جاذبہ و دافعہ علی علیہ السلام

جاذبہ و دافعہ علی علیہ السلام25%

جاذبہ و دافعہ علی علیہ السلام مؤلف:
زمرہ جات: امیر المومنین(علیہ السلام)
صفحے: 159

جاذبہ و دافعہ علی علیہ السلام
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 159 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 39103 / ڈاؤنلوڈ: 4972
سائز سائز سائز

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

کرد ویران خانہ بہر گنج زر

اس نے اپنا گھر خزانہ کے لیے ویران کیا

و ز ہمان گنجش کند معمور تر

اور اسے مزید زر سے بھر دیا

آب را ببرید و جو را پاک کرد

وہ پانی لے گیا اور نہر کو خالی کیا

بعد ازاں در جو رواں کرد آب خورد

پھرپانی کو نہر میں جاری کر دیا اور پانی پیا

پوست را بشگافت پیکان را کشید

اس نے پوست کو شگافتہ کیا اور پیکان کھینچا

پوست تازہ بعد از آتش برومید

اس کے بعد اس پر تازہ پوست اسے پہنچایا

۴۱

کاملان کز سرّ تحقیق آ گھند

کامل لوگ جو تحقیق کے رازکو جانتے ہیں

بی خود حیران و مست و والہ اند

وہ بے خود، حیران اور مست ہیں

نہ چنین حیران کن پشتش سوی اوست

بل چنان حیران کہ غرق و مست دوست(۱)

اس طرح حیران نہ ہو کہ اس کی پشت تیری طرف ہوبلکہ اس طرح حیران کردہ محبوب کی محبت میں غرق ہو۔

____________________

(۱) مثنوی معنوی

۴۲

حصار شکنی

قطع نظر اس سے کہ اس کی نوعیت جنسی ہے، نسلی ہے یا انسانی، نیز قطع نظر اس سے کہ محبوب کس طرح کی صفات اور خصوصیات کا حامل ہے۔ دلیر اور بہادر ہے، ہنر مند ہے، عالم ہے، یا مخصوص اخلاق و آداب اور خوبیوں کامالک ہے، عشق و محبت انسان کو خودی اور خود پرستی (کے خول) سے باہر نکالتی ہے۔ خود پرستی محدودیت اور حصار ہے۔ کسی دوسرے کے ساتھ عشق مطلقاً اس حصار کو توڑ دیتا ہے۔ جب تک انسان اپنی ذات کے خول سے باہر نہیں نکلتا وہ کمزور، ڈرپوک، چمک دمک نہیں ہوتی، جوش اور ولولہ نہیں ہوتا۔ وہ ہر وقت سرد اور خاموش ہوتا ہے۔ مگر جونہی انسان اپنی ذات کے خول سے باہر قدم رکھتا اور خودی کے حصار کو توڑ دیتا ہے، یہ ساری برائیاں ختم ہو جاتی ہےں۔

ہر کرا جامہ زعشقی چاک شد

او ز حرص و عیب کلی پاک شد

جس کا جامہ کسی عشق میں چاک ہوا۔ وہ لالچ اور دیگر عیوب سے بالکل پاک ہوا ۔

۴۳

خود پرستی کے حصار کو توڑ دینے کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ انسان اپنی ذات کے ساتھ دلچسپی کو یکسر نظر ختم کر دے اور یوں خود پرستی سے آزاد ہو۔ یہ بات بے معنی ہے کہ کوئی انسان یہ کوشش کرے کہ اپنی ذات کو دوست نہ رکھے۔ اپنی ذات سے دلچسپی جسے حُبّ ذات سے تعبیر کیا جاتا ہے، کوئی بری چیز نہیں ہے کہ جسے ختم کرنا ضروری ہے۔ انسان کی اصلاح اور تکمیل اس طرح نہیں ہوتی کہ اس مفروضے پر کہ انسان کے وجود میں چند غیر ضروری امور ہیں اور یہ کہ ان غیر ضروری اور مضر امور کو معدوم کر دیا جاناچاہیے۔ دوسرے لفظوں میں انسان کی اصلاح اس کے وجود سے کسی شئے کو کم کرنے میں نہیں بلکہ اس (وجود) کی تکمیل اور اس میں اضافہ کرنے میں ہے۔ فطرت نے انسان پر جو ذمہ داری ڈالی ہے وہ خلقت کا تکامل اور اس میں اضافہ کرنا ہے، نہ کہ اس میں کمی کرنا۔

خود پرستی کامقابلہ کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اپنی '' ذات '' کو محدودیت سے بچایا جائے۔ اس ''خود '' کو وسعت پانا چاہیے اور ''خود '' کے گرد جو حصار کھینچا گیا ہے اسے توڑ دیا جانا چاہےے جس کی وجہ سے اس سے مربوط شخص یا فرد کے علاوہ ہر چیزبیگانہ اور ''خود '' سے خارج نظر آتی ہے۔ شخصیت کو اس قدر وسعت پا جانا چاہےے کہ تمام انسانوں بلکہ پوری کائنات کا احاطہ کرے۔ پس خود پرستی سے مقابلہ کرنے کا مطلب اپنی ذات کی محدودیت کا مقابلہ کرناہے، کیونکہ خود پرستی افکار اور میلانات کو محدود کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ عشق، انسان کی دلچسپی اور اس کے میلانات کو اس کی ذات سے باہر لے جاتا، اس کے وجود کو وسعت بخشتا اوراس کے پیکر ہستی کو بدل دیتا ہے اوراسی لیے عشق و محبت ایک عظیم اخلاقی اور تربیتی عنصر ہے بشرطیکہ صحیح ہدایت ہواور صحیح طریقے سے اس سے استفادہ کیا جائے۔

۴۴

عشق۔ تعمیر ہے یا تخریب

کسی شے یا شخص کی محبت جب شدت کی انتہا کو پہنچ جاتی ہے ا س طرح کہ انسان کے وجود کو مسخر کرکے اس کے وجود پر اس کی مکمل حکمرانی ہو، تو اس کانام عشق ہے۔ عشق محبت اور جذبات کی انتہا ہے۔

لےکن یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ جسے یہ (عشق) نام دیا جاتا ہے اس کی صرف ایک قسم ہے۔ اس کی مکمل طور پر دو مختلف قسمیں ہیں: ایک قسم وہ ہے جس کے نتائج کو اچھا کہا جائے لیکن اس (عشق) کی دوسری قسم کے نتائج مکمل تخریبی اور منفی ہیں۔

انسانی جذبات کی قسمیں اور مراتب ہیں۔ ان میں سے ایک شہوت، خاص طور پر جنسی شہوت کی قسم ہے جو کئی اعتبار سے انسان اور تمام حیوانات میں مشترک ہے۔ اس فرق کے ساتھ کہ انسان میں یہ جذبہ ایک خاص اور ناگفتہ علت کی بناء پر انتہائی شدت اختیا رکرتا ہے اور اسی وجہ سے لوگ اس کا ناعشق رکھ لیتے ہیں اور حیوان میں (یہ جذبہ) اس طرح نہیں ہوتا لیکن بہرحال اپنی حقیقت اور ماہیت کے اعتبار سے یہ شہوت کے جوش، شدت اور طوفان کے علاوہ کچھ نہیں۔ یہ (جذبہ) جنسی ذرائع سے پیدا ہوتا ہے اور وہیں ختم ہوتا ہے۔

اس میں افزائش اور کمی کا تعلق آلہئ تناسل کی طبعی کارکردگی اور قہراً سن جوانی سے ہے۔ ایک طرف عمر میں اضافے اور دوسری طرف رُجھ جانے اور طاقت میں کمی کے ساتھ یہ کم ہوتا اور بالآخر ختم ہو جاتا ہے۔

۴۵

اس جوان کو جو کسی حسین چہرے اور زلف پیمان کودیکھتے ہی لرزنے اور کسی نرم و نازک ہاتھ کے لمس سے ہی بل کھانے لگتا ہے، یہ جان لینا چاہیے کہ معاملہ مادی اور حیوانی اثر کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ اس طرح کے عشق جلد آتے ہیں اور جلد جاتے ہیں۔ یہ قابل اعتماد ہے نہ قابل تعریف بلکہ خطرناک اور فضیلت کش ہے۔ صرف وہی شخص فائدے میں رہتا ہے جو پاکدامنی اور تقویٰ کی مدد سے اس کے سامنے ہتھیار نہ ڈالے۔ یعنی یہ قوت بذات خود انسان کو کسی فضیلت کی طرف آمادہ نہیں کرتی لیکن اگر یہ آدمی کے وجود میں رخنہ ڈالے اور پاکدامنی اور تقویٰ کی قوت سے اس کی کشمکش ہو اور روح اس کے دباؤ کو برداشت کرتے ہوئے اس کے سامنے سپر نہ ڈالے تو روح کو قوت و کمال بخشتی ہے۔

انسان جذبات کی ایک دوسری قسم رکھتا ہے جو اپنی حقیقت اور ماہیت کے اعتبار سے شہوت سے مختلف ہے۔ بہتر ہے کہ ہم اسے محبت (عاطفہ) یا قرآن کی تعبیر میں ''مؤدت '' اور ''رحمت '' کا نام دیں۔

