اہل ذکر۔۔۔۔۔۔؟ جلد ۲

اہل ذکر۔۔۔۔۔۔؟0%

اہل ذکر۔۔۔۔۔۔؟ مؤلف:
قسم: مناظرے
صفحے: 261

اہل ذکر۔۔۔۔۔۔؟

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: محمد تیجانی سماوی (تیونس)
قسم: صفحے: 261
مشاہدے: 2522
ڈاؤن لوڈ، اتارنا: 178

تبصرے:

جلد 2
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • شروع
  • پچھلا
  • 261 /
  • آگے
  • آخر
  •  
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا HTML
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا Word
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا PDF
  • مشاہدے: 2522 / ڈاؤن لوڈ، اتارنا: 178
سائز سائز سائز
اہل ذکر۔۔۔۔۔۔؟

اہل ذکر۔۔۔۔۔۔؟ جلد 2

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

۱

اہل ذکر .....؟

ڈاکٹر محمد تیجانی سماوی

ترجمہ

نثار احمد زین پوری

۲

نام کتاب --------- اہل ذکر

تالیف--------------- ڈاکٹر محمد تیجانی سماوی

ترجمہ----------------- نثار احمد زین پوری

ای بک تنظیم وترتیب ------- الحسنین علیھما السلام نیٹ ورک

۳

پانچواں فصل

خلفائے ثلاثہ سے متعلق

جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں کہ اہلسنت والجماعت رسول(ص) کے صحابہ میں سے کسی بھی صحابی پر تنقید و تبصرہ برداشت نہیں کرتے ہیں اور سب کو عادل قرار دیتے ہیں اور اگر کوئی وسیع النظر بعض صحابہ کے افعال کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے تو اہلسنت اس پر لعنت ملامت کرتے ہیں، بلکہ اسے کافر قرار دیتے ہیں اگرچہ اس تنقید کرنے والے کا تعلق انہیں کے علماء سے ہو جیسا کہ مصر وغیرہ کے بعض وسیع النظر علماء کے ساتھ پیش آیا ہے، مثلا شیخ محمود ابوریّہ صاحب"اضواء علی السنة المحمدیة" اور شیخ مضیرہ" قاضی شیخ محمد امین انطاکی صاحب" لماذا اخترت مذهب اهل البیت(ع)" اور سید محمد ابن عقیل جن کی کتاب" النصائح الکافیہ لمن یتولی معاویہ ہے" بلکہ مصر کے کچھ صاحبان قلم نے تو جامعہ ازہر کے وائس چانسلر شیخ محمود شلتوت کو بھی اس وقت کافر قرار دے دیا تھا. جب انھوں نے یہ فتوے دیا تھا کہ مذہب جعفری کو اختیار کرنا جائز ہے.

۴

جب جامعہ ازہر کے واس چانسلر اور مصرکے مفتی پر صرف اس بات کی بنا پر طعن وتشنیع کی جاسکتی ہے کہ جنھوں نے اس مذہب شیعہ کوبر حق قرار دیا تھا. جو استاذ الائمہ جعفر صادق علیہ السلام کی طرف منسوب ہےتو اس شیعہ کا کیا حال ہوگا جس نے اس مذہب کو تحقیق اور اپنےآبائ و اجداد کے مذہب پرتنقید کے بعد اختیار کیا ہو ئظاہر ہے کہ اہلسنت اس کوہرگز برداشت نہیں کرسکیں گے. اسے تو دین سے خارج اور اسلام کا باغی قرار دیں گے، ان کے گمان میں گویا مذاہب اربعہ ہی اسلام ہے. اس کے علاوہ باطل ہی باطل ہے. ان لوگوں کی عقلیں منجمد اور پر پتھر پڑے ہیں یہ وہ عقلیں ہیں جن کے بارے میں ہمیں قرآن یہ بتاتا ہے کہ جب نبی(ص) نے انہیں دعوت دی تو انھوں نے ان سے سخت لڑائی لڑی کیونکہ نبی(ص) نے انھیں ایک خدا کی دعوت دی اور متعدد خداؤں کی پوجا سےمنع کیا.

چنانچہ ارشاد ہے:

( وَ عَجِبُوا أَنْ جاءَهُمْ مُنْذِرٌ مِنْهُمْ وَ قالَ الْكافِرُونَ هذا ساحِرٌ كَذَّابٌ* أَ جَعَلَ الْآلِهَةَ إِلهاً واحِداً إِنَّ هذا لَشَيْ‏ءٌ عُجابٌ‏ ) سورہ ص آیت 4

اور انھیں تعجب ہے کہ انھیں میں سے ڈرانے والا کیسے آگیا، اور کافروں نے صاف کہہ دیا کہ یہ تو جادوگر اورجھوٹا ہے.کیا اس نے سارے خداؤں کو جوڑ کر ایک خدا بنا دیا ہے یہ تو انتہائی تعجب خیز بات ہے.مجھے یقین ہے کہ مجھ کو ان دشواریوں کا مقابلہ کرنا ہوگا کہ جو ان متعصب افراد کی طرف سے پیدا کی جائیں گی جنھوں نے اپنے کو دوسروں کا حاکم بنا رکھا ہے اور ان کے نزدیک کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ صحابہ کی مدح کو ترک

۵

کرکے ان پر تنقید کرے جبکہ صحابہ کی مدح کا دین سے کوئی ربط نہیں ہے. اور جب یہ دین سے مربوط نہیں ہے تو کسی کو یہ حق نہیں پہونچتا کہ وہ صحابہ کے اصول و فروع میں اس کا کہیں پتہ بھی نہیں ہے.

