جاذبہ و دافعہ علی علیہ السلام

جاذبہ و دافعہ علی علیہ السلام37%

جاذبہ و دافعہ علی علیہ السلام مؤلف:
زمرہ جات: امیر المومنین(علیہ السلام)
صفحے: 159

جاذبہ و دافعہ علی علیہ السلام
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 159 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 39100 / ڈاؤنلوڈ: 4972
سائز سائز سائز

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

امیر المومنین علیہ السلام مالک اشتر کو مصر کی گورنری پر مقرر کرنے کے بعد لوگوں کے ساتھ روش کے ضمن میں یوں ہدایت فرماتے ہیں:

و اشعر قلبک الرحمة للرعیة و المحبة لهم و اللطف بهم فاعطهم من عفوک و صفحک مثل الذی تحب ان یعطیک الله من عفوه و صفح ہ(۱)

اپنے دل میں لوگوں کے لیے محبت و ہمدردی اور مہربانی کا جذبہ بیدار کر... اپنے عفو و درگزر سے انہیں اس طرح فائدہ پہنچا جس طرح تو چاہتا ہے کہ خداوند عالم اپنے عفو و درگزر سے تجھے فائدہ پہنچائے۔

حکمران کے دل کو ملت کے ساتھ محبت و ہمدردی کا گھر ہونا چاہیے۔ صرف طاقت اور زور کافی نہیں ہے۔ طاقت اور زور کے ساتھ لوگوں کو بھیڑوں کی طرح ہنکانا تو ممکن ہے لیکن ان کی مخفی صلاحیتوں کو اجاگر کر کے ان سے کام لینا ممکن نہیں ہے۔ نہ صرف یہ کہ قدرت و زور کافی نہیں ہے بلکہ انصاف کا اجراء بھی اگر روکھے طریقے سے ہو توکافی نہیں ہے۔ حکمران کا ایک مہربان باپ کی طرح دل سے لوگوں کو دوست رکھنا اور ان سے ہمدردی جتانا ضروری ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ (حکمران) ایک جاذب اور دل موہ لینے والی شخصیت کا مالک ہو تاکہ لوگوں کی محبت، ہمت اور ان کی عظیم انسانی صلاحیتوں کو آگے بڑھا سکے اور ان سے اپنے ہدف کی خدمت کاکام لے سکے۔

____________________

(۱)نہج البلاغہ، نامہ ۵۳

۶۱

تہذیبِ نفس کا بہترین وسیلہ

عشق و محبت کے باب میں گزشتہ مباحث صرف مقدمہ تھیں اور اب ہم آہستہ آہستہ نتیجے تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ ہماری اہم ترین بحث جو در حقیقت ہماری اصل بحث ہے، یہ ہے کہ اولیاء کے ساتھ عشق و محبت اور نیکو کاروں کے ساتھ دوستی رکھنا بذاتِ خود ہدف ہے یا تہذیب نفس، اصلاحِ اخلاق اور انسانی فضائل اور رفعتوں کے حصول کا ایک ذریعہ ہے۔

عشق حیوانی میں، عاشق کی تمام تر نظر اور توجہ معشوق کی صورت، اعضاء کے تناسب اور اس کی جلد کے رنگ اور رعنائی پر ہوتی ہے۔ یہ ایک کشش ہے جو انسان کو اپنی طرف کھینچتی اور مجذوب بناتی ہے۔ لیکن اس کشش سے جی بھر جانے کے بعد یہ آگ پھر نہیں بھڑکتی، بلکہ سرد پڑ جاتی اور (بالآخر) بجھ جاتی ہے۔ لیکن عشق انسانی، جیساکہ ہم نے پہلے کہا ہے، حیات اور زندگی ہے، اطاعت کرانے اور پیروکار بنانے والا اور یہ عشق ہے جو عاشق کو معشوق کے ہمرنگ بناتا ہے اور وہ کوشش کرتا ہے کہ وہ معشوق کا ایک جلوہ ہو اور اس (معشوق) کی روش کا ایک عکس ہو۔ جس طرح کہ خواجہ نصیر الدین طوسی شرح اشارات بو علی میں کہتے ہیں:

۶۲

و النفسانی هوالذی یکون مبدئه مشاکلة نفس العاشق لنفس المعشوق فی الجوهر و یکون ا کثر عجابه بشمائل المعشوق لانها آثار صادرة عن نفس... و هو یجعل النفس لینة شیقة ذات و جد و رقة منقطعة عن الشواغل الدنیویه (۱)

روحانی عشق وہ ہے جس کی بنیاد عاشق اور معشوق کی ذات میں ہمرنگی پر ہو۔ عاشق کی زیادہ تر توجہ معشوق کی روش اور اس کے (دل) سے ظاہر ہونے والے تاثرات پر رہتی ہے۔ یہ وہ عشق ہے جو روح کو نرم، پر شوق اور سرشار بنا دیتا ہے۔ (یہ روح میں) ایسی رِقت پیدا کر دیتا ہے جو عاشق کو دنیوی آلودگیوں سے بیزار کردیتی ہے۔

محبت مشابہت اور ہمرنگی کی طرف لے جاتی ہے اور اس کی طاقت چاہنے والے کے اپنے محبوب کے ہمرنگ ہونے کا سبب بنتی ہے۔ محبت ایک ایسے برقی تار کی مانند ہے جو محبوب کے وجود سے چاہنے والے کو متصل کر دیتا ہے اور محبوب کی صفات کو اس میں منتقل کر دیتا ہے اور یہی مقام ہے جہاں محبوب کا انتخاب بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے دوست تلاش کرنے اور دوست بنانے کے موضوع میں سخت اہتمام کیا ہے اور اس ضمن میں بہت سی آیات اور روایات وارد ہوئی ہےں۔ کیونکہ دوستی ہمرنگ بنانے والی،(محبوب کو)خوبصورت جتانے والی اور (اس کے عیوب سے) غافل کر دینے والی ہوتی ہے۔ جہاں (محبت) اپنا پرتو ڈالتی ہے (عاشق) کو عیب ہنر اور خار، گل و یاسمن نظر آتا(۲) ہے۔ بعض آیات و روایات میں ناپاک اور آلودہ لوگوں کی ہم

____________________

(۱) شرح اشارات، ج ۳، ص ۳۸۳ طبع جدید

(۲) عشق کی چند خامیاں بھی ہیں۔ ان خامیوں میں سے ایک یہ ہے کہ عاشق، معشوق کے حسن میں اتنا غرق ہو جاتا ہے کہ اس کی خامیوں سے غافل ہو جاتا ہے۔ حب الشئی یعمی و یصم یعنی کسی شئی کی محبت (آدمی کو) اندھا اور بہرا بنا دیتی ہے۔و من عشق شیأا اعشی بصره و امرض قلبه ۔ (نہج البلاغہ)

۶۳

یعنی جو کسی چیز سے عشق کرتا ہے تو اس کی آنکھیں ناقص ہو جاتی ہیں اور دل مریض ہوتا ہے۔

سعدی گلستان میں کہتا ہے: ''ہر شخص کو اپنی عقل کامل اور اپنا بچہ خوبصورت نظر آتا ہے۔،،اس منفی اثر سے اس بات کی نفی نہیں ہوتی جو ہم نے متن میں پڑھی ہے کہ عشق کا نتیجہ ہوش و ادراک کا حساس ہوجانا ہے۔ ہوش کی حساسیت اس اعتبار سے ہے کہ (عشق)انسان کو کاہلی سے نکالتا اور ' 'امکان '' کو ''عمل '' تک پہنچاتا ہے۔ لیکن عشق کا منفی اثر یہ نہیں ہے کہ آدمی کو کاہل بناتاہے، بلکہ (یہ ہے کہ) آدمی کو غافل بنا دیتا ہے ۔ کاہلی کا مسئلہ غفلت سے الگ ہے۔ اکثر اوقات کم عقل لوگ متوازن جذبات کے نتیجے میں کم غافل ہوتے ہیں۔ عشق، فہم کو تیز تر کرتا ہے لیکن توجہ کو یک جہت اور یکسو کر دیتا ہے اور اسی لیے متن میں کہا گیا ہے کہ عشق کی خاصیت یکسو کر دینا ہے اور یہی یکسوئی اور ارتکاز ہے جس کی وجہ سے خامی پیدا ہوجاتی ہے اور دوسرے امور کی طرف توجہ میں کمی آجاتی ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر، عشق نہ صرف عیب کو چھپاتا ہے بلکہ عیب کو حسن کا جلوہ بھی دیتا ہے۔ کیونکہ عشق کا ایک اثر یہ بھی ہے کہ جہاں اس کا پرتو پڑ جائے اس جگہ کو خوبصورت بنا دے۔ حسن کے ایک ذرے کو آفتاب، بلکہ سیاہ کو سفید اور ظلمت کو نور کا جلوہ دیتا ہے اور بقول وحشی:

اگر در کاسہئِ چشمم نشینی!

اگر تم میری آنکھوں میں بیٹھ جاؤ

بجز از خوبیئ لیلیٰ نہ بینی

تو لیلیٰ کے حسن کے علاوہ اور کچھ نہ دیکھو گے

۶۴

اور اس کی وجہ ظاہراً یہ ہے کہ عشق علم کی طرح نہیں ہے جو سو فیصد معلوم کے تابع ہو۔ عشق کا داخلی اور نفسیاتی پہلو اس کے خارجی اور ظاہری پہلو سے زیادہ (شدید) ہے یعنی عشق کا میزان حسن کے میزان کے تابع نہیں ہے بلکہ زیادہ تر عاشق کی استعداد اور اس کی صلاحیت کے میزان کے تابع ہے۔ در حقیقت عاشق ایسی صلاحیت اور مادے کا حامل اور راکھ کے اندر (پوشیدہ) ایسی آگ (آتش زیر خاکستر) ہے جو بہانہ اور موقعہ کی تلاش میں پھرے اور جوں ہی کوئی موقعہ ملے اور اتفاق ہاتھ آئے۔ (اگرچہ) ابھی اس اتفاق کا راز معلوم نہ ہوا، اسی لیے کہا جاتا ہے کہ عشق کی کوئی دلیل نہیں ہوتی، وہ داخلی قوت اپنا اثر دکھانے لگتی ہے اور اپنی توانائی کے حساب سے (محبوب کے لیے) حسن بناتا (مقرر کرتا) ہے نہ کہ اس حساب سے جتنا محبوب کے اندر حُسن ہے۔ یہی بات ہے جسے ہم متن میں پڑھتے ہیں کہ عاشق کی نظر میں معشوق کا عیب، ہنر اور خار، گُل و یاسمن ہے۔

نشینی اور دوستی سے سخت منع کیا گیا ہے اور بعض آیات و روایات میں نیک دل لوگوں کے ساتھ دوستی کرنے کی دعوت دی گئی ہے ۔ ابن عباس نے کہا کہ ہم پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میں حاضر تھے ۔ لوگوں نے پوچھا کہ بہترین ہمنشین کون ہے؟حضور(ص) نے فرمایا:

من ذکرکم باللّٰہ رؤیتہ، و زادکم فی علمکم منطقہ، و ذکرکم بالآخرۃ عملہ۔(۱)

