جاذبہ و دافعہ علی علیہ السلام

جاذبہ و دافعہ علی علیہ السلام25%

جاذبہ و دافعہ علی علیہ السلام مؤلف:
زمرہ جات: امیر المومنین(علیہ السلام)
صفحے: 159

جاذبہ و دافعہ علی علیہ السلام
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 159 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 39114 / ڈاؤنلوڈ: 4972
سائز سائز سائز

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

یہ مقدّمہ اس لیے تھا کہ ہم یہ جان لیں کہ ممکن ہے ایک مذہب مرچکاہو لیکن اس مذہب کی روح دوسرے لوگوں میں جو بظاہر اس مذہب کے پیرو نہ ہوں، بلکہ اپنے کو اُس مذہب کے مخالف سمجھتے ہوں، زندہ ہو۔ خوارج کا مذہب مرچکا ہے، یعنی آج روئے زمین پر کوئی قابل توجہ گروہ خوارج کے نام سے موجود نہیں ہے جو اسی نام سے اس کی پیروی کرتا ہو لیکن کیا مذہب خارجی کی روح بھی مرچکی ہے؟ کیا اس روح نے دوسرے مذاہب کے پیروکاروں میں حلول نہیں کیا ہے؟ آیا مثلاً خدانخواستہ ہمارے درمیان خاص کو اصطلاح میں ہمارے مقدس مآب طبقہ کے درمیان اس روح نے حلول نہیں کیا ہے؟

یہ ایسے موضوع ہیں جن پر علیٰحدہ غور و فکر کیا جانا چاہیے۔ اگر ہم مذہبِ خارجی کو صحیح طور پر پہچان لیں تو شاید اس سوال کا جواب دے سکیں۔ خوارج کے بارے میں بحث کی افادیت صرف اسی نقطہئ نظر سے ہے۔ ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ علی علیہ سلام نے ان کو کیوں ''دفع،، کیا یعنی علی علیہ سلام کے ''جاذبہ،، نے ان کو نہ کھینچا اور اس کے برعکس، اُن کے دافعہ نے ان کو ''دفع،، کردیا؟

یہ بات مسلّم ہے جیسا کہ ہم بعد میں دیکھیں گے کہ خوارج کی شخصیت اور ان کی جبلّت کی تشکیل میں اثر انداز ہونے والے تمام عناصر ایسے نہ تھے کہ علی علیہ سلام کے دافعہ کے دائرہئ اثر میں قرار پاتے۔ بلکہ ان کی جبلت میں ایسی خصوصیات اور روشن امتیازات بھی موجود تھے کہ اگران کے ساتھ تاریک پہلوؤں کا ایک سلسلہ نہ ہوتا تو وہ علی علیہ سلام کے جاذبہ کے زیر اثر قرار پاتے۔ لیکن ان کی جبلّت کے تاریک پہلو اتنے زیادہ تھے کہ جنہوں نے ان کو علی علیہ سلام کے دشمنوں کی صف میں لاکھڑا کیا۔

۱۲۱

علی علیہ سلام کی جمہوریت

امیر المومنین نے خوارج کے ساتھ انتہائی آزادی اور جمہوری رویہ روا رکھا۔ یہ خلیفہ تھے اور وہ ان کی رعایا، ہر قسم کا سیاسی ایکشن ان کے بس میں تھا لیکن انہوں نے ان کو قید نہیں کیا ان کو کوڑے نہیں مارے اور حتیّٰ کہ بیت المال سے ان کا وظیفہ بھی بند نہیں کیا اور ان کو باقی لوگوں کے ساتھ ایک نظر سے دیکھتے تھے۔ یہ مثال علی علیہ سلام کی زندگی کی تاریخ میں انوکھی نہیں ہے تاہم دنیا میں اس کی مثال بہت ہم ہے۔ وہ ہر جگہ اپنے عقیدے کے اظہار میں آزاد تھے حضرت خود اور ان کے اصحاب آزاد عقیدے کے ساتھ اُن کے روبرو ہوتے اور گفتگو کرتے تھے۔ طرفین استدلال کرتے تھے ایک دوسرے کے استدلال کا جواب دیتے تھے۔ شاید اس قدر آزادی کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ہے کہ ایک حکومت نے اپنے مخالفین کے ساتھ اس حد تک جمہوری روّیہ روا رکھا ہو۔ وہ مسجد میں آتے اور علی علیہ سلام کی تقریریوں اور ان کے خطبوں میں مداخلت کرتے۔ ایک دن امیر المومنین منبر پر تھے ایک شخص آیا اور کوئی سوال کیا، علی علیہ سلام نے فی البدیہہ جواب دیا۔ لوگوں کے درمیان سے ایک خارجی پکار اٹھا: ''قاتلہ اللہ ما افقھہ،، ''خاد اس کو ہلاک کرے کتنا عالم ہے،، اور لوگوں نے اس کے ساتھ نمٹنا چاہا لیکن علی علیہ سلام نے فرمایا اس کو چھوڑ دو اس نے صرف مجھے گالی دی ہے۔خارجی نمازِ جماعت میں علی علیہ سلام کی اقتداء نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ انہیں کافر سمجھتے تھے، مسجد میں آتے تھے اور علی علیہ سلام کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے تھے اور یوں ان کو آزار پہنچاتے تھے۔ ایک روز جبکہ علی علیہ سلام نے نماز میں کھڑے ہیں اور لوگ ان کی اقتداء کر رہے ہیں، ابن الکواء نامی ایک خارجی کی آواز بلند ہوئی اور علی علیہ سلام کی طرف کنایۃً ایک آیت زور سے پڑھی:

( ولقد اوحی الیک و والی الذیب من قبلک لئن اشرکت لیحبطن عملک و لتکونن من الخاسرین )

یہ آیت پیغمبر سے خطاب ہے کہ تم اور تم سے پہلے پیغمبروں پر وحی ہوئی کہ اگر مشرک ہو جاؤ تو تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں گے اور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگے۔ ابن الکواء اس آیت کو پڑھ کر علی علیہ سلام کو یہ جتانا چاہتا تھا کہ اسلام کے لیے تمہاری خدمات کو جانتے ہیں، تم سب سے پہلے مسلمان ہوئے ہو، پیغمبر نے تمہیں اپنی برادری کے لیے منتخب کیا ہے، شب ہجرت تم نے درخشاں فداکاری کی اور پیغمبر کے بستر پر سوئے، اپنے آپ کو تلواروں کے منہ میں دے دیا اور بالآخر اسلام کے لیے تمہاری خدمات سے انکارنہیں کیا جاسکتا، لیکن خدا نے اپنے پیغمبر سے یہ بھی کہا ہے کہ اگر تم مشرک ہو جاؤ تو تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں گے اورچونکہ اب تم کافر ہوگئے ہو اس لیے تم نے اپنے گذشتہ اعمال کو ضائع کردیا ہے۔

۱۲۲

علی علیہ سلام نے اس کے جواب میں کیا کیا؟ جب تک اسکے قرآن پڑھنے کی آواز بلدن رہی آپ خاموش رہے یہاں تک کہ اس نے آیت ختم کرلی جونہی اس نے آیت ختم کی علی علیہ سلام نے اپنی نماز جاری رکھی۔ ابن الکواء نے دوبارہ آیت کو دُھرایا اور علی علیہ سلام نے فوراً خاموشی اختیار کرلی۔ علی علیہ سلام سکوت اس لیے اختیار کرتے تھے چونکہ قرآن کا حکم یہ ہے کہ:''و اذا قریئ القراٰن فاستمعوا له و انصتوا،، (۱)

''جب قرآن پڑھا جائے تو غور سے سنو اور خاموش رہو۔،،

اور اسی لیے ہے کہ جب امام قرات میں مشغول ہو مامومین کو چاہےے کہ خاموش رہیں اور سنیں۔

جب وہ کئی بار اس آیت کو دُھرا چکا اور چاہا کہ نماز کی حالت کو برہم کرے اس کے بعدعلی علیہ سلام نے یہ آیت پڑھی:

( فاصبر ان وعد الله حق ولا یستخلفنک الذیب لا یؤمنون )

''صبر کرو خدا کا وعدہ سچا ہے اور پورا ہوگا یہ ایمان و یقین سے بے بہرہ لوگ تمہیں نہیں ڈرا سکتے اور نہ تمہارے عزم کو کمزور کرسکتے ہیں،،

پھر آپ نے کوئی پرواہ نہ کی اور نماز جاری رکھی۔

خوارج کی بغاوت اور سرکشی

ابتداء میں خارجی پرامن تھے اور صرف تنقید ار کھُلی بحث اپر اکتفا کرتے تھے، علی علیہ سلام کا رویہ بھی ان کے ساتھ ویسا ہی تھا جیسا کہ ہم نے پہلے کہا یعینی کسی لحاظ سے ان کی راہ نہ روکتے یہاں تک کہ بیت المال سے ان کے وظیفے بھی بند نہ کئے لیکن جوں جوں وہ علی علیہ سلام کے توبہ کرنے کی طرف سے مایوس ہوتے گئے، انہوں نے اپنا رویہ بدل ڈالا اور انقلاب برپا کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ وہ اپنے ایک ہم مسلک کے گھر میں جمع ہوگئے اور ان میں سے ایک نے پرجوش اور اشتعال انگیز تقریر کی اور اپنے دوستوں کو امر بہ معروف اور نہی از منُکر کے نام پر بغاوت اور سرکشی کی دعوت دی ان سے خطاب کرتے ہوئے اس نے کہا:

____________________

(ابن ابی الحدید ج ۲، ص ۳۱۱)

۱۲۳

''اما بعد فو الله ما ینبغی لقوم یومنون بالرحمٰن و ینیبون الی حکم القرآن ان تکون هذی الدنیا آثر عند هم من الامر بالعروف و النهی عن المنکر و القول بالحق و ان من و ضر فانه من یمن و یضر فی هذه الدنیا فانّ ثوابه یوم القیٰمة رضوان الله و الخلود فی جنانه فالخرجوا بنا أخواننا من هذه القریة الظالم اهلها الی کور الجبال اوالیٰ بعض هذه المدائن منکرین لهٰذه البدع المضلّة،، (۱)

''حمد و ثنا کے بعد! خدا کی قسم مناسب نہیں ہے کہ وہ گروہ جوبخشنے والے خدا پر ایمان رکھتا ہو اور قرآن کے حکم پر چلتا ہو، اس کی نظر میں امربہ معروف اور نہی از منکر اور سچّی بات سے زیادہ، دنیا محبوب ہو، اگرچہ یہ نقصان پہنچانے اور خطرہ پیدا کرنے والی چیزیں کیوں نہ ہوں کیونکہ اس دنیا میں جو بھی خطرہ اور نقصان میں رہا، اس کی جزا قیامت میں حق کی رضا مندی اور ہمیشہ کی بہشت ہے۔ بھائیو! ہم کو اس شہر سے باہر نکالو جس کے رہنے والے ظالم ہیں، پہاڑی مقامات کی طرف یا کسی اور شہر کی طرف تاکہ ان گمراہ کن بد غنوں کے خلاف ہم جہاد کرسکیں اور ان سے اپنا دامن بچائیں۔،،

ان باتوں سے ان کے مشتعل جذبات اور بھڑک اٹھے، وہاں سے اٹھے۔ سرکشی اور انقلاب شروع کردیا۔ راستوں کا امن و امان سلب کرلیا اور لوٹ مار اور دہشت کو اپنا پیشہ بنالیا۔(۲) وہ چاہتے تھے کہ اس طرح حکومت کو کمزور کریں اور حکومت وقت کا تختہ الٹ دیں۔

یہ درگذر اور آزاد چھوڑ دینے کا مقام نہ تھا اب یہ اظہار عقیدہ کا مسئلہ نہ تھا بلکہ امن عامہ میں رخنہ ڈالنے کی کوشش اور شرعی حکومت کے خلاف مسلّح بغاوت تھی، اس لیے علی علیہ سلام نے ان کا پیچھا کیا اور نہرو ان کے مقام پر ان کے ساتھ آمنا ہوا۔ خطبہ پڑھا، نصیحت کی اور اتمام حجت کیا۔ پھر امان کا پرچم ابو ایّوب انصاری کے ہاتھ میں دیا کہ جوبھی اس کے سائے میں آجائے اس کے لیے پناہ ہے۔ بارہ ہزار میں سے آٹھ ہزار واپس آئے۔ باقیوں نے مزاحمت کی اور بُری طرح شکست کھائی اور چند ایک کے سوا ان میں سے کوئی باقی نہ بچا۔

