو مواخذہ کی گرفت میں لیا ہے اور دوسرے اس زاویئے سے کہ انہوں نے ارتکاب گناہ کوکفر اور اسلام سے خارج ہونے کا موجب گردانا ہے یعنی انہوں نے دائرہئ اسلام کو محدود کردیا ہے کہ جس نے بھی بعض حدود سے باہر قدم رکھا وہ اسلام سے خارج ہوگیا۔

علی علیہ سلام نے یہاں تنگ نظری اور کوتاہ بینی کی مذمت کی ہے اور در حقیقت علی علیہ سلام کی خوارج کے ساتھ جنگ اس طرز اندیشہ و فکر کے ساتھ جنگ ہے نہ کہ افراد کے ساتھ جنگ۔ کیونکہ افراد اگر اس طرح فکر نہ کرتے تو علی علیہ سلام بھی ان کے ساتھ اس طرح کا رویہ اختیار نہ کرتے۔ آپ نے ان کا خون بہایا تاکہ ان کی موت کے ساتھ ان کے خیالات اور افکار بھی مرجائیں، قرآن صحیح طورپر سمجھا جائے اور مسلمان، قرآن اور اسلام کو اس طرح دیکھیں جس طرح کہ ہیں اور جس طرح کہ اس (اسلام) کا قانون بنانے والے (خدا) نے چاہا ہے۔

یہ کوتاہ بینی او رکج فہمی کا نتیجہ تھا کہ وہ قرآن کو نیزے پر بلند کرنے کی سیاست سے دھوکہ کھاگئے اور اسلام کے لےے عظیم خطرے پیدا کئے اور علی علیہ سلام کو جو نفاق کی بیخ کنی اور

____________________

۱) نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۱۲۷

۱۳۹

معاویہ اور اس کے افکار کو ہمیشہ کے لیے نابود کرنے کے لیے آگے بڑھ رہے تھے، جنگ کرنے سے روک دیا۔ اس کے نتیجے میں کیسے کیسے منحوس حوادث نے اسلامی معاشرے کا رخ نہ کیا؟(۱) خوارج اپنی اس کوتاہ نظری کے نتیجے

میں عملاً تمام مسلمانوں کو، مسلمان نہیں سمجھتے تھے۔ ان کے ذبیحہ کو حلال نہیں سمجھتے تھے۔ ان کا خون مباح سمجھتے تھے اور ان کے ساتھ شادی بیان نہیں کرتے تھے۔

____________________

۱) جن حوادث نے عالم اسلام کا رخ کیا ان میں مسلمانوں کوپہنچنے والے وہ روحی و معنوی زخم ہیں جو سب سے زیادہ توجہ کو اپنی طرف جلب کرتے ہیں۔ قرآن کریم نے دعوت اسلامی کی بنیاد بصیرت اور تفکر کو قرار دیا تھا اور خود قرآن نے لوگوں کے لیے اجتہاد اور ادراک عقل کا راستہ کھولا تھا۔

۱۴۰

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159