دروس تمھیدیہ فی الفقہ الاستدلالی (كتاب الطهارة)

دروس تمھیدیہ فی الفقہ الاستدلالی (كتاب الطهارة)33%

دروس تمھیدیہ فی الفقہ الاستدلالی (كتاب الطهارة) مؤلف:
: آیت اللہ شیخ باقر الایروانی
: شیرعلی نادم
زمرہ جات: فقہ استدلالی

دروس تمھیدیہ فی الفقہ الاستدلالی (كتاب الطهارة)
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 23 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 16933 / ڈاؤنلوڈ: 4650
سائز سائز سائز
دروس تمھیدیہ فی الفقہ الاستدلالی (كتاب الطهارة)

دروس تمھیدیہ فی الفقہ الاستدلالی (كتاب الطهارة)

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

حیض کے احکام

حیض کی تعریف اور اس کے کچھ مختص احکام:

حیض وہ خون ہے جو غالبا ً ہر مہینے،عورت (کی خاص جگہ سے) خارج ہوتا ہے۔ یہ خون سیاہ یا سرخ ، گرم اور گاڑھاہوتاہے اورغالباً جلن کے ساتھ اچھلتے ہوئے نکلتا ہے۔

اس کی کم سے کم مدت تین دن اور زیادہ سے زیادہ مدت دس دن ہوتی ہے۔اس خون کی شرط یہ ہے کہ ابتدائی تین دنوں میں عرف کے مطابق متواتر آئے نیز عورت کے بالغ ہونے کے بعد اور یائسہ ہونے سے پہلے آئے۔

جب تک حیض منقطع نہ ہو اور غسل نہ کر لے ، اس عورت کی نماز ، روزہ، طواف اور اعتکاف صحیح نہیں ہے۔

حائض روزے کی قضا کرے گی جبکہ نماز کی قضا اس پر نہیں ہے۔ جوچیزیں مجنب پر حرام تھیں وہ حائض پر بھی حرا م ہوتی ہیں۔ خون کے منقطع ہونے سے پہلے اس کے ساتھ ہمبستری کرنا حرام ہے۔

طلاق کے باب میں مذکور تفصیلات کے تحت حائض کو طلاق دینا بھی صحیح نہیں ہے۔

غسل حیض کا طریقہ غسل جنابت کی مانند ہے۔

دلائل :

۱ ۔ حیض کی بیان کردہ تشریح،حیض کے بارے میں زمینی حقائق کی وجہ سے ہے ۔ ( یعنی تمام عورتیں ہر مہینے میں ایک بار اسی طرح حیض دیکھتی ہیں۔)

اور “غالبا ”کی شرط ،مضطربہ کے جیسے بعض حالات کو بیان کرنے سے بچنے کی خاطر ، لگائی گئی ہے۔

۲ ۔ حیض کی مذکورہ صفات کی دلیل: بعض روایات ہیں جن میں سے ایک حفص بن بختری کی مندرجہ ذیل صحیح روایت ہے:

دَخَلَتْ عَلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام امْرَأَةٌ، فَسَأَلَتْهُ عَنِ الْمَرْأَةِ يَسْتَمِرُّ بِهَا الدَّمُ فَلَا تَدْرِي حَيْضٌ‏ هُوَ أَوْ غَيْرُهُ، قَالَ: فَقَالَ لَهَا: إِنَّ دَمَ الْحَيْضِ حَارٌّ عَبِيطٌ أَسْوَدُ لَهُ دَفْعٌ وَ حَرَارَةٌ، وَ دَمُ الِاسْتِحَاضَةِ أَصْفَرُ بَارِدٌ، فَإِذَا كَانَ لِلدَّمِ حَرَارَةٌ وَ دَفْعٌ وَ سَوَادٌ فَلْتَدَعِ الصَّلَاةَ. قَالَ: فَخَرَجَتْ وَ هِيَ تَقُولُ: وَ اللَّهِ أَنْ لَوْ كَانَ امْرَأَةً مَا زَادَ عَلَى هَذَا .”“ ایک عورت نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں پہنچ کر آپ ؑسے سوال کیا کہ ایک عورت کو پے در پے خون آتا رہتا ہے اور وہ نہیں جانتی کہ یہ حیض کا خون ہے یا کوئی اور خون؟ روای کہتا ہے کہ امام ؑ نے اس عورت سے فرمایا: خون حیض گرم، تازہ اور سیاہ ہوتا ہے جو جلن کے ساتھ اچھلتے ہوئے نکلتا ہے اور خون استحاضہ زرد اور سرد ہوتا ہے۔پس جب خون سیاہ ہو اور جلن کے ساتھ اچھلتے ہوئے نکلے تو وہ نمازپڑھنا چھوڑ دے ۔ راوی کہتا ہے کہ وہ عورت یہ کہتی ہوئی نکل گئی کہ : خدا کی قسم ! اگر کوئی عورت ہوتی تب بھی اس سے بہتر بیان نہ کرتی۔”(۹۶)

خون کے سیاہ ہونے سے مراد وہ سرخ خون ہے جو زیادہ سرخی کی وجہ سے سیاہ مائل ہو چکا ہو ورنہ کوئی ایسا خون نہیں ہے جو کوئلے کی طرح کالا ہو۔

۳ ۔ “غالبا ” کی قید،اس خون کو بیان کرنے سے بچنے کے لئے لائی گئی ہے جوحیض کے حکم میں تو ہے ؛ لیکن اس میں مذکورہ علامتیں نہیں پائی جاتیں ۔ مثلا وہ زرد خون جسے عورت ، اپنی عادت کے ایام میں یا عادت سے ایک دو دن پہلے دیکھتی ہے۔

۴ ۔ کثرت و قلت کے لحاظ سے حیض کی حدبندی کی دلیل: بعض روایات ہیں جن میں سے ایک ،حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سےمروی معاویہ بن عمار کی روایت ہے کہ:

أَقَلُّ مَا يَكُونُ الْحَيْضُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَ أَكْثَرُهُ مَا يَكُونُ عَشَرَةُ أَيَّامٍ .”“حیض کی کم سے کم مدت تین دن اور زیادہ سے زیادہ مدت دس دن ہے۔”(۹۷)

۵ ۔ابتدائی تین دنوں میں متواترخون دیکھنا شرط ہونا، حیض کی کم از کم مدت تین دن ہونے کا تقاضا ہے؛ کیونکہ بظاہر “ایک خون” اس مدت سے کم نہیں ہوتا ہےاور جب یہ منقطع ہوجائے گاتو “ایک خون ” شمار نہیں ہوگا؛ کیونکہ عرف میں بھی “ایک ” اس وقت کہا جاتا ہے جب متصل ہو۔

۶ ۔ تین دن متواتر ہونے میں دقیق طور پرمتواتر ہونے کو معیار بنائے بغیر عرف (جس کے تحت کچھ دیر منقطع ہوجائے تب بھی متواتر ہونا صادق آتا ہے)کو معیار بنانا ، ان الفاظ سے ان کے عرف عام میں رائج اور متداول معانی مراد لینے کا نتیجہ ہے۔

۷ ۔ خون حیض کابعد از بلوغ سے مشروط ہونے کی دلیل: عبد الرحمن بن حجاج کی صحیح روایت ہے :

سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام يَقُولُ‏: ثَلَاثٌ يَتَزَوَّجْنَ عَلَى كُلِّ حَالٍ...الی ان قال:وَ الَّتِي لَمْ تَحِضْ وَ مِثْلُهَا لَا تَحِيضُ. قُلْتُ: وَ مَتَى يَكُونُ كَذَلِكَ؟ قَالَ: مَا لَمْ تَبْلُغْ تِسْعَ سِنِين‏...”“ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تین قسم کی عورتیں (طلاق لینے کے بعد عدہ گزارے بغیر) نکاح کر سکتی ہیں۔۔۔ یہاں تک فرمایا کہ: وہ عورت جس نے ابھی تک حیض نہ دیکھا ہو اسی طرح وہ عورت جو یائسہ ہو چکی ہو۔ میں نے عرض کیا:وہ کب تک حیض نہ دیکھنے والی ہوگی؟ فرمایا: جب تک نو سال کی عمر کو نہ پہنچے۔۔۔”(۹۸)

خون حیض کا یائسگی سے پہلے آنا شرط ہونے پر بعض روایات دلالت کرتی ہیں جن کا مضمون کچھ یوں ہے:

حَدُّ الَّتِي قَدْ يَئِسَتْ مِنَ الْمَحِيضِ خَمْسُونَ سَنَةً .”“یعنی: عورت کے خون حیض سے یائسہ ہونے کی حدپچاس سال ہے۔”(۹۹)

۸ ۔ حائض کے چار اعمال (نماز ، روزہ، طواف، اعتکاف)کاصحیح نہ ہونا ،فقہاء کے موردِاتفاق ہونے کی وجہ سے واضح احکام میں سے ایک ہے اور اس پر بعض روایات دلالت کر رہی ہیں:

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی زرارہ کی صحیح روایت:

إِذَا كَانَتِ الْمَرْأَةُ طَامِثاً فَلَا تَحِلُّ لَهَا الصَّلَاة...” “جب عورت حیض کی حالت میں ہو تو اس کے لئے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔۔۔”(۱۰۰)

عمار کی موثق روایت:

سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام عَنِ الْمُسْتَحَاضَةِ، قَالَ: فَقَالَ تَصُومُ شَهْرَ رَمَضَانَ- إِلَّا الْأَيَّامَ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ فِيهَا ثُمَّ تَقْضِيهَا بَعْدُ .”“میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مستحاضہ کے بارے میں سوال کیا تو آپ ؑ نے فرمایا: وہ ماہ رمضان کے روزے رکھے گی سوائے ان ایام کے کہ جن میں حیض دیکھتی ہے ، پھر بعد میں ان کی قضا کرے گی۔”(۱۰۱)

عبد الرحمن بن ابی عبد اللہ کی موثق روایت:

سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام عَنِ الْمُسْتَحَاضَةِ أَ يَطَؤُهَا زَوْجُهَا، وَ هَلْ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ؟ قَالَ: تَقْعُدُ قُرْأَهَا الَّذِي كَانَتْ تَحِيضُ فِيهِ... الی أن قال:وَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ اسْتَحَلَّتْ بِهِ الصَّلَاةَ فَلْيَأْتِهَا زَوْجُهَا وَ لْتَطُفْ بِالْبَيْتِ .”“میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مستحاضہ کے بارے میں سوال کیا کہ کیا اس کا شوہر اس کے ساتھ جماع کرسکتا ہے اور کیا وہ بیت اللہ کا طواف کرسکتی ہے؟ تو امام ؑنے فرمایا: جن ایام میں وہ حیض دیکھتی ہے ان میں بیٹھ جائے گی (کچھ نہیں کرسکے گی) ۔۔۔یہاں تک کہ فرمایا: اور جب نماز پڑھنا اس کے لئے حلال ہوجائے تو اس کا شوہر بھی ہمبستری کرسکتا ہے اور وہ خود طواف بھی کر سکتی ہے۔”(۱۰۲)

یہ روایت اس بات کو آشکار کر رہی ہے کہ جب اس کے لئے نماز پڑھنا جائز ہو جائے تو اس کے شوہر کے لئے نزدیکی جائز ہو جائے گی اور خود اس کے لئے بیت اللہ کا طواف کرنا جائز ہو جائے گا۔

اعتکاف کے صحیح نہ ہونے کو ثابت کرنے کے لئے اس کا روزے سے مشروط ہونا ہی کافی ہے۔

۹ ۔مذکورہ اعمال کا صحیح ہونا، خون کے منقطع ہونے اور غسل کرنے سے مر وط ہونا اس وجہ سے ہے کہ خون کے منقطع ہونے سے پہلے عورت، حائض شمار ہوتی ہے اور غسل کرنے سے پہلے محدث ؛ لہذا طہارت کے ساتھ مشروط ہونے کی وجہ سے اس کے یہ اعمال صحیح نہیں ہو سکتے ۔

۱۰ ۔ نماز کی قضاءواجب نہ ہونے اورروزے کی قضاء کے واجب ہونے کی دلیل: یہ مسلم اور یقینی امور میں سے ہےاور بعض روایات بھی اس حکم پر دلالت کرتی ہیں جن میں سے ایک زرارہ کی صحیح روایت ہے:

سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ علیه السلام عَنْ قَضَاءِ الْحَائِضِ الصَّلَاةَ ثُمَّ تَقْضِي الصِّيَامَ،قَالَ: لَيْسَ عَلَيْهَا أَنْ تَقْضِيَ الصَّلَاةَ وَ عَلَيْهَا أَنْ تَقْضِيَ صَوْمَ شَهْرِ رَمَضَان‏.”“ میں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے حائض کی قضا نماز پھر اس کے روزے کی قضا کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا: اس پر نماز کی قضا واجب نہیں ؛ لیکن ماہ رمضان کے روزوں کی قضا واجب ہے۔”(۱۰۳)

۱۱ ۔ مجنب پر حرام ہونے والی چیزیں حائض پر بھی حرام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ مجنب پر حرام ہونے والی چیزوں کو بیان کرنے والی اکثر و بیشتر روایات میں حائض کا عنوان بھی ذکر کیا گیا ہے یا یہ کہ مطلَقاً محدث کے احکام کو بیان کرتے وقت حائض کا بھی ذکر کیا گیا ہے جیسے قرآن مجید کو چھونا۔

۱۲ ۔ حائض کے ساتھ جماع کرنا حرام ہونے کی دلیل،اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

( وَ يَسَْلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُواْ النِّسَاءَ فىِ الْمَحِيضِ وَ لَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتىَ‏ يَطْهُرْن ) “اور وہ آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہدیجیے: یہ ایک گندگی ہے، پس حیض کے دنوںمیں عورتوں سے کنارہ کش رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں ان کے قریب نہ جاؤ،”(۱۰۴)