____________________

۱)۲) الامامۃ والسیّاستہ ص ۱۴۱،۱۴۳ و کامل مبّرد ج ۲

۱۲۴

خوارج کی نمایاں خصوصیّات

خوارج کی ذہنیت ایک مخصوص ذہنیت ہے وہ لوگ اچھائی اور برائی کا مرکّب تھے اور مجموعی طور پر ا س طرح کے لوگ تھے کہ بالآخر علی علیہ سلام کے دشمنوں کی صف میں قرار پائے اور علی علیہ سلام کی شخصیت نے ان کو ''دفع،، کیا ''جذب،، نہیں۔ ہم ان کی ذہنیت کے مثبت اور خوشگوار اور منفی و ناخوشگوار دونوں پہلوؤں اور مجموعی طور پر ان کی خطرناک بلکہ وحشت ناک فطرت کا ذکرکرتے ہیں:

۱ وہ مجاہدانہ اور فدا کارانہ ذہنیت رکھتے تھے اور اپنے عقیدہ اور نظریے کی راہ میں جان توڑ کوشش کرتے تھے۔ خوارج کی تاریخ میں ہم ایسی فداکاریاں دیکھتے ہیں جن کی نظیر انسانی زندگی کی تاریخ میں کم ہے اور اس فداکاری اور جذبہئ قربانی نے کو دلیر اور طاقتور بنا دیا تھا۔ ابن عبدربّہ ان کے بارے میں کہتا ہے:

''و لیس فی الافراق کلها اشد بصائر من الخوارج، و لا اشدا جتهاداً، ولا أوطن انفسا علی الموت منهم الّذی طعن فانقده الرمح فجعل یسعیٰ الی قاتله و یقول: و رب لترضیٰ،، (۱)

____________________

۱) فجر الاسلام ص ۲۶۳ بہ نقل از العقد الفرید

۱۲۵

''تمام فرقوں میں خوارج سے زیادہ عقیدہ میں پختہ اور کوشش کرنے والا کوئی نہ تھا اور ان سے زیادہ موت کے لیے آمادہ کوئی پایا نہیں جاتا تھا۔ ان میں سے ایک کے نیزہ لگا تھا اور نیزہ سخت کاری لگا تھا، پھر بھی وہ اپنے قاتل کی طرف بڑھتا تھا اور کہتا تھا خدایا! میں تیری طرف بڑھ رہا ہوں تاکہ تو خوش ہو۔،،

معاویہ نے ایک شخص کو اس کے بیٹے کے پیچھے بھیجا جو خارجی تھا، تاکہ اسے واپس لائے۔ لیکن باپ اپنے بیٹے کو اس کے فیصلے سے نہیں پلٹا سکا۔ آخر اس نے کہا میرے بیٹے! میں جاکر تیرے نو عمر بچے کو لاؤں گا تاکہ تو اسے دیکھے اور تیری محبت پدری بیدا ر ہو اور تو دست بردار ہو۔ اس نے کہا خدا کی قسم میں اپنے بیٹے سے زیادہ ایک کاری زخم کا مشتاق ہوں۔(۱)

۲ وہ عبادت گذار اور پرہیز گار لوگ تھے۔ راتیں عبادت میں گزارتے تھے۔ دنیا اور اس کی زیب و زینت سے کوئی رغبت نہ تھی۔ جب علی علیہ سلام نے ابن عباس کو اصحاب نہرو ان کی طرف بھیجا کہ وہ پند و نصیحت کرے۔ ابن عبّاس نے واپس آکر ان کی اس طرح توصیف کی:

''لهم جباه قرحة لطول السجود واید کثفنات الابل علیهم قمص مرحضة و هم مشمرون،، (۲)

''بارہ ہزار آدمی جن کی پیشانیاں کثرت عبادت کی وجہ سے داغدار ہیں خدا کے حضور سجدہ کرتے ہوئے اس کثرت سے ان کے ہاتھ تپتی ہوئی

____________________

۱) فجر الاسلام ص ۲۴۳

۲) العقدالفرید ج ۲، ص ۳۸۹

۱۲۶

خشک ریت کے اوپر رکھے گئے ہیں کہ وہ اونٹ کے پیرون کی طرح سخت ہوگئے ہیں۔ ان کا لباس کہنہ اور کھردرا ہے لیکن وہ سخت اور کٹر لوگ ہیں۔،،

خوارج اسلام کے احکام اور رسوم کے سخت پابند تھے۔ جس چیز کو وہ گناہ سمجھتے اس کو ہاتھ نہ لگاتے تھے۔ ان کے اپنے معیار تھے اور ان معیاروں کے خلاف کسی چیز کا ارتکاب نہیں کرتے تھے اور جس کے ہاتھ سے کوئی گناہ سرزد ہوتا اس سے دور رہتے تھے۔ زیاد بن ابیہ نے ان کے کسی آدمی کو قتل کردیا اور اس کے غلام کو طلب کرکے اس سے اس کے حالات پوچھے۔ اس نے کہا کہ نہ میں نے دن کو اسے کھانا پہنچایا اور نہ رات کو اس کے لیے بستر بچھایا دن کو وہ روزہ رکھتا اور رات عبادت میں گذار دیتا۔(۱)

وہ جوبھی قدم اٹھاتے اپنے عقیدے کی راہ میں اٹھاتے اور اپنے تمام افعال میں اپنے مسلک کے پابند تھے اور اپنے عقائد کو پھیلانے کی راہ میں کوشش کرتے تھے۔ علی علیہ السّلام ان کے بارے میں فرماتے ہیں:

''لا تقتلوا الخوارج بعدی فلیس من طلب الحق فأخطاه کمن طلب الباطل فادرکه،،

(نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۶۰)

''میرے بعد خوارج کو قتل نہ کرو کیونکہ جو حق کو تلاش کرتے اور خطا کو پائے وہ اس شخص کی طرح نہیں ہے جو باطل کو طلب کرے اور اسے پالے۔،،

____________________

۱) کامل مبّرد ج ۲

۱۲۷

یعنی ان میں اور اصحاب معاویہ م یں فرق ہے، یہ حق کو چاہتے ہیں لیکن غلطی میں جا پڑے ہیں لیکن وہ شروع سے ہی دھوکہ باز رہے ہیں اور ان کا راستہ ہی باطل کا راستہ رہا ہے۔ اس کے بعد ار تم ان کو قتل کروگے تو اس کا فائدہ معاویہ کو پہنچے گا جو ان سے بد تر اور زیادہ خطرناک ہے۔

قبل اس کے خوارج کی تمام خصوصیات کو بیان ںکریں لازم ہے کہ یہاں ایک نکتے کا ذکر کریں جو خوارج کے تقدس و تقویٰ اور ان کی زاہد مآبی کے بارے میں ہے اور وہ یہ ہے کہ علی علیہ سلام کی زندگی کی شگفتہ، ممتاز اور غیر معمولی خصوصیات میں سے ایک جس کی مثال نہیں مل سکتی، وہ آپ کا دلیرانہ اور پرجوش اقدام ہے ان تنگ نظر اور مغرور زادہ ان خشک کے مقابلے میں کیا۔ علی علیہ سلام نے ایسے ظاہر الصّلاح اور آراستہ، قیافے سے حق بجانب نظرآنے والے، بوسیدہ لباس اور عبادت پیشہ لوگوں پر تلوار کھینچی اور سب کو موت کے گھاٹ اتارا۔

ہم اگر ان کے اصحاب کی جگہ پر ہوتے اور اس طرح کے قیافے دیکھتے تو یقیناً ہمارے جذبات برانگیختہ ہوتے اور علی علیہ سلام پراعتراض کرتے کہ ایسے لوگوں پر تلوار اٹھائی؟!

ان خوارج کی داستان تاریخ اسلام کی عموماً اور تاریخ تشیع کی خصوصاً ایک انتہائی سبق آموز داستان ہے۔ علی علیہ سلام اپنے اس کام کی اہمیت اور غیر معمولی حیثیت سے واقف ہیں اور اس کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

''فانا فقأت عین الفتنة و لم یکن لیجترء علیها احد غیری بعد ان ماج غیهبها و اشتد کلبها،،

(نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۹۲)

''اس فتنے کی آنکھ میں نے نکال کی۔ میرے علاوہ کسی میں ایسے کام کی جرات نہ تھی جبکہ اس کے تاریکی اور شک پیدا کرنے والے دریا کی لہرین اوپر اٹھ چکی تھیں اور اس کی دیوانگی میں اضافہ ہوچکا تھا۔،،

امیر المومنین علیہ السّلام یہاں دو خوبصورت تعبیریں کرتے ہیں:

ایک اس معاملے کا شک اور تردد پیدا کرنا۔ خوارج کے ظاہری تقدس اور تقویٰ کی حالت ایسی تھی کہ راسخ الایمان مؤمن کو تردد میں مبتلا کردیتی۔ اس اعتبار سے ایک تاریک اور مبہم اور شک سے بھرپور فضا اور دو دلی پیدا ہو گئی تھی۔

۱۲۸

دوسری تعبیر یہ ہے کہ آپ ان زاہد ان خشک کی حالت کو کَلَب (کاف اور لام پر زبر) سے تشبیہہ دیتے ہیں۔ کلب یعنی باؤلاپن۔ باؤلاپن دو دیوانگی ہے جو کُتّے میں پیدا ہوتی ہے اور وہ ہر ایک کو کاٹتا ہے اور اتفاق سے وہ (کتا) ایک پوشیدہ بیماری ( MICROBIC ) کاحامل ہوتا ہے، کتے کے دانت جس انسان یا حیوان کو کاٹیں اس کے لعاب دھن کے ساتھ وہ چیز انسان یا حویان کے جسم میں داخل ہوجاتی ہیں، وہ بھی دیوانہ ہو جاتا ہے اور کاٹنے لگتا ہے اور دوسروں کو بھی دیوانہ بنا دیتا ہے۔ اگر یہ صورت حال جاری رہے تو غیر معمولی طورپر خطرناک ہوجاتی ہے یہی وجہ ہے کہ عقلمند لوگ ایسے کتوں کو ختم کردیتے ہیں تاکہ کم از کم دوسرے لوگ دیوانگی کے خطرے سے نجات پائیں۔

علی علیہ سلام فرماتے ہیں کہ یہ لوگ باؤلے کتوں کی طرح ہوچکے تھے اور قابل علاج نہ تھے۔ یہ اوروں کو کاٹتے تھے اور مبتلا کردیتے تھے اور باقاعدہ باؤلوں کی تعداد میں اضافہ کر رہے تھے۔

افسوس! اس وقت کے مسلمانوں کی حالت پر۔ زاہدان خشک کا ایک گروہ،مٹھی بھر جاہل، بے خبر اور ضدی لوگ سب پر حملہ آور تھے۔

وہ کونسی قدرت ہے جو ان بہرے سانپوں کے مقابلے میں کھڑی ہو؟ وہ کونسی قوی اور طاقتور روح ہے جو ان زاہدانہ قیافوں اور تقویٰ کے مقابلے میں ٹھہر سکے؟ وہ کونسا ہاتھ ہے جو ان کے سروں پر وار کرنے کے لیے اٹھے اور نہ کانپے؟

یہی وجہ ہے کہ علی علیہ سلام فرماتے ہیں:

''و لم یکن لیجترء علیها احد غیری،،

یعنی ''میرے علاوہ کوئی ایسا اقدام کرنے کی جرات نہیں کرسکتا تھا۔،،

علی علیہ سلام، علی علیہ سلام کی بصیرت اور علی علیہ سلام کے راسخ ایمان کے علاوہ، خدا اور رسول اور قیامت پر ایمان رکھنے والا کوئی مسلمان اپنے اندر یہ جرات نہیں پاسکتا کہ وہ ان لوگوں پر تلوار اٹھائے۔ ایسے لوگوں کو قتل کرنے کی جرات صرف وہ کرسکتے ہیں جو اور اسلام پر اعتقاد نہ رکھتے ہوں نہ کہ معمولی مؤمن اور معتقد افراد۔

۱۲۹

یہی بات جس کو علی علیہ سلام اپنے لیے ایک عظیم فخر سمجھتے ہوئے کہتے ہیں:

''یہ میں تھا اور صرف میں کہ جس نے اس بڑے خطرے کا ادرا ک کیا جو ان زاہدان خشک کی طرف سے اسلام کو لاحق تھا۔ ان کی داغدار پیشانیاں، ان کا زاہدانہ لباس، ان کی ہمیشہ ذکر خدا میں مشغول زبانیں حتّی کہ ان کا محکم عقیدہ اور ثابت قدمی (ان میں سے کوئی چیز) مریی بصیرت میں مانع نہ ہوسکی۔ وہ میں تھا جس نے سمجھ ل یا کہ اگر ان کے پاؤں جم گئے تو سب کو اپنی بیماری میں مبتلا کردیں گے اور دنیائے اسلام کو جمود، ظاہر پرستی، سطح پسندی اور تنگ نظری کی طرف لے جائیں گے جس سے اسلام کی کمر جھک جائے گی۔ کیا پیغمبر نے نہیں فرمایا: دو گروہوں نے میری کمر توڑ دی، غیر ذمہ دار عالم اور مقدس مآب جاہل۔،،

