امام حسين علیہ السلام دلُربائے قلوب

امام حسين علیہ السلام دلُربائے قلوب0%

امام حسين علیہ السلام دلُربائے قلوب مؤلف:
زمرہ جات: امام حسین(علیہ السلام)

امام حسين علیہ السلام دلُربائے قلوب

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: حضرت آيت اللہ العظميٰ خامنہ اي حَفَظَہُ اللّٰہُ
زمرہ جات: مشاہدے: 3505
ڈاؤنلوڈ: 1322

تبصرے:

امام حسين علیہ السلام دلُربائے قلوب
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 22 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 3505 / ڈاؤنلوڈ: 1322
سائز سائز سائز
امام حسين علیہ السلام دلُربائے قلوب

امام حسين علیہ السلام دلُربائے قلوب

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

نام کتاب : امام حسین ، دلربائے قلوب

صاحب اثر : حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای حَفَظَہُ اللّٰہُ

تالیف : موسّسہ فرہنگی قدر ولایت ۔تہران

تاریخ اشاعت : شعبان ۱۴۲ ۸ ہجر ی اگست ۲ ۰۰۷ئ

ناشر : نشر ولایت پاکستان(مرکز حفظ و نشرآثار ولایت)

جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں

انتساب!

عالم ہستی کے امام حریت،تا ریخ انسانیت کی سب سے شجاع انسان،میدان جنگ کے بطل جلیل،کائنات کے سب سے عظیم سُور ما،

عزت و آزادی کے عالمی علمبردار،حسین ابن علی کے نام؛کہ جس کیلئے آزاد انسانوں کی آنکھیں اشکبار، دل مصمم ارادوں کے مالک،عزم جواں ہیں!

عرض ناشر

’’امام حسین ،دلربائے قلوب‘‘ میں سیرت امام حسین کاحقیقی انداز سے جائزہ لیا گیا ہے۔

’’اما م حسین ،دلربائے قلوب ‘‘؛دراصل واقعہ کربلا کے پس پردہ حقیقی عوامل اوراہداف ونتائج پر مکتب کربلا کے ایک حقیقی پیروکار،سچے عاشق حسین ،مجاہد ومبارز،حضرت امام خمینی ۲ کے فرزند صادق،کربلائے عصر کے سورماودلیر انسان،بطل جلیل اورفرزنداسلام حضرت امام خامنہ ای دامت برکاتہ کے خطبات وتقاریر کا وہ نادر مجموعہ ہے جسے موسّسہ قدر ولایت تہران نے شائع کیا۔

’’امام حسین ،دلربائے قلوب ‘‘میں واقعہ کربلاسے ماقبل وبعد کے سیاسی اجتماعی اور ثقافتی حالات کاتحلیلی انداز سے جائزہ لے کر موجود ہ عصر کے تقاضوں سے اسے ہم آہنگ کرکے ذمہ داریوں کو مشخص کیا گیا ہے

نشرولایت پاکستان(مرکز حفظ ونشر آثار ولایت)کاقیام ۲۰۰۲ ئ م یں عمل میں لایا گیاہے۔اس ادارے کا مقصد رہبر معظم ولی امر مسلمین حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای کے تمام مطبوع وغیر مطبوع آثار کی حفاظت اوران کی اردو زبان میں منتقلی ہے۔

امید ہے یہ کتاب یقینا قاری کے ذہن میں نئے دریچہ ہائے فکر کو کھولنے میں مددگار ثابت ہوگی تاکہ ہم اپنی اجتماعی ،سیاسی اورثقافتی ذمہ داریوںکو سمجھ کر بطریق احسن انہیں انجام دیں سکیں۔

نشرولایت پاکستان

(مرکز حفظ ونشر آثارولایت)

امام حسین اُسوہ انسانیت

امام حسین ،دلربائے قلوب

میرے عزیز دوستو! حسین ابن علی کا نام گرامی بہت ہی دلکش نام ہے ؛ جب ہم احساسات کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں میں امام حسین کے نام کی خاصیت اورحقیقت و معرفت یہ ہے کہ یہ نام دلربائے قلوب ہے اور مقناطیس کی مانند دلوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ البتہ مسلمانوں میں بہت سے ایسے افراد بھی ہیں جو ایسے نہیں ہیں اور امام حسین کی معرفت و شناخت سے بے بہرہ ہیں، دوسری طرف ایسے افراد بھی پائے جاتے ہیں کہ جن کا شمار اہل بیت کے شیعوں میں نہیں ہوتا لیکن اُن کے درمیان بہت سے ایسے افراد ہیںکہ حسین ابن علی کا مظلوم نام سنتے ہی اُن کی آنکھوں سے اشکوں کا سیلاب جاری ہو جاتاہے ور اُن کے دل منقلب ہوجاتے ہیں۔ خداوند عالم نے امام حسین کے نام میں ایسی تاثیر رکھی ہے کہ جب اُن کا نام لیا جاتا ہے تو ہماری قوم سمیت دیگر ممالک کے شیعوں کے دل و جان پر ایک روحانی کیفیت طاری ہوجاتی ہے ۔ یہ ہے حضرت امام حسین کی مقدس ذات سے احساساتی لگاو کی تفسیر۔