بعض متعصبین اپنے حلقوں میں اس بات کو رواج دے رہے ہیں کہ میری کتاب "ثم اھتدیت" ایسی ہے جیسی سلمان رشدمی کی" شیطانی آیات" اس پروپیگنڈے سے ان کامقصدیہ ہے کہ لوگ میری کتاب کامطالعہ نہ کریں اور مجھ پرلعنت و ملامت کرنے لگیں

جب کہ یہ دھوکہ اور عظیم بہتان ہے عنقریب رب العالمین اس کا حساب لے گا. یہ لوگ کیسے میری کتاب"ثم اھتدیت"کو کہ جوعصمت رسول(ص) کو قبول کرنے کی اور ائمہ اہلبیت(ع) کی اقتدار کی دعوت دیتی ہے. کہ جنہیں خدا نے ہر قسم کے رجس سے محفوظ اور طیب و طاہر رکھا ہے. " شیطانی آیات" سے تشبیہ دیتے ہیں جس میں اسلام اور نبی اسلام(ص) پر سب و شتم مندرج ہے. جس کا مصنف اسلام کو شیطانی پھونک تصور کرتا ہے؟؟

( يا أَيُّهَا الَّذِينَ‏ آمَنُوا ) سورہ نساء، آیت/135

اے ایمان والو عدل و انصاف کے ساتھ قیام کرو اور اللہ کے لئے گواہ بنو چاہے اپنی ذات ہی کے خلاف کیو ں نہ ہو.

اسی آیت کی وجہ سے میں کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتا. میں تو

۶

خداکی رضا کا خواستگار ہوں مجھے اس وقت تک کہ

خدا کی رضا کا خواستگار ہوں مجھے اس وقت تک کسی ملامت گر کی ملامت کی کوئی پرواہ نہیں ہے جب تک میں صحیح اور خالص اسلام کا دفاع کررہا ہوں اور نبی(ص) کو ہر خطا سے محفوظ ثابت کر رہا ہوں خواہ یہ کام بعض مقرب صحابہ پر تنقید ہی کے ساتھ انجام پذیر ہو رہا ہو. خواہ وہ صحابہ خلفائے راشدین ہی میں سے کیوں نہ ہوں. کیونکہ رسول(ص) کا خطاؤں سے منزہ ہونا تمام لوگوں سے اولی ہے. میرے محترم و ذہین قارئیں میری تالیفات سے یہ بات سمجھتے ہیں کہ میرا مقصد کیا ہے میرا مقصد صحابہ کی شان گھٹانا اور ان کی عظمت کم کرنا نہیں ہے بلکہ رسول(ص) اور آپ کی عصمت کا دفاع کرنا ہے. اور ان شبہات کو دور کرنا ہے جو امویوں اور عباسیوں نے ابتدائی صدیوں میں اسلام اور نبی اسلام(ص) سے جوڑ دیئے ہیں. جو زبردستی مسلمانوں کے حاکم بن بیٹھے تھے. جو اپنے پست اغراض اور اپنی بے نتیجہ سیاست کے تحت دین خدا میں من مانی رد و بدل کر لیا کرتے تھے. ان کی اس گھناؤنی سازش کا مسلمانوں پر بہت بڑا اثر ہوا. مسلمانوں نے حسن نیت کی بنا پر ان(امویوں اور عباسیوں) کا اتباع کیا. ان کی روایت کردہ احادیث کو بے چوں و چرا حقیقت سمجھ کر قبول کیا اور یہ تصور کیا کہ یہی اسلام ہے لہذا مسلمانوں پر اس کا قبول کرنا واجب ہے اور ان کی چھان بین کرنا صحیح نہیں ہے.

اگر مسلمانوں کو حقیقت معلوم ہوجاتی تو کبھی ان کا اتباع نہ کرتے اور نہ ان کی نقل کی ہوئی احادیث کا اعتبار کرتے، پھر اگر تاریخ ہمیں یہ بتاتی کہ صحابہ نے رسول(ص) کے اوامر و نواہی کی اطاعت کی، آپ(ص) کے احکام پر کوئی مناقشہ و اعتراض نہیں کیا ہے اور رسول(ص) کی آخری حیات میں آپ(ص) کے حکم سے سرکشی نہیں کی تو ہم ان سب کو عادل تسلیم کر لیتے اور پھر ہمارے لئے اس سلسلہ میں بحث کی گنجائش نہ رہتی لیکن قرآن و حدیث کی نص سے ان میں سے کچھ دروغ گو، کچھ منافق اور کچھ فاسق ہیں.