علی علیہ سلام نے کہنا چاہتے ہیں کہ اگر میں نے عالم اسلام میں خارجیت کا مقابلہ نہ کیا ہوتا اور کوئی ایسا نہ ہوتا جو اس طرح کے مقابلے کی جرات کرتا۔ میرے سوا کوئی نہ تھا جو یہ دیکھتا کہ وہ گروہ جن کی پیشانیاں کثرت عبادت سے داغدار ہوں، دینی اور مسلکی لوگ ہوں___ مگر در حقیقت اسلام کی راہ میں رکاوٹ ہوں، ایسے لوگ جو اپنے خیال میں اسلام کے مفاد میں کام کرتے ہوں لیکن حقیقت میں اسلام کے حقیقی دشمن ہوں، اور ان کے ساتھ جنگ کرسکتا اور ان کا خون بہا سکتا، مگر میں نے یہ کام کردکھایا۔

علی علیہ سلام کے عمل نے خلفاء اور بعد کے حکام کے لیے راستہ ہموار کیا کہ وہ خوارج سے جنگ کریں اور ان کا خون بہائیں۔ اسلام کے سپاہی بھی بلا چون و چرا ان کی پیروی کرتے تھے کہ علی علیہ سلام نے ان کے ساتھ جنگ کی تھی اور در حقیقت علی علیہ سلام کی سیرت اور دوسروں کے لیے یہ راستہ بھی کھولا کہ بغیر کسی پرواہ کے وہ کسی بھی ظاہر الصلاح، مقدس مآب اور دیندار لیکن احمق گروہ کے ساتھ جنگ کریں۔

۳ خوارج جاہل اور نادان لوگ تھے۔ وہ جہالت اور نادانی کی وجہ سے حقائق کو نہیں سمجھتے تھے اور ان کی غلط تفسیر کرتے تھے اور یہی کج فہمیاں آہستہ آہستہ ان کے لیے ایک مذہب اور آئین کی شکل اختیار کرگئیںکہ وہ اس راہ میں بڑی سے بڑی فداکاری کا مظاہرہ کرتے تھے۔ شروع میں نہی از منکر کے اسلامی فریضے نے ان کو ایک گروہ کی شکل دی جن کا واحد ہدف ایک اسلامی سنت کا احیاء تھا۔

یہاں ہمیں توقف کرنا چاہیے اور تاریخ ا سلام کے ایک نکتے پر دقت سے سوچنا چاہیے۔

۱۳۰

جب ہم سیرت نبوی کی طرف رجوع کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ آنحضرت نے پورے تیرہ سالہ مکی دور میں کسی کو جہاد حتی کہ دفاع کی اجازت نہ دی یہاںتک کہ مسلمان واقتی تنگ آگئے اور ایک گروہ نے آنحضرت کی اجازت سے حبشہ کی طرف ہجرت کی لیکن جو باقی رہ گئے انہوں نے تکلیفیں اٹھائیں۔ یہ ہجرت مدینہ کا دوسرا سال تھا جب جہاد کی اجازت دے دی گئی۔ مکی دور میں مسلمانوں نے تعلیمات دیکھیں، اسلام کی روح سے آشنا ہوگئے اور اسلامی ثقافت روح کی گہرایوں میں رچ بس گئی، نتیجہ یہ ہوا کہ مدینہ پہنچنے کے بعد ان میں سے ہر ایک کا حقیقی مبلغ بن گیا تھا اور رسول اکرم ان کو جب اطراف و اکناف میں بھیجتے تو وہ اپنی ذمہ داریوں سے اچھی طرح عہدہ برآہوتے ۔ جب وہ جہاد کے لیے روانہ ہوتے تو انہیں اچھی طرح معلوم ہوتا کہ وہ کس ہدف اور کس نظریئے کے لےے جنگ کر رہے ہیں۔ امیر المؤمنین علیہ السّلام کے الفاظ میں:

''و حصلوا بصائر هم علی اسیافهم،،

''وہ اپنی بصیرتوں اور روشن اور منظم افکار کو اپنی تلواروں پر اٹھائے ہوئے ہوتے۔،،

ایسی صیقل شدہ تلواریں ہی تھیں اور ایسے ہی تعلیم یافتہ انسان تھے جو اسلام کے سلسلے میں اپنے مشن کو آگے بڑھانے میں کامیا ہوسکے۔ جب ہم تاریخ کو پڑھتے ہیں اور ان لوگوں کی گفتگو کو دیکھتے ہیں جن چند سال پیشتر تلوار اور اونٹ کے علاوہ کسی اور چیز کو نہیں پہچانتے تھے، تو ان کے بلند افکار اور ان کی اسلامی ثقافت کو دیکھ کر حیرت میں ڈوب جاتے ہیں۔

نہایت افسوس ہے کہ خلفاء کے دور میں زیادہ تر توجہ فتوحات کی طرف مبذول کی گئی اور دوسرے لوگوں کے لیے متوازی طورپر اسلام کے دروازے کھولنے اور

____________________

۱) نہج البلاغہ خطبہ ۱۴۸

۱۳۱

ان کو اسلام کی طرف لے آنے سے غافل رہے کیونکہ اسلام کے نظریہئ توحید اور اسلام کے نظام عدل و مساوات کی کشش عرب و عجم کو اپنی طرف کھینچتی تھی لہٰذا ضرورت اس بات کی تھی کہ اسلام کی تہذیب و ثقافت کی تعلیم بھی دی جاتی اور لوگ مکمل طور پر اسلام کی روح سے آشنا ہوجاتے۔

زیادہ تر خوارج عرب تھے اور کم و بیش کچھ غیر عرب بھی ان کے درمیان تھے، لیکن سب کے سب بلا امتیاز عرب و غیر عرب مسلک سے جاہل اور اسلامی ثقافت سے نا آشنا تھے وہ اپنی تمام تر خامیوں کو طویل رکوع و سجود کے زور سے پر کرنا چاہتے تھے علی علیہ السّلام ان کی فطرت کی تعریف اسی طرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔

''جفاة طغام و عبید اقزام، جمعوا من کل اوب و تلقطوا من کل شوب، ممن ینبغی ان یفقه و یودب و یعلم و یدرب و یولیّٰ علیه و یؤخذ علیٰ یدیه لیسوا من المهاجرین و الانصار الذین تبوؤا الدار و الایمان،،

''وہ گستاخ، بلندافکار اور لطیف احساسات سے عاری، پست، غلامانہ ذہنیت رکھنے والے، اوباش لوگ ہیں جوہر کونے سے اکٹھے ہوئے اور ہر کھدرے سے چلے آئے ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہیں کہ جن کو پہلے تعلیم دی جانی چاہیے، ان کو اسلامی آداب سکھا دیا جانا چاہیے اور اسلامی تہذیب و ثقافت سے باخبر بنا دیا جانا چاہیے۔ ان کی نگرانی کی جانی چاہیے اور ان کے بازؤں کو گرفت میں رکھا جانا چاہیے نہ یہ کہ ان کو آزاد چھوڑ دیا جائے کہ وہ ہاتھ میں تلوار اٹھائے اسلام کے بارے میں اپنے نظریات کا اظہار کرتے پھریں۔ یہ نہ ان مہاجرین میں شامل ہیں جنہوں نے اسلام کی خاطر ہجرت کی اور نہ انصار میں جنہوں نے مہاجرین کو اپنے جوار میں قبول کیا۔،،

مسلک سے بے خبر مقدس مآب طبقے کی پیدائش کہ خوارج بھی اس کا ایک جزو ہیں، اسلام کے لیے انتہائی گراں ثابت ہوئی خوارج سے گزر کر، جو تمام عیوب کے باوجود شجاعت اور فداکاری کی خوبیوں سے بہرہ مند تھے، اس قبیل کا ایک اور ظاہر پرست گروہ بھی وجود میں آگیا جن میں یہ خوبیاں بھی نہیں تھیں۔ یہ لوگ اسلام کی رہبانیت اور خلوت پسندی کی طرف لے گئے اور ظاہر داری اور ریا کا بازار گرم کیا۔ چونکہ یہ طاقتور لوگوں پر آہنی تلواریں کھینچنے کی وہ صلاحیت نہیں رکھتے تھے اس لیے صاحبان فضیلت کے خلاف زبان کی تلوار کھینچی اور ہر صاحب فضیلت کی تکفیران کو فاسق کہنے اور ان کی طرف بے دینی کی نسبت دینے کا بازار گرم کیا۔

۱۳۲

بہرحال خوارج کی ایک ممتاز ترین خصوصیت ان کی جہالت اور نادانی تھی۔ ظاہر یعنی قرآن کے خط اور جلد اور معنی کے درمیان فرق نہ کرسکنا ان کی جہالت کا ایک مظہر ہے۔ اسی لیے انہوں نے معاویہ اور عمر و عاص کی سادہ چال سے دکھوکہ کھایا۔

ان لوگوں میں جہالت اور عبادت جڑواں تھیں۔ علی علیہ سلام چاہتے تھے کہ ان کی جہالت کے خلاف جنگ کریں لیکن یہ کیونکر ممکن تھا کہ ان کے زہدو تقویٰ اور عبادت کے پہلو کو ان کی جہالت کے پہلو سے الگ کردیا جائے بلکہ ان کی عبادت ہی عین جہالت تھی، جہالت سے جڑی ہوئی عبادت کی علی علیہ سلام کی نظر میں جو اوّل درجے کے اسلام شناس ہیں، کوئی قیمت نہ تھی لہذا انہوں نے ان کی سرکوبی کی اور ان کے زہد و تقویٰ اور عبادت کا پہلو علی علیہ سلام کے مقابلے میں کوئی ڈھال قرار نہ پاسکا۔

ایسے لوگوں اور گرہوں کی جہالت کا سب سے زیادہ خطرناک پہلو یہ ہے کہ وہ موقعہ پرست لوگوں کا آلہئ کار بن جاتے ہیں اور اسلام کے بلند مقاصد کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ بے دین منافق لوگ ہمیشہ بیوقوف مقدس لوگوں کو اسلام کے مقاصد کے خللاف بھڑکاتے رہے ہیں اور یہ ان کے ہاتھوں کی تلوار اور ان کے کمان کا تیر بنتے رہے ہیں۔ علی علیہ السّلام کس قدر بلند اور لطیف پیرائے میں ان کی اس حالت کو بیان کرتے ہیں: فرماتے ہیں:

''ثم انتم شراء الناس و من رمی به الشیطان مرامیه و ضرب به تیهه،،

''پھر تمبدترین لوگ ہو تم شیطان کے ہاتھ میں اک تیر ہو کہ وہ اپنے نشانے پر مانے کے لیے تمہارے نجس وجود سے استفادہ کرتا ہے اور تمہارے ذریعے سے لوگوں کوشک و تردد اور گمراہی میں ڈالتا ہے۔،،

۱۳۳

جیسا کہ ہم نے پہلے کہا ہے: شروع میں خوارج کا گروہ ایک اسلامی سنت کے احیاء کے لیے وجود میں آیا لیکن بے بصیرتی اور نادانی نے ان کو اس مقام تک پنچا دیا کہ وہ قرآنی آیات کی غلط تفسیر کریں اور یہیں سے انہوں نے ایک مذہبی ریشہ پیدا کیا اور مذہب اور طریقہ ئ زندگی کی حیثیت سے جڑ پکڑی۔ قرآن کی ایک آیت ہے۔ جس میں خدا نے فرمایا:

( ان الحکم الا لله یقص الحق وهو خیر الفاصلین )

(سورہئ انعام آیت نمبر ۵۷)

اس آیت میں ''حکم،، کو ذات حق کے لیے مختص بتایا گیا ہے لیکن دیکھنا چاہیے کہ حکم سے مراد کیا ہے؟

بیشک یہاں حکم سے مراد انسانی زندگی کا آئین اور اس کے قوانین ہیں۔ اس آیت کی رو سے قانون وضع کرنے کا حق غیر خدا سے چھین لیا گیا ہے اور اس کو ذات حق (یا وہ شخص جس کو خدا اختیار دیدے) کا حق قرار دیا ہے لیکن خوارج نے ''حکم،، کو ، حکومت جس میں حکمیت بھی شامل ہے، کے معنی میں لیا ہے اور اپنے لیے ایک نعرہ تراش لیا اور کہتے تھے''لاحکم الا للہ،، ان کی مراد یہ تھی کہ وضع قانون کی طرح حکومت، حکمیت اور رہبری کرنے کا حق بھی صرف خدا کے لیے مخصوص ہے اور خدا کے علاوہ کسی کو حق نہیں ہے کہ کسی صورت میں لوگوں کے درمیان حکم یا حاکم ہو، جس طرح کہ قانون وضع کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

