جاذبہ و دافعہ علی علیہ السلام

جاذبہ و دافعہ علی علیہ السلام25%

جاذبہ و دافعہ علی علیہ السلام مؤلف:
زمرہ جات: امیر المومنین(علیہ السلام)
صفحے: 159

جاذبہ و دافعہ علی علیہ السلام
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 159 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 39112 / ڈاؤنلوڈ: 4972
سائز سائز سائز

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

ان سے جنگ کی اور مارے گئے لیکن دوسرے تین افراد زید بن دئنہ ،خبیب بن عدی اور عبد اللہ ابن طارقنے کمزوری دکھائی اور ہتھیار ڈال دیئے۔ ہذیلیوں نے ان تین افراد کو مضبوط رسی سے باندھا اور مکہ کی طرف چل دیئے۔ مکہ کے نزدیک پہنچ کر عبداللہ بن طارق نے اپنے ہاتھ کی رسی سے چھڑا لیے اور تلوار کی طرف بڑھائے۔ لیکن دشمن نے موقعہ نہ دیا ارو اس کو پتھر مار کر ہلاک کردیا۔ زیداور خبیب مکہ لے جائے گئے اور ہذیل کے دو قیدیوں کے بدے میں جو اہل مکہ کے پاس تھے ان کو فروخت کردیا اور چل دیئے۔ صفوانابن امیہ قرشی نے زید کو اس شخص سے خرید لیا جس کے قبضے میں وہ تھا تاکہ بعد یا احد میں مارے جانے والے اپنے باپ کے خون کا انتقال لیتے ہوئے اسے قتل کرے۔ لوگ اس کو قتل کرنے کے لےے مکہ سے باہر لے گئے قریش کے لوگ جمع ہوگئے تاکہ ماجرا دیکھ لیں۔ زید کو لوگ قتل گاہ لے گئے۔ وہ مردانہ وار آگے بڑھا اور ذرا بھی نہ گھبرایا۔ ابو سفیان بھی تماشہ دیکھنے والوں میں شامل تھا اس نے سوچا کہ ان حالات میں زید کی زندگی کے آخری لمحات سے فائدہ اٹھانا چاہےے شاید وہ اس (زید) سے کوئی اظہار ندامت و پشیمانی یا رسول اکرم کی نسبت کسی نفرت کا اظہار کراسکے۔ وہ آگے بڑھا اور زید سے کہا:

''تجھے خدا کی قسم دیتا ہوں کیا تو یہ پسندنہیں کرتا کہ اس وقت تیری جگہ محمد(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) ہوتا اور ہم اس کی گردن اڑا دیتے اور تو آرام سے اپنے بیوی بچوں کے پاس چلا جاتا؟،،

زید نے کہا ''خدا کی قسم میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ محمد(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کے پاؤں میں کوئی کانٹا بھی چبھے اور میں آرام سے اپنے گھر میں بیوی بچوں کے پاس بیٹھا رہوں۔،،

حیرت سے ابو سفیان کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ دوسرے قریشیوں کی طرف منہ کرکے کہا:

''خدا کی قسم میں نے کسی کے دوستوں کو اس سے اس قدر محبت کرتے ہوئے نہیں دیکھا جس قدر محمد(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کے دوست اس سے محبت کرتے ہیں۔،،

۸۱

تھوڑی دیر کے بعد خبیب ابن عدی کی باری آئی اس کو بھی لوگ پھانسی دینے کے لیے مکہ سے باہر لے گئے وہاں اس نے لوگوں سے دو رکعت نماز پڑھنے کی اجازت چاہی لوگوں نے اجازت دے دی اس نے انتہائی خصوع و خشوع کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھی اس کے بعد لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

''خدا کی قسم اگر یہ تہت نہ آتی کہ تم کہو گے کہ موت سے ڈرتا ہے، تو زیادہ نماز پڑھتا۔،،

لوگوں نے خبیب کو تختہ دار کے ساتھ مضبوطی سے باندھ دیا۔ عین اسی لمحے خبیب بن عدی کی مکمل روحانیت میں ڈوبی ہوئی دلنواز صدا، جس نے سب کو متاثر کیا اور ایک گروہ نے تو خوف خدا سے اپنے آپ کو زمین پر گرا دیا، سنی گئی۔کہ وہ اپنے خدا سے مناجات کر رہا تھا:

اللهم انا قد بلغنا رسالة رسولک فبلغه الغداة ها یصنع بنا، اللهم احصهم عدوا وا قلتهم بدرا و لا تغادر منهم احدا ۔

''خدا ہم نے تیرے رسول کی طرف سے عائد ذمہ داری پوری کردی ہے میں تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ آج صبح انہوں نے ہمارے ساتھ جو کچھ کیا ہے اس سے اس (رسول) کو آگاہ کردے خدایا ان تمام ظالموں کو اپنی نظر میں رکھ اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردے اور ان میں سے کسی کو باقی نہ رکھ۔،،

____________________

۱) سیرۃ ابن ہشام جلد دوم، ص ۱۷۹۔۱۷۳

۸۲

ایک مثال اور:

جیسا کہ ہم جانتے ہیں احد کے واقعات مسلمانوں کے لیے غم انگیز صورت میں انجام کو پہنچے ستر مسلمان جن میں پیغمر کے چچاجناب حمزہ بھی شامل ہیں، شہید ہوگئے۔ ابتداء میں مسلمان فتحیاب ہوئے بعد میں ایک گروہ کی بد نظمی سے، جو رسول خد کی طرف سے ایک ٹیلے کے اوپر متعین تھا، مسلمان دشمن کے شکنجوں کا نشانہ بنے۔ ایک گروہ مارا گیا اور ایک گروہ منتشر ہوگیا اور تھوڑے سے ہی لوگ رسول اکرم کے گرد باقی رہ گئے۔ آخرکار اسی چھوٹے سے گروہ نے دوبارہ فوج کو جمع کیا اور دشمن کو مزید پیش قدمی سے روکا۔ خاص طور پر یہ افواہ کہ رسول اکرم شہید کردیئے گئے، مسلمانوں کے زیادہ تر پراگندہ ہونے کا سبب بنی مگر جوں ہی انہوں نے سمجھا کہ رسول اکرم زندہ ہیں ان ک روحانی قوت لوٹ آئی۔

کچھ زخمی عاقبت سے بالکل بے خبر زمین پر پڑے تھے۔ زخمیوں میں سے ایک سعد ابن ربیع تھا جس کو بارہ گہرے زخم لگے تھے۔ اسی اثنا میں بھاگ جانے والے مسلمانوں میں سے ایک سعد کے پاس پہنچا جبکہ سعد زمین پر پڑا ہوا تھا ارو اس سے کہاکہ میں نے سنا ہے پیغمبر مارے گئے ہیں۔ سعد نے کہا کہ:

''اگر محمد(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) مارے گئے ہیں تو محمد(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کا خدا تونہیں مارا گیا، محمد(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کا دین بھی باقی ہے تو کیوں بیکاربیٹھا اور اپنے دین کا دفاع نہیں کررہا۔،،

۸۳

ادھر رسول اکرم اپنے اصحاب کو جمع کرکے ایک ایک صحابی کو پکار رہے تھے کہ یہ دیکھیں کون زندہ ہے اور کون مارا گیا ہے؟ سعد ابن ربیع کو نہ پایا پوچھا کون ہے جو جائے اور مجھِے سعد ابن ربیع کے بارے میں کوئی صحیح اطلاع پہنچائے؟ انصر میں سے ایک نے کا میں حاضرہوں۔ جب انصاری پہنچا تو سعد کی زندگی کی مختصر رمق باقی تھی انصاری نے کہا کہ اے سعد مجھے پیغمبر نے بھیجا ہے کہ میں ان کو اطلاع دوں کہ تو زندہ ہے یا مرگیا؟ سعد نے کہا پیغمبر کو میرا سلام پہنچا دو اور کہہ دو کہ سعد مرنے والوں میں ہے کیونکہ اس کی زندگی کے چند لمحات سے زیادہ باقی نہیں ہیں پیغمبر سے کہہ دو کہ سعد نے کہا ہے:

''خدا تمہیں وہ بہترین جزا دے جو ایک پیغمبر کے لیے سزاوار ہے۔،،

اس کے بعد انصاری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میری طرف سے تمام برادران انصار اصحاب پیغمبر کو بھی ایک پیغام پہنچا دو۔ کہہ دو کہ سعد کہتا ہے:

''خدا کے نزریک تمہارے پاس کوئی عذر نہ ہوگا کہ تہمارے پیغمبر صلعم کو کوئی گزند پہنچے اور تمہارے جسموں میں جان باقی ہو۔،،(۱)

____________________

۱) شرح ابن ابی الحدید۔ چاپ بیروت ج سوم، ص ۵۷۴ و سیرۃ ابن ہشام جلد دوم، ص ۹۴

۸۴

صدر اسلام کی تاریخ کے صفحات اس قسم کی شیفتگی ، عشق اور حسین واقعات سے پر ہیں۔ پوری انسانی تاریخ میں کوئی ایسا شخص نہیں پایا جاتا جو رسول اکرم کی طرح اپنے دوستوں، ہمعصروںاور اپنے بیوی بچوں کا محبوب و مراد ہو اور اس قدر وجدان کی گہرائیوںسے اسے چاہا ہو۔ ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ میں کہتا ہے:

''کوئی بھی رسول اکرم کی باتیں نہیں سنتا مگر یہ کہ ان کی محبت اس کے دل میں گھر کر جاتی اور اس کا دل ان کی طرف مائل ہوجاتا اسی لیے قریش مسلمانوں کو مکہ میں قیام کے دور میں ''صباۃ،، (دیوانے) کہا کرتے تھے اور کہتے تھے:

نخاف ان یصبوا لو لید بن المغیرةالی دین محمد

ہم ڈرتے ہیں کہ کہیں ولید ابن مغیرہ محمد(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کے دین کو دل نہ دے بیٹھے

ولئن صبا الولید و هو ریحانة قریش لیصبون قریش باجمعها

اگر ولید جو قریش کا گل سرسبد ہے دل دے بیٹھا تو تمام قریش دل دے بیٹھیں گے۔ وہ کہا کرتے : اس کی باتوں میں جادو ہے اور شراب سے زیادہ مست کرنے والی ہیں وہ اپنے بچوں کو ان کے پاس بیٹھنے سے منع کرتے تھے کہ مبادا ان کی باتیں اور ان کی پرکشش شخصیت ان کواپنی طرف جذب کرلے۔ جب بھی پیغمبر کعبہ کے گرد حجر اسماعیل میں بیٹھ کر بلند آواز میں قرآن پڑھتے یا خدا کا ذکر کرتے تو وہ اپنے کانوں میں اپنی انگلیاں ٹھونس لیتے تاکہ سن نہ سکیں اور کہیں ان کی باتوں کے جادو میں نہ آئیں اوران کی طرف جذب نہ ہوں۔ وہ اپنے سروں کو کپڑے سے ڈھانپ لیتے اور چہروں کو چھپا لیتے کہ کہیں ان کی پرکشش جبین ان کو اپنی گرفت میںنہ لے۔ اسی لیے اکثر لوگ ان کی باتین سنتے ہی اور ان کی جھلک دیکھتے ہی اور ان کے الفاظ کی حلاوت چکھتے ہی اسلام لے آئے۔،،(۱)

____________________

۱) شرح نہج البلاغہ جلد دوم، چاپ بیروت، ص ۲۲۰

۸۵

اسلام کے تاریخی حقائق میں سے ایک جوہر، جو صاحب نظر، انسان شناس محقق، اور ماہر عمرانیات کو حیرت میں ڈالتا ہے وہ انقلاب ہے جو اسلام نے جاہل عربوں میں برپا کیا۔