اہل بصیرت کے درمیان ہمیشہ سے یہی ہوتا رہا ہے جیسا کہ روایات اور تاریخ سے بھی معلوم ہوتا ہے ، حضرت ختمی مرتبت ۰ اور امیر المومنین کے گھر اور اِن بزرگوار ہستیوں کی زندگی میں بھی اِس عظیم ذات کو مر کزیت حاصل تھی اور یہ ہمیشہ اِن عظیم المرتبت ہستیوں کے عشق و محبت کا محور رہا ہے اور آج بھی ایسا ہی ہے۔

امام حسین کی تعلیمات اور دعائیں

تعلیمات اور دعاوں کے لحاظ سے بھی یہ عظیم المرتبت ہستی اور اُن کا اسم شریف بھی کہ جو اُن کے عظیم القدر مسمّی(ذات) کی طرف اشارہ کرتا ہے، اِسی طرح ہے۔ آپ کے کلمات و ارشادات ، معرفت الٰہی کے گرانبہا گوہروں سے لبریز ہیں۔ آپ روز عرفہ ، امام حسین کی اِسی دعائے عرفہ کو ملاحظہ کیجئے تو آپ دیکھیں گے کہ یہ بھی زبور آل محمد ۰ ( صحیفہ سجادیہ)کی مانند عشق و معرفت الٰہی کے خزانوں اور اُس کے حسن و جمال کے حَسِین نغموں سے مالا مال ہے ۔ یہاں تک کہ انسان جب امام سجاد کی بعض دعاؤں کا دعائے عرفہ سے موازنہ کرتا ہے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ امام سجاد کی دعائیں در حقیقت امام حسین کی دعائے عرفہ کی ہی تشریح و توضیح ہیں، یعنی دعائے عرفہ ’’اصل ‘‘ ہے اور صحیفہ سجادیہ کی دعائیں اُس کی ’’فرع‘‘۔ عجیب و غریب دعائے عرفہ، واقعہ کربلا اور زندگی کے دیگر مواقع پر آپ کے ارشادات ،کلمات اور خطبات ایک عجیب معانی اور روح رکھتے ہیں اور عالم ملکوت کے حقائق اور عالی ترین معارف الہٰیہ کاایسا بحر بیکراں ہیں کہ آثار اہل بیت میں جن کی نظیر بہت کم ہے۔

سید الشہدا ، انسانوں کے آئیڈیل

بزرگ ہستیوں کی تآسّی وپیروی اور اولیائے خدا سے انتساب و نسبت، اہل عقل و خرد ہی کا شیوہ رہا ہے۔ دنیا کا ہر ذی حیات موجود، آئیڈیل کی تلاش اور اُسوہ و مثالی نمونے کی جستجو میں ہے ،لیکن یہ سب اپنے آئیڈیل کی تلاش میں صحیح راستے پر قدم نہیں اٹھاتے ہیں۔ اِس دنیا میں بعض افراد ایسے بھی ہیں کہ اگر اُن سے دریافت کیا جائے کہ وہ کون سی شخصیت ہے کہ جو آپ کے ذہن و قلب پر چھائی ہوئی ہے تو آپ دیکھیں گے کہ اُن حقیر اور پست انسانوں کا پتہ بتائیں گے کہ جنہوں نے اپنی زندگی خواہشات نفسانی کی بندگی و غلامی میں گزاری ہے۔ اِن آئیڈیل بننے والے افراد کی عادات و صفات ،غافل انسانوں کے سِوا کسی اورکو اچھی نہیں لگتیں اور یہ معمولی اور غافل انسانوں کو ہی صرف چند لمحوں کیلئے سرگرم کرتے ہیں اور دنیا کے معمولی انسانوں کے ایک گروہ کیلئے تصوّراتی شخصیت بن جاتے ہیں۔ بعض افراد اپنے آئیڈیل کی تلاش میں بڑے بڑے سیاستدانوں اور تاریخی ہیرووں کے پیچھے چل پڑتے ہیں اور اُنہیں اپنے لیے مثالی نمونہ اور اُسوہ قرار دیتے ہیں لیکن عقلمند ترین انسان وہ ہیں جو اولیائے خدا کو اپنا اُسوہ اور آئیڈیل بناتے ہیںکیونکہ اولیائے الٰہی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اِ س حد تک شجاع ، قدرت مند اور صاحب ارادہ واختیار ہوتے ہیں کہ اپنے نفس اور جان و دل کے خود حاکم و امیر ہوتے ہیں یعنی اپنے نفس اور نفسانی خواہشات کے غلام اور اسیر نہیں بنتے۔

