نہج البلاغہ غیر شیعہ مفکرین کی نگاہ میں

نہج البلاغہ  غیر شیعہ مفکرین کی نگاہ میں0%

نہج البلاغہ  غیر شیعہ مفکرین کی نگاہ میں مؤلف:
قسم: متفرق کتب
صفحے: 8

نہج البلاغہ  غیر شیعہ مفکرین کی نگاہ میں

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: مولانا سید بہادر علی زیدی قمی
قسم: صفحے: 8
مشاہدے: 216
ڈاؤن لوڈ، اتارنا: 47

تبصرے:

نہج البلاغہ غیر شیعہ مفکرین کی نگاہ میں
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • شروع
  • پچھلا
  • 8 /
  • آگے
  • آخر
  •  
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا HTML
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا Word
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا PDF
  • مشاہدے: 216 / ڈاؤن لوڈ، اتارنا: 47
سائز سائز سائز
نہج البلاغہ  غیر شیعہ مفکرین کی نگاہ میں

نہج البلاغہ غیر شیعہ مفکرین کی نگاہ میں

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

۱

نہج البلاغہ

غیر شیعہ مفکرین کی نگاہ میں

از قلم:مولانا سید بہادر علی زیدی قمی

ناشر: ولایت اکیڈمی پاکستان

ذرائع: امام حسین(ع)فاؤنڈیشن

جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں

https://www.youtube.com/c/ImamHussainFoundation

http://www.youtube.com/user/almujtaba

۲

تقدیم

میں اپنی اس مختصر سی کوشش اور سعی ناچیز کو قطب عالم امکان، محور دائرۂ عالم وجود، مصلح جہان، منجی عالم بشریت، حضرت بقیۃ اللہ الاعظم عج اور اس آفتاب ولایت کے ظہور کے حقیقی منتطرین، اور اس امام عصر (عج) کی غیبت کے زمانے میں ایمان و عمل صالح پر قائم و دائم مومنین کی مقدس بارگاہ میں تقدیم کرتا ہوں۔

۳

تشکر و امتنان

خداوند عالم کی رحمت کا سلسلہ ازل تا ابد جاری و ساری رہنے والا ہے۔ لائق تحسین ہیں وہ لوگ جو شب و روز دین خدا کی خدمت میں زندگی بسر کررہے ہیں۔

ادارہ ولایت اکیڈمی پاکستان بھی دین الہی کی خدمے کرنے کا عزم و ارادہ رکھتا ہے لہذا مکتب اہل بیت کی تبلیغ و ترویج میں مصروف عمل ہے اسی عزم و ارادہ کے پیش نظر صاحب قلم حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا جناب سید بہادر علی زیدی قمی صاحب کی تالیف کردہ کتاب “نہج البلاغہ غیر شیعہ مفکرین کی نگاہ میں” کو ولایت اکیڈمی نے زیور طباعت سے آراستہ کیا ہے۔ لہذا میں ان تمام افراد کا تہہ دل سے مشکور و ممنون ہوں بالخصوص حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا جناب سید بہادر علی زیدی قمی صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ جن کا مسلسل تعاون رہا ہے۔

آخر میں خداوند عالم سے دست بدعا ہوں کہ جن افراد نے اس کتاب کو آپ کے ہاتھوں تک پہنچانے میں کسی بھی قسم کا تعاون کیا ہے، انکی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔

والسلام

مؤسس و مدیر ولایت اکیڈمی پاکستان

شیخ کاظم حسین معصومی

۴

بیان مسئلہ

نہج البلاغہ یقینی طور پر امیر المؤمنین کے کلام کا ایسا عظیم اور قابل قدر مجموعہ ہے کہ اپنے پرائے سب ہی اس کی عظمت و بلندی اور علوِ معارف کا کلمہ پڑھتے ہوئے نظر آتے ہیں لہذا اس مختصر تحریر میں اسی مسئلہ کو پیش کیا گیا ہے۔

اصلی سوال

نہج البلاغہ کی عظمت اور اس کے کلام امیر المؤمنین ہونے کے بارے میں غیر شیعہ مفکرین کا نظریہ کیا ہے؟

اہمیت و ضرورت تحقیق

نہج البلاغہ کی عظمت و رفعت کو دیکھتے ہوئے یا بعض عناد پرست و مغرض افراد یا نادان اس کی عظمت سے ناواقفیت کی بنا پر اس کی عظمت و رفعت اور اس کے کلام امیر المؤمنین ہونے سے انکار کردیتے ہیں لہذا ضرورت پیش آئی کہ ان کا جواب دینے کے لئے تاریخ کے صفحات سے چھان بین کرکے چند غیر شیعہ مفکرین کے اقوال و افادات کو نہایت اختصار کے ساتھ یہاں پیش کیا جائے۔

ہدف تحقیق

غیر شیعہ مفکرین کی رائے معلوم کرتے ہوئے نہج البلاغہ کی عظمت اور اس کا کلام امیر المؤمنین ہونا ثابت کرنا ہے۔

ہماری روش اور طریقہ

اس تحقیق میں ہماری روش اور طریقہ کار یہ ہے کہ ہم نے پہلے یہاں مفکرین کے بیان نقل کئے ہیں، پھر ان پر مختصر تنقید کے بعد جن غیر شیعہ (سنی و غیر مسلم) مفکرین نے اس کی عظمت اور کلام امیر المؤمنین ہونے کا اعتراف کیا ہے ان کے اقوال و اسماء نقل کئے ہیں پھر بحث کے آخر میں نتیجہ اخذ کیا ہے۔

نہج البلاغہ کے کلام امیر المؤمنین ہونے سے انکار کرنے والے علماء

جب ہم تاریخ کے آئینے میں نہج البلاغہ کے بارے میں علمائے اہل سنت کے تاثرات اور خیالات و نظریات کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ کی تالیف کے بعد تمام اہل سنت محققین و متفکرین اور علم شناس افراد اسے متفقہ طور پر کلام امیرالمؤمنین ہی تسلیم کرتے رہے ہیں اور ڈھائی سو برس تک اس کے خلاف کوئی آواز اٹھتے ہوئے محسوس نہیں ہوتی بلکہ متعدد علمائے اہل سنت نے اپنے اپنے فہم و فراست اور ذوق کے مطابق اس کی شرحیں لکھی ہیں جیسے ابو الحسن علی بن ابی القاسم بیہقی متوفی ۵۶۵ ھ؁، امام فخر الدین ۶۰۶ ھ؁، ابن ابی الحدید متوفی ۶۵۵ ھ؁، علامہ سعد الدین تفتازانی وغیرہ۔

غالباً انہی علمائے اہل سنت کے شروح وغیرہ لکھنے کی وجہ سے نہج البلاغہ کی اہل سنت معاشرے میں کافی تشہیر ہوئی اور اس کے ان مضامین کے بارے میں جو خلفائے ثلاثہ کے بارے میں ہیں چہ می گوئیاں شروع ہوگئیں اور اس کی وجہ سے بعض علمائے اہل سنت کو اپنے اصول عقائد سنبھالنے کے لئے اور عوام کو تسلی دینے کے لئے حقائق سے آگاہ کرنے کی بجائے نہج البلاغہ کے بارے میں شکوک و شبہات اور رفتہ رفتہ انکار کی ضرورت پڑی۔ لہذا ذیل میں بعض ایسے ہی علماء کا تذکرہ کیا جارہا ہے:

۱ ۔ ابن خلکان متوفی ۶۸۱ ھ؁

جن لوگوں نے نہج البلاغہ کو کلام امیرالمؤمنین ماننے سے انکار کیا ہے ان کی تعداد انگلیوں پر شمار کرنے کے قابل ہے اور انہوں نے اپنے انکار کے لئے جن دلیلوں کا سہارا لیا ہے وہ خانۂ عنکبوت سے بھی زیادہ کمزور ہیں۔ ان میں سب سے پہلے ابن خلکان کا نام نظر آتا ہے، یہ سید مرتضی علم الہدی کے حالات تحریر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"قد اختلف الناس فی کتاب نهج البلاغه المجموعة من کلام علی بن ابی طالب هل هو جمعه اَواَخوه الرضی و قد قیل: انّه لیس من کلام علی ابن ابی طالب و انّما الذی جمعه و نسبه الیه هو الذی وضعه و الله اعلم"

لوگوں میں کتاب نہج البلاغہ کے بارے میں جو امیرالمؤمنین علی بن ابیطالب‘ کے کلام کا مجموعہ ہے، اختلاف ہے کہ وہ انہی (یعنی سید مرتضی رح) کا جمع کردہ ہے یا ان کے بھائی سید رضی کا اور بعض کہتے ہیں کہ یہ جناب امیر کا کلام ہی نہیں ہے، بلکہ جسے جامع سمجھا جاتا ہے، اسی کی یہ تصنیف ہے۔ واللہ اعلم۔

ابن خلکان کے قول پر تنقیدی نظر

جب ہم ابن خلکان کے قول کا نگاہِ غائر سے جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں اس میں چند قابل اعتراض گوشے نظر آتے ہیں۔ مثلاً:

۱ ۔ ان کا کہنا ہے کہ "لوگ نہج البلاغہ کے بارے میں جو امیر المؤمنین کے کلام کا مجموعہ ہے اختلاف ہے کہ وہ سید مرتضی کا کلام ہے یا ان کے بھائی سید رضی کا کلام ہے۔"