وہ جس کا دیدار تمہیں خدا کی یاد دلائے، جس کی گفتار تمہارے علم میں اضافہ کرے اور جس کا کردار تمہیں آخرت اور قیامت کی یاد دلائے ۔

انسان، نیکو کار اور پاک طینت لوگوں کی محبت کی اکسیر کا محتاج ہے کہ محبت کرے اور پاک طینت لوگوں کی محبت اسے اپنا ہمرنگ و ہم شکل قرار دے۔

____________________

(۱)بحار الانوار جلد ۱۵، کتاب العشرہ ص ۵۱ طبع قدیم

۶۵

اصلاح اخلاق اور تہذیب نفس کے لیے مختلف طریقے تجویز کئے گئے ہیں اور گوناگوں مشرب (نظریات) پیدا ہو گئے ہیں۔ جن میں سے ایک سقراطی مشرب ہے۔ اس مشرب کے مطابق انسان کو چاہیے کہ اپنی اصلاح کے لیے عقل اور تدبیر کا راستہ اختیار کرے۔ انسان پہلے پاکیزگی کے فوائد اور پراگندہ اخلاق کے نقصانات پر مکمل یقین (ایمان) پیدا کرے، اس کے بعد عقل و منطق کے سہارے ایک ایک مذموم صفت کو تلاش کرے۔ اس شخص کی طرح جو اپنی ناک کے بال ایک ایک کر کے اکھیڑتا ہے یا اس کسان کی طرح جو اپنے کھیت سے غیر ضروری گھاس ایک ایک کرکے نکالتا ہے یا اس شخص کی طرح جو اپنی گندم سے ریت اور مٹی صاف کرنا چاہتا ہے اور یوں اپنے خرمن وجود کو پاک کرے۔ اس طریقے کے مطابق آدمی کو صبر، دقت اور سوچ سمجھ کر اخلاقی برائیوں کو تدریجاً زائل کرنا چاہےے اور یوں آلودگیوں سے اپنے وجود کا سونا پاک کرنا چاہےے اور شاید یہ کہا جا سکتا ہے کہ عقل کے لیے اس کام سے عہدہ برآ ہونا ممکن نہیں ہے ۔

فلسفی چاہتے ہیں کہ منطق اور طریق کار ( Methodology ) کے زور سے اخلاق کی اصلاح کی جائے۔ مثلاً وہ کہتے ہیں: عفت و قناعت لوگوں کے درمیان انسان کی عزت و وقار بڑھانے کا سبب ہیں اور حرص و لالچ ذلت اور پستی کا موجب ہیں یا وہ کہتے ہیں کہ علم قدرت اور طاقت کا موجب ہے۔ علم ایسا ہے علم ویسا ہے..۔ خاتم ملکِ سلیمان است علم۔ علم ایک ایسا چراغ ہے انسان کی راہ میں کہ جو راہ کو چاہ (کنویں) سے روشن کر دیتا ہے اور یا وہ کہتے ہیں کہ حسد اور بدخواہی روحانی بیمایاں ہیں۔ اجتماعی نقطہئ نظر سے ان کے برے نتائج نکلتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

شک نہیں ہے کہ یہ راستہ صحیح راستہ ہے اور یہ ایک اچھا ذریعہ ہے۔ لیکن سوال کسی دوسرے ذریعے کے مقابلے میں اس ذریعے کی قدر و قیمت کا ہے۔ مثلاً جس طرح ایک گاڑی اچھا ذریعہ ہے لیکن اسے ہوائی جہاز کے مقابلے میں دیکھنا چاہیے کہ اس وسیلے کی قدر و قیمت کیا ہے۔

ہمیں اس سے بحث نہیں ہے کہ رہنمائی کے نقطہئ نظر سے عقل کی قدر و قیمت کیا ہے یعنی اس نقطہئ نظر سے کہ اخلاقی مسائل کی واقعیت میں، عقلی اصطلاح میں استدلال (منطق) کس حد تک صحیح اور مطابق ہے اور یہ کہ (کس حد تک) خطا اور اشتباہ نہیں ہے۔ ہم اس قدر کہتے ہیں کہ اخلاقی اور اصلاحی فلسفے کے بے حد و بے شمار مکاتبِ فکر ہیں اور منطقی نقطہئ نگاہ سے یہ مسائل ابھی بحث اور اختلاف کی حد سے آگے نہیں بڑھے ہیں اور یہ پھر بھی ہم جانتے ہیں کہ اہل عرفان کلی طور پر کہتے ہیں:

۶۶

پای استدلالیان چوبین بود

پای چوبین سخت بی تمکین بود

منطقیوںکے پاؤں لکڑی کے ہیںاور لکڑی کے پاؤں سخت بے اعتبار ہوتے ہیں۔

ہماری بحث فعلاً اس پہلو سے نہیں ہے بلکہ اس میں ہے کہ ان وسائل کے نتیجے کا وزن کیا ہے؟

اہل عرفان اور ارباب سیروسلوک عقل و منطق کی بجائے محبت و ارادت کا راستہ اختیار کرنے کی تجویز پیش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: '' ایک انسان کامل کو تلاش کرو اور اس کی محبت و عقیدت کو دل کی گہرائیوں میں بٹھا لو کہ یہ عقل و منطق کی راہ کے مقابلے میں زیادہ بے خطر ہے اور سریع تر بھی۔ '' موازنے کے مقام پر دو ذریعے قدیم دستی اور جدید مشینی اوزار کی مانند ہیں۔ دل سے اخلاقی برائیوں کو زائل کرنے میں محبت و عقیدت کی تاثیر ویسی ہے، جس طرح دھات پر کیمیائی مواد کا اثر ہوتا ہے۔ مثلاً ایک نقاش حروف کے کناروں کو تیزاب کے سہارے دور کرتا ہے۔ ناخن، چاقو کی نوک یا اس طرح کی کسی اور چیز سے نہیں۔ لیکن اخلاقی برائیوں کی اصلاح کے لیے عقل کی قوت کا اثر بالکل اس طرح ہے کہ ایک شخص فولاد کے ریزے، مٹی میں سے اپنے ہاتھوں سے الگ کرنا چاہتا ہو۔ یہ کس قدر تکلیف اور زحمت کا کام ہے؟ اگر اس کے ہاتھ میں ایک طاقتور مقناطیس ہو تو ممکن ہے کہ ایک ہی گردش میں وہ ان تمام ریزوں کو الگ کر لے۔ محبت و عقیدت کی قوت مقناطیس کی طرح تمام صفات رذیلہ کو یکجا کرکے دور پھینک دیتی ہے۔ اہل عرفان کے عقیدے میں پاک طینت اور کامل لوگوں کی محبت و عقیدت ایک خود کار آلے کی طرح خود بہ خود برائیوں کو یکجا کرتی اور پھر باہر گرا دیتی ہے۔ مجذوبیت کی حالت اگر اس مقام تک پہنچ جائے تو یہ بہترین حالت ہے اور یہی ہے جو روح کو صاف کرتی اور عظمت بخشتی ہے۔

۶۷

جی ہاں! جو اس راہ پر چلے ہیں وہ محبت کی قوت سے اخلاق کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں اور وہ عشق و ارادت کی قدرت پر بھروسہ کرتے ہیں۔ تجربہ نشاندہی کرتا ہے کہ روح پر جتنا اثر نیک طینت لوگوں کی صحبت اور ان کی عقیدت و محبت سے پڑتا ہے اتنا اثر اخلاقیات کی سینکڑوں کتابیں پڑھ کر بھی نہیں ہو سکتا۔ مولوی نے محبت کے پیغام کو نالہئ نے (بانسری کی آواز) سے تعبیر کیا ہے وہ کہتا ہے:

ہمچونی زہری و تریاقی کہ دید؟

نے کی طرح کس نے زہر اور تریاق کو چکھا؟

ہمچونی دمساز و مشتاقی کہ دید؟

نے کی طرح کون دمساز اور مشتاق ہے ؟

ہرکرا جامہ ز عشقی چاک شد

شادباش ای عشق خوش سودایئ ما

او زِ حرص و عیب کلی پاک شد

ای طبیب جملہ علّتہائی ما(۱)

____________________

(۱) ترجمہ گزر چکا ہے۔ مثنوی معنوی

۶۸

کبھی ہم ایسے بزرگوں کو دیکھتے ہیں جن کے عقیدت مند ان کے راستہ چلنے، لباس پہننے، رویئے اور طرز گفتگو تک میں ان کی تقلید کرتے ہیں۔ یہ اختیاری تقلید نہیں بلکہ خود بخود اور فطری ہے۔ محبت و عقیدت کی قوت ہے جو عاشق کی تمام رگ و پے میں سرایت کر جاتی ہے اورہر لحاظ سے اسے محبوب کا ہمرنگ بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر انسان کو اپنی اصلاح کے لیے کسی مرد حق کے پیچھے پھرنااور اس سے عشق کرناچاہیے تاکہ صحیح معنوں میں اپنی اصلاح کر سکے۔

گر در سرت ہوای وصال است حافظا

باید کہ خاک در گہِ اہل ہُنر شوی

حافظ اگر تجھے وصال (محبوب حقیقی) کی تمنا ہے تو کسی اہل ہنر کی درگاہ کی خاک بننا چاہیے۔

عشق سے پہلے کوئی شخص عبادت یا اچھا عمل کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو پھر بھی سستی اس کے ارکان ہمت میں راستہ پا جاتی ہے لیکن جب محبت و ارادت اس کے وجود میں آ گئی تو وہ سستی اور آرام طلبی رخصت ہو جاتی ہے اور اس کا ارادہ پختہ اور ہمت بلند ہو جاتی ہے ۔

مہرخوباں دل و دین از ہمہ بی پروا برد

رخ شطرنج نبرد آنچہ رخ زیبا برد

محبوب کی محبت نے دل اور دین سب سے بے پرواہ کر دیا۔ شطرنج نے نہیں بلکہ خوبصورت چہرہ یہ چیزیں لے اڑا۔

۶۹

تومپندار کہ مجنون سرِ خود مجنون شد

از سمک تا بہ سماکش کشش لیلیٰ برد(۱)

من بہ سرچشمہئ خورشید نہ خود بردم راہ

ذرّہئ ای بودم و عشق تو مرا بالا برد

میں خود سے آسمان پہ نہیں پہنچا ہوں۔میں تو ایک ذرہ تھا لیکن تیرے عشق نے مجھے اونچا کیا۔

خم ابروی تو بود و کف مینوی توبود

کہ درین بزم بگردید و دل شیدا برد(۲)