ایک حکیم (دانا)کا بے مثال جواب

قدیم حکمائ اور فلسفیوں میں سے کسی سے کیلئے منسوب ہے کہ اُس نے اسکندر رومی_ مقدونی_ سے کہا کہ ’’تم ہمارے غلاموں کے غلام ہو۔‘‘ اسکندر اعظم یہ بات سن کر برہم ہوگیا۔ اُس حکیم نے کہا کہ ’’غصہ نہ کرو، تم اپنے غصے اور شہوت کے غلام ہو۔ تم جب بھی کسی چیز کو حاصل کرتے ہوتو اُس وقت بھی بے تاب اور مضطرب ہوتے ہو اور جب غصہ کرتے ہو تو اُس وقت بھی پریشانی و بے کلی کی کیفیت تم پر سوار رہتی ہے اور یہ شہوت و غضب کے مقابلے میں تمہاری غلامی کی علامت ہے جبکہ میری شہوت و غضب میرے غلام ہیں‘‘۔

ممکن ہے کہ یہ قصہ صحیح ہو اور ممکن ہے کہ یہ بالکل حقیقت نہ رکھتا ہو لیکن اولیائے خدا ، پیغمبروں اور بشریت کیلئے خدائی ہدایت کی شاہراہ کے راہنماوں کیلئے یہ بات بالکل صادق آتی ہے۔ اِس کی زندہ مثالیں حضرت یوسف ، حضرت ابراہیم اور حضرت موسی ہیں اور اِ س کی متعدد مثالیں ہمیں اولیائے الٰہی کی زندگی میں نظر آتی ہیں۔ اہل عقل و خرد وہ انسان ہیں کہ جو اِن بزرگ ہستیوںاور اِن شجاع اور صاحب ارادہ و اختیار انسانوں کو اپنا آئیدیل قرار دیتے ہیں اور اِس راستے پر گامزن ہو کر اپنے باطن میں اپنے ارادے و اختیار کے مالک بن جاتے ہیں۔

واقعہ کربلا سے قبل امام حسین کی شخصیت و فعالیت

اِن بزرگ ہستیوں کے درمیان بھی بہت سی عظیم شخصیات پائی جاتی ہیں کہ جن میں سے ایک شخصیت حضرت امام حسین کی ہے۔ حق تو یہ ہے کہ یہ کہنا چاہیے کہ ہم خاکی ، حقیر اور ناقابل انسان بلکہ تمام عوالم وجود ، بزرگان و اولیائ کی ارواح اور تمام ملائکہ مقربین اور اِن عوالم میں موجود تمام چیزوں کیلئے جو ہمارے لیے واضح و آشکار نہیں ہیں، امام حسین کا نورِ مبارک، آفتاب کی مانند تابناک و درخشاں ہے۔ اگر انسان اِس نورِ آفتاب کے زیر سایہ زندگی بسر کرے تو اُس کا یہ قدم بہت سود مند ہوگا۔

توجہ کیجئے کہ امام حسین نہ صرف یہ کہ فرزند پیغمبر ۰ تھے بلکہ علی ابن ابی طالب و فاطمہ زہرا ٭ کے بھی نور چشم تھے اور یہ وہ چیزیں ہیں کہ جو ایک انسان کو عظمت عطا کرتی ہیں۔ سید الشہدا عظیم خاندان نبوت، دامن ولایت و عصمت اور جنتی اور معنوی فضاو ماحول کے تربیت یافتہ تھے لیکن اُنہوں نے صرف اسی پر ہی اکتفا نہیں کیا۔ جب حضرت ختمی مرتبت ۰ کا وصال ہوا تو آپ کی عمر مبارک آٹھ ، نو برس کی تھی اور جب امیر المومنین نے جام شہادت نوش کیا تو آپ سینتیس یا اڑتیس سال کے نوجوان تھے۔ امیر المومنین کے زمانہ خلافت میں کہ جو امتحان و آزمایش اور محنت و جدوجہد کا زمانہ تھا، آپ نے اپنے پدر بزرگوار کے زیر سایہ اپنی صلاحیتوں اور استعداد کو پروان چڑھانے میں بھرپور محنت کی اور ایک مضبوط و مستحکم اور درخشاں و تابناک شخصیت کی حیثیت سے اُبھرے۔