۷

انہوں نے آپ(ص) کے سامنے اختلاف کیا، آپ(ص) کے حکم کی خلاف ورزی کی یہاں تک کہ آپ(ص) پر ہذیان کا بہتان لگایا نوشتہ نہ لکھنے اور جیش اسامہ میں شریک نہ ہو کر آپ(ص) کے حکم سے سر کشی کی نبی(ص) کے خلیفہ کے بارے میں اس قدر اختلاف کیا کہ آپ(ص) کو بے غسل و کفن چھوڑ دیا اور خلافت کے بارے میں جھگڑنے لگے کوئی اس پر راضی ہوا اور کسی نے انکار کر دیا. آپ(ص) کی وفات کے بعد ہر شئی میں اختلاف پیدا کیا یہاں تک کہ ایک دوسرے کو کافر کہنے لگے، ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگے اور ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے. کسی نے کسی سے برائت اختیار کی اور ایک دین خدا متعدد مذہبوں اور مسلکوں میں تقسیم ہوگیا. اس کیفیت کے پیش نظر ہمارے لئے ضروری ہے کہ اس کی علت تلاش کریں اور یہ دیکھیں کہ لوگوں کے لئے بہترین امت کس سبب سے پستی میں گر پڑی، ذلیل و حقیر ترین اور کلی طور پر جاہل امت قرار پائی کہ جس کہ ہتک حرمت کی جا رہی ہے جس کے مقدسات کو پامال کیا جا رہا ہے جس کے قبیلوں کو ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے. جیسے وطن سے بے وطن کیا جا رہا ہے، تجاوز کرنے والوں کے مقابلہ کی بھی اس میں سکت نہیں ہے اور نہ ہی ننگ و عار کے داغ کو پیشانی سے الگ کرنے کی صلاحیت ہے.

میرے عقیدے کے لحاظ سے اس مرض کا واحد علاج ذاتی تنقید ہے اور انسان کو چاہئیے کہ وہ اپنے گریبان میں جھانکے. اپنے آباء و اجداد کی اندھی تقلید کرتے ہوئے فخر و مباہات نہ کرے. حقیقت معصومین(ع) ہمیں اس بات کی دعوت دیتے ہیں کہ ہم اپنے امراض اور تفرقہ بازی، تخلف اور نا کامی کے اسباب تلاش کریں اور جب ہم مرض کا انکشاف کر لیں تو پھر شفا یابی کے لئے اس کی دوا کی تشخیص کر لیں قبل اس کے کہ ہم گذر جائیں اور دوسری نسل آجائے.

یہی اصل مقصد ہے اور صرف خدا ہی لائق عبادت ہے وہی اپنے

۸

بندوں کو سیدھے راستہ کی ہدایت کرتا ہے.

اور جب تک ہمارا مقصد صحیح رہے گا اس وقت تک اعتراض کرنے والوں کے اعتراض اور وہ متعصب لوگ جو صحابہ سے دفاع کے نام پر سب و شتم کے علاوہ کچھ جانتے ہی نہیں ان کی کوئی قیمت نہیں رہے گی. اور ہم ان پر ملامت نہیں کرتے ہیں نہ ہی ان کی طرف سے کدورت رکھتے ہیں. بلکہ ان کے حال پر گریہ کرتے ہیں اس لئے کہ وہ مجبور ہیں، انہیں صحابہ کا حسن ظن حقیقت تک نہیں پہونچنے دیتا، انہی کے مثل یہود و نصاری کی وہ اولاد ہیں جو اپنے آباء و اجداد کی طرف سے حسن ظن رکھتی ہیں اور اپنے نفسوں کو اسلام کی تحقیق کی زحمت نہیں دیتی، اپنے اسلاف کی اس بات پر اعتقاد رکھتی ہیں کہ محمد(ص) ( معاذ اللہ) کذاب ہیں اور وہ نبی(ص) نہیں ہیں. خداوند عالم کا ارشاد ہے:

( وَ ما تَفَرَّقَ‏ الَّذِينَ‏ أُوتُوا الْكِتابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ ما جاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ ) سورہ، بینہ، آیت/3

اور یہ اہل کتاب متفرق نہیں ہوئے مگر اس وقت جب ان کے پاس کھلی ہوئی دلیل آگئی.

صدیوں کے گذرنے کے سبب مسلمانوں کے لئے یہودیوں اور نصاری کو عقیدہ اسلام سے مطمئن کرنا مشکل ہوگیا ہے اس شخص کا کیا قصور ہے جو ان سے یہ کہتا ہے کہ توریت و انجیل جن پر تم قائل ہو وہ تحریف شدہ ہیں اور اپنے اس مدعا پر وہ قرآن سے استدلال کرتا ہے. پس کیا یہ ( استدلال کرنے والا) مسلمان انہیں مطمئن کر لیتا ہے؟

بالکل یہی حالت اس ضعیف العقل مسلمان کی ہے جو تمام صحابہ کی عدالت کا قائل ہے آیا اسے کوئی اس بات سے مطمئن کرسکتا ہے کہ کل صحابہ عادل نہیں ہیں