اگر چہ قاعدۂ استصحاب کا تقاضا، خون منقطع ہونے کے بعد اور غسل کرنے سے پہلے ہمبستری کی حرمت کا حکم باقی رہنا ہے؛ لیکن محمد بن مسلم کی روایت صحیحہ اس کے جائز ہونے پر دلالت کر رہی ہے :

فِي الْمَرْأَةِ يَنْقَطِعُ عَنْهَا الدَّمُ دَمُ الْحَيْضِ فِي آخِرِ أَيَّامِهَا. قَالَ: إِذَا أَصَابَ زَوْجَهَا شَبَقٌ‏ فَلْيَأْمُرْهَا فَلْتَغْسِلْ فَرْجَهَا ثُمَّ يَمَسُّهَا إِنْ شَاءَ قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ .”“(سوال کیا گیا )ایسی عورت کے بارے میں جس کا خون حیض ، (عادت کے) آخری ایام میں منقطع ہوجاتا ہے۔ امام ؑ نے فرمایا: جب یہ معلوم ہو جائے کہ اس کا شوہر اس کی طرف راغب ہوگیا ہے ،اگر وہ غسل سے پہلے نزدیکی کرنا چاہے تو عورت اپنی شرمگاہ کو دھولے پھر نزدیکی کرے۔”(۱۰۵)

لیکن جو روایات ، غسل سے پہلے نزدیکی کرنے سے منع کرتی ہیں جیسے “لا، حتی تغتسل ”، “(نزدیکی )نہیں (کر سکتا) جب تک غسل نہ کرے”(۱۰۶) انہیں قاعدۂ “لزوم التصرف فی الظاهر بقرینة الصریح ” کے مطابق کراہت پر محمول کریں گے ۔ یعنی ایک روایت کی صراحت کے قرینے کی وجہ سے دوسری روایت کے ظاہر کو کسی اور معنی میں پھیردیں گے ۔کیونکہ روایات کے ایک گروہ کو عرف دوسرے گروہ کی تاویل میں لے جاتا ہے اور دوسرے گروہ کو پہلےگروہ میں تصرف کرنے پر قرینہ سمجھتا ہے۔

۱۳ ۔ غسل حیض کا طریقہ غسل جنابت کی مانند ہونے کی وجہ،غسل جنابت کے مذکورہ طریقے کے علاوہ غسل حیض کا کوئی خاص طریقہ بیان نہ کیا جانا ہے جو ان دونوں کاطریقہ ایک ہونے کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے؛ کیونکہ اگر کوئی دوسرا طریقہ ہوتا تو ، کثرت سے درپیش مسئلہ ہونے کی وجہ سے اس کو بیان کرنا چاہئےتھا۔

اس کے علاوہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی حلبی کی موثق روایت میں بھی کہا گیا ہے کہ :

غُسْلُ الْجَنَابَةِ وَ الْحَيْضِ وَاحِدٌ .” “غسل جنابت اور غسل حیض (کا طریقہ) ایک ( جیسا) ہے۔”(۱۰۷)

استحاضہ کے احکام

استحاضہ کی تعریف اور اس کے کچھ احکام:

استحاضہ وہ خون ہے جوزچگی اور ماہانہ عادت کے اوقات کے علاوہ دوسرے دنوں میں عورت سے خارج ہوتا ہےاور یہ کسی زخم یا بکارت (کنوارپن) کا خون بھی نہیں ہے۔

یہ خون غالبا ً زرد، سرد اور پتلا ہوتا ہے جس میں حیض کے برعکس جلن نہیں ہوتی۔

اس کی کثرت و قلت کی کوئی حدنہیں ہے اور دو استحاضہ کے درمیان، طہارت کی حد اقل مدت( ۱۰ دن) کا فاصلہ بھی ضروری نہیں ہے۔

استحاضہ کی اقسام:

خون استحاضہ کی تین قسمیں ہیں:

۱ ۔ قلیلہ : جو روئی کے اندر سرایت نہ کرے؛

۲ ۔ متوسطہ: جو روئی کے اندر سرایت کر جائے ؛ لیکن نہ بہے؛

۳ ۔ کثیرہ: جو روئی کو تر کر کے بہہ جائے۔

مشہور کے مطابق قلیلہ کا حکم یہ ہے کہ اس پر ہر نماز کے لئے روئی کو بدلتے ہوئے یا اسے دھوتے ہوئے وضو کرنا واجب ہے۔

متوسطہ پر قلیلہ میں مذکور حکم کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ روزانہ ایک مرتبہ غسل بھی کرے۔ معروف یہ ہے کہ یہ غسل نماز صبح سے پہلے ہو۔

کثیرہ پر گزشتہ حکم کے ساتھ ساتھ تین مرتبہ غسل کرنا ضروری ہے: ایک غسل نماز صبح کے لئے ، ایک ظہرین کے لئے اور ایک مغربین کے لئے۔ استحاضہ کثیرہ میں بعض فقہاء اس بات کے قائل ہیں کہ ( غسل کے بعد ) وضو کرنا ضروری نہیں۔

دلائل:

۱ ۔ استحاضہ کو مذکورہ چیزوں میں محدود کرنا،واضح اور وجدانی امور میں سے ہے۔

۲ ۔ استحاضہ کے مذکورہ صفات کے حامل ہونے پر حفص ابن بختری کی صحیح روایت (جس کی طرف احکام حیض میں اشارہ ہو چکاہے) اور بعض دوسری روایات دلالت کرتی ہیں۔

۳ ۔ قلت و کثرت کے لحاظ سے استحاضہ کی کوئی حد نہ ہونے کا حکم روایات کے اطلاق کی وجہ سے لگایا جاتاہے۔

۴ ۔ دو استحاضہ کے درمیان طہارت کی حد اقل مدت کا فاصلہ ضروری نہ ہونےکاحکم بھی روایات کے اطلاق کی وجہ سے لگایا جاتا ہے۔(مثلا کسی روایت میں نہیں کہا گیا ہے کہ دو استحاضہ کے درمیان عورت دس دن پاک رہے۔)

۵ ۔ استحاضہ کے مذکورہ تین قسموں میں تقسیم ہونے کاحکم مندرجہ ذیل دو روایتوں کو باہم ملاتے ہوئے ثابت کیا جاتا ہے۔

۱ ۔حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی معاویہ بن عمار کی روایت صحیحہ:

الْمُسْتَحَاضَةُ تَنْظُرُ أَيَّامَهَا...وَ إِنْ كَانَ الدَّمُ لَا يَثْقُبُ الْكُرْسُفَ تَوَضَّأَتْ وَ دَخَلَتِ الْمَسْجِدَ وَ صَلَّتْ كُلَّ صَلَاةٍ بِوُضُوء.” “مستحاضہ اپنے ایام عادت کی طرف توجہ دے گی۔۔۔ اگر اس کا خون روئی کے اندر سرایت نہ کرے تو وضو کرے گی اور مسجد میں داخل ہوگی اور ہر نماز کے لئے وضو کر کے نماز پڑھے گی۔”(۱۰۸)

۲ ۔زرارہ کی روایت صحیحہ:

“...فَإِنْ جَازَ الدَّمُ الْكُرْسُفَ تَعَصَّبَتْ وَ اغْتَسَلَتْ ثُمَّ صَلَّتِ الْغَدَاةَ بِغُسْلٍ، وَالظُّهْرَ وَالْعَصْرَ بِغُسْلٍ وَ الْمَغْرِبَ وَ الْعِشَاءَ بِغُسْلٍ. وَإِنْ لَمْ يَجُزِ الدَّمُ الْكُرْسُفَ صَلَّتْ بِغُسْلٍ وَاحِد .”“۔۔۔اگر خون روئی کو تر کرکے باہر نکلے تو وہ نماز صبح کو ایک غسل کے ساتھ ، ظہرین کو ایک غسل کے ساتھ اور مغربین کو ایک غسل کے ساتھ پڑھے گی اور اگر خون روئی سے باہر نہ نکلے تو پورے دن کی نمازوں کے لئے ایک غسل کرے گی۔”(۱۰۹)

۶ ۔ قلیلہ والی عورت پر ہر نماز کے لئے وضو کے واجب ہونے کاحکم ،معاویہ بن عمار کی گزشتہ صحیح روایت کی وجہ سے لگایا جاتاہے۔

۷ ۔ اس پر روئی کا بدلنا یا دھونا ضروری ہونے کا حکم عبد الرحمن بن ابی عبد اللہ کی موثق روایت سے لیاجا سکتا ہے جو متوسطہ کے بارے میں ہے:

سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام عَنِ الْمُسْتَحَاضَةِ...فَإِنْ ظَهَرَ عَنِ الْكُرْسُفِ فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ تَضَعُ كُرْسُفاً آخَر .”“میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مستحاضہ کے بارے میں سوال کیا۔۔۔۔ اگر خون روئی پر نمایاں ہو جائے تو غسل کرے اور کوئی دوسری روئی استعمال کرے۔”(۱۱۰)

اس روایت کے ساتھ یہ بات بھی پیش نظر رکھتے ہوئے کہ ( روئی کو تبدیل کرنے یا دھونے کے لحاظ سے) قلیلہ اور متوسطہ کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے یا ان روایات سے استفادہ کرتے ہوئے جو نجاست کے ساتھ خصوصا دمائے ثلاثہ (حیض ، نفاس اور استحاضہ کا خون)کے ساتھ نماز پڑھنے سے منع کرتی ہیں۔

پھر یہ کہ روئی کو تبدیل کرنا حصول طہارت کی خاطر ضروری ہے تو تبدیل کرنے کے بجائے روئی کو دھولینا بھی کافی ہے۔

۸ ۔ متوسطہ پر صبح کی نماز سے پہلے غسل اور ہر نماز کے لئے وضو ضروری ہونے کی دلیل سماعہ کی موثق روایت ہے :

الْمُسْتَحَاضَةُ إِذَا ثَقَبَ الدَّمُ الْكُرْسُفَ اغْتَسَلَتْ لِكُلِّ صَلَاتَيْنِ وَ لِلْفَجْرِ غُسْلًا، وَ إِنْ لَمْ يَجُزِ الدَّمُ الْكُرْسُفَ فَعَلَيْهَا الْغُسْلُ لِكُلِّ يَوْمٍ مَرَّةً وَ الْوُضُوءُ لِكُلِّ صَلَاةٍ...”“ مستحاضہ کا خون اگر روئی سے تجاوز کرجائے تووہ ہر دو نمازوں کے لئے ایک غسل اور صبح کی نماز کے لئے ایک غسل کرے گی اور اگر روئی سے تجاوز نہ کرے تو اس پر ہر روز کے لئے ایک غسل اور ہر نماز کے لئے وضو کرنا ضروری ہے۔”(۱۱۱)

چونکہ غسل ،واجب نفسی نہیں ہے؛ بلکہ نماز کی وجہ سے واجب ہوجاتا ہے ؛ لہذا مناسب یہ ہے کہ صبح کی نماز سے پہلے انجام پائے جو ہر دن کی پہلی نماز ہے۔

۹ ۔ کثیرہ پر تین غسلوں کے واجب ہونے کی دلیل ،سماعہ کی گزشتہ موثق روایت اور بعض دوسری روایات ہیں۔

یہ روایت واضح طور پر دلالت کر رہی ہے کہ کثیرہ پر ہر نماز کے لئے وضو کرنا واجب نہیں ہے۔ اگر دلالت نہیں کر رہی تو کم از کم وضو کا حکم بیان کرنے کے لحاظ سے اجمال پایا جاتا ہے جو اصالۂ برائت جاری ہونے کے لئے کافی ہے۔(۱۱۲)

اگر یہ کہا جائے کہ متوسطہ پر ہر نماز کے لئے وضو کا واجب ہونا ،کثیرہ پربطریق اولیٰ واجب ہونے پر دلالت کرتا ہے۔

تو اس کا جواب یہ ہے کہ غسل کی تکرار، وضو کے قائم مقام ہونے کا احتمال ہے؛ لہذا کوئی اولویت نہیں پائی جاتی اور بطریق اولیٰ کہنا صحیح نہیں ہے۔

۱۰ ۔ روئی کا بدلنا یا دھوناضروری ہونا، اسی دلیل کی وجہ سے ہے جو متوسطہ میں بیان ہوئی ہے ۔ اسی طرح جب متوسطہ میں روئی کا دھونا یا اسے تبدیل کرنا ضروری ہے تو کثیرہ میں بطریق اولیٰ ضروری ہے۔

نفاس کے احکام

نفاس کی تعریف اور اس کے کچھ مخصوص احکام:

نفاس وہ خون ہے جو زچگی کے ساتھ یا اس کے بعد عورت (کے مخصوص مقام ) سے نکلتا ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ مدت دس دن تک ہے اور کم سے کم مدت کی کوئی حد نہیں۔

جب یہ خون دس دن سے تجاوز نہ کر جائے تو پورے کا پورا نفاس ہے؛ لیکن اگر دس دن سے گزر جائے تو جو حیض کی عادت کی مقدار کے برابر ہو وہ نفاس ہے اور جو اس سے زائد ہے وہ استحاضہ ہے۔

نفساء (نفاس والی عورت)نماز اور روزہ چھوڑ دے گی در حالیکہ روزے کی قضا کرے گی۔

اس کے ساتھ وطی کرنا حرام ہے اور اسے طلاق دینا صحیح نہیں ہے۔

جب خون منقطع ہوجائے تو اس پر غسل جنابت کے طریقے کے مطابق غسل کرنا واجب ہے۔

دلائل:

۱ ۔ نفاس کی مذکورہ تعریف (زچگی کے ساتھ یا اس کے بعد نکلنے والا خون)، ان فقہاء کے نظرئیے کے خلاف ہے جس کے مطابق زچگی سے پہلے نکلنے والا خون بھی نفاس ہے یا صرف زچگی کے بعد نکلنے والا خون نفاس ہے۔ہمارے مورد نظر قول پربعض روایات دلالت کرتی ہیں جن میں سے ایک حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی عمار کی موثق روایت ہے:

فِي الْمَرْأَةِ يُصِيبُهَا الطَّلْقُ أَيَّاماً (أَوْ يَوْماً) أَوْ يَوْمَيْنِ فَتَرَى الصُّفْرَةَ أَوْ دَماً. قَالَ: تُصَلِّي مَا لَمْ تَلِد ...” “ایسی عورت کے بارے میں، جو ایک دن یا کئی دنوں تک دردِ زہ میں مبتلا رہتی ہے اور وہ زرد رنگ کا یا مطلَقاً خون دیکھتی ہے، امام ؑ نے فرمایا: جب تک زچگی نہ ہوجائے وہ نماز پڑھے گی۔۔۔”(۱۱۳)

۲ ۔ نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت ، مشہور کے مطابق ، دس دن تک ہےنہ کہ سید مرتضیٰ ؒ(۱۱۴) کے نظرئیے کے مطابق اٹھارہ دن تک۔یہ حکم قاعدے کا تقاضا ہے۔

اس وضاحت کے ساتھ کہ مقدار کی کمی اور زیادتی کے اعتبار سے روایات کے باہمی ٹکراؤ(۱۱۵) کی وجہ سے ہمارا موضوع بحث مخصص کی نسبت سے بحث صغروی ہے ؛ لہذا اس جیسے موارد میں ان دلائل کے عموم سے تمسک کیا جاتا ہے جو قدر متیقن سے زائد مقدار میں مکلف پر نماز اور روزہ کے واجب ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔

۳ ۔ کم سے کم مدت کی کوئی حد نہ ہونا ،روایات کے اطلاق کی وجہ سے ہے۔

۴ ۔ اس بات کی دلیل کہ دس دن سے نہ گزرے تو پورے کا پورا خون ، نفاس ہے لیکن دس دن سے گزرنے کی صورت میں صرف ایام عادت کی مقدار ہی نفاس ہے۔حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے زرارہ کی نقل کردہ صحیح روایت ہے:

قُلْتُ لَهُ:النُّفَسَاءُ مَتَى تُصَلِّي؟ قَالَ: تَقْعُدُ قَدْرَ حَيْضِهَا وَ تَسْتَظْهِرُ بِيَوْمَيْنِ فَإِنِ انْقَطَعَ الدَّمُ وَ إِلَّا اغْتَسَلَتْ وَ احْتَشَتْ وَ اسْتَثْفَرَتْ وَ صَلَّت .”“میں نے امام ؑ سے عرض کیا کہ نفساء کب نماز پڑھے گی؟ فرمایا: وہ اپنے ایام حیض کی مقدار صبر کرے گی اور دو دن تک تحقیق کرے گی پھر اگر خون رک جائے (توغسل کرکے پاک کہلائے گی) ورنہ غسل کرے گی اور روئی رکھتے ہوئے کپڑا باندھ کر نماز پڑھے گی۔”(۱۱۶)

اس عورت کا دو دن تحقیق کرنا خون کی صورتحال کو سمجھنے کے لئے ہے کہ وہ دس دن سے گزر جائے گا یا نہیں؟ اگر دس دن سے گزر جائے تو وہ ایام عادت کی مقدار کے برابر کو نفاس سمجھے گی اور اگر دس دن سے گزر نہ جائے تو تمام کے تمام کو نفاس کو قرار دے گی۔

۵ ۔ نفساء کے ساتھ جماع کرنا حرام ہونے پر مالک بن اعین کی موثق روایت دلالت کررہی ہے:

سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ علیه السلام عَنِ النُّفَسَاءِ يَغْشَاهَا زَوْجُهَا وَ هِيَ فِي نِفَاسِهَا مِنَ الدَّمِ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِذَا مَضَى لَهَا مُنْذُ يَوْمَ وَضَعَتْ بِقَدْرِ أَيَّامِ عِدَّةِ حَيْضِهَا ثُمَّ تَسْتَظْهِرُ بِيَوْمٍ، فَلَا بَأْسَ بَعْدُ أَنْ يَغْشَاهَا زَوْجُهَا يَأْمُرُهَا فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ يَغْشَاهَا إِنْ أَحَبَّ .”“میں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے اس عورت کے بارے سوال کیا جس کا شوہر اس کے ساتھ جماع کرنا چاہتا ہے حالانکہ وہ نفاس کی حالت میں ہے؟ فرمایا: ہاں ! جب زچگی کے بعد اس کے ایام عادت کی مقدار گزر جائے تو وہ ایک دن تحقیق کرے گی پھر اس کا شوہر جماع کرے تو کوئی حرج نہیں کہ وہ اپنی بیوی کو غسل کرنے کا حکم دے پھر اگر چاہے تو جماع کر سکتا ہے۔”(۱۱۷)

یہ روایت اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ حیض کے خلاف نفاس میں وطی جائز ہونے کے لئے صرف خون کا منقطع ہونا کافی نہیں ہے۔علاوہ بر ایں یہ بھی کہاجاتا ہے کہ “استصحاب حرمت ” کا تقاضا بھی حرام ہونا ہے۔

۶ ۔ نفساء کو دی جانے والی طلاق کے صحیح نہ ہونے پر حضرت امام محمد باقر اور جعفر صادق علیہما السلام سے نقل کردہ زرارہ کی صحیح روایت دلالت کر رہی ہے:

إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ فِي دَمِ النِّفَاسِ أَوْ طَلَّقَهَا بَعْدَ مَا يَمَسُّهَا فَلَيْسَ طَلَاقُهُ إِيَّاهَا بِطَلَاقٍ .”“اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو نفاس کی حالت میں یا اس کے ساتھ ہمبستری کرنے کے بعد طلاق دے تو بیوی کی نسبت اس کی یہ طلاق ، طلاق نہیں ہے۔”(۱۱۸)

۷ ۔ غسل نفاس کا طریقہ بھی غسل جنابت کی مانند ہونے پر،وہی دلیل دلالت کرتی ہے جو غسل حیض کے بارے میں گزر گئی ہے۔

۸ ۔نفساء پر نماز اور روزہ دونوں کا ترک کرنا واجب ، جبکہ صرف روزے کی قضا کرنا ضروری ہونے پر مندرجہ ذیل روایات دلالت کرتی ہیں:

الف) حضرت امام رضا علیہ السلام سےمروی عبد الرحمن بن حجاج کی روایت:

سَأَلْتُهُ عَنِ النُّفَسَاءِ تَضَعُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ، أَ تُتِمُّ ذَلِكَ الْيَوْمَ أَمْ تُفْطِرُ؟ فَقَالَ: تُفْطِرُ ثُمَّ لْتَقْضِ ذَلِكَ الْيَوْمَ .”“میں نے امام ؑ سے اس نفساء کے بارے میں، جو ماہ رمضان میں ، نماز عصر کے بعد زچہ رانی بن جائے ، سوال کیا کہ وہ اسی دن کا روزہ تمام کرے گی یا افطار کرے گی؟ فرمایا: افطار کرے گی پھر اسی دن کی قضا کرے گی۔”(۱۱۹)

ب) حضرت امام محمد باقر یا جعفر صادق علیہماالسلام سے نقل کردہ زرارہ کی روایت:

النُّفَسَاءُ تَكُفُّ عَنِ الصَّلَاةِ أَيَّامَهَا الَّتِي كَانَتْ تَمْكُثُ‏ فِيهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَ تَعْمَلُ‏ كَمَا تَعْمَلُ الْمُسْتَحَاضَةُ .”“نفساء جن ایام میں(حیض کی وجہ سے )ٹھہر جایا کرتی تھی ان میں نماز سے اجتناب کرے گی پھر غسل کرکے اس وظیفے پر عمل کرے گی جس پرمستحاضہ عمل کرتی ہے۔”(۱۲۰)

تو حید ذات و صفات:

یعنی خدا کے صفات ذاتی ہیں، جیسے حیات، علم، قدرت عین ذات ہیں، و گرنہ ذات و صفت جدا جدا ہونا تجزیہ و ترکیب کا باعث ہوگا، وہ جو اجزاء سے مرّکب ہوگا وہ جو اجزاء سے مرکب ہو وہ اپنے اجزا کا محتاج ہوگا، (اور محتاج خدا نہیں ہوسکتا)

اسی طرح اگر صفات کو ذات سے جدا مان لیں تو لازم یہ آتا ہے وہ مرتبہ ذات میں فاقد صفات کمال ہو، اور اس کی ذات ان صفات کے امکان کی جہت پائی جائے، بلکہ خود ذات کا ممکن ہونا لازم آئے گا، کیونکہ جو ذات صفات کمال سے خالی ہو اور امکان صفات کی حامل ہو وہ ایسی ذات کی محتاج ہے جو غنی بالذات ہو۔

حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں: خدا کی سب سے پهلی عبادت اس کی معرفت حاصل کرنا ہے۔اور اصل معرفت خدا کی وحدانیت کا اقرار ہے، اور نظام توحید یہ ہے کہ اس کی صفات سے صفات کی نفی و انکار کرنا ہے،

(زائد بر ذات) اس لئے کہ عقل گواہی دیتی ہے کہ ہر صفت اور موصوف مخلوق ہوتے ہیں، اور ہر مخلوق کا وجود اس بات پر گواہ ہے کہ اس کا کوئی خالق ہے، جو نہ صفت ہے اور نہ موصوف۔ (بحار الانوار، ج ۵۴ ، ص ۴۳)

توحید در الوہیت:

( وَإِلَهُکُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لاَإِلَهَ إِلاَّ هو الرَّحْمَانُ الرَّحِیمُ ) (سورہ بقرہ، آیت ۱۶۳)

”تمهارا خدا خدائے واحد ہے کوئی خدا نہیں جز اس کے جو رحمن و رحیم ہے“۔

توحید در ربوبیت:

خداوندعالم کا ارشاد ہے:

( قُلْ ا غََٔيْرَ اللهِ ا بَْٔغِی رَبًّا وَهُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْءٍ ) (سورہ انعام، آیت ۱۶۴)

”کہو کیا الله کے علاوہ کسی دوسرے کو رب بنائیں حالانکہ کہ وہ ہر چیز کا پروردگار ہے“۔

( ا ا رَْٔبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ ا مَْٔ اللهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ) (سورہ یوسف، آیت ۳۹)

”آیا متفرق و جدا جدا ربّ کا ہونا بہتر ہے یا الله سبحانہ کا جو واحد اور قهار ہے“۔

توحید در خلق:

( قُلْ اللهُ خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ) (سورہ رعد، آیت ۱۶)

”کہہ دیجئے کہ الله ہر چیز کا خالق ہے اور وہ یکتاقهار ہے“۔

( وَالَّذِینَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ لاَيَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ ) (سورہ نحل، آیت ۲۰)

”اور وہ لوگ جن کو خدا کے علاوہ پکارا جاتا ہے وہ کسی کو خلق نہیں کرتے بلکہ وہ خلق کئے جاتے ہیں“۔

توحید در عبادت:

یعنی عبادت صرف اسی کی ذات کے لئے منحصر ہے۔

( قُلْ ا تََٔعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ مَا لاَيَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا وَلاَنَفْعًا ) (سورہ مائدہ، آیت ۷۶ ۔)”کہ کیا تم خدا کے علاوہ ان کی عبادت کرتے ہو جو تمهارے لئے نہ نفع رکھتے ہیں نہ نقصان ؟)

توحید در ا مٔر وحکم خدا:

( ا لَٔاَلَهُ الْخَلْقُ وَالْا مَْٔرُ تَبَارَکَ اللهُ رَبُّ الْعَالَمِینَ ) (سورہ اعراف ، آیت ۵۴ ۔)

”آگاہ ہو جاو صرف خدا کے لئے حکم کرنے و خلق کرنے کا حق ہے بالا مرتبہ ہے خدا کی ذات جو عالمین کا رب ہے“۔

( إِنْ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلَّه ) (سورہ یوسف، آیت ۱۰ ۔)”کوئی حکم نہیں مگر خدا کا حکم“۔

توحید در خوف وخشیت:

(یعنی صرف خدا سے ڈرنا)

( فَلاَتَخَافُوهُمْ وَخَافُونِی إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِینَ ) (سورہ آ ل عمران، آیت ۱۷۵ ۔)”پس ان سے نہ ڈرو اگر صاحبان ایمان ہو تو مجه سے ڈرو“۔

اس سے متعلق بعض دلائل کی طرف اشارہ کرتے ہیں :

۱۔تعدد الٰہ سے خداوند متعال میں اشتراک ضروری قرار پاتا ہے اس لئے کہ دونوں خدا ہیں، اور اسی طرح دونوں میں نقطہ امتیاز کی ضرورت پیش آتی ہے تاکہ دوگانگی تحقق پیدا کرے اور وہ مرکب جو بعض نکات اشتراک اور بعض نکات امتیاز سے مل کر بنا ہو، ممکن ومحتاج ہے۔

۲۔تعدد الہ کا کسی نقطہ امتیاز کے بغیر ہونا محال ہے اور امتیاز، فقدانِ کمال کا سبب ہے۔ فاقد کمال محتاج ہوتا ہے اور سلسلہ احتیاج کا ایک ایسے نکتے پر جاکر ختم ہونا ضروری ہے جو ہر اعتبار سے غنی بالذات ہو، ورنہ محال ہے کہ جو خود وجود کا محتاج وضرور ت مند ہو کسی دوسرے کو وجود عطا کرسکے۔