معمول کے مطابق اور معمول کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ایسے معاشرے کی اصلاح کے لیے طویل عرصے کی ضرورت ہوتی ہے یہاں تک کہ رذائل میں پختہ پرانی نسل ختم ہو جائے اور ایک نئی نسل کی بنیاد رکھی جائے لیکن جذب و کشش کے اثر کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے جیسا کہ ہم نے کہا ہے، (عشق) آگ کے شعلوں کی طرح مفاسد کی جڑوں کو جلا کر رکھ دیتا ہے۔

رسول خد کے اکثر صحابی آنحضرت سے عشق کرتے تھے اور یہ ہوائے عشق ہی ہے کہ طویل راستے ایک مختصر عرصے میں طے کئے اور ایک تھوڑی سی مدت میں اپنے معاشرے کو بدل کر رکھ دیا۔

پر و بال ماکمند عشق اوست موکشا نش می کشد تا کوی دوست

اس کے عشق کی کمند ہمارے پر و بال ہیں یہ ہمیں کوئے دوست کی طرف کھینچتا ہے

من چگو نہ نور دارم پیش و پس چون نباشد نور یارم پیش و پس

میں کس طرح اپنا گردو پیش روشن کرسکتا ہوں جب تک گردو پیش میرے دوست کی روشنی نہ ہو

نور او دریمن و یسر و تحت و فوق برسرو برگردنم چون تاج و طوق

اس کی روشنی ہی دائیں بائیں اور اوپر نیچے ہے وہی میرے سرکا تاج اور گلے کا طوق ہے

۸۶

علی علیہ سلام کی محبت قرآن و سنت میں

گذشتہ بحثوں میںمحبت کی تاثیر اور اس کی قدر و قیمت واضح ہوگئی اور ضمناً یہ بھی معلوم ہوا کہ پاک طینت لوگوں کے ساتھ ارادت خود منزل نہیں بلکہ اصلاح اور تہذیب نفس کا ایک ذ ریعہ ہے۔ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ اسلام اور قرآن نے ہمارے لےے کسی محبوب کا انتخاب کیا ہے یا نہیں؟

قرآن سابقہ پیغمبروں کی بات نقل کرتے ہوئے کہتا ہے کہ انہوں (انبیائ) نے ہمیشہ یہ کہا ''ہم لوگوں سے کوئی معاوضہ نہیں چاہتے ہمارا اجر صرف خدا پر ہے۔،، لیکن پیغمبر خاتم سے خطاب کرتا ہے:

( قل لا اسئلکم علیه اجرا الا المودة فی القربیٰ ) (۴۲:۲۳)

''کہدو میں تم سے کوئی اجر رسالت نہیں مانگتا مگر میرے اقرباء سے محبت۔،،

یہ ایک سوال کا مقام ہے کہ کیوں سارے پیغمبروں نے کسی اجر کا مطالبہ نہ کیا اور نبی اکرم نے اپنی رسالت کا اجر طلب کیا اور لوگوں سے اپنے اقرباء کی محبت بطور اجر رسالت چاہی؟ قرآن خود اس سوال کا جواب دیتا ہے:

( قل ماسئلتکم من اجر فهو لکم ان اجری الا علی الله ) (۳۴:۴۷)

''کہہ دو جو اجر میں نے مانگا ہے وہ ایسی چیز ہے جس میں تمہارا اپنا فائدہ ہے، میرا اجر سوائے خدا کے کسی پر نہیں ہے۔،،

یعنی جو کچھ میں نے بہ عنوان اجر رسالت چاہا ہے اس کا فائدہ تمہیں پہنچے گا نہ کہ مجِھے، یہ دوستی خود تمہاری اصلاح اور تکامل کے لےے ایک کمند ہے اس کا نام ''اجر،، ہے لیکن در حقیقت ایسی بھلائی ہے جو میں تمہارے لیے تجویز کررہا ہوں۔ اس اعتبار سے کہ اہلبیت اور اقرباء پیغمبر وہ لوگ ہیں جو آلودگی کے قریب نہیں پھٹکتے اور ان کا دامن پاک و پاکیزہ ہے۔

۸۷

طہارت و پاکیزگی کا خزینہ:

ان کے ساتھ عشق و محبت کا نتیجہ حق کی اطاعت اور فضائل کی پیروی کے علاوہ اور کچھ نہیں اور ان کی محبت ہی ہے ج واکسیر کی طرح ماہیت تبدیل کرتی اور کامل بناتی ہے۔ ''قُربیٰ،، سے مراد جو بھی ہو یہ بات مسلم ہے کہ علی علیہ سلام اس کا واضح ترین مصداق ہےں، فخرالدین رازی کہتا ہے:

زمخشری نے کشاف میں روایت کی ہے ''جب یہ آیت نازل ہوئی تو لوگوں نے کہا یا رسول اللہ! وہ قرابت دار جن کی محبت ہم پر واجب ہے، کون ہیں؟ فرمایا علی علیہ سلام و فاطمہ اور ان کے بچے۔،،

اس روایت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ چار نفر ''اقربائ،، پیغمبر ہیں اور لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ ان کے ساتھ محبت ارو ان کا احترام کیا کریں اور اس مطلب پر چند پہلوؤں سے استدلال کیا جاسکتا ہے:

۱ آیت''الا المودة فی القربیٰ،،

۲ اس میں کوئی شک نہیں کہ پیغمبر فاطمہ کو بہت زیادہ چاہتے تھے اور فرماتے تھے ''فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے وہ مجھے آزار پہنچاتا ہے جو اسے آزار پہنچائے،، اور علی علیہ سلام و حسنین کوبھی دوست رکھتے تھے، جیسا کہ اس سلسلے میں بہت سی متواتر روایات پہنچی ہیں،

۸۸

پس ان کی محبت ساری امّت پر فرض(۱) ہے کیونکہ قرآن فرماتا ہے:

( واتبعوه لعلکم تهتدون ) ۔ (اعراف نمبر ۱۵۸)

یعنی ''پیغمبر کی پیروی کرو تاکہ تم راہ ہدایت پا جاؤ۔،،

اور پھر فرماتا ہے:

( ولقد کان لکم فی رسول الله اسوة حسنة )

(سورہئ احزاب آیت نمبر ۲۱)

''تمہارے لیے اللہ کے رسول کی ذات میں بہترین نمونہ ہے۔،،

یہ سب (آیات) دلیل ہے کہ آل محمد(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) ___ جو علی علیہ سلام و فاطمہ اور حسنین ہیں، کی محبت تمام مسلمانوں پر واجب(۲) ہے۔ علی علیہ سلام کی محبت اور دوستی کے سلسلے میں پیغمبر سے اور بھی بہت سی روایات ہم تک پہنچی ہیں:

۱ ابن اثیر نقل کرتا ہے پیغمبر نے علی علیہ سلام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایاا:

''اے علی علیہ سلام خدا نے تم کو ایسی چیزوں سے زینت دی ہے کہ اس کے بندوں کے نزدیک ان سے زیادہ محبوب اور کوئی زینت نہیں ہے

____________________

۱) پیغمبر کی ان سے محبت شخصی پہلو نہیں رکھتی یعنی صرف اس لیے نہیں ہے کہ مثلاً آپ کی اولاد یا اولاد کی اولاد ہے اور یہ کہ ان کی جگہ اگر اور لوگ ہوتے توپیغمبر ان کو چاہتے بلکہ پیغمبر اس لیے ان کو دوست رکھتے تھے کہ وہ مثالی افراد تھے اور خدا ان کو دوست رکھتا تھا ورنہ پیغمبر کی اور بھی اولاد تھی جن سے نہ خود ان کو اس طرح کی محبت تھی اور نہ امّت پر اس طرح فرض ہے۔

۲) التفسیر الکبیر فخر الدین رازی۔ ج ۲۷، ص ۱۶۶، چاپ مصر

۸۹

دنیا سے کنارہ کشی نے تجھے اتنا سکون دیا کہ نہ تو دنیا کی کسی چیز سے بہرہ مند ہوتا ہے اور نہ وہ تجھ سے، تجھے مساکین کی محبت بخشدی، وہ تیری امامت پر خوش ہیں اور تو ان کی اطاعت و پیروی پر خوشحال ہے وہ شخص جو تجھ کو دوست رکھتا ہے اور تیری دوستی میں سچا ہے اور افسوس ہے اس پر جو تجھ سے دشمنی رکھتا ہے اور تیرے خلاف جھوٹ بولتا ہے۔،،(۱)

۲ سیوطی روایت کرتا ہے کہ پیغمبر نے فرمایاا:

''علی علیہ سلام کی دوستی ایمان ہے اور اس کی دشمنی نفاق،،(۲)

۳ ابو نعیم روایت کرتا ہے کہ پیغمبر نے انصار سے خطاب کرتے ہوئے فرمایاا:

''کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز نہ دکھاؤں کہ اگر تم نے اس کو مضبوطی سے تھام لیا تو میرے بعد ہر گز گمراہ نہیں ہوگے؟ انہوں نے کہا: کیو ںنہیں اے اللہ کے رسول!

فرمایا! یہ علی علیہ سلام ہیں ان سے محبت کرو جس طرح مجھ سے محبت کرتے ہوئے اوراس کا احترام کرو جس طرح میرا احترام کرتے ہو کیونکہ خدا نے جبرئیل کے ذریعہ مجئے حکم دیا ہے کہ یہ بات تمہیں بتادوں۔،،(۳)

____________________

۱) ساد الغابہ، ج ۴، ص ۲۳

۲) کنز العمال جمع الجوامع سیوطی، ج ۲، ص ۱۵۶

۳) حلتہ الاولیائ، ج ۱،ص ۶۳۔ اس سلسلے میں روایات بہت زیادہ ہیں اور ہم نے اہلسنت کی کتابوں میں نوے سے زیادہ ایسی روایات دیکھی ہیں جن کا موضوع علی علیہ سلام کی محبت اور دوستی ہے اور کتب شیعہ میں یہی بہت زیادہ روایات آئی ہیں اور مجلسی مرحوم نے بحار الانوار ج ۳۹، چاپ جدید میں ''حبّ و بغض امیر المومنین،، کے بارے میں ایک باب رکھا ہے اور اس باب میں ۱۲۳ روایات نقل کی گئی ہیں۔

۹۰

نیز اہل سنت نے پیغمبر اکرم سے کئی روایتیں نقل کی ہیں کہ ان روایتوں میں علی علیہ سلام کے چہرے کی طرف دیکھنا اور علی علیہ سلام کی فضیلت بیان کرنے کو عبادت قرار دیا گیا ہے۔

۱ محب طبری حصرت عائشہ سے روایت کرتا ہے انہوں نے کہا:

''میں نے اپنے باپ کو دیکھا کہ علی علیہ سلام کی چہرے کی طرف بہت زیادہ دیکھتے میں نے کہا بابا جان! میں دیکھتی ہوں کہ آپ علی علیہ سلام کے چہرے کی طرف بہت زیادہ دیکھتے ہیں؟ انہوں نے کا اے میری بیٹی! میں نے پیغمبر خاد سے سنا ہے کہ فرمایاا ''علی علیہ سلام کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے۔،،(۱)

۲ ابن حجر حضرت عائشہ سے روایت کرتا ہے کہ پیغمبر نے فرمایاا:

''میرا بہترین بھائی علی علیہ سلام ہے اور بہترین چچا حمزہ ہے اور علی علیہ سلام کا ذکر اور اس کی فضیلت بیان کرنا عبادت ہے۔،،(۲)

علی علیہ سلام لوگوں میں خدا و رسول کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہیں اور لازمی طور پر بہترین محبوب ہیں۔

انس ابن مالک کہتا ہے:

ہر روز انصار کے بچوں میں سے ایک پیغمبر کے کاموں کو انجام دیا کرتا تھا، ایک روز میری باری تھی امّ ایمن نے ایک بھنا ہوا پرندہ پیغمبر کی خدمت میں پیش کیا اور کہا کہ اے اللہ کے رسول اس پرندے کو میں نے خود پکڑا ہے اور آپ کی خاطرپکایا