ہم یہاں ان سے یہ سوال کرنا چاہیں گے کہ نہج البلاغہ کے بارے میں یہ اختلاف کرنے والے کون لوگ ہیں؟ کیونکہ نہج البلاغہ کی جمع آوری کے بعد ڈھائی صدی تک اس کے خلاف کوئی آواز اس کے مرکز تالیف یعنی بغداد یا عراق کے کسی اور شہر سے بلند نہیں ہوتی، پھر آپ کن لوگوں کے اختلاف کا حوالہ دے رہے ہیں؟

ظاہر ہے ابن خلکان مغربی جسے“اختلف الناس” کا نام دے رہے ہیں یہ کسی اسلامی مرکز کے محققین و مفکرین نہیں ہیں بلکہ مغربی مملکت جہاں بنو امیہ کی سلطنت تھی وہاں کے عوام ہیں جنہیں یہ تک نہیں معلوم کہ یہ کتاب سید رضی کی ہے یا سید مرتضی کی ورنہ وہ اختلف الناس کی بجائےاختلف العلماء یا اختلف المحققون (یعنی علماء اور محققین اختلاف کرتے ہیں) کہتے۔ جبکہ ان کے ضمیر کی آواز تو خود ان کی عبارت سے محسوس کی جاسکتی ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ لوگ نہج البلاغہ جو امیرالمؤمنین کے کلام کا مجموعہ ہے اس سے اختلاف کرتے ہیں یعنی جمع کرنے والا کوئی بھی ہو لیکن کلام امیر المومنین ہی کا ہے۔ لیکن وہ اس حقیقت سے پردہ پوشی کرتے ہوئے اپنے عوام کی تسلی کے لئے اختلف الناس کا حوالہ دیدیتے ہیں۔

۲ ۔ دوسری بات یہ کہ یہ کلام سید رضی کا ہے یا سید مرتضیٰ کا۔ ابن خلکان کا یہ بیان کرنا تحقیق کے بلند معیار سے بالکل گرا ہوا ہے اور صاحبان تحقیق کے لئے بالکل ناقابل قبول ہے کیونکہ علاوہ بر اس کے کہ اہل علم کی ایک بڑی جماعت اس امر پر متفق الرائے ہے کہ یہ کلام سید رضی کی تالیف ہے خود سید رضی نے اپنے مقدمے میں اس کی وضاحت بھی کردی ہے کہ وہ خود ہی اس کے مؤلف و جمع کرنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ ابن خلکان کو یہ اشتباہ اس لئے ہوا ہو کہ انہوں نے ان کے نام میں اشتباہ کیا ہو کیونکہ سید رضی اپنے دادا ابراہیم کے لقب مرتضی سے معروف تھے اسی لئے وہ لقب مرتضی کی وجہ سے سید رضی کے بجائے ان کے بھائی سید مرتضی کی تالیف سمجھ بیٹھے۔

۳ ۔ تیسری بات یہ ہے کہ"و قد قیل" یعنی کہا گیا ہے یہ جناب امیرالمؤمنین کا کلام ہی نہیں ہے۔ یاد رہے کہ "قیل" اس قول کے بیان میں کہا جاتا ہے جو صاحب قلم کی نظر میں ضعیف و کمزور قول ہوتا ہے۔ پس درحقیقت ابن خلکان خود اس لفظ کو بیان کرکے اس کے ضعیف و کمزور ہونے کا اظہار کر رہے ہیں۔

لیکن انہوں نے مجموعی طور پر اس بیان کو صادر کرکے نہج البلاغہ کے کلام امیرالمؤمنین ہونے کو مشکوک بنانے کی بہرحال کوشش کی ہے اور آخر میں واللہ اعلم کی لفظ استعمال کرکے وہ اس میں مزید شک و شبہ کا اظہار کردینا چاہتے ہیں۔

۲ ۔ علامہ ذہبی

ابن خلکان نے نہج البلاغہ کے کلام امیرالمؤمنین ہونے کے بارے میں شکوک و شبہات ایجاد کرنے والے اپنے بیان کے ذریعے دوسروں کے لئے میدان ہموار کردیا اور میدان مناظرہ کے پہلوانوں کو یہ گُر سکھا دیا کہ وہ نہج البلاغہ کے کلام امیرالمؤمنین ہونے سے انکار کردیں۔ لہذا ایک صدی کے بعد ذہبی نے کتاب میزان الاعتدال میں ان کی آرزو کو جامہ تکمیل پہناتے ہوئے سید شریف مرتضی کے حالات میں تحریر کیا ہے کہ:

"الشریف المرتضیٰ هو المتهم بوضع کتاب نهج البلاغه" شریف رضی پر یہ الزام عائد ہے کہ انہوں نے نہج البلاغہ کو وضع کیا ہے"۔

پھر تحریر کرتے ہیں:

" من طالع کتابه نهج البلاغه جزم بانّه مکذوبٌ علیٰ امیر المؤمنین ففیه السَّب الصریح بل حَط علی السیدین ابی بکر و عمر و فیه التناقض و الاشیاء الرکیکة و العبارات فنم بعد هم له معرفة بنفس القرشیّین و بنفس غیرهم ممن بعدهم حزم بان اکثره باطلٌ"

"جو شخص ان کی کتاب نہج البلاغہ کا مطالعہ کرے اسے معلوم ہوجائے گا کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی طرف اس کی نسبت بالکل جھوٹ ہے کیونکہ اس میں کھلی سب و شتم اور ہمارے دونوں سرداروں ابوبکر و عمر کی تنقیص ہے، اور تناقص عبارات کے علاوہ وہ رکیک چیزیں ہیں جن کو دیکھ کر ایک ایسا شخص جو قرشی صحابہ اور ان کے علاوہ اور دوسرے متاخرین کے نفوس پر اطلاع رکھتا ہے یہ قطعی فیصلہ کرسکتا ہے کہ اس کا اکثر حصہ باطل پر مشتمل ہے"۔

ذہبی کے قول پر تنقیدی نظر

ذہبی کے قول کے مطالعہ کرنے والے حضرات بآسانی ان کے قول کے ضعف و ناتوانی کو محسوس کرسکتے ہیں مثلاً

۱ ۔ ان کا کہنا ہے کہ جو شخص بھی نہج البلاغہ کا مطالعہ کرے گا اسے یقین ہوجائے گا کہ وہ امیرالمؤمنین کا کلام نہیں ہے۔

ان کے اس جملہ سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا ان سے پہلے تین سو سال سے زائد عرصہ تک کسی نے نہج البلاغہ کا مطالعہ ہی نہیں کیا اور وہ گمنامی کا شکار رہی ہے حالانکہ ان سے قبل اہل سنت کے متعدد بزرگ اور مایۂ ناز علماء اس کی شرحیں لکھ چکے تھے اور ان کے نزدیک یہ بات بالکل واضح اور مسلم الثبوت تھی کہ یقیناً یہ امیرالمؤمنین علیہ السلام ہی کا کلام ہے اور سید رضی ہی نے اسے جمع کیا ہے۔

۲ ۔ جب یہ بات طے شدہ تھی کہ نہج البلاغہ امیرالمؤمنین علیہ السلام ہی کا کلام ہے اور سید مرتضیٰ اس کے جمع کرنے والے بھی نہیں ہیں بلکہ ان کے بھائی سید رضی نے اسے جمع کیا ہے تو پھر ذہبی نے اس کے کلام امیرالمؤمنین ہونے سے انکار کیوں کیا ہے؟

جب ہم ان کے بیان پر نظر ڈالتے ہیں تو اس میں وہ دلیل نظر نہیں آتی جو ایک محقق اور منصف مزاج صاحب قلم کو پیش کرنا چاہیے مثلاً انہیں اپنے انکار کے ثبوت میں حضرت علی علیہ السلام کا مسلم الثبوت کلام پیش کرنا چاہیے تھا تاکہ لوگ سید رضی اور حضرت علی علیہ السلام کے کلام میں موازنہ کرکے سمجھ جاتے کہ یہ سید رضی کا کلام ہے یا حضرت علی ؑ کا یا پھر انہیں سید رضی کے معاصر علماء و افاضل کے وہ بیانات پیش کرنے چاہیں تھے جو انہوں نے سید پر بطور تنقید پیش کئے ہوتے لیکن ان کے دامن انکار میں کوئی معقول شئ موجود نہیں جسے بطور دلیل پیش کردیتے لہذا انہوں نے اپنے انکار کی عمارت کی بنیاد صرف دو چیزوں پر قائم کی ہے پہلی یہ کہ اس میں ہمارے دو سرداروں پر سب و شتم موجود ہے اور دوسرے یہ کہ اس میں رکیک عبارتیں موجود ہیں۔

جہاں تک نہج البلاغہ میں سب و شتم کا تعلق ہے تو اس میں چند چیزیں قابل غور ہیں مثلاً پہلی بات تو یہ ہے کہ کیا کسی شخص کی زندگی کی واقعی شرح حال بیان کرنا سب و شتم کے مترادف ہے؟ اس کا تو یہ مطلب ہے کہ پھر کوئی مؤرخ کسی کی زندگی کے تاریک پہلو کا کوئی تذکرہ ہی نہ کرے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے بھی خوف نہ کرنے والے دیانتدار سیرت نگار کی طرح مختلف افراد کی شرح زندگانی بیان کرکے سیرت نگاری کا مقدس فریضہ انجام دیا ہے۔ جس خطبہ میں ان کے سرداروں کی خصوصیات کی عکاسی کی گئی ہے اور یہی ان کے لئے نہج البلاغہ کے کلام امیرالمؤمنین ہونے سے انکار کا سبب بنا ہے وہ خطبہ شقشقیہ ہے، حالانکہ اس خطبہ کی بنیاد پر کل نہج البلاغہ کے کلام امیرالمؤمنین سے انکار کرنا بھی مناسب نہیں تھا جبکہ اس خطبہ کا تواتر کے ساتھ کلام امیر المومنین ہونا بھی ثابت ہے اور تمام شیعہ و سنی محققین نے اسے قطعی طور پر کلام امیر المومنین تسلیم کیا ہے۔