اگر ایک انسان کا حوصلہ اور ہمت ہمارے جیسے انسانوں کی مانند ہو تو وہ کہے گا کہ بس اتنی ہمت و حوصلہ کافی ہے، بس اتنا ہی اچھا ہے اور خدا کی عبادت اور دین کی خدمت کیلئے ہمت و حوصلے کی اتنی مقدار ہمارے لیے کافی ہو گی لیکن یہ حسینی ہمت و حوصلہ نہیں ہے۔ امام حسین نے اپنے برادر بزگوار کے زمانہ امامت میں کہ آپ ماموم اور امام حسن امام تھے، اپنی پوری طاقت و توانائی کو اُن کیلئے وقف کردیا تاکہ اسلامی تحریک کو آگے بڑھایا جاسکے ؛ یہ دراصل اپنے برادر بزرگوار کے شانہ بشانہ وظائف کی انجام دہی ، پیشرفت اور اپنے امامِ زمانہ کی مطلق اطاعت ہے اور یہ سب ایک انسان کیلئے عظمت و فضیلت کا باعث ہے۔ آپ امام حسین کی زندگی میں ایک ایک لمحے پر غور کیجئے۔ شہادت امام حسن کے وقت اور اُس کے بعد جو ناگوار حالات پیش آئے ، آپ نے اُن سب کا ثابت قدمی سے مقابلہ کیا اور تمام مشکلات کو برداشت کیا۔ امام حسن کی شہادت کے بعد آپ تقریباً دس سال اور چند ماہ زندہ رہے؛ لہٰذا آپ توجہ کیجئے کہ امام حسین نے واقعہ کربلا سے دس سال قبل کیا کام انجام دیئے۔

دین میں ہونے والی تحریفات سے مقابلہ

امام حسین کی عبادت اورتضرّع وزاری، توسُّل ، حرم پیغمبر ۰ میں آپ کا اعتکاف اور آپ کی معنوی ریاضت اور سیر و سلوک؛ سب امام حسین کی حیات مبارک کا ایک رُخ ہے۔ آپ کی زندگی کا دوسرا رُخ علم اور تعلیمات اسلامی کے فروغ میںآپ کی خدمات اور تحریفات سے مقابلہ کیے جانے سے عبارت ہے۔ اُس زمانے میں ہونے والی تحریف دین درحقیقت اسلام کیلئے ایک بہت بڑی آفت و بلا تھی کہ جس نے برائیوں کے سیلاب کی مانند پورے اسلامی معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ جب اسلامی سلطنت کے شہروں، ممالک اور مسلمان قوموں کے درمیان اِس بات کی تاکید کی جاتی تھی کہ اسلام کی سب سے عظیم ترین شخصیت پر لعن اور سبّ و شتم کریں۔ اگر کسی پر الزام ہوتا کہ یہ امیر المومنین کی ولایت و امامت کا طرفدار اور حمایتی ہے تو اُس کے خلاف قانونی کاروائی کی جاتی، ’’اَلقَتلُ بِالظَنَّةِ وَالآَخذُ بِالتُّهمَةِ ‘‘،(صرف اِس گمان و خیال کی بنا پر کہ یہ امیرالمو منین کا حمایتی ہے ، قتل کردیا جاتا اور صرف الزام کی وجہ سے اُس کا مال و دولت لوٹ لیا جاتا اور بیت المال سے اُس کاوظیفہ بند کردیا جاتا)۔

اِن دشوار حالات میں امام حسین ایک مضبوط چٹان کی مانند جمے رہے اور آپ نے تیز اور برندہ تلوار کی مانند دین پر پڑے ہوئے تحریفات کے تمام پردوں کو چاک کردیا، (میدان منی میں) آپ کا وہ مشہور و معروف خطبہ اور علما سے آپ کے ارشادات یہ سب تاریخ میںمحفوظ ہیں اور اِس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ امام حسین اِس سلسلے میں کتنی بڑی تحریک کے روح رواں تھے۔