کبھی امیر المؤمنین نماز میں مشغول ہوتے یا منبر کے اوپر سے خطبہ دے رہے ہوتے،یہ لوگ پکار اٹھتے اور ان سے خطاب کرکے کہتے''لاحکم الا لله لالک و لا لاصحابک،، ''اے علی علیہ سلام! حاکمیت کا حق خدا کے سوا کسی کونہیں ہے۔ تمہیں یا تمہارے اصحاب کو حق نہیں ہے کہ حکومت یا حکمیت کریں۔،، تو وہ جواب میں کہتے:

''کلمة حق یراد بها الباطل، نعم انه لاحکم الا لله، و لکن هو لاء یقولون لاامرة الا لله و انه لا بد للناس من امیر بر او فاجر، یعمل فی امرته المؤمن و یستمتع فیها الکافر و یبلغ الله فیها الاجل ویجمع به الفییء و یقاتل به العدو، و تأمن به السبل و یؤخذ به للضّعیف من القوی حتی یستریح بر و یستراح من فاجر ،،(۱)

____________________

۱) نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۴۰

۱۳۴

''ان کی بات حق ہے لیکن اس سے ان کی مراد باطل ہے۔ یہ درست ہے کہ قانون وضع کرنا خدا کے لئے مختص ہے لیکن یہ لوگ کہنا چاہتے ہیں کہ خدا کے علاوہ کسی کو حکومت کرنا اور امیر نہیں ہونا چاہیے۔ لوگ حاکم کے محتاج ہیں خواہ وہ نیکو کار ہو یا بدکار (یعنی کم از کم نیکو کار نہ سمجھا جاسکے) اس کی حکومت کے سائے میں مؤمن اپنا کام (خدا کے لیے) انجام دیتا ہے اور کافرا اپنی دنیوی زندگی سے بہرمند ہوتا ہے یہاں تک کہ خداوند عالم اس کا وقت پورا کرتا ہے۔یہ حکومت ہی ہے جس کے ذریعے اور جس کے زیر سایہ مالیات جمع ہوتے ہیں، دشمن کے ساتھ جنگ لڑی جاتی ہے، راستے محفوظ اور پر امن ہوتے ہیں، کمزور اور ناتوان کا حق قوی اور ظالم سے دلایا جاتا ہے تاکہ نیکوکار آسائش پائیں اور بدکار کے شر سے محفوظ رہیں۔،،

خلاصہ یہ ہے کہ قانون خود بخود جاری نہیں ہوتا بلکہ ضروری ہے کہ کوئی فرد یا جماعت ہو جو اس کے اجراء کی کوشش کرے۔

۴ وہ تنگ نظر اور کوتاہ اندیش لوگ تھے۔ وہ انتہائی پست سطح پر سوچا کرتے انہوں نے اسلام اور مسلمانی کو اپنے محدود افکار کی چار دیواری میں محصور کردیاتھا دوسرے تمام کوتاہ نظروں کی طرح وہ بھی دعویٰ کرتے تھے کہ سب غلط سمجھتے ہیں یا سرے سے سمجھتے ہیں نہیں ہیں اور سب غلط راستے پر چلتے ہیں اور سب جہنمی ہیں۔ اس قسم کے کوتاہ نظر لوگ سب سے پہلا کام جو کرتے ہیں یہ ہے کہ اپنی تنگ نظری ایک دینی عقیدہ بنا لیتے ہیں، خدا کی رحمت کو محدود کردیتے ہیں ،خداوند عالم کو ہمیشہ غضب کی کرسی پر بٹھاتے ہیں اور اس بات کا منتظر قراردیتے ہیں کہ اس کے بندے سے کوئی لغزش ہو اور وہ دائمی عذاب کی طرف دھکیلا جائے۔ خوارج کے اصول عقائد میں سے ایک یہ تھا کا گناہ کبیرہ مثلاً جھوٹ یا غیبت یا شراب نوشی کاارتکاب کرنے والا کافر اور اسلام سے خارج ہے اور جہنم کی آگ کا ابدی طور پر مستحق ہے۔

۱۳۵

اس طرح چند ایک کے سوا تمام انسان جہنم کی آگ میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ مذہبی تنگ نظری خوارج کی خصوصیات میں سے ہے لیکن آج اس کو ہم دوبارہ اسلامی معاشرے میں دیکھتے ہیں یہ وہی بات ہے جو ہم نے پہلے کی ہے کہ خوارج کے رسوم فنا ہوچکے اور مر چکے ہیں لیکن ان کے مذہب کی روح کم و بیش بعض افراد اور طبقات میں اسی طرح زندہ اور باقی ہے۔ چند خشک دماغ لوگوں کو ہم دیکھتے ہیں کہ اپنے اور انتہائی گنے چنے اپنے جیسے لوگوں کے علاوہ، دنیا کے سب لوگوں کو کفر اور الحاد کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اسلام اور مسلمانی کے دائرے کو انتہائی محدود سمجھتے ہیں۔

سابقہ باب میں ہم نے کہا ہے کہ خوارج اسلامی ثقافت کی روح سے آشنا نہ تھے لیکن بہادر تھے۔ چونکہ جاہل تھے اس لیے تنگ نظر تھے اور چونکہ تنگ نظر تھے جلد کفر اور فسق کافتویٰ لگاتے تھے یہاں تک کہ اسلام اور مسلمانی کو صرف اپنے آپ میں منحصر سمجھتے تھے اور ان تمام مسلمانوں کو جو ان کے اصول عقائد کو قبول نہ کرتے ہوں، کافر کہتے تھے اور چونکہ بہادت تھے اس لیے صاحبان قدرت کے پیچھے پڑ جاتے تھے اور اپنے خیال میں ان کو امر بہ معروف اور نہی از منکر کرتے تھے اور خود مارے جاتے تھے اور جیساکہ ہم نے کہا ہے بعد کے ادوار میں ان کا جمود، ان کی جہالت، ظاہر پرستی، مقدق مآبی اور تنگ نظری دوسرے لوگوں میں باقی رہی لیکن شجاعت، بہادری اور فدا کاری ختم ہوگئی۔

بزدل خوارج یعنی ڈرپوک مقدس مآبوں نے آہنی شمشیریں تو کنارے پر رکھ دی ہیں اور قدرت مند لوگوں کو امر بمعروف و نہی از منکر سے، جوان کے لیے خطرہ پیدا کرتے ہیں، آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور زبان کی تلوار کے ساتھ صاحبان فضیلت کی جان کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ انہوں نے کچھ اس طرح اور ایسے طریقے سے متّہم کیا ہے کہ اسلام کی تاریخ میں بہت کم ایسے فضیلت والے پائے جاتے ہیں جو اس طبقے کی تہمت کے تیر کا نشانہ نہ بنے ہو ایک کو انہوں نے منکر خدا کہا، دوسرے کو منکر معاد کہا، تیسرے کو معراج جسمانی کا منکر کہا، چوتھے کو صوفی کہا۔ پانچویں کو کچھ اور ۔۔۔ اور اسی طرح ۔۔۔ اور اس طریقے سے کہ اگر ہم ان بیوقوفوں کے نظریئے کو معیار قرار دیں تو کسی وقت کوئی عالم مسلمان نظر نہ آئے۔ جب علی علیہ سلام کو کافر قرار دیا گیا تو اوروں کا حال واضح ہے۔ بو علی سینا، خواجہ نصیر الدین طوسی، صدر المتالہین شیرازی، فیض کاشانی، سید جمال الدین اسد آبادی اور آخر میں محمد اقبال پاکستانی ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اس جام کا ایک گھونٹ چکّھا ہے۔

۱۳۶

بوعلی اسی سلسلے میں کہتا ہے:

کفر چومنی گزاف و آسان نبود

محکم تر از ایمان من ایمان نہ بود

میری طرح کافر بننا بھی آسان نہیں ہے میرے ایمان سے زیادہ مضبوط کوئی ایمان نہیں ہے

دردھریکی چومن و آنہم کافر

پس درہمہ دھر یک مسلمان نبود

زمانے میں مجھ جیسا ایک آدمی ہو اور وہ بھی کافر پس سارے زمانے میں کوئی ایک بھی مسلمان نہیں ہے

خواجہ نصیر الدین طوسی ایک شخص مسّمی ''نظام العلمائ،، کی طرف سے تکفیر کا نشانہ بنا۔ وہ کہتا ہے:

نظام بے نظام ارکافر خواند

چراغ کذب رانبود فروغی

بے نظام، نظام نے اگر مجھے کافر کہا (تو کہا کرے) جھوٹ کا چراغ زیادہ نہیں جلتا

مسلمان خوانمش، زیرا کہ نبود

دروغی را جوابی جز دروغی

میں اس کو مسلمان کہتا ہوں کیونکہ وہ مسلمان نہ تھا جھوٹ کا جواب، جھوٹ کے علاوہ کسی اور چیز سے نہیں دیا جاسکتا

۱۳۷

بہرحال خوارج کو مشخص اور ممتاز کرنے والی چیزوں میں سے ایک ان کی تنگ نظری اور کوتاہ بینی تھی کہ سب کو بے دین لا مذہب کہتے تھے علی علیہ سلام نے ان کو اس کوتاہ نظری کے خلاف استدلال کیا کہ یہ کیسی غلط فکر ہے جس کے پیچھے تم چلتے ہو؟ آپ نے فرمایا:

''پیغمبر ایک مجرم کو سزا دیتے تھے اس کے بعد اس کی نماز جنازہ پڑھتے تھے حالانکہ اگر گناہ کبیرہ کا ارتکاب اگر کفر کا موجب ہوتا تو پیغمبر ان کے جنازے کی نماز کبھی نہ پڑھتے کیونکہ کافر کی نماز جنازہ جائز نہیں ہے اور قرآن نے اس سے منع کیا ہے۔(۱) ''حضور نے شراب خوار پر حد جاری کی، چور کے ہاتھ کاٹے اور غیر شادی شدہ زنا کار کو کوڑے لگائے پھر ان تمام کو مسلمانوں کی صف میں جگہ دی اور بیت المال سے ان کا وظیفہ بند نہ کیا اور انہوں نے دوسرے مسلمانوں کے ساتھ شادیاں کیں۔ پیغمبر نے ان کے حق میں اسلامی سزاؤں کو جاری کیا لیکن ان کے ناموں کو مسلمانوں کی فہرست سے خارج نہ کیا۔(۲)

آپ نے فرمایا:

''فرض کرو میں نے غلطی کی اور اس کے نتیجے میں کافر ہوگیا پھر تم دوسرے تمام مسلمانوں کی تکفیر کیوں کرتے ہو؟ کیا کسی کی گمراہی و ضلالت اس

____________________

۱) سورہئ توبہ آیت نمبر ۴

۲) نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۱۲۷

۱۳۸

بات کا موجب بنتی ہے کہ دوسرے لوگ بھی گمراہی اور خطا پر ہوں اور قابل مواخذہ ہوں؟! کیوں تم ہاتھوں میں تلوار لیے بے گناہ اور گناہ گار ۔۔۔ تمہاری اپنی نظر ۔۔۔ تمہاری اپنی نظر میں ۔۔۔ دونوں کو تلوار کے گھاٹ اتارتے ہو؟ !،،(۱)

یہاں امیر المؤمنین دو زاویوں سے ان کے عیوب کی نشاندہی کرتے ہیں اور ان کا دافعہ دونوں زاویوں سے ان کو دفع کرتا ہے، ایک اس زاویئے سے کہ انہوں نے بے گناہ کو گناہ گار قرار دیا ہے اور اس کو مواخذہ کی گرفت میں لیا ہے اور دوسرے اس زاویئے سے کہ انہوں نے ارتکاب گناہ کوکفر اور اسلام سے خارج ہونے کا موجب گردانا ہے یعنی انہوں نے دائرہئ اسلام کو محدود کردیا ہے کہ جس نے بھی بعض حدود سے باہر قدم رکھا وہ اسلام سے خارج ہوگیا۔