____________________

۱) الریاص النصرۃ ج ۲، ص ۲۱۹ اور تقریبا ۲۰ روایات اسی موضوع پر ہم نے دیکھیں جو کتب اہل سنت س نقل کی گئی ہیں۔

۲) الصواعق المحرقہ ص ۷۴ اور اس موضوع پر پانچ اور روایات اہل سنت کی مختلف کتابوں سے نقل کی گئی ہیں۔

۹۱

ہے۔ حضرت نے فرمایاا خدایا! اپنے محبوب ترین بندے کو بھیج دے کہ وہ میرے ساتھ مل کر یہ مرغ کھائے۔ اسی اثناء میں دروازہ کھٹکھٹایا گیا پیغمبر نے فرمایاا انس دروازہ کھول! میں نے اپنے دل میں کہا خدا کرے یہ کوئی انصاری ہو لیکن میں نے دروازے کے پیچھے علی علیہ سلام کو دیکھا، میں نے کہا کہ پیغمبر ایک کام میں مشغول ہیں اور واپس آکر اپنی جگہ کھڑا ہوگیا۔ دوبارہ دروازہ کھٹکھٹایا گیا پیغمبر نے فرمایاا دورازہ کھول دو۔ میں پھر دعا کرتا تھا کہ کوئی انصاری ہو۔ میں نے دورازہ کھولا دوبارہ علی علیہ سلام تھے۔ میں یہ کہہ کر کہ پیغمبر کام میں مشغول ہیں واپس آگیا اور اپنی جگہ کھڑا ہوگیا۔ دروازہ پھر کھٹکھٹایا گیا پیغمبر نے فرمایاا: جاؤ او ردروازہ کھول دو اور اس کو گھر میں لے آؤ تو پہلا شخص نہیں ہے جو اپنی قوم سے محبت کرتا ہے وہ انصاری نہیں ہے۔ میں گیا اور علی علیہ سلام کو گھر لے آیا اور انہوں نے پیغمبر کے ساتھ بھنا ہوا پرندہ کھالیا۔ میں گیا۔ (مستدرک الصحیحین ج ۳، ص ۱۳۱۔ یہ واقعہ مختلف انداز میں اٹھارہ سے زیادہ طریقوں سے اہلسنت کی معتبر کتابوں میں نقل کیا گیا ہے)

۹۲

جاذبہئ علی علیہ سلام کا راز

دلوں میں علی علیہ سلام کی دوستی اور محبت کی رمز کیا ہے؟ محبت کا راز آج تک کوئی کشف نہیں کرسکا ہے یعنی اس کا کوئی فارمولا نہیںبنایا گیا اور کہا جاسکتا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو ایسا ہوگا اور ایسا ہوا تو ایسا، لیکن ایک راز ہے ضرور۔ مےحبوب میں ایسی کوئی چیز ضرور ہے جس کا حسن چاہنے والے کی نظر کو خیرہ کردیتا ہے اور اس کو اپنی طرف کھینچتا ہے جاذبہ ارو محبت کو بلند سطح پر عشق کہا جاتا ہے علی علیہ سلام دلوں کے محبوب اور انسانوں کے معشوق ہیں۔ کیوں؟ کس لحاظ سے؟ علی علیہ سلام میں کونسی غیرمعمولی چیز ہے کہ عشق کے جذبات کو ابھارتی اور دلوں کو اپنا شیدا بناتی ہے۔ علی علیہ سلام کیونکر ابدی زندگی کا انداز لیے ہوئے ہمیشہ کے لیے زندہ ہیں؟ دل کیوں علی علیہ سلام کی طرف کھینچتے ہیں اور ان کو اصلاً مردہ نہیں محسوس کرتے بلکہ زندہ پاتے ہیں؟

یہ بات مسلم ہے کہ ان کی محبت کا اثاثہ ان کا جسم نہیں ہے کیوں کہ ان کا جسم اس وقت ہمارے درمیان نہیں ہے ار ہم ان کو محسوس نہیں کرتے اور پھر علی علیہ سلام کی محبت ہیرو پرستی کی قسم سے نہیں ہے جو ہر قوم میں موجود ہے۔ یہ کہنا بھی غلط ہوگا کہ علی علیہ سلام کی محبت اخلاقی اور انسانی خوبیوں کے ساتھ محبت کی وجہ سے ہے اور علی علیہ سلام سے محبت انسانیت سے محبت ہے۔

۹۳

یہ درست ہے کہ علی علیہ سلام انسان کامل کا مظہر ہیں اور یہ بھی درست ہے کہ انسان انسانیت کی اعلیٰ مثالوں کو دوست رکھتاہے لیکن اگر علی علیہ سلام ان تمام انسانی فضائل کے حامل ہوتے جوکہ وہ تھے وہ حکمت، وہ علم، وہ فدا کاریاں، وہ ایثار، وہ تواضع و انکساری، وہ ادب، وہ ادب، وہ لطف و محبت، وہ ضعیف پروری، وہ عدالت، وہ حریت پسندی، وہ احترام انسانیت، وہ شجاعت، وہ مروت و مرادنگی جو دشمن کی نسبت تھی اور بقول مولوی:

در شجاعت شیرِ ربّا نسیتی

در مروت خود کہ داند کیستی؟

تم شجاعت میں شیر خدا ہو

لیکن نہ معلوم مروت میں کیا ہو؟

وہ سخاوت اور جود و کرم ۔۔۔ اگر علی علیہ سلام یہ تمام (صفات) رکھتے جیسا کہ رکھنے تھے اور رنگ الہی نہ رکھتے، تو مسلماً اس قدر مہر و محبت پیدا کرنے والے نہ ہوتے جیسے کہ آج ہیں۔ علی علیہ سلام اس اعتبار سے محبوب ہیں کہ خدا کے ساتھ ان کا تعلق ہے۔ ہمارے دل غیر شعوری طور پر پوری گہرائی کے ساتھ حق کے ساتھ پیوستہ ہیں اور چونکہ علی علیہ سلام کو حق کی عظیم نشانی اور صفات حق کا مظہر سمجھتے ہیں، اس کے ساتھ عشق کرتے ہیں۔ در حقیقت عشق علی علیہ سلام کے پیچھے حق کے ساتھ روح کا وہ رشتہ ہے جو ہمیشہ فطرت میں ودیعت کیا گیا ہے اور چونکہ فطرت جاودانی ہے، علیج کی محبت بھی جاوداں ہےٍ۔

علی علیہ سلام کے وجود میں روشن پہلو بہت زیادہ ہیں لیکن جس چیز نے علی علیہ سلام کو ہمیشہ درخشندہ اور تاباں قرار دے رکھا ہے وہ ان کا ایمان اور اخلاص ہے اور یہی ہے جس نے ان کو جذبہئ الہیٰ دے دیا ہے۔

۹۴

علی علیہ سلام کی فداکار اور دلدادہ خاتون سودئ ہمدانی نے معاویہ کے سامنے علی علیہ سلام پر درود بھیجا اور ان کی شان میں کہا:

صلے الالہ علی روح تضمنہا

قبرفا صبح فیہ العدل مدفونا

قد حالف الحق لا یبغی بہ بدلا

فصار بالحق و الایمان مقرونا

''اس وجود پر خدا کی رحمت ہو جس کو مٹی نے لے لیا اور اس کے ساتھ عدل بھی دفن ہوگیا اس نے حق کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ اس کا کوئی نعم البدل نہ ہو پس حق اور ایمان کے قریب ہوا۔،،

''صعصعہ بن صوحان عبدی،، بھی علی علیہ سلام کے عاشقوں میں سے ایک تھا وہ ان چند لوگوں میں سے ایک تھا جنہوں نے اس رات علی علیہ سلام کی تدفین میں شرکت کی تھی۔ حضرت کو دفن کرنے اوران کے جسم مبارک کو خاک کے اندر چھپانے کے بعد صعصعہ نے اپنا ایک ہاتھ اپنے سینے پر مارا اور دوسرے ہاتھ سے سر میں مٹی ڈالتے ہوئے کہا:

''تجھے موت مبارک ہو! تیری جائے پیدائش پاک تھی۔ تیرا صبر طاقتور اور تیراجہاد عظیم۔ تو نے اپنی فکر پر غلبہ پالیا اور تیری تجارت منافع بخش رہی۔،،

۹۵

تو اپنے پیدا کرنے والے کا مہمان ہوا اور اس نے تجِھے خوشی سے قبول کیا اور اس کے فرشتے تیرے گرد جمع ہوگئے۔ پیغمبر کی ہمسائیگی میں جاگزیں ہوا اور خدا نے تجھے اپنے قریب جگہ دی اور تو اپنے بھائی مصطفیٰ کے درجہ کو جا پہنچا اور اس نے جام لبریز سے تجھے سیراب کیا۔

ہم خدا سے دعا کرتے ہیں کہ ہم تیری پیروی کریں اور تیری روش پر عمل کریں تیرے دوستوں کو دوست اور تیرے دشمنوں کو دشمن رکھیں اور تیرے دوستوں کے ساتھ محشور ہوں۔

تو نےوہ پالیا جو دوسرے نہ پاسکے اور وہاں پہنچا جہاں دوسرے نہ پہنچ سکے تو نے اپنے بھائی کے سامنے جہاد کیا اور دین حدا کے لیے شایان طریقے سے قیام کیا یہاں تک کہ تو نے سنتوں کو برپا کیا اور خرابیوں کی اصلاح کی اور ایمان و اسلام منظم ہوگیا تجھ پر بہترین رحمتیں ہوں۔

تیرے وسیلے سے مؤمنوں کی پیٹھ مضبوط ہوئی اور راہیں روشن ہوگئیں اور سنتیں قائم ہوگئیں کسی نے بھی اپنے اندر تیری رفعتوں اور فضیلتوں کو جمع نہ کیا۔ تونے پیغمبر کی نداپر لبیک کہی اور ایسا کرنے میں اوروں پر سبقت حاصل کی تو اس کی مدد کےلئے لپکا اور اپنی جان سے اس کی حفاظت کی۔ خوف و خطر کے موقعوں پر اپنی شمشیر ذوالفقار کے ساتھ تو نے حملے کئے اور ظالموں کی کمر توڑ دی۔ کفر اور شرک کی بنیادوں کو مسمار کردیا اور گمراہوں کو خاک و خون میں لٹا دیا پس مبارک ہو اے مؤمنوں کے سردار۔

تو سب لوگوں سے زیادہ پیغمبر کے قریب تھا، تو ہی وہ پہلا شخص ہے جس نے اسلام قبول کیا، تو یقین سے سرشار، دل محکم اور سب سے زیادہ فدا کاری کرنے والا تیرا حصہ نیکی میں سب سے زیادہ تھا، خدا ہمیں تیری مصیبت کے اجر سے محروم نہ کرے اور تیرے بعد ہمیں رسوا نہ کرے۔

۹۶

''خدا کی قسم تیری زندگی نیکیوں کی کنجی تھی اور شر کے یے قفل اور تیری موت ہر شر کے لےے کنجی اور ہر خیر کے لیے قفل ہے۔ اگر لوگ تجھے قبول کر بیٹھے ہوتے تو زمین اور آسمان سے ان پر نعمتوںکی بارش ہوتی لیکن انہوں نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کو منتخب کیا۔،،(۱)

جی ہاں! لوگوں نے دنیا کو منتخب کیا اور وہ علی علیہ سلام کے عدل اور عز م کی تاب نہ لا سکے اور آخر کار ایسے ہی لوگوں کی آستین سے جمود اور عصبیت کے ہاتھ باہر نکل آئے اور علی علیہ سلام کو شہید کردیا۔

