امام حسين علیہ السلام دلُربائے قلوب

امام حسين علیہ السلام دلُربائے قلوب0%

امام حسين علیہ السلام دلُربائے قلوب مؤلف:
زمرہ جات: امام حسین(علیہ السلام)

امام حسين علیہ السلام دلُربائے قلوب

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: حضرت آيت اللہ العظميٰ خامنہ اي حَفَظَہُ اللّٰہُ
زمرہ جات: مشاہدے: 3368
ڈاؤنلوڈ: 1280

تبصرے:

امام حسين علیہ السلام دلُربائے قلوب
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 22 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 3368 / ڈاؤنلوڈ: 1280
سائز سائز سائز
امام حسين علیہ السلام دلُربائے قلوب

امام حسين علیہ السلام دلُربائے قلوب

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

قیام کربلا کے اجتماعی پہلو

قیام امام حسین کی خصوصیات

سید الشہدا کا بہایا گیا خونِ ناحق تاریخ میںہمیشہ محفوظ ہے، چونکہ شہید یعنی وہ شخص جو اپنی جان کو خلوص کے طبق میں رکھ کر دین کے بلند ترین اہداف کیلئے پیش کرتا ہے اور ایک خاص قسم کی صداقت اور نورانیت کا حامل ہوتا ہے۔ کوئی کتنا ہی بڑا کاذب و مکار کیوں نہ ہو اور اپنی زبان و بیان سے خود کو حق کا کتنا ہی بڑا طرفدار بناکر کیوں نہ پیش کرے لیکن جب اُس کے شخصی منافع خصوصاً جب اُس کی اور اُس کے عزیز ترین افراد کی جان خطرے میں پڑتی ہے تو وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے اور کسی بھی قیمت پر حاضر نہیں ہوتا کہ اُنہیں قربان کرے۔ لیکن وہ شخص جو ایثار و فداکاری کے میدان میں قدم رکھتا ہے اور مخلصانہ طور پر اپنی تمام ہستی کو راہ الٰہی میں پیش کرتا ہے تو ’’حق? عَلَی اللّٰہِ‘‘ تو اُس کا خدا پر حق ہے یعنی خدا اپنے ذمہ لیتا ہے کہ اُسے اور اُس کی یاد کوزندہ رکھے۔’’وَلاَ تَقُولُوا لِمَن يُّقتَلُ فِی سَبِیلِ اللّٰهِ اَموات ‘‘ ،’’ جو خدا کی راہ میں مارا جائے اُسے مردہ نہ کہو‘‘:’’وَلَا تَحسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللّٰهِ اَموَاتًا بَل اَحيَآئ? ‘ ،’’جو لوگ خدا کی راہ میں قتل کردیے جائیں اُنہیں ہرگز مردہ گمان نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں‘‘؛ شہید فی سبیل اللہ زندہ رہتے ہیں۔ اُن کے زندہ رہنے کا ایک پہلو یہی ہے کہ اُن کی نشانیاں اور قدموں کے نشان، راہِ حق سے کبھی نہیں مٹتے اور اُن کا بلند کیا ہوا پرچم کبھی نہیں جھکتا۔ ممکن ہے چند روز کیلئے ظلم و ستم اور بڑی طاقتوں کی مداخلت کی وجہ سے اُن کی قر با نی اورفدا کا ری کے رنگ کو پھیکا کر دیں لیکن خداوند عالم نے قانونِ طبیعت کو اِسی طرح قرار دیا ہے اور خدا کی سنت اور قانون یہ ہے کہ پاک و پاکیزہ اور صالح و مخلص افراد کا راستہ ہمیشہ باقی رہے۔ خلوص بہت ہی عجیب چیز ہے لہٰذا یہی وجہ ہے کہ امام حسین کی ذات گرامی ،اُن کے اور اُن کے اصحابِ با وفا کے بہائے گئے خونِ ناحق کی برکت سے آج دنیا میں دین باقی ہے اور تاقیامت باقی رہے گا۔