علی علیہ سلام نے یہاں تنگ نظری اور کوتاہ بینی کی مذمت کی ہے اور در حقیقت علی علیہ سلام کی خوارج کے ساتھ جنگ اس طرز اندیشہ و فکر کے ساتھ جنگ ہے نہ کہ افراد کے ساتھ جنگ۔ کیونکہ افراد اگر اس طرح فکر نہ کرتے تو علی علیہ سلام بھی ان کے ساتھ اس طرح کا رویہ اختیار نہ کرتے۔ آپ نے ان کا خون بہایا تاکہ ان کی موت کے ساتھ ان کے خیالات اور افکار بھی مرجائیں، قرآن صحیح طورپر سمجھا جائے اور مسلمان، قرآن اور اسلام کو اس طرح دیکھیں جس طرح کہ ہیں اور جس طرح کہ اس (اسلام) کا قانون بنانے والے (خدا) نے چاہا ہے۔

یہ کوتاہ بینی او رکج فہمی کا نتیجہ تھا کہ وہ قرآن کو نیزے پر بلند کرنے کی سیاست سے دھوکہ کھاگئے اور اسلام کے لےے عظیم خطرے پیدا کئے اور علی علیہ سلام کو جو نفاق کی بیخ کنی اور

____________________

۱) نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۱۲۷

۱۳۹

معاویہ اور اس کے افکار کو ہمیشہ کے لیے نابود کرنے کے لیے آگے بڑھ رہے تھے، جنگ کرنے سے روک دیا۔ اس کے نتیجے میں کیسے کیسے منحوس حوادث نے اسلامی معاشرے کا رخ نہ کیا؟(۱) خوارج اپنی اس کوتاہ نظری کے نتیجے

میں عملاً تمام مسلمانوں کو، مسلمان نہیں سمجھتے تھے۔ ان کے ذبیحہ کو حلال نہیں سمجھتے تھے۔ ان کا خون مباح سمجھتے تھے اور ان کے ساتھ شادی بیان نہیں کرتے تھے۔

____________________

۱) جن حوادث نے عالم اسلام کا رخ کیا ان میں مسلمانوں کوپہنچنے والے وہ روحی و معنوی زخم ہیں جو سب سے زیادہ توجہ کو اپنی طرف جلب کرتے ہیں۔ قرآن کریم نے دعوت اسلامی کی بنیاد بصیرت اور تفکر کو قرار دیا تھا اور خود قرآن نے لوگوں کے لیے اجتہاد اور ادراک عقل کا راستہ کھولا تھا۔

۱۴۰

( فلو لا نفر من کل فرقة طائفة لیتفقهوا فی الدین )

(۹:۱۲۲)

'' پس ان میں سے ہر گروہ سے کچھ لوگ نہیں نکلتے تاکہ وہ دین میں تفقہہ کریں؟،،

محض کسی چیز کے درک کرلینے کو ''اس چیز میں تفقہہ،، نہیں کہتے بلکہ گہری نظری اور بصیرت تفقہہ ہے۔

( ان تتقوا الله یجعل لکم فرقانا ) (۸:۲۹)

''اگر تم خدا سے ڈرتے ہو تو خدا تہارے دل میں ایک روشنی کو قرار دیتا ہے جس سے تم اچھے برے کی پہچان اور تمیز کرو۔،،

( والذین جاهدوا فینا لنهدینهم سبلنا ) (۲۹:۶۹)

''جو ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں ہم اپنی راہیں ان کو دکھا دیتے ہیں۔،،

خوارج نے قرآن کے اس طرز تعلیم کے بالکل برعکس جو چاہتا ہے کہ اسلامی فقہ ہمیشہ زندہ اور متحرک رہے، جمود اور ٹھہراؤکا آغاز کردیا۔ انہوں نے اسلامی معارف کو مردہ اور ساکن سمجھ لیا اور ظاہری شاکل اور صورت کو بھی اسلام کے متن میں گھسیڑ دیا۔

اسلام نے ہرگز شکل و صورت اور زندگی کے ظاہر پر توجہ نہیں دی ہے۔ اسلامی تعلیمات کی ساری توجہ روح و معنی اور اس راہ پر ہے جو انسان کو ان مقاصد اور معانی تک پہنچاتی ہے۔ اسلام نے مقاصد و معانی اور ان مقاصد تک پہنچنے کی راہ دکھانے کو اپنا دائرہ کار مقرر کر رکھا ہے اس کے علاوہ انسان کو آزاد چھوڑا ہے اور یوں تمدن ارو ثقافت کے پھیلاؤ سے کسی قسم کے تصادم سے پرہیز کرتا ہے۔

۱۴۱

اسلام نے کوئی مادّی ذریعہ یا کوئی ظاہری شکل نہیں پائی جس کو ''تقدّس،، کامقام حاصل ہو اور مسلمان اس شکل اور ظاہر کی حفاظت کو اپنا فرض جان لے۔ اس طرح علم اور تمدن کی توسیع کے مظاہرے کے ساتھ تصادم سے پرہیز ان اسباب میں سے ایک ہے جس نے اس دین کو زمانے کے تقاضوں کے ساتھ منطبق کرنا آسان بنا دیا ہے اور اس کی ابدی بقاء میں سب سے بڑی رکاوٹ کو ختم کردیا ہے۔ یہ تعقّل ار تدیّن میں توازن ہی ہے جس نے ایک طرف اصول کو ثبات اور پائداری بخشی ہے اور دوسری جانب اس کو ظاہری اشکال سے الگ کردیا ہے۔ کلیات کو واضح کردیا ہے اور ان کلیات کے گونا گون مظاہر ہیں اور یہ مظاہر بدلتے رہتے ہیں۔ لیکن حقیقت (اصول) کو تبدیل نہیں کرتے۔

لیکن مظاہر اور مصادیق پر حقیقت کی تطبیق خود اتنا آسان کام نہیں کہ ہر شخص کا کام ہو بلکہ ایک گہرے ادراک اور صحیح سمجھ بوجھ کا محتاج ہے اور خوارج کی فکر میں جمود تھا اور جو کچھ سن لیتے اس سے ماوراء کسی چیز کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے، اسی لیے امیر المؤمنین نے جس وقت ابن عباس کو ان سے بات چیت کے لیے بھیجا تو اس نے فرمایا: ''لا تخاصمھم بالقراٰن فان القرآن حمال ذو وجوہ تقول و یقولون و لکن حاججھم بالسنۃ فانہم لن یجدوا عنھا محیصا،، ''ان کے ساتھ قرآن سے بحث نہ کرو۔ کیونکہ قرآن بہت سے احتمالات اور توجیہات کو قبول کرتا ہے جو تم کہو یا وہ کہیں۔ بلکہ سنت اور پیغمبر کے ارشادات کے ساتھ ان سے بحث کرو اور استدلال کرو کہ صریح ہے اور اس سے فرار کا ان کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔،، یعنی قران کلیات ہے، بحث کا مقام پر وہ ایک چیز کو مصداق بنا لیتے ہیں اور استدلال کرتے ہیں تم کسی اور چیز کو، اور یہ صورت حال بحث و مباحثہ کے مقام پر قطعاً نتیجہ خیز نہی ہے۔ وہ اس قدر سمجھ بوجھ نہیں رکھتے کہ قرآن کی کسی حقیقت کو درک کرلیں اور اس کی اس کے صحیح مصداق کے ساتھ تطبیق کریں بلکہ ان کے ساتھ سنت کی بنیاد پر گفتگو کرو جو جزئی ہے او رمصداق کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہاں حضرت نے ان کی جمود فکری اور خشک مغری کی طرف اشارہ کیاہے دراں حالیکہ وہ دیندا رتھے جو تعقل اور تدّین میں فرق کی دلیل ہے۔

۱۴۲

خوارج صرف جہالت اور فکری جمود کی پیداوار تھے۔ وہ تجزیہ اور تحلیل کی قدرت نہیں رکھتے تھے اور کلی مصداق سے جدا نہیں کرسکتے تھے۔ وہ خیال کرتے تھے کہ اگر کسی خاش مقام پر حکمیت غلطی تھی تو پھر اس کی اساس ہی باطل اور غلط ہے حالانکہ یہ ممکن ہے کہ اس کی اساس محکم اور صحیح ہو لیکن کسی خاص مقام پر اس کا اجراء نارواء ہو لہٰذا تحکیم کی داستان میں ہم تین مرحلے دیکھتے ہیں:

۱ تاریخ شاہد ہے کہ علی علیہ سلام حکمیت پر راضی نہ تھے۔ معاویہ اور اس کے ساتھیوں کی تجویز کو فریب او ردھوکہ سمجھتے تھے اور اس بات پر ان کو سخت اصرار تھا اور ڈٹے ہوئے تھے۔

۲ کہتے تھے کہ اگر شورای تحکیم کی تشکیل ناگزیر ہے توابو موسیٰ ایک بے تدبیر شخص ہے اور اس کام کی صلاحیت نہیں رکھتا، ایک اہل آدمی کا انتخاب ہونا چاہیے اور خود ابن عباس یا مالک اشتر کو تجویز کرتے تھے۔

۳ حکمیت کا اصول بذاب خود صحیح ہے اور غلط نہیں ہے۔ یہاں بھی علی علیہ سلام کو اصرار تھا ''ابو العباس مبرد،، ''الکامل فی للغۃ و الادب،، ج ۲، ص ۱۳۴ میں کہتا ہے! علی علیہ سلام نے ذاتی طور پر خوارج کے ساتھ مباحثہ کیا اور ان سے کہا: تم خدا کی قسم کھا کر بتاؤ! کیا تم میں سے کوئی بھی میری طرح تحکیم کا مخالف تھا؟ وہ بولے: خدایا! تو گواہ ہے کہ نہ تھا۔ فرمایا: کیا تم نے مجھے مجبور نہ کیا کہ میں قبول کروں؟ بولے، خدایا! توگواہ ہے کہ ایسا ہی تھا۔ فرمایا: پس تم کیوں میری مخالفت کرتے ہو اور مجھے کیوں چھوڑ دیا ہے؟ بولے: ہم ایک بڑے گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں اور ہمیں تونہ کرنی چاہیے، ہم نے توبہ کرلی ہے۔ تم بھی توبہ کرلو۔ فرمایا: ''استغفر اللہ من کل ذنب، وہ بھی جو تقریبا چھ ہزار لوگ تھے لوٹ آئے اور کہنے لگے علی علیہ سلام نے توبہ کرلی ہے اب ہم منتظر ہیں کہ وہ حکم دیں اور ہم شام کی طرف کوچ کریں۔ اشعث ابن قیس ان کی خدمت میں آیا اور کہا: کہ لوگ کہتے ہیں آپ تحکیم کو گمراہی سمجھتے اور اس پر قائم رہنے کو کفر سمجھتے ہیں؟ حضرت نے منبر پر گئے، خطبہ پڑھا اور فرمایا: جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ میں تحکیم سے پھر گیا ہوں وہ جھوٹ بولتا ہے اور جو شخص اس کو گمراہی سمجھتا ہے وہ خو دگمراہ تر ہے۔ خوارج بھی مسجد سے باہر نکل آئے اور دوبارہ علی علیہ سلام کے خلاف شورش کی۔،،

۱۴۳

حضرت فرماتے ہیں کہ یہ مقام اشتباہ تھا۔ اس لیے کہ معاویہ اور اس کے ساتھی حیلہ کرنا چاہتے تھے اور چونکہ ابوموسیٰ نالائق آدمی تھا اور میں خود بھی شروع سے کہتا تھا۔ لیکن تم نے قبول نہ کیا لیکن یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ تحکیم کی اساس ہی باطل ہو۔

ایک طرف لوگ حکومت قرآن اور حکومت افراد میں فرق نہیں کرتے تھے۔ حکومت قرآن کو قبول کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی معاملے میں قرآن کا جو بھی حکم ہے اس پر عمل کیا جائے اور حکومت افراد کے قبول کرنے کامطلب یہ ہے کہ ان کے ذاتی نظریات اور آراء کی پیروی کی جائے اور قرآن جو خود بات نہیں کرتا اس لیے ضروری ہے کہ اس کے حقائق کو غور و فکر کے ساتھ حاصل کیا جائے اور ایسا کرنا بھی افراد کے بغیر ممکن نہیں۔ حضرت خود اس بارے میں فرماتے ہیں:

انا لم نحکم الرجال و انما حکمنا القراٰن و هٰذا القراٰن انما هو خط مسطور بین الدفتین لا ینتطق بلسان ولا بدله من ترجمان، و انما ینطق عنه الرجال و لما دعانا القوم الی ان نحکم بیننا القرآن لم نکن الفریق المتولی عن کتاب الله، وقد قال سبحانه ''فان تنازعتم فی شیء فردوه الی الله و الرسول،، فرده الی الله ان نحکم بکتابه، ورده الی الرسول ان نأحذ بسنته، فاذا حکم بالصق فی کتاب الله فنحن احق الناس به، و ان حکم بسنته رسول الله فنحن اولاهم به ۔ (نھج البلاغہ خطبہ نمبر ۱۲۵)