۹

اور جب وہ معاویہ اور اس کے بیٹے یزید وغیرہ پر تنقید کو برداشت نہیں کرسکتے کہ جنہوں نے اسلام کو اپنے قبیح اعمال سے داغدار بنا دیا تو ظاہر ہے کہ وہ آپ کی بات کو ابوبکر، عمر اور عثمان، صدیق، فاروق اور جن سے ملائکہ حیا کرتے ہیں،، کے بارے میں کیسے برداشت کرسکتے ہیں. یا زوجہ نبی ام المومنین بنت ابوبکر عائشہ کہ جن کے متعلق ہو اہلسنت کی معتمد ترین کتب صحاح سے گذشتہ فصل میں گفتگو کرچکے ہیں ان کے بارے میں کوئی بات کیونکر برداشت کر سکتے ہیں. اب خلفائے ثلاثہ کے کردار کی باری آئی ہے. اب ہم ان کے ان افعال کا انکشاف کرتے ہیں جو اہلسنت کی صحاح، مسانید اور معتمد ترین تاریخی کتابوں میں مرقوم ہیں اولاً ہم اس بات کو بیان کرتے ہیں کہ تمام صحابہ کی عدالت کا مقولہ صحیح نہیں ہے. جب کہ بعض مقرب صحابہ میں بھی عدالت کا فقدان تھا.

ثانیاً ہم اپنے سنی بھائیوں کے لئے اس بات کا انکشاف کریں گے کہ یہ انتقادات سب و شتم نہیں ہیں بلکہ یہ توصرف حقیقت تک رسائی کے لئے کچھ پردوں کو اٹھانا ہے اور نہ ہی یہ شیعوں کی من گڑھت اور ان کی ایجاد ہے جیسا کہ عامہ کا دعوی ہے یہ تو اہلسنت کی ان کتابوں سے ماخوذ ہے جنہیں انہوں نے صحیح قرار دیا اور اپنے اوپر ان کا اتباع لازم کر لیا ہے.

ابوبکر حیات نبی(ص) میں

بخاری نے اپنی صحیح کی جلد/6 ص46 کتاب تفسیر القرآن میں سورہ حجرات کے سلسلہ میں تحریر کیا ہے کہ ہم سے نافع ابن عمر نے اور انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ قریب تھا کہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بلاک

۱۰

ہو جاتے، دونوں میں رسول(ص) کے سامنے بلند آواز میں تو تو میں میں ہونے لگی تھی. جب آپ(ص) کے پاس بنی تمیم کا ایک وفد آیا تھا. ان میں سے ایک نے اقرع ابن جالس کو ان کا امیر بنانے کے لئے کہا دوسرے نے کسی اور شخص کی طرف اشارہ کیا. نافع کہتے ہیں کہ اس کا نام مجھے یاد نہیں ہے. ابوبکر نےعمر سے کہا تم ہمیشہ میرے خلاف سوچتے ہو. عمر نے جواب دیا کہ نہیں. اس سلسلہ میں دونوں کی آواز بلند ہوگئی پس خدا نے یا آیت نازل فرمائی.

( يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا- لا تَرْفَعُوا أَصْواتَكُمْ‏ ) حجرات، آیت/2

ایمان والو خبر دار اپنی آواز کو نبی(ص) کی آواز پر بلند نہ کرنا.

ابن زبیر کہتے ہیں کہ:آیت نازل ہونے کے بعد عمر خاموش ہوگئے یہاں تک کہ کوئی سوال بھی نہیں کرتے تھے اور نہ ہی ابوبکر سے اس کا تذکرہ کیا.

بخاری نے اپنی صحیح کی جلد/8 ص145" کتاب الاعصام بالکتاب والسنة" باب" ما یکره من التعمق والتنازع" میں دکیع سے اور انہوں نے عمر ابن ابی ملیکہ سے نقل کیا ہے کہ یہ دونوں بزرگ ابوبکر و عمر اس وقت قریب تھا کہ ہلاک ہو جاتے جب بنی تمیم کا ایک وفد نبی(ص) کے پاس آیا تھا ان( ابوبکر و عمر) میں سے ایک نے اقرع ابن حابس تمیمی حنظلی کو ان کا امیر بنانے کے لئے کہا اور دوسرےنے ایک اور شخص کےلئے کہا ابوبکر نے کہا تم نے میری مخالفت کی ہے پس عمر نے کہا میں نے تمہاری مخالفت نہیں کی ہے اس سلسلہ میں نبی(ص) کے پاس دونوں کی آواز بلند ہوگئی تو خدا نے یہ آیت نازل فرمائی:

( يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْواتَكُمْ‏ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَ لا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ

۱۱

أَنْ تَحْبَطَ أَعْمالُكُمْ وَ أَنْتُمْ لا تَشْعُرُونَ. إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْواتَهُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ أُولئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوى‏ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَ أَجْرٌ عَظِيمٌ)

ایمان والو خبردار اپنی آواز کو نبی(ص) کی آواز پر بلند نہ کرنا اور ان سے اس طرح بلند آواز میں بات بھی نہ کرنا جس طرح آپس میں ایک ددسرے کا پکارتے ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال برباد ہو جائیں اور تمہیں اس کا شعور بھی نہ ہو. بیشک جو لوگ رسول اللہ(ص) کے سامنے اپنی آواز کو دھیما رکھتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو خدا نے تقوی کے لئے آزما لیا ہے اور انہیں کے لئے، مغفرت و اجر عظیم ہے.

ابن ملیکہ کہتے ہیں کہ ابن زبیر کا قول ہے کہ اس کے بعد عمر خاموش ہوگئے اور اس کا تذکرہ ابوبکر سے نہیں کیا جب نبی(ص) سے کوئی بات کہتے تھے تو اس طرح بیان کرتے تھے جیسے راز کی بات، کوئی سوال بھی نہیں کرتے تھے.