میں نے امام حسین کے تمام ارشادات میں کہ جن میں سے ہر ایک میں کوئی نہ کوئی تربیتی نکتہ موجود ہے اور میں آپ کی خدمت میں عرض کروں کہ لوگوں کی ہدایت و اصلاح کیلئے امام کے ارشادات سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جائے، اِ س جملے کو اپنی آج کی اِس محفل کیلئے زینت قرار دیا ہے کہ جسے آپ کی خدمت میں عرض کررہا ہوں۔ امام سے نقل کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا’’اَللَّهُمَّ اِنَّکَ تَعلَمُ اَنَّهُ لَم یکُن مِنَّا تَنَافُسًا سُلطَانِ وَلَا التِمَاسًا مِن فُضُولِ الحُطَامِ ‘‘(۱) ’’پروردگارا! یہ تحریک جو ہم نے چلائی ہے، جس امر کیلئے قیام کیا اورجس میںتجھ سے فیصلے کے طالب ہیں تو جانتا ہے کہ یہ سب ا قتدارکی خواہش کیلئے نہیں ہے؛ اقتدار کی خواہش ایک انسان کیلئے ہدف نہیں بن سکتی اور نہ ہی ہم چاہتے ہیں کہ زمام قدرت کو اپنے ہاتھ میں لیں؛ نہ ہی ہمارا قیام دنیوی مال و منال کے حصول کیلئے ہے کہ اُس کے ذریعہ سے دنیوی لذتوں سے لُطف اندوز ہوں، شکم پُری کے تقاضے پورے کریں اور مال ودولت جمع کریں؛اِن میںسے کوئی ایک بھی ہمارا ہدف و مقصد نہیں ہے‘‘۔

پس سید الشہدا کا قیام کس لیے تھا؟ امام حسین نے اِس بارے میں چند جملے ارشاد فرمائے ہیں کہ جو ہماری جہت کو واضح کرتے ہیں۔ پوری تاریخ میں اسلام کی تبلیغ کا مقصدیہ تھا، ’’وَلٰکِن لِنُرِيَ المَعَالِمَ مِن دِینِکَ ‘‘(۲) ، ’’ہم ت یرے دین کی نشانیوں کو واضح اور آشکار کرنا چاہتے ہیںاور دین کی خصوصیات کو لوگوں کیلئے بیان کرنے کے خواہاںہیں‘‘۔

اِن خصوصیات کا بیان بہت اہم ہے؛ شیطان ہمیشہ دیندار افراد کی گمراہی کیلئے غیر مر ئی و غیر محسوس انحراف کا راستہ اپناتا ہے اور صحیح راہ کو اِس انداز سے غلط بناکر پیش کرتا ہے( کہ ابتدائی مرحلے میں اگر انسان بصیرت کا ما لک نہ ہو تووہ اُس کی تشخیص نہیں کو سکتا) ۔ اگر اُس کا بس چلے تو یہ کہتا ہے کہ ’’دین کو چھوڑ دو‘‘؛ اگر اُس کے امکان میں ہوتو یہ کام ضرور انجام دیتا ہے اور یوں شہوت پرستی اور اپنے غلط پروپیگنڈے کے ذریعہ لوگوں کے ایمان کو اُن سے چھین لیتا ہے اور اگر یہ کام ممکن نہ ہو تو دین کی نشانیوں کوہی بدل دیتا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے آپ ایک راستے پر حرکت کررہے ہوں تو سنگ میل یا راہنما سائن بورڈ آپ کی حرکت کو ایک خاص سمت میں ظاہر کرتے ہیں ،لیکن اگر کوئی خائن شخص آئے اور راستے کی سمت کو بتانے والے سائن بورڈوںپردرج شدہ علامات کو بدل دے کہ جو راستے کو ایک دوسری ہی طرف ظاہرکریں تو یقینا آپ کی حرکت کی سمت بھی تبدیل ہو جا ئے گی!

اصلاح معاشرہ اور برائیوں کا سدِّباب

امام حسین اِسی امر کو اپنے قیام کا پہلا ہدف قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں ’’لِنُرِيَ المَعَالِمَ مِن دِینِکَ و نُظهِرَ الاِصلَاحَ فِی بِلَادِکَ ‘‘(۳) ’’بارالٰہا!ہم چاہتے ہ یں کہ اسلامی ممالک میں برائیوں کی ریشہ کنی کریں اور معاشروں کی اصلاح کریں‘‘۔ یہاں امام حسین کس اصلاح کی بات کررہے ہیں؟ اِصلاح یعنی برائیوں کو نابود کرنا؛یہاں امام کن برائیوں کی بات کررہے ہیں؟ برائیوں کی مختلف انواع و اقسام ہیں؛ چوری بھی برائی ہے، خیانت بھی برائی ہے، بیرونی طاقتوں سے وابستگی بھی برائی کے زُمرے میں آتی ہے ، ظلم وستم