''ہم نے لوگوں کو حاکم قرار نہیں دیا ہے بلکہ قرآن کو حاکم قرار دیا ہے اور یہ قرآن جلد کے درمیان تحریریں ہیں، یہ زبان سے بات نہیں کرتا اور بیان کرنےوالے کا محتاج ہے لوگ ہیں جو اس کے بارے میں بات کرتے ہیں اور چونکہ اہل شام نے یہ چاہا کہ ہم قرآن کو حاکم قرار دیں، ہم ایسے لوگ نہ تھے جو قرآن سے روگردانی کرتے جبکہ خدا خود قرآن میں فرماتا ہے:

''اگر تم کسی چیز کے بارے میں کوئی نزاع رکھتے ہو تو اس کو خدا اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو،،

۱۴۴

خدا کی طرف رجوع کرنے کامطلب یہ ہے کہ ہم اس کی کتاب کو حاکم قرار دیں اور اس کی کتاب کے مطابق حکم کریں اور پیغمبر کی طرف رجوع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی سنت کی پیروی کریں اور اگر خدا کی کتاب کے مطابق صحیح فیصلہ کیا جائے تو ہم اس کے سب سے زیادہ سزاوار ہیں اور اگر اس کے رسول کی سنت کے مطابق فیصلہ ہو تو ہم اس کے لیے اولیٰ ہیں۔،،

یہاں ایک اشکال ہے کہ شیعہ اعتقاد اور امیر المؤمنین (نہج البلاغہ خطبہ ۲ آخری حصہ) کے مطابق اسلام میں حکومت اور امامت ''انتصابی،، اور مطابق ''نصّ،، ہے پس حضرت نے کیونکر حکمیّت کو تسلیم کرلیا اور بعد میں بھی اس کا سختی سے دفاع کیا؟

اس اشکال کا جواب ہم امام کے کلام کے ذیل میں ہی بخوبی سمجھ سکتے ہیں، کیونکہ جیسا کہ فرماتے ہیں اگر قرآن میں صحیح تدبر کیا جائے اور اس کے مطابق صحیح فیصلہ کیا جائے تو اس کا نتیجہ ان کی امامت اور خلافت کے علاوہ دوسرا ہو ہی نہیں سکتا اور یہی حال سنت پیغمبر کا بھی ہے۔

۱۴۵

اسلامی فرقوں کا ایک دوسرے پر اثر:

خوارج کے حالات کا مطالعہ ہمارے لیے اس نقطہئ نظر سے قیمتی ہے کہ ہم سمجھ لیںکہ انہوں نے سیاسی لحاظ سے ،عقیدہ و سلیقہ کے لحاظ سے اور فقہ و احکام کے لحاظ سے اسلامی تاریخ پر کیا اثر چھوڑا ہے۔

مختلف فرقے اور گروہ ہر چند رسوم کے چوکھٹے میں ایک دوسرے سے دور ہیں لیکن کبھی ایک مذہب کی روح دوسرے مذہب میں حلول کرجاتی ہے اور وہ مذہب درحالیکہ دوسرے کا مخالف ہے، اس کی روح اور معنی کو قبول کرتا ہے آدمی کی طبیعت (معنی و مفہوم) چراتی ہے کبھی ایسے لوگ پیدا ہوتے ہیں جو مثلا سنی ہیں لیکن روح اور معنی کے اعتبار سے شیعہ ہیں اور کبھی اس کے برعکس کبھی کوئی شخص طبیعتاً شریعت اور اس کے ظاہر کا پابند ہوتا ہے لیکن روح کے اعتبار سے صوفی ہوتا ہے اور کبھی اس کے برعکس۔ اسی طرح بعض لوگ بظاہر اور رسوم کے اعتبار سے ممکن ہے شیعہ ہوں لیکن روحاً اور عملاً وہ خارجی ہوں۔ یہ بات افراد پر بھی صادق آتی ہے اور امتوں اور ملتوں پر بھی۔

جب مختلف فرقے ایک ہی معاشرے میں رہتے ہوں ہر چند ان کے رسوم محفوظ ہوں، لیکن ان کے عقائد اور طریقے ایک دوسرے میں سرایت کرجاتے ہیں۔ مثلاً ۔۔۔ طبل وترم بجائے کی رسمیں قفقاز کے راسخ العقیدہ لوگوں کے توسط سے ایران میں سرایت کرگئیں اور چونکہ لوگوں کے جذبات ان کو قبول کرنے کے لےےے آمادگی رکھتے تھے، اس لیے بجلی کی طرح ہر جگہ پھیل گئیں۔

اس بناء پر مختلف فرقوں کی روح پر غور کرنا چاہیے۔ کبھی کوئی فرقہ حسن ظن اور ''ضع فعل اخیک علی احسنہ،، کی پیداوار ہوتا ہے ۔ مثلاً سنی جو شخصیتوں کے ساتھ حسن ظن کی پیداواری ہیں اور ایک فرقہ ایسا ہے جو ایک خاص نقطہء نظر اور افراد شخصیات کی بجائے اصول اسلامی کو اہمیت دینے کے نظریئے کو پیداوار ہے۔ ایسے لوگ قہراً تنقیدی نظر کے حامل ہوں گے جیسے صدر اول کے شیعہ۔ ایک فرقہ باطن، روح اور باطن کی تاویل کو اہمیت دینے کے نقطہء نظر کی پیداوار ہوگا جیسے صوفیاء اور ایک فرقہ تعصب اور جمود کی پیداوار جیسے خوارج۔

۱۴۶

جب ہم فرقوں کی روح اور ان کے ابتدائی تاریخی عوامل کو پہچان لیں تو بہتر طور پر فیصلہ کرسکیں گے کہ بد کی صدیوں میں کون سے عقائد ایک فرقے سے دوسرے فرقے تک پہنچے اور اپنے رسوم اور ناموں کے چوکھٹے میں ہونے کے وصف، ان کی روح کو قبول کرلیا ہے۔ اس اعتبار سے عقائد اور افکار زبانوں (نعتوں) کی مانند ہیں کہ بغیر کسی شعوری کوشش کے ایک قوم کی زبان کے الفاظ دوسری قوم کی زبان میں سرایت کرجاتے ہیں جیساکہ ایران کی فتح کے بعد مسلمانوں کے ذریعے عربی زبان کی الفاظ فارسی زبان میں وارد ہوگئے۔ اسی طرح عربی اور فارسی زبانوں میں ترکی زبان کی تاثیر ہے۔ مثلاً متوکل کے دور کی ترکی اور سلجوقیوں اور مغلوں کے دور کی ترکی اور یہی حال دنیا کی ساری زبانوں کا ہے ار اسی طرح ذوق اور سلیقے بھی ہیں۔

خوارج کے طرز تفکر اور ان کے افکار کی روح ___ فکری جود اور تعقل کو تدین سے علیحدہ کرنا ___ نے تاریخ کے دھارے میں مختلف صورتوں سے اسلامی معاشرے کے اندر رخنہ پیدا کیا ہے۔ اگرچہ تمام اسلامی فرقے ان کو اپنا مخالف سمجھتے پیں لیکن خارجیت کی روح کو پم ان کے طرز فکر میں (کار فرما) دیکھتے ہیں اور یہ اس کے نتیجے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے جو ہم نے کہا ہے کہ آدمی کی طبیعت (معنی اور مفہوم کو) چراتی ہے اور باہمی میل جول نے چرانے کے اس عمل کو آسان کردیا ہے۔

کچھ خارجی مسلک رکھنے والے ہر دور میں رہے ہیں اور ہیں، جن کا وطیرہ ہر نئی چیز کا مقابلہ کرنا ہے حتی کہ وسائل زندگی کو جن کے بارے میں ہم نے کہا ہے کہ اسلام میں کسی مادی وسیلہ یا ظاہری شکل کو کوئی تقدس کا مقام حاصل نہیں ہے، وہ ان کو تقدس کا رنگ دیتے ہیں اور ہر نئے وسیلے سے استفادہ کرنے کو کفر اور زندقہ سمجھتے ہیں۔

اسلام کے اعتقادی، علمی اور اسی طرح فقہی مکابت میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ایسے مکاتب ہیں جو تعقل اور تدین میں علیحدگی کی روح کی پیداوار ہیں اور ان کا مکتب جارجیت کی فکر کا صحیح معنوں میں جلوہ گاہ ہے۔ کسی حقیقت کے کشف کی راہ میں یا کسی فرعی قانون کے استخراج کی راہ میں انہوں نے عقل کو مکمل طور پر مسترد کررکھا ہے اور اس کی پیروی کو بدعت اور بے دینی کہتے ہیں حالانکہ قرآن نے بہت سی آیات میں انسان کوعقل کی طرف بلایا اور انسانی بصیرت کو دعوت الہی کا نگہبان قرار دیا ہے۔

۱۴۷

معتزلہ جو دوسری صدی ہجری کے اوائل میں وجود میں آئے تھے ___اور ان کی پیدائش کفر و ایمان کے معنی اور تفسیر کے اوپر بحث اور کاوش کے نتیجے میں ہوئی کہ آیا گناہ کبیرہ کا ارتکاب موجب کفر ہے یا نہیں اور یوں قہراً ان کی پیدائش خوارج کے ساتھ مربوط ہے ___ ایسے لوگ تھے جو کسی قدر آزاد فکر کرنا چاہتے تھے اور ایک عقلی زندگی کو وجود میں لانا چاہتے تھے، اگر چہ وہ علم کے مبادی اور مبانی سے بے بہرہ تھے تاہم اسلامی مسائل کو کسی حد تک آزادانہ غور و فکر اور تدبر کا موضوع قرار دیتے تھے، احادیث پر کسی حد تک تنقید کرتے تھے صرف ان آراء اور نظریات کی پیروی کرتے تھے جن پر ان کے اپنے عقیدے کے مطابق تحقیق کی گئی ہو یا اجتہاد کیا گیا ہو۔

یہ لوگ شروع سے ہی اہل حدیث اور ظاہر پرستوں کی مخالفت اور مقاومت سے دوچار تھے۔ وہ لوگ جو صرف حدیث کے ظواہر کوحجت جانتے تھے اور قرآن اور حدیث کی روح سے کوئی کام نہ رکھتے تھے، وہ عقل کے صریح حکم کی قدر و قیمت کے قائل نہ تھے۔ جس قدر معتزلہ فکر و اندیشہ کی قیمت کے قائل تھے یہ صرف ظواہر کی اہمیت کے اتنے ہی قائل تھے۔

اپنی ڈیڑھ سو سالہ زندگی میں معتزلہ کو عجیب قیاسات ( NOTIONS ) سے واسطہ پڑا یہاں تک کہ بالآخر اشعری مذہب وجود میں آیا اور تفکر اور اندیشہ ہائے عقلی اور فلسفیانہ طرز فکر کے سرے سے منکر ہوگئے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ مسلمانوں پر فرض ہے کہ جو روایات ان تک پہنچی ہیں ان کی ظاہری تعبیر پر آنکھیں بند کر کے عمل کریں اور معنی کی گہرائی میں تدبر اور تفکر نہ کریں ہر قسم کا سوال و جواب اور چون و چرا بدعت ہے۔ امام احمد بن حنبل جو اہلسنت کے ائمہ اربعہ میں سے ہےں معتزلہ کے طرز فکر کی سخت مخالفت کرتے تھے جس کے نتیجے میں ان کو قید میں ڈال دیا گیا اور کوڑوں کی سزا دی گئی لیکن وہ اپنی مخالفت پر قائم رہے۔ بالآخر اشعری کامیاب ہوگئے اور انہوں نے عقلی طرز فکر کی بساط لپیٹ دی اوران کی کامیابی سے عالم اسلام کی عقلی زندگی پر کاری ضربلگائی۔ اشاعرہ، معتزلہ کو اصحاب بدعت سمجھتے تھے ایک اشعری شاعر اپنے مذہب کی کامیابی کے بعد کہتا ہے:

۱۴۸

ذهبت دولة اصحاب البدع

و وهی حبلهم ثم انقطع

و تداعی بانصراف جمعهم

حزب الا بلیس الذی کان جمع

هل لهم یا قومفی بدعتهم

من فقیه او امام یتبع

(المتزلہ تالیف زہدی جاء اللہ ص ۱۸۵)

''صاحبان بدعت کی قددت کا زمانہ ختم ہوگیا۔ ان کی رسی ڈھیلی پڑگئی پھر ٹوٹ گئی۔ اور وہ گروہ جس کو شیطان نے اکٹھا کردیا تھا۔ انہوں نے ایک دوسرے کو پکارا کہ گروہ کو منتشر کردیں۔ اے ہم مسلکو! کیا اپنی بدعتوں میں ان کا کوئی قابل تقلید فقیہ یا امام تھا؟،،