انسان جب تک اپنی شہوتوں کے زیر اثر ہے وہ (گویا) اپنی ذات سے باہر نہیں نکلا ہے۔ وہ اپنی پسند کی چیز یا شخص کو اپنے لیے طلب کرتااور شدت سے چاہتا ہے۔ اگر وہ معشوق اور محبوب کے بارے میں سوچتا ہے تو اس طرح سوچتا ہے کہ کس طرح اس کے وصال سے بہرہ مند ہو اور زیادہ سے زیادہ لطف اٹھائے۔ صاف ظاہر ہے کہ ایسی صورت حال انسان کی روح کی تکمیل، تربیت اور اسے پاکیزہ نہیں کر سکتی۔

۴۶

لیکن جب انسان اپنے اعلیٰ انسانی عواطف کے زیر اثر قرار پاتا ہے تو محبوب و معشوق اس کی نظر میں احترام و عظمت پیدا کرتا ہے اور وہ اس (محبوب و معشوق) کی نیک بختی چاہتا ہے۔ وہ محبوب کی خواہشات پر اپنے آپ کو قربان کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ اس طرح کے عواطف خلوص، راستی، فیاضی، نرم خوئی اور ایثار پیدا کرتے ہیں۔ برخلاف پہلی قسم کے جس سے تند خوئی، درندگی اور جنایت ابھرتی ہےں۔ بچے لےے ماں کی مہرو محبت اسی قسم سے ہے۔ اولیاء اور مردان خدا سے محبت، اسی طرح وطن سے محبت بھی اسی قسم سے ہے۔ یہ جذبات کی وہ قسم ہے کہ اگر انتہائے کمال کو پہنچ جائے تو وہ تمام اچھے نتائج جن کی ہم نے پہلے تشریح کی ہے، مرتب ہوتے ہیں اور یہی قسم ہے جو روح کو بلندی، انفرادیت اور عظمت عطا کرتی ہے۔ جبکہ پہلی قسم روح کو زبوں کرنے والی ہے اور عشق کی یہی قسم ہے جو پائدار ہے اور وصال سے یہ اورتیز و تند ہوجاتا ہے۔ ا س کے برعکس پہلی قسم ناپائدار ہے اور وصال اس کا مدفن شمارہوتا ہے۔

قرآن کریم میاں بیوی کے رابطہ کو ''مودت '' اور ''رحمت'' کے کلمات سے تعبیر(۱) کرتا ہے اور یہ بہت اہم نکتہ ہے اور ازدواجی زندگی میں حیوانی سطح سے بلند جو انسانی پہلو ہے اس کی طرف اشارہ ہے نیز اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ صرف شہوت کا عنصر ہی ازدواجی طبعی زندگی سے مربوط نہیں ہے بلکہ اصلی رابطہ خلوص، سچائی اور دو روحوں کے درمیان اتحاد ہے۔ دوسرے لفظوں میں میاں بیوی کو یگانگت کے رشتے میں منسلک کرنے والی چیز محبت و مودت اور خلوص و سچائی ہے نہ کہ شہوت جو حیوانوں میں بھی ہے۔

مولوی(۲) اپنے خوبصورت انداز میں شہوت اور مودت میں فرق بیان کرتے ہوئے اُس (شہوت) کو حیوانی اور اس (مودت) کو انسانی قرار دیتا ہے۔ کہتا ہے:

____________________

(۱)وَ مِنْ اٰیٰتِه اَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْآ اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمََةَ ۔(۳۰روم:۲۱) اور یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے ازواج پیدا کیے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور اس نے تمہارے مابین محبت اور مہربانی پیدا کی ۔

(۲)مولانا رومی

۴۷

خشم و شہوت وصف حیوانی بود

مہر و رقت وصف انسانی بود

غصّہ اور شہوت حیوانی صفات ہیں

محبت و مہربانی انسانی اوصاف ہیں

این چنین خاصیتی در آدمی است

مہر حیوان را کم است آن از کمی است

ایسی خوبیاں انسان میں ہیں

حیوان میں محبت کی کمی ہے، اور یہ اس کا نقص ہے۔

مادیت کے فلسفے کا پرچار کرنے والے بھی انسان کی اس معنوی حالت سے انکار نہیں کرسکے ہیں جو کئی جہات سے غیر مادی ( Metaphysical ) پہلو رکھتی ہے اور انسان اور مافوق انسان کے مادی ہونے (کے فلسفے) سے سازگار نہیں ہے۔ برٹرینڈرسل اپنی کتاب ''شادی اور اخلاق '' میں کہتا ہے:

ایسا کام جس کا واحد مقصد کمانا ہو مفید نتائج پیدا نہیں کر سکتا۔ اس طرح کے نتیجے کے لیے اس کام کو اختیار کرنا چاہیے کہ جس میں ایک فرد یا ایک مقصد یا غایت پر یقین پوشیدہ ہو۔ عشق کا مقصد بھی اگر محبوب کا وصال ہو تو وہ ہماری شخصیت کی تکمیل نہیں کر سکتا اور مکمل طورپر ایسے کام کی طرح ہے جو ہم پیسے کے لیے انجام دیتے ہیں۔ اس کمال تک پہنچنے کے لیے ہمیں چاہیے کہ محبوب کے وجود کو اپنے وجود کی طرح جانیںاور اس کے جذبات و احساسات کو اپنا سمجھیں۔

۴۸

دوسرا نکتہ جس کا ذکر کرنااور جس کی طرف توجہ دینا چاہیے یہ ہے کہ شہوانی عشق بھی ممکن ہے فائدہ مند واقع ہو اور ایسااس وقت ہو سکتا ہے جب وہ تقویٰ اور پاک دامنی کے ساتھ مربوط ہو۔ یعنی ایک طرف فراق و نارسائی اور دوسری طرف پاکیزگی و عفت کی وجہ سے روح پرجو سوز و گداز اور دباؤ اور سختی وارد ہوتی ہے اس کے مفید نتائج نکل سکتے ہیں۔ اسی سلسلے میں عرفاء کہتے ہی ںکہ عشق مجازی، عشق حقیقی یعنی ذات احدیت کے ساتھ عشق میں تبدیل ہوجاتا ہے اوراسی سلسلے میں روایت کرتے ہیں:

من عشق و کتم و عف و مات مات شهیدا

جو عشق کرے اوراسے پوشیدہ رکھے اور پاک دامنی کی حالت میں مرجائے تو وہ شہید مرا ہے۔

لیکن اس نکتے کو فراموش نہیں کیا جانا چاہیے کہ عشق کی یہ قسم ان تمام فوائد کے باوجود جو یقیناً مخصوص حالات میں حاصل ہوتے ہیں، قابل تعریف نہیں ہے اور بہت خطرناک ہے۔ اس لحاظ سے یہ مصیبت کی مانند ہے جو اگر کسی پر آپڑے اور وہ صبر و رضا کی قوت سے اس کا مقابلہ کرے تو نفس کو پاک اور مکمل کرنے والی ہے، خام کو پختہ اور آلودہ کو صاف کرتی ہے۔ لیکن مصیبت قابل تعریف نہیں ہے۔ کوئی شخص اس تربیتی عنصر سے فائدہ اٹھانے کی خاطر اپنے لیے مصیبت پیدا کرے۔

رسل یہاں بھی ایک قیمتی بات کہتا ہے:

قوت ( Energy ) رکھنے والے شخص کے لیے مصیبت ایک گرانبہا محرک ہے۔ وہ شخص جو اپنے آپ کو مکمل طور پر خوش بخت سمجھتا ہے، وہ مزید خوش بختی کے لیے کوئی کوشش نہیں کرتا۔ لیکن میں نہیں سمجھتا کہ یہ اس بات کا جواز ہو کہ ہم دوسروں کو اس لیے رنج پہنچائیں تاکہ وہ کسی مفید راہ میں طرف قدم بڑھائیں۔ کیونکہ عموماً اس کا نتیجہ اس کے برعکس ہوتا ہے اور انسان کو درہم برہم کر دیتا ہے۔

۴۹

اس طرح تو یہ بہتر ہوگا کہ ہم اپنے آپ کو ان حادثات کے حوالے کر دیں جو ہمارے راستے میں پیش آتے ہیں۔(۱)

چنانچہ ہم جانتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات میں مصائب اور آزمائشوں کے نتائج اور فوائد کی طرف بہت اشارہ کیا گیا ہے اور خدا کے لطف کی علامت کے طور پر انہیں بیان کیا گیا ہے۔ لیکن کسی لحاظ سے بھی کسی شخص کو یہ اجازت نہیں دی گئی ہے کہ اس بہانے سے اپنے لیے یا دوسروں کے لیے کوئی مصیبت پیدا کرے۔

اس کے علاوہ عشق اور مصیبت کے درمیان ایک فرق ہے اور وہ یہ ہے کہ عشق کسی اور عنصر کے مقابلہ میں زیادہ '' عقل کی ضد '' ہے۔ یہ جہاں بھی قدم رکھتا ہے عقل کو اس کی مسند حکومت سے معزول کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عرفانی ادب میں عقل و عشق کو دو رقیب کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔ فلسفیوں اور عرفاء کے درمیان رقابت کا سرچشمہ بھی یہی ہے۔ فلسفی عقل کی قوت پر اور عرفاء عشق کی قوت پر تکیہ اور اعتماد کرتے ہیں۔ رقابت کے اس میدان میں عرفانی ادبیات میں عقل کی پہچان محکوم و مغلوب کی حیثیت سے کرائی گئی ہے۔ سعدی کہتا ہے:

نیک خواہانم نصیحت می کند

میرے خیر خواہ نصیحت کرتے ہیں

خشت بردیا زدن بے حاصل است

سمندر میں اینٹ پھینکنا (کسی شئے کی بنیاد رکھنا) بے نتیجہ ہے۔

شوق را برصبر قوت غالب است

صبر پر شوق غالب ہے

____________________

(۱)''شادی اور اخلاق،، ص ۱۳۴

۵۰

عقل را بر عشق دعویٰ باطل است

عشق پر عقل کا دعویٰ باطل ہے

ایک دوسرا (شاعر) کہتا ہے:

قیاس کردم تدبیر عقل در رہ عشق

چوشبنمی است کہ بربحرمی زند رقمی

میرا خیال ہے کہ عشق کی راہ میں عقل کی تدبیرایسی ہے کہ شبنم سمندر (کی سطح) پر کچھ لکھنے کی کوشش کرے۔

ایک ایسی قدرت والی طاقت جو زمام اختیار (دوسروں کے ہاتھ سے) چھین لیتی ہے اور بقول مولوی ''یہ (عشق) آدمی کو ادھر سے ادھر کھینچ لے جاتا ہے جس طرح سخت طوفان تنکے کو ''اور رسل کے بقول '' ایک ایسی چیز جو انارکی کی طرف مائل ہے '' کس طرح ممکن ہے کہ اس کی سفارش کی جائے۔

بہرحال کبھی کبھار مفید نتائج کا حامل ہونااور بات ہے اور قابل تجویز و سفارش ہونا دوسری بات۔

یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض فقہاء کی طرف سے ان اسلامی فلاسفروں(۱) پر جنہوں نے الہٰیات کے ضمن میں اس پر بحث کی ہے اور اس کے نتائج و فوائد کو بیان کیا ہے، اعتراض اور تنقید صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ اس طبقہ (فقہائ) نے یہ خیال کیا ہے کہ حکماء کے اس دستہ کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ (عشق) قابل تجویز و سفارش بھی ہے حالانکہ ان کی نظر صرف ان مفید نتائج پر ہے جو تقویٰ اور پاک دامنی کی حالت میں برآمد ہو سکتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ اسے قابل تجویز و سفارش سمجھتے ہوں۔ یعنی بعینہ مصائب اور آزمائشوں کی طرح۔

____________________

(۱)بوعلی سینا۔ رسالہئ عشق اورصدر المتألهین سفر سوم اسفار

۵۱

اولیاء سے محبت و ارادت

جیسا کہ ہم نے کہا ہے عشق و محبت، عشق حیوانی جنسی اور حیوانی نسلی میں منحصر نہیں ہے بلکہ عشق و جاذبہ کی ایک دوسری قسم بھی ہے جس کی سطح بلند تر ہے اور اساسی طور پر مادہ اور مادیات کی حدود سے باہر ہے اور اس کا سرچشمہ بقائے نسل کے جذبے سے ماوراء ہے اور حقیقت میں انسان اور حیوان کے درمیان فصل ممیز ہے اور وہ عشق معنوی اور انسانی ہے۔ بلند انسانی فضائل ، خوبیوں اور جمال حقیقت کے ساتھ عشق۔

عشقہای کز پی رنگی بود

کسی رنگ کے ساتھ عشق کرنا

عشق نہ بود عاقبت ننگی بود

درحقیقت عشق نہیں، عاقبت کی رسوائی ہے

زانکہ عشق مردگان پایندہ نیست

مردوں کے ساتھ عشق پائدار نہیں

چوںکہ مردہ سوی ماآیندہ نیست

کیونکہ مردہ پھر ہمارے پاس نہیں آتا

عشق زندہ در روان و دربصر

جسم و نظر میں زندہ کا عشق

۵۲

ہر دو می باشد ز غنچہ تازہ تر

دونوں کو غنچے سے زیادہ ترو تازہ رکھتا ہے

عشق آں زندہ گزین کز باقی است

اس زندہ سے عشق کرو جو ہمیشہ باقی ہے

و ز شراب جانفزایت ساقی است

جو تجھے زندگی کی شراب پلانے والا ہے

عشق آن بگزین کہ جملہ انبیائ

اس سے عشق کرو کہ سب پیغمبروں نے

یافتند از عشق او کار و کیا

اسکے عشق سے مقصد اور عظمت کو پا لیا(۱)

اور یہی عشق ہے جسے قرآن کی بہت سی آیات میں محبت، وُدّ یا مودت کے الفاظ سے یاد کیا گیا ہے۔ ان آیات کی چند قسمیں ہیں:

۱۔ وہ آیتیں جو مؤمنین کے وصف میں ہیں اور خدا یا مؤمنوں سے ان کی گہری دوستی و محبت کے بارے میں ہیں:

____________________

(۱) مثنوی معنوی

۵۳

( وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ ) (۱)

وہ لوگ جوایمان لاچکے ہیں خدا کی محبت میں سخت تر ہیں۔

( وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّءُ و الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صَُدُوْرِ هِمْ حَاجَةً مِِّمَّآ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤی اَنْفُسِهِمْ وَ لَو کَانَ بِهِمْ خَصَاصِةٌ ) ۔(۲)

جو لوگ مہاجروں سے پہلے مسلمانوں کے گھر (مدینہ) میں مقیم اور ایمان ( مسلمانوں کے روحانی اور معنوی گھر) میں رہے، ان مہاجروں سے محبت کرتے ہیںجو ان کی طرف آئے اور جو کچھ انہیں ملا اس سے اپنے دلوں میں کوئی ملال نہیںپاتے اور دوسروں کو اپنے نفس پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خودحاجت مند کیوں نہ ہوں۔

۲۔ وہ آیتیں جو خدا کی مؤمنوں سے محبت کے بارے میں ہیں:

( اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ ) (۳)

خدا توبہ کرنے والوں اور پاکیزہ لوگوں سے محبت رکھتا ہے۔

( وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ) ۔(۴)

خدا نیکو کاروں سے محبت رکھتا ہے ۔

( اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ ) ۔(۵)

خدا تقویٰ رکھنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

( وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمَطَّهِّرِیْنَ ) (۶)

خدا پاکیزہ لوگوں کو دوست رکھتا ہے ۔

( اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ ) ۔(۷)

خدا انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

____________________

(۱) ۲ بقرہ :۱۶۵ ---(۲) ۵۹ حشر : ۹ ---(۳) ۲ بقرہ : ۲۲۲---(۴) ۳ آل عمران :۱۴۸ و ۵ مائدہ : ۱۳ ---(۵) ۹ توبہ : ۴ و۷

(۶) ۹ توبہ :۱۰۸---(۷) ۴۹ حجرات :۹۔ ۶۰ممتحنہ:۸

۵۴

۳۔ وہ آیتیں جو دو طرفہ دوستیوں اور دو آتشہ محبتوں کے بارے میں ہیں۔ خدا کی مومنوں سے محبت، مؤمنوں کی خدا سے محبت اور مؤمنوں کی ایک دوسرے سے محبت:

( قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ .) (۱)

کہ دو اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو تاکہ خدا تم سے محبت کرے اور تمہارے لیے تمہارے گناہوں کو بخش دے ۔

( فسوف یاتی الله بقوم یحبهم و یحبونه ) (۵:۵۴)

خدا ایک ایسی قوم کو لائے گا جس کو (خدا) دوست رکھتا ہو گا اور وہ (قوم) اس (خدا) کو دوست رکھتی ہو گی۔

مؤمنین کی آپس میں محبت

( اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا ) ۔(۲)

جو لوگ ایمان لائے ہیں اور نیک عمل بجا لائے ہیںان کے لیے رحمن عنقریب دلوں میں محبت پیدا کرے گا۔

( وَ جَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً ) .(۳)

اس نے تمہارے درمیان محبت اور مہربانی پیدا کی۔

اور یہی وہ محبت اور تعلق ہے جسے ابراہیم(ع) نے اپنی ذریت کے لیے طلب کیا(۴) اور خدا کے حکم سے پیغمبر ختمی مرتبت(ص) نے بھی اپنے رشتہ داروں کے لیے طلب فرمایا۔(۵)

اور جس طرح کہ روایات سے پتہ چلتا ہے دین کی روح اور اس کا جوہر محبت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ برید عجلی کہتا ہے:

میںامام باقر علیہ السّلام کی خدمت میں حاضر تھا۔ ایک مسافر، جو خراسان سے اس طویل مسافت کو پیدل طے کر کے آیا تھا،امام (ع)کے حضور شرفیاب ہوا اس نے اپنے

____________________

(۱) ۳ آل عمران: ۳۱ -----(۲) ۱۹طہ:۹۶-----(۳) ۳۰ روم :۲۱ ---(۴) ابراہیم: ۳۷ ---(۵) شوریٰ : ۲۳