خطبہ شقشقیہ کی اسناد: مندرجہ ذیل بزرگ علماء نے اسے کلام امیرالمؤمنین تسلیم کیا:

۱ ۔ ابن ابی الحدید

۲ ۔ ابن اثیر جزری متوفی ۶۰۶ ھ؁، نہایہ فی غریب الحدیث

۳ ۔ سبط ابن جوزی، کتاب تذکرہ الخواص الامّہ

۴ ۔ علاء الدولہ سمنانی، کتاب عروۃ الوثقی

اگر علامہ ذہبی کے اس استدلال کو مان لیا جائے کہ کیونکہ اس میں ان کے سرداروں کی تنقیص و مذمت کی گئی ہے لہذا یہ کلام امیرالمؤمنین نہیں ہے اور اسی بنیاد پر اس کا انکار کردیا جائے تو یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ قرآن نازل ہونے کے چند صدی بعد کوئی مشرکین کا طبقہ قرآن کے کلام الٰہی ہونے سے صرف اس لئے انکار کردے کہ اس میں ان کے الہہ کی تنقیص و مذمت کی گئی ہے۔ اسی طرح قرآن کریم کی بعض آیات میں بعض اصحاب کی تنقیص کی گئی ہے تو کیا اس بنا پر ان کے کلام الٰہی ہونے سے انکار کردینا مناسب ہے؟ اسی طرح کتب تاریخ و حدیث اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ بعض صحابہ نے بعض صحابہ کی مذمت کی ہے تو کیا آپ ان کے کلام کے بارے میں بھی یہی کہیں گے کہ یہ ان کا کلام نہیں ہے؟!

اس کے علاوہ علامہ ذہبی نے جو یہ کہا ہے کہ اس میں رکیک عبارتیں موجود ہیں اس سلسلہ میں اب ہم ان علماء و افاضل کے افادات پیش کر رہے ہیں جنہوں نے نہج البلاغہ کی عظمت و رفعت اور بلند پائیگی کا اعتراف کرتے ہوئے نہج البلاغہ کے کلام امیرالمؤمنین ہونے کا بھی اعتراف کیا ہے۔

نہج البلاغہ کی عظمت اور اس کو کلام امیرالمؤمنین تسلیم کرنے والے غیر شیعہ مفکرین

الف: بعض شارحیں نہج البلاغہ کے تاثرات

۱ ۔ مفتی دیار مصر علامہ شیخ محمد عبدہ (متوفی ۱۳۲۳ ؁ھ)

شیخ محمد عبدہ اہل سنت کے وہ عظیم و معتبر عالم دین ہیں جنہوں نے نہج البلاغہ کی شرح بھی لکھی ہے اور جن کی سعی جمیل کی بدولت مصر اور بیروت وغیرہ میں اہل سنت کے علمی مراکز میں اس کے فیوضات سے بہرہ مند ہونے کا سامان بھی مہیا ہوا ہے۔

وہ نہج البلاغہ کی شرح کرتے ہوئے اس کے بلند پایہ علوم و معارف کے مطالعہ کے دوران اپنی حیرت و استعجاب کا اظہار خیال کرتے ہوئے شرح کے مقدمہ میں تحریر کرتے ہیں:

کان یخیل لی فی کل مقامٍ اَن حروباً شبت و غارات شنت و اِن للبلاغة دولة، و للفصاحة صولة و اِن للاوهام عرامة و للریب دعارة و اِن محافل الخطابة و کتائب الذرابة فی عقود النظام و صفوف الانتظام تنافح بالصفیح الابلج و القویم الابلج و تمتلح المهج برواضح الحجج فتفل من دعارة الوساوس و تصیب مقاتل الخوانس فما اَنا الّا و الحق منتصر وَ الباطل منکسر و مرج الشک فی خمرد و هرج الریب فی رکود و ان مدبّر تلک الدولة و باسل تلک الصولة هو حامل لوائها الغالب امیر المومنین علی بن ابی طالب بل کنت کلّما انتقلب من موضع اِلی موضع احسن بتغیر المشاهد و تحول المعاهد فتارَةٌ کنت اجدنی فی عالم یعمره من المعانی ارواح عالیه فی حلل من العبارات الزاهیه تطوف علی النفوس الزاکیه و تدنوا من القلوب الصافیه توحی الیها رشادها و تقوم منها مرادها و تنفر بها عن مداحض المزال اِلی جواد الفضل و الکمال و طوراً کانت تنکشف لی الجمل عن وجوهٍ باسرة و انیاب کاشرة و ارواح فی اشباح المنمور و مخالب النسور قد تخصرت للوثاب ثم انقضت للاختلاف فخلبت القلوب عن هواها و اخذت الخواطر دون مرماها و اغتالت فاسد الاهواء و باطل الاراء و احیاناً کنت اشهد ان عقلاً نورانیاً لایشبه خلقا جسدانیا فصل عن الموکب الالهی و اتصل بالروح الانسانی فخلعه عن غایشات الطبیعة و سما به الی الملکوت الاعلیٰ و نما به الی مشهد النور الاجلیٰ و سکن به اِلیٰ جانب التقدیس بعد استخلاصه من شوائب التلبیس و اٰنات کانی اسمع خطیب الحکمة ینادی با علیآء الکلمة و اولیاء امر الامّة یعرفهم مواقع الصواب و یبصرهم مواضع الارتیاب و یحذرهم مزلق الاضطراب و یرشدهم اِلیٰ دقائق السیاسة و یهدیهم طرق الکیاسة و یرتفع بهم اِلی منصّات الریاسة و یصعدهم شرف التدبیر و یشرف بهم علیٰ حسن المصیر

ذالک الکتاب الجلیل هُو جملة باختاره الشریف الرضی رحمه الله من کلام سیدنا و مولانا امیر المومنین علی بن ابی طالب علیه السلام جمع متفرقه و سماه بهذا الاسم نهج البلاغه و لا اعلم اسماً الیق بالدلالة علی معناه

ہر مقام پر (اس کے اثنائے مطالعہ میں) مجھے ایسا تصور ہو رہا تھا کہ جیسے لڑائیاں چھڑی ہوئی ہیں۔ نبرد آزمائیاں ہورہی ہیں ، بلاغت کا زور ہے اور فصاحت پوری قوت سے حملہ آور ہے، توہمات شکست کھا رہے ہیں، شکوک و شبہات پیچھے ہٹ رہے ہیں، خطابت کے لشکر صف بستہ ہیں، طلاقت لسان کی فوجیں شمشیر زنی اور نیزہ بازی میں مصروف ہیں، وسوسوں کا خون بہایا جا رہا ہے اور توہمات کی لاشیں گر رہیں ہیں اور ایک دفعہ یہ محسوس ہوتا ہے کہ بس حق غالب آگیا اور باطل کی شکست ہوگئی اور شک و شبہ کی آگ بجھ گئی اور تصورات باطل کا زور ختم ہوگیا اور اس فتح و نصرت کا سہرا اس کے علمبردار اسد اللہ الغالب علی ابن ابی طالب کے سر ہے، بلکہ اس کتاب کے مطالعہ میں جتنا جتنا میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوا میں نے مناظرہ کی تبدیلی اور مواقف کی تغیّر کو محسوس کیا۔ کبھی میں اپنے کو ایسے عالم میں پاتا تھا جہاں معانی کی بلندی، روحیں خوشنما عبارتوں کے جامے پہنے ہوئے پاکیزہ نفوس کے گرد چکر لگاتی اور صاف دلوں کے نزدیک آکر انہیں سیدھے راستہ پر چلنے کا اشارہ کرتی اور نفسانی خواہشوں کا قلع قمع کرتی اور لغزش مقامات سے متنفر بناکر فضیلت و کمال کے راستوں کا سالک بناتی ہیں اور کبھی ایسے جملے سامنے آجاتے ہیں جو معلوم ہوتا ہے کہ تیوریاں چڑھائے ہوئے اور دانت نکالے ہوئے ہولناک شکلوں میں آگے بڑھ رہے ہیں اور ایسی روحیں ہیں جو چیتوں کے پیکروں میں اور شکاری پرندوں کے پنجوں کے ساتھ حملہ پر آمادہ ہیں اور ایک دم شکار پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور دلوں کو ان کے ہوا و ہوس کے مرکزوں سے جھپٹ کر لے جاتے ہیں اور ضمیروں کو پست جذبات سے زبردستی علیحدہ کردیتے اور غلط خواہشوں اور باطل عقیدوں کا قلع قمع کردیتے ہیں۔ پھر کسی محل پر یہ دیکھتا تھا کہ ایک نورانی عقل جس کو کسی جسمانی چیز سے کوئی مشابہت ہی نہیں ہے خداوندی بارگاہ سے الگ ہوئی اور انسانی روح سے متصل ہوکر اسے طبیعت کے پردوں سے اور مادیت کے حجابوں سے نکال لیا اور اسے عالم ملکوت تک پہنچا دیا اور تجلیات ربانی کے مرکز تک بلند کردیا اور لے جاکر عالم قدس میں اس کو ساکن بنادیا اور بعض لمحات میں معلوم ہوتا ہے کہ حکمت کا خطیب صاحبانِ اقتدار اور قوم کے اہل حل و عقد کو للکار رہا ہے اور انہیں صحیح راستے پر چلنے کی دعوت دے رہا ہے اور ان کی غلطیوں پر متنبہ کر رہا ہے اور انہیں سیاست کی باریکیاں اور تدبر و حکمت کے دقیق نکتے سمجھا رہا ہے اور ان کی صلاحیتوں کو حکومت کے منصب اور تدبر و سیاست کی اہلیت پیدا کرکے مکمل بنا رہا ہے۔

