فضائل اہلبیت علیہم السلام زیارت جامعہ کبیرہ کی روشنی میں

فضائل اہلبیت علیہم السلام زیارت جامعہ کبیرہ کی روشنی میں0%

فضائل اہلبیت علیہم السلام زیارت جامعہ کبیرہ کی روشنی میں مؤلف:
قسم: متفرق کتب

فضائل اہلبیت علیہم السلام زیارت جامعہ کبیرہ کی روشنی میں

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: استاد شیخ حسین گنجی
قسم: مشاہدے: 415
ڈاؤن لوڈ، اتارنا: 139

تبصرے:

فضائل اہلبیت علیہم السلام زیارت جامعہ کبیرہ کی روشنی میں
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • شروع
  • پچھلا
  • 17 /
  • آگے
  • آخر
  •  
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا HTML
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا Word
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا PDF
  • مشاہدے: 415 / ڈاؤن لوڈ، اتارنا: 139
سائز سائز سائز
فضائل اہلبیت علیہم السلام زیارت جامعہ کبیرہ کی روشنی میں

فضائل اہلبیت علیہم السلام زیارت جامعہ کبیرہ کی روشنی میں

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

فضائل اہلبیت علیہم السلام

زیارت جامعہ کبیرہ کی روشنی میں

( ۱۸ مجالس کا مجموعہ)

استاد شیخ حسین گنجی حفظہ اللہ

ترجمہ: اسدرضاچانڈیو

اس کتاب کےبارےمیں چندباتیں

کمال ایمان اور معرفت کیلئے خدا کےمقرب بندوں کی زیارت کا بہت بڑا کردار ہے۔ زیارت، خداوند قدوس کا وہ انمول تحفہ ہےجو اہلبیت سےتمسک اور وابستگی کا سبب بنتا ہےجو کہ خیر،برکت، فیض اورثواب کا سبب ہیں۔

ان تمام زیارتوں میں سےایک بہترین زیارت جامعہ کبیرہ ہےجو کہ ائمہ معصومین کی معرفت کامل کا ذریعہ ہےاور اہلبیت کےکمالات اور فضائل سےبھرا سمندر ہے۔

زیارت جامعہ امامت اور ہدایت کا وہ بلند منشور ہےجو امام علی نقی علیہ السلام کےنورانی بیانات سےظاہر ہوا۔

یہ زیارت حقیقت میں انسانیت کی ائمہ معصومین کےچند فضائل کی طرف رہنمائی ہےورنہ اہلبیت کےفضائل تو اس سےکہیں زیادہ ہیں۔

زیارت جامعہ کی شرح اورتبیین کےحوالے سے(نسیم معرفت)کےنام سےیہ حجۃ الاسلام و المسلمین آقای حسین گنجی کی خوبصورت گفتار کا مجموعہ ہے۔ اردو زبان مومنین کےاستفادہ کیلئے اس حقیرنےاس کا اردو میں ترجمہ کیا ہے، امید ہےکہ اس کتاب کےمطالعہ سےہماری معرفت میں اضافہ ہوگا، اورآخرت میں ہماری شفاعت کا سامان فراہم ہوگا۔ البتہ ترجمہ میں کتنا کامیاب ہو سکا ہوں اس کا فیصلہ قارئین پر چھوڑتا ہوں!

دعاہےخداوندکریم نسیم معرفت کوہم سب کےنصیب میں لکھےاورہم سب کیلئےائمہ معصومین کی حقیقی معرفت اورشناخت کےدروازےکھول دے!