بخاری نے اپنی صحیح کی جلد/5 کے صفحہ116 پر بنی تمیم کے وفد کے بارے میں تحریر کیا ہے کہ ہم سے ہشام ابن یوسف نے بیان کیا ہے کہ ہم سے جریح نے بتایا کہ ابن ابو ملیکہ نے بیان کیا انہیں عبداللہ ابن زبیر نے خبر دی کہ نبی(ص) کے پاس بنی تمیم کا ایک وفد آیا تو ابوبکر نے کہا کہ قعقاع ابن معبد ابن زرارہ کو امیر بنایا جائے، عمر نے کہا نہیں بلکہ اقرع ابن حابس کو بنایا جائے. ابوبکر نے کہا کہ تم میری مخالفت کر رہے ہو! عمر نے کہا کہ میں نے قطعی آپ کی مخالف نہیں کی اسی کشمکش میں دونوں کی آواز بلند ہوگئی تو یہ آیت نازل ہوئی( يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْواتَكُمْ‏ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ الخ )

ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابوبکر و عمر آداب اسلامی کے

۱۲

دستور کے تحت پاس و لحاظ نہیں رکھتے تھے. اپنے نفسوں کو خدا و رسول(ص) پر مقدم کرتے تھے جب کہ نہ رسول(ص) کی اجازت ہوتی تھی اور نہ ہی رسول(ص) نے ان سے فرمایا تھا کہ تم بنی تمیم کی امارت میں اپنی رائے پیش کرو پھر انہوں نے اسی پر اکتفا نہ کی بلکہ نبی(ص) کے سامنے جھگڑنے لگے اور آپ کے سامنے بے ادبانہ چیخنے لگے اور اپنے اخلاق و آداب کے فرائض کی کوئی پرواہ نہ کی. نبی(ص) کی تعلیم و تربیت کے بعد کسی صحابی کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ ان آداب و اخلاق کو بھلا دے.

اگر یہ واقعہ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں رونما ہوا ہوتا تو بھی ہم شیخین ( ابوبکر و عمر) کو معذور سمجھتے اور ان کے لئے تاویل کر لیتے.

لیکن روایات نے شک کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی. یہ حادثہ نبی(ص) کی حیات کے آخری ایام میں اس وقت رونما ہوا جب بنی تمیم کا ایک وفد نویں ہجری میں رسول(ص) کے پاس آیا اور اس کے بعد آپ(ص) چند ماہ زندہ رہے. جیسا کہ ان مورخین ومحدثین نے لکھا ہے کہ جنہوں نے رسول(ص) کے پاس بنی تمیم کے وفد کی آمد کا واقعہ قلم بند کیا ہے اور جیسا کہ قرآن مجید کے آخری سوروں میں ارشاد ہے:

( إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ‏ وَ الْفَتْحُ وَ رَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْواجاً )

جب خدا کی مدد اور فتح کی منزل آجائے گی اور آپ دیکھیں گے کہ لوگ دین خدا میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں.

اور جب حقیقت یہ ہے تو ابوبکر و عمر کی اس گستاخی کے لئے معذرت کرنے والے کیوں عذر تراشی کرتے ہیں جو نبی(ص) کے سامنے ہوتی تھیں اور پھر اگر اس واقعہ کو صرف روایت بیان کرتی تو بھی کوئی بات تھی. ہمارے اندر تنقید و تبصرہ کی جرات نہ ہوتی لیکن خدا حق کو بیان کرنے میں شرم نہیں کرتا ہے اس نے اس واقعہ کو

۱۳

قرآن میں درج کر دیا ہے جس میں ابوبکر و عمر کی تند مزاجی اور تہدید کے بارے میں پڑھا جاسکتا ہے کہ اگر اب انہوں نے ایسا کیا تو خدا ان کے اعمال کو برباد کردے گا. حد ہوگئی راوی نے اپنے کلام کی ابتدا اس جملہ سے کی ہے : و کاد الخیر آن ان یہلکا ابو بکر و عمر.اس حادثہ کے راوی عبداللہ ابن زبیر ہمیں مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد جو عمر کی شان میں نازل ہوئی ہے" عمر جب رسول(ص) سے بات کرتے تھے تو اتنی آہستہ کرتے تھے کہ سنی نہیں جاتی تھی چہ جائیکہ سمجھ میں آتی. اس کے با وجود ابن زبیر نے اپنے جد ابوبکر کا تذکرہ نہیں کیا ہے. جبکہ تاریخ اور محدثین کے نقل کردہ واقعات اس کے بر عکس ہیں. اس کے لئے " رزیة یوم الخمیس" کا تذکرہ کافی ہے. وہ یہ کہ نبی(ص) کی وفات سے تین روز قبل بروز جمعرات، ہم نبی(ص) پر بہت بڑا بہتان لگاتے ہوئے دیکھتے ہیں. کہتے ہیں کہ رسول(ص) ہذیان بک رہے ہیں. اور ہمارے لئے کتاب خدا کافی ہے. اس کے بعد لوگوں میں اختلاف پیدا ہوگیا کوئی کہتا تھا کہ قلم و دوات دے دو تاکہ رسول(ص) تمہارے لئے نوشتہ لکھ دیں. اور کوئی عمر کے قول کی تکرار کرتا تھا. جب شور و غل زیادہ ہوگیا.(1) تو نبی(ص) نے فرمایا: میرے پاس سے چلے جائو میرںے پاس جھگڑنا تمہارے لئے سزاوار نہیں ہے.(2) اس شور وغل اور اختلاف انزاع کے الفاظ سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے خدا کے ان حدود کو پامال کر دیا تھا جو سورہ حجرات میں خدا نے ان کے لئے مقرر کی تھیں. جیسا کہ بیان گذر چکا ہے. ہمیں اس بات سے مطمئن نہیں کیا حاسکتا کہ ان(صحابہ) کا شور و غل اور اختلاف و نزاع بہت ہی وھیمی آواز میں