علی علیہ السّلام دوست اور چاہنے والے ایسے دیوانوں کے سلسلے میں جنہوں نے ان کی محبت کی راہ میں سردیا ہے اور جو سولی پر لٹکائے گئے، اپنا کوئی نظیر نہیں رکھتے تاریخ اسلام کے صفحات کو ان شگفتہ، خوبصورت اور حیرت انگیز کارناموں پر فخر ہے زیاد ابن ربیہ اس کا بیٹا عبداللہ، حجاج ابن یوسف متوکل عباسی اور ان سب سے بڑھ کر معاویہ ابن ابی سفیان جیسے لوگوں کے مجرم اور ناپاک ہاتھ کہنیوں تک انسانیت کے ان سپوتوں کے خون سے آلود ہیں۔

____________________

۱) بحار الانوار جلد ۴۲، ص ۲۹۵۔۲۹۶ چاپ جدید

۹۷

دافعہئ علی علیہ سلام کی قُوّت

علی علیہ سلام کی دشمن سازی

ہم اپنی بحث کو ان کے چار سال اور چند ماہ کی دور خلافت تک محدود رکھیں گے علی علیہ سلام ہمیشہ سے دوہری شخصیت رکھتے تھے، علی علیہ سلام ہمیشہ جاذبہ بھی رکھتے تھے اور دافعہ بھی خاص طور پر عصر اسلام کی ابتداء سے ہی ہم دیکھتے ہیں کہ ایک گروہ علی علیہ سلام کے گرد گھومتا ہے اور دوسرا ان سے کوئی خاص لگاؤ نہیں رکھتا اور غالباً ان کے وجود سے ہی ناخوش ہے۔

لیکن خلافت علی علیہ سلام اور ان کی وفات کے بعد کے ادوار یعنی علی علیہ سلام کے ظہور تاریخی کا دور، ان کے جاذبہ و دافعہ کے بیشتر ظہور کا دور ہے۔ خلافت سے قبل معاشرے سے ان کا رابطہ جتنا کم تھا اسی نسبت سے ان کے جاذبہ و دافعہ کا ظہور بھی کم تر تھا۔

علی علیہ سلام لوگوں کو اپنا دشمن بنانے اور ان کو ناراض کرنے والے شخص تھے اور یہ ان کا دوسرا بڑا افتخار ہے۔ ہر مسلک اور ہدف رکھنے والا مجاہد انسان خاص کر انقلابی جو اپنے مقدس مقاصد کو عملی شکل دینے کی کوشش کرتا ہو اور جو خدا کے اس قول کا مصداق ہو کہ:

( یجاهدون فی سبیل الله و لا یخافون لومة لائم ) ( مائدہ آیت نمبر۵۴)

''وہ خدا کی راہ میں کوشش کرتے ہیں اور ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہیں کرتے۔،،

وہ لوگوں کو اپنا دشمن بنانے اور ان کو ناراض کرنے والا ہوتا ہے۔ لہذا ان کے دشمن خاص کر ان کے اپنے زمانے میں اگر ان کے دوستوں سے زیادہ نہیں تھے تو کم بھی نہ تھے اور نہیں ہیں۔ اگر آج علی علیہ سلام کی شخصیت میں تحریف نہ کی جاے اور جس طرح وہ ہے اسی طرح پیش کی جائے تو ان کی دوستی کے بہت سے دعویدار ان کے دشمنوں کے مترادف قرار پائیں گے۔

۹۸

پیغمبر نے علی علیہ سلام کو ایک لشکر کا سپہ سالار بناکر یمن کی طرف بھیجا۔ واپسی میں انہوں نے پیغمبر سے ملاقات کے لےے مکّہ کاعزم کیا۔ مکّہ کے قریب پہنچ کر سپاہیوں میں سے کسی کو اپنی جگہ مقرر کرکے وہ پہلے ہی سفر کی روداد سنانے کے لیے رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کی طرف چل دیئے۔ اس شخص نے وہ تمام کپڑے جو علی علیہ سلام اپنے ہمراہ لائے تھے۔ سپاہیوں میں تقسیم کردیئے تاکہ وہ نئے کپڑے پہن کر وارد مکہ ہو جائیں علی علیہ سلام جب واپس آئے تو اس عمل پر اعتراض کیا اور اس کو نظم و ضبط کے خلاف ہوجاتا کیونکہ پیغمبر سے حکم حاصل کئے بغیر ان کپڑوں کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا جانا چاہیے تھا اور در حقیقت علی علیہ سلام کی نظر میں یہ مسلمانوں کے پیشوا کی اطلاع اور اجازت کے بغیر بیت المال میں تصرف تھا اسی لیے علی علیہ سلام نے حکم دیا کہ وہ لوگ کپڑوں کو ا پنے جسم سے اتار دیں اور ان کو مخصوص جگہ پر رکھا تاکہ پیغمبر کی تحویل میں دے دیا جائے اور آنحضرت خود ان کے بارے میں فیصلہ فرمائیں۔ علی علیہ سلام کے لشکری اس عمل سے ناخوش ہوئے جوں ہی وہ پیغمبر اکرم کے حضور پہنچے اور پیغمبر اکرم نے ان کا حال پوچھا تو کپڑوں کے سلسلے میں علی علیہ سلام کی سخت گیری کی شکایت کی۔ پیغمبر نے ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

یٰایها الناس لا تشکو علیّاً فو اللهانه کا خشن فی ذات الله من ان یشکی (۱)

''اے لوگو! علی علیہ سلام کی شکایت نہ کرو خدا کی قسم وہ خدا کی راہ میں اس سے زیادہ سخت ہیں کہ کوئی اس کے خلاف شکایت کرے۔،،

____________________

۱) سیرۃ ابن ہشام ج ۴، ص ۲۵۰

۹۹

خدا کی راہ میں علی علیہ سلام کسی کا لحاظ نہیں کرتے تھے بلکہ اگر کسی پر مہربانی کرتے اور کسی کا لحاظ کرتے تو وہ خدا کے لیے ہوتا۔ یہ صورت حال یقیناً لوگوں کو اپنا دشمن بنانے والی ہے اورلالچ اور آرزو سے پردلوں کو رنجیدہ کرنے اور تکلیف پہنچانے والی ہے۔

پیغمبر کے اصحاب میں کوئی شخص علی علیہ سلام کی طرح فداکار دوست نہیں رکھتا جس طرح ان کی مانند کوئی شخص ایسے گستاخ اور خطرناک دشمن نہیں رکھتا۔ وہ ایسے شخص تھے کہ جس کی موت کے بعد اس کا جنازہ بھی دشمنوں کے حملے کا نشانہ بنا۔ وہ حود اس معاملے سے آگاہ تھے اور اس کی پیش بینی کیا کرتے تھے اسی لیے انہوں نے وصیت کی کہ ان کی قبر مخفی رکھی جائے اور ان کے فرزندوں کے علاوہ کوئی اسےنہ جانتا ہو، یہاں تک کہ تقریباً ایک صدی گزرگئی اور اموی سلطنت ختم ہوگئی، خوارج بھی ختم یا سخت کمزور ہوگئے، کینے اور کینہ توزیاں کم ہوگئیں اور امام جعفر صادق کے ہاتھوں ان کا مزار مقدّس کو ظاہر کیا گیا۔

ناکثین و قاسطین و مارقین

علی علیہ السّلام نے اپنی خلافت کے دوران تین گروہوں کواپنے سے دور پھینکا اور ان کے ساتھ برسرپیکار رہے۔ اصحاب جمل جن کو آپ نے ناکثین کانام دیا۔ اصحاب صفیّن جن کو قاسطین کہا اوراصحاب نہروان یعنی خوراج جن کو آپ نے مارقین کے نام سے پکارا:(۱)

''فلما نھضت بالامر نکثت طائفۃ و مرقت احری وقسط آخرون،، (نہج البلاغہ، خطبہ شقشقیہ)

''پس جب میں نے امر خلافت کا فیصلہ کیا تو ایک گروہ نے بیعت توڑ ڈالی، ایک گروہ دین سے نکل گیا ایک گروہ نے سرکشی اور بغاوت کر ڈالی۔،،

ناکثین ذہنی طور پر زبردست لوگ تھے جو لالچی اور طبقاتی نظام کے طرفدار

____________________

۱) اور آپ سے پہلے پیغمبر نے ان کو انہیں ناموں سے پکارا کہ ان سے فرمایا ستقاتل بعدی الناکثین والقاسطین و المارقین،، یعنی میرے بعد (اے علی علیہ سلام) ناکثین، قاسطین اور مارقین کے ساتھ جنگ کروگے۔ اس روایت کو ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ ج ۱، ص ۲۰۱۔ میں نقل کرتا ہے او رکہتا ہے کہ یہ روایت حضرت ختمی مرتبت کی نبوت کے دلائل میں سے ایک ہے کیونکہ یہ مستقبل اور غیب کے بارے میں ایسی صریح خبر ہے جس میں کوئی تاویل یا اجمال کی گنجائش نہیں ہے۔

۱۰۰

تھے عدالت و مساوات کے بارے میں ان کی بیشتر گفتگو انہی لوگوں کے بارے میں ہے۔

لیکن قاسطین کی ذہنیت و سیاست، دورنگی اور منافقت تھی۔ وہ زمام حکومت اپنے ہاتھ میں لے علی علیہ سلام کی حکومت اوران کے اختیارات کو درہم برہم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان میں سے بعض نے تجویز پیش کی ان کے قریب آجائیں اور کسی حد تک ان کے مفادات کی ضمانت دیں لیکن انہوں (علی علیہ سلام) اس لیے آئے تھے کہ ظلم کا مقابلہ کیا جائے نہ اس لیے کہ ظلم کی تائید کریں اور دوسری جانب معاویہ اور اسی قماش کے لوگ سرے سے علی علیہ سلام کی حکومت کے ہی مخالف تھے وہ چاہتے تھے کہ خلافت اسلامی کی مسند پر خود قبضہ کریں اور ان کے ساتھ علی علیہ سلام کی جنگ درحقیت نفاق اور دورنگی سے جنگ تھی۔

تیسرا گروہ جو مارقین کا ہے ان کی ذہنیت ناروا عصبیت، خشک تقدس اور خطرناک جہالت تھی۔ علی علیہ سلام ان تمام کی نسبت ایک طاقتور دافعہ اور غیر مصالحانہ رویّہ رکھتے تھے۔

علی علیہ سلام کی ہمہ گیری اور ان انسان کامل ہونے کا ایک مظہر یہ ہے کہ اپنے اختیار و عمل کی بناء پر ان کو گونا گوں فرقوں اور مختلف انحرافات کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے ان سب سے جنگ کی۔ ہم کبھی ان کو زر پرستوں اور شتر سوار دنیا پرستوں کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں کبھی رو و صد روسیاست پیشہ لوگوں کے ساتھ اورکبھی جاہل اور منحرف مقدس نما لوگوں کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔

۱۰۱

ہم اپنی بحث کو آخری گروہ یعنی خوارج کی طرف منعطف کریں گے۔ یہ اگرچہ اب ختم ہوچکے ہیں لیکن یہ ایک سبق آموز اور عبرت انگیز تاریخ رکھتے ہیں ان کے خیالات تمام مسلمانوں میں پھیل چکے ہیں۔ جس کے نتیجے میں چودہ سو سال کی طویل تاریخ میں اگرچہ وہ لوگ اور حتیّٰ کہ ان کے نام بھی ختم ہوچکے ہیں لیکن ان کی روح ''مقدس نما،، لوگوں کی شکل میں ہمیشہ باقی ہے اور اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی ہے۔

خوارج کا ظہور

خوارج یعنی شورشی، یہ لفظ ''خروج،،(۱) سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں سرکشی اور بغاوت۔ ان کاظہور ''حکمیت،، کے معاملے سے ہوا ہے۔ جنگ صفین میں آخری روز جبکہ