۵۵

پیر جب جوتوں سے باہر نکالے، تو وہ شگافتہ ہو کر خراب ہوچکے تھے۔ اس نے کہا خدا کی قسم! مجھے وہاں سے سوائے اہل بیت (ع) کی محبت کے اور کوئی چیز یہاں کھینچ نہ لائی امام (ع) نے فرمایا: خدا کی قسم! اگر کوئی پتھر بھی ہم سے محبت کرتا ہو توخدا اسے(قیامت کے دن) ہمارے ساتھ محشور فرمائے گا اور ہمارے قریب کر دے گا،وهل الدین الا الحب ۔ (یعنی) کیا دین محبت کے علاوہ کچھ اور ہے؟(۱)

کسی نے امام جعفر صادق علیہ السّلام سے کہا کہ ہم اپنے بچوں کے نام آپ اور آپ (ع) کے آباء کے ناموں پر رکھتے ہیں کیا ہمیں اس کام کا کوئی فائدہ ہے؟ حضرت (ع) نے فرمایا:

کیوں نہیں خدا کی قسمو هل الدین الا الحبّ کیا دین محبت کے علاوہ کچھ اور ہے؟'' اس کے بعد (اس کی تائید میں) آیہئ شریفہ( اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰهُ ) (۲) کی تلاوت فرمائی۔(۳)

بنیادی طور پر محبت ہی ہے جو پیروی کراتی ہے۔ عاشق کی مجال نہیں ہے کہ وہ معشوق کی خواہش سے سرتابی کرے۔ ہم اس (صورت حال) کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ ایک جوان عاشق اپنی معشوقہ اور محبوبہ کے لیے ہر شئے سے دستبردار ہوتا ہے اور ہر چیز اس پر قربان کر دیتا ہے۔

____________________

(۱) سفینۃ البحار، ج ۱ ص ۲۰۱ مادہ حُبّ

(۲) ۳ آل عمران : ۳۱

(۳)سفینۃ البحار، ج ۱، ص ۲۰۱ مادہ ''سما ''

۵۶

خدا کی اطاعت اور اس کی پرستش اس محبت اور عشق کی نسبت سے ہے جو انسان خدا سے رکھتا ہے۔ جس طرح کہ امام صادق علیہ السّلام فرماتے ہیں:

تعصی الاله و انت تظهر حبّه

هذا لعمری فی الفعال بدیع

لو کان حبک صدقا لا طعته

ان المحب لمن یحب مطیع

خدا کے حکم کی نافرمانی کرو اور پھر بھی اس کی محبت کا دم بھرو۔ میری جان کی قسم! یہ عجیب رویہ ہے۔ اگر تیری محبت سچی ہوتی تو یقیناً اس کی اطاعت کرتا۔ کیونکہ محبت کرنے والا محبوب کی اطاعت کیا کرتا ہے۔

۵۷

معاشرے میں محبت کی قوت

اجتماعی نقطہئ نظر سے محبت کی قوت ایک عظیم اور مؤثر قوت ہے۔ بہترین معاشرہ وہ ہے جو محبت کی قوت سے چلایا جائے۔ حاکم اور منتظم لوگوں سے اور لوگ حاکم اور منتظم سے محبت کرتے ہوں۔

حکمران کی محبت حکومت کی زندگی کے ثبات اور اس کی پائداری کا ایک عظیم عامل ہے اور جب تک محبت کا عنصر نہ ہو کوئی رہنما کسی معاشرے کی رہبری اور لوگوں کی قانونی نظم و ضبط کے تحت تربیت نہیں کر سکتا یا بہت مشکل سے کر سکتا ہے، اگرچہ وہ اس معاشرے میں عدل و مساوات کو جاری و ساری بھی کرے۔ لوگ صرف اس وقت تک قانون کی پابندی کرتے ہیں جب تک وہ یہ دیکھتے ہیں کہ حکمران کو ان سے محبت ہے اور یہی محبت ہے جو لوگوں کو پیروی اور اطاعت پر آمادہ کرتی ہے۔ قرآن پیغمبر (ص) سے خطاب کرتا ہے کہ تم لوگوں کے درمیان نفوذ حاصل کرنے اورمعاشرے کو چلانے کے لیے ایک عظیم قوت رکھتے ہو:

( فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ وَ لَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْلَهُمْ وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرٍ ) (۱)

آپ ان کے لیے نرم مزاج واقع ہوئے اور اگر آپ تند خو اور سنگدل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے منتشر ہو جاتے، پس ان سے درگزر کرو اور ان کے لیے طلب مغفرت کرو اور معاملات میں ان سے مشورہ کر لیا کرو۔

____________________

(۱) ۳ آل عمران : ۱۵۹

۵۸

یہاں پر پیغمبر (ص) کی طرف لوگوں کی رغبت کی وجہ اس مہر و محبت کو قرار دیا گیا ہے جو لوگوں کی نسبت پیغمبر اکرم (ص) عام فرماتے تھے۔ پھر یہ حکم دیا جاتا ہے کہ ان کی بخشش کے لیے استغفارکی جائے اور ان کے ساتھ مشورہ کیا جائے۔ یہ سب محبت اور دوستی کی علامتیں ہیں۔ جس طرح کہ نرمی، برداشت اور تحمل سب محبت اور احسان کے پہلو ہیں۔

اوبہ تیغ حل چندین خلق را

اسنے حلم کی تلوار سے اتنے لوگوں کو سدھارا

وا خرید از تیغ ، چندین حلق را

جبکہ لوہے کی تلوار اتنے ہی گلے کاٹتی

تیغ حلم از تیغ آہن تیز تر

حلم کی تلوار لوہے کی تلوارسے زیادہ تیزہے

بل ز صد لشکر، ظفر انگیز تر(۱)

بلکہ سو لشکر سے زیادہ فتح کرنے والی ہے

____________________

(۱) مثنوی معنوی

۵۹

اور پھر قرآن فرماتا ہے:

( وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَ بَیْنَه، عَدَاوَةٌ کَاَنَّه، وَلِیٌّ حَمِیْمٌ ) .(۱)

اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتیں۔ آپ (بدی ) کو بہترین طریقے سے دفع کریں تو آپ دیکھ لیں گے کہ آپ کے ساتھ جس کی عداوت تھی وہ گویا نہایت قریبی دوست بن گیا ہے

بہ بخش ای پسر کاد میزادہ مید

اے میرے بیٹے معاف کر دے

بہ احسان تو ان کرد، وحشی بہ قید

کہ آدمی کو احسان سے اور درندے کو جال سے شکار کیا جا سکتا ہے

عدو را بہ الطاف گردن بہ بند

دشمن کو مہربانی کے ذریعے جھکا دے

کہ نتوان بریدن بہ تیغ این کمند(۲)

کہ یہ کمند تلوار سے نہیں کاٹی جا سکتی

____________________

(۱) ۴۱ فصلت: ۳۴

(۲) سعدی، بوستان

۶۰

امیر المومنین علیہ السلام مالک اشتر کو مصر کی گورنری پر مقرر کرنے کے بعد لوگوں کے ساتھ روش کے ضمن میں یوں ہدایت فرماتے ہیں:

و اشعر قلبک الرحمة للرعیة و المحبة لهم و اللطف بهم فاعطهم من عفوک و صفحک مثل الذی تحب ان یعطیک الله من عفوه و صفح ہ(۱)

اپنے دل میں لوگوں کے لیے محبت و ہمدردی اور مہربانی کا جذبہ بیدار کر... اپنے عفو و درگزر سے انہیں اس طرح فائدہ پہنچا جس طرح تو چاہتا ہے کہ خداوند عالم اپنے عفو و درگزر سے تجھے فائدہ پہنچائے۔

حکمران کے دل کو ملت کے ساتھ محبت و ہمدردی کا گھر ہونا چاہیے۔ صرف طاقت اور زور کافی نہیں ہے۔ طاقت اور زور کے ساتھ لوگوں کو بھیڑوں کی طرح ہنکانا تو ممکن ہے لیکن ان کی مخفی صلاحیتوں کو اجاگر کر کے ان سے کام لینا ممکن نہیں ہے۔ نہ صرف یہ کہ قدرت و زور کافی نہیں ہے بلکہ انصاف کا اجراء بھی اگر روکھے طریقے سے ہو توکافی نہیں ہے۔ حکمران کا ایک مہربان باپ کی طرح دل سے لوگوں کو دوست رکھنا اور ان سے ہمدردی جتانا ضروری ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ (حکمران) ایک جاذب اور دل موہ لینے والی شخصیت کا مالک ہو تاکہ لوگوں کی محبت، ہمت اور ان کی عظیم انسانی صلاحیتوں کو آگے بڑھا سکے اور ان سے اپنے ہدف کی خدمت کاکام لے سکے۔

____________________

(۱)نہج البلاغہ، نامہ ۵۳

۶۱

تہذیبِ نفس کا بہترین وسیلہ

عشق و محبت کے باب میں گزشتہ مباحث صرف مقدمہ تھیں اور اب ہم آہستہ آہستہ نتیجے تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ ہماری اہم ترین بحث جو در حقیقت ہماری اصل بحث ہے، یہ ہے کہ اولیاء کے ساتھ عشق و محبت اور نیکو کاروں کے ساتھ دوستی رکھنا بذاتِ خود ہدف ہے یا تہذیب نفس، اصلاحِ اخلاق اور انسانی فضائل اور رفعتوں کے حصول کا ایک ذریعہ ہے۔