____________________

1.بخاری جلد/5 ص138 باب مرض النبی(ص) و وفاتہ

2.بخاری جلد/1 ص37 کتاب العلم

۱۴

تھا بلکہ واقعہ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ انہوں نے گلا پھاڑ پھاڑ کر چلانا شروع کر دیا تھا یہاں تک کہ پردہ کے پیچھے بیٹھی ہوئی عورتیں بھی اس نزاع میں شریک ہوگئیں اور کہنے لگیں کہ رسول(ص) کو دوات و قلم دے دو تا کہ تمہارے لئے نوشتہ لکھ دیں تو عمر نے ان سے کہا تم ہی جیسی عورتیں یوسف کے ساتھ بھی تھیں جب وہ بیمار ہوتے تھے تو تمہاری آنکھیں آنسو برساتی تھیں اور جب صحت یات ہوتے تھے تو انہیں پریشان کرتی تھیں. عمر کی بات سن کر رسول(ص) نے فرمایا: عورتوں سے کچھ نہ کہو وہ تم لوگوں سے بہتر ہیں.(1)

ان تمام باتوں سے ہماری سمجھ میں تو یہی آتا ہے کہ انہوں نے خداوند عالم کے اس قول کی اطاعت نہیں کی:

( يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تُقَدِّمُوا بَيْنَ‏ يَدَيِ‏ اللَّهِ‏ وَ رَسُولِهِ‏.لا تَرْفَعُوا أَصْواتَكُمْ‏ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ )

اے ایمان لانے والو خدا و رسول(ص) کے سامنے اپنی بات کو آگے نہ بڑھائو. اور نبی کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کرنا. اور انہوں نے عظمت رسول(ص) کا بالکل احترام نہ کیا اور نہ ہی لوگوں نے انہیں(عمر کو) اس ہذیان کا الزام لگاتے وقت تادیب کی.اور ابوبکر کے بارے میں یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ انہوں نے رسول(ص) کے سامنے بے ہودہ بات کہی اور یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب انہوں نے عروہ ابن مسعود سے کہا:"امصص بنظر اللاب" (2)

____________________

1.کنز العمال جلد/3 ص138

2.بخاری جلد/3 ص176

۱۵

قسطلانی شارح بخاری اس عبارت پر حاشیہ لگاتے ہیں اور لکھتے ہیں حشفہ کو چوسنا عربوں میں غلیظ ترین گالی ہے پس جب رسول(ص) کے سامنے ایسی باتیں کہی جائیں گی تو خداوتد عالم کے اس قول کے کیا معنی ہوں گے:

( وَ لا تَجْهَرُوا لَهُ‏ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ )

اور ان سے اس طرح بلند آواز میں بات نہ کرنا جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو.

جب کہ خدا نے رسول(ص) کے بارےمیں خود فرمایا ہے کہ آپ خلق عظیم پر فائز ہیں. اور جب آپ(ص) کی حیا پردہ نشین کنواری لڑکی سے بھی زیادہ ہے جیسا کہ بخاری اور مسلم نے روایت کی ہے.(1) اور دونوں نے صراحت کے ساتھ تحریر کیا ہے کہ رسول(ص) نہ بد خلق تھے اور نہ بے ہودہ کلام کرتے تھے رسول(ص) فرماتے تھے کہ تم میں سب سے اچھا وہ شخص ہے جس کا اخلاق اچھا ہے(2) پس ان مقرب صحابہ کو کیا ہوگیا تھا جو اس خلق عظیم سے متاثر نہ تھے.ان تمام چیزوں کے علاوہ ایک بات میں کہتا ہوں اور وہ یہ کہ ابوبکر نے اس حکم رسول(ص) کی اطاعت نہیں کی جب آپ(ص) نے اسامہ کو ان کا امیر بنایا اور ابوبکر کو ایک عام فوجی کی حیثیت دی اور جیش اسامہ سے تخلف کرنے والوں کی سخت سرزنش کی یہاں تک فرمایا کہ جیش اسامہ سے تخلف کرنے والوں پر خدا لعنت کرے.(3) اور مورخین و سیرت نگار افراد نے لکھا ہے کہ یہ جملہ آپ(ص) نے اس وقت ارشاد فرمایا جب آپ(ص) کو یہ خبر ملی کہ لوگ اسامہ کو امیر بنانے کے سلسلہ

____________________

1.بخاری کتاب المناقب باب صفہ النبی(ص)، مسلم فی کتاب الفضائل باب کثرة حیاتہ(ص)