وہ کتاب جس میں ان اوصاف کا خزانہ ہے وہی مجموعہ ہے جسے سید رضی+ نے حضرت علی بن ابی طالب‘ کے پراکندہ و متفرق کلام کے منتخب و پیچیدہ حصوں سے تالیف کرکے نہج البلاغہ کے مبارک نام کے ساتھ موسوم قرار دیا ہے اور اس سے زیادہ کوئی اور موزوں نام نہیں ہے۔

اس میں علامہ محمد عبدہ نے جس طرح یقینی طور پر اس کو کلام امیرالمؤمنین تسلیم کیا ہے اسی طرح اس کے مضامین کی حقانیت اور اس کے مندرجات کی سچائی کا اعتراف بھی کیا ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ اس کتاب کےمضامین حق کی فتح اور باطل کی شکست اور شکوک و اوہام کی فضا اور توہمات و وسواس کی بیخ کنی کا سبب ہیں اور وہ شروع سے آخر تک انسانی روح کے لئے روحانیت و طہارت اور جلال و کمال کی تعلیمات کے حامل ہیں۔

علامہ محمد عبدہ کو نہج البلاغہ سے اتنی عقیدت تھی کہ وہ اسے قرآن مجید کے بعد ہر کتاب کے مقابلہ میں ترجیح کا مستحق سمجھتے تھے اور انہوں نے اپنا یہ اعتقاد بتایا ہے کہ جامعہ اسلامیہ میں اس کتاب کی زیادہ سے زیادہ اشاعت ہونا اسلام کی ایک صحیح خدمت ہے اور یہ صرف اس لئے کہ وہ امیرالمؤمنین علیہ السلام ایسے بلند مرتبہ مصلح عالم کا کلام ہے۔ پس وہ لکھتے ہیں:

"لیس فی اهل هٰذه اللغة الاقائل بان کلام الامام علی بن ابی طالب هو اشرف الکلام و ابلغه بعد کلام الله تعالیٰ و کلامل نبیّه و اغزره مادة و ارفعه اسلوباً و اجمعه لجلائل المعانی فاجدر بالطالبین لنفائس اللغة و الطامعین فی التدرج لمراقیها اَن یجعلوا هذا الکتاب اهم محفوظهم و افضل مأثورهم مع تفهم معانیه فی الأغراض الّتی جاءت لأجلها و تامل الفاظه فی المعانی الّتی صیغت للدلالة علیها لیصیبوا بذالک افضل غایه و ینتهوا الی خیر نهایة"

اس عربی زبان والوں میں کوئی ایسا نہیں جو اس کا قائل نہ ہو کہ امیر المؤمنین علی بن ابی طالب‘ کا کلام، کلام خدا اور کلام رسولﷺ کے بعد ہر کلام سے بلند، زیاہ پُرمعانی اور زیادہ فوائد کا حامل ہے لہذا زبان عربی کے نفیس ذخیروں کے طلاب کے لئے یہ کتاب سب سے زیادہ مستحق ہے کہ وہ اسے اپنے محفوظات اور منقولات میں اہم درجہ پر رکھیں اور اس کے ساتھ ان معانی و مقاصد کے سمجھنے کی کوشش کریں جو اس کتاب کے الفاظ میں مضمر ہیں۔

۲ ۔ شیخ محمد حسن نائل مرصفی مدرس المنان لکلیۃ العزیر الکبری بمصر

انہوں نے بھی نہج البلاغہ کی ایک شرح لکھی ہے جو دار الکتب العربیہ سے شائع ہوئی ہے۔ اس کے مقدمے میں "کلمۃ فی اللغۃ العربیہ" کا عنوان قائم کرکے لکھتے ہیں:

ولقد کان المجلّی فی هذه الحلبة علیٌ صلوات الله علیه وما احسبنی احتاج فی اثبات هذا الامر اِلی دلیل اکثر من نهج البلاغة ذالک الکتاب الذی اقامه الله حجة واضحة علیٰ انّ علیاً رضی الله عنه قد کان احسن مثال حی لنور القرآن و اعجازة و حکمته و بلاغته و علمه و هدایته و فصاحته اجتمع لعلی فی هذا الکتاب مالم یجتمع لکبار الحکماء و افذاذ الفلاسفة و نوابغ الربانیین من اٰیات الحکمة السیاسیة و قواعد السیاسة المستقیمة" (۱)

میدان فصاحت و بلاغت میں سب سے آگے حضرت علی بن ابیطالب‘ تھے، اور اس دعوے کا سب سے بڑا ثبوت نہج البلاغہ ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جسے اللہ نے اس امر کی واضح حجت قرار دیا ہے کہ حضرت علی قرآن کے نور و اعجاز، اس کی حکمت و بلاغت اور علم و ہدایت کی زندہ مثال تھے، اس کتاب میں وہ سب کچھ موجود ہے جسے آپ بلند و بالا حکمت کی آیات اور مستقیم سیاست کے قواعد کی حیثیت سے بڑے بڑے حکماء، شہرہ آفاق بلغاء اور باکمال ربانی فلاسفہ کے یہاں بھی نہ پاسکیں گے۔

فاضل موصوف کے اس بیان نے نہج البلاغہ کی عظمت کے ساتھ ساتھ یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ یہ مجموعہ درحقیقت حضرت علی علیہ السلام ہی کا کلام ہے اور اسے سید رضی یا کسی اور کی تالیف قرار دینا قطعی غلط ہے۔

۳ ۔ استاد محمد محی الدین عبد الحمید، استاد دانشگاہ الازہر مصر

انہوں نے نہج البلاغہ پر تعلیقات تحریر کئے ہیں اور علامہ شیخ محمد عبدہ کے حواشی برقرار رکھتے ہوئے بہت سے تحقیقات و شرح کا اضافہ کیا ہے اور ان حواشی کے ساتھ یہ کتاب مطبعہ استقامۃ مصر میں طبع ہوئی ہے۔ انہوں نے اس ایڈیشن کے شروع میں اپنی جانب سے ایک مقدمہ بھی تحریر کیا ہے۔ جس میں نہج البلاغہ کے استناد و اعتبار پر ایک سیر حاصل بحث کی ہے۔ موصوف تحریر کرتے ہیں:

فهذا کتاب نهج البلاغه وهو ما اختاره الشریف الرضی ابو الحسن محمد بن الحسن الموسوی من کلام امیر المومنین علی بن ابی طالب الذی جمع بین دفتیه عیون البلاغة و فنونها و تهیاءت به للناظر فیه اسباب الفصاحة و دنامنه قطافها اذا کان کلام افصح الخلق بعد الرسول صلی الله علیه وسلم منطقاً و اشدهم اقتدار او ابرعهم حجة و املکهم لغة یدیرها کیف شاء الحکیم الذی تصدر الحکمة عن بیانه و الخطیب الذی یملأ القلب سحر لسانه العالم الذی تهیّا له من خلاط الرسول و کتابة الوحی و الکفاح عن الدین بسیفه و لسانه منذ حداثته مالم یتهیّا لاحدٍ سواه هذا کتاب نهج البلاغة و انا به حفی منذ طراءة السن و صیعة الشباب فلقد کنت اجد ولدی کثیر القرائة فیه و کنت اجد عمی الاکبر یقضی معه طویل الساعات یردد عباراته و یستخرج معانیها و یتقبل اسلوبه و کان لهما من عظیم التاثیر علی نفسی ما جعلنی اقفو اثرهما فاحله من قلبی المحلّ الاوّل و اجعله سمیری الذی لا یمل و انیسی الذی اخلو الیه اِذا عز الانیس ۔

یہ کتاب نہج البلاغہ امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب‘ کے کلام کا وہ انتخاب ہے جو شریف رضی ابو الحسن محمد بن حسن موسوی نے کیا ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جو اپنے دامن میں بلاغت کے نمایاں جوہر اور فصاحت کے بہترین مرقعے رکھتی ہے اور ایسا ہونا ہی چاہیے، کیونکہ وہ ایسے شخص کا کلام ہے جو رسول اللہﷺ کے بعد تمام خلق میں سب سے زیادہ فصیح البیان، سب سے زیادہ قدرت کلام کا مالک اور قدرت استدلال میں زیادہ اور عربی زبان کے الفاظ پر سب سے زیادہ تسلط رکھتا تھا کہ جس صورت میں چاہتا انہیں گردش دینے اور تصرف کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ وہ بلند مرتبہ حکیم جس کے بیان سے حکمت کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ ایسا خطیب جس کا سحر بیان دلوں کو مالا مال کردیتا ہے۔ وہ عالم جسے رسولﷺ اللہ کے ساتھ انتہائی روابط اور وحی کی کتابت اور دین کی نصرت میں شمشیر و زبان دونوں سے جہاد کے ابتدائی عمر سے وہ مواقع حاصل ہوئے جو کسی دوسرے کو حاصل نہیں ہوئے، یہ ہے کتاب نہج البلاغہ! اور میں اپنے عنفوان شباب اور ابتدائے عمر ہی سے اس کا گرویدہ رہا ہوں، کیونکہ میں اپنے والد کو دیکھتا تھا کہ وہ اکثر اس کتاب کو پڑھتے تھے اور اپنے بڑے چچا کو بھی دیکھتا تھا کہ وہ گھنٹوں پڑھتے رہتے، اس کے معانی کو سمجھتے رہتے اور اس کے انداز بیاں پر غور کرتے رہتے اور ان دونوں بزرگواروں کا میرے دل پر اتنا بڑا اثر تھا، جس نے مجھے بھی ان کے نقش قدم پر چلنے پر مجبور کردیا اور میں نے اس کتاب کو اپنے قلب میں سب سے مقدم درجہ دیدیا۔ اسے اپنا مونس تنہائی قرار دیا جو ہمیشہ میرے لئے دلبستگی کا باعث ہے۔