یہ تیرے ابرو کا خم اور تیرا نرم ہاتھ ہی تو ہے جو اس محفل میں آیا اور دل لے گیا۔

____________________

(۱) ترجمہ گزر چکا ہے

(۲)علّامہ طباطبائی

۷۰

تاریخ ایسے بزرگوں کا پتہ دیتی ہے کہ کامل لوگوں کے ساتھ عشق و عقیدت نے، کم از کم عقیدتمندوں کے خیال میں، ان کے جسم و جان میں انقلاب پیدا کیا ہے۔ مولانا رومی بھی ایسے ہی لوگوں میں سے ایک ہیں۔ ابتداء میں وہ اس قدر پرسوز اور پرجوش نہیںتھے۔ ایک عالم تھے لیکن سرد مہری اور خاموشی کے ساتھ اپنے شہر کے ایک گوشے میں تدریس میں مشغول تھے۔ جس دن شمس تبریزی سے واسطہ پڑا اور ان کی عقیدت نے دل و جان میںجگہ بنائی،ان کو دگر گوں کر دیا۔ ان کے وجود میں ایک آگ بھڑک اٹھی، گویا ایک گولہ تھا جو بارود کے ذخیرے پر جا پڑا اور شعلے بھڑکنے لگے۔ وہ خود اشعری مسلک رکھنے والے ایک شخص ہیں لیکن ان کی مثنوی بے شک دنیا کی بزرگ ترین کتابوں میں سے ایک ہے۔ اس کے تمام اشعار ایک طوفان اور ایک تحریک ہیں۔ انہوں نے ''دیوان شمس '' اپنے محبوب کی یاد میں لکھا ہے۔ مثنوی میںبھی کثرت سے انہیں یاد کرتے ہیں۔ مثنوی مولانا رومی میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک مطلب بیان کرتے کرتے جونہی ''شمس '' کی یاد آتی ہے تو ان کی روح میں ایک سخت طوفان اٹھتا ہے اور ان کے وجود میں طوفانی لہریں پیدا ہو جاتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں:

این نفس جان دامنسم برتافتہ است

بوی پیراہان یوسف یافتہ است

اس جان نے میری روح کوجلا ڈالا ہے (جس طرح) اس نے پیرہن یوسف کی خوشبو پائی ہے

کز برائی حق صحبت سالہا

باز گو رمزی ازان خوش حالہا

سالہا سال کی صحبت کی خاطران خوش کن لمحات کا راز دھرا دے

۷۱

تا زمین و آسمان خندان شود

عقل و روح و دیدہ صد چندان شود

تاکہ زمین اور آسمان خوش ہوجائے ۔عقل، روح اور آنکھیں سو گنا بڑھ جائیں

گفتم ای دور اوفتادہ از حبیب

ہمچو بیماری کہ دور است از طبیب

میں نے کہا اے وہ جو دوست سے دور ہے ۔اس بیمار کی طرح جو طبیب سے دور ہے۔

من چہ گویم یک رگم ہشیار نیست

شرح آن یاری کہ او را یار نیست

میں کیا کہوں میری کوئی رگ ہوش میں نہیں ہے۔ اس دوست کی باتیں جو اپنے دوست کو کھوچکا ہے۔

شرح این ہجران و این خون جگر

این زمان بگذار تا وقت دگر

۷۲

اس فراق اور اس خون جگر کی باتیں۔ اس وقت بھول جا کسی اور وقت تک۔

فتنہ و آشوب و خونریزی مجو

بیش ازین از شمس تبریزی مگو(۱)

فتنہ، مصیبت اور خونریزی مت چاہو۔ اس سے زیادہ شمس تبریزی کے بارے میں مت بولو۔

اور یہ (صورت حال)حافظ کے اس قول کا مکمل مصداق ہے:

بلبل از فیض گل آموخت سخن ورنہ نبود

این ہمہ قول و غزل تعبیہ در منقارش(۲)

یہاں سے ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ کوشش اور کشش یا فعّالیت اور انجذاب کو ساتھ ساتھ ہونا چاہیے، جذبے کے بغیر کوشش سے کوئی کام نہیں بنتا۔ جس طرح کوشش کے بغیر صرف کشش کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔

____________________

(۱) مثنوی معنوی

(۲) ترجمہ گزر چکا ہے

۷۳

تاریخ اسلام سے مثالیں

تاریخ اسلام میں رسول اکرم(ص )کی ذات کے ساتھ مسلمانوں کی شدید محبت اور شیدائی کی واضح اور بے نظیر مثالیں ہم دیکھتے ہیں۔ بنیادی طور پر انبیاء (ع) اور فلسفیوںکے مکتب کے درمیان فرق یہی ہے کہ فلسفیوں کے شاگرد صرف متعلم ہیں اورفلسفی ایک معلم سے بڑھ کر کوئی نفوذ نہیں رکھتے۔ لیکن انبیاء (ع) کا نفوذایک محبوب کے نفوذ کی قبیل سے ہے۔ ایسا محبوب جس نے محب کی روح کی گہرائیوں تک راہ پائی اور اس پر قبضہ کر رکھاہے اور اس کی زندگی کے تمام پہلوؤں پر اس کی گرفت ہے۔ رسول اکرم(ص) کے عاشقوں میں سے ایک ابوذر غفاری ہےں۔ پیغمبر(ص) نے تبوک (مدینہ کے شمال میں سو فرسخ اور شام کی سرحدوں کے قریب) کی طرف کوچ کرنے کاحکم دیا۔ بعض لوگوں نے حیلہ تراشی کی اور منافقین کام خراب کرنے لگے۔ (مسلمان) فوجی ساز و سامان سے خالی اور راشن کی ایسی تنگی اور قحط کا بھی شکار ہیں کہ کبھی کئی آدمی ایک خرما پر گزارہ کرتے تھے، لیکن سب خوش اور زندہ دل ہیں۔ عشق نے انہیںطاقتور بنا رکھا اور رسول اکرم(ص) کے جذبے نے انہیں قدرت عطا کر رکھی ہے۔ ابوذر نے بھی اس لشکر کے ساتھ تبوک کی جانب کوچ کیا ہے۔ راستے میں سے تین آدمی یکے بعد دیگرے واپس چلے گئے۔ جو بھی واپس چلا جاتا، پیغمبر اکرم(ص) کو اس کی اطلاع دی جاتی اور ہر بار پیغمبر(ص) فرماتے:

اگر اس میں کوئی نیکی ہے تو خدا اسے واپس بھیجے گااور اگر ا س میں کوئی نیکی نہیںہے تواچھا ہوا چلا گیا۔

ابوذر کا کمزور اور لاغر اونٹ مزید چل نہ سکا۔ لوگوں نے دیکھا کہ ابوذر بھی پیچھے رہ گیا ہے۔ یا رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم)! ابوذر بھی چلاگیا۔آپ (ص)نے پھر وہی جملہ دہرایا:

۷۴

اگر اس میں کوئی نیکی ہے تو خدا اسے واپس بھیجے گااور اگر ا س میں کوئی نیکی نہیںہے تواچھا ہوا چلا گیا۔

فوج اپنا راستہ چلتی رہی اور ابوذر پیچھے رہ گیاتھا، لیکن بغاوت نہیں بلکہ اس کا جانور چلنے سے رہ گیا۔ اس نے جتنی کوشش کی اس نے حرکت نہیں کی۔ وہ چند میل پیچھے رہ گیا ہے۔ اس نے اپنا اونٹ چھوڑ دیا، اپنا سامان کاندھے پر اٹھایا اوراس گرم ہوا میں پگھلا دینے والی ریت پر چلنا شروع کر دیا۔ پیاس ایسی تھی کہ اسے مارے ڈالتی تھی۔ اس نے ایک ٹیلے پر پہاڑ کی اوٹ میں دیکھا کہ درمیان میں بارش کاپانی جمع ہے۔ اس نے چکھا اور اسے بہت ٹھنڈا اور میٹھا پایا۔ اپنے آپ سے کہا: میں اسے اس وقت تک نہیں پیوں گا جب تک میرے محبوب اور اللہ کے رسول(ص) اسے نہ پی لیں۔ اس نے اپنی مشک بھرلی، اسے بھی کاندھے پر اٹھایا اور مسلمانوں کی طرف دوڑا۔

لوگوں نے دور سے ایک سایہ دیکھا اور کہا: اے اللہ کے رسول(ص)! ہم ایک سائے کو دیکھ رہے ہیں جو ہماری طرف آرہا ہے۔ فرمایا یقیناً ابوذر ہوگا۔ وہ اور قریب آیا۔ جی ہاں ابوذر ہی تھے۔ لیکن تھکاوٹ اور پیاس سے ان کے پاؤں لڑکھڑا رہے ہیں یہاں تک کہ وہ پہنچے اور پہنچتے ہی گر پڑے۔ پیغمبر(ص) نے فرمایاا: اسے جلد پانی دو۔ اس نے ایک دھیمی آواز میں کہا: پانی میرے ساتھ ہے۔ پیغمبر (ص) نے فرمایاا: پانی ہے اور تو پیاس سے ہلاک ہونے والا ہے؟جی ہاں اے اللہ کے رسول (ص)! میں نے پانی چکھا تو مجھے شرم آئی کہ اپنے محبوب اور اللہ کے رسول (ص) سے پہلے میں اسے پی لوں !(۱) ۔ سچ ہے۔کیا دنیا کے کس مکتب میں ایسی شیفتگی،بے قراری اور قربانی ہم دیکھتے ہیں؟!

____________________

۱) بحار الانور جلد ۲۱، ص ۲۱۵۔۲۱۶ طبع جدید

۷۵

دوسری مثال

ایسے بیقرار عاشقوں میں سے ایک بلال حبشی بھی ہےں۔ قریش مکہ انہیں ناقابل برداشت شکنجوں میں ڈالتے اور چلچلاتی دھوپ میں تپتے ہوئے پتھروں پر لٹا کر انہیں ایذا پہنچاتے اور انہیں بتوں کانام لینے اور بتوں پر ایمان اور محمد (ص) سے بیزاری کا اعلان کرنے کے لیے کہتے۔ مولانارومی نے مثنوی کی جلد ششم میں اس کی داستان تعذیب بیان کی ہے اور انصاف کی بات یہ ہے کہ مولانارومی کا یہ بھی شاہکار ہے۔ کہتا ہے کہ حضرت ابوبکر انہیں مشورہ دیتے تھے کہ اپنی عقیدت کو پوشیدہ رکھیں لیکن ان میں پوشیدہ رکھنے کی تاب نہ تھی کہ عشق سرے سے سرکش اور خونی ہوتا ہے:

تن فدائی خار می کرد آن بلال

خواجہ اش می زد برائی گوشمال

بلال اپنے جسم کو کانٹوں پر قربان کرتا تھا اس کا مالک اس کو سزاکے طور پر مارتا تھا

کہ شرا تو یاد احمد می کنی

بندہئ بد مکر دین منی

تو کیوں احمد کو یاد کرتا ہے (اور کہتا) میرا غلام ہو کر میرے دین سے انکار کرتا ہے

می زد اندر آفتابش اور بہ خار

اور ''احد،، می گفت بھرافتخار

وہ اسکو دھوپ میں کھڑا کرکے کانٹوں سے مارتا

لیکن وہ فخر کے ساتھ ''احد،، پکارتا

۷۶

تاکہ صدیق آن طرف برمی گذشت!

آن ''احد،، گفتن بہ گوش اور برفت

یہاں تک کہ صدیق (حضرت ابوبکر) اس طرف گذرا اور ''احد،، کہنے کی آواز اس کے کانوں تک پہنچی

بعد از آن خلوت بدیدش پندداد

کز جہو دان خفیہ می دار اعتقاد!