____________________

۱) کلمہئ ''خروج،، اگر متعدّی بہ ''علیٰ،، ہو تو اس کے دو معنی نکلتے ہیں جو ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ ایک جنگ اور لڑائی سے نکل آنا اور دوسرے سرکشی، نافرمانی اور شورش۔خرج فلان علیٰ فلان: برز لقتاله، و خرجت الرعیة علی الملک : تمردت (المنجد) لفظ ''خوارج،، جس کے لےے فارسی میں ''شورشیاں،، کا لفظ بولا جاتا ہے، وہ ''خروج،، سے دوسرے معنی میں لیا گیا ہے۔ اس گروہ کو خوارج اس لیے کہا گیا ہے کہ انہوں نے علی علیہ سلام کے حکم سے سرتابی کی اور ان کے خلاف شورش برپا کی اور چونکہ اپنی سرکشی کی بنیاد ایک عقیدہ اور مسلک پر رکھی لہذا اسی طرح نامزد ہوگئے اور یہ نام ان کے لیے مختص ہوگیا۔ اسی لیے وہ تمام لوگ جنہوں نے قیام کیا اور حاکم وقت سے بغاوت کی خارجی نہیں کہلائے۔ اگر یہ کوئی مذہب عقیدہ نہ رکھتے تو بعد کے بغاوت کرنے والوں کی طرح ہوتے لیکن یہ کچھ عقائد رکھتے تھے جن کو بعد میں مستقل حیثیت مل گئی۔ اگرچہ یہ کسی وقت بھی کوئی حکومت قائم کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے لیکن اپنے لیے ایک فقہ اور ادب تخلیق کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ (صخی الاسلام ج ۳، ص ۲۷۰،۲۴۷ طبع ششم کی طرف رجوع کیاجائے)

۱۰۲

یہ ایسے لوگ بھی تھے جن کو خروج کرنے کا موقعہ کبھی نہ ملا لیکن وہ خوارج کے عقیدہ پرایمان رکھتے تھے جیسا کہ عمرو بن عبید اور بعض اور معتزلیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے۔ معتزلہ کے کچھ لوگ امر بالمعروف نہی از منکر اور یا گناہ کبیرہ کا اتکاب کرنے والے کے لیے عذاب مخلّد (ہمیشہ کا عذاب) کے مسئلہ میں خوارج کے ہم فکر تھے اور ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ''و کا یری برأی الخوارج ،، یعنی ''خوارج کی طرح سوچتے ہیں۔،، حتی کہ چند عورتیں بھی تھیں۔ کامل مبّرد ج ۲، ص ۵۴ میں ایک ایسی عورت کی داستان نقل کی گئی ہے جس کا عقیدہ خارجیوں کا سا تھا۔ اس اعتبار سے اس لفظ کے لغوی اور اصطلاحی مفہوم میں ''عام خاص من وجہ،، کی نبست ہے۔

جنگ علی علیہ سلام کی فتح کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچ رہی تھی، معاویہ نے عمر وابن عاص کے مشورے سے ایک ماہرانہ چا چلی۔ اس نے دیکھا کہ اس کی تمام کوششیں اور زحمتیں بے کار گئیں اور یہ کہ شکست اور اس کے درمیان ایک قدم سے زیادہ فاصلہ نہیں رہا اس نے سوچا کہ فریب کے علاوہ نجات کا اور کوئی راستہ نہیں ہے اس نے حکم دیا کہ لوگ نیزوں پر قرآن کو بلند کریں اور کہیں کہ لوگو! ہم قبلہئ و قرآن کو ماننے واے ہیں آؤ ہم اس کو اپنے درمیان حکم قرار دیتے ہیں۔ یہ کوئی نئی باتنہ تھی جو انہوں نے نکالی ہو، یہی بات اس سے پہلے علی علیہ سلام نے کہی تھی اور جس کو انہوں نے تسلیم نہیں کیا تھا اور اب بھی وہ اس کو (دل سے) تسلیم نہیں کر رہے تھے، بلکہ ایک بہانہ تھی کہ نجات کا راستہ اور یقینی شکست سے چھٹکارا پائیں۔ علی علیہ سلام نے پکارا، مارو ان کو، یہ قرآن کے صفحہ اور کاغذ کو بہانہ بنا کر قرآن کے لفظ اور کتابت کی پنا میں اپنا بچاؤ کرنا چاہتے ہیں اور بعد میں قرآن کے خلاف اپنی روش پر باقی رہےں گے۔ قرآن کا کاغذ اور اس کی جلد کی حقیقت قرآن کے مقابلے میں کوئی قیمت و عزت نہیں رکھتی۔ قرآن حقیقت اور اس کا صحیح جلوہ ''میں،، ہوں۔ انہوں نے کاغذ اور خط کو ہاتھوں میں اٹھایا ہے تاکہ حقیقت اور معنی کو نابود کریں۔

۱۰۳

بعض جاہل اوربے معرفت مقدس نما لوتوں نے جن کی ایک بڑی تعداد تھی، ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر کہا کہ علی علیہ سلام کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے شور مچایا کہ ہم قرآن کے ساتھ جنگ کریں؟ ہماری جنگ تو قرآن کو زندہ رکھنے کے لیے ہے جب وہ بھی قرآن کو تسلیم کررہے ہیں تو پھر جنگ کس لیے؟ علی علیہ سلام نے کہا میں اب بھی کہتا ہوں کہ تم قرآن کی خاطر جنگ کرو۔ ان لوگوں کو قرآن سے کوئی سروکار نہیں ہے، انہوں نے قرآن کے الفاظ اور اس کی تحریر کو اپنی جان بچانے کا وسیلہ قرار دے رکھا ہے۔

اسلامی فقہ میں ''جہاد،، کے بار میں ''کفّار کا مسلمانوں کو ڈھال بنانا،، کے عنوان سے ایک مسئلہ ہے۔ وہ یہ ہے کہ اگر دشمنان اسلام مسلمانوں کے ساتھ حالت جنگ میں چند مسلمان قیدیوں کو اگلے محاذ پر اپنے لیے ڈھال قرار دیں اور خود محاذ کے پیچھے کارروائی اور پیش قدمی میں مشغول ہوں اور صورت حال ایسی ہو کہ اسلامی فوج کے لیے اپنا دفاع کرنے یا ان پرحملہ کرکے ان کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ ہو کہ ان مسلمان بھائیوں کو جو ڈھال بنا دیئے گئے ہیں حکم ضررت کے تحت ختم کردیا جائے، یعنی حملہ آور دشمن پر قابو پانا مسلمانوں کوقتل کئے بغیر ممکن نہ ہو تو یہاں اسلام کے بلند مقاصد اور باقی مسلمانوں کی جانوں کی حفاظت کے لیے مسلمان کا قتل، اسلامی قانون کے تحت جائز قرار دیا گیا ہے۔ وہ بھی اسلام کے سپیاہی ہیں اور راہ خدا میں شہید ہوئے ہیں۔ منتہا یہ ہے کہ ان کے پسماندگان کو مسلمانوں کے سرمایہ (بیت المال) سے ان کا خون بہا ادا کردیا جائے(۱) اور یہ صرف فقہ اسلامی کی خصوصیت نہیں ہے بلکہ دنیا بھر کے فوجی اور جنگی قوانین

____________________

۱) لمعہ ج ۱، کتاب الجہاد فصل اول۔ و شرائع الاسلام کتاب الجہاد

۱۰۴

میں ایک مسلم قانون ہے کہ اگر دشمن داخلی قوتوں سے فائدہ اٹھانا چاہے، تو ان قوتوں کو ختم کرتے ہیں تاکہ دشمن پر قابو پاسکیں اور اس کو پسپا کردیں۔

ایسی صورت میں جبکہ ایک زندہ مسلمان کے بارے میں اسلام کتا ہے کہ اس کو قتل کردو تاکہ اسلام کو فتح ملے تو کاغذ اور جلد کے بارے میں تو بحث کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ کاغذ اور تحریر کا احترام معنی اور مضمون کی وجہ سے ہوتا ہے، آج جنگ قرآن کے مضمون کی خاطر ہے انہوں نے کاغذ کو وسیلہ قرار دے دیا ہے تاکہ قرآن کے معنی اور مضمون کو مٹا دیں۔

لیکن نادانی اور جہالت نے سیاہ پردے کی طرح ان کی عقل کی آنکھوں پر قبضہ کر لیا اور ان کوحقیقت سے دور رکھنا۔ کہنے لگے کہ ہم نہ صرف یہ کہ قرآن کے ساتھ جنگ نہیں کریں گے بلکہ چونکہ قرآن کے ساتھ جنگ خود ایک منکر (برائی) ہے اس لیے اس سے نہی (روکنے) کی بھی کوشش کریں گے اور جو لوگ قرآن کے ساتھ جنگ کریں ان کے استھ جنگ کریں گے۔ آخری فتح میں لمحے سے زیادہ کی دیر نہ تھی کہ مالک اشتر جو ایک منجھا ہوا فدا کار اور اپنا سب کچھ قربان کردینے والا افسر تھا اسی طرح آگے بڑھتا جارہا تھا کہ تاکہ معاویہ کے خیمہ کو سرنگوں کیا جائے جہاں سے اس کی فوج کی کمان کی جارہی تھی اور اسلام کے راستے کو کانٹے سے پاک کرے اسی وقت اس گروہ نے علی علیہ سلام پر دباؤ ڈالا کہ پیچھے سے حملہ کردیں گے۔ علی علیہ سلام جتنا اصرار کرتے اتنا ہی ان کے انکار میں اضافہ ہوتا اور وہ پہلے سے زیادہ ضد کرتے۔ علی علیہ سلام نے مالک اشتر کو پیغام بھیجا کہ جنگ بند کردے اور خود میدان سے واپس آجائے۔

اس نے علی علیہ سلام کے پیغام کو جواب دیا کہ آپ مجھے چند لمحوں کی اجازت دیں تو جنت ختم ہے اور دشمن بھی نیست و نابود ہو نے والا ہے۔

۱۰۵

انہوں (خارجیوں) نے تلواریں نکالیں اور کہا کہ یا تو ہم تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کردیں گے یا اس سے کہہ دو کہ واپس آجائے۔

آپ نے دوبارہ اس کو پیغام بھیجا کہ اگر تم علی علیہ سلام کو زندہ دیکھنا چاہتے ہو تو جنگ روک دو اور واپس آجاؤ ،وہ واپس آیا اور دشمن خوش ہوگیا کہ اس کا فریب خوب کارگر ہوا۔

جنگ روک دی گئی تاکہ قرآن کو حاکم قرار دیں، ثالثی کو نسل تشکیل دیں اور دونوں طرف کے حکم قرآن و سنت میں طرفین کا جن باتوں پراتفاق ہے ان کو رو سے فیصلہ کریں اور اختلافات کو ختم کریں یا ایک اور اختلاف کا اضافہ کریں اور حالات کو بد سے بد تر بنادیں۔

علی علیہ سلام نے کہا کہ وہ اپنے حکم کی تعیین کردیں تاکہ ہم بھی اپنا حکم معین کریں، انہوں نے تجویز پیش کی کہ عبد اللہ ابن عباس جیسے سیاست دان، یا مرد فدا کار و روشن بین با ایمان مالک اشتر یا اسی قبیل کے کسی شخص کو مقرر کیا جائے لیکن ان احمقوں کو اپنے جیسے کسی کی تلاش تھی، انہوں نے ابو موسیٰ جیسے کو جو ایک ناسجھ آدمی تھا اور جس کو علی علیہ السّلام سے کوئی خاص لگاء نہ تھا، منتخب کیا۔ ہر چند کہ علی علیہ سلام اور ان کے دوستوں نے ان لوگوں کو یہ واضح کرنا چاہا کہ یہ کام ابو موسیٰ کا نہیں ہے اور وہ اس مقام کا اہل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ہم کسی اور پر اتفاق نہیں کرتے۔ علی علیہ سلام نے کہا کہ اگر یہ بات ہے تو جو تم چاہو کرو۔