عشق حیوانی میں، عاشق کی تمام تر نظر اور توجہ معشوق کی صورت، اعضاء کے تناسب اور اس کی جلد کے رنگ اور رعنائی پر ہوتی ہے۔ یہ ایک کشش ہے جو انسان کو اپنی طرف کھینچتی اور مجذوب بناتی ہے۔ لیکن اس کشش سے جی بھر جانے کے بعد یہ آگ پھر نہیں بھڑکتی، بلکہ سرد پڑ جاتی اور (بالآخر) بجھ جاتی ہے۔ لیکن عشق انسانی، جیساکہ ہم نے پہلے کہا ہے، حیات اور زندگی ہے، اطاعت کرانے اور پیروکار بنانے والا اور یہ عشق ہے جو عاشق کو معشوق کے ہمرنگ بناتا ہے اور وہ کوشش کرتا ہے کہ وہ معشوق کا ایک جلوہ ہو اور اس (معشوق) کی روش کا ایک عکس ہو۔ جس طرح کہ خواجہ نصیر الدین طوسی شرح اشارات بو علی میں کہتے ہیں:

۶۲

و النفسانی هوالذی یکون مبدئه مشاکلة نفس العاشق لنفس المعشوق فی الجوهر و یکون ا کثر عجابه بشمائل المعشوق لانها آثار صادرة عن نفس... و هو یجعل النفس لینة شیقة ذات و جد و رقة منقطعة عن الشواغل الدنیویه (۱)

روحانی عشق وہ ہے جس کی بنیاد عاشق اور معشوق کی ذات میں ہمرنگی پر ہو۔ عاشق کی زیادہ تر توجہ معشوق کی روش اور اس کے (دل) سے ظاہر ہونے والے تاثرات پر رہتی ہے۔ یہ وہ عشق ہے جو روح کو نرم، پر شوق اور سرشار بنا دیتا ہے۔ (یہ روح میں) ایسی رِقت پیدا کر دیتا ہے جو عاشق کو دنیوی آلودگیوں سے بیزار کردیتی ہے۔

محبت مشابہت اور ہمرنگی کی طرف لے جاتی ہے اور اس کی طاقت چاہنے والے کے اپنے محبوب کے ہمرنگ ہونے کا سبب بنتی ہے۔ محبت ایک ایسے برقی تار کی مانند ہے جو محبوب کے وجود سے چاہنے والے کو متصل کر دیتا ہے اور محبوب کی صفات کو اس میں منتقل کر دیتا ہے اور یہی مقام ہے جہاں محبوب کا انتخاب بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے دوست تلاش کرنے اور دوست بنانے کے موضوع میں سخت اہتمام کیا ہے اور اس ضمن میں بہت سی آیات اور روایات وارد ہوئی ہےں۔ کیونکہ دوستی ہمرنگ بنانے والی،(محبوب کو)خوبصورت جتانے والی اور (اس کے عیوب سے) غافل کر دینے والی ہوتی ہے۔ جہاں (محبت) اپنا پرتو ڈالتی ہے (عاشق) کو عیب ہنر اور خار، گل و یاسمن نظر آتا(۲) ہے۔ بعض آیات و روایات میں ناپاک اور آلودہ لوگوں کی ہم

____________________

(۱) شرح اشارات، ج ۳، ص ۳۸۳ طبع جدید

(۲) عشق کی چند خامیاں بھی ہیں۔ ان خامیوں میں سے ایک یہ ہے کہ عاشق، معشوق کے حسن میں اتنا غرق ہو جاتا ہے کہ اس کی خامیوں سے غافل ہو جاتا ہے۔ حب الشئی یعمی و یصم یعنی کسی شئی کی محبت (آدمی کو) اندھا اور بہرا بنا دیتی ہے۔و من عشق شیأا اعشی بصره و امرض قلبه ۔ (نہج البلاغہ)

۶۳

یعنی جو کسی چیز سے عشق کرتا ہے تو اس کی آنکھیں ناقص ہو جاتی ہیں اور دل مریض ہوتا ہے۔

سعدی گلستان میں کہتا ہے: ''ہر شخص کو اپنی عقل کامل اور اپنا بچہ خوبصورت نظر آتا ہے۔،،اس منفی اثر سے اس بات کی نفی نہیں ہوتی جو ہم نے متن میں پڑھی ہے کہ عشق کا نتیجہ ہوش و ادراک کا حساس ہوجانا ہے۔ ہوش کی حساسیت اس اعتبار سے ہے کہ (عشق)انسان کو کاہلی سے نکالتا اور ' 'امکان '' کو ''عمل '' تک پہنچاتا ہے۔ لیکن عشق کا منفی اثر یہ نہیں ہے کہ آدمی کو کاہل بناتاہے، بلکہ (یہ ہے کہ) آدمی کو غافل بنا دیتا ہے ۔ کاہلی کا مسئلہ غفلت سے الگ ہے۔ اکثر اوقات کم عقل لوگ متوازن جذبات کے نتیجے میں کم غافل ہوتے ہیں۔ عشق، فہم کو تیز تر کرتا ہے لیکن توجہ کو یک جہت اور یکسو کر دیتا ہے اور اسی لیے متن میں کہا گیا ہے کہ عشق کی خاصیت یکسو کر دینا ہے اور یہی یکسوئی اور ارتکاز ہے جس کی وجہ سے خامی پیدا ہوجاتی ہے اور دوسرے امور کی طرف توجہ میں کمی آجاتی ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر، عشق نہ صرف عیب کو چھپاتا ہے بلکہ عیب کو حسن کا جلوہ بھی دیتا ہے۔ کیونکہ عشق کا ایک اثر یہ بھی ہے کہ جہاں اس کا پرتو پڑ جائے اس جگہ کو خوبصورت بنا دے۔ حسن کے ایک ذرے کو آفتاب، بلکہ سیاہ کو سفید اور ظلمت کو نور کا جلوہ دیتا ہے اور بقول وحشی:

اگر در کاسہئِ چشمم نشینی!

اگر تم میری آنکھوں میں بیٹھ جاؤ

بجز از خوبیئ لیلیٰ نہ بینی

تو لیلیٰ کے حسن کے علاوہ اور کچھ نہ دیکھو گے

۶۴

اور اس کی وجہ ظاہراً یہ ہے کہ عشق علم کی طرح نہیں ہے جو سو فیصد معلوم کے تابع ہو۔ عشق کا داخلی اور نفسیاتی پہلو اس کے خارجی اور ظاہری پہلو سے زیادہ (شدید) ہے یعنی عشق کا میزان حسن کے میزان کے تابع نہیں ہے بلکہ زیادہ تر عاشق کی استعداد اور اس کی صلاحیت کے میزان کے تابع ہے۔ در حقیقت عاشق ایسی صلاحیت اور مادے کا حامل اور راکھ کے اندر (پوشیدہ) ایسی آگ (آتش زیر خاکستر) ہے جو بہانہ اور موقعہ کی تلاش میں پھرے اور جوں ہی کوئی موقعہ ملے اور اتفاق ہاتھ آئے۔ (اگرچہ) ابھی اس اتفاق کا راز معلوم نہ ہوا، اسی لیے کہا جاتا ہے کہ عشق کی کوئی دلیل نہیں ہوتی، وہ داخلی قوت اپنا اثر دکھانے لگتی ہے اور اپنی توانائی کے حساب سے (محبوب کے لیے) حسن بناتا (مقرر کرتا) ہے نہ کہ اس حساب سے جتنا محبوب کے اندر حُسن ہے۔ یہی بات ہے جسے ہم متن میں پڑھتے ہیں کہ عاشق کی نظر میں معشوق کا عیب، ہنر اور خار، گُل و یاسمن ہے۔

نشینی اور دوستی سے سخت منع کیا گیا ہے اور بعض آیات و روایات میں نیک دل لوگوں کے ساتھ دوستی کرنے کی دعوت دی گئی ہے ۔ ابن عباس نے کہا کہ ہم پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میں حاضر تھے ۔ لوگوں نے پوچھا کہ بہترین ہمنشین کون ہے؟حضور(ص) نے فرمایا:

من ذکرکم باللّٰہ رؤیتہ، و زادکم فی علمکم منطقہ، و ذکرکم بالآخرۃ عملہ۔(۱)

وہ جس کا دیدار تمہیں خدا کی یاد دلائے، جس کی گفتار تمہارے علم میں اضافہ کرے اور جس کا کردار تمہیں آخرت اور قیامت کی یاد دلائے ۔

انسان، نیکو کار اور پاک طینت لوگوں کی محبت کی اکسیر کا محتاج ہے کہ محبت کرے اور پاک طینت لوگوں کی محبت اسے اپنا ہمرنگ و ہم شکل قرار دے۔