۳۔خدا ایسا موجود ہے جس کے لئے کسی قسم کی کوئی حد مقرر نہیں کیونکہ ہر محدود، دو چیزوں سے مل کر بنا ہے ، ایک اس کا وجوداور دوسرے اس کے وجود کی حد اور کسی بھی وجود کی حد اس وجود میں فقدان اور اس کے منزلِ کمال تک نہ پہچنے کی دلیل ہے اور یہ ترکیب، اقسامِ ترکیب کی بد ترین قسم ہے، کیونکہ ترکیب کی باقی اقسام میں یا تو دو وجودوں کے درمیان ترکیب ہے یا بود ونمود کے درمیان ترکیب ہے، جب کہ ترکیب کی اس قسم میں بود ونبود کے درمیان ترکیب ہے!! جب کہ خد ا کے حق میں ہر قسم کی ترکیب محال ہے۔وہ ایسا واحد وجود ہے جس کے لئے کسی ثانی کا تصور نہیں،

( فَلاَتَخْشَوْا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ ) (سورہ مائدہ، آیت ۴۴ ۔)”لوگوں سے مٹ ڈرو مجه سے ڈرو(خشیت خدا حاصل کرو“۔

توحید در مُلک:

(یعنی کائنات میں صرف اس کی حکومت ہے)

( وَقُلْ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَکُنْ لَهُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ ) (سورہ اسراء ، آیت ۱۱۱ ۔)”کہو ساری تعریفیں ہیں اس خدا کی جس کا کوئی فرزند نہیں اور ملک میں اس کا کوئی شریک نہیں“۔

توحید در ملک نفع وضرر:

یعنی نفع و نقصان کا مالک وہ ہے)

( قُلْ لاَا مَْٔلِکُ لِنَفْسِی نَفْعًا وَلاَضَرًّا إِلاَّ مَا شَاءَ اللهُ ) (سورہ اعراف، آیت ۱۸۸ ۔)”کہو بس اپنے نفع و نقصان کا بھی مالک نہیں ہوں مگر وہ جو الله سبحانہ چاہے“۔

( قُلْ فَمَنْ يَمْلِکُ لَکُمْ مِنْ اللهِ شَيْئًا إِنْ ا رََٔادَ بِکُمْ ضَرًّا ا ؤَْ ا رََٔادَ بِکُمْ نَفْعًا ) (سورہ فتح، آیت ۱۱ ۔)”کہو بس کون ہے تمهارے لئے خدا کے مقابل میں کوئی دوسرا اگر وہ تمهارے لئے نفع و نقصان کا ارادہ کرے“۔

توحید در رزق:

(رزاق صرف خدا ہے)

( قُلْ مَنْ يَرْزُقُکُمْ مِنْ السَّمَاوَاتِ وَالْا رَْٔضِ قُلْ اللهُ ) (سورہ سباء، آیت ۲ ۴ ۔)”کہو کون ہے جو زمین وآسمان سے تم کو روزی عطاء کرتا ہے کہوخدائے متعال)

( ا مََّٔنْ هَذَا الَّذِی يَرْزُقُکُمْ إِنْ ا مَْٔسَکَ رِزْقَهُ ) (سورہ ملک ، آیت ۲۱ ۔)”آیا کون ہے تم کو روزی دینے والا اگر وہ تمهارے رزق کو روک لے“۔

توحید در توکل:

(بهروسہ صرف خدا کی ذات پر)

( وَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ وَکَفَی بِاللهِ وَکِیلاً ) (سورہ احزاب، آیت ۳۔)”اور الله پر بهروسہ کرو اس کو وکیل بنانا دوسرے سے بے نیاز کردیتا ہے“۔

( اللهُ لاَإِلَهَ إِلاَّ هو وَعَلَی اللهِ فَلْيَتَوَکَّلْ الْمُؤْمِنُونَ ) (سورہ ،تغابن آیت ۱۳ ۔)”کوئی خدا نہیں سوائے الله سبحانہ تعالیٰ کے بس مومنوں کو چاہئے خدا پر توکل کریں“۔

توحید در عمل:

(عمل صرف خدا کے لئے)

( وَمَا لِا حََٔدٍ عِنْدَهُ مِنْ نِعْمَةٍ تُجْزَی ز إِلاَّ ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْا عَْٔلَی ) (سورہ لیل، آیت ۔ ۲۰ ۔ ۱۹ ۔)”اور لطف الٰهی یہ ہے کہ)کسی کا اس پر احسان نہیں جس کا اسے بدلہ دیا جاتا ہے بلکہ (وہ تو)صرف اپنے عالیشان پروردگار کی خوشنودی حاصل کر نے کے لئے (دیتاہے)

توحید در توجہ :

(انسان کی توجہ صرف خدا کی طرف ہونی چاہئے)

( إِنِّی وَجَّهْتُ وَجْهِی لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْا رَْٔضَ ) (سورہ انعام، آیت ۷۹ ۔)”بے شک میں نے اپنے رخ اس کی طرف

موڑ لیا جس نے زمین وآسمان کو خلق کیا“۔

یہ ان لوگوں کا مقام ہے جو اس راز کو سمجه چکے ہیں کہ دنیا و مافیها سبکچھ هلاک ہوجائے گا۔

( کُلُّ شَیْءٍ هَالِکٌ إِلاَّ وَجْهَهُ ) (سورہ قصص، آیت ۸۸ ۔)(کائنات میں)هر چیز هلا ک ہو جائے گی جز اس ذات والاکے“( کُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ ز وَيَبْقَی وَجْهُ رَبِّکَ ذُو الْجَلاَلِ وَالْإِکْرَامِ ) (سورہ رحمن، آیت ۲۷ ۔ ۲ ۶ ۔)”هر وہ چیز جو روئے زمین پر ہے سبکچھ فنا ہونے والی ہے اور باقی رہنے والی (صرف)تیرے پروردگار کی ذات ہے جو صاحب جلالت وکرامت ہے“۔

فطرت میں جو توحید خدا پنهاں ہے اس کی طرف توجہ سے انسان کے ارادہ میں توحید جلوہ نمائی کرتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ( وَعَنَتْ الْوُجُوهُ لِلْحَیِّ الْقَيُّومِ ) (سورہ طہ، آیت ۱۱۱)”اور ساری خدائی کے منه زندہ وپائندہ خدا کے سامنے جهک جائیں گے“۔ (فطرت توحیدی کی طرف توجہ انسان کے ارادہ کو توحید کا جلوہ بنا دیتی ہے)

کیونکہ ثانی کا تصور اس کے لئے محدودیت اور متناہی ہونے کا حکم رکھتا ہے، لہٰذا وہ ایسا یکتاہے کہ جس کے لئے کوئی ثانی نہ قابل تحقق ہے اور نہ ہی قابل تصور۔

۴ ۔ کائنات کے ہر جزء وکل میں وحدتِ نظم برقرار ہونے سے وحدت ناظم ثابت ہو جاتی ہے،

کیونکہ جزئیاتِ انواع کائنات میں موجود تمام اجزاء کے ہر هر جزء میںموجود نظم وترکیب اور پوری کائنات کے آپس کے ارتباط کے تفصیلی مطالعے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جزء و کل سب ایک ہی علیم ،قدیر اورحکیم خالق کی مخلوق ہیں۔ جیسا کہ ایک درخت کے اجزاء کی ترکیب، ایک حیوان کے اعضاء و قوتوں کی ترکیب اور ان کا ایک دوسرے نیز چاند اور سورج سے ارتباط، اسی طرح منظومہ شمسی کا دوسرے منظومات اور کہکشاؤں سے ارتباط، ان سب کے خالق کی وحدانیت کامنہ بولتا ثبوت ہیں۔ایٹم کے مرکزی حصے اور اس کے مدار کے گردگردش کرنے والے اجزاء سے لے کر سورج و منظومہ شمسی کے سیارات اور کہکشاؤں تک، سب اس بات کی علامت ہیں کہ ایٹم،سورج اور کہکشاو ںٔ

کا خالق ایک ہی ہے( و هُوْ الَّذِی فِی السَّمَاءِ ا لِٰٔهٌ وَّ فِی اْلا رَْٔضِ إِلٰهٌ وَّ هُوَ الْحَکِيْمُ الْعَلِيْم ) (۱) ( يَا ا ئَُّهَا النَّاس اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُمْ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَةالَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ اْلا رَْٔضَ فِرَاشًا وَّالسَّمَاءَ بِنَاءً وَّ ا نَْٔزَلَ مِن السَّمَاءِ مَاءً فَا خَْٔرَجَ بِه مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقاً لَّکُمْ فَلاَ تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ ا نَْٔدَادًا وَّ ا نَْٔتُمْ تَعْلَمُوْنَ ) (۲)

۵ ۔چھٹے امام (ع) سے سوال کیا گیا: صانع وخالقِ کائنات کا ایک سے زیادہ ہونا کیوں ممکن نہیں ہے ؟ آپ (ع) نے فرمایا : اگر دعوٰی کرو کہ دو ہیں تو ان کے درمیان شگاف کا ہونا ضروری ہے تاکہ دو بن سکیں، پس یہ شگاف تیسرا ہوا اور اگر تین ہو گئے تو پھر ان کے درمیان دو شگافوں کا ہونا ضروری ہے تاکہ تین محقق ہوسکیں،بس یہ تین پانچ ہوجائیں گے او راس طرح عدد بے نهایت اعداد تک بڑهتا چلا جائے گا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اگر خدا ایک سے زیادہ ہوئے تو اعداد میں خداؤں کی نا متناہی تعداد کا ہونا ضروری ہے۔(۳)

۶ ۔امیر المو مٔنین (ع) نے اپنے فرزند امام حسن (ع) سے فرمایا:((واعلم یابنی ا نٔه لو کان لربک شریک لا تٔتک رسله ولرا ئت آثار ملکه وسلطانه ولعرفت ا فٔعاله وصفاته ))(۴)

اور وحدانیت پروردگارپر ایمان کا نتیجہ، عبادت میں توحیدِ ہے کہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، چونکہ اس کے علاوہ سب عبد اور بندے ہیں( إِنْ کُلُّ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَاْلا رَْٔضِ إِلاَّ آتِی الرَّحْمٰن عَبْداً ) (۵) غیر خد اکی عبودیت وعبادت کرنا ذلیل سے ذلت اٹهانا،فقیر سے بھیک مانگنا بلکہ ذلت سے ذلت اٹهانا اور گداگر سے گداگری کرناہے( يَا ا ئََُهَا النَّاسُ ا نَْٔتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلیَ اللّٰهِ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِيْدُ ) (۶)

وحدانیت خداوندمتعال پر ایمان،اور یہ کہ جوکچھ ہے اسی سے اور اسی کی وجہ سے ہے اور سب کو اسی کی طرف پلٹنا ہے، کو تین جملوں میں خلاصہ کیا جاسکتا ہے ((لا إله إلا اللّٰه))،((لا حول ولا قوة إلا باللّٰه ))،( وَ إِلَی اللّٰهِ تُرْجَعُ اْلا مُُٔوْرُ ) (۷)

سعادت مند وہ ہے جس کی زبان پر یہ تین مقدّس جملے ہر وقت جاری رہیں، انهی تین جملات کے ساته جاگے،سوئے،زندگی بسر کرے، مرے اور یهاں تک کہ( إِنَّا لِلّٰهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ ) (۸) کی حقیقت کو پالے۔

____________________

۱ سورہ زخرف، آیت ۸۴ ۔”اور وہی وہ ہے جو آسمان میں بھی خد اہے اور زمین میں بھی خدا ہے اور وہ صاحب حکمت بھی ہے“۔

۲ سورہ بقرہ، آیت ۲۱ ۔ ۲۲ ۔”اے انسانو!پروردگار کی عبادت کرو جس نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے اور تم سے پهلے والوں کو بھی خلق کیا ہے شاید کہ تم اسی طرح متقی اور پرہیزگار بن جاو ۔ٔاس پروردگار نے تمهارے لئے زمین کا فرش اور آسمان کا شامیانہ بنایا ہے اور پھر آسمان سے پانی برسا کر تمهاری روزی کے لئے زمین سے پهل نکالے ہیں لہٰذا اس کے لئے کسی کو ہمسراور مثل نہ بناو اور تم جانتے ہو“۔۲۳۰ ۔ / ۳ بحار الانوار، ج ۳

۴ نهج البلاغہ خطوط ۳۱ ۔ حضرت کی وصیت امام حسن علیہ السلام کے نام۔ترجمہ:(جان لو اے میرے لال!اگر خدا کا کوئی شریک ہوتا تو اس کے بھیجے ہوئے پیامبر بھی تمهارے پاس آتے اور اس کی قدرت وحکومت کے آثار دیکھتے اور اس کی صفات کو پہچانتے)

۵ سورہ مریم،آیت ۹۳ ۔”زمین وآسمان میں کوئی ایسا نہیں ہے جو اس کی بارگاہ میں بندہ ہو کر حاضر ہونے والا نہ ہو“۔

۶ سورہ فاطر، آیت ۱۵ ۔”انسانو! تم سب الله کی بارگاہ کے فقیر ہو اور الله غنی (بے نیاز) اور قابل حمد و ثنا ہے“۔

۷ سورہ آل عمران، آیت ۱۰۹ ۔”اور الله کی طرف پلٹتے ہیں سارے امور“۔

۸ سورہ بقرہ،ا یت ۱۵۶ ۔”هم الله ہی کے لئے ہیں اور اسی کی بارگاہ میں واپس جانے والے ہیں“۔

اور توحید پر ایمان کا اثر یہ ہے کہ فرد ومعاشرے کی فکر و ارادہ ایک ہی مقصد وہدف پرمرتکز رہیں کہ جس سے بڑه کر، بلکہ اس کے سوا کوئی دوسرا ہدف و مقصد ہے ہی نہیں( قُلْ إِنَّمَا ا عَِٔظُکُمْ بِوَاحِدَةٍ ا نَْٔ تَقُوْمُوْا لِلّٰهِ مَثْنٰی وَ فُرَادٰی ) (۱) ۔ اس توجہ کے ساته کہ اشعہ نفسِ انسانی میں تمرکزسے انسان کو ایسی قدرت مل جاتی ہے کہ وہ خیالی نقطے میں مشق کے ذریعے حیرت انگیز توانائیاں دکها سکتا ہے، اگر انسانی فکر اور ارادے کی شعاعیں اسی حقیقت کی جانب مرتکز ہو ں جومبدا ومنتهی اور( نُوْرُ السَّمَاوَاتِ وَاْلا رَْٔضِ ) (۲) ہے تو کس بلند واعلیٰ مقام تک رسائی حاصل کر سکتا ہے ؟!