آخر کار انہوں نے اس کو علی علیہ سلام اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے حکم کی حیثیت سے ثالثی کونسل میں بھیجا۔ مہینوں کے مشورے کے بعد عمر و عاص نے ابو موسیٰ سے کہا کہ مسلمانوں کے مفاد میں بہتر یہی ہے کہ نہ علی علیہ سلام ہو اور نہ معاویہ اور ہم کسی تیسرے شخص کو منتخب کریں اور وہ تمہارے داماد عبد اللہ ابن عمر کے علاوہ کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ ابو موسیٰ نے کہا کہ تو نے سچ کہا ہے۔ اب کیا کرنا چاہیے؟ کہا کہ تو علی علیہ سلام کو خلافت سے معزول کرے گا اور میں معاویہ کو، بعد میں مسلمان جاھیں گے اور ایک مناسب آدمی کو جو لازما عبد اللہ ابن عمر ہی ہے، منتخب کریں گے اور یوں فتنے کی جڑ ختم کردی جائےگی۔ اس بات پر دونوں نے اتفاق کیا اور اعلان کردیا کہ لوگ حکمیت کا نتیجہ سننے کے لیے جمع ہو جائیں۔

۱۰۶

لوگ جمع ہوگئے، ابوموسیٰ نے عمر و عاص سے کہا کہ منبر پر جا کر اپنے فیصلے کا اعلان کرے، عمر و عاص سے کہا کہ میں؟ تم سفیر ریش اور پیغمبر کے محترم صحابی ہو میں ہر گز یہ جسارت نہیں کرسکتا کہ تم سے پہلے کوئی بات کروں۔ او موسیٰ اپنی جگہ سے اٹھا اور منبر پر جاکر بیٹھ گیا۔ لوگوں کے دل کی دھڑکنیں تیز ہونے لگیں، آنکھیں خیرہ ہونے اور سانسیں سینوں میں اٹکنے لگیں۔ سب کو یہ انتظار کہ کیا نتیجہ نکلے؟ اس نے بولنا شروع کیا کہ ہم نے مشورے کے بعد امت کا مفاد اس میں دیکھا کہ نہ علی علیہ سلام ہو اور نہ معاویہ اور مسلمان خو دجانتے ہیں وہ جس کو چاہیںمنتخب کریں اور اپنی انگوٹھی کو دائیں ہاتھ سے نکالتے ہوئے کہا کہ میں نے علی علیہ سلام کو خلافت سے معزول کردیا جس طرح میں نے اس انگوٹھی کو ہاتھ سے نکالا۔ یہ کہا اور منبر سے اتر آیا۔

عمر و عاص اٹھا اور منبرپر بیٹھ گیا اور کہا کہ تم لوگوں نے ابو موسیٰ کی باتیں سن لیں کہ اس نے علی علیہ سلام کو خلافت سے معزول کردیا ہے میں بھی ان کو خلافت سے معزول کرتا ہوں جس طرح کہ ابو موسیٰ نے کیا ہے اور اپنی انگوٹھی کو اپنے دائیں ہاتھ سے باہر نکالا اس کے بعد اپنی انگوٹھی کو اپنے بائیں ہاتھ میں ڈالتے ہوئے کہا کہ میں معاویہ کو اس طرح خلافت پر نصب کرتا ہوں جس طرح اپنی انگوٹھی کو اپنے ہاتھ میں ڈالا ہے۔ یہ کہا اور منبر سے نیچے اترا۔

مجلس میں کھلبلی مچ گئی لوگوں نے ابو موسیٰ پرحملہ کرنا شروع کیا اوربعض لوگ تازیانہ لے کراس کی طرف بڑھے، وہ مکہ کی طرف بھاگ گیا اور عمر و عاص بھی شام چلاگیا۔

خوارج نے جو اس معاملے کو پیدا کرنے کے ذمہ دار تھے حکمیت کی رسوائی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور ان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا لیکن وہ نہیں سمجھتے تھے کہ غلطی کہاں پر ہوئی ہے؟ وہ نہیں کہتے تھے کہ ہماری غلطی یہ تھی کہ ہم نے معاویہ اور عمر و عاص کی مکاری کو تسلیم کیا اور جنگ بند کرلی اور یہ بھی نہیں کہتے تھے کہ حکمیت کا فیصلہ ہو جانے کے بعد ''مصلح،، کے انتخاب میں ہم نے خطا کی کہ عمر و عاص کے مقابلے میں ابو موسیٰ کو مقرر کیا۔ بلکہ کہتے تھے کہ ہم نے دین خدا میں دو انسانوں کو حکم اور مصلح قرار دیا جو خلاف شرع اور کفر تھا۔ حاکم صرف خدا ہے نہ کہ انسان۔

۱۰۷

وہ علی علیہ سلام کے پاس آئے اور کہا کہ ہم نے نہیں سمجھا ارو حکمیت کو تسلیم کیا تو بھی کافر ہوگئے اور ہم بھی، ہم نے توبہ کرلی ہے تم بھی توبہ کرلوٍ۔ مصیبت تازہ ہوگئی اوربڑھ گئی۔

علی علیہ سلام نے کہا بہرحال توبہ کرنا اچھی بات ہے''استغفر الله من کل ذنب '' ہم ہمیشہ ہر گناہ سے استغفار کرتے ہیں،،۔ انہوں نے کہا یہ کافی نہیں ہے بلکہ تم کو اعتراف کرلینا چاہیے کہ ''حکمیت،، گناہ تھی اور اس گناہ سے توبہ کرو۔ کہا کہ آخر میں نے تحکیم کا مسئلہ پیدا کیا ہے اور اس کا نتیجہ بھی دیکھ لیا ہے اور دوسری طرف سے جو چیز شریعت میں جائز ہے میں کس طرح اس کو گناہ قرار دوں اور جس گناہ کا میں مرتکب نہیں ہوا ہوں اس کا اعتراف کرلوں۔ یہاں سے انہوں نے ایک مذہبی فرقہ کی حیثیت سے کام شروع کردیا۔ ابتداء میں ایک باغی اور سرکش گروہ تھا اسی لیے ان کا نام ''خوارج،، رکھ دیا گیا۔ لیکن آہستہ آہستہ انہوں نے اپنے لیے اصول عقائد منظم کرلیے اور وہ گروہ جو ابتداء میں سیاسی شکل کا تھا رفتہ رفتہ ایک مذہبی فرقہ کی صورت اور مذہبی رنگ اختیار کرگیا۔ بعد میں خوارج نے ایک مذہب کے حامیوں کی حیثیت سے تیز تبلیغی سرگرمیوں کا آغاز کیا اور آہستہ آہست جب انہوں نے سوچنا شروع کیا کہ اپنے خیال میں دنیائے اسلام کے مفاسد کی نشاندہی کریں، وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ عثمان، علی علیہ سلام اور معاویہ سب غلطی پر اور گناہگار ہیں اور ہمیں چاہیے کہ جو مفاسد پیدا ہوگئے ہیں ان کا مقابلہ کریں اور امر بہ معروف اور نہی از منکر کریں۔ اس طرح خوارج کامذہب امر بہ معروف اور نہی از منکر کے فریضے کے عنوان سے وجود میں آیا۔

۱۰۸

امر بہ معروف اورنہی از منکر کا فریضہ سب سے پہلے دو اساسی شرطیں رکھتا ہے: ایک دینی بصیرت اور دوسرے عمل میں بصیرت۔

دین کی بصیرت ___ جس طرح کہ روایت میں آیا ہے ___ اگر نہ ہو تو اس کام کا نقصان اس کے فائدے سے زیادہ ہے۔

جہاں تک عمل میں بصیرت کا تعلق ہے وہ ان دو شرطوں کا لازمہ ہے جن کوفقہ میں ''احتمال تاثیر،، اور ''عدم ترتب مفسدہ،، سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس کا فائدہ تب ہے جب ان دو فریضوں کے سلسلے میں عقل و منطق کو دخل ہو۔(۱) خوارج نہ بصیرت دینی رکھتے تھے اور نہ بصیرت عملی، وہ نادان اور بے بصیرت لوگ تھے۔ بلکہ

____________________

۱) یعنی امر بہ معروف اور نہی از منکر اس لیے ہے کہ ''معروف،، رائج ہوجائے اور ''منکر،، مٹ جائے۔ پس امر بہ معروف اور نہی از منکر وہاں کیا جانا چاہیے کہ جہاں اس نتیجے کے مترتب ہونے کا احتمال ہو، اگر ہمیں معلوم ہو کہ قطعا بے اثر ہے تو واجب کیونکر؟

اور دوسرے یہ کہ اس عمل کو شریعت نے اس لیے رکھا ہے کہ کوئی مصلحت انجام پائے اس لیے لازماً وہاں انجام پاناچاہیے کہ جہاں پہلے سے زیادہ خرابی پیدا نہ ہو۔ ان دو شرطوں کا لازمہ بصیرت در عمل ہے وہ شخص جس میں بصیرت در عمل مفقود ہے پیش بینی نہیں کرسکتا کہ اس کام کاکوئی نتیجہ نکلے گا یا نہیں اور یہ کہ کوئی پہلے سے زیادہ مفسدہ ہوگا یا نہیں؟ یہی وجہ ہے کہ جاہلانہ امر بہ معروف، جس طرح کہ حدیث میں ہے، اس کا نقصان فائدے سے زیادہ ہے۔

۱۰۹

تمام فرائض میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ احتمال ترتب فائدہ اس کی شرط ہے اوراگر فائدہ کا احتمال ہے تو انجام دیا جائے اور اگر فائدہ کااحتمال نہ ہو تو انجام دیا جائے حالانکہ ہر فریضہ میں کوئی فائدہ اور مصلحت پیش نظر ہے لیکن ان مصلحتوں کو پہچاننے کی ذمہ داری لوگوں پر نہیں ڈالی گئی ہے۔ نماز کے بارے میں نہیں کہا گیا ہے کہ اگر تم دیکھو کوئی فائدے کی صورت ہے تو پڑھو ورنہ نہ پڑھو، روزہ کے سلسلے میں بھی نہیں کہا گیا کہ اگر تمہیں فائدہ کا احتمال ہو تو رکھو ورنہ نہ رکھو۔ روزہ کے سلسے میں کہا گیا ہے کہ اگر تم دیکھ کہ نقصان یا ضرر کی صورت ہے تو نہ رکھو اسی طرح جج یا زکوٰۃ یا جہاد کے بارے میں اس طرح کی کوئی قید نہیں ہے لیکن امر بہ معروف اور نہی از منکر کے بارے میں یہ قید ہے کہ دیکھنا چاہیے کیا اثر اور کیا رد عمل رکھتا ہے اور یہ کہ کیا عہ عمل اسلام اور مسلمانوں کے مفاد میں ہے یا نہیں؟ یعنی مصلحت کو پہچاننے کی ذمہ داری خود عمل کرنے والوں پر ڈالی گئی ہے۔

اس فریضے میں ہر شخص کو یہ حق ہے بلکہ واجب ہے کہ منطق اور عقل و بصیرت در عمل اور توجہ بہ فائدہ کو دخل دینے کا راستہ دے کیونکہ یہ عمل محض تعبدی نہیں ہے (گفتار ماہ جلد اول میں امربہ معروف و نہی از منکر کے موضوع پر تقریر، کی طرف رجوع کیا جائے)

یہ شرط کہ امر بہ معروف اور نہی از منکر کے سلسلے میں عملی بصیرت سے کام لینا واجب ہے، اس پر خوارج کو چھوڑ کر باقی تمام اسلامی فرقوں کا اتفاق ہے۔ وہ اسی جمود، خشکی اور مخصوص تعصب کی بناء پر جو وہ رکھتے تھے، کہتے تھے کہ امربہ معروف و نہی از منکر ''تعبد محض،، ہے اس میں ''احتمال اثر،، اور ''عدم ترتب مفسدہ،، کی کوئی شرط نہیں ہے اس لیے کسی کو بیٹھ کر اس کے نتائج کا حساب نہیں لگانا چاہیے ۔ اپنے اسی عقیدے کی بناء پر یہ جانتے ہوئے کہ وہ مارے جائیں گے، ان کا خون بہایا جائے گا اور یہ جانتے ہوئے کہ ان کے قیام کا کوئی مفید نتیجہ مرتب نہیں ہوگا، وہ قیام کرتے تھے اور یا دوسروں پر حملہ کرتے تھے۔