امر بالمعروف و نہی عن المنکر

آپ نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بھی وسیع پیمانے پر انجام دیا اور یہ امر و نہی، معاویہ کے نام آپ کے خط کی صورت میں تاریخ کے اوراق کی ایک ناقابل انکار حقیقت اور قابل دید حصّہ ہیں۔ اتفاق کی بات تو یہ ہے کہ اِ س خط کو کہ جہاں تک میرے ذہن میں ہے، اہل سنت مورخین نے نقل کیا ہے، یعنی میں نے نہیں دیکھا کہ شیعہ مورخین نے اُسے نقل کیا ہویا اگر نقل بھی کیا ہے تو سنی مورخین سے نقل کیا ہے۔ آپ کا وہ عظیم الشّان خط اور آپ کا مجاہدانہ اور دلیرانہ انداز سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر انجام دینا دراصل یزید کے سلطنت پر قابض ہونے سے لے کر مدینے سے کربلا کیلئے آپ کی روانگی تک کے عرصے پر مشتمل ہے۔ اِس دوران آپ کے تمام اقدامات، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر تھے۔ آپ خود فرماتے ہیں کہ’’اُرِیدُ اَن آمُرَ باِلمَعرُوفِ و اَنهٰی عَنِ المُنکَرِ ‘‘، ’’میں نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا چاہتا ہوں۔‘‘

زندگی کے تین میدانوں میں امام حسین کی جدوجہد

توجہ فرمائیے کہ ایک انسان مثلا امام حسین اپنی انفرادی زندگی _ تہذیب نفس اور تقوی_ میں بھی اتنی بڑی تحریک کے روح رواں ہیں اورساتھ ساتھ ثقافتی میدان میں بھی تحریفات سے مقابلہ، احکام الہی کی ترویج و اشاعت ، شاگردوں اور عظیم الشان انسانوں کی تربیت کو بھی انجام دیتے ہیںنیز سیاسی میدان میں بھی کہ جو اُن کے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے عبارت ہے، عظیم جدوجہد اور تحریک کے پرچم کو بھی خود بلند کرتے ہیں۔ یہ عظیم انسان انفرادی ، ثقافتی اور سیاسی زندگی میں بھی اپنی خود سازی میں مصروف عمل ہے۔

امام حسین کی حیا ت طیبہ کا اجمالی جا ئزہ

امام حسین کی زندگی کے تین دور

سب سے پہلے مرحلے پر یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ واقعہ کتنا عظیم ہے تاکہ اِس کہ علل و اسباب کو تلاش کیا جائے۔ کوئی یہ نہ کہے کہ واقعہ کربلا میں صرف قتل ہوا ہے اور چند افراد قتل کردیے گئے ہیں۔ جیسا کہ ہم سب زیارت عاشورا میں پڑھتے ہیں کہ ’’لَقَد عَظُمَتِ الرَّزِيَّةُ وَ جَلَّت وَ عَظُمَتِ المُصِیبَةُ ‘‘۔ یہ مصائب و مشکلات بہت بڑی تھیں۔ ’’رزیۃ‘‘ یعنی بہت عظیم حادثہ؛ یہ حادثہ اور واقعہ بہت عظیم اور کمر توڑ دینے والا اور اپنی نوعیت کا بے نظیر واقعہ ہے ۔ لہٰذا اِس واقعہ کی عظمت و بزرگی کا اندازہ لگانے کیلئے میں سید الشہدا کی حیات طیبہ سے تین ادوار کو اجمالی طور پر آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں۔ آپ ملاحظہ فرمائیے کہ سید الشہدا کی حیات کے اِن تین ادوار کا مطالعہ کرنے والا شخص اِن تینوں زمانوں میں ایک ایسی شخصیت کو سامنے پاتا ہے کہ جس کیلئے یہ گمان بھی نہیں کیا جاسکتا ہے کہ نوبت یہاں تک جا پہنچے گی کہ اِس شخصیت کے جدّ کی امت کے کچھ افراد روز عاشورا اُس کا محاصرہ کرلیں اور اُسے اور اُس کے اصحاب و اہل بیت کا نہایت سفاکانہ اور دردناک طریقے سے قتل عام کریں اور خواتین کو اسیر و قیدی بنالیں!