پھر تنہائی میں (صدیق نے) اس کو مشورہ دیا کہ ان یہودیوں سے اپنا ایمان پوشیدہ رکھو

عالم السّر است پنہاں دار کام

گفت کردم تو بہ پیشت ای ہمام

وہ (خدا ) رازوں کاجاننے والا ہے اپنا مقصد پوشیدہ رکھ اس نے کہا اے حضرت میںنےآپ کی نصیحت سے پہلے توبہ کی ہے

توبہ کردن زین نمط بسیار شد

عاقبت از توبہ او بیزار شد

اس طری میری توبہ بہت ہوگئی ہے اورآخرکار وہ پشیمانی سے بیزار ہوا

۷۷

فاش کردا، اسپردتن را در بلا

کای محمد(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) ای عدوّ توبہ ہا

اپنے ک فاش کردیا اورجسم کو مصیبت کےسپرد کہاے محمد(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) اے پشیمانیوں کے دشمن

ای تن من وی رگ من پر ز تو

توبہ را گنجا کجا باشد در او

میرا یہ جسم اور اسکے ہر رگ میں تو ہی تو ہے اس میں پشیمانی کی گنجائش کہا ہے؟

توبہ رازین پس زردل بیرون کنم

ازحیات خلد توبہ چون کنم؟

میں نے پشیمانی کو اس کے بعد اپنے دل سے باہر نکال پھینکا ہے میں ابدی زندگی سے کیوں پشیمان ہو جاؤں؟

عشق قہا راست و من مقہور عشق

چون قمر روشن شدم از نور عشق

عشق قہار ہے اورمیںعشق کا مقہور میں عشق کے نور سے چاند کی طرح روشن ہوا ہوں

برگ کاہم در گفت ای تند باد

من چہ دانم تا کجا خواہم فتاد

اے ہوائے تند میں تیرے ہاتھ میں ایک تنکے کی طرح ہوں مجھے کیا خبر کہ (بالآخر) میں کہاں گر پڑوں گا

۷۸

گر ہلالم ور بلا لم می دوم

مقتدی بر آفتابت می شوم

میں ہلال ہوں یا بلال تیرے آفتاب کی اقتدا میں دوڑتا ہوں

ماہ را باز فتی و زاری چہ کار

در پی خورشید پوید سایہ وار

چاند کو غم وزاری سے کیا کام (وہ تو) سایہ کی طرح سورج کی پیچھے دوڑتا ہے

عاشقان در سیل تند افتادہ اند

برقضای عشق دل بنہادہ اند

عاشق طوفانوں میں کود پڑے ہیں اور اپنے آپ کو عشق کے رحم و کرم پر چِھوڑ دیا ہے

ہمچو سنگ آسیا اندر مدار

روز و شب گردان و نالان بی قرار

وہ چکی کے پاٹ کی طرح گھومتے ہیں دن رات نالہ کرتے اور بے قرار ہیں

۷۹

ایک اور مثال:

اسلامی مورخین صدر اسلام کے ایک مشہور تاریخی حادثے کو ''غزوۃ الرّجیع،، اور جس دن یہ حادثہ ہوا اس کو ''یوم الرّجیع،، کا نام دیتے ہیں وہ ایک سننے والی اور دلکش داستان ہے قبیلہئ ''عضل،، اور ''قارۃ،، جن کی ظاہراً قریش کے ساتھ رشتہ داری تھی اور مکّہ کے قرب و جوار میں رہتے تھے ان کے کچھ لوگوں نے ہجرت کے تیسرے سا ل رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا! ''ہمارے قبیلے کے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے ہیں، آپ مسلمانو ںکی ایک جماعت کو ہمارے درمیان بھیج دیجئے تاکہ وہ ہمیں دن کے معنی سمجھائیں۔ ہمیں قرآن کی تعلیم دیں اور اسلام کے اصول و قوانین ہمیں یادکرائیں۔،،

رسول اکرم نے اپنے اصحاب سے چھ اشخاص کو اس مقصد کے لیے ان کے ہمراہ بھیجا اور جماعت کی سرداری مرثد ابن ابی مرثد کو یا کسی ارو شخص کو جس کا نام عاصم بن ثابت تھا، سونپی۔ رسول خد کے بھیجے ہوئے لوگ اس گروہ کے ساتھ جو مدینہ آیا تھا، روانہ ہوگئے، یہاں تک وہ ایک مقام پر جو قبیلہئ ہذیل کی جائے سکونت تھا، پہنچے اور وہاں اتر گئے۔ رسول خد کے صحابی ہر طرف سے بے خبر آرام کر رہے تھے کہ اچانک قبیلہئ ہذیل کے ایک گروہ نے بجلی کی سی تیزی کے ساتھ ان پر ننگی تلواروں کے ساتھ حملہ کردیا۔ معلوم ہوا کہوہ گروہجو مدینہ آیا تھا یا تو شروع سے ہی دھوکہ دینے کا ارادہ رکھتا تھا یا جب وہ اس مقام پر پہچنے تو لالچ میں پڑ گئے اور اپنی بدل ڈالا۔ بہرحال یہ ظاہر ہے کہ انہوں نے قبیلہ ہذیل کے ساتھ مل کر سازش کی اور ان کا مقصد ان چھ مسلمانوں کو گرفتار کرنا تھا۔ رسول کے صحابی جوں ہی معاملے سے آگاہ ہوئے تیزی سے اپنے ہتھیاروں کی طرف لپکے اور اپنے دفاع کے لیے تیار ہوگئے۔ لیکن ہذیلیوں نے قسم کھائی کہ ہمارا مقصد تمہیں قتل کرنا نہیں بلکہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ تمہیں قریش مکہ کے حوالہ کریں اور ان سے کچھ پیسے لے لیں، ہم اب بھی تمہارے ساتھ معاہدہ کرتے ہیں کہ تمہیں قتل نہیں کریں گے۔ عاصم ابن ثابت سمیت ان میں سے تین افراد نے یہ کہہ کر کہ ہم مشرک کے ساتھ معاہدے کی رسوائی قبول نہیں کریں گے۔

۸۰

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

لیکن اللہ نے ان کی کوششوں کوناکام بنادیا(۱) یوں وہ اپنے مکر وفریب کے جال میں خود پھنس کررہ گئے کیونکہ حق صبح کی طرح روشن اور شرافت ونجابت وپاکیزگی اور عصمت میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت سورج کی طرح تابناک ہے_

___________________

۱_ قابل ذکر ہے کہ سلمان رشدی نے بھی استعماری طاقتوں کی پشت پناہی اور سازش کے سائے میں رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حق میں تاریخی بے ادبی کرتے ہوئے شیطانی آیات نامی کتاب لکھی_ اس کتاب میں ان بے بنیاد روایات اور افسانوں سے بھی مدد لی گئی ، تمام باطل قوتیں حق کو مسخ کرنے کیلئے متحد ہوئیں لیکن علیعليه‌السلام کے لال روح اللہ خمینی بت شکن کے ایک جملے نے عصر حاضر کے شیاطین کے مکر و فریب کو خاک میں ملا دیا _( مترجم)

۱۰۱

تیسری فصل

شعب ا بوطالب تک کے حالات

۱۰۲

حضرت حمزہعليه‌السلام کے قبول اسلام کی تاریخ میں اختلاف

کہتے ہیں کہ حضرت حمزہ بن عبد المطلب نے بعثت کے دوسرے سال اسلام قبول کیا، کبھی یہ کہتے ہیں کہ ارقم کے گھر میں حضوراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے تشریف فرما ہونے کے بعد مسلمان ہوئے_ یہ دونوں باتیں آپس میں منافات رکھتی ہیں کیونکہ حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بعثت کے تیسرے سال کے اواخر میں ارقم کے گھر تشریف لے گئے تھے_ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت حمزہ عمر سے تین روز قبل مسلمان ہوئے جبکہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ بعثت کے چھٹے سال مسلمان ہوئے جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ارقم کے گھر سے نکلے_ اور اس میں بھی واضح تضاد پایا جاتا ہے کیونکہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بعثت کے تیسرے سال کے اواخر میں صرف ایک ماہ کیلئے حضرت ارقم کے گھر میں رہے (جیساکہ کہا گیا ہے ...اور آئندہ اس کا بھی ذکرہوگاکہ حضرت عمر حضرت حمزہ کے اسلام لانے کے کئی سال بعد اسلام لائے)_

حضرت حمزہ کا قبول اسلام

ابن ہشام اور دوسروں نے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے ہجرت حبشہ کے بعد اسلام قبول کیا یعنی بعثت کے تقریبا چھٹے سال_ ہم بھی اسی قول کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ جب وہ مسلمان ہوئے تو (جیساکہ مقدسی کہتا ہے) رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اور مسلمانوں کو تقویت حاصل ہوئی_ یہ بات مشرکین پر گراں گزری چنانچہ انہوں نے عداوت اوردوری اختیار کرنے کے بجائے دوسری راہ اختیار کی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مال و انعام کی لالچ دینے لگے_

۱۰۳

انہوں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو حسین لڑکیوں سے شادیوں کی بھی پیشکش کی_(۱) یہ پیشکش ہجرت حبشہ کے بعد کی بات ہے جیساکہ سیرت ابن ہشام سے ظاہر ہے _نیز حضرت حمزہ اعلانیہ دعوت شروع ہونے کے بعد مسلمان ہوئے جب حضرت ابوطالب اور قریش کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد قریش نے دشمنی اور ایذا رسانی کا راستہ اپنایا_

بہرحال حضرت حمزہ کا قبول اسلام ایک سنگ میل کی صورت اختیار کرگیا جس کے بارے میں قریش نے سوچا بھی نہ تھا _اس واقعے سے حالات کی کایا پلٹ گئی اور قریش کی قوت پرکاری ضرب لگی_ ان کے خطرات میں اضافہ ہوا اوران کی سرکشی ومنہ زوری کو لگام لگ گئی(۲) _

ایک دفعہ ابوجہل کوہ صفا کے پاس رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے نزدیک سے گزرا ،اس نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اذیت دی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو برا بھلا کہا ، نیز اسلام کی عیب جوئی اور امر رسالت کی برائی کرتے ہوئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شان میں گستاخی کی_ حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس سے کوئی بات نہیں کی_

حضرت حمزہعليه‌السلام شکاری تھے شکار سے لوٹتے تو پہلے خانہ کعبہ جاکر طواف کیا کرتے اور وہاں موجود افراد سے سلام وکلام کرتے اور پھر گھر لوٹتے تھے_ اس دفعہ حضرت حمزہعليه‌السلام شکار سے لوٹے ہی تھے کہ ایک عورت نے ابوجہل کی طرف سے رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بے ادبی کے بارے میں انہیں بتایا_ حضرت حمزہ غضبناک ہوکر سیدھے مسجد الحرام آئے تو انہوں نے ابوجہل کو لوگوں کے ساتھ بیٹھے پایا _وہ اس کی طرف بڑھے ، جب قریب پہنچے تو اپنی کمان اٹھائی اور زور سے اس کے سر پردے ماری جس سے ابوجہل کا سر پھٹ گیا _پھر انہوں نے کہا اے ابوجہل کیاتم اس شخص کی ملامت کرتے ہو؟ لو میں اس کے دین پرہوں اور وہی کہتا ہوں جو وہ کہتا ہے، اگر تم میں طاقت ہے تو آؤ میرا مقابلہ کرو_ان باتوں سے قبل ابوجہل نے ان کے سامنے عاجزی دکھائی اور گڑ گڑانے لگا لیکن انہوں نے قبول نہ کیا _بنی مخزوم کے افراد ابوجہل کی حمایت کیلئے کھڑے ہوگئے اور حضرت حمزہ سے کہا:'' ہم دیکھتے ہیں کہ تم نے اپنا دین بدل دیا ہے'' _حضرت حمزہ نے کہا: '' کیوں