۱۱۰

بنیادی طور پر وہ عملی بصیرت کے منکر تھے کیونکہ وہ اس فریضے کو ایک ''امر تعبدی،، جانتے تھے اور دعویٰ کرتے تھے کہ آنکھیں بند کرےے اس کو انجام دینا چاہیے۔

اصول عقائد خوارج

''خارجیت،، کی بنیاد پر چند چیزوں سے تشکیل پائی تھی:

۱ علی علیہ سلام، عثمان، معاویہ، اصحاب جمل اور اصحاب حکمیت اور ان تمام لوگوں جو حکمیت پر راضی ہوئے، کی تکفیر۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے حکمیت کا مشورہ دیا اور بعد میں توبہ کرلی۔

۲ ان لوگوں کی تکفیر جو علی علیہ سلام و عثمان اور دوسرے لوگوں کے کفر کے قائل نہ ہوں جن کا ہم نے ذکر کیا ہے۔

۳ صرف ایمان ولی عقیدہ نہیں ہے بلکہ اوامر پر عمل اور نواہی کو ترک کرنا بھی جزو ایمان ہے۔ ایمان، اعتقاد اور عمل سے مرکب ایک امر ہے۔

۴ ایک ظالم امام اور حکمران کے خلاف غیر مشروط بغاوت کا وجوب۔

وہ کہتے تھے کہ امر بہ معروف اور نہی از منکر کے لیے کسی چیز کی شرط نہیں ہے اور ہر جگہ بغیر کسی استثناء کے اس حکم الہی کو انجام دیا جانا چاہیے۔(۱)

ان عقائد کی وجہ سے انہوں نے ایسے عالم میں سحر کی کہ روئے زمین کے تمام لوگوں کو کافر، واجب القتل اور ابدی جہنمی سمجھتے تھے۔

____________________

١(۱)ضحی الاسلام ج ٣، ص ٣٣٠ منقول از کتاب الفرق بین الفرق

۱۱۱

خلافت کے بارے میں خوارج کا عقیدہ

خوارج کی واحد فکر جو آج کے تجدّد پسندوں کی نظر میں درخشاں ظاہر کی جاتی ہے وہ خلافت آزادانہ انتخاب کے ذریعہ ہونی چاہیے اور موزوں ترین شخص وہ ہے جو ایمان و تقویٰ کے لحاظ سے صلاحیت رکھتا ہو خواہ قریش سے ہو یا غیر قریش سے، ممتاز قبیلے سے ہو یا گمنام اور پسماندہ قبیلے سے۔ عرب ہو یا غیر عرب۔

انتخاب اور بیعت مکمل ہونے کے بعد خلیفہ اگر اسلامی معاشرے کے مفاد کے خلاف چلے تو وہ خلافت سے معرزول ہو جاتا ہے اور اگروہ (معزول ہونے سے ) انکار کر بیٹھے تو اس سے جنگ کرنا چاہیے یہاں تک کہ وہ مارا جائے ۔(۱)

یہ لوگ خلافت کے بارے میں شیعوں کے مخالف قرار پائے ہیں جو کہتے ہیں کہ خلافت ایک امر الہی ہے اور خلیفہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف خدا کی طرف سے معین کیا گیا ہو اور اسی طرح سنیوں کے بھی مخالف ہیں جو کہتے ہیں کہ خلافت صرف قریش کے لیے ہے اور''انما الائمة من القریش،، کے جملے سے وابستگی ڈھونڈھتے ہیں۔

ظاہر ہے کہ خلافت کے بارے میں ان کا یہ نظریہ ایسی چیز نہیں ہے کہ

____________________

۱) ضحی الاسلام ج ۳، ص ۳۳۲

۱۱۲

جس تک وہ اپنی پیدائش کے ساتھ ہی پہنچے ہوں۔ بلکہ جیسا کہ ان کا مشہور نعرہ ''لا حکم الا للہ،، حکایت کرتا ہے اور نہج البلاغہ(۱) سے معلوم ہوتا ہے کہ شروع میں وہ کہتے تھے کہ افراد اور معاشرے کو کسی امام یا حکومت کی ضرورت نہیں ہے اور لوگوں کو خود خدا کی کتاب پر عمل کرنا چاہیے۔

لیکن بعد میں وہ اس عقیدے سے پھر گئے اور خود عبد اللہ بن وہب راسبی کی بیعت کرلی۔(۲)

خلفاء کے بارے میں خوارج کاعقیدہ

وہ ابوبکر اور عمر کی خلافت کو صحیح سمجھتے تھے اس اعتبار سے کہ یہ دونوں ایک صحیح انتخاب کے ذریعے خلافت تک پہنچے تھے اور مصالح کی راہ سے بھی منحرف نہیں ہوئے اور اس کے خلاف کسی چیز کے مرتکب نہیں ہوئے۔ وہ عثمان اور علی علیہ سلام کے انتخاب کو بھی صحیح جانتے تھے۔ بالآخر کہتے تھے کہ عثمان اپنی خلافت کے چھٹے سال کے آخر میں راہ سے منحرف ہوگیا ہے اور مسلمانوں کے مفادات سے آنکھیں پھیر لی ہیں اس لیے وہ خلافت سے معزول تھا اور چونکہ مسئلہ تحکیم کو قبول کیا اور اس کے بعد توبہ نہیں کی ہے وہ بھی کافر ہوگیا اور واجب القتل تھا اور اس لیے ساتویں سال کے بعد عثمان کی خلافت اورتحکیم کے بعد علی علیہ سلام کی خلافت سے تبّریٰ (بیزاری کا اظہار) کرتے(۳) تھے۔ وہ سارے خلفاء سے بیزاری کااظہار کرتے تھے اور

____________________

۱) خطبہ ۴۰ و شرح ابن ابی الحدید ج ۲، ص۳۰۸

۲) کامل ابن اثیر ج ۳، ص ۳۳۶

۳) الملل و النحل شہرستانی

۱۱۳

ہمیشہ ان کے ساتھ برسرپیکار رہتے تھے۔

خوارج کا خاتمہ

یہ گروہ پہلی صدی ہجری کے چوتھے دہے کے اواخر میں ایک خطرناک فریب کے نتیجے میں وجود میں آیا اور ڈیڑھ صدی سے زیادہ نہ ٹھہر سکا۔ اپنے بے جا جوش اور جنون آمیز بے باکیوں کی وجہ سے وہ خلفاء کی سرزنش کا شکار بنے جنوہں نے ان کو اور ان کے مذہب کو تباہی و بربادی کی طرف دھکیلا اور عباسی سلطنت کے قیام کے اوائل میں سرے سے نابود ہوگئے۔ ان کی خشک اور بے روح منطق، ان کو وہ روش جو زندگی سے ناآہنگ تھی اور سب سے بڑھ کر ان کے بیجا جوش نے جس کی وجہ سے انہوں نے ''تقیّہ،، کے صحیح اور منطقی مفہوم تک سے کنارہ کشی اختیا رکی، ان کو نابود کردیا۔ خوارج کا مکتب کوئی ایسا مکتب نہ تھا جو واقعاً باقی رہ سکتا لیکن اس مکتب نے اپنا اثر باقی رکھا۔ خارجیت کے افکار و عقائد نے تمام اسلامی فرقوں میں نفوذ پیدا کیا اور اب بھی بہت سے ''نہروانی،، موجود ہیں اور علی علیہ سلام کے عہد و عصر کی طرح اسلام کے خطرناک ترین داخلی دشمن یہی لوگ ہیں۔ جس طرح کہ معاویہ اور عمر و عاص بھی ہر دور میں رہے ہیں اور ''نہرانیوں،، کے وجود سے جوان کے دشمن شمار ہوتے ہیں،موقعہ پر فائدہ اٹھاتے ہیں۔

۱۱۴

رُسوم یا روح

ایک مذہبی بحث کی حیثیت سے خارجیت یا خوارج کے اوپر بحث کرنا، کسی مورد کے بغیر بحث اوربے نتیجہ ہے کیونکہ آج دنیا میں ایسا کوئی مذہب وجود نہیں رکھتا لیکن اس کے ساتھ ہی خوارج اور ان کے کام کی نوعیت کے بارے میں بحث ہمارے اور ہمارے معاشرے کے لیے سبق آموز ہے کیونکہ ہر چند خوارج کا مذہب ختم ہوچکا ہے لیکن اس کی روح ابھی زندہ ہے۔ خارجیت کی روح ہم میں سے بہت سے لوگوں کے پیکر میں حلول کئے ہوئے ہے۔ لازم ہے کہ مقدمے کے طور پر کچھ کہوں:

یہ ممکن ہے کہ کچھ مذاہب رسوم کے اعتبار سے مرچکے ہوں لیکن اپنی روح کے اعتباد سے زندہ ہوںجیسا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے برعکس ہو کہ کوئی مسلک رسوم کے اعتبار سے زندہ ہو لیکن روح کے اعتبار سے کلی طورپر مرچکا ہو لہذا ممکن ہے کہ کوئی فرد یا کچھ افراد رسوم کے لحاظ سے ایک مذہب کے تابع اور پیرو شمار کئے جاتے ہوں اور روح کے اعتبار سے اس مذہب کے پیرو نہ ہوں اور اس کے برعکس ممکن ہے کہ بعض روح کے اعتبار سے کسی مذہب کے پیرو ہوں حالانکہ اس مذہب کے رسوم کو انہوں نے قبول نہ کیا ہو۔

مثلاً جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، کہ رسول اکرم کی رحلت کے بعد ابتداء ہی مسلمان دو فرقوں میں بٹ گئے:۔ سُنّی اور شیعہ۔ سُنّی ایک رسم اور عقیدے کے چوکھٹے کے اندر ہیں اور شیعہ دوسرے رسم اور عقیدے کی چار دیواری کے اندر۔

۱۱۵

شیعہ کہتے ہیں کہ پیغمبر کے خلیفہئ بلا فصل علی علیہ سلام ہیں اور آنحضرت نے علی علیہ سلام کو خدا کے حکم سے اپنی خلافت اور جانشینی کے لیے معین کیا ہے اور پیغمبر کے بعد یہ مقام ان کے لیے مخصوص ہے اور اہل سنت کہتے ہیں کہ اسلام نے اپنا قانون بناتے ہوئے خلافت و امامت کے موضوع میں کوئی مخصوص پیش بینی نہیں کی ہے بلکہ رہبر کے انتخاب کا معاملہ خود لوگوں پرچھوڑا ہے زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ قریش کے درمیان سے منتخب کیا جائے۔

شیعہ پیغمبر کے بہتسے ایسے صحابہ پر تنقید کرتے ہیں جن کا شمار اکابر اور مشہور شخصیتوں میں ہوتا ہے اور سنی اس معاملے شیعوں کے بالکل مخالف ہیں وہ ہر اس شخص کے بارے میں بہت زیادہ اور عجیب خوش بینی رکھتے ہیں ،جو ''صحابی،، کہلاتا ہو۔ کہتے ہیں کہ پیغمبر کے تمام صحابہ عادل اور صحیح کام کرنے والے ہیں۔ تشیع کی بنیاد تنقید ،تحقیق، ناخوش عقیدگی اور بال کی کھال اتارنا ہے اور تسنن کی بنیاد حمل بر صحت، توجیہ اور ''انشاء اللہ بلی ہوگی،، پر ہے۔