اِن تینوں زمانوں میں سے ایک دور پیغمبر اکرم ۰ کی حیات کا زمانہ ہے ، دوسرا زمانہ آپ کی جوانی یعنی رسول اکرم ۰ کے وصال کے بعد پچیس سال اور امیر المومنین کی حکومت تک کا زمانہ ہے جبکہ تیسرا زمانہ امیر المومنین کی شہادت کے بعد بیس سال کے عرصے پر محیط ہے۔

دورِ طفولیت

پیغمبر اکرم ۰ کی حیات طیبہ کے اِس نورانی دور میں امام حسین حضرت ختمی مرتبت ۰ کے نور چشم تھے۔ پیغمبر اکرم ۰ کی ایک صاحبزادی تھیں بنام فاطمہ کہ اُس زمانے کے تمام مسلمان جانتے تھے کہ پیغمبر اکرم ۰ نے اُن کے بارے میں فرمایا کہ ’’اِنَّ اللّٰهَ لِيَغضِبَ لِغَضَبِ فَاطِمَة وَ يَرضی لِرِضَاهَا ‘‘(۱) ، ’’اگر کس ی نے فاطمہ کو غضبناک کیا تو اُس نے غضب خدا کو دعوت دی ہے اور اگر کسی نے فاطمہ کو خوش کیا تو اُس نے خدا کو خوشنود کیا‘‘۔ توجہ فرمائیے کہ یہ صاحبزادی کتنی عظیم المرتبت ہے کہ حضرت ختمی مرتبت ۰ مجمع عام میں اور کثیر تعداد کے سامنے اپنی بیٹی کے بارے میں اِس طرح گفتگو فرماتے ہیں؛ یہ کوئی عام بات نہیں ہے۔

پیغمبر اکرم ۰ نے اپنی اِس بیٹی کا ہاتھ اسلامی معاشرے کے اُس فرد کے ہاتھ میں دیا کہ جو عظمت و بلندی اور اپنی شجاعت و کارناموں کی وجہ سے بہت بلند درجے پر فائز تھا، یعنی علی ابن ابی طالب ۔ یہ جوان، شجاع ، شریف، سب سے زیادہ با ایمان، مسلمانوں میں سب سے زیادہ شاندار ماضی کاحامل، سب سے زیادہ شجاع اور تمام نبرد و میدان عمل میں آگے آگے تھا ۔ یہ وہ ہستی ہے کہ اسلام جس کی شمشیر کا مرہونِ منت ہے، یہ جوان ہر اُس جگہ آگے آگے نظر آتا ہے کہ جہاں سب (بڑے بڑے سورما اور دلیر)پیچھے رہ جاتے ہیں، اپنے مضبوط ہاتھوں سے گھتّیوں کو سلجھاتا ہے اور راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کوتہس نہس کردیتا ہے؛ یہ وہ عزیز ترین اور محبوب ترین داماد ہے کہ جسے خدا کے آخری رسول ۰ نے اپنی بیٹی دی ہے ۔ اُس کی یہ محبوبیت رشتہ داری اور اقربا پروری اور اِسی جیسے دیگر امور کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اُس شخصیت کی عظمت کی وجہ سے ہے۔ اِس عظیم جوان اور اِس عظیم المرتبت بیٹی سے ایک ایسا بچہ جنم لیتا ہے کہ جو حسین ابن علی کہلاتاہے۔

البتہ یہی تمام باتیں اور عظمتیں امام حسن کے بارے میں بھی ہیں لیکن ابھی ہماری بحث صرف سید الشہدا کے بارے میں ہے۔ حسین ابن علی ،پیغمبر اکرم ۰ کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ عزیزہیں۔ حضرت ختمی مرتبت ۰ جو دنیائے اسلام کے سربراہ ، اسلامی معاشرے کے حاکم اور تمام مسلمانوں کے محبوب رسول اور قائد ہیں، اِس بچے کو اپنی آغوش میں لیتے ہیں اور اُسے اپنے ساتھ مسجد میں لےجاتے ہیں۔ سب ہی یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ بچہ ، تمام مسلمانوں کی محبوب ترین ہستی کے دل کا چین، آنکھوں کا نور اور اُس کا محبوب ہے۔ رسول اکرم ۰ ، منبر پر خطبہ دینے میں مصروف ہیں، اِس بچے کا پیر کسی چیز سے الجھتا ہے اور زمین پر گر جاتا ہے ، پیغمبر اکرم ۰ منبر سے نیچے تشریف لاتے ہیں، اُسے اپنی گود میں اٹھا کر پیار اور نوازش کرتے ہیں؛ یہ ہے اِس بچے کی اہمیت و حقیقت!