____________________

(۱)بحار الانوار جلد ۱۵، کتاب العشرہ ص ۵۱ طبع قدیم

۶۵

اصلاح اخلاق اور تہذیب نفس کے لیے مختلف طریقے تجویز کئے گئے ہیں اور گوناگوں مشرب (نظریات) پیدا ہو گئے ہیں۔ جن میں سے ایک سقراطی مشرب ہے۔ اس مشرب کے مطابق انسان کو چاہیے کہ اپنی اصلاح کے لیے عقل اور تدبیر کا راستہ اختیار کرے۔ انسان پہلے پاکیزگی کے فوائد اور پراگندہ اخلاق کے نقصانات پر مکمل یقین (ایمان) پیدا کرے، اس کے بعد عقل و منطق کے سہارے ایک ایک مذموم صفت کو تلاش کرے۔ اس شخص کی طرح جو اپنی ناک کے بال ایک ایک کر کے اکھیڑتا ہے یا اس کسان کی طرح جو اپنے کھیت سے غیر ضروری گھاس ایک ایک کرکے نکالتا ہے یا اس شخص کی طرح جو اپنی گندم سے ریت اور مٹی صاف کرنا چاہتا ہے اور یوں اپنے خرمن وجود کو پاک کرے۔ اس طریقے کے مطابق آدمی کو صبر، دقت اور سوچ سمجھ کر اخلاقی برائیوں کو تدریجاً زائل کرنا چاہےے اور یوں آلودگیوں سے اپنے وجود کا سونا پاک کرنا چاہےے اور شاید یہ کہا جا سکتا ہے کہ عقل کے لیے اس کام سے عہدہ برآ ہونا ممکن نہیں ہے ۔

فلسفی چاہتے ہیں کہ منطق اور طریق کار ( Methodology ) کے زور سے اخلاق کی اصلاح کی جائے۔ مثلاً وہ کہتے ہیں: عفت و قناعت لوگوں کے درمیان انسان کی عزت و وقار بڑھانے کا سبب ہیں اور حرص و لالچ ذلت اور پستی کا موجب ہیں یا وہ کہتے ہیں کہ علم قدرت اور طاقت کا موجب ہے۔ علم ایسا ہے علم ویسا ہے..۔ خاتم ملکِ سلیمان است علم۔ علم ایک ایسا چراغ ہے انسان کی راہ میں کہ جو راہ کو چاہ (کنویں) سے روشن کر دیتا ہے اور یا وہ کہتے ہیں کہ حسد اور بدخواہی روحانی بیمایاں ہیں۔ اجتماعی نقطہئ نظر سے ان کے برے نتائج نکلتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

شک نہیں ہے کہ یہ راستہ صحیح راستہ ہے اور یہ ایک اچھا ذریعہ ہے۔ لیکن سوال کسی دوسرے ذریعے کے مقابلے میں اس ذریعے کی قدر و قیمت کا ہے۔ مثلاً جس طرح ایک گاڑی اچھا ذریعہ ہے لیکن اسے ہوائی جہاز کے مقابلے میں دیکھنا چاہیے کہ اس وسیلے کی قدر و قیمت کیا ہے۔

ہمیں اس سے بحث نہیں ہے کہ رہنمائی کے نقطہئ نظر سے عقل کی قدر و قیمت کیا ہے یعنی اس نقطہئ نظر سے کہ اخلاقی مسائل کی واقعیت میں، عقلی اصطلاح میں استدلال (منطق) کس حد تک صحیح اور مطابق ہے اور یہ کہ (کس حد تک) خطا اور اشتباہ نہیں ہے۔ ہم اس قدر کہتے ہیں کہ اخلاقی اور اصلاحی فلسفے کے بے حد و بے شمار مکاتبِ فکر ہیں اور منطقی نقطہئ نگاہ سے یہ مسائل ابھی بحث اور اختلاف کی حد سے آگے نہیں بڑھے ہیں اور یہ پھر بھی ہم جانتے ہیں کہ اہل عرفان کلی طور پر کہتے ہیں:

۶۶

پای استدلالیان چوبین بود

پای چوبین سخت بی تمکین بود

منطقیوںکے پاؤں لکڑی کے ہیںاور لکڑی کے پاؤں سخت بے اعتبار ہوتے ہیں۔

ہماری بحث فعلاً اس پہلو سے نہیں ہے بلکہ اس میں ہے کہ ان وسائل کے نتیجے کا وزن کیا ہے؟

اہل عرفان اور ارباب سیروسلوک عقل و منطق کی بجائے محبت و ارادت کا راستہ اختیار کرنے کی تجویز پیش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: '' ایک انسان کامل کو تلاش کرو اور اس کی محبت و عقیدت کو دل کی گہرائیوں میں بٹھا لو کہ یہ عقل و منطق کی راہ کے مقابلے میں زیادہ بے خطر ہے اور سریع تر بھی۔ '' موازنے کے مقام پر دو ذریعے قدیم دستی اور جدید مشینی اوزار کی مانند ہیں۔ دل سے اخلاقی برائیوں کو زائل کرنے میں محبت و عقیدت کی تاثیر ویسی ہے، جس طرح دھات پر کیمیائی مواد کا اثر ہوتا ہے۔ مثلاً ایک نقاش حروف کے کناروں کو تیزاب کے سہارے دور کرتا ہے۔ ناخن، چاقو کی نوک یا اس طرح کی کسی اور چیز سے نہیں۔ لیکن اخلاقی برائیوں کی اصلاح کے لیے عقل کی قوت کا اثر بالکل اس طرح ہے کہ ایک شخص فولاد کے ریزے، مٹی میں سے اپنے ہاتھوں سے الگ کرنا چاہتا ہو۔ یہ کس قدر تکلیف اور زحمت کا کام ہے؟ اگر اس کے ہاتھ میں ایک طاقتور مقناطیس ہو تو ممکن ہے کہ ایک ہی گردش میں وہ ان تمام ریزوں کو الگ کر لے۔ محبت و عقیدت کی قوت مقناطیس کی طرح تمام صفات رذیلہ کو یکجا کرکے دور پھینک دیتی ہے۔ اہل عرفان کے عقیدے میں پاک طینت اور کامل لوگوں کی محبت و عقیدت ایک خود کار آلے کی طرح خود بہ خود برائیوں کو یکجا کرتی اور پھر باہر گرا دیتی ہے۔ مجذوبیت کی حالت اگر اس مقام تک پہنچ جائے تو یہ بہترین حالت ہے اور یہی ہے جو روح کو صاف کرتی اور عظمت بخشتی ہے۔

۶۷

جی ہاں! جو اس راہ پر چلے ہیں وہ محبت کی قوت سے اخلاق کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں اور وہ عشق و ارادت کی قدرت پر بھروسہ کرتے ہیں۔ تجربہ نشاندہی کرتا ہے کہ روح پر جتنا اثر نیک طینت لوگوں کی صحبت اور ان کی عقیدت و محبت سے پڑتا ہے اتنا اثر اخلاقیات کی سینکڑوں کتابیں پڑھ کر بھی نہیں ہو سکتا۔ مولوی نے محبت کے پیغام کو نالہئ نے (بانسری کی آواز) سے تعبیر کیا ہے وہ کہتا ہے:

ہمچونی زہری و تریاقی کہ دید؟

نے کی طرح کس نے زہر اور تریاق کو چکھا؟

ہمچونی دمساز و مشتاقی کہ دید؟

نے کی طرح کون دمساز اور مشتاق ہے ؟

ہرکرا جامہ ز عشقی چاک شد

شادباش ای عشق خوش سودایئ ما

او زِ حرص و عیب کلی پاک شد

ای طبیب جملہ علّتہائی ما(۱)

____________________

(۱) ترجمہ گزر چکا ہے۔ مثنوی معنوی

۶۸

کبھی ہم ایسے بزرگوں کو دیکھتے ہیں جن کے عقیدت مند ان کے راستہ چلنے، لباس پہننے، رویئے اور طرز گفتگو تک میں ان کی تقلید کرتے ہیں۔ یہ اختیاری تقلید نہیں بلکہ خود بخود اور فطری ہے۔ محبت و عقیدت کی قوت ہے جو عاشق کی تمام رگ و پے میں سرایت کر جاتی ہے اورہر لحاظ سے اسے محبوب کا ہمرنگ بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر انسان کو اپنی اصلاح کے لیے کسی مرد حق کے پیچھے پھرنااور اس سے عشق کرناچاہیے تاکہ صحیح معنوں میں اپنی اصلاح کر سکے۔

گر در سرت ہوای وصال است حافظا

باید کہ خاک در گہِ اہل ہُنر شوی

حافظ اگر تجھے وصال (محبوب حقیقی) کی تمنا ہے تو کسی اہل ہنر کی درگاہ کی خاک بننا چاہیے۔

عشق سے پہلے کوئی شخص عبادت یا اچھا عمل کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو پھر بھی سستی اس کے ارکان ہمت میں راستہ پا جاتی ہے لیکن جب محبت و ارادت اس کے وجود میں آ گئی تو وہ سستی اور آرام طلبی رخصت ہو جاتی ہے اور اس کا ارادہ پختہ اور ہمت بلند ہو جاتی ہے ۔

مہرخوباں دل و دین از ہمہ بی پروا برد

رخ شطرنج نبرد آنچہ رخ زیبا برد

محبوب کی محبت نے دل اور دین سب سے بے پرواہ کر دیا۔ شطرنج نے نہیں بلکہ خوبصورت چہرہ یہ چیزیں لے اڑا۔