اس کے بعد علامہ مذکورہ نے ان اشخاص کا ذکر کیا ہے، جن کا رجحان یہ ہے کہ وہ اسے خود شریف رضی کا کلام قرار دیتے ہیں۔ ان کے خیالات کا جائزہ لیتے ہوئے موصوف رقمطراز ہیں، کہتے ہیں کہ سب سے اہم اسباب جو اس کتاب کے کلام امیرالمؤمنین ہونے سے متعلق پیش کئے جاتے ہیں، صرف چار ہیں۔

پہلے یہ کہ اس میں اصحاب رسول کی نسبت ایسے تعریضات ہیں، جن کا حضرت علی علیہ السلام سے صادر ہونا تسلیم نہیں کیا جاسکتا، خصوصاً معاویہ، طلحہ، زبیر، عمرو بن عاص اور ان کے اتباع کے بارے میں سب و شتم تک موجود ہے۔

دوسرے اس میں لفظی آرائش اور عبارت میں صنعت گری اس حد پر ہے، جو حضرت علی علیہ السلام کے زمانے میں مفقود تھی۔

تیسرے اس میں تشبیہات و استعارات اور واقعات و مناظر کی صورت کشی اتنی مکمل ہے جس کا پتہ صدر اسلام میں کہیں نہیں ملتا۔ اس کے ساتھ حکمت و فلسفہ کی اصطلاحیں اور مسائل کے بیان میں اعداد کا پیش کرنا، یہ باتیں اس زمانے میں رائج نہیں تھیں۔

چوتھے اس کتاب کی اکثر عبارتوں سے علم غیب کے ادّعا کا پتہ چلتا ہے۔ جو حضرت علی علیہ السلام ایسے پاکباز انسان سے بعید ہے۔

موصوف ان خیالات کو رَد کرتے ہوئےلکھتے ہیں:

خدا گواہ ہے کہ ہمیں ان اسباب سے کسی ایک میں اور ان میں مجموعی طور پر بھی کوئی واقعی دلیل، بلکہ دلیل نما شکل بھی اس دعوے کے ثبوت میں نظر نہیں آتی جو ان لوگوں کا مدعا ہے، بلکہ انہیں تو ایسے شکوک و شبہات کا درجہ بھی نہیں دیا جاسکتا جو کسی حقیقت کے ماننے میں تھوڑا سا دغدغہ بھی پیدا کرسکتے ہوں اور جن کے رفع کرنے کی ضرورت ہو۔ پھر انہوں نے ایک ایک کرکے ہر بات کو رَد بھی کیا ہے۔ پہلی بات کے متعلق جو کچھ انہوں نے کہا ہے کہ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ رسولﷺ کے بعد مسئلہ خلافت میں طرز عمل ہی ایسا اختیار کیا گیا، جس سے فطرتاً حضرت علی علیہ السلام کو شکایت ہونا ہی چاہیے تھی اور آپ کی خلافت کے دور میں اہل شام نے آپ کے خلاف جو بغاوت کی، اس سے آپ کو تکلیف ہونا ہی چاہیے تھی۔ ہر دور کے متعلق آپ کے جس طرح کے الفاظ ہیں وہ بالکل تاریخی حالات کے مطابق ہیں۔ اس لئے اس میں شک و شبہ کا کیا محل ہے۔

دوسری اور تیسری دلیل کا جواب یہ ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب‘ کاسا مرتبہ فصاحت اور حکمت دونوں میں کسی اور شخص کو حاصل نہیں تھا، تو پھر آپ کے کلام کی خصوصیتیں اس دور میں کسی اور کے یہاں مل ہی کیونکر سکتی ہیں ۔ رہ گیا سجع و قافیہ کا التزام، وہ آپ کے یہاں اس طرح نہیں جس سے آورد ظاہر ہو یا معانی پر اس کا اثر پڑے اور اس حد تک قافیہ وغیرہ کا التزام اس دور میں عموماً رائج ہیں۔

چوتھی دلیل کے جواب میں علامہ مذکورا نے جو کہا ہے، وہ ہمارے مذہبی عقائد کے بے شک مطابق نہیں ہے مگر وہ خود ان کے نقطۂ نظر کا حامل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جسے علم غیب سے تعبیر کیا جاتا ہے اسے ہم فراست اور زمانہ کی نبض شناسی کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ جو علی ایسے حکیم انسان سے بعید نہیں ہے۔ جیسا کہ ہم نے کہا، یہ جواب انہوں نے مادی ذہنیت کے مطابق دیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اگر خدا کے دیئے ہوئے علم غیب کا مظاہرہ باعثِ انکار قرار دیا جائے تو اکثر احادیث نبوی بھی اس زد میں آجائیں گی اور خدا کی طرف سے علم غیب کا مظاہرہ تو اکثر قرآن کی آیات سے نمودار ہی ہے۔ پھر قرآن کی آیتوں کا بھی انکار کرنا چاہیے۔ اور اگر علم الٰہی کی بناء پر ان آیات کو تسلیم کیا جائے تو اس کے عطا کردہ علم سے علی ایسے عالم ربانی کے کلام میں اس طرح کی باتوں کے تذکرہ پر بھی کسی حرف گیری کا موضوع نہیں ہے۔

۴ ۔ ابن ابی الحدید معتزلی، معروف دانشمند، مؤرّخ و شارح نہج البلاغہ

امام علی علیہ السلام سخنوروں اور بلغاء و فصحاء کے سید و سردار ہیں، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان کا کلام، کلامِ خداوندی سے کم تر اور مخلوقات کے کلام سے بالاتر ہے ان کے کلام کی بالادستی کی یہی علامت کافی ہے کہ لوگوں نے فنون سخنوری و تحریر انہی حضرت سے سیکھتے ہیں۔

ب: مختلف علمائے اہل سنت

۱ ۔ علامہ شیخ کمال الدین محمد بن طلحہ قریشی شافعی (متوفی ۶۵۲ ھ)

یہ مشہور و معروف عالم اہل سنت اپنی معرکۃ الآراء کتاب مطالب السئول فی مناقب آل الرسول میں جو لکھنو میں بھی طبع ہوچکی ہے۔ علوم امیرالمؤمنین کے بیان میں لکھتے ہیں:

"وَ رَابعها علم البلاغه و الفصاحة و کان فیها اماماً لا یشق غباره و مقدماً لا تلحق اثارة و من وقف علی کلامه المرقوم الوسوم بنهج البلاغة صار الخبر عنده عن فصاحة عیاناً و الظن بعلو مقامه فیه ایقانا"؛

چوتھے علم فصاحت و بلاغت آپ اس میں امام کا درجہ رکھتے ہیں جن کی گرد قدم تک پہنچنا ناممکن ہے اور ایسے پیش رو تھے جن کے نشان قدم کا مقابلہ نہیں ہوسکتا اور جو حضرت کے اس کلام پر مطلع ہو جو نہج البلاغہ کے نام سے موجود ہو اس کے لئے آپ کی فصاحت کی سماعی خبر مشاہدہ بن جاتی ہے اور آپ کی بلندی کا مرتبہ اس باب میں گمان یقین کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔

اس کے علاوہ دوسری جگہ یہ بھی تحریر کرتے ہیں:

"پانچویں قسم ان خطب اور مواعظ کی شکل میں جس کو راویوں نے بیان کیا ہے اور ثقات نے حضرت سے ان کو نقل کیا ہے اور نہج البلاغہ کتاب جس کی نسبت حضرت علی علیہ السلام کی طرف دی جاتی ہے، وہ آپ کے مختلف قسم کے خطبوں اور مواعظ پر مشتمل ہے جو اپنے اوامر و نواہی کو مکمل طور پر ظاہر کرتے اور فصاحت و بلاغت کے انوار کو اپنے الفاظ و معانی کے اصولوں اور اسرار کو اپنے مختلف انداز بیان میں ہمہ گیر صورت سے ظاہر کرتی ہیں"۔

اس میں مندرجات نہج البلاغہ کو معتبر و ثقہ راویوں کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے یقینی طور پر کلام امیرالمؤمنین تسلیم کیا ہے۔ ایک جگہ جو منسوب کا لفظ ہے اس سے کوئی غلط فہمی نہیں ہونا چاہیے۔ وہ بحیثیت مجموعی کتاب بشکل کتاب سے متعلق ہے اور یہ ظاہر ہے کہ یہ کتاب، امیرالمؤمنین علیہ السلام کی جمع کردہ نہیں ہے بلکہ کتاب تو حقیقت میں سید رضی ہی کی ہے مگر عوام مجازی طور پر ناواقفیت کی بنا پر یونہی کہتے ہیں کہ یہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی کتاب ہے اور اسی لئے اس محل پر علامہ ابن طلحہ نے منسوب کا لفظ استعمال کیا ہے جو بالکل درست ہے اس سے اصلِ کلام کے بارے میں ان کے وثوق و اطمینان کو کوئی دھچکا نہیں پہنچتا۔

۲ ۔ استاد ناصیف یازجی

قرآن و نہج البلاغہ کی جامعیت و ہمہ گیری کو دیکھتے ہوئے جناب استاد ناصیف یازجی کہتے ہیں اگر تم علم و ادب اور انشاء پردازی کے میدان میں اپنے رقیبوں پر برتری حاصل کرنا چاہتے ہو تو قرآن و نہج البلاغہ حفظ کرلو۔(۲)