پیغمبر اکرم ۰ نے چھ سات سال کے امام حسن اور امام حسین کے متعلق فرمایا کہ ’’سَيِّدی شَبَابِ اَهلِ الجَنَّةِ ‘‘(۲) یہ دونوں جوانان جنت کے سردار ہیں ۔ (یا رسول اللہ!) یہ تو ابھی بچے ہیں، ابھی تو سن بلوغ کوبھی نہیں پہنچے اور انہوں نے جوانی کی دہلیزمیں ابھی تک قدم نہیں رکھا ہے؛ لیکن رسول اکرم ۰ فرماتے ہیں کہ یہ جوانان جنت کے سردار ہیں یعنی یہ بچے چھ سات سال میں بھی ایک جوان کی مانند ہیں، یہ سمجھتے ہیں، ادراک رکھتے ہیں ،عملی اقدام کرتے ہیں اور شرافت و عظمت اِن کے وجود میں موجزن ہے۔ اگر اُسی زمانے میں کوئی یہ کہتا کہ یہ بچہ، اِسی پیغمبر کی اُمت کے ہاتھوں بغیر کسی جرم و خطا کے قتل کردیا جائے گا تو اُس معاشرے کا کوئی بھی شخص اِس بات کو ہرگز تسلیم نہیں کرتا۔ جیسا کہ پیغمبر ۰ نے یہ فرمایا اور گریہ کیا تو سب افراد نے تعجب کیا کہ کیا ایسا بھی ہوسکتا ہے؟!

____________________

۱ بحار الانوار ، جلد ۴۳ صفحہ ۴۴

۲ بحار الانوار ، جلد۱۰، صفحہ ۳۵۳

امام حسین کا دورانِ جوانی

دوسرا دور پیغمبر اکرم ۰ کی وفات کے بعد سے امیر المومنین کی شہادت تک کا پچیس سالہ دور ہے۔ اِس میں یہ شخصیت، جوان، رشید، عالم اورشجاع ہے ، جنگوں میں آگے آگے ہے، عالم اسلام کے بڑے بڑے کاموں میں حصہ لیتا ہے اور اسلامی معاشرے کے تمام مسلمان اِس کی عظمت وبزرگی سے واقف ہیں۔ جب بھی کسی جواد و سخی کا نام آتا ہے تو سب کی نگاہیں اِسی پر متمرکز ہوتی ہیں، مکہ ومدینے کے مسلمانوں میں، ہر فضیلت میں اور جہاں جہاں اسلام کا نور پہنچا، یہ ہستی خورشید کی مانند جگمگا رہی ہے، سب ہی اُس کا احترام کرتے ہیں، خلفائے راشدین ۱ بھی امام حسن اور امام حسین کا احترام کرتے ہیں ، اِن دونوں کی عظمت و بزرگی کے قولاً و عملاً قائل ہیں، ان دونوں کے نام نہایت احترام اور عظمت سے لیے جاتے ہیں ، اپنے زمانے کے بے مثل و نظیر جوان اور سب کے نزدیک قابل احترام۔ اگر اُنہی ایام میں کوئی یہ کہتا کہ یہی جوان (کہ جس کی آج تم اتنی تعظیم کررہے ہو) کل اِسی امت کے ہاتھوں قتل کیا جائے گا تو شاید کوئی یقین نہ کرتا۔

امام حسین کا دورانِ غربت

سید الشہدا کی حیات کا تیسرا دور، امیر المومنین کی شہادت کے بعد کا دور ہے، یعنی اہل بیت کی غربت و تنہائی کا دور۔ امیر المومنین کی شہادت کے بعد امام حسن اور امام حسین مدینے تشریف لے آئے۔حضرت علی کی شہادت کے بعد امام حسین بیس سال تک تمام مسلمانوں کے معنوی امام(۱) رہے اور آپ تمام مسلمانوں م یں ایک بزرگ مفتی کی حیثیت سے سب کیلئے قابل احترام تھے۔ آپ عالم اسلام میں داخل ہو نے والوںکی توجہ کا مرکز، اُن کی تعلیم وتر بیت کا محور اوراہل بیت سے اظہا رعقیدت و محبت رکھنے والے افراد کے توسل و تمسک کے نقطہ ارتکاز کی حیثیت سے مدینے میں زندگی بسر کرتے رہے ۔ آپ ، محبوب، بزرگ، شریف، نجیب اور عالم وآگاہ شخصیت کے مالک تھے۔