___________________

۱_ البدء و التاریخ ج۴ص ۱۴۸_۱۴۹ اور یہی بات سیرت ابن ہشام سے بھی ظاہر ہے جس نے حضرت حمزہ کے قبول اسلام کا ذکر کرنے کے بعد ان امور کا بھی تذکرہ کیا ہے_

۲_ ملاحظہ ہو : کنز العمال ج ۱۴ ص ۴۸ ابن عساکر اور بیہقی کی الدلائل النبوة سے_

۱۰۴

نہ بدلوں میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں_اور ان کا قول حق ہے_ خدا کی قسم میں اس دین سے بازنہیں آؤں گا اگر تم سچے ہوتو مجھے روک کر دیکھو''_

ابوجہل نے کہا: '' ابوعمارہ (حمزہ) کومت چھیڑو کیونکہ واقعاً میں نے اس کے بھتیجے کو ناروا گالی دی تھی''_ مقدسی کہتا ہے کہ جب حضرت حمزہ مسلمان ہوئے تو اس سے اسلام اور مسلمانوں کی حیثیت مضبوط ہوئی(۱) اور نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو نہایت خوشی ہوئی_

قریش نے دیکھا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ قوت پکڑ گئے ہیں، بنابریں آپ کو گالی گلوچ دینے سے باز آگئے_ حضرت حمزہ نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے عرض کیا: '' بھتیجے اپنے دین کا کھلم کھلا پرچار کرو، خدا کی قسم مجھے یہ منظور نہیں کہ میں اپنے سابقہ دین پر باقی رہوں خواہ مجھے پوری دنیا ہی کیوں نہ مل جائے''(۲) _ حضرت حمزہ کو قریش کے تمام جوانوں پر برتری حاصل تھی اور وہ سب سے زیادہ غیور تھے_(۳)

حمزہ کا قبول اسلام جذباتی فیصلہ نہ تھا

بظاہربلکہ حقیقت میں بھی انہوں نے اسلام کو معرفت کے ساتھ قبول کیا تھا _کیونکہ آپ کے مذکورہ قول (کہ میرے لئے واضح ہوگیا ہے کہ وہ اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں اور ان کا قول حق ہے) سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے فقط جذبات سے مغلوب ہوکر اسلام قبول نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے اقوال وکردار کے قریبی مشاہدے کی بنا پر پہلے سے ہی اطمینان حاصل کرلیا تھا_

ان کا یہ کہنا کہ کیا تم اس کو برا بھلا کہتے ہو جبکہ میں بھی اس کے دین پر ہوں اس بات کا واضح طور پرشاہد ہے کہ وہ پہلے سے ہی اسلام کو قبول کرچکے تھے لیکن حالات کے پیش نظراسے پوشیدہ رکھ رہے تھے تاکہ یوں وہ مسلمانوں اوراسلام کی بہتر حمایت کرسکیں ،کیونکہ مسلمان قریش کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہ تھے اور

___________________

۱_ البدء و التاریخ ج ۵ ص ۹۸_

۲_ ملاحظہ ہو : تاریخ الامم و الملوک ج ۲ ص ۷۲و ص ۷۳اور السیرة النبویہ ابن ہشام ج ۲ ص ۳۱۲_

۳_ ملاحظہ ہو : تاریخ الامم و الملوک ج ۲ ص ۷۲_

۱۰۵

کتنے ہی لوگ ایسے تھے جنہیں مزید روحانی تربیت کی ضرورت تھی تاکہ وہ مشرکین کے مقابلے میں ان مشکل حالات سے عہدہ بر آہوسکتے_

ابوجہل نے بزدلی کیوں دکھائی؟

یہاں اس بات کی یاد دہانی ضروری ہے کہ مشرکین کاسرغنہ ابوجہل اس دن اپنے قبیلہ والوں کے ساتھ موجود تھا اور انہوں نے اس کی حمایت کیلئے آمادگی بھی ظاہرکی تھی لیکن اس کے باوجود ابوجہل نے خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے شیر کا سامنا کرنے میں عاجزی اوربزدلی دکھائی_ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ حضرت حمزہ کی مردانگی، قوت، غیرت اور شجاعت سے آگاہ تھا_وہ حضرت حمزہ کے عزم وارادے اور عقیدے کی راہ میں جذبہ قربانی کا مشاہدہ کررہا تھا_

دوسری طرف سے اسے تو فقط رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے دشمنی تھی اوراس کی وجہ حب دنیا اور اپنے مفادات کی حفاظت تھی اور وہ موت کا طلبکار نہ تھا ،بلکہ موت سے بچنا چاہتا تھا _وہ موت کو اپنے لئے سب سے بڑا خسارہ سمجھتا تھا لیکن حضرت حمزہ دین کی راہ میں موت کو کامیابی گردانتے تھے ،پس ان کیلئے کوئی وجہ نہ تھی کہ موت سے ڈرتے یا اسے شہد کی طرح شیرین نہ سمجھتے_

تیسری وجہ یہ تھی کہ ابوجہل، بنی ہاشم کامقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا کیونکہ بنی ھاشم کے درمیان اس کے بہت سے حامی موجود تھے_ اگر وہ ان کے ساتھ لڑتا توخاندان اور قبائلی تعصب کے نتیجے میں ان لوگوں سے ہاتھ دھو بیٹھتا جو اس کے ہم خیال اور ہم عقیدہ تھے_ بنی ہاشم قبائلی طرزفکر کی بنا پر حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ساتھ نہیں چھوڑسکتے تھے اگرچہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کے دین پر نہ تھے، عربوں کی سماجی ومعاشرتی پالیسیاں بھی اسی طرزفکر کی تابع ہوتی تھیں _چنانچہ ابولہب کے علاوہ باقی بنی ہاشم نے حضرت ابوطالب سے وعدہ کیا تھا کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمنوں کے مقابلے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت اور حفاظت کریں گے_بلکہ ان حالات میں اگر ابوجہل حضرت حمزہ کے خلاف کوئی اقدام کرتا تو اس سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - کو تقویت ملتی اور

۱۰۶

بہت سے بنی ہاشم، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت کرتے یا قومی جذبہ کے تحت دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتے اور یہ بات ابوجہل کو کسی صورت گوارا نہ تھی_

ان تمام حالات اور نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے اس نے اللہ اور اس کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے شیر (حمزہ) کے مقابلے میں ذلت آمیز خاموشی میں ہی عافیت جانی_

خلاصہ یہ کہ دنیوی زندگی سے ابوجہل کی محبت یا اس کی بزدلی وغیرہ (جس کے باعث وہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور بنی ہاشم کی مخالفت کو مضر سمجھتا تھا) کے نتیجے میں اس نے ذلت وپستی پر مبنی موقف اپنایا _یوں اللہ نے باطل کا سرنیچاکیا اور حق کا سر اونچا_

عَبَسَ وَ تَوَلّی ؟

مورخین نے فسانہ غرانیق کے بعد ایک اور واقعے کا تذکرہ کیا ہے جس کے بارے میں '' عبس وتولی'' والی سورت نازل ہوئی یہ سورت، سورہ نجم کے بعد نازل ہوئی ہے_

اس قصے کا خلاصہ کچھ یوں ہے:

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ قریش کے بعض رؤساکے ساتھ مصروف گفتگوتھے _یہ لوگ صاحبان مال وجاہ تھے_ اتنے میں عبداللہ ابن ام مکتوم آیا وہ نابینا تھا اس نے نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے قرآن کی آیت سننی چاہی اورعرض کیا: '' یا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ مجھے وہ چیزیں سکھایئےواللہ نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو سکھائی ہیں ''رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اس سے بے رخی کی اور ترشروئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سے رخ موڑ لیا _آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کی بات کو نا پسند کرتے ہوئے ان رؤسا کی طرف متوجہ ہوئے جن کو مسلمان بنانے کا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو شوق تھا _اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں:( عبس وتولی ان جائه الاعمی_ و ما یدریک لعله یزکی_ او یذکر فتنفعه الذکری_ اما من استغنی_ فانت له تصدی و اما من جائک یسعی_ و هو یخشی_ فانت عنه تلهی _) (سورہ عبس، آیت ۱_۱۰)

۱۰۷

یعنی اس نے منہ بسور لیا اور پیٹھ پھیرلی کہ ان کے پاس ایک نابینا آگیا اور تمہیں کیا معلوم شاید وہ پاکیزہ نفس ہوتا یا نصیحت حاصل کرلیتا تو نصیحت اس کے کام آتی لیکن جو مستغنی بنا بیٹھا ہے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کی فکر میں لگے ہوئے ہیں حالانکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پرکوئی ذمہ داری نہیں ہے اگروہ پاکیزگی اختیار نہ کرے لیکن جو شخص آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس دوڑ کرآیا ہے اور خوف الہی بھی رکھتا ہے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس سے بے رخی کرتے ہیں_

ایک روایت میں ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس کا آنا پسند نہ آیا اور سوچا کہ یہ قریشی خیال کریں گے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پیروکار اندھے، غلام اور بیچارے لوگ ہی ہیں ،پس آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے منہ بسور لیا

حَكَمْ سے منقول ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے کسی فقیر یا غریب سے منہ نہیں موڑا اور کسی امیر کو اہمیت نہیں دی_ ابن زید نے کہا ہے اگر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ وحی کو چھپانے والے ہوتے تو اس آیت کو ضرور چھپاتے جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں نازل ہوئی_(۱) پس ابن زید نے اس واقعے کی شدت قباحت کی بناپر رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی توصیف کی ہے کہ رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس واقعہ کے بہت زیادہ قبیح ہونے کے باوجود بھی اسے نہیں چھپایا ہے _

غیرشیعہ مفسرین ومحدثین کامذکورہ واقعے کے متعلق بنیادی طور پراتفاق ہے_ لیکن ہمارے نزدیک یہ ایک جعلی کہانی ہے جس کا صحیح ہونا ممکن نہیں_ اس کی وجوہات درج ذیل ہیں:

الف: اسناد کا ضعیف ہونا، کیونکہ تمام اسانید کی انتہاء یا تو عائشےہ، انس اور ابن عباس پرہوتی ہے جن میں سے کسی نے اس واقعے کا اپنی آنکھ سے خود مشاہدہ نہیں کیا کیونکہ اس وقت یا تو وہ بچے تھے یا ابھی پیدا ہی نہیں ہوئے تھے _(۲) یا ابومالک(۳) حکم ابن زید، ضحاک، مجاہد اور قتادہ پر منتہی ہوتی ہیں حالانکہ یہ سب تابعی ہیں _بنابریں روایت مقطوعہ ہے اور اس سے استدلال کرنا صحیح نہیں ہے_