۶۹

تومپندار کہ مجنون سرِ خود مجنون شد

از سمک تا بہ سماکش کشش لیلیٰ برد(۱)

من بہ سرچشمہئ خورشید نہ خود بردم راہ

ذرّہئ ای بودم و عشق تو مرا بالا برد

میں خود سے آسمان پہ نہیں پہنچا ہوں۔میں تو ایک ذرہ تھا لیکن تیرے عشق نے مجھے اونچا کیا۔

خم ابروی تو بود و کف مینوی توبود

کہ درین بزم بگردید و دل شیدا برد(۲)

یہ تیرے ابرو کا خم اور تیرا نرم ہاتھ ہی تو ہے جو اس محفل میں آیا اور دل لے گیا۔

____________________

(۱) ترجمہ گزر چکا ہے

(۲)علّامہ طباطبائی

۷۰

تاریخ ایسے بزرگوں کا پتہ دیتی ہے کہ کامل لوگوں کے ساتھ عشق و عقیدت نے، کم از کم عقیدتمندوں کے خیال میں، ان کے جسم و جان میں انقلاب پیدا کیا ہے۔ مولانا رومی بھی ایسے ہی لوگوں میں سے ایک ہیں۔ ابتداء میں وہ اس قدر پرسوز اور پرجوش نہیںتھے۔ ایک عالم تھے لیکن سرد مہری اور خاموشی کے ساتھ اپنے شہر کے ایک گوشے میں تدریس میں مشغول تھے۔ جس دن شمس تبریزی سے واسطہ پڑا اور ان کی عقیدت نے دل و جان میںجگہ بنائی،ان کو دگر گوں کر دیا۔ ان کے وجود میں ایک آگ بھڑک اٹھی، گویا ایک گولہ تھا جو بارود کے ذخیرے پر جا پڑا اور شعلے بھڑکنے لگے۔ وہ خود اشعری مسلک رکھنے والے ایک شخص ہیں لیکن ان کی مثنوی بے شک دنیا کی بزرگ ترین کتابوں میں سے ایک ہے۔ اس کے تمام اشعار ایک طوفان اور ایک تحریک ہیں۔ انہوں نے ''دیوان شمس '' اپنے محبوب کی یاد میں لکھا ہے۔ مثنوی میںبھی کثرت سے انہیں یاد کرتے ہیں۔ مثنوی مولانا رومی میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک مطلب بیان کرتے کرتے جونہی ''شمس '' کی یاد آتی ہے تو ان کی روح میں ایک سخت طوفان اٹھتا ہے اور ان کے وجود میں طوفانی لہریں پیدا ہو جاتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں:

این نفس جان دامنسم برتافتہ است

بوی پیراہان یوسف یافتہ است

اس جان نے میری روح کوجلا ڈالا ہے (جس طرح) اس نے پیرہن یوسف کی خوشبو پائی ہے

کز برائی حق صحبت سالہا

باز گو رمزی ازان خوش حالہا

سالہا سال کی صحبت کی خاطران خوش کن لمحات کا راز دھرا دے

۷۱

تا زمین و آسمان خندان شود

عقل و روح و دیدہ صد چندان شود

تاکہ زمین اور آسمان خوش ہوجائے ۔عقل، روح اور آنکھیں سو گنا بڑھ جائیں

گفتم ای دور اوفتادہ از حبیب

ہمچو بیماری کہ دور است از طبیب

میں نے کہا اے وہ جو دوست سے دور ہے ۔اس بیمار کی طرح جو طبیب سے دور ہے۔

من چہ گویم یک رگم ہشیار نیست

شرح آن یاری کہ او را یار نیست

میں کیا کہوں میری کوئی رگ ہوش میں نہیں ہے۔ اس دوست کی باتیں جو اپنے دوست کو کھوچکا ہے۔

شرح این ہجران و این خون جگر

این زمان بگذار تا وقت دگر

۷۲

اس فراق اور اس خون جگر کی باتیں۔ اس وقت بھول جا کسی اور وقت تک۔

فتنہ و آشوب و خونریزی مجو

بیش ازین از شمس تبریزی مگو(۱)

فتنہ، مصیبت اور خونریزی مت چاہو۔ اس سے زیادہ شمس تبریزی کے بارے میں مت بولو۔

اور یہ (صورت حال)حافظ کے اس قول کا مکمل مصداق ہے:

بلبل از فیض گل آموخت سخن ورنہ نبود

این ہمہ قول و غزل تعبیہ در منقارش(۲)

یہاں سے ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ کوشش اور کشش یا فعّالیت اور انجذاب کو ساتھ ساتھ ہونا چاہیے، جذبے کے بغیر کوشش سے کوئی کام نہیں بنتا۔ جس طرح کوشش کے بغیر صرف کشش کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔

____________________

(۱) مثنوی معنوی

(۲) ترجمہ گزر چکا ہے

۷۳

تاریخ اسلام سے مثالیں

تاریخ اسلام میں رسول اکرم(ص )کی ذات کے ساتھ مسلمانوں کی شدید محبت اور شیدائی کی واضح اور بے نظیر مثالیں ہم دیکھتے ہیں۔ بنیادی طور پر انبیاء (ع) اور فلسفیوںکے مکتب کے درمیان فرق یہی ہے کہ فلسفیوں کے شاگرد صرف متعلم ہیں اورفلسفی ایک معلم سے بڑھ کر کوئی نفوذ نہیں رکھتے۔ لیکن انبیاء (ع) کا نفوذایک محبوب کے نفوذ کی قبیل سے ہے۔ ایسا محبوب جس نے محب کی روح کی گہرائیوں تک راہ پائی اور اس پر قبضہ کر رکھاہے اور اس کی زندگی کے تمام پہلوؤں پر اس کی گرفت ہے۔ رسول اکرم(ص) کے عاشقوں میں سے ایک ابوذر غفاری ہےں۔ پیغمبر(ص) نے تبوک (مدینہ کے شمال میں سو فرسخ اور شام کی سرحدوں کے قریب) کی طرف کوچ کرنے کاحکم دیا۔ بعض لوگوں نے حیلہ تراشی کی اور منافقین کام خراب کرنے لگے۔ (مسلمان) فوجی ساز و سامان سے خالی اور راشن کی ایسی تنگی اور قحط کا بھی شکار ہیں کہ کبھی کئی آدمی ایک خرما پر گزارہ کرتے تھے، لیکن سب خوش اور زندہ دل ہیں۔ عشق نے انہیںطاقتور بنا رکھا اور رسول اکرم(ص) کے جذبے نے انہیں قدرت عطا کر رکھی ہے۔ ابوذر نے بھی اس لشکر کے ساتھ تبوک کی جانب کوچ کیا ہے۔ راستے میں سے تین آدمی یکے بعد دیگرے واپس چلے گئے۔ جو بھی واپس چلا جاتا، پیغمبر اکرم(ص) کو اس کی اطلاع دی جاتی اور ہر بار پیغمبر(ص) فرماتے:

اگر اس میں کوئی نیکی ہے تو خدا اسے واپس بھیجے گااور اگر ا س میں کوئی نیکی نہیںہے تواچھا ہوا چلا گیا۔

ابوذر کا کمزور اور لاغر اونٹ مزید چل نہ سکا۔ لوگوں نے دیکھا کہ ابوذر بھی پیچھے رہ گیا ہے۔ یا رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم)! ابوذر بھی چلاگیا۔آپ (ص)نے پھر وہی جملہ دہرایا:

۷۴

اگر اس میں کوئی نیکی ہے تو خدا اسے واپس بھیجے گااور اگر ا س میں کوئی نیکی نہیںہے تواچھا ہوا چلا گیا۔

فوج اپنا راستہ چلتی رہی اور ابوذر پیچھے رہ گیاتھا، لیکن بغاوت نہیں بلکہ اس کا جانور چلنے سے رہ گیا۔ اس نے جتنی کوشش کی اس نے حرکت نہیں کی۔ وہ چند میل پیچھے رہ گیا ہے۔ اس نے اپنا اونٹ چھوڑ دیا، اپنا سامان کاندھے پر اٹھایا اوراس گرم ہوا میں پگھلا دینے والی ریت پر چلنا شروع کر دیا۔ پیاس ایسی تھی کہ اسے مارے ڈالتی تھی۔ اس نے ایک ٹیلے پر پہاڑ کی اوٹ میں دیکھا کہ درمیان میں بارش کاپانی جمع ہے۔ اس نے چکھا اور اسے بہت ٹھنڈا اور میٹھا پایا۔ اپنے آپ سے کہا: میں اسے اس وقت تک نہیں پیوں گا جب تک میرے محبوب اور اللہ کے رسول(ص) اسے نہ پی لیں۔ اس نے اپنی مشک بھرلی، اسے بھی کاندھے پر اٹھایا اور مسلمانوں کی طرف دوڑا۔

لوگوں نے دور سے ایک سایہ دیکھا اور کہا: اے اللہ کے رسول(ص)! ہم ایک سائے کو دیکھ رہے ہیں جو ہماری طرف آرہا ہے۔ فرمایا یقیناً ابوذر ہوگا۔ وہ اور قریب آیا۔ جی ہاں ابوذر ہی تھے۔ لیکن تھکاوٹ اور پیاس سے ان کے پاؤں لڑکھڑا رہے ہیں یہاں تک کہ وہ پہنچے اور پہنچتے ہی گر پڑے۔ پیغمبر(ص) نے فرمایاا: اسے جلد پانی دو۔ اس نے ایک دھیمی آواز میں کہا: پانی میرے ساتھ ہے۔ پیغمبر (ص) نے فرمایاا: پانی ہے اور تو پیاس سے ہلاک ہونے والا ہے؟جی ہاں اے اللہ کے رسول (ص)! میں نے پانی چکھا تو مجھے شرم آئی کہ اپنے محبوب اور اللہ کے رسول (ص) سے پہلے میں اسے پی لوں !(۱) ۔ سچ ہے۔کیا دنیا کے کس مکتب میں ایسی شیفتگی،بے قراری اور قربانی ہم دیکھتے ہیں؟!