2.مسلم کتاب الفضائل باب کثرة حیات النبی(ص)، بخاری کتاب المناقب باب صفة النبی(ص)

3.ملل و نحل شہرستانی، چوتھا مقدمہ کتاب السقیفہ مصنف ابوبکر احمد ابن العزیز جوہری

۱۶

میں برا بھلا کہہ رہے ہیں.اس طرح ابوبکر جلدی سے سقیفہ پہونچے اور حضرت علی ابن ابی طالب(ع) کو خلافت سے دور رکھنے والوں میں شریک ہوگئے اور رسول(ص) کے غسل و کفن اور تجہیز و تدفین کی کوئی پرواہ نہ کی بلکہ تمام کاموں کو چھوڑ کر منصب خلافت و زعامت کے معاملات میں مشغول ہوگئے کہ جس کی طرف ان کی گردن اٹھی ہوئی تھی وہ قریبی صحبت کہاں چلی گئی، وہ دوستی کیا ہوئی؟ اخلاق کیا ہو گیا؟ مجھے ان صحابہ کے موقف پر تعجب ہوتا ہے کہ جن کے نبی(ص) نے اپنی پوری زندگی ان کی ہدایت و تربیت اور نصیحت میں گذاری،

( عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ‏ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ.. )

اور اس پر تمہاری ہر مصیبت شاق ہوتی وہ تمہاری ہدایت کے بارے میں حرص رکھتا ہے اور مومنین کے حال پر شفیق و مہربان ہے.

وہی آپ(ص) کے جسد مبارک کو بے گور و کفن چھوڑ کر رسول(ص) کا خلیفہ معین کرنے کے لئے سقیفہ کی طرف دوڑ پڑے. ہم اگر چہ آج بیسویں صدی میں زندگی گذار رہے ہیں جس کو بد ترین صدی کہا جاتا ہے. جس میں اخلاق نام کی کوئی چیز نہیں ہے اقدار دھواں بن چکے ہیں اس کے باوجود جب مسلمانوں میں کوئی مرجاتا ہے تو اس کے پڑوسی و ہمسایہ جلدی سے اس کے غسل و کفن اور تجہیز و تدفین کے کاموں میں مشغول ہو جاتے ہیں اور رسول(ص) کے اس قول کا اتباع کرتے ہوئے کہ" میت کا احترام اور اس کا دفن کرنا ہے" اسے سپرد لحد کرتے ہیں.

امیر المومنین علی(ع) ابن ابی طالب نے اپنے اس قول سے حقائق کا انکشاف کیا ہے کہ:

" أَمَا وَ اللَّهِ لَقَدْ تَقَمَّصَهَا ابْنُ‏ أَبِي‏ قُحَافَةَ أَخُو تَيْمٍ وَ إِنَّهُ لَيَعْلَمُ

۱۷

أَنَّ مَحَلِّي مِنْهَا مَحَلُّ الْقُطْبِ مِنَ الرَّحَى..."(1)

خدا کی قسم فرزند قحافہ نے خلافت کی قمیص کو زبردستی پہن لیا حالانکہ وہ جانتا ہے کہ خلافت میں میرا وہی مقام ہے جو چکی میں کیل کا ہوتا ہے.

اس کے بعد ابوبکر نے فاطمہ(ع) کے گھر پر ہجوم کو مباح قرار دیا اور انہیں دھمکی دی کہ اگر بیعت سے تخلف کرنے والے باہر نہ نکلے تو ہم گھر کو آگ لگا دیں گے. اس سلسلہ میں مورخین نے جو کچھ لکھا ہے اور راویوں نے نسلا بعد نسل جو نقل کیا ہے اس سے ہم ( فی الحال) چشم پوشی کر رہے ہیں تفصیل کے لئے تاریخی کتابوں کا مطالعہ فرمائیں.

نبی(ص) کے بعد فاطمہ(ع) کے ساتھ ابوبکر کا برتائو

بخاری نے عائشہ سے روایت کی ہے کہ فاطمہ(ع) بنت نبی(ص) نے کسی کو اپنے والد کی میراث، مدینہ میں فئی اور فدک وخمس کے مطالبہ کے لئے ابوبکر کے پاس بھیجا تو ابوبکر نے کہا کہ رسول(ص) نے فرمایا ہے کہ ہم کسی کو وارث نہیں بناتے جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہے. پس آل محمد(ص) اس مال سے کھا رہے ہیں اور قسم خدا کی میں صدقہ رسول(ص) میں کسی قسم کی رد و بدل نہیں کروں گا بلکہ اسے اسی حال پر برقرار رکھوں گا جس پر وہ رسول(ص) کے زمانہ میں تھا اور اس میں ایسے ہی تصرف کروں گا جیسے رسول(ص) کیا کرتے تھے پس ابوبکر نے فاطمہ(ع) کو کسی بھی چیز کے دینے سے انکار