اور دوسرے مقام پر کہتے ہیں کہ فنِّ تحریر میں میری مہارت قرآن کریم اور نہج البلاغہ کے بہترین خطبات کے مطالعہ و تحقیق کا اثر ہے کیونکہ یہ دونوں باعظمت کتابیں عربی زبان کے گنج لامتناہی اور ادب کے جاودانہ ذخیرہ سے مالا مال ہیں۔ )

۳ ۔ شہاب الدین محمود آلوسی بغدادی ( ۱۲۱۷ ۔ ۱۲۷۰ ھ)

آلوسی کہتے ہیں: ۔۔۔ نہج البلاغہ جو کہ خطبات علی بن ابی طالب‘ کا مجموعہ ہے، یہ کلام الٰہی کے نور کا پرتو ہے جس میں منطق نبوی کی فصاحت کا خورشید درخشان ہے۔(۴)

۴ ۔ ڈاکٹرز کی نجیب

جب ہم امام علی علیہ السلام کے انہی منتخب کلمات کہ جنہیں شریف رضی نے منتخب کرکے نہج البلاغہ نام رکھا ہے، غور و فکر اور تدبر کرتے ہیں تو شگفت آور تعبیر اور عمیق معنی دیکھ کر حیرت زدہ ہوجاتے ہیں۔(۵)

حکمت کی نشانیاں، صحیح قوانین سیاست، روشن و دلنشین نصیحتیں اور جو محکم برہان پیش کئے ہیں یہ خود تصور سے بالاتر فضیلت اور برحق پیشوا کے بہترین آثار کی علامت ہیں کہ بزرگ و عالی مقام حکماء و فلاسفہ اور نابغۂ روزگار بھی اس کی مثال پیش نہیں کرسکے۔(۶)

فاضل موصوف کے اس بیان نے نہج البلاغہ کی اہمیت کے ساتھ ساتھ یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ یہ مجموعہ درحقیقت حضرت علی علیہ السلام ہی کا کلام ہے اور اسے سید رضی یا کسی اور کی تالیف قرار دینا قطعی غلط ہے۔

۵ ۔ علی الجندی، رئیس دانشکدہ علوم (قاہرہ یونیورسٹی)

نہج البلاغہ کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں: نہج البلاغہ کا مطالعہ انسان کے احساسات کی گہرائیوں پر ایک خاص آہنگ موسیقی اثر قائم کرتا ہے۔ اس میں کلمات و جملات اس انداز سے مرتب کئے گئے ہیں کہ انہیں شعر منثور کا نام دیا جاسکتا ہے۔(۷)

۶ ۔ عباس محمود عقاد، معروف صاحب قلم و مورّخ مصری

کتاب نہج البلاغہ میں نور توحید و حکمت الٰہی اس انداز سے درخشاں و تابندہ ہے کہ تمام محققین معارف الٰہی کی تحقیقات پر سایہ فگن ہے ۔۔۔ اس کے الفاظ و سطور شخصیت علوی کی آئینہ دار ہیں اگر آپ اس میں تدبر کریں اور اسے غور سے سنیں تو اس کے کلمات کے پس پردہ صرف و صرف ان ہی کی آواز اور لب و لہجہ کو محسوس کریں گے۔(۸)

۷ ۔ ابو السعادات مبارک مجد الدین ابن اثیر جزری متوفی ۶۰۶ ھ؁

انہوں نے احادیث و آثار کے لغات کی شرح کے سلسلہ میں اپنی معروف کتاب نہایہ ترتیب دی ہے۔ اس میں مولانا موصوف نے کثیر التعداد مقامات پر نہج البلاغہ کے الفاظ کو حل کیا ہے۔ ابن اثیر کی حیثیت ایک عام لغوی کی نہیں ہے بلکہ وہ محدث بھی ہیں۔ اگر صرف ادبی اہمیت کے لحاظ سے ان کو ان الفاظ کا حل کرنا ہی ضروری تھا تو وہ اس کو نہج البلاغہ کا نام لکھ کر درج کردیتے اور واقعہ تو یہ ہے کہ اگر وہ اسے کلام امیرالمؤمنین ہی نہ سمجھتے تو انہیں اس کتاب میں جو صرف احادیث و آثار کے حل کے لئے لکھی گئی ہے، ان لغات کو جگہ ہی نہیں دینا چاہیئے تھی، کیونکہ اصطلاحی طور پر اثر صرف صحابہ اور ممتاز تابعین کی زبان سے نکلے ہوئے اقوال کو کہتے ہیں۔ کسی متاخر عالم کی کتاب کے الفاظ نہ حدیث میں داخل ہیں اور نہ اثر میں۔ ان کا ان الفاظ کو جگہ دینا ہی اس کا ثبوت ہے کہ وہ اس کو سید رضی کا کلام نہیں سمجھتے، بلکہ کلام امیر المومنین قرار دیتے ہیں۔ پھر یہ کہ ان لغات کو درج کرنے میں ہر مقام پر تصریحاً وہ حدیثِ علی کا لفظ استعمال کرتے ہیں، جیسے: لغت جوی میں منہ حدیث علی یونہی فتق الاجواء و شق الارجاء میں زیادہ تر ان الفاظ کا تذکرہ حدیث علی کے الفاظ کے ساتھ ہے اور کہیں پر خطبہ علی علیہ السلام ہے جیسے لغت لوط میں خطبہ علی ولاطھا بالبلۃ حتی لزبت ایک جگہ لغت ایم یہ الفاظ ہیں: کلام علی مات قیّھا و طالَ تایّمھا، اسی طرح لغت اصل میں فی کلام علی کے الفاظ ہیں اور ایسے ہی دو ایک جگہ اور باقی تمام مقامات پر حدیث علی لکھا ہے، اور جو مکاتب کے الفاظ ہیں، انہیں کتاب علی کہہ کر درج کیا ہے۔

۸ ۔ علامہ سعد الدین تفتازانی (متوفی ۷۹۱ ھ)

یہ معروف عالم اہل سنت اپنی شرح مقاصد میں فصاحت امیرالمؤمنین کے بارے میں اظہار نظر کرتے ہیں رقمطراز ہیں:و ایضاً هُوَ أفصحهم لساناً علی ما یشهد به کتاب نهج البلاغة؛ علاوہ اور فضیلتوں کے حضرت علی علیہ السلام کی نمایاں فضیلت یہ بھی ہے کہ آپ سب سے زیادہ فصیح تھے جس کی گواہی کتاب نہج البلاغہ دے رہی ہے۔

۹ ۔ جمال الدین ابو الفضل محمد بن مکرم بن علی افریقی مصری متوفی ۷۱۱۲ ھ؁

انہوں نے بھی نہایہ کی طرح اپنی عظیم الشان کتاب لسان العرب میں مندرجہ الفاظ کو کلام علی ؑ کہتے ہوئے حل کیا ہے۔

۱۰ ۔ محمد بن علی طباطبائی معروف بن ابن طقطقی

موصوف لکھتے ہیں کہ:عدل ناس اِلی نهج البلاغه من کلام امیر المومنین علی بن أبی طالب فانّه الکتاب یتعلّم منه الحکم و المواعظ و الخطب و التوحید و الشجاعة و الزهد و علوّ الهمّة و أدنی فوائده الفصاحة والبلاغة ؛(۹) بہت سے لوگوں نے کتاب نہج البلاغہ کی طرف توجہ کی جو امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالب‘ کا کلام ہے کیونکہ یہ وہ کتاب ہے جس سے حکم اور مواعظ اور توحید اور زہد اور علوِّ ہمت ان تمام باتوں کی تعلیم حاصل ہوتی ہے، اور اس کا سب سے ادنی فیض فصاحت و بلاغت ہے۔

۱۱ ۔ علامہ احمد بن منصور کازدرنی

یہ عالم اہل سنت اپنی کتاب مفتاح الفتوح میں امیرالمؤمنین کے حالات میں لکھتے ہیں:

و مَن تأمَّل فی کلامه و کتبه و خطبه و رسالاته عَلِمَ انّ علمَه لا یواذی علم احدٍ و فضائله لا تشاکل فضائل احدٍ و فضائله لا تشاکل فضائل احدٍ محمد صلی الله علیه وسلم و مِن جملتها کتاب نهج البلاغه لقد وقف دونه فصاحة الفصحاء و بلاغه البلغاء و حکمة الحکماء ؛ جس شخص نے حضرت علی علیہ السلام کے کلام ان کے کتب و رسائل اور خطب و حکم کا بغور مطالعہ کیا ہے وہ اس امر کے تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ آنحضرت کا علم وہ ہے جس کا کوئی علم اور آپ کے فضائل وہ ہیں جن کا عالم میں کسی کے فضائل مقابلہ نہیں کرسکتے۔ ان فضیلتوں میں سب سے نمایاں فضیلت کا ثبوت آپ کی کتاب نہج البلاغہ ہے، یہی وہ کتاب ہے جس کے سامنے فصحاءِ زمانہ کی فصاحت، ارباب بلاغت کی بلاغت اور تمام حکماءِ روزگار کی حکمت پست نظر آتی ہے۔"

۱۲ ۔ علامہ یعقوب لاہوری

شرح تہذیب الکلام میں افصح کی شرح میں لکھتے ہیں:

"من ارادَ مشاهدة بلاغته و مسامعة فصاحته فلینظر اِلی نهج البلاغه وَلا ینبغی لاحدٍ اَنۡ ینسب هذا الکلام اِلی رجلٍ شیعی و ما ذکی فیه من بعض الالفاظ الموهم بخلاف اهل السنّة فعل تقدیر ثبوتِه له محامل و تاویلات و قال البلغاء ان کلامه تحت کلام الخلاق و فوق کلام المخلوق"

جو شخص حضرت علی علیہ السلام کی فصاحت کو دیکھنا اور ان کی بلاغت کو سننا چاہے اس کے لئے مناسب ہے کہ وہ نہج البلاغہ کا مطالعہ کرے، بلاشبہ کسی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ ایسے فصیح و بلیغ کام کو ایک شیعہ شخص کی جانب نسبت دے۔ رہی یہ بات کہ اس میں کہیں کہیں ایسے الفاظ موجود ہیں جو سنی عقیدے کے خلاف ہیں۔ اور ان سے مذہب اہل سنت مخالفت کا وہم پیدا ہوتا ہے تو یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ جس کی وجہ سے نہج البلاغہ کے کلام علی ؑ ہونے سے انکار کردیا جائے، ان کو بر تقدیر تسلیم مختلف توجیہات و تاویلات سے درست ثابت کیا جاسکتا ہے اور بلغاء کا یہ مسلمہ ہے کہ علی بن ابیطالب‘ کا یہ مجموعہ خدا کے کلام سے ماتحت اور مخلوق کے کلام سے بالاتر ہے۔

۱۳ ۔ شیخ احمد ابن المصطفی معروف بہ طاشکیری زادہ

یہ اپنی کتاب"شقائق النعمانیه فی علماء دولة العثمانیه" میں قاضی قوام الدین یوسف کی تصانیت کی فہرست میں رقمطراز ہیں:

"و شرح نهج البلاغة للامام الهمام علی بن ابی طالب کرم الله تعالیٰ وجهه ؛ عالم ، فاضل و کامل مولی قوام الدین جو کہ قاضی بغداد کے لقب کے ساتھ مشہور ہیں، انہوں نے حضرت علی علیہ السلام کی کتاب نہج البلاغہ کی شرح بھی لکھی ہے"۔

۱۴ ۔ استاد محمد کرم علی رئیس مجمع علمی دمشق

انہوں نے الہلال کے چار سوالات کے جواب میں ، جن میں سے تیسرا سوال یہ تھا کہ"ما هی الکتاب التی تنصحون لشبان الیوم بقرأتها" ؛ وہ کون سی کتابیں ہیں جن کے پڑھنے کی موجودہ زمانہ کے نوجوانوں کو آپ ہدایت کرتے ہیں؟ انہوں نے اس سوال کے جواب میں لکھا:

" اِذا طلب البلاغه فی اتم مظاهرها و الفصاحة التی لم تشبهها عجمة فعلیک بنهج البلاغه دیوان خطب امیر المومنین علی بن ابی طالب و رسائله اِلی عماله یرجع اِلی فصل الانشاء و المنشئین فی کتابی "القدیم و الحدیث " طبع بمصر ۱۹۲۵ ء"

اگر بلاغت کا اس کے مکمل ترین مظاہرات کے ساتھ مشاہدہ مطلوب ہو اور اس فصاحت کو جس میں ذرہ بھر بھی زبان کی کوتاہی شامل نہیں ہے، دیکھنا ہو تو تم کو نہج البلاغہ کا مطالعہ کرنا چاہیے جو امیرالمؤمنین علی بن ابیطالب‘ کے خط و مکاتیب کا مجموعہ ہے۔ تفصیل کے لئے ہماری کتاب "القدیم و الحدیث" مطبوعہ مصر ۱۹۲۵ ء؁ کی فصل الانشاء والمنشؤن دیکھنا چاہیے۔ (۱۰)

ذیل میں کچھ دیگر علماءے اہل سنت کے اسامی ذکر کیئے جا رہے ہیں:

۱۵ ۔ علامہ قوشجی متوفی ۸۷۵ ھ؁، کتاب شرح تجرید۔

۱۶ ۔ علامہ محدث طاہر فتنی گجراتی، کتاب مجمع بحار الانوار۔

۱۷ ۔ عرب کے مشہور مصنف خطیب و انشاء پرداز شیخ مصطفی غلائنی (بیروت) کتاب اریج الزہر

۱۸ ۔ استاد محمد زہری غمراوی۔ کتاب شرح نہج البلاغہ مرصفی (مقدمہ میں لکھا ہے)

۱۹ ۔ استاد عبد الوہاب حمودہ استاد الادب و الحدیث بکلیۃ الاٰداب جامعہ فواد الاول مصر۔ مقالہ الآرا لاجتماعیہ فی نہج البلاغہ میں جو رسالۃ الاسلام قاہرہ کی جلد ۳ ، عدد ۳ بابت ماہ رمضان ۱۳۷۰ ؁، جولائی ۱۹۵۱ ؁ء۔

۲۰ ۔ علامہ ابو نصر پروفیسر بیروت یونیورسٹی، کتاب علی بن ابی طلاب‘ ، فصل۳۱۔

۲۱ ۔ قاضی علی ابن محمد شوکانی صاحب نیل الاوطاری۔ کتاب"الاتحاف الاکابر باسانید الدفاتر" طبع حیدر آباد، باب النون۔

نہج البلاغہ غیر مسلم دانشمندوں کی نگاہ میں

جہاں نہج البلاغہ کے بلند مایہ معارف و علوم نے مسلم دنیا سے اپنی عظمت و رفعت کا کلمہ پڑھوایا ہے، وہیں غیر مسلم منصف مزاج دنیا نے اس کی بلند پائیگی اور عظمت کا اعتراف کیا ہے اور اس سلسلہ میں بہت سے غیر مسلم دانشمندوں نے مستقل کتابیں رقم کی ہیں یا مختلف کتابوں میں اپنے متین بیانات کا اظہار کیا ہے جن میں سے ہم یہاں بعض اجمالی طور پر پیش کر رہے ہیں:

۱ ۔ عبد المسیح انطاکی

انہوں نے امیرالمؤمنین کی سیرت پر اپنی مشہور کتاب "شرح قصیدۂ علویہ" تحریر کی ہے اور وہ مطبع رعمیس فجالہ مصر میں شایع ہوئی ہے۔ یہ جریدۂ العمران کے ص ۵۳ پر تحریر کرتے ہیں:

لاجدال انّ سیدنا علیاً امیرالمؤمنین هو امام الفصحآء و استاذ البلغاء و اعظم من خطب و کتب فی اهل هذه الصناعة، و هذا کلام قد قیل فیه بحق انه فوق کلام المخلوق و تحت کلام الخلاق قال هذا کلُّ من عرف فنون الکتابة و اشتغل فی صناعة التحریر بل هو استاذ کتاب العرب و معلهم بلا مراءٍ فما من ادیب لبیب حاول اتقان صناعة التحریر اِلّاوَبَین یدیه القرآن و نهج البلاغة ذاک کلام الخالق و هذا کلام اشرف المخلوقین"

اس امر میں کسی لڑنے جھگڑنے کا امکان نہیں ہے کہ حضرت علی علیہ السلام فصحائے عالم کے رئیس اور بلغائے روزگار کے استاد ہیں اور تمام خطیبوں اور انشاء پردازوں سے ان کا مرتبہ بلند و برتر ہے اور یہ نہج البلاغہ وہی کلام ہے جس کے بارے میں بالکل صحیح کہا گیا ہے کہ خالق کے کلام سے نیچے اور مخلوق کے کلام سے بلند ہے۔ یہ معمولی لوگوں کا نہیں بلکہ ان لوگوں کا مقولہ ہے جو فنون انشاء پردازی میں کمال رکھتے ہیں۔ بلکہ درحقیقت حضرت علی علیہ السلام عرب کے تمام انشاء پردازوں کے استاد ہیں اور اس میں کسی اختلاف کی گنجائش نہیں کہ دنیا میں جو شخص بھی سرحد کمال تک پہنچنا چاہتا ہو اس کے لئے قرآن مجید و نہج البلاغہ کو اپنے سامنے رکھنا ضروری ہے۔ یہ قرآن خالق کا اور نہج البلاغہ بہترین مخلوقات عالم حضرت علی علیہ السلام کا کلام ہے۔

اس کے بعد انہوں نے شیخ محمد عبدہ کی رائے بیان کی ہے کہ انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ انشاء پردازی کا درجہ حاصل کرو، تو امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کو اپنا استاد بناؤ اور ان کے کلام کو اپنے لئے چراغ ہدایت قرار دو، اور اس کے بعد لکھا ہے کہ ایک مرتبہ شیخ ابراہیم یازجی نے جو اس آخری دور میں متفقہ طور پر عربی کے مل انشاء پرداز اور امام استاتذہ لغت مانے گئے ہیں مجھ سے فرمایا کہ مجھے اس فن میں جو مہارت حاصل ہوئی ہے وہ صرف قرآنِ مجید اور نہج البلاغہ کے مطالعہ سے، یہ دونوں عربی زبان کے وہ خزانہ عامرہ ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوسکتے۔

۲ ۔ فواد افرام البستانی، استاذ الآداب العربیہ فی کلیۃ القدیس یوسف (بیروت)

انہوں نے تعلیمی کتابوں کا ایک سلسلہ "روائع" کے نام سے شروع کیا ہے جس میں مختلف جلیل القدر مصنفین کے آثار قلمی، اور تصانیف سے مختصر انتخابات، مصنف کے حالات، کمالات کتاب کی تاریخ تحقیقات وغیرہ کے ساتھ چھوٹے چھوٹے مجموعوں کی صورت میں ترتیب دیئے ہیں اور وہ کیتھلک عیسائی پریس (بیروت) میں شائع ہوئے ہیں۔ اس سلسلہ کا پہلا مجموعہ امیرالمؤمنین اور نہج البلاغہ سے متعلق ہے جس کے بارے میں مؤلف نے اپنے مقدمے میں تحریر کیا ہے:

"اننا نبداء الیوم بنشر منتخبات من نهج البلاغه للامام علی بن ابیطالب‘ اول مکفری الاسلام" ؛

ہم سب سے پہلے اس سلسلہ کی ابتداء کرتے ہیں کہ کچھ انتخابات کے ساتھ نہج البلاغہ کے جو اسلام کے سب سے پہلے مفکر امام علی بن ابی طالب‘ کی کتاب ہے"۔

پھر اس سلسلہ روائع کی پہلی قسط میں وہ پہلے حضرت علی علیہ السلام کی سیرت پر روشنی ڈالتے ہیں اور پھر اس کے بعد نہج البلاغہ پر سیر حاصل تبصرہ کرتے ہوئے ایک "جمعہ" یعنی اس کی جمع آوری کرنے والے اور دوسرا عنوان "صحۃ نسبتہٖ" یعنی اس کی نسبت کی صحت کے بیان میں" قائم کرتے ہیں اور اس کے ذیل میں لکھتے ہیں: کہ ابھی نہج البلاغہ کی جمع و تالیف کو بہت زمانہ نہیں گذرا تھا کہ بعض اہل نظر اور مؤرخین نے اس کی صحت میں شک کرنا شروع کردیا۔ ان کا پیشرو ابن خلکان ہے جس نے اس کتاب کو اس کے جامع کی طرف منسوب کیا ہے اور پھر صفدی وغیرہ نے اس کی پیروی کی ہے۔ اور پھر شریف رضی کے بسا اوقات اپنے دادا مرتضی کے لقب سے یاد کئے جانے کی وجہ سے بعض لوگوں کو دھوکا ہوگیا اور وہ ان میں اور ان کے بھائی علی بن باہر معروف بہ سید مرتضیٰ متولد ۹۶۶ ء؁ متوفی ۱۰۴۴ ء؁ میں تفرقہ نہ سمجھ سکے اور انہوں نے نہج البلاغہ کے جمع کو ثانی الذکر کی طرف منسوب کردیا جیسا کہ جرجی زیدانی نے کیا ہے اور بعض لوگوں نے جیسے متشرمق کلیمان نے یہ طرّہ کیا کہ کتاب کا اصل مصنف سید مرتضی ہی کو قرار دے دیا ہے۔ ہم جب اس شک کے وجوہ اسباب پر غور کرتے ہیں تو وہ گھوم گھام کے پانچ امر ہوتے ہیں۔

اس کے بعد انہوں نے شک کے تقریباً وہ ہی اسباب تحریر کئے ہیں جو اس کے پہلے محی الدین عبد الحمید شارح نہج البلاغہ کے بیان میں گذر چکے ہیں اور پھر انہوں ان وجوہ کو رد کیا ہے۔

ذیل میں مزید بعض دیگر غیر مسلم جنہوں نے نہج البلاغہ کی عظمت اور اس کے کلام امیر المومنین ہونے کا اعتراف کیا ہے، ذکر کئے جا رہے ہیں:

۳ ۔ پولس سلامہ

بیروت کے شہرہ آفاق مسیحی ادیب پولس سلامہ ۔ کتاب " اول ملحمہ عربیہ عید الغدیر" مطبعۃ النسر بیروت، مقدمہ ترجمۂ نہج البلاغہ (انگلش) مطبوعہ پاکستان۔ ۴ ۔ مسیحی دانشمند امین نخلہ

۵ ۔ جرج جرداق، معروف مسیحی ادیب و صاحب قلم

۶ ۔ لبنانی مسیحی ادیب و مؤلف کتاب "امام علی مشعل و مضبوطہ قلعہ"

۷ ۔ معروف فرانسیسی مستشرق و محقق پروفیسر ہانری کُربن

۸ ۔ علی گڑھ یونیورسٹی ہندوستان کے استاد ادبیات مسٹر کرینکوی انگلستانی۔

نتیجہ گیری

غیر شیعہ مفکرین کے نظریات و آراء کا مطالعہ اور تحقیقی جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ تقریباً تمام غیر شیعہ چاہے ان کا تعلق اسلام کے دیگر فرقوں سے ہو یا وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہوں انہوں نے صرف نہج البلاغہ کی عظمت و رفعت کا کلمہ ہی نہیں پڑھا ہے بلکہ یقینی طور پر اسے کلام امیرالمؤمنین بھی تسلیم کیا ہے۔

قطع نظر اس کے البتہ بعض انگشت شمار عناد پرست و مغرض اور نادان افراد نے اس کی عظمت سے چشم پوشی کرتے ہوئے اس کے کلام امیرالمؤمنین ہونے کو مشکوک بنانے یا انکار کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ان کے دلائل نہایت درجہ کمزوری اور مزحقہ خیز ہونے کی وجہ سے تمام اہل تحقیق کی نظر میں باطل ہیں۔

و السلام علی من اتبع الھدیٰ

جمادی الاول ۱۴۳۱ ھ۔ اپریل ۲۰۱۰

۵

فہرست حوالہ جات:

۱۔پیرامون نہج البلاغہ، علامہ شہرستانی، ص ۶۱ ۔

۲۔ مصادر نہج البلاغہ، عبد الزہرا حسینی، ص ۹۹ ۔

-۳پیرامون نہج البلاغہ، ص ۷۳ ، علامہ شہرستانی۔

-۴مصادر نہج البلاغہ، ص ۹۷ ۔

۵-نہج البلاغہ از کیست؟، ص ۱۸ ، سید حسن آل یاسین۔

۶-پیرامون نہج البلاغہ، علامہ شہرستانی، ص ۶۱ ۔

۷-مقدمہ کتاب علی بن ابی طالب شعرہ و حکمہ۔

۸-عبقریۃ الامام علی ؑ، ص ۱۳۳ ، ۱۳۵ ۔

۹-تاریخ الفخری فی الآداب السلطانیہ و الدول الاسلامیۃ، مطبوعہ مصر، ص ۹ ۔

۱۰-الہلال، جلد ۲۵ ، شمارہ نمبر ۵ ، بابت ماہ مارچ ۱۹۲۷ ؁ء، ص ۵۷۲ ۔

۶

فہرست

تقدیم ۳

تشکر و امتنان ۴

بیان مسئلہ ۵

اصلی سوال ۵

اہمیت و ضرورت تحقیق ۵

ہدف تحقیق ۵

ہماری روش اور طریقہ ۵

نہج البلاغہ کے کلام امیر المؤمنین ہونے سے انکار کرنے والے علماء ۶

۱ ۔ ابن خلکان متوفی ۶۸۱ ھ؁ ۶

ابن خلکان کے قول پر تنقیدی نظر ۷

۲ ۔ علامہ ذہبی ۸

ذہبی کے قول پر تنقیدی نظر ۹

نہج البلاغہ کی عظمت اور اس کو کلام امیرالمؤمنین تسلیم کرنے والے غیر شیعہ مفکرین ۱۱

الف: بعض شارحیں نہج البلاغہ کے تاثرات ۱۱

۱ ۔ مفتی دیار مصر علامہ شیخ محمد عبدہ (متوفی ۱۳۲۳ ؁ھ) ۱۱

۲ ۔ شیخ محمد حسن نائل مرصفی مدرس المنان لکلیۃ العزیر الکبری بمصر ۱۳

۳ ۔ استاد محمد محی الدین عبد الحمید، استاد دانشگاہ الازہر مصر ۱۴

۴ ۔ ابن ابی الحدید معتزلی، معروف دانشمند، مؤرّخ و شارح نہج البلاغہ ۱۷

ب: مختلف علمائے اہل سنت ۱۷

۱ ۔ علامہ شیخ کمال الدین محمد بن طلحہ قریشی شافعی (متوفی ۶۵۲ ھ) ۱۷

۷

۲ ۔ استاد ناصیف یازجی ۱۸

۳ ۔ شہاب الدین محمود آلوسی بغدادی ( ۱۲۱۷ ۔ ۱۲۷۰ ھ) ۱۸

۴ ۔ ڈاکٹرز کی نجیب ۱۸

۵ ۔ علی الجندی، رئیس دانشکدہ علوم (قاہرہ یونیورسٹی) ۱۹

۶ ۔ عباس محمود عقاد، معروف صاحب قلم و مورّخ مصری ۱۹

۷ ۔ ابو السعادات مبارک مجد الدین ابن اثیر جزری متوفی ۶۰۶ ھ؁ ۱۹

۸ ۔ علامہ سعد الدین تفتازانی (متوفی ۷۹۱ ھ) ۲۰

۱۱ ۔ علامہ احمد بن منصور کازدرنی ۲۰

۱۲ ۔ علامہ یعقوب لاہوری ۲۱

۱۳ ۔ شیخ احمد ابن المصطفی معروف بہ طاشکیری زادہ ۲۱

۱۴ ۔ استاد محمد کرم علی رئیس مجمع علمی دمشق ۲۱

نہج البلاغہ غیر مسلم دانشمندوں کی نگاہ میں ۲۲

۱ ۔ عبد المسیح انطاکی ۲۳

۲ ۔ فواد افرام البستانی، استاذ الآداب العربیہ فی کلیۃ القدیس یوسف (بیروت) ۲۴

۳ ۔ پولس سلامہ ۲۵

نتیجہ گیری ۲۵

فہرست حوالہ جات: ۲۶

۸