___________________

۱_ رجوع کریں: مجمع البیان ج ۱۰ص ۴۳۷المیزان از مجمع و تفسیر ابن کثیر ج ۴ص ۴۷۰ از ترمذی و ابویعلی، حیات الصحابہ ج ۲ص ۵۲۰تفسیر طبری ج ۳۰ص ۳۳_۳۴ و در منثور ج ۶ص ۳۱۴_۳۱۵ نیز دیگر غیر شیعی تفاسیر_ ان تمام تفاسیر میں اس حوالے سے آپ مختلف روایات کا مشاہدہ کریں گے_ بطور مثال آخر الذکر کا مطالعہ کریں_

۲_ رجوع کریں: الہدی الی دین المصطفی ج ۱ص ۱۵۸ _ ۳_ بظاہر اس سے مراد ابومالک الاشجعی ہیں جو تفسیر و روایت میں مشہور اور تابعی ہیں _

۱۰۸

ب:عبارات والفاظ کا اختلاف(۱) یہاں تک کہ ایک ہی راوی سے منقول الفاظ میں اختلاف ہے چنانچہ ایک روایت میں حضرت عائشہ سے منقول ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس مشرکین کے رؤسا میں سے ایک شخص حاضر تھا_

دوسری روایت میں حضرت عائشہ ہی سے مروی ہے کہ عتبہ اور شیبہ حاضر تھے_

تیسری روایت میں حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اس مجلس میں قریش کے کئی بزرگان موجود تھے جن میں ابوجہل اور عتبہ ابن ربیعہ وغیرہ تھے_

نیز ابن عباس سے منقول ایک روایت میں ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام ، عتبہ، اپنے چچا عباس اور ابوجہل کے ساتھ مصروف گفتگو تھے لیکن ابن عباس ہی سے منسوب تفسیر میں مذکور ہے کہ وہ افراد عباس، امیہ بن خلف، صفوان بن امیہ اور ...تھے_قتادہ سے کبھی امیہ ابن خلف کانام نقل ہوا ہے اورکبھی ابی ابن خلف کا_

بقول مجاہد قریش کے سرداروں میں سے ایک سردار موجود تھا_ دوسری روایت میں مجاہد سے منقول ہے کہ عتبہ ابن ربیعہ اور امیہ ابن خلف موجود تھے_

ان باتوں کے علاوہ خود روایات میں بھی اختلاف ہے کہ اصل واقعہ کیا تھا؟ رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے الفاظ کیاتھے؟ اور ابن ام مکتوم کے الفاظ کیاتھے؟ یہاں ہم اسی قدر گفتگو پر اکتفا کرتے ہیں_ جو مزید تحقیق کا طالب ہو وہ متعلقہ کتابوں کا مطالعہ اور موازنہ کرے_

ج:مذکورہ آیات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شخص جس کا آیت میں تذکرہ ہوا ہے اس کی عادت، اور طبیعت ہی یہ تھی کہ وہ امیروں پر توجہ دیتا تھا اگرچہ کافرہی کیوں نہ ہوں اور فقیروں کی اصلاح پر کوئی توجہ نہیں دیتا تھا اگرچہ مسلمان ہی کیوں نہ ہوں حالانکہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس قسم کی صفات وعادات کے مالک نہ تھے_

___________________

۱_ الہدی الی دین المصطفی ج ۱ص ۱۵۸_۱۵۹_

۱۰۹

نیز فقیروں کے ساتھ ترشروئی اور بے اعتنائی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عادات میں شامل نہ تھیں اگرچہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دشمن ہی کیوں نہ ہوں_ پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیونکر اپنے چاہنے والوں اور مومنین کے ساتھ ایسا برتاؤ کرتے؟(۱) جبکہ اللہ نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہی کے بارے میں فرمایا ہے:( بالمومنین رؤوف رحیم ) (۲)

بلکہ آپ کی عادت ہی یہ تھی کہ فقیروں کے ساتھ مل بیٹھتے اور ان پر توجہ دیتے_ یہاں تک کہ یہ بات اشراف قریش کو پسند نہ آئی اور ان پر شاق گزری _ قریش کے بعض بزرگوں نے توحضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مطالبہ کیا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان غریبوں کو دورہٹادیں تاکہ اشراف آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پیروی کریں_ یہ سن کر عمرنے ان بیچاروں کو دور کرنے کا اشارہ کیا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی( ولاتطرد الذین یدعون ربهم بالغداة والعشی یریدون وجهه ) (۳) یعنی ان لوگوں کو دورنہ ہٹاؤ جو صبح وشام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اور اس کی مرضی کے طالب رہتے ہیں_

نیز خداوند نے اس سورہ سے قبل نازل ہونے والے سورہ قلم میں اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی توصیف میں فرمایا ہے کہ ''آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خُلق عظیم کے مرتبے پر فائز ہیں''_ پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیونکر مذکورہ عمل کے مرتکب ہوسکتے تھے جو اس آیت کے منافی ہو اور جس پر خدا کی طرف سے (نعوذ باللہ ) آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ملامت ومذمت ہو؟ کیا خدا (نعوذ باللہ ) اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اخلاق سے بے خبر تھا؟ یا یہ کہ باخبر ہونے کے باوجود کسی مصلحت کے تحت ایسا فرمایا _خدا ہمیں گمراہی سے بچائے، آمین_

د:مذکورہ آیات میں ارشاد ہوا ہے:( وما علیک الا یزکی ) یعنی اگر وہ پاکیزگی اختیار نہ کرے توتم پر کوئی ذمہ داری نہیں _یہ خطاب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کیلئے نہیں ہوسکتا کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تو لوگوں کی ہدایت اور ان کو

___________________

۱_ رجوع کریں: الہدی الی دین المصطفی ج ۱ص ۱۵۸، المیزان ج ۲۰ص ۲۰۳، تنزیہ الانبیاء ص ۱۱۹، مجمع البیان ج ۱ص ۴۳۷_

۲_ سورہ توبہ، آیت ۱۲۸_

۳_ رجوع کریں: الدر المنثور ج ۳ص ۱۲_۱۳ بظاہر یہ آیت ہجرت حبشہ سے قبل اتری کیونکہ راویوں میں ابن مسعود بھی ہے یا مہاجرین تک صلح کی افواہ پہنچنے اور ان کی مکہ واپسی کے بعد اتری_ یاد رہے کہ اس مقام پر حضرت عمر کا تذکرہ غلط ہے کیونکہ وہ اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے_ وہ ہجرت مدینہ سے کچھ مدت پہلے ہی مسلمان ہوئے، جس کا ذکر آئندہ ہوگا_

۱۱۰

پاکیزہ کرنے کیلئے ہی مبعوث ہوئے تھے، پھر یہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذمہ داری کیوں نہ ہو؟ بلکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اصلی ذمہ داری ہی یہی تھی_ ارشاد الہی ہے( هو الذی بعث فی الامیین رسولا منهم یتلو علیهم آیاته و یزکیهم و یعلمهم الکتاب و الحکمة ) (۱) یعنی خدا نے ہی امیوں کے درمیان، انہی میں سے ایک کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بنا کر بھیجا جو ان کیلئے آیات الہی پڑھ کرسناتا ہے اور انہیں پاکیزہ کرتا ہے اور کتاب وحکمت سکھاتا ہے_ بنابریں کیونکر ہوسکتا ہے کہ خدا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کواس بات کی ترغیب دے کہ لوگوں کے ایمان سے بے رغبت ہوجائیں؟(۲)

ھ:آیہ انذار( وانذر عشیرتک الاقربین واخفض جناحک لمن اتبعک من المؤمنین ) (۳) (جو سورہ عبس سے دوسال قبل نازل ہوئی ہے) میں ارشاد ہوا ہے ''اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرایئےور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اتباع کرنے والے مومنین کے سامنے اپنے کندھوں کو جھکایئے_ تو کیا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ بھول گئے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مومنین کے آگے شانے جھکانے کا حکم ہوا تھا؟ اگر ایسا ہو تو پھراس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اور بھی بہت ساری باتوں کو نہ بھولے ہوں؟ اور اگر بھولے نہیں تو پھراس صریحی حکم کی عمداً مخالفت کیوں فرمائی؟(۴)

و: آیت میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہو کہ آیت میں مخاطب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی ذات ہے _بلکہ خداوند عالم نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کو اس شخص کے متعلق خبر دی ہے جس نے( عبس و تولی ان جاء ه الاعمی ) اندھے کے آنے کی وجہ سے ترشروئی اختیار کرکے منہ پھیر لیا _ پھر خدا نے اس منہ بنانے والے کو مخاطب ہوکر کہا :( و ما یدریک لعله یزکی ) تمہیں کیا پتہ ہوسکتاہے کہ وہ پاکیزہ دل ہو_

ز:علامہ طباطبائی نے فرمایا ہے کہ ترجیح وعدم ترجیح کا معیار، امیری یا فقیری نہیں بلکہ اعمال صالحہ، اخلاق

___________________

۱_ سورہ بقرة آیت ۱۲۹

۲_ تنزیہ الانبیاء ص ۱۱۹

۳_ سورہ شعراء آیت ۲۱۴و ۲۱۵

۴_ المیزان ج ۲۰ ص ۳۰۳

۱۱۱

حسنہ اور صفات عالیہ کی موجودگی یا عدم موجودگی ہے اور یہ ایک عقلی حکم ہے جس کی تائید دین حنیف نے کی ہے پھر حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس حکم کی مخالفت کیسے کرسکتے ہیں اور کیونکر ایک کافر کو اس کے مال وجاہ کی بنا پر کسی مومن پر ترجیح دے سکتے ہیں؟ کیا اسلام نے اس سے منع نہیں کیا؟ کیا عقل اور ضمیر کے نزدیک یہ عمل غیرمنطقی اور قبیح نہیں ہے؟(۱)

اگر کوئی یہ کہے کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسلئے ایسا کیا تھا کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان مشرکین سے ایمان کی توقع رکھتے تھے_ یوں دین کو تقویت مل جاتی اور یہ مستحسن کام ہے کیونکہ دین کی راہ میں انجام پایا ہے_تواس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات قرآن کی آیات صریحہ کے خلاف ہے_ آیات کی رو سے مذکورہ فرد کی مذمت اسلئے ہوئی ہے کیونکہ وہ اس امیر پر اس کی امارت کے باعث توجہ دے رہا تھا اور اس فقیر سے اس کی فقیری کے باعث بے توجہی برت رہا تھا_

نیز اگر یہ بات درست ہوتی تو پھر لازم تھا کہ قرآن اس کے جذبہ دینی اور وظیفہ شناسی کو سراہتا نہ یہ کہ اس کی مذمت وتوبیخ کرتا_

بالآخر ہم یہ اشارہ کرتے چلیں کہ بعض لوگوں نے کہا ہے: ''ممکن ہے یہ کہا جائے کہ آیت میں خطاب کلی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا جب بھی کسی فقیر کو دیکھتے تو منہ بسورکر رخ پھیر لیتے'' اس کا جواب یہ ہے کہ :