آپ نے معاویہ کو خط لکھا، امام حسین اگر کسی بھی حاکم کو تنبیہ کی غرض سے خط تحریر فرماتے تو عالم اسلام کے نزدیک اُس کی سزا موت تھی، معاویہ پو رے احترام کے ساتھ یہ خط وصول کرتاہے، اُسے پڑھتا ہے ، تحمل کرتا ہے اور کچھ نہیں کہتا۔ اگر اُسی زمانے میں کوئی یہ کہتا کہ آئندہ چند سالوں میں یہ محترم ، شریف اور نجیب و عزیز شخصیت کو کہ جو تمام مسلمانوں کی نگاہوں میں اسلام وقرآن کی جیتی جاگتی تصویر ہے، اسلام و قرآن کے اِنہی ماننے والوں کے ہاتھوں قتل کردیا جائے گا اور وہ بھی اُس دردناک طریقے سے کہ جس کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا

تھا تو کوئی بھی اِس بات پر یقین نہیں کرتا۔ لیکن اپنی نوعیت کا عجیب و غریب ، حیرت انگیز اور یہی ناقابل یقین واقعہ رونما ہوا اور کن افراد کے ہاتھوں وقوع پذیر ہوا؟ وہی لوگ جو اُس کی خدمت میں دوڑ دوڑ کر آتے تھے، سلام کرتے تھے اور اپنے خلوص کا مظاہرہ کرتے تھے۔ اِن (متضاد) باتوں کا کیا مطلب ہے؟ اِ س کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی معاشرہ اِن پچاس سالوں میں معنویت اور اسلام کی حقیقت سے بالکل خالی ہوگیاتھا، یہ معاشرہ صرف نام کا اسلامی تھا لیکن باطن بالکل خالی اور پوچ اور یہی خطرے کی سب سے بڑی بات ہے۔ نمازیں ہورہی ہیں، نماز باجماعت میں لوگوں کی کثیر تعداد موجود ہے، لوگوں نے اپنے اوپرمسلمانی کا لیبل لگایا ہوا ہے اور کچھ لوگ تو اہل بیت کے طرفدار اور حمایتی بھی بنے ہوئے ہیں !!

رسول اللہ ۰ کے اہل بیت تمام عالم اسلام میں قابل احترام ہیں

میں آپ کی خدمت میں عرض کروں کہ پورے عالم اسلام میں سب ہی اہل بیت کو قبول کرتے ہیں اور کسی کو اِس میں کسی بھی قسم کا شک وشبہ نہیں ہے ۔ اہل بیت کی محبت تمام عالم اسلام کے دلوں میں موجود ہے اور آج بھی یہی صورتحال ہے۔ آج بھی آپ دنیائے اسلام کے کسی بھی حصے میں جائیے، آپ دیکھیں گے کہ سب اہل بیت سے محبت کرتے ہیں۔ وہ مسجد جو امام حسین سے منسوب ہے اور وہ مسجد جو قاہرہ میں حضرت زینب سے منسوب ہے ، ہمیشہ زوّاروں سے پُر رہتی ہے۔ لوگ بڑی تعداد میں یہاں آتے ہیں ، قبر کی زیارت کرتے ہیں اور توسل کرتے ہیں۔

ابھی دو تین سال قبل(۲) ا یک نئی کتاب مجھے دی گئی ؛ چونکہ قدیمی کتابوں میں یہ مطالب بہت زیادہ ہیں، یہ کتاب’’ اہل بیت کون ہیں‘‘؟کے عنوان سے لکھی گئی ہے۔ سعودی عرب کے ایک محقق نے تحقیق کرکے اِس کتاب میں ثابت کیا ہے کہ اہل بیت سے مراد علی ، فاطمہ ٭اور حسن و حسین ہیں۔ یہ حقیقت تو ہم شیعوں کی جان روح کا حصہ ہے لیکن ہمارے اِس سنی مسلمان بھائی نے اس حقیقت کو لکھا اور طبع کیا ہے۔ یہ کتاب میرے پاس موجود ہے اور اِس کے ہزاروں نسخے چھپ ہو کر فروخت ہوچکے ہیں۔(۳)

____________________

۱ معنوی امام اس لحاظ سے کہ امیر المومنین کی شہادت کے بعد امامت ، امام حسن کو منتقل ہوئی اور آپ کی شہادت کے بعد امامت ، امام حسین کو منتقل ہوئی۔ امام حسن کی امامت کا زمانہ یا امام حسین کی اپنی امامت کا دور، دونوں زمانوں میں امام حسین ۲۰ سال تک تمام مسلمانوں کے معنوی امام رہے ۔ (مترجم)

۲ تقریباً ۱۹۹۸ میں کیونکہ یہ تقریر سن ۲۰۰۰ کی ہے۔

۳ خطبہ نماز جمعہ، ۸/۰۵/۲۰۰۰