اسدرضا چانڈیو

حوزہ علمیہ قم المقدسہ

۱۳ رجب ۱۴۳۷

مولف کا مقدمہ

خلقت اورپیدائش کا سبب اور فلسفہ، آگاہی اورمعرفت ہے

(تفسیر صافی، ج ۵ ، ص ۷۵)

اگرکسی کو درست شناخت اورمعرفت حاصل ہو جائے تو وہ عبودیت کےکمالات کو پا لیتا ہے۔

من عرف ربه فقدتوحد

(غرر الحکم، آٹھویں فصل، کلمہ ۱۳)

جس نےبھی اپنےرب کو جانا وہ موحد ہو گیا۔

توحیدکی حقیقت فقط اللہ تعالی کی معرفت کےذریعہ حاصل ہوتی ہےاورمحبت اورایثاربھی اسی معرفت سےحاصل ہوتے ہیں۔

دلیل الحب ایثار المحبوب علی ما سواه؛

بحار الانوار، ج ۶۷ ، ص ۲۲

محبت کی نشانی اپنےمحبوب کو سب پرمقدم رکھنا ہے۔محبت، خوف اور خشیت بھی اسی چشمے سےجاری ہوتے ہیں:

اخوفکم اعرفکم؛

غرر الحکم، ص ۱۷۴ ۔

تم میں سےسب سےزیادہ ڈرنےوالا ہی سب سےبڑا عارف ہے۔

( انما یخشی الله من عباده العلماء؛ )

سورہ فاطر، ایة ۲۷ ۔

اللہ کےبندوں میں سےصرف اہل علم ہی اس سےڈرتے ہیں۔

رسول اکرم کی ایک بہت ہی خوبصورت حدیث ہے:

من عرف الله و عظمه منع فاه من الکلام و بطنه من الطعام و عنی نفسه بالصیام و القیام؛

کافی، ج ۲ ، ص ۲۷۳ ۔

جو بھی اللہ تعالی کی معرفت حاصل کرلے اور اس کو عظیم جانے، وہ اپنی زبان کو باطل بولنےسےروکے، اپنےپیٹ کو حرام اور زیادہ کھانےسےبچائے، نماز اور روزہ کےذریعہ اپنےنفس کو کنٹرول کرے۔

اللہ تعالی کی معرفت، اہلبیت کی معرفت کےبغیر ممکن نہیں کیونکہ اہلبیت ہی اس کی معرفت کا مرکز ہیں۔ علم، حکمت، دانش، دانائی، معرفت اور آگاہی سب یہاں ہیں۔ اہلبیت کےدروازے کو چھوڑ کےیہ چیزیں کہیں نہیں پائی جاتیں!

السَّلامُ عَلَى مَحَالِّ مَعْرِفَةِ اللَّهِ وَ مَسَاكِنِ بَرَكَةِ اللَّهِ وَ مَعَادِنِ حِكْمَةِ اللَّهِ مَنْ أَرَادَ اللَّهَ بَدَأَ بِكُمْ وَ مَنْ وَحَّدَهُ قَبِلَ عَنْكُمْ وَ مَنْ قَصَدَهُ تَوَجَّهَ بِكُمْ

جوبھی اپنےدل کےذریعہ دیدار الہی کرنا چاہتا ہےاسےاہلبیت کےجمال پر نظر ڈالنی چاہیے کیونکہ یہی خدانما آئینہ ہیں۔

جس دروازے سےتمام افراد انسانیت کو شہر توحید، شہر ایمان، شہر اخلاق اور تمام خوبیوں کےشہر میں داخل ہونےکا حکم دیا گیا ہےوہ اہلبیت ہے۔

نَحْنُ الْبُيُوتُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ يُؤْتَى مِنْ أَبْوَابِهَا وَ نَحْنُ بَابُ اللَّهِ

بحارالانوار، ج۲۳، ص ۳۲۹۔

ہم وہ باب اللہ ہیں جس کےبارے میں اللہ تعالی نےحکم فرمایا ہےکہ میرے گھر میں اہلبیت کےدروازے سےداخل ہوں

یعنی جس گھر میں اسکےدروازے سےآنےکا خدا نےحکم دیا ہےوہ ہم ہیں اور ہم ہی باب اللہ ہیں۔

اسی لئے رئیس مذہب امام صادق ارشاد فرماتے ہیں:

شَرِّقَا وَ غَرِّبَا لَنْ تَجِدَا عِلْماً صَحِيحاً إِلَّا شَيْئاً يَخْرُجُ مِنْ عِنْدِنَا أَهْلَ الْبَيْتِ ؛