جس فرد ومعاشرے کی( إِنِّی وَجَّهْتُ وَجْهِیْ لِلَّذِیْ فَطَرَالسَّمَاوَاتِ وَاْلا رَْٔضَ حَنِيْفاً وَّمَا ا نََٔا مِن الْمُشْرِکِيْنَ ) (۳) کے مقام تک رسائی ہو، خیر وسعادت وکمال کا ایسا مرکز بن جائے گا جو تقریر وبیان سے بہت بلند ہے۔

عن ا بٔی حمزة عن ا بٔی جعفر (ع) :((قال سمعته یقول: ما من شیء ا عٔظم ثواباً من شهادة ا نٔ لا إله إلا اللّٰه، لا نٔ اللّٰه عزوجل لا یعدله شی ولا یشرکه فی الا مٔر ا حٔد ))(۴)

اس روایت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جیسا کہ کوئی بھی چیز خداوند متعال کی مثل وہمسر نہیں، اس ذات قدوس کے امرمیں بھی کوئی اس کا شریک نہیں ہے۔ کوئی عمل اس حقیقت کی گواہی کا مثل و ہمسر نہیں جو کلمہ طیبہ ((لا إله إلااللّٰه ))کا مضمون ہے اورعمل کے ساته شایان شان جزاکے ثواب میںبھی اس کا کوئی شریک نہیں۔

زبان سے ((لا إله إلااللّٰه )) کی گواہی، دنیا میں جان ومال کی حفاظت کا سبب ہے اور دل سے اس کی گواہی آتش جهنم کے عذاب سے نجات کا باعث ہے اور اس کی جزا بهشت بریںہے۔ یہ کلمہ طیبّہ رحمت رحمانیہ ورحیمیہ کا مظهر ہے۔

چھٹے امام (ع) سے روایت ہے کہ: خداوند تبارک وتعالی نے اپنی عزت وجلال کی قسم کهائی ہے کہ اہل توحید کو آگ کے عذاب میں ہر گز مبتلا نہ کرے گا۔(۵)

اوررسول خدا (ص)سے منقول ہے: ((ماجزاء من ا نٔعم عزوجل علیه بالتوحید إلا الجنة ))(۶)

جو اس کلمہ طیبہ کا ہر وقت ورد کرتاہے ، وہ حوادث کی جان لیوا امواج، وسواس اور خواہشات نفسانی کے مقابلے میں کشتی دٔل کو لنگرِ ((لا إله إلا اللّٰه )) کے ذریعے هلاکتوں کی گرداب سے نجات دلاتا ہے( اَلَّذِيْنَ آمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوَبُهُمْ بِذِکْرِ اللّٰهِ ا لَٔاَ بِذِکْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ ) (۷)

کلمہ طیبہ کے حروف کوبالجهر اور بالاخفات دونوں طریقوں سے ادا کیا جاسکتا ہے کہ جامع ذکرِ جلی وخفی ہے اور اسم مقدس ((اللّٰہ))پر مشتمل ہے، کہ امیرالمو مٔنین (ع) سے منقول ہے کہ:

((اللّٰہ)) اسماء خدا میں سے بزرگترین اسم ہے اور ایسا اسم ہے جو کسی مخلوق کے لئے نہیں رکھا گیا۔

اس کی تفسیر یہ ہے کہ غیر خدا سے امید ٹوٹ جانے کے وقت ہر ایک اس کو پکارتا ہے( قُلْ ا رََٔا ئَْتَکُم إِنْ ا تََٔاکُمْ عَذَابُ اللّٰهِ ا ؤَْ ا تََٔتْکُمُ السَّاعَةُ ا غَيْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِيْنَةبَلْ إِيَّاهُ تَدْعُوْنَ فَيَکْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ إِلَيْه إِنْ شَاءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِکُوْنَ ) (۸)

____________________

۱ سورہ سباء،ا یت ۴۶ ۔”پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہیں صرف اس بات کی نصیحت کرتا ہوںکہ الله کے لئے دو دو اور ایک ایک کرکے قیام کرو“۔

۲ سورہ نور،آ یت ۳۵ ۔”الله آسمانوں اورزمین کا نور ہے“۔

۳ سورہ انعام، آیت ۷۹ ۔” میرا رخ تمام تر اس خدا کی طرف سے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں استقامت کے ساته توحید میں ہوں اور مشرکوں میں سے نہیں ہوں“۔

۴ توحید صدوق ص ۱۹ ۔

۵ توحید ص ۲۰ ۔

۶ توحید ص ۲۲ ۔ اس شخص کی جزا اس کو خدا نے نعمت توحید سے نوازا ہے جز بهشت کچھ نہیں ۔

۷ سورہ رعد، آیت ۲۸ ۔”یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے ہیں اور ان کے دلوں کو یاد خدا سے اطمینان حاصل ہوتا ہے اور آگاہ ہو جاو کہ اطمینان یاد خدا سے ہی حاصل ہوتاہے“۔

۸ سور ہ انعام، آیت ۴۰ ۔ ۴۱ ۔”آپ ان سے کہئے کہ تمهارا کیا خیال ہے کہ اگر تمهارے پاس عذاب یا قیامت آجائے تو کیا تم اپنے دعوے کی صداقت میں غیر خدا کو بلاو گٔے۔ تم خدا ہی کو پکاروگے اور وہی اگر چاہے گا تو اس مصیبت کو رفع کر سکتا ہے۔اور تم اپنے مشرکانہ خداو ںٔ کو بهول جاو گٔے“۔

ابو سعید خدری نے رسول خدا (ص)سے روایت کی ہے کہ خداوند جل جلالہ نے حضرت موسی (ع) سے فرمایا :

اے موسی! اگر آسمانوں، ان کے آباد کرنے والوں (جو امر کی تدبیر کرنے والے ہیں)اور ساتوں زمینوں کو ایک پلڑے میں رکھا جائے اور((لا إله إلا اللّٰه )) کو دوسرے پلڑے میں تو یہ دوسرا پلڑا بهاری ہوگا۔(۱) (یعنی اس کلمے کے مقابلے میں تمام مادّیات ومجرّدات سبک وزن ہیں)۔

عدل

خداوندِ متعال کی عدالت کو ثابت کرنے کے لئے متعدد دلائل ہیں جن میں سے ہم بعض کاتذکرہ کریں گے:

۱۔هر انسان، چاہے کسی بھی دین ومذهب پر اعتقاد نہ رکھتاہو، اپنی فطرت کے مطابق عدل کی اچهائی و حسن اور ظلم کی بدی و برائی کو درک کر سکتا ہے۔حتی اگر کسی ظالم کو ظلم سے نسبت دیں تو اس سے اظهار نفرت اور عادل کہیں تو خوشی کا اظهار کرتا ہے۔شہوت وغضب کا تابع ظالم فرمانروا، جس کی ساری محنتوں کا نچوڑ نفسانی خواہشات کا حصول ہے، اگر اس کا واسطہ محکمہ عدالت سے پڑ جائے اور قاضی اس کے زور و زر کی وجہ سے اس کے کسی دشمن کا حق پامال کر کے اس ظالم کے حق میں فیصلہ دے دے، اگر چہ قاضی کا فیصلہ اس کے لئے باعث مسرت وخوشنودی ہے لیکن اس کی عقل وفطرت حکم کی بدی اور حاکم کی پستی کو سمجه جائیں گے۔جب کہ اس کے برعکس اگر قاضی اس کے زور و زر کے اثر میں نہ آئے اور حق وعدل کا خیال کرے، ظالم اس سے ناراض تو ہو گا لیکن فطرتاً وہ قاضی اور اس کے فیصلے کو احترام کی نظر سے دیکھے گا۔

تو کس طرح ممکن ہے کہ جس خدا نے فطرت انسانی میں ظلم کو برا اور عدل کو اس لئے اچها قرار دیا ہو تاکہ اسے عدل کے زیور سے مزین اور ظلم کی آلودگی سے دور کرے اور جو( إِنَّ اللّٰهَ يَا مُْٔر بِالْعَدْل وَاْلإِحْسَانِ ) (۲) ،( قُلْ ا مََٔرَ رَبِّی بِالْقِسْطِ ) (۳) ،( يَادَاودُ إِنَّا جَعَلْنَاکَ خَلِيْفَةً فِی اْلا رَْٔضِ فَاحْکُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَق وَلاَ تَتَّبِعِ الْهَوٰی ) ٤جیسی آیات کے مطابق عدل کا حکم دے وہ خود اپنے ملک وحکم میں ظالم ہو؟!

۲۔ظلم کی بنیاد یا تو ظلم کی برائی سے لاعلمی، یا مقصد و ہدف تک پهنچنے میں عجز یا لغووعبث کام ہے، جب کہ خداوندِمتعال کی ذات جهل، عجز اور سفا ہت سے پاک ومنزہ ہے۔

لہٰذا، علم، قدرت اور لا متناہی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ خداوند متعال عادل ہو اور ہر ظلم و قبیح سے منزہ ہو۔

۳۔ ظلم نقص ہے اور خداوندِمتعال کے ظالم ہونے کا لازمہ یہ ہے کہ اس کی ترکیب میں کمال ونقصان اور وجود وفقدان بیک وقت شامل ہوں، جب کہ اس بات سے قطع نظر کہ یہ ترکیب کی بدترین قسم ہے، کمال ونقص سے مرکب ہونے والا موجود محتاج اور محدود ہوتا ہے اور یہ دونوں صفات مخلوق میں پائی جاتی ہیں نہ کہ خالق میں۔

لہٰذا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ تخلیق کائنات( شَهِدَ اللّٰهُ ا نََّٔه لاَ إِلٰهَ إِلاَّ هُوَ وَالْمَلاَئِکَةُ وَ ا ؤُْلُوالْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْط لاَ إِلٰهَ إِلاَّ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَکِيْمُ ) (۵) ،

قوانین واحکام

( لَقَدْ ا رَْٔسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَ ا نَْٔزَلْنَا مَعَهُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْم النَّاسُ بِالْقِسْطِ ) (۶) اور قیامت کے دن لوگوں کے حساب وکتاب میں عادل ہے۔( وَقُضِیَ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَهُمْ لاَ يُظْلَمُوْنَ ) (۱)

عن الصادق (ع) :((إنه سا لٔه رجل فقال له :إن ا سٔاس الدین التوحید والعدل، وعلمه کثیر، ولا بد لعاقل منه، فا ذٔکر ما یسهل الوقوف علیه ویتهیا حفظه، فقال: ا مٔا التوحید فا نٔ لا تجوّز علی ربک ماجاز علیک، و ا مٔا العدل فا نٔ لا تنسب إلی خالقک ما لامک علیه ))(۲) اور هشام بن حکم سے فرمایا: ((ا لٔا ا عٔطیک جملة فی العدل والتوحید ؟ قال: بلی، جعلت فداک، قال: من العدل ا نٔ لا تتّهمه ومن التوحید ا نٔ لا تتوهّمه ))(۳)

اور امیر المومنین (ع) نے فرمایا:((کل ما استغفرت اللّٰه منه فهومنک،وکل ما حمدت اللّٰه علیه فهومنه ))(۴)

____________________

۱ توحید، ص ۳۰ ۔

۲ سورہ نحل، آیت ۹۰ ۔”باتحقیق خدا وند متعال عدل واحسان کا امر کرتا ہے“۔

۳ سورہ اعراف، آیت ۲۹ ۔ ”کہو میرے رب نے انصاف کے ساته حکم کیا ہے“۔

۴ سورہ ص، آیت ۲۶ ۔ ”اے داو دٔ (ع)!هم نے تم کو روئے زمین پر خلیفہ بنایا ہے تو تم لوگوں کے درمیان بالکل ٹهیک فیصلہ کرو اور ہویٰ وہوس کی پیروی مت کرو“۔

۵ سورہ آل عمران ، آیت ۱۸ ۔”خدا نے خود اس بات کی شهادت دی کہ سوائے اس کے کوئی معبود نہیں ہے و کل فرشتوں نے اور صاحبان علم نے جو عدل پر قائم ہیں (یهی شهادت دی) کہ سوائے اس زبردست حکمت والے کے اور کوئی معبود نہیں ہے“۔

۶ سورہ حدید ، آیت ۲۵ ۔ ”هم نے یقینا اپنے پیغمبروں کو واضح و روشن معجزے دے کر بھیجا ہے اور ان کے ساته کتاب (انصاف کی)ترازو نازل کی تاکہ لوگ قسط وعدل پر قائم رہیں“۔

نبوت خاصّہ

چونکہ پیغمبر اکرم (ص) کی رسالت رہتی دنیا تک کے لئے ہے اور آپ (ص) خاتم النبیین ہیں،لہٰذا ضروری ہے کہ آنحضرت (ص) کا معجزہ بھی ہمیشہ باقی رہے۔

دوسرے یہ کہ آپ (ص) کی بعثت کا دور کلام میں فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے مقابلے کا دور تھا اور اس معاشرے میں شخصیات کی عظمت و منزلت، نظم و نثر میں فصاحت و بلاغت کے مراتب کی بنیاد پر طے ہوتی تھی۔

ان ہی دو خصوصیات کے سبب قرآن مجید، مختلف لفظی اور معنوی اعتبارات سے حضور اکرم (ص) کی نبوت و رسالت کی دلیل قرار پایا۔ جن میں سے بعض کی طرف ہم اشارہ کرتے ہیں:

۱۔قرآن کی مثل لانے سے انسانی عجز:

پیغمبر اکرم (ص) نے ایسے زمانے اور ماحول میں ظہور فرمایا جهاں مختلف اقوام کے لوگ گوناگوں عقائد کے ساته زندگی بسر کر رہے تھے۔کچھ تو سرے سے مبدا متعال کے منکر اور مادہ پرست تھے اور جو ماوراء مادہ و طبیعت کے قائل بھی تھے تو، ان میں سے بھی بعض بت پرستی اور بعض ستارہ پرستی میں مشغول تھے۔ باقی جو ان بتوںاور ستاروں سے دور تھے وہ مجوسیت، یہودیت، یا عیسائیت کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔

دوسری جانب شهنشاہ ایران اور هرقل روم کمزور اقوام کی گردنوں میں استعمار و استحصال کے طوق ڈالے ہوئے تھے یا پھر جنگ و خونریزی میں سرگرم تھے۔

ایسے دور میں پیغمبر اسلام (ص) نے غیب پر ایمان اور توحید کے پرچم کو بلند کرکے کائنات کے تمام انسانوںکو پروردگار عالم کی عبادت اور کفر و ظلم کی زنجیریں توڑنے کی دعوت دی۔ ایران کے کسریٰ اور قیصرروم سے لے کر غسان و حیرہ کے بادشاہوں تک، ظالموں اور متکبروں کو پروردگار عالم کی عبودیت، قبولِ اسلام، قوانین الٰهی کے سامنے تسلیم اور خود کو حق و عدالت کے سپرد کرنے کی دعوت دی۔

مجوس کی ثنویت، نصاریٰ کی تثلیث، یہود کی خدا اور انبیاء علیهم السلام سے ناروا نسبتوں اور جاہلیت کی ان غلط عادات ورسوم سے، جو آباء و اجداد سے وراثت میں پانے کے سبب جزیرة العرب کے لوگوں کے ر گ وپے میں سما چکی تہیں، مقابلہ کیا اور تمام اقوام و امم کے مدمقابل اکیلے قیام فرمایا۔

باقی معجزات کو چهوڑ کر معجزہ قرآن کو اثبات نبوت کی قاطع دلیل قرار دیا اور قرآن کو چیلنج بناتے ہوئے بادشاہوں، سلاطین، نیز علمائے یہود اورعیسائی راہبوں جیسی طاقتوں اور تمام بت پرستوں کو مقابلے کی دعوت دی( وَإِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلیٰ عَبْدِنَا فَا تُْٔوا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِه وَادْعُوْا شُهَدَآئَکُمْ مِن دُوْنِ اللّٰهِ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِيْنَ ) (۲)

____________________

۱ بحار الانوار ج ۶ ص ۵۹ ۔”امام نے اس حدیث میں پیغمبران خدا کی معرفت اور ان کی رسالت کا اقرار اور ان کی اطاعت کے واجب ہونے کے سلسلے میں فرمایا:کیونکہ مخلوق خلقت کے اعتبار سے اپنی مصلحتوں تک نہیں پہونچ سکتے تھے، دوسرے طرف خالق عالی ومتعالی ہے مخلوق اپنے ضعف و نقص کے ساته خدا کا ادراک نہیں کرسکتے لہٰذا کوئی اور چارہ نہیں تھا کہ ان دونوں کے درمیان ایک معصوم رسول وسیلہ بنے جو خدا کے امر و نهی کو اس کمزور مخلوق تک پہونچا سکے ۔

اور ان کے مصالح و مفاسد سے آگاہ کرے کیونکہ ان کی خلقت میں اپنی حاجتوں کے مطابق مصلحتوں اور نقصان دینے والی چیزوں کو پہچاننے کی صلاحیت نہیں ہے“۔

۲ سورہ بقرہ ، آیت ۲۳ ۔”اگر تمہیں اس کلام کے بارے میں کوئی شک ہے جسے ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے تو اس کا جیسا ایک ہی سورہ لے آو اور الله کے علاوہ جتنے تمهارے مددگار ہیں سب کو بلا لو اگر تم اپنے دعوے میںاور خیال میں سچے ہو“۔

تو حید ذات و صفات:

یعنی خدا کے صفات ذاتی ہیں، جیسے حیات، علم، قدرت عین ذات ہیں، و گرنہ ذات و صفت جدا جدا ہونا تجزیہ و ترکیب کا باعث ہوگا، وہ جو اجزاء سے مرّکب ہوگا وہ جو اجزاء سے مرکب ہو وہ اپنے اجزا کا محتاج ہوگا، (اور محتاج خدا نہیں ہوسکتا)

اسی طرح اگر صفات کو ذات سے جدا مان لیں تو لازم یہ آتا ہے وہ مرتبہ ذات میں فاقد صفات کمال ہو، اور اس کی ذات ان صفات کے امکان کی جہت پائی جائے، بلکہ خود ذات کا ممکن ہونا لازم آئے گا، کیونکہ جو ذات صفات کمال سے خالی ہو اور امکان صفات کی حامل ہو وہ ایسی ذات کی محتاج ہے جو غنی بالذات ہو۔

حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں: خدا کی سب سے پهلی عبادت اس کی معرفت حاصل کرنا ہے۔اور اصل معرفت خدا کی وحدانیت کا اقرار ہے، اور نظام توحید یہ ہے کہ اس کی صفات سے صفات کی نفی و انکار کرنا ہے،

(زائد بر ذات) اس لئے کہ عقل گواہی دیتی ہے کہ ہر صفت اور موصوف مخلوق ہوتے ہیں، اور ہر مخلوق کا وجود اس بات پر گواہ ہے کہ اس کا کوئی خالق ہے، جو نہ صفت ہے اور نہ موصوف۔ (بحار الانوار، ج ۵۴ ، ص ۴۳)

توحید در الوہیت:

( وَإِلَهُکُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لاَإِلَهَ إِلاَّ هو الرَّحْمَانُ الرَّحِیمُ ) (سورہ بقرہ، آیت ۱۶۳)

”تمهارا خدا خدائے واحد ہے کوئی خدا نہیں جز اس کے جو رحمن و رحیم ہے“۔

توحید در ربوبیت:

خداوندعالم کا ارشاد ہے:

( قُلْ ا غََٔيْرَ اللهِ ا بَْٔغِی رَبًّا وَهُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْءٍ ) (سورہ انعام، آیت ۱۶۴)

”کہو کیا الله کے علاوہ کسی دوسرے کو رب بنائیں حالانکہ کہ وہ ہر چیز کا پروردگار ہے“۔

( ا ا رَْٔبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ ا مَْٔ اللهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ) (سورہ یوسف، آیت ۳۹)

”آیا متفرق و جدا جدا ربّ کا ہونا بہتر ہے یا الله سبحانہ کا جو واحد اور قهار ہے“۔

توحید در خلق:

( قُلْ اللهُ خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ) (سورہ رعد، آیت ۱۶)

”کہہ دیجئے کہ الله ہر چیز کا خالق ہے اور وہ یکتاقهار ہے“۔

( وَالَّذِینَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ لاَيَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ ) (سورہ نحل، آیت ۲۰)

”اور وہ لوگ جن کو خدا کے علاوہ پکارا جاتا ہے وہ کسی کو خلق نہیں کرتے بلکہ وہ خلق کئے جاتے ہیں“۔

توحید در عبادت:

یعنی عبادت صرف اسی کی ذات کے لئے منحصر ہے۔

( قُلْ ا تََٔعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ مَا لاَيَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا وَلاَنَفْعًا ) (سورہ مائدہ، آیت ۷۶ ۔)”کہ کیا تم خدا کے علاوہ ان کی عبادت کرتے ہو جو تمهارے لئے نہ نفع رکھتے ہیں نہ نقصان ؟)

توحید در ا مٔر وحکم خدا:

( ا لَٔاَلَهُ الْخَلْقُ وَالْا مَْٔرُ تَبَارَکَ اللهُ رَبُّ الْعَالَمِینَ ) (سورہ اعراف ، آیت ۵۴ ۔)

”آگاہ ہو جاو صرف خدا کے لئے حکم کرنے و خلق کرنے کا حق ہے بالا مرتبہ ہے خدا کی ذات جو عالمین کا رب ہے“۔

( إِنْ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلَّه ) (سورہ یوسف، آیت ۱۰ ۔)”کوئی حکم نہیں مگر خدا کا حکم“۔

توحید در خوف وخشیت:

(یعنی صرف خدا سے ڈرنا)

( فَلاَتَخَافُوهُمْ وَخَافُونِی إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِینَ ) (سورہ آ ل عمران، آیت ۱۷۵ ۔)”پس ان سے نہ ڈرو اگر صاحبان ایمان ہو تو مجه سے ڈرو“۔

اس سے متعلق بعض دلائل کی طرف اشارہ کرتے ہیں :

۱۔تعدد الٰہ سے خداوند متعال میں اشتراک ضروری قرار پاتا ہے اس لئے کہ دونوں خدا ہیں، اور اسی طرح دونوں میں نقطہ امتیاز کی ضرورت پیش آتی ہے تاکہ دوگانگی تحقق پیدا کرے اور وہ مرکب جو بعض نکات اشتراک اور بعض نکات امتیاز سے مل کر بنا ہو، ممکن ومحتاج ہے۔

۲۔تعدد الہ کا کسی نقطہ امتیاز کے بغیر ہونا محال ہے اور امتیاز، فقدانِ کمال کا سبب ہے۔ فاقد کمال محتاج ہوتا ہے اور سلسلہ احتیاج کا ایک ایسے نکتے پر جاکر ختم ہونا ضروری ہے جو ہر اعتبار سے غنی بالذات ہو، ورنہ محال ہے کہ جو خود وجود کا محتاج وضرور ت مند ہو کسی دوسرے کو وجود عطا کرسکے۔

۳۔خدا ایسا موجود ہے جس کے لئے کسی قسم کی کوئی حد مقرر نہیں کیونکہ ہر محدود، دو چیزوں سے مل کر بنا ہے ، ایک اس کا وجوداور دوسرے اس کے وجود کی حد اور کسی بھی وجود کی حد اس وجود میں فقدان اور اس کے منزلِ کمال تک نہ پہچنے کی دلیل ہے اور یہ ترکیب، اقسامِ ترکیب کی بد ترین قسم ہے، کیونکہ ترکیب کی باقی اقسام میں یا تو دو وجودوں کے درمیان ترکیب ہے یا بود ونمود کے درمیان ترکیب ہے، جب کہ ترکیب کی اس قسم میں بود ونبود کے درمیان ترکیب ہے!! جب کہ خد ا کے حق میں ہر قسم کی ترکیب محال ہے۔وہ ایسا واحد وجود ہے جس کے لئے کسی ثانی کا تصور نہیں،

( فَلاَتَخْشَوْا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ ) (سورہ مائدہ، آیت ۴۴ ۔)”لوگوں سے مٹ ڈرو مجه سے ڈرو(خشیت خدا حاصل کرو“۔

توحید در مُلک:

(یعنی کائنات میں صرف اس کی حکومت ہے)

( وَقُلْ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَکُنْ لَهُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ ) (سورہ اسراء ، آیت ۱۱۱ ۔)”کہو ساری تعریفیں ہیں اس خدا کی جس کا کوئی فرزند نہیں اور ملک میں اس کا کوئی شریک نہیں“۔

توحید در ملک نفع وضرر:

یعنی نفع و نقصان کا مالک وہ ہے)

( قُلْ لاَا مَْٔلِکُ لِنَفْسِی نَفْعًا وَلاَضَرًّا إِلاَّ مَا شَاءَ اللهُ ) (سورہ اعراف، آیت ۱۸۸ ۔)”کہو بس اپنے نفع و نقصان کا بھی مالک نہیں ہوں مگر وہ جو الله سبحانہ چاہے“۔

( قُلْ فَمَنْ يَمْلِکُ لَکُمْ مِنْ اللهِ شَيْئًا إِنْ ا رََٔادَ بِکُمْ ضَرًّا ا ؤَْ ا رََٔادَ بِکُمْ نَفْعًا ) (سورہ فتح، آیت ۱۱ ۔)”کہو بس کون ہے تمهارے لئے خدا کے مقابل میں کوئی دوسرا اگر وہ تمهارے لئے نفع و نقصان کا ارادہ کرے“۔

توحید در رزق:

(رزاق صرف خدا ہے)

( قُلْ مَنْ يَرْزُقُکُمْ مِنْ السَّمَاوَاتِ وَالْا رَْٔضِ قُلْ اللهُ ) (سورہ سباء، آیت ۲ ۴ ۔)”کہو کون ہے جو زمین وآسمان سے تم کو روزی عطاء کرتا ہے کہوخدائے متعال)

( ا مََّٔنْ هَذَا الَّذِی يَرْزُقُکُمْ إِنْ ا مَْٔسَکَ رِزْقَهُ ) (سورہ ملک ، آیت ۲۱ ۔)”آیا کون ہے تم کو روزی دینے والا اگر وہ تمهارے رزق کو روک لے“۔

توحید در توکل:

(بهروسہ صرف خدا کی ذات پر)

( وَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ وَکَفَی بِاللهِ وَکِیلاً ) (سورہ احزاب، آیت ۳۔)”اور الله پر بهروسہ کرو اس کو وکیل بنانا دوسرے سے بے نیاز کردیتا ہے“۔

( اللهُ لاَإِلَهَ إِلاَّ هو وَعَلَی اللهِ فَلْيَتَوَکَّلْ الْمُؤْمِنُونَ ) (سورہ ،تغابن آیت ۱۳ ۔)”کوئی خدا نہیں سوائے الله سبحانہ تعالیٰ کے بس مومنوں کو چاہئے خدا پر توکل کریں“۔

توحید در عمل:

(عمل صرف خدا کے لئے)

( وَمَا لِا حََٔدٍ عِنْدَهُ مِنْ نِعْمَةٍ تُجْزَی ز إِلاَّ ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْا عَْٔلَی ) (سورہ لیل، آیت ۔ ۲۰ ۔ ۱۹ ۔)”اور لطف الٰهی یہ ہے کہ)کسی کا اس پر احسان نہیں جس کا اسے بدلہ دیا جاتا ہے بلکہ (وہ تو)صرف اپنے عالیشان پروردگار کی خوشنودی حاصل کر نے کے لئے (دیتاہے)