''اخباریوں،، کا مکتب بھی جو ایک شیعہ مکتب فقہ ہے اور گیارہو ںاور بارہوں صدی ہجری میں عروج پر تھا۔ اہلسنت کے فرقوں ظاہریوں اور اہل حدیث کے بہت قریب ہے۔ فقہی نقطہ ء نظر سے ہر دو مکتب ایک ہیں اور ان کا واحد اختلاف احادیث کی پیروی کے بارے میں ہے ۔۔۔ یہ بھی تعقل اور تدین میں فرق کی ایک قسم ہے۔

اخباریوں نے عقل کو مکمل طور پر معطل کر رکھا ہے اور متون سے اسلامی احکام کے استخراج کے سلسلے میں عقل کی قمیت اور حجیت سے مکمل انکار کرتے ہیں اور اس کی پیروی کو حرام سمجھتے ہیں اور اپنی تالیفات میں اصولیئین ۔۔۔ ایک اور شیعہ مکتب فقہ کے حامی ۔۔۔ پر سخت برہم ہوئے ہیں اور کہتے ہیں کہ صرف کتاب و سنت حجت ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حجیت کتاب بھی تفسیر سنت و حدیث کی راہ سے ہے اور حقیقت میں قرآن کو بھی انہوں نے حجیت سے گرادیا ہے اور صرف حدیث کے ظاہر کو پیروی کے قابل سمجھتے ہیں۔

۱۴۹

اس وقت ہم اسلام میں مختلف طرز فکر کاجائزہ لینے اور ان مکاتب کے پیروکاوں پر بحث کرنے کے متحمل نہیں ہیں جو دین کو عقل سے جدا کرتے ہیں جو خارجیت کی روح ہے۔ اس بحث کا دامن بہت وسیع ہے لیکن ہمارا مقصد صرف یہ اشارہ کرنا تھا کہ مختلف فرقوں کا ایک دوسرے پر کتنا اثر ہے اور ی ہکہ اگر چہ خارجیت زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی لیکن اس کی روح ہر اسلامی دور اور ہر صدر میں جلوہ گر رہی ہے۔ آج بھی دنیائے اسلام کے چند روشن فکر اور اہل قلم ان کے طرز فکر کو جدید اور عصری زبان میں لے آتے اور اس کوایک قابل توجہ فلسفے کے ساتھ مربوط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

قرآن کو نوک نیزہ پر بلند کرنے کی سیاست

''قرآن کو نوک نیزہ پر بلند کرنے کی سیاست،، تیرہ صدیوں سے مسلمانوں میں کم و بیش رائج ہے۔ خاص طور پر جب مقدس مآب اور ظاہر پرست لوگوں کی تعداد زیادہ ہو جائے، زہد و تقویٰ کی ظاہر داری کا بازار گرم ہو، موقعہ پرست لوگ قرآن نوک نیزہ پر بلند کرنے کی سیات رائج کردیتے ہیں۔ یہاں سے جو سبق حاصل کیا جانا چاہیے وہ یہ ہے۔

الف:۔ پہلا سبق یہ ہے کہ جب بھی جاہل، نادان اور بے خبر لوگ پاکیزگی اور تقویٰ کے مظہر سمجھے جانے لگیں اور لوگ ان کو باعمل مسلمان کا نمونہ ( SYMBOL ) سمجھِنے لگیں اس وقت چالاک مفاد پرستوں کو اچھا موقعہ ہاتھ آجاتا ہے ۔ یہ چالاک لوگ ان کو اپنے مقاصد کے لیے آلہئ کار بنا لیتے ہیں اور ان کو حقیقی مصلحین کے افکار کی راہ میں مضبوط رکاوٹ بنالیتے ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ اسلام دشمن عناصر باقاعدہ اس ذریعے سے فائدہ اٹھاتے ہیں یعنی اسلام کی طاقت کو انہو ںنے خ ود اسلام کے خلاف استعمال کیا ہے۔ مغربی استعمار کو اس ذریعے سے فائدہ اٹھانے کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ اپنے مفاد کے لیے یہ مسلمانوں کے درمیان جھوٹے جذبات ابھارنا اور خاص طور پر فرقے پیدا کرکے فائدہ حاصل کرتا ہے۔ کس قد شرم کی بات ہے کہ ایک دل جلا مسلمان بیرونی اثر و نفوذ کو ختم کرنے کے لیے اٹھے اور جن لوگوں کو وہ نجات دینا چاہتا ہے ،وہی دین اور مذہب کے نام پر اس کے لےے سد راہ بن جائیں جی ہاں! اگر لوگ عام لوگ جاہل اور بے خبر ہوں، تو منافق خود اسلام کے مورچے سے اپنے لیے استفادہ کریں گے۔

۱۵۰

ہمارے اپنے ایران میں جہاں لوگ اہلبیت اطہار کی ولایت اور دوستی پر فخر کرتے ہیں، کچھ منافق اہلبیت کے مقدس نام پر اور ''ولاء اہلبیت،، کے مقدس مورچے کے نام پر قرآن، اسلام اور اہل بیت کے خلاف اور غاصب یہودیوں کے مفاد میں مورچے تعمیر کرتے ہیں (یہ قبل از انقلاب اسلامی کی صورت حال کی طر ف اشارہ ہے۔ مترجم) اور یہ اسلام، قرآن، پیغمبر اکرم اور اہلبیت کرام پر سب سے زیادہ گھناؤنا ظلم ہے۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے:

انی ما اخاف علی امتی الفقر و لکن اخاف علیهم سوء التدبیر ___ '' میں اپنی امت کے لیے فقر و تنگدستی کی وجہ سے پریشان نہیں ہوں بلکہ امت کی جو چیز مجھے پریشان کرتی ہے وہ کچج فکری ہے۔ فکر کا افلاس میری امت کے لیے جتنا خطرناک ہے اقتصادی افلاس اتنا خطرناک نہیں ہے۔،،

ب:۔دوسرا سبق یہ ہے کہ ہمیں یہ کوشش کرنی چاہیے کہ قرآن سے استنباط کرنے کا ہمارا طریقہ صحیح ہو۔ قرآن اسی صورت میں رہنما اور ہادی ہے کہ اس پر صحیح غور و فکر کیا جائے، اس کی عالمانہ تفسیر کی جائے اور اہل قران جو علم میں قرآن کے راسخین ہیں، کی رہنمائی سے فائدہ اٹھایا جائے۔ جب تک قرآن سے استنباط کرنے کا ہمارا طریقہ صحیح نہ ہو اور جب تک ہم قرآن سے استفادہ کرنے کی راہ اور اس کا اصول نہ سیکھیں ہم اس سے بہرہ مند نہیں ہوسکتے۔ مفاد پرست یا نادان لوگ کبھی قرآن کو پڑھتے ہیں اور بائل مطلب کے پیچھے چلتے ہیں۔ جیسا کہ آپ نے نہج البلاغہ کی زبان سے سنا کہ وہ حق بات کہتے ہیں اور اس سے باطل مراد لیتے ہیں یہ قرآن پر عمل کرنا اور اس کا احیاء نہیں ہے۔ بلکہ یہ قرآن کو مار ڈالنا ہے۔ قرآن پر عمل تب ہے جب اس سے صحیح مطلب درک کیا جائے۔

۱۵۱

قرآن ہمیشہ مسائل کو اصول اور کلیہ کی صورت میں پیش کرتا ہے لیکن کلی جزئی پر تطبیق صحیح فہم اور ادراک کے اوپر منحصر ہے۔ مثلاً قرآن میں کہیں یہ نہیں لکھا ہے کہ فلان روز علی علیہ سلام اور معاویہ کے درمیان جنگ ہوگی اور یہ کہ حق علی علیہ سلام کے ساتھ ہے، قرآن میں صرف اس قدر آیا ہے کہ :

( و ان طائفتان من المومنین اقتتلو فاصلحوا بینهما فان بغت احدٰهما علیٰ الاخرٰی فقاتلوا التی تبغی حتی تفیئی الی امر الله )

(سورہ حجرات آیت نمبر ۹)

''اگر مؤمنون کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں، تو ان کے درمیان صلح کرادو اور اگر ان میں سے ایک دوسرے پر سرکشی اور ظلم کرے تو جو ظالم ہے اس کے ساتھ جنگ کرو، یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع کرلے۔،،

یہ قرآن اور اس کا طرز بیان ہے لیکن قرآن نہیں کہتا کہ فلاں جنگ میں فلاں حق پر ہے اوردوسرا باطل پر؟! قرآن ایک ایک کا نام نہیں لیتا۔ وہ نہیں کہتا کہ چالیس سال بعد یا اس کے بعد معاویہ نام کا ایک آدمی پیدا ہوگا اور علی علیہ سلام کے ساتھ جنگ کرے گا تم علی علیہ سلام کی طرف سے جنگ کرو اورجزئیات پر بحث ہونی بھی نہیں چاہےے قرآن کے ہیے ضروری نہیں ہے کہ موضوعات کو گن کر حق اور باطل پر انگلی رکھ کے بتادے ایسا ممکن نہیں ہے۔ قرآن ہمیشہ رہنے کے لیے آیا ہے پس اسے چاہیے کہ اصول اور کلیات کو واضح کرے تاکہ جب بھی کسی زمانے میں کوئی باطل حق کے بالمقابل کھڑا ہوتو لوگ ان کلیات کو معیار بنا کر عمل کریں۔یہ لوگوں کا اپنا وظیفہ ہے کہ اصل دکھا دینے (وان طائفتان من المؤمنین اقتلوا ۔۔۔ الخ) کے بعد اپنی آنکھین کھلی رکھیں اور سرکش اور غیر سرکش گروہ میں تمیم کریں اور اگر سرکش گروہ صحیح معنوں میں سرکشی سے ہاتھ اٹھالے تو قبول کریں اور اگر ہاتھ نہ اٹھالے اور حیلہ کرے اور صرف اس لیے کہ اپنے آپ کو شکست سے بچائے تاکہ نیا حملہ کرنے کا موقعہ پالے اور پھر سرکشی کرنے کے لیے اس آیت کا جس میں خدا فرماتا ہے:

۱۵۲

( فان فاء ت فاصلحوا بینهما )

دامن تھام لے، تو اس کے حیلہ کو قبول نہ کریں۔

ان تمام چیزوں کی تشخیص کرنا خود لوگوں کا کام ہے۔ قرآن چاہتا ہے کہ مسلمان عقلی اور اجتماعی طور پر بالغ ہوں اور اسی عقلی بلوغت کے ساتھ مرد حق اور غیر مرد حق میں تمیز کریں۔ قرآن اس لیے نہیں آیا ہے کہ ہر وقت لوگوں کے ساتھ اس طرح رویہ رکھے جس طرح نابالغ بچے کے ساتھ اس کا ولی عمل کرتا ہے، زندگی کی جزئیات کو کسی کے سرپرست کی حیثیت سے انجام دے اور ہر خاص موضوع کی علامت اور محسوس اشاروں سے تعین کرے۔

بنیادی طور پر اشخاص کی پہچان، ان کی صلاحیتوں، اہلیتوں اور اسلام اور اسلام کے حقائق کے ساتھ ان کی وابستگی کو پرکھنا بذات خود ایک فریضہ ہے اور غالباً ہم اس اہم فریضے سے غافل ہیں۔ علی علیہ السّلام فرماتے تھے:

''انکم لن تعرفوا الرشد حتی تعرفو الذی ترکه،،

(نہج البلاغہ خطبہ ۱۴۷)

''تم ہرگز حق کو نہیں پہچان سکتے اور راہ راست پر نہیں پہنچ سکتے جب تک اس شخص کو نہ پہچانو جس نے راہ راست کو چھوڑ دیا ہے۔،،

یعنی صرف اصول اور کلیات کی شناخت کا کوئی فائدہ نہیں ہے جب تک مصداق اور جزئیات سے ان کی تطبیق نہ ہو کیونکہ ممکن ہے افراد یا اشخاص کے بارے میں غلط فہمی کی وجہ سے یا موضوع کو نہ پہچاننے کی وجہ سے تم اسلام، حق اور اسلام کے رسوم کے نام پر اسلام اور حقیقت کے خلاف اور باطل کے مفاد میں کام کر رہے ہو۔

قرآن میں ظلم، ظالم، عدل اور حق کا ذکر آیا ہے لیکن دیکھناچاہیے کہ ان کے مصداق کون ہےں؟ کہیں ہم کسی ظلم کو حق، اور کسی حق کو ظلم نہ سمجھ رہے رہوں؟ اور پھر انہی کلیات کے تحت اور اپنے خیال میں قرآن کے حکم پر عدالت اور حق کو ختم نہ کر رہے ہوں؟