بحار، ج ۲ ، ص ۹۲ ۔

اس عالم کو مشرق اور مغرب تک کو چھان مارو لیکن درست علم تک رسائی نہ ہوگی مگر یہ کہ وہ علم ہم اہلبیت سےجاری ہوا ہوگا۔

جیسا کہ مرزا مہدی اصفہانی سےحالت مکاشفہ میں امام زمانہ نےارشاد فرمایا:

طلب الهدآیت او المعارف من غیرنا مساوق لانکارنا؛

ہمارے علاوہ کسی اور سےہدایت اور معرفت کو طلب کرنا ہمارے انکار کےبرابر ہے۔

شیعہ اور سنی کےدرمیان متفق حدیث، حدیث ثقلین اور اس جیسی بہت ساری احادیث کا مدعی بھی یہی ہے۔

اس مطلب پر اس قدر اصرار کیا گیا ہےکہ امام صادق ارشاد فرماتے ہیں:

ان دعوناهم لم یستجیبوا لنا و ان ترکناهم لم یهتدوا بغیرنا؛

اگرہم انہیں حق کی دعوت دیتےہیں تووہ قبول نہیں کرتےاوراگرانہیں انکےحال پرچھوڑتےہیں تووہ ہمارےبغیرہدایت حاصل نہیں کرپاتےاورگمراہ ہوجاتےہیں۔

اسی لئےاہلبیت کےسامنےسرِتسلیم خم کرناچاہیےاوران کی اطاعت کرنی چاہیےاسکےعلاوہ ضلالت اورگمراہی سےبچنےکاکوئی راستہ نہیں۔

کسی کےپاس کچھ نیکی اور خیر نہیں اور نہ ہی کسی کو ایسی جگہ کا علم ہےبلکہ تمام نیکی اور خیر ان کےگھر میں ہے۔

إِنْ ذُكِرَ الْخَيْرُ كُنْتُمْ أَوَّلَهُ وَ أَصْلَهُ وَ فَرْعَهُ وَ مَعْدِنَهُ وَ مَأْوَاهُ وَ مُنْتَهَاهُ؛

اگر خیر کا تذکرہ کیا جائے تو آپ اس کی ابتدا اصل اور فرع ہیں۔

اب سوال یہ ہےکہ اہلبیت کو کیسےپہچانیں؟ اہلبیت کی معرفت کیلئے کونسا راستہ اختیار کریں؟ اس کےعلاوہ کوئی چارہ نہیں کہ ان کےہی فرمودات اور اقوال سےاستفادہ کیا جائے۔

اس کا ایک بہت ہی خوبصورت اور جامع نمو،نہ زیارت جامعہ کبیرہ ہےجو امام علی نقی کی مقدس زبان سےصادر ہوئی ہےاور جس میں اہلبیت کی چار سو بیس صفات کو ذکر کیا ہے۔

اگرہم ان کمالات اورفضائل سےمطلع ہونا چاہتےتوہزاروں کتابوں اورسیکڑوں حدیثوں کی ضرورت پڑتی لیکن آپ حضرت نےچندصفحوں میں بہت خوبصورت اورظریف طریقہ سےفضائل اورکمالات کےدریا سمیٹے ہیں۔یہ ایک ایسی کرامت اورمعجزہ ہےجو غیر معصوم سےبعید ہے۔

اس نکتہ کا بیان بھی ضروری ہےکہ ہم یہ خیال تک نہ کریں کہ ہم نےان کی معرفت ان کےحق کےمطابق حاصل کرلی ہے؛کیونکہ ان فضائل کو بیان کرنےکےباوجود امام دو جگہوں پر ارشاد فرماتے ہیں کہ ابھی ہم کچھ نہیں جانتے۔

پہلا مورد:

مَوَالِيَّ لا أُحْصِي ثَنَاءَكُمْ وَ لا أَبْلُغُ مِنَ الْمَدْحِ كُنْهَكُمْ وَ مِنَ الْوَصْفِ قَدْرَكُمْ؛