بھی برائی ہی کا مصداق ہے ، اخلاقی انحراف و بگاڑبھی برائیوں کی ہی ایک قسم ہے،مالی خردبُرد اور اقتصادی میدان میں انجام دیاجا نے والا کرپشن بھی اجتماعی برائیوں سے ہی تعلق رکھتا ہے، آپس میں دست و گریباں ہونا اور ایک دوسرے سے دشمنی رکھنا بھی برائی کی ہی ایک نوع اور قسم ہے، دشمنانِ دین کی طرف میل و رغبت اور جھکاو بھی برائیوں کا ہی حصہ ہے اور دین کی مخالف چیزوں سے اپنے شوق و رغبت کو ظاہر کرنا بھی گناہ ہے ؛(ایک اسلامی معاشرے میں یہ)تمام چیزیں دین کی آڑاور اُس کے سائے میں ہی وجود میں آتی ہیں(اور پیغمبر اکرم ۰ کے بعدیہ چیزیںدینی حکومت کی آڑمیں وجود میں آئیں )۔ سید الشہدا اِس کے بعد فرماتے ہیں کہ’’وَيَامَنَ المَظلُومُونَ مِن عِبَادِکَ ‘‘(۴) ،تا’’کہ ت یرے بندے امن و سکون پائیں‘‘؛ یہاں مظلوم سے امام کی مراد، معاشرے کے مظلوم افراد ہیں، نہ کہ ستمگراور ظلم کرنے والے؛نہ ظلم کے مدّاح اورنہ اُسے سرانے والے اورنہ ہی ظالموںکاساتھ دینے والے! ’’ مَظلُومُونَ‘‘ سے مراد وہ لوگ ہیں کہ جو بے یارو مددگار ہیں اور جنہیں اپنی نجات کی کو ئی راہ سجھائی نہیں دیتی۔ ہدف یہ ہے کہ معاشرے کے مستضعف اور کمزور افراد خواہ وہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھنے والے کیوں نہ ہوں، امن و سکون کا سانس لیں،اُن کی حیثیت و آبروکی حفاظت اوراُن کیلئے عدل و انصاف کی فراہمی کا سامان ہواور وہ اقتصادی طور پر امن و سکون کا سانس لیں کہ آج ہماری دنیااِن ہی چیزوں کی بہت تشنہ ہے؛ چنا نچہ آپ غو رکیجئے کہ امام حسین نے کس طرح اُس زمانے میں طاغوتی حکومت کے بالکل نقطہ مقابل میں موجود چیز پر انگلی رکھی۔ آج آپ بین الاقوامی سطح پر نگاہ ڈالیے تو آپ یہی صورتحال سامنے اپنے سامنے موجود پائیں کہ دین کے پرچم کواُلٹا اور اسلامی تعلیمات کو غلط انداز سے پیش کیا جارہا ہے ، عالم استکبار اور لٹیرے خدا کے مظلوم بندوں پر پہلے سے زیادہ ظلم کررہے ہیں اوراِن ظالموں نے اپنے پنجوں کو مظلوموں کے جسموں میں گاڑا ہوا ہے۔

احکام الٰہی کا نفاذ

اِسی خطبے کے آخر میں سید الشہدا فرماتے ہیں کہ ’’و يُعمَل وَبِفَرَائِضِکَ اَحکَامِکَ وسُنَنِکَ ‘‘(۵) ،’’اورہمارا مقصد یہ ہے کہ تیرے فرائض وسنت اور احکام پر عمل کیا جائے‘‘؛ یہ ہے امام حسین کا ہدف! اب ایسے موقع پر ایک گوشے سے ایک شخص کھڑا ہو جو نہ صرف اسلامی تعلیمات سے آشنا نہیں ہے بلکہ امام حسین کے کلمات حتی عربی لغت کی الف ب سے بھی واقف نہیں ہے، امام حسین کے ہدف کے بارے میں لب گشائی کرے کہ امام حسین نے فلاں ہدف کیلئے قیام کیا تھا(کہ جس کا امام حسین کے ہدف سے سرے ہی سے کو ئی تعلق نہیں ہے)! تم یہ بات کہاں سے اور کس دلیل کی بنا پرکہہ رہے ہو؟! یہ سید الشہدا کاا رشاد فرمایا ہوا جملہ ہے کہ ’’و يُعمَلَ وَبِفَرَائِضِکَ وَاَحکَامِکَ وسُنَنِکَ ‘‘ ، یعنی امام حسین اپنی اور اپنے زمانے کے پاکیزہ ترین اور صالح انسانوں کی جانوں کو صرف اِ س لیے قربان کررہے ہیں لوگ احکام دین پر عمل کریں، آخر کیوں؟ اِس لیے کہ دنیا و آخرت کی سعادت ،احکام دین پر عمل کرنے میں مضمر ہے ، اِس لیے کہ عدل وانصاف، احکام دین پر عمل کرنے سے ملتا ہے اور اِس لیے کہ حریت و آزادی، احکام دین پر عمل کرنے سے وابستہ ہے۔ اِن لوگوں کوآزادی کہاں سے نصیب ہوگی؟ انسان ،احکام دین کے سائے میں ہی اپنی تمام خواہشات کو پاسکتا ہے۔(۶)

____________________

۱ بحار الانوار ج۱۰۰، ص ۷۹

۲ و ۳ حوالہ سابق

۴ و ۵ حوالہ سابق

۶ محرم کی آمد سے قبل علمائ اور مبلغین سے خطاب ۱۲/۴/۲۰۰۰