____________________

1.خطبہ شقشقیہ

۱۸

کردیا. اس سلسلہ میں فاطمہ(ع) ابوبکر پر غصبناک ہوگئیں اور ان سے قطع تعلق کر لیا اور مرتے دم تک ان سے کلام نہ کیا. آپ(ع) نبی(ص) کے بعد چھ ماہ زندہ رہیں. جب انتقال فرمایا تو آپ(ع) کے شوہر علی(ع) نے نماز پڑھ کر رات میں سپرد لحد کیا اور ابوبکر کو اس کی اجازت نہ دی گئی. فاطمہ(ع) کی حیات میں علی(ع) کے پاس عذر تھا لیکن جب ان کا انتقال ہو گیا تو علی(ع) نے لوگوں کا منہ بند کرنے کے لئے ابوبکر سے مصالحت کر لی جبکہ فاطمہ(ع) کی زندگی میں آپ نے ایسا نہیں کیا تھا.(1)

مسلم نے ام المومنین عائشہ سے روایت کی ہے کہ فاطمہ علیہا السلام بنت رسول(ص) نے رسول(ص) کی وفات کے بعد ابوبکر سے کہا کہ مجھے میرے والد کی وہ میراث دی جائے جو رسول(ص) نے فئی وغیرہ کی صورت میں چھوڑی ہے. تو ابوبکر نے کہا کہ رسول(ص) کا قول ہے کہ ہم کسی کو وارث نہیں بناتے ہیں جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہے.(یہ سن کر) فاطمہ(ع) غضبناک ہوگئیں اور ابوبکر سے روابط قطع کر لئے اور مرنے دم تک ان سے رسم و راہ نہ رکھی. آپ رسول(ص) کے بعد چھ ماہ زندہ رہیں. عائشہ کہتی ہیں کہ فاطمہ(ع) نے ابوبکر سے رسول(ص) کے ترکہ اور خیبر و فدک میں سے اپنا حق طلب کیا تھا لیکن ابوبکر نے فاطمہ(ع) کو کچھ بھی دینے سے انکار کر دیا اور کہا میں وہی کروں گا جو رسول(ص) کیا کرتے تھے، میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں مجھ سے ان کے امر کی مخالفت نہ ہو جائے اور میں گمراہ نہ ہو جائوں، لیکن جہاں تک مدینہ کے صدقہ کی بات ہے تو وہ عمر علی(ع) و عباس کو پہلے ہی دے چکے ہیں اور فدک و خیبر کو عمر نے روک لیا اور کہا: یہ دونوں رسول(ص) کا صدقہ ہیں اور انہی کا حق ہے جیسے وہ ضرورت مندوں پر خرچ کیا کرتے تھے

____________________

1. صحیح بخاری جلد/5 ص83 کتاب المغازی باب غزوہ خیبر، صحیح مسلم کتاب الجہاد باب قول النبی(ص)"لانورث ما ترکنا فهو صدقة"

۱۹

اور اب ان کا اختیار ولی امر کو ہے اور آج بھی اپنی حالت پر ہے.(1)

با وجودیکہ بخاری و مسلم نے ان روایات کو بہت اختصار اور کترو و بیونت کے ساتھ نقل کیا ہے تاکہ محقق پر حقیقت آشکار نہ ہوسکے، خلفائے ثلاثہ کی عزت بچانے کے سلسلہ میں اس کام میں انہیں مہارت حاصل ہے( اس موضوع پر انشاء اللہ ہم ان دونوں سے بحث کریں گے اور عنقریب اس وعدہ کو وفا بھی کرینگے.

اس کے باوجود یہ روایات ابوبکر کی حقیقت کے انکشاف کے لئے کافی ہے انہوں نے فاطمہ(ع) کے دعوے کو رد کر دیا اور انہیں غضبناک کیا اور فاطمہ(ع) نے ان سے قطع تعلق کر لیا اور مرتے دم تک اپنے موقف پر باقی رہیں اور آپ کی وصیت کے مطابق آپ کے شوہر نے رات میں مخفیانہ طور پر دفن کیا اور ابوبکر کو اس کی اجازت نہ دی گئی. جیسا کہ ان روایات سے ہماری سمجھ میں یہ بات آتی ہے کہ فاطمہ(ع) کی حیات میں حضرت علی(ع) نے ابوبکر کی بیعت نہیں کی تھی لیکن آپ لوگوں کا برتائو دیکھ کر بیعت پر مجبور ہوئے اور ابوبکر سے مصالحت کر لی.

بخاری و مسلم نے جس حقیقت کی پردہ پوشی کی ہے وہ یہ ہے کہ جناب فاطمہ(ع) سے یہ دعوی کیا تھا کہ مجھے میرے والد نے اپنی حین حیات باغ فدک عطا کیا تھا پس وہ میراث نہیں ہے. اگر اس بات کو فرض کر لیا جائے کہ انبیاء وارث نہیں بناتے ہیں. جیسا کہ ابوبکر نے نبی(ص) سے روایت کی ہے اور اس کے ذریعہ فاطمہ(ع) کی تکذیف کی ہے تو روایت نصوص قرآن کے معارض ہے کیونکہ قرآن کہتا ہے کہ سلیمان دائود کے وارث بنے اور یہ گڑھی ہوئی روایت فدک کو شامل نہیں ہوتی

____________________

1.صحیح مسلم جلد/2 کتاب الجہاد باب قول النبی(ص)"لا نورث ما ترکنا فهو صدقة" اور صحیح بخاری نے اس حدیث کو کتاب قرض الخمس کے باب "قرض الخمس" میں نقل کیا ہے.

۲۰