اے ہمارے پیشوا، آپ کی تعریف کا احصاء نہیں ہو سکتا اور میں مدح میں آپ کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا۔

دوسرا مورد:

كَيْفَ أَصِفُ حُسْنَ ثَنَائِكُمْ؛

میں کیونکر آپ کی بہترین تعریف کر سکتا ہوں۔

اگر ان کےفضائل کا ایک قطرہ بھی آپ نےاس کتاب میں دیکھ لیا تو جان لیں کہ امیر المومنین کی فریاد آج بھی تازہ ہےکہ آپ نےارشاد فرمایا:

ولا یرقی الی الطیر؛

کوئی بھی فکری پرندہ پرواز کےذریعہ مجھ تک نہیں پہنچ سکتا۔

اسی طرح امام رضا خوبصورت ارشاد فرماتے ہیں:

فمن ذالذی یبلغ معرفة الامام او یمکنه اختیاه هیهات! هیهات؛

کون ہےجو امام کو جان سکے؟ یا کون ہےجس کیلئے امام کا انتخاب ممکن ہو؟کوئی نہیں کوئی نہیں!

یا سب سےخوبصورت جملہ:

اجعلونا مخلوقین و قولوا فی فضلنا ما شئتم و لن تبلغوا؛

ہمیں اللہ کی مخلوق جانو اور پھر ہمارے فضائل میں جو چاہو کہولیکن تم ہرگز ہماری حقیقت کو نہیں پہنچ سکتے۔

ولایت ایک زیور ہے۔ ضروری ہےان فضائل کو نقل کرنے، لکھنے، بیان کرنےاور سننےسےہراساں نہ ہوں اور ان کو کم کرنےسےڈریں کیونکہ اہلبیت کےفضائل زیارت جامعہ سےبھی کہیں زیادہ ہیں۔

اسی طرح مرحوم آیت اللہ صفوی اصفہانی، آقای مرزا علی شیرازی سےنقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اے کاش محدث خبیر سید ہاشم بحرانی، مدینۃ المعاجز کو تحریر نہ فرماتے۔ میں نےان سےاس بات کا سبب پوچھا کہ آپ یہ کیوں فرما رہےہیں؟ انہوں نےجواب دیا: یہ کرامتیں ربانی عالموں کےحصے میں ہیں اہلبیت تو اس سےبھی کہیں بلند ہیں۔

ہم دیکھتے ہیں کہ امام زمانہ، ماہ مبارک رجب کی دعا میں فرماتے ہیں:

لا فرق بینک و بینها الا انهم عبادک و خلقک فتقها و رتقها بیدک؛

آپ میں اور اس میں کوئی فرق نہیں سوائے یہ کہ آپ اس کےبندے ہیں لیکن آپ خداوند کریم کی صفات کےمظہر کامل ہیں۔ خدا وند کریم کےارادہ، علم، قدرت، رحمت کو آپ میں ملاحظہ کرنا چاہیے۔

آئیں ان کی زیارتوں، دعائوں، مناجاتوں اور کلمات کا مطالعہ کریں تاکہ ہدایت میں خود کو ان کا محتاج نہ جانیں جو خود ہدایت میں دوسروں کےمحتاج ہیں۔

پروردگارا! کس طرح تیرا شکر کریں کہ تونےایسےحق کےامام عطا فرمائے اور ان کی امامت، محبت، اتباع، دفاع اور اسی طرح ان کےفضائل کےسمندروں میں سےقطرہ جتنی معرفت ہمیں بھی عطا فرمائی۔

فَربی اَحمد شیء عندی و احق بحمدی؛

میرا پروردگار، میری پسندیدہ ذات ہے۔ وہی ذات سب سےزیادہ میری حمد کا سزاوار ہے۔

میری جاں! میرے مولا مہدی! نبیوں کی آرزو! نور انوار! آپ کی ماں زہرا، میری اس کمترین کوشش کو قبول فرمائےکہ آپ سید اور سردار ہیں۔

حسین گنجی

قم۔ ذیقعدہ۔ ۱۴۲۵