____________________

۱) بحار الانور جلد ۲۱، ص ۲۱۵۔۲۱۶ طبع جدید

۷۵

دوسری مثال

ایسے بیقرار عاشقوں میں سے ایک بلال حبشی بھی ہےں۔ قریش مکہ انہیں ناقابل برداشت شکنجوں میں ڈالتے اور چلچلاتی دھوپ میں تپتے ہوئے پتھروں پر لٹا کر انہیں ایذا پہنچاتے اور انہیں بتوں کانام لینے اور بتوں پر ایمان اور محمد (ص) سے بیزاری کا اعلان کرنے کے لیے کہتے۔ مولانارومی نے مثنوی کی جلد ششم میں اس کی داستان تعذیب بیان کی ہے اور انصاف کی بات یہ ہے کہ مولانارومی کا یہ بھی شاہکار ہے۔ کہتا ہے کہ حضرت ابوبکر انہیں مشورہ دیتے تھے کہ اپنی عقیدت کو پوشیدہ رکھیں لیکن ان میں پوشیدہ رکھنے کی تاب نہ تھی کہ عشق سرے سے سرکش اور خونی ہوتا ہے:

تن فدائی خار می کرد آن بلال

خواجہ اش می زد برائی گوشمال

بلال اپنے جسم کو کانٹوں پر قربان کرتا تھا اس کا مالک اس کو سزاکے طور پر مارتا تھا

کہ شرا تو یاد احمد می کنی

بندہئ بد مکر دین منی

تو کیوں احمد کو یاد کرتا ہے (اور کہتا) میرا غلام ہو کر میرے دین سے انکار کرتا ہے

می زد اندر آفتابش اور بہ خار

اور ''احد،، می گفت بھرافتخار

وہ اسکو دھوپ میں کھڑا کرکے کانٹوں سے مارتا

لیکن وہ فخر کے ساتھ ''احد،، پکارتا

۷۶

تاکہ صدیق آن طرف برمی گذشت!

آن ''احد،، گفتن بہ گوش اور برفت

یہاں تک کہ صدیق (حضرت ابوبکر) اس طرف گذرا اور ''احد،، کہنے کی آواز اس کے کانوں تک پہنچی

بعد از آن خلوت بدیدش پندداد

کز جہو دان خفیہ می دار اعتقاد!

پھر تنہائی میں (صدیق نے) اس کو مشورہ دیا کہ ان یہودیوں سے اپنا ایمان پوشیدہ رکھو

عالم السّر است پنہاں دار کام

گفت کردم تو بہ پیشت ای ہمام

وہ (خدا ) رازوں کاجاننے والا ہے اپنا مقصد پوشیدہ رکھ اس نے کہا اے حضرت میںنےآپ کی نصیحت سے پہلے توبہ کی ہے

توبہ کردن زین نمط بسیار شد

عاقبت از توبہ او بیزار شد

اس طری میری توبہ بہت ہوگئی ہے اورآخرکار وہ پشیمانی سے بیزار ہوا

۷۷

فاش کردا، اسپردتن را در بلا

کای محمد(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) ای عدوّ توبہ ہا

اپنے ک فاش کردیا اورجسم کو مصیبت کےسپرد کہاے محمد(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) اے پشیمانیوں کے دشمن

ای تن من وی رگ من پر ز تو

توبہ را گنجا کجا باشد در او

میرا یہ جسم اور اسکے ہر رگ میں تو ہی تو ہے اس میں پشیمانی کی گنجائش کہا ہے؟

توبہ رازین پس زردل بیرون کنم

ازحیات خلد توبہ چون کنم؟

میں نے پشیمانی کو اس کے بعد اپنے دل سے باہر نکال پھینکا ہے میں ابدی زندگی سے کیوں پشیمان ہو جاؤں؟

عشق قہا راست و من مقہور عشق

چون قمر روشن شدم از نور عشق

عشق قہار ہے اورمیںعشق کا مقہور میں عشق کے نور سے چاند کی طرح روشن ہوا ہوں

برگ کاہم در گفت ای تند باد

من چہ دانم تا کجا خواہم فتاد

اے ہوائے تند میں تیرے ہاتھ میں ایک تنکے کی طرح ہوں مجھے کیا خبر کہ (بالآخر) میں کہاں گر پڑوں گا

۷۸

گر ہلالم ور بلا لم می دوم

مقتدی بر آفتابت می شوم

میں ہلال ہوں یا بلال تیرے آفتاب کی اقتدا میں دوڑتا ہوں

ماہ را باز فتی و زاری چہ کار

در پی خورشید پوید سایہ وار

چاند کو غم وزاری سے کیا کام (وہ تو) سایہ کی طرح سورج کی پیچھے دوڑتا ہے

عاشقان در سیل تند افتادہ اند

برقضای عشق دل بنہادہ اند

عاشق طوفانوں میں کود پڑے ہیں اور اپنے آپ کو عشق کے رحم و کرم پر چِھوڑ دیا ہے

ہمچو سنگ آسیا اندر مدار

روز و شب گردان و نالان بی قرار

وہ چکی کے پاٹ کی طرح گھومتے ہیں دن رات نالہ کرتے اور بے قرار ہیں

۷۹

ایک اور مثال:

اسلامی مورخین صدر اسلام کے ایک مشہور تاریخی حادثے کو ''غزوۃ الرّجیع،، اور جس دن یہ حادثہ ہوا اس کو ''یوم الرّجیع،، کا نام دیتے ہیں وہ ایک سننے والی اور دلکش داستان ہے قبیلہئ ''عضل،، اور ''قارۃ،، جن کی ظاہراً قریش کے ساتھ رشتہ داری تھی اور مکّہ کے قرب و جوار میں رہتے تھے ان کے کچھ لوگوں نے ہجرت کے تیسرے سا ل رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا! ''ہمارے قبیلے کے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے ہیں، آپ مسلمانو ںکی ایک جماعت کو ہمارے درمیان بھیج دیجئے تاکہ وہ ہمیں دن کے معنی سمجھائیں۔ ہمیں قرآن کی تعلیم دیں اور اسلام کے اصول و قوانین ہمیں یادکرائیں۔،،

رسول اکرم نے اپنے اصحاب سے چھ اشخاص کو اس مقصد کے لیے ان کے ہمراہ بھیجا اور جماعت کی سرداری مرثد ابن ابی مرثد کو یا کسی ارو شخص کو جس کا نام عاصم بن ثابت تھا، سونپی۔ رسول خد کے بھیجے ہوئے لوگ اس گروہ کے ساتھ جو مدینہ آیا تھا، روانہ ہوگئے، یہاں تک وہ ایک مقام پر جو قبیلہئ ہذیل کی جائے سکونت تھا، پہنچے اور وہاں اتر گئے۔ رسول خد کے صحابی ہر طرف سے بے خبر آرام کر رہے تھے کہ اچانک قبیلہئ ہذیل کے ایک گروہ نے بجلی کی سی تیزی کے ساتھ ان پر ننگی تلواروں کے ساتھ حملہ کردیا۔ معلوم ہوا کہوہ گروہجو مدینہ آیا تھا یا تو شروع سے ہی دھوکہ دینے کا ارادہ رکھتا تھا یا جب وہ اس مقام پر پہچنے تو لالچ میں پڑ گئے اور اپنی بدل ڈالا۔ بہرحال یہ ظاہر ہے کہ انہوں نے قبیلہ ہذیل کے ساتھ مل کر سازش کی اور ان کا مقصد ان چھ مسلمانوں کو گرفتار کرنا تھا۔ رسول کے صحابی جوں ہی معاملے سے آگاہ ہوئے تیزی سے اپنے ہتھیاروں کی طرف لپکے اور اپنے دفاع کے لیے تیار ہوگئے۔ لیکن ہذیلیوں نے قسم کھائی کہ ہمارا مقصد تمہیں قتل کرنا نہیں بلکہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ تمہیں قریش مکہ کے حوالہ کریں اور ان سے کچھ پیسے لے لیں، ہم اب بھی تمہارے ساتھ معاہدہ کرتے ہیں کہ تمہیں قتل نہیں کریں گے۔ عاصم ابن ثابت سمیت ان میں سے تین افراد نے یہ کہہ کر کہ ہم مشرک کے ساتھ معاہدے کی رسوائی قبول نہیں کریں گے۔

۸۰

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159