۱۵۳

نفاق کے ساتھ جنگ کرنے کی ضرورت:

تمام جنگوں میں سب سے مشکل نفاق کے ساتھ جنگ کرنا ہے کیونکہ یہ اسیے شاطروں کے ساتھ جنگ ہے جو بیوقوفوں کو آلہء کار قرار دیتے ہیں۔ یہ جنگ کفر کے ساتھ جنگ کرنے سے کہیں زیادہ مشکل ہے کیونکہ کفر کے ساتھ جنگ میں مقابلہ ایک واضح، ظاہر اور بے پردہ معاملے سے ہے لیکن نفاق کے ساتھ جنگ کرنا ایک پوشیدہ کفر کے ساتھ جنگ ہے۔ نفاق کے دو چہرے ہوتے ہیں ایک ظاہری چہرہ جو اسلام اور مسلمانی کا ہے اور ایک چہرہ باطن کا جو کفر اور شیطنت ہے اور اس کا پچاننا عام لوگوں اور معمولی افراد کے لےے بہت دشوار ہے اور بسا اوقات ناممکن ہے۔ اس طرح نفاس کے ساتھ جنگ کرنا غالباً شکست کھان کیونکہ عام لوگوں کے ادراک کی لہریں ظاہر کی سرحد سے آگے نہیں بڑھتیں اور پوشیدہ چیزوں کو روشن نہیں کرتیں اور اتنی گہری نہیں ہوتی کہ باطن کی گہرائیوں میں اتر جائیں۔ امیر المومنین اس خط میں محمد ابن ابی بکر کولکھا گیا، فرماتے ہیں:

''ولقد قال لی رسول الله! انی لا اخاف علی امتی مومنا ولا مشرکاء اما المؤمن فیمنعه الله باایمانه و اما المشرک فیقمعه الل ه بشرکه و لکنی اخاف علیکم کل منافق الجنان عالم اللسان، یقول ما تعرفون و یفعل

۱۵۴

ماتنکرون ۔،،(۱)

''پیغمبر نے مجھ سے کہا میں اپنی امت پر مومن اور مشرک سے نہیں ڈرتا کیونکہ مؤمن کو خدا اس کے ایمان کی وجہ سے باز رکھتا ہے اور مشرک کو اس کی سرکشی کی وجہ سے رسوا کرتا ہے لیکن تمہارے اوپر منافق دل اور دانا زبان سے ڈرتاہوں کیونکہ وہ وہی کہتا ہے جو تم پسند کرتے ہو اور جسے تم ناپسند کرتے ہو اسے کرگزرتا ہے۔،،اس مقام پر رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نفاق اور منفاق کی طرف خطرے کا اعلان کرتے ہیں کیونکہ امت کے عام لوگ بے خبر اور ناآگاہ ہیں اور ظاہر داریوں سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔(۲)

____________________

۱) نہج البلاغہ نامہ ۲۷---- (۲) اسی لیے ہم اسلامی تاریخ کے دھارے میں دیکھتے ہیں کہ جب بھی کسی مصلح نے لوگوں، ان کی اجتماعی و دینی زبوں حالی کی اصلاح کی خاطر قیام کیا ہے اور مفاد پرستوں اور ظالموں کا مفاد خطرے میں پڑا ہے انہوں نے فوری طور پر تقدس کا لبادہ پہن لیا ہے اور تقویٰ اور دین کی ظاہر داری سے کام لیا ہے ۔ عباسی خلیفہ، مامون الرشید جس کی عیاشیاں اور فضول خرچیاں حکمرانوں کی تاریخ میں مشہور و معروف ہیں جب وہ علویوں کو دیکھتا ہے کہ انقلاب کی کوشش کر رہے ہیں فوراً شاہی جبہ اتار پھینکتا اور پیوند لگے ہوئے کپڑے پہن کر اجتماعات میں آنکتا ہے۔ ابو حنیفہ اس کا فی جس نے اس کے درہم و دینار سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا ہے مامون کے اس کام کو سراہتا ہے اور تعریف میں کہتا ہے:

مامون کز ملوک دولت اسلام ---ہگز چون اوند ید تازی ودہقان

مامون کہ اسلامی ممالک کے بادشاہوں میں اس کی طرح کوئی نہیں دیکھا گیا، بد اور دہقان کی طرح سادہ

جبہ ای از حزبداشت برتن و چندان ---سودہ و فرسودہ گشت بروی و خلقان

کسی وت اس کا ریشمی جبہ تھا جو اس کے دوش پر ہوتا تھا اور بہت نرم ونازک تھا مگر اب وہ پرانا ہوگیا اور پھٹ چکا ہے

مرند مارا از آن فزود تعجب ---کردند از وی سوال از سبب آن

ہم نشینوں کو اس پر سخت تعجب ہوا انہو ںنے سوال کیا کہ اس کا سبب کیا ہے

گفت ز شاہان حدیث ماند باقی ---در عرب و در عجم نہ توزی و کنان

اس نے کہا: بادشاہوں کی ایک بات باقی رہنے دو عرب و عجم میں کہ اس کے پاس کوئی سلاہوا سن کا کپڑا نہ تھا

۱۵۵

اور دوسروں میں بھی ہر ایک نے ''قرآن کو نیزہ پر بلند کرنے کی،، تخریبی گھسی ٹی سیاست کا سہارا لیا اور (مصلحین کی) تمام زحمتوں اور قربانیوں کی سرکوبی کی اور انقلابات کو ابتداء ہی میں کچل دیا اور یہ لوگوں کی جہالت اور نادانی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے کہ وہ رسوم اور حقائق کے درمیان تمیز نہیں کرتے اور اس طرح اپنے اوپر انقلاب اور اصلاح کی راہ بند کرتے ہیں ارو اس وقت بیدار ہوتے ہیں جب تمام اسباب بے اثر ہوجائیں اور پھر نئے سرے سے سفر شروع کریں۔

یاد رکھنا چاہیے جتنے احمق لوگ زیادہ ہوں گے نفاق کا بازار تانا ہی گرم ہوگا۔

احمق اور حماقت سے جنگ کرنا نفاق کے ساتھ جنگ کرنا ہے کیونکہ احمق منافق کا آلہئ کار ہوتا ہے لہذالازمی طورپر احمق اور حماقت کے ساتھ جنگ کرنا، منافق سے اسلحہ چھین لینے اور منافق کے ہاتھ سے تلوار چھین لینے کے مترادف ہے۔

علی علیہ سلام کی سیرت سے جو عظیم نکتے ہمیں ملتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس طرح کی جنگ کسی خاص جمعیت کے ساتھ مختص نہیں ہے بلکہ جہاں بھی کچھ مسلمان اور وہ جو وضع دینی رکھتے ہیں اور غیروں کی ترقی اور استعماری مقاصد کو آگے بڑھانے میں آلہئ کار قرار پائیں اور استعمار گر اپنے مفادات کو بچانے کے لیے ان کو آگے کرکے ان کو اپنے لیے ڈھال بنائیں اور ان کے ساتھ جنگ کرنا ان ڈھال بننے والوں کو ختم کیا جائے تاکہ راہ کی رکاوٹ ختم ہو جائے اور دشمن کے قلب پر حملہ کیا جاسکے خوارج کو بگاڑنے کےلئے معاویہ کی کوشش شاید کامیاب تھیں اسی لیے اس روز بھی معاویہ اور اسی قبیل کے کچھ لوگ جیسے اشعث ابن قیس وغیرہ تخریب کار عناصر نے خوارج کو ڈھال بنا رکھا تھا۔

خوارج کو داستان ہم کو یہ حقیقت سمجھا دیتی ہے کہ ہر انقلاب میں پہلے ڈھال بننے والے کو نابود کر دینا چاہیے اور حماقتوں سے جنگ کرناچاہیے جس طرح علی علیہ سلام نے تحکیم کے واقع کے بعد پہلے خوارج سے نمٹ لیا اس کے بعد معاویہ کا تعاقب کرنا چاہا۔

۱۵۶

علی علیہ سلام ___ سچے امام اور پیشوا

وجود علی علیہ سلام، تاریخ و سیرت عی، خلق و خوی علی علیہ سلام، رنگ و بوئے علی علیہ سلام، سخن وگفتگوئے علی علیہ سلام سراسر درس ہے، سرمشق ہے، تعلیم ہے اور رہبری ہے۔

جس طرح علی علیہ سلام کے جاذبے ہمارے لئے سبق آموز اور درس ہیں ان کے دافع بھی اسی طرح ہیں ہم معمولاً علی کی زیارتوں اور اظہار ادب کے سارے پیرایوں میں دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم تمہارے دوست کے دوست اور تمہارے دشمن کے دشمن ہیں اس جملے کی دوسری تعبیر یہ ہے کہ ہم اس نقطے کی طرف جا رہے ہیں جو تمہارے جاذبے کے مدار میں قرار پاتا ہے اور تم جذب کرتے ہو اور اس نقطے سے دوری اختیار کرتے ہیں جس کو تم دفع کرتے ہو۔

جو کچھ ہم نے گزشتہ بحثوں میں کہا ہے وہ علی علیہ سلام کے جاذبہ اور واقعہ کا ایک گوشہ تھا ، خاص طور پر دافعہ علی کے بارے میں ہم نے اختصار سے کام لیا ہے لیکن جو کچھ ہم نے کہا ہے اس سے یہ معلوم ہوا کہ علی نے دو گروہوں کو سختی سے دفع کیا ہے۔

۱: شاطر منافق

۲: زاہدان امق

ان کے شیعہ ہونے کے دعویداروں کیلئے یہی دو سبق کافی ہیں کہ وہ اپنی آنکھیں کھولیں اور منافقوں کے فریب میں نہ آئیں۔ وہ تیز نظر رکھنے والے بنیں اور ظاہر بینی کو چھوڑ دیں کہ آج جامعہ تشیع ان دو مصیبتوں میں سخت مبتلا ہے۔

والسلام علیٰ من اتبع الهدیٰ

اختتام ترجمہ ۱۳ ستمبر ۱۹۸۵ء بروز جمعہ

بوقت ۴۰ ۔ ۱۲ ظہر

۱۵۷

فہرست

پیش لفظ ۴

مقدمہ ۸

قانونِ جذب و دفع ۸

انسانی دنیا میں جاذبہ و دافعہ ۹

جذب و دفع کے سلسلے میں لوگو ں کے درمیان فرق ۱۲

علی علیہ السّلام۔ دوہری قوت والی شخصیت ۲۱

جاذبہئ علی علیہ السلام کی قوت ۲۴

طاقت ور جاذبے ۲۴

تشیّع ۔ مکتب عشق و محبت ۳۱

اکسیرِ محبت ۳۴

حصار شکنی ۴۳

عشق۔ تعمیر ہے یا تخریب ۴۵

اولیاء سے محبت و ارادت ۵۲

مؤمنین کی آپس میں محبت ۵۵

معاشرے میں محبت کی قوت ۵۸

تہذیبِ نفس کا بہترین وسیلہ ۶۲

تاریخ اسلام سے مثالیں ۷۴

دوسری مثال ۷۶

ایک اور مثال: ۸۰

ایک مثال اور: ۸۳

۱۵۸

علی علیہ سلام کی محبت قرآن و سنت میں ۸۷

طہارت و پاکیزگی کا خزینہ: ۸۸

جاذبہئ علی علیہ سلام کا راز ۹۳

دافعہئ علی علیہ سلام کی قُوّت ۹۸

علی علیہ سلام کی دشمن سازی ۹۸

ناکثین و قاسطین و مارقین ۱۰۰

خوارج کا ظہور ۱۰۲

اصول عقائد خوارج ۱۱۱

خلافت کے بارے میں خوارج کا عقیدہ ۱۱۲

خلفاء کے بارے میں خوارج کاعقیدہ ۱۱۳

ہمیشہ ان کے ساتھ برسرپیکار رہتے تھے۔ ۱۱۴

خوارج کا خاتمہ ۱۱۴

رُسوم یا روح ۱۱۵

علی علیہ سلام کی جمہوریت ۱۲۲

خوارج کی بغاوت اور سرکشی ۱۲۳

خوارج کی نمایاں خصوصیّات ۱۲۵

اسلامی فرقوں کا ایک دوسرے پر اثر: ۱۴۶

قرآن کو نوک نیزہ پر بلند کرنے کی سیاست ۱۵۰

نفاق کے ساتھ جنگ کرنے کی ضرورت: ۱۵۴

علی علیہ سلام ___ سچے امام اور پیشوا ۱۵۷

۱۵۹