توحید در توجہ :

(انسان کی توجہ صرف خدا کی طرف ہونی چاہئے)

( إِنِّی وَجَّهْتُ وَجْهِی لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْا رَْٔضَ ) (سورہ انعام، آیت ۷۹ ۔)”بے شک میں نے اپنے رخ اس کی طرف

موڑ لیا جس نے زمین وآسمان کو خلق کیا“۔

یہ ان لوگوں کا مقام ہے جو اس راز کو سمجه چکے ہیں کہ دنیا و مافیها سبکچھ هلاک ہوجائے گا۔

( کُلُّ شَیْءٍ هَالِکٌ إِلاَّ وَجْهَهُ ) (سورہ قصص، آیت ۸۸ ۔)(کائنات میں)هر چیز هلا ک ہو جائے گی جز اس ذات والاکے“( کُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ ز وَيَبْقَی وَجْهُ رَبِّکَ ذُو الْجَلاَلِ وَالْإِکْرَامِ ) (سورہ رحمن، آیت ۲۷ ۔ ۲ ۶ ۔)”هر وہ چیز جو روئے زمین پر ہے سبکچھ فنا ہونے والی ہے اور باقی رہنے والی (صرف)تیرے پروردگار کی ذات ہے جو صاحب جلالت وکرامت ہے“۔

فطرت میں جو توحید خدا پنهاں ہے اس کی طرف توجہ سے انسان کے ارادہ میں توحید جلوہ نمائی کرتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ( وَعَنَتْ الْوُجُوهُ لِلْحَیِّ الْقَيُّومِ ) (سورہ طہ، آیت ۱۱۱)”اور ساری خدائی کے منه زندہ وپائندہ خدا کے سامنے جهک جائیں گے“۔ (فطرت توحیدی کی طرف توجہ انسان کے ارادہ کو توحید کا جلوہ بنا دیتی ہے)

کیونکہ ثانی کا تصور اس کے لئے محدودیت اور متناہی ہونے کا حکم رکھتا ہے، لہٰذا وہ ایسا یکتاہے کہ جس کے لئے کوئی ثانی نہ قابل تحقق ہے اور نہ ہی قابل تصور۔

۴ ۔ کائنات کے ہر جزء وکل میں وحدتِ نظم برقرار ہونے سے وحدت ناظم ثابت ہو جاتی ہے،

کیونکہ جزئیاتِ انواع کائنات میں موجود تمام اجزاء کے ہر هر جزء میںموجود نظم وترکیب اور پوری کائنات کے آپس کے ارتباط کے تفصیلی مطالعے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جزء و کل سب ایک ہی علیم ،قدیر اورحکیم خالق کی مخلوق ہیں۔ جیسا کہ ایک درخت کے اجزاء کی ترکیب، ایک حیوان کے اعضاء و قوتوں کی ترکیب اور ان کا ایک دوسرے نیز چاند اور سورج سے ارتباط، اسی طرح منظومہ شمسی کا دوسرے منظومات اور کہکشاؤں سے ارتباط، ان سب کے خالق کی وحدانیت کامنہ بولتا ثبوت ہیں۔ایٹم کے مرکزی حصے اور اس کے مدار کے گردگردش کرنے والے اجزاء سے لے کر سورج و منظومہ شمسی کے سیارات اور کہکشاؤں تک، سب اس بات کی علامت ہیں کہ ایٹم،سورج اور کہکشاو ںٔ

کا خالق ایک ہی ہے( و هُوْ الَّذِی فِی السَّمَاءِ ا لِٰٔهٌ وَّ فِی اْلا رَْٔضِ إِلٰهٌ وَّ هُوَ الْحَکِيْمُ الْعَلِيْم ) (۱) ( يَا ا ئَُّهَا النَّاس اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُمْ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَةالَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ اْلا رَْٔضَ فِرَاشًا وَّالسَّمَاءَ بِنَاءً وَّ ا نَْٔزَلَ مِن السَّمَاءِ مَاءً فَا خَْٔرَجَ بِه مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقاً لَّکُمْ فَلاَ تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ ا نَْٔدَادًا وَّ ا نَْٔتُمْ تَعْلَمُوْنَ ) (۲)

۵ ۔چھٹے امام (ع) سے سوال کیا گیا: صانع وخالقِ کائنات کا ایک سے زیادہ ہونا کیوں ممکن نہیں ہے ؟ آپ (ع) نے فرمایا : اگر دعوٰی کرو کہ دو ہیں تو ان کے درمیان شگاف کا ہونا ضروری ہے تاکہ دو بن سکیں، پس یہ شگاف تیسرا ہوا اور اگر تین ہو گئے تو پھر ان کے درمیان دو شگافوں کا ہونا ضروری ہے تاکہ تین محقق ہوسکیں،بس یہ تین پانچ ہوجائیں گے او راس طرح عدد بے نهایت اعداد تک بڑهتا چلا جائے گا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اگر خدا ایک سے زیادہ ہوئے تو اعداد میں خداؤں کی نا متناہی تعداد کا ہونا ضروری ہے۔(۳)

۶ ۔امیر المو مٔنین (ع) نے اپنے فرزند امام حسن (ع) سے فرمایا:((واعلم یابنی ا نٔه لو کان لربک شریک لا تٔتک رسله ولرا ئت آثار ملکه وسلطانه ولعرفت ا فٔعاله وصفاته ))(۴)

اور وحدانیت پروردگارپر ایمان کا نتیجہ، عبادت میں توحیدِ ہے کہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، چونکہ اس کے علاوہ سب عبد اور بندے ہیں( إِنْ کُلُّ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَاْلا رَْٔضِ إِلاَّ آتِی الرَّحْمٰن عَبْداً ) (۵) غیر خد اکی عبودیت وعبادت کرنا ذلیل سے ذلت اٹهانا،فقیر سے بھیک مانگنا بلکہ ذلت سے ذلت اٹهانا اور گداگر سے گداگری کرناہے( يَا ا ئََُهَا النَّاسُ ا نَْٔتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلیَ اللّٰهِ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِيْدُ ) (۶)

وحدانیت خداوندمتعال پر ایمان،اور یہ کہ جوکچھ ہے اسی سے اور اسی کی وجہ سے ہے اور سب کو اسی کی طرف پلٹنا ہے، کو تین جملوں میں خلاصہ کیا جاسکتا ہے ((لا إله إلا اللّٰه))،((لا حول ولا قوة إلا باللّٰه ))،( وَ إِلَی اللّٰهِ تُرْجَعُ اْلا مُُٔوْرُ ) (۷)

سعادت مند وہ ہے جس کی زبان پر یہ تین مقدّس جملے ہر وقت جاری رہیں، انهی تین جملات کے ساته جاگے،سوئے،زندگی بسر کرے، مرے اور یهاں تک کہ( إِنَّا لِلّٰهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ ) (۸) کی حقیقت کو پالے۔

____________________

۱ سورہ زخرف، آیت ۸۴ ۔”اور وہی وہ ہے جو آسمان میں بھی خد اہے اور زمین میں بھی خدا ہے اور وہ صاحب حکمت بھی ہے“۔

۲ سورہ بقرہ، آیت ۲۱ ۔ ۲۲ ۔”اے انسانو!پروردگار کی عبادت کرو جس نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے اور تم سے پهلے والوں کو بھی خلق کیا ہے شاید کہ تم اسی طرح متقی اور پرہیزگار بن جاو ۔ٔاس پروردگار نے تمهارے لئے زمین کا فرش اور آسمان کا شامیانہ بنایا ہے اور پھر آسمان سے پانی برسا کر تمهاری روزی کے لئے زمین سے پهل نکالے ہیں لہٰذا اس کے لئے کسی کو ہمسراور مثل نہ بناو اور تم جانتے ہو“۔۲۳۰ ۔ / ۳ بحار الانوار، ج ۳

۴ نهج البلاغہ خطوط ۳۱ ۔ حضرت کی وصیت امام حسن علیہ السلام کے نام۔ترجمہ:(جان لو اے میرے لال!اگر خدا کا کوئی شریک ہوتا تو اس کے بھیجے ہوئے پیامبر بھی تمهارے پاس آتے اور اس کی قدرت وحکومت کے آثار دیکھتے اور اس کی صفات کو پہچانتے)

۵ سورہ مریم،آیت ۹۳ ۔”زمین وآسمان میں کوئی ایسا نہیں ہے جو اس کی بارگاہ میں بندہ ہو کر حاضر ہونے والا نہ ہو“۔

۶ سورہ فاطر، آیت ۱۵ ۔”انسانو! تم سب الله کی بارگاہ کے فقیر ہو اور الله غنی (بے نیاز) اور قابل حمد و ثنا ہے“۔

۷ سورہ آل عمران، آیت ۱۰۹ ۔”اور الله کی طرف پلٹتے ہیں سارے امور“۔

۸ سورہ بقرہ،ا یت ۱۵۶ ۔”هم الله ہی کے لئے ہیں اور اسی کی بارگاہ میں واپس جانے والے ہیں“۔

اور توحید پر ایمان کا اثر یہ ہے کہ فرد ومعاشرے کی فکر و ارادہ ایک ہی مقصد وہدف پرمرتکز رہیں کہ جس سے بڑه کر، بلکہ اس کے سوا کوئی دوسرا ہدف و مقصد ہے ہی نہیں( قُلْ إِنَّمَا ا عَِٔظُکُمْ بِوَاحِدَةٍ ا نَْٔ تَقُوْمُوْا لِلّٰهِ مَثْنٰی وَ فُرَادٰی ) (۱) ۔ اس توجہ کے ساته کہ اشعہ نفسِ انسانی میں تمرکزسے انسان کو ایسی قدرت مل جاتی ہے کہ وہ خیالی نقطے میں مشق کے ذریعے حیرت انگیز توانائیاں دکها سکتا ہے، اگر انسانی فکر اور ارادے کی شعاعیں اسی حقیقت کی جانب مرتکز ہو ں جومبدا ومنتهی اور( نُوْرُ السَّمَاوَاتِ وَاْلا رَْٔضِ ) (۲) ہے تو کس بلند واعلیٰ مقام تک رسائی حاصل کر سکتا ہے ؟!

جس فرد ومعاشرے کی( إِنِّی وَجَّهْتُ وَجْهِیْ لِلَّذِیْ فَطَرَالسَّمَاوَاتِ وَاْلا رَْٔضَ حَنِيْفاً وَّمَا ا نََٔا مِن الْمُشْرِکِيْنَ ) (۳) کے مقام تک رسائی ہو، خیر وسعادت وکمال کا ایسا مرکز بن جائے گا جو تقریر وبیان سے بہت بلند ہے۔

عن ا بٔی حمزة عن ا بٔی جعفر (ع) :((قال سمعته یقول: ما من شیء ا عٔظم ثواباً من شهادة ا نٔ لا إله إلا اللّٰه، لا نٔ اللّٰه عزوجل لا یعدله شی ولا یشرکه فی الا مٔر ا حٔد ))(۴)

اس روایت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جیسا کہ کوئی بھی چیز خداوند متعال کی مثل وہمسر نہیں، اس ذات قدوس کے امرمیں بھی کوئی اس کا شریک نہیں ہے۔ کوئی عمل اس حقیقت کی گواہی کا مثل و ہمسر نہیں جو کلمہ طیبہ ((لا إله إلااللّٰه ))کا مضمون ہے اورعمل کے ساته شایان شان جزاکے ثواب میںبھی اس کا کوئی شریک نہیں۔

زبان سے ((لا إله إلااللّٰه )) کی گواہی، دنیا میں جان ومال کی حفاظت کا سبب ہے اور دل سے اس کی گواہی آتش جهنم کے عذاب سے نجات کا باعث ہے اور اس کی جزا بهشت بریںہے۔ یہ کلمہ طیبّہ رحمت رحمانیہ ورحیمیہ کا مظهر ہے۔

چھٹے امام (ع) سے روایت ہے کہ: خداوند تبارک وتعالی نے اپنی عزت وجلال کی قسم کهائی ہے کہ اہل توحید کو آگ کے عذاب میں ہر گز مبتلا نہ کرے گا۔(۵)

اوررسول خدا (ص)سے منقول ہے: ((ماجزاء من ا نٔعم عزوجل علیه بالتوحید إلا الجنة ))(۶)

جو اس کلمہ طیبہ کا ہر وقت ورد کرتاہے ، وہ حوادث کی جان لیوا امواج، وسواس اور خواہشات نفسانی کے مقابلے میں کشتی دٔل کو لنگرِ ((لا إله إلا اللّٰه )) کے ذریعے هلاکتوں کی گرداب سے نجات دلاتا ہے( اَلَّذِيْنَ آمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوَبُهُمْ بِذِکْرِ اللّٰهِ ا لَٔاَ بِذِکْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ ) (۷)

کلمہ طیبہ کے حروف کوبالجهر اور بالاخفات دونوں طریقوں سے ادا کیا جاسکتا ہے کہ جامع ذکرِ جلی وخفی ہے اور اسم مقدس ((اللّٰہ))پر مشتمل ہے، کہ امیرالمو مٔنین (ع) سے منقول ہے کہ:

((اللّٰہ)) اسماء خدا میں سے بزرگترین اسم ہے اور ایسا اسم ہے جو کسی مخلوق کے لئے نہیں رکھا گیا۔

اس کی تفسیر یہ ہے کہ غیر خدا سے امید ٹوٹ جانے کے وقت ہر ایک اس کو پکارتا ہے( قُلْ ا رََٔا ئَْتَکُم إِنْ ا تََٔاکُمْ عَذَابُ اللّٰهِ ا ؤَْ ا تََٔتْکُمُ السَّاعَةُ ا غَيْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِيْنَةبَلْ إِيَّاهُ تَدْعُوْنَ فَيَکْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ إِلَيْه إِنْ شَاءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِکُوْنَ ) (۸)