اس عصر اور زمانے میں جس میں ہم ہیں۔ کافی ہے کہ جو شخص کہد ے: علی علیہ سلام پیغمبر کے خلیفہئ بلا فصل ہیں ہم اس کو شیعہ سمجھیں اور اس سے کسی اور چیز کی توقع نہ رکھتے ہوں؟ وہ جسی روح اور جس نوعیت کے طرز فکر کا ہو، ہوا کرے؟

لیکن اگر ہم صدر اسلام کی طرف مڑ کر دیکھیں تو ہمیں ایک خاص قسم کا جذبہ نظر آتا ہے کہ وہ جذبہ تشیع کا جذبہ ہے اور وہی جذبات تھے جو علی علیہ سلام کے بارے میں پیغمبر کی وصیت کو سو فیصد قبول کرسکتے تھے اور کسی قسم کے شک اور تذبذب کا شکار نہ ہوتے تھے جس جذبہ اور اس طرز فکر کے مقابلے میں ایک اور جذبہ اور طرز فکرتھا کہ لوگ آنحضرت پجر مکمل ایمان رکھنے کے باوجود پیغمبر اکرم کی وصیتوں کی ایسی توجیہہ اور تفسیر اور تاویل کرتے تھے جو مطلوب نہ تھی اور درحقیقت اسلام میں انتشار یہاں سے پیدا ہوا کہ ایک گروہ جس کی یقیناً اکثریت تھی صرف ظاہر کو دیکھتا تھا اور ان کی نظر اتنی تیز اور گہری نہ تھی کہ ہر واقعہ کی حقیقت اور اس کے باطن کو بھی دیکھتی وہ ظاہر کو دیکھتا اور ہر جگہ حمل بر صحت کرتا تھا وہ لوگ کہتے کہ برزگ، بوڑھے اور اسلام میں پہل کرنے والے صحابہ ایک راہ پر چلے ہیں اور یہ نہیں کہا جاسکتا کہ انہوں نے غلطی کی ہے

۱۱۶

لیکن دوسرا گروہ جو اقلیت میں تھا وہ اسی وقت سے کہتارہا ہے کہ شخصیتیں اس وقت تک ہمارے نزدیک قابل احترام ہیں جب تک وہ حقیقت کا احترام کرتی رہیں لیکن جہاں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اسلام کے اصول انہی پہل کرنے والوں کے ہاتھوں پائمال ہو رہے ہیں، پھر ان کا کوئی احترام نہیں ہے۔ ہم اصول کے طرفدار ہیں نہ کہ شخصیتوں کے۔ اس روح کے ساتھ تشیع وجود میں آیا ہے۔

ہم جب تاریخ میں سلمان فارسی، ابوذر غفاری، مقداد کندی، عمار یاسر اور اسی طرح کے لوگوں کے بارے میں دیکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دیکھیں کہ ان لوگوں کو علی علیہ سلام کے گرد جمع ہونے اور اکثریت کو چھوڑ دینے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ تو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ ایسے لوگ تھے جو اصولی بھی تھے اور اصول شناس بھی، دیندار بھی تھے اور دین شناس بھی، وہ کہتے تھے کہ ہمیں اپنی فکر و ادراک کو دوسروں کے ہاتھ میں نہیں دیناچاہیے اور یہ کہ جب وہ غلطی کریں توہم بھی غلطی کریں اور در حقیقت ان کی روح ایسی روح تھی جن پر اصول اور حقائق کی حکمرانی تھی نہ کہ اشخاص اور شخصیتوں کی!

امیر المومنین کے صحابہ میں سے ایک شخص جنگ جمل کے معاملے میں سخت تردد کاشکار تھا۔ وہ دونوں طرف دیکھتا ایک طرف علی علیہ سلام کو دیکھتا تھا اور ان برزگ مسلمان شخصیتوںکو جو علی علیہ سلام کے ہمرکاب ہو کر تلواریں کھینچے ہوئے تھیں اور دوسری طرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیوی حضرت عائشہ کو دیکھتا کہ قرآن، آنحضرت کی بیویوں کے بارے میں کہتا ہے''و ازواجه مهاتهم،، (سورہئ احزاب آیت ۶) ''اس کی بیویاں امت کی مائیں ہیں،، اور عائشہ کے ہمرکاب طلحہ کو دیکھتا جو سابقین میںسے تھا ایک اچھا ماضی رکھنے والا، تیز انداز اور اسلامی جنگوں کا ماہر سپاہی، ایسا شخص جس نے اسلام کی بیش بہا خدمت کی ہے اور پھر زبیر کو دیکھتا جو طلحہ سے بھی اچھا ماضی رکھنے والا حتیٰ کہ وہ ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے سقیفہ کے روز علی علیہ سلام کے گھر پناہ لی تھی۔

۱۱۷

یہ شخص عجیب حیرت میں پڑا تھا کہ یہ سب کیا ہے؟ آخر علی علیہ سلام و طلحہ اور زبیراسلام میں پہل کرنے والوں اور اسلام کے سخت ترین فدا کاروں میں سے ہیں، اب وہ ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں؟! ان میں کون زیادہ حق کے قرب ہے؟ اس الجھن میں کیا کرنا چاہےے؟ یاد رکھیے! اس حیران شخص کی زیادہ ملامت نہیں کرنی چاہیے۔ شاید اگر ہم بھی ان حالات سے دوچار ہوتے جن میں وہ دو چار ہوا تو زبیر اور طلحہ کی شخصیت اور خدمات ہماری آنکھوں کو خیرہ کردیتیں۔

آج جب ہم علی علیہ سلام و عمار و اویس قرنی اور دوسرے لوگوں کو ۔۔۔ زبیر و طلحہ کے بالمقابل دیکھتے ہیں تو تردد کا شکار نہیں ہوتے کیونکہ ہم سمجہتے ہیں کہ دوسرے گروہ کے لوگوں کی پیشانی سے جنایت ٹپکتی ہے یعنی ان کے چہرے سے جرم اور خیانت کے آثار ظاہر ہیں اور ان کے قیافہ اور چہروں کو دیکھنے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ دوزخ والے ہیں لیکن اگرہم اس زمانے میں ہوتے اور ان کی خدمات کو نزدیک سے دیکھتے تو شاید تردد سے محفوظ نہ رہ سکتے۔

آج جب ہم پہلے گروہ کو برحق اور دوسرے گروہ کو باطل پر جانتے ہیں وہ اس اعتبار سے ہے کہ گذشتہ تاریخ کے نتیجے میں اور حقائق کے روشن ہونے کی وجہ سے ایک طرف علی علیہ سلام اور عمار اور دوسری طرف زبیر اور طلحہ کو ہم نے پہچان لیا ہے اور ہم اس قابل ہوئے ہیں کہ اس بارے میں صحیح فیصلہ کریں یا کم از کم اگر ہم خود تاریخ میں تحقیق اور مطالعہ کے اہل نہیں تو بچپنے سے ہمیں اسی طرح سمجھایا گیا ہے لےکن ان دنوں ان دو اسباب میں کوئی ایک بھی وجود نہیں رکھتا تھا۔

۱۱۸

بہرحال وہ شخص امیر المومنین کی خدمت میں پہنچا اور کہا:

''أیمکن ان یجتمع زبیر و طلحة و عائشة علی باطل،،

کیا ممکن ہے کہ طلحہ و زبیر اور عائشہ باطل پر اجماع کرلیں؟ ان جیسی شخصیتیں، رسول اللہ کے بزرگ صحابہ کس طرح غلطی کرسکتے اور باطل کی راہ پر چل سکتے ہیں کیا یہ ممکن ہے؟

علی علیہ سلام جواب میں ایسی بات کرتے ہیں کہ مصر کے دانشور اور ادیب ڈاکٹر طہٰ حسین کہتے ہیں: اس سے زیادہ محکم اور بالاتر بات نہیں ہوسکتی، وحی کے خاموش ہونے اور ندائے آسمانی کے منتقطع ہونے کے بعد اتنی عظیم بات نہیں سنی گئی ہے،(۱) فرمایا:

''انک لملبوس علیک، ان الحق و الباطل لا یعرفان باقدار الرجال، و اعرف الحق تعرف اهله، و اعرف الباطل تعرف اهله،،

''تمہیں دھوکہ ہوا اور حقیقت کی پہچان میں تم سے غلطی ہوئی ہے۔ ےق و بائل کو افراد کی شخصیت اور قدر قیمت کی کسوٹی پر نہیں پرکھا جاسکتا۔ یہ صحیح نہیں ہے کہ تم پہلے شخصیات کو پیمانہ قرار دو اور اس کے بعد حق و باطل کو ان پیمانوں سے پرکھو، فلاں چیز حق ہے کیونکہ فلاں اس کے ساتھ موافق ہےں اور فلاں چیز باطل کیونکہ فلاں فلاں

____________________

۱) علی و نبوہ ص ۴۰

۱۱۹

اس کے مخالف ہیں۔ نہیں، اشخاص کو حق و باطل کا پیمانہ نہیں بنایا جانا چاہیے بلکہ حق و باطل کو اشخاص اور ان کی شخصیت کا پیمانہ قرار دیا جانا چاہیے۔،،

یعنی تمہیں چاہیے کہ حق شناس اور باطل شناس بنو نہ کہ اشخاص و شخصیت شناس۔ افرا د کو خواہ بڑی شخصیات ہوں یا چھوٹی شخصیات حق کے معیار پر پرکھو اگر اس کے اوپر پورا اتریں تو ان کی شخصیت کو قبول کرو ورنہ نہیںٍ۔ یہ کوئی بات نہیں ہے کہ آیا طلحہ و زبیر و عائشہ کے لیے ممکن ہے کہ باطل پر ہوں؟

یہاں علی علیہ سلام نے خود حقیقت کو حقیقت کا معیار قرار دیا ہے اور روح تشیّع بھی اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے اور در حقیقت شیعہ فرقہ ایک مخصوص نظر کی پیداوار ہے جو اسلامی اصول کو اہمیت دینے سے عبارت ہے نہ کہ افراد اور اشخاص کو۔ یوں لازمی طور پر ابتداء شیعہ تنقید کرنے اور (شخصیت کے) بُت توڑنے والوں کی حیثیت سے ابھرے۔

پیغمبر کے بعد تینتیس (۳۳) سالہ جوان علی علیہ سلام کے ساتھ انگلیوں کی تعداد سے کمتر اقلیت تھی اور ان کے مقابلے میں ساٹھ سالہ بوڑھے جن کے ساتھ بہت زبردست اکثریت تھی۔ اکثریت کی منطق یہ تھی کہ بزرگوں او مشائخ کا راستہ یہ ہے اور بزرگ غلطی نہیں کرتے اور ہم ان کی راہ پر چلتے ہیں۔ اُس اقلیت کی منطق یہ تھی کہ صرف یہ حقیقت ہی ہے جو غلطی نہیں کرتی، بزرگوں کو چاہےے کہ خود کو حقیقت کے ساتھ تطبیق کریں۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے لوگ کتنے زیادہ ہیں جو رسوم کے اعتبار سے شیعہ ہیں لیکن ان میں شیعیت کی روح نہیں ہے۔

تشیّع کی راہ اس کی روح کی طرح حقیقت کی تشخیص اور اس کی پیروی ہے اور اس کا سب سے بڑا اثر ''جذب،، اور ''دفع،، ہیں۔ لیکن ہر ''جذب،، اور ہر ''دفع،، نہیں جیسا کہ ہم نے پہلے کہا ہے کبھی جذب، باطل، ظلم اور ظالم کا جذب ہے اور دفع، حقیقت اور انسانی فضائل کا دفع، بلکہ وہ ''جذب،، اور ''دفع،، جو علی علیہ سلام کے جاذبہ و دافعہ کی قسم سے ہوں۔ شیعہ یعنی علی علیہ سلام کی سیرت کا نمونہ۔ شیعہ کے لیے بھی ضروری ہے کہ علی علیہ سلام کی طرح دوہری قوّت رکھتا ہے۔

۱۲۰

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159