۱_ یہ قول اس بات کے مخالف ہوجائے گا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ یہ واقعہ ایک دفعہ پیش آیا اور اس کا تکرار نہیں ہوا_

۲_ اگر تمام ناداروں سے منہ پھیر لینے کا ذکر مقصود ہے تو پھر اندھے کا ذکر کیوں آیا ہے ؟

۳_ کیا یہ صحیح ہے کہ یہ فعل رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی عادت میں شامل ہو؟

___________________

۱_ المیزان ج۲۰ ص ۳۰۴ کی طرف رجوع کریں_

۱۱۲

جرم کسی اورکا:

مذکورہ باتوں کی روشنی میں واضح ہوا کہ ان آیات میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام نہیں بلکہ کوئی اور شخص مراد ہے اور اس حقیقت کی تائید حضرت امام صادقعليه‌السلام سے منقول اس روایت سے ہوتی ہے کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ، عبداللہ ابن ام مکتوم کو دیکھتے تو فرماتے تھے مرحبا مرحبا خدا کی قسم کہ اللہ کبھی بھی تیرے بارے میں میری ملامت نہیں کرے گا _آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کے ساتھ لطف ومہربانی اور احسان فرماتے تھے یہاں تک کہ وہ اسی لئے کثرت شرمندگی کی بنا پر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں حاضر نہیں ہوتا تھا_(۱)

اس بیان سے اس شخص کی مذمت کاپہلو نکلتا ہے جو ابن ام مکتوم کے معاملے میں مذکورہ مخالفت کا مرتکب ہوا تھا اور اس احتمال کی مکمل نفی ہوجاتی ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے ایسا فعل سرزد ہوا ہو جو قابل سرزنش ہو_ اگر خدا نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سرزنش کی ہوتی تو یہ نفی بے مقصد ہو کر رہ جاتی ہے_

لیکن خیانت کاروں کے ہاتھوں اس بات میں تحریف ہوئی ہے اور انہوں نے یہ دعوی کیا ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے تھے، مرحبا اس کیلئے جس کے بارے میں خدانے میری ملامت کی، رجوع کریں درالمنثور اور دیگر کتب تفسیر کی طرف، لیکن حقیقت وہی ہے جسے ہم نے ذکر کیا ہے_

ایک سوال کا جواب

سوال: جب مذکورہ آیت میں مقصود کوئی اور ہو تو پھر خدانے (فانت لہ تصدی) (آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کی فکر میں لگے ہوئے ہیں) نیز (فانت عنہ تلہی) (آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس سے بے رخی کررہے ہیں)کیوں کہا؟_ ان دو عبارتوں سے یہی ظاہر ہے کہ ایک شخص کی طرف توجہ اور دوسرے سے بے رخی کرنے والا شخص جس کا ذکر آیت میں ہوا ہے،دینی جذبے سے سرشار تھا اور اسی جذبے کے پیش نظر اس نے ایک طرف توجہ دی اور دوسری طرف بے رخی اختیار کی_

___________________

۱_ تفسیر البرہان ج۳ ص ۴۲۸ تفسیر نور الثقلین ج/ ۵ ص ۵۰۹ مجمع البیان ج۱۰ ص ۴۳۷_

۱۱۳

جواب: آیات میں اس بات کی طرف کوئی اشارہ نہیں کہ مذکورہ توجہ خدا کی طرف دعوت دینے کیلئے تھی_ ممکن ہے کہ اس توجہ کی وجہ کوئی دنیوی مقصد ہو مثلا لوگوں کا اعتماد حاصل کرنا یا عزت حاصل کرنا وغیرہ_ رہی بات ارشاد الہی کی کہ (لعلہ یزکی) (شاید وہ پاکیزگی اختیار کرلے) تو اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ کام اس مخاطب کے ہاتھوں انجام پائے بلکہ ممکن ہے اس مجلس میں حاضر کسی اور کے ہاتھوں یہ کام مکمل ہو مثلا رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یا کسی اور کے ذریعے_

اس کے علاوہ اگر ہم فرض کریں کہ وہ شخص تبلیغ دین کی غرض سے ان امیروں کی طرف توجہ دے رہا تھاتب بھی یہ بات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے بارے میں نہیں کیونکہ تبلیغ رسول خدا کے ساتھ مخصوص نہیں چنانچہ ان لوگوں کے بقول آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے علاوہ ایک اور شخص بھی اس تبلیغ پر توجہ دیتا تھا چنانچہ اس کے ذریعے کچھ لوگ مسلمان ہوئے (بشرطیکہ یہ بات درست ہو)_

درست روایت

یہاں صحیح روایت وہ معلوم ہوتی ہے جو حضرت امام صادقعليه‌السلام سے مروی ہے_ اس حدیث کے مطابق یہ آیات ایک اموی کے بارے میں نازل ہوئیں جو نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس حاضر تھا_ اتنے میں ابن ام مکتوم آیا، اموی نے اسے گنداسمجھتے ہوئے تیوری چڑھائی اور سمٹ کر بیٹھ گیا نیز اس سے منہ پھیر لیا پس ان آیات میں خدانے اس کا قصہ بیان کیا اور اس کی مذمت کی_(۱)

واضح رہے کہ شروع میں آیات کا خطاب اس شخص کی طرف نہ تھا بلکہ خدا نے اس کے بارے میں غائب کا صیغہ استعمال کیا اور فرمایا اس نے منہ بسورا اور رخ پھیر لیا کیونکہ اس کے پاس ایک نابینا آیا پھر اچانک اسے مخاطب قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے (وما یدریک) (یعنی تجھے کیا معلوم ...)_

لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ شروع میں خدا نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مخاطب ہو (اس شخص کے بارے میں) اورپھر

___________________

۱_ مجمع البیان ج ۱۰ص ۴۳۷و تفسیر البرہان ج ۲ص ۴۲۸و تفسیر نور الثقلین ج ۵ص ۵۰۹ _

۱۱۴

خطاب کا رخ خود اس شخص کی طرف پھیردیاہو لیکن پہلا احتمال ذوق سلیم کی رو سے مناسب تر اور لطیف تر معلوم ہوتا ہے_

جناب عثمان پر الزام

بعض روایات میں عثمان پر الزام لگایا گیا ہے کہ مذکورہ واقعہ ابن ام مکتوم اور حضرت عثمان کے درمیان واقع ہوا_(۱)

لیکن ہم اسے مشکوک سمجھتے ہیں کیونکہ حضرت عثمان نے دیگر مہاجرین کے ساتھ حبشہ کو ہجرت کی تھی پھر کیونکر مکے میں یہ واقعہ پیش آسکتا تھا؟ ممکن ہے اس کا جواب یہ دیاجائے کہ بقولے تیس سے زیادہ مہاجر دو ماہ بعد حبشہ سے واپس لوٹے (جن کا ذکر ہوچکا ہے) ان میں حضرت عثمان بھی تھے_(۲)

بہرحال حضرت عثمان یا بنی امیہ کے کسی فرد پر الزام، معصوم نبی پر الزام کے مقابلے میں آسان سی بات ہے_(۳) کیونکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے اس قسم کے افعال کسی صورت میں بھی سرزد نہیں ہوسکتے لیکن بعض لوگ معصوم نبی پر اس قسم کی تہمت لگانے کو رواسمجھتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو اس قسم کے الزامات سے پاک ومنزہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں_

___________________

۱_ تفسیر قمی ج ۲ص ۴۰۵، تفسیر البرہان ج ۴ص ۴۲۷، تفسیر نور الثقلین ج ۵ص ۵۰۸

۲_ سیرت ابن ہشام ج ۲ص ۳

۳_ ہم حضرت عثمان کی بعض صفات کو اس آیت کے مطابق بھی پاتے ہیں جیساکہ عثمان اور عمار کے قصے سے ظاہرہوتا ہے جب مدینے میں مسجد کی تعمیر جاری تھی تو اس دوران حضرت عمار حضرت علیعليه‌السلام کے رجز کو حضرت عثمان کی طرف اشارہ کرنے کیلئے دہرا رہے تھے_ رجز یہ تھا:

لایستوی من یعمر المساجدا

یدا ب فیھا قائما و قاعداً

و من یری عن التراب حائدا

اس واقعہ کا ذکر آئندہ ہوگا _ انشاء اللہ

۱۱۵

دشمنان دین کا اس مسئلے سے سوء استفادہ

یہاں اس بات کی طرف اشارہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بعض متعصب عیسائیوں نے عبس وتولی والے قصے کی آڑمیں ہمارے نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شان میں گستاخی کرنے کی کوشش کی ہے_(۱) لیکن اللہ اپنے نور کو کامل کرتا ہے اگرچہ ان کافروں کو ناگوار گزرے ہم بھی یہاں یہ کہتے ہیں کہ یہ جعلی اور باطل چیزیں ہیں جن کے لئے خدا نے کوئی دلیل نہیں اتاری ہے _

مزید دروغ گوئیاں

انہی لوگوں نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ اقرع بن حابس اور عینیہ بن حصن، رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس آئے اورآپ کو عمار، صہیب، بلال اور خباب جیسے غریب مسلمانوں کے پاس تشریف فرما دیکھا_ تو ان کو حقیر سمجھا اور خلوت میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے کہا:'' عرب کے وفود آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس آتے رہتے ہیں اور ہمیں اس بات سے شرم آتی ہے کہ وہ ہمیں ان غلاموں کے ساتھ بیٹھا ہوا دیکھیں _ پس جب وہ آجائیں تو ان کو یہاں سے اٹھادیں'' آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے_

انہوں نے کہا اس بات کا تحریری طور پر وعدہ کریں، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کاغذ مانگا اور حضرت علیعليه‌السلام سے لکھنے کیلئے کہا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی( و لاتطرد الذین یدعون ربهم بالغداة و العشی یریدون وجهه ما علیک من حسابهم من ...) (۲) یعنی جولوگ اپنے رب کو صبح وشام پکارتے ہیں اور اسی کو مقصود بنائے ہوئے ہیں انہیں اپنی بزم سے دور نہ کیجئے گا_ پس آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے وہ کاغذ دور پھینک دیا انہیں بلایا اور انہی کے ساتھ بیٹھ گئے_ پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عادت ہی یہ ہوگئی کہ ان کے ساتھ بیٹھتے تھے جب بھی اٹھنا چاہتے تو خود اٹھ جاتے اور انہیں وہیں بیٹھا ہوا چھوڑ دیتے_ اس سلسلے میں خدا نے یہ آیت نازل کی( واصبر

___________________

۱_ رجوع کریں: الھدی الی دین المصطفی ج ۱ص ۱۵۸ _

۲_ سورہ الانعام، آیت ۵۲ _

۱۱۶

نفسک مع الذین یدعون ربهم بالغداة والعشی یریدون وجهه ولا تعد عیناک عنهم ) (۱) (اور اپنے نفس کو ان لوگوں کے ساتھ صبر پر آمادہ کر جو صبح وشام اپنے رب کو پکارتے ہیں اور اس کی رضا چاہتے ہیں، خبردار کہ تمہاری آنکھیں ان کی طرف سے پھرنے نہ پائیں) اس کے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کے ساتھ اس وقت تک بیٹھے رہتے تھے جب تک وہ خود پہلے اٹھ نہ جاتے، بعض روایات میں ہے کہ ان کا مقصود ابوذر وسلمان تھے_(۲)