____________________

۱ سورہ سباء،ا یت ۴۶ ۔”پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہیں صرف اس بات کی نصیحت کرتا ہوںکہ الله کے لئے دو دو اور ایک ایک کرکے قیام کرو“۔

۲ سورہ نور،آ یت ۳۵ ۔”الله آسمانوں اورزمین کا نور ہے“۔

۳ سورہ انعام، آیت ۷۹ ۔” میرا رخ تمام تر اس خدا کی طرف سے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں استقامت کے ساته توحید میں ہوں اور مشرکوں میں سے نہیں ہوں“۔

۴ توحید صدوق ص ۱۹ ۔

۵ توحید ص ۲۰ ۔

۶ توحید ص ۲۲ ۔ اس شخص کی جزا اس کو خدا نے نعمت توحید سے نوازا ہے جز بهشت کچھ نہیں ۔

۷ سورہ رعد، آیت ۲۸ ۔”یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے ہیں اور ان کے دلوں کو یاد خدا سے اطمینان حاصل ہوتا ہے اور آگاہ ہو جاو کہ اطمینان یاد خدا سے ہی حاصل ہوتاہے“۔

۸ سور ہ انعام، آیت ۴۰ ۔ ۴۱ ۔”آپ ان سے کہئے کہ تمهارا کیا خیال ہے کہ اگر تمهارے پاس عذاب یا قیامت آجائے تو کیا تم اپنے دعوے کی صداقت میں غیر خدا کو بلاو گٔے۔ تم خدا ہی کو پکاروگے اور وہی اگر چاہے گا تو اس مصیبت کو رفع کر سکتا ہے۔اور تم اپنے مشرکانہ خداو ںٔ کو بهول جاو گٔے“۔

ابو سعید خدری نے رسول خدا (ص)سے روایت کی ہے کہ خداوند جل جلالہ نے حضرت موسی (ع) سے فرمایا :

اے موسی! اگر آسمانوں، ان کے آباد کرنے والوں (جو امر کی تدبیر کرنے والے ہیں)اور ساتوں زمینوں کو ایک پلڑے میں رکھا جائے اور((لا إله إلا اللّٰه )) کو دوسرے پلڑے میں تو یہ دوسرا پلڑا بهاری ہوگا۔(۱) (یعنی اس کلمے کے مقابلے میں تمام مادّیات ومجرّدات سبک وزن ہیں)۔

عدل

خداوندِ متعال کی عدالت کو ثابت کرنے کے لئے متعدد دلائل ہیں جن میں سے ہم بعض کاتذکرہ کریں گے:

۱۔هر انسان، چاہے کسی بھی دین ومذهب پر اعتقاد نہ رکھتاہو، اپنی فطرت کے مطابق عدل کی اچهائی و حسن اور ظلم کی بدی و برائی کو درک کر سکتا ہے۔حتی اگر کسی ظالم کو ظلم سے نسبت دیں تو اس سے اظهار نفرت اور عادل کہیں تو خوشی کا اظهار کرتا ہے۔شہوت وغضب کا تابع ظالم فرمانروا، جس کی ساری محنتوں کا نچوڑ نفسانی خواہشات کا حصول ہے، اگر اس کا واسطہ محکمہ عدالت سے پڑ جائے اور قاضی اس کے زور و زر کی وجہ سے اس کے کسی دشمن کا حق پامال کر کے اس ظالم کے حق میں فیصلہ دے دے، اگر چہ قاضی کا فیصلہ اس کے لئے باعث مسرت وخوشنودی ہے لیکن اس کی عقل وفطرت حکم کی بدی اور حاکم کی پستی کو سمجه جائیں گے۔جب کہ اس کے برعکس اگر قاضی اس کے زور و زر کے اثر میں نہ آئے اور حق وعدل کا خیال کرے، ظالم اس سے ناراض تو ہو گا لیکن فطرتاً وہ قاضی اور اس کے فیصلے کو احترام کی نظر سے دیکھے گا۔

تو کس طرح ممکن ہے کہ جس خدا نے فطرت انسانی میں ظلم کو برا اور عدل کو اس لئے اچها قرار دیا ہو تاکہ اسے عدل کے زیور سے مزین اور ظلم کی آلودگی سے دور کرے اور جو( إِنَّ اللّٰهَ يَا مُْٔر بِالْعَدْل وَاْلإِحْسَانِ ) (۲) ،( قُلْ ا مََٔرَ رَبِّی بِالْقِسْطِ ) (۳) ،( يَادَاودُ إِنَّا جَعَلْنَاکَ خَلِيْفَةً فِی اْلا رَْٔضِ فَاحْکُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَق وَلاَ تَتَّبِعِ الْهَوٰی ) ٤جیسی آیات کے مطابق عدل کا حکم دے وہ خود اپنے ملک وحکم میں ظالم ہو؟!

۲۔ظلم کی بنیاد یا تو ظلم کی برائی سے لاعلمی، یا مقصد و ہدف تک پهنچنے میں عجز یا لغووعبث کام ہے، جب کہ خداوندِمتعال کی ذات جهل، عجز اور سفا ہت سے پاک ومنزہ ہے۔

لہٰذا، علم، قدرت اور لا متناہی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ خداوند متعال عادل ہو اور ہر ظلم و قبیح سے منزہ ہو۔

۳۔ ظلم نقص ہے اور خداوندِمتعال کے ظالم ہونے کا لازمہ یہ ہے کہ اس کی ترکیب میں کمال ونقصان اور وجود وفقدان بیک وقت شامل ہوں، جب کہ اس بات سے قطع نظر کہ یہ ترکیب کی بدترین قسم ہے، کمال ونقص سے مرکب ہونے والا موجود محتاج اور محدود ہوتا ہے اور یہ دونوں صفات مخلوق میں پائی جاتی ہیں نہ کہ خالق میں۔

لہٰذا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ تخلیق کائنات( شَهِدَ اللّٰهُ ا نََّٔه لاَ إِلٰهَ إِلاَّ هُوَ وَالْمَلاَئِکَةُ وَ ا ؤُْلُوالْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْط لاَ إِلٰهَ إِلاَّ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَکِيْمُ ) (۵) ،

قوانین واحکام

( لَقَدْ ا رَْٔسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَ ا نَْٔزَلْنَا مَعَهُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْم النَّاسُ بِالْقِسْطِ ) (۶) اور قیامت کے دن لوگوں کے حساب وکتاب میں عادل ہے۔( وَقُضِیَ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَهُمْ لاَ يُظْلَمُوْنَ ) (۱)

عن الصادق (ع) :((إنه سا لٔه رجل فقال له :إن ا سٔاس الدین التوحید والعدل، وعلمه کثیر، ولا بد لعاقل منه، فا ذٔکر ما یسهل الوقوف علیه ویتهیا حفظه، فقال: ا مٔا التوحید فا نٔ لا تجوّز علی ربک ماجاز علیک، و ا مٔا العدل فا نٔ لا تنسب إلی خالقک ما لامک علیه ))(۲) اور هشام بن حکم سے فرمایا: ((ا لٔا ا عٔطیک جملة فی العدل والتوحید ؟ قال: بلی، جعلت فداک، قال: من العدل ا نٔ لا تتّهمه ومن التوحید ا نٔ لا تتوهّمه ))(۳)

اور امیر المومنین (ع) نے فرمایا:((کل ما استغفرت اللّٰه منه فهومنک،وکل ما حمدت اللّٰه علیه فهومنه ))(۴)

____________________

۱ توحید، ص ۳۰ ۔

۲ سورہ نحل، آیت ۹۰ ۔”باتحقیق خدا وند متعال عدل واحسان کا امر کرتا ہے“۔

۳ سورہ اعراف، آیت ۲۹ ۔ ”کہو میرے رب نے انصاف کے ساته حکم کیا ہے“۔

۴ سورہ ص، آیت ۲۶ ۔ ”اے داو دٔ (ع)!هم نے تم کو روئے زمین پر خلیفہ بنایا ہے تو تم لوگوں کے درمیان بالکل ٹهیک فیصلہ کرو اور ہویٰ وہوس کی پیروی مت کرو“۔

۵ سورہ آل عمران ، آیت ۱۸ ۔”خدا نے خود اس بات کی شهادت دی کہ سوائے اس کے کوئی معبود نہیں ہے و کل فرشتوں نے اور صاحبان علم نے جو عدل پر قائم ہیں (یهی شهادت دی) کہ سوائے اس زبردست حکمت والے کے اور کوئی معبود نہیں ہے“۔

۶ سورہ حدید ، آیت ۲۵ ۔ ”هم نے یقینا اپنے پیغمبروں کو واضح و روشن معجزے دے کر بھیجا ہے اور ان کے ساته کتاب (انصاف کی)ترازو نازل کی تاکہ لوگ قسط وعدل پر قائم رہیں“۔

نبوت خاصّہ

چونکہ پیغمبر اکرم (ص) کی رسالت رہتی دنیا تک کے لئے ہے اور آپ (ص) خاتم النبیین ہیں،لہٰذا ضروری ہے کہ آنحضرت (ص) کا معجزہ بھی ہمیشہ باقی رہے۔

دوسرے یہ کہ آپ (ص) کی بعثت کا دور کلام میں فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے مقابلے کا دور تھا اور اس معاشرے میں شخصیات کی عظمت و منزلت، نظم و نثر میں فصاحت و بلاغت کے مراتب کی بنیاد پر طے ہوتی تھی۔

ان ہی دو خصوصیات کے سبب قرآن مجید، مختلف لفظی اور معنوی اعتبارات سے حضور اکرم (ص) کی نبوت و رسالت کی دلیل قرار پایا۔ جن میں سے بعض کی طرف ہم اشارہ کرتے ہیں:

۱۔قرآن کی مثل لانے سے انسانی عجز:

پیغمبر اکرم (ص) نے ایسے زمانے اور ماحول میں ظہور فرمایا جهاں مختلف اقوام کے لوگ گوناگوں عقائد کے ساته زندگی بسر کر رہے تھے۔کچھ تو سرے سے مبدا متعال کے منکر اور مادہ پرست تھے اور جو ماوراء مادہ و طبیعت کے قائل بھی تھے تو، ان میں سے بھی بعض بت پرستی اور بعض ستارہ پرستی میں مشغول تھے۔ باقی جو ان بتوںاور ستاروں سے دور تھے وہ مجوسیت، یہودیت، یا عیسائیت کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔

دوسری جانب شهنشاہ ایران اور هرقل روم کمزور اقوام کی گردنوں میں استعمار و استحصال کے طوق ڈالے ہوئے تھے یا پھر جنگ و خونریزی میں سرگرم تھے۔

ایسے دور میں پیغمبر اسلام (ص) نے غیب پر ایمان اور توحید کے پرچم کو بلند کرکے کائنات کے تمام انسانوںکو پروردگار عالم کی عبادت اور کفر و ظلم کی زنجیریں توڑنے کی دعوت دی۔ ایران کے کسریٰ اور قیصرروم سے لے کر غسان و حیرہ کے بادشاہوں تک، ظالموں اور متکبروں کو پروردگار عالم کی عبودیت، قبولِ اسلام، قوانین الٰهی کے سامنے تسلیم اور خود کو حق و عدالت کے سپرد کرنے کی دعوت دی۔

مجوس کی ثنویت، نصاریٰ کی تثلیث، یہود کی خدا اور انبیاء علیهم السلام سے ناروا نسبتوں اور جاہلیت کی ان غلط عادات ورسوم سے، جو آباء و اجداد سے وراثت میں پانے کے سبب جزیرة العرب کے لوگوں کے ر گ وپے میں سما چکی تہیں، مقابلہ کیا اور تمام اقوام و امم کے مدمقابل اکیلے قیام فرمایا۔

باقی معجزات کو چهوڑ کر معجزہ قرآن کو اثبات نبوت کی قاطع دلیل قرار دیا اور قرآن کو چیلنج بناتے ہوئے بادشاہوں، سلاطین، نیز علمائے یہود اورعیسائی راہبوں جیسی طاقتوں اور تمام بت پرستوں کو مقابلے کی دعوت دی( وَإِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلیٰ عَبْدِنَا فَا تُْٔوا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِه وَادْعُوْا شُهَدَآئَکُمْ مِن دُوْنِ اللّٰهِ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِيْنَ ) (۲)

____________________

۱ بحار الانوار ج ۶ ص ۵۹ ۔”امام نے اس حدیث میں پیغمبران خدا کی معرفت اور ان کی رسالت کا اقرار اور ان کی اطاعت کے واجب ہونے کے سلسلے میں فرمایا:کیونکہ مخلوق خلقت کے اعتبار سے اپنی مصلحتوں تک نہیں پہونچ سکتے تھے، دوسرے طرف خالق عالی ومتعالی ہے مخلوق اپنے ضعف و نقص کے ساته خدا کا ادراک نہیں کرسکتے لہٰذا کوئی اور چارہ نہیں تھا کہ ان دونوں کے درمیان ایک معصوم رسول وسیلہ بنے جو خدا کے امر و نهی کو اس کمزور مخلوق تک پہونچا سکے ۔

اور ان کے مصالح و مفاسد سے آگاہ کرے کیونکہ ان کی خلقت میں اپنی حاجتوں کے مطابق مصلحتوں اور نقصان دینے والی چیزوں کو پہچاننے کی صلاحیت نہیں ہے“۔

۲ سورہ بقرہ ، آیت ۲۳ ۔”اگر تمہیں اس کلام کے بارے میں کوئی شک ہے جسے ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے تو اس کا جیسا ایک ہی سورہ لے آو اور الله کے علاوہ جتنے تمهارے مددگار ہیں سب کو بلا لو اگر تم اپنے دعوے میںاور خیال میں سچے ہو“۔


4

5

6

7

8

9