ان بے بنیاد باتوں کی نفی عبداللہ ابن ام مکتوم کے واقعے میں مذکور بیانات سے ہی ہو جاتی ہے_ لہذا یہاں ہم تکرار کی ضرورت محسوس نہیں کرتے، علاوہ ازیں کئی ایک روایات کے مطابق پوری سورہ انعام مکے میں بیک وقت نازل ہوئی_(۳)

اس صورت میں یہ آیات کیونکر مذکورہ مناسبت سے مدینہ میں اتریں؟ اگر کوئی یہ کہے کہ پوری سورت کا ایک ساتھ اترنا اس بات کے منافی نہیں کہ مذکورہ آیات اس خاص مناسبت سے اتری ہوں تویہ بات بھی نا قابل قبول ہے کیونکہ پوری سورت ہجرت سے قبل (لیکن انصار کے قبول اسلام کے بعد) ایک ساتھ اتری، جب یہ سورت اتری تو اسماء بنت یزید انصاریہ نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی اونٹنی کی لگام تھام رکھی تھی(۴) جبکہ فرض یہ ہے کہ آیت مدینے میں نازل ہوئی_

اس کے علاوہ عبس وتولی والا واقعہ ہی اس بات کے اثبات کیلئے کافی ہے کہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس قسم کے کاموں سے باز رہتے خصوصاً اس صورت میں کہ اگر کوئی غیر معصوم شخص بھی ایسے عمل کا ارتکاب کرے تو اس کی مذمت کی جاتی ہے_

___________________

۱_ سورہ کہف آیت ۲۸_

۲_ حلیة الاولیاء ج ۱ص۱۴۶_۳۴۵، و مجمع البیان ج ۴ ص ۳۰۵ ،۳۰۶_ و البدایة و النہایة ج ۶ ص ۵۶و کنز العمال ج ۱ص ۲۴۵و ج۷ص ۴۶ابن ابی شیبہ و ابن عساکرسے نیز الدر المنثور (مذکورہ آیات کی تفسیر میں متعدد مآخذ سے)_

۳_ رجوع کریں: المیزان ج ۷ص ۱۱۰ _

۴_ الدر المنثور ج ۳ ص ۲۲_

۱۱۷

یہاں ہم اس بات کابھی اضافہ کرتے ہیں کہ سلمان تو مدینے میں مسلمان ہوئے نیز ابوذر بھی مسلمان ہونے کے فوراً بعد پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جدا ہوکر عسفان میں مکہ والوں کے قافلوں کی گزرگاہ پر رہنے لگے تھے (جس کا ذکر ہو چکا ہے)_

بظاہر مشرکین نے اس بات پر زور دیا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان غریب مسلمانوں کو اپنے پاس نہیں بٹھائیں، اس سلسلے میں انہوں نے حضرت ابوطالب سے بھی بات کی اور حضرت عمر نے بھی اس بات کو تسلیم کرنے کا اشارہ کیا( جیساکہ نقل ہوا ہے)_ پس سورہ انعام کی یہ آیات ان لوگوں کے ردمیں نازل ہوئیں _

ان آیات میں اس بات کا تذکرہ نہیں کہ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کی رائے کو قبول کیاہو جیساکہ مذکورہ روایات کا دعوی ہے _یہاں ہم روایات کے درمیان موجوداختلاف، ان کے کمزور پہلوؤں اوران لوگوں کے باطل خیالات کو بیان کرنے سے احتراز کرتے ہیں اور ابن ام مکتوم کے واقعے میں جو کچھ عرض کیا ہے، اسی پر اکتفا کرتے ہیں_البتہ یہ اضافہ بھی کرتے چلیں کہ آیت '' ولا تطرد الذین یدعون ربہم ...'' کا ظاہر پر یہی بتاتا ہے کہ یہ ڈانٹ ان لوگوں پر پڑی ہے جن سے یہ کام سرزد ہوا ہے اور '' ما علیک من حسابہم من شی ...'' کے قرینہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے مہربانی اور لطف فرماتے ہوئے اپنی نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ان لوگوں سے علیحدہ رکھا ہے _

حضرت عمر بن خطاب کا قبول اسلام

کہتے ہیں کہ حضرت حمزہ کے قبول اسلام کے تین روز بعد بعثت کے چھٹے سال حضرت عمر مسلمان ہوئے_ وہ اپنی تلوار لیکر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعض اصحاب کی تلاش میں نکلے تھے جن کی تعداد چالیس کے قریب تھی_ وہ کوہ صفا کے قریب ارقم کے گھر میں جمع تھے_ ان میں حضرت ابوبکر، حضرت حمزہ اور حضرت علیعليه‌السلام بھی تھے جو حبشہ نہیں گئے تھے_ راستے میں نعیم بن عبداللہ سے حضرت عمر کی ملاقات ہوئی اس کے پوچھنے پر

۱۱۸

حضرت عمر نے بتایا کہ وہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قتل کرنا چاہتے ہیں

نعیم نے سمجھایا کہ اگر وہ ایسا کرے تو بنی عبد مناف کے ہاتھوں سے نہیں بچ سکتا_ نیز یہ بھی بتایا کہ تمہارے بہنوئی اور بہن نے بھی اسلام قبول کرلیا ہے_ یہ سن کر حضرت عمر ان کی طرف چل پڑے وہاں پر حضرت خباب بن ارت ،ان کو سورہ طہ کی تعلیم دے رہے تھے_ جب حضرت عمر کی آہٹ سنائی دی تو حضرت خباب ایک کوٹھڑی میں چھپ گئے اور فاطمہ بنت خطاب نے صحیفے کو اپنی ران کے نیچے چھپالیا_

حضرت عمر گھرمیں داخل ہوئے اور مختصر سی گفتگو کے بعد اپنے بہنوئی پر ٹوٹ پڑے اور بہن کا سر زخمی کردیا_ اس وقت حضرت عمر کی بہن نے بتادیا کہ وہ دونوں مسلمان ہوچکے ہیں وہ جو چاہے کرے_ حضرت عمرنے جب اپنی بہن کو خون آلود دیکھا تو اپنے طرز عمل پر پشیمان ہوئے اور نوشتہ قرآن کو طلب کیا ،لیکن اس نے نہیں دیا یہاں تک کہ حضرت عمرنے اپنے خداؤں کی قسم کھائی کہ وہ اسے واپس کردے گا _اس وقت ان کی بہن نے کہا تم مشرک اور نجس ہو نیز تم غسل جنابت بھی نہیں کرتے ہو جبکہ قرآن کو پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں _یہ سن کر حضرت عمر اٹھے اور غسل (یا وضو) کیاپھر اس نوشتہ کی ابتداء سے کچھ حصہ پڑھا اور (حضرت عمر کو لکھنا پڑھنا آتا تھا) پڑھنے کے بعد اسے پسند کیا _اتنے میں حضرت خباب نے آکر یہ خبردی کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کے حق میں دعاکی ہے کہ خدا یا اس کے یا ابوجہل کے ذریعے اسلام کی تقویت فرما_

حضرت عمرنے کہا کہ وہ انہیں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس لے جائیں تاکہ اسلام قبول کرسکیں_ چنانچہ وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف نکلے، دروازہ کھٹکھٹایا، ایک شخص نے دروازے کے شگاف سے باہر نگاہ کی_جب عمر کو تلوار سجائے دیکھا تو سہم کر واپس ہوا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کو خبردی_

یہ سن کر حضرت حمزہ نے کہا اسے آنے دو اگر وہ بھلائی کی تلاش میں آیا ہے تو ہم بخل نہیں کریں گے لیکن اگر وہ برے ارادے سے آیا ہے تو ہم اسی کی تلوار سے اس کاکام تمام کردیں گے_ یوں انہیں اجازت ملی اور وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف آئے اور کمرے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ملاقات کی_ حضرت عمرنے کہا کہ وہ تو مسلمان ہونے کیلئے آیا ہے_ یہ سن کر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تکبیر بلندکی اور مسلمانوں نے بھی ایسی تکبیر کہی جسے مسجد الحرام میں

۱۱۹

بیٹھے ہوئے لوگوں نے بھی سن لیا_

اس کے بعد حضرت عمرنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے درخواست کی کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم باہر نکل کر اعلانیہ اپنا کام شروع کریں_ حضرت عمر کہتے ہیں ہم نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دوصفوں کے درمیان باہرنکالا ایک صف میں حضرت حمزہ تھے اور دوسری صف میں میں تھا_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اوپر غبار تھا جس طرح پسنے والے آٹے کا غبار ہوتا ہے _پھر ہم مسجد میں داخل ہوئے، میں نے قریش پر نظر کی وہ اتنے دل شکستہ ہوئے کہ اس قدر پہلے کبھی نہ ہوئے تھے_ اس دن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت عمر کو فاروق کالقب دیا_

ایک اور روایت کے مطابق قریش نے مل کر مشورہ کیا کہ کون حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قتل کرے، حضرت عمر نے کہا یہ کام میں کروں گا پھر وہ اپنی تلوارگردن میں لٹکائے نکل پڑے کہ راستے میں حضرت سعد بن ابی وقاص سے ملاقات ہوگئی_ ان کے درمیان لے دے ہوئی یہاں تک کہ دونوں نے اپنی تلواریں سونت لیں_ اتنے میں حضرت سعد نے حضرت عمر کو اس کی بہن کے مسلمان ہونے کی خبر سنائی_

تیسری روایت کی رو سے مسلمان باہر نکلے حضرت عمر ان کے آگے آگے یہ کہہ رہے تھے لا الہ الا اللہ محمد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ _جب قریش نے حضرت عمر سے ان کے پیچھے موجود افراد کے بارے میں سوال کیا تو حضرت عمر نے ان کو دھمکی دی کہ اگر ان میں سے کسی نے کوئی غلط حرکت کی تو وہ تلوار سے حملہ کریں گے _ پھر وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے آگے ہوئے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم طواف فرمارہے تھے اور عمر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حفاطت کررہے تھے پھر حضوراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے نماز ظہراعلانیہ طور پر پڑھی_

چوتھی روایت میں ہے کہ جن دنوں مسلمانوں پر بہت زیادہ تشدد ہو رہا تھا تو حضرت عمر مسلمان ہوئے اور وہ اپنے خالو ابوجہل کے پاس گئے (جیسا کہ ابن ہشام کہتا ہے البتہ ابن جوزی کا کہنا ہے کہ یہ بات غلط ہے کیونکہ عمر کا خالو ابوجہل نہیں بلکہ عاص بن ہاشم تھا ) حضرت عمرنے اسے خبردی کہ وہ مسلمان ہو چکے ہیں یہ سن کراس نے دروازہ بندکردیا حضرت عمر قریش کے دوسرے سردار کے پاس گئے تو وہاں بھی یہی ہوا _ حضرت عمرنے سوچا یہ بات مناسب نہیں کہ دوسرے مسلمانوں پرتشدد ہو لیکن مجھے کوئی نہ مارے، چنانچہ انہوں نے

